اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْم ؕبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمؕ
شیطٰن لاکھ روکے مگر یہ رسالہ (22صَفْحات) مکمَّل پڑھ کر اپنی آخرت کا بھلا کیجئے۔
امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیقرَضِیَ اللَّہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمپر دُرُودِ پاک پڑھنا گناہوں کو اِس قَدَر جلد مِٹاتاہے کہ پانی بھی آگ کو اُتنی جلدی نہیں بجھاتااورنبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سلام بھیجنا گردنیں (یعنی غُلاموں کو)آزاد کرنے سے افضل ہے۔ (تاریخِ بغداد ج۷ ص ۱۷۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی
بھائیو!جس کوملازِم رکھنا ہے اُسے ملازِم رکھنے کے اورجس کو ملازَمت کرنی ہے
اُسے ملازَمت کے ضَروری اَحْکام جاننے فرض ہیں۔اگر حسبِ حال نہیں سیکھے گا تو گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو
گا اورنہ جاننے کی وجہ سے باربار گناہوں کا اِبتِلا مزید بَرآں(یعنی اِس کے علاوہ)۔ اس رسالے میں صِرْف چیدہ چیدہ
مسائل درج کئے گئے ہیں مزید معلومات کیلئے’’ بہارِ شریعت
‘‘جلد3 صَفْحَہ
104 تا 184پر’’اِجار ہ کابیان‘‘ پڑھ
لیجئے۔ پہلے حلال روزی کی فضیلت اور حرام روزی کی تباہ کاریاں مختصراً پیش کی جاتی ہیں،اللہ تبارَکَ وَتعالٰی 12ویں پارے کی پہلی آیت میں ارشادفرماتا ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا
ترجَمۂ کنزالایمان: اور زمین پر چلنے والاکوئی ایسا نہیں جس کا رِزْق اللہ کے ذمّۂ کرم پر نہ ہو ۔
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان’’نورُالعرفان ‘‘ میں فرماتے ہیں:زمین پرچلنے والے کا اِس لئے ذِکر فرمایا کہ ہم کوانہیں کا مُشاہَدہ ہوتا ہے(یعنی نظر آتے ہیں) ورنہ جِنّات وغیرہ کو(بھی)ربّ (عزوجل ) (ہی) روزی دیتا ہے۔اس کی رزّاقِیّت صِرْ ف حیوانوں میںمُنْحَصِر نہیں،پھر جو جس روزی کے لائق ہے اُس کو وُہی ملتی ہے۔ بچّے کو ماں کے پیٹ میں اَور قسم کی روزی ملتی ہے اورپیدائش کے بعد دانت نکلنے سے پہلے اورطرح کی ،بڑے ہو کراورطرح کی۔(نور العرفان ص ۳۵۳بتَغَیُّر قَلِیل)
{1}سب سے زیادہ پاکیزہ کھاناوہ ہے جواپنی کمائی سے کھاؤ([1]){2}بے شکاللہ تعالٰی مسلمان پیشہ ور کو دوست رکھتا ہے([2]){3}جسے مزدوری سے تھک کر شام آئے اُس کی وہ شام ،شامِ مغفِرت ہو([3]) {4}پاک کمائی والے کے لئے جنّت ہے([4]){5} کچھ گناہ ایسے ہیں جن کاکَفّارہ نہ نَماز ہو نہ روزے نہ حج نہ عمرہ ۔ ان کاکفّارہ وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جوآدمی کوتلاشِ مَعاشِ حلال میں پہنچتی ہیں۔ ([5])
ہمیں ہمیشہ حلال روزی کمانا، کھانا اورکھلانا چاہئے لقمۂ حلال کی تو کیا ہی بات ہے چنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ فیضانِ سنَّت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 179 پر ہے : حضرتِ سیِّدُنا اِمام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی اِحْیاءُ الْعُلُوم کی دوسری جِلد میں ایک بُزُرگرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا قَول نَقْل کرتے ہیں کہ مسلمان جب حَلال کھانے کا پہلا لُقْمہ کھاتا ہے ، اُس کے پہلے کے گُناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص طَلَبِ حلال کیلئے رُسوائی کے مقام پر جاتا ہے اُس کے گناہ دَرَخت کے پتّوں کی طرح جَھڑتے ہیں۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ ص۱۱۶)
{1}ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جس کے بال پریشان (بکھرے ہوئے) ہیں اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اُس کی حالت ایسی ہے کہ جو دُعا کرے وہ قبول ہو) وہ آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھاکر یاربّ! یاربّ! کہتا ہے (دُعا کرتا ہے) مگر حالت یہ ہے کہ اُس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام پھر اُس کی دُعا کیونکر مقبول ہو! ([6]) (یعنی اگرقبولِ دعا کی خواہش ہو تو کسب حلال اختیار کرو){2} لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ آدَمی پرواہ بھی نہ کرے گا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیاہے، حلال سے یا حرام سے([7]){3} جو بندہ مالِ حرام حاصل کرتا ہے،
اگر اُس کو صَدَقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اُس کے لیے اُ س میں بَرَکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ مرے تو جہنَّم کو جانے کا سامان ہے ۔اللہ تعالٰیبرائی سے برائی کو نہیں مٹاتا، ہاں نیکی سے برائی کو مٹاتا ہے،بے شک خبیث(یعنی ناپاک) کوخبیث نہیں مٹاتا ([8]){4} جس نے عیب والی چیز بیع کی(یعنی بیچی) اور اُس (عیب) کوظاہر نہ کیا، وہ ہمیشہ اللہ تعالٰیکی ناراضی میں ہے یا فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اُس پرلعنت کرتے ہیں ۔ ([9])
مُکاشَفَۃُ الْقُلوبمیں ہے: آدَمی کے پیٹ میں جب لقمۂ حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فرشتہ اُس پر لعنت کریگا جب تک اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں(یعنی پیٹ میں حرام لقمے کی موجودَگی میں) موت آ گئی تو داخِلِ جہنَّم ہو گا۔ (مکاشَفَۃُ القُلوب ص ۱۰ )
{1} سیٹھ اور نوکر دونوں کے لئے حسب ضرورت اِجارے کے شرعی احکام سیکھنا فرض ہے، نہیں سیکھیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
( دعوت اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد3حصّہ14 صَفْحَہ104 تا184میں اِجارے کے تفصیلی احکام درج ہیں)
{2} نوکر رکھتے وقت ، ملازمت کی مدّت ، ڈیوٹی کے اوقات اور تنخواہ وغیرہ کا پہلے سے
تَعَیُّن ہونا ضروری ہے۔
{3}میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:کام کی تین حالتیں ہیں(۱) سُست (۲) معتدل ( یعنی درمِیانہ اور ) (۳)نہایت تیز۔اگر مزدوری میں ( کم از کم معتدل بھی نہیں محض) سستی کے ساتھ کام کرتا ہے گنہگار ہے اور اِس پر پوری مزدوری لینی حرام۔اُتنے کام (یعنی جتنا اس نے کیا ہے)کے لائق(مطابِق) جتنی اُجرت ہے لے ،اس سے جو کچھ زیادہ ملا مستاجر (یعنی جس کے ساتھ ملازمت کامعاہدہ کیا ہے اُس) کو واپس دے۔(فتاوٰی رضویہ ج ۱۹ ص ۴۰۷ )
{4}کبھی کام میں سست پڑ گیا تو غور کرے کہ’’ مُعتدل ‘‘ یعنی درمِیانہ انداز میں کتنا کام کیا جاسکتاہے مَثَلاً کمپیوٹر آپریٹر ہے اور روز کی 100روپیہ اُجرت ملتی ہے، درمیانہ اندازمیں کام کرنے میں روزانہ 100 سطریں کمپوز کر لیتا ہے مگر آج محض سستی یاغیر ضروری باتیں کرنے کے باعِث 90سطریں تیّار ہوئیں تو 10سطروں کی کمی کے 10 روپے کٹوتی کروا لے کہ یہ 10روپے لینا حرام ہے، اگر کٹوتی نہ کروائی تو گنہگار اور نارِ جہنَّم کا حقدار ہے۔
{5}چاہے گورنمنٹ کا ادارہ ہو یا پرائیویٹ
ملازِم اگر ڈیوٹی پر آنے کے معاملے میں عُرف سے ہٹ کر قصداً تاخیر کریگا یا
جلدی چلا جائے گا یا چُھٹّیاں کرے گا تو اس نے معاہدے کی قَصْداً خلاف ورزی کا
گناہ توکیاہی کیا اور ان صورتوں میں پوری
تنخواہ لے گا تومزید گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔فرمانِ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن:’’ جوجائز پابندیاں مشروط (یعنی طے کی گئی )تھیں ان کا خلاف حرام ہے اوربکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔ ‘‘(فتاوٰی رضویہ ج۱۹ص۵۲۱)
{6} گورنمنٹ کے اِدارے کا افسر دیر سے آتا ہواور اس کی کوتاہی کے سبب دفتر دیر سے کھلتا ہو تب بھی ہر ملازِم پر لازم ہے کہ طے شدہ وقت پر پہنچ جائے اگر چہ باہر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے۔ خائن و غیر مختار افسر کا ملازِم کو دیر سے آنے یاجلد ی چلے جانے کا کہنا یا اجازت دے دینابھی ناجائز کوجائز نہیں کر سکتا۔وقت کی پابندی سبھی پر ضروری ہی رہے گی۔
{7}گورنمنٹ اداروںمیں افسر اورعام ملازِم سبھی
کامخصوص وقت کااجارہ ہوتا ہے اورہر ایک کوپوری ڈیوٹی دینالازِم ہوتاہے۔ بعض اوقات
افسر وقت سے پہلے چلاجاتا ہے اور اپنے ماتحت ملازِم سے بھی کہتا ہے کہ تم بھی جاؤ!
چلے جانے والا افسر تو گنہگار ہے ہی اگر ملازِم بھی چلا گیا تو وہ بھی گنہگار ہو
گا لہٰذا واجب ہے کہ کام ہو یا نہ ہو وہیں دفتر میں اِجارے کا وقت پورا کرے۔ جو
بھی اِس طرح چلاجائے گا اُسے تنخواہ میں سے کٹوتی کروانی ہوگی۔
سُوال: مُلازِم وَقت پر پہنچ گیا مگر دفتر کی چابی جس کے پاس تھی وہ تاخیر سے آیا یا غیر حاضر رہا اور دفتر نہ کھل سکا، ایسی صورت میں جو ملازِم آ چکا ہے اُس کی کٹوتی ہو گی یا پوری تنخواہ پائے گا؟
جواب: اجیرِ خاص دو طرح کے ہیں: مستقل ملازِم (مَثَلاً تنخواہ دار نوکر)اور یومیہ ملازِم یعنی دِہاڑی (Daily Pages )پر کام کرنے والا۔ دونوں کو صورت مسئولہ (یعنی پوچھی گئی صورت)میں اُجرت دینے یا نہ دینے کا دارومدارعرف یاصراحت(یعنی صاف الفاظ میں طے شُدہ صورت) پر ہے جیسے اِجارے کے دیگر بَہُت سے مسائل کا دارو مدار عرف یا صراحت پر ہے اور ہمارے یہاں کا عرف یہ ہے کہ مستقل ملازِم کو تو صورت مسئولہ میں اُجرت دی جاتی ہے جبکہ دِہاڑی(ڈیلی ویجز،Daily Pages ) پر کام کرنے والے کو نہیں دی جاتی البتہ اگر کسی جگہ کا عرف اس سے ہٹ کر ہو تو اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔یونہی عرف اگرچہ جو بھی ہو لیکن اگر کسی قسم کی صراحت موجود ہو تو پھر اُسی کا اعتبار ہوگا۔ (فتاوٰی اہلسنّت غیر مطبوعہ)
{8}ملازِم دفتر یادکان پر آنے جانے کا وقت رجسٹروغیرہ میں درست لکھے،اگر غلط بیانی سے کام لیا اور ڈیوٹی کم دینے کے باوجود پورے وقت کی تنخواہ لی تو گنہگار وعذابِ نار کا حقدار ہے۔
{9}وقت کے اِجارے میں چاہے کام ہو یا نہ ہو یا
جلدی کام ختم کرلینے کی صورت میں اگر
وقت سے پہلے چلاگیا تومالِ وقف سے اسے پوری تنخواہ لینا یا دینا جائز نہیں بلکہ جتنے گھنٹے مَثَلًاتین گھنٹے پہلے چلاگیا تو اُس قدر اُس کی اُجرت میں سے کمی کی جائے گی ۔البتہ نجی(یعنی پرائیوٹ) اِدارے کا مالک جانتے ہوئے رِضامندی کے ساتھ پوری تنخواہ دیدے تو جائز ہے۔
{10}جن اداروں میں بیماریوں کی چھٹیاں دی جاتی ہیں وہاں بیمار نہ ہونے کے باوجود جھوٹ بول کر یا ڈاکٹر کی جعلی (نقلی) چِٹھّی دکھا کرچُھٹّی کرنا گناہ ہے۔جان بوجھ کر جھوٹی چِٹّھی لکھ کر دینے والا ڈاکٹر بھی گنہگار اور عذاب نار کا حقدار ہے۔
{11}جن اداروں میں ملازِمین کوعلاج کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، اِن میں جھوٹے بہانوں سے دوا حاصل کرنا،اپنا نام لکھوایا بتا کر کسی دوسرے کیلئے دوا نکلوا لینا وغیرہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ ایسوں کے ساتھ جان بوجھ کر تعاون کرنے والا بھی گنہگار ہے۔
{12}تنخواہ زیادہ کرانے اور عہدے وغیرہ میں ترقی کروانے کے لیے جعلی(نقلی) سند لینا ناجائز وگناہ ہے، کیونکہ یہ جھوٹ اوردھوکے پر مبنی ہے۔
{13}ملازِم کو چاہئے دورانِ ڈیوٹی چاق
چوبند رہے، سستی پیدا کرنے والے اسباب سے بچے مَثَلاً رات دیر سے سونے کے
سبب بلکہ نفلی روزہ رکھنے کے باعث اگر کام میں کوتاہی ہو جاتی ہے تو ان
اَفعال سے باز رہے کہ قَصداً کام میں سستی کرنے والا
اگر چہ کٹوتی کروا دے مگر اب بھی ایک طرح سے گنہگار ہے،کیوں کہ اِس نے کام کرنے کا معاہدہ کیا ہوا ہے اور اس معاہدے کی رُو سے کم از کم معتدل یعنی درمیانہ انداز میں اِس کو کام کرنا ضروری ہے۔ ابھی ’’فتاوٰی رضویہ‘‘جلد 19 صَفْحَہ 407 کے حوالے سے گزرا کہ ’’ اگر مزدوری میں سُستی کے ساتھ کام کرتا ہے گنہگار ہے۔ ‘‘ ظاہِر ہے ملازِم کی بے جا سُستیوں اور چُھٹّیوں سے سیٹھ کے کام کا نقصان ہوتا ہے بہرحال کوئی پوچھنے والا ہو یا نہ ہو سستی کے باعِث کام میں جتنی کمی ہوئیاللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہوئے تنخواہ میں اُتنی کٹوتی کروائے، توبہ بھی کرے اور مستاجر (یعنی جس سے اِجارہ کیاہے) اُس سے مُعافی بھی مانگے ۔ ہاں نجی (Private) ادارہ ہے اور سیٹھ کٹوتی کی رقم بھی معاف کر دے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّخلاصی(یعنی نجات) ہو جائے گی۔
{14}اجیرخاص( یعنی
جو مخصوص وقت میں کسی ایک ہی سیٹھ یا اِدارے کے کام کا پابند ہو) اُس مدت مقررہ میں ( یعنی دورانِ ڈیوٹی) اپنا ذاتی کام بھی نہیں کر سکتا اور اوقاتِ نماز میں فرض اور سُنَّتِ مُؤَکَّدہ پڑھ سکتا ہینفل نَماز
پڑھنا اس کیلئے اوقات اِجارہ میں جائز نہیں(جبکہ
صراحتاً یا عرفاً اجازت نہ ہو)اور جمعہ کے دن نمازِ جمعہ
پڑھنے کے لیے جائے گا مگر جامع مسجِد اگر دُور ہے کہ وَقت زِیادہ صرف ہو گا تو
اُتنے وقت کی اجرت کم کر دی جائیگی اور اگر نزدیک ہے تو کچھ کمی نہیں کی جائیگی
اپنی اجرت پوری
پائے گا۔ (بہارِ شریعت ج ۳ ص ۱۶۱ ، رَدُّالْمُحتَار ج ۹ص۱۱۸) (اگرڈیوٹی کے دوران نمازِ عشاء آئی تووِتْر پڑھ سکتا ہے )
{15}اگرکسی عذر کی وجہ سے اَجیر خاص کا م نہ کرسکا تو اُجرت کامستحق نہیں ہے مَثَلاًبارش ہورہی تھی جس کی وجہ سے کام نہیں کیا اگرچہ حاضر ہوا اُجرت نہیں پائے گا(یعنی اُس دن کی تنخواہ نہیں ملے گی)۔(ایضاً، رَدُّالْمُحتَار ج ۹ ص ۱۱۷)البتہ اگر اِس کی تنخواہ کا بھی عُرْف ہے تو ملے گی کہ تعطیلات معہودہ (یعنی جن چھٹیوں کامعمول ہو تا ہے اُن )کی تنخواہ ملتی ہے ۔
{16} ہر ملازِم اپنے روزانہ کے کام کا احتساب(یعنی حساب کتاب) کرے کہ آج ڈیوٹی کے اوقات میں غیر ضروری باتوں یابے جا کاموں وغیرہ میں کتنا وقت خَرْچ ہوا؟ آنے میں کتنی تاخیر ہوئی؟ وغیرہ نیز غیر واجبی چُھٹّیوں کا شمار کر کے خود ہی حساب لگا کر ہر ماہ تنخواہ میں کٹوتی کروالے۔ دعوتِ اسلامی کے جامعات المدینہ اور دیگر شعبوں میں بعض اَجیرمحتاطین دیکھے ہیں جو اپنے مشاہرے (یعنی تنخواہ) میں سے ہر ماہ احتیاطاً کچھ نہ کچھ کٹوتی کروا لیتے ہیں۔ ان کا جذبہ صد کروڑ مرحبا! ہر ایک کو ان اچّھوں کی نَقْل کرنی چاہئے۔ اپنا آتا اگر ادارے کے پاس رہ گیا توکوئی نقصان نہیں مگر ایک روپیہ بھی قَصْداً ناجائز لے لیا تو آخرت کے عذاب کی تاب کسی میں نہیں ۔
{17} مراقب(یعنی
سپر وائزر)یامقررہ ذِمے دارتمام مزدوروں کی حسب استطاعت نگرانی کرے۔ وقت اور کام
میں کوتاہی اور سستیاں کرنے والوں کی مکمَّل
کارکردَگی ( رَپورٹ) کمپنی یا ادارے کے مُتَعَلِّقہ افسر تک پہنچائے ۔ مراقب (سپر وائزر) اگر ہمدردی یا مُروَّت یا کسی بھی سبب سے جان بوجھ کر پردہ ڈالے گا تو خائن وگنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔
{18}مذہبی یا سماجی اِدارے کے مقررہ ذمے داران و مُفَتِّشِین اگرادارے کے ملازِمین کی کوتاہیوں اور غیر قانونی چُھٹّیوں سے واقف ہونے کے باوجود آنکھ آڑے کان کریں (یعنی جان بوجھ کر انجان بنیں)گے اور اِس وجہ سے ان مُلازِمین کو وَقْف کی رقم سے مکمَّل تنخواہ د ی جائے گی تو لینے والو ں کے ساتھ ساتھ مُتَعَلِّقہ ذمّے دار بھی خائن وگنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہوں گے ۔
{19}کسی مذہبی ادارے میں اِجارے کے شَرْعی مسائل پر سختی سے عمل دیکھ کر نوکری سے کترانا یا صرف اِس وجہ سے مستعفی ہو کر ایسی جگہ ملازَمت اختیار کرلینا جہاں کوئی پوچھنے والا نہ ہو انتہائی نامناسِب ہے۔ ذِہْن یہ بنانا چاہئے کہ جہاںاِجارے کے شَرْعی اَحکام پر سختی سے عمل ہو وَہیں کام کروں تا کہ اِس کی بَرَکت سے مَعصِیَت کی نحوست سے بچوں اور حلال اورستھری روزی بھی کماسکوں۔
{20} جو اِجارے کے مطابِق کام نہیں کر پاتا مَثَلاً مدرِّس ہے مگر صحیح پڑھا نہیں پا رہا تو اُسے چاہئے کہ فوراََ مستاجر (یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اُس ) کو مُطَّلع کرے ۔
{21} اگر وقف کے ادارے کاکوئی مدرِّس درست نہیں پڑھا پا رہا اسی طرح ناظم
یا کسی
طرح کا اَجیر عُرف و عادت سے ہٹ کر کوتاہیاں کر رہا ہے تومتعلقہ ذمے دار پر واجب ہے کہ اُس کو معزول کر دے۔
{22}اگر مخصوص مدّت مَثَلاً بارہ ماہ کے لئے ملازَمت کا اِجارہ ہو تو اب فریقین کی رِضا مندی کے بغیر اِجارہ ختم نہیں ہو سکتا،سیٹھ کا خواہ مخواہ دھمکیاں دینا کہ(وَقت سے پہلے ہی) فارغ کردوں گانیز اسی طرح ضرورت مند سیٹھ کونوکر کا ڈراتے رہنا کہ نوکری چھوڑ کر چلا جاؤں گا،درست نہیں ۔ہاں جن مجبوریوں کو شریعت تسلیم کرتی ہے اِس صورت میں دونوں میں سے کوئی بھی وقت سے پہلے اجارہ ختم کر سکتا ہے۔
{23}اگر کسی سے کہہ دیا کہ پہلی تاریخ سے نوکری
یاکام پر آجانا اوراُجرت طے کر لی مگر مدّت طے نہیں کی توعُرْف دیکھا جائے گا اگر
دِہاڑی پر رکھتے ہیں تو ایک دن کا، ہفتے کیلئے رکھتے ہوں تو ایک ہفتے کااوراگر
مہینے کیلئے رکھتے ہوں تو ایک مہینے کا اَجیر قرارپائے گا ۔ مَثَلاً اُس کام کا ج
میں ایک مہینے کا عُرف (یعنی معمول) ہوتو سیٹھ اورنوکر دونوں کو اختیار ہے کہ مہینا پورا ہوجانے پر اجارہ
ختم کر دیں، اگر اجارہ ختم نہ کیا اور دوسرے مہینے کی ایک رات اور ایک دن گزر گیا
تو اب یہ مہینا پورا ہونے سے قبل اجارہ ختم کرنے کی اجازت نہیں، جب بھی اجارہ ختم
کرنا ہو مہینے کے پہلے دن ہی ختم کرنا ہوگا، ہاں مہینا پورا ہونے سے قبل اَجیرو
مستاجر ایک دوسرے کو مطلَّع کر سکتے ہیں کہ آنے والے ماہ کی پہلی تاریخ سے اِجارہ
ختم ہو جائے گا۔ )فتاوٰی رضویہ(
جلد 16صَفْحَہ 346پر ایک سُوال کے جواب میں لکھا ہے:عام رواج یہی ہے کہ کوئی مدّتِ اِجارہ مُعَیَّن(یعنی fix) نہیں کی جاتی کہ (مَثَلاً) سال بھر کیلئے تجھے امام کیا یا چھ مہینے کے لئے بلکہ صرف امامت اور اس کے مقابل ماہوار اتنا (مُشاہَرہ ۔ تنخواہ طے ) پانے کا بیان ہوتا ہے، تو (اس طرح کا) اجارہ صرف پہلے مہینے کیلئے صحیح ہوا اور ہرسِرِماہ (یعنی ہر مہینے کی ابتدا ہوتے ہی)اجیر ومستاجر ہر ایک کو دوسرے کے سامنے اس کے فَسْخ(یعنی منسوخ) کردینے کا اختیار ہوتا ہے۔ ’’دُرِّمُختار ‘‘میں ہے : دُکان کرائے پر دی کہ ہر ماہ اِتنا کرایہ ہوگا توفَقَط ایک ماہ کے لئے اِجارہ صحیح ہوا ، باقی مہینوں میں بسبب جہالت کے(یعنی مُدَّت کاتعیُّن واضح نہ ہونے کی وجہ سے اجارہ) فاسدہے اور جب مہینا پورا ہوگیا تو دونوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کی موجودگی میں اِجارہ فسخ (یعنی منسوخ) کرنے کا اختیار ہے کیونکہ عقدِ صَحیح ختم ہو گیا ۔(دُرِّمُختار ج ۹ ص ۸۴)
{24} مسلمان نے کافر کی خدمت گاری کی نوکری
کی یہ مَنْع ہے بلکہ کسی ایسے کام پر کافر سے اجارہ نہ کرے جس میں مسلم کی
ذلت ہو(کہ ایسا اجارہ جائز نہیں)۔ (عالمگیری ج۴ ص۴۳۵)عمومی طور پر یہ کام یعنی کافر کے پائوں
دبانا، اُس کے بچوں کی گندگیاں اُٹھانا، گھریا دفتر کا جھاڑو پوچا کرنا ، گند کچرا
اٹھانا،لیٹرین اورگندی نالیوں کی صفائی ، اُس کی گاڑی کی دُھلائی کرنا وغیرہ ذِلّت
میں شامل ہے۔البتہ ایسی نوکری جس میں مسلمان کی ذلت نہ ہو وہ کافر کے یہاں جائزہے۔
{25} سیِّدزادے کوبھی ذلت کے کاموں پر ملازِم رکھنا جائز نہیں۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 692 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صَفْحَہ284تا285پر ہے : میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی خدمت میں سُوال ہوا:سیِّد کے لڑکے سے جب شاگرد ہو یا ملازِم ہو دینی یا دُنیوی خدمت لینا اور اس کو مارنا جائز ہے یانہیں؟ الجواب: ذلیل خدمت اس سے لینا جائز نہیں، نہ ایسی خدمت پر اُسے ملازِم رکھنا جائزاور جس خدمت میں ذلّت نہیں اس پر ملازِم رکھ سکتا ہے، بَحالِ شاگردبھی جہاں تک عُرف اور معروف ہو (خدمت لینا)شرعاً جائز ہے،لے سکتا ہے اور اسے (یعنی سیِّد کو ) مارنے سے مُطلَق اِحتِراز ( یعنی بالکل پرہیز) کرے ۔ وَاللہ تعالٰی اعلم (فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ ص۵۶۸)
{26}ملازِم اپنے دفتر وغیرہ کا قلم، کاغذ اور دیگر اشیاء اپنے ذاتی کاموں میں صَرْف کرنے سے اجتناب(یعنی پرہیز) کرے ۔
{27} اگراِدارے کی طرف سے ذاتی کام میں ٹیلیفون استعمال کرنے کی اجازت ہو تواجازت کی حدتک استعمال کرسکتے ہیں اگراجازت نہیں توذاتی کام کے لیے استعمال کرناناجائز وگناہ ہے۔
{28} اجارے کے وقت میں کبھی کبھار بَہُت قلیل (یعنی تھوڑے سے )وقت کیلئے ذاتی فون
سننے کی عُرفاً اجازت ہوتی ہے۔البتّہ اگر کوئی اِجارے کے اَوقات میں باربار فون سنتا ہے اور پھر بات چیت بھی دس پندر منٹ سے کم نہیں ہوتی ا س طرح کے ذاتی فون سننا جائز نہیں کہ اس طرح کام اورمُسْتاجر(یعنی اجارے پر لینے والے) کا بھی نقصان ہوگا ۔
{29}ملازِم کو اِجارے کی مدّت کے دَوران بات بات پر دھمکی دینا کہ مدّت پوری ہونے سے پہلے ہی نوکری سے نکال دوں گا دُرُست نہیںبلکہ بعض اوقات کسی چھوٹی سی بات پر غصّہ آ جانے پر نکال بھی دیتے ہیں ایسا کرنا جائز نہیں،ہاں کوئی بَہُت بڑا مُعامَلہ درپیش ہواجو شرعاً یکطرفہ اجازت سے فَسْخ کرنے کا عذر ہو تو دونوں میں سے کوئی بھی اِجارہ ختم کر سکتا ہے مَثَلاً دوسرے ملک میں گیا اور دو سال کا اِجارہ طے ہوا مگر ایک سال پورا ہوتے ہی Visaکی مدّت ختم ہو گئی اور مزید نہ ملاتو ملازِم اِجارہ ختم کر دے کیوں کہ قانونی جُرم ہونے کی وجہ سے بِغیر Visa اُسے وہاںرہنا جائز نہیں ۔
{30}اگر نوکری ( یا کرائے پر لی ہوئی دکان وغیرہ) چھوڑنا ہو تو ایک ماہ پہلے بتانا ہو گا ورنہ ایک مہینے کی تنخواہ کاٹی جائے گی(یا کرایہ وصول کیا جائے گا)،ملازم (یا کرایہ دار )سے اس طرح کا کیا ہوا معاہدہ باطل ہے ۔اگراُس نے ایک ماہ پہلے بتائے بغیر نوکری ختم کر دی (یا کرائے پر لی ہوئی جگہ خالی کر دی) تب بھی تنخواہ کاٹنا ( یا زائد کرایہ وصول کرنا)
ظلم ہو گا،ایسے موقع پر ایک مہینا توکیا ایک گھنٹے کی بھی تنخواہ کاٹی(یازائد کرایہ وصول کیا) توگنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔
{31}ملازم نے اگر مَرَض کی وجہ سے چھٹّی کر لی یاکام کم کیا تومُسْتاجر(یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اُس) کو تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر اِس کی صورت یہ ہے کہ جتنا کام کم کیا صرف اُتنی ہی کٹوتی کی جائے مَثَلاً 8گھنٹے کی ڈیوٹی تھی اور تین گھنٹے کام نہ کیا تو صرف تین گھنٹے کی اُجرت کاٹی جائے، پورے دن بلکہ آدھے دن کی اُجرت کاٹ لینا بھی ظلم ہے۔ ( تفصیل کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد19 صفحہ515 تا 516 دیکھ لیجئے )
{32}امام ومُؤَذِّن عُرف و عادت کی چُھٹّیوں کے علاوہ اگر غَیر حاضِری کریں تو تنخواہ میں کٹوتی کروا لیا کریں ۔ مَثَلاً امام کی تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ہے تو چُھٹّیاں کرنے پر فی نماز 20 روپے کٹوا لیں، اِسی طرح مُؤَذِّنصاحب بھی حساب لگا لیں۔( بلا عذر صحیح قصداً معاہدے کی خلاف ورزی کی اور چھٹیاں کرتا رہا تو کٹوتیاں کروانے کے باوجود گناہ ذمّے باقی رہیں گے ، لہٰذا سچی توبہ کرے اور اس طرح کی من مانی چھٹیوں سے باز رہے )
{33} امام و مُؤَذِّن ، خادمِ مسجِد اور (دینی و دُنیوی )ہرطرح کی ملازَمتوں میں عُرْف و عادت (یعنی جاری معمول) کے مطابِق کی جانے والی چُھٹّیوں میں تنخواہ کی کٹوتی نہیں کی جاسکتی، البتّہ عُرْف (رائج طریقے) سے ہٹ کر جو چُھٹّیاں کی جائیں اُن پر تنخواہ کاٹی جائے ۔
{34} جو اپنے پلّے سے تنخواہ دیتا ہو اُسے امام یا مُؤَذِّن وغیرہ کے عُرف سے زائدچھٹی کرنے پر کٹوتی کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے۔اِسی طرح سیٹھ اپنے نوکر کے معاملے میں با اختیار ہے۔
{35} ہمارے عُرْف میں اِمام و مُؤَذِّن کو مہینے میں ایک یا دوچُھٹّیاں کرنے کی اجازت ہوتی ہے ، وہ ان چُھٹّیوں کی تنخواہ پائیں گے۔البتّہ مختلف علاقوں کے اعتبار سے عُرْف مختلف ہو سکتا ہے۔
{36} اگر امام یا مُؤَذِّن دعوت ِاسلامی کے تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کریں تو کم از کم ایک دن کی تنخواہ ضَرور کٹوائیں اورایک دن کی بھی صِرْف اِسی صور ت میں جبکہ اُس مہینے میں کسی اور دن کی چھٹی نہ کریں ۔ اَلغرض ماہانہ دو چُھٹّیوں کے علاوہ زائد چُھٹّیوں کی تنخواہ کٹوا دیں جب کہ عُرْف میںصرف دو چھٹّیاں ہوں۔
{37} کبھی کبھی امام نماز کی اورمُؤَذِّن اذان کی چُھٹّی کر لیا کرتے ہیں، ایسے مواقع پر وہاں کا عُرْف ( یعنی معمول) دیکھا جائے گا ۔اگر اِس طرح کی چُھٹّیوں پر وہاں کٹوتی نہیں کی جاتی تونہ کی جائے ورنہ کرلی جائے۔
{38}متولیان مسجِد کی رِضامندی کی صورت میں امام و مُؤَذِّن عُرْف سے زائدچُھٹّیوں میں اپنا نائب دیدیا کریں تو تنخواہ نہیں کاٹی جائے گی۔
{39} ہمارے یہاں عُموماً مُؤَذِّن سے صراحۃ ً(یعنی
واضِح طور پر)یا دلالۃً طے(یعنی understood)
ہوتا ہے کہ وہ امام کی غیر حاضری میں نماز پڑھائے گا، ایسی صورت میں امام اُس کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا کسی اور کو بنائے ۔ دوسرے کو نائب بنانے سے مُؤَذِّن یا انتظامیہ خوش نہ ہوں تو ضروری ہے کہ نائب کے تقررکے بجائے کٹوتی کروائے، البتّہ یہ صورت ہو سکتی ہے کہ مُؤَذِّن صاحب اور انتظامیہ سے مشاوَرت کے بعد کسی کا بطورنائب تقرر کرلے۔
{40} امام و مُؤَذِّن سالانہ کم و بیش ایک ہفتے کیلئے اپنے عزیزو اَقرِبا (اَق۔رِ۔با) سے ملنے بیرونِ شہر جا سکتے ہیں ان دنوں کی تنخواہ کے حقدار رہیں گے۔
{41} امام،مُؤَذِّن یا کسی بھی دکان وغیرہ کا ملازِم سخت بیمار ہو جائے یا اُس کے یہاں کوئی انتقال کر جائے تو اِن صورَتوں میں ہونے والی چُھٹّیوں میں وہاں کا عُرف دیکھا جائے گا اگر تنخواہ کاٹنے کا عُرف ( یعنی معمول) ہے تو کاٹ لی جائے ورنہ نہ کاٹی جائے۔
{42} امام یا مُؤَذِّن یا مدرِّس یا کسی ملازِم کا گھر دُور ہے ،’’ پیّاجام ہڑتال ‘‘کی وجہ سے سواری نہ ملی یا ہنگاموں کے صحیح خوف کے سبب چھٹی ہو گئی تو اگرپہلے سے طے ہو گیا تھا کہ ایسے مواقع پر تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی یا وہاں کاعُرف (یعنی معمول)ہی ایسا ہو کہ ایسے مواقع پر کٹوتی نہیں ہوتی تو اس طرح کی چھٹی کی تنخواہ پائے گا۔ یادرہے! معمولی ہڑتا ل چھٹی کیلئے عذر نہیں ۔
{43}حج یاعمرے کی وجہ سے ہونے والی چُھٹّیوں کی تنخواہ کٹوانی ہو گی۔ (دیکھئے: فتاوٰی رضویہ
جلد 16 صفحہ209 )
{44} اگر 28تاریخ کو ترکِ ملازَمت کی تو (ہجری سن کے ماہ کے اعتبار سے نوکری ہو تو) بقیہ ایّام مَثَلاً ایک دَو د ن یا (عیسوی سن کے ماہ کے اعتبار سے نوکری ہو تو ) بقیّہ تین دن کی تنخواہ کا مستحق نہیں ۔
{45} نجی ادارے کے سیٹھ یا اُس کے نائب کی اجازت سے کام کاج کے اَوقات میں ملازِم سُنَّت ِغیرمُؤَکَّدہ، نوافل اور دیگر اَذکار پڑھ سکتانیزاجازت کے ساتھ ہی دَرْس ،سنّتوں بھرے اجتماع وغیرہ مُستحب کاموں میں شرکت کر سکتا ہے۔
{46}چوکیدار ،گارڈ یا پولیس وغیرہ جن کا کام جاگ کر پہرا دینا ہوتا ہے اگر ڈیوٹی کے اوقات میں اِرادۃً سو گئے تو گنہگار ہوں گے اور( قصداً یا بِلاقَصْد) جتنی دیر سوئے یا غافِل ہوئے اُتنی دیر کی اُجرت کٹوانی ہوگی۔
{47}ملازِمین کا مطالبات منظور کروانے یا کچھ حالات بہتر کروانے کے لیے کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے ہڑتال کرنا(یعنی کام سے رکنا)،ملازِم اور مالک کے مابین مُعاہدے کی خلاف ورزی ہے ایسا کرنا مَنْع ہے۔
{48} ایک ہی وقت کے اندر دو جگہ نوکری کرنایعنی
اجارے پر اجارہ کرنا ناجائز ہے۔ البتّہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر
لگا ہواہے تواب اپنے سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کرسکتا ہے،جب کہ پہلی جگہ کے
سبب دوسری جگہ کے کام میں کسی طرح کی کوتاہی نہ ہوتی ہو۔
{49} عُرْف کے مطابِق جو چھٹّی ہوتی ہے اُس میں مُستاجِر(سیٹھ) اپنے ملازِم سے کام نہیں لے سکتا اگر جبراً لے گا تو گنہگار ہو گا ۔ہاں حُکْمیہ لہجے میں نہیں فَقَط درخواست کرنے پرملازِم خوش دلی سے کام کر دے یا چُھٹّی کے اوقات میں کئے جانے والے کام کی باہم الگ سے اُجرت طے کر لی جائے تو پھر جائز ہے ۔ یہ قاعدہ یاد رکھئے! جہاں دَلالۃً(یعنی علامت سے معلوم۔understood ) یا صَراحَۃً (یعنی کھلَّم کھلا،ظاہِراً)اُجرت ثابت ہو وہاں طے کرنا واجب ہے۔ ایسے موقع پر طے کرنے کے بجائے اِس طرح کہدینا ، کام پر آ جائو دیکھ لیں گے ، جو مناسب ہو گا دیدیں گے، خوش کر دیں گے، خرچی ملے گی وغیرہ الفاظ قَطعاً ناکافی ہیں۔ بغیر طے کئے اُجرت لینا دینا گناہ ہے، طے شدہ سے زائد طلب کرنا بھی ممنوع ہے ۔یہ قاعِدہ رکشہ ٹیکسی کے ڈرائیوروں،ہر طرح کے کاریگروں وغیرہ اور ان سے کام کروانے والوں کو یاد رکھنا ضروری ہے ۔ البتّہ جہاں فریقین کو لگی بندھی (یعنی fix) اُجرت یا کرائے کا معلوم ہو وہاں طے کرنے کی حاجت نہیں نیز جہاں ایسا معامَلہ ہو کہ کام کروانے والے نے کہا: کچھ نہیں دوں گا ، اِس نے بھی کہدیا کچھ نہیں لوں گا اور پھر اپنی مرضی سے دے دیا تو اِس لین دین میں کوئی حَرَج نہیں۔
{50} مزدوری یا ڈیوٹی میں سستی اورچُھٹّیوں کے باوجود جو مکمّل اُجرت یا تنخواہ لیتا رہا اور اب نادِم ہے تو اُس کیلئے صِرْف زَبانی توبہ کافی نہیں، توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ
آج تک جتنی اُجرت یا تنخواہ زائد حاصل کی ہے اُس کی بھی شَرْعی ترکیب کرنی ہو گی۔ چنانچِہ اِس مسئلے کا حل بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: ( جتنا کام کیا) اُس سے جو کچھ زیادہ مِلا (ہو وہ )مُسْتاجِر ( یعنی جس نے اُجرت پر رکھا اُسی) کو واپس ( لوٹا) دے، وہ نہ رہا ہو(تو) اُس کے وارِثوں کو دے، اُن کا بھی پتا نہ چلے (تو)مسلمان محتاج ( یعنی مسلمان فقیر یا مسکین ) پر تصدُّق (یعنی خیرات) کرے۔ اپنے صرف ( یعنی استعمال) میں لانا یا غیرِ َصدَقہ میں صرف ( خَرْچ) کرنا حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۱۹ ص ۴۰۷ )وقف کے ادارے میں بہرحال واپس ہی کرنی ہوگی اگر رقم یاد نہیں تو ظنِّ غالب کے حساب سے مالیت طے کرکے بیان کردہ حکمِ شَرْعی پر عمل کیجئے۔یاد رکھئے !پرایا مال ناجائز طریقے پر کھاڈالنا محشر میں پھنسا سکتا ہے چُنانچِہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دناللہ عَزَّوَجَلَّسے کوڑھی ہو کر ملے گا ۔‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۱ص۲۳۳حدیث۶۳۷)
نوٹ:یہ رسالہ’’ ملازمین کے لئے21 مدنی پھول‘‘ پہلی بار۳ جُمادَی الُاولٰی ۱۴۲۷ ھ(بمطابق مئی 2006 ء ) کومنظر عام پر آیا اور کئی بار شائع کیا گیا پھر مزید ترمیم و اضافے کے ساتھ طبع ہوا۔ جُمادَی الُاولٰی ۱۴۳۴ھ(بمطابق مارچ 2013 ء ) میں اس پر نظر ثانی کی۔
طلب غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
![]()
جمادی الاولی ۱۴۳۴
مارچ 2003ء
|
کتاب |
مطبوعہ |
کتاب |
مطبوعہ |
|
قراٰن مجید |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
مسندامام احمد بن حنبل |
دار الفکر بیروت |
|
نور العرفان |
پیر بھائی کمپنی مرکز الاولیاء لاہور |
تاریخ بغداد |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
|
بخاری |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
درمختار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
مسلم |
دار ابن حزم بیروت |
ردّالمحتار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
ترمذی |
دار الفکر بیروت |
فتاوٰی رضویہ |
رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور |
|
ابن ماجہ |
دار المعرفۃ بیروت |
بہار شریعت |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
معجم کبیر |
دار احیاء التراث العربی بیروت |
احیاء العلوم |
دار صادر بیروت |
|
معجم اوسط |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
مکاشفۃ القلوب |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
[1] ۔۔۔ تِرمِذی ج۳ص۷۶ حدیث۱۳۶۳
[2] ۔۔۔مُعْجَم اَوسَط ج۶ص۳۲۷حدیث۸۹۳۴
[3] ۔۔۔ ایضاً ج ۵ ص ۳۳۷ حدیث ۷۵۲۰
[4] ۔۔۔ ایضاً ص۷۲حدیث۴۶۱۶
[5] ۔۔۔ ایضاً ج۱ص۴۲حدیث۱۰۲،فتاویٰ رضویہ ج۲۹ ص ۳۱۴تا ۳۱۷
[6] ۔۔۔ مسلم ص۵۰۶حدیث۶۵۔(۱۰۱۵)
[7] ۔۔۔ بخاری ج۲ص۷حدیث۲۰۵۹
[8] ۔۔۔ مسندامام احمد بن حنبل ج۲ص۳۴حدیث۳۶۷۲
[9] ۔۔۔ ابن ماجہ ج۳ص۵۹حدیث۲۲۴۷،بہارِ شریعت ج۲ ص۶۱۰، ۶۱۱، ۶۷۲