اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
شیطٰن لاکھ سُستی دلائے مگریہ رسالہ (24صَفحات)پوراپڑھ کر اپنی آخرت کا بھلا کیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:جس نے مجھ پر دن بھر میں ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا وہ اُس وقت تک نہیں مَرے گا جب تک جنّت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ ص۳۲۸ حدیث۲۲)
ایک مرتبہ حُضُورِاکرم ، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےمسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں قبلہ کی طرف بلغم پڑی دیکھی توناراضگی کااظہار فرمایا۔یہ دیکھ کر ایک انصاری صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اٹھیں اور اُسے کھرچ کر صاف کرکے وہاں خوشبو لگا دی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسرت آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا: مَااَحْسَنَ ھٰذَا یعنی اِس خاتون نے کتنا ہی عُمدہ
کام کیا ہے۔ (نَسائی ص۱۲۶حدیث۷۲۵)
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر جُمُعَۃُ الْمُبارَک کو مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں خوشبو کی دھونی دیاکرتے تھے۔ (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۱ص۱۰۳حدیث۱۸۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَارِوایَت فرماتی ہیں : حضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مَحَلّوں میں مسجِدیں بنانے کاحکم دیااوریہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔ ( ابوداوٗدج۱ص۱۹۷حدیث۴۵۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلو م ہوا مسجِدیں عُود ،لُوبان اوراگربتّی وغیرہ سے خوشبودار رکھنا کارِثواب ہے۔ مگر مسجِد میں ایسی دِیا سلائی(یعنی ماچِس کی تِیلی) نہ جلائیے جس سے بارُود کی بدبو نکلتی ہے کیوں کہ مسجِد کوبدبوسے بچانا واجِب ہے۔ بارُود کا بدبودَار دُھواں اندرنہ آنے پائے اتنی دُور باہَر سے لُوبان یا اگر بتّی وغیرہ سُلگا کرمسجِد میں لائیے۔ اگر بتّیوں کوکسی بڑے طَشْت وغیرہ میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اِس کی راکھ مسجِدکے فرش
وغیرہ پرنہ گِرے ۔ اگربتّی کے پیکِٹ پراگرجاندار کی تصویربنی ہوئی ہو تو اُس کو کُھرَچ ڈالئے۔ مسجِد( نیز گھروں اور کاروں وغیرہ) میں ’’ ائیر فریشنر‘‘(AIR FRESHNER) سے خوشبو کا چِھڑکاؤمت کیجئے کہ اُس کے کیمیاوی مادّے فضا میں پھیل جاتے اور سانس کے ذَریعیپھیپھڑوں میں پَہُنچ کر نقصان پہنچاتے ہیں ۔ایک طِبّی تحقیق کے مطابِق ائیر فریشنر کے استِعمال سے جِلد کاسرطان یعنی( SKIN CANCER) ہو سکتا ہے۔جہاں عُرف ہو وہاں مسجد کے چند ے سے خوشبوسلگانے کی اجازت ہے اور جہاں عُرف نہ وہاں خوشبو کی صراحت کرکے الگ سے چندہ حاصِل کریں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بھوک سے کم کھانے کی عادت بنایئے یعنی ابھی خواہِش باقی ہوکہ ہاتھ روک لیجئے۔ اگر خوب ڈٹ کر کھاتے رہے اور وَقت بے وَقت سیخ کباب، برگر ، آلو چھولے، پِزّے،آئسکریم ، ٹھنڈی بوتلیں وغیرہ پیٹ میں پہنچاتے رہے ، پیٹ خراب ہو گیا اور خدا ناخواستہ’’ گندہ دَ ہنی‘‘ یعنی مُنہ سے بدبوآنے کی بیماری لگ گئی تو سخت امتحان ہو جائے گا، کیوں کہ مُنہ سے بدبو آتی ہو تو مسجِد کا داخِلہحرام ہے ،یہاں تک کہ جس وَقت مُنہ سے بدبو آ رہی ہو اُس وَقت باجماعت نَماز پڑھنے کے لئے بھی مسجِد میں آنا گناہ ہے۔ چُونکہ فکرِ آخِرت کی کمی کے باعِث لوگوں کی بھاری اکثریت میں کھانے کی حرص زیادہ اور آج کل ہر طرف ’’ فوڈ کلچر ‘‘ کا دَور دَورہ ہے، اِ س وجہ سے ایک تعداد ہے
جن کے منہ سے بدبو آتی ہے۔ مجھے بارہا کا تجرِبہ ہے کہ جب کوئی منہ قریب کر کے بات کرتا ہے تو اُس کے مُنہ کی بدبوکے سبب سانس روکنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات امام و مُؤَذِّنکو بھی گندہ دَہنی کا مَرَض ہو جاتا ہے، ایسا ہو تو انہیں فوراً چُھٹّیاں لے کر علاج کرنا چاہئے کیوں کہ منہ میں بدبو ہونے کی صورت میں مسجِد کے اندر داخِل ہونا حرام ہے۔ افسوس! بد بو دار منہ والے کئی افراد مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّمسجِد کے اندر مُعتَکِفبھی ہو جاتے ہیں ۔یاد رکھئے!شَرعی حکم یہ ہے کہ اگر دورانِ اعتِکاف بھی مُنہ میں بُدبو کا مَرَض ہو جائے تو اعتکاف توڑ کر مسجد سے چلا جانا ہو گا۔بعد میں ایک دن کے اعتکاف کی قضاکر لے۔ رَمَضانُ المُبارَک میں کباب سموسے اور دیگر تلی ہوئی چیزیں اور طرح طرح کی مُرَغَّن غذائیں ٹُھونس ٹھانس کر کھانے کے سبب منہ کی بد بووالے مریضوں میں اِضافہ ہو جاتا ہے ، اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ سادہ غذا اور وہ بھی بھو ک سے کم کھائے اور ہاضِمہ دُرُست رکھے ۔نیز جب بھی کھا چکے خلال کرنے اور خوب اچّھی طرح کلّیاں وغیرہ کر کے مُنہ صاف رکھنے کی عادت بنائے ورنہ غذا کے اَجزا دانتوں کے خَلا (GAPS)میں رہ جاتے، سڑتے اور بد بو لاتے ہیں ۔ صِرف مُنہ ہی کی بدبو نہیں ہر طرح کی بد بو سے مسجِد کو بچانا واجب ہے۔
فتاویٰ رضویہ جلد 7صَفْحہ384پر ہے:مُنہ میں بدبو ہونے کی حالت میں
(گھر میں پڑھی جانے والی ) نَماز بھی مکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجِد جانا حرام ہے جب تک مُنہ صاف نہ کر لے۔ اور دوسرے نَمازی کو اِیذا پہنچنی حرام ہے اور دوسرا نَمازی نہ بھی ہو توبھی بدبوسے ملائکہ کو اِیذا پہنچتی ہے۔ حدیث میں ہے: جس چیز سے انسان تکلیف مَحسوس کرتے ہیں فِرشتے بھی اس سے تکلیف مَحسوس کرتے ہیں ۔ ( مُسلِم ص۲۸۲ حدیث ۵۶۴)
میرے آقااعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :’’جس کے بدن میں بد بوہو کہ اُس سے نَمازیوں کو اِیذا ہو مَثَلاً مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّگندہ دَہَن( یعنی جس کومُنہ سے بد بو آنے کی بیماری ہو)، گندہ بَغَل( یعنی جس کے بغل سے بد بو آنے کا مرض ہو) یا جس نے خارِش وغیرہ کے باعِث گندھک ملی( یا کوئی سا بدبو دار مرہم یا لوشن لگایا) ہو اُسے بھی مسجِد میں نہ آنے دیا جائے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ، ج ۸ ص ۷۲)
کچّی مُولی، کچّی پیاز،کچّا لہسن اور ہر وہ چیز کہ جس کی بُو نا پسند ہو اسے کھا کر مسجِد میں اُس وقت تک جانا جائز نہیں جب تک کہ ہاتھ مُنہ وغیرہ میں بو باقی ہو کہ فِرِشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، فاتحُ القُلوب ، دانائے غُیُوب ،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’جس نے پیاز ، لہسن یاگِندَنا(لہسن سے مِلتی جُلتی ایک ترکاری) کھائی وہ ہماری مسجِد کے قریب ہرگز نہ
آئے۔ ‘‘ (مُسلِم ص۲۸۲ حدیث ۵۶۴) اور فرمایا:’’ اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو۔‘‘(ابوداوٗدج۳ص۵۰۶حدیث۳۸۲۷)
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں :مسجِد میں کچّا لہسن اور کچّی پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں جب تک کہ بو باقی ہو اور یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جس میں بُو ہو جیسے گِندَنا( یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے) مُولی ، کچا گوشْتْ اورمِٹّی کا تیل ،وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو، رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کو گندہ دَہنی کا عارِضہ ( یعنی منہ سے بد بوآنے کی بیماری) یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو مُنقَطِع( یعنی ختم) نہ ہو اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱ص ۶۴۸)کچّا گوشت وغیرہ پاک چیز کی اگر ا س طرح پیکنگ کر لی جائے کہ معمو لی سی بھی بد بو نہ آئے تو اب مسجِد میں لے جانے میں حَرَج نہیں ۔
کچّی پیاز والے چنے، چھولے ،رائتے اور کچومرنیز کچّے لہسن والے اَچار چٹنی وغیرہ کھانے سے نَماز کے اوقات میں پر ہیز کیجئے۔ بعض اوقات کباب سموسے وغیرہ میں بھی کچّی پیاز اور کچّے لہسن کی بُو محسوس ہوتی ہے لہٰذا نَماز سے پہلے ان کو بھی نہ کھایئے۔ایسی بُو والی چیزیں مسجِد میں لانے کی بھی اجازت نہیں ۔
مسلمانوں کے اجتماع میں خوشبو پہنچانے کی نیّت سے اگر بتّی وغیرہ جلانا کارِ ثواب ہے۔اگرلُوبان یا اگر بتّی کے دھوئیں سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو تو ایسے موقع پر خوشبو نہ جلائی جائے اِسی طرح مجمع پر زیادہ مقدار میں ’’ خوشبو دار پانی‘‘چِھڑکنے سے بھی بچیں کہ عام طور پر اِ س سے لوگوں کو کوفت اور پریشانی ہوتی ہے۔
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : مسلمانوں کے مَجمَعوں ، درسِ قراٰن کی مجلسوں ، عُلَمائے دین و اولیائے کامِلین کی بارگاہوں میں بد بو دار مُنہ لے کر نہ جاؤ۔ مزید فرماتے ہیں :جب تک مُنہ میں بد بو رہے گھر میں ہی رہو ، مسلمانوں کے جلسوں ، مَجمَعوں میں نہ جائو۔ حُقّہ پینے والے ، تمباکو والے، پان کھا کر کُلّی نہ کرنے والوں کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں :جسے گندہ دَہَنی کی بیماری ہو اُسے مسجِدوں کی حاضِری مُعاف ہے۔ (مِراٰۃُالمناجیح ج۶ ص ۲۵،۲۶)
سُوال:’’گندہ دَہَن‘‘ کو مسجِد کی حاضِری مُعاف ہے ، تو کیا کچّی پیاز والا رائتہ یا کچومر یا ایسے کباب سَموسے جن میں لہسن پیاز برابر پکے ہوئے نہ ہوں اور اُن کی بُو آتی ہویا مَسلی ہوئی باجرے کی روٹی جس میں کچّا لہسن شامل ہوتا ہے ایسی غذا وغیرہ جماعت سے کچھ دیر
پہلے اس نیّت سے کھا سکتے ہیں کہ مُنہ میں بُو ہو جائے اورجماعت واجِب نہ رہے!
جواب:ایسا کرنا جائز نہیں ۔ مَثَلاً جہاں عشا کی جماعت اوّل وَقت میں ہوتی ہے وہاں نَمازِ مغرِب کے بعد ایسا کچومر یا سَلاد وغیرہ نہ کھائے جس میں کچّی مُولی یا کچّی پیاز یا کچّا لہسن ہو کیوں کہ اِتنی جلدی منہ صاف کر کے مسجِد میں پہنچنا دُشوار ہوتا ہے۔ ہاں اگر جلد مُنہ صاف کرنا ممکِن ہے یا کسی اور وجہ سے مسجِد کی حاضِری سے معذور ہے مَثَلاً عورت۔ یا نَماز پڑھنے میں ابھی کافی دیر ہے اُس وقت تک بوخَتْم ہو جا ئے گی تو کھانے میں مُضایَقہ نہیں ۔ میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :کچّا لہسن پیاز کھانا کہ بِلاشُبہہ حلال ہے اور اُسے کھا کر جب تک بُو زائِل نہ ہومسجِد میں جانا ممنوع مگر جو حقّہ ایسا کَثِیف (گاڑھا) و بے اِہتمام ہو کہ مَعَاذَاللہ تَغَیُّرِ باقی( یعنی دیر پا بد بو ) پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک کُلّی سے بھی بَکُلّی( یعنی مکمَّل طور پر) زائِل نہ ہو تو قُربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ تَرکِ جماعت و تَرکِ سجدہ یا بدبُو کے ساتھ دُخولِ مسجِد کا مُوجِب(سبب)ہو گا اور یہ دونوں ممنوع و ناجائز ہیں اور( یہ شرعی اصول ہے کہ) ہر مُباح فی نَفسِہٖ( یعنی ہر وہ کام جو حقیقت میں جائز ہو مگر) امرِ ممنوع کی طرف مُؤَدّی( یعنی ممنوع کام کی طرف لے جانے والا) ہو مَمنوع و نارَوا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ،ج۲۵ ص ۹۴ )
فتاوٰی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 506پر ہے :حُقّہ ،بیڑی، سگریٹ پینے اور (کچّے) لہسن،
پیاز جیسی چیز کھانے کے وَقت اور نَجاست کی جگہوں میں بِسمِ اللّٰہ پڑھنا مکروہ ہے۔
اگر مُنہ میں کوئی تَغَیُّرِ رائِحَہ( یعنی بد بُو) ہو تو جتنی بار مسواک اور کلّیوں سے اس ( بد بُو)کا اِزالہ( یعنی دُور کرناممکن) ہو(اُتنی بار کلیاں وغیرہ کرنا) لازِم ہے ، اِس کے لیے کوئی حد مُقرّر نہیں ۔ بد بو دارکَثِیف (گاڑھا)بے احتیاطی کا حُقَّہپینے والوں کو اِس کا خیال (رکھنا) سخت ضَروری ہے اور اُن سے زیادہ سگرٹ والے کوکہ اس کی بد بُومُرکَّبتمباکو سے(بھی) سخت تر اور زیادہ دیر پا ہے اور ان سب سے زائد اَشَد ضَرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اُس کا جِرم( یعنی دھوئیں کے بجا ئے خود تَمباکو ہی) دبا رہتا اور منہ اپنی بدبُو سے بسا دیتا ہے۔ یہ سب لوگ وہاں تک مِسواک اورکُلّیاں کریں کہ مُنہ بالکل صاف ہو جائے اور بو کا اصلاً نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے مُنہ کے قریب لے جا کر منہ کھول کر زور سے تین بار حَلْق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اورمَعاً (یعنی فوراً) سونگھیں ۔ بِغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے اور جب مُنہ میں بدبُو ہو تو مسجِد میں جانا حرام ، نَماز میں داخِل ہونا مَنع ۔ وَاللّٰہُ الْہَادِی۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ا ص ۶۲۳)
اگر کسی چیز کے کھانے کے سبب مُنہ میں بدبوآتی ہوتو ’’ہرا دھنیا ‘‘چبا کر کھایئے نیز گُلاب کے تازہ یا سُوکھے ہوئے پھولوں سے دانت مانجھئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہو
گا۔ ہاں اگر پیٹ کی خرابی کی وجہ سے بدبو آتی ہو تو’’ کم خوری‘‘ (یعنی کھانے میں کمی کرنے)کی سعادت حاصل کر کے بھوک کی بَرَکتیں لوٹنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ٹانگوں اور بدن کے مختلف حصّوں کے درد ، قبض،سینے کی جلن ، مُنہ کے چھالے ،باربار ہونے والے(یعنی دائمی) نزلے کھانسی اور گلے کے درد ، مَسُوڑھوں میں خون آنا وغیرہ بَہُت سارے اَمراض کے ساتھ ساتھ مُنہ کی بدبوسے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ بھوک باقی رہے اِس طرح سے کم کھانے میں 80فیصد اَمراض سے بچت ہوسکتی ہے۔( تفصیلی معلومات کیلئے فیضانِ سنّت کے باب ’’ پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘ کا مُطالَعَہ فرمایئے)اگر نَفس کی حِرص کا علاج ہو جائے توکئی جسمانی اور روحانی امراض خود ہی دم توڑجائیں ۔ ؎
رضاؔ نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چَندرانے والے (حدائقِ بخشش شریف)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ الطَّاہِر۔
مُندَرَجَۂ بالا دُرُود شریف موقع بہ موقع ایک ہی سانس میں 11مرتبہ پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مُنہ کی بدبو زائِل (یعنی دُور)ہو جا ئے گی ۔ ایک ہی سانس میں پڑھنے کا بِہتر طریقہ یہ ہے کہ مُنہ بند کر کے آہِستہ آہِستہ ناک سے سانس لینا شُروع کیجئے اورمُمکِنہ حد تک ہوا پَھیپھڑوں میں بھر لیجئے ۔ اب دُرُود شریف پڑھنا شُرو ع کیجئے۔ چند بار اس
طرح مَشق کریں گے تو سانس ٹوٹنے سے قَبل اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مکمّل گیارہ بار دُرُود شریف پڑھنے کی ترکیب بن جائے گی ۔ مذکورہ طریقے پر ناک سے گہرا سانس لیکر ممکن حد تک روک رکھنے کے بعد مُنہ سے خارِج کرنا صِحّت کیلئے انتہائی مفید ہے۔ دن بھر میں جب جب موقع ملے بِالخصُوص کُھلی فَضا میں روزانہ چند بار تو ایسا کر ہی لینا چاہئے۔ مجھے ( یعنی سگِ مدینہ عفی عنہ کو) ایک سِن رَسیدہ(یعنی بوڑھے) حکیم صاحِب نے بتا یا تھا کہ میں سانس لینے کے بعد آدھے گھنٹے تک ( یا کہا )دو گھنٹے تک ہوا کو اندر روک لیتا ہوں اور اِس دَوران اپنے وِردو وَ ظائف بھی پڑھ سکتا ہوں ۔ بقول اُن حکیم صاحِب کے سانس روکنے کے ایسے ایسے مَشّاق (یعنی مَشق کر کے ماہِر ہو جانے والے لوگ) بھی دنیا میں ہوتے ہیں کہ صبح سانس لیتے ہیں تو شام کو نکالتے ہیں !
بارگاہِ رضوِیَّت میں سُوال ہوا کہ نَمازیوں کیلئے اِستِنجا خانیمسجِد سے کتنی دُور بنانے چاہئیں ؟ اِس پرمیرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے جواباً ارشاد فرمایا:مسجِد کو بو سے بچانا واجِب ہے وَ لہٰذا مسجِد میں مِٹّی کا تیل جلانا حرام، مسجِدمیں دِیاسَلائی ( یعنی بد بودار بارُود والی ماچس کی تِیلی) سُلگانا حرام، حتّٰی کہ حدیث میں ارشاد ہوا: مسجِد میں کچّا گوشت لے جاناجائز نہیں۔(اِبن ماجہ ج۱ ص۴۱۳ حدیث۷۴۸)حالانکہ کچّے گوشت کی بو بَہُت خَفِیف ( یعنی ہلکی )
ہے۔ تو جہاں سے مسجِد میں بو پہنچے وہاں تک( اِستِنجا خانے بنانے کی) مُمانَعَت کی جائے گی۔( فتاوٰی رضویہج ۱۶ص ۲۳۲) کچّے گوشت کی بد بو ہلکی ہوتی ہے جب یہ بھی مسجِد میں لے جانا جائز نہیں تو کچّی مچھلی لے جانا بَدَرَجَۂ اَولیٰ ناجائز ہو گا کیوں کہ اس کی بو گوشت سے زیادہ تیز ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات پکانے والوں کی بے احتیاطی کے سبب اِس کا سالن کھانے سے ہاتھ اور مُنہ میں ناگوار بو ہو جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں بو دُورکئے بِغیر مسجِد میں نہ جا ئے۔ اِستِنجا خانوں کی جب صَفائی کی جاتی ہے اُس وَقت بد بو کافی پھیلتی ہے لہٰذا (اِستِنجاخانے اور مسجِد کے درمیان)اتنا فاصِلہ رکھنا ضَروری ہے کہ صَفائی کے موقع پر بھی بدبو مسجِد میں داخِل نہ ہو سکے۔ اِستِنجا خانے اِحاطۂ مسجِد میں کھلتے ہوں تو ضَرورتاً دیوار پاٹ کر باہَر کی جانب دروازے نکال کر بھی بدبو سے مسجِد کو بچایا جاسکتا ہے ۔
مسجِد میں بدبو لے جانا حرام ہے۔نیز ہر طرح کے بدبو والے شخص کا داخِل ہونا بھی حرام ہے ۔مسجِد میں کسی تنکے سے خِلال بھی نہ کریں کہ جو پابندی سے ہر کھانے کے بعد اِس کے عادی نہیں ہوتے خِلال کرنے سے ان کے دانتوں سے بد بو نکلتی ہے۔ مُعتَکِف فِنائے مسجِد میں بھی اتنی دُور دانتوں کا خِلال کرے کہ بدبو اصلِ مسجِد میں داخِل نہ ہو۔ بد بودار زَخم والا یا وہ مریض جس نے پیشاب یا پاخانے کی تھیلی(Stoolbag٭ Urine bag) لگائی ہوئی ہے وہ مسجِد میں داخِل نہ ہوں ۔ اسی طرح لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کیلئے لی ہوئی
خون یا پیشاب کی شیشی، ذَبیحہ کے بَوَقتِ ذَبح نکلے ہوئے خون سے آلود کپڑے وغیرہ کسی چیز میں چُھپا کر بھی مسجِد کے اندر نہیں لے جا سکتے چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں :مسجِد میں نَجاست لے کرجانا اگر چِہ اس سے مسجِد آلود ہ نہ ہو یا جس کے بدن پر نجاست لگی ہو اُس کو مسجِد میں جانا مَنع ہے۔(رَدُّالْمُحتار ج۲ ص۵۱۷) مسجِد میں کسی برتن کے اندر پیشاب کرنا یا فَصد کا خون لینا (مَثَلاً ٹیسٹ کیلئے سِرِنج کے ذَرِیعے خون نکالنا) بھی جائز نہیں ۔ (دُرِّمُختارج۲ ص۵۱۷) پاک بدبو چُھپی ہوئی ہو جیسا کہ اکثر لوگوں کے بدن میں پسینے کی بد بو ہوتی ہے مگر لباس کے نیچے چُھپی ہوئی ہوتی ہے اور محسوس نہیں ہوتی تو اِس صورت میں مسجِد کے اندر جانے میں کوئی حَرَج نہیں ۔اسی طرح اگر رومال میں پسینے وغیرہ کی بدبو ہے جیسا کہ گرمی میں منہ کا پسینہ پونچھنے سے اکثر ہو جاتی ہے تو ایسا رومال مسجِد کے اندر نہ نکالے ، جیب ہی میں رہنے دے، اگرعمامہ یا ٹوپی اُتارنے سے پسینے یامیل کُچیل وغیرہ کی بدبو آتی ہے تو مسجِد میں نہ اُتارے ۔ چُنانچِہ اِس کی مثال دیتے ہوئے مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الحَنَّان فرماتے ہیں :’’ ہاں اگر کسی صورت سے مِٹی کے تیل کی بد بو اُڑادی جائے یا اِس طرح لیمپ وغیرہ میں بند کیا جا ئے کہ اس کی بد بُو ظاہِر نہ ہو تو (مسجِد میں ) جائز ہے۔‘‘ (فتاوٰی نعیمیہ ص۴۹) ہرمسلمان کو اپنے مُنہ، بدن، رومال،لباس اور جوتی چپل وغیرہ پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ اس میں کہیں سے بد بُو تو نہیں آ رہی اور ایسا مَیلا کُچَیلا لباس پہن کر بھی مسجِد میں نہ آئیں جس سے لوگوں کو گِھن آئے۔ افسوس ! دُنیوی
افسروں وغیرہ کے پاس تو عمدہ لباس پہن کر جائیں اور اپنے پیارے پیارے پَرَوردگار عَزَّ وَجَلَّکے دربار میں حاضِری کے وَقت یعنی نَماز میں نَفاست( صفائی اور پاکیزگی وغیرہ )کا کوئی اِہتِمام نہ کریں ۔ مسجِد میں آتے وقت انسان کم ازکم وہ لباس تو پہنے جو دعوتوں میں پہن کر جاتا ہے۔ مگر اس بات کا خیال رکھئے کہ لباس شریعت و سنّت کے مطابِق ہو۔
سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ با قرینہ ہے:مسجدوں کو بچّوں اورپاگلوں اور خریدو فروخت اورجھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حُدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ ۔ ( اِبن ماجہ ج ا ص ۴۱۵حدیث ۷۵۰)
ایسا بچّہ جس سے نَجاست (یعنی پیشاب وغیرہ کردینے) کاخطرہ ہو اور پاگل کو مسجِدکے اندرلے جانا حرام ہے اگر نَجاست کا خطرہ نہ ہو تو مکروہ۔ جو لوگ جُوتیاں مسجِد کے اندر لے جاتے ہیں ان کو اِس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر نَجاست لگی ہو تو صاف کرلیں اور جو تا پہنے مسجد میں چلے جانا بے اَدَبی ہے۔(رَدُّالْمُحتارج۲ص۵۱۸)بچّے یا پاگل (یابے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہوا ہو اس) کو دم کروانے کیلئے چاہے ’’ پمپَر‘‘ لگا ہو تب بھی مسجد میں لے جانے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔ اگر آپ ایسوں کو مسجِدمیں لانے کی بھول کرچکے ہیں تو برائے کرم !فوراً توبہ کرکے آیَندہ نہ لانے کاعَہد کیجئے ۔ ہاں فِنائے مسجِد مَثَلاً امام صاحِب کے حُجرے میں لے جاسکتے ہیں جبکہ مسجِد کے اندر سے لیکر نہ گزرنا پڑے۔
گوشت یا مچھلی بیچنے والے کے لباس میں سخت بدبو ہوتی ہے لہٰذاان کو چاہئے کہ فارِغ ہو کر اچّھی طرح نہائیں ، صاف لباس زیبِ تن فرمائیں ، خوشبو لگائیں اور پھر مسجِد میں آئیں ۔نہانا اور خوشبو لگانا شَرط نہیں صِرف مشورۃً عرض کیا ہے، کوئی بھی ایسی ترکیب کریں کہ بد بُو مکمَّل طور پر زائِل(یعنی دُور) ہو جائے۔
سوتے میں پیٹ کی گندی ہوائیں اُوپر کی طرف اٹھتی ہیں ، لہٰذا بیدار ہونے پر منہ میں اکثر بدبُو ہوتی ہے۔ اِس ضِمن میں فتاوٰی رضویہ جلد 23 صَفْحَہ375 تا376 سے ’’ سُوال جواب ‘‘ مُلاحَظہ ہوں ۔سُوال: سونے سے اُٹھ کر آیۃُ الکرسی پڑھنا کیساہے؟ بعض اُستاد حُقّہ پیتے ہیں اور شاگرد کو (قراٰن کریم) پڑھاتے جاتے ہیں ۔جواب: سونے سے اُٹھ کر ہاتھ دھوکر کُلّی کرلے اس کے بعد آیۃُ الکُرسی پڑھے، اگر منہ میں حُقّے وغیرہ کی بدبُو ہو یا کوئی کھانے پینے کی چیز ہو تو بِغیر کُلّی کئے تِلاوت نہ کرے۔ جو اُستاد ایسا کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں ۔ واللّٰہُ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۳۷۵،۳۷۶)ہمارے معطّر معطّر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وُجُودِ مسعود ہر وَقت مہکتا رہتا تھا،مزاجِ مُبارک میں نہایت نَفاست تھی ، مسواک سوتے وَقت سِرہانے رہتی،اٹھتے توسب سے پہلے مسواک کرتے۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ سونے میں سرہانے مسواک رکھنا اور اُٹھ کر مسواک کرنا سنَّت
ہوا۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نیند سے بیدار ہوتے تو مِسواک کرتے تھے۔( ابوداوٗدج۱ص ۵۴ حدیث ۵۷)
بعض غِذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے بدبو دارپسینہ آتا ہے ایسے اَفراد غذائیں تبدیل فرمائیں ۔
جومِسواک او ر کھانے کے بعد خِلال نہیں کرتے اور دانتوں کی صفائی کرنے میں سُست ہوتے ہیں اکثر اُن کے مُنہ بد بو دار ہوتے ہیں ۔صِرف رَسمی طور پر مِسواک اور خِلال کا تنکا دانتوں سے مَس(TOUCH) کر دینا کافی نہیں ہو تا۔ مسوڑھے زخمی نہ ہو ں اِس احتیاط کے ساتھ ممکنہ صورت میں غذا کا ایک ایک ذرّہ دانتوں سے نکالنا ہو گا ورنہ دانتوں کے در میان غِذائی اَجزا پڑے پڑے سڑتے اور سخت سَڑاند(یعنی بدبُو)کا باعِث بنتے رہیں گے ۔ دانتوں کی صفائی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کوئی چیز کھانے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد اور اِس کے علاوہ بھی جب جب موقع ملے مَثَلاً بیٹھے بیٹھے کوئی کام کر رہے ہیں اُس وَقت پانی کا گُھونٹ منہ میں بھر لیں اورجُنبِشَیں دیتے رہیں یعنی ہِلاتے رہیں ،اِس طرح مُنہ کا کچرا اورمَیل کُچیل صاف ہوتا رہے گا ۔ سادہ پانی بھی چل جائے گا اور اگر نمک والا قابلِ برداشت گرم پانی ہو تو یہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بہترین ’’ مائوتھ واش‘‘
ثابِت ہو گا۔
داڑھی میں اکثر غذائی اَجزا اٹک جاتے ہیں ، سونے میں بعض اوقات منہ کی بد بودار رال بھی داخِل ہو جاتی ہے اور اِس طرح بد بوآتی ہے لہٰذاوقتاً فوقتاً صابُن سے داڑھی دھو لینا مناسِب ہے۔اِسی طرح سر کے بال بھی وقتاً فوقتاً دھوتے رہئے۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: ’’جس کے بال ہوں ان کا اکرام کرے۔‘‘(ابوداوٗد ج ۴ ص ۱۰۳ حدیث ۴۱۶۳) یعنی انہیں دھوئے ، تیل لگائے اور کنگھی کر ے ۔(اَشِعَّۃُ اللَّمعات ج۳ ص ۶۱۷)
سر میں سرسوں کا تیل ڈالنے والا سر سے ٹوپی یاعمامہ اُتارتا ہے تو بعض اوقات بد بو کا بھپکا نکلتا ہے لہٰذا جس سے بن پڑے وہ عُمدہ خوشبو دار تیل ڈالے خوشبو دار تیل بنانے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ کھوپرے کے تیل کی شیشی میں اپنے پسندیدہ عِطر کے چند قطرے ڈال کر حل کر لیجئے۔ خوشبو دار تیل تیّار ہے۔(خوشبو دار تیل بنانے کے مخصوص ایسینس بھی خوشبویات کی دُکانوں سے حاصِل کئے جاسکتے ہیں ) سر کے بالوں کو وقتاً فوقتاً صابن سے دھو تے رہئے۔
جس سے بن پڑے وہ روزانہ نَہائے کہ کافی حد تک بدن کی باہَری بدبو زائِل ہو گی اور یہ صحّت کیلئے بھی مُفید ہے۔ (مگرمُعتکِفین مسجِد کے غُسل خانوں میں بِلا سخت ضَرورت
کے نہ نہائیں کہ نَمازیوں کیلئے وُضُو کے پانی کی تنگی ہو سکتی ہے اور موٹر بھی بار بار چلنے کی وجہ سے خراب ہوسکتی ہے نیز تب نہائیں جب غسل خانے فنائے مسجِد میں ہوں اگر خارِج مسجِد میں ہوں تو غسلِ جمعہ کی بھی اجازت نہیں صرف فرض غسل کی اجازت ہے )
بعض اسلامی بھائی کافی بڑے سائز کا عمامہ شریف باندھنے کا جذبہ تو رکھتے ہیں مگر صفائی رکھنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں اور یوں بسا اوقات لاشُعُوری میں مسجِد کے اندر ’’ بدبُو‘‘پھیلانے کے جُرم میں پھنس جاتے ہیں ۔ لہٰذا مَدَنی التِجا ہے کہ عمامہ،سر بند شریف اور چادر استِعمال کرنے والے اسلامی بھائی موسِم کے اعتِبار سے یا ضَرورتاً مزید جلدی جلدی انہیں دھونے کی ترکیب بناتے رہیں ، ورنہ مَیل کُچیل،پسینہ اورتَیل وغیرہ کے سبب ان چیزوں میں بد بو ہوجاتی ہے،اگر چِہ خود کو محسوس نہیں ہوتی مگر دوسروں کو بد بُو کے سبب کافی گِھن آتی ہے، خود کو اس لئے پتا نہیں چلتا کہ جس کے پاس زیادہ دیر تک کوئی مخصوص خوشبو یا بد بو ہو اِس سے اُس کی ناک اَٹ جاتی ہے ۔
سَخت ٹوپی پر بندھے بندھائے عمامے کا استِعمال بھی اس کے اندر بد بو پیدا کر سکتا ہے ۔ اگر ہو سکے توباریک ململ کے ہلکے پُھلکے کپڑے کاعمامہ شریف استِعمال کیجئے اور اس کیلئے کپڑے کی ایسی ٹوپی پہنئے جو سر سے چِپڑی ہوئی ہو کہ ایسی ٹوپی پہننا بھی سُنّت
ہے۔بندھا بندھایا عمامہ شریف سر پر رکھ لینے اور اُتار کر رکھ دینے کے بجائے باندھتے وقت ایک ایک پیچ کر کے باندھئے اور اِسی طرح کھولنے کی ترکیب کیجئے۔اور بار بار ہوا لگنے کی وجہ سے نْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بد بوبھی دُور ہوگی۔ عمامہ و سر بند شریف، چادر اور لباس وغیرہ کو اُتار کر دھوپ میں ڈالنے سے بھی پسینے وغیرہ کی بد بو دُور ہو سکتی ہے۔نیز ان پر اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ عُمدہ عِطر لگاتے رہنا بھی بد بُو کو دُور کر سکتا ہے۔ضمناً عطر لگانے کی نیتیں او ر مواقع بھی مُلاحَظہ فرما لیجئے:
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ’’مسلمان کی نیّت اسکے عمل سے بہتر ہے۔ ‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۶ص۱۸۵حدیث ۵۹۴۲)
(۱)سنّتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے اس لئے خوشبولگاؤں گا(۲) لگانے سے قبل بِسمِ اللّٰہ(۳)خوشبو آنے پر لگاتے ہوئے دُرُود شریف اور(۴) لگانے کے بعد ادائے شکرِ نعمت کی نیّت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنکہوں گا(۵)ملائکہ اور (۶) مسلمانوں کو فرحت (خوشی)پہنچائوں گا(۷) عقل بڑھے گی تواَحکا مِ شرعی یاد کرنے اور سنتیں سیکھنے پر قوّت حاصِل کروں گا (امام شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکا فی فرماتے ہیں :عمدہ خوشبولگانے سے عقل بڑھتی ہے۔ (احیاء العلوم ج۱ ص۲۴۴)) (۸) لباس وغیرہ سے بدبودُور کرکے مسلمانوں کو غیبت کے گناہوں سے بچاؤں گا (کیونکہ کسی مسلمان کالباس وغیرہ بد بُودار ہو توبِلا اجازتِ شَرعی اُس کے
پیچھے سے مَثَلاً اِس طرح کہنا کہ’’اِس کے لباس یا ہاتھوں یا مُنہ سے بدبو آرہی تھی‘‘ غیبت ہے)(۹) موقع کی مُناسَبَت سے یہ نیتیں بھی کی جا سکتی ہیں مَثَلاً(۱۰) نماز کیلئے زینت حاصِل کروں گا (۱۱) مسجِد(۱۲) نَمازِ تہجُّد (۱۳) جمعہ (۱۴) پیرشریف(۱۵) رَمَضانُ المُبارَک (۱۶) عیدُالفطر(۱۷)عیدُ الاَضحی(۱۸) شبِ مِیلاد(۱۹) عیدِ مِیلادُ النَّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(۲۰)جُلوسِ میلاد (۲۱) شبِ مِعراجُ النّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (۲۲)شبِ بَرَاء ت (۲۳) گیارہویں شریف (۲۴) یومِ رضا (۲۵) درسِ قراٰن و (۲۶)حدیث (۲۷) تِلاوت(۲۸)اَورادووظائف (۲۹)دُرُود شریف(۳۰)دینی کتاب کا مُطالَعہ (۳۱) تدریسِ علمِ دین (۳۲) تعلیمِ علمِ دین(۳۳) فتویٰ نویسی(۳۴) دینی کتب کی تصنیف و تالیف(۳۵) سنتوں بھرے اجتماع(۳۶)اجتماعِ ذکرو نعت(۳۷) قراٰن خوانی (۳۸)درسِ فیضانِ سنّت(۳۹)عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت(۴۰)سُنّتوں بھرا بیان کرتے وَقت (۴۱) عالم (۴۲) ماں (۴۳) باپ(۴۴) مومنِ صالح(۴۵) پیر صاحِب(۴۶) موئے مبارک کی زیارت اور(۴۷) مزار شریف کی حاضِری کے مواقع پر بھی تعظیم کی نیّت سے خوشبو لگائی جا سکتی ہے ۔ جتنی اچّھی اچّھی نیّتیں کریں گے اُتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔ جبکہ نیّت کا موقع بھی ہو اور وہ نیّت شرعاً دُرُست بھی ہو۔زیادہ یاد نہ بھی رہیں تو کم از کم دو تین نیّتیں کر ہی لینی چائیں ۔
اے ہمارے پیارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آج تک ہم سے جتنی بار بھی مسجِد
میں بد بُو لے جانے کا گناہ ہوا ہواُس سے توبہ کرتے ہیں اور یہ عزم کرتے ہیں کہ آیَندہ کبھی بھی مسجِد میں کسی طرح کی بد بُو نہیں لے جائیں گے۔یاربِّ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہمیں مساجد کو خوشبو دار رکھنے کی سعادت دے۔ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ہر طرح کی ظاہِری باطِنی بد بوؤں سے پاک ہو کر مسجد میں حاضِری کی سعادت عطا فرما۔ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے خوشبودار سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صَدقے ہمیں گناہوں کی بد بوئوں سے نَجات دے اور خوشبوئوں سے مہکتی ہوئی جنَّتُ الفِردوس میں اپنے مُعَطّر مُعَطّرحبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وَاللّٰہ جو مَل جائے مِرے گُل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عِطر نہ پھر چاہے دُلہن پھول(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خیر خواہی کے جذبے کے تَحت ثواب کمانے کی حِرص میں عَرض ہے کہ اگر آپ کے دانت مَیلے کچیلے یا پیلے ہیں تو خوش دلی کے ساتھسگِ مدینہعُفِیَ عَنہُ کی طرف سے چند مَدَنی پھول قَبول فرمالیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بَہُت فائدہ ہو گا۔
٭ مَیلے کچیلے دانت دوسروں کیلئے کراہت اور گِھن کا باعِث ہوتے ہیں ٭ملاقاتی وغیرہ پر میلے دانت والے کی شخصیَّت کا اثر اچّھا نہیں پڑتا٭بکثرت پان گُٹکے وغیرہ کھانے
والے گویا پیسے دے کر اپنے دانتوں کا حُسن تباہ کرتے، منہ کا چھالا اور کینسر خریدتے ہیں ٭مسواک سنَّت کے مطابق اچھی طرح رگڑ رگڑ کر کیجئی٭کھانے کے بعد دانتوں میں خِلال کرنے کا معمول بنا لیجئی٭جب بھی کچھ کھائیں یا چائے وغیرہ پئیں ،کُلّی بھرکر چند مِنَٹ تک منہ میں پانی ہِلاتے رہیں اِس طرح منہ کا اندرونی حصّہ اور دانت کسی حد تک دُھل جائیں گی٭ سوتے وَقت حلق اور دانت اچھی طرح صاف ہونے چاہئیں ، ورنہ گلے میں تکلیف اور دانتوں پرمَیل کی تہ مضبوطی سے جمے گی ، بند منہ کے اندر غذائی اجزا سڑ نے سے منہ میں بدبُو ہو گی اور جراثیم پیٹ میں جانے سے طرح طرح کی بیماریاں جَنَم لے سکتی ہیں ٭ سونے میں پیٹ کی گندی ہوائیں اوپر کو اٹھتی ہیں لہٰذا منہ بدبُودار ہو جاتاہے، اُٹھ کرفوراًہاتھ دھو کر مسواک کرکے کُلّیاں کر لیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ منہ کی بدبُو جاتی رہے گی۔
مناسِب مقدار میں کھانے کا سوڈا اور اُتنا ہی نمک ملا کر بوتل میں ڈال لیجئے، بہترین منجن تیار ہے۔اگر مُوافِق ہو توروزانہ اِس سے دانت مانجھئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ہاتھوں ہاتھ دانتوں کامَیل اُتر تا دیکھیں گے۔بالفرض مَسُوڑھے یا منہ میں کسی جگہ جلن وغیرہ محسوس فرمائیں تو مقدار کم کر کے دیکھ لیجئے ، اب بھی تکلیف ہو تو صفائی کی کوئی اور تدبیر کیجئے، دانت بَہرحال صاف ہونے چاہئیں ۔
مَدَنی پھول:ہر طرح کی صفائی سنّت اور مطلوبِ شریعت ہے۔
بدبو نہ دَہَن میں ہو، دانتوں کی صفائی ہو
مہکائی دُرُودوں کی مُنہ میں ترے بھائی ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نوٹ:یہ رسالہ پہلی بار ۱۲ شعبانُ المعظم ۱۴۲۷(بمطابق6-09-2006) کو ترتیب پایا اور کئی بار شائع کیا گیا پھر ۵ ربیع الغوث ۱۴۳۳ (بمطابق28-2-2012) میں اِس پر نظرِ ثانی کی۔
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
![]()
۵ ربیع الغوث۱۴۳۳
2012-2-28
|
کتاب |
مطبوعہ |
کتاب |
مطبوعہ |
|
صحیح مسلم |
دار ابن حزم بیروت |
مِراٰۃالمناجیح |
ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور |
|
ابو داود |
داراحیاء التراث العربی بیروت |
درمختار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
سنن نَسائی |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
رد المحتار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
اِبن ماجہ |
دار المعرفۃ بیروت |
فتاوٰی رضویہ |
رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور |
|
مسند ابی یعلی |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
فتاوٰی فیض الرسول |
شبیر برادر مرکز الاولیاء لاہور |
|
معجم کبیر |
داراحیاء التراث العربی بیروت |
فتاوٰی نعیمیہ |
کتب اسلامیہ گجرات |
|
الترغیب والترہیب |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
بہارِ شریعت |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
اشعۃ اللمعات |
کوئٹہ |
٭٭٭ |
٭٭٭ |