اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

زخمی سانپ

 

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے مگر آپ یہ رسالہ (20صفحات)

مکمَّل پڑھ لیجئے اور اس کی بَرَکتیں حاصِل کیجئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

           دو جہاں کے سلطان ، سَرورِ ذیشان ، مَحبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفِرت نِشان ہے: مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا پُلْ صِراط پر نور ہے جو روزِ جُمُعہ مجھ پر اَسّی بار دُرُودِپاک پڑھے اُس کے اَسّی سال کے گناہ مُعاف ہوجائیں گے۔  (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۴۰۸ حدیث۳۸۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          حضرتِ سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک نوجوان صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ ایک بار جب وہ اپنے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ اُن کی دُلہن گھر کے دروازے پر کھڑی ہے، مارے جلال کے نیزہ تان کر اپنی دُلہن کی طرف

 لپکے ۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی اور( رو کر) پکاری: میرے سرتاج! مجھے مت ماریئے، میں بے قُصُور ہوں، ذرا گھر کے اندر چل کر دیکھئے کہ کس چیز نے مجھے باہَر نکالا ہے ! چُنانچِہ وہ صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اندر تشریف لے گئے ، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خطر ناک زَہریلا سانپ کُنڈلی مارے بچھونے پر بیٹھا ہے۔ بے قر ار ہو کر سانپ پر وار کرکے اس کو نیزے میں پِرَو لیا ۔ سانپ نے تڑپ کر اُن کو ڈس لیا ۔زخمی سانپ تڑپ تڑپ کر مر گیا اور وہ غیرت مند صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی سانپ کے زَہر کے اثر سے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ (مُسلِم ص۱۲۲۸حدیث۲۲۳۶مُلَخَّصاً

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیر ت منداسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟ ہمارے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکس قدر بامُرَوَّت ہوا کرتے تھے ۔ انہیں یہ تک بھی منظور نہ تھا کہ ان کے گھر کی عورت گھر کے دروازے یا کھڑکی میں کھڑی رہے ۔ اپنی زَوجہ کو بنا سنوار کر بے پردَگی کے ساتھ شادی ہال میں لے جانے والوں، بے پردَگی کے ساتھ اسکوٹر پر پیچھے بٹھا کر پھرانے والوں ، شاپنگ سینٹروں اوربازاروں میں ےپردَگی کے ساتھ خریداری سے نہ روکنے والوں کیلئے عبرت ہی عبرت ہے۔

 عورت خُوشبو لگا کرباہَر نہ نکلے

       مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : بے شک جو عورت

 خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی زانیہ ہے ۔

 (تِرمِذی ج۴ص۳۶۱حدیث۲۷۹۵)

    مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تَحْت فرماتے ہیں: کیونکہ وہ اس خوشبو کے ذَرِیعہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے چُونکہ اسلام نے زِنا کو حرام کیا اس لئے زِنا کے اَسباب سے (بھی) روکا(ہے)۔ (مراٰۃ المناجیح  ج۲ص۱۷۲)

بے پرد گی کی ہولناک سزا

          حضرتِ سیِّدُنا اِمام احمدبن حَجَرمَکِّی شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل فرماتے ہیں: مِعراج کی رات سرورِکائنات ، شاہ ِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو بعض عورَتوں کے عذاب کے ہولناک مَناظِرمُلاحظہ فرمائے ان میں یہ بھی تھا کہ ایک عورت بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دِماغ کھول رہا تھا ۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خد متِ سراپا شفقت میں عَرْض کی گئی کہ یہ عورت اپنے بالوں کو غَیر مَردوں سے نہیں چُھپاتی تھی۔

(الزّوَاجِرُ عَنِ اقْتِرَافِ الْکَبَائِر ج۲ص۹۷۔۹۸مُلَخَّصاً )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خوفناک جانور

       غالباً شعبانُ المُعظَّم ۱۴۱۴ھ کا آخِری جُمُعہ تھا۔ رات کو کورنگی (بابُ المدینہ کراچی) میں مُنْعَقِد ہونے والے ایک عظیمُ الشّان سنّتوں بھرے اجتماع میں ایک نوجوان سے

 سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ  (راقِمُ الْحُرُوف) کی ملاقات ہوئی۔اُس پر خوف طاری تھا ، اس نے حَلفیہ بیان دیا کہ میرے ایک عزیز کی جوان بیٹی اچانک فوت ہوگئی ۔ جب ہم تدفین سے فارِغ ہوکر پلٹے تو مرحومہ کے والِد کو یا دآیا کہ اس کا ایک ہینڈ بیگ جس میں اَہَم کاغذات تھے وہ غَلَطی سے میِّت کے ساتھقَبْر میں دفن ہوگیا ہے ۔چُنانچِہ باَمرِ مجبوری دوبارہ قَبْر کھودنی پڑی، جوں ہی ہم نے قَبْر سے سِل ہٹائی خوف کے مارے ہماری چیخیں نکل گئیں کیونکہ جس جوان لڑکی کو ابھی ابھی ہم نے ستھرے کفَن میں لپیٹ کر سُلایا تھاوہ کفَن پھاڑ کر اُٹھ بیٹھی تھی اوروہ بھی کمان کی طرح ٹیڑھی آہ! اس کے سر کے بالوں سے اس کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں اورکئی چھوٹے چھوٹے نامعلوم خوفنا ک جانور اس سے چمٹے ہوئے تھے۔یہ دَہشت ناک منظر دیکھ کر خوف کے مارے ہماری گِھگّی بندھ گئی اورہینڈبیگ  نکالے بِغیرجُوں تُو ںمِٹّی پھینک کر ہم بھاگ کھڑے ہوئے ۔ گھر آکر میں نے عزیزوں سے اس لڑکی کا جُرم دریافْت کیا تو بتایا گیا کہ اس میں کوئی فی زمانہ معیوب سمجھا جانے والا جُرم تو نہیں تھا، البتَّہ یہ بھی عام لڑکیوں کی طرح فیشن ایبل تھی اورپردہ نہیں کرتی تھی ۔ ابھی انتِقال سے چند روز پہلے رشتے داروں میں شادی تھی تو اس نے فیشن کے بال کٹوا کر بن سنور کر عام عورَتوں کی طرح شادی کی تقریب میں بے پردہ شرکت کی تھی ۔

اے مِری بہنو! سدا پردہ کرو    تم گلی کُوچوں میں مت پھرتی رہو

ورنہ سن لو قبر میں جب جائوگی سانپ بچّھو دیکھ کر چِلّاؤگی

 

کمزور بہانے

          کیااس بدنصیب فیشن پرست لڑکی کی داستانِ غم نشان پڑھ کر ہماری وہ اسلامی بہنیں درسِ عبرت حاصل نہیں کریں گی جو شیطان کے اُکسانے پر اس طرح کے حِیلے بہانے کرتی رہتی ہیں کہ میری تو مجبوری ہے ، ہمارے گھر میں کوئی پردہ نہیں کرتا، خاندان کے رَواج کو بھی دیکھنا پڑتا ہے ، ہمارا سارا خاندان پڑھا لکھا ہے ، سادہ اورباپردہ لڑکی کے لیے ہمارے یہاں کوئی رِشتہ بھی نہیں بھیجتا۔ بس دل کا پردہ ہوتاہے ،ہماری نیّت تو صاف ہے وغیرہ وغیرہ ۔ کیا خاندانی رَسْم و رَواج اور نَفْس کی مجبوریاں آپ کو عذابِ قبر وجہنَّم سے نَجات دلادیں گی ؟ کیا آپ بارگاہِ خداوندی  عَزَّ َجَلَّ میں اس طرح کی کھوکھلی مجبوریاں بیان کر کے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی؟ اگر نہیں اورواقِعی نہیں تو پھر آپ کو ہر حال میں  بے پردَگی سے توبہ کرنی پڑے گی ۔ یا درکھئے !لَوحِ محفوظ پر جس کا جہاں جوڑا لکھا ہوتاہے وَہیں شادی ہوتی ہے ۔ ورنہ آئے دن کئی پڑھی لکھی ماڈَرْن کنواری لڑکیاں پلک جھپکتے میں موت کا شکار ہوکر رہ جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ دُلہن اپنی ’’رخصتی‘‘ سے قَبْل ہی موت کے گھاٹ اُترجاتی ہے اوراسے روشنیوں سے جگمگاتے ، خوشبوئیں مہکاتے حَجَلۂ عَرُوسی میں پہنچانے کے بجائے کیڑے مکوڑوں سے لبریز تنگ وتاریک قَبْر میں اتاردیا جاتاہے ۔

تو خوشی کے پھول لے گی کب تلک؟

تُو یہاں زندہ رہے گی کب تلک

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پچاس ساٹھ سانپ

       1986ء کے جنگ اَخبار میں کسی دُکھیاری ماں نے کچھ اس طرح بیان دیا تھا: میری سب سے بڑی لڑکی کا حال ہی میں انتِقال ہوا ہے، اسے دَفْن کرنے کے لئے جب قَبْر کھودی گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے اس میں پچاس ساٹھ سانپ جَمْع ہوگئے! دوسری قَبْر کُھدوائی گئی اس میں بھی وُہی سانپ آکر کُنڈلی مار کر ایک دوسرے پر بیٹھ گئے۔ پھر تیسری قَبْر تیّار کی اس میں ان دونوں قبروں سے زِیادہ سانپ تھے۔ سب لوگوں پر دَہشت سوار تھی، وَقْت بھی کافی گزر چکا تھا، ناچار باہَم مشورہ کرکے میری پیاری بیٹی کو سانپوں بھری قَبْر  میں دَفْن کر کے  لوگ دُور ہی سے مٹّی پھینک کر چلے آئے۔ میری مرحومہ بیٹی کے ابّا جان کی قبرستان سے مکان آنے کے بعد حالت بہت خراب ہوگئی اور وہ خوف کے مارے بار بار اپنی گردن جھٹکتے تھے۔دکھیاری ماں کا مزید بیان ہے کہ میری بیٹی یوں تو نَماز و روزہ کی پابند تھی مگر وہ فیشن کیا کرتی تھی۔ میں اسے  مَحَبَّت سے سمجھانے کی کوشِش کرتی تھی مگر وہ اپنی آخِرت کی بھلائی کی باتوں پر کان دھرنے کے بجائے الٹا مجھ پر بگڑ جاتی اور مجھے ذلیل کردیتی تھی۔ افسوس میری کوئی بات میری نادان ماڈَرْن بیٹی کی سمجھ میں نہ آئی۔             

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 خوفناک گڑھا

        ہوسکتا ہے شیطان کسی کو وَسوَسہ ڈالے کہ یہ اَخباری واقِعہ ہے کیا معلوم یہ سچّا بھی


 

ہے یا نہیں؟بِالفرض یہ غَلَط ہو بھی تو غیر شَرعی فیشن پرستی اور بے پردَگی کا جائز ہونابھی توکوئی ثابت نہیں کرسکتا۔ حدیثِ پاک میں ناجائز فیشن کا عذاب ملاحظہ فرمائیے۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: میں نے کچھ لوگ ایسے دیکھے جن کی کھالیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جارہی تھیں۔ میرے اِسْتِفسار پر بتایا گیا،یہ وہ لوگ ہیں جو ناجائز اشیاء سے زینت حاصل کرتے تھے۔ اور میں نے ایک گڑھا بھی دیکھا جس میں سے چیخ پکار کی آوازیں آرہی تھیں۔ میرے دریافْت کرنے پربتایا گیا،یہ وہ عورَتیں ہیں جو ناجائز اشیاء کے ذَرِیعے زینت کیا کرتی تھیں۔(تاریخ بغداد ج۱ص۴۱۵) یاد رکھئے!  نیل پالِش کی تہ ناخنوں پرجَم جاتی ہے لہٰذا ایسی حالت میں وضو کرنے سے نہ وُضو ہوتا ہے نہ نہانے سے غسل اُترتا ہے ،جب وُضو وغسل نہ ہو تو نَماز بھی نہیں ہوتی۔

خبردار !

        ہرگز ہرگز شیطان کے اِس بہکاوے میں مت آیئے۔ جیسا کہ بعض نادان لوگ اس طرح کہتے سنائی دیتے ہیں کہ دنیا ترقّی کرگئی ہے۔ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ چادر اور چار دیواری تو انتہا پسند مسلمانوں کا نَعرہ ہے، اب تو مَردوں اور عورَتوں کو شانے سے شانہ ملاکر کام کرنا چاہئے وغیرہ۔ یقیناً ایک مسلمان کے لئے قراٰن کی دلیل کافی ہوتی ہے۔ لہٰذا دل کی آنکھوں سے قراٰنِ پاک کی یہ آیتِ کریمہ پڑھئے:

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى ۲۲ ، الاحزاب :۳۳)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہِلیَّت کی      بے پردَگی۔

       آیتِ بالا بازاروں اور شاپنگ سینٹروں میں بے پردَگی کے ساتھ آنے جانے والیوں،خود کومَخلوط تفریح گاہوں کی زینت بنانے والیوں، مَخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم پانے والیوں،اسکول یا کالج میں نامَحرم اُستادوں سے پڑھنے اور نامحرموں کو پڑھانے وا لیوں، دفتروں ، کارخانوں ، شِفاخانوں اور مختلف اداروں میں مَردوں کے سا تھ بے پردہ یا خلوت (یعنی تنہائی) میں یااندیشۂ فتنہ ہونے کے باوُجُود مل جُل کر کام کرنے والیوں کو دعوتِ فکر دے رہی ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیٹا گیا تو کیاہوا، حیا تو باقی ہے

 باحیا خواتین خواہ کچھ بھی ہوجائے بے پردَگی نہیں کیا کرتیں جیسا کہ سیِّدَتُنا اُمِّ خَلَّاد رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنْہَاپردہ کئے منہ پر نِقاب ڈالے اپنے شہید فرزندکی معلومات حاصِل کرنے کیلئے بارگاہِ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضِر ہوئیں ۔ کسی نے کہا: آپ اس حالت میںبیٹے کی معلومات حاصِل کرنے آئیں ہیں کہ آپ کے چِہرے پرنِقاب پڑا ہوا ہے ! کہنے لگیں : ’’اگر میرا بیٹا جاتا رہا تو کیا ہوا میری حیاتو نہیں گئی۔‘‘ (سُنَنِ ابوداوٗد ج ۳

ص ۹ حدیث۲۴۸۸مُلَخَّصاً   ) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

بے پردَگی کوئی چھوٹی مصیبت نہیں!

       اِس حِکایت سے ہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں کہ جو بے پردَگی کیلئے طرح طرح کے بہانے تَراشتی ہیں۔کوئی کہتی ہے: کیا کروں میں تو بیوہ ہوں ، کوئی کہتی ہے: بچّوں کا پیٹ پالنے کے لئے دفتر میں غیر مردوں کے ساتھ بے پردَگی یا خلوت(یعنی تنہائی) میں یا اندیشۂ فتنہ ہونے کے باوُجُود نوکری کرنی پڑگئی ہے ، حالانکہ حُصُولِ مَعاش کیلئے کوئی گھریلو کسب بھی ممکن تھا، لیکن ’’مَدَنی سوچ ‘‘کہاں سے لائیں ! کیا پہلے کی باپردہ خواتین بیوہ نہیں ہوتی تھیں؟ ان پر مصیبتیں نہیں پڑتی تھیں؟کیا اَسیرانِ کربلا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمپر آفتوں کے پہاڑ نہیں ٹوٹے تھے؟ کیا مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّکربلا والی عِفَّت مَآب  بِیبیوںرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّنے پردہ ترک کیا تھا؟ نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر مہربانی فرما کر اپنی ناتُوانی پر ترس کھائیے اور اپنے کمزور وُجُود کو قَبْروجہنَّم کے عذاب سے بچانے کی خاطِر پردہ اختِیار کیجئے۔خدا کی قسم ! وہ بے پردَگی چھوٹی مصیبت نہیں ہو سکتی جوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب میں پھنسا کر رکھ دے۔ وَا لعِیاذُ بِاللّٰہِ تعالٰی۔

31 مَدَ نی پھولوں کا گلدستہ

{1}        ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عورت کا ہاتھ، ہاتھ میں لئے بِغیرفَقَط زَبان سے بَیْعَت لیتے تھے۔ (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت  ج۳ ص۴۴۶)

 

مُریدَنی پیر صاحب کا ہاتھ نہیں چوم سکتی

{2}  عورت کا اپنے پِیر ومرشِد سے بھی اِسی طرح پردہ ہے جس طرح دیگر نامَحرموں سے ۔ عورت اپنے پِیر کا ہاتھ نہیں چُوم سکتی، اپنے سر پر ہاتھ نہ پِھروائے،پِیر صاحِب کے ہاتھ پاؤں بھی نہ دابے ۔          

مرد و عورت مُصافحَہ نہیں کر سکتے

{3} مردو عورت آپَس میں ہاتھ نہیں ملاسکتے ۔

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جاتی اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چُھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ۔‘‘

(مُعْجَم کبیرج۲۰ص۲۱۱حدیث۴۸۶ )

{4}عورت اجنبی مَرْد کے جِسْم کے کسی بھی حصّے کو نہ چُھوئے جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو اس کوشَہْوت ہوسکتی ہو۔اگرچِہ اس بات کا دونوں کو اطمینان ہو کہ شَہوَت پیدا نہیں ہوگی۔

(عالمگیری ج۵ص۳۲۷،بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۳)

مَرْد سے چُوڑیاں پہننا

{5} نامَحرم کے ہاتھ سے عورت کا چُوڑیاں پہننا گناہ ہے ۔ دونوں گنہگار ہیں۔

چھوٹے بچّے کا کون سا حصّہ چُھپائے

{6} بَہُت چھوٹے بچّے کے لیے عورت(یعنی چُھپانے کا عُضْو) نہیں اس کے بدن کے کسی

 حصّے کو چُھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہوگیا تو اس کے آگے اورپیچھے کا مقام چُھپانا ضَروری ہے ۔ دس برس سے بڑا ہوجائے تو اس کے لیے بالِغ کا ساحکم ہے ۔

( رَدُّالْمُحتَارج۹ص۶۰۲،،بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۲)

مَحارِم کے جِسْم کی طرف دیکھنے کے اَحکام

{7}مَرد اپنی مَحارِم (یعنی وہ خواتین جن سے رِشتے کے لحاظ سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حرام ہو مَثَلاً والِدہ، بہن ، خالہ ، پھوپھی وغیرہ )کے سر ،چہرہ ، کان، کندھا ، بازو ، کلائی ، پنڈلی اورقدم کی طرف نظر کرسکتاہے جب کہ دونوں میں سے کسی کو شَہوَ ت کا اندیشہ نہ ہو ۔

 (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۳ص۴۴۴،۴۴۵)

{8}مَرْد کے لیے مَحارِم کے پیٹ ، کروٹ ، پیٹھ ، ران اورگُھٹنے کی طرف نظر کرنا جائز نہیں۔ (ایضاًص۴۴۵) (یہ حکم اس وقت ہے جب جسم کے ان حصوں پر کوئی کپڑا نہ ہو اور اگر یہ تمام اعضا موٹے کپڑے سے چھپے ہوئے ہوں تو وہاں نظر کرنے میں حرج نہیں)

{9} مَحارِ م کے جن اَعضا کو دیکھنا جائز ہے ان کو چُھونا بھی جائز ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کو شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو۔(بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۵)

ماں کے پاؤں دبانا

{10}مرد اپنی ماں کے پاؤں دبا سکتاہے ۔ مگر ران اُس وَقْت دبا سکتاہے جب کہ کپڑے سے  چُھپی ہوئی ہو ۔ ماں کی ران کو بھی بِلا حائل چُھونا جائزنہیں۔ (مُلَخَّص بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۵)


 

ماں کی قدم بوسی کی فضیلت

{11}      والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتاہے ۔ حدیثِ پاک میں ہے: ’’جس نے اپنی ماں کا پاؤں چُوما تو ایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔ ‘‘(اَلْمَبْسُوط لِلسَّرَخْسِی ج۵ص۱۵۶)

اِن رِشتے داروں سے پردہ ہے

{12}      تایا زاد،چچا زاد ، ماموں زاد ، پھوپھی زاد ، خالہ زاد ، سالی اوربہنوئی ، بھابی اور دیور،جیٹھ ، چچی ، تائی ،مُمانی، خالو، پھوپھا ، لے پالک بچہ جس کو ایّامِ رَضاعت([1])میں دودھ نہ پلایا ہو اوراب مردوعورت کے معاملا ت سمجھنے لگا ہومنہ بولے بھائی بہن ، منہ بولے ماں بیٹے،منہ بولے باپ بیٹی، پیر اورمُریدَنی الغرض جن کی آپس میں شادی جائز ہے ان کا آپس میں پردہ ہے ۔ ہاں ایسی بڑھیا جو نہایت ہی بدشکل ہوکہ جس کو دیکھنے سے بِالکل شَہوَت کا شائبہ نہ ہو اس سے مرد کا پردہ نہیں۔ اس کے علاوہ کسی عورت کو دیکھنے سے شَہوَت ہو یا نہ ہو مرد بلا اجازتِ شَرعی نہیں دیکھ سکتا ۔ جن سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حرام ہے ان سے پردہ نہیں۔ ’’بہارِشریعت ‘‘ میں ہے کہ عورت کو شَہْوَت کا شُبہ بھی ہو تو اجنبی مَرد کی طرف ہر گز نظر نہ کرے۔(بہارِ شریعت ص  ۴۴۳)


 

 

            ساس سُسَر سے پردہ؟

{13}      حُرمَتِ مُصاہَرت کے سبب مرد کو اپنی ساس سے اور عورت کو اپنے سُسرسے پردے کے مُعامَلے میں رِعایت حاصِل ہوجاتی ہے۔ ہاں دونوں میں سے کوئی ایک اگر جوان ہے تو پردہ کرنا چاہئے یہی مناسب ہے۔ (حُر مَتِ مُصاہَرت کی تفصیلی معلومات کیلئے بہارِشریعت حصّہ 7 سے ’’محرمات کا بیان ‘‘مُلاحَظہ فرمالیجئے بلکہ نِکاح ،طلاق ، عدّت ،بچّوں کی پرورش وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے شادی سے قبل ہی اور نہیں پڑھا تو شادی کے بعد ہی سہی بہارِ شریعت حصّہ 7اور8ضَرور ضَرور ضَرور پڑھ لیجئے۔)

عورَت کا چہرہ دیکھنا

{14}      عورت کا چِہر ہ اگر چِہ عورَت نہیں مگر فتنے کے خوف کے سبب غیرمَحرَم کے سامنے مُنہ کھولنا مَنْع ہے ۔ اسی طرح اس کی طرف نظر کرنا غیرمَحرم کے لیے جائز نہیں اورچھُونا تو اوربھی زِیادہ مَنْع ہے ۔ (دُرِّمُختارج۲ص۹۷،بہارِ شریعت ج۱ص۴۸۴)

باریک پاجامہ مت پہنئے

{15}بعض لوگ باریک کپڑے کا پاجامہ پہنتے ہیں جس سے ران کی جِلد کا رنگ چمکتا ہے ،اسے پہن کرنَماز نہیں ہوتی ایسا پاجامہ بلا مقصدِ شرعی پہننا حرام ہے۔

دوسرے کے کُھلے ہوئے گھٹنے دیکھنا گناہ ہے

{16}      بعض لوگ دوسروں کے سامنے گھٹنے بلکہ رانیں کھولے رہتے ہیں یہ حرام ہے ۔

 (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۱ص۴۸۱) ان کی کھلی ہوئی ران یا گُھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی جائز نہیں ۔ لہٰذا نیکر

پہن کر کھیلنے اورورزِش کرنے اورایسوں کو دیکھنے سے بچنا ضَروری ہے ۔

تنہائی میں بے ضَرورت ستر کھولنا کیسا؟

{17}      سَتْرِ عورت ہر حال میں واجِب ہے بِغیر کسی صحیح وجہ کے تنہائی میں کھولنا بھی جائز نہیں لوگوں کے سامنے اورنمَاز میں تو سَتْر بِالاِجْماع فرض ہے ۔

 (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۲ص۹۳ ،بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۹ مُلَخَّصاً)

اِستنجا کے وَقْت سَتْر کب کھولے؟

{18}      اِستنجا کرتے وَقْت جب زمین سے قریب ہوجائیں اُس وَقْت سَتْر کھولنا چاہئے اورضَرورت سے زِیادہ حصّہ نہ کھولیں۔( ماخوذ ازبہارِ شریعت ج۱ص۴۰۹) ا گر پاجامے میں زِپ(zip)ڈلوالی جائے تو پیشاب کرنے میں بے حدسَہُولت ہوسکتی ہے کہ اس طرح بہت کم سَتْر کھُولنے کی ضَرورت پڑے گی۔ مگر پانی سے اِستنجا کرنے میں سخت اِحتِیاط کرنی ہوگی ۔زِپ باریک والی سب سے زِیادہ کامیاب ہے ۔

ناف سے لے کرگھٹنے تک کا حصّہ

{19}      مرددوسرے مرد کے ناف سے لے کر گھٹنے تک کا کوئی حصہ نہیں دیکھ سکتا اورعورَت بھی دوسری عورت کے ناف سے گھٹنے تک کا کوئی حصّہ نہیں دیکھ سکتی۔ عورت عورت کے باقی اَعضاء پر نظر کرسکتی ہے جب کہ شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو ۔(ایضاًج۳ص۴۴۲،۴۴۳)


 

 

           پردے کے بال دوسروں کی نظر سے بچائیے

{20}      موئے زیر ناف مونڈ کر ایسی جگہ پھینکنا دُرُست نہیں جہاں دوسرے کی نظر پڑے۔

 (بہارِ شریعت ج۳  ص۴۴۹)            

عورَت کی کنگھی کے بال

{21}      عورَتوں کے لیے لازِم ہے کہ کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال نکلیں انہیں کہیں چھپادیں کہ غیر مَرد کی ان پر نظر نہ پڑے۔ (ایضاًص۴۴۹)

{22}      حیض کا  لتّا ایسی جگہ ہر گز نہ پھینکیں جہاں دوسروں کی نظر پڑے۔

عورت کے پاؤں کی جھانجھن کی آواز

{23}      حدیث شریف میں ہے :’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اُس قوم کی دُعا نہیں قَبول فرماتا جن کی عورَتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔ ‘‘ (التفسیرات الاحمدیہ، ص۵۶۵) حدیثِ پاک میں جس باجے دار جھانجھن پہننے کی ممانعت کی گئی اس سے مراد گھنگرو والا زیور ہے۔

اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زیور کی آوازعَدَم قَبولِ دُعا (یعنی دعاقَبول نہ ہونے ) کا سبب ہے تو خاص عورَت کی(اپنی) آواز(کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا) اور اسکی بے پردگی کیسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہوگی،پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بجنے والے زیور کے استِعمال کےمُتَعَلِّق فرماتے ہیں : بجنے والا زیور عورتک کے

 لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموںمَثَلاً خالہ ماموں چچا پھوپھی کے بیٹوں ،جیٹھ ،  دَیور ،بہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو نہ اس کے زیور کی جھنکار (یعنی بجنے کی آواز)  نا محرم تک پہنچے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے: وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ (تَرجَمۂ کنزالایمان:اور اپنا سنگارظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر۔۔۔اِلخ) ۱۸ ، النور : ۳۱ ) اور فرماتا ہے : وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ- (تَرجَمۂ کنزالایمان:زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار ) ۱۸، النور :۳۱ )فائدہ: یہ آیتِ کریمہ جس طرح نامَحرم کو گہنے (یعنی زیور)کی آواز پہنچنا مَنْع فرماتی ہے یونہی جب آواز نہ پہنچے(تو) اس کا پہننا عورَتوں کے لئے جائز بتاتی ہے کہ دھمک کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا نہ کہ پہننے کو۔    (فتاوٰی رضویہ  ج ۲۲ ص۱۲۸ مُلَخَّصاً )

اس سے وہ اسلامی بہنیں در سِ عبرت حاصل کریں جو خریداری ،محلّہ داری وغیرہ میں غیر مردوں سے بے تکلُّفی کے ساتھ گُفْتْگُو (گُفْت ۔ گُو)کرتی ہیں۔ انہیں تو گھر کی چار دیواری میں بھی آہستہ آواز نکالنی چاہیے تاکہ دروازے کے باہَر والے لوگ یا پڑوسی و غیرہ آواز نہ سننے پائیں ۔ بچّوں پر بھی گرجتے برستے وقت یہی احتیاط رکھیں ۔

عورت پوری آستین کا کُرتا پہنے

{24}      عورت پردے سے ہاتھ بڑھا کر غیر مرد کو اس طرح کوئی چیز نہ دے کہ اس کی کلائی (ہتھیلی اورکہنی کے درمیان کا حصہ کلائی کہلاتا ہے ) ننگی ہو۔ (آج کل عموماً ایسا ہی ہوتاہے ۔

 اگر مرد نے قصداً کلائی کی طرف نظر کی تو وہ بھی گنہگار ہے ۔ لہٰذا ایسے موقع پر کلائی کسی موٹے کپڑے سے چھپاناضروری ہے)اسلامی بہنیں پوری آستین کا کرتا پہنیں نیزدستانے اورجرابیں بھی استعمال فرمائیں ۔

شَرعی پردہ والی کو دیکھنا کیسا؟

{25}      بیان کردہ شَرعی پردے میں ملبوس خاتون کو اگر مردبِلا شَہوَت دیکھے تو مُضایَقہ نہیں کہ یہاں عورت کو دیکھنا نہیں ہو ابلکہ یہ ان کپڑوںکو دیکھنا ہوا۔ ہاں اگر چُست کپڑے پہنے ہوں کہ بدن کا نقشہ کھنچ جاتاہو مَثَلاً چُست پاجامے میں پِنڈلی اورران وغیرہ کی ہَیئت نظر آتی ہو تو اس صور ت میں نظر کرنا جائز نہیں ۔ (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۳ص۴۴۸)

عورت کے بالوں کو دیکھنا حرام ہے

{26}      اگر عورت نے کسی باریک کپڑے کا دوپٹّا پہنا ہے جس سے بال یا بالوں کی سیاہی کان یا گردن نظر آتی ہو تو اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے ۔ (ایضاً) اس طرح کے باریک دوپٹّے میں عورت کی نَماز بھی نہیں ہوتی۔ 

{27}آج کل مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عورَتیں کھلے بالوں کے ساتھ باہَر نکلتیں کلائیاں اوربال کھولے گاڑیاں چلاتیں اوراسکوٹر کے پیچھے اپنی چُٹیا لہراتی ہوئی بیٹھتی ہیں ۔ ان کے بالوں یا کلائیوں پراچانک پہلی نظر مُعاف ہے ۔ جب کہ فوراًپھیرلی اورقَصْداً

اس طرف دیکھنا یا نظر نہ ہٹانا حرام ہے۔

حکایت

          مفتی دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مفتی محمد فاروق عطّاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِینے اِس خوف سے اپنی اسکوٹر بیچ ڈالی کہ راستے میں بے پردہ عورَتیں بکثرت ہوتی ہیں ،ڈرائیونگ میں نگاہوں کی حِفاظت ممکن نہیں کیوں کہ نہ دیکھے تو حادِثے کا خطرہ اور دیکھنا تو گوارا نہیں ۔       

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو۔

{28}مرد اَجنَبِیَّہ عورت کے کسی بھی حصّے کو بِلا اجازتِ شَرعی نہ دیکھے ۔

مرد سے عورت کب عِلاج کرواسکتی ہے؟

{29}      اگر کوئی طبِیبہ نہ ملے توبامْرِ مجبوری عورت طبیب کو حسبِ ضَرورت اپنے جسم کا بیماری و الا حصّہ دکھا سکتی ہے اوراب طبیب ضَرورتاًچھُو بھی سکتاہے ۔ ضَرورت سے زِیادہ جسم ہر گز نہ کھولے۔ 

غیر عورت کے ساتھ تنہائی

{30}      غیر مرد اورغَیر عورت کا ایک مکان میں تنہا ہونا حرام ہے ۔ ہاں ایسی بدصورت بڑھیا کہ جو شَہْوَت کے قابل نہ ہو اس کو دیکھنا اور اس کے ساتھ تنہائی جائز ہے ۔ 

اَمْرد کے ساتھ تنہائی

{31}مرد کا ’’اَمْرَد‘‘کو شَہْوَت کی نظر سے دیکھنا حرام ہے ۔شَہْوَت آتی ہو تو اس کے ساتھ

ایک مکان میں تنہائی ناجائز ہے ۔ بوسہ لینے یا چپٹا لینے کی خواہش پیدا ہونا شَہْوَت کی علامات میں سے ہے۔  ([2])

تنبیہ : مالی،مزدور،  چوکیدار، ڈرائیور اورگھر کے ملازم سے بھی بے پردَگی حرام ہے ۔ (پردے کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب ‘‘پڑھ لیجئے۔)

مآخذ و مراجع

کتاب

مطبوعہ

کتاب

مطبوعہ

قراٰنِ مجید

مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

الزواجر عن اقتراف الکبائر

دار المعرفہ بیروت

تفسیراتِ احمدیہ

پشاور

المبسوط

دار الکتب العلمیہ بیروت

مسلم

دار ابن حزم بیروت

ردالمحتار

دار المعرفۃ بیروت

ابوداوٗد

دار احیاء التراث العربی بیروت

عالمگیری

دار الفکر بیروت

ترمذی

دار الفکر بیروت

فتاوٰی رضویہ

رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور

معجم کبیر

دار احیاء التراث العربی بیروت

بہارِ شریعت

مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

الفردوس بمأثور الخطاب

دار الکتب العلمیہ بیروت

مراٰۃ المناجیح

ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور

تاریخ بغداد

دار الکتب العلمیہ بیروت

٭٭٭

٭٭٭

 



[1]۔۔۔ یاد  رہے !  بچّے کو ( ہجری سَن کے حساب سے) دو سال کی عُمر تک دودھ پلایا جائے ۔ اس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں مگر ڈھائی سال کی عُمر کے اندر اندر عورت اگر اپنا دودھ پلا دے تو حُرمت ِ نِکاح ثابت ہو جائےگی یعنی اب یہ رَضاعی بیٹا ہے اس سے پردہ نہیں ۔

[2]۔۔۔ مزید معلومات کے لیئے مکتبۃ المدینۃ  کا مطبوعہ رسالہ’’ قومِ لُوط کی تباہ کاریاں  (45صفحات) پڑھ لیجئے۔‘‘