نماز، دُرُود شریف ،علمِ دین ،توبہ اور سلام کی فضیلت وغیرہ پر مشتمل

 رنگ برنگے پھولوں کا گلدستہ 

 

 

 

40فرامین مُصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

 

 

 

پیش کش

مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )

(شعبہ اِصلاحی کتب )

ناشر

مکتبۃ المد ینہ باب المدینہ کراچی


 

فہرست

نمبر شمار

عنوان

صفحہ نمبر

 نمبر شمار

عنوان

صفحہ نمبر

۱

قربِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم

4

۳۴

قبر میں   آگ بھڑک اٹھی

48

۲

کثرتِ دُرُود کی تعریف

5

۳۵

قید خانہ

49

۳

کثرتِ دُرُود کا انعام

7

۳۶

دنیاقید خانہ ہے

50

۴

رحمتوں کی برسات

8

۳۷

مسکین کا حج

51

۵

دس رحمتیں

9

۳۸

حج کی قربانی

51

۶

نیّت کی اہمیّت

10

۳۹

خو شخبری سناؤ

56

۷

خلوصِ نیَّت

12

۴۰

100افراد کا قاتل

57

۸

نیّت عمل سے بہتر ہے

14

۴۱

سلام کی اہمیت

59

۹

نیَّت کا پھل

14

۴۲

تکبر کا علاج

60

۱۰

حصولِ علم کی ترغیب

15

۴۳

اعلیٰ حضرت کی عادت مبارکہ

60

۱۱

مدینہ منوّرہ سے دمشق کا سفر

16

۴۴

مسجد میں   ہنسنے کا نقصان

61

۱۲

بہترین شخص

17

۴۵

قہقہہ کی مذمت

62

۱۳

علم حاصل کرنا فرض ہے

18

۴۶

مسواک کی فضیلت

63

۱۴

رزق کا ضامن

21

۴۷

جماعت کی فضیلت

64

۱۵

راہ خداعزوجل کا مسافر

22

۴۸

25مرتبہ نماز ادا کی

64

۱۶

گناہوں کا کفّارہ

25

۴۹

جماعت نہ چھوڑی

65

۱۷

دین کی سمجھ

25

۵۰

چغل خور کی مذمت

66

۱۸

نجات کا ذریعہ

28

۵۱

چغلی کسے کہتے ہیں؟

67

۱۹

بولنے کا نقصان

29

۵۲

کیا ہم چغلی سے بچتے ہیں؟

67

۲۰

رہنمائی کی فضیلت

30

۵۳

چغلی سے توبہ

69

۲۱

نیکی کی دعوت

30

۵۴

چغلخور غلام

70

۲۲

دعا کی اہمیت

32

۵۵

رزّاق کا کرم

71

۲۳

دعا بلا کو ٹال دیتی ہے

33

۵۶

بھُنا ہوا  ہَرن

71

۲۴

غیبی مدد

33

۵۷

حیا ایمان سے ہے

73

۲۵

دھوکہ دینے کا نقصان

36

۵۸

باحیا نوجوان

74

۲۶

توبہ کی بنیاد

37

۵۹

ساقیٔ کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فر مان

77

۲۷

تائب کی فضیلت

40

۶۰

آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مہینہ

78

۲۸

سچی توبہ کسے کہتے ہیں؟

41

۶۱

شعبان کی تجلیات و برکات

79

۲۹

سود خور کی توبہ

41

۶۲

فتنہ باز کی مذمت

80

۳۰

نماز کی اہمیت

44

۶۳

اللہ عزوجل کیلئے محبت کرنا

81

۳۱

مچھلی اپنی جگہ پر تھی

44

۶۴

نماز قضاء کرنے کا وبال

83

۳۲

روضہ ٔ اقدس کی حاضری

45

۶۵

کیاکچھ دن کیلئے نماز چھوڑ سکتے ہیں؟

84

۳۳

عذاب قبر

47

 

 

 

 


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیۡکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ 

نام رسالہ:               40 فرامینِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

پیش کش :                  شعبۂ اصلاحی کتب ( اَلْمَدِ یۡنَۃُ الْعِلْمِیّۃ)

اشاعت:                   محرم الحرام ۱۴۲۹ ھ، جنوری 2008؁ء

اشاعت:                 ۱۴۳۰ ھ،2009ء           تعداد:10000

اشاعت:               ۱۴۳۲ھ،2011ء           تعداد:17000

اشاعت:               ۱۴۳۴ھ،2013ء           تعداد:5000

ناشِر:                       مَکْتَبَۃُ الْمَدِینہ باب المدینہ (کراچی)

مکتبۃ المدینہ کی   مختلیف شاخیں

ٍ        مکتبۃ المد ینہ شہید مسجد، کھارا در، باب المدینہ کراچی

مکتبۃ المد ینہ: داتا دربار مارکیٹ، گنج بخش روڈ

مکتبۃ المد ینہ: (فیصل آباد)امین پور بازار

مکتبۃ المد ینہ: چوک شہیداں، میر پور

مکتبۃ المد ینہ: فیضانِ مدینہ،آفندی ٹاؤن

E.mail:ilmia@dawateislami.net

www.dawateislami.net

Ph:4921389-90-91 Ext:1268

  تنبیہ: کسی اور کو یہ رسالہ چھاپنے کی اجازت نہیں ہے ۔  


 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیۡنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیۡم ط

از: شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ

’’فرامینِ مصطفی ‘‘ کے11 حُروف کی نسبت سے اس رسالے کو پڑھنے کی ’’11  نیّتیں‘‘

 فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیۡرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث: ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵)

 دو مَدَنی پھول: {۱} بِغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔

{۲}جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔

 {۱}ہر بارحَمْد و {۲}صلوٰۃ اور{۳}تعوُّذو{۴}تَسمِیہ سے آغاز کروں گا(اسی صفحہ کے  اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا) {۵} حتَّی الْوَسْعْ اِس کا باوُضُو اور {۶}قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا {۷}جہاں جہاں’’اللّٰہ‘‘کا نام  پاک آئے گا وہاں عَزَّوَجَلَّ  اور{۸} جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑھوں گا{۹}دوسروں کویہ رسالہ پڑھنے کی ترغیب دلاوں گا{۱۰} اس حدیثِ پاک ’’تَھَادَوْا تَحَابُّوْا‘‘ ایک دوسرے کو تحفہ دو آپس میں   محبت بڑھے گی ‘‘{مؤطا امام مالک ، ج۲،ص۴۰۷، حدیث ۱۷۳۱} پرعمل کی نیت سے یہ رسالہ(ایک یا  حسبِ توفیق) خرید کر دوسروں کو تحفۃً دوں گا{۱۱}اس رسالے کے مطالَعہ کا ثواب ساری اُمّت کو ایصال کروں گا۔


 

پہلے اسے پڑھ لیجئے

           حضرتِ سیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ رَحْمَتِ عَالَم، نُورِ مُجَسَّم،رَسُولِ مُکَرَّم،سَراپَا جُودوکَرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کی گئی کہ اس علم کی حد کیا ہے جہاں انسان پہنچے تو عالم ہو؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اِرشاد فرمایا :’’مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیۡ اَرْبَعِیۡنَ حَدِیۡثًا فِیۡ اَمْرِدِیۡنِہَا بَعَثَہُ اللّٰہُ  فَقِیۡھًاوَکُنْتُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعًا وَ شَھِیۡدًایعنی جو میری اُمّت پر چالیس احکامِ دین کی حدیثیں حفظ کرے اسے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں   اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا۔‘‘(مشکٰوۃالمصابیح،کتاب العلم،الفصل الثالث،الحدیث۲۵۸، ج۲،ص۶۸)

          حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:’’علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اس اِرشاد سے مُراد و مقصود لوگوں تک چالیس اَحادیث کا پہنچانا ہے۔چاہے وہ اسے یاد نہ بھی ہوں اور اِن کا معنی بھی اِسے معلوم نہ ہو۔‘‘(اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۱۸۶)  

          مُفَسِّر شہیر حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :’’اِس حدیث کے بہت پہلو ہیں؛چالیس حدیثیں یاد کر کے مسلمان کو سنانا ،چھاپ کر اِن میں   تقسیم کرنا، ترجمہ یا شرح کر کے لوگوں کو سمجھانا ، رَاوِیوں سے سن کر کتابی شکل میں   جمع کرنا سب ہی اِس میں   داخل ہیں یعنی جو کسی طرح دینی مسائل کی چالیس حدیثیں میری اُمّت تک پہنچادے تو قیامت میں   اس کا حَشْر علمائے دین


کے زمرے میں   ہو گا اور میں   اُس کی خُصُوصی شفاعت اور اس کے ایمان اور تقوے کی خصوصی گواہی دوں گا ورنہ عُمُومی شفاعت اور گواہی تو ہر مسلمان کو نصیب ہو گی۔اِسی حدیث کی بِنا پر قریبًا تمام مُحَدِّثِیننے جہاں حدیثوں کے دفتر لکھے وہاں عَلٰیحدہ چِہَل حدیث جسے اَرْبَعِیۡنِیَّہ کہتے ہیں جمع کیں ۔‘‘(مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۲۲۱) 

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں   بیان کردہ فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے اور دیگر اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ 40فرامینِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر مُشْتَمِل تحریری گلدستہ ترتیب دیا گیا ہے ۔ جس میں   فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیان  کرنے کے بعد مُسْتَنَد شروحاتِ اَحادیث سے اَخْذ کردہ وضاحت بھی درج کردی گئی ہے نیز موضوع کی مُنَاسَبَت سے حِکایات بھی نَقْل کی گئی ہیں۔ ہر حدیث کا مکمل حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ ان احادیث کو یاد کرنے کی خواہِش رکھنے والوں کی آسانی کے لئے آخری صفحات میں   اس رسالے میں   شامل احادیث کا عَرَبی مَتَن بھی دیا گیا ہے ۔

           اِس رسالے کو نہ صرف خود پڑھئے بلکہ دوسرے اسلامی بھائیوں کو اس کے مُطَالَعَہ کی ترغیب دے کر ثواب ِ جَارِیہ کے مُسْتَحِق بنئے ۔اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں   ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور مَدَنی قَافِلوں کا مُسَافِر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کو دن گیارہویں رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وسلم

شُعبہ اِصلاحی کُتُب

(مَجْلِس اَلْمَدِیۡنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ )


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیۡنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیۡم ط

حدیث(1)                                                   قُربِ مُصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

           حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اﷲعَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ تقرُّب نشان ہے : ’’اَوْلَی النَّاسِ بِیۡ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً یعنی بروزِ قیامت لوگوں میں   میرے قریب تَروہ ہوگا، جس نے دُنیا میں   مجھ پر زیادہ دُرُودِ پاک پڑھے ہونگے۔‘‘(جامع الترمذي،أبواب الوتر،باب ماجاء في فضل الصلاۃ علی النبی صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وسلم ،الحدیث۴۸۴،ج۲،ص۲۷)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قیامت میں   سب سے آرام میں   وہ ہو گا جو رحمت ِعالم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ رہے اور حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہمراہی نصیب ہونے کا ذریعہ دُرُود شریف کی کثرت ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دُرُود پاک بہترین نیکی ہے کہ تمام نیکیوں سے جنت ملتی ہے اور اس (یعنی دُرُودِ پاک ) سے بزمِ جنت کے دُولہا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔(مراٰۃ المناجیح،ج۲، ص۱۰۰) دُنیا میں  دُرُود شریف کی کثرت عقیدے کی مضبوطی ، نیت کے خُلوص،محبت کی


 سچائی اورعبادت کی ہمیشگی پر دَلَالَت کرتی ہے۔ (فیض القدیر،تحت الحدیث۲۲۴۹، ج۲، ص۵۶۰)لہٰذا ! ہمیں   بھی کثرت سے دُرُود شریف پڑھنا چاہئے ۔

کثرت ِدُرُود شریف کی تعریف

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! چند بُزُرگوں کے اقوال پیش کئے جارہے ہیں۔ آپ کسی بھی ایک بُزُرگ کے بتائے ہوئے عدد کو معمول بنا لیں گے تو ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا شمار کثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے والوں میں   ہو جائے گا اور وہ تمام بَرَکات و ثَمَرَات حاصل ہو جائیں گے جن کا اَحادیث ِ مبارکہ میں   تَذْکِرَہ ہے۔

          حضرتِ سیِّدُناشیخ عبد الحق مُحدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کثرتِ درود شریف کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ روزانہ کم از کم1000مرتبہ دُرُود شریف ضرور پڑھیں ورنہ 500 پر اِکتِفا کریں ۔ بعض بُزُرگوں نے روزانہ300 اور بعض نے نمازِ فجر و عصر کے بعد دو دو سو مرتبہ پڑھنے کو فرمایا ہے اور کچھ سوتے وقت بھی پڑھنے کی عادت ڈالیں ۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں :’’ روزانہ کم از کم 100 مرتبہ دُرُودو سلام ضرور پڑھنا چاہئے ۔‘‘پھر مزید فرماتے ہیں :’’ بعض دُرُود شریف کے ایسے صیغے ہیں ( مثلاً صَلَّی اللہ عَلَیہِ و سلَّم ) جن کے پڑھنے سے1000 کا عدد بآسانی اور جلد پورا ہو جاتا ہے ۔ اُسی کو وظیفہ بنا لیا جائے اور ویسے بھی جو کثرت


 سے دُرُود ِ پاک پڑھنے کا عادی ہوتا ہے اُس پر وہ آسان ہو جاتا ہے۔ غرضیکہ جو عاشق ِ رسول ہوتا ہے اُسے دُرُودو سلام پڑھنے سے وہ لذّت و شیرینی حاصل ہوتی ہے جو اس کی رُوح کو تقویَّت پہنچاتی ہے۔ ( جذب القلوب(مترجم) ،ص۳۲۸ ،ملخّصًا)

مریض ِ ہجر کو ہوجائے گی ابھی تسکیں

ذرا مدینے کے دارُالشِّفاء کی بات کرو

          حضرت ِ علامہ محمد یوسف بن اسماعیل نبہانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی اپنی کتاب ’’اَفْضَلُ الصَّلَواتِ علٰی سیِّدِ السَّادات‘‘ میں   فرماتے ہیں کہ علامہ عبدالوہاب شعرانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی نے ’’ کشف الغُمَّہ ‘‘ میں   بیان کیا ہے کہ بعض عُلمائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین فرماتے ہیں ،’’ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بکثرت دُرُود شریف کی کم از کم تعداد ہر رات700 بار اور ہر دن 700 بار ہے ۔‘‘ مزید لکھتے ہیں:’’ ایک بُزُرگ کا بیان ہے :’’ کم از کم کثرت روزانہ 350 بار دن میں   اور ہر شب میں   350 بار ہے ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں کہ حضرت امام شعرانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی  نے اپنی کتاب ’’ اَنْوَار الْقُدسیہ‘‘ میں   فرمایا ہے :’’ ہم سے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عہد لیا کہ ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہر دن اوررات بکثرت دُرُود و سلام پڑھا کریں گے اور اپنے بھائیوں کے آگے اس کا اجر و ثواب بیان کیا


 

کریں گے اور آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اظہارِ مَحبَّت کے لئے اُنہیں پُوری ترغیب دیں گے اور یہ کہ ہم ہر دن اور رات اور صبح اور شام1000 سے لے کر10,000 تک درود وسلام کا وِرد کریں گے ۔‘‘علامہ نبہانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی مزید فرماتے ہیں :’’حضرت شیخ نورالدین شونی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی روزانہ10,000بار درود وسلام پڑھتے تھے اور شیخ احمد زواوی علیہ رحمۃ اللہ الھادی روزانہ40,000بار درود شریف پڑھتے تھے ۔ (افضل الصلوات علی سید السادات،الفصل الرابع،ص۳۰/۳۱)

           حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے شیخ اجل عبدالوہاب متقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے دُرُود ِپاک کی تعداد دریافت کی تو فرمایا کہ اس کی کوئی تعداد معین نہیں ہے،جتنا ہو سکے پڑھو،اسی سے رَطْبُ اللِّسَان رہو (یعنی اپنی زبان تَر رکھو) اور اسی کے رنگ میں   رنگ جاؤ۔‘‘(مدارج النبوۃ،باب نہم ذکر حقوق آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ج ۱،ص۳۲۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کثرتِِ دُرُود کا اِنعام

          حضرتِ سیِّدُنا شیخ احمد بن منصورعَلَیْہِ رَحْمَۃ اللہِ الْغَفُورجب فوت ہوئے تو اَہلِ شیراز میں   سے کسی نے خواب میں   دیکھا کہ وہ شیراز کی جامِع مسجد کے مِحراب میں 


 

 کھڑے ہیں اور اُنہوں نے بہترین حُلّہ( جنّتی لباس ) زَیبِ تن کیا ہوا ہے اور سر پر موتیوں والا تاج سجا ہوا ہے ۔ خواب دیکھنے والے نے عرض کی:’’ حضرت! کیا حال ہے ؟‘‘ فرمایا : ’’اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اور مجھ پر کرم فرمایا اور مجھے تاج پہنا کر جنّت میں   داخل کیا ‘‘ پوچھا :’’ کس سَبب سے ؟‘‘ فرمایا: ’’ میں   تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کثرت سے دُرُود ِ پاک پڑھا کرتا تھا ، یہی عمل کام آگیا۔‘‘(القول البدیع،الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ علی رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ الخ،ص۲۵۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(2)                                                                                                                       رحمتوں کی بَرسات

            حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُرَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رحمت نشان ہے : ’’صَلُّوْا عَلَیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡکُمْ یعنی مجھ پر دُرُود شریف پڑھو، اﷲ تعالیٰ تم پر رحمت بھیجے گا۔‘‘(الکامل في ضعفاء الرجال، رقم الترجمۃ ۱۱۴۱، ج۵، ص۵۰۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صَلَاۃکے معنی ہیں رحمت یا طلب ِرحمت، جب اس کا فاعل(یعنی کرنے والا) ربّ (عَزَّوَجَلَّ)  ہو تو (صَلَاۃ)بمعنی رحمت ہوتی ہے اور فاعل جب بندے ہوں تو بمعنی طلبِ رحمت ۔ اسلام میں   ایک نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ہے۔

خیال رہے کہ بندہ اپنی حیثیت کے لائق درود شریف پڑھتا ہے مگر رب تعالیٰ اپنی شان کے لائق اس پر رحمتیں اُتارتا ہے جو بندے کے خیال وگمان سے وَرَاء(یعنی بُلند)ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۲،ص۹۷،۹۹)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(3)                                                                                                                                                                                                 دس رحمتیں

           حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مُشکبارہے: ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ عَشْرَصَلَوٰتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیَّاتٍ وَرُفِعَتْ لَہٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ یعنی جس نے مجھ پر ایک بار دُرُود پاک پڑھا، اﷲ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجے گا اور اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس کے دس دَرَجے بلند کئے جائیں گے ۔‘‘(مشکٰوۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،الحدیث۹۲۲،ج۱،ص۱۸۹)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ ایک دُرُود پاک میں   تین فائدے ہیں۔دس رحمتیں ،دس گناہوں کی معافی اور دس دَرَجوں کی بُلندی ۔

(مراٰۃ المناجیح،کتاب الصلاۃ ،باب الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ج۲، ص۱۰۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(4)                                                                                                                                                                                 نیّت کی اہمیت

          امیرُ المومِنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِقلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّـیَّاتِیعنی اَعمال کا دارومدا ر نیتوں  پر ہے۔‘‘(صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی،الحدیث۱،ص۱)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث سے معلوم ہواکہ اَعمال کا ثواب نیت پر ہی ہے ،بغیر نیت کسی عمل پر ثواب کا اِسْتِحْقَاق(یعنی حق) نہیں ۔اَعمال عمل کی جمع ہے اور اس کا اِطلاق اعضاء، زبان اور دل تینوں کے اَفعال پر ہوتا ہے اور یہاں اعمال سے مراد اَعمالِ صَالِحَہ(یعنی نیک اعمال)اور مُبَاح (یعنی جائز)اَفعال ہیں۔اورنیت لُغوی طورپردل کے پختہ اِرادے کو کہتے ہیں اور شَرْعاً عبادت کے اِرادے کو نیت کہا جاتا ہے۔ عبادات کی دو قسمیں   ہیں :

          (۱)مقصودہ :جیسے نماز ،روزہ کہ ان سے مقصود حصولِ ثواب ہے انہیں اگر بغیر نیت ادا کیا جائے تو یہ صحیح نہ ہوں گے اس لئے کہ ان سے مقصود ثواب تھا اور جب ثواب مَفْقُود ہو گیا تو اس کی وجہ سے اصل شے ہی ادا نہ ہوگی ۔


 

          (۲)غیر مقصودہ :وہ جو دوسری عبادتوں کے لئے ذریعہ ہوں جیسے نماز کے لئے چلنا ،وضو ،غسل وغیرہ ۔ان عباداتِ غیرمقصودہ کو اگر کوئی نیت ِ عبادت کے ساتھ کرے گا تو اسے ثواب ملے گا اور اگر بلانیّت کرے گا تو ثواب نہیں ملے گا مگر ان کا ذریعہ یا وسیلہ بننا اب بھی درست ہوگا اور ان سے نماز صحیح ہوجائے گی ۔(ماخوذ از نزھۃالقاری شرح صحیح البخاری ،ج۱،ص۲۲۶)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک عمل میں   جتنی نیّتیں ہوں گی اتنی نیکیوں کا ثواب ملے گا،مثلاًمحتاج قرَابَت دار کی مدد کرنے میں   اگر نیت فقط لِوَجْہِ اللّٰہِ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے )دینے کی ہوگی تو ایک نیت کا ثواب پائے گا اور اگر صلۂ رحمی کی نیّت بھی کرے گا تو دوہراثواب پائے گا۔(اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۳۶)اسی طرح مسجد میں   نماز کے لئے جانابھی ایک عمل ہے اس میں   بہت سی نیّتیں کی جاسکتی ہیں ، امامِ اہلسنّت الشاہ مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے فتاویٰ رضویہ جلد5صفحہ673 میں   اس کے لئے چالیس نیّتیں  بیان کیں اور فرمایا:’’بے شک جو علمِ نیّت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ،ج۵،ص۶۷۳)

          بلکہ مباح کاموں میں   بھی اچھی نیت کرنے سے ثواب ملے گا،مثلاً خوشبو لگانے میں   اتباعِ سنت، تعظیمِ مسجد ،فرحتِ دماغ اور اپنے اسلامی بھائیوں سے

ناپسندیدہ بُودور کرنے کی نیّتیں  ہوں تو ہر نیّت کاالگ ثواب ہوگا۔(اشعۃاللمعات،ج ۱،ص۳۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خُلوصِ نیت  

          حضرتِ سیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ الغَفَّار دمشق میں   مُقِیم تھے اور حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تیار کردہ مسجد میں   اِعْتِکاف کیا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ ان کے دل میں   خیال آیا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ مجھے اس مسجد کا مُتَوَلِّی(یعنی انتظام سنبھالنے والا) بنا دیا جائے ۔ چنانچہ آپ نے اعتکاف میں   اضافہ کردیا اور اتنی کثرت سے نمازیں پڑھیں کہ ہمہ وقت نماز میں   مشغول دیکھے جاتے۔ لیکن کسی نے آپ کی طرف تَوَجُّہ نہیں کی۔ ایک سال اسی طرح گزر گیا۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر آئے تو ندائے غیبی آئی :’’اے مالک !تجھے اب توبہ کرنی چاہیے۔‘‘یہ سن کر آپ کو ایک سال تک اپنی خود غرضانہ عبادت پر شدید رنج و شرمندگی ہوئی اور آپ اپنے قلب کو رِیا سے خالی کر کے خلوصِ نیت کے ساتھ ساری رات عبادت میں   مشغول رہے ۔

          صبح کے وقت مسجد کے دروازے پر لوگوں کاایک مجمع موجود تھا،اور لوگ


 

 آپس میں   کہہ رہے تھے کہ’’ مسجد کا انتظام ٹھیک نہیں ہے لہذا اسی شخص کو  مُتَوَلِّی بنا دیا جائے اور تمام انتظامی امور اس کے سپرد کر دیے جائیں ۔‘‘سارا مجمع اس بات پر متفق ہو کر آپ عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ الغَفَّار کے پاس پہنچا اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے کے بعدانہوں نے آپ سے عرض کی کہ’’ ہم باہمی طور پر کئے گئے متفقہ فیصلے سے آپ کو مسجد کا  مُتَوَلِّی بنانا چاہتے ہیں۔‘‘آپعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ الغَفَّار نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں   عرض کی :’’اے اللّٰہ !میں   ایک سال تک ریا کارانہ عبادت میں   اس لیے مشغول رہا کہ مجھے مسجد کی تَولِیَت حاصل ہو جائے مگر ایسا نہ ہوا اب جبکہ میں   صِدْقِ دل سے تیری عبادت میں   مشغول ہوا تو تمام لوگ مجھے  مُتَوَلِّی بنانے آ پہنچے اور میرے اوپر یہ بار ڈالنا چاہتے ہیں،لیکن میں   تیر ی عظمت کی قسم کھاتا ہوں کہ میں   نہ تو اب تولیت قبول کروں گا اور نہ مسجد سے باہر نکلوں گا ۔‘‘یہ کہہ کر پھر عبادت میں   مشغول ہو گئے ۔(تذکر ۃ الاولیاء،باب چہارم،ذکر مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہ تعَالٰی عَلَیْہ ،ج ۱ ،ص ۴۸ ،۴۹)

مدینہ: اچھی اچھی نیّتوں سے متعلق رَہنمائی کیلئے ، امیرِ اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان ’’نیّت کا پھل‘‘اورنیتوں سے متعلق آپ کے مُرتّب کردہ  کارڈ یا  پمفلٹ  مکتبۃ المدینہکی کسی بھی شاخ سے ھدیّۃًحاصِل فرمائیں۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(5)                                                                                                                                                 نیّت عمل سے بہتر ہے

            حضرتِ سیِّدُنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلکُشاہے: ’’نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیۡرٌ مِّنْ عَمَلِہٖیعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہترہے۔‘‘(المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث: ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵)

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیرُالمومِنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیۡمنے ارشاد فرمایا : ’’بندے کو اچھی نیّت پر وہ انعامات دیئے جاتے ہیں جو اچھے عمل پر بھی نہیں دیئے جاتے کیونکہ نیّت میں   ریاکاری نہیں ہوتی۔‘‘ (الزّواجر عن اقتراف الکبائر،الکبیرۃ الثانیۃ،باب الشرک الاصغر وھو الریاء،ج۱،ص۷۵)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نیت کا پھل

بنی اسرائیل کا ایک شخص قحط سالی میں   ریت کے ایک ٹیلے کے پاس سے گزرا ۔ اس نے دل میں   سوچا کہ اگر یہ ریت غلہ ہوتی تو میں   اسے لوگوں میں   تقسیم کردیتا ۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے نبی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اُس سے فرمائیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کر لیا اور تیری اچھی نیت کے بدلے


 

 میں   اس ٹیلے کے بقدر غلہ صدقہ کرنے کا ثواب دیا ۔ (احیاء العلوم،کتاب النیۃ والاخلاص، ج۵،ص۸۸)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(6)                                                                                                 حُصُولِ عِلْم کی ترغیب   

          حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رہبر نشان ہے: ’’اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیۡنِ یعنی علم حاصل کرواگرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔‘‘(شعب الإیمان، باب في طلب العلم، الحدیث: ۱۶۶۳، ج۲، ص۲۵۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس (حدیثِ پاک)سے علمِ دین کی بے انتہا اہمیت ثابت ہو تی ہے کہ اُس زمانہ میں   جبکہ ہوائی جہاز،ریل اور موٹر نہیں تھے، عرب سے ملکِ چین پہنچنا کتنا مشکل کام تھا مگر رحمت عالم ،نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرما رہے ہیں کہ اگرچہ تم کو عرب سے ملک چین جانا پڑے لیکن علم دین ضرور حاصل کرو اس سے غفلت ہر گز نہ برتو۔(علم اور علماء ،ص۳۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

مدینۃ المنورّہ سے دمشق کا سفر

          حضرتِ سیِّدُنا کثیر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں   حضرتِ سیِّدُنا  ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں   بیٹھا تھا تو ایک آدمی نے آکر کہا: ’’ اے ابودرداء! بے شک میں   تاجدارِ رسالت   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہر مدینہ طیبہ سے یہ سن کر آیا ہوں کہ آپ کے پاس کوئی حدیث ہے جسے آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہیں اور میں   کسی دوسرے کام کے لیے نہیں آیا ہوں۔‘‘ حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں   نے رسول کریم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علم (دین) حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں   سے ایک راستے پر چلاتا ہے اور طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لیے فرشتے ا پنے پروں کو بچھا دیتے ہیں اور ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں   ہے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی کے اندر عالم کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں اورعالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر، اور علماء انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث و جانشین ہیں۔ انبیائے کرام  علیہم السلام کا ترکہ دینار و درہم نہیں ہیں۔ انہوں نے وَرَاثَت میں   صرف علم چھوڑا ہے تو جس نے اسے حاصل کیا اس نے پورا حصہ پایا۔‘‘(سنن ابوداوٗد، کتاب العلم ، باب الحث علی طلب العلم، الحدیث ۳۶۴۱، ج۳، ص۴۴۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(7)                                                                                                                                                                                                 بہترین شخص

          حضرتِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’خَیۡرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہُ یعنی تم میں   بہترین شخص وہ ہے، جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔‘‘(صحیح البخاري،کتاب فضائل القرآن،باب خیرکم ...الخ،الحدیث۵۰۲۷،ج۳،ص۴۱۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قراٰن سیکھنے سکھانے میں   بہت وُسْعَت ہے، بچوں کو قراٰن کے ہجے سِکھانا ،قاری صاحبان کا تَجْوِید سیکھنا سکھانا،علماء کرام کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث و فقہ سیکھنا سکھانا ،صوفیائے کرام کا اَسْرَار ورُمُوزِقرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا سب قرآن ہی کی تعلیم ہے۔ صرف اَلفاظِ قرآن کی تعلیم مُراد نہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج۳،ص۲۱۷)

          الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت قراٰنِ پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اندرون وبیرون ِ مُلک حفظ وناظرہ کے لاتعداد مدارِس بنام ’’مدرسۃالمدینہ‘‘قائم ہیں۔پاکستان میں 

 ہزاروںمَدَنی مُنّے اور مَدَنی مُنّیوں کو حفظ وناظِرہ کی مفت تعلیم دی جارہی ہے۔ اسی طرح مختلف مَسَاجِد وغیرہ میں   عُمُوماََبعد نمازِ عشاء ہزارہا مدرسۃالمدینہ بالغان کی ترکیب ہوتی ہے جن میں   بڑی عمر کے اسلامی بھائی صحیح مَخَارِج سے حروف کی دُرُست ادائیگی کے ساتھ قراٰن کریم سیکھتے اور دعائیں یاد کرتے ،نمازیں وغیرہ درست کرتے اورسُنّتوں کی تعلیم مفت حاصل کرتے ہیں۔علاوہ ازیں دُنیا کے مختلف مُمالِک میں   اکثر گھروں کے اندر تقریباََروزانہ ہزاروں مدارِس بنام مدرَسَۃُالمدینہ (برائے بالِغات) بھی لگائے جاتے ہیں جن میں   اسلامی بہنیں قراٰن ِ پاک ،نَماز اورسُنّتوں کی مُفت تعلیم پاتیں اور دعائیں یاد کرتی ہیں۔شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطارقادری دامت برکاتہم العالیہ کے جذبات یہ ہیں :

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآںعام ہوجائے 

تلاوت کرنا صبح و شام میرا کام ہو جائے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(8)                                                                                                                                                   عِلْم حاصل کرنا فرض ہے

          حضرتِ سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ

 لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں:’’ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیۡضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍیعنی علم کا حاصل کرناہر مسلمان مرد (وعورت) پر فرض ہے۔‘‘(شعب الإیمان،باب في طلب العلم، الحدیث: ۱۶۶۵، ج۲، ص۲۵۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر مسلمان مرد عورت پر علم سیکھنا فرض ہے، (یہاں)علم سے بَقَدَرِ ضرورت شرعی مسائل مُراد ہیں لہٰذا روزے نماز کے مسائلِ ضرور یہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض، حیض و نفاس کے ضروری مسائل سیکھنا ہر عورت پر، تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجِر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عین فرض ہیں لیکن دین کا پورا عالم بننا فرضِ کفایہ کہ اگر شہر میں   ایک نے ادا کر دیا تو سب بری ہو گئے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۲۰۲)

        شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرکاتُہُم الْعَالیہ اپنے ایک مکتوب میں   لکھتے ہیں:’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس! آج کل صِر ف و صِرف دنیاوی عُلوم ہی کی طرف ہماری اکثریت کا رُجحان ہے ۔ علمِ دین کی طرف بَہُت ہی کم مَیلان ہے۔ حدیثِ پاک میں   ہے : طَلَبُ العِلْمِ فَرِیۡضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ ۔ یعنی عِلم کا طَلَب کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت) پرفرض ہے ( سنن ابن ماجہ ج۱ ص ۱۴۶ حدیث ۲۲۴) اِس حدیثِ

 پاک کے تحت میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے جو کچھ فرمایا،اس کا آسان لفظوں میں   مختصراً خُلاصہ عرض کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ۔ سب میں  اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بُنیادی عقائد کا علم حاصِل کرے ۔ جس سے آدمی صحیح العقیدہ سُنّی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالَفَت سے کا فِر یا گُمراہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد مسائلِ نَماز یعنی اِس کے فرائض و شرائط و مُفسِدات ( یعنی نماز توڑنے والی چیزیں) سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رَمَضانُ الْمبارَک کی تشریف آوری ہو تو روزوں کے مسائل ، مالِکِ نصابِ نامی ( یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والے مال کے نِصاب کا مالک) ہو جائے توزکوٰۃ کے مسائل، صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو مسائلِ حج،نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل ،تاجِر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مُزارِع یعنی کاشتکار (وزمیندار) پرکھیتی باڑی کے مسائل،ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل۔ وَ عَلٰی ھٰذَاالْقِیاس( یعنی اور اِسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہرمسلمان عاقِل و بالِغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب( باطنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ ( باطنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور


 

 توکُّل وغیرہا اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر ، رِیاکاری، حَسَد وغیرہااور ان کا عِلاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔(ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ،ج۲۳، ص ۶۲۳،۶۲۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(9)                                                                                                                                                                                                     رِزْق کا ضامِن

          حضرتِ سیِّدُنا  زِیاد بن حارِث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے:  ’’مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِرِزْقِہٖ یعنی جو شخص طلبِ علم میں   رہتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کے رِزْق کا ضامِن ہے۔‘(تاریخ بغداد، رقم: ۱۵۳۵، ج۳، ص۳۹۸)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ تعالیٰ طالب علم کو خاص طور پرایسے ذریعے سے رزق عطا کرے گاکہ اس کا گمان بھی نہ ہو گا، ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔ لہٰذا طالب العلم کو چاہئے کہ اپنے ربّ ہی پر تَوَکُّل کرے اور تھوڑے کھانے اور کم لباس پرقَنَاعَت کرے۔امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الخَالِق فرماتے ہیں :جو فَقْرپر راضی نہ ہوگا تو اسے اس کا مطلوب یعنی علم نہ مل سکے گا ۔(فیض القدیر،تحت الحدیث۸۸۳۸،ج۶،ص۲۲۸، ملخّصًا)


          فقہ حنفی کے عظیم پیشوا اِمام اعظم ابوحنیفہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ہونہار شاگرد امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی شاگردی اختیار کی تو آپ  مالی طور پر زبوں حالی کا شکار تھے۔ لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل علم حاصل کرتے رہے اور آخرِ کار فقہ حنفی کے امام کہلائے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(10)                                                                                   راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کا مسافر

           حضرتِ سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اﷲعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ’’مَنْ خَرَجَ فِیۡ طَلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَرْجِعَ یعنی جوشخص طلب علم کے لیے گھر سے نکلا ،تو جب تک واپس نہ ہو اﷲعَزَّوَجَلَّ  کی راہ میں   ہے۔ ‘‘(جامع الترمذي، ابوابُ العلم، باب فضل طلب العلم، الحدیث ۲۶۵۶،ج۴، ص۲۹۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے اپنے گھر سے یا علم کی جُسْتجُو(جُسْتْ۔جُوْ)میں   اپنے وطن سے عُلَمَاء کے پاس گیا وہ بھی مُجَاہِد فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہ (یعنی راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں   جہاد کرنے والے کی طرح)ہے ۔ غازِی کی

طرح گھر لوٹنے تک اس کا سارا وقت اور ہر حرکت عبادت ہوگی۔(مراٰۃالمناجیح،ج۱،ص۲۰۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سیکھنے کیلئے سفر کرنا بُزُرگوں کی سنّت ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا علم حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا بُزُرگان دین کی سنت ہے ۔اور وہ نفوس قدسیہ تو اس کٹھن دور میں   علم حاصل کرنے کے لئے سفر کرتے تھے جب سفر اونٹ پر ،گھوڑے پر یا پیدل کیا جاتا تھا۔اور منزل تک پہنچنے میں   کئی روز اور کبھی کبھی کئی ماہ صرف ہو جا تے تھے۔جبکہ آج کل تو مہینوں کا سفر دنوں میں   اور دنوں کا سفر گھنٹوں میں   طے ہو جا تا ہے ۔اُس دور میں   اس قدر دشواریاں ہونے کے باوجود لوگوں میں   جذبہ تھا کہ وہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں   سفر کرتے تھے ۔ اور سنتوں کے راستے میں   آنے والی ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتے تھے۔ مگر افسوس ! آج حالانکہ سفر کرنا نہایت ہی آسان ہو چکا ہے۔ پھر بھی اِس آسانی سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ہاں ! حصول دنیا کیلئے اس آسانی کا پورا پورا فائدہ اٹھایا جاتا ہے ۔دولت کمانے کے لئے لوگ ہزاروں میلوں کا سفر طے کر کے نہ جانے

 کہاں کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ مال کمانے کی غرض سے ماں باپ ،بیوی بچوںسب سے فرقت اور جدائی گوارا کرلیتے ہیں۔ خوب کماتے ہیں،بینک بیلنس بڑھاتے ہیں، خوب خوش ہو تے ہیں، ہر وقت مال ودولت کے ڈھیر کے سہانے سپنے دیکھتے رہتے ہیں ،دولت بڑھانے کی نئی نئی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں۔شب وروز مال ہی کے جال میں   پھنسے رہتے ہیں۔آہ!  حبِّ مال میں   ہر ایک آج سفر کرنے کے لئے بیقرار اور سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لئے تیار نظر آتاہے۔ اسلام کی سر بلندی کے لئے نیکی کی دعوت پیش کرنے کے لئے کون اپنے گھر سے نکلے۔آہ!صدآہ!

وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو

ہو جس کے رگ و پے میں   فقط مستیٔ کردار

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلے قریہ بہ قریہ ، گاؤں بہ گاؤں ،ملک بہ ملک 3دن ، 12دن ،30دن اور 12ماہ کے لئے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ  میں   سفر کرتے رہتے ہیں ۔ہمیں   چاہئے کہ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے عاشقانِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں   سفر کو اپنا معمول بنالیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(11)                                                                                                                                    گُنا ہوں کا کفّارہ

           حضرتِ سیِّدُنا سَخْبِرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے: ’’مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضٰییعنی جو شخص علم طلب کرتا ہے، تو یہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہے۔‘‘(جامع الترمذي، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحدیث ۲۶۵۷، ج۴،ص۲۹۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!طالب علم سے صغیرہ گناہ (اُسی طرح) معاف ہو جاتے ہیں جیسے وضو نماز وغیرہ عبادات سے، لہٰذا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالب علم جو گناہ چاہے کرے ۔ یا(اس حدیث کا) مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نیتِ خیر سے علم طلب کرنے والوں کو گناہوں سے بچنے اور گذشتہ گناہوں کا کفّارہ ادا کرنے کی توفیق دیتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۲۰۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(12)                                                                                                       دین کی سمجھ

          حضرتِ سیِّدُنا مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:


 

’’مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیۡرًایُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیۡنِیعنی اﷲ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ ‘‘(صحیح البخاري، کتاب العلم باب من یرد اللّٰہ بہ خیرا۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۷۱، ج۱،ص۴۳)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فِقْہ کے شرعی معنی یہ ہیں کہ اَحکامِ شَرْعِیَّہ فَرْعِیَّہ کو انکے تفصیلی دلائل سے جاننا۔(اس حدیث کے)معنی یہ ہوئے کہ اللّٰہ جسے تمام دنیا کی بھلا ئی عطافرمانا چاہتا ہے اسے فقیہ بناتا ہے ۔(ماخوذ از نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج۱، ص۴۲۴) یعنی اسے علم ،دینی سمجھ اور دانائی بخشتا ہے خیال رہے کہ فقہ ظاہری ‘ شریعت ہے اور فقہ باطنی‘ طریقت اور حقیقت ،یہ حدیث دونوں کو شامل ہے۔ اس (حدیث)سے دو مسئلے ثابت ہوئے ایک یہ کہ قران و حدیث کے ترجمے اور الفاظ رٹ لینا علمِ دین نہیں بلکہ انکا سمجھنا علم دین ہے۔ یہی مشکل ہے۔ اسی کے لئے فقہاء کی تقلید کی جاتی ہے ۔اسی وجہ سے تمام مُفَسِّرِین و مُحَدِّثِیۡن آئِمَّہ مُجْتَہِدِین کے مُقَلِّد ہوئے اپنی حدیث دانی پر نازاں نہ ہوئے ۔دوسرے یہ کہ حدیث وقراٰن کا علم کمال نہیں ،بلکہ انکا سمجھنا کمال ہے۔ عالمِ دین وہ ہے جسکی زبان پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اور رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہو اور دل میں   انکا فیضان۔(مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۸۷)


 

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!علمِ دین وعلمائے حقّہ کے فضائل بے شمار ہیں مگر افسوس کہ آج کل علمِ دین کی طرف ہمارا رُجحان نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اپنے ہونہار بچوں کو دنیوی علوم وفنون تو خوب سکھائے جاتے ہیں مگر سنتیں سکھانے کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ۔ اگر بچہ ذرا ذہین ہوتواس کے والدین کے دل میں   اسے ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، کمپیوٹر پروگرامر بنانے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے اس کی دینی تربیت سے منہ موڑ کر مغربی تہذیب کے نمائندہ اداروں کے مخلوط ماحول میں   تعلیم دلوانے میں   کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی بلکہ اسے ’’اعلیٰ تعلیم ‘‘کی خاطر کفار کے حوالے کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ۔اور اگر بچہ کندذہن ہے یا شرارتی ہے یا معذور ہے تو جان چھڑانے کے لئے اسے کسی دارالعلوم یا جامعہ میں   داخلہ دلا دیا جاتا ہے ۔بظاہر اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ والدین کی اکثریت کا مَطْمَحِ نظر محض دنیوی مال وجاہ ہوتی ہے ،اُخروی مَرَاتِبْ کا حصول ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتا ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کوعالم بنائیں تاکہ وہ عالم بننے کے بعد معاشرے میں   لائق ِ تقلید کردار کا مالک بنے اور دوسروں کو علمِ دین بھی سکھائے ۔


 

مدینہ:الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام کثیر جامعات بنام ’’جامعۃ المدینہ‘‘ قائم ہیں ۔ ان کے ذریعے لاتعداد اسلامی بھائیوں کو( حسب ِ ضرورت قیام وطعام کی سہولت کے ساتھ)درس ِ نظامی (یعنی عالِم کورس)اور اسلامی بہنوں کو ’’عالمہ کورس‘‘کی مفت تعلیم دی جاتی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ جامعات میں   ایسا مدنی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے علم وعمل کا پیکر بن کر نکلیں۔ آپ بھی اپنی اولاد کو علم وعمل سکھانے کے لئے جامعۃ المدینہ میں   پڑھائیے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(13)                                                                                                                                     نَجات کا ذریعہ

           حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں:’’ مَنْ صَمَتَ نَجَایعنی جو خاموش رہا نَجات پاگیا۔ ‘‘(جامع الترمذي،ابواب صفۃ القیامۃ،الحدیث۲۵۰۹،ج۴،ص۲۲۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس فرمان کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے خاموشی اختیار کی وہ دونوں جہاں کی بلاءں سے محفوظ رہا۔حُجَّۃُ الاسلام


 

 امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:’’کلام چار قسم کے ہیں،(ایک)خالص نقصان دہ،(دوسرا)خالص مُفید،(تیسرا)نقصان دہ بھی اور مُفید بھی، (چوتھا)نہ نقصان دہ اور نہ مُفید ۔ خالص نقصان دہ سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے ۔ خالص مفید کلام ضرور کرے ۔ جو کلام نقصان دہ بھی ہو اور مُفید بھی اس کے بولنے میں   احتیاط کرے ،بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں   وقت ضائع کرنا ہے ۔ان کلاموں میں   امتیاز کرنا مشکل ہے لہٰذا خاموشی بہتر ہے ۔‘‘(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۴۶۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بولنے کا نقصان

ایک مرتبہ بادشاہ بہرام کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا کہ اسے کسی پرندے کے بولنے کی آواز سنائی دی ۔ اس نے پرندے کی طرف تیر پھینکا جو اسے جالگا (اور وہ ہلاک ہوگیا) ۔ بہرام نے کہا :’’زبان کی حفاظت انسان اور پرندے دونوں کے لئے مفید ہے کہ اگر یہ نہ بولتا تو اس کی جان بچ جاتی ۔‘‘ (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر ،ج۱، ص ۱۴۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(14)                                                                                       رہنمائی کی فضیلت

           حضرتِ سیِّدُنا ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ خوشبودارہے: ’’مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیۡرٍ فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِفَاعِلِہٖ یعنی جوشخص کسی کو نیکی کا راستہ بتائے گا، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، جتنا کہ اس نیکی پر عمل کرنے والے کو۔ ‘‘(صحیح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب فضل اعانۃ الغازي۔۔۔ الخ،الحدیث۱۸۹۳،ص۱۰۵۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا، مشورہ دینے والا سب ثواب کے مستحق ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۹۴)سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ،’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی قسم !اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی ایک کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔‘(سنن ابو داؤد ،الحدیث۳۶۶۱، ج۳، ص ۳۵۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(15)      نیکی کی دعوت

           حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی


 

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’بَلِّغُوْا عَنِّیۡ وَلَوْ آیَۃً یعنی میری طرف سے پہنچا دو، اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔‘‘(صحیح البخاري،کتاب احادیث الانبیاء،باب ما ذکرعن بنی اسرائیل،الحدیث ۳۴۶۱،،ج۲،ص۴۶۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آیۃ کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں ۔اس لحاظ سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مُعْجِزَات ،اَحادیث، اَحکام ،قراٰنی آیات سب آیتیں ہیں۔اِصطِلاح میں   قراٰن کے اس جملے کو آیت کہا جاتا ہے جس کا مستقل نام نہ ہو۔نام والے مضمون کو سورۃ کہتے ہیں۔یہاں آیت سے لُغوی معنی مراد ہیں یعنی جسے کوئی مسئلہ یا حدیث یا قرآن شریف کی آیت یادہو وہ دوسرے کو پہنچا دے۔تبلیغ صرف علماء دَامَتْ فُیُوْضُھُمْ پر فرض نہیں ، ہر مسلمان بقدرِ علم مبلغ ہے اور ہو سکتا ہے کہ آیت کے اِصْطِلَاحِی معنی مراد ہوں اور اس سے آیت کے الفاظ معنی مطلب مسائل سب مراد ہوں یعنی جسے ایک آیت حفظ ہو اسکے متعلق کچھ مسائل معلوم ہوں لوگوں تک پہنچائے، تبلیغ بھی بڑی اہم عبادت ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۸۵)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ ہم جو کچھ بھی سنتیں وغیرہ جانتے ہیں اُسے اَحسَن طریقے سے دوسرے اسلامی بھائیوں تک پہنچانا چاہئے ۔ہاں آیاتِ مُقَدَّسَہ کی تفسیر اور اَحادیثِ مبارکہ کی شرح، عام اسلامی بھائی اپنی طرف


 

سے نہیں کر سکتا، یہ مُفَسِّرین ومُحَدِّثین کرام کا کام ہے ۔تاہم نیکی کی دعوت دینے والے مبلِّغ کے لئے یہ بات نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کرتا رہے اور اس مصروفیت کے دور میں   حُصُولِ علم کے آسان ذرائع میں   سے ایک ذریعہ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں   شرکت بھی ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(16)                                                                                                                   دُعا کی اہمیت

           حضرتِ سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ یعنی دُعا عبادت کا مغز ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، کتاب الدعوات، الحدیث: ۳۳۸۲، ج۵،ص۲۴۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُعا عبادت کا رکنِ اعلیٰ ہے ۔دُعا عبادت کا مغز اس اعتبار سے ہے کہ دُعا مانگنے والا ہر ایک سے کنارہ کرکے اپنے ربّ عزوجل کی بارگاہ میں  مناجات کرتا ہے ۔(فیض القدیر ،ج۳،ص۷۲۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(17)                                                                                   دُعا بلا کو ٹال دیتی ہے

           حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، اﷲعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلدُّعَاءُ یَرُدُّ الْبَلَاءَ یعنی دعابلا کو ٹال دیتی ہے۔‘‘(الجامع الصغیر، للسیوطي، الحدیث: ۴۲۶۵، ص۲۵۹)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُعا کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ اسکی برکت سے آئی بلا ٹل جاتی ہے دوسرے یہ کہ آنے والی بلا رک جا تی ہے ۔لہٰذا فقط بَلا آنے پر ہی دُعا نہ کی جائے بلکہ ہر وقت دُعا مانگنی چاہئیے ،شاید کوئی بَلا آنے والی ہو جو اِس دُعا سے رُک جائے ۔(مراٰۃ المناجیح،ج۳،ص۲۹۵)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غَیبی مدد

           دَورِ نبوی میں   ایک تاجِر مدینۂ پاک سے شام اور شام سے مدینۃ المنوّرہ مال لاتا اور لے جاتا تھا۔ ایک بار اچانک ایک ڈاکو گھوڑے پر سوار اس کی راہ میں   حائل ہوا اور للکار کرتاجر پر جھپٹا۔ تاجر نے کہا:’’ اگر تو مال کے لئے ایساکر رہا ہے تو مال لے لے اور مجھے چھوڑدے۔‘‘ ڈاکو کہنے لگا:’’ مال تو میں   لوں گا ہی ،اس کے


 

 ساتھ ساتھ تیری جان بھی لوں گا۔ ‘‘تاجر نے اُسے بَہُت سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ بالآخر تاجر نے اس سے اتنی مہلت مانگی کہ وضو کر کے نَماز پڑھے اور کچھ دُعا کرے ۔ڈاکو اس پر راضی ہو گیا۔ تاجر نے وضو کر کے چار رکعت نماز پڑھی اور ہاتھ اٹھا کر تین باریہ دعا کی؛

یَاوَدُوْدُ یَاوَدُوْدُ یَاوَدُوْدُ، یَاذَاالْعَرْشِ الْمَجِیۡدِ،یَامُبْدِیُٔ یَامُعِیۡدُ یَا فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ اَسْئَلُکَ بِنُوْرِوَجْہِکَ الَّذِیۡ مَلَاءَ اَرْ کَانَ عَرْشِکَ وَاَسْئَلُکَ بِقُدْرَتِکَ الَّتِیۡ قَدَرْتَ بِھَا عَلٰی جَمِیۡعِ خَلْقِکَ وَبِرَحْمَتِکَ الَّتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡئٍ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ یَا مُغِیۡثُ اَغِثْنِیۡ

ترجمہ: اے محبت فرمانے والے، اے محبت فرمانے والے، اے محبت فرمانے والے، اے بزرگ عرش والے،اے پیدا کرنے والے،اے لوٹانے والے،اے اپنے ارادے کو پورا کرنے والے،میں   تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس نور کے طفیل جس نے ترے عرش کو بھر دیا،میں   تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری اس قدرت کے طفیل جس کے ساتھ تو اپنی تمام مخلوق پر قادر ہے اور تیری اس رحمت کے طفیل جو ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے ،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اے مدد فرمانے والے میری مدد فرما۔


 

          جب وہ تاجر دعا سے فارغ ہو ا تو دیکھا کہ ایک شخص سفید گھوڑے پر سوار ، سبز کپڑوں میں   ملبوس ہاتھ میں   نورانی تلوار لئے ہوئے موجود ہے ۔ وہ ڈاکو اس سُوار کی طرف بڑھا۔ مگر قریب پہنچتے ہی اس کا ایک نیزہ کھا کر زمین پر آرہا۔ وہ سوار  تاجر کے پاس آیا اور کہا :’’تُم اسے قتل کرو۔‘‘تاجر نے پوچھا:’’ آپ کون ہیں؟میں   نے اب تک کسی کو قتل نہیں کیااور نہ اسے قتل کرنا میرے دل کو گوارا ہو گا ‘‘اس سوار نے پلٹ کر ڈاکو کو مار ڈالا اور تاجر کو بتایا کہ میں   نے تیسرے آسمان کے دروازوں کی کھٹ پٹ سنی جس سے جان لیا کہ کوئی واقعہ ہوا ہے، اور جب تم نے دو بارہ دعا کی آسمان کے دروازے اس زور سے کھلے کہ ان سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔تمہاری سہ بارہ دعا سن کر حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے آوازدی :’’کون ہے جو اس ستم رسیدہ کی مدد کو جائے؟‘‘تو میں   نے اپنے رب سے دعاکی :’’یا اللہ عزوجل!اس کے قتل کا کام میرے ذمہ فرما۔‘‘یہ بات یاد رکھو جو مصیبت کے وقت تمہاری یہ دعا پڑھے گا چاہے کیساہی حادثہ ہو اللہ تعالیٰ اُسے اُس مصیبت سے محفوظ رکھے گا اور اس کی دادرسی فرمائیگا۔(روض الریاحین ،الحکایۃ الثامنۃ والتسعون بعد مئتین ،ص۲۵۶ و الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،ج۷،ص۳۱۳)   

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(18)                                                                                  دھوکہ دینے کا نقصان

          حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’مَنْ غَشَّ فَلَیۡسَ مِنَّا یعنی جو دھوکہ دہی کرے وہ ہم میں   سے نہیں ہے۔ ‘‘(جامع الترمذي،ابواب البیوع،باب ماجاء فيکراھیۃ الغش ،الحدیث۱۳۱۹،ج۳،ص۵۷)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس (حدیث)سے معلوم ہوا کہ تجارتی چیز میں   عیب پیدا کرنا بھی جرم ہے، اور قُدْرَتی پیدا شدہ عیب کو چھپانا بھی جرم۔دیکھو (نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے)بارش سے بھیگے غلہ کو چھپانا مِلَاوَٹ ہی میں   داخِل فرمایا۔(مراٰۃ المناجیح،ج۴،ص۲۷۳) چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبِّ العزت،محسنِ  انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غلہ کے ایک ڈھیر پر گزرے تو اپنا ہاتھ شریف اس میں   ڈال دیا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی انگلیوں نے اس میں   تری پائی تو فرمایا:’’ اے غلہ والے یہ کیا ؟‘‘عرض کی:’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس پر بارش پڑ گئی۔‘‘فرمایا :’’تو گیلے غلہ کو تو نے ڈھیر کے اُوپر کیوں نہ ڈالا تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے، جو دھوکا دے وہ ہم میں   سے نہیں ۔ ‘‘(صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب قول النبیصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّممن غش فلیس منا،الحدیث۱۰۲،ص۶۵)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(19)                                                                                                                                   توبہ کی بنیاد

          حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ یعنی شَرْمِنْدَگی توبہ ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ، ابواب الزھد، باب ذکر التوبۃ، الحدیث: ۴۲۵۲،ج۴، ص۴۹۲)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!چونکہ گزشتہ گناہوں پر نَدَامَتْ(یعنی شرمندگی) توبہ کا رُکنِ اعلیٰ ہے کہ اس پر باقی سارے اَرکان مَبْنِی ہیں ،اس لئے صرف ندامت کا ذکر فرمایا ۔جو کسی کا حق مارنے پر نادِم ہوگا تو حق ادا بھی کردے گا، جو بے نمازی ہونے پر شرمندہ ہوگا وہ گزشتہ چھوٹی نمازیں قضا بھی کر لے گا۔ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ (مراٰۃ المناجیح،ج۳، ص۳۷۹)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں   چاہئیے کہ ندامت ِ قلبی کو پانے کے لئے اِن مَدَنی پھولوں پر عمل کریں :

          (۱) اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس طرح غور وفکر کریں کہ’’ اس نے مجھے کروڑہا نعمتوں سے نوازا مثلاً مجھے پیدا کیا ،… مجھے زندگی باقی رکھنے کے لئے سانسیں عطا فرمائیں،… چلنے کے لئے پاؤں دئیے…، چھونے کے لئے ہاتھ دئیے…،

 دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں… ، سننے کے لئے کان دئیے…، سونگھنے کے لئے ناک دی…، بولنے کے لئے زبان عطا کی اور کروڑ ہا ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن پر آج تک میں   نے کبھی غور نہیں کیا ۔‘‘پھر اپنے آپ سے یوں سوال کرے:’’کیا اتنے احسانات کرنے والے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنامجھے زیب دیتا ہے ؟‘‘

          (۲) گناہوں کے انجام کے طور پر جہنم میں   دئیے جانے والے عذاب ِ الہٰی کی شدت کو پیشِ نظر رکھیں مثلاًسرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :

          {1}’’دوزخیوں میں   سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔‘‘ (صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب اھون اھل النار عذابا ،رقم ۳۶۱  ، ص ۱۳۴)

          {2}’’ اگراس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوزخیوں کے زخموں سے جاری ہو گا دنیا میں   ڈال دیا جائے تو دنیا والے بدبودار ہو جائیں۔‘‘ (جامع التر مذی ،کتاب صفۃ جھنم ،باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ،الحدیث۲۵۹۳ ، ج ۴، ص ۲۶۳ )

          {3} ’’دوزخ میں   بُخْتِی(یعنی بڑے )اونٹ کے برابر سانپ ہیں‘ یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا۔ اور دوزخ میں   پالان بندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں جن کے ایک مرتبہ کاٹنے کا دردچالیس سال تک رہے گا۔‘‘(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبداللہ  بن الحارث ، رقم ۱۷۷۲۹،ج۶ ،ص ۲۱۷)

          {4} ’’تمہاری یہ آگ جسے ابن آدم روشن کرتا ہے ، جہنم کی آگ سے ستر درجے کم ہے۔ ‘‘ یہ سن کر صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہ ہم نے عرض کی ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اﷲ تعالیٰ عَلیہ وَاٰلہٖ وسلّم! جلانے کے لئے تو یہی کافی ہے؟‘‘ ارشادفرمایا ’’ وہ اس سے اُنہتر(۶۹) درجے زیادہ ہے ، ہر درجے میں   یہاں کی آگ کے برابر گرمی ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم، کتاب الجنۃ،باب فی شدۃ حرنار جھنم ،رقم ۲۸۴۳ ، ص ۱۵۲۳)

          پھر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوں :’’اگر مجھے جہنم میں   ڈال دیا گیا تو میرا یہ نرم ونازُک بدن اس کے ہولناک عذابات کوکس طرح برداشت کر پائے گا ؟جبکہ جہنم میں   پہنچنے والی تکالیف کی شدّت کے سبب انسان پر نہ توبے ہوشی طاری ہوگی اور نہ ہی اسے موت آئے گی ۔ آہ! وہ وقت کتنی بے بسی کا ہوگاجس کے تَصَوُّر سے ہی دل کانپ اٹھتا ہے ۔کیا یہ رونے کا مقام نہیں ؟ کیا اب بھی گناہوں سے وَحْشَت محسوس نہیں ہوگی اور دل میں   نیکیوں کی محبت نہیں بڑھے گی ؟کیا اب بھی بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں   سچی توبہ پر دل مائل نہیں ہوگا ؟‘‘

          امید ہے کہ بار بار اس انداز سے فکر ِ مدینہ کرنے کی برکت سے دل میں   ندامت پیدا ہوجائے گی اور سچی توبہ کی توفیق مل جائے گی ۔ ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(20)                                                                                                تائب کی فضیلت

           حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗیعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔‘‘

(سنن ابن ماجہ، ابواب الزھد، باب ذکر التوبۃ، الحدیث ۴۲۵۰،ج۴، ص۴۹۱)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!توبہ سے مُراد سچی اور مقبول توبہ ہے جس میں   تمام شرائطِ جواز وشرائطِ قبول جمع ہوں کہ حقوقُ العباد اور حقوقِ شریعت ادا کردئیے جائیں ،پھر گُذشتہ کوتاہی پر ندامت ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد ،اس توبہ سے گناہ پر مطلقاً پکڑ نہ ہوگی بلکہ بعض صورتوں میں   تو گناہ نیکیوں سے بدل جائیں گے ۔ حضرت رابعہ بصریہ رَحْمۃ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما حضرت سفیان ثوری اور حضرت فضیل بن عیاض رَحْمۃ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما سے فرمایا کرتی تھیں:’’ میرے گناہ تمہاری نیکیوں سے کہیں زیادہ ہیں ، اگر میری توبہ سے یہ گناہ نیکیاں بن گئے تو پھر میری نیکیاں تمہاری نیکیوں سے بہت بڑھ جائیں گی ۔ ‘‘(مرأۃ  المناجیح ،ج۳،ص۳۷۹)


 

سچی توبہ کسے کہتے ہیں؟

         اعلیٰ حضرت ،اِمامِ اہلسنّت ،مجددِ دین وملت، الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پر اس لئے کہ وہ اس کے  رب عزوجل کی نافرمانی تھی نادم وپریشان ہو کر فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دل سے پورا عزم (یعنی ارادہ)کرے جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں   ہو بجا لائے۔(فتاویٰ رضویہ،ج ۲۱،ص۱۲۱)

مدینہ: تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’توبہ کی روایات وحکایات ‘‘کامطالعہ کیجئے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 سُود خور کی توبہ

          ابتدائی دور میں   حضرت ِسیِّدُنا حبیب عَجَمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی بہت امیر تھے اور اہل بصرہ کو سُود پر قرضہ دیا کرتے تھے ۔ جب مقروض سے قرض کا تقاضا کرنے جاتے تو اس وقت تک نہ ٹلتے جب تک کہ قرض وصول نہ ہو جاتا ۔اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے قرض وصول نہ ہوتا تو مقروض سے اپنا وقت ضائع ہونے کا ہرجانہ وصول کرتے ،اور اس رقم سے زندگی بسر کرتے ۔ایک دن کسی کے یہاںوصولیابی کے لیے پہنچے تو وہ گھر پر موجود نہ تھا ۔ اس کی بیوی نے کہا کہ’’ نہ تو

شوہر گھر پر موجود ہے اور نہ میرے پاس تمہارے دینے کے لیے کوئی چیز ہے ،البتہ میں   نے آج ایک بھیڑ ذبح کی ہے جس کا تمام گوشت تو ختم ہو چکا ہے البتہ سر باقی رہ گیا ہے ،اگر تم چاہو تو وہ میں   تم کو دے سکتی ہوں۔‘‘

          چنانچہ آپ اس سے سر لے کر گھر پہنچے اور بیوی سے کہا کہ یہ سرسُودمیں   ملا ہے اسے پکا ڈالو۔بیوی نے کہا : ’’گھر میں   نہ لکڑی ہے اور نہ آٹا ،بھلا میں   کھانا کس طرح تیار کروں ؟‘‘آپ نے کہا کہ ’’ان دونوں چیزوں کا بھی انتظام مقروض لوگوں سے سُود لے کر کرتا ہوں ۔‘‘اور سود ہی سے یہ دونوں چیزیں خریدکر لائے ۔ جب کھانا تیار ہو چکا تو ایک سائل نے آکر سوال کیا۔ آپ نے کہا کہ’’ تیرے دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور تجھے کچھ دے بھی دیں تو اس سے تو دولت مند نہ ہو جائے گا لیکن ہم مفلس ہو جائیں گے۔‘‘چنانچہ سائل مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔

           جب بیوی نے سالن نکالنا چاہا تو وہ ہنڈیا سالن کی بجائے خون سے لبریز تھی۔ اس نے شوہر کو آواز دے کر کہا :’’ دیکھوتمہاری کنجوسی اور بد بختی سے یہ کیا ہو گیا ہے؟‘‘آپ کو یہ دیکھ کر عبرت حاصل ہوئی اور بیوی کو گواہ بنا کر کہا کہ آج میں   ہر برے کام سے توبہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر مقروض لوگوں سے اصل رقم لینے اور سود ختم کرنے کے لیے نکلے۔راستہ میں   کچھ لڑکے کھیل رہے تھے آپ کو دیکھ کر کچھ لڑکوں

 نے آوازے کسنا شروع کئے کہ’’دور ہٹ جاؤ حبیب سود خور آرہا ہے ،کہیں اس کے قدموں کی خاک ہم پر نہ پڑ جائے اور ہم اس جیسے بد بخت نہ بن جائیں ۔‘‘یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور حضرت ِسیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کی خدمت میں   حاضر ہو گئے انہوں نے آپ کو ایسی نصیحت فرمائی کہ بے چین ہو کر دوبارہ توبہ کی ۔ واپسی میں   جب ایک مقروض شخص آپ کو دیکھ کر بھاگنے لگا تو فرمایا’’تم مجھ سے مت بھاگو ،اب تو مجھ کو تم سے بھاگنا چاہیے تاکہ ایک گنہگار کا سایہ تم پر نہ پڑ جائے۔ ‘‘ جب آپ آگے بڑھے تو انہی لڑکوں نے کہنا شروع کیا کہ ’’راستہ دے دو اب حبیب تائب ہو کر آ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے پیروں کی گرد اس پر پڑ جائے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہمارا نام گناہگاروں میں   درج کر لے ۔‘‘آپ نے بچوں کی یہ بات سن کر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے عرض کی :’’ تیری قدرت بھی عجیب ہے کہ آج ہی میں   نے توبہ کی اور آج ہی تو نے لوگوں کی زبان سے میری نیک نامی کا اعلان کرا دیا ۔‘‘

          اِس کے بعد آپ نے اعلان کرادیا کہ جو شخص میرا مقروض ہو وہ اپنی تحریر اور مال واپس لے جائے ۔اس کے علاوہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے  اپنی تمام دولت راہ خدا عَزَّوَجَلَّ  میں  خرچ کردی۔ پھر ساحل فرات پر ایک عبادت خانہ تعمیر کر کے عبادت میں   مشغول رہے اور یہ معمول بنا لیا کہ دن کو علم دین کی تحصیل کے لیے حضرت ِسیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کی خدمت میں   پہنچ جاتے اور رات بھر مشغول


 

عبادت رہتے ۔چونکہ (مکمل کوشش کے باوجود)قرآن مجید کا تلفظ صحیح مخرج سے ادا نہیں کر سکتے تھے اس لیے آپکو عَجَمِی کا خطاب دے دیا گیا ۔(تذکرۃ الاولیاء، باب،ذکر حبیب عجمی ،ج۱، ص ۵۶۔۵۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(21)                                                                                                              نَماز کی اہمیت

          امیرُا لمومِنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلصَّلَاۃُ عِمَادُ الدِّیۡنِ یعنی نماز دین کاسُتُون ہے۔ ‘‘(شعب الإیمان، باب فی الصلوات، الحدیث ۲۸۰۷،ج۳، ص۳۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نماز دین کی اصل اور بنیاد ہے،اسے اُمُّ الْعِبَادات ،مِعْرَاجُ الْمُؤمِنِین بھی کہا جاتا ہے ۔(فیض القدیر،تحت الحدیث۵۱۸۷،ج۴،ص۳۲۷)

مچھلی اپنی جگہ پر تھی

          شیخ ابو عبد اللہ جلاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی والدہ ماجدہ نے ایک روز اپنے شوہر سے مچھلی لانے کی فرمائش کی ۔ شیخ کے والد بازار گئے اور اپنے فرزند ( ابو عبداللہ جلاء) کو

بھی ہمراہ لے گئے ۔ بازارسے مچھلی خریدی ، اور ایک مزدور تلاش کرنے لگے تاکہ وہ مچھلی گھر تک پہونچا دے ۔ ایک لڑکا ملا اور اس نے مچھلی سر پر اُٹھا لی اور ساتھ چلا ، راستے میں   مؤذن کی اذان سنائی دی۔اس مزدور لڑکے نے کہا:’’ نَماز کے لئے مجھے طہارت کی حاجت ہے اور اذان ہو رہی ہے ، اگر آپ راضی ہوں تو میرا انتظار کر لیں ، ورنہ اپنی مچھلی لے کر جائیں ۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے مچھلی وہیں چھوڑی اور مسجد چلا گیا۔ شیخ کے والد نے کہا :’’اس لڑکے کا اللّٰہ تعالیٰ پر تَوَکُّل ہے ،ہمیں   بدرجۂ اولیٰ توکل کرنا چاہئے ۔‘‘ چناچہ مچھلی وہیں چھوڑ کر ہم لوگ نماز پڑھنے چلے گئے ۔ ہم لوگ نماز پڑھ کر نکلے تو مچھلی اپنی جگہ تھی ، لڑکے نے اُٹھا لی اور ہم لوگ گھر پہنچے ۔(روض الریاحین الحکایۃ التاسعۃ والعشرون بعد المئتین،ص۲۱۵،ملخّصا)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(22)                                                                                   روضۂ اقدس کی حاضری

          حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مَنْ زَارَ قَبْرِیۡ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیۡیعنی جس نے میری قبر کی زِیارت کی، اس کے لئے میری شفاعت لازِم ہوگئی۔‘‘(شعب الإیمان،باب في المناسک،فضل الحج والعمرۃ، الحدیث۴۱۵۹، ج۳، ص۴۹۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ تعالیٰ قراٰن پاک میں   ارشاد فرماتا ہے :

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)

(پ۵،النسآ۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان :اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھراللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضروراللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔

صدر الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں   لکھتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الہٰی میں   رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار بر آری (یعنی کام بن جانے)کا ذریعہ ہے سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات شریف کے بعد ایک اَعرابی (یعنی دیہاتی شخص)روضہء اقدس پر حاضر ہوا اور روضہ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا :’’یارسول اللہ جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں   یہ آیت بھی ہے وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا میں   نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں   آپ کے حضور میں   اللہ سے اپنے گناہ کی بَخْشِش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے۔‘‘ اس پر قبر شریف سے نِدا آئی کہ تیری بخشش کی گئی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(23)                                                                                                                                               عذابِ قبر

          حضرت سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ یعنی قَبْر کا عذاب حق ہے۔‘‘(صحیح البخاري،کتاب الجنائز،باب ماجاء في عذاب القبر،الحدیث۱۳۷۲،ج۱،ص۴۶۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عذاب قبر کے متعلق چند مسائل یاد رکھنے چاہیئں(۱)یہاں قبر سے مراد عالم بَرْزَخ ہے ۔جس کی اِبتدا ہر شخص کی موت سے ہے اِنتہا قیامت پر ‘عرفی قبر مراد نہیں لہٰذا جو مُردہ دفن نہ ہوا بلکہ جلا دیا گیا یا ڈبو دیا گیا یا اسے شیر کھا گیا اسے بھی قبر کا حساب و عذاب ہے۔ (۲)حساب قبر اور ہے عذاب قبر کچھ اور بعض لوگ حساب قبر میں   کامیاب ہوں گے مگر بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب میں   مبتلاء جیسے چغلخور اور گندا (یعنی پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے والا)(۳)کافر کو عذاب قبر دائمی ہوگا گنہگار مومن کو عارضی (۴)عذاب قبر روح کو ہے جسم اس کے تابع مگر حشر کے بعد والا عذاب وثواب روح وجسم دونوں کو ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح ، ج۱،ص ۱۲۵،ماخوذاً)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

قَبْر میں   آگ بھڑک اٹھی !

          حضرتِ سَیِّدُنا عَمْرو بن شُرَ حبِیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    فرماتے ہیں کہ ایک ایسا شخص اِنْتِقال کرگیا جس کو لوگ مُتَّقی سمجھتے تھے۔جب اُسے دَفْن کردیا گیا تو اُس کی قَبْر میں   عذاب کے فِرِشتے آپہنچے اور کہنے لگے، ہم تجھ کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے عذاب کے سو کوڑے ماریں گے۔اُ س نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ مجھے کیوں مارو گے؟میں   تَو پرہیز گار آدمی تھا۔تَو اُنہوں نے کہا،اچّھا چلو پچاس ہی مارتے ہیں مگر وہ برابر بَحث کرتا رہاحتّٰی کہ فِرِشتے ایک پر آگئے اور اُنہوں نے ایک کوڑا مار ہی دیا ۔ جس سے تمام قَبْر میں   آگ بھڑک اُٹھی اور وہ شخص جل کرخاکِسْتَر (یعنی راکھ ) ہو گیا ۔پھر اُس کو زِندہ کیا گیا تو اُس نے دَرد سے تِلمِلا تے اور روتے ہوئے فریاد کی، آخِر مجھے یہ کوڑا کیوں مارا گیا؟تو اُنہوں نے جواب دیا، ایک روزتُو نے بے وُضُو نَماز پڑ ھ لی تھی ۔ اور ایک روز ایک مظلوم تیرے پاس فریاد لے کر آیا مگرتُونے فریاد رَسی نہ کی۔   (شَرحُ الصُّد ور ص۱۶۵)

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے؟اللّٰہعَزَّوَجَل ناراض ہُوا تو اُس نے نیک اور پرہیز گار شخص کی بھی گرِفت فرمائی اور وہ عذابِ قَبرمیں گھِر

گیا۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَ ہمارے حالِ زار پر رَحم فرمائے۔اور ہماری بے حساب مغفِرت فرمائے۔

           ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    

(فیضانِ سنّت جلد اوّل(تخریج شدہ) ، باب فیضانِ رمضان ،ص۶۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(24)                                                                                                                                                     قید خانہ

           حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اﷲعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤۡمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِیعنی دنیا مومِن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔‘‘(صحیح مسلم،کتاب الزہد والرقائق،باب الدنیا سجن المؤمن،الحدیث۲۹۵۶،ص۱۵۸۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یعنی مومِن دنیا میں   کتنا ہی آرام میں   ہو ،مگر اس کے لئے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں   دنیا جیل خانہ ہے ،جس میں   وہ دل نہیں لگاتا۔ جیل اگرچہA کلاس ہو ،پھر بھی جیل ہے،اور کافر خواہ کتنی ہی تکلیف میں   ہومگر آخرت کے عذاب کے مقابل اس کے لئے دُنیا باغ اور جنت ہے۔ وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے۔لہٰذا حدیث شریف پر یہ اِعتراض نہیں کہ بعض مومن دنیا

میں   آرام سے رہتے ہیں، اور بعض کافر تکلیف میں  ۔(مراٰۃ المناجیح،ج۷،ص۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دُ نیا قید خانہ ہے

          قاضیسہل محدث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک دن بڑے تزک و احتشام کے ساتھ گھوڑے پر سوار کہیں تشریف لے جا رہے تھے ۔ اچانک ایک حمام سلگانے والا ، دھوئیں اور غبار کی کثافت سے میلا کچیلایہودی حضرت سہل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ قاضی صاحب ! مجھے اپنے نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے اس فرمان کامطلب سمجھا دیجئے کہ’’ دنیا مؤمن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے۔‘‘ کیونکہ آپ مؤمن ہو کر اس عیش وآرام اور کرّ و فر کے ساتھ رہتے ہیں اور میں   کافر ہو کر اتنا خستہ حال اور آلام ومصائب میں   گرفتار ہوں۔ قاضی سہل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے برجستہ جواب دیا:’’ آرام وآسائش کے باوجود یہ دُنیا میرے لئے جنت کی عظیم نعمتوں کے مقابلے میں   قید خانہ ہے ، جبکہ تمام تر تکالیف کے باوجود یہ دُنیا تمہارے لئے دوزخ کے ہولناک عذاب کے مقابلے میں   جنت ہے ۔‘‘(تفسیرروح البیان،سورۃ الانعام ،تحت الآیۃ۳۲،ج۳،ص۲۳ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(25)                                                                                                                                        مِسکین کاحج

          حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلْجُمُعَۃُ حَجُّ الْمَسَاکِیۡن یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے۔ ‘‘(الفردوس بمأ ثور الخطاب، الحدیث۲۴۳۶، ج۱، ص۳۳۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَساکین مِسکین کی جمع ہے۔جو شخص حج کے لئے جانے سے عاجِز ہو اُس کا جمعہ کے دن مسجد کی طرف جانا اس کیلئے حج کی مانند ہے۔ (فیض القدیر،تحت الحدیث۳۶۳۶،ج۳،ص۴۷۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حج کی قربانی

          حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن سلمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان اپنا ایک ایمان افروز واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں   ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے ساتھ حج پر جارہا تھا ۔ میرا بھائی بھی میرے ساتھ تھا ۔جب ہم کوفہ پہنچے تو میں  ضروریاتِ سفر خریدنے کے لئے بازار کی طرف چلا گیا ۔وہاں میں   نے ایک ویران سی جگہ میں   دیکھا کہ ایک خچر مرا پڑا ہے اور بہت پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک عورت چاقو سے اس کا گوشت کاٹ


 

 کاٹ کر تھیلے میں   رکھ رہی ہے ۔میں   نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ عورت کوئی بھٹیارن ہو اوریہی مردار کا گوشت پکا کر لوگوں کو کھلا دے ‘چنانچہ مجھے اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہئے ،پس میں   چپکے چپکے اس کے پیچھے ہو لیا ۔چلتے چلتے وہ ایک مکان کے دروازے پر پہنچی ،اس نے دروازہ بجایا تو اندر سے پوچھا گیا :’’ کون؟‘‘تو جواب دیا: ’’کھولو! میں   ہی بدحال ہوں ۔‘‘ دروازہ کھلا تو میں   نے دیکھا کہ چار بچیاں ہیں جن کے چہروں سے بد حالی اور مصیبت ٹپک رہی ہے ۔ وہ عورت اندر داخل ہوگئی اوردروازہ بند ہوگیا ۔میں   جلدی سے دروازے کے قریب گیا اور اس کے سوراخوں سے اندر جھانکنے لگا ۔ میں   نے دیکھا کہ اندر سے وہ گھر بالکل خالی اوربرباد ہے ۔ اس عورت نے وہ تھیلا ان لڑکیوں کے سامنے رکھ دیا اورروتے ہوئے کہنے لگی :’’لو ! اس کو پکا لو اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ۔‘‘

          وہ لڑکیاں اس گوشت کوکاٹ کاٹ کر لکڑیوں پر بھوننے لگیں ۔میرے دل کو اس سے بہت ٹھیس پہنچی اورمیں   نے باہر سے آواز دی کہ ،’’ اے اللہ کی بندی! خدا تعالیٰ کے واسطے اس کو نہ کھا ۔‘‘وہ پوچھنے لگی:’’تم کون ہو ؟‘‘میں   نے جواب دیا :’’ میں   پردیسی ہوں ۔‘‘ اس نے کہا: ’’ہم تو خود مقدر کے قیدی ہیں ،تین سال سے ہمارا کوئی معین ومددگار نہیں ،تم ہم سے کیا چاہتے ہو ؟‘‘میں   نے


 

 کہا کہ ’’مجوسیوں کے ایک فرقے کے سوا کسی مذھب میں   مُردار کھانا جائز نہیں۔‘‘ کہنے لگی کہ’’ ہم خاندانِ نبوت سے ہیں ،ان کا باپ انتقال کر چکا ہے ،جو ترکہ اس نے چھوڑا تھا وہ ختم ہوگیا ۔ ہمیں   معلوم ہے کہ مُردار کھانا جائز نہیں لیکن ہمارا چار دن کا فاقہ ہے اور ایسی حالت میں   مُردار جائز ہوجاتا ہے ۔‘‘

           اُن کے حالات سن کر مجھے رونا آگیا ،میں   انہیں انتطار کرنے کا کہہ کر واپس ہوا اوراپنے بھائی سے کہنے لگا کہ ،’’میرا ارادہ حج کا نہیں رہا۔‘‘ بھائی نے مجھے بہت سمجھا یا ،فضائل وغیرہ بتائے ۔میں   نے کہا کہ ،’’بس لمبی چوڑی بات نہ کرو ۔‘‘          پھر میں   نے اپنااحرام اور سارا سامان لیا اورنقد چھ سو درھم میں   سے سو درھم کا کپڑا خریدا اورسو درھم کا آٹا خریدا اوربقیہ پیسہ اس آٹے میں   چھپا کر اس عورت کے گھر لے جا کر تمام چیزیں اس کو دے دیں ۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگی اور کہنے لگی :’’اے ابن سلمان !جا اللہ تعالیٰ تیرے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمائے اورتجھے حج کا ثواب عطا کرے اورجنت میں   تجھے جگہ عطا فرمائے اوردنیا ہی میں   تجھے ایسا بدل عطا فرمائے جو دنیا میں   تجھ پر ظاہر ہو جائے ۔‘‘

          سب سے بڑی لڑکی نے کہا :’’اللّٰہ تعالیٰ آپ کو اس کا دوگنا اجر عطا فرمائے اور آپ کے گناہ بخش دے ۔‘‘ دوسری لڑکی نے کہا کہ ’’آپ کو اللّٰہ


 

تعالیٰ اس سے زیادہ عطا فرمائے جتنا آپ نے ہمیں   دیا ۔‘‘ تیسری نے کہا کہ ’’اللّٰہ تعالیٰ ہمارے نانا جان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ آپ کا حشر کرے۔‘‘ چوتھی نے کہا کہ ،’’اے اللّٰہ تعالیٰ ! جس نے ہم پر احسان کیا تُو اس کا نِعْمَ الْبَدَلجلدی عطا کر اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے ۔‘‘ پھر میں   واپس آگیا ۔

          میں   مجبورًا کوفہ ہی میں   رک گیا اورباقی ساتھی حج کے لئے روانہ ہو گئے۔جب حاجی لوٹ کر آنے لگے تو میں   نے سوچا کہ’’ ان کا استقبال کروں اوراپنے لئے دُعا کرنے کا کہوں ،شاید کسی کی مقبول دعا مجھے بھی لگ جائے۔‘‘جب مجھے حاجیوں کا قافلہ نظر آیا تو اپنی حج سے محرومی پر بے اختیار رونا آگیا ۔میں   ان سے ملا تو کہا :’’ اللّٰہ تعالیٰ تمہارے حج کو قبول فرمائے اور تمہیں اخراجات کا بدلہ عطا فرمائے۔‘‘ ان میں   سے ایک نے پوچھا کہ ’’یہ دعا کیسی ؟‘‘میں   نے کہا ’’یہ اس شخص کی دعا ہے جو دروازے تک کی حاضری سے محروم ہو ۔‘‘ وہ کہنے لگے ،’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ اب تو وہاں جانے ہی سے انکار کر رہا ہے ۔کیا تو ہمارے ساتھ عَرَفات کے میدان میں   نہ تھا ؟۔۔۔تونے ہمارے ساتھ رَمِیٔ جَمَرَات نہ کی ؟ ۔۔۔اور کیا تو نے ہمارے


 

ساتھ طواف نہ کئے؟‘‘۔۔۔آپ فرماتے ہیں کہ میں   دل ہی دل میں   تعجب کرنے لگا کہ اتنے میں   خود میرے شہر کا قافلہ بھی آگیا ۔میں   نے کہا کہ’’ اللّٰہ تعالیٰ تمہاری کوششیں قبول فرمائے۔‘‘ تو وہ بھی یہی کہنے لگے کہ’’ تُو ہمارے ساتھ عرفات پر نہ تھا ؟یا رمی جمرات نہ کی ؟ اوراب انکار کرتا ہے۔‘‘

          پھر ان میں   سے ایک شخص آگے بڑھا اورکہنے لگا کہ ’’بھائی !اب کیوں اِنکار کرتے ہو ؟کیاتم ہمارے ساتھ مکے شریف اورمدینہ منورہ میں   نہ تھے ؟اور ہم شفیع اعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور کی زیارت کر کے واپس آرہے تھے تو رش کی وجہ سے تم نے یہ تھیلی میرے پاس امانت رکھوائی تھی ،جس کی مہر پر لکھا ہوا ہے :’’مَنْ عَامَلَنَا رَبِحَ یعنی جو ہم سے معاملہ کرتا ہے ،نفع کماتا ہے،اب یہ تھیلی واپس لے لو ۔‘‘

          حضرتِ سیِّدُنا  ربیع بن سلمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان فرماتے ہیں کہ ’’میں   نے اس تھیلی کو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا ،میں   اس کو لے کر گھر واپس آگیا ۔ عشاء کے بعد وظیفہ پورا کیا اوراسی سوچ میں   جاگتا رہا کہ معاملہ کیا ہے ؟اچانک میری آنکھ لگ گئی۔ خواب میں   سرور عالم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت کی ،میں   نے آپ صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو سلام عرض کیا اورہاتھ چومے ۔‘‘پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا اورکچھ یوں

 ارشاد فرمایا :،’’اے ربیع !آخر ہم کتنے گواہ اس بات پر قائم کریں کہ تونے حج کیا ہے ؟ تومانتا ہی نہیں ،سُن جب تو نے میری اولاد میں   سے ایک عورت پر صدقہ کیا اور اپنا زادِ راہ ایثار کر کے اپنا حج ملتوی کر دیا ۔تو میں   نے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ تجھے اس کا اچھابدلہ عطا فرمائے ۔‘‘تو اللّٰہ تعالیٰ نے تیری صورت کا ایک فرشتہ بنا کر حکم دیا کہ وہ قیامت تک ہرسال تیری طرف سے حج کیا کرے ۔ اور دنیا میں   تجھے یہ بدلہ دیا ہے کہ چھ سو درھم کے بدلے چھ سو دینا رعطا فرمائے ، تو اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ ۔‘‘ پھر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہی الفاظ دہرائے ’’مَنْ عَامَلَنَا رَبِحَ یعنی جو ہم سے معاملہ کرتا ہے ،نفع کماتا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا  ربیع بن سلمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان فرماتے ہیں کہ جب میں   سو کر اٹھا اور تھیلی کو کھولا ، تواس میں   چھ سو اشرفیاں ہی تھیں ۔ (رفیق الحرمین،ص ۲۸۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(26)                                                                                             خُوشخبری سُناؤ

حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں:  ’’بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا یعنی خوشخبری سناء اور( لوگوں کو )نفرت نہ دلاء۔‘‘(صحیح البخاري،کتاب العلم،باب ما کان النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یتخولہم الخ،الحدیث۶۹،ج۱،ص۴۲)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یعنی لوگوں کو گذشتہ گناہوں سے توبہ کر نے اور نیک اعمال کر نے پر حق تعالیٰ کی بخشش ورحمت کی خوشخبریاں دو۔ اُن گناہوں کی پکڑ پر اس طرح نہ ڈراء کہ انہیں اللّٰہ کی رحمت سے مایوسی ہو کر اسلام سے نفرت ہو جائے۔ بہر حال اِنْذَار اورڈرانا کچھ اور ہے اور مایوس کر کے مُتَنَفَّر(یعنی بددل) کر دینا کچھ اور لہذا یہ حدیث ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں جن میں   اللّٰہ کی پکڑ سے ڈرانے کا حکم ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح،ج۵،ص۳۷۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 100اَفراد کا قاتل

          حضرت ِسیدناابو سَعِید خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا تم سے پہلے ایک شخص نے 99 قتل کئے تھے۔ جب اس نے اہل زمین میں   سب سے بڑے عالم کے بارے میں   پوچھا تو اسے ایک راہب کے بارے میں   بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس پہنچااوراس سے کہا:’’میں   نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟‘‘راہب نے اسے مایوس کرتے ہوئے کہا:’’ نہیں۔‘‘ اس

 نے اسے بھی قتل کردیا اور 100 کاعدد پورا کرلیا۔پھر اس نے اہل زمین میں   سب سے بڑے عالم کے بارے میں   سوال کیا تو اسے ایک عالم کے بارے میں   بتایا گیا تو اس نے اس عالم سے کہا:’’ میں   نے سو قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟‘‘اس نے کہا ’’ہاں !تمہارے اور توبہ کے درمیان کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے؟ فلاں فلاں علاقہ کی طرف جاء وہاں کچھ لوگ اللہ عَزَّوَجَلّ کی عبادت کرتے ہیں ان کے ساتھ مل کر اللہ عَزَّوَجَلّ کی عبادت کرو اور اپنے علاقہ کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ یہ برائی کی سرزمین ہے۔‘‘

           وہ قاتل اس علاقہ کی طر ف چل دیا جب وہ آدھے راستے میں   پہنچا تو اسے موت آگئی ۔رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں   بحث کرنے لگے۔رحمت کے فرشتے کہنے لگے :’’یہ توبہ کے دلی ارادے سے اللہ عَزَّوَجَلّ کی طرف آیا تھا۔‘‘ اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ تو ان کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں   آیااور انہوں نے اسے ثالث مقرر کرلیا۔ اس  فرشتے نے ان سے کہا: ’’دونوں طرف کی زمینوں کو ناپ لو یہ جس زمین کے قریب ہوگا اسی کا حق دار ہے۔‘‘ جب زمین ناپی گئی تو وہ اس زمین کے قریب تھا جس کے


 

 ارادے  سے وہ اپنے شہر سے نکلا تھا تو رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔ (کتا ب التو ابین ،تو بۃ من قتل مائۃ نفس ، ص ۸۵)

   تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں   توبہ کرو)        اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں   اللہ عَزَّوَجَلّ کی بارگاہ میں   توبہ کرتا ہوں ۔)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(27)                                                                                     سلام کی اہمیت

           حضرتِ سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے    مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْـکَلَامِ یعنی سلام گفتگو سے پہلے ہے۔‘‘(جامع الترمذي،ابواب الاستئذان،باب ماجاء في السلام قبل الکلام،الحدیث۲۷۰۸،ج۴،ص۳۲۱)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سلام تین قسم کے ہیں’’ سلام اِذْن‘‘ یہ گھر میں   داخل ہو نے سے پہلے اجازتِ داخلہ حاصل کرنے کے لئے ہے۔’’سلامِ تَحِیَّۃ ‘‘ یہ گھر میں   داخل ہونے اور کلام کرنے سے پہلے ہے۔’’سلام وَدَاع‘‘ یہ گھر سے رخصت ہوتے وقت ہے۔یہاں (یعنی اس حدیث میں  )سلام تحیت مراد ہے ،یہ کلام سے پہلے چاہیے تاکہ تحیت باقی رہے جیسے تحیۃ المسجد کے نفل کہ وہ بیٹھنے سے پہلے


 

پڑھے جائیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۳۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(28)                                                                                                                                   تَکَبُّر کا علاج

          حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلْبَادِیء بِالسَّلَامِ بَرِیٌٔ مِّنَ الْکِبْریعنی سلام میں   پہل کرنے والا تکبر سے دور ہو جاتا ہے۔‘‘

(شعب الإیمان، باب في مقاربۃ اھل الدین۔۔۔ الخ، الحدیث: ۸۷۸۶، ج۶، ص۴۳۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو شخص مسلمانوں کو سلام کر لیا کرے وہ ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مُتَکَبِّر نہ ہو گا اس کے دل میں   عجز ونیاز ہو گا یہ عمل مُجَرَّبہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۴۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اعلٰی حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃ ربّ الْعِزّت کی عادتِ مبارکہ

          حضرتِ  مولانا سید ایوب علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کا بیان ہے کہ ’’ کوہ ِبھوالی سے میری

طلبی فرمائی جاتی ہے ، میں   بہ ہمراہی شہزادہ اصغرحضرت مولانامولوی شاہ محمد مصطفی رضاخاں صاحب مدّظلّہ الاقدس، بعد ِ مغرب وہاں پہنچتا ہوں ،شہزادہ ممدوح اندر مکان میں   جاتے ہوئے یہ فرماتے ہیں’’ ابھی حضورکو آپ کے آنے کی اطلاع کرتاہوں۔‘‘ مگر باوجود اس آگاہی کے کہ حضور(یعنی امامِ اہلسنّت الشاہ مولانااحمدرضاخان عَلَیْہ رَحمَۃ الرّحْمٰن)تشریف لانے والے ہیں ، تقدیمِ سلام (یعنی سلام میں   پہل) سرکارہی فرماتے ہیں، اس وقت دیکھتا ہوں کہ حضوربالکل میرے پاس جلوہ فرما ہیں ۔‘‘ (حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج۱،ص۹۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(29)                                                  مسجد میں   ہنسنے کا نقصان

           حضرتِ سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلضَّحِکُ فِی الْمَسْجِدِ ظُلْمَۃٌ فِی الْقَبْرِ یعنی مسجد میں   ہنسناقبر میں   اندھیرا (لاتا)ہے۔‘‘لفردوس بمأ ثور الخطاب، الحدیث ۳۷۰۶، ج۲، ص۴۱)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خیال رہے کہ مسکرانا اچھی چیز ہے(اور) قہقہ بری چیز ،تَبَسُّم رحمت عالم ،نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عادت کریمہ


 

 تھی۔(مراٰۃ المناجیح،ج۷،ص۱۴)

جسکی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں

اس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد 

حدیث(30)                                                                                                                                      قہقہ کی مذمت

           حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں:’’اَلْقَھْقَھَۃُ مِنَ الشَّیۡطَانِ، وَالتَّبَسُّمُ مِنَ اللّٰہِ یعنی قَہْقَہَہ (قَہْ۔قَ۔ہَہ)شیطان کی طرف سے ہے اور مسکرانا اﷲعَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ہے۔(المعجم الصغیر، للطبراني، الحدیث ۱۰۵۷، ج۲، ص۲۱۸)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قہقہہ سے مراد آواز کے ساتھ ہنسناہے۔ شیطان اسے پسند کرتا ہے اور اس پر سوار ہو جاتا ہے۔ جبکہتَبَسُّم سے مراد بغیر آواز کے تھوڑی مقدارمیں   ہنسنا ہے۔(فیض القدیر،تحت الحدیث۶۱۹۶،ج۴،ص۷۰۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(31)                                                                                   مِسواک کی فضیلت

          اُمُّ المومنین حضرتِ سیِّدُتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلسِّوَاکُ مَطْہَرَۃٌ لِلْفَمِ مَرْضَاۃٌ لِّلرَّبیعنی مِسواک میں   منہ کی پاکیزگی اور اﷲ عَزَّوَجَلَّ  کی خوشنودی کا سبب ہے۔(سنن النسائي، أبواب الطہارۃ وسننھا، باب السواک، ج۱،ص۱۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شریعت میں   مِسواک سے مُراد وہ لکڑی ہے جس سے دانت صاف کئے جائیں ۔سنّت یہ ہے کہ یہ کسی پھول یا پھلدار درخت کی نہ ہو کڑوے درخت کی ہو ۔موٹائی چھنگلی کے برابر ہو ،لمبائی بَالِشْت سے زیادہ نہ ہو ۔ دانتوں کی چوڑائی میں   کی جائے نہ کہ لمبائی میں   ۔بے دانت والے اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں مسوڑھوں پر انگلی پھیر لیا کریں ۔ مسواک اتنے مقام پر سنّت ہے : وضو میں   ،قراٰن شریف پڑھتے وقت ،دانت پیلے ہونے پر ،بھوک یا دیر تک خاموشی یا بے خوابی کی وجہ سے منہ سے بدبو آنے پر ۔ (مراٰۃ المناجیح ،کتاب الطہارۃ،باب السواک،ج۱،ص۲۷۵ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

حدیث(32)                                                                                   جماعت کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’صَـلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَـلَاۃَ الْفَذِّ بِسَـبْعٍ وَعِشْـرِیۡنَ دَرَجَۃً یعنی باجماعت نمازادا کرنا، تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ ‘‘(صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، الحدیث ۶۴۵،ج۱،ص۲۳۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عام روایات میں   یہی ہے کہ نماز باجماعت بہ نسبت تنہا کے ۲۵ درجے زائد ہے ۔مگر بعض روایتوں میں   ستائیس درجے بھی آیا ہے۔بلکہ ایک روایت میں   ۳۶ درجے بھی وارد ہے۔بعض میں   ۵۰ بھی۔علماء نے اس کی مختلف تو جیہات کی ہیں۔سب میں   عمدہ توجیہ یہ ہے کہ یہ نمازی اور وقت اور حالت کے اعتبار سے مختلف ہے۔(نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری،ج۲،ص۱۷۸)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

25مرتبہ نَماز ادا کی

          امام اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے شاگرد حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سماعہ رَحْمَۃُ


 

اللہ تعالیٰ عَلَیہ  نے ایک سو تیس برس کی عمر پائی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ روزانہ دو سو رکعت نفل پڑھا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’مسلسل 40 برس تک میری ایک مرتبہ کے علاوہ کبھی تکبیر اُوْلیٰ فوت نہیں ہوئی ۔جس دن میری والدہ کا انتقال ہوا۔ اس دن ایک وقت کی جماعت چھوٹ گئی تو میں   نے اس خیال سے کہ جماعت کی نماز کا ۲۵ گنا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ اس نماز کو میں   نے اکیلے ۲۵ مرتبہ پڑھا۔ پھر مجھے کچھ غنودگی آگئی۔ تو کسی نے خواب میں   آکر کہا،۲۵ نمازیں تو تم نے پڑھ لیں مگر فرشتوں کی ’’اٰمین‘‘ کا کیا کرو گے؟ (تہذیب التہذیب،حرف المیم،من اسمہ محمد،الرقم۶۱۷۲،ج۷،ص۱۹۱)

           حدیث شریف میں   ہے کہ امام جب  ’’غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷ ‘‘ کہے تو تم لوگ  ’’اٰمیۡن‘‘ کہو، جس کی ’’اٰمِیۡن‘‘  فرشتوں کی ’’اٰمِین‘‘ کے ساتھ ہوتی ہے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔(صحیح بخاری،کتاب التفسیر،الحدیث ۴۴۷۵،ج۳،ص۱۶۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نَماز کی فکر

          الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نَماز کی فکر ایک بار شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ جشنِ ولادت کے مدنی جلو س میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ شریک تھے۔صلوٰۃ و سلام پڑھتا اور مرحبا یامصطفیٰ کے نعرے لگاتاعاشقانِ رسول کاٹھاٹھیں مارتا سمندر رواں دواں تھا۔ اچانک ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اَفْشَاں کی بھری شیشی امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ پر اُنڈیل دی۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کے منہ سے بے ساختہ ’’یاغوث پاک‘‘ کا نعرہ بلند ہو گیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھاکہ امیرِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سخت پریشان ہوگئے ہیں۔ چندلمحوں کے بعد آپ دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ معاف فرمائے!اُس اسلامی بھائی نے میری بہت دل آزاری کی ،وہ بے چارہ جانتا نہیں تھا کہ اَفْشَاں جسم پر لگنے کی صورت میں وضو کا کیا مسئلہ ہے۔ بالآخر نہ چاہتے ہوئے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے جلوس ترک فرمایا،بڑی تگ و دو کے بعد اَفْشَاں سے پیچھا چھڑایا اور نمازِ عصر وقت میں ادا فرمائی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(33)                                                                                   چغل خور کی مذمت

           حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَـتَّاتٌ یعنی چغل خور جنت میں   داخل نہیں ہوگا۔‘‘(صحیح البخاري، کتاب الآداب، باب مایکرہ من النمیمۃ، الحدیث ۶۰۵۶،ج۴، ص۱۱۵)


 

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قَـتَّاتوہ شخص ہے جو دو مخالفو ں کی باتیں چھپ کر سُنے اور پھر انہیں زیادہ لڑانے کے لئے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائے۔ اگر یہ شخص ایمان پر مرا تو جنت میں   اولاً نہ جائے گا بعد میں   جائے تو جائے اگر کفر پر مرا تو کبھی وہاں نہ جائے گا۔(مسلم شریف میں   نَمّام کا لفظ استعمال ہوا ہے) جو دو طرفہ جھوٹی باتیں لگا کر صلح کرادے وہ نمام نہیں مصلح ہے نمام وہ ہے جو لڑائی وفساد کیلئے یہ حرکت کرے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۴۵۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

چغلی کسے کہتے ہیں؟

        شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’بُرے خاتمے کے اسباب ‘‘ کے صفحہ9 پر لکھتے ہیں: علّامہ عینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے نَقل فرمایا کہ کسی کی بات ضَرر (یعنی نقصان )پہنچانے کے ارادے سے دوسروں کو پہنچانا چُغلی ہے۔    (عمدۃ القاری تحت الحدیث ۲۱۶ ج۲ ص۵۹۴ دار الفکر بیروت  )

کیا ہم چُغلی سے بچتے ہیں ؟

        افسوس! اکثرلوگوں کی گفتگو میں   آج کل غیبت  و چغلی کا سلسلہ بَہُت

 زیادہ پایا جاتا ہے۔ دوستوں کی بیٹھک ہو یا مذہبی اجتماع کے بعد جمگھٹ، شادی کی تقریب ہو یا تعزِیت کی نشست، کسی سے مُلاقات ہو یا فون پربات، چند منٹ بھی اگر کسی سے گفتگوکی صورت بنے اور دینی معلومات رکھنے والا کوئی حسّاس فرد اگر اُس گفتگو کی ’’تَشْخِیص‘‘کرے تو شاید اکثر مجالس میں   دیگر گناہوں بھرے الفاظ کے ساتھ ساتھ وہ درجنوں ’’چُغلیاں‘‘ بھی ثابِت کردے۔ ہائے! ہائے! ہمارا کیا بنے گا!!! ایک بار پھر اِس حدیثِ پاک پر غور کر لیجئے: ’’چُغل خور جنّت میں   نہیں جائے گا۔‘‘ کاش! ہمیں   حقیقی معنوں میں   زَبان کا قفلِ مدینہ نصیب ہو جائے، کاش! ضَرورت کے سوا کوئی لفظ زَبان سے نہ نکلے، زیادہ بولنے والے اور دُنیوی دوستوں کے جُھرمٹ میں   رہنے والے کا غیبت اور بالخصوص چغلی سے بچنا بے حد دشوار ہے۔ آہ! آہ! آہ! حدیثِ پاک میں   ہے: ’’ جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کی غَلَطیاں بھی زِیادہ ہوتی ہیں اورجس کی غَلَطیاں زیادہ ہوں اُس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ جہنَّم کے زیادہ لائق ہے۔‘‘  (حلیۃ الاولیاء ج۳ ص۸۷۔۸۸ رقم ۳۲۷۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت) (بُرے خاتمے کے اسباب، ص۹)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


 

چُغلی سے توبہ

          حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے بارے میں   مروی ہے کہ ایک شخص ان کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کسی دوسرے کے بارے میں   کوئی بات ذکر کی۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے فرمایا اگر تم چاہو تو ہم تمہارے معاملے میں   غور کریں اگر تم جھوٹے ہوئے تو اس آیت کے مِصداق ہو گے۔

اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا (پ۲۶، الحجرٰت:۶)

ترجمۂ کنزالایمان :اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو ۔

اور اگر تم سچے ہو ئے تو اس آیت کے مصداق ہو جاؤ گے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ(۱۱) (پ۲۹،القلم:۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان : بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا

 

اور اگر تم چاہو تو ہم تمہیں معاف کر دیں۔ اس نے عرض کی: امیر المؤمنین !معاف کر دیجئے آئندہ میں   ایسا نہیں کروں گا۔(احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،ج۳،ص۱۹۳ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

چغل خور غلام


 

حضرتِ سیِّدُنا حماد بن سلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام بیچا اور خریدار سے کہا :’’اس میں   چغل خوری کے علاوہ کوئی عیب نہیں۔‘‘اس نے کہا : ’’مجھے منظور ہے۔‘‘ اور اس غلام کو خرید لیا ۔غلام چند دن تو خاموش رہا پھر اپنے مالک کی بیوی سے کہنے لگا :’’ میرا آقا تجھے پسند نہیں کرتا اور دوسری عورت لانا چاہتا ہے، جب تمہارا خاوند سو رہا ہو تو استرے کے ساتھ اس کی گدی کے چند بال مونڈ لینا تاکہ میں   کوئی منتر کروں ،اس طرح وہ تم سے محبت کرنے لگے گا ۔‘‘ اور دوسری طرف اس کے شوہر سے جاکر کہا : تمہاری بیوی نے کسی کو دوست بنا رکھا ہے اور تجھے قتل کرنا چاہتی ہے ،تم جھوٹ موٹ کے سو جانا تاکہ تمہیں حقیقتِ حال معلوم ہو جائے ۔‘‘ وہ شخص بَنَاوَٹی طور پر سو گیا تو عورت استرا لے کر آئی۔وہ شخص سمجھاکہ وہ اسے قتل کرنے کے لئے آئی ہے ۔چنانچہ وہ اٹھا اور اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔جب عورت کے گھر والے آئے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس طرح اس چغل خور غلام کی وجہ سے دو قبیلوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔حیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،ج۳،ص۱۹۵ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(34)                                                                                                                                          رزّاق کا کرم


 

 حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اِنَّ الرِّزْقَ لَیَطْلُبُ الْعَبْدَ کَمَا یَطْلُبُہٗ اَجَلُہ یعنی روزی بندے کو ایسے تلاش کرتی ہے جیسے اسے اس کی موت تلاش کرتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، رقم ۷۹۰۸، ج۶، ص۸۹)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مقصد یہ ہے کہ موت کو تم تلاش کرو یا نہ کرو بہرحال تمہیں پہنچے گی یونہی تم رزق کو تلاش کرو یا نہ کرو ضرور پہنچے گا ۔ہاں ! رزق کی تلاش سنّت ہے (اور)موت کی تلاش ممنوع ،مگر ہیں دونوں یقینی ۔( مرأۃ المناجیح،ج۷،ص۱۲۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بُھنا ہوا  ہَرن

           حضرتِ سیِّدُنا ابو ابراہیم یمانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی فرماتے ہیں:’’ ایک مرتبہ ہم چند رفقاء حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الاَعْظم کی ہمراہی میں   سمند رکے قریب ایک وادی کی طر ف گئے۔ ہم سمند ر کے کنارے کنارے چل رہے تھے کہ


 

 راستے میں   ایک پہاڑ آیا جسے جبل’’ کفر فیر ‘‘ کہتے ہیں۔ وہاں ہم نے کچھ دیر قیام کیا اور پھر سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں   ایک گھنا جنگل آیا جس میں   بکثر ت خشک درخت اور خشک جھاڑیاں تھیں۔ شام قریب تھی، سردیوں کا موسم تھا۔ ہم نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیہِ رَحْمَۃ اللہِ الْاَکْرَم  کی بارگاہ میں   عرض کی :

’’ حضور !اگر آپ مناسب سمجھیں تو آج رات ہم ساحل سمندر پر گزار لیتے ہیں۔ یہاں اس قریبی جنگل میں   خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ ہم لکڑیاں جمع کر کے آگ روشن کرلیں گے اس طر ح ہم سردی اور درندوں وغیرہ سے محفوظ رہیں گے ۔‘‘

          آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:’’ ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔‘‘چنانچہ ہمارے کچھ دوستوں نے جنگل سے خشک لکڑیاں اکٹھی کیں اور ایک شخص کو آگ لینے کے لئے ایک قریبی قلعے کی طر ف بھیج دیا ۔ جب وہ آگ لے کرآیاتو ہم نے جمع شدہ لکڑیوں میں   آگ لگا دی اور سب آگ کے اِرد گر د بیٹھ گئے اور ہم نے کھانے کے لئے روٹیاں نکال لیں۔ اچانک ہم میں   سے ایک شخص نے کہا :’’دیکھو ان لکڑیوں سے کیسے اَنگارے بن گئے ہیں ، اے کاش! ہمارے پاس گو شت ہوتا تو ہم اسے ان اَنگاروں پر بھون لیتے ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابراہیم ابن ادہم عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الاَعْظم نے اس کی یہ بات سن لی اورفرمانے لگے :’’ ہمارا پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ  اس بات پر قادرہے کہ

 تمہیں اس جنگل میں   تا زہ گو شت کھلائے ۔ ‘‘

           ابھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ بات فرما ہی رہے تھے کہ اچانک ایک طر ف سے شیر نمودار ہوا جو ایک فربہ ہرن کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ ہر ن کا رُخ ہماری ہی طرف تھا۔ جب ہرن ہم سے کچھ فاصلے پر رہ گیا تو شیر نے اس پر چھلانگ لگائی اوراس کی گردن پرشد ید حملہ کیا جس سے وہ تڑپنے لگا ۔یہ دیکھ کر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم اُٹھے اور اس ہرن کی طرف لپکے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو آتا دیکھ کر شیر ہرن کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:’’ یہ رزق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمارے لئے بھیجا ہے۔ چنانچہ ہم نے ہرن کو ذبح کیااور اس کا گوشت انگاروں پر بھون بھون کر کھاتے رہے اور شیر دور بیٹھا ہمیں   دیکھتا رہا۔(عیون الحکایات،الحکایۃ الحادیۃ والسبعون بعد المائۃ،ص۱۸۲ )

{اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین }

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم}

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(35)                                                                                   حیا ایمان سے ہے

           حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلْحَیَاءُمِنَ الْاِیۡمَانِ یعنی حیا ایمان سے ہے۔‘‘


 

(صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب بیان عدد شعب الإیمان۔۔۔ الخ،الحدیث۳۶،ص۴۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شرم وحیاء ایمان کا رُکنِ اعلیٰ ہے ۔دنیا والوں سے حیا دنیاوی برائیوں سے روک دیتی ہے۔ دین والوں سے حیا دینی برائیوں سے روک دیتی ہے۔ اللہ رسول سے شرم وحیا تمام بدعقیدگیوں بدعملیوں سے بچالیتی ہے۔ ایمان کی عمارت اسی شرم وحیا پر قائم ہے ۔درختِ ایمان کی جڑ مؤمن کے دل میں   رہتی ہے (جبکہ)اس کی شاخیں جنت میں   ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۶۴۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

باحیا نوجوان

 امیرِ اہلِسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے رسالے ’’باحیا نوجوان ‘‘ کے صفحہ1 پر لکھتے ہیں:

          بَصرہ میں   ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’مِسکی‘‘ کے نام سے مشہُور تھے۔ ’’مُشک‘‘ کو عَرَبی میں   ’’مِسْک‘‘ کہتے ہیں۔ لہٰذا مِسکی کے معنیٰ ہوئے ’’مُشکبار‘‘ یعنی مُشک کی خوشبُو میں   بَسا ہوا۔ وہ بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہر وَقْت مُشکبار و خوشبودار رہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس راستے سے گُزر جاتے وہ راستہ بھی مَہَک اُٹھتا۔ جب داخِلِ مسجِد ہوتے تو اُن کی خوشبُو سے لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ حضرتِ مِسکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی


 

 عَلَیْہِ تشریف لے آئے ہیں۔ کسی نے عرض کیا، حُضُور! آپ کو خوشبو پر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہوگی۔ فرمایا، ’’میں   نے کبھی خوشبو خریدی، نہ لگائی۔ میرا واقِعہ عجیب و غریب ہے:

          میں   بغدادِ مُعَلّٰی کے ایک خوشحا ل گھرانے میں   پیدا ہوا۔ جس طرح اُمَراء اپنی اولاد کو تعلیم دِلواتے ہیں میری بھی اسی طرح تعلیم ہوئی۔ میں   بَہُت خوبصورت اور با حیا تھا۔ میرے والِد صاحِب سے کسی نے کہا، ’’اسے بازار میں   بٹھاء تاکہ یہ لوگوں سے گھُل مِل جائے اور اس کی حیا کچھ کم ہو۔‘‘ چُنانچِہ مجھے ایک بَزّاز (یعنی کپڑا بیچنے والے) کی دکان پر بٹھادیا گیا۔ ایک روز ایک بُڑھیا نے کچھ قیمتی کپڑے نکلوائے، پھر بَزّاز (یعنی کپڑے والے) سے کہا، ’’میرے ساتھ کِسی کو بھیج دو تاکہ جو پسَند ہوں انہیں لینے کے بعد قیمت اور بقیّہ کپڑے واپَس لائے۔‘‘  بَزّاز (بَزْ۔زَاز) نے مجھے اس کے ساتھ بھیج دیا۔ بُڑھیا مجھے ایک عظیمُ الشّان مَحَل میں   لے گئی اور آراستہ کمرے میں   بھیج دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک زیوارت سے آراستہ خوش لباس جوان لڑکی تَخْت پر بچھے ہوئے مُنَقَّش(مُ۔ نَقْ۔ قَشْ) قالین پر بیٹھی ہے، تخت و فرش سب کے سب زَرِّیں ہیں اور اس قَدَر نفیس کہ ایسے میں   نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اُس لڑکی پر شیطان غالِب آیا اور وہ ایک دم میری طرف لپکی اور چھیڑ خانی کرتے ہوئے ’’منہ کالا‘‘ کروانے کے دَر پَے ہوئی۔ میں   نے گھبرا کر

 کہا، ’’اﷲ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر!‘‘ مگر اُس پر شیطان پوری طرح مُسَلَّط تھا۔ جب میں   نے اُس کی ضِد دیکھی تو گناہ سے بچنے کی ایک تجویز سوچ لی اور اُس سے کہا، مجھے اِستِنجاء خانے جانا ہے۔ اُس نے آواز دی تو چاروں طرف سے لَونڈیاں آگئیں، اُس نے کہا، ’’اپنے آقا کو بیتُ الْخَلاء میں   لے جاء۔‘‘ میں   جب وہاں گیا تو بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہیں آئی، مجھے اس عورت کے ساتھ ’’منہ کالا‘‘ کرتے ہوئے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے حَیا آ رہی تھی اور مجھ پر عذابِ جھنَّم کے خوف کا غَلَبہ تھا۔ چُنانچِہ ایک ہی راستہ نظر آیا اور وہ یہ کہ میں   نے اِستِنجا خانے کی نَجاست سے اپنے ہاتھ منہ وغیرہ سان لئے اور خوب آنکھیں نکال کر اُس کنیز کو ڈرایا جو باہَر رومال اور پانی لئے کھڑی تھِی، میں   جب دیوانوں کی طرح چیختا ہوا اس کی طرف لپکا تو وہ ڈر کر بھاگی اور اس نے پاگل، پاگل کا شور مچادیا۔ سب لونڈیاں اکٹّھی ہوگئیں اور انہوں نے ملکر مجھے ایک ٹاٹ میں   لپیٹا اور اٹھا کر ایک باغ میں   ڈال دیا۔ میں   نے جب یقین کرلیا کہ سب جاچکی ہیں تو اٹھ کر اپنے کپڑے اور بدن کو دھو کر پاک کر لیا اور اپنے گھر چلا گیا مگر کسی کو یہ بات نہیں بتائی۔ اُسی رات میں   نے خواب میں   دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے، ’’تم کو حضرت سیِّدُنا یوسُف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام سے کیا ہی خوب مُناسَبَت ہے‘‘ اور کہتا ہے کہ ’’کیا تم مجھے جانتے ہو؟‘‘ میں   نے کہا، ’’نہیں۔‘‘ تو اُنہوں نے کہا، ’’میں 


 

 جِبرئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام ہوں۔‘‘ اس کے بعد اُنہوں نے میرے منہ اور جِسْم پر اپنا ہاتھ پَھیر دیا۔ اُسی وَقْت سے میرے جِسْم سے مُشک کی بہترین خوشبو آنے لگی۔ یہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام کے دستِ مبارَک کی خوشبو ہے۔‘‘(رَوْضُ الرَّیاحِین ص۳۳۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

مدینہ: حیاء کے متعلق مزید تفصیلات جاننے کے لئے امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کا رسالہ ’’باحیانوجوان‘‘ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً حاصل کیجئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(36)                        ساقیِ کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان

           حضرتِ سیِّدُنا ابوقَتَادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں:  ’’اِنَّ سَاقِیَ الْقَوْمِ آخِرُھُمْ شُرْبًا یعنی قوم کو پانی پلانے والا ،سب سے آخر میں   پیتا ہے۔(صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ۔۔۔ الخ،الحدیث۶۸۱،ص۳۴۴)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قانون یہ ہے کہ پلانے والا پیچھے پئے، کھلانے والا پیچھے کھائے ۔ہم ہیں پلانے والے اس لئے ہم تمہارے بعد پئیں گے۔خیال رہے کہ رب تعالیٰ کی طرف سے قاسم حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تھے اور


 

 تاقیامت ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج۸،ص۲۲۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(37)                                                          آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مہینہ

           اُمُّ المومِنین حضرت سیدتناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’شَعْبَانُ شَھْرِیۡ وَ رَمَضَانُ شَھْرُ اللّٰہ یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا مہینہ ہے۔(الجامع الصغیر، للسیوطی، الحدیث ۴۸۸۹، ص۳۰۱)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رحمت عالم ،نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شعبان کو اس لئے اپنا مہینہ فرمایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس مہینے میں   روزے رکھا کرتے تھے حالانکہ یہ روزے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر واجب نہیں تھے۔اور رمضان کو اس لئے اللّٰہ تعالیٰ کا مہینہ فرمایا کہ اس نے اس مہینے کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے ہیں ۔(فیض القدیر،تحت الحدیث۴۸۸۹،ج۴،ص۲۱۳)

شعبان کی تجلیات وبرکات


 

         امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے رسالے ’’آقا کا مہینہ ‘‘ کے صفحہ 4 پر لکھتے ہیں:لفظ ’’شعبان‘‘ میں   پانچ حروف ہیں ،ش،ع،ب،ا،ن۔سیِّد نا غوث اعظم ،محبوب سبحانی ،قندیل نورانی ،شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی نقل فرماتے ہیں ’’ش‘‘ سے مراد شرف یعنی بزرگی، ’’ع‘‘ سے مرادعلوّ یعنی بلندی،’ب‘ سے مراد بِرّ یعنی بھلائی واحسان ،’’ا ‘‘ سے مراد الفت اور ’’ن‘‘ سے مراد نور ہے تو یہ تمام چیزیں اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس مہینے میں   عطا فرماتا ہ ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں   نیکیوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ،برکات کا نزول ہوتا ہے، خطائیں ترک کر دی جاتی ہیں اور گناہوں کا کفارہ ادا کیا جاتا ہے ،اور خَیۡرُ الْبَرِیَّہ سَیِّدُ الْوَریٰ جناب محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود پاک کی کثرت کی جاتی ہے ،اور یہ نبی مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود بھیجنے کا مہینہ ہے۔(غنیۃ الطالبین ،ج۱،ص۲۴۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(38)                                                                                                                                   فتنہ باز کی مذمت

           حضرتِ سیِّدُنا  انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ


 

 لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَلْفِتْنَۃُ نَائِمَۃٌ لَّعَنَ اللّٰہُ مَنْ اَیۡقَظَھَا یعنی فتنہ سورہا ہے ،اس کے جگانے والے پر اﷲعَزَّوَجَلَّ  کی لعنت۔(الجامع الصغیر، الحدیث ۵۹۷۵، ص۳۷۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی دینی فائدے کے بغیرلوگوں کواضطراب، اختلاف،مصیبت اور آزمائش میں   مبتلاکرکے نظام زندگی کوبگاڑدینا ’’فتنہ ‘‘ کہلاتا ہے۔ (الحدیقہ الندیۃ ج ۲،ص۱۴۶)لہٰذا!ہروہ چیزجومسلمانوں کے درمیان فتنے ، شر،عداوت اور بُغْض کاباعث بنے ،ہمیں   اس سے بچنا چاہئے۔فتنہ کوقرآن پاک میں  قتل سے زیادہ سخت کہاگیاہے، اگراسی بات پرغورکرلیا جائے توفتنے سے بچنے کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ارشادفرماتاہے:

وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ-                                        ترجمہ کنزالایمان :اوران کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے۔

۲،البقرۃ:۱۹۱ )

امام بیضاوی علیہ رَحْمَۃُاللہِ الوَالی فتنے کے قتل سے زیادہ سخت وبراہونے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ’’چونکہ قتل کے مقابلے میں   فتنے کی تکلیف زیادہ سخت اوراس کارنج واَلَم زیادہ دیرتک قائم رہتاہے اسی لئے اس کوقتل سے زیادہ سخت فرمایاگیا۔‘‘(الحدیقۃ الندیۃ ،ج۲،ص۱۵۴)


 

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(39)                                        اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرنا

          حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ الْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللّٰہِ یعنی سب سے بہترعمل اﷲ عَزَّوَجَلَّکے لیے محبت کرنا اوراﷲ عَزَّوَجَلَّ کے لیے دُشمنی کرنا ہے۔‘‘(سنن أبي داود،کتاب السنۃ،باب مجانبۃ اھل الأھواء ،الحدیث۴۵۹۹،ج۴،ص۲۶۴)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے اس لئے محبت کی جائے کہ وہ دیندار ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کیلئے عداوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے عداوت ہو تو اس بنا پر ہو کہ وہ دین کا دشمن ہے یا دیندار نہیں۔(نزھۃ القاری،ج۱، ص۲۹۵) امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں اگر کوئی شخص باورچی سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے اچھا کھانا پکواکر فقراء کو بانٹے تو یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے محبت ہے اور اگر عالم دین سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے علم دین سیکھ کر دنیا کمائے تو یہ دنیا کے لئے محبت ہے۔(مرأۃ المناجیح،ج۱،ص۵۴)

           حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ رحمتِ


 

عالم ، نورِمجسم ،شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان ہے:’’یہ بات ایمان سے ہے کہ ایک شخص دوسرے سے فقط اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرے اس میں   دیئے جانے والے مال کا دَخْل نہ ہوتوایسی محبت ایمان(کاحصہ) ہے ۔‘‘(المعجم الاوسط ، رقم الحدیث۷۲۱۴، ج۵،ص۲۴۵)

          امام نووی عَلَیْہِ رَحْمۃُاللہِ الوَالی فرماتے ہیں :’’ اللّٰہ ورسول عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت میں  زندہ اورانتقال کرجانے والے اولیاء وصالحین رحم ہم اللہ تعالیٰ کی محبت بھی شامل ہے اوراللّٰہ ورسول عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی افضل ترین محبت یہ ہے ان کے احکام پرعمل اورنواہی سے اجتناب کیاجائے ۔(شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلہ،باب المرء مع من احب،ج۲ص۳۳۱)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اکابرین اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللّٰہِکی چلتی پھرتی تصویر تھے ۔چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے جنگِ اُحد میں   اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے روز بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مُبَارَزَت (یعنی مقابلے)کیلئے طلب کیا لیکن رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور سیِّدُنامعصب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور


حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روز بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہم نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں   قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس۔(تفسیر خزائن العرفان ،المجادلہ،تحت الاٰیۃ۲۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حدیث(40)                                                                                     نَماز قضا کرنے کا وبال

           حضرتِ سیِّدُنا  ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، اﷲعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مَنْ تَرَکَ صَـلَاۃً  مُتَعَمِّدًا کُتِبَ اسْمُہٗ عَلٰی بَابِ النَّارِ فِیۡمَنْ یَدْخُلُھَا یعنی جو کوئی جان بوجھ کرایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے، اس کا نا م جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جائے گا جس سے وہ جہنم میں   داخل ہوگا۔‘‘(حلیۃ الاولیاء، رقم ۱۰۵۹۰،ج۷، ص۲۹۹)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جہنمیوں کے بارے میں   ارشاد فرمایا:

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲)قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳)وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴)وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ(۴۵) (پ۲۹، المدثر:۴۲تا۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں کیا بات دوزخ میں   لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے۔

کچھ دن کے لئے نماز چھوڑ سکتے ہیں ؟

          حضرتِ سیِّدُنا  ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب میری آنکھوں کی سیاہی باقی رہنے کے باوجود میری بینائی جاتی رہی تو مجھ سے کہا گیا :’’ہم آپ کا علاج کرتے ہیں کیا آپ کچھ دن نماز چھوڑ سکتے ہیں؟‘‘ تو میں   نے کہا : ’’نہیں، کیونکہ دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :’’جس نے نماز چھوڑی تو وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں   ملے گا کہ وہ اس پر غضب فرمائے گا۔‘‘( مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب فی تارک الصلاۃ،الحدیث:۱۶۳۲،ج ۲،ص ۲۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

40 فَرامین مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

1 اَوْلَی النَّاسِ بِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً ۔

2 صَلُّوْا عَلَیَّ صَلَّی اللّٰہُ    عَلَیۡکُمْ ۔

3 مَنْ صَلَّی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ عَشْرَ صَلَوٰتٍ وَ حُطَّتْ عَنْہُ عَشَرُ خَطِیَّاتٍ وَرُفِعَتْ لَہُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ۔

4 اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّـیَّاتِ ۔

5 نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیۡرٌ مِّنْ عَمَلِہِ ۔

6 اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیۡنِ ۔

7 خَیۡرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ ۔

8 طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیۡضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ ۔

9 مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِرِزْقِہِ ۔

10 مَنْ خَرَجَ فِیۡ طَلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَرْجِعَ ۔

11 مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضٰی ۔

12 مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیۡرًایُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیۡنِ ۔

13 مَنْ صَمَتَ نَجَا ۔

14 مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیۡرٍ فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِفَاعِلِہٖ ۔

15 بَلِّغُوْا عَنِّیۡ وَلَوْ آ یَۃً ۔

16 اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ ۔

17 اَلدُّعَاءُ یَرُدُّ الْبَلَاءَ ۔

18 مَنْ غَشَّ فَلَیۡسَ مِنَّا ۔


 

19 اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ ۔

20 اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ ۔

21 اَلصَّلَاۃُ عِمَادُ الدِّیۡنِ ۔

22 مَنْ زَارَ قَبْرِیۡ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیۡ ۔

23 عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ ۔

24 اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُءمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ ۔

25 اَلْجُمُعَۃُ حَجُّ الْمَسَاکِیۡن ۔

26 بَشِّرُوْا وَلاَ تُنَفِّرُوْا ۔

27 اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْـکَلَامِ ۔

28 اَلْبَادِیُٔ بِالسَّلَامِ بَرِیٌٔ مِّنَ الْکِبْرِ۔

29 اَلضَّحِکُ فِی الْمَسْجِدِ ظُلْمَۃٌ فِی الْقَبْرِ ۔

30 اَلْقَھْقَھَۃُ مِنَ الشَّیۡطَانِ، وَالتَّبَسُّمُ مِنَ اللّٰہِ ۔

31 اَلسِّوَاکُ مَطْہَرَۃٌ لِلْفَمِ مَرْضَاۃٌ لِّلرَّبِّ ۔

32 صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِیۡنَ دَرَجَۃً ۔

33 لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَـتَّاتٌ ۔

34 اِنَّ الرِّزْقَ لَیَطْلُبُ الْعَبْدَ کَمَا یَطْلُبُہٗ اَجَلُہٗ ۔

35 اَلْحَیَاءُ مِنَ الْاِیۡمَانِ ۔

36 اِنَّ سَاقِیَ الْقَوْمِ آخِرُھُمْ   شُرْبًا ۔

37 شَعْبَانُ شَھْرِیۡ، وَ رَمَضَانُ شَھْرُ اللّٰہِ ۔

38 اَلْـفِتْنَۃُ نَائِمَۃٌ  لَّ عَنَ اللّٰہُ مَنْ اَیۡقَظَھَا ۔

39 اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ الْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللّٰہِ ۔

40 مَنْ تَرَکَ صَـلَاۃً  مُـتَـعَـمِّدًا کُتِبَ اسْمُہٗ عَلٰی بَابِ النَّارِ فِیۡمَنْ یَدْخُلُھَا۔


 

ماٰخذ ومراجع

(۱)         قراٰن مجید                                      کلامِ باری تعالیٰ                                    ضیاء القراٰن پبلی کیشنز لاہور

(۲)        کَنْزُالْاِیۡمَانِ فِیۡ تَرجَمَۃِالْقُرْاٰن                                                            اعلٰیحضرت امام احمد رضا خان متوفّٰی۱۳۴۰ھ                                    ضیاء القراٰن پبلی کیشنز لاہور

(۳)        رُوْحُ الْمَعَانِیۡ                         علامہ ابو الفضل شہاب الدین آلوسی متو فیّٰ۱۲۷۰ھ                 دار احیاء التراث العربی بیروت

(۴)        صَحِیۡحُ الْبُخَارِی                     امام محمد بن اسما عیل بخاری متوفّٰی۲۵۶ھ                           دار الکتب العلمیۃ بیروت

(۵)        صحیح مسلم                                    امام مسلم بن حجاج بن مسلم القشیریمتوفّٰی۲۶۱ھ                    دار ابن حزم بیروت

(۶)        سُنَن الترمذی                       امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی متوفّٰی۲۸۹ھ                       دار الفکر بیروت

(۷)        سُنَنُ ابنِ ماجۃ                     امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی متوفّٰی۲۷۳ھ                    دار الفکر بیروت

(۸)        اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیۡر                        امام سلیمان بن احمد طبرانیمتوفّٰی۳۶۰ھ                           دار احیاء التراث العربی

(۹)        اَلْمُعْجَمُ الْاَوْسَط                       امام سلیمان بن احمد طبرانی متوفّٰی ۳۶۰ھ                          دار الکتب العلمیۃ بیروت

(۱۰)       شُعَبُ الْاِیۡمَان                                    امام احمد بن حسین بیہقی متوفّٰی۴۵۸ھ                            دار الکتب العلمیۃ بیروت

(۱۱)        سنن نسائی                          امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی متوفّٰی۳۰۳ھ                دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۲)       المعجم الصغیر                       امام سلیمان بن احمد طبرانیمتوفّٰی۳۶۰ھ                           دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۳)       مشکاۃ المصابیح                    امام محمد بن عبدالرحمن الخطیب التبریزیمتوفّٰی۵۰۹ھ               دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۴)       جامع الصغیر                                    امام عبدالرحمن جلال الدین السیوطی متو فّٰی ۹۱۱ھ                   دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۵)       فِرْدَوْسُ الْاَخْبَار                      حافظ شیرویہ بن شہردار دیلمیمتوفّٰی۵۰۹ھ                                    دار الفکر بیروت          

(۱۶)       حلیۃ الاولیاءُ                                    ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانیمتوفّٰی۴۳۰ھ                                    دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۷)       کشف الخفاءُ                                    امام اسماعیل بن محمدالعجلونی الشافعیمتوفّٰی۱۱۶۲ھ                    دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۸)       الْکَامِلُ فِی ضُعَفَاءِ الرِّجَال                مام ابو احمد بن عبداللہ بن عدی جرجانی متوفّٰی۳۶۵ھ                 دار الکتب العلمیہ بیروت

(۱۹)       فیض القدیر                         علامہ عبد الرؤف المناوی متو فّٰی۱۰۳۱ھ                          دار الکتب العلمیہ بیروت

(۲۰)       اَلزَوَاجِر                              امام الشیخ ابن حجرمکی متوفّیٰ ۹۷۴ھ                                دار الحدیث قاھرہ

(۲۱)       تاریخ بغداد                                    الحافظ احمد بن علی الخطیب متوفّٰی۴۶۳ھ                           دار الکتب العلمیہ بیروت

(۲۲)       نُزْھَۃُ الْقَارِی                         حضرت شریف الحق امجدی متو فّٰی۱۴۲۱ھ                                    فرید بک اسٹال لاہور

(۲۳)      مِرْاٰٰۃُ الْمَنَجِیۡح                                    مفتی احمد یارخان نعیمی متوفّٰی۱۳۹۱ھ                              ضیاء القرآن کراچی

(۲۴)      اشعۃ اللمعات                       شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفّٰی ۱۲۳۹ھ                                   کوئٹہ

(۲۵)      افضل الصلوات علی سید السادات     علّامہیوسف بن اسماعیل النبہانی متوفّٰی                          دار الثمر عرفۃ

(۲۶)       مدارج النبوۃ                                   شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفّٰی۱۲۳۹ھ                                    مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات

(۲۷)      فَتَاوٰی رَضَوِیہ                       اعلٰحضرت امام احمد رضامتوفّٰی۱۳۴۰ھ                             رضا فاؤنڈیشن لاہور

(۲۸)      حاشیہ نور الایضاح                  مولاناعبد الرزاق بھترالوی حطاردی                              مکتبۂ ضیا ئیہ راولپنڈی

(۲۹)       علم اور علماءُ                       مفتی جلال الدین احمد امجدیمتو فّٰی۱۴۱۲ھ                                    سادات پبلی کیشنز لاہور