اچھی تربیت کے لئے نصیحتوں  کامدنی گلدستہ

وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

 

ترجمہ بنام

 

امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیتیں 

امام الا َئمہ،سراج الا ُمہ

امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

 

اَلْمُتَوَفّٰی۱۵۰ھ

 

 

پیشکش: مجلس المدینۃ العلمیۃ(دعوتِ اسلامی)

شعبۂ   تراجم کتب

ناشر

 

 

 

 

 

مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

نام کتاب                      وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

 ترجمہ    :           امام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیتیں 

مصنف   :           امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

مترجمین :           مد نی علماء(شعبہ تراجمِ کتب)

سن طباعت:         ربیع النور۱۴۳۰ھ بمطابق مارچ 2009ء

 

 

 

تصدیق نامہ

تاریخ:       ۹ربیع النُّور ١٤٣۰ھ                                     حوالہ نمبر:      ۱۵۶

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن

تصدیق کی جاتی ہے کہ کتاب ” وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم “کے ترجمہ

"امام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیتیں"

  (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) پر مجلس تفتیش کُتُب و رَسائل کی جانِب سے نظرِ ثانی کی کوشش کی گئی ہے۔مجلس نے اسے عقائد،کُفریہ عِبارات،اَخلاقیات، فقہی مسائل اور عَربی عِبارات وغیرہ کے حوالے سے مقدور بھر مُلاحظہ کر لیا ہے،البتہ کمپوزنگ یا کِتابت کی غَلَطیوں کا ذِمَّہ مجلس پر نہیں۔

مجلس تفتیش کُتُب ورسائل(دعوتِ اسلامی)

07-03-2009


پہلے اِسے پڑھئے!

            اِمام الائمہ ،سراج الا ُمَّہ حضرت سیدناامامِ اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے شاگردوں   کو انتہائی مفید  نصیحتیں   فرمائیں  جو مختلف کتب میں   بکھری ہوئی تھیں  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ!مجلس المدینۃ العلمیۃ کے حکم پر شعبہ تراجمِ کتب کے مدنی علماء کَثَّرَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی نے انتھک کوشش سے ان  نصیحتوں  کو یکجا کر کے ان کا اُردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ رسالہ حضرتِ سیِّدُنا امام ابویوسف، حضرتِ سیِّدُنایوسف بن خالد بصری، امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے شہزادے حضرتِ سیِّدُنا حماد، حضرتِ سیِّدُنانوح بن ابی مریم رَحِمَہُم اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن وغیرہ اکابر تلامذہ کو، کی گئی نصیحتوں   پر مشتمل ہے جو انسان کی ظاہری وباطنی درستی کے لئے انتہائی مفید ہیں  ۔ اس میں   اصلاح کے بے شمار مدنی پھول ہیں  ۔  مثلاً اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہنا، عوام وخواص کی امانتیں   ادا کرنا، انہیں   نصیحت کرنا، بادشاہِ وقت کے سامنے بھی حق بیان کرنا، زیادہ ہنسنے سے بچنا، تلاوتِ قرآنِ پاک کی پابندی کرنا اور اپنے پڑوسی کی پردہ پوشی کرنا وغیرہ۔اللّٰہعَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بَشُمُول ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘کو دن گیارہویں   رات بارہویں   ترقّی عطا فرمائے۔

 (اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)


اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ المُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِط بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِط

 (۱) امامِ ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکونصیحتیں 

بادشاہوں  سے میل جول میں  احتیاطیں  :

{1}…اے یعقوب([1])! با دشاہ کی عزت وتوقیر کرنا ۔ اس کے منصب کی عظمت کا لحاظ رکھنا اور اس کے سامنے جھوٹ بولنے سے اجتناب کرنا۔

{2}…جب تک بادشاہ سے تجھے کوئی علمی حاجت درپیش نہ ہو بلاضرورت اس کے دربار میں   نہ جانا کیونکہ اگر تو اس کے ساتھ زیادہ میل جو ل رکھے گا تو وہ تجھے ہلکا اور حقیر جاننے لگے گا اور تیری قدر و منز لت اس کی نظر میں   کم ہو جائے گی۔ اس لئے بادشاہ سے آگ جیسا برتاؤ کرکہ دُور رہ کراس سے نفع حاصل کر اور جس طرح جلنے اور تکلیف میں   مبتلا ہونے کے ڈرسے آگ کے قریب کوئی نہیں   جاتا اسی طرح بادشاہ کے قریب جانے سے بھی کتراتے رہنا اور اس کی ایذاء سے خود کو بچاتے رہنا کیونکہ وہ اپنے علاوہ کسی کوکچھ نہیں  سمجھتا۔

{3}… بادشاہ کے سامنے کثرتِ کلام سے گُریز کرنا کیونکہ وہ اپنے مصاحبوں   اور


درباریوں   کے سامنے تجھ پراپنے علم کی برتری جتانے کے لئے تمہاری باتوں   پر پکڑ کرے گااورتمہاری غلطیاں   نکالے گا جس کی وجہ سے تم لوگو ں   میں  ذلیل ہو جاؤ گئے ۔

{4}…اس بات کا خیال رکھنا کہ جب تم بادشاہ کے دربار میں  جاؤ تووہ تمہارے اورعام لوگوں   کے مقام ومرتبہ میں   فرق پہچانتا اور اس کا لحاظ کرتاہو ۔

{5}… بادشاہ کے پاس جاتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھنا کہ اس کے دربار میں   ایسے اہلِ علم حضرات موجود نہ ہوں   جن کے علمی مقام کی تمہیں  خبر نہ ہو کیونکہ ایسی صورت ِحال میں   خدشہ ہے کہ تمہیں   ان سے زیادہ عزت ومقام بخشا جائے حالانکہ وہ تم سے زیادہ علم والے ہوں   تویہ بات تمہیں   نقصان دے گی یا ہو سکتا ہے تمہارامقام ومرتبہ کم کر دیا جائے حالانکہ تم علم میں   ان سے بڑھ کر ہو۔ تو اس وجہ سے تم بادشاہ کی نظر سے گِر جاؤ گے۔

{6}…  جب تمہیں   کوئی شاہی عہد ہ پیش کیاجائے تو اس وقت تک قبول نہ کرنا جب تک تم یہ نہ جان لو کہ بادشاہ علم اورفیصلوں   میں  تمہارے مسلک ومذہب سے راضی ہے تاکہ حکومتی معاملات میں  کسی دوسرے کے مسلک کی طرف رجوع نہ کرنا پڑے۔

{7}… بادشاہ کے مصاحبین ومحافظین سے ہرگز تعلقات قائم نہ کرنا بلکہ صرف بادشاہ سے تعلق رکھنا۔

{8}… اس کے مصاحبین سے دور رہنا تا کہ تمہارا جاہ وجلال باقی رہے۔

{9}…عوام کے سامنے اتنی ہی بات کرناجتنی تم سے پوچھی جائے۔


دُنیوی گفتگوسے بچنے کی نصیحت:

{10}…ہمیشہ علمی بات کرنا،دنیوی معاملات وتجارت کے بارے میں   گفتگو سے اجتناب کرنا کیونکہ اس سے نقصان یہ ہوگاکہ لوگ مال کی طر ف تمہاری رغبت دیکھ کر تم پررشوت کے لین دین کی بدگمانی میں   مبتلا ہو جائیں   گے۔

{11}…عام لوگو ں   کے درمیان بیٹھو توہنسنی مذاق سے احتراز کرنا ۔

{12}…بلاضرورت بازارمیں  زیادہ آنے جانے سے بچنا۔

اَ مْرَدوں   سے بچنے کی نصیحت:

{13}… امردوں  (یعنی جن لڑکوں  کو دیکھ کر شہوت آئے اُن) سے گفتگو نہ کرنا کیونکہ وہ فتنے کاباعث ہیں  ۔ چھوٹے بچوں   کے ساتھ گفتگو کرنے اور ان کے سروں   پر ہاتھ پھیرنے میں  حرج نہیں   ۔

بڑوں   کا ادب کرنے کی نصیحت:

{14}… غیرعالم بوڑھوں   کے ساتھ راستوں   کے درمیان نہ چلنا کیونکہ اگر تو نے اُن کو مقدَّم کیا تو تیرے علمی مقام کو عیب لگے گا اور اگر ان سے آگے چلا تو تجھ پر عیب لگے گا کہ تو نے ان کا احترام نہیں  کیاحالانکہ حضورپرنور، شافعِ یومُ النشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو ہمارے بڑوں  کی عزت اور چھوٹوں   پرشفقت نہیں   کرتا


 وہ ہم میں   سے نہیں۔‘‘(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، ماجاء فی رحمۃ الصبیان، الحدیث:۱۹۱۹،ص۱۸۴۵، دار السلام للنشر والتوزیع الریاض)

راستوں   اورمساجدمیں   کھانے سے پرہیز:

{15}… راستو ں   میں  مت بیٹھنا، ضرورت ہوتو مسجد میں   بیٹھ جانا۔

{16}… بازاروں  اور مسجدوں   میں  نہ کھانا پینا، نہ ہی دکانوں   پر بیٹھنا۔

{17}… سبیلوں   او ر ان پر پانی پلانے والو ں   سے پانی نہ پینا(کہ وہ عالم اورجاہل میں   فرق نہیں   کرتے)۔

{18}… ریشم اورزیور(سونے کی انگوٹھی، لاکٹ وغیرہ)اور کسی قسم کا سِلک (یعنی ریشم) نہ پہننا کیونکہ اس کا استعمال تجھے تکبر میں   مبتلا کردے گا۔

ازدواجی زندگی کے آداب:

{19}… اپنی شریکِ حیات سے بستر میں   زیادہ گفتگو نہ کرنا، بوقت ِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت بات پرہی اکتفاء کرنا۔([2])

{20}…عورت سے زیادہ جماع کرنے اوراس کو زیادہ چھونے سے اجتناب کرنا۔


{21}… جماع سے قبل اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنا پھراس سے ہم بستری کرنا۔

{22}…اپنی بیوی کے سامنے دوسروں   کی عورتوں   اورنوکرانیوں   کا ذکر نہ کرنا کیونکہ اس طر ح وہ تجھ سے بے پرواہ ہوجائے گی۔ اور ہو سکتاہے کہ جب تو اس کے سامنے دوسری عورتو ں   کاتذکرہ کرے تو وہ بھی تجھ سے دوسرے مردوں   کا ذکر کرنے لگے۔

{23}…اگرہوسکے توایسی عورت سے شادی نہ کرناجو بیوہ ہو یا جس کے ماں   باپ ہوں   یا جس کی پہلے سے اولاد ہواوراگرایسی عورت سے نکاح کرنا پڑے تویہ شرط رکھ لینا کہ اس کے قریبی رشتے دار اس سے (بکثرت) نہیں   ملیں   گے۔

{24}…اگر عورت مال دار ہوئی تو اس کاباپ دعویٰ کر ے گا کہ تیری بیوی کے پاس موجود مال میرا ہے میں  نے اسے عاریتاً دیا تھا (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم ہمارے ٹکڑوں   پر پل رہے ہو اوریہ بات تمہیں   ناگوار گزرے گی)۔

 {25}…جس قدرممکن ہو اپنے سُسرال جانے سے احتراز کرنا۔

{26}… ہرگز گھر داماد بننے(یعنی سُسرال کے ہاں   رہنے) پر راضی نہ ہونا اس لئے کہ اگر تو اُن کے پاس رہنے لگا تو وہ مال کی لالچ میں  تجھ سے تیرا مال لے لیں   گے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہوگاکہ تیری بیوی تیرے اَخلاق وعادات میں  نہ ڈھل سکے گی۔

{27}… اولاد والی عورت سے نکاح نہ کرنا کیونکہ وہ اپنا سارا مال ان کے لئے جمع کررکھے گی اورچونکہ اس کواپنی اولادتجھ سے زیادہ عزیزہوگی جس کی وجہ سے وہ تیرا مال


 چرا چرا کر ان پر خرچ کرے گی۔

{28}… ایک گھر میں  دو بیویوں   کو جمع کرنے سے گریزکرنا۔

{29}… نکاح سے پہلے اس بات کی مکمل طورپرتسلِّی کر لینا کہ تم اپنی بیوی کی تمام حاجات وضروریات پوری کرسکتے ہو۔

پہلے علم دین حاصل کرنا:

{30}…اس بات کا خیال رکھناکہ پہلے علمِ دین حاصل کرنا پھر کسب ِ حلال سے مال جمع کرنا اس کے بعد نکاح کرنا اور اگر تو دورانِ طالب ِ علمی مال کی طلب میں   مشغول ہوگیاتو علمِ دین حاصل نہ کر سکے گا اور مال تجھے لونڈیاں   اور خُدَّام خریدنے پر آمادہ کرے گا اوریوں   تو دنیا میں  مشغول ہوجائے گا۔ زمانۂ طالبِ علمی میں  اس بات کا بھی لحاظ رکھناکہ دل میں   ہرگز عورتوں   کی رغبت پیدا نہ ہوکہ یوں   تیرا وقت ضائع ہو گا اور تیرے اہل وعیال کثیرہوجائیں   گے اورتو ان کی ضروریات پوری کرنے میں   مشغول ہو کرعلمِ دین اور مال دونوں   سے رہ جائے گا۔

جوانی میں   حصولِ علم کی نصیحت:

{31}… ایسے وقت میں   طلب ِ علم میں   مشغول ہوجبکہ تیرے جوانی کے ابتدائی ایام ہوں   اور تیرا دل دُنیوی معاملات سے فارغ ہو۔ اس کے بعد کسب ِ حلال کرنا تاکہ


تیرے پاس کچھ مال جمع ہوجائے (اورنکاح سے پہلے طلبِ علم کی ضرورت اس لئے ہے) کیونکہ اہل وعیال کی کثرت دل کی تشویش کاباعث بنتی ہے اور جب تیرے پاس بقدرِ ضرورت مال جمع ہوجائے تونکاح کرلینا اوراپنی بیوی کے ساتھ اسی طرح زندگی بسر کرنا جس طرح میں  نے تجھے بتایا ہے ۔

{32}… خوفِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ   اورتقویٰ،امانتوں   کی ادائیگی اور عوام وخواص کی خیر خواہی کو اپنے اوپر لازم کرلینا۔

 حسنِ معاشرت کی نصیحت:

{33}… لوگو ں   کو اپنے سے کمتر اور حقیر نہ جاننا بلکہ ان کی عزّتِ نفس کالحاظ رکھنا اور ان سے زیادہ میل جول بھی نہ رکھنااورجو لوگ خود تجھ سے میل جول رکھناچاہیں   ان کو دینی مسائل سے آگاہ کرناتاکہ ان میں   سے علم کا ذوق رکھنے والا طلبِ علم میں   مشغول ہو جائے اور جو علم سے دلچسپی نہیں   رکھتا وہ ناراض ہوئے بغیرتجھ سے دور ہو جائے۔

مسئلہ بیان کرنے میں   احتیاط کرنا:

{34} عوامُ النا س کو دینی باتیں   علمِ کلام کے انداز میں  نہ بیان کرناکیونکہ لوگ تمہاری تقلید کریں   گے اور علمِ کلام میں   مشغول ہوجائیں   گے۔

{35}… جب کوئی تجھ سے مسئلہ دریافت کرنے آئے تو اسے صرف اس کے سوال


 کا جواب دینا اور اس میں   ایسی زیادتی نہ کرناجو اسے اصل جواب سمجھنے میں   دشواری پیدا کرے۔

حصولِ علم پراستقامت کی نصیحت:

{36}… اگر تم خوراک اور کسب ِ معاش کے بغیر دس سال بھی زندہ رہ سکو تب بھی علمِ دین سے دُوری اختیار نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے علمِ دین سے منہ موڑا تو تمہاری معیشت تنگ ہوجائے گی ۔جیسا کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا فر مانِ عبرت نشان ہے:

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا (پ ۱۶،طٰہٰ:۱۲۴)ترجمۂ کنز الایمان: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لئے تنگ زندگانی ہے ۔

طَلَبہ کی خیرخواہی کی نصیحت:

{37}…جولوگ تجھ سے علمِ فقہ حاصل کریں   ان پر پوری تو جہ دینا اوران سب کے ساتھ بیٹوں   جیساسلوک کرنا تا کہ ان کی علم میں   رغبت مزید بڑھے۔

جھگڑالوں   سے نہ اُلجھنا:

{38}… اگر کوئی بازاری یا عام شخص تجھ سے جھگڑا کرے تو ان سے نہ جھگڑنابلکہ عفوودرگزرسے کام لیناکیونکہ اگرتو ان سے جھگڑاکرے گا تو لوگوں   کی نظروں   میں   تیری عزت کم ہو جائے گی۔


بیانِ حق میں  نڈرہونے کی نصیحت:

{39}…حق بیان کرنے میں   کسی کے رُعب میں   نہ آنا اگر چہ بادشاہ ہی کیوں   نہ ہو۔

{40}…اپنے آپ کو دیگر لوگوں   سے زیادہ عبادت میں   مشغول رکھناکیونکہ جب عام لوگ تجھے اپنی عبادات سے زیادہ نیکیوں   پر متو جہ ہوتا نہ پائیں   گے تو وہ تیرے بارے میں   برا گمان کریں   گے اور سمجھیں   گے کہ عبادت میں   تیری دلچسپی کم ہے ۔ نیزوہ یہ گمان کریں   گے کہ تیرے علم نے تجھے اتناہی نفع دیا جتنا نفع اُنہیں   اُن کی جہالت نے دیا۔

اہل علم کاادب کرنا:

{41}… جب تو اہلِ علم کے شہر میں   داخل ہو تواپنے علم کو (جاہ ومنصب کے) لئے مت اختیارکرنابلکہ وہاں   ایک عام شہری کی طرح رہنا تاکہ وہ جان لیں  کہ تیرا مقصد اُن کی عظمت وبزرگی کو لوگوں   کی نظر میں   کم کرنا نہیں   ورنہ وہ سب کے سب تیرے مقابلے میں   آجائیں   گے اور تیرے مذہب پرطعن کریں   گے اور عام لوگ بھی تیرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں   گے اور تجھے(تیز)نظروں   سے دیکھیں   گے اور تو ان کے نزدیک خواہ مخواہ ذلیل ہوجائے گا ۔

علماء سے گفتگوکے آداب:

{42}… (اہلِ علم کی موجودگی میں  ) فتویٰ نہ دینا اگر چہ وہ تجھ سے مسائل میں   فتویٰ


 طلب کریں   اورنہ ہی ان سے بحث ومباحثہ کرنا ۔

{43}…ان  اہلِ علم کے سامنے بغیرکسی واضح دلیل کے کوئی بات بیان نہ کرنا ۔

کسی کے بڑوں  کو براکہنے سے بچنا:

{44}…اہلِ علم کے اسا تذہ کو برا بھلا نہ کہنا ورنہ وہ تجھے لعن طعن کریں   گے۔ جیسا کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں   ارشاد فرماتاہے:’’ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕ- (پ۷،الانعام:۱۰۸)ترجمۂ کنز الایمان: اور انہیں   گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں   کہ وہ اللہ کی شان میں   بے ادبی کرینگے زیادتی اورجہالت سے۔‘‘([3])

{45}… لوگو ں   سے محتاط رہنا (یعنی کسی سے دھوکانہ کھانا )۔


ظاہروباطن ایک رکھنا:

{46}…تو جس طرح لوگوں   کے سامنے رہے ان کی غیرموجودگی میں   بھی اسی طرح رہاکرنا کیونکہ تیرا علمی معاملہ اس وقت تک صحیح نہیں   ہوسکتا جب تک تو اپنے ظاہر وباطن کو ایک نہ کر لے۔

عہدہ قضاء قبول کرنے یا نہ کرنے کی نصیحت:

{47}… جب بادشاہ تمہیں   کسی ایسے کام کی ذمہ داری سونپے جو تم کر سکتے ہو تو

اسے اس وقت تک قبول نہ کرنا جب تک اس بات کایقین نہ ہوجائے کہ اگر تم اس کام کی ذمہ داری قبول نہیں   کروگے تو کوئی نااہل قبول کرلے گا جس سے لوگوں   کو نقصان پہنچے گا اوراس کے ساتھ ساتھ اس بات کابھی یقین ہو کہ تمہیں   وہ عہدہ تمہاری علمی قابلیت کی وجہ سے دیا جا رہا ہے۔

مناظرے کے متعلق نصیحت :

{48}…مجلسِ مناظرہ میں   خوف او رگھبراہٹ کے ساتھ گفتگو کرنے سے بچنا کہ یہ دل میں   خلل پیدا کرتا ہے اور زبان بولنے سے رُک جاتی ہے۔

مُردہ دِلی کے اسباب:

{49}…زیادہ ہنسنے سے بچنا کہ اس سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔


{50}…عورتوں   کے ساتھ زیادہ بات چیت کرنے اور ان کی ہم نشینی اختیار کرنے سے بچنا کہ یہ بھی دل کے مردہ ہونے کاسبب ہے ۔

چلنے اور گفتگو کرنے کے آداب:

{51}…ہمیشہ وقار او ر سکون کے ساتھ چلنا اوراپنے کاموں   میں   جلدبازی نہ کرنا۔

{52}… جوتجھے پیچھے سے پکارے اسے جواب نہ دینا کہ جانوروں   کو پیچھے سے آواز دی جاتی ہے ۔

{53}…دورانِ گفتگواس بات کا خیال رکھنا کہ نہ تیری آواز ضرورت سے زیادہ بلندہو اورنہ گفتگومیں   چیخ وپکار ہو۔

{54} اطمینان وسکون کو اختیار کر نا کہ لوگو ں   پر تیری عظمت ثابت ہو۔

ذکراللہ عَزَّوَجَلَّ  کی کثرت:

 {55}…جب تو لوگوں   کے درمیان بیٹھے تو ذکر ِالٰہیعَزَّوَجَلَّ  کی کثرت کر تاکہ اُن کی بھی یہ عادت بنے۔

اَوْرَاد و وظائف کی تلقین:

{56}…نمازوں   کے بعد اپنے اوراد ووظائف کے لئے مخصوص اوقات مقر ر کر لو جس میں  تم قرآنِ حکیم کی تلاوت اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا ذکر کیا کرو اور اس کی عطا کردہ


نعمتوں   بالخصوص صبر کی توفیق پراس کاشکر اداکیا کرو۔

روزے رکھنے کی نصیحت:

{57}…ہرمہینے میں  چند دن مخصوص کرکے ان میں  روزے رکھا کرو تاکہ دوسرے لوگ بھی اس میں   تمہاری پیروی کریں   اور اپنے لئے اتنی عبادت پر راضی نہ ہونا جتنی پر عام لوگ راضی ہو جاتے ہیں   ۔

محا سبۂ نفس:

{58}… اپنے نفس کی نگرانی کرو اور دوسروں   کی بھی نگرانی کرو تاکہ وہ تمہاری دُنیا وآخرت اور تمہارے علم سے نفع حاصل کریں   ۔

خریدوفروخت کی احتیاطیں  :

{59}… بذات ِ خود خرید وفروخت نہ کرو بلکہ کسی خیرخواہ کو مقر ر کرلو جو تمہارے سارے کام انجام دے اور تم اپنے معاملات میں  اس پر اعتماد کرو۔

{60}… اپنی دنیوی زندگی اورموجودہ اعمال سے مطمئن نہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ تم سے ان تمام اعمال کے متعلق پُوچھ گَچھ فرمائے گا۔

{61}…اَمْرَد    خُدَّام(جنہیں   دیکھ کر شہوت آئے) مت خریدنا۔

{62}…لوگوں   پر ظاہر نہ کرو کہ میں   بادشاہ کا قریبی ہوں    اگرچہ تمہیں   اس کاقرب


حاصل ہوکیونکہ ایسا کرنے سے وہ تمہارے پاس اپنی حاجات لائیں   گے تا کہ تم بادشاہ کے دربار میں   ان کی سفارش کروپھر اگر تم ان کی حاجات بادشاہ کے پاس لے گئے تو بادشاہ تمہاری بے عزتی کرے گا اور اگر نہ لے گئے تو تمہارا دعویٔ قرب تمہیں   لوگوں   کی نگاہ میں   عیب دار بنادے گا۔

عاجزی کی نصیحت:

{63}…اپنا شمار عام لوگو ں   میں   کرنا لیکن اپنے علمی مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھنا۔

{64}… برے کاموں   میں   ہرگزلوگوں   کے پیچھے نہ چلنا بلکہ اچھے کاموں   میں  ان کی پیروی کرنا۔

{65}…جب تو کسی کی برائی پر آگاہ ہو تو اس کی برائی کا ذکر دوسروں   کے سامنے نہ کرنابلکہ اس کے اندرخیرکا پہلو تلاش کرنا اور اس کا ذکر اسی خیر کے ساتھ کرنا۔ مگر دینی معاملات میں   لوگوں   کے سامنے اس کی برائی بیان کرنا تا کہ لوگ اس کی پیروی نہ کریں   اور اس سے بچیں   کیونکہ  سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں   کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، بِاذ ْنِ پروَردْگاردو عالَم کے مالک و مختارعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’فاجر کی برائیوں   کا ذکر کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔‘‘(المعجم الکبیر،الحدیث۱۰۱۰،ج۱۹، ص۴۱۸، دار احیاء التراث العربی بیروت)


معزّزلوگوں   کی اصلاح کاطریقہ:

{66}… جب تم کسی عزَّت ووجاہت والے شخص میں  دینی خرابی دیکھو تو اس کے جاہ ومرتبہ کالحاظ کئے بغیر اس کی اصلاح کرو، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ضرور تمہارا اور اپنے دین کا مددگار ہو گا اور جب تم نے ایک بار بھی ایسا کر دیا تولوگ تجھ سے ڈریں   گے اور پھر کوئی بھی تمہارے سامنے اور تمہارے شہر میں  بد عت ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرے گا اور ایسے شخص پرعوام کو مسلَّط کر دو تاکہ لوگ دینی جد وجہد میں   تمہاری اتباع کریں  ۔

بادشاہ کی اصلاح کاطریقہ:

{67}… جب تم بادشاہ کے اندر کوئی خلافِ شرع بات دیکھو تو اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے اس برائی کا ذکر کر دوکیونکہ اس کی طاقت وقوت تم سے زیادہ ہے ، اس سے یوں   کہو کہ جن باتوں   میں   آپ کو مجھ پر اقتدار واختیار حاصل ہے میں   ان میں   آپ کا فرمانبردار ہوں   لیکن آپ کے کردار میں   کچھ ایسی چیزیں   دیکھ رہا ہوں   جو شریعت کے موافق نہیں  ۔ اوریہ یاد رہے کہ ایک مرتبہ نصیحت کردینا ہی کافی ہے، بار باربادشاہ کو نصیحت کروگے تو اس کے درباری تمہارا اثر ورسوخ ختم کر دیں   گے جس کی وجہ سے دین کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایک یا دومرتبہ نصیحت کردو تاکہ لوگ تمہاری دینی جدوجہداو ر نیکی کی دعوت کے جذبے کوجان لیں  ۔ اس کے بعداگر بادشاہ دوبارہ کسی


برائی کا ارتکاب کرے تواس کے گھر میں  تنہائی میں   اسے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی ترغیب دواو ر اگر وہ بد عتی ہو تو اس سے مناظرہ کرو اور قرآنِ حکیم کی آیاتِ بیِّنات، فرامینِ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں   سے جس قدر تمہیں   یاد ہو اسے بیان کرکے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرو، اگر وہ حق بات قبول کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ بارگاہِ خداوندیعَزَّوَجَلَّ  میں   عرض کروکہ وہ تمہیں   ظالموں   کے ظلم سے محفوظ رکھے۔

موت کوبکثرت یادکرنے کی نصیحت:

{68} …موت کو کثرت سے یاد کرنا، اپنے اساتذہ اور اُن تمام بزرگوں   کے لئے دعا ئے مغفرت کرنا جن سے تم نے علمِ دین حاصل کیا ۔

{69}…اور پابندی سے  قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے رہنا ۔

{70} …قبرستان ، علماء ومشائخ اور مقد س مقامات کی زیارت کثرت سے کرنا۔

خوابوں   کی تصدیق کرنے کی نصیحت :

{71}… عام لوگ مساجد ، متبر ک مقامات اور قبر ستا ن وغیرہ میں   حضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صالحینِ امت رَحِمَہُم اللہُ تَعَالٰی کی زیارت کے متعلق جو خواب تم سے بیان کریں   انہیں   تسلیم کر لینا۔


بری صحبت سے بچنا:

{72}… خواہشات ِنفسانیہ کی پیروی کرنے والوں   کے پاس نہ بیٹھنا، ہاں  ! دین اور صراطِ مستقیم کی دعوت دینے کی خاطران کے ساتھ بیٹھنے میں   حرج نہیں  ۔

{73} …گالم گلوچ اورکسی پرلعنت بھیجنے سے اجتناب کرنا۔

مسجدجانے میں   جلدی کرنا:

{74} …جب مؤذن اذان دے تواس کے بعد جلدی مسجد میں   حاضری کی کوشش کرنا،تاکہ عام لوگ تجھ پر سبقت نہ لے جائیں   ۔

{75}… بادشاہ کے پڑو س میں   گھر نہ بنانا۔

{76}…اگر تو اپنے پڑوسی میں   کوئی عیب دیکھے تواس کی پردہ پوشی کرکہ یہ تیرے پاس امانت ہے اور لوگو ں   کے راز ظاہرکرنے سے بچ۔

مشورہ دینے کے آداب:

{77}… جب کوئی شخص تم سے مشورہ طلب کرے تو اسے اس بات کامشورہ دو جس کے متعلق تمہیں   علم ہوکہ یہ تمہیں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے قریب کردے گی۔ اور میری اس نصیحت کو قبول کرلو، اِنْ شَاءَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  دنیا وآخرت میں   نفع پاؤ گے ۔

{78}…اور بخل سے بچ کہ اس سے انسان ناپسندیدہ ورُسوا ہو جاتا ہے۔


بامُرُوَّت رہنے کی نصیحت:

{79}… لالچی، جھوٹا اور معاملات کو گڈمڈ کرنے والا نہ بننابلکہ تمام امور میں   اپنی مروت کو محفو ظ رکھنا۔

{80}…اپنے تمام احوال میں  سفید لباس ہی پہننا۔

اظہارِ غناواخفاء فقر کی تلقین:

{81}… دل کے غنی بن جاؤ، اپنے آپ کو دنیا میں   کم رغبت رکھنے والا اور مال ودولت کی لالچ نہ کرنے والا ظاہر کرواورخود کو ہمیشہ غنی ظاہرکرو اور محتاجی وتنگدستی کے باوجود اس کا اظہار نہ کرو۔

{82}…باہمت وحوصلہ مندبن کے رہنا کہ پست ہمت کی قدر ومنزلت کم ہو جاتی ہے۔

{83}…راستے میں  چلتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بجائے ہمیشہ نگاہیں   نیچی رکھنا۔

 حمام میں   جانے کی احتیاطیں  :

{84}…جب حمام میں  جاناہو تووہاں   نہ عام لوگوں   کے ساتھ بیٹھنا اورنہ ہی حمام کی اُجرت میں   عام لوگوں   کی برابری کرنا بلکہ ان سے بڑھ کر اجرت دینا تا کہ لوگو ں   میں   تمہاری مروت ظاہر ہو اور وہ تمہاری عزت کریں  ۔


کام کاج کے لئے نوکررکھنے کی ترغیب:

{85}… اپنا مال جولاہا(یعنی کپڑا بُننے والے) اور مختلف کام کرنے والوں   کے حوالے خود نہ کرنا بلکہ اس کام کے لئے کوئی ایسا باا عتماد شخص رکھنا جو یہ کام کرے۔

ٹیکس نہ لینے کی نصیحت :

{86}…اناج اوردرہم ودینار پرلوگو ں   سے ٹیکس نہ لینا۔

 {87}…دراہم کا وزن خود نہ کرنابلکہ اس کے لئے کسی بااعتمادشخص کا انتخاب کرنا۔

{88}اہلِ علم کے نزدیک ذلیل وحقیر دنیا کو تم بھی حقیر جاننا کیونکہ جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے۔

  {89} تمام معاملات کسی بااعتمادشخص کے سپر د کردینا تاکہ تم مکمل طور پر علمِ دین کی طرف متوجہ ہو سکو، اس سے تمہارے جاہ وجلال کی حفاظت رہے گی۔

 علمی گفتگوکرنے کے لئے افراد کاانتخاب:

{90} بے وقوفوں   سے بات نہ کرنا، مناظرہ کے طریقہ اور دلیل کے سلیقہ سے ناواقف اہلِ علم سے بھی کلام نہ کرنا اور عزّت وشہرت کے لئے مسائلِ شرعیہ میں   بحث کرنے والوں  سے بھی گفتگونہ کرنا کیونکہ ان کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ تمہیں   ذلیل ورُسوا کریں   اوروہ تمہاری کوئی پرواہ نہ کریں   گے اگرچہ جانتے ہوں   کہ تم حق پر ہو۔


 بزرگوں   کی بارگاہ کے آداب:

{91}…بزرگوں  کے پاس جاؤتو اس وقت تک برتری نہ چاہنا جب تک کہ وہ خود تمہیں   برتری نہ دیں   تاکہ تمہیں   ان سے کوئی پریشانی نہ پہنچے ۔

{92}… جب تم کچھ لوگوں   کے ساتھ ہو تو جب تک وہ تمہیں   بطورِ تعظیم آگے نہ کریں   اس وقت تک ان کی امامت نہ کرانا۔

 {93}…حمام جاناہوتو دوپہریا صبح کے وقت میں  جانااور سیرو تفریح کے مقامات کی طرف نہ جانا۔

 {94}…بادشاہوں   کے ظلم کی جگہوں   پر ان کے پاس اس وقت تک جانے سے گُریزکرنا جب تک تمہیں   یقین نہ ہوجائے کہ تمہاری حق بات مان کر وہ لوگوں   پر ظلم وستم سے باز آ جائیں   گے اس لئے کہ اگرتمہاری موجودگی میں   بادشاہوں  نے کسی ناجائزوحرام کام کاارتکاب کیااور تم طاقت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں   اس ناجائزفعل سے نہ روک سکے تولوگ تمہاری خاموشی کی وجہ سے اس فعلِ ناحق کو حق سمجھ لیں   گے۔

{95}…علمی محفل میں   غصہ کرنے سے بچنا۔

{96}…لوگوں   کے سامنے قصے کہا نیاں   بیان نہ کرناکیونکہ قصہ گوضرور جھوٹ بولتا ہے۔


 علمی محافل کے آداب واحتیاطیں  :

 {97}…جب تم کسی صاحب ِ علم کی محفل میں   شرکت کا ارادہ کرو تودیکھ لو اگر وہ فقہ کی محفل ہو تو اس میں   شرکت کر لو اورجو علم حاصل کرو وہ لوگوں   کے سامنے بیان کردو اور اگر وہ عام واعظ ہو تواس کی محفل میں   شرکت نہ کرو تاکہ تمہاری وجہ سے لو گ دھو کے میں  نہ پڑیں   اور اس شخص کے متعلق یہ نہ سمجھیں   کہ یہ علم کے اعلیٰ درجہ پرفائزہے حالانکہ حقیقت میں   ایسا نہیں   ہو گا اور اگر وہ فتویٰ دینے کی صلاحیت رکھتاہو تو لوگو ں   کو اس کے متعلق بتاؤ اور اگر اس کی صلاحیت نہ رکھتاہو تواس کی محفل میں  نہ بیٹھنا کہ وہ تمہارے سامنے درس دے بلکہ وہاں  اپنے کسی قابلِ اعتماددوست کوبھیج دیناجو اس کے کلام کی کیفیت اور علمی مقام کے متعلق تمہیں   خبر دے سکے۔

{98}…ایسوں   کی محفل وعظ وذکر میں   نہ جانا جو تمہارے جاہ ومرتبہ اور تزکیہ کے ذریعے اپنی شہرت چاہتے ہوں  بلکہ اپنے محلہ کے کسی بااعتماد عام آدمی کو اپنے کسی شاگرد کے ساتھ بھیج دینا۔

{99}…خطبۂ نکاح،نمازِجنازہ وعیدین پڑھانے کی ذمہ داری اپنے علاقے کے کسی خطیب کے سپر د کردینا،مجھے اپنی نیک دعاؤں   میں  یاد رکھنا اور میری یہ نصیحتیں   قبول


کرلینا، بلاشبہ یہ تمہاری اور تمام مسلمانوں   کی اصلاح کے لئے ہیں  ۔ (الأشباہ والنظائر، وصیۃ الامام اعظم لأبی یوسف رحمہما اللّٰہ تعالٰی، ص۳۶۷ تا ۳۷۲، دار الکتب العلمیۃ بیروت۔مناقب الامام الاعظم للموفق، الجزء الثانی، وصیۃ الامام اعظم لأبی یوسف رحمہما اللّٰہ تعالٰی، ص۱۱۳تا۱۱۹، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ)

(۲)…حضرتِ  یوسف بن خالد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو نصیحتیں 

             حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن خالد سمتی بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے تکمیلِ علم  کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنے شہربصرہ جانے کی اجازت طلب کی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’کچھ دن ٹھہروتاکہ میں  تمہیں   ان  ضروری امورکے متعلق وصیت کرو ں   کہ لوگوں   کے ساتھ معاملات کرنے، اہلِ علم کے مراتب پہچاننے ، نفس کی اصلاح اور لوگو ں   کی نگہبانی کر نے ، عوام وخواص کو دوست رکھنے اور عام لوگوں   کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے جن کی ضرورت پڑتی ہے یہاں   تک کہ جب تم علم حاصل کرکے جاؤ تو وہ وصیت تمہارے ساتھ ایسے آلہ کی طرح ہوجس کی علم کو ضرورت ہوتی ہے اور وہ علم کو مزین کرے اور اسے عیب دار ہو نے سے بچائے۔‘‘

{1}…یادرکھو!اگر تم لوگو ں   کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں   گے اگرچہ تمہارے ماں   باپ ہی کیوں   نہ ہوں  ۔


{2}…جب تم لوگوں   کے ساتھ اچھا برتاؤکروگے تو وہ تمہارے ماں   باپ کی طرح ہو جائیں   گے اگرچہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہ ہو۔

                (حضرتِ سیِّدُنایوسف بن خالدبصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  :)’’پھرحضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھ سے فرمایا: ’’کچھ دن صبر کرو یہاں   تک کہ میں   تمہارے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکالوں  اوراپنی توجہ کو تمہاری طرف مبذول کر لوں  اور تمہیں   ایسے عمدہ کاموں   کی پہچان کرا دو ں  جس کی وجہ سے تم دِلی طورپرمیرے شکر گزار رہو اورنیکی کرنے کی توفیق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی کی طرف سے ہے۔‘‘ جب وعدے کی مدت پوری ہوگئی تو حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظمرضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا اور ارشاد فرمایا:

{4}…آج میں   تمہارے سامنے ان حقائق سے پردہ اٹھاؤں   گا جنہیں   بیان کرنے کا میں   نے قصد کیا تھا گویا میں   دیکھ رہا ہوں   جب تم بصرہ میں  داخل ہو کر ہمارے مخالفین کا رُخ کرو گے، ان پر اپنی بر تر ی جتا ؤ گے، اپنے علم کے سبب ان کے سامنے غروروتکبر کروگے، اُن سے ملنا جلنا ، اٹھنابیٹھنا تر ک کردو گے۔ تم ان کی مخالفت کروگے اوروہ تمہاری مخالفت کریں   گے،تم انہیں   چھوڑ دو گے اور وہ تمہیں   چھوڑ دیں  گے، تم انہیں   برا بھلا کہوگے اور وہ تمہیں   کہیں   گے، تم انہیں   گمراہ کہو گے اوروہ  تمہیں   کہیں   گے اوراس


سے میری اورتمہاری رُسوائی ہوگی۔ پس تم اُن سے دوری اختیار کرنے اور بھاگنے پر مجبور ہوجاؤ گے۔ مگر یہ درست رائے نہیں   کیونکہ وہ عقل مند نہیں   جو ان لوگوں   سے تعلقات قائم نہ کر سکے جن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہو یہاں  تک کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اس کے لئے کوئی راہ نکال دے۔

{5}…جب تم بصرہ میں   داخل ہوگے تو لوگ تمہارے استقبال اور تمہاری زیارت کو آئیں   گے، تمہارا حق پہچانیں   گے توتم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا، شُرَفاء کی عزت اوراہلِ علم کی تعظیم وتوقیر کرنا ، بڑوں   کاادب واحترام اور چھوٹوں  سے پیارومحبت کرنا، عام لوگو ں   سے تعلق قائم کرنا،فاسق وفاجر کو ذلیل ورُسوا نہ کرنا، اچھے لوگوں   کی صحبت اختیار کرنا، سلطان کی اہانت کرنے سے بچنا، کسی کوبھی حقیر نہ سمجھنا، اپنے اخلاق و عادات میں  کوتاہی نہ کرنا، کسی پر اپنا راز ظاہر نہ کرنا، بغیر آزمائے کسی کی صحبت پر بھروسہ نہ کرنا، کسی ذلیل وگھٹیاشخص کی تعریف نہ کرنااورکسی ایسی چیزسے محبت نہ کرنا جوتمہارے ظاہری حال کے خلاف ہو۔

جاہلوں   سے اعراض کی نصیحت:

{6}…بے وقوف اورجاہل لوگوں  سے بے تکلفی سے مت پیش آنا، ان کی کوئی دعوت یا ہدیہ قبول نہ کرنا اور ہرکام استقامت وہمیشگی سے کرنا۔


{7}…غم خواری، صبر،بردباری، حسنِ اخلاق اور وسعتِ قلبی کو اپنے لئے لازم کر لینا،نمازمیں  عمدہ لباس زیبِ تن کرنا،سواری کے لئے اچھاجانور رکھنااورخوشبو بکثرت استعمال کرنا،اپنی خلوت کے لئے کچھ وقت نکالنا جس میں   اپنی ذاتی ضروریات پوری کر سکو ۔

{8}…اپنے خدام کی خبر گیری کرتے رہنا، ان کی تادیب وتربیت کاخصوصی اہتمام کرنا، اس معاملے میں  ان سے نرمی برتنا اور بے جاسختی نہ کرنا کہ وہ ڈھیٹ ہو جائیں  ، انہیں   خود سزا نہ دینا تاکہ تمہارا وقار برقرار رہے ، نماز کی پابندی کرنا اورغریبوں   فقیروں   پر صدقہ وخیرات کرتے رہنا کیونکہ بخیل شخص کبھی سردار نہیں   بن سکتا۔

{9}…تمہارے پاس ایک قابلِ اعتماد شخص ہونا چاہئے جو تمہیں   لوگوں   کے احوال سے آگا ہ کرتا رہے،جب تم کسی کی برائی پر مطلع ہو جاؤ توا س کی اصلاح کی جلدکوئی تدبیرکرنا اور جب کسی کی خوبی سے آگاہی ہو تو اس کی طرف زیادہ توجہ اور رغبت کرنا، اس سے بھی ملتے رہو جو تم سے ملے اور جو نہ ملے اس سے بھی ملتے رہو۔جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کے ساتھ بھی بھلائی کرو اور جو برائی سے پیش آئے اس کے ساتھ بھی اچھائی سے پیش آؤ، عفوودرگزرکی عادت اپناؤ اور نیکی کاحکم دیتے رہو، فضول کاموں   سے دور رہو،جوتمہیں   ایذا پہنچائے اسے معاف کردواور لوگوں   کے حقوق کی ادائیگی میں  جلدی کرو۔


{10}…تمہارا مسلمان بھائی بیمار ہوجائے تواس کی عیادت کے لئے جانااور خادمین کے ذریعے اس کی خبر گیری بھی کرتے رہنا اور جو تمہاری محفل میں   حاضر نہ ہوسکے اس

کے حالات کاپتہ لگاتے رہنا، اگر کوئی تمہارے پاس آنا چھوڑ دے توتم پھر بھی اس کے پاس جانا نہ چھوڑنا بلکہ اس سے ملاقات کرتے رہنا،جو تمہارے ساتھ بے رُخی سے پیش آئے تم اس سے صلہ رحمی سے پیش آنا، جو تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرنا، جو برائی سے پیش آئے اسے معاف کردینا،جوتمہاری برائی بیان کرے تم  اس کی خوبیاں   بیان کرنااوران میں  سے کوئی وفات پا جائے تو اس کے حقوق پورے پورے ادا کرنا اور کسی کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اسے مبارک باددینا، اورکوئی مصیبت پہنچے تو غم خواری  کرنا اور اگرکسی کو کوئی آفت پہنچے تواس سے ہمدردی کرنا، اگرکوئی تمہارے پاس اپنی حاجت لائے تواس کی حاجت براری کرنا، کوئی فریاد کرے تو فریا درسی کرنا،کوئی مددکے لئے پکارے توحسب ِ استطاعت اس کی مدد کرنا اور لوگوں   کے ساتھ خوب محبت سے پیش آنا، سلام کوعام کرنا اگر چہ گھٹیا لوگوں   کو کرنا پڑے۔ جب تمہاری لوگوں   کے ساتھ کوئی محفل قائم ہوجائے یا تم کسی محفل میں   ان سے ملو اور مسائل میں  بحث شروع کر دیں   اور ان کی رائے تمہارے مؤقف کے خلاف ہو تو ان کے سامنے اپنا مؤقف ظاہر نہ کرنا،  پھر اگرتم سے ان مسائل کے متعلق سوال کیا جائے تو پہلے لوگو ں   کو وہ مسلک بتا نا جسے وہ پہلے سے جانتے ہوں  ، پھر کہنا کہ اس مسئلہ میں   دوسرا قول بھی ہے اور وہ یہ ہے اوراس کی دلیل یہ


ہے۔ پس اگر وہ تم سے اس کا حل سنیں   گے تو وہ تمہاری قدرومنزلت جانیں  گے۔

{11}… اپنے پاس ہر آنے جانے والے کو ایک ایسامسئلہ بتادینا جس میں   وہ غور وفکر کرتا رہے اور لوگو ں   کو پیچیدہ مسائل میں   الجھانے کے بجائے آسان عام فہم مسائل بتانا، ان سے محبت سے پیش آنااور کبھی کبھی خوش طبعی بھی کرلیاکرنا،ان سے بات چیت بھی کرتے رہنا اس سے محبت بھی بڑھے گی اور علم کے حصو ل پر استقامت بھی رہے گی اور کبھی کبھی انہیں  کھانا بھی کھلا دیاکرنا اوران کی خطاؤں   کونظرانداز کردینا۔

{12}…لوگوں   کی جائز حاجات پوری کرتے رہنا، ان سے نرمی برتنا اوردرگزر کرنا، کسی کے لئے تنگ دِلی اور بیزاری ظاہر نہ کرنا، ان کے ساتھ اس طر ح گُھل مل جانا گویا تم انہی میں   سے ہو اور عام لوگو ں   سے ایسامعاملہ کرناجیسااپنے لئے پسند کرتے ہو اور لوگو ں   کے لئے وہی چیز پسند کرنا جو اپنے لئے کرتے ہو، اپنے نفس پر قابو پانے کے لئے اسے خامیوں   سے بچانا اور اس کے احوال کی نگہداشت کرتے رہنا،فتنہ و فساد انگیزی نہ کرنا،جو تم سے نارا ض ہو جائے تم اس سے بیزار نہ ہونااورجو تمہاری بات پوری تو جہ سے سنے تم بھی اس کی بات غور سے سننا۔

{13}…لوگ تمہیں   جس کام کی تکلیف نہ دیں   تم بھی انہیں   اس کام کی تکلیف نہ دو اور وہ اپنے لئے جس حالت پر راضی ہوں   تم بھی ان کے لئے اس حالت پر راضی ہو جا ؤ ۔

{14}…لوگوں   کے متعلق حسنِ نیت کو مقدم رکھنا، سچائی اختیار کرنا اور تکبر کو ایک


 طرف پھینک دینا، دھوکا دہی سے بچنا اگر چہ وہ تمہیں   دھوکا دیں  ، لوگو ں   کی امانتیں   پوری پوری ادا کرنا اگرچہ وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں  ،وعدہ وفائی اوردوستی کو پورا کرنا، تقویٰ اختیار کرنا اوردیگر مذاہب کے لوگوں   سے ان کے مذہب کے مطابق سلوک کرنا۔

(آخر میں   حضرتِ سیِّدُنا اما م اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:)

{15}…اگر تم میری اس وصیت کو مضبوطی سے تھام لوگے تو میں   تمہاری سلامتی کی امیدرکھتاہوں  ۔‘‘پھر فرمایا:’’تمہاری جدائی مجھے غم زدہ کر دے گی، تمہاری پہچان مجھے تنہائی میں   اُنس دیتی تھی،اب بذریعۂ خط وکتابت مجھ سے رابطہ برقراررکھنا۔تم ایسے ہو جاؤ گویا تم میرے بیٹے اورمیں   تمہارا باپ۔‘‘ (مناقبِ امامِ اعظم، الجزء الثانی، شروع فی الوصیۃ لیوسف بن خالد السمتی رضی اللّٰہ عنہ، ص۱۰۶تا۱۰۹)

(۳)… حضرتِ حماد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکونصیحتیں 

                (حضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُناحمادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَّاد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:)اے میرے بیٹے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے ہدایت دے اور تیری مدد فرمائے۔ میں   تجھے چندباتوں   کی نصیحت کرتا ہوں  ، اگر تم نے انہیں   یاد رکھا اوران پر عمل کیا تو مجھے اُمید ہے کہ دُنیا وآخرت میں   سعا دت مند رہو گے۔( اِنْ شَآءاللّٰہعَزَّوَجَلَّ)

{1}… پہلی بات یہ ہے کہ ’’تقویٰ یوں   اختیار کرناکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے


 ہوئے اپنے اعضاء کو گناہوں   سے بچانا اور خالصتاً اس کی بندگی کرتے ہوئے اس کے احکام پر پوری طرح کار بند رہنا۔

{2}…جس چیز کے جاننے کی تمہیں   ضرورت ہواس کے جاننے سے جاہل نہ رہنا۔

{3}…اپنی کسی دینی یادنیوی حاجت کے بغیر کسی سے تعلقات قائم نہ کرنا۔

{4}…اپنی ذات سے دوسروں   کو انصاف دلانااور بغیر مجبوری کے کسی سے اپنی ذات کے لئے انصاف کامطالبہ نہ کرنا۔    {5}…کسی مسلمان یا ذمی([4]) سے دشمنی نہ کرنا ۔

{6}…اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی عطا کردہ مال وعزت پر قناعت اختیار کرنا۔

{7}…اپنے پاس موجود مال میں   حسنِ تدبیر(یعنی کفایت شعاری)سے کام لینا اور لوگوں   سے بے نیاز ہوجانا۔

{8}…اپنے اوپر لوگوں   کی نظر کو کم تر خیال نہ کرنا۔

{9}…فضول فکروں   سے اپنے آپ کو بچانا۔

{10}… لوگو ں   سے ملاقات کرتے وقت سلام میں   پہل کرنا، خوش اخلاقی سے گفتگو کرنا،اچھے لوگوں  سے اظہارِ محبت کرتے ہوئے ملاقات کرنا اور بُروں  سے بھی نرمی کا برتاؤ کرنا۔

{11}…ذکراللہعَزَّوَجَلَّاوردرودوسلام کی کثر ت کرنا۔


دعائے سیِّدُالاستغفاراوراس کی فضیلت:

{12}…دعائے سیِّدالاستغفار میں   مشغول رہنا اوروہ یہ ہے:

            ’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْ ءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَّی وَاَبُوْ ءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔‘‘

                یعنی اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!توہی میرارب ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ، تونے مجھے پیدا فرمایااورمیں   تیرابندہ ہوں   اور جہاں   تک ہوسکا تیرے عہد وپیمان پر قائم ہوں  ، اپنے گناہوں   کے شرسے تیری پناہ مانگتاہوں  ، تیری عطا کردہ نعمتوں   کا اقرار کرتا ہوں   اور اپنی خطاؤں   کا اعتراف کرتا ہوں  ۔ میری مغفر ت فرما، گناہوں   کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں  ۔

            اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت پڑھے پھر اسی رات مر جائے تو جنت میں   جائے گا اور صبح کو پڑھے پھراسی دن مر جائے توجنت میں   داخل ہو گا۔ (صحیح البخاری،کتاب الدعوات، باب مایقول اذا اصبح، الحدیث ۶۳۲۳،ص۵۳۲)

مصیبت سے بچنے کا وظیفہ:

            حضرتِ سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا گیا: ’’ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا گھر جل گیاہے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’اُن کلمات کی برکت سے نہیں   جل سکتا جو میں   نے نبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سُنے


 ہیں  ۔ چنانچہ،(آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشا د فرمایا:) جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے گاتو شام تک اسے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور جو شام کے وقت پڑھے گا تو صبح تک اسے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور وہ کلمات یہ ہیں  :

                 ’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، مَا شَآءَاللّٰہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَآءُ لَمْ یَکُنْ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، وَاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ  ذِیْ شَرٍّ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَۃٍ، اَنْتَ اٰخِذٌ م بِنَاصِیَتِھَا، اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔‘‘

                ترجمہ:اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! توہی میرا رب ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،میں   نے تجھی پربھروسا کیا اور تو ہی عرشِ عظیم کا مالک ہے، جواللّٰہعَزَّوَجَلَّنے چاہا وہ ہوا اورجونہ چاہاوہ نہ ہوا، نیکی کی قوت اورگناہ سے بچنے کی قدرت اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے ہی ہے جو بلند رتبہ وعظمت والا ہے۔ میں   جانتاہوں   کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّسب کچھ کر سکتا ہے اور اس کا علم ہرشے کومحیط ہے۔ اے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! میں  اپنے نفس کے شر سے، ہر شریر کے شر سے اور ہر اس چوپائے کے شر سے تیری پناہ مانگتاہوں   جس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں   ہے۔ بے شک اللّٰہعَزَّوَجَلَّہی سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔ (عمل الیوم واللیلۃ لابن السُّنِّی، مایقول اذا اصبح، الحدیث۵۷، ص۲۷، دار الکتاب العربی بیروت)


{13}… روزانہ پابندی کے ساتھ قرآنِ مجید، فرقانِ حمید کی تلاوت کرنااور اس کا ثواب حضورنبی ٔکریم، رء ُوف رحیم  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم،اپنے والدین،اساتذۂ کرام اور تمام مسلمانوں   کو پہنچانا۔

{14}…اپنے دشمنوں   سے زیادہ دوستو ں   کے شرسے بچنا اس لئے کہ لوگوں   کی عادات میں   بکثرت خرابیاں   واقع ہوگئی ہیں  ، اب تمہارے دشمن تمہارے دوستو ں   کے ذریعے سے ہی تمہیں   نقصان پہنچاسکتے ہیں  ۔

{15}…اپنا راز، مال ودولت،(اختلافِ رائے کی صورت میں  ) اپنا مؤقف اور آنے جانے کے اوقات کو لوگوں   سے پوشیدہ رکھنا۔

{16}…اپنے پڑوسیوں   کے ساتھ بھلائی کرنااور ان کی تکالیف پر صبر کرنا۔

{17}…مذہب ِ مہذَّب اہلسنّت وجماعت پرمضبوطی سے کاربند رہنا، جاہلوں  ا ور بدمذہبوں   کی صحبت سے اجتناب کرنا۔

{18}…اپنے تمام معاملات میں   نیت اچھی رکھنا ا ور ہر حال میں   رزقِ حلال کے لئے کوشاں   رہنا۔

پانچ لاکھ میں   سے پانچ احادیث کا انتخاب :

{19}…اِن پانچ فرامینِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر عمل کرنا جنہیں   میں   نے پانچ لاکھ احادیث میں  سے منتخب کیاہے۔


(۱)…اعمال کادار ومدار نیتو ں   پر ہے اور ہرایک کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحیالخ، الحدیث۱،ص۱، دارالسلام للنشر والتوزیع الریاض)

(۲)… انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتیں   چھوڑ دے ۔ (جامع الترمذی، ابواب الزہد،باب من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ، الحدیث۲۳۱۷، ص۱۸۸۵، دار السلام للنشر والتوزیع الریاض)

(۳)…تممیں  سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں   ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی چیزپسندنہ کرے جو اپنے لئے کرتاہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ، الحدیث۱۳،ص۳)

(۴)…بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں   کے درمیان مشتبہ چیزیں   ہیں   جن کے متعلق بہت سے لوگ نہیں   جانتے۔ جو مشتبہ چیزوں   سے بچا اس نے اپنی عزت اور اپنا دین بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں   میں  پڑا وہ حرام میں   مبتلا ہوا۔ وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو چراگاہ کے قریب اپنا ریوڑ چراتا ہے، اس کے چراگاہ میں   چلے جانے کا اندیشہ ہے۔سن لو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں  ۔ خبردار! جسم میں   گوشت کا ایک لوتھڑاہے، جب وہ


سنورجائے توسارا جسم سنورجاتاہے اورجب وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور وہ (لوتھڑا) دل ہے۔‘‘(صحیح البخا ری،کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث۵۲،ص۶)

(۵)…مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں  ۔ (صحیح البخا ری،کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، الحدیث۱۰،ص۳)

{20}…تندرستی کی حالت میں   خوف و امیدکے درمیان رہنا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر حسنِ ظن رکھتے ہوئے مرنا، اور قلبِ سلیم کے ساتھ اُمید ِمغفرت کاغلبہ ہو، بے شک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔

(۴)… نوح بن ابی مریم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو نصیحتیں 

عہدۂ قضاء کے متعلق نصیحتیں  :

            حضرتِ سیِّدُنانوح بن ابی مریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : ’’میں   حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے احادیث کے معانی پوچھا کرتا تھاتوآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اچھی طرح ان کی وضاحت فرما دیتے تھے۔اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پیچیدہ مسائل بھی دریافت کیا کرتا تھا اور میرے سوالا ت عام طورپر قضا اور احکام کے


متعلق ہوتے تھے۔ ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’اے نوح! تم قضاء کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے۔‘‘ چنانچہ،اپنے شہر ’’مَرْو‘‘ لوٹنے کے چنددن بعد قضاء کی ذمہ داری میرے کندھوں   پرڈال دی گئی۔ اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حیات تھے۔ میں   نے خط کے ذریعے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس بات سے آگاہ کیا او ر (مجبوراًعہدہ قبول کرنے کا) عذر بھی لکھا جس کے جواب میں   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے خط لکھا،اس میں  فرمایا:

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کامکتوب

ابو حنیفہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی طرف سے ابو عصمہ(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)  کے نام:

{1}…تمہارا خط مجھے موصول ہوا اور اس میں   درج تمام باتوں  سے آگاہی ہوئی۔ (یاد رکھو!) تمہیں  ایک بہت بھاری ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کو پورا کرنے سے بڑے بڑے لوگ عا جزآجاتے ہیں  ۔اس وقت تمہاری حالت ایک ڈوبتے شخص کی مانند ہے، لہٰذا اپنے نفس کے لئے نکلنے کا راستہ تلاش کرو اور تقویٰ کواپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ تمام امور کو درست رکھتا اور آخرت میں   نجات پانے اور ہر مصیبت سے چھٹکارا پانے کا وسیلہ ہے اور اس کے ذریعے تم اچھے انجام کو پا لوگے۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمارے تمام کاموں   کا انجام اچھا فرمائے اورہمیں   اپنی رضاوالے کاموں   کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) بلاشبہ وہ سننے والا، قریب ہے۔


{2}…اے ابوعصمہ! یادرکھو! فیصلوں  کے ابواب بہت بڑا عالم ہی جان سکتا ہے جو علم کے اصول یعنی قرآن وحدیث اور فرامینِ صحابہ علیہم الرضوان پر اچھی نظررکھتاہو اور صاحب ِبصیر ت(یعنی صحیح رائے والا) ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی احکام نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ جب تمہیں   کسی مسئلہ میں   اشکال پیدا ہو تو قرآن وسنت اور اجماع کی طر ف رجوع کرنا اگراس کا حل ان اصول(یعنی کتاب وسنت اور اجماع) میں   واضح طور پر مل جائے تو اس پر عمل کرنا اور اگر صراحۃً نہ ملے تو اس کی نظائرتلاش کرکے ان پر اصول سے استدلال کرنا۔ پھراس رائے پر عمل کرنا جو اصول کے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مشابہ ہو۔اور اس کے متعلق اہلِ علم اور صاحبِ بصیرت لوگوں   سے مشورہ بھی کرتے رہنا۔اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان میں  ایسے لوگ بھی ہوں   گے جو فقہ میں  ایسی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں  گے جو تم نہیں   رکھتے۔

{3}…اے ابوعصمہ! جب دونوں   مخالف فریق(یعنی مُدَّعِی او رمُدَّعا علیہ) فیصلہ کرانے تمہاری عدالت میں   حاضر ہوں   تو کمزور اور طاقت ور ، شریف او ر ذلیل کو اپنی مجلس میں   بٹھانے، ان کی بات سننے اوران سے بات چیت کرنے میں  یکساں   سلوک کرنا اور تمہاری طر ف سے کوئی ایسی بات نہ ظاہرہوکہ شریف آدمی ناحق ہونے کے باوجوداپنی شرافت کے بَل بَوتے پر تم سے اُمید لگا بیٹھے اور ذلیل اپنے گھٹیاپَن کی وجہ سے


حق پرہونے کے باوجود حق کے معاملے میں   تم سے مایوس ہو جائے۔

{4}…اے ابوعصمہ ! جب دونوں   فریق بیٹھ جائیں   توانہیں  اطمینان و سکون سے بیٹھنے دیناتاکہ ان سے خوف اور (عدالت میں   آنے کی) شرمندگی دور ہو جائے۔ پھران کے ساتھ نرمی وہمدردی کے لہجے میں  بات چیت کرتے ہوئے انہیں  اپنی بات سمجھانا اور ان میں   سے ہرایک کی بات پوری توجہ سے سننا۔ جوکچھ وہ کہنا چاہتے ہوں   کہنے دینا اور جب تک وہ اپنا اپنا مؤقف نہ بیان کر لیں  اس وقت تک فیصلہ کرنے میں   جلدی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ فضول بحث میں   پڑیں   تو انہیں   اس سے روک دینا اور انہیں   سمجھا دینا (کہ اس بات کا اصل معاملے سے کوئی تعلق نہیں  )  اور بیزاری،غصہ یارنج وغم کی حالت میں   اور پیشاب اور بھوک کی شدت کے و قت بھی کوئی فیصلہ نہ کرنا۔

{5}…اس وقت فیصلہ نہ کرنا جب تمہارا دل کسی اور چیز میں   مشغول ہوبلکہ ایسے وقت فیصلہ کرنا جب تمہارا دل دیگر فکروں   سے خالی ہو۔

{6}… رشتہ دارو ں   میں   جدائی کا فیصلہ کرنے میں  جلدی نہ کرنا بلکہ انہیں   باربار اکٹھے بٹھانا (اوران کے معاملے کوسلجھانا) شاید! وہ آپس میں  صلح کر لیں  ۔ پھر اگر وہ صلح کر لیتے ہیں   تو ٹھیک ہے ورنہ ان کے درمیان فیصلہ کر دینا۔ اور کسی کے خلاف اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک پوری طرح وہ چیزیں   واضح نہ ہوجائیں   جو اس پر الزام ثابت کرتی ہوں  ۔


{7}…کسی گواہ کو (کسی دلیل کی) تلقین نہ کرنا،نہ مجلسِ قضاء میں   کسی کو کوئی اشارہ کرنا اور نہ ہی قضاء کے امور اپنے کسی قرابت دار کے سپرد کرنا۔

{8}… کسی کی دعوت قبول نہ کرناورنہ تجھے تہمت لگے گی۔

{9}…عدالت میں   کسی سے (غیر ضروری)بات چیت نہ کرنا۔

{10}…خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کو ہرچیز پر فوقیت دیناکہ یہ بات تمہیں   دنیا وآخرت کے معاملات میں   کافی ہوگی اور اس کی برکت سے غلط فیصلہ کرنے سے سلامتی نصیب ہو گی۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں   اور تمہیں   پاکیزہ زندگی اورآخرت میں  باعزت مقام عطا فرمائے ۔ (اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)

                 (مناقبِ امامِ اعظم، الجزء الثانی، کتاب الامام الٰی ابی عصمۃ نوح بن ابی مریم رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ ، ص۱۱۰۔۱۱۱)

٭٭٭٭٭٭

اکابر تلامذہ کو نصیحتیں 

            حضرتِ سیِّدُناامام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بیان فرماتے ہیں  : ’’ایک دن بارش ہورہی تھی، ہم سب حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس حاضر تھے۔


 حاضرین میں   حضرتِ داؤد طائی،حضرتِ عا فیہ اودی، حضرتِ قاسم بن معن مسعودی، حضرتِ حفص بن غیاث نخعی، حضرتِ وکیع بن جراح، حضرتِ مالک بن مغول،حضرتِ زفر بن ہُذَیل رَحِمَہُم اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  وغیرہ شامل تھے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہماری طرف متو جہ ہوئے اور فرمایا:

{1}…تمہیں   دیکھ کر میرا دل خوش ہوتا اور غم دُورہوتے ہیں  ۔ میں  نے تمہارے لئے فقہ کو زِین اور لگام دی ہے کہ جب چاہو سواری کرو اور تمہاری ایسی علمی وعملی تربیت کی ہے کہ لوگ تمہاری پیروی کریں   گے، تمہارے الفا ظ تلاش کریں   گے۔میں   نے لوگو ں   کی گردنیں   تمہارے آگے جھکا دی ہیں  ۔ تم میں   سے ہرایک قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دس توایسے ہیں   کہ وہ قاضیوں   کی رہنمائی کر سکتے ہیں  ۔ میں  تمہیں   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اس کی عطاکردہ علمی جلالت کا واسطہ دیتا ہوں  کہ علمِ دین کو دُنیوی حکومت اورمال ودولت کے حصول کاذریعہ بناکراس کی قدر وقیمت کو کم نہ کردینا۔

قاضیوں   کے لئے ہدایات:

{2}…اگر تم میں  سے کسی پر قضاء کی ذمہ داری آن پڑے اوراپنے اندر کوئی ایسی خامی پا ئے جسے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے لوگو ں   سے چھپا رکھا ہو تو اس کا قاضی بننا اور اِس کی تنخواہ لینا جائزنہیں   اوراگر تم میں   سے کسی کو ضرو رتاً قاضی بنناپڑے تو اپنے اور لوگوں  کے درمیان


حجاب (یعنی رکاوٹیں   )حائل نہ کرے۔پانچو ں   نمازیں   جامع مسجد میں   ادا کرے اور ہر نماز کے بعد یہ اعلان کرے:’’کسی کو کوئی حاجت ہو تو مجھ سے ملاقات کرے۔‘‘ قاضی کوچاہئے کہ نمازِعشا ء کے بعدبھی تین مرتبہ یہی صدا لگائے پھر اپنے گھر جائے۔

{3}…اگرکوئی قاضی بیماری کی وجہ سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرسکے تو حساب لگاکر اپنی تنخواہ سے اتنے دن کی کٹوتی کروائے۔

{4}…اگرامام نے خیانت کی یافیصلہ کرنے میں   ظلم وزیادتی کا مرتکب ہوا تو اس کی امامت باطل(یعنی ختم) ہو جائے گی اور اس کا فیصلہ کرنا جائز نہ ہو گا۔ اور اگروہ اعلانیہ گناہ کا مرتکب ہو تواس سے قریب ترین قاضی اس پر حد جاری کرے۔

٭٭٭٭٭٭

تَمَّتْ بِالْخَیْر

 

 

 

 

 

 



1۔۔۔ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا نام یعقوب ہے مگراپنی کنیت ابویوسف سے مشہور ہیں  ۔علمیہ

1۔۔۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا ؔخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن’’مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد فِیْ حُقُوْقِ الْاَوْلَاد‘‘ میں   فرماتے ہیں  : ’’(دورانِ جماع)زیادہ باتیں   نہ کرے کہ (اولادکے)گونگے یا توتلے ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ج۲۴، ص۴۵۲، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

1۔۔۔ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدر الافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیتفسیرخزائن العرفانمیں   اس آیت ِمبارکہ کی تفسیر میں   فرماتے ہیں  :’’ قتادہ کا قول ہے کہ مسلمان کفار کے بتوں   کی برائی کیا کرتے تھے تاکہ کفار کو نصیحت ہو اور وہ بت پرٍستی کے عیب سے باخبر ہوں  مگر ان ناخدا شناس جاہلوں  نے بجائے پندپذیر ہونے کے شانِ الٰہی  (عَزَّوَجَلَّ )  میں   بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اگرچہ بتوں   کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت وثواب ہے لیکن اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ ) اور اس کے رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی شان میں   کفار کی بد گوئیوں   کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا۔ ابنِ انباری کا قول ہے یہ حکم اوّل زمانہ میں   تھا جب اللّٰہ تعالیٰ نے اسلام کو قوت عطا فرمائی منسوخ ہو گیا۔‘‘

[4] ۔۔۔ ذمی اس کافر کوکہتے ہیں   جس کے جان ومال کی حفاظت کا بادشاہ اِسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیا ہو ۔ (فتاوی فیض الرسول،ج۱،ص۵۰۱)صدرُ الشریعہ،بدرُالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  :’’ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں  کے کفارذمی نہیں  ، انہیں   صدقاتِ نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا  ناجائز ہے۔‘‘ (بہارِشریعت ، ج۱، حصہ۵ ، ص۹۳۱)