اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
شیطٰن لاکھ روکے یہ رِسالہ(18صفحات)مکمَّل پڑھ لیجئے ،
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے فوائد خود ہی دیکھ لیں گے۔
سرکارِنامدار،مدینے کے تاجدار،حبیبِ پرْوَردگار،شفیعِ روزِ شُمار،جنا بِ احمد مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشادِ نور بار ہے : ’’تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُودِ پاک پڑھنا بروزِقِیامت تمہارے لئے نور ہو گا۔‘‘(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطیص۲۸۰حدیث۴۵۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم،نُورِ مجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدو قبروں کے پاس سے
گزرے(توغیب کی خبر دیتے ہوئے) فرمایا : یہ دونوں قَبْر والے عذاب دیئے جارہے ہیں اور کسی بڑی چیزمیں (جس سے بچنا دشوار ہو) عذاب نہیں دیئے جارہے بلکہ ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چُغل خوری کیا کرتا تھا پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کھجور کی تازہ ٹہنی منگوائی اوراسے آدھوں آدھ چِیرا اور ہر ایک کیقَبْر پر ایک ایک حصّہ گاڑ دیا اور فرمایا :جب تک یہ خشک نہ ہوں تب تک ان دونوں کے عذاب میں تَخفِیف ہوگی۔(سُنَنِ نَسائی ص۱۳حدیث۳۱، صَحیح بُخاری ج۱ص۹۵حدیث۲۱۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭اِستنجا خانے میںجِنّات اور شیاطین رہتے ہیں اگر جانے سے پہلے بِسْمِ اللہِ پڑھ لی جائے تو اِس کی بَرَکت سے وہ سِتْر دیکھ نہیںسکتے۔ حدیثِ پاک میں ہے: جنّ کی آنکھوں اورلوگوں کے سِتْرکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب پاخانے کو جائے تو بِسْمِ اللہِ کہہ لے۔([1])یعنی جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ کیلئے آڑ بنتے ہیں ایسے ہی یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر جنّات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنّات اس کو دیکھ نہ سکیں گے۔([2])٭ اِستنجا خانے میں داخِل ہونے سے پہلے بِسْمِ اللہِ پڑھ لیجئے بلکہ بہتر ہے کہ یہ دُعا پڑھ
لیجئے:( اول و آخِر درود شریف)بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
یعنیاللہ کے نام سے شروع، یا اللہ! میں ناپاک جِنّوں (نرومادہ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔(کِتابُ الدّعاء لِلطّبَرانی حدیث۳۵۷ص۱۳۲)
٭پھر پہلے الٹا قدم اِستنجا خانے میں رکھ کر داخِل ہوں٭ سر ڈھانپ کر استنجا کریں٭ ننگے سر اِستِنجاخانے میں داخِل ہونا ممنوع ہی٭ جب پیشاب کرنے یا قضائے حاجت کے لئے بیٹھیں تو منہ اور پیٹھ دونوں میں سے کوئی بھی قِبلہ کی طرف نہ ہو اگر بھول کرقِبلہ کی طرف مُنہ یاپُشت کرکے بیٹھ گئے تو یاد آتے ہی فوراً قبلہ کی طرف سے اس طرح رُخ بدل دے کہ کم از کم45 ڈگری سے باہر ہو جائے اس میں اُمّید ہے کہ فوراً اس کے لئے مغفِرت و بخشش فرمادی جائی٭ بچّوں کو بھی قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کراکے پیشاب یا پاخانہ نہ کرائیں ،اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ گنہگار ہوگا٭جب تک قضائے حاجت کے لئے بیٹھنے کے قریب نہ ہو کپڑا بدن سے نہ ہٹائے اور نہ ہی ضرورت سے زیادہ بدن کھولے ٭ پھر دونوں پائوں ذرا کُشادہ(یعنی کُھلے) کرکے بائیں( یعنی الٹے) پائوں پر زور دے کر بیٹھے کہ اِس طرح بڑی آنت کا مُنہ کُھلتا ہے اور اِجابت آسانی سے ہوتی ہی٭ کسی دینی مسئلے پر غور نہ کرے کہ محرومی کا باعث ہے ٭ اس وَقت چھینک٭ سلام یا اذان کا جواب زبان سے نہ دے ٭ اگرخود چھینکے تو زَبان سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ نہ کہے ، دل
میں کہہ لی٭ بات چیت نہ کرے ٭ اپنی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھی٭ اُس نَجاست کونہ دیکھے جو بدن سے نکلی ہے ٭خوامخواہ دیر تک اِستِنجا خانے میں نہ بیٹھے کہ بواسیر ہونے کا اندیشہ ہے ٭ پیشاب میں نہ تھوکے، نہ ناک صاف کرے، نہ بِلاضَرورت کھنکارے، نہ بار بار اِدھر اُدھر دیکھے، نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے ،بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہی٭ قضائے حاجت سے فارِغ ہونے کے بعد پہلے پیشاب کامقام دھوئے پھر پاخانے کا مقام ٭ پانی سے اِستِنجا کرنے کا مُستَحَب طریقہ یہ ہے کہ ذرا کُشادہ (یعنی کُھلا) ہو کر بیٹھے اور سیدھے ہاتھ سے آہِستہ آہِستہ پانی ڈالے اور اُلٹے ہاتھ کی انگلیوں کے پیٹ سے نَجاست کے مقام کو دھوئے اُنگلیوں کا سِرا نہ لگے اور پہلے بیچ کی اُنگلی اونچی رکھے پھر اس کے برابر والی اِس کے بعد چھوٹی انگلی کو اُونچی رکھے،لوٹا اُونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں، سیدھے ہاتھ سے اِستنجا کرنا مکروہ ہے اور دھونے میں مُبالَغہ کرے یعنی سانس کا دباؤنیچے کی جانِب ڈالے یہاں تک کہ اچّھی طرح نَجاست کا مَقام دُھل جائے یعنی اس طرح کہ چِکنائی کا اثر باقی نہ رہے اگر روزہ دار ہو تو پھر مُبالَغہ نہ کرے ٭طہارت حاصِل ہونے کے بعد ہاتھ بھی پاک ہوگئے لیکن بعد میں صابُن وغیرہ سے بھی دھولے([3])٭ جب اِستِنجا خانے سے نکلے تو پہلے سیدھاقدم باہَر نکالے اور باہر نکلنے کے بعد
(اوّل آخر درود شریف کے ساتھ )یہ دُعا پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَا فَانِیْ
یعنی اللہ تَعَالٰی کا شکر ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو دور کیا اور مجھے عافیت (راحت) بخشی ۔(سُنَن ابن ماجہ ج۱ص۱۹۳حدیث۳۰۱)
بہتر یہ ہے کہ ساتھ میں یہ دُعا بھی ملا لے اِس طرح دو حدیثوں پر عمل ہو جائیگا : غُفْرَانَکترجمہ : میں اللہ عَزَّوَجَلَّسے مغفِرت کا سُوال کرتا ہوں۔ (سُنَنِ تِرمِذی ج۱ص۸۷حدیث۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭زمزم شریف سے استنجا کرنا مکروہ ہے اور ڈَھیلا نہ لیا ہو تو ناجائز۔(بہارِ شریعت ج۱ص۴۱۳) ٭وُضو کے بقیہ پانی سے طہارت کرنا خلافِ اَولیٰ ہے۔(اَیْضاً) ٭طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں، بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہیے اِسراف میں داخل ہے۔ (اَیْضاً)
اگرخدانخواستہ آپ کے گھر کے اِستنجا خانے کا رُخ غَلَط ہے یعنی بیٹھتے وَقت قِبلہ کی طرف مُنہ یا پیٹھ ہوتی ہے تو اِس کو دُرُست کرنے کی فوراً ترکیب کیجئے ۔ مگر یہ ذِہن میں
رہے کہ معمولی سا تِرچھا کرنا کافی نہیں۔ W.C. اِس طرح ہو کہ بیٹھتے وَقت مُنہ یا پیٹھ قِبلہ سے 45ڈگری کے باہَر رہے۔ آسانی اِسی میں ہے کہ قِبلہ سے 90ڈگری پر رُخ رکھئے۔ یعنی نَماز کے بعد دونوںبار سلام پھیرنے میں جس طرف منہ کر تے ہیں ان دونوں سَمتوں میں سے کسی ایک جانِب W.C.کا رُخ رکھئے۔
پانی سے استِنجا کرتے وقت عُمُوماً پاؤں کے ٹخنوں کی طرف چھینٹے آ جاتے ہیں لہٰذا اِحتیاط اِسی میں ہے کہ بعدِ فراغت قدموں کے وہ حصّے دھو کر پاک کرلئے جائیں مگر یہ خیال رہے کہ دھونے کے دَوران اپنے کپڑوں یا دیگر چیزوں پر چھینٹے نہ پڑیں۔
رَحمت والے آقا ، دو جہاں کے داتا،شافِعِ روزِ جزا،مکّی مَدَنی مصطَفٰے، محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شفقت نشان ہے : تم میں سے کوئی شخص سُوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ (سُنَنِ نَسائی ص۱۴حدیث۳۴)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : جُحْر سے مُراد یا زمین کا سُوراخ ہے یا دیوار کی پَھٹَن(یعنی دراڑ)، چُونکہ اکثر سوراخوں میں زہریلے جانور(یا) چِیونٹیاں وغیرہ کمزور جانور یا جنّات رہتے ہیں ، چِیوُنٹیاں پیشاب
یا پانی سے تکلیف پائیں گی یا سانپ وجِنّ نِکل کر ہمیں تکلیف دیں گے، اس لیے وہاں پیشاب کرنا منع فرمایا گیا ۔ چُنانچِہ(حضرتِ سیِّدُنا) سعد ابنِ عُبادَہ انصاری(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی وفات اسی سے ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک سُوراخ میں پیشاب کیا ،جنّ نے نکل کر آپ کو شہید کر دیا ۔ لوگوں نے اُس سُوراخ سے یہ آواز سُنی: نَحنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ وَ رَمَیْنَاہُ بِسَہْمٍ فَلَمْ نُخْطِ فُؤَادَہ ترجمہ: یعنی ہم نے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کوشہید کردیا اورہم نے (ایسا) تیرمارا جو ان کے دل سے آر پار ہوگیا۔( مِراٰۃ ج ۱ص ۲۶۷، مِرقاۃ ج۲ص۷۲، واَشِعۃُ اللَّمعاتج۱ص۲۲۰)اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: کوئی غُسل خانے میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں نہائے یا وُضو کرے کہ اکثر وَسوسے اس سے ہوتے ہیں۔(ابوداوٗدج۱ص۴۴حدیث ۲۷) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :اگر غسل خانے کی زمین پختہ ہو، اور اس میں پانی خارِج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حَرَج نہیں اگر چِہ بہتر ہے کہ نہ کرے، لیکن اگر زمین کچّی ہو، اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت بُرا
ہے کہ زمین نَجس ہو جائے گی ، اور غسل یا وُضُو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔ یہاں دوسری صورت ہی مُراد ہے اِس لیے تاکیدی مُمانَعَت فرمائی گئی ، یعنی اس سے وَسوسوں اور وَہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تجرِبہ ہے یا گندی چِھینٹیں پڑنے کا وَسوَسہ رہے گا۔ (مِراٰۃ ج۱ص۲۶۶)
٭آگے پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استِنجا(اِس۔تِن۔جا) کرنا سنّت ہے اور اگر صِرف پانی ہی سے طہارت کر لی تو بھی جائز ہے ، مگرمُستَحَب یہ کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طَہارت کرے ٭ آگے اور پیچھے سے پیشاب ،پاخانے کے سوا کوئی اور نَجاست ، مَثَلاًخون، پیپ وغیرہ نکلے، یا اس جگہ خارِج سے نَجاست لگ جائے توبھی ڈَھیلے سے صاف کر لینے سے طہارت ہو جائے گی، جب کہ اس مَوضع(یعنی جگہ ) سے باہَر نہ ہو مگر دھو ڈالنامُستَحَب ہے ٭ڈَھیلوں کی کوئی تعداد مُعَیَّن (یعنی مقرَّرہ تعداد) سنّت نہیں، بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے، تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنّت ادا ہوگئی اور اگر تین ڈَھیلے لیے اور صفائی نہ ہوئی سنّت ادا نہ ہوئی، البتّہمُستَحَب یہ ہے کہ طاق (مَثَلاً ایک،تین ،پانچ ) ہوں اور کم سے کم تین ہوں تو اگر ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے، اور اگر چار سے صفائی ہو توایک اور لے، کہ طاق ہو جائیں ٭ڈَھیلوں سے طہارت اُس وَقت ہو گی کہ نَجاست سے مَخرج(یعنی خارج ہونے کی جگہ )کے آس پاس کی جگہ ایک دِرہم([4])
سے زِیادہ آلودہ نہ ہو اور اگر دِرہم سے زِیادہ سَن جائے تودھونا فرض ہے ،مگر ڈَھیلے لینا اب بھی سنّت رہے گا ۔٭کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا ، یہ سب ڈَھیلے کے حکم میںہیں ،ان سے بھی صاف کر لینا بلا کراہت جائز ہے(بہتر یہ ہے کہ پھٹا کپڑا یا درزی کی بے قیمت کترن سوتی (COTTON) ہوتاکہ جلد جذب کر لے ) ٭ ہڈّی اور کھانے اور گوبر اور پکّی اینٹ اور ٹھیکری اور شیشہ اور کوئلے اور جانور کے چارے سے اور ایسی چیز سے جس کی کچھ قیمت ہو، اگرچِہ ایک آدھ پیسہ سہی ،ان چیزوں سے اِستِنجا کرنا مکروہ ہی٭ کاغذ سے اِستِنجا منع ہے ، اگرچِہ اُس پر کچھ لکھا نہ ہو، یا ابو جہل ایسے کافِر کا نام لکھا ہو٭.دہنے.(یعنی سیدھے). ہاتھ سے اِستِنجاکرنا مکروہ ہے،اگر کسی کا بایاں ہاتھ بیکار ہو گیا، تو اسے دہنے (یعنی یدھے) ہاتھ سے جائز ٭ جس ڈَھیلے سے ایک باراِستِنجاکر لیا اسے دوبارہ کام میں لانا مکروہ ہے، مگر دوسری کروٹ اس کی صاف ہو تو اس سے کر سکتے ہیں ٭ مرد کے لئے پیچھے کے مقام کے لیے ڈھیلوں کے استعمال کا طر یقہ یہ ہے کہ گرمی کے موسِم میں پہلا ڈَھیلا آ گے سے پیچھے کو لے جائیں، دوسرا پیچھے سے آگے کو اورتیسرا آگے سے پیچھے کو،سردیوں میں پہلا ڈھیلا پیچھے سے آگے، دوسر ا آگے سے پیچھے کو اور تیسرا پیچھے سے آگے کو لے جائیں۔٭ پاک ڈھیلے دا ہنی .( یعنی سیدھی ) جانب رکھنا اور بعدکام میں لانے کے، بائیں.(الٹے ہاتھ کی ) طرف ڈال دینا، اس طرح پر کہ جس رُخ میں نَجاست لگی ہو نیچے ہو،مُستَحَب ہے۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۴۱۰ تا۴۱۲، عالمگیری ج۱ ص ۴۸۔۵۰) ٭ ٹائلٹ پَیپر کے استِعمال کی عُلَماء نے اجازت
دی ہے کیوں کہ یہ اِسی مقصد کیلئے بنایا گیا ہے اور لکھنے میں کام نہیں آتا ۔ البتّہ بہتر مِٹّی کا ڈَھیلا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابِق مِٹّی میں نَوشادَر ( AMMONIUM CHLORIDE) نیز بدبُودُور کرنے والے بہترین اَجزا موجود ہیں۔ پیشاب اور فُضلہ جَراثیم سے لبریز ہوتا ہے ، اِس کا جسمِ انسانی پر لگنا نقصان دِہ ہے ۔ اِس کے اَجزا بدن پرچپکے رَہ جا نے کی صورت میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ’’ ڈاکٹر ہلوک ‘‘ لکھتا ہے: اِستِنجا کے مِٹّی کے ڈَھیلے نے سائنسی دنیا کو وَرطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے ۔ مِٹّی کے تمام اَجزاء جراثیم کے قاتل ہوتے ہیں لہٰذا مِٹّی کے ڈَھیلے کے استِعمال سے پردے کی جگہ پر موجود جراثیم کا خاتِمہ ہو جاتا ہے بلکہ اِس کا استِعمال ’’ پردے کی جگہ کے کینسر‘‘ (CANCER OF PENIS) سے بچاتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سنّت کے مطابق قضائے حاجت کرنے میں آخِرت کی سعادت اور دنیا میں بیماریوں سے حفاظت ہے۔ کفّار بھی اسلامی اطوار کا خواہی نہ خواہی اقرار کر ہی لیتے ہیں۔ اِس کی جھلک اِس حکایت میں مُلاحَظہ فرمایئے:چنانچِہ فِزیالوجی کے ایک سینئر پروفیسر کا بیان ہے : میں اُن دنوںمَراکش میں تھا، مجھے بخار آگیا ،
دوا کیلئے ایک غیر مسلِم بڈھے گھاگ ڈاکٹر کے پاس پہنچا ، اُس نے پوچھا : کیا مسلمان ہو؟ میں نے کہا: ہاں مسلمان ہوں اور پاکستانی ہوں۔ یہ سُن کر کہنے لگا: اگر تمہارے پاکستان میں ایک طریقہ جو خود تمہارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بتایا ہوا ہے زندہ ہو جائے تو پاکستانی بَہُت سارے امراض سے بچ جائیں! میں نے حیرت سے پوچھا: وہ کون سا طریقہ ہے؟ بولا: اگر قَضائے حاجت کیلئے اسلامی طریقے پر بیٹھا جائے تواپنڈے سائِٹس (APPENDICITIS) دائمی قبض ، بواسیر اور گردوں کے امراض نہیں ہوں گے!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً آپ بھی جاننا چاہیں گے کہ وہ کَرِشماتی طریقہ کون سا ہے تو سنئے!حضرتِ سیِّدُنا سُراقہ بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ہمیں تاجدارِ رسالت،سراپا عظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حکم دیا کہ ہم رَفعِ حاجت کے وقت بائیں (اُلٹے) پائوں پر وَزن دیں اور دایاں پائوں کھڑا رکھیں۔(مَجْمَعُ الزَّوائِد ج۱ص۴۸۸حدیث۱۰۲۰)
رَفعِ حاجت کے وَقت اُکڑوں بیٹھ کر دایاں ( سیدھا ) پائوں کھڑا یعنی اپنی اصلی حالت پر (NORMAL) رکھ کر بائیں یعنی الٹے پاؤں پر وزن دینے سے بڑی آنت جو کہ الٹی طرف ہوتی ہے اور اُسی میں فضلہ ہوتا ہے اُس کا مُنہ اچّھی طرح کھل جاتا اور
بآسانی فراغت ہوجاتی اور پیٹ اچّھی طرح صاف ہو جاتا ہے اور جب پیٹ صاف ہوجائے گاتو بَہُت ساری بیماریوں سے تحفُّظ حاصِل رہے گا۔
افسوس !آج کل اِستِنجاکیلئے کموڈ (COMMODE) عام ہوتا جا رہا ہے اِس پر کُرسی کی طرح بیٹھنے کے سبب ٹانگیں پوری طرح نہیںکھلتیں، اُکڑوں بیٹھنے کی ترکیب نہ ہونے کے سبب اُلٹے پائوں پر وَزن بھی نہیں دیا جاسکتا اور یوں آنتوں اور مِعدہ پر زور نہیں پڑتا اس لئے برابر فراغت نہیں ہو پاتی کچھ نہ کچھ فُضلہ آنت میں باقی رہ جاتا ہے جس سے آنتوں اورمِعدے کے مُتَعدِّد اَمراض پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ کموڈ کے استِعمال سے اعصابی تَنائو پیدا ہوتا ہے ، حاجت کے بعد پیشاب کے قطرات گرنے کے بھی خطرات رہتے ہیں۔
پردے کی جگہ کا کینسر
کرسی نُما کموڈ میں پانی سے استِنجا کرنا اور اپنے بدن اور کپڑوں کو پاک رکھنا ایک اَمرِدُشوار ہے۔ زیادہ تر اِس کیلئے ٹائلِٹ پیپرز کااستِعمال ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یورپ میں پردے کے حصّوں کے مُہْلِک(مُہْ۔لِک) امراض بالخصوص پردے کی جگہ کا کینسر تیزی سے پھیلنے کی خبریں اخبارات میں شائِع ہوئیں، تحقیقی بورڈ بیٹھا اور اُس نے نتیجہ یہ بیان کیا کہ ان امراض کے دو ہی اسباب سامنے آئے ہیں: (۱) ٹائلِٹ پیپر کا
استِعمال کرنا اور(۲) پانی کا استِعمال نہ کرنا
ٹائلِٹ پیپر بنانے میں بعض ایسے کیمیکل استِعمال ہوتے ہیں جو جِلد (چمڑی) کیلئے انتِہائی نقصانِ دہ ہیں۔ اس کے استِعمال سے جِلدی اَمراض پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ ایگزیما اور چمڑی کا رنگ تبدیل ہونا۔ ’’ڈاکٹر کینن ڈیوس ‘‘کا کہنا ہے:ٹائلِٹ پیپرز کا استِعمال کرنے والے ان چار امراض کے استِقبال کی تیّاری کریں: (۱) پردے کی جگہ کا کینسر (۲) بھگندر (ایک پھوڑا جو مَقعد کے آس پاس ہوتا یعنی بیٹھنے کی جگہ پر اور بہت تکلیف پہنچاتا ہے) (۳) جِلد اِنفیکشن(SKIN INFECTION) (۴)پھپھوندی کے اَمراض (VIRAL DISEASES)
اِطبّاء کا کہنا ہے کہ ٹائلِٹ پیپرسے صفائی برابر نہیں ہوتی لہٰذا جراثیم پھیلتے اور بدنِ انسانی کے اندر جا کر طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔ خُصُوصاً عورتوں کی پیشاب گاہ کے ذَرِیعے گُردوں میں داخِل ہو جاتے ہیںجس کے سبب بسا اوقات گُردوں سے پیپ آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ ہاں ٹائلِٹ پیپر کے استِعمال کے بعد اگر پانی سے اِستِنجا کر لیا جائے تو اس کا نقصان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔
کرسی نما کموڈ اور W.C.کا استِعمال شرعاً جائز ہے ۔سہولت کے لحاظ سے کموڈ
کے مقابلہ میں W.C.بہتر ہے جبکہ اتنا کُشادہ (یعنی چوڑا)ہو کہ اِس پر سنّت کے مطابِق بیٹھا جا سکے۔ لیکن آج کل چھوٹے W.C. لگائے جاتے ہیں اور ان میں کُشادہ ہو کر نہیں بیٹھا جا سکتا۔ ہاں اگر قدمچے یعنی پائوں رکھنے کی جگہ فرش کے ساتھ ہموار رکھی جائے تو حسبِ ضرورت کشادہ بیٹھا جا سکتا ہے۔ایک سُنّت نرم زمین پر رفَعِ حاجت کرنا بھی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں ہے: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنا چاہے تو پیشاب کیلئے نرم جگہ ڈھونڈے۔(اَلْجامِعُ الصَّغِیر ص۳۷حدیث۵۰۷)اِس کے فوائد کو تسلیم کرتے ہوئے لیول پاول (level poul)کہتا ہے : ’’ انسان کی بقا مٹّی اور فنا بھی مِٹّی ہے جب سے لوگوں نے نرم مِٹّی کی زمین پر قضائے حاجت کرنے کے بجائے سخت زمین (یعنی W.C.، کموڈ وغیرہ)کا استِعمال شروع کیا ہے اُس وَقت سے مَردوں میں جِنسی(مردانہ) کمزوری اور پتھری کے امراض میں اضافہ ہوگیا ہے! سخت زمین پر حاجت کرنے کے اثرات مثانے کے غُدود (PROSTATE GLANDS) پر بھی پڑتے ہیں ، پیشاب یافُضلہ جب نرم زمین پر گرتا ہے تو اس کے جراثیم اور تیزابِیّت فوراً جَذب ہو جاتے ہیں جبکہ سخت زمین چُونکہ جذب نہیں کر پاتی اس لئے تیزابی اور جراثیمی اثرات براہِ راست جسم پر حملہ آور ہوتے اور طرح طرح کے امراض کا باعِث بنتے ہیں۔
مدینے کے سلطان ، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شانِ عظمت
نشان پر قربان کہ جب قضائے حاجت کو تشریف لے جاتے تو اتنی دُور جاتے کہ کوئی نہ دیکھے۔(ابوداوٗد ج۱ص۳۵حدیث۲) یعنی یا تو درخت یا دیوار کے پیچھے بیٹھتے اور اگر چَٹیَل میدان ہوتا تو اتنی دُور تشریف لے جاتے جہاں کسی کی نگاہ نہ پڑ سکتی۔(مِراٰۃ ج۱ص ۲ ۲۶) یقینا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ہر فِعل میں دین ودنیا کی بے شُمار بھلائیاں پِنہاں ہوتی ہیں۔ پَیشاب کرنے کے بعد اگرہرفرد ایک لوٹا پانی بہادیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بدبو اور جَراثیم کی اَفزائش میں کمی ہوگی ،بَڑا پیشاب کرنے کے بعد بھی جہاں ایک آدھ لوٹا پانی کافی ہو وہاں فلش ٹینک سے پانی نہ بہا یا جائے کیوں کہ وہ کئی لوٹے پر مشتمل ہوتا ہے ۔
آج کل بِالخصوص شہروں میں بند کمرہ کے اندر ہی بیتُ الخلا ء (اٹیچ باتھ ATTACHED BATH)ہوتے ہیں ، جو کہ جراثیم کی نَشو ونُما اور ان کے ذَرِیعے پھیلنے والے اَمراض کے ذَرائِع ہیں۔ ایک بائیو کیمسڑی کے ماہر کاکہنا ہے: جب سے شہروں میں وُسعت ، آباد یوں کی کثرت اور کھیتوں کی قِلّت ہونے لگی ہے تب سے اَمراض کی خوب زِیادت ہونے لگی ہے۔ قضائے حاجت کیلئے جب سے دُور چل کر جانا ترک کیا ہے قبض ، گیس ، تبخیر اور جگر کی بیماریاںبڑھ گئی ہیں ۔ چلنے سے آنتوں کی حرکتوں میں تیزی آتی ہے جس کے سبب حاجت تسلّی بخش ہوجاتی ہے، آج کل بِغیر چلے(گھر ہی گھر میں) بیتُ الخلا میں داخِل ہو جانے کی وجہ سے بسا اوقات فراغت بھی تاخیر سے ہوتی ہے!
فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ’’مسلمان کی نیّت اسکے عمل سے بہتر ہے۔ ‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۶ص۱۸۵حدیث۵۹۴۲)
٭سر ڈھانپ کر ٭جانے میں الٹے پاؤںسے اور٭باہر نکلنے میں سیدھے پاؤں سے پہل کر کے اتّباعِ سنّت کروں گا٭دونوں باریعنی داخلے سے قبل اور نکلنے کے بعد مسنون دعائیں پڑھوں گا٭صرف اندھیرے کی صورت میں یہ نیّت کیجئے: طہارت پر مدد حاصِل کرنے کیلئے بتّی جلاؤں گا٭ فراغت کے فوراً بعد اسراف سے بچنے کی نیّت سے بتّی بُجھادوںگا ٭ حدیثِ پاک ’’ اَلطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَان‘‘(صَحیح مُسلِم ص۱۴۰حدیث۲۲۳) ترجَمہ :’’پاکی نصف ا یمان ہے ‘‘،پر عمل کرتے ہوئے پاؤں کو گندگی سے بچانے کیلئے چپّل پہنوں گا ٭ پہنتے ہوئے سیدھے قدم سے اور ٭اُتارتے ہوئے اُلٹے سے پہل کرکے اِتِّباعِ سنّت کروںگا ٭سِتْرکُھلا ہونے کی صورت میں اِستِقبالِ قبلہ (یعنی قبلہ کی طرف منہ کرنے ) اور اِستِدبارِ قبلہ ( یعنی قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے )سے بچوں گا٭زمین سے قریب ہوکر فَقَط حسبِ ضَرورت سِترکھولوں گا ٭اِسی طرح فراغت کے بعد اُٹھنے سے قبل ہی سِتر چُھپالوں گا٭جو کچھ خارِج ہوگااُس کی طرف نہیں دیکھوں گا ٭ پیشاب کیچِھینٹوںسے بچوں گا٭حیا سے سر جھُکائے رہوں گا ٭ ضَرورتاً آ نکھیں بند کرلوں گا اور٭بِلاضَرورت شرمگاہ کو دیکھنے اور چُھونے سے بچوں گا ٭اُلٹے ہاتھ
سے ڈَھیلاپکڑ کر اُلٹے ہی ہاتھ سے خشک کرکے اُلٹے ہاتھ کی طرف اُلٹا(یعنی نَجاست والا حصّہ زمین کی طرف )رکھوں گا پاک سیدھی طرف رکھوں گا مُستَحَب تعداد میں مَثَلاً تین ،پانچ ، سات ڈَھیلے استِعمال کروں گا ٭ پانی سے طہارت کرتے وَقت بھی صِرف اُلٹا ہاتھ شرمگاہ کو لگاؤں گا ٭ شرعی مسائل پر غور نہیں کروں گا (کہ باعثِ مَحرومی ہے ) ٭سِتْرکھلا ہونے کی صورت میں بات چیت نہیں کروں گا اور ٭پیشاب وغیرہ میں نہ تھوکوں گا نہ ہی اس میں ناک سِنکوں گا ٭اگر فوراً حمام ہی میں وُضو کرنا نہ ہوا تو طہارت والی حدیث پر عمل کرتے ہوئے دونوں ہاتھ دھوؤں گا نیز٭جو کچھ نکلا اُس کو بہادوں گا (پیشاب کرنے کے بعد اگرہرفرد ایک لوٹا پانی بہادیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بدبو اور جراثیم کی افزائش میں کمی ہوگی ، بڑا استِنجا کرنے کے بعد بھی جہاں ایک آدھ لوٹا پانی کافی ہو وہاں فلش ٹینک سے پانی نہ بہا یا جائے کیوں کہ وہ کئی لوٹے پر مشتمل ہوتا ہے ) ٭ پانی سے اِستِنجاکرنے کے بعد پاؤں کے ٹَخنوں والے حصّے اِحتیاط کے ساتھ دھولوںگا(کیوں کہ اس موقع پر عُموماً ٹخنوں کی طرف گندے پانی کے چھینٹے آجاتے ہیں) ٭فارغ ہوکر جلدی نکلوں گا ٭بے پردگی سے بچنے کیلئے بیت الخلا کا دروازہ بند کروں گا٭ مسلمانوں کو گِھن سے بچانے کیلئے بعدِ فراغت دروازہ بند کروں گا۔
عوامی اِستنجا خانے میں جاتے ہوئے یہ نیتیں بھی کیجئے
٭اگر لائن لمبی ہوئی تو صبرکے ساتھ اپنی باری کا انتظار کروں گا، کسی کی حق تلفی نہیں کروں گا ،بار بار دروازہ بجاکر اُس کو ایذاء نہیں دوں گا٭ اگر میرے اندر ہوتے ہوئے کسی
نے بار بار دروازہ بجایاتو صبر کروں گا٭ اگر کسی کو مجھ سے زِیادہ حاجت ہوئی اور کوئی سخت مجبوری یا نَماز فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہوا تو ایثار کروںگا ٭ حتَّی الامکان بھیڑ کے وَقت اِستِنجاخانے جاکر بھیڑ میں مزید اِضافہ کرکے مسلمانوں پر بوجھ نہیں بنوں گا٭درو دیوار پر کچھ نہیں لکھوں گا ٭ وہاں بنی ہوئی فحش تصویریں دیکھ کر اور٭ حیا سوز تحریریں پڑھ کر اپنی آنکھوں کو بروزِ قیامت اپنے خِلاف گواہ نہیں بناؤں گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
ماخذ ومراجع
|
کتاب |
مطبوعہ |
کتاب |
مطبوعہ |
|
صحیح بخاری |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
جامع صغیر |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
|
صحیح مسلم |
دار ابن حزم بیروت |
مرقاۃ المفاتیح |
دار الفکر بیروت |
|
سنن ترمذی |
دار الفکر بیروت |
اشعۃ اللمعات |
کوئٹہ |
|
سنن ابو داود |
دار احیاء التراث العربی بیروت |
مراٰۃ المناجیح |
ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور |
|
سنن نسائی |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
فتاوٰی عالمگیری |
دار الفکر بیروت |
|
سنن ابن ماجہ |
دار المعرفۃ بیروت |
رد المحتار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
معجم کبیر |
دار احیاء التراث العربی بیروت |
فتاوٰی رضویہ |
رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور |
|
مجمع الزوائد |
دار الفکر بیروت |
بہارِ شریعت |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |