پہلے اِ سے پڑھ لیجئے!

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی، شیخِ طریقت ،امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال  محمّد ا لیا س عطا ؔرقادِری رضوی ضیائی دامت بَرَکاتُہُمُ الْعالِیہ نے اپنے مخصوص انداز میں سنّتوں بھر ے بیانات ، علم و حکمت سے معمورمَدَ نی مذاکراتاور اپنے تربیت یافتہ مبلغین کے ذَرِیعے کچھ ہی عرصے میں لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں مدَنی انقلاب برپا کردیاہے، آپ دامتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیہ کی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کثیر اسلامی بھائی وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر ہونے والے مَدَ نی مذاکراتمیں مختلف قسم کے مثلاًعقائدو اعمال، فضائل و مناقب ، شریعت و طریقت، تاریخ و سیرت ،سائنس وطِبّ،اخلاقیات و اِسلامی معلومات اور دیگر بَہت سے موضوعات کے متعلق سُوالات کرتے ہیں اورشیخِ طریقت امیرا ہلسنّت دامتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیہ انہیں حکمت آموز و عشقِ رسول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم میں ڈوبے ہوئے جوابات سے نوازتے ہیں۔ امیر ِاہلسنّت دا مت بَرَکاتُہُمُ الْعالِیہ کے ان عطاکردہ دلچسپ اورعلم و حکمت سے لبریز اِرشادات کے مَدَنی پھو لو ں کی خوشبوئوں سے دنیابھرکے مسلمانوں کومہکانے کے مقدّس جذبے کے تحت دعوتِ اسلامی کی مجلِس مَدَ نی مذ ا کر ہ ان مَدَنی مذاکرات کو ضروری ترمیم کے ساتھ تحریری گلدستوں کی صورت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہی ہے ۔ اس مَدَ نی مذاکریکے تحریری گلدستے کا مطالعہ کرنے سے اِن شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عقائد و اعمال اور ظاہر و باطن کی اصلاح، محبت ِالٰہی عَزَّوَجَلَّو عشقِ رسول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی لاز و ا ل دولت کے ساتھ ساتھ مزید حصولِ علمِ دین کا جذبہ بھی بیدارہوگا۔ اِن شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

                                                                             {مجلس مَدَنی مُذاکرہ}   

                                                                   ۲۵ذوالقعدۃالحرام ۱۴۳۲ھ/  24اکتوبر2011ء


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

گونگے بہروں کے بارے میں سُوال جَواب

شیطان لاکھ کوشش کرے مگر آپ یہ رِسالہ مکمَّل

پڑھ کر علمِ دین حاصل کیجئے اور ثواب کے حقدار بنئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

       سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صاحبِ معطَّرپسینہصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’اے لوگو! بے شک بروزِ قِیامت اس کی دَہشتوں اورحساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے ۔‘‘(الفردوس بماثور الخطاب، ج۵، ص۲۷۷، حدیث۸۱۷۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

معلومات سے کورا گونگا بہرا

گونگے بہرے اِسلامی بھائیوں اور عُمُومی اِسلامی بھائیوں پر مشتمل ایک مدنی قافلہ راہِ خُدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرتا ہوا کسی علاقے میں پَہنچا۔ وہاں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہونے والے ایک گونگے بہرے نوجوان پر اِشاروں کی زَبان میں اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے جب اُسے نبیِّ کریم، رَء ُوفٌ رَّحیمصلی اللّٰہ


تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان مبارَکہ کے مُتَعَلِّق بتایا گیا تو وہ چونک کر اِشاروں میں پوچھنے لگا: یہ کون ہیں؟ یعنی وہ گونگا بہرا نوجوان، نبی آخرالزمان، سُلطانِ دو جہاںصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بالکل ہی اَنجان تھا۔ بَہَرحال مُبلِّغ دعوتِ اسلامی نے اس کو اِشاروں کی زَبان میں میٹھے میٹھے آقا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مبارَکہ کے مُتَعَلِّق بتایا۔

آہ!ان بے چاروں کو دِین کون سکھائے! یقینا یہ بھی ہمارے اِسلامی بھائی ہیں، ہماری توجُّہ کے مُنتظر ہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ ان کی رہنمائی کیلئے دعوتِ اسلامی کی طرف سے ’’مجلس برائے خُصُوصی اِسلامی بھائی‘‘ قائم کی گئی ہے جو کہ ان میں مدَنی کام کر رہی ہے اِسلامی بھائیوں کیلئے قُفلِ مدینہ کورس کروانے یعنی گونگے بہروں کی اِشاروں کی زبان سکھانے کا باقاعدہ سلسلہ ہے اور اِشاروں کی زَبان جاننے والے مُبلِّغِین ان کی تربیت کرتے ہیں۔ ان کی کوشِشوں سے ڈھیروں ڈھیر گونگے بہرے اور نابینا اِسلامی بھائی ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ سُنَّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافلوں میں سُنَّتوں بھرا سفر بھی اختیار کرتے ہیں۔گونگے بہروں کی رہنمائی کیلئے بعض شرعی اَحکام سُوالاً جواباً پیش کئے جاتے ہیں۔


نَماز کا بیان

تکبیرِ تَحرِیمَہ

 سوال:گونگے شخص کیلئے تکبیرِتحریمہ(یعنی نماز کی پہلی تکبیر) کا کیا حکم ہوگا ؟

جواب:     گونگا یا ایسا شخص جس کی زبان کسی بھی وجہ سے بند ہوگئی ہو اس پر تکبیر تحریمہ میں تَلَفُّظ (یعنی الفاظ ادا کرنا) ضَروری نہیں ،دِل میں اِرادہ کرلینا ہی کافی ہے ۔ بہارِ شریعت میں ہے:’’ جو شخص تکبیر کیتَلَفُّظ پر قادِرنہ ہومَثَلاً گونگا ہو یا کسی اور وجہ سے زَبان بند ہو اُس پرتَلَفُّظ واجِب نہیں، دِل میں اِرادہ کافی ہے۔(بہارشریعت، ج۱، حصہ۳، ص۵۰۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

قِراءَ ت

سوال:      گونگے کیلئے قِراءَ ت (قراٰنِ پاک کی تلاوت)کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب:     گونگا چُونکہ قرآنِ مجید پڑھنے پر قادِر نہیں ہوتااس لئے اس پرقِراءَت کرنا لازِم نہیں ہے ۔  (الدر المختار و رد المحتار، ج۲، ص۲۲۰ ماخوذاً)

 سوال:     گونگا بہرہ قیام میں کیا کرے گا ؟ کیا بمقدارِ فرض و واجب قراء ت، چُپ کھڑا رہے گا؟

جواب:     جی ہاں ! قیام میں بمقدار فرض و واجب قراء ت چُپ کھڑا رہے گا۔


ناپاکی کی حالت اور قِراءَت

سوال:      اگر کسی گونگے نے غسل فرض ہونے کی حالت میںقِراءَت(قراٰنِ پاک کی تلاوت) کا اِشارہ کیا تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟

جواب:     جی ہاں، اس صورت میں یہ گناہ گار ہوگا کیونکہ اس کے حق میں اِشارہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی بولنے والے کا کلام(بات) کرنا۔لہٰذا جس طرح بولنے والے کیلئے ناپاکی (یعنی غسل فرض ہونے )کی حالت میں قِراءَتکرنا حرام ہے اسی طرح گونگے کیلئے بھی  قِراءَت کا اِشارہ کرنا ناجائز وگناہ ہے ۔عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں:’’اگر کسی گونگے نے ناپاکی(یعنی غسل فرض ہونے) کی حالت میں قِراءَت کا اِشا رہ کیا تو اس کایہ عمل حرام ہوگا ۔‘‘(قرۃ عیون الاخیار تکملۃ ردالمحتار، ج۱۲، ص۱۴۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

امامت

سوال:      کیا گونگا بولنے پر قدرت رکھنے والوں کی اِمامت کر سکتا ہے؟

جواب:     جی نہیں۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے:قاری (یعنی درست قراٰن پڑھنے والا جس کی نماز درست قراٰن پڑھنے کی وجہ سے فاسدنہ ہوتی ہو) کو گونگے اور اُمّی (یعنی غلط قراٰن پڑھنے والا جس کی نمازغلط قراٰن پڑھنے کی وجہ سے فاسد ہوتی ہو)کی اقتِدا کرنا صحیح نہیں ہے۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۸۶)


سوال:      توکیا گونگا گونگوں کا بھی اِمام نہیں ہوسکتا؟

جواب:     گونگا گونگوں کا اِمام ہو سکتا ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں: ’’اگر گونگا گونگوں کی اِمامت کرے تو سارے گونگوںکی نَماز ہو جائے گی۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۸۳)

سوال:      گونگا، اُمّی کا  اِمام بن سکتا ہے یا نہیں؟

جواب:     ایسا اُمّی جو کہ ُدرُست طور پر تکبیرِتحریمہ بھی نہ کہہ سکتاہو، گونگا اُس کی اِمامت کرسکتاہے ۔صدرُالشَّریعہ،بدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں:’’اگر اُمّی صحیح طور پر تحریمہ بھی باندھ نہیں سکتا تو گونگے کی اقتِداکر سکتا ہے۔‘‘(الدر المختار ورد المحتار، ج۲، ص۳۹۱، وبہارشریعت، ج۱، حصہ۳، ص۵۷۰)

سوال:      کیا گونگا اُمّی کی اقتِداء کرسکتاہے ؟

جواب:     جی ہاں ،گونگا اُمّی کی اقتِدامیں نَماز ادا کرسکتاہے ۔ صدرُالشَّریعہ، بدرُالطَّریقہ حضرت علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں: ’’اُمّی گونگے کی اقتِدا نہیں کر سکتا گونگا اُمّی کی کر سکتا ہے۔‘‘(الدرالمختار ورد المحتار، ج۲، ص۳۹۱، وبہارشریعت، ج۱، حصہ۳، ص۵۷۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد


نَمازکی سُنّتیں

سوال:      اگر مقتدی بہرا ہو اور امام بِالجَہر(یعنی بلند آواز سے)قِراءَت شروع کردے جبکہ ابھی مقتدی نے ثنا نہیں پڑھی تو کیا اس کیلئے بھی خاموش رہنے اور ثناء نہ پڑھنے کا حکم ہوگا ؟

جواب:     جی ہاں، بہرے کے لئے بھی یہی حکم ہے یعنی بہرا بھی ثنانہ پڑھے ۔ صدرُ الشَّریعہ، بدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں :’’اِمام نے بِالجہرقِراءَت  شروع کر دی تو مقتدی ثنا نہ پڑھے اگرچِہ بوجہ دُور ہونے یابہرے ہونے کے اِمام کی آواز نہ سنتا ہو جیسے جُمُعہ و عیدین میں پچھلی صف کے مقتدی کہ بوجہ دُور ہونے کے قِراءَت  نہیں سُنتے ۔ (الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۹۰ وغنیۃ المتملی، ص۳۰۴)امام آہستہ پڑھتا ہو تو پڑھ لے۔‘‘(رد المحتار، ج۲، ص۲۳۲، وبہارشریعت، ج۱، حصہ۳، ص۵۲۳)

 نمازی گونگا

بابُ المدینہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد کی ایک مسجِدکے امام صاحِب کے بیان کا خُلاصہ ہے :کچھ دِنوں سے جب بھی مَیں مسجِد میں داخِل ہوتا توایک نوجوان کو پہلی صف میں موجود پاتا ، جو اذان سے پہلے ہی آکر بیٹھ جاتا اور ذِکر و اَذکار میں مشغول رہتا ۔ مَیں ان سے بے حد مُتأَثِّر ہو ا کہ آج کے پُر فِتَن دَور کے اندر
بھر پور جوانی میں عبادت کا ایسا جذبہ … !!نوجوان کایہ بھی مَعمول تھا کہ بَہُت دیر تک دُعائیں مانگتا رہتا ۔ مَیں نے ایک دن اُن سے ملاقات کی تو معلوم ہو اکہ وہ قوّتِ گویائی اور سماعت سے محروم
(یعنی گونگے بہرے ) ہیں۔ مزید معلومات کی تو پتا چلا کہ یہ نیک نمازی گونگے بہرے اِسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہیں اور ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ عاشقانِ رسُول کے ہمراہ مَدَنی قافلوں میں بھی سُنَّتوں بھرا سفر فرماتے ہیں۔ اب تک یہ 30دن کے مَدَنی قافِلوں میں دو مرتبہ سفر کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔اس علاقے کے اسلامی بھائیوں کا کہنا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اس گونگے بہرے اسلامی بھائی کو مَدَنی قافلوں میں سفر کی بَرَکت سے ایسا خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّحاصل ہوا کہ یہ اکثر تنہائی میں بیٹھ کر دُعائیں مانگتے اور خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے روتے دِکھائی دیتے ہیں۔

جبکہ گونگے بہرے اِسلامی بھائی کے والد صاحِب کا بیان کچھ یوں ہے کہ میرا بیٹا اب پابندی کے ساتھ نَمازادا کرتا ہے ، اس کے علاوہ دیگر مَدَنی انعامات کے ساتھ ساتھ گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کے اس مَدَنی اِنعام : ’’ کیا آج آپ نے قراٰن پاک (کنزالایمان)  میں کم از کم ایک رکوع کی زیارت فرمائی؟‘‘ پر بھی عمل کرتا ہے چُنانچِہ میر ابیٹا روزانہ قرآن مجیدکی زیارت کرتاہے


اور اسے چُومتا بھی ہے۔ دعوتِ اسلامی کا میرے اُوپر بَہُت بڑا اِحسان ہے جس نے میرے بیٹے کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

سجدۂ تِلاوَت

سوال:      اگرکسی بہرے نے آیت ِسجدہ تلاوت کی تو کیا اس پر سجدہ واجِب ہو گا ؟

جواب:     اگر اِتنی آواز تھی کہ اگر وہ بہرا نہ ہو تا تو سُن لیتا تو سجدہ واجِب ہو گیا ورنہ نہیں۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے : اگر کسی بہرے نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور بہراہونے کی وجہ سے نہ سُنی(یعنی اِتنی آواز تھی کہ بہرانہ ہوتا تو سُن لیتا) تو اس پر سجدۂ تلاوت واجِب ہو جائے گا۔(الفتاوی الہندیۃ،ج۱،ص۱۳۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

جُمُعہ کا بیان

سوال: اگر خطیب نے عاقِل بالِغ مردبہروں کے سامنے خطبۂ جُمُعہپڑھا توکیا خطبہ ہوجائے گاـ؟

جواب: جی ہاں۔صدرُالشَّریعہ،بدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی ا عظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں :’’خطبۂ جُمُعہکیلئے یہ شرط ہے کہ اِتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سُن سکیں اگر کوئی امر مانع (یعنی رکاوٹ) نہ ہو تواگر زوال سے پیشتر


خطبہ پڑھ لیا یا نماز کے بعد پڑھا، یا تنہا پڑھا یا عورتوں بچوں کے سامنے پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ نہ ہوا اور اگر بہروں یا سونے والوں کے سامنے پڑھا  یا حاضرین دُور ہیں کہ سنتے نہیں یا مسافریا بیماروں کے سامنے پڑھا جو عاقِل بالِغ مرد ہیں تو ہوجائے گا۔‘‘(الدر المختار و رد المحتار، ج۳، ص۲۱، وبہارشریعت، ج۱، حصہ۴، ص۷۶۶)

سوال:      جُمُعہ کیلئے شرط ہے کہ اِمام کے علاوہ کم از کم تین افراد ہوں،اگر وہ تینوں گونگے  ہوں تو کیا جمعہ دُرُست ہوجائے گا؟

جواب:     اگر جُمُعہ میں امام کے علاوہ تین مقتدی گونگے ہوں جب بھی جمعہ دُرست ہوجائے گا۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القویفرماتے ہیں : ’’اگرتین غلام یا مسافر یابیمار یاگونگے یا اَن پڑھ مقتدی ہوں تو جُمُعہہو جائے گا، صرف عورتیں یا بچے ہوں تونہیں۔ ‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۱۴۸، و رد المحتار، ج۳، ص۲۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

حَجّ کا بیان

  سوال: نیت کرنے کے بعداحرام کیلئے ایک بارزَبان سے ’’لبَّیْک ‘‘کہنا ضَروری ہے ، گونگے کیلئے کیا حکم ہوگا ؟


جواب: صدرُالشَّریعہ، بدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں : ’’اِحرام کے لئے ایک مرتبہ زَبان سے لبَّیک کہنا     ضَروری ہے اور اگر اس کی جگہ سُبْحٰنَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یا اور کوئی ذکر ِ الٰہی کیا اور اِحرام کی نیّت کی تو احرام ہوگیا مگر سُنَّت لبَّیک کہنا ہے ۔ گونگا ہو تو اُسے چاہئے کہ ہونٹ کو جُنبِش دے۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۲۲۲، وبہارشریعت، ج ۱، حصہ۶، ص ۱۰۷۴)

کیا گونگا ذَبْح کر سکتا ہے؟

سوال:      کیا مسلمان گونگے کا ذَبح کیا ہوا جانور حلال ہے؟

جواب:     جی ہاں۔صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں :’’گونگے کا ذَبیحہ حلال ہے۔‘‘ (الفتاوی الہندیۃ، ج۵، ص۲۸۶، وبہارشریعت،ج۳، حصہ ۱۵، ص۳۱۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

سلام کا بیان

سوال:      اگر بہرے نے کسی کو سلام کیا تو اس کے جواب کی کیا صورت ہوگی؟

جواب:     بہرے کے سلام کے جواب میں صرف ہونٹوں کوجُنبِش دینا(یعنی ہونٹ ہلا دینا) ہی کافی ہے ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں : ’’سلام اِتنی آواز سے کہے کہ جس کو سلام


 کیا ہے وہ سُن لے اورا گر اِتنی آوازنہ ہو تو جواب دینا واجب نہیں ۔جوابِ سلام بھی اِتنی آواز سے ہو کہ سلام کرنے والا سُن لے اور اِتنا آہستہ کہا کہ وہ سُن نہ سکا تو واجِب ساقِط نہ ہوا۔ اور اگر وہ (سلام کرنے والا) بہرا ہے تو اس کے سامنے ہونٹ کو جُنبِش دے کہ اس کی سمجھ میں آجائے کہ جواب دے دیا۔ چھینک کے جواب کا بھی یہی حکم ہے۔  (البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ، ج۶، ص۳۵۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

عاشقِ رَسُول گونگا

بابُ المدینہ کراچی کے مقیم اِسلامی بھائی نے کچھ اس طرح بتایا کہ عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں تربیّتی نشست میں شریک گونگے بہرے اِسلامی بھائیوں میں ایک مُبلِّغ اِشاروں کی زبان میں بیان فرما رہے تھے۔جب انہوں نے دُرُودِ پاک کی فضیلت بتائی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی خاطِر آپس میں مَحَبَّت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصافَحَہ کریں (یعنی ہاتھ ملائیں) اور نبی (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)  پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘(مسند ابی یعلٰی، ج۳، ص۹۵، حدیث ۲۹۵۱) تو ایک گونگے اسلامی بھائی نے بعدِ بیان مُبلِّغ اسلامی بھائی


کو اِشارے میں درخواست کی کہ مجھے دُرُودِ پاک اور سلام کرنا سکھائیں۔ مُبلِّغ اسلامی بھائی نے ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے انہیں مذکورہ چیزیں سکھانا شروع کیں۔ وہ گونگے بہرے اسلامی بھائی پابندی سے نشست میں شرکت فرماتے رہے۔ آخِرکار انہوں نے کچھ ہی عرصے میں اِشاروں کی زَبان میں سلام کرنا اور دُرُودِ پاک پڑھنا سیکھ لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہوں نے اپنا معمول بنا لیا کہ جب بھی کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو پہلے سلام کرتے ہیں اور پھر مصافحہ کر کے(یعنی ہاتھ ملا کر ) دُرُودِ پاک ضرور پڑھتے ہیں۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

نکاح کا بیان

سوال:      گونگے کا نِکاح کس طرح ہو گا ؟

جواب:     گونگے کانِکاح اشارے کے ذَرِیعے ہو گا جبکہ اس کا اِشارہ سمجھ میں آتا ہو۔ فتا ویٰ عالمگیری میں ہے : نِکاح جس طرح بول کر ہوتا ہے اسی طرح گونگے کے اِشارے سے بھی ہوجائے گا ،جبکہ اس کے اِشارے سمجھ میں آتے ہوں۔(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۲۷۰)

سوال:کیاگونگے ایسوں کے نِکاحکے گواہ ہو سکتے ہیں جو بولنے پر قادِر ہوں؟

جواب:فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ’’گونگے(نکاح کے) گواہ نہیں ہو سکتے کہ جو گونگا ہوتا ہے بہرا بھی ہوتا ہے ہاں اگر گونگا ہو بہرا نہ ہوتو ہوسکتا ہے۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ،ج۱،ص۲۶۸)


سوال:      دو گواہوں میں سے اگر ایک گواہ بہرا ہو اور کوئی اس کے کان پر چیخ کر کہے اور وہ سُن لے تو کیا اب نکاح دُرُست ہو جا ئے گا؟

جواب:     اگرچِہ ایک ہی گواہ بہرا ہو اور کوئی اس کے کان پر چیخے تو وہ سُن لے تب بھی نکا ح اُس وَقت تک دُرُست نہیں ہو گاجب تک کہ دونوں گواہ ایک ساتھ ایجا ب وقبول نہ سن لیں ۔فتاوی خانیہ  میں ہے : ’’ایک گواہ سُنتا ہوا ہے اور ایک بہرا۔ بہرے نے نہیں سُنا اور اس سُننے والے یا کسی اور نے چِلّاکر اس کے کان میں کہا نکاح نہ ہوا جب تک دونوں گواہ ایک ساتھ عاقِدین (یعنی معاملے کے دونوں فریقین مَثَلاً دولہا ووکیل یا دولہا اور دولہن ) سے نہ سُنیں۔      (الفتاوی الخانیۃ، ج۱، ص۱۵۶)

سوال:      نکاح میں ایجاب و قبول سے کیامرادہے؟

جواب:     ایجاب و قبول مثلاً ایک کہے میں نے اپنے کو تیری زوجیت میں دیا، دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ یہ نکاح کے رکن ہیں۔ پہلے جو کہے وہ ایجاب ہے اور اُس کے جواب میں دوسرے کے الفاظ کو قبول کہتے ہیں۔ یہ کچھ ضرور نہیں کہ عورت کی طرف سے ایجاب ہو اور مرد کی طرف سے قبول بلکہ اِس کا اُلٹا بھی ہوسکتا ہے۔(الدرالمختار وردالمحتار، ج۴، ص۷۸)

سوال:      اگرعاقِدین (ایجاب و قبول کرنے والے دونوں) گونگے ہوں تو کیا گونگے اس نِکاح کے گواہ بن سکتے ہیں ؟


جواب:     جی ہاں، اگرمردوعورت دونوں گونگے ہوں تو گونگے اور بہرے بھی اس نکاح کے گواہ ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے: عاقِدین (ایجاب و قبول کرنے والے دونوں)گونگے ہوں تونِکاح اِشارے سے ہو گا۔ لہٰذا اِس نکاح کا گواہ گونگا بھی ہو سکتا ہے اور بہرا بھی۔     (رد المحتار، ج۴، ص۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

طَلَاق کا بیان

سوال:      اگر کسی گونگے نے اپنی بیوی کو اِشارے کے ذَرِیعے طَلَاق (طَ۔لَا۔ق )دی تو کیا  طَلَاق ہو جائے گی ؟

جواب:     جی ہاں، طَلَاق ہو جائے گی ،لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ وہ لکھنا نہ جانتا ہو ورنہ لکھ کر دے گا تو ہی ہو گی ۔فتح القدیر میں ہے :’’گونگے نے اِشارے سے طَلَاق دی ہوگئی جبکہ لکھنا نہ جانتا ہو، اور لکھنا جانتا ہو تو اِشارے سے نہ ہو گی بلکہ لکھنے سے ہو گی۔‘‘(فتح القدیر، ج۳، ص۳۴۸)

سوال:      کیا اِشارے سے ہر گونگے کی  طَلَاق ہو جاتی ہے یا صرف اُسی کی ہوتی ہے جو کہ پیدائشی گونگا ہو ؟

جواب:      اس سے مُراد پیدائشی گونگا ہے اگر کوئی بعد میں گونگا ہو ا اور یوں ہی رہا یہاں تک کہ اس کے اِشارے سمجھ میں آنا شروع ہوگئے جب تو  طَلَاق ہو جائے گی اور اگر


سمجھ میں نہ آتے ہوں یا ان میں شک ہو تا ہو تو نہیں ہو گی ۔چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں: گونگے کی طَلَاق اِشارے کے ذَرِیعے ہو جاتی ہے اِس گونگے سے مُرا د و ہ ہے جو کہ پیدائشی گونگا ہو یا بعد میں ہو ا ہو اور اس کے اِشارے سمجھ میں آنے لگ گئے ہوں ، اور اگر اس کے اِشارے ایسے معروف نہ ہوں کہ جو کہے سمجھ میں آجائے یا اس میں شک ہو تا ہو تو باطِل ہے (یعنیطَلَاق نہ ہو گی)(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۳۵۴)

سوال:      اگر گونگے نے اشارے کے ذَرِیعے تین سے کم طَلَاقیں دیں تو وہ کون سی طَلَاق قرار دی جائے گی؟

جواب:     گونگے نے اگر اِشارے کے ذَرِیعے تین سے کم طَلَاقیں  دیں تو وہ رَجعِی  شُمار ہوں گی۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام فرماتے ہیں: ’’گونگے نے جو  طَلَاق اِشارے سے دی اگر تین سے کم ہے تو  طَلَاق رَجعی ([1])شُمار ہوگی۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۳۵۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

ظِہارکا بیان

سوال: اگرگونگا ظِہار(اس کی تعریف آگے موجودہے) کرے تو کیا دُرُست ہوجائیگا ؟


جواب:     جی ہاں، اگر گونگے کے اِشارے سمجھ میں آتے ہیں تو اس کااِشارے کے ذَرِیعے کیا ہوا        ظِہار ہوجاتا ہے ،اوراگر لکھنا جانتاہوتو لکھنے سے بھی واقِع ہو جائے گا جبکہ اس کی نیّت بھی ظِہار کی ہو۔چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام فرماتے ہیں: ’’گونگے نے لکھ کر یا ایسے اِشارے سے ظِہار کیا جوکہ معلوم ہو اور اس کی نیّت بھی ہو تو ظِہار لازِم (یعنی لاگو) ہو جائے گا ،جس طرح کہ اس کی دی ہوئی طَلَاق ہوجاتی ہے۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۵۰۸)

سوال:      ظِہار([2]) کسے کہتے ہیں؟

جواب:     اپنی بیوی کو یا اس کے کسی جُزوِ شائع کو(یعنی مثلاًاس کے آدھے حصے کو) یا ایسے جُز(حصے)  کو جوکہ کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو(یعنی وہ حصّۂ بدن بول کر پورا جسم مُراد لیا جاتاہو جیسے سر ،گردن وغیرہ) ایسی عورت سے تَشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کیلئے حرام ہو (جیسے ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھی، بھانجی، بھتیجی ) یا اس کے کسی ایسے عُضْو (حصے)سے تَشبِیہ دینا کہ جس کی طرف دیکھنا (اس کیلئے) حرام ہو (جیسے شرمگاہ،ران،پیٹ، پیٹھ وغیرہ) مَثَلًا (بیوی سے) کہا کہ تُومجھ پر میری ماں کی مِثل(طرح) ہے یا تیرا سَریا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مِثل ہے۔ (بہارشریعت،ج۲، حصہ۸، ص۲۰۵)

سوال:      ظِہار کا حکم کیا ہے؟


جواب:     اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک مردظِہار کا کَفّارہ ادا نہ کر لے اُ س وَقت تک اپنی بیوی سے جِماع کرنا ،شہوت کے ساتھ اسکا بوسہ لینا،یا (شہوت سے )اس کو چُھونا، یا(شہوت کے ساتھ) اس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا حرام ہے۔اور بغیر شہوت چھونے یا بوسہ لینے میں حرج نہیں ،مگر لب کا بوسہ بغیر شہوت بھی جائز نہیں۔(الجوہرۃ النیرۃ، الجزء الثانی، ص۸۲، و الدر المختار، ج۵، ص۱۳۰)

سوال:      ظِہارکا کَفّارہ کیا ہے؟

جواب:     گونگا اورغیر گونگا دونوں ہی کیلئے ظِہارکے کَفّارے کی تین صورَتیں ہیں {۱}غلام یاکنیز آزاد کرے اگر اِس پر قدرت نہ ہو تو {۲}(سنِ ہجری کے) دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے اگر اِس پر قدرت نہ ہو تو {۳} ساٹھ مسکینوں کو دو وَقت(یعنی صبح، شام کا) کھانا کھلائے یا 60 مساکین کو صَدَقۂ فطر ادا کرے۔(بہارشریعت، ج۲، حصہ۸، ص۱۰۴،۱۰۹ ملخصاً)

سوال:      اگربیوی سے جِماع کرنا نہ چاہے یا بیوی ہی فوت ہو جائے تو کیا پھر بھی کفّارہ ادا کرنا ہو گا؟

جواب:     نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ظہار کرنے والا جماع کا اِرادہ کرے تو کفّارہ واجِب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفّارہ  واجِب نہیں اور اگر اِرادۂ جماع تھا مگر زَوجہ مر گئی تو واجِب نہ رہا۔(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۵۰۹)


لِعان کا بیان

سوال:      لِعان  کسے کہتے ہیں؟

جواب:     مرد نے اپنی عورت کو زِنا کی تُہمت لگائی اس طرح کہ اگراَجْنَبِیَّہ        عورت کو لگاتاتو حدِّقَذف (یعنی تہمتِ زِنا کی حد) اِس پر لگائی جاتی ۔ یعنی عورت عاقِلہ(یعنی عقل والی)، بالِغہ،حُرَّہ(یعنی آزاد)،مُسلِمہ ،عَفِیفہ (یعنی پاک دامن) ہو تو لِعان کیا جائیگا۔ اِس کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے حُضور پہلے شوہر قَسَم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت (گواہی) دے یعنی کہے کہ میں شہادت (گواہی) دیتا ہوں کہ مَیں نے جو اس عورت کو زِنا کی تُہمت لگائی اِس میں خُدا کی قسم مَیں سَچّا ہوں پھر پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر خدا کی لعنت اگر اس اَمرمیں کہ اس کو زِنا کی تُہمت لگائی جھوٹ بولنے والوں سے ہو اور ہر بار لفظ اللہ’’اس ‘‘سے عورت کی طرف اِشارہ کرے پھر عورت چار مرتبہ یہ کہے کہ مَیں شہادت (گواہی)دیتی ہوں خدا کی قسم! اس نے جو مجھے زِنا کی تُہمت لگائی ہے اس بات میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ         کا غضب ہواگر یہ اُس بات میں سچا ہو جو مجھے زِنا کی تُہمت لگائی۔ لِعان میں لفظ شہادت(گواہی) شرط ہے اگر یہ کہا کہ خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سچا ہوںلِعان نہ ہوا۔(بہارشریعت، ج۲، حصہ۸، ص۲۲۰)

سوال:      اگرمیاں،بیوی دونوں یا ان میں سے کوئی ایک گونگا ہو توکیا ان کے درمیان لِعان ہو جائے گا ؟


جواب:     جی نہیں ۔ دُرِّمختار میں ہے: ’’اگر میاںبیوی دونوں گونگے ہوں یا کوئی ایک گونگا ہو تو ان کے درمیانلِعان نہیں ہوسکتا۔‘‘(الدرالمختار،ج۵، ص۱۶۲)

سوال:      اگر لِعان کے بعد ابھی قاضی نے تفریق (جُدائی)نہیں کی تھی کہ ان میں سے کوئی گونگا ہو گیا تو کیا یہ لِعان دُرُست ہو جائے گا،اور ان کے درمیان جُدائی ہو گی؟

جواب:     نہیں۔ان کے درمیان تفریق (جُدائی)نہیں ہو گی۔فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں:’’اگر کوئی تفریق سے پہلے اورلِعان کے بعد گونگا ہو گیا تو ان کے درمیان تفریق(جُدائی )نہ ہو گی۔‘‘(الدرالمختار،ج۵، ص۱۶۲)

سوال:      تو کیا اس صورت میں ان پر حَدّ (زِناکی عورت پر ،تُہمت کی شوہر پر)ہو گی ؟

جواب:     جی نہیں۔ اس صورت میں کسی پر حد نہیں ہو گی ،کیونکہ شُبہ آگیا اورشُبہ کی وجہ سے حُدُود ساقِط (دُور)ہو جاتی ہیں۔ چُنانچِہدُرِّمختار میں ہے: ’’اور نہ کسی کوحَد لگے گی کیونکہ شُبہ کی وجہ سے حد دور ہو جاتی ہے۔‘‘(الدر المختار، ج۵، ص۱۶۲)

قَسَم کا بیان

سوال:      اگر کسی نے قسم کھائی کہ کسی سے بھی کلام نہیں کروں گا، پھر اُس نے کسی گونگے یابہرے سے کلام کر لیا توکیا اسکی قسم ٹوٹ جائے گی؟

جواب:      جی ہا ں۔فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں: اگر کسی نے قسم کھائی کہ کسی سے کچھ نہیں بولے گا اور گونگے یا بہرے سے کلام کر لیا تو قسم ٹوٹ جائے گی۔(الفتاوی الہندیۃ، ج۲، ص۱۰۰)


عقیدے کابیان

  ’’اللّٰہ ‘‘کا اشارہ گونگے بہرے کس طرح کریں؟

سوال: آج کل گونگے بَہروں کو تربیّت دینے والے’’اللّٰہ‘‘  کا اشارہ آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھوا کر سکھاتے ہیں یہ کہاں تک دُرُست ہے؟

جواب: یہ طریقہ قَطعاً (قَطْ۔عاً)غَلَط ہے۔ ان بے چاروں کے ذِہن میں یِہی نظریات بیٹھ جاتے ہوں گے کہ’’ ا للّٰہ تعالیٰ اوپر ہے یا اوپر اُس کا مکان ہے جس میں وہ رہتا ہے یہ دونوں باتیں کفر ہیں‘‘اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  جِہَت (یعنی سَمت) سے بھی پاک ہے اور مکان سے بھی ۔ آسمان کی طرف اشارہ کرنے کے بجائے ان کو ہاتھ کے ذَرِیعے لفظ’’ اللّٰہ‘‘بنانا سکھانا چاہئے اور اِس کا طریقہ نہایت ہی آسان ہے۔ سیدھے ہاتھ کی اُنگلیاں معمولی سی کُشادہ کر کے انگوٹھے کا سِرااوپر کی طرف تھوڑا سابڑھا کر شہادت کی اُنگلی کے پہلو کے وَسط میں لگا لیجئے اب سیدھی ہتھیلی کی پُشت کی طرف دیکھئے تو لفظاللّٰہمحسوس ہوگا۔اِسی طرح کر کے اُلٹے ہاتھ کی ہتھیلی کی اگلی طرف دیکھیں گے تواللّٰہ لکھا ہوا نظر آئے گا۔    

     فِلمیں کُفرِیّات سیکھنے کا ذَ رِیعہ ہیں

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اﷲ تعالٰی کے لئے مکان اورجِہَت(یعنی سَمت) ثابِت کرنے والے جُملے لوگوں میں کافی رائج ہوتے جا رہے ہیں مَثَلاً’’ اُوپر


والا‘‘ کہنا تو بَہُت زیادہ عام ہے۔ جو کہ اکثر لوگوں نے زیادہ تر فلموں ڈِراموں سے سیکھا ہے۔ چُونکہ ہر مسلمان کفریات کی پہچان نہیں کر پاتا ،اِس وجہ سے نہ جانے کتنے مسلمان روزانہ یہ غلطیاں کرتے ہوں گے۔ جن لوگوں سے زندَگی میں کبھی ایک بار بھی یہ جُملہ صادِر ہو گیا ہو انھیں چاہیے کہ اس سے توبہ کریں اور نئے سرے سے کلمہ پڑھیں اور اگر شادی شُدہ ہیں تو نئے سرے سے نِکاح بھی کریں۔کاش! مسلمان بُرے خاتمے کا ڈر اپنے اندر پیدا کریں ،فلموں ڈِراموں اور گانے باجوں سے کَنارا کشی اختیار کریں اورضَروریاتِ دین کا علم حاصِل کریں۔آہ! موت ہر وقت سر پر کھڑی ہے ! موت بیماریوں، دھماکوں، ہنگاموں،سیلابوں، طوفانی بارِشوں، زلزلوں، آتَش زدگیوں، نیز تیز رفتار گاڑیوں کے حادِثوں کے ذَرِیعے اچّھے خاصے کڑیل جوانوں کو بھی فوری طور پر اُچک کر لے جاتی ہے اور ساری خَرمستیاں اورفنکاریاں خاک میں مل جاتی ہیں   ؎

جل گئے پروانے شَمعیں پانی پانی ہو گئیں

میرا تیرا ذکر ہو کر انجمن میں رہ گیا

 

 

 

 

 

 


ماٰخذ ومراجع

کتاب

مطبوعہ

کتاب

مطبوعہ

الفردوس بمأثور الخطاب

دار الکتب العلمیۃ بیروت

غنیۃ المتملی

سہیل اکیڈمی لاہور

مسند ابی یعلی

دار الکتب العلمیۃ بیروت

فتاوی عالمگیری

دار الفکر بیروت

فتاوی خانیہ

پشاور

درمختار

دار المعرفۃ بیروت

فتح القدیر

کوئٹہ

رد المحتار

دار المعرفۃ بیروت

فتاوی بزازیہ

دار الفکر بیروت

بہارِ شریعت

مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

 



[1]۔۔۔ طلاق رَجعی کی تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد2،حصہ 8 سے ’’ رجعت کا بیان‘‘ مُلاحَظہ فرمایئے۔

[2]۔۔۔ ظہار کے تفصیلی احکام کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد2،حصّہ 8 میں’’ ظہار کا بیان‘‘ اور ’’کفّارے کا بیان‘‘ پڑھ لیجئے۔