اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
یہ رسالہ (24صفحات)مکمَّل پڑھ کر خود کو اور دوسرے
مسلمانوں کو عذابِ الٰہی سے بچانے کی تدابیر کیجئے۔
سرکارنامدار،مدینے کے تاجدارحبیبِ پَرْوَرْدَگار،شفیعِ روزِ شُمار، جنابِ احمد ِمختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ نور بار ہے: ’’تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُودِ پاک پڑھنا بروزِقِیامت تمہارے لئے نور ہوگا۔‘‘(فِردَوسُ الاخبار ج۱ص۴۲۲حدیث ۳۱۴۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جو ں ہی سردی کا زور ٹوٹتا اور(فروری میں )موسمِ بہار کی آمد ہوتی ہے مرکزالاولیاء لاہور ، سردار آباد(فیصل آباد)،راولپنڈی،گوجرانوالہ اور پاکستان کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں ’’بسنت‘‘ کے نام پر ناچ رنگ کی محفلیں سجائی جاتیں ، شرابیں پی جاتیں اور خوب پتنگ بازی
کے مِیلے سجائے جاتے ہیں جس میں ہمارے بے شمارمسلمان بھائی نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر بے تحاشہ گناہ کرتے اور کروڑوں روپے ہوا میں اُڑا دیتے ہیں ، عموماً یہ سلسلہ مارچ کے آخِر تک جاری رہتا ہے۔
میرے بھولے بھالے اسلامی بھائیو! کیا آپ جانتے ہیں کہ ’’بسنت میلے ‘‘ کا آغاز کیوں اور کیسے ہوا؟دل پر ہاتھ رکھ کر سنئے کہ یہ ایک گستاخِ رسول کی یاد گار ہے! جی ہاں تقسیمِ ہند سے بھی کافی پہلے سیالکوٹ کے ایک غیر مسلم نے ہمارے پیارے پیارے آقا مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور شہزادی ِکونین سیِّدتُنا بی بی فاطِمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی شانِ عَظَمت نشان میں مَعَاذَ اللہ گستاخی کی، عاشقانِ رسول بے قرار ہو گئے جو کہ ایک فطری اَمْر تھا، مُجرِم گرفتار کر لیا گیا اور اُسے مرکزالاولیا لاہور لا کر کورٹ میں مجرِموں کے کٹہرے میں کھڑاکر کے سزا ئے موت سنادی گئی، اورپھر اُس گستاخِ رسول کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا ۔ اُس کی موت پر غیر مسلموں میں صفِ ماتم بچھ گئی ! ان کے ایک رئیس نے اُس گستاخِ رسول کے ’’یومِ ہلاکت‘‘ کی یاد تازہ رکھنے کیلئے موسمِ بہار ’’بسنت میلے‘‘ کی بنیاد رکھی اورپھر ہر سال میلا(مِے۔لا) منایا جانے لگا۔۔۔([1])صد کروڑ افسوس ! کہ نَفْس و شیطان کی چال میں آکر کچھ مسلمان بھی اِس کی طرف مائل ہوگئے، بسنت میلا (مِے۔لا) جاری
کرنے والے تو کبھی کے مر کھپ کر مِٹی میں مل گئے مگر اپنی یقینی اوراٹل موت سے غافل مسلمانوں نے اِس میلے کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا، بِالآخر وہ بھی موت کا جام غٹ غٹا کر اندھیری قَبْر کی سیڑھی اُتر گئے مگرافسوس!صد کروڑ افسوس ! بسنت میلے کا گناہوں بھرا سلسلہ اب بھی ہمارے مسلمان بھائیوں میں اپنی تمام تر ہلاکت سامانیوں کے ساتھ خوب نحوستیں لٹا رہا ہے۔
’’بَسَنْت میلے‘‘ میں پتنگ اور ڈَور بیچنے، خریدنے ،اُڑانے، پیچ لڑانے اور کٹی ہوئی پتنگ لُوٹنے کوبُنیادی حیثیَّت حاصِل ہوتی ہے،یقینا یہ کام اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خوش کرنے والے نہیں ہیں۔فتاوٰی رضویہ جلد 24 صفحہ 660 پر ہے:کَنکَیّا (کَنْ۔کَیّا ۔ یعنی پتنگ) لُوٹنا حرام،اورخودآکرگرجائے تو اُسے پھاڑڈالے، اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے توڈَور کسی مِسکین کودے دے کہ وہ کسی جائزکام میں صَرْف(یعنی کوئی جائز استِعمال) کرلے، اورخود مِسکین ہوتواپنے صَرْف(یعنی استِعمال) میں لائے، پھر جب معلوم ہوکہ فُلاں مُسْلِم کی ہے اور وہ اس تصدُّق یا اس مسکین کے اپنے صَرْف پرراضی نہ ہو تودینی آئے گی اورکَنکَیا (یعنی پتنگ)کا مُعاوَضہ بَہَرحال کچھ نہیں۔ (اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزید لکھتے ہیں :) کَنکَیّا(یعنی پتنگ)اُڑانا مَنْع ہے اورلڑانا گناہ۔(فتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص ۶۶۰ ) جبکہ فتاوٰی رضویہ جلد24صَفْحَہ659پر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں : کَنکَیا (یعنی پتنگ) اُڑانے میں وَقت (اور) مال کاضائع کرناہوتاہے،یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیّا(یعنی پتنگ) ،
ڈَوربیچنا بھی مَنْع ہے ۔ (ایضاًص ۶۵۹)
سُوال:آج کل پتنگ کی ڈور لوٹنے کا عرف جاری ہے ، لہٰذا کیا اب لوٹنے والوں کی اجازت نہیں سمجھی جائے گی؟
جواب: اجازت نہیں سمجھی جائے گی، ہر عُرف جائز نہیں ہوا کرتا۔ مالِک خاموش اس لیے ہوجاتا ہے کہ پتنگ یا ڈَور لوٹنے کاعام رَواج ہو چلا مگر اس طرح اپنامال جانے پر دل سے راضی کون ہوسکتا ہے! اس کا بس چلے تو وہ خود ہی دوڑکر اپنی کٹی پتنگ پکڑ لے،کسی کو بھی اپنی پتنگ نہ لوٹنے دے، کبھی کبھار اپنی کٹی ہوئی پتنگ قریب گرنے پر خود لوٹنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے ۔نیز پتنگ کٹ جانے کے بعد اپنی ڈور جلدی جلدی کھینچتے اِسی لئے ہیں کہ لوٹنے والوں کے ہاتھ نہ آئے یا لٹیرے کے ہاتھ سے جتنی بچائی جاسکتی ہے بچالی جائے۔ اس کو یوں سمجھ لیں کہ اگر کوئی ڈاکو کسی کو لوٹ رہا ہو اور لٹنے والا اندر کی جیبوں کو چھپا کر یا کسی دوسرے طریقے سے بچانے کی کوشش کررہا ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بقیہ رقم کے لٹنے پر وہ راضی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فتوے میں جو پتنگ پھاڑ دینے کا ذِکر ہے یہ وہاں کیلئے ہے جہاں لڑائی جھگڑے کا اندیشہ نہ ہو، اگر فساد یابُغض و عِنادپیداہونے کی صورت ہو توفتنے سے بچنے کی صورت اختیار کرے۔ بَہَرحال پتنگ بازی کرنے والوں کی خدمتوں میں مَدَنی التجا ہے کہ اس سے توبہ کر کے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو راضی
کرلیں۔ پتنگ بازی میں اُخْروی(اُخ۔رَوی) نقصان تو ہے ہی ، اِس میں دُنْیوی (دُن۔یَوی ) طور پر بھی ہلاکت کا سامان ہے۔کئی پتنگ بازدھاتی( یعنی مَیٹل کی) ڈَور استعمال کرتے ہیں ، دھاتی ڈور والی پتنگ کٹ کر بسااوقات برقی تاروں سے جا ٹکراتی ہے اورپھر اِس سے بجلی کے ٹرانسفارمرز اور دیگر آلات کی تباہی مچ جاتی ہے اور ایک ہی دن میں کروڑوں روپیوں کا نقصان ہوجاتا ہے،کئی کئی گھنٹوں کیلئے عَلاقے تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں ، اَسپتالوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے نازُک آپریشنوں میں رُکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں ، موٹریں نہ چلنے کی وجہ سے پانی کی قِلّت(یعنی تنگی) ہوجاتی ہے،بجلی کی بار بارٹِرپِنگ(یعنی آنے جانے)سے گھریلو الیکٹرانک اشیاء اور کارخانوں وغیرہ کی صَنْعتوں کو پہنچنے والے نقصانات کا حتمی اندازہ لگانا تو مشکل ہے البتّہ ایک سروے کے مطابق 2003ء میں پتنگ کی دھاتی ڈور کی وجہ سے صرف مرکزالاولیاء لاہور میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے لیسکو(Lesco) کو اڑھائی اَرَب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا!
پتنگ بازی سے مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات بھی ہوتے ہیں ، دھاتی ڈور اگر بجلی کی تار سے چُھو جائے تو پتنگ اُڑانے والا یا پھر اس کو لُوٹنے والا بسا اوقات موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔اِس ضِمن میں معمولی تبدیلی کے ساتھ بعض لرزہ خیز اخباری خبریں مُلا حَظہ ہوں :٭2004ء میں مرکزالاولیاء لاہور کے’’ عبدُالکریم‘‘ روڈ پر
اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ایک سیلز مین نے ایک کٹی پتنگ پکڑنے کے لیے پتنگ کی دھاتی تار کا سِرا تھاما ہی تھا کہ دوسرے سرے پر بندھی پتنگ ہائی وولٹیج تاروں پر جا گری اور وہ سیلز مین کرنٹ کا شدید جھٹکا لگنے سے فوت ہوگیا٭ اسی طرح لاہور ہی میں ایک بیس سالہ نوجوان دھاتی تار والی پتنگ پکڑتے ہوئے کرنٹ لگنے سے انتِقال کرگیا٭ تاجپورہ سکیم میں گیارہ سالہ بچّے کی ماں اپنے اِکلوتے بیٹے کے لیے عید کے کپڑے خریدنے گئی ہوئی تھی اور اِدھر وہ چھت پر کھیل رہا تھا کہ ایک کٹی پتنگ اپنی دھاتی تار سمیت اُس پر آ گری اور وہ کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا٭ دھاتی ڈور کا ایک اور شکار بادامی باغ (مرکزالاولیا ء لاہور ) کا 30سالہ شخص بنا جو عید سے ایک روز قبل اتوار کو ایک کٹی پتنگ کی لٹکتی ہوئی دھاتی تار میں الجھ کر کرنٹ لگنے سے وفات پاگیا۔(بی بی سی اردو نیوزآن لائن ،فروری ۲۰۰۴ء)
کیمیکل والی ڈَور کے استعمال سے نہ صرف پتنگ باز کی اُنگلیاں زخمی ہوتی رہتی ہیں بلکہ پتنگ کٹنے کے بعد یِہی ڈور جب کسی موٹر سائیکل سُوار یا موٹر سائیکل کی ٹنکی پر بیٹھے ہوئے بچّے کے گلے پر پِھر جائے تو تیز چُھری کی طرح پلک جھپکتے میں اُسے ذَبح کر ڈالتی ہے ۔ مختلف اخبارات سے لئے گئے ایسے ہی9 عبرت ناک واقِعات معمولی سی تبدیلی کے ساتھ مُلاحَظہ کیجئے :
٭لاہور:14 سالہ طالب علم ندیم حسین شام کو ٹیوشن پڑھ کر موٹر سائیکل پر گھر واپَس آرہا تھا ، گردن پر کٹی پتنگ کی ڈَور پھر جانے سے اُس کی شہ رگ کٹ گئی، اِس سے پہلے
کہ کوئی مدد کو آتا وہ’’ کلمہ چوک‘‘ کے قریب دم توڑچکا تھا۔ لاش جب گھر پہنچی تو کُہرام مچ گیا۔ وہ میٹرک کے امتِحان کی تیّاری کررہا تھا،اِس کی بہنیں جنہوں نے اس کے تابناک مستقبِل کے حوالے سے کئی خواب دیکھ رکھے تھے، اس کی کتابیں ہاتھ میں لئے بے بسی سے آنسو بہاتی رہیں اور اُدھیڑ عمر ماں لاش سے لپٹ کر دیر تک روتی رہی ٭ مکَّھن پورہ (مرکزالاولیاء لاہور) کا ایک رہائشی اپنی اہلیہ اور تین سالہ بیٹے فہیم کے ساتھ موٹر سائیکل پر سُوار ہوکر سُسرال جارہا تھا کہ مُزَنگ کے قریب فہیم یکایک خون میں لت پت ہوگیا! دونوں میاں بیوی وَحْشت سے چیخ و پکار کرنے لگے، جب غور سے دیکھا تومعلوم ہواکہ ڈَور بچّے کی شہ رگ کاٹ چکی ہے، چند لمحوں کے اندر اندر ننّھے مُنّے فہیم نے باپ کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ( نوائے وقت ) ٭شاد باغ کا ایک نوجوان علی موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اُس کے گلے میں پتنگ کی دھاتی تار پھر گئی۔(جنگ)٭ فیروز پور روڈ پر ایک موٹر سائیکل سوارسکندر اکرام کی گردن ڈور کی زد میں آکر کٹ گئی۔(نوائے وقت)٭ (مرکزالاولیاء )لاہور کے عَلاقہ شاد باغ کا نوجوان محمد علی موٹرسائیکل پر جا رہا تھا یکایک ایک کٹی پتنگ کی شیشے کا مانجھا لگی ڈور اُس کی گردن کو کاٹ گئی اور وہ سڑک کے کنارے تڑپ تڑپ کر دم توڑگیا ٭ 14 اگست 2006ء میں سوموار کی سہ پہر تین سالہ خدیجہ یوسف اپنے والد محمد یوسف کے ساتھ موٹر سائیکل پر علامہ اقبال روڈ سے گزر رہی تھی کہ پتنگ کی ڈور اس کے گلے پر پھرنے سے اس کے گلے کی رگ کٹ گئی اور خون بہنے لگا، بچی کے والد اسے شالاماراسپتال لے گئے جہاں
ڈاکٹروں نے اس کے انتِقال کی تصدیق کردی ۔ بچّی اسلامیہ پارک کی رہنے والی تھی۔ (بی بی سی اردو 14اگست ۲۰۰۶ئ)٭(مرکزالاولیاء )لاہور:اندرونِ شہر کا رہائشی شخص اپنے ڈیڑھ سالہ بچّے عبدالرحمن کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے جارہا تھا کہ اچانک ڈَور ان کے بچّے کی گردن پر گری،بچے کے والِد کا کہنا ہے : مجھے اچانک بچّے کے رونے کی آواز آئی اور وہ میری گود میں تڑپنے لگا، اُس کی گردن خون سے بھرگئی۔ میں اُسے اسپتال لے گیا لیکن وہ جاں بَر نہ ہوسکا۔(بی بی سی اردو ۵جون ۲۰۰۶ء) ٭ 2006ء میں اتوار کے دن(مرکزالاولیائ) لاہور میں فیروز پور روڈ اِچھرہ کی سڑک پر کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور دس سالہ بچّی اقصیٰ کے گلے پر پھر گئی جو اپنے والِد کے ساتھ موٹر سائیکل پر آگے بیٹھی ہوئی تھی۔ اَقصیٰ کے والِد نے خون میں لت پت بچّی کواسپتال پہنچایا لیکن وہ بچ نہ سکی کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابِق اس کی شہ رگ گہرائی سے کٹ گئی تھی اور بہت خون بہ چکا تھا، وہ اپنے ماں باپ کی اِکلوتی بیٹی تھی۔(بی بی سی اردو ) ٭ جنوری 2013ء میں کراچی کے وَسطی عَلاقے ناظِم آباد میں 7سال کی بچّی والد کے ساتھ موٹرسائیکل پر گزر رہی تھی کہ پتنگ کی ڈور اُس کے گلے پر پھر گئی جس کے نتیجہ میں بچّی شدید زخمی ہوگئی۔بچی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن خون زیادہ بہ جانے کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکی۔ (جنگ آن لائن۲۵ جنوری ۲۰۱۳ئ)
اِسی طرح چند روپے کی پتنگ لوٹنے کے لئے لڑکے بالے ہاتھوں میں لمبی لمبی
چَھڑیاں اور بانس لئے سڑکوں پر دیوانہ وار پھررہے ہوتے ہیں ، جونہی کوئی کٹی پتنگ دکھائی دیتی ہے ان پر ایک جُنُون سا طاری ہوجاتا ہے تیز رفتار ٹریفک کی پرواہ کئے بِغیر پتنگ کے پیچھے لپکتے ہیں ، کئی بچے اور نوجوان اِس دَوران گاڑیوں سے ٹکرا کر شدید زخمی ہوجاتے ہیں بعض اوقات تو کچل کر فوت بھی ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگ چھتوں پر پتنگ لُوٹنے کی کوشش میں کئی کئی منزِلہ عمارتوں سے زمین پر جاگرتے اور اپنے ہاتھ پاؤں تُڑوا لیتے ہیں اور کئی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔جیسا کہ اخباری رپورٹ کے مطابِق ٭ 27 جنوری2004 ء کو شادی میں شرکت کے لیے اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی سے لاہور آنے والا آٹھ سالہ بچہ آہنی راڈ کے ذریعے بجلی کی تاروں سے لپٹی پتنگ اُتارتے ہوئے کرنٹ لگنے سے فوت ہوگیا٭2006ء میں چوہنگ کے رہائشی محنت کش کا 7سالہ بیٹا جو دوسری جماعت کا طالب علم تھا پتنگ کی طرف لپکا اور چھت سے گر گیا اور بری طرح زخمی ہو گیا اوراسپتال میں دم توڑ گیا ۔ جب لاش گھر پہنچی تو ماں پر غشی طاری ہو گئی٭ نوشہرہ روڈ پر 15سالہ نوجوان پتنگ بازی کرتے ہوئے مکان کی چھت سے گر ا اور موقع پرفوت ہو گیا ٭22 مارچ 2006 کو (مرکزالاولیاء ) لاہور میں ایک بچہ پتنگ لوٹتے ہوئے ٹرین کے نیچے آکر انتقال کرگیا ۔ (بی بی سی اردوآن لائن بتغیر قلیل)
جہلم (پنجاب،پاکستان) میں واقِع ایک گھر کی چھت سے بجلی کے تار بمشکِل دویا
تین فُٹ کے فاصلے پر ہوں گے، ان تاروں میں ایک پتنگ اَٹکی ہوئی تھی ، دوبچّے چھت کی مُنڈَیر پر کھڑے ہوکر اُس پتنگ کے حُصُول کی کوشش کر رہے تھے مگر ان کا ہاتھ چھوٹا تھا اور فاصِلہ زیادہ ،دونوں نے مشورہ کیا اور چھوٹے بچّے نے بڑے کی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لیں اور بڑا کچھ آگے ہو کرمُنڈَیر پر لٹک گیا جونہی اُس نے پتنگ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا ،اُس کا ہاتھ بجلی کی ننگی تار پر جاپڑا ،روشنی کا ایک جَھماکا ہوا پھر گوشت جلنے کی بُو آنے لگی ،چھوٹا بچّہ ایک جھٹکے سے گرا،اُٹھا اور تیزی سے نیچے بھاگا ،جتنی دیر میں گھر والے اُوپر پہنچے ،تاروں میں جُھولتا بچّہ جل کر کباب ہوچکا تھا ۔
ایک سَروے کے مطابِق 2000ء سے2006ء تک صِرْف چھ سال کے عرصے میں 825افراد اس پتنگ بازی کی وجہ سے فوت ،سینکڑوں زخمی اورکئی افراد عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے ۔17مارچ 2008ء میں ایک اخبار میں یہ افسوسناک خبر شائع ہوئی کہ کامونکی میں پتنگ بازی کرتے ہوئے 9بچّے چھت سے گرے اور شدید زخمی ہوئے جن کو اسپتال میں داخِل کرادیا گیا۔ اِس طرح کے کئی واقِعات کی وجہ سے چند سال سے بسنت میلے اور پتنگ بازی پر قانونی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے جو تادمِ تحریر برقرار ہے۔
2013ء میں قانوناً پابندی کے باوُجُود بعض شہروں میں بسنت منائی گئی ،
اخبارات کے مطابِق حُکومتی پابندیوں کے باوُجُود مختلف علاقوں میں پتنگ بازی کے دَوران چھت سے گرنے، دھاتی ڈَورپِھرنے اور ہوائی فائرنگ سے 3بچّے فوت اورایک لڑکی سمیت 44افراد شدید زخمی ہو گئے۔ راولپنڈی شہر میں جمعہ کے روز بَسَنْت کے موقع پر پتنگ کی کیمیکل لگی ڈور، ہوائی فائرنگ، دھینگا مُشتی(یعنی ہُلّٹربازی) اور چھت سے گر کر 3 بچّے فوت اور تقریباً 40 افراد شدید زخمی ہوگئی٭ ایک بچّی سر میں گولی لگنے سے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتَلاجبکہ٭ دھاتی ڈَور کے کرنٹ سے ایک بچّہ قَومے میں چلا گیا٭ کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔یہ سلسلہ سارا دن اور ساری رات جاری رہا، پورا شہر ہوائی فائرنگ سے گونجتا رہا٭(مرکزالاولیائ) لاہور میں شادباغ کے عَلاقے میں 18سالہ نوجوان پتنگ بازی کرتے ہوئے چھت سے نیچے گرکر شدید زخمی ہو گیا٭ایک نوجوان چھت پر پتنگ بازی کر رہا تھا اِس دوران پاؤں پھسل جانے کے باعث وہ نیچے گرکر شدید زخمی ہو گیا۔ اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ٭ کامونکی میں دھاتی ڈورپِھرنے سے کمسن بچّے سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئی٭ پتنگ بازی کے نتیجے میں ’’ غَلّہ منڈی‘‘ کا سات سالہ بچّہ، رسول نگر کا نوجوان، دَرویش پورہ کا ایک نوجوان اور پُرانی آبادی کاایک نوجوان شدید زخمی ہو گئی٭ پتنگ بازی کے دَوران’’ راولپنڈی‘‘ میں ہوائی فائرنگ سے 12سالہ لڑکی شدید زخمی ہو گئی٭ ادھر’’ گوجرانوالہ ‘‘میں پابندی کے باوُجُود دھاتی ڈَور گلے میں اور منہ پرپِھرنے کے باعث کمسِن بچّے سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے ٭ سیٹلائٹ
ٹاؤن کا عدیل اپنے تین سالہ بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا نوشہرہ روڈ کے قریب کمسن بچّے کے گلے میں اچانک پتنگ کی دھاتی ڈورپِھر گئی جس کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گیا ٭علاوہ ازیں شاہین آباد میں موٹر سائیکل پر جانے والے عبداللطیف کے چہرے پرپتنگ کی ڈور پھر گئی جسے مقامی اسپتال میں لے جایا گیا٭قانونی پابندی کے باوُجُود گزَشتہ روز شہریوں نے مختلف عَلاقوں میں پتنگ بازی کرکے قانونی پابندیوں کو ہوا میں اُڑا دیا٭ راولپنڈی پولیس نے پتنگ بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دَوران 30سے زائد افراد کو گرفتار کرکے پتنگیں اور ڈَوریں برآمد کرلیں جن میں کیمیکل والی ڈور بھی شامل ہے۔(نوائے وقت آن لائن 9مارچ 2013 ء بالتصرف)
بَسَنْت میں وقفے وقفے سے ہوائی فائرنگ کا بھی سلسلہ رہتا ہے جس سے دل کے مریض ، چھوٹے بچے اور گھریلو خواتین سہم جاتی ہیں۔بندوق سے نکلی ہوئی گولی بعض اوقات کسی کو جالگتی ہے جس سے وہ زخمی ہوجاتا ہے یا پھر جان سے جاتا ہے،چُنانچِہ ایک اخباری اطِّلاع کے مطابق (مرکزالاولیاء ) لاہور میں فروری 2007ء میں بسنت کے موقع پر تین بچّیگولی لگنے سے فوت ہوگئے۔ (بی بی سی اردو آن لائن25فروری2007ئ)
اسلام اورمسلمانوں کی مَحَبَّت کا دم بھرنے والیمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہتَعَالٰی
آپ پر رَحْم فرمائے!یقینایہ واقِعات نہایت افسوس ناک ہیں ،بَسَنْت کے میلے کے باعِث کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے ،اَسپتال زخمیوں سے بھر جاتے ہیں ،دیکھتے ہی دیکھتے موٹرسائیکل سُواروں کے گلے کٹ جاتے ہیں ،کتنے ہی بچّے اور نوجوان بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے لٹک کر لقمۂ اَجَل بن جاتے ہیں ،گھروں کی چھتوں سے گر کر معذور ہو جانے والوں کا توکوئی شمار ہی نہیں ، صد کروڑ افسوس!اجتماعی طور پر ربِّ غفّار عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانیاں کرکے اپنے آپ کو عذابِ نار کا حقدار بنایا جاتا ہے،آپس میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ، پڑوسیوں کو تنگ کیاجاتا ہے ، نَمازیں ضائع کی جاتی ہیں ،مال فُضُول اُڑایا جاتا ہے ،اپنا انمول وقت گناہوں میں گزاراجاتا ہے، بَسَنْت اس طرح کی بَہُت ساری نحوستیں لٹاتی ہے۔کیا کوئی حقیقی عاشقِ رسول’’ بسنت ‘‘کی تائید کرسکتا ہے ؟ نہیں نہیں اور ہرگز نہیں۔ تاشے باجے بجانا، پتنگ بازی کرنا وغیرہ لَھْو و لَعِب میں داخِل ہے اور قراٰنِ کریم میں اِس کی مُمانَعَت کی گئی ہے چُنانچِہ پارہ 21سُوْرَۃُ لُقْمٰن آیت نمبر6 میں ارشادِ ربُّ العِباد ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۶)
ترجَمۂ کنزالایمان :اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی
اِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :لَہْویعنی کھیل ہر اُس باطل کو کہتے ہیں جو آدَمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے ۔(خزائن العرفان ) مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّتحضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس آیت کے تحت فرماتے ہیں : معلوم ہو اکہ باجے ، تاش، شراب بلکہ تمام کھیل کُود کے آلات بیچنا بھی منع ہیں اور خریدنا بھی ناجائز کیونکہ یہ آیت ان خریداروں کی برائی میں اُتری۔ اسی طرح ناجائزناول ، گندے رسالے، سینما کے ٹکٹ ، تماشے وغیرہ کے اسباب سب کی خریدو فروخت منع ہے کہ یہ تمام’’ لَہْوَ الْحَدِیْث ‘‘ (یعنی کھیل کی بات)ہیں۔(نور العرفان)
بَسَنْت میلے میں رات ہی سے کان پھاڑ آواز میں جدید ترین ساؤنڈ سسٹم کے ذَرِیعے بڑے بڑے اسپیکروں پربے ہنگم مُوسیقی بجائی جاتی اور بے ہودہ بسنتی گانوں سے مَحَلّے اور بازار گونجنے لگتے ہیں بالخصوص ننّھے ننھے بچّوں ، عمر رسیدہ بُزرگوں ،بستر پر سسکتے مریضوں کی رات کی نیند اور دن کا سکون برباد کیا جاتا ہے۔مُوسیقی سننا سنانا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ ابن عابِدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی لکھتے ہیں : (لچکے توڑے کے ساتھ) ناچنا، مذاق اُڑانا، تالی بجانا،(نیز آلاتِ موسیقی جیسا کہ) سِتار کے تار بجانا، بَربَط، سارنگی ، رَباب، بانسری ، قانون ، جھانجھن، بِگل بجانا مکروہِ تحریمی (یعنی قریب بہ حرام ) ہے کیونکہ یہ سب کُفّار کے شِعار(یعنی طور طریقے) ہیں ، بانسری اور دیگر سازوں کا سننا
بھی حرام ہے اگر اچانک سُن لیا تو معذور ہے۔(رَدُّالْمُحتار ج ۹ص۶۵۱)بیان کردہ کیفیت میں مریضوں وغیرہ کی ایذا رسانی کا بھی سامان ہے اور اگرمعلوم ہونے کے باوُجُود مُوسیقی سے کسی کو ایذا پہنچائی تو یہ بھی گناہ وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نَقْل کرتے ہیں :سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ۔(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی اُس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو ایذا دی۔( مُعْجَم اَ وْسَطج۲ ص۳۸۷ حدیث ۳۶۰۷) اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ایذا دینے والوں کے بارے میں پارہ22 سُوْرَۃُ الْاَحْزَابآیت 57 میں ارشاد ہوتاہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۵۷)
ترجَمۂ کنزالایمان: بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کوان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں اور اللہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
بَسَنْت کے موقع پر مرکزالاولیاء( لاہور) میں ایک سال ایک تجارَتی کمپنی نے شہر
میں جابجا ’’ٹرالر‘‘ کھڑے کر دیئے جن پر لڑکے اور لڑکیاں گانوں کی دُھنوں پر بے ہُودہ قسم کا ڈانس کرتے تھے ۔ ماڈل ٹاؤن میں بھی اِسی کمپنی کا ٹرک(TRUCK) مسجد سے تقریباً 20فُٹ کے فاصلے پر کھڑاکر دیا گیا۔ اذان اور نَماز کے اوقات میں بھی یہ لوگ ناچ گانے میں بد مست رہے۔ا سپیکروں کی کان پھاڑ آوازوں ،شَرْمْناک گانوں ،بے ڈھنگے ناچ نخروں اور اُودھم بازیوں سے بیزار ہو کر مقامی لوگوں نے مُشتعِل ہوکر اُس ٹرالر پرہَلّہ بول دیااورناچ گانے کا سلسلہ زبردستی بند کروایا۔
مسلمانوں کی حالتِ زار پر افسوس کااظہارکرتے ہوئے، دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 246 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ اسلامی زندگی ‘‘ صَفْحَہ137پر مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : سینما مسلمانوں سے آباد، کھیل تماشوں میں مسلمان آگے آگے ، تیتربازی ، بٹیر بازی اور پتنگ بازی، مرغ بازی غرض ساری بازیاں اور ہلاکت کے سارے اَسباب مسلم قوم میں جَمْع ہیں۔ (اسلامی زندگی ص۷ ۱۳)
بعض بڑے بڑے ہوٹلوں ، کوٹھیوں ، بنگلوں ، گھروں ،دفتروں کی چھتوں اور پارکوں میں بَسَنْت میلا منانے والی بے پردہ عورَتوں اور مَردوں کی مخلوط محفلیں سجائی جاتی
ہیں ،طرح طرح کی تراش خراش والے اورنیم عُریاں لباس زیبِ تن کئے جاتے ہیں جن سے بدنگاہی کا بازار خوب گرْم ہوتا اور عِشق وفسق کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، شراب کے جام پر جام لُنڈھائے جاتے ہیں ، موسیقی کی دُھنوں پر جوان لڑکے اور لڑکیاں نہایت بے حیائی کے ساتھ ناچتے گاتے ہیں۔
اے اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ماننے والے اسلامی بھائیو اور اسلامی بہنو! شریعت میں شراب پینا پلانا بھی حرام اورناچنا گانا بھی حرام ہے اور یہ سب جہنَّم میں لے جانے والے کام ہیں۔سنو!سنو!فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: جس نے دنیا میں شَراب پی اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے کالے سانپوں کے زہر کا ایسا گُھونٹ پِلائے گا کہ جسے پینے سے پہلے ہی اُس کے چِہرے کا گوشت برتن میں گر جائے گا، اور جب وہ اسے پئے گا تو اُس کا گوشت اور کھال جَھڑ جائے گی جس سے دوزَخیوں کو بھی اذیَّت پہنچے گی، یاد رکھو! بے شک شراب پینے والا، بنانے اور بنوانے والا، اُٹھانے اور اُٹھوانے والا اور اِس کی کمائی کھانے والا، سب گناہ میں شریک ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نہ تو ان میں سے کسی کی کوئی نَماز قَبول فرمائے گا، نہ روزہ اور نہ ہی حج یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں ، اگر بِغیر توبہ کئے مر گئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حق ہے کہ انہیں دنیا میں پئے ہوئے ہر گُھونٹ کے بدلے جہنَّم کی پِیپ پلائے ۔ جان لو! ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر شراب حرام ہے۔ (جہنّم میں لے جانے والے اعمال ج۲ ص۵۸۲،الزواجرج۲ ص ۳۱۶ )
دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ853 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’جہنَّم میں لے جانے والے اعمال‘‘جلد2 صَفْحَہ586پر ایک ’’کفن چور‘‘ کی طویل حکایت کاکچھ حصّہ اپنے انداز میں پیش کرتاہوں ، چُنانچِہ ایک توبہ کرنے والے کفن چور کابیان ہے: میں نے کفن چُرانے کیلئے جب ایک قبر کھودی تو ایک دل ہلا دینے والا منظر میرے سامنے تھا !کیا دیکھتا ہوں کہ مرنے والا خِنزیر یعنی سُور بن چکا ہے اور اُسے طَوق اور بیڑیوں سے جکڑ دیا گیاہے !میں خوف سے تھرّا اٹھا ۔۔۔۔کہ ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا ! کوئی کہہ رہا تھا:’’ اِس کے عذاب کا سبب یہ ہے کہ یہ شخص شراب پیتا تھا اور توبہ کئے بغیر مر گیا۔‘‘ (الزواجرج۲ ص۳۱۸)
کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہو گی کڑی(وسائلِ بخشش ص۶۶۷)
حدیثِ پاک میں ہے کہ شرابیپُل صراط پر آئیں گے تو جہنَّم کے فرشتے انہیں اُٹھا کر نَھْرُالْخَبال کی طرف لے جائیں گے، پس وہ شراب کے پئے ہوئے ہرگلاس کے بدلے نَھْرُ الْخَبال سے پئیں گے او روہ ایسا مَشروب ہے کہ اگر اسے آسمان سے بہا دیا جائے تو اس کی حرارت(یعنی گرمی) سے تمام آسمان جَل جائیں۔(جہنّم میں لے جانے والے اعمال ج۲ ص۵۸۲،الزواجرج۲ ص۳۱۶،کتاب الکبائر ص۹۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہتَعَالٰی آپ پر اور مجھ پر رَحم کرے اور ہمیں جہنَّم کے سخت گَرْم اور کھولتے ہوئے مَشروب (DRINK)سے بچائے۔ اٰمین۔ برائے کرم! شراب نوشی سے بچ کر رہئے اگر کبھی پینے کی بھول کر بیٹھے ہیں تو سچّی توبہ کرلیجئے، جو خوفِ خدا کے سبب شراب چھوڑے گا اُسے جنت میں بھر بھرکر جام پینے کو ملیں گے ،چُنانچِہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے، اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: ’’ قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پیے گا، میں اُس کو اُتنی ہی پِیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گا، میں اُس کو قیامت کے دن پاکیزہ حوضوں (یعنی جنت کے حوضوں ) سے پلاؤں گا۔‘‘(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۸ص۳۰۷حدیث۲۲۳۷۰)
اے اللہ و رسول سے مَحَبَّت کرنے والے مسلمانو! آخِر کب تک ایک گستاخِ رسول کی یاد میں جاری ہونے والے گناہوں سے بھر پور بسنت میلے کے ذَرِیعے آپ خداو مصطَفٰےعَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نارا ضیاں مول لیتے رہیں گے؟ گناہوں کے کیچڑ میں لت پت رہتے ہوئے اگر موت کا شکار ہو گئے تو کیا بنے گا! کبھی آپ نے نَزْع کی سختیوں پر غور فرمایا ؟ کبھی روح نکلتے وقت ہونے والی تکلیفوں کے بار ے میں سوچا؟ سنو! سنو! حضرت ِعلّامہ امام جلالُ الدّین سُیوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل کرتے
ہیں :’’موت دنیا و آخِرت کی ہولناکیوں میں سب سے بڑھ کر خوفناک ہے، یہ آروں سے چیرنے ، قینچیوں سے کانٹنے اور ہانڈیوں میں اُبالنے سے زائد(تکلیف دِہ) ہے، اگر مُردہ زندہ ہو کر موت کی سختیاں لوگوں کو بتا دے تو اُن کی نیندیں اور عیش وآرام سب کچھ ختم ہو جاتا۔‘‘(شَرْحُ الصُّدُور ص۳۳)
ہم چند مِنَٹ کی لذّت کی خاطِر کتنا بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں اِس بات کو اِس روایت سے سمجھنے کی کوشِش کیجئے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 504 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’مِنھاجُ العابِدین‘‘ صَفْحَہ141پر حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں ، منقول ہے: ’’بے شک سکراتِ موت کی شدّت دنیا کی لذَّتوں کے مطابِق ہے۔‘‘ تو جس نے زیادہ لذَّتیں اُٹھائیں اُسے نَزْع کی تکلیف بھی زیادہ ہو گی۔ (مِنہاجُ العابدِین ص۸۵)
اے قراٰنِ کریم کے ہر ہر حرف پر ایمان رکھنے والے پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اپنی زندَگی کا مقصد سمجھنے کی کوشِش کیجئے ، عمرِ عزیز کے انمول ہیرے پتنگ بازی اور کھیل تماشوں پربرباد مت کیجئے۔ خدا کی قسم ! ہمیں دُنیا میں کھیل کُود کیلئے نہیں بھیجاگیا ،سنو سنو! اللہ تَعَالٰی پارہ 27 سُورَۃُ الذّٰرِیٰت آیت نمبر56 میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور میں نے جِنّ اور آدَمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندَگی کریں۔
پارہ18سُوْرَۃُ الْمُوْمِنُوْنَ آیت 115میں ارشادِ الٰہی ہے:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)
ترجَمۂ کنز الایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں۔
اِس آیتِ مبارَکہ کے تَحت صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیخزائنُ العِرفان میں فرماتے ہیں : اور(کیا تمہیں ) آخِرت میں جزا کے لئے اُٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازِم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جَزا(یعنی بدلہ) دیں۔(خزائن العرفان ص ۶۴۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ تَعَالٰی آپ پراپنا فَضل وکرم فرمائے، نیکیوں اور سنّتوں بھری طویل زندگی دے اور بے حساب بخشے۔ اٰمین۔ہاتھ باندھ کر عرض ہے:اگر آپ نے کبھی پتنگ بازی کی ہو تو ہاتھوں ہاتھ اس سے بلکہ اپنے سارے ہی گناہوں سے سچّی توبہ کرلیجئے ،بطورِ ترغیب ایک پتنگ باز کی توبہ کی’’ مَدَنی بہار‘‘ مُلاحَظہ کیجئے چُنانچِہ بابُ المدینہ
کراچی کے ایک اسلامی بھائی کی تحریر بِا لتَّصَرُّف پیش کرتا ہوں : افسوس ! میری پچھلی زندَگی سخت گناہوں میں گُزری، میں پتنگ بازی کا شوقین تھانیز وِڈیو گیمز اور گولیاں کھیلنا وغیرہ میرے مَشاغِل میں شامِل تھا۔ ہر ایک کے مُعامَلے میں ٹانگ اَڑانا، خوامخواہ لوگوں سے لڑائی مول لینا، بات بات پرمار دھاڑ پر اُتر آنا وغیرہ میرے معمولات تھے۔خوش قسمتی سے ایک اسلامی بھائی کی انفِرادی کوشِش پر میں رَمَضانُ المبارَک کے آخِری عَشرے میں عَلاقے کی مسجد میں مُعْتَکِف ہو گیا۔ مجھے بَہُت اچّھے اچّھے خواب نظر آئے اور خوب سُکون ملا۔ میں نے مزید دو سال اِعْتِکا ف کی سعادت حاصِل کی۔ ایک بار ہماری مسجِد کے مُؤَذِّنصاحِب انفِرادی کوشِش کر کے مجھے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اجتِماع میں لے آئے۔ ایک مبلِّغ بیان کر رہے تھے، سفید لباس اور کتھئی چادر میں ملبوس، چِہرے پر ایک مُشت داڑھی اور سر پر عمامہ شریف کے تاج والا ایسا بارونق چِہرہ میں نے زندَگی میں پہلی بار ہی دیکھا تھا۔ مبلِّغ کے چِہرے کی کشِش اورنُورانیّت نے میرا دل مَوہ لیا اور میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آ گیا اور اب (تادمِ تحریر)دو سال سے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ(بابُ المدینہ)ہی میں اِعتکاف کرتا ہوں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّمیں نے ایک مُٹّھی داڑھی بھی سجا لی ہے۔( فیضانِ سنّت ج۱ص۱۳۷۹بتغیر قلیل)
مَست ہر دَم رہوں میں دیدے اُلفت کا جام یا اللہ
بھیک دیدے غمِ مدینہ کی بہرِ شاہِ انام یا اللہ
ایک چُپ سو۱۰۰ سُکھ
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
![]()
۲۵ جمادی الاخری۱۴۳۶ھ
2013-05-06
|
کتاب |
مطبوعہ |
کتاب |
مطبوعہ |
|
قراٰن مجید |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
شرح الصّدور |
مرکز اہلسنت برکات رضا الہند |
|
خزائن العرفان |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
الزواجر |
دار المعرفۃ بیروت |
|
نور العرفان |
پیر بھائی کمپنی مرکز الاولیاء لاہور |
کتاب الکبائر |
پشاور |
|
مسند امام احمد |
دار الفکر بیروت |
جہنّم میں لے جانے والے اعمال |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
معجم ا وسط |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
ردّالمحتار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
فردوس الاخبار |
دار الفکر بیروت |
فتاوٰی رضویہ |
رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور |
|
منہاج العابدین |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
اسلامی زندگی |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
[1] ۔۔۔ ۱ ؎ : Punjab under the later Mughals ص۲۷۹ مطبوعہ لاہور،روزنامہ نوائے وقت 4فروری 1994ء بالتصرف