سبب حدیث:

عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں کہ حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:’’اے لوگو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےتم پرحج فرض  کیا ہے، پس تم حج کرو۔‘‘ایک  شخص  نےعرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!کیاہرسال حج  فرض ہے؟‘‘آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے سکوت فرمایا یہاں تک  کہ اس نےتین مرتبہ یہی بات پوچھی۔پھرآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اگرمیں ”ہاں “ کہہ دیتاتو تم پرہرسال حج فرض ہوجاتااورتم اس کی طاقت نہ رکھتے۔‘‘پھرآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حدیث مذکور ارشاد فرمائی۔دارقطنی میں ہے کہ اسی معاملے میں یہ آیت نازل ہوئی:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ- (پ۷،المائدۃ:۱۰۱)

 ترجمہ ٔ کنزالایمان:اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پرظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں ۔

تفسیر ِطبری میں بھی   تقریباًاسی   طرح منقول ہے ۔([1])

جتنا کہا جائے اتنے پر عمل کرو:

حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے اس ارشادتم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، میں تمہیں چھوڑ دوں ۔“کے تحت فرماتے ہیں :’’یعنی مجھ سے یہ سوال نہ کروکہ کتنا ہےاورکیوں ہےجب تک  میں خودبیان نہ کروں کہ کتناہےاورکیوں ہے یعنی جتنا میں کہوں اتنے پرعمل کرو،اگرمطلق حکم دوں تواس کےمطابق عمل کرواورتعیین کردوں تواس پر عمل کرو، کیونکہ مجھےشرعی اَحکام بیان کرنےکے‏لیےبھیجاگیاہے، جو حکم ہو گا وہ میں تمہارے پوچھے بغیر ہی بیان کر دوں گا۔‘‘([2])


 

کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاکت:

مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :’’بے شک! تم سے پہلے  کے لوگ کثرتِ سوال  اور اپنے نبیوں  سےمخالفت کےسبب ہلاک ہوئے۔یعنی تم  سے پہلے یہودونصاریٰ کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاک کیے گئے۔جیساکہ ان کا( حضرت سَیِّدُنَاموسٰی عَلَیْہِ السَّلَامسے) دیدار الٰہی  اور کلام  کا سوال کرنا،گائے ذبح کرنے کے معاملے میں بِلا وجہ سوالات کرنا وغیرہ ۔ان کے سوال کے بعد اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام جب انہیں کسی چیز کاحکم دیتے تو وہ اس  کی مخالفت  کرتے لہٰذاوہ ہلاک  کر دیے گئے۔ سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جب میں  کسی فرض  کا حکم دوں تو اسےحسبِ طاقت ادا کرو، کیونکہ جو تمام فرائض  ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ انہیں کلیۃً ترک  نہ کرے۔‘‘([3])(بلکہ  جس کی طاقت ہو اسے بجالائے ۔)

عذرشرعی کی بِناپراَحکام میں تخفیف:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو ا سےچھوڑدو ۔یہ فرمان عالی مطلق ہے کیونکہ  مجبوری کے وقت  بعض ممنوع چیزیں  مباح ہو جا تی ہیں جیساکہ مجبوری وحالت اِضطرار میں مُردار کھانا،شراب پینایاکلمۂ کفر منہ سے نکالنا (جبکہ  دل ایمان پر مطمئن ہو) اسی طرح اور بھی  کئی  مسائل ہیں ۔یہ حدیث جوامِعُ الکَلِم اور قواعدِ اِسلامیَّہ میں سے ہےاور اِس اُصول میں بےشماراَحکام داخل ہیں ۔‘‘([4])

عدمِ جواز کے لیے دلیل ضروری ہے:

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیث پاک کے اس حصے:’’جب کسی بات کا حکم دوں تو اسے اپنی  طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔‘‘کے تحت فرماتے ہیں :’’یعنی میرے اَحکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم،یہ دونوں کام بقدر طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ


 

 پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو،اگر جان پر بن جائے تو مُردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حُرمت و مُمانعت کے لیے نہی لازم،جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے،ربّ تعالٰی فرماتا ہے:( وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ- )(پ۲۸، الحشر: ۷)(ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اورجو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔)بعض جو کہتے ہیں کہ ’’جو کام حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے نہ کیا ہو وہ حرام ہے۔‘‘ غلط ہے، قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔‘‘([5])

مدنی گلدستہ

سَیِّدَہ’’فاطمہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)       کثرتِ سوال اور بے جا اختلاف سے بچنا چاہیے کہ بندہ  ان کی وجہ سے  بسا اوقات مصائب میں  بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔ 

(2)       ممنوعاتِ شرعیَّہ  سے بچنا ضروری ہے، اسی میں ہمارے ‏لیے عافیت اور آخرت کی بہتری ہے ۔

(3)       عذرکی وجہ  سےاحکام  شرعیَّہ میں تخفیف مل جانا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا بہت بڑا فضل ہے  کہ اس  نے  ہماری کمزوری و ضُعف کی وجہ سے آسانی عطافرمائی۔

(4)       احکامِ شرعیَّہ رحمتوں کا خزینہ ہیں ،ان میں کیوں ،کب،اور کیسے کی  گنجائش نہیں ۔

(5)       جیسے وجوب وفرضیت کے لیے  دلیل شرعی  ضروری ہے ایسے ہی حرمت  وممانعت کے لیے بھی  دلیل لازم ہے اور جس  چیز  کا حکم اورممانعت نہ ہو وہ جائز ہے۔

 اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرتِ سوال سے محفوظ فرمائے اور ایسےاِختلافات سے بھی محفوظ فرمائے جو اُمَّت مسلمہ اور دنیا وآخرت کے ‏لیے نقصان کا باعث ہوں ۔


 

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:157                                                 

رسول اللہ کی صَحَابۂ کرام کو وَصِیَّت

عَنْ اَبِي نَجِيْحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ، فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ! كَاَ نَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا قَالَ: اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَ اِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ،وَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اِخْتِلَافاً كَثيراً، فَعَليْكُمْ بسُنَّتِي وسُنَّةِ الخُلَفاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِیِّینَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بالنَّواجِذِ، وَاِيَّا كُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الاُمُورِ  فاِنَّ  كلَّ  بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ.([6])

ترجمہ  :حضرتِ سَیِّدُناابونَجِیح عِرباض بن سارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی  ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل  خوف زدہ  اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! یہ تواَلْوَداعی وعظ معلوم ہوتاہے،آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے، (حاکم  کی)بات سننے اور اِطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ کسی  غلام  کو تم پر  حاکم بنادیا جائے۔اور بے شک !تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت  اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت  اختیار کرنا لازم ہے،اسے مظبوطی سے تھامے رکھنااور اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا ،بے شک ہر نئی بات (جو خلافِ شرع ہو) گمراہی ہے۔‘‘

آخرت کاخوف دلانے والاوعظ:

اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضورنبی


 

 کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے  ایک ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل  خوف زدہ ہو گئے اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے:(وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا(۶۳)) (پ۵، النساء: ۶۳)(ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور اُن کے معاملے میں اُن سے رسا بات کہو۔)حدیث مذکور میں بہنے کی نسبت آنکھوں کی طرف کی گئی  جیسا  کہ قران مجید میں ہے:( تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ) (پ۷،المائدۃ: ۸۳) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں ۔)گویا کہ آنسوؤں کی جگہ ان کی آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ یہ  رونے میں مبالغہ بیان کرنے کے ‏لیے ہے ۔(صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے  وعظ  کوالوداعی وعظ کہا)کیونکہ وصیت کرنے والا بوقت رُخصت  بہت اہم اور ضروری باتیں  بیان کرتا ہے  ۔‘‘([7])

الوداعی  نصیحت کی کیفیت:

امامِ جلیل عِارِف بِاللّٰہحضرت سَیِّدُنَا علّامہ عبدالغنی نابُلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضورنبی  رحمت شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے الوداع کہنے والے کی طرح نصیحت فرمائی یعنی ایسے شخص کی  طرح وصیت کی جو اپنی قوم کو چھوڑ کر جارہاہواوراُنہیں  ضروری باتوں کی  وصیت کرے تو ایسا شخص  نصیحت کرتاہے ، خوف دلاتا ہے ، زجر وتوبیخ   کرتا ہے اوراپنی مخالفت سے ڈراتا ہے اوریہ صرف اُن کی بھلائی کی اِنتہائی چاہت کے سبب کرتا ہے کہ کہیں وہ اِس کے بعدگمراہ نہ ہوجائیں ۔ حدیثِ مذکورمیں اس طرف اشارہ ہے کہ  مبلغ  بیان کرتے وقت حاضرین کونصیحت کرنے میں پوری کوشش کرے اور کوئی ایسی فائدہ مند بات ترک نہ کرے جس کے متعلق جانتاہوکہ حاضرین اس کے ‏لیے دوسری مجلس کے محتاج ہوں گے کیونکہ دوسری مجلس تک زندہ رہنے کاکوئی بھروسہ نہیں ۔اور مبلغ  کو  چاہیے کہ  بغیرمشقت اٹھائے  حسبِ موقع  حاضرین کو( عذاب سے) ڈرائے اور زجر وتوبیخ کرے۔البتہ !اس کی عادت نہ بنائے جیسا کہ حضور نبی  رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامبارک عمل تھاکہ کبھی ڈراتے اورکبھی نہ ڈراتے ۔‘‘([8])


 

تقویٰ کی اقسام اور اُن کے شرعی اَحکام:

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :’’صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں وصیت فرمائیے۔‘‘یعنی اگر معاملہ ایسا ہی ہے  کہ وقتِ رخصت ہےتو ہمیں ایسا حکم ارشاد فرمائیے جس میں آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد ہماری دنیوی اور اُخْروی زندگی کے ‏لیے کامل رُشدو ہدایت  ہو۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔“ یعنی اس کی نافرمانی سے بچنے اور اُس کے عذاب سے ڈرنے کی۔ فرمان ِ خداوندی ہے: (وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-) (پ۵، النساء: ۱۳۱) ترجمہ ٔ کنزالایمان: اوربے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی تقویٰ کی  اِن تینوں اقسام کی تاکید کردی ہے:

(۱)تقوٰیٔ شرک یعنی شرک سے بچو۔

 (۲)تقوٰیٔ معصیت یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی سے بچو۔

(۳)تقوٰیٔما سِوَی اللہیعنی  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے علاوہ  ہر چیز سے بچو۔

اوریہ کلام آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے جَوامِعُ الْکَلِمسے ہےکیونکہ تقویٰ نام ہے تمام احکامات بجا لانے اور ممنوعات سےاجتناب کرنے کا۔اور تقویٰ ہی ہےجو تمہیں اَبَدی عذاب سے نجات دیتا،  خوشی والے گھر(جنت) تک پہنچاتااور ربّ ذوالجلال کے درِ رحمت  پر لے جاتا ہے اورمیں تمہیں خلیفۂ وقت کی بات سننے کی وصیت کرتاہوں اورجسے تمہارا حاکم بنایا گیااس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں جب تک کہ وہ خلافِ شرع حکم نہ دے،اس کا حکم مانو، خواہ وہ عادل ہو یا ظالم۔ ہاں !خلافِ شرع حکم دے تو نہ مانو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔ لیکن اُس سے جنگ کرنا جائز نہیں ۔ اگرچہ وہ حاکم جسے خلیفۂ وقت نے تم پر مقرر کیا ہے حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ،پس اس کی اطاعت کرو اور اس کے نسب کی طرف مت دیکھو بلکہ اُس کے مقام ومرتبے کی طرف نظر کرو۔‘‘([9])


 

کیاغلام حاکم وامیر بن سکتاہے؟

حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبدالحقمُحَدِّثدہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’امیر کی طاعت کرو اگرچہ  غلام ہی کیوں نہ ہو۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس ارشاد سے امیر کی اطاعت  میں مبالغہ  مقصود ہےورنہ  غلام حاکم و امیر بننے کا اہل نہیں کیونکہ حاکم و امیر کے ‏لیے آزاد ہونا شرط ہے۔یہ کلام بالکل اُس حدیث کی طرح ہے جس میں فرمایا  گیا کہ:”جس  نےمسجد بنائی  اگرچہ  چڑیا کے گھونسلے جتنی ہو اُس کے ‏لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ظاہر ہے  چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے مقصود  چھوٹی مسجد کی شان بطورِ مبالغہ بیان کرنا ہے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ حبشی غلام سلطانِ کبیر کانائب ہوتواس صورت میں سلطان کے حکم کی وجہ  سےاُس غلام کی اطاعت بھی ضروری ہو گی۔‘‘([10])

رسولِ خدا کاعلم غیب:

دلیلُ الفالحین میں ہے:’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلافات دیکھے گا۔‘‘یہ فرمان ِعالی آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے کہ جو  کثیراختلافات آپ کے بعد واقع ہوں گےان کی  پہلے ہی خبر دے دی ۔ بے شک! آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم ان تمام واقعات کو (جو مستقبل میں وقوع پزیر ہونے والے ہیں ) اِجمالی و تفصیلی طور پہ جانتے ہیں  کیونکہ یہ بات  اَحادیث صحیحہ  سے ثابت ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو جنتیوں اور جہنمیوں کے ٹھکانے دکھا دیئے گئے ، لیکن آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم عموما ًہر کسی کو اس  بارے میں بتانے سے احتیاط فرماتے ،کسی کسی کو بتاتےجیسا کہ حضرت  سَیِّدُنَا حذیفہ اور حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا وغیرہ۔‘‘ارشاد فرمایا: ’’جب  تم کثیر اختلاف دیکھو توتم پر لازم ہے کہ اس وقت میری سنت  وسیرت اوراَحکامِ اعتقادیہ،عملیہ،واجبہ،مندوبہ  پر عمل کرنا اور(میرے بعد) میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنااور وہ  حضرت سَیِّدُنَاابو بکرصدیق ، سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظم ، سَیِّدُنَاعثمان غنی ،سَیِّدُنَا


 

 علی المرتضیٰ اور سَیِّدُنَا امام  حسن بن علیرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ہیں ۔‘‘([11])

وِصال ظاہری  کے بعداختلافات:

عَارِفْ بِاللہ عَلَّامَہ عَبْدُالْغَنِی نَابُلُسِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’رحمت عالم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’تم میں سے جو زندہ رہے گاوہ کثیر اختلافات دیکھے گا۔‘‘یہ آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد  وقوع  ہونے والے اُمور کے بارے میں غیبی خبر ہے۔چنانچہ سب سے پہلا اختلاف خلافت کے معاملے میں حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ اورحضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے  مابین ہوا  اوراس  معاملے میں حضرات صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن  کی اِجتہادی  آرائیں بھی مختلف تھیں اوربے شک!  وہ اپنے اجتہادمیں ثواب کے حقدار ہیں ۔اگرچہ بعض سے اجتہادی خطابھی ہوئی مگر اُن کا اختلاف محض اپنی ذات کے ‏لیے نہ تھا بلکہ دین  کے ‏لیے تھا ۔نیزیہ غیبی خبراُن  جنگوں اور کثیر اختلافات کو بھی شامل ہے جو مسلمان بادشاہوں اور اُمَرا کے درمیان ہوئے اور اُس وقت سے آج تک جاری ہیں ۔نیز اُمورِ دین میں بھی علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے مابین اختلافات ہو ئےاور اُن سے منقول اَقوال، اَعمال اور اِعتقاد ات مختلف ہوگئے اوروہ اُصول وفُروع میں بہت سے مذاہب میں تقسیم ہوئے۔ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی مذکورہ غیبی خبرمیں اِن تمام اختلافات کی طرف اشارہ موجودہے۔‘‘([12])

ہرسنت لائق اتباع ہے:

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں ۔حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے خصوصیات،منسوخ اَحکام و اَعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں ، اسی ‏لیے یہاں حدیث کو پکڑنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو۔اَلحَمْدُلِلّٰہ ہم اہل سنت ہیں ، دنیا میں اہل حدیث کوئی نہیں ہو سکتا۔ صحابۂ کرام کے اَعمال و اَفعال بھی لغوی معنیٰ سے سنت ہیں


 

یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ اُن کی اِیجادات بدعت حسنہ ہیں ۔سَیِّدُنَاعمر فاروق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے جماعت کی باقاعدہ تراویح کو جو آپ نے جاری کی تھی بدعت فرمایا کہ کہا :”نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہ(یعنی یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔)آپ کا وہ کلام اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہ شرعاً بدعت ہے لغۃًسنت اور مسلمانوں کے واسطے لازم العمل ۔خیال رہے کہ تمام صحابہ ہدایت کے تارے ہیں ،خصوصا ً خلفائے راشدین۔ لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ (یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں )تمام صحابہ کی پیروی باعث نجات ہے۔(حدیث میں فرمایا:اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا، بےشک ! ہر نئی بات گمراہی ہے۔) یہاں نئی چیز سے مرادنئے عقیدے ہیں جو اسلام میں حضور کے بعد ایجاد کیے جائیں ،اس ‏لیے کہ یہاں اسے گمراہی کہا گیا۔ گمراہی عقیدہ میں ہوتی ہے نہ کہ اعمال میں ، لہٰذایہ حدیث اپنے عموم پر ہےاوراگر اس سے نئے اعمال مراد ‏لیے جائیں ۔ تو یہ حدیث عام مَخصُوص مِنہُ البَعْضہے یعنی ہر بُری بدعت گمراہی ہے۔ بدعت حسنہ کبھی مباح کبھی مستحب کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے۔ حدیث کی کتب اور قرآن کے پارے بدعت ہیں مگر اچھے ہیں ۔‘‘([13])

مدنی گلدستہ

’’شیرِخدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول

(1)          دین کی باتیں سن کر آبدیدہ ہوجانا، خوفِ آخرت دامن گیر ہونا  اور دنیا سے بے رغبتی میں اضافہ ہو جانا نیک بندوں کی علامات ہیں ۔

(2)          مبلغ کو چاہیے کہ   خوفِ خدا،  عذابِ جہنم ، عذابِ قبر اور دیگر خوف دلانے والے اُمور کا بیان کرے مگر اس کی عادت نہ بنائے بلکہ کبھی کبھی  حسب موقع  ترکیب بنائے۔ 

(3)          کثیر اختلافات اور  فتنوں سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ سنت مصطفےٰ کو مضبوطی سے تھام لیا جائے ۔


 

(4)          تمام نیک اَعمال کی اصل خوفِ خدا یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےڈرنا ہے۔

(5)          تمام اَحکاماتِ شرعیَّہ  بجا لانے اور ممنوعاتِ شرعیَّہ  سے  بچنے  کا نام تقویٰ ہے اور تقویٰ عذاب سے نجات   دلانے  کا بہترین ذریعہ ہے۔

(6)          دین میں ہر وہ نئی بات  گمراہی ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے فرامین  پر کاربند رہنے، خلفائے راشدین کی اتباع کرنےاورتقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:158                               

جَنَّت  میں  داخلہ کس  کے لیے ممنوع؟

  عَنْ اَ بِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:كُلُّ اُمَّتِيْ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ اِلَّا مَنْ اَبیٰ.قِيلَ:وَمَنْ يَاْبٰى يَارَسُولَ اللهِ( صَلىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)؟ قَالَ:مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي  فَقَدْ اَبیٰ.([14])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :’’میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔‘‘عرض کی گئی:’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟‘‘فرمایا:’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔‘‘

مُنکر سےکیامرادہے؟

عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’حضورنبی رحمت شفیع


 

 اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے۔یہاں جنت میں جانے کی بشارت اُمَّت اِجابت کے لیے ہےاور جنت سے ممانعت اُمَّت دَعوت کے لیے ہے، یعنی جنہوں نے اسلام قبول کیا وہ جنت میں جائیں گے اور جنہوں نے اسلام کا انکار کیا اور کفروشرک کی تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہے وہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے۔‘‘([15])

کیاگنہگار مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے؟

عُمْدَۃُ الْقَارِی میں ہے:’’ گناہ گارمسلمان بھی جنت میں داخل ہوگا ہمیشہ جہنم میں نہ رہےگا۔ (جبکہ حدیث پاک کے ظاہر سے تو یہ سمجھ  آتا ہے کہ گنہگار جنت میں داخل ہی نہ ہوگا۔اس کا جواب یہ ہے کہ) حدیث مذکور سےمرادیا تو یہ ہے کہ گنہگاراَوّلاً جنت میں داخل نہ ہوگا۔(یعنی اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد بالآخر جنت میں داخل ہوگا۔)یاپھریہاں انکار سے مراد اسلام سےانکار ہے۔‘‘([16]) (یعنی جس نے اسلام کا انکار کیا اور کفر ہی پر  مرا تو وہ جنت میں داخل نہ ہوگاکیونکہ کفار پر جنت حرام ہے، وہ  ہمیشہ  ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔)

 عاملین قرآن و سنت کا جنت میں داخلہ:

حضرت سَیِّدُنَاشیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم سے دریافت کیاگیا  منکر  سے کیا مراد ہے؟توفرمایا کہ    جس نے میری فرمانبرداری کی یعنی  قرآنُ و سنت کو مضبوطی سے تھاما وہ جنت میں داخل ہوگااورجس نے میری نافرمانی کی اوربدعت( سیّئہ) کا راستہ اختیار کیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی تو اس نے نافرمانی   کی اور وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘([17])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

جنت کا مستحق مسلمان ہے کافر نہیں :

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’یہاں اُمَّت سے مراد اُمَّت اِجابت ہے( یعنی )جنہوں نے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی تبلیغ کو قبول کرکے کلمہ پڑھ لیا ورنہ حضور کی اُمَّت دعوت تو ساری خلقت ہے،اِنکار سے مراد عملی اِنکار ہے اور اِس میں گنہگار مسلمان داخل ہیں اور جنت میں داخلے سے مراد اوّ لی (یعنی  پہلا) داخلہ ہے یعنی متقی مؤمن اوّ لی داخلے  کےمستحق ہیں ، فاسق اس کےمستحق نہیں ، لہٰذاحدیث بالکل واضح ہے اور اگر اِنکار سے اِعتقادی اِنکار مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان جنت کا مستحق ہے کافر نہیں مگر پہلے معنیٰ زیادہ صحیح ہیں ۔‘‘([18])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب حضور نبی کریم  رؤف  ورحیم  صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے  لوگوں کو اسلام کی دعوت دی  تو خوش نصیب حضرات نے  یہ  دعوت  قبول  کی اور  دائرۂ  اسلام  میں داخل  ہوکر  صحابیت کےعظیم مرتبے پر فائز ہوئے جبکہ بعض  بد بختوں نے اسلام کی دعوت قبول  کرنے کے بجائےمذاق اڑایا اور  جہنم کے حق دار ہوئے  اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے!

دعوتِ اسلام ٹھکرانے کا انجام:

حضورنبی کریم  رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے اسلام کی دعوت پر مشتمل  كچھ خطوط  مختلف بادشاہوں کے پاس  بھیجے۔جب  شاہ ِایران   خُسروپرویز کے  پاس سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا  مبارک خط پہنچا تو اس نے  یہ کہتے ہوئے نہایت بے ادبی سے   مَعَاذَ اللہ مبارک خط   پرزے پرزے کرکے زمین پر پھینک دیا کہ اس میں میرے نام سے پہلے ’’محمد‘‘ کا نام کیوں لکھاگیا ہے۔ جب حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو یہ خبر ملی تو فرمایا:’’مَزَّقَ کِتَابِیْ مَزَّقَ اللہُ مُلْکَہیعنی اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرے گا۔‘‘چنانچہ کچھ ہی عرصے کے بعد اس بدبخت کو اس کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کر دیااور اس کا  ملک  ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔یہاں تک کہ حضرتِ سَیِّدُناامیرالمومنین عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ


 

 اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِخلافت میں یہ حکومت صفحۂ ہستی سےہی  مٹ گئی۔([19])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی گلدستہ

’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول

(1)       حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت قرآن وسنت پر عمل پیراہونے میں ہے۔

(2)       ہر مسلمان جنت میں جائے گا،صالحین ابتداءًاوربعض  گناہ گارجہنم میں سزا پانے کے بعد لیکن عذابِ جہنم اس قدر تکلیف دہ ہے کہ برداشت نہیں ہوسکتا لہٰذااعمالِ صالحہ  میں  خوب   کوشش  کرنی چاہیے تاکہ رحمت الٰہی  سے صالحین کے صدقے  اولاً ہی   جنت  میں داخلہ نصیب ہو۔

(3)       اُمَّت   محمدیہ  کی دو قسمیں ہیں :(۱)اُمَّت دَعوت ، زمانہ ٔاقدس  سے  تا قیامت  جتنے  لوگ آئیں گے وہ سب  اُمَّت دعوت ہیں ۔(۲)اُمَّت اِجابت: وہ خوش نصیب  لوگ جنہوں   نے  اسلام قبول کیا ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں  قرآن وسنت پرعمل پیرا ہوکر  زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے  ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔                 آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:159                              

حُکمِ نبوی  پرعمل نہ کرنےکی سزا

عَنْ اَبي مُسْلِم ٍ، وقِيْلَ:اَ بِي  اِيَاسٍ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْاَ کْوَ عِ رَضِيَ الله عَنْهُ اَ نَّ رَجُلاً اَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ الله ِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ فَقَالَ: كُلْ بِيَمِينكَ قَالَ: لَا اَسْتَطِيعُ ،قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ،  مَا مَنَعَهُ اِلَّا الكِبْرُ.فمَا رَفَعَهَا اِلٰی فِيهِ. ([20])


 

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابو مسلم یا ابو ایاس سلمہ بن  عَمرو بن اَکْوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں  الٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔‘‘ اس   نے کہا:’’میں اس کی    طاقت نہیں رکھتا۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’تو کبھی طاقت  نہ رکھے۔‘‘(راوی فرماتے ہیں کہ )اسے  (حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کاحکم  ماننے سے ) تکبر نے منع کیاتھا۔پھر  وہ کبھی اپنا  سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔

وہ شخص کون  تھا؟

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس شخص کا نام بُسْر بن راعی العیر تھا ۔کئی علمائے کرام نے ان کو صحابی شمار کیا ہے۔قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا قول ہےکہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی بات تکبر کی وجہ سے  نہ ماننا اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ وہ منافق تھا۔لیکن یہ قول صحیح نہیں کیونکہ محض تکبر اورحضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے حکم کی مخالفت کرنا نفاق یا کفر کا تقاضہ نہیں کرتا لیکن یہ گناہ ضرور ہے۔نیز اس حدیث میں اُس شخص کے ‏لیے بددعا کا جواز ہے جو بِلا عذرحکم شرعی کی مخالفت کرے اوراس بات کی بھی دلیل ہے کہ ہر حال میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہیے یہاں تک کہ کھانے  کے  دوران  بھی بوقت ضرورت  نیکی کی دعوت دے ۔نیز کھانے والوں کو کھانے کے آداب سکھا نا مستحب ہے جبکہ وہ  آداب کے خلاف کھا رہے ہوں ۔‘‘([21])

تَکَبُّر کا وبال :

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے  فرمایا :’’اب تُو اُسے  اُٹھا نے   کی طاقت نہ رکھے گا۔‘‘اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی  قبولیت دعااورحکم  نبی کی مخالفت  کی دُنیوی سزا  کا بیان ہے۔ اس شخص کو تکبر نےا طاعت  ِنبوی  سے روکا  تھا یعنی  حکم نبوی سن کرتابعداری اور خواہش نفسانی کی مخالفت کرنے میں اس نے عاجزی اورتواضع سے کام نہیں لیا


 

(بلکہ تکبر کیا)اسی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نےاس  کے  ‏لیے دعائے ضَرَر فرمائی۔‘‘([22])

اُلٹے ہاتھ سے کھانا:

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’معتمد قول کے مطابق  آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کایہ حکم اِستحبابی تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کا اُس  کے ‏لیے  دعائے ضررکرنا  بِلا عذرسنت نبوی اورحکِم شرعی کی مخالفت کی وجہ سے تھا۔جیساکہ حدیث پاک  کے آخر میں راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس نے تکبر کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔نیز الٹے ہاتھ سے کھانے کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب  سیدھا ہاتھ صحیح وسالم ہواور اگر  سیدھے ہاتھ  میں کوئی تکلیف ہو تو الٹےہاتھ سے کھانے میں کوئی کراہت نہیں ۔‘‘([23])

رسول اللہنےدعا ئے  ضَرَ ر کیوں کی ؟

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :’’اس شخص  کے ‏لیےسرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نےاِس ‏لیے دعا ئے ضرر کی کہ اُس نے اپنا  جھوٹاعذر بیان کیااور تکبر کی وجہ سے  حق بات  سے رُک گیا  یعنی بغیر کسی مجبوری کے  سیدھے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا ۔علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :”مَا مَنَعَهُ اِلاَّ الكِبْرُیعنی اُسے  تکبر نے روک دیا تھا۔یہ راوی کا قول ہے اوریہ اس ‏لیے بیان کیاہےتاکہ رحمت عالم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دُعا  ئے ضررکرنے کی وجہ معلوم ہوجائے کیونکہ ہو سکتاہے کہ  کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتورحمۃٌ لِلْعَالَمِین ہیں ، پھر آپ کسی کے ‏لیے دعائے ضرر کیسے کرسکتے ہیں ؟تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ آپ نے یہ دعااس ‏لیے کی کہ اس نے تکبر کی بنا پر دائیں ہاتھ سےکھانا نہ کھایا اگر وہ کسی  مجبوری کی  وجہ  سے  اس حکم پر عمل نہ کرتا  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی بھی اس کے دعائے ضرر نہ فرماتے۔‘‘([24])


 

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :’’ زمانۂ جاہلیت میں سردار لوگ الٹے ہاتھ سے کھاتے تھے،معمولی آدمی داہنے ہاتھ سے۔یہ شخص کوئی سردار تھا جو اس متکبرانہ عادت سے الٹے ہاتھ سے کھارہا تھا۔ اس نے شرمندگی مٹانے کے ‏لیے کہا کہ میرا داہنا ہاتھ بیمار ہے منہ تک نہیں پہنچتا۔اسی پر یہ جواب ارشاد ہوا یعنی اب تک تو منہ تک آتا تھا اب نہ آسکے گا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کے اعضاء بھی حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے زیر فرمان ہیں ، وہ شخص علاج کرتے کرتے تھک گیا مگر اس کا ہاتھ منہ تک نہ اُٹھ سکا۔‘‘([25])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور  میں تکبر کا ذکر  ہے۔لہٰذا  تکبر کی مذمت کے بارے میں کچھ مفید معلومات پیش خدمت ہیں :

تکبُّر کی وجہ  سے  پیدا ہونے والی  چند بُرائیاں :

تکبر(غرور کرنا )ایسا مُہْلِک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیاں  لاتااور کئی اچھائیوں سے  محروم کردیتاہے۔چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام امام محمدبن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’متکبرجوکچھ اپنے لیے پسند کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے ‏لیے پسند نہیں کرسکتا۔ وہ عاجزی   اختیار نہیں کرتا حالانکہ یہ تقویٰ و پرہیزگاری کی جڑ ہے، وہ کینہ سے نہیں بچ سکتا،اپنی عزت بچانے کے ‏لیے جھوٹ بولتا ہے،اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا،حسد سے نہیں بچ سکتا،کسی کی خیرخواہی نہیں کرسکتا،دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے،لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے، الغرض متکبِّر آدمی اپنا بھرم رکھنے کے ‏لیے ہربرائی کرنے پرمجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ۔‘‘([26])

اسرائیلی عبادت گزار اور گنہگار:

بنی اِسرائیل کا ایک شخص آوارہ اور بد چلن مشہور تھا  ۔ایک مرتبہ وہ ایک   بہت بڑے  عبادت گزار کے پاس سے گزرا


 

جس کے سر پر بادل سایہ فگن تھا ۔  گنہگارنے  سوچاکہ میں انتہائی گنہگار ہوں اور یہ بہت بڑا عبادت گزار ہے  اگر میں اس  کے پاس بیٹھ جاؤں تو امید ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھ پر بھی رحم فرمائے گا۔ چنانچہ وہ  اُس کے پاس بیٹھ گیا۔عابد کو اُس کا بیٹھنا بہت ناگوار گزرا اُس نے دل میں کہا:’’ کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں یہ پرلے درجے کا گنہگار،یہ میرے پاس کیسے بیٹھ سکتا ہے۔‘‘چنانچِہ اُس نے  اسے اپنے پاس سے ہٹا دیا۔اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اُس زمانے کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کووحی بھیجی کہ ان دونوں سے فرمائیےکہ وہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں ، میں نے اس گنہگار کو (اس کے حسنِ ظن کے سبب)بخش دیا اور عبادت گزار کے ا عمال( تکبر کے باعث)ضائع کر دیے۔‘‘([27])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی گلدستہ

سَیِّدُنَا ’’امام حسن‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

(1)       سیدھے ہاتھ سے  کھانا کھانا سنت مبارکہ ہے۔ 

(2)       اگر کوئی عذر نہ ہو تو  بزرگانِ دین  کا حکم ماننے ہی میں عافیت اور دین ودنیا کی بھلائی  ہے۔

(3)       جھوٹے  حیلے بہانوں  کی وجہ سے انسان خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

(4)       لوگوں کی عبرت کے ‏لیے  عبرتناک   واقعات  بیان  کرناجائز  ہے لیکن بِلا وجہ شرعی  کسی  مسلمان  کی تعیین  نہ کی جائےبلکہ یوں کہا جائے کہ”ایک شخص نے یہ  برائی کی تو اس کا یہ انجام ہو ا۔“ یا کوئی اور مناسب  حکمت  بھرا انداز اختیار کیا جائے ۔  

(5)       تکبر  ایسی بُری خصلت  ہے جو کئی گناہوں کی جامع اور کتنی ہی نیکیوں  سے مانع ہے لہٰذا اس سے کوسوں دور بھاگنا چاہیےاور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔


 

(6)       جہاں جہاں موقع ملے حکمت عملی کے ساتھ  اچھے انداز میں لوگوں کی  اصلاح  کی کوشش کرنی چاہیے۔

(7)       بزرگوں کی بے ادبی اور ان کی  بد دعا سے بچنا چاہیے کہ اس میں خسارہ ہی خسارہ ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب، حبیب لبیب، ہم گناہگاروں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت و فرمانبرداری اور بزرگانِ دین  کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اَحکامِ  شرعیَّہ کی بجاآوری  میں سستی  و کاہلی سےمحفوظ ومامون رکھے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:160                           

صفیں سیدھی  رکھنے  کا حکم

عَنْ اَبِی عَبْدِ اللہِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ([28]) وَ فِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّيْ صُفُوفَنَا حَتَّى كَاَ نَّمَا يُسَوِّيْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى اِذَارَاَى اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ اَنْ يُكَبِّرَ  فَرَاَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ فَقَالَ عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ([29])

ترجمہ : حضرت  سَیِّدُنَاابو عبداللہ نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے   کہ میں نے رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا: ’’تم اپنی صفوں کو سیدھارکھو یا پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے درمیان  اختلاف  ڈال دے گا ۔‘‘مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری صفوں کو  اس طرح سیدھا فرماتےگویا  ان سے تیر سیدھے کر رہے ہیں ،یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یقین ہوجاتا کہ ہم آپ کی بات سمجھ چکے ہیں ۔پھرایک دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائےاور جماعت   کے ‏لیے کھڑے ہوئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تکبیر


 

کہنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے  باہر نکلاہوا دیکھا توفرمایا : ’’اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندو!تم  اپنی صفیں  سیدھی رکھوورنہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے درمیان اختلاف  پیدا فرما دےگا۔‘‘

صفوں کی درستگی میں صحابۂ کرام کا عمل:

عَلَّامَہ اَبُو الحَسَن  اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں :’’امام کو چاہیے کہ  صفوں کی درستگی  کے  ‏لیے لوگوں کو دیکھے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کودیکھ کر صفیں درست کریں ۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم  اور امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا  عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا صف سیدھی کرنے کے ‏لیے چند لوگوں کی ڈیوٹی لگاتے تھےپس جب صف سیدھی ہوجاتی تو  تکبیر کہتے۔ مگر یہ  ذہن میں رہے کہ اگر لوگ اپنی صفیں درست نہ کریں تواِس سے اُن کی نماز باطل نہیں ہوگی۔  حدیثِ مذکور میں صفوں کو سیدھا نہ کرنے پر وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔‘‘([30])

اختلاف پیدا ہونے سے کیامراد ہے؟

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ  تمہارے چہروں کو مسخ کردے گا اور  اصل  شکل بدل دے گا جیسا  کہ حدیث پاک میں ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کی شکل کو گدھے کی شکل کی طرح بنادے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ  ان کی  صفات بدل  دے گا۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں  کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے درمیان بغض و عداوت پیدا کردے گا اور دلوں میں اختلاف ڈال دےگا جیسا کہ ایک مقولہ ہے کہ اس نے مجھ سے منہ پھیر لیا یعنی اس کے چہرے سے میرے ‏لیے نفرت ظاہر ہورہی تھی اور اس کا دل مجھ سے پھر گیا۔ کیونکہ صفوں میں مخالفت دراصل ظاہرًا مخالفت ہے اور ظاہری مخالفت باطنی مخالفت کا سبب ہے۔‘‘([31])

حضر ت سَیِّدُنَا مُھَلَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’صفوں میں اختلاف  کے سبب  دلوں  میں اختلاف


 

  کی وعید  ہے  یعنی جرم کی جنس سے سزا  دی جائے گی جیسا کہ جو کسی ہتھیار سے خود کشی کرے تو اسے اسی ہتھیار سے عذاب دیا جائے گا۔‘‘([32])

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :’’دلوں کی مخالفت کنایہ ہے دشمنی سےیعنی تمہارے دلوں میں اختلاف ہوگا اور دلوں کا اختلاف  چہروں کے اختلاف کی طرف لے جاتا ہے یعنی لوگ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔بعض علمائے کرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے  فرمایا:ظاہری  ادب  باطنی ادب کی علامت ہے،پس اگر تم  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اوررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کا ظاہری حکم نہ مانو گے تو تمہارے درمیان  قولی اختلاف ہوں گےاور اس سےتمہارے درمیان کَدُوْرَتیں پیدا ہوں گی جو  دشمنی کا باعث بنیں گی اوراس طرح تم ایک دوسرے سے  منہ پھیر لو گے۔‘‘([33])

علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : ’’حدیث کامعنی یہ ہے کہ جب تم ظاہر میں مختلف ہوگے تو بطورِ سزا  تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دیا جائے گا۔یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ تم اپنے ظاہر کو مختلف نہ کرو کیونکہ ظاہری اختلاف تمہارے دلوں میں اختلاف کی دلیل ہے۔‘‘([34])

صفوں کےدرمیان خالی جگہ پُرکرنا:

عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیحدیث پاک کے الفاظ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ کے تحت فرماتے ہیں :’’صفوں کے سیدھا کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ نمازی صف میں ایک  ہی سمت پراس طرح کھڑے ہوں کہ کوئی ایک بھی صف سے آگے پیچھےکھڑا نہ ہو جبکہ ایک قول کے مطابق  صفوں کو سیدھا کرنے سے یہ بھی مراد لی گئی ہے کہ صف میں موجود خلل اور خالی جگہ کو پُر کیا جائے۔‘‘([35])

حضرت سَیِّدُنَاعثمان اورحضرت سَیِّدُنَا علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے متعلق منقول ہے کہ یہ حضرات صفوں


 

کی درستی کا خاص اہتمام کرتےاورفرماتے”اسْتَوُوْا“یعنی برابرہوجاؤاورحضرت علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے:’’تَقَدَّمْ یَا فلَانُ وَتَأَخَّرْ یَا فلَانُیعنی اے فلاں !تم آگے ہوجاؤاوراے فلاں !تم پیچھے ہوجاؤ۔‘‘([36])

رسول کریم کا اندازِ تعلیم :

مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : (حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)آپ انصاری ہیں اور نو عمر صحابی کہ حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی ہجرت کے چودہ مہینے بعد پیدا ہوئے،بعد ہجرت انصار میں سب سے پہلے آپ پیدا ہوئے اور مہاجرین میں عبدﷲ ابن زبیر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)، حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی وفات کے وقت ان کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی (حدیث پاک میں ہے:رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم ہماری صفوں کو  اس طرح سیدھا فرماتے گویا  ان سے تیر سیدھے کر رہے ہوں ۔) یعنی نمازیوں  کے کندھے پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجائے ۔ خیال رہے کہ تیر کی لکڑی کو پَر اور پیکان لگنے سے پہلے قدح کہتے ہیں اور اس کے لگنے کے بعد سَہم ۔ قدح نہایت سیدھی کی جاتی ہے اسے سیدھا کرنے کے لیے نہایت سیدھی لکڑی لیتے ہیں جس کے برابر قدح کو لیتے ہیں یعنی حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے جیسے قدح سیدھی کرنے والی لکڑی۔ (یہاں تک کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے دیکھا کہ ہم آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی بات سمجھ چکے ہیں ۔ ) تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے کندھے پکڑ کر سیدھا کرنا چھوڑ دیا صرف زبان شریف سے سیدھا کرنے کی ہدایت فرمادیتے۔ (اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندوں !تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دےگا۔) یعنی اگر تمہاری نماز کی صفیں ٹیڑھی رہیں تو تم میں آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا ہوجائیں گے، شیرازہ بکھرجائے گا یا تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے کہ اُن میں سوز و گداز،درد، خشوع خضوع نہ رہے گا یااندیشہ ہے کہ تمہاری صورتیں مسخ ہوجائیں جیسے گزشتہ قوموں پر عذاب آئے تھے،یہاں وَجْہٌبمعنی ذات ہے یا بمعنی چہرہ، خیال رہے کہ عام مسخ وغیرہ ظاہری


 

 عذاب حضور مصطفٰے صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی تشریف آوری سے بند ہوگئے لیکن خاص مسخ وغیرہ اب بھی ہوسکتے ہیں ۔‘‘([37])

صفوں کی درستگی وظاہری آداب:

شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’صفوں   کی  درستگی سےمراد یہ ہے کہ نماز میں مل کر کھڑے ہوں ،  دوشخصوں کے درمیان خالی جگہ نہ ہو، صفیں بالکل سیدھی ہوں ، کوئی بھی صف سے آگے پیچھے نہ ہو بلکہ سب برابر اور سیدھے کھڑے ہوں ، اگر صفیں زیادہ ہوں تو سب ایک  ہی  رخ  کھڑے  ہوں ، اگلی صفیں  مکمل ہونے کے بعد ہی پچھلی صفیں بنائیں ،ایک دوسرے کے پیچھے ایک ہی  سمت میں کھڑے ہوں ، صفوں کا  درمیانی فاصلہ برابر ہو، آگے پیچھے نہ ہوں ، پھر ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے  ،یہ صف کے ظاہری آداب ہیں ۔‘‘([38])

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! نماز شروع کرنے سے پہلے  صفوں کی درستی کا  خاص  خیال رکھنا چاہیے کہ  صفوں  کی بے ترتیبی اور ٹیڑھا پن حضو نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سخت ناپسند تھا جیساکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’صَفوں کو برابر کرو ، کندھے سے کندھا ملا لو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور کُشاد گیوں کو بند کردو کہ شیطان بھیڑکے بچے کی طرح تمہارے درمیان داخل ہوجاتا ہے۔‘‘([39])اللہ عَزَّ  وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت

ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

مدنی گلدستہ

’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)       نماز قُربِ الٰہی کا  بہت بڑاذریعہ ہے لہٰذا اس کی ادائیگی کے ‏لیے خوب اہتمام کرناچاہیےنیز پاکیزگی و طہارت کے ساتھ ساتھ صف بندی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے ۔

(2)       صف بندی میں غفلت سے کام لینا  جہاں نمازکی ادائیگی میں خلل کاباعث ہےوہاں روحانی اعتبار سے بھی  نقصان کا باعث ہے۔

(3)       نماز میں صفیں ٹیڑھی رہیں  تو آپس میں اختلاف اور جھگڑے ہوتے  ہیں ۔

(4)       امام کو چاہیے کہ  نماز  سے پہلے لوگوں کی صفیں درست کرائے۔

(5)       صف سیدھی کرتے وقت کندھے سے کندھا ملا لینا چاہیے تاکہ درمیان میں جگہ باقی نہ رہے کہ شیطان اختلاف ڈالنے کے ‏لیے   بھیڑ کی بچے کی طرح صفوں میں گھس جاتا ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ   ہمیں نماز شروع کرنے سے قبل صفوں کی درستی کی توفیق عطا فرمائے، صفوں کی درستی کی برکت سے ہمارے قلوب کو بھی درست فرمائے، ہمیں دین ودنیا کی بھلائیاں  عطا فرمائے، سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے  اور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:161                                          

آ  گ   انسانوں کی دشمن ہے

عَنْ اَبِي مُوسَى رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ  عَلٰی اَھْلِہِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاْنِهِمْ قَالَ: اِنَّ هٰذِهِ النَّارَ عَدُوٌّ لَّكُمْ ،فَاِذَا نِمْتُمْ فَاَطْفِئُوْهَا عَنْكُمْ.([40])


 

ترجمہ  :حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ  میں ایک گھر رات کے وقت  گھر والوں سمیت جل گیا۔ جب یہ واقعہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی خدمت میں ذکر کیا گیا توارشادفرمایا: ’’یہ آگ تمہاری دشمن ہے لہٰذا جب تم سونے لگو تو اسے بجھادیا کرو۔‘‘

سنت پر عمل نہ کرنےکا نقصان :

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں :’’عَلَّامَہ طَبَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:جو شخص گھر میں اکیلا ہو اور سونے کا ارادہ کرے اور گھر میں آگ یا چراغ جل رہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اس آگ یا چراغ کو بجھائے بغیر نہ سوئےیا پھر  ایسی جگہ رکھ دے جہاں اس کے ضرر سے محفوظ رہے۔ اسی طرح جس  گھر میں بہت سارے لوگ ہوں ، ان میں جو  سب سے آخر میں سوئے وہ ان احتیاطی تدابیر  پر عمل کرے ۔اگر اس نے اس معاملے میں کوتاہی کی اور اس کی جان یا مال کو کوئی نقصان پہنچا تویہ حضور  نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی وصیت کی مخالفت کرنے کا نتیجہ ہوگا اور وہ ادب کو ترک کرنے والا ہوگا۔‘‘([41])

آگ کی دشمنی  سےکیا مراد  ہے؟

عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :’’حضرت سَیِّدُنَا  ابنِ عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :آگ ہماری دشمن ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے بدن اور مال کو اسی طرح ختم کردیتی ہے جس طرح کوئی دشمن کرتا ہے،اگرچہ اس میں ہمارے ‏لیے منفعت بھی ہے لیکن وہ منفعت ہمیں کسی ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔پس حدیث میں جو اسے  دشمن کہا گیا ہے وہ اس ‏لیے کہ اس میں دشمنی کے معنیٰ (یعنی نقصان دینا)پائے جاتے ہیں ۔‘‘([42])

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :’’آگ ہماری  دشمن اس لحاظ سے ہے کہ اس


 

 سے بھی نقصان کا خدشہ رہتا ہے جیسے دشمن سے  ہوتا ہے۔ ہم کسی  بھی وقت اورکسی بھی جگہ اس سے قریب ہوں گے تو یہ ہمیں جلائے گی اور ہم سے اعراض نہ کرے گی۔‘‘([43])

رسول اللہ کا مشورہ:

دلیلُ الفالحین میں ہے:حضرت سَیِّدُنَاامام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’سونے سے پہلے  چراغ وغیرہ بجھانے کا حکم  بطورِ مشورہ ہے  کیونکہ اس  میں بہت سی دُنیوی مصلحتیں  ہیں جو دینی مصلحتوں کی طرف لے جاتی ہیں جیسے جان  ومال کو نقصان دہ چیزوں سے  بچانا  ضروری ہے۔‘‘([44]) ( چونکہ آگ  سے بھی جان و مال کو خطرہ ہے  اس ‏لیے اس  سے احتیاط  کا مشورہ  دیاگیا۔)

کیا ہر قسم کی آگ بجھا دینی  چاہیے؟

 حضرت سَیِّدُنَا شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’آگ بصورتِ چراغ ہو یااس کے علاوہ (موم بتی ) وغیرہ ،ہرقسم کی آگ بجھاکر سوؤ،تاہم لٹکانے والی لالٹین روشن رہنے میں حرج نہیں جیساکہ بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کیونکہ  اس سے آگ لگنے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔لہٰذا یہ حکم ممانعت میں داخل نہیں  کیونکہ اس سے نقصان کا اندیشہ نہیں ۔ اسی طرح اگر ضرورتاً  گھر میں آ گ  کو کسی ایسے   طریقے  سے محفوظ کردیا  جائے  کہ نقصان کا اندیشہ نہ  رہے تو یہ  ممنوع نہیں ۔‘‘([45])

عمدۃُالقاری میں ہے:’’حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آگ بجھانے کو نیند کے ساتھ اس ‏لیے مقید کیا کہ سوتے ہوئے انسان غفلت  میں ہو تا ہے  اور اس صورت میں بے احتیاطی ہونے کا اِمکان زیادہ ہے۔‘‘([46])


 

سونےسےپہلےکی احتیاطی تدابیر:

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’(آگ   تمہاری دشمن ہے)  کیونکہ آگ ہمارے بدن ہمارے مال کی ہلاکت کا ذریعہ ہے،اگر احتیاط سے برتی جائے تو مفید ہے ورنہ ہلاکت۔اسے دشمن فرمانا اس معنیٰ سے ہے یعنی بے احتیاطی سے برتی جائے تو دشمن ہے۔لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آگ تو بڑی مفید چیز ہے،حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے، حد سے بڑھ کر مُضِر۔ہم بھی حد میں رہیں تو اچھے ورنہ حد سے بڑھ جائیں تو خود اپنے دشمن ہیں ،اللہ تعالٰی حد میں رکھے۔(اور سونے سے پہلے آگ بجھانے کا حکم)  یہ حکم بطورِ مشورہ ہے لہذا استحبابی ہے۔‘‘([47])مزید فرماتے ہیں :’’جلتا ہوا چراغ گُل کردو، چولہے میں آگ ہو تو بجھادو،کبھی آگ جلتی چھوڑ کر نہ سوؤ،نہ کہیں جاؤ،اس میں صدہا حکمتیں ہیں ۔آگ خطرناک  چیز ہے، ذرا سی بے احتیاطی میں گھر اور سامان جلا ڈالتی ہے،بے خبر سوتے ہوئے جل جاتے ہیں ۔ خدا کی پناہ!یہاں آگ سے مراد وہ ہی آگ ہے جس سے آگ لگ جانے کا اندیشہ ہو بجلی کی آگ میں یہ اندیشہ نہیں ۔‘‘([48])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی گلدستہ

سَیِّدُنَا ’’طَلْحَہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

(1)          رات کو سونے سے پہلے  گیس کے چولہے، ہیٹر اورسوئی گیس کےذریعے روشن ہونے والی لالٹین وغیرہ  بند کر کے سوئیں کہ بے احتیاطی  نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

(2)          سونے سے پہلے گرد و نواح میں دیکھ لینا چاہیے کہ کوئی  نقصان دہ  چیز تو نہیں  کہ جوسوجانے کے بعد


 

  نقصان و ہلاکت کاباعث  بنے ۔نیزہرمعاملے میں احتیاطی پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ احتیاط  بہتر ہے ۔

(3)          موم بتی اور دیا وغیرہ ہمیشہ ایسی چیزوں پر رکھیں جنہیں آگ نہیں پکڑتی جیسے فرش ، دیوار یامٹی سے بنی ہوئی دیگر اشیاء۔موم بتی کبھی بھی لکڑی ،کپڑے یا پلاسٹک سے بنی ہوئی چیزوں کے اوپر یاپاس نہ رکھیں کہ ضررکا اندیشہ ہے۔

(4)            حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے  اور حد سے  نکل کر نقصان دہ ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فر امین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور  ہمیں بے احتیاطی اور  ناگہانی آفتوں سے محفوظ رکھے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:162              

علم سیکھنے اور سکھانے والےکی مثال

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ  اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَصَابَ اَرْضًا فَكاَنَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَاَنْبَتَتِ الْكَلَاَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ، وَكَانَ مِنْهَا اَجَادِبُ اَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا مِنْهَا وَسَقُوْا وَزَرَعُوْا، وَاَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا  اُخْرَى، اِنَّمَا هِيَ  قِيْعَانٌ  لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا  تُنْبِتُ  كَلَاً  فَذٰلِكَ  مَثَلَ  مَنْ  فَقُهَ   فِي دِيْنِ اللهِ تَعَالیَ، وَنَفَعَهُ  بِمَا بَعَثَنِي اللهُ  بِهِ، فَعَلِمَ  وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ  لَمْ  يَرْفَعْ  بِذٰلِكَ رَاْسًا، وَلَمْ   يَقْبَلْ  هُدَى اللهِ  الَّذِي  اُرْسِلْتُ بِهِ.([49])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال


 

 اس بارش کی طرح ہے  جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس  پانی کو چوس کر  گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتو  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا،دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا،اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔(تو پہلی)اس شخص کی مثال ہے جس نے  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔(اور دوسری)اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس(علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے)اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔‘‘

تین قسم کے لوگ تین زمینوں کی مانند ہیں :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’زمین کی تین قسمیں ہیں ،اسی طرح لوگوں کی بھی تین قسمیں ہیں :

٭زمین کی پہلی قسم وہ ہے جو بارش سے نفع حاصل کرتے ہوئے مُردہ سے زندہ ہو جاتی ہے،اس طرح کہ  اس پر سبزہ اُ گ جاتا ہے توانسان،جانور،کھیت اور اس کے علاہ اورچیزیں اس زمین سے نفع حاصل کرتے  ہیں ۔اسی طرح انسانوں کی پہلی قسم وہ ہے کہ جن کے پاس ہدایت اور علم پہنچاتو انہوں نے اس کو یاد کیا اور اس سے  اپنے دلوں کو زندہ کیا اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں  تو انہوں نے اس علم سے خود بھی  نفع حاصل کیا اور دوسروں کو بھی پہنچایا۔

٭زمین کی دوسری قسم وہ ہے کہ جوخود تونفع  قبول نہیں کرتی لیکن اس میں دوسروں کے ‏لیے  فائدہ ہوتاہےوہ اس طرح کہ وہ بارش کے  پانی کودوسروں  کے‏لیے جمع کر لیتی ہے تو اس پانی سے انسان اور جانور فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح انسانوں کی دوسری قسم وہ ہے کہ جن کے حافظے قوی ہوتے ہیں (اور وہ اپنے دلوں میں علم کو محفوظ کرلیتے ہیں ) لیکن اُن میں اِفہام وتفہیم (سمجھنے اورسمجھانے) کی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی


 

اُن کی عقل میں اِس بات کی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ معانی اور اَحکام کو نکال سکیں ،  نہ ہی وہ عبادت میں کوشش کرتے ہیں نہ ہی اپنے علم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بس وہ صرف اُس علم کو  یاد کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک طالب علم آتا ہےاور اُس علم کا طلبگار ہوتاہے جوعلم  اُن کے پاس ہے اور وہ  طالب علم ایسا ہے جو علم سے  نفع حاصل کرنے اور دوسروں کوپہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتاہےپس وہ اُن سے خود علم حاصل کرتا ہے اوردوسروں کو اس سے  فائدہ پہنچاتا ہےتو  یہ ہیں وہ لوگ جن کے علم سے لوگوں نے تو  فائد ہ اُٹھایا (لیکن وہ خود اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے )۔

 ٭زمین کی تیسری قسم بنجر زمین  ہےجو سبزہ وغیرہ نہیں اُگاتی، وہ پانی سے نفع حاصل نہیں کرتی اور نہ ہی پانی کو دوسروں کے نفع  کے ‏لیے جمع کرتی ہے۔اسی طرح انسانوں کی تیسری قسم وہ ہے جن کے حافظے کمزور ہوتے ہیں اور ان کے پاس افہام وتفہیم کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی ،پس جب وہ علم کی بات سنتے ہیں تو اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اسےیاد  کرتے ہیں کہ دوسرےاس سے فائدہ حاصل کریں ۔حدیث مذکور میں علم کی کچھ صورتوں کومثالوں کے ذریعےبیان کیا گیا ہےنیز تعلیم وتعّلم کی فضیلت بیان کی گئی ہےاور علم حاصل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے پر سختی سے ابھارا گیاہے  اور علم سے اِعراض کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔‘‘([50])

دین سےفائدہ اٹھانےاورنہ اٹھانےوالے:

شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :

٭’’معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں بندوں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :(1)ایک وہ جس سےدین کو فائدہ پہنچے۔(2)دوسری وہ کہ جو نہ خود فائدہ حاصل کرے  نہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔

٭زمین کی بھی دوقسمیں بیان کیں :(1)ایک وہ جو پانی سے نفع یاب ہوتی ہے۔(2) دوسری وہ جو پانی سے کچھ فائدہ حاصل نہ کرے۔


 

٭پھر فائدہ مند زمین کی دو قسمیں ہیں :(1) ایک وہ جو فصل اگائے۔(2) اور دوسری وہ زمین جس میں کچھ نہ اُگے۔

٭اسی طرح دین سے فائدہ اٹھانے والےدوقسم کے ہیں :(1)ایک عالم،عبادت گزار،فقیہ اور لوگوں کو دین سکھانے والایہ اس زمین کی طرح ہے جو پاک اور عمدہ ہو،پانی جذب کرے،اس طرح  خوداسے بھی فائدہ پہنچے اور گھاس چارہ اُگائےاور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچائے۔(2) دوسراوہ جو عالم اور معلم ہو (دوسروں کو تعلیم دینے والا)مگر نوافل اور زائد اعمال کی عبادت میں مشغول نہ ہوتاہواور فقہ کاجو علم حاصل کیا اس پر پوری طرح عمل پیرانہ ہو،یہ اس زمین کی طرح ہے جس میں پانی ٹھہرجاتاہےاو رلوگ اس سے فائدہ حاصل کرتےہیں لیکن یہ خود فائدہ نہیں اٹھاتا۔اور کچھ بھی نفع نہ اٹھانے والاوہ شخص ہے جس نے علم دین کی طرف کوئی توجہ والتفات نہ کیااورعلم دین کی بات سننے کے ‏لیے بالکل تیارنہ ہوا یا سُن کراس پرنہ عمل کیااور نہ تعلیم حاصل کی اور دین میں آنے نہ آنے سے کوئی سروکارنہ رکھااور منکر وکافر ہوگیایہ اس چٹیل زمین کی مانند ہے جو نہ پانی جذب کرے اور نہ ہی پانی کاذخیرہ کرے اور نہ اس میں کوئی چیز اُگے۔

حدیث کا مفہوم یوں بیان کرنابھی ممکن ہے کہ قسم اول سے وہ شخص مرادہے جس نے علم دین سیکھا،درجۂ اجتہاد پر فائز ہوا اور اس قوت اجتہاد کی بدولت دین کے باریک معانی ،اسراراور اس کی شرح کی جیسے فقہائے مجتہدین اور علمائے کاملین ومحققین کاحال تھاجس طرح وہ گھاس جو زمین سے اُگتی ہے اور لوگ اس کے ثمرات ونتائج سے بہرہ ورہوتے ہیں ۔دوسری قسم سے وہ شخص مراد ہے جس نے علم حاصل کیا، اسے اپنے سینے میں جمع کیاپھر اس کی حفاظت کی اور اس امانت کو پورے اہتمام کے ساتھ آگے پہنچایااور اس کے اہل کے حوالے کردیا۔جس طرح محدثین ،حفاظِ احادیث اور اس علم کی طرف دعوت دینے والے حضرات ہیں ۔‘‘([51])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

رحمت کا بادل:

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’اس تشبیہ کاخلاصہ یہ ہے کہ حضورگویا رحمت کابادل ہیں ،حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش، انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین،چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے جہاں عمل اور تقویٰ کے پودے اُگتے ہیں ، علماءاور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں ۔

 خیال رہے کہمُشَبَّہْ بِہٖ میں زمین کے تین حصے بیان فرمائے گئے مگرمُشَبَّہمیں انسان کی صرف دو جماعتوں کا ذکر ہوا کیونکہ علماء ہدایت میں عالی ہیں اور کفار گمراہی میں عالی ،درمیانی لوگ یعنی صالح مؤمن خود سمجھ میں آجاتے ہیں ، اس ‏لیے ان کا ذکر نہ ہوا۔ خیال رہے کہ تالاب بہت سی قسم کے ہیں : بڑے، چھوٹے، بہت نافع، کم نافع، بعض تالابوں سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں جیسے بھوپال کا تالاب،  ایسے ہی علماء کے مختلف مراتب ہیں : بعض مجتہدین ہیں جیسے چاروں امام، بعض کاملین ہیں ، بعض راسخین ہیں ، پھر ان میں بعض محدثین ہیں اور بعض مفسرین  ،یہ تشبیہ ان سب کو شامل ہے۔‘‘([52])

مدنی گلدستہ

’’صِدِّیْق‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

(1)       بہترین انسان وہ ہے جس کے  پاس ہدایت اورعلم پہنچا اس نے اسےیادکیا،اس کے ذریعے اپنے دل کو زندہ کیا،  اس پر عمل  کیااور دوسروں کوسکھایا۔

(2)       علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سراب ہوتی رہیں گی۔


 

(3)       مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین  کی طرح ہےجہاں عمل اور تقویٰ کے پودے اُگتے ہیں ۔

(4)       کوئی شخص کسی بھی درجے پر پہنچ کر شہنشاہِ مدینہ قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ زمین کیسی ہی اعلیٰ کیوں  نہ  ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے مگربارش کی محتاج ہے، دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں ۔حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کے رشتے کو مضبوطی سے تھامے رکھنے میں ہی دارین کی بھلائی ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں باعمل عالمِ دین بنائے، تقویٰ وپرہیزگاری نصیب فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:163                            

حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی اپنی اُمَّت پرشفقت

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ.([53])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’میری اور تمہاری مثال اس شخص  کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری  کمر سے پکڑ کر آگ(میں گرنے)سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔‘‘

انسانوں اورپروانوں کے درمیان وجہ تشبیہ:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ


 

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جاہلین ومخالفین  جو  گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم     میں گرتےہیں ،انہیں  پروانوں سے تشبیہ   دی  جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں حالانکہ اُن جاہلوں کو  اُس میں گرنے سے منع کیا گیا  ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اِس  وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔‘‘([54])

گرتے ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ:

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں :’’جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی ) جگہ سے پکڑتا ہے۔‘‘([55]) (کیونکہ یہاں  گرفت مضبوط ہوتی ہے۔)

شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضورنبی کریم رؤف  رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’یعنی یہ مذکورہ حال میرا اور تمہارا ہے کہ حدودِ الٰہی جو حرام اور ممنوع اُمور پرمشتمل ہیں اُن سے اِجتناب اور دُوری  ضروری ہے ۔میں  پوری وضاحت  سے اُنہیں بیان کر چکا ہو ں ۔جیسے کوئی شخص آگ جلائے اور تم اُس میں گرنا شروع کردو تو میں تمہیں اُس میں گرنے سے روکتا ہوں ۔‘‘([56])

دنیا کی لذّ تیں آگ ہیں :

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں :’’یہ بھی تشبیہ مرکب ہے کہ ایک پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ﷲتعالٰی نے دنیا اور یہاں کی اُلجھنوں کو دین کا ذریعہ بنانے کے ‏لیے پیدا فرمایا مگر لوگوں نے انہیں غلط استعمال کرکے ہلاکت کا ذریعہ بنالیا جیسے کوئی جنگل میں مسافروں کی ہدایت اور روشنی کے ‏لیے آگ جلائے مگر پتنگےاسی آگ کو اپنی


 

ہلاکت کا سامان بنالیں ا ور ہلاکت کو اپنی نجات سمجھیں ۔چنانچہ دنیا کی لذتیں آگ ہیں اور ہم نا سمجھ بندے پتنگے کہ اس کو غلط استعمال کرکے اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ۔دنیا بنانے والا ربّ ہے اور اس کے غلط استعمال سے بچانے والے حضورہیں ۔حضور کا اپنی اُمَّت کو نرمی گرمی سے سمجھانا بجھانا گویا ان کی کمر پکڑ کر آگ سے روکنا ہے، یہ روکنا تاقیامت رہے گا۔علماءومشائخ کی تبلیغیں ، غازیوں کے جہاد حضور ہی کی تبلیغ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اپنی دانائی یا اپنی تجویز کردہ عقلی عبادتوں کے ذریعہ دوزخ سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ حضور کی ہدایت کو قبول نہ کرے ورنہ ہندوسادھو اور عیسائی راہب ترک دنیا کرکے عمر بھر عبادتیں کرتے ہیں مگر دوزخی ہیں ۔‘‘([57])

مدنی گلدستہ

’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

(1)       جو نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتا ہے اوراَحکامِ خداوندی کی پرواہ نہیں کرتا  وہ اپنے آپ کو  جہنم میں گراتا ہے۔

(2)       حضور نبی کریم رؤف رحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواپنی اُمَّت سے بے پناہ محبت ہے جبھی تو انہیں دینی و دُنیوی نقصانات سے بچاتے ہیں ۔

(3)       ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ممنوعہ اشیاءاور ان سے بچنے کے طریقے تفصیلاً بیان  کر دیے ہیں ، اب بھی جو ان حدود کی پاسداری نہ کرے وہ  محروم ہے ۔

(4)       کسی کو کوئی اہم بات سمجھانی ہو تو انداز بالکل  عام فہم  اور سہل رکھنا چاہیے  بلکہ ضرورتا ً مثا ل بھی دینی چاہیے تاکہ  آسانی سے سمجھ  آجائے ۔


 

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہے کہ وہ ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین پر عمل پیرا  ہونے   کی توفیق عطافرمائے۔                      آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مطیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی

سدا سنتوں پر چلا یاالٰہی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:164                                

آدابِ  طَعَام

عَنْہُ اَنَّ رَسُوْ لَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَ  بِلَعْقِ الْاَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ: اِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّهَا الْبَرَكَةُ. وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيَاْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى، وَلْيَاْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ اَصَابِعَهُ. فَاِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي اَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ.

وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ اَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَاْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَاِذَا سَقَطَتْ مِنْ اَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى فَلْيَاْ كُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ.([58])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں اورتھال چاٹنے کا حکم ارشاد فرمایااور فرمایا کہ ’’تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘ایک اورروایت میں ہے:’’جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے  توچاہیے کہ اسے اٹھالے،اس پر جو مٹی وغیرہ لگ جائے،اسےصاف کرکے  کھالےاور اسے شیطان کے ‏لیے نہ چھوڑےاور اپنے ہاتھ تولیے یا رومال سے اس وقت تک نہ پونچھے جب تک کہ انگلیوں کو چاٹ نہ لے،کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘ایک اور روایت میں ہے:’’بے شک شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اُس کے ہر معاملے میں آتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی آتا ہے،پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو چاہیے کہ اسے   صاف کرکے کھالےاورشیطان کے ‏لیے نہ چھوڑے۔‘‘


 

کھانے کی سنتیں :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اُن احادیث میں کھانے کی سنتوں میں سے  چند کا ذکر ہے:(1)انگلیاں  چاٹنا تاکہ کھانے کی برکت کی حفاظت رہے اور ہاتھ بھی صاف ہوں ۔(2) تین انگلیوں سے کھانا، ان کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے ہاں اگر کوئی عذر ہے مثلاً شوربا یا ایسا سالن ہے جسے تین انگلیوں سے کھانا ممکن نہیں (تو تین سے زیادہ انگلیوں سےبھی  کھا سکتے ہیں )۔(3) کھانے کے برتن کو (انگلی سے) چاٹ (کر صاف کر) لینا۔(4) لقمہ گر جائے تو اسے  صاف کر کے کھا لینا، یہ اس وقت ہے جب لقمہ ناپاک جگہ پر نہ گرا ہو،اگر ناپاک جگہ پر گر جائے تو وہ ناپاک ہوجائے گااور اس کو دھونا ضروری ہے پھر اگر اس کو کھایا نہ جاسکتا ہو تو کسی جانور کو کھلا دیں ، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑیں ۔(5) ہاتھ کو رومال سے پونچھنا جائز ہے لیکن سنت یہ ہے کہ پہلے اسے اچھی طرح چاٹ لیا جائے۔ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’شیطان تم میں سے ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘اس میں لوگوں کو اس بات سے ڈرانا  اور تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ شیطان اِنسان کے ہر کام میں دخل اندازی کرتا ہے  پس انسان کو چاہیےکہ وہ ہوشیار رہےاورشیطان(کے شر)سے بچے۔‘‘([59])

برکت کا معنی:

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں :’’تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔   اس  کا حقیقی معنی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے۔لیکن یہاں برکت سےمرادکم کھانے کا زیادہ لوگوں کوکفایت کرجانااور اس کھانے کے ذریعے  تقویٰ حاصل ہونا ہے۔جبکہ برکت کی اصل تو  کسی چیز کا زیادہ ہو جانا اور اس میں وُسعت (یعنی کشادگی ) کا پیدا ہو جاناہے۔‘‘([60])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

متکبرین کا طریقہ:

اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر کھا لے، شیطان کے ‏لیے نہ چھوڑے۔جو لقمہ چھوڑا  جائے وہ شیطان کے ‏لیے ہوجاتا ہے اس لیےکہ اس میں  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت کا ضِیاع  اوربغیر کسی وجہ کے  اس کی تحقیر ہےاور پھر یہ متکبرین کا طریقہ ہے کیونکہ غالب طور پر اگر کسی گرے ہوئے لقمے کو چھوڑا جاتا ہے تو اس کی وجہ تکبر ہی ہوتی ہے اور تکبر شیطان کی صفت ہے۔‘‘([61])

کھانے کا ضِیاع:

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’کھاتے پیتے وقت، پیشاب پاخانہ نماز و دعاحتی کہ اپنی بیوی سے صحبت کرتے وقت بھی قرینی شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ساتھ ہی کھاتا پیتا حتی کہ ساتھ ہی صحبت کرتا ہے۔جس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے اور اولاد بے ادب سرکش ہوتی ہے۔ اگر ان اوقات میں بِسْمِ اللہ پڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے، اولاد نیک و صالح اور باادب پیدا ہوتی ہے۔اگر پاخانہ جاتے وقت بِسْمِ اللہ پڑھ لی جائے تو شیطان اس کا سِتر نہیں دیکھ سکتا۔اگر گرے ہوئے لقمہ میں مٹی وغیرہ پاک چیز لگ گئی ہے تو اسے صاف کر کے لقمہ کھائے اور اگر نجاست لگ گئی ہے تو دھوکر کھالے۔ اگر دھل نہ سکے تو کتے بلی کو کھلادے، یوں ہی نہ چھوڑ دے کہ اس میں مال ضائع کرنا ہے اور ربّ تعالٰی کی نعمت کی ناقدری ہےکہ اس چھوڑے ہوئے لقمے کو یا شیطان کھا ہی لےگا یا اس کے ضائع ہونے پر خوش ہوگا۔ شیطان (کے لیے نہ چھوڑے )کے یہ دونوں معنیٰ ہو سکتے ہیں ۔لہذا کچھ بھی نہ چھوڑے، سب ہی چاٹ لے، اگر فی آدمی ایک ماشہ کھانا بھی برتن میں لگا رہا جو برتن دھوتے ہوئے نالیوں میں گیا تو حساب لگالو کہ جس شہر میں آٹھ دس لاکھ آدمی رہتے ہوں تو دو 2دفعہ کتنا کھانا نالیوں میں جاتا ہے۔یہ فضول خرچی بھی ہے، مال ضائع کرنا بھی،کھانے کی بےادبی بھی۔ اس ‏لیے کچھ بھی نہ چھوڑو،


 

برتن کواچھی طرح صاف کرو،کھانے کا احترام و ادب یہ ہی ہے یا اتنا چھوڑو کہ دوسرا آدمی کھا سکے۔‘‘([62])

تنگی رزق کی ایک  وجہ :

شیخ طریقت، امیر اہلسنت،بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال  محمد الیاس  عطارقادری رضوی ضیائی دامَتْ بَرَکا تُھُمُ الْعَالِیَۃ فرماتے ہیں :’’آج کل رِزْق کی بے قدری اور بے حُرمتی سے کون سا گھر خالی ہے، بنگلے میں رہنے والے اَرَبْ پَتِی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والے مزدورتک اس بے احتیاطی کا شکار نظر آتے ہیں ،شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کاشوربا، چاول اوران کے اَجْزاء بہاکرمَعَاذ اللہ نالی کی نذر کردیے جاتے ہیں ،ان سے ہم سب واقف ہیں ،کاش رِزْق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظرہوتی۔اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں ،تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے مکانِ عالیشان میں تشریف لائے،روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا،اس کولے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا:’’ عائشہ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا) اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے، لوٹ کر نہیں آئی۔‘‘([63])

آدابِ طعام کا مطالعہ کیجئے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دین اسلام ایک ایسا مذہب مُہَذَّب ہے جو ہمیں بڑے بڑے اہم کاموں سے لے کرچھوٹے چھوٹے معمولی کاموں حتی کہ کھانا کھانے کے بھی آداب سکھاتا ہے، یقیناًبہت خوش نصیب ہے وہ مسلمان جو اپنے ہر کام کو سنت کے مطابق سرانجام دینے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، کھانا کھاتے ہوئے کھانے کی سنتوں اور آداب کا لحاظ رکھتا ہے۔کھانا کھانے کی سنتیں اور آداب جاننے کے لیے کم وبیش 466صفحات پر مشتمل، شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف’’آدابِ طعام‘‘  کا مطالعہ بہت مفید ہے۔


 

مدنی گلدستہ

’’آداب طعام‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول

(1)       دینِ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی  فرماتا ہےحتی کہ کھانا کھانے کے متعلق بھی ہمیں ایسا پاکیزہ  طریقہ بتاتا  ہے جو  روحانی و جسمانی  طور پر بے حد فائدہ مند ہے ۔

(2)       کسی بھی مسلمان کی یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے کہ وہ اپنے تمام کام سنت کے مطابق حتی کہ کھانا بھی سنت کے مطابق کھانے کی کوشش کرتا ہے۔

(3)       رزق کی قدر کرنی چاہیے  کہ یہ بابرکت ہے ،اس کی ناقدری کی وجہ سے بے برکتی و تنگدستی آ تی ہے ۔

(4)       جس برتن میں کھاناکھائیں اسے اچھی طرح صاف کرلیں نیزچاول اورروٹی کےجو ذرات دستر خوان پر گر جائیں اُنہیں اُٹھاکر کھا لیں ہو سکتا ہے اُنہیں میں برکت ہو ۔

(5)       کھانے کے جو ذرات نیچے گرجائیں اگر اس پر کوئی پاک چیز جیسے مٹی وغیرہ لگ جائے تو صاف کرکے کھالیں ، اگر ناپاک چیز لگ جائے تو اسے اچھی طرح دھو کر پاک کرکے کھالیں ، اگر نہ کھانا چاہیں تو کسی جانور وغیرہ کو کھلادیں ، شیطان کے لیے ہرگز نہ چھوڑیں ۔

(6)       کھاتے پیتے وقت، سوتے وقت، دعا نماز وغیرہ ہمارے تمام کاموں میں شیطان شریک ہوتا ہےجس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے، اولاد بے ادب وسرکش ہوتی ہے۔ اگر ان اوقات میں بِسْمِ اللہ پڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے، اولاد نیک و صالح اور باادب پیدا ہوتی ہے۔

(7)       دستر خوان سے ٹکڑے اُٹھا کر  کھالینا  عاجزی  وانکساری کی علامت ہے ۔

(8)       کھانے میں برکت   ہونے کا ایک معنی یہ ہے  کہ کم کھانا زیادہ لوگوں کو  پورا ہو جاتا ہےاورایک معنی یہ ہے  کہ  اس  سے  تقویٰ  وپرہیز گاری نصیب ہوتی ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائے ۔


 

یا خدا ہے التجاء عطار کی

سنتیں اپنائیں سب سرکار کی

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:165                     

قیامت کے دِن اُٹھائے جانے کا حال

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا،قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّكُمْ مَحْشُوْرُوْنَ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰی حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا:( كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۱۰۴)) (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴)اَلَا وَاِنَّ اَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَىٰ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِبْرَاهِيْمُ اَلَا واِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ اُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ،فَاَقُوْلُ: يَا رَبِّ اَصْحَابِي  فَيُقَالُ:اِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا اَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَاَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ (وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-)اِلٰی قَوْلِہِ: (الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)) (پ۷، المائدۃ: ۱۱۷، ۱۱۸)فَيُقَالُ لِي: اِنَّهُمْ  لَمْ  يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلَى اَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ.([64])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے  مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں وعظ کرنے کے ‏لیے کھڑے ہوئےاورارشادفرمایا: ’’اے لوگو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ہاں تم اس حال میں اُٹھائے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں ، بے لباس اوربےختنہ ہوگے:(چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)

كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۱۰۴) (پ۱۷، الانبیاء: ۱۰۴)

ترجمہ ٔ کنزالایمان:ہم نے جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ  ہم کو اس کا ضرور کرنا۔

 سنو! قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا۔ سنو!بے شک میری اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا


 

جائے گا، میں کہوں گا: یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔ تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔ پس میں اس طرح کہوں گا جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک بندے (حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام) نے کہا تھا:(چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)

وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۱۱۷)اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)

ترجمہ ٔ کنزالایمان:اورمیں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہاپھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔

پھرمجھ سے کہا جائے گاجب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہیں تب سے یہ لوگ دین سے پھر گئےہیں ۔‘‘

  ایک اعتراض کا جواب :

عمدۃ القاری میں ہے:’’اگر یہ اعتراض  کیا جائے کہ جب حضورنبی کریم رؤف رحیم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر  اُمَّت کے اَعمال پیش کیے جاتے تھے تو پھر اُن لوگوں کے اَعمال پوشیدہ  کیسے رہیں گے؟‘‘

جواب:’’وہ  لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُمَّتی نہیں  ہوں گےاور آپ پر صرف آپ کی اُمَّت کے اَعمال پیش ہوتے ہیں نہ کہ مُرْتَدِّین و منافقین کے۔ ابن تین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنفرماتے ہیں :ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ منافقین اور کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرنے والے ہوں گے ۔   خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَصحاب میں سے کوئی بھی  مُرْتَد  نہ تھا ۔ابو عمر نے کہا:ہر اس شخص کو حوض ِ کوثر سے واپس کر دیا جائے گاجس نے دین میں کوئی نئی(خلاف ِشرع) باتایجاد کی ہوگی،جیسا کہ خوارج و روافض اور خواہشات کی پیروی کرنے والے۔‘‘([65])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

روزِقیامت سب سے پہلے لباس پہننے والے:

عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو سب سے پہلے لباس پہنائے جانے کی حکمت یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو بِنا کپڑوں کے آگ میں ڈالا گیا تھا اس ‏لیے سب سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو لباس پہنایا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے سب سے پہلے شلوار کے ذریعے سترپوشی  کی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ زمین پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا کوئی نہ تھاتو قیامت کے دن  آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو لباس پہنانے میں جلدی اس لیے کی جائے گی تاکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامخوف سے امن میں آجائیں اور آپ کا دل مطمئن ہوجائے۔ حضرت سَیِّدُنَاابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو سب سے پہلے لباس پہنانے کی تخصیص کرنے سےیہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامہمارے نبی، حضور نبی کریم رؤف رحیم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مطلقاً افضل ہیں ۔مجھ پر ابھی یہ بات ظاہر ہوئی کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی قبر انور سے اُسی لباس میں تشریف لائیں گے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وصال فرمایا تھا اور جو حُّلہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زیب تن فرمایا ہوا ہوگاوہ جنتی حُلَّہ ہوگااور وہ تعظیم و تکریم والی پوشاک ہوگی۔ پس  حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو پہلے لباس پہنانا یہ بقیہ مخلوق کے لحاظ سے ہے۔‘‘([66])

ایک اِشکال اور اُس کاجواب:

نزہۃ القاری میں اس حدیث پاک کے تحت ایک اِشکال اور اُس کاجواب تحریرکیاگیاہے، چنانچہ مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’امام ابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنَا ابوسعید خُدْرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگائےاور انہیں پہنا،پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سناہے،(آپ صَلَّی اللہُ


 

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے تھے:’’میت اپنے اُنہیں کپڑوں میں اٹھائی جائےگی جن میں وہ مرے گی۔‘‘ نیز ترمذی میں حضرت سَیِّدُنَابَہْزبن حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ مروی ہے ،انہوں نے کہا: ’’میں نے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سنا،فرماتے تھے:’’ تم لوگ پیدل اورسوارقیامت کے دن جمع کیے جاؤگے۔‘‘یہ دونوں حدیثیں اس (حدیث مذکور  )کے معارض ہیں ۔ علمانے اس کے دوجواب دیے ہیں :

(1) ایک یہ کہ جب قبروں سے اٹھیں گےتو ان کے جسموں پر لباس ہوں گے، پھر وہ منتشر ہوجائیں گے۔اب زیر بحث حدیث کا مطلب یہ ہوا: موقف حشر میں لوگ ابتداءًننگے حاضر ہوں گے،پھر ان کو لباس پہنایا جائے گا۔

(2)دوسراجواب یہ دیاہے کہ یہ شہدائے بدر کے بارے میں ہےکہ وہ اسی لباس میں اٹھائے جائیں گےجس لباس میں  شہیدہوئے ہیں ۔‘‘([67])

شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  ارشادفرمایا:میں اس طرح کہوں گا جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نیک بندے حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا تھا۔یعنی  حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم سے چھٹکارے کے ‏لیےبطورِعذر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ  میں جو عرض کریں گے،میں بھی وہی عر ض کروں گا۔ حضرت عیسی عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ خداوندی میں عرض کریں گے:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!جب تک میں ان میں رہا، ان کے حال سے واقف رہا، میں نے انہیں کفر پر نہیں چھوڑا، اس وقت یہ حق پر تھےجب تو نے ان سے مجھے اٹھالیا ، تو اب ان کے حال سے توہی واقف ہےاور تو ہر غائب وحاضر کو جاننے والاہے،اب اگر تو ان پر عذاب وگرفت فرمانا چاہتاہے تو یہ تیرے بندے ہیں توجو چاہے ان  کے ساتھ معاملہ فرما،کوئی تیرے سامنے  دَم نہیں مارسکتااور اگر تو انھیں معاف فرمادے تو، تو علیم وحکیم ہے جو چاہتاہے کرسکتاہے۔‘‘([68])


 

قیامت کے دن انبیائے کرام کے اٹھنے کی حالت:

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں :’’(اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ہاں تم ننگے پاؤں ،بے لباس اوربےختنہ اٹھائے جاؤگے۔)اِس فرمانِ عالی میں :’’اِنَّکُمْ‘‘فرماکر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ اس حالت میں اٹھو گے ،ننگے بدن ،ننگے پاؤں ،بے ختنہ۔ مگرتمام انبیاءِ کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام) اپنے کفنوں میں اٹھیں گے حتی کہ بعض اولیاء اللہ بھی کفن پہنے اٹھیں گے تاکہ اُن کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔ جامعِ صغیر کی روایت میں ہے کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے فرمایا کہ میں قبر ِانور سے اُٹھوں گا اور فوراً مجھےجنتی جوڑا پہنادیا جاوے گا۔ لہٰذا یہاں اس فرمانِ عالی سے حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمبلکہ تمام انبیاء،بعض اولیاء مستثنیٰ ہیں ۔اس ‏لیے یہاں اَنْتُمْفرمایا نَحْنُنہیں فرمایا ۔یہ خوب خیال رہے۔ (جیسےپہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے۔)یعنی جیسے تم اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ایسے ہی اپنی قبروں کے پیٹ سے اٹھو گے۔ خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ننگے نہیں پیدا ہوئے تھے حریر میں لپٹے ہوئے پیدا ہوئے۔

آنکھوں میں سرمہ بالوں میں شانہ دیا ہوا

لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا

حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے ہیں کہ’’ہم حضرت ابوبکرو عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کے ساتھ اپنی اپنی قبروں سے اُٹھیں گے، پھر جنت البقیع والوں کا انتظار فرمائیں گے، پھر مکہ معظمہ والے جنت معلی کے مُردوں کا۔ پھر محشر کی طرف اس براءت کے ساتھ جائیں گے۔‘‘ ایسی حالت میں حضور بغیر لباس کیسے ہوسکتےہیں ؟(قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا) یعنی کفن اُتار کر جنتی جوڑا پہلے حضرت خلیلُ اللہ کو پہنایا جاوے۔ یا تو اس حکم سے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) علیحدہ ہیں ، متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے یا یہ بدلہ ہے اس کا کہ نمرودی آگ میں جاتے وقت آپ کے کپڑے اتار ‏لیے گئے تھے یہ خصوصی فضیلت ہے،نیز آپ ننگوں کو کپڑے پہناتے تھے۔ نیز آپ حضور انور


 

(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے جَدِّ اَمْجَد ہیں اِن وجوہ سے آپ کا یہ اکرام فرمایا گیا۔‘‘([69])

رسول اللہ سب کچھ جانتے ہیں :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے سب کچھ جانتے ہیں ، اپنی اُمَّت کے تمام اَفراد  اور اُن کے تمام احوال  سے بھی واقف ہیں ، آپ پر اُمَّت کے تمام اَعمال پیش کیے جاتے ہیں ، بلکہ سابقہ اُمَّتوں کے اَحوال سے بھی باخبر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کل بروزِ قیامت دیگر اُمَّتوں کے انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائے جائیں گے۔ لیکن مذکورہ حدیث میں بیان ہوا کہ جب کل قیامت میں اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا جائے گا، حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارگاہ رَبُّ الْعِزَّت میں عرض کریں گے:’’یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔‘‘ تو کہا جائے گا کہ ’’آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔‘‘ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب جانتے ہیں تو یہ کیوں کہا جائے گا کہ ’’آپ نہیں جانتے۔‘‘ شارحینِ کِرام نے اس کی بہت سی وجوہات بیان کی ہیں اور کثیر جوابات دیے ہیں ، چند جوابات یہ ہیں :

(1)یہ استفہام انکاری کے طور پر فرمایا جائے گا جس سے نفی لازم نہیں آتی۔بلکہ استفہام انکاری میں علم کا اثبات ہوتاہے، مثلاً کسی کو کہا جائے کہ ’’کیا آپ ان کو نہیں جانتے۔‘‘تو مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ انہیں جانتے ہیں ۔ بعض روایات میں تو ہمزہ استفہام بھی مذکور ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی ایک روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں : ’’فَيُقَالُ اَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَیعنی پس کہاجائے گا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟‘‘([70])

غزالی زماں ، رازی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’احادیث میں غور


 

کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو اپنی اُمَّت کے تمام اچھے اور بُرے اَعمال کا علم ہے، ترمذی (ومسلم)شریف میں حدیث وارد ہے: عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُھَا وَقَبِیْحُھَا یعنی میری اُمَّت کے تمام اچھے اور بُرے اَعمال مجھ پر پیش کیے گئے۔اب غور فرمائیے کہ مرتدین بھی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اُمَّت میں داخل تھے اُن کا مرتد ہونا عملِ قبیح ہے۔اَعَاذَنَا اللہُ تَعَالٰی مِنْہُ۔ جب اُمَّت کے تمام اعمالِ حسنہ اورقبیحہ حضور کے سامنے پیش کیے گئے تو ان کا اِرتداد جو عملِ قبیح ہےوہ بھی ضرور پیش ہوا، پھر حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کےعملوں کا علم نہ ہونا کیونکر صحیح ہوسکتاہے؟ معلوم ہوا کہ حدیث مذکور کے یہی معنی صحیح ہیں کہ اے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا عمل کیے؟ آپ کو معلوم تو ہے پھر بھی آپ غلبۂ رحمت کے حال میں ان کو اپنی طرف لے جارہے ہیں ۔

یہ حقیقت ہے کہ جب کریم کو سخاوت کرنے کے لیے بٹھادیا جائے تو اس وقت اس کے دریائے سَخَا میں ایسا جوش ہوتا ہے کہ دشمن کی دشمنی کی طرف اس کی توجہ نہیں رہتی اور وہ بے اختیار اپنے کرم کا دامن اس کی طرف پھیلا دیتا ہے اور جب اسے توجہ دلائی جائے تو اس وقت متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں بالکل یہی معاملہ ہے ، ساقی کوثر حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم حوض کوثر پر رونق افروز ہیں ، اپنے غلاموں کو چھلکتے ہوئے جام پلارہے ہیں ، مرتدین کی جماعت ادھر سے گزرتی ہے، حضور کو ان کے عملوں کا پورا پورا علم ہے مگر اس وقت دریا ئے جودوسخا موجزن اور شانِ رحمت کا ظہورِ اَتَمّ ہے، اس لیے ان کی بداعمالیوں کی طرف خیال مبارک جاتا ہی نہیں اور اپنے لطف عمیم اور کرمِ جسیم کے غلبۂ حال میں بے اختیار فرمادیتے ہیں : ’’اُصَیْحَابِیْ اُصَیْحَابِیْ‘‘ لیکن جب توجہ دلائی جاتی ہے کہ اَمَا شَعَرْتَ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ پیارے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا؟ پس فورا توجہ مبارکہ ان کی بداعمالیوں کی طرف مبذول ہوتی ہے اور ارشاد فرماتے ہیں : ’’سُحْقًا سُحْقًا انہیں دور لے جاؤ، دور لے جاؤ۔‘‘طالبِ حق کے لیے اس حدیث کا صحیح مطلب سمجھنے کے لیے یہ بیان کافی ہے۔‘‘([71])


 

(2)  زیادہ تر احادیث میں یہ الفاظ ہیں : ’’اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا  بَعْدَکَ یعنی آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا بدعات نکالی ہیں ۔‘‘ اس حدیث پاک میں درایت کی نفی ہےاور درایت کے معنی ہے کسی چیز کو اٹکل اور حیلے سے جاننا۔ یقیناً رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اٹکل اور حیلے سے علم نہیں ہے بلکہ آپ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا اور وحی الٰہی سے سب چیزوں کا علم ہے۔

(3) جس حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے خود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے قیامت کے اس منظر کو بیان فرمارہے ہیں ، جب آپ خود بیان فرمارہے ہیں تو یقیناً آپ جانتے ہیں کہ کل بروزِ قیامت کن لوگوں کے بارے میں آپ سے کہا جائے گا۔

(4) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’فرشتوں کا یا ربّ تعالی کا یہ کہنا کہ تم نہیں جانتے، ان مرتدین پر اظہار غضب کے لیے ہے، جیسے بلا شبہ باپ بیٹے کو مارنے لگے، ماں جو اس سے سخت نالاں تھی، محبت مادری میں بچانا چاہے، باپ کہے: تُو اس کی حیثیت کو نہیں جانتی، اسے تو میں ہی جانتا ہوں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے مت بچا، مجھے سزاد دے لینے دے۔ ربّ تعالی منافقین کے متعلق فرماتا ہے: (لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ- )(پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۱)انہیں تم نہیں جانتے، ہم جانتے ہیں ، حالانکہ حضور منافقین کو خوب جانتے تھے، (ربّ تعالیٰ)فرماتا ہے: (وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-) (پ۲۶، محمد: ۳۰)تم انہیں کلام کی روش سے ہی پہچان لیتے ہو۔‘‘([72])

قیامت میں کن لوگوں کو لایا جائے گا؟

مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ کل بروزِ قیامت کچھ لوگوں کو لایا جائے گا؟ یہ لوگ کون ہوں گے؟ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’جن لوگوں کو سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دور کریں گے اس میں کئی اقوال ہیں :

 (1)  وہ لوگ منافقین اور مرتدین ہوں گے ۔


 

 (2) وہ لوگ ہوں گے جو آپ کے زمانے میں مسلمان تھے اور پھر بعد میں مرتد ہوگئے، آپ ان کو دنیا کی واقفیت کی بناءپر پکاریں گے، کیونکہ آپ کی حیات میں یہ مسلمان تھے، پھر آپ کو بتایا جائے گا کہ یہ آپ کے بعد مرتد ہوگئے تھے۔

 (3) اس سے مراد گناہ کبیرہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر فوت ہوگئے یا وہ بدعتی لوگ مراد ہیں جو اپنی بدعات کی بناء پر اسلام سے خارج نہیں ہوئے، اس صورت میں ان کو حوضِ کوثر سے ہٹایا جانا عذابِ نار کی وجہ سے نہیں بلکہ زجروتوبیح کے طور پر ہوگا، پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کو بغیر عذاب کے جنت میں داخل کردے، یہ بھی ممکن ہے کہ ان لوگوں کا چہرہ اور ہاتھ پیر آثارِ وضو سے سفید ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ کے ہوں یا بعد کے ہوں اور آپ نے ان کو وضو کی علامت سے پہچانا ہو۔‘‘([73])

ایک اشکال اور اس کا جواب:

یہاں ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں جانتے ہوں گے تو پھر ان کو ’’میرے صحابہ‘‘ یا ’’میرے اُمَّتی‘‘ کہہ کر کیوں پکاریں گے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ زُرقانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :٭ ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پہلے ان کو صحابی یا اُمَّتی فرمانا اس لیے تھا کہ ان کی امید قائم ہو جائے اور جب ان کی امید قائم ہوجائے تو انہیں اپنے سے دور کرکے ان کی امید کو توڑ دیا ۔ اور امید بندھ کر ٹوٹ جانا زیادہ حسرت اور عذاب کا موجب ہوتا ہے۔٭ دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا میں پہلے منافقین کو مسلمانوں کے حکم میں رکھا اور پھر ان کا نفاق ظاہر کرکے ان کو رسوا کردیا، اسی طرح ان منافقین کو پہلے مسلمانوں کی علامت کے ساتھ اٹھایا جائے گا پھر ان کا نفاق اور ارتداد ظاہر کرکے ان کو رسوا کردیا جائے گا، لہذا سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ان کو اپنا اُمَّتی یا صحابی فرمانا ان کے مسلمان ہونے کی علامت کے اعتبار سے ہے، اور بعد


 

میں ان کو دور کردینا ایسے ہی ہے جیسے دنیا میں آپ نے منافقین کو مسجد نبوی سے نکال دیا تھا ۔ اور مرتدین کے اعتبار سے یہ توجیہ اس طرح مُنْطَبِق ہوگی کہ مرتدین پہلے اسلام لائے اور پھر دین اسلام سے مُنْحَرِف ہوگئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ان کو اپنا صحابی یا اُمَّتی فرمانا ان کے پہلے حال اسلام کے اعتبار سے ہے اور بعد میں انہیں دور کرنا ان کے ارتداد کی اعتبار سے ہے۔‘‘([74])

مدنی گلدستہ

’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)       روزِ قیامت  سوائے انبیائے کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وبعض  صالحین کے باقی سب لوگ ننگے پاؤں ، بے لباس اوربے ختنہ اُٹھائے جائیں گے۔

(2)       روزِمحشرہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ والا کے نظارے ہوں گے۔ قبر انور سےجنتی حُلَّہ زیب تن کیے ہوئے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےجھرمٹ میں محشر کی طرف تشریف لائیں گے۔

(3)       حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں مؤمنوں کے اَعمال پیش کیے جاتے ہیں ، کفار ومنافقین کے اَعمال پیش نہیں کیے جاتے۔ 

(4)       سِترپوشی کے ‏لیے جتنا زیادہ اچھا طریقہ اختیارکیا جائے شریعت میں اتنا ہی محمود ہے جیساکہ حضرت سَیِّدُنَاابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے سِترپوشی کے ‏لیے سب سے پہلے شلوار پہنی توآخرت میں  آپ کو سب سے پہلے کپڑے پہنائے جائیں گے۔

(5)       دینِ اسلام میں تحریف کرنے والا، خلافِ شرع نئی  باتیں ایجاد کرنے والا کل بروزِ قیامت حمایتِ مصطفےٰ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے محروم رہے گا۔


 

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں روزِ محشر اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے۔                            آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے

گران کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:166               

بِلاضرورت  کنکرپھینکنا منع ہے

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ عَبْدِاللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ،قَالَ: نَهَى رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا يَنْكَاُ الْعَدُوَّ، وَاِنَّهُ يَفْقَاُ الْعَيْنَ،وَيَكْسِرُ السِّنَّ. ([75])

وَفیِ رِوَایَۃٍ: اَنَّ قَرِیْبًا  لِاِبْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نَهَي عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهَا لَاتَصِيْدُ صَيْدًا، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: اُحَدِّثُكَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ؟ لَا اُ کَلِّمُکَ اَبَدًا.([76])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید عبداللہ بن مُغَفَّل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکنکر مارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’نہ تو یہ شکار کو قتل کر سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن کومارسکتے ہیں ،  بلکہ یہ آنکھیں پھوڑدیتے ہیں اور دانت توڑدیتے ہیں ۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے کہ  حضرت سَیِّدُنَاابن مُغَفَّلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےایک  رشتہ دار نے کنکر مارے توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنےاسے منع کرتے ہوئےفرمایا:’’بیشک سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکرمارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’اس سے شکار نہیں ہوسکتا۔‘‘پھر اس نے دوبارہ کنکر مارے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : میں نے تجھے  بتایاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا ہے تُو پھر  بھی کنکر مارتا


 

ہے! اب میں تجھ سے کبھی  کلام نہ کروں گا۔‘‘

 کنکر مارنے سے متعلق وضاحت :

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :’’سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکر مارنے سے منع فرمایاکیونکہ اس سے نہ تو دشمن مرتاہےاور نہ ہی شکار مارا جاتاہےبلکہ  اس سے کسی کی  آنکھ پھوٹ سکتی ہے یا دانت ٹوٹ  سکتا ہے۔لہٰذاکنکرپھینکنے میں کوئی  مَصْلِحَت نہیں ہے،بلکہ فساد کاخوف ہےاور ہر وہ کام جو اس کے مشابہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اس میں تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ضرورتاً کنکر پھینکنا جائز ہے مثلاًدشمن سےلڑتے وقت یا شکار کرتے وقت اگر  حاجت ہو تو جائز ہے۔پرندوں کو غُلیل سے مارنا بھی اسی حکم  میں داخل  ہےکیونکہ اگر کسی بڑے پرندے کو غُلیل سے مارا جائے تو غالب یہی ہے کہ وہ اس سے نہیں مرتا۔ ہاں اس پرندے کو زندہ پکڑ لیا جائے تو یہ جائز ہے۔‘‘([77])

حضرت سَیِّدُنَاابن ملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’کنکر  پھینکنے سے منع کرنااس وجہ سے تھا کہ ا س میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس سے فساد کا خوف ہے۔لہٰذا ہر وہ چیز جو کنکر کی مثل ہے اس سے کھیلنا منع ہےاور وہ اس حدیث کےتحت  داخل ہے۔‘‘([78])

قطع  تعلق کر نے کے بارے  میں وضاحت:

حضرتِ سَیِّدُنا ابن مغفلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کنکر پھینکنے والے کو حدیث نبوی سنا  کر اس کام سے منع فرمایا لیکن وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا :’’اب میں تجھ  سے کبھی   بات نہ کروں گا۔“ حدیث مذکور کے اس حصے کے تحت عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس  میں  اہل بدعت،اہل فسق اور علم کے باجود سنت سے لاپرواہی کرنے والے سےقطع تعلقی کرنے پر دلیل ہےاوران سےدائمی طورپرقطع تعلق کرنا بھی جائز ہےاور تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرنے سے جو منع کیاگیاہے وہ  ان لوگوں


 

کے ‏لیےہےجو اپنے نفس اور دنیا  کی وجہ سے قطع تعلقی کرتےہیں بہرحال بدعتی اور اس قسم کےلوگوں سےہمیشہ کے ‏لیے قطع تعلق کرناچاہیے۔‘‘([79])

مدنی گلدستہ

’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

(1)     اسلام لایعنی و فضول کاموں سے منع کرتاہے اورایسے اچھے کاموں  کی تعلیم دیتاہے جن سے انفرادی یا اجتماعی فائدہ ہو۔

(2)     بِلاضرورت کنکرہوا میں اچھالنا، دوسروں کی جانب پھینکنا، درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کی طرف پھینکنادرست نہیں کہ اس میں نقصان کا اندیشہ ہے،  فائدہ کچھ نہیں ۔

(3)     اہلِ بدعت،اہل فسق اور علم کے باجود سنت سے لاپرواہی کرنے والوں  سے دائمی قطع تعلق  جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔

(4)     بلا وجہ شرعی کسی ذاتی رنجش، نفسانی خواہش  یا دنیا کے ‏لیے کسی مسلمان  سے   تین دن سے زیادہ قطع تعلق  ممنوع ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں فضول اور بےکار  کاموں سےبچنےاوراپنی رضاوالےکام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                    آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :167                        

حَجَرِ اَسْوَد کا بوسہ

عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيْعَةَ قَالَ:رَاَ یْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ  یُقَبِّلُ الْحَجَرَ  یَعْنیِ الْاَسْوَدَ


 

وَیَقُوْلُ: اِنِّي اَعْلَمُ اَنَّكَ حَجَرٌ  مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا اَنِّي رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللہِ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ.([80])

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عابِس بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ میں نےحضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو  دیکھا کہ  حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے :’’میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہےجو نفع  و نقصان  نہیں پہنچا سکتا ۔اگر میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔‘‘

سَیِّدُنَافاروق اعظم کے قول کی توجیہ:

عمدۃُ القاری میں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےفرمان    کی وضاحت کرتے ہوئےحضرت سَیِّدُنَا امام طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اہل عرب بتوں کی پوجا  کرتے تھے ۔جب  حضرت  سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حجر اسود کو بوسہ دیا تو  آپ کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ جاہل یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ  جس طرح ہم بُتوں کو پوجتے ہیں ، اسی طرح مسلمان بھی بتوں کی تعظیم کرتے اور انہیں چومتے ہیں ،  لہٰذاآپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ا ن کا رَد کرتے ہوئے  واضح کر دیا کہ حجر اسود کو چومنا صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی تعظیم اورحضور نبی کریم ،رؤف و رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ شعائر حج میں سے ہے جن کی تعظیم کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے حکم دیا ہے۔پس اس کا چومنا  بتوں  کو چومنے کی طرح نہیں  ہے ۔‘‘([81])

حجر اسود کے پاس رونا:

حضرت سَیِّدُنَا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا، پھر اپنے ہونٹ مبارک اس پررکھ کر بہت دیر تک روتے رہے، پھر حضرت


 

 عمربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں ۔ تو  فرمایا: ’’اے عمر! یہی جگہ ہے جہاں آنسو بہائے جاتے ہیں ۔‘‘([82])

سَیِّدُنَا فاروق اعظم اورفتنے کا سَدباب:

          شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضرت سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے حجر اسود سے فرمایا:میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔یعنی دنیامیں ظاہرًا ایک پتھر ہے کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچاسکتا۔اگرمیں نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تجھے بوسہ دیتے   ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ اس ‏لیے فرمایاکہ لوگوں کے دلوں سے  بتوں اور پتھروں کی محبت  وعظمت نکل جائے  کیونکہ وہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس ‏لیے اس بات کا اندیشہ تھاکہ اس پتھرکی عبادت کے فتنے میں مبتلانہ ہوجائیں ۔‘‘([83])

حجر اَسود کا نفع ونقصان دینا:

فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’یہ حدیث مختلف اَلفاظ اور کچھ زیادتی اور کمی کے ساتھ حضرت سَیِّدُنَا ابن عباس، حضرت سَیِّدُنَا ابن عمر، حضرت سَیِّدُنَا عُروہ، حضرت سَیِّدُنَا اَسلم، حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن سرجس، حضرت سَیِّدُنَا سُوید بن غفلہ، حضرت سَیِّدُنَا عابس بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مروی ہے۔ امام حاکم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مستدرک میں حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی، اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حجر اسود سے تخاطب فرماکر بوسہ لیا تو اس پر حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’اے امیر المؤمنین! بلا شبہ یہ حجر اَسود ضرر بھی دیتا ہے اور نفع بھی پہنچاتا ہے۔‘‘ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا: ’’کیسے؟‘‘ تو فرمایا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ


 

 میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن حجر اسود کو لایا جائے گا اور اس کی شستہ زبان ہوگی، جس نے اس کا توحید کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کے بارے میں گواہی دے گا۔ اس لیے امیر المؤمنین وہ ضرر بھی دیتا ہے اور نفع بھی۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی قوم سے جس میں اے ابوالحسن تم نہ ہو۔‘‘

امیر المؤمنین سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی اس حدیث پاک کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حجر اسود جب جنت سے آیا تھا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا، بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔‘‘ایک روایت میں یوں ہے: ’’فرمایا کہ ان دونوں رُکن (رُکن یمانی اور رُکن حجر اسود) کا چومنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

اِن احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ حجر اسودنفع دیتا ہے، جس نے ایمان کے ساتھ اس کا بوسہ لیا ہے، اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا، کیا یہ معمولی نفع ہے؟ بوسہ دینے والوں کے گناہوں کو مٹاتا ہے، کیا یہ نفع پہنچانا نہیں ؟ ابن ماجہ میں ہے: ’’حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سن کر فرمایا: ’’جس نے اس حجر اسود کا بوسہ لیا وہ رحمٰن کے یدِقدرت کا بوسہ لیتا ہے۔‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ رکن اسود یقیناً زمین میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یدِ رحمت ہے، اس کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے بندوں سے مصافحہ فرماتا ہے جیسے ایک شخص اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے۔‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث میں ہے، جس نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیعت نہیں پائی اور حجر اسود کا بوسہ لے لیا تو اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی۔‘‘

کیا ایک بندے کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کچھ ہوسکتی ہے اور کیا یہ نفع پہنچانا نہیں ؟ رہ گیا حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وہ ارشاد کہ اے حجر اسود تو نفع نقصان نہیں دیتا۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ انہیں یہ تمام احادیث نہیں پہنچی تھیں اور ابھی لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، بت پرستی سے


 

قریب العہد تھے، عہد جاہلیت میں بتوں کے بارے میں یہ اعتقاد تھا کہ یہ مستقل بالذات نافع اور ضار یعنی نفع ونقصان دینے والے ہیں ، اس کا اندیشہ تھا کہ کہیں یہ اعتقادِ بد حجراسود کے بارے میں مسلمانوں میں نہ پیدا ہوجائے، اس کے ازالے کے لیے وہ فرمایا۔ مگر جب حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے خود حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد بتایا تو تسلیم فرمالیا۔ اس لیے اب ان کے اس ارشاد کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ حجر اسود نفع وضرر نہیں پہنچاتا درست نہیں ۔‘‘([84])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حجراسود کی خصوصیات:

(1)اس کامس کرنا(یعنی چھونا)گناہوں کومٹاتاہے۔(2)اعلانِ نبوت سے پہلے بھی یہ پتھر مبارک شاہِ خیر  الانامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سلام  کہتا تھا ۔(3)اس پتھر شریف کو پھر ایک مرتبہ اپنی اصل شکل پر کردیاجائےگا۔(4)قیامت کے دن اس کا حَجْم(یعنی جسامت)جبلِ اَبی قُبَیْس جتنا ہوگا۔([85])

تفسیرنعیمی  میں ہے :یہ جنتی پتھر ہے،حدیث شریف میں ہےکہ رُکن اور مقام(ابراھیم)دو”جنتی یاقوت“ہیں ۔ پہلےبہت نورانی تھے۔ اللہ (عَزَّ  وَجَلَّ)نے ان کا نورمحوکردیا (یعنی چھپادیا) اگر ایسانہ ہوتاتویہ مشرق ومغرب کو چمکاتے ۔ایک اور روایت میں ہے:جب سنگِ اسود دیوارِکعبہ میں قائم کیاگیاتواس کی روشنی چاروں طرف دُور تک جاتی تھی جہاں تک اس کی روشنی پہنچی وہاں تک حرم کی حدود مقررہوئیں جس میں شکارکرنامنع ہے اور سنگِ اَسود کا رنگ بالکل سفید تھا گناہ گاروں کے ہاتھوں سے سیاہ ہوگیا۔ ([86])

حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحجرِ اسود کےبارے میں ارشاد فرمایا:’’اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!بروزِ قیامت اس پتھرکو اٹھایاجائےگا،اس کی


 

 دوآنکھیں ہوں گی جس سے دیکھے گا،زبان ہوگی جس سے بولے گااور جس نے حق کے ساتھ اس کا استلام کیا یہ اس کی گواہی دےگا۔‘‘([87])

کالک جَبیں کی سجدۂ دَر سے چُھڑاؤ گے

مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے

مدنی گلدستہ

’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول

(1)       حَجر ِاَسودشعائر اسلام میں سے ہے ،اس کی تعظیم حکِم ربّانی کی وجہ سے کی جاتی ہے ۔

(2)       شریعت کی اتباع میں ذاتی پسند یا نا پسند کا کچھ دخل نہیں ،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اوراس  کے پیارے  حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو ارشادفرمادیں اس کی تابعداری ضروری ہے  ۔

(3)       حجرِ اسودقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ،زبان اوردو ہونٹ ہوں گے،یہ اس شخص کے بارے میں  گواہی دے گاجس نے اس کا بحالت ایمان استلام کیا ہوگا ۔

اے ہمارے پیارےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہمیں شرختم کرنے اور خیر عام کرنے کی توفیق عطافرما، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما،  باربار حج  کی سعادت عطافرما ، روضۂ رسول  کی باادب حاضری نصیب فرما۔

آپ کے میٹھے مدینے میں پئے غوث ورضا

حاضری ہو یا نبی ہر بیکس ومجبور کی

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

با ب نمبر:71                     

اِطَاعَتِ خُدَاوَنْدِی کا بیان

اِطاعتِ خداوندی کا وجوب اور اِس بات کا بیان کہ جسے ربّ تعالی کی اِطاعت کی طرف بلایا جائے

اور بھلائی کا حکم دیا جائےیابرائی سے منع کیا جائےتواُس شخص کا جواب کیاہونا چاہیے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام ایک مکمل دین ہے، یہ دینِ اسلام ہی ہے جس میں پیدائش سے لے کر وفات تک کی دنیوی زندگی، وفات سے لے کر حشر تک کی اُخروی زندگی کے ہر ہر معاملے میں کامل واکمل رہنمائی فرمائی  گئی ہے، دینِ اسلام انسان کی فکری وعملی دنیا کو سنوارنے، جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنیوں کی طرف لانے اور اِنسانیت کی بقاء کے لیے عملی نمونہ پیش کرنے والا واحد دِین ہے۔اپنے اسی رفعت وکمال، عزت وجلال کی بنا پر یہ دین تاقیامت دینِ اَبَدِی قرار پایا، خود ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں بھی یہی حقیقی دین ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتاہے: (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-) (پ۳، آل عمران: ۱۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔‘‘پھر ربّ تعالٰی نے اس دینِ فطرت کے ماننے والوں کو اپنی اور اپنے پیارے رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کا حکم اِرشاد فرمایا:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ) (پ۵،النساء:۵۹)ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔‘‘اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کو اپنی اِطاعت قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- )(پ۵، النساء: ۸۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا ۔‘‘یہود ونصاریٰ اور کفار کا یہ شیوہ تھا کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول کا حکم سنتے تو کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مخالفت کی لیکن مسلمانوں کی شان یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ یقیناً اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات کی بجاآوری میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائیاں موجود ہیں ۔ سمجھدار وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اَحکامِ شرعیَّہ پر عمل کرے اوراپنی آخرت کی تیاری میں مشغول رہے۔


 

ریاض الصالحین کا یہ باب’’اِطاعت خداوندی‘‘کے متعلق ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےاس باب میں دو آیاتِ کریمہ، اور ایک حدیثِ مبارَکہ بیان فرمائی ہے، پہلے آیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔

(1)حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سب کے حاکم ہیں

فرما نِ باری تعالٰی ہے:

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵) ( پ۵، النساء :۶۵)

 ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے ربّ کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ معنیٰ یہ ہیں کہ جب تک آپ کے فیصلے اور حکم کو صِدقِ دِل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہوسکتے۔ سُبْحَانَ اللہ اس سے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان معلُوم ہوتی ہے۔شانِ نزول: پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آب رسانی کرتے ہیں اس میں ایک اَنصاری کا حضرت زُبَیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حضور پیش کیا گیا حضور نے فرمایا: اے زبیر تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۔یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں ۔ باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اَنصاری کے ساتھ اِحسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن اَنصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو، انصافاً قریب والاہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘([88])


 

رسول اللہ کے حکم کا منکر اِسلام سے خارج ہے:

تفسیر روح البیان میں ہے: ’’اس آیت مبارکہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاحکامات میں سے کسی حکم کا انکار کیا تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، خواہ اس نے شک کی بنیاد پر یہ انکار کیا ہو یا نافرمانی و بغاوت کے طور پر۔ نیز یہ آیت  عہد صدیقی میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےاُس مؤقف کے صحیح ہونے کی دلیل بھی ہے جس میں انہوں نےمانعین زکوٰۃ کو مرتد قرار دینے اور انہیں قتل کرنےاور ان کی اولاد کو قید کرنے کا حکم دیا۔ (کیونکہ ان مانعین زکوۃ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم ادائے زکوۃ کا انکار کیا تھا۔) پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع فرائض عین میں فرضِ عین، فرائضِ کفایہ میں فرض ِ کفایہ، واجبات میں واجب اورسنتوں میں  سنت اور اسی طرح دیگر احکام۔ نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت سے اسلام کی نعمت چھن جاتی ہے۔‘‘([89])

(2)فلاح پانےوالےلوگ کون ہیں ؟

فرما نِ باری تعالٰی ہے:

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵۱) (پ۱۸، النور: ۵۱)

ترجمہ ٔ کنزالایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے  جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے۔

عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : مسلمانوں کو جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کی طرف بلایا جائے تاکہ رسول ان کے معاملات کا فیصلہ کریں  تو انہیں چاہیے کہ وہ کہیں :’’ہم نے سنا جو ہمیں کہا گیا اور ہم نےاس کی اطاعت کی


 

  جس نے ہمیں اس کی طرف بلایا۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’یہ آیت مبارکہ جن لوگوں کی وجہ سے نازل کی گئی ان کے ‏لیے اس آیت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے توبیخ یعنی ڈانٹ دپٹ ہے اور دیگر لوگوں کے لیے تادیب  یعنی ادب کی تعلیم ہے۔‘‘([90])

حکم پیغمبر میں عقل کو دخل نہ دو:

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’(مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے) معلوم ہو ا کہ حکم پیغمبر میں عقل کو دخل نہ دو کہ اگر عقل نہ مانے تو قبول نہ کرو۔ بلکہ جیسے بیمار اپنے کو حکیم کے سپر د کردیتا ہے ایسے ہی تم اپنے کو ان (یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے سپرد کردو، عقل قربان کن بہ پیش مصطفٰی (یعنی رسول کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے اپنی عقل کو قربان کردو۔) اگر اس پر عمل ہوگیا تو پھر دین و دنیا میں تم کامیاب ہو۔ کیونکہ ہماری آنکھیں ، عقل، علم چھوٹے ہوسکتے ہیں مگر وہ (حبیب کبریاء محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سچوں کا بادشاہ یقیناً سچا ہے۔ جیسے قابل طبیب کی دوا فائدہ کرتی ہے بیمار کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے ایسے ہی حضور کے اَحکام مفید ہیں خواہ ہماری سمجھ میں آویں یا نہ آویں ۔ افسوس ہے کہ ولایتی دوا پر تو ہم کو اعتقاد ہے کہ بغیر اجزاء معلوم کیے استعمال کرتے ہیں مگر ر سول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان میں تامل ہے ۔‘‘([91])

اللہ ورسول کی اطاعت بڑی کامیابی ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت ہی بڑی کامیابی اور دخول جنت کا سبب ہے، نیز اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی بڑی ناکامی اور جہنم میں داخلے کا سبب ہے۔ چنانچہ اللہتبارک وتعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ  مَنْ  یُّطِعِ  اللّٰهَ  وَ  رَسُوْلَهٗ  یُدْخِلْهُ  جَنّٰتٍ

ترجمہ ٔ کنزالایمان: جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا


 

  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُ  خٰلِدِیْنَ  فِیْهَاؕ-وَ  ذٰلِكَ  الْفَوْزُ  الْعَظِیْمُ(۱۳) (پ۴، النساء: ۱۳)

اللہ اُسے باغوں میں لے جائے گا، جن کے نیچی نہریں رواں ہمیشہ اُن میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘

مزید ارشاد فرماتاہے:

وَ  مَنْ  یَّعْصِ   اللّٰهَ  وَ  رَسُوْلَهٗ  وَ  یَتَعَدَّ  حُدُوْدَهٗ  یُدْخِلْهُ  نَارًا  خَالِدًا  فِیْهَا   ۪-  وَ  لَهٗ  عَذَابٌ  مُّهِیْنٌ۠(۱۴) (پ۴، النساء: ۱۴)

ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اُسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے ‏لیے خواری کا عذاب ہے۔

اَحکام الہی میں غور وفکر کرنے والا نوجوان:

حضرت سَیِّدُنَا ابو صالح دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ’’لکام‘‘ کے پہاڑوں میں گیا۔ میری یہ خواہش تھی کہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے ملاقات ہوجائے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے کچھ مخصوص بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا سے الگ تھلگ جنگلوں ، صحراؤں اور پہاڑوں میں رہ کر خوب دل لگا کر ذکرِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ میں مشغول رہتے ہیں ۔ ایسے لوگو ں سے فیضیاب ہونے کے ‏لیے میں ’’لکام‘‘ کی پہاڑیوں میں سر گر داں تھا کہ یکایک مجھے ایک شخص نظر آیا جو ایک پتھر پر سر جھکا ئے بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا  لگتا تھا جیسے وہ کسی بہت بڑے معاملے میں غور وفکر کر رہا ہے۔ میں اس کے قریب گیااور سلام کرکے پوچھا: ’’تم یہاں اس ویرانے میں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ شخص کہنے لگا:’’ میں بہت سی چیزو ں کو دیکھ رہا ہوں اور اُن کے بارے میں غو روفکر کر رہا ہوں ۔‘‘ اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا :’’مجھے تو تمہارے سامنے پتھروں کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آرہی پھر تم کن چیز وں کو دیکھ رہے ہو اورکِن اشیاء کے بارے میں غور وفکر کر رہے ہو؟ ‘‘ میری اس بات پر اس شخص کا رنگ مُتَغَیر ہوگیااوراس نے مجھ پر ایک جلال بھری نظر ڈالتے ہوئے کہا: ’’میں ان پتھر وں کے بارے میں غو ر وفکر نہیں کر رہا بلکہ اپنے دل کی حالت پر غور وفکر کر رہا ہوں اور اس میں پیدا ہونے والے خدشات کے بارے میں سوچ رہاہوں اوران اُمور کے بارے میں متفکر ہوں جن کا میرے پاک پروردگار عَزَّ  وَجَلَّ نے حکم دیا ہے۔‘‘


 

پھر وہ کہنے لگا:’’اے شخص! مجھے میرے پاک پروردگار عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم جس نے ہماری ملاقات کرائی! تیرا یہ پوچھنا مجھے بہت عجیب لگا اور تیرے اس سوال پر مجھے بہت غصہ آیا لیکن اب میرا غصہ زائل ہوچکاہے ،اب ایسا کرو کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘میں نے اس نیک بندے سے عرض کی : ’’مجھے کچھ نصیحت کیجئے تا کہ اس پر عمل کر کے دارَین کی سعادتوں سے مالا مال ہوجاؤں ۔تمہاری نصیحت بھری باتیں سننے کے بعد میں یہاں سے چلا جاؤں گا ۔‘‘ یہ سن کر و ہ شخص بولا: ’’جب کوئی شخص کسی کے دروازے پر ڈیرہ ڈال دے اور اس کی غلامی کرنا چاہے تو اس شخص پر لازم ہے کہ ہمیشہ اپنے مالک کی خوشنودی والے کا موں میں لگا رہے۔جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھتا ہے اسے گناہوں پر شرمندگی نصیب ہوتی رہتی ہے (اور گناہوں پر نادم ہونا تو بہ ہے، لہٰذا انسان کو ہر وقت اپنے گناہوں پر نظر رکھنی چا ہے)جوشخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکُّل کر لیتا ہے اور اپنے ‏لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحیم وکریم ذات کو کافی سمجھتا ہے وہ کبھی بھی محروم نہیں ہوتا۔ اسے ربّ تعالٰی ضرور عطا فرماتا ہے ، بس انسان کا یقین کامل ہونا چاہیے ۔ اگر یقین کا مل ہوگا تو وہ کبھی بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہ ہوگا ۔‘‘ حضرت سَیِّدُنَا ابو صالح دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ اتنا کہنے کے بعد اس شخص نے مجھے وہیں چھوڑا اور خود ایک جانب روانہ ہوگیا ۔([92])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سُبْحَانَ اللہ!اس پہاڑی علاقے میں رہنے والے نیک شخص کی کیسی نصیحت بھری گفتگو تھی، اُس کے اِن چند کلمات میں دنیا وآخرت کی بھلائی کے بہترین اُصول موجود ہیں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی ہر حال میں اپنے اور اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مطیع وفرمانبردار رکھے، ہمیں گناہوں پر نادم ہونے کی تو فیق عطا فرما ئے۔ آمین

ندامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہو جاتا      

ہمیں رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

حدیث نمبر:168                          

ربّ تعالٰی طاقت سےزیادہ بوجھ نہیں ڈالتا

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ،رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-)اِشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَاَ تَوْا رَسُوْلَ اللَّهِ،صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوْا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوْا:اَيْ رَسُوْلَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا نُطِيْقُ:الصَّلَاةَ وَالْجِهَادَ وَالصِّيَامَ  وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيْقُهَا.قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ،صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَقُوْلُوْا كَمَا قَالَ اَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُوْلُوْا:سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ، قَالُوْا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ.فَلَمَّا اقْتَرَاَهَا الْقَوْمُ،وذَلَّتْ بِهَا اَلْسِنَتُهُمْ،اَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالٰی فِي اِثْرِهَا (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵))فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ:( لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-)قَالَ: نَعَمْ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-)قَالَ: نَعَمْ( رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-) قَالَ: نَعَمْ (وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶)) قَالَ: نَعَمْ. ([93])

ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،فرماتے ہیں کہ جب سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ- (پ۳، البقرۃ: ۲۸۴)       ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہرکرو جوکچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ   اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔


 

تویہ بات صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر شاق گزری لہٰذا وہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دو زانوں  بیٹھ کر عرض گزار ہوئے:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں اُن اَعمال کا مکلف کیاگیا ہے جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں جیسے نماز،جہاد، روزہ اور صدقہ اور اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کیا تم پچھلی اُمَّتوں کی طرح کہنا چاہتے ہوکہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی ؟بلکہ یوں کہو! ہم نے سنا اور اطاعت کی، اےہمارے ربّ! ہمیں بخش دے ہم نے تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کہنے لگے: ’’ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے، ہم نے تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کہہ چکے اورزبان سے تسلیم کرچکے تو اس کے فورًا بعداللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) (پ۳، البقرۃ: ۲۸۵)                                      ترجمہ ٔ کنزالایمان:رسول ایمان لایا اس پر جواس کے ربّ کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا  تیری معافی ہو اے ربّ ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔

جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانیہ کہہ چکے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے پہلے حکم کو منسوخ کردیا اور یہ آیت  نازل فرمائی:

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-

ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے ربّ ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فرمایا :’’ہاں ۔‘‘

رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى

ترجمہ ٔ کنزالایمان:اے ربّ ہمارے اورہم پر بھاری


 

 الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-

 بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فرمایا :’’ہاں ۔‘‘

رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-

 ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے ربّ ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (طاقت)نہ ہو۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فرمایا :’’ہاں ۔‘‘

وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶)

                                                                                                                                        (پ۳، البقرۃ: ۲۸۶)

 ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مِہر (رحم)کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فرمایا :’’ہاں ۔‘‘

آیت کی منسوخیت سے متعلق اَقوال:

مذکورہ حدیث پاک میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 284کے  منسوخ  ہونے کا ذکر ہے۔ اس آیت مبارکہ کے منسوخ ہونے یا نہ ہونے کےبارے میں تین اقوال ہیں :

(۱) یہ آیت مبارکہ منسوخ ہے۔ جیسا کہ اسی حدیث پاک میں اس کی منسوخیت کو بیان کیا گیا ہے۔

(۲) یہ آیت مبارکہ مُحْکَم ہے منسوخ نہیں ۔ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’وسوسہ اور بُرے خیالات جو بغیر اختیار دل میں پیدا ہوں وہ معاف ہیں اُن کا حساب نہیں اور بُرے اِرادے جس میں انسان عمل کرنے کا قصد بھی کرے مگر کسی مجبوری سے نہ کرسکے اس پر پکڑ ہے۔ کفر کا ارادہ کفر ہے، گناہ کا اِرادہ گناہ ہے۔ لہٰذا اس معنی سے یہ آیت مُحْکَم ہے منسوخ نہیں ۔‘‘([94])

(۳) یہ آیت مبارکہ اپنے عموم پر ہے البتہ دوسری آیت نے اس کے عموم میں تخصیص کردی۔


 

 چنانچہ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’یہ آیت مبارکہ اپنے عموم پر ہےاوریہ دل میں پائےجانے والےتمام خیالات کو شامل ہے چاہےوہ اختیاری ہوں یا غیراختیاری ۔پھر دوسری آیت نے اس کو (فقط اختیاری خیالات کے ساتھ) خاص کردیا۔‘‘([95])

ذہن میں وارد ہونے والے پانچ اُمور:

علامہ صاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ذہن میں وارد ہونے والے خیال کی پانچ قسمیں بیان فرمائی  ہیں :

(۱) ہاجس: اچانک کسی بات کا ذہن میں خیال آنا اور فوراً اس کا ذہن سے چلے جانا۔

(۲) خاطر: کسی چیز کا اس طرح خیال آنا کہ کچھ عرصہ اس کا خیال ذہن میں بھی باقی رہے۔

(۳) حدیث نفس: جس چیز کا خیال آئے ذہن اس چیز کی طرف راغب بھی ہو اور اسے پورا کرنے یا حاصل کرنے کے لیے کوشش بھی کرے۔ذہن میں آنے والے ان تینوں امور پر کوئی پکڑ نہیں ہوتی اگرچہ ان کا تعلق خیر سے ہو یا شرسے۔ 

(۴) ہم: کسی چیز کو حاصل کرنے کا خیال آیا اور ذہن زیادہ اس بات کی جانب مائل ہے کہ اسے حاصل کیا جائے البتہ تھوڑا سا یہ خیال بھی ہے کہ اسے حاصل نہ کیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے اس میں کوئی نقصان ہو۔اگر کسی نیکی کا خیال اس طرح آئے تو اس پر ثواب ملے گا لیکن گناہ کا خیال آئے تو اس پر کچھ نہیں ۔

(۵) عزم: پختہ اِرادہ عزم کہلاتا ہے۔ جب ذہن کسی چیز کے حصول کے لیے پختہ اِرادہ کرلے، نفس کو اس کی جانب مائل کرلے اور اس کے حصول کی نیت بھی کرلےتو یہ عزم کہلاتا ہے۔ اس صورت میں اگر نیکی کا ارادہ ہے تو اس پر ثواب ملے گا اور گناہ کا ارادہ تھا تو اس پر پکڑ ہوگی، اگرچہ کسی سبب سے وہ اس گناہ کو نہ کرسکا۔‘‘([96])

ذہن میں وارد ہونے والے مذکورہ بالا پانچوں اُمور کو اس مثال سے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ


 

مثلا ًکسی شخص کے ذہن میں اپنے دشمن کو قتل کرنے کا خیال آیا تو یہ خیال ’’ہاجس‘‘ ہے،  اب اگر یہ خیال اس کے دل میں بار بار آئے اور کچھ عرصہ تک باقی رہے تو یہ ’’خاطر‘‘ ہے، جب اس کا ذہن اس کے قتل کی طرف راغب ہو اور وہ اس کی منصوبہ بندی کرے کہ میں فلاں فلاں آلے سے اس کو قتل کروں گاتو یہ ’’حدیث نفس‘‘ ہے۔ جب وہ اس کو قتل کرنے کا ایسا ارادہ کرلے کہ غالب جانب اس کے قتل کی ہو اور تھوڑا سا یہ خیال بھی ہو کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں اس لیے قتل نہ کروں تو بہتر ہےتو یہ ’’ہم‘‘ ہے۔ ان چاروں صورتوں تک بندے پر مواخذہ نہیں ہوگا۔جب تھوڑا سا یہ خیال بھی نہ ہو اور ذہن سو ۱۰۰فیصد اس کے قتل کرنے کی نیت کرلے تو یہ’’عزم‘‘ ہے۔ اس عزم پر مؤاخذہ ہوگا اگرچہ بندہ کسی سبب سے اپنے دشمن کو قتل نہ کرسکے، مثلاً وہ قتل کرنے گیا اور معلوم ہوا کہ اس کا دشمن اپنی طبعی موت مرچکا ہے یا اسے کسی اور نے قتل کردیا ہے۔ لیکن اُس شخص نے چونکہ اُس کو قتل کرنے کا پختہ اِرادہ کرلیا تھا اِس لیے اِس پر اُس کی گرفت ہوگی۔

اچھائی و برائی کا اِرادہ اور اُن کا اجر:

حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ (ہم)کرے تو اُسے نہ لکھو، اگر وہ اُس برائی کو کرلے تو ایک گناہ لکھ دو،  اور جب وہ کسی اچھائی کا ارادہ (ہم)کرے تو ایک نیکی لکھ دو اور اگر وہ اس اچھائی کو کرلے تو اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دو۔‘‘([97])

غیر اختیاری خیالات معاف ہیں :

تفسیر خازن میں ہے کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات دو طرح کے ہیں :

(۱) وہ خیالات جو انسان بذات خود اپنے دل میں لاتا ہے اور پھر اُن پر عمل پیرا ہونے کا پختہ اِرادہ کرلیتا ہے یہ وہ خیالات ہیں جن پر انسان کی پکڑ ہوگی۔

(۲) وہ خیالات جو غیر اختیاری طور پر انسان کے دل میں خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اُن میں اِس کا کوئی


 

 دخل نہیں ہوتا لیکن وہ اُن خیالات کو ناپسند کرتا ہے اور اُن پر عمل پیرا ہونے کا اُس کا کوئی اِرادہ نہیں ہوتا تو اس طرح کے خیالات معاف ہیں اور اُن پر اِس کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔([98])

خطا ، نسیان اور جبری کام پر مؤاخذہ نہیں :

حضرت سَیِّدُنَا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے میری اُمَّت کی خطا ،بھول اور جس کام پر اُسے مجبور کیا گیا ہو اِن تمام سے درگزر فرمادیا ہے۔‘‘([99])

پچھلی اُمَّتوں کے سخت احکام:

سورۂ بقرہ کی آیت نمبر284میں ارشاد ہوتا ہے: ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’ اے ربّ ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔‘‘حضرت علامہ حافظ ابن جریر طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سَیِّدُنَا ابن جریج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں : ’’یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہم پر کوئی ایسا عہد نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے اور جسے پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جیسا تونے ہم سے قبل یہود ونصاری پر عہد ڈالا ، جسے انہوں نے پورا نہ کیا تو تُو نے انہیں ہلا ک کردیا۔ ‘‘

بعض مفسرین نے یہ معنی بھی بیان کیا ہےکہ:’’ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہم پر گناہوں والا ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تونے پچھلی اُمَّتوں پر ڈالا تھا کہ تُو ہمیں بھی ان گناہوں کے سبب بندر اور خنزیر بنا کر مسخ کردے جیسا انہیں ان کے گناہوں کے سبب بندر اور خنزیر بنا کرمسخ کردیا تھا۔‘‘([100])’’بنی اسرائیل میں جب کسی شخص کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تو کپڑوں کے اُس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔‘‘([101])’’بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص گناہ کرتا تو اس سے کہا جاتا تھا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کردو، سو وہ اپنے آپ کو


 

قتل کردیتا تھا۔‘‘ ([102])’’زکوٰۃ چوتھائی مال میں سے ادا کرنا فرض تھا۔‘‘([103])

وسوسوں پر کوئی مؤاخذہ نہیں :

صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی تفسیر ِ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں کہ:’’انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں :

٭ ایک بطور وسوسہ کہ اُن سے دِل کا خالی کرنا انسان کی مَقْدِرَت(طاقت واختیار) میں نہیں ، لیکن وہ اُن کو برا جانتا ہے اور عمل میں لانے کا اِرادہ نہیں کرتا اُن کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں ، اِس پر مؤاخذہ نہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے:سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میری اُمَّت کے دلوں میں جو وسوسے گزرتے ہیں اللہ تعالٰی ان سے تجاوز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا ان کے ساتھ کلام نہ کریں ۔یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں ۔

٭دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و اِرادہ کرتا ہے اُن پر مؤاخذہ ہو گا اور اُنہی کا بیان اس آیت میں ہے۔ مسئلہ : کُفرکا عزم کرنا کُفر ہے اور گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد واِرادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اَسباب اس کو بہم نہ پہنچیں اورمجبوراً وہ اس کو کر نہ سکے تو جمہور کے نزدیک اُس سے مؤاخذہ کیا جائے گا ۔‘‘([104])

وسوسے شیطان کی طرف سے ہیں :

شیخ طریقت، امیر اہلسنت ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکےرسالے ’’وسوسے اور ان کا علاج‘‘ صفحہ 2 پر ہے: ’’وسوسہ اس بات کو کہتے ہیں جو شیطان انسان کے دل میں ڈالتا ہے ۔ عام طور پر وسوسے ہر ایک کو آتے ہیں کسی کو کم کسی کو زیادہ۔


 

 بعض لوگ بہت زیادہ حساس ہونے کے سبب وسوسوں کے متعلق سوچ سوچ کر انہیں اپنے اوپر مُسَلَّط کرلیتے ہیں اور پھر خود ہی تکلیف میں آجاتے ہیں ، اگر وسوسوں پر غور نہ کیا جائے تو عموماً یہ خود ہی ختم ہوجاتے ہیں ، جوں ہی وسوسے آنے شروع ہوں تو ذکر اللہ مثلا اللہ اللہ کرنا شروع کردیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ شیطان فرار ہوجائے گا۔مسلمان جس قدر ربُّ العالمین عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت میں آگے بڑھتا ہے اسی قدر شیطان کی مخالفت وعداوت بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ ہمہ اقسام (یعنی طرح طرح ) کے مکروفریب (اور دھوکے) کے جال بچھاتا چلا جاتا ہے اور اس کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت سے روکنے کی بھی بھرپور کوشش کرتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے دلا کر گندے خیالات ذہن میں لا کر پریشان کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ بسااوقات جہالت کی بنا پر آدمی اُس کے اِن وسوسوں کا شکار ہو کر نیکی اور بھلائی کے کام سے رُک جاتا ہےاور یوں شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔‘‘

’’یا خدا کرم ‘‘کے آٹھ حروف کی نسبت سے وسوسوں کے آٹھ علاج:

(1) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف رجوع کیجئے۔ (یعنی شیطان سے نجات کے لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی امداد طلب کیجئے اور ذکر اللہ شروع کردیجئے۔) (2) اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم پڑھیے۔ (3) لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھیے۔(4) سورۃ الناس کی تلاوت کیجئے۔(5) آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ کہیے۔(6)( هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳)) (پ۲۷، الحدید: ۳) کہیے، اِن سے فوراً وسوسہ دفع ہوجاتا ہے۔(7) سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْخَلَّاقِ( اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ(۱۹) وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ(۲۰))  (پ۱۳، ابراھیم: ۱۹، ۲۰) کی کثرت اِسے یعنی وسوے کو جڑ سے قطع کر (یعنی کاٹ) دیتی ہے۔([105])(8)

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ جو کوئی صبح وشام اکیس اکیس بار ’’لا حول شریف ‘‘ پانی پر دم کر


 

کے پی لیا کرے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ وسوسہ شیطانی سے بہت حد تک امن میں رہے گا۔‘‘([106])

محیط دل پہ ہوا ہائے نفس اَمارہ

دماغ پر مِرے ابلیس چھا گیا یاربّ

رہائی مجھ کو ملے کاش! نفس وشیطاں سے

تِرے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یاربّ

کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی کر دے

شعور وفکر کو پاکیزگی عطا یارب

وسوسے کی تباہ کاری کی حکایت:

میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف ، ج۱، ص۱۰۴۳، جز’’ب‘‘ پر وسوسے کا بہترین علاج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’وسوسے کی نہ سننا اُس پر عمل نہ کرنا اُس کے خلاف کرنا (بھی وسوسے کا علاج ہے)۔ اِس بلائے عظیم (یعنی وسوسے) کی عادت ہے کہ جس قدر اِس (یعنی وسوسے) پر عمل ہو اسی قدر بڑھے اور جب قصداً اس کا خلاف کیا جائے تو بِاِذْنِہٖ تَعَالٰیتھوڑی مدت میں بالکل دفع ہوجائے۔‘‘ (حضرت سَیِّدُنَا) عَمرو بن مُرَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’شیطان جسے دیکھتا ہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگر ہوتا ہے سب سے زیادہ اُسی کے پیچھے پڑتا ہے۔ امام ابن حجر مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے بعض ثقہ (یعنی قابل اعتماد) لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسے والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی، دریائے نیل پر گئے، طلوع صبح کے بعد پہنچے، ایک نے دوسرے سے کہا: تُو اُتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سارے سر کو پہنچایا نہیں ۔ وہ اُترا اور غوطے لگانا شروع کیے اور یہ (یعنی جو باہر ہے) کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے، وہاں پانی نہ پہنچا۔ ایک کو صبح سے دوپہر ہوگئی، آخر تھک کر باہر آیا اور دل میں شک رہا کہ غسل اُتر ا یا


 

 نہیں ؟ پھر اس نے دوسرے کو کہا کہ اب تُو اُتر ،میں گِنوں گا۔ اس نے ڈبکیاں لگائیں اور یہ (پہلا) کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا، یہاں تک کہ دوپہر سے شام ہوگئی، مجبوراً وہ (دوسرا) بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شبہے کا شبہ ہی رہا۔ دن بھر کی نمازیں کھوئیں اور غسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا، نہ ہوا۔وَالْعَیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی (یعنی ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔) یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔

مجھے وَسوسوں سے بچا یاالٰہی

پئے غوث و اَحمد رَضا یاالٰہی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اور اُن  کے فضائل وفوائد:

(اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵)

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶))

 (پ۳، البقرہ: ۲۸۵، ۲۸۶)ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے ربّ کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے ربّ ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو بُرائی کمائی اے ربّ ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے ربّ ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے ربّ ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (طاقت)نہ ہو اور ہمیں معاف فرما دے اور بخش دے اور ہم پر مِہر(رحم) کر


 

 تُو ہمارا مولیٰ ہے تُو کافروں پر ہمیں مدد دے ۔‘‘

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے تفسیر نعیمی میں سورۂ بقرہ کی مذکورہ آخری دوآیتوں کے چودہ 14فضائل وفوائدذکرفرمائے ہیں ، کچھ تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہیں :

(1)سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کومعراج میں بلاواسطہ عطا ہوئیں اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے لامکان میں پہنچ کر یہی دعائیں مانگیں ۔

(2)امام بیہقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےحضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے نقل کیاکہ ربّ تعالی نے آسمانوں وزمین کی پیدائش سے دو ہزار 2000سال پہلے ایک کتابِ خاص(یعنی لوحِ محفوظ) تحریر فرمائی۔ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اسی کتاب  خاص کی ہیں ۔

(3)امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سَیِّدُنَا عُقبہ  بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں پڑھا کرو کہ میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے خاص طور پر عرش کے نیچے سے عطافرمائیں ، مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہ ملیں ۔‘‘

(4)حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب حضور نبی کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعراج میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو آپ کو تین چیزیں عطا ہوئیں : پانچ نمازیں ، سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اور ہرمومن کی بخشش۔

(5) حضرت سَیِّدُنَا امام حاکم وامام بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَاسَیِّدُنَا ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ سرکا رنامدا، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ربّ عَزَّ  وَجَلَّ نے جن آیتوں پر سورۂ بقرہ  ختم فرمائی وہ عرش کا خزانہ ہیں ، اُنہیں خود بھی سیکھو اور اپنے بیوی بچوں کو بھی سکھاؤ، یہ صلوٰۃہیں ،یہ قرآن ہیں ،یہ دعائیں ہیں ۔‘‘

(6)امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’بڑابیوقوف ہے وہ شخص جو سوتے وقت سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں نہ پڑھے۔‘‘

(7)حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ جو کوئی نمازِ عشاء کے بعد سورۂ


 

 بقرہ کی آخری آیتیں پڑھےاُسے پوری رات عبادت کا ثواب ملتاہے۔‘‘

(8)حضرت سَیِّدُنَا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’حضور پرنور، شافع یوم النشور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چارچیزیں وہ دیں گئیں جو کسی پیغمبر کونہ دی گئیں :سورۂ بقرہ کے آخری رکوع کی تین آیتیں اور  آیۃ الکرسی۔‘‘

(9) فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’جو کوئی سوتے وقت سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں پڑھ لیاکرے تو اسے رات بھر شیطان اور دیگر آفات سے پناہ ملے گی اور تمام رات کی عبادت کا ثواب ملے گا۔‘‘

(10)حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایاکہ ایک روز سَیِّدُنَا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامحضور نبی کریم رؤف رحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرتھے کہ اچانک اوپر سے سخت آواز آئی۔ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِس وقت آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہےجو آج تک کبھی نہیں کھلا۔‘‘ ابھی یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ ایک فرشتہ حاضر ہوا۔ سَیِّدُنَا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا :’’حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ وہ فرشتہ ہے جو آج تک کبھی زمین پر نہیں آیا۔‘‘ اُس فرشتے نے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں آپ کو اُن دو نوروں کی مبارک باد دینے آیا ہوں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملے۔ایک سورۂ فاتحہ اوردوسرا سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ، اِس کے پڑھنے والے کی ہرتمناپوری ہوگی۔

(11)سورۂ بقرہ ختم کرکے آمین کہنا چاہیٔےکیونکہ  حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں ۔

(12) اگردفن کےبعد قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع مُفْلِحُوْنَ تک اور قبرکی پائنتی کی طرف سورۂ بقرہ کاآخری رکوع پڑھاجائےتو میت کو قبر میں راحت ہوگی۔

(13)جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے وہاں تین دن تک شیطان نہیں آتا۔

(14)حضرت سَیِّدُنَا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار شیطان کو قید کر لیا،وہ بولا:’’ اگر آپ مجھے چھوڑدیں تو میں آپ کو بڑاعُمدہ عمل بتاؤں گا۔‘‘ میں نے کہا:’’بتا۔‘‘ وہ بولا: ’’اگر


 

 کوئی انسان رات کو سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھ لیا کرئے تو ہم شیاطین میں سے کوئی اُس گھر میں رات بھر نہیں جاسکتا۔‘‘([107])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی گلدستہ

’’اِطَاعتِ خُدَاوَنْدِی‘‘کے12حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے12مدنی پھول

(1)       مؤمنین کی شان یہ ہے کہ جب وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی حکم سنیں تو کہیں کہ ’’ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔‘‘

(2)       اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت بہت وسیع ہے، چاہے تو بڑے بڑے گناہوں کو بخش دے اور چاہے تو ایک چھوٹے گناہ پر بھی پکڑ فرمالے۔

(3)       اُمَّت محمدیہ اور مسلمانوں پر رحمتِ الٰہی بہت وسیع ہے کہ بُرائی کے اِرادے پر گناہ نہیں مگر اچھائی کے اِرادے پر نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں ۔

(4)       جو بُرے خیالات غیر اِختیاری طور پر دل میں پیدا ہوجائیں اور بندہ اُن کی طرف التفات یعنی توجہ نہ کرے بلکہ انہیں ناپسند کرے تو اُن پر کسی قسم کا کوئی مؤاخذہ نہیں ۔

(5)       خطا، نسیان اور جبری کاموں پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔

(6)       پچھلی اُمَّتوں پر بعض احکام بہت سخت تھے لیکن امَّتِ محمدیہ پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خاص فضل وکرم ہے کہ تمام احکام میں آسانی پیدا فرمادی گئی ہے۔

(7)       دل میں آنے والے وسوسے اور شیطانی خیالات پر بھی کوئی گرفت نہیں ہےکیونکہ اُن خیالات کو روکنا بندے کے اختیار میں نہیں ہے۔


 

(8)       وسوسے شیطان کی طرف سے بُرے خیالات ہوتے ہیں اُن سے چھٹکارے کا بہترین علاج یہ ہے کہ اُن کی طرف ہرگز توجہ نہ دی جائے۔

(9)       سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی احادیث میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے، لہٰذا کوشش کرکے انہیں بھی اپنے روز مرہ کے روحانی وظائف میں شامل کرنا چاہیے۔

(10) دعاجماعت کےساتھ مانگنی چاہیٔےتاکہ جلد قبول ہوکیونکہ دعائیں مل کربارگاہِ الٰہی میں زیادہ قبول ہوتی ہیں اوراگرکوئی اکیلےمانگےتوسب کےلیےمانگے۔

(11) دعامیں دینی حاجتیں دنیاوی حاجتوں سےپہلےمانگنی چاہئیں ۔

(12) دعامانگتے ہوئےباربار’’رَبَّنَا‘‘ کی تکرارکرنامستحسن یعنی اچھا ہےکیونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی اپنی دعامیں لفظ ’’رَبَّنَا‘‘ کو باربار ذکر کیا کرتے تھے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اپنی اور اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہرحال میں شریعت کی پاسداری کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے۔

نہ کر رَد کوئی اِلتجاء یا الٰہی………ہو مقبول ہر اِک دُعا یاالٰہی

رہے ذکر آٹھوں پَہر میرے لب پر………ترا یاالٰہی ترا یاالٰہی

مری زندگی بس تری بندگی میں ………ہی اے کاش گزرے سدا یاالٰہی

نہ ہوں اَشک برباد دنیا کے غم میں ………محمد کے غم میں رُلا یاالٰہی

عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت………نہ نزدیک آئے رِیا یاالٰہی

میں یادِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ………مجھے اُن کے غم میں گھلا یاالٰہی

تو عطار کو سبز گنبد کے سائے ………میں کر دے شہادت عطا یاالٰہی

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

با ب نمبر:18                         

نئی باتوں و نئے اُمُور سے مُمَانَعَت کا بیان

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دین مکمل ہوچکا، اُس کے احکام ،اصول و ضوابط کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی لَارَیْب کتاب قرآنِ مجید فرقان حمید میں تفصیلاًبیان فرمادیا۔جس مسئلے کا حل قرآن میں نہ ملے اس کی وضاحت محسنِ کائنات،شاہ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک اقوال و افعال میں موجود ہے۔ اَحکامِ شرعیّہ میں قرآن وسنت کو دو بنیادی اُصولوں کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اِجماع اُمَّت اور قیاسِ شرعی یہ دو اُصول بھی قرآن وسنت سے ماخوذ ہیں ۔یہ چاروہ اُصولِ شرعیّہ ہیں جن کی روشنی میں اب تک پیدا ہونے والے ہر جدید مسئلے کا حل عُلَماء وفُقَہَاء نکالتے رہے ہیں اور قیامت تک نکالتے رہیں گے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ۔ لہٰذا کوئی جدید مسئلہ ہو یا قدیم ہر ایک کا تعلق اِن چاروں اُصولوں کے ساتھ ہی ہے البتہ دین کے اندر بعض ایسی نئی باتیں بھی پیدا ہوگئیں ہیں جو اِن چاروں اُصولوں میں سے کسی نہ کسی اُصول کے خلاف ہیں ، اُنہیں بدعت سیئہ (یعنی نئے پیدا ہونے والے خلافِ شرع کام)بھی کہا جاتا ہے، اِن کی شریعت میں سختی کے ساتھ ممانعت ہے۔دین میں نئی پیدا ہونے والی اچھی اور بُری باتوں کے اَحکام جاننا بہت ضروری ہے۔

ریاض الصالحین کا یہ باب’’نئی باتوں اور نئے اُمورسےممانعت‘‘ کاہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےا س باب میں 5آیاتِ کریمہ اور 2 احادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ، اس باب میں بدعت کی تعریف،بدعت کی اقسام اور اُن کے مختلف اَحکام، مختلف دینی اُمور کی بدعت کے حوالے سے مفصل وضاحت کی جائے گی، پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(1)حق کے بعد صرف گمراہی ہے

قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتاہے:

فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ- (پ۱۱،یونس:۳۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔

عَلَّامَہ بَیْضَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’یہاں پرمَااِستفہامِ انکاری


 

ہےیعنی حق کے بعدگمراہی ہی ہےاورجس نے اس حق میں کوتاہی  کی جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت ہے تو وہ گمراہی میں پڑا ۔‘‘([108])

عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی مخلوق سے فرمارہا ہے :اے لوگو! یہ وہ افعال ہیں جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی  کرتا ہے، پس وہ تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے، وہی  کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے، وہ ہی ہے جو زندہ کو مُردہ سے اور مُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تدبیریں فرماتاہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارا ربّ ہے، اس میں کوئی شک نہیں :( فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ- )تو حق کے علاوہ ہر چیز  گمراہی ہے۔ پس جب حق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی ہے تو تمہارا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا اور انہیں ربّ ماننا  گمراہی  اور حق سے انحراف ہے۔‘‘([109])

(2)کتاب میں ہرچیز کاعلم موجود ہے

فرما نِ باری تعالٰی ہے:

مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ (پ۷، الانعام :۳۸)

 ترجمہ ٔ کنزالایمان:ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔

عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یعنی لوحِ محفوظ میں کیونکہ لوح محفوظ تمام مخلوق کے احوال پرمشتمل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کتاب اللہسے مراد قرآن مجید ہے یعنی قرآن مجیدتمام (مخلوقات کے)اَحوال پر مشتمل ہے۔‘‘([110])

حَافِظ عِمَادُالدِّیْن اِبنِ کَثِیْر دمِشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ان تمام کا علم ہےاوروہ ان میں سے کسی ایک کے رزق اور نصیب کوبھی نہیں بھولتاچاہے وہ خشکی میں ہوں یا سمندر میں جیساکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے:

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ

ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں


 

 رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَاؕ-كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۶) ( پ۱۲،ھود:۶) جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہواور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا  سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے۔([111])

(3)ہرمسئلے کاحل بارگاہِ رسالت

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ (پ ۵،النساء: ۵۹)

ترجمہ ٔ کنزالایمان: پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اُٹھے تو  اُسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو۔

عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’یعنی دین کے کسی معاملےمیں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائےتو جس مسئلے میں تمہیں اختلاف ہو اسے کتاب اللہاور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف لے جاؤ جب تک رسول اس دنیا میں جلوہ گر ہیں اورآپ کے وصالِ ظاہری کے بعدحدیث کی طرف رجوع کروتواس زمانہ میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کرنا واجب ہے، پس اگر کتاب اللہ میں حکم مل جائےتو اسی پر عمل کیا جائے  اور اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو پھر حدیثِ رسول میں تلاش کرو۔اگر حدیث رسول میں بھی نہ پاؤتو پھر اجتہاد کرو۔‘‘اورایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنے کا مطلب ہےجو مسئلہ معلوم نہ ہو تواس کے بارے میں یہ کہے:’’اَللہُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمیعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ  جانتے ہیں ۔‘‘ ([112])

(4)سیدھا راستہ ایک ہی ہے

فرما نِ باری تعالٰی ہے:


 

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ- (پ۸،الانعام:۱۵۳)                  ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور، اور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی۔

تفسیر دُرِّمنثور میں ہے :حضرت سَیِّدُنَا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جان لو!سیدھا راستہ ایک ہی ہےاوروہ ہدایت یافتہ جماعت کا راستہ ہے اور اُن  کا ٹھکانا جنت ہے۔ابلیس نے متفرق راستے بنائے اس پر جمع ہونا (چلنا)گمراہی ہےاور اُن کاٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دستِ مبارک سے ایک خط کھینچا اور فرمایا:’’یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا راستہ ہے جو سیدھا ہے ۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس خط کے دائیں ،بائیں بہت سے خطوط کھینچے اور فرمایا: ’’اِن میں سے ہر ایک راستےپرشیطان ہے، وہ اپنی طرف  بلاتا ہے۔‘‘ پھر آپ نے یہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔([113])

(5)رسول اللہکافرمانبردارربّ تعالی کا دوست ہے

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ۳،آل عمران:۳۱) ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’جب یہود ونصاری نے کہا ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں تویہ آیت کریمہ نازل ہوئی، پس جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان پر یہ آیت مبارکہ پیش کی تو انہوں نے اسے نہ مانا۔ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم


 

 قریش کے پاس سے اس حال میں گزرے کہ انہوں نے مسجدِ حرام میں بت نصب کیے ہوئے تھے، نیز وہ ان بتوں کو سجانے، کانوں میں بالیاں وغیرہ ڈالنے اور سجدے کرنے میں مصروف تھے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے ارشاد فرمایا : ’’اے گروہِ قریش! تم نے اپنے آباء یعنی حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم  عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سَیِّدُنَااسماعیل عَلَیْہِ السَّلَامکے دین کی مخالفت کی ہے۔‘‘یہ سن کر اہلِ قریش کہنے لگے: ’’ ہم ان بتوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قریب کردیں ۔‘‘  تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’بندے کی ربّ سے محبت یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وجلالت کا اعتراف کرے، اس کی اِطاعت کرے، اُس کاحکم مانے اور اُس کی منع کی ہوئی چیزوں سے اجتناب کرے۔جبکہ ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بندے سے محبت یہ ہے کہ وہ اس کی تعریف کرے،اُس سے راضی ہوجائے،اُس کے اَعمال کا اَجر دے، اور اُس سے درگزر فرمائے۔‘‘([114])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:169                           

دین میں نئی بات اِیجادکرنےوالامَردُودہے

عَنْ عَائِشَةَ،رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،قَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ،صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ اَحْدَثَ فِي اَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْہُ  فَهُوَ رَدٌّ. ([115])وَفیِ رَوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.([116])

ترجمہ :اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اکرم، نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِرشاد فرمایا:’’جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘اورمسلم کی ایک روایت میں یوں ہے:’’ جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے دین سے نہیں تو اس کا عمل مردود ہے۔‘‘


 

مذکورہ حدیثِ پاک کی اہمیت:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث قواعدِ اسلامیہ میں سے ایک بہت بڑا قاعدہ ہے اور یہ جوامعِ الکلم میں سے ہے، اور یہ تمام اختراعات و بدعاتِ سیئہ کا واضح رد ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں کہ :’’اس حدیث کو یاد کرنا چاہیے اور منکرات (ممنوعاتِ شرعِیَّہ)کے بطلان میں اس کو استعمال کرنا چاہیے اور اس کی خوب تشہیر کرنی چاہیے۔‘‘([117])

علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس حدیث کو اصولِ دین میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ قَوَاعِد(اِسلامِیَّہ)میں سے ایک قاعدہ ہے۔‘‘ علامہ طوفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’اس حدیث کو اَدِلَّۂ شَرْعَیَّہ کا نصف کہنا بالکل درست ہے۔‘‘([118])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث پاک کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی شرح سے قبل بدعت کی تعریف اور اس کی مختلف اقسام کی تفصیل جاننا نہایت ضروری ہے کہ اِن اُمور کو جاننے کے بعد اِس حدیث مبارکہ کے معانی سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی چنانچہ بدعت کی تعریف واَقسام کا مفصل ذکر کیا جاتا ہے۔

بدعت کسے کہتے ہیں ؟

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’بدعت کے لغوی معنی ہیں ’’نئی چیز‘‘۔ قرآن کریم فرماتاہے:( قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ) (پ۲۶، الاحقاف: ۹)فرمادو کہ میں نیا رسول نہیں ہوں ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’بدعت کے شرعی معنیٰ ہیں : وہ اِعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں اِیجاد ہوئے۔‘‘مثلاً جبریہ، قَدَرِیَّہ، مُرجِیَہ، چکڑالوی، غیر مُقَلّد وغیرہ بدمذہب گروہوں کے بعض عقائد بدعت اِعتقادیہ ہیں جیسے ان میں


 

سے کسی کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا جُھوٹ پر قادر ہے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامغیب مطلق نہیں جانتے، حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا خیال نماز میں بیل گدھے کے خیال سے بدتر ہے مَعَاذ اللہ۔یہ تمام ناپاک عقیدے بارہویں صدی کی پیداوار ہیں ، حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانے میں بالکل نہ تھے۔اسی طرح بدعت عملی ہر وہ کام ہے جو حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانہ پاک کے بعد ایجاد ہوا خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی ہو، خواہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے زمانہ میں ہو یا اس کے بھی بعد۔ البتہ عُرفِ عام میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اِیجادات کو سنت صحابہ کہتے ہیں بدعت نہیں بولتے یہ عُرف ہے۔‘‘([119])

بدعت کی اَقسام اور اُن کی مثالیں :

اَوّلاً بدعت کی دو قسمیں ہیں : بدعت حسنہ (یعنی اچھی بدعت)اور بدعت سیئہ(یعنی بری بدعت)۔پھر بدعت حسنہ کی تین قسمیں ہیں : جائز، مُستحب، واجب اور بدعت سیئہ کی دو قسمیں ہیں : مکروہ اور حرام۔یہ بدعت کی کل پانچ اقسام ہوئیں : (۱)جائز (۲) مستحب (۳) واجب (۴) مکروہ (۵) اور حرام۔ حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :

٭’’بدعت یا تو واجب ہوتی ہے جیسے قرآن وسنت کو سمجھنے کے لیے علم نحو کا سیکھنا اور علم اصولِ فقہ کو مُدَوّن کرنا اور جرح وتعدیل کے لیے علم کلام کو مُدَوّن کرنا۔وغیرہ (اسی طرح وہ دیگر تمام علوم جو مَوْقُوْف عَلَیْہ کی حیثیت رکھتے ہیں یعنی قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لیے جن کا سیکھنا پہلے ضروری ہے، اِسی طرح قرآن کریم کا جمع کرنا، قرآن کریم میں اِعراب لگانا یا آج کل قرآنِ کریم کو چھاپنا اور دینی مدارس میں تعلیم کے لیے درس وغیرہ بنانا۔)

٭یا بدعت حرام ہوتی ہے جیسے جَبَرِیَّہ، قَدَرِیَّہ، مُرجِیَہ، مُجَسِّمَہ مذہب اور ان تمام بدمذہب بدعتی گروہوں کا رد کرنا بدعت واجبہ ہےکیونکہ ان بدعتیوں سے شریعت مطہرہ کو محفوظ بنانا فرض کفایہ ہے۔ (اسی طرح دیگر ان تمام مذاہب کا رد جن میں ایسے نئےباطل عقائد پائے جاتے ہیں جو قرآن وسنت کے خلاف ہیں ۔)


 

٭یا بدعت مستحب ہوتی ہے جیسے مسافر خانے اور مدرسے وغیرہ بنانااور ہر وہ اچھی بات جو قرنِ اُولیٰ میں نہ تھی جیسے باجماعت نماز تراویح ادا کرنا وغیرہ۔

 ٭یا بدعت مکروہ ہوتی ہے جیسے مسجدوں یا مَصَاحِفْ کو فقط فخریہ زینت دینا۔

٭یا بدعت جائز ہوتی ہے جیسے نماز فجر کے بعد مصافحہ کرنا اور عُمدہ عُمدہ کھانے اور طرح طرح کے مشروب پیناوغیرہ۔‘‘([120])          

بدعت کی قسموں کی پہچان اور علامتیں :

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے بدعت کی قسموں کی پہچان اور اُن کی علامتوں کو تفصیلاً بیان کیا ہے، کچھ اختصار وتصرف کے ساتھ پیش خدمت ہیں :

٭……جو بدعت اسلام کے خلاف ہو یا کسی سنت کو مٹانے والی ہو وہ بدعت سیئہ اور جو ایسی نہ ہو وہ بدعت حسنہ ہے۔ ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیت خیر کے کیا جائے بدعت جائز کہلاتا ہے۔ جیسے مختلف اَقسام کے کھانے کھانا، طرح طرح کے مشروب پینا وغیرہ۔

٭……وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اُس کو عام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یا کوئی شخص اس کو اچھی نیت سے کرے بدعت مُسْتَحَبَّہ کہلاتا ہے۔جیسے محفل میلاد شریف، بزرگانِ دین کی فاتحہ دلانا کہ عام مسلمان اس کو کارِ ثواب جانتے ہیں لہذا اُن کو کرنے والا ثواب پائے گا اور نہ کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جس کا م کو مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک بھی اچھا ہے ۔ اور حدیث مرفوع میں ہے کہ میری اُمَّت گمراہی پر متفق نہ ہوگی اور اَعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور اِنسان کے لیے وہی ہے جو نیت کرے۔چھ کلمے، اُن کی تعداد، اُن کی ترکیب اُن کے نام، قرآن مجید کے تیس پارے بنانا، اُن میں رکوع قائم کرنا، اِعراب لگانا، اُس کی جلدیں بنانا، اس کو چھاپنا، حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا، اَحادیث کی اسناد بیان کرنا، اسناد پر جرح کرنا، حدیث کی مختلف قسمیں


 

صحیح، حسن، ضعیف، مرفوع، موقوف وغیرہ بنانا، اُن کے اَحکام مقرر کرنا، اُصولِ حدیث مرتب کرنا، اُصولِ فقہ مرتب کرنا، علم کلام مُدَوَّن کرنا، روزہ اِفطار کرتے وقت زبان سے دعا کرنا، موجودہ روپوں میں زکوۃ اَدا کرنا وغیرہ  یہ تمام بدعاتِ مستحبہ ہیں کہ ان کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ۔

٭……وہ نیا کام جو شرعاً منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہوبدعت واجبہ کہلاتا ہے جیسے کہ قرآن پاک کے اِعراب لگانا، اور دینی مدارس، علم نحو وغیرہ حاصل کرنا۔

٭……وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے، بدعت مکروہہ کہلاتی ہے، اگر سنت مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تحریمی ہے اور سنت غیر مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے۔ جیسے جمعہ وعیدین کا خطبہ غیر عربی میں پڑھنابدعت مکروہہ ہے کہ اس سے عربی زبان میں خطبہ پڑھنے کی سنت چھوٹتی ہے۔

٭……وہ نیا کام جس سے کوئی واجب چھوٹ جائے یعنی وہ بدعت واجب کو مٹانے والی ہوبدعت محرمہ کہلاتی ہے۔ جیسے آج کل کے ایسے جدید لباس جن سے ستر عورت ظاہرہوتا ہے۔([121])

اِسلام میں اچھا اور بُرا طریقہ اِیجاد کرنا:

حضرت سَیِّدُنَاجریر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےا رشاد فرمایا: ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اُسے اُس کا ثواب ملے گا اور اُس کا ثواب بھی جو اُس اچھے طریقے پر عمل کرے گا اور اس عمل کرنے والے کا اپنا ثواب بھی کم نہ ہوگا اور جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ اِیجاد کیا اُسے اُس کا گناہ ملے گا اور اُس کا گناہ بھی جو اُس بُرے طریقے پر عمل کرے گا اور اُس کا اپنا گناہ بھی کم نہ ہوگا۔‘‘([122])

علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ یہ احادیث اسلام کے قواعد ہیں کہ جو شخص اسلام میں کوئی بُری بدعت اِیجاد کرے گا اُس پر اُس بُری بدعت کی پیروی


 

 کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور جو شخص اچھی بدعت اِیجاد کرے گا اُس کو قیامت تک کے سارے پیروی کرنے والوں کا ثواب ملے گا۔‘‘([123])

حدیث الباب کی شرح:

اس باب کی حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا:’’جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ حضرت علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ دین اسلام  میں ایسی نئی چیز پیدا کرنا جس کی اصل دین میں موجود نہ ہو، نہ قرآن میں اور نہ ہی حدیث میں ایسی چیز باطل اور ناقابل قبول ہے۔اس حدیث پاک میں بدعات(سیئہ)  کا رد ہے کیونکہ اُن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘([124])

کیامیلادو فاتحہ خوانی بدعت ہیں ؟

فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’میلاد فاتحہ عرس وغیرہ کے مانعین ان چیزوں کے حرام و بدعت سیئہ ہونے پر اس حدیث سے بھی دلیل لاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ان کی خطائے فاحِشَہ (یعنی بہت بڑی غلطی)ہے اس ‏لیے کہ ’’مَالَیْسَ مِنْہُ‘‘سے مرادوہ نَو اِیجاد (نئی پیدا ہونے والی)چیزیں ہیں جو قرآن،حدیث، اجماع کے مخالف ہیں یا اس کی کتاب  و سنت سے کوئی اصل ظاہر یا خفی ملفوظ یا مُسْتَنْبَط نہ ہو۔‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیمرقاۃ میں لکھتے ہیں :’’یعنی کتاب اللہ یا سنت یا اثر یا اجماع کے مخالف جو چیز ایجاد کی جائے تو وہ گمراہی ہے اور جو چیز اِن میں سے کسی کے مخالف نہیں اس کا ایجاد کرنا مذموم نہیں ۔نیز اسی میں ہے ’’اس کے معنی یہ ہیں جس نے اسلام میں ایسی رائے ایجاد کی جس کی کتاب و سنت سے کوئی ظاہر یا خفی ملفوظ یا مستنبط سند نہ ہو وہ اُس پر رد کر دی جائےگی۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اچھی چیز کا ایجاد کرنا بھی باعث ثواب ہے اور اس پر عمل کرنا بھی۔‘‘ مزید فرماتے ہیں :


 

 ’’حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ارشاد گزرا کہ حسنہ اور سیئہ محمود و مذموم کی بنیاد یہ ہے کہ جو چیزیں کتاب اللہ یا سنت رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا اثر یا اجماع کے مخالف ہوں وہ مذموم ہیں سیئہ ہیں اور جو ان میں سے کسی کے مخالف نہیں وہ مذموم نہیں ۔اس ‏لیے جو لوگ میلاد فاتحہ عرس کو بدعت سیئہ اور حرام کہتے ہیں یہ ان کے ذمہ ہے کہ بتائیں یہ چیزیں کس آیت یا کس حدیث یا کس اثر یا اجماع کے مخالف ہیں اور اگر یہ نہیں ثابت کرسکتے اور ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر گز ہرگز نہیں ثابت کر سکتے تو اُن کا اِن چیزوں کو حرام اور بدعت سیئہ کہنا شریعت پر افترا اور اپنے جی سے نئی شریعت گڑھنا ہے۔‘‘([125])

کیاصحابۂ کرام کے نہ کرنے سےکوئی فعل ناجائزہوجاتاہے؟

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا کسی کام کو کرنااس کام کے جائز ہونے کی دلیل تو ضرورہے مگر نہ کرنا اس کام کے ناجائز ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ، اسی لیے صحابہ نے جو کا م نہیں کیے ایسے بے شمار کام مسلمان روزانہ کرتے رہتے ہیں اور اُن کو جائز بھی سمجھتے ہیں ۔چنانچہ شارحِ بخاری حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاور حضرت علامہ محمد بن ابو بکر قسطلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’اَلْفِعْلُ یَدُلُّ عَلَی الْجَوَازِ وَ عَدَمُ الْفِعْلِ لَایَدُلُّ عَلَی الْمَنْع یعنی کرنے سے جائز ہونا سمجھا جاتاہےاور نہ کرنے سے ممانعت نہیں سمجھی جاتی۔‘‘([126])

خلافِ اسلام عقائد باطل ومردودہیں :

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں :’’ وہ ایجاد کرنے والا مردود ہے یا اس کی یہ ایجاد مردود ہے؟ خیال رہے کہ اَمر سے مراد دین اسلام ہے اور مَاسے مراد عقائد،یعنی جوشخص اسلام میں خلافِ اسلام عقیدے ایجاد کرے وہ شخص بھی مردود اور وہ


 

عقائد بھی باطل۔ لہٰذا روافض،قادیانی،وہابی وغیرہ بہتر72 فرقے جن کے عقائد خلافِ اسلام ہیں باطل ہیں ۔یا اَمر سے مراد دین ہے اور مَا سے مراد اعمال ہیں اور لَیْسَ مِنہُ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف، یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جودین یعنی کتاب و سنت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اُٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود ایسے عمل بھی باطل جیسے اردو میں خطبہ و نماز پڑھنا،فارسی میں اَذان دینا وغیرہ۔جو کوئی بدعت ایجاد کرے تو اللہ سنت کو اٹھالیتا ہے۔ہماری اس تفسیر کی بنا پر یہ حدیث  اپنے عموم پر ہے اس میں کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں ۔مرقاۃ نے فرمایا: لَیْسَ مِنہُ سے معلوم ہوا کہ دین میں ایسے کام کی ایجاد جو کتاب و سنّت کے خلاف نہ ہو بُری نہیں ۔‘‘([127])

مدنی گلدستہ

’’صحابۂ کرام‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول

(1)       وہ عقائد یا وہ اعمال جو کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں اِیجاد ہوئےہوں انہیں بدعت کہا جاتا ہے۔

(2)       بدعت کی پانچ قسمیں ہیں اور ہر قسم کا حکم علیحدہ ہے۔ لہذا اِن اقسام سے صرف نظر کرکے تمام اچھے اَعمال کو بھی بُری بدعت شمار کرنا جہالت ونادانی ہے۔

(3)       ہر نیا کام بدعت ہوسکتا ہے مگر ہر وہ بدعت مذموم اور قابل گرفت ہے جس میں قرآن وسنت کا خلاف ہو، یا جس کی اصل قرآن وسنت میں نہ ہو یاجس سے کسی فرض، واجب یا سنت وغیرہ کا ترک لازم آتا ہو۔

(4)       بدعت کا تعلق عقائد اور اَعمال دونوں کے ساتھ ہے، عقائد میں بدعت اَعمال میں بدعت سے زیادہ سخت ہے لہذا تمام بُرے عقائد اور بُرے اعمال والے گمراہ فرقوں سے بچنا چاہیے۔


 

(5)       جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں بھی اچھا ہے اور اُمَّت مسلمہ کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی، نیز ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔

(6)       بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے اَعراس ،فاتحہ خوانی ،محافل و اِجتماعات کا انعقاد قابل تحسین امر ہےکہ اس میں سراسر دینی منفعت ہے نیز یہ اَدِلَّۂ    شرعِیَّہ سے مُتَصَادِم بھی نہیں کہ جس بنا پر انہیں مذموم امر قرار دیاجائے۔

(7)       جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اسے اس کا ثواب ملتارہے گابلکہ ان تمام لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اُس کے ایجاد کردہ طریقے پر چلتے رہیں گے۔

(8)       جس نے اسلام میں کسی بُرے طریقے کی بنیاد رکھی جب تك وه كام باقی رہے گا اُسے اُس کا گناہ ملتارہے گابلکہ اُن تمام لوگوں کا بھی گناہ ملے گا جو اُس کے ایجاد کردہ بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے۔

(9)       جس کام کا حکم قرآن وسنت میں ہو، یا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانودیگر بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے ثابت ہو اس کا کرنا بالکل جائز ہے البتہ جو کام اُن سے ثابت نہ ہو اُن کا کرنا ناجائز نہیں جب تک وہ ان کے خلاف نہ ہو۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ ہمیں قرآن وسنت، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کرام وبزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:170                            رسول اللہ کاخُطبَہ مُبارک

عَنْ جَابِرٍ ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا خَطَبَ اِحْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ،وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ،حَتَّى كَاَ نَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُوْلُ:’’صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ ‘‘وَيَقُوْلُ:’’بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَةُ ك


 

َهَاتَيْنِ‘‘ وَيَقْرِنُ بَيْنَ اُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُوْلُ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللَّهِ ،وَخَيْرَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا ،وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ‘‘ثُمَّ يَقُوْلُ :’’اَنَا اَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ .مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِاَهْلِهِ ،وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا اَوْ ضَيَاعًا فَاِلَيَّ وَعَلَيَّ ‘‘.([128])

 وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ،رَضِیَ اللہُ عَنْہُ،حَدِیْثُہُ السَّابِقُ فیِ بَابِ الْمُحَافَظَۃِ عَلیَ السُّنَّۃِ.

ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجایا کرتیں ،آواز بلند ہوجاتی اور آپ کے جلال میں اِضافہ ہوجاتا، ایسا لگتا جیسے آپ کسی لشکر سے ڈراتے ہوئے فرمارہے ہوں کہ:’’وہ لشکر تمہارے پاس صبح کے وقت یا شام کے وقت آنے والاہے۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو ملا کر فرماتےکہ: ’’میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں ۔‘‘ پھرفرماتے: ’’اَمَّا بَعْدُ!بہترین کلام کتاب اللہ ہے اور بہترین ہدایت ہدایتِ محمدی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے اور( دین میں ) نئےایجادہونےوالےکام سب سے بُرے ہیں اورہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘پھر ارشاد فرماتے:’’میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ،جس شخص نے مال چھوڑا تووہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہے اور جس نے قرضہ یا نادار اہل وعیال چھوڑے تووہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں ۔‘‘

حضرت سَیِّدُنَاعِرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سنت پر محافظت کے باب میں اس مضمون کی حدیث گزرچکی ہے۔

حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خطبے کی کیفیت:

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :’’جب حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جمعہ کے ‏لیےخطبہ فرماتےاور اس بات کابھی احتمال ہے کہ جمعہ کےعلاوہ خطبہ فرماتےتو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں ۔ یعنی جب خدائے رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ کے کمال کی روشنی کی چمک اور واحد و یکتا  کے جلال کے انوار کی


 

 چمک آپ کے دل پر نازل ہوتی اوراُمَّتِ مرحومہ کے اَحوال اور اُن میں اکثریت کے اَعمال میں کمی آپ پر پیش کی جاتی تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں ۔اورآپ عَلَیْہِ السَّلَام کی آوازغم کی وجہ سےبلند ہوجاتی یاسب لوگوں تک آواز پہنچانے کے‏لیےاپنی آوازبلندفرماتے۔ابن ملک کہتے ہیں : آواز اس ‏لیے بلند فرماتے تاکہ آپ کا وعظ سب لوگوں کے کانوں تک پہنچ جائے  اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت بیٹھ جائے اور وعظ کی

تاثیر ان کےدلوں میں اتر جائے۔‘‘ اوراُمَّت کےاَفعال میں سےقلتِ اَدب اور معصیتِ ربّ کی وجہ سے آپ کے چہرے مبارک پرجلال کے آثار  ظاہر ہوتے۔گویا کہ آپ قوم کو ایک بہت بڑے لشکر سے ڈرارہے ہیں جوان پر حملہ کرنے کا قصد کر چکا ہے۔ابن ملک کہتے ہیں : ’’صبح کے وقت یا شام کے وقت سے مراد یہ ہے کہ عنقریب دشمن صبح کے وقت یا شام کے وقت تمہارے پاس آنے والا ہے۔‘‘([129])

بعثت نبی اکرم اورقیامت کا درمیانی فاصلہ:

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب اِکْمَالُ الْمُعْلِمْمیں حدیث کے الفاظ’’میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں ۔‘‘کےتحت فرماتےہیں :’’احتمال یہ ہے کہ دونوں کے قریب ہونے کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا  کہ جس طرح ان دونوں انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں ہے اور دونوں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اسی طرح محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور قیامت کے درمیان کوئی  چیز حائل نہیں ۔ آپ کی آنکھیں سرخ ہوجایا کرتیں ،آواز بلند ہوجاتی اور آپ کے جلال میں اِضافہ ہوجاتا۔یہ حکم وعظ و نصیحت کرنے والے کے ‏لیے ہے کہ واعظ و ذاکر جب وعظ کرے تو اس کی حالت و کیفیت اپنے بیان کے موضوع  کےمطابق ہونی چاہیے،موضوع کے برخلاف کوئی چیز یا حرکت نہ ہو۔ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے)غیظ و غضب کا بڑھنا  ، ہوسکتا ہے کہ جب کسی ایسے امر سے منع کیا جائے جس کی شریعت میں مخالفت کی گئی ہے تو اس وقت غضب بڑھ جاتا ہو۔‘‘([130])


 

ہدایت کی غیر اللہ کی طرف اِضافت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہدایت دینے والی ذات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہے اور مذکورہ حدیث پاک میں ہدایت کی اضافت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی طرف فرمائی ہے۔ دراصل ہدایت کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ ہدایت جس کی اضافت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے علاوہ کسی اور کی طرف بھی کی جاسکتی ہے جبکہ دوسری وہ ہے جس کی اضافت صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ خاص ہے، غیر اللہ کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ حدیث مبارکہ میں ہدایت کی پہلی قسم مراد ہے۔چنانچہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ ہدایت کےدومعنی ہیں :(1)رہنمائی کرنا:اس کی اضافت رسولوں ،قرآنِ پاک اور بندوں کی طرف کی جاسکتی ہے جیساکہ ربّ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: (وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ(۵۲) )(پ۲۵،الشوری: ۵۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔‘‘(اس آیت مبارکہ میں ہدایت کی اضافت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف کی گئی ہے) ایک اور مقام پر فرمایا:(اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ) (پ۱۵،بنی اسرائیل:۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے۔‘‘ایک اور مقام پر فرمایا:( فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)) (پ۱،البقرۃ:۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔‘‘ (ان دونوں آیات مبارکہ میں ہدایت کی اضافت قرآن کی طرف کی گئی ہے۔)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا فرمان ہے: (وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ )(پ۲۴،حم السجدۃ:۱۷) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی۔‘‘یعنی  ہم نے ان کے ‏لیے راہ بیان کردی۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان ہے: (اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ )(پ۲۹، الدھر:۳) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’بے شک ہم نے اسے راہ بتائی۔‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فرمان ہے: (وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ(۱۰)) (پ۳۰، البلد:۱۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اوراسےدوابھری چیزوں کی راہ بتائی۔‘‘(ان تینوں آیات مبارکہ میں ہدایت کی اضافت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی طرف فرمائی ہے۔)(2)ہدایت کا دوسرا معنی لطف، توفیق،پاک دامنی اور تائید ہے اور یہ معنی اللہ عَزَّوَجَلَّکےساتھ خاص ہے جیسا کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمان ہے: اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ


 

 وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُۚ- (پ۲۰،القصص:۵۶) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے۔‘‘([131])

کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیمِرقَاۃ شرح مِشکاۃ میں ’’كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘کے تحت فرماتے ہیں :’’ہربُری بدعت گمراہی ہے کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جس نے اسلام میں اچھا کام ایجاد کیا اس کے ‏لیے اس کا اَجر ہے اور اس پر عمل کرنے والوں  کا بھی اجرہے۔حضرتِ سَیِّدُناابوبکرصدیق وسَیِّدُنَاعمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے قرآن کو جمع کیا، حضرت سَیِّدُنَا زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو مُصْحف میں لکھااور حضرتِ سَیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دور میں اُس پر دوبارہ کام ہوا۔‘‘ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بدعت ہر اس کا م کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلےنہ ہو اور شرع میں ہر اس نئے کا م کو بدعت کہتے ہیں جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دور میں نہ ہو۔لہٰذا كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ہر بدعت گمراہی ہے۔یہ فرمان عام مخصوص ہے۔‘‘([132])(یعنی اِس سے ہر بُری بدعت مراد ہے۔)

بدعتی کی مذمت پرتین احادیث مبارکہ:

(1) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کُتّے ہوں گے۔‘‘([133]) (2)سرکار مکہ مکرمہ، سردار مدینہ منورہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر بدعتی کی توبہ کو روک لیتا ہے۔‘‘([134])(3) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نہ تو کسی بدعتی کا روزہ،صدقہ،حج، عمرہ اور جہاد


 

 قبول کرتاہے اور نہ اس کی کوئی فرض یانفل عبادت قبول فرماتاہے، بدعتی اِسلام سے اِس طرح نکل جاتاہے جیسے آٹے سے بال نکلتاہے۔‘‘([135])

بدعتی کی مذمت پر تین اقوالِ بزرگانِ دین:

(1)حضرت سَیِّدُنَافضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’ جو بدعتی کو دوست رکھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے اَعمال کو بربادکردیتا ہے اور اس کے دل سے اسلام کا نور نکل جاتاہے، جو شخص بدعتی کے ساتھ بیٹھتا ہو اس سے بھی بچنا لازم ہے ۔‘‘انہی سے روایت ہے کہ ’’اگر کسی راستے میں بدعتی آتاہو تو دوسرا راستہ اختیار کرو۔‘‘(2)حضرت سَیِّدُنَافضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’جو شخص بدعتی سے ملنے گیا اس کے دل سے نور ایمان جاتارہا۔‘‘(3)حضرت سَیِّدُنَاسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’جس نے بدعتی کی بات سنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کو اس بات سے فائدہ نہیں دیتا اور جو بدعتی سے مصافحہ کرتا ہے وہ اسلام کا زور توڑ دیتا ہے۔‘‘([136])

حضورعَلَیْہِ السَّلَام مؤمنین کی جانوں کے زیادہ حق دار ہیں :

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس فرمان:’’میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ فرمان اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے اس ارشاد کے موافق ہے: (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ )(پ۲۱،الاحزاب:۶) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔‘‘یعنی ان سے زیادہ حق دار ہے۔ہمارے اصحاب فرماتے ہیں کہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھانے یاکسی اور چیز کی حاجت درپیش ہو تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاصحاب پریہ واجب تھا کہ اس شے کو آپ کی بارگاہ میں حاضرکردیں اورحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ‏لیے یہ بھی جائز تھا کہ آپ مالک کی اجازت کے بغیر وہ چیز لے لیں مگرآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ مبارکہ  میں کبھی


 

 بھی ایسانہ ہوا۔‘‘([137])

حضورعَلَیْہِ السَّلَام حاضر وناظر ہیں :

اللہ عَزَّ  وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ) (پ۲۱، الاحزاب: ۶) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔‘‘ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں ۔ معلوم ہوا کہ حضور ہر مؤمن کے دل میں حاضر وناظر ہیں کہ جان سے زیادہ قریب ہیں ۔ ربّ فرماتاہے:( لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ) الآیۃ (پ۱۱، التوبۃ: ۱۲۸) یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کا حکم ہرمؤمن پربادشاہ،  ماں باپ سے زیادہ نافذ ہے کہ حضور ہمارے سب سے زیادہ مالک ہیں ۔ یا یہ معنی ہیں کہ حضور تم کو تمہاری جانوں سے زیادہ راحت پہنچانے والے ہیں دنیا و آخرت میں ۔‘‘([138])

آقاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکااپنی اُمَّت پراحسان:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں اس فرمان:’’جس نے قرضہ یا نادار اہل وعیال چھوڑے تووہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں ۔‘‘کے تحت فرماتے ہیں کہ:’’یہ الفاظ حضورعَلَیْہِ السَّلَام کے اس فرمان’’میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔‘‘کی تفسیر ہیں ، ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ جس شخص کا قرض ادا کیے بغیر وصال ہوجاتا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے  تاکہ لوگ قرض ادا کرنے میں سستی نہ کریں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایسے لوگوں کی نماز جنازہ کو ترک کرنے کا مقصد دوسرے لوگوں کو اس سے روکنا تھا، پھر جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مسلمانوں پر فتوحات کا دروازہ کھول دیا تو حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا جو قرض چھوڑ کر وفات پاگیا


 

 تواس کا قرض مجھ پر ہے (یعنی میں اس کی طرف سےادا کروں گا) پھر حضور عَلَیْہِ السَّلَام اس کی طرف سے قرض ادا فرماتے تھے۔اس بارے میں ہمارے اصحاب کا اختلاف ہے کہ حضور پر یہ قرض ادا کرنا واجب تھا یا پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے کرم سے اسے ادا فرماتےتھے؟ زیادہ درست  بات یہ ہےکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر واجب تھا، پھر ہمارے اصحاب کے مابین اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ حضور کے خصائص میں سے ہے یا نہیں ؟ بعض نے کہا کہ یہ حضور کے خصائص میں سے ہے اور یہ کسی خلیفہ پر لازم نہیں کہ وہ بیت المال سے اس شخص کا قرض ادا کرے جو قرضہ ادا کیے بغیر وفات پا گیا ہو۔‘‘([139])

لشکرسےکون سا لشکرمرادہے؟

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :’’خطبہ کی نصائح کا اثر خود حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اپنے قلب شریف پر ہوتا تھاجس کی علامتیں آپ کی آواز اور آنکھوں سے نمودار ہوتی تھیں ۔ تبلیغ وہی مؤثر (اثرانداز)ہوتی ہے جس کا اثر مُبَلِّغ (تبلیغ کرنے والے)کے دل میں ہو۔خیال رہے کہ یہاں غصہ سے مراد جلالِ الٰہی اور عظمت ربانی کی تجلیات کا آپ کے چہرے پر ظاہر ہونا ہے نہ کہ کسی پر ناراض ہونا۔ لشکروں سے مراد حضرت ملک الموت (عَلَیْہِ السَّلَام) کا لشکر ہے یعنی موت قریب ہے،تیاری کرو،صبح کے وقت شام کی امید نہ کرو اور شام کے وقت صبح کی۔‘‘میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں کے تحت فرماتے ہیں :’’جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ایسے ہی میرےاورقیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں میرادین تاقیامت ہے یاجیسے یہ دو انگلیاں بہت ہی قریب ہیں ایسے ہی قیامت  اب بہت ہی قریب ہے دنیا کی عمر کا بہت  حصہ گزر چکاہے تھوڑا باقی ہے یا جیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے پر ظاہر ہیں ایسے ہی قیامت مجھ پر ظاہر ہے، میں اس کے حالات اور اس کے آنے کی تاریخ سے خبردار ہوں ۔‘‘([140])


 

مدنی گلدستہ

’’گناہ سے بچو‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول

(1)       اِشاعت دین و احیائے سنّت   کے لیے کوشاں رہنا سعادت مندی ہے ۔نیکی کی دعوت پیش کرتے وقت مبلغ کو چاہیے کہ صدقِ دل سےبیان کی سعادت حاصل کرے تاکہ سامع کے دل پر  اس کا اثر ہو اور وہ ان مدنی پھولوں کو عملی زندگی میں نافذ کرکے ثواب کا عظیم خزانہ حاصل کرسکے۔

(2)       مبلغین کا ترغیبات(یعنی نیک اَعمال کے فضائل)کے ساتھ ساتھ ترہیبات (یعنی گناہوں کی وعیدات و عذابات) کو بیان کرنا بھی بہت مفید ہے کہ اس سے سننے والوں کا برائیوں سے بچنے کا مدنی ذہن بنے گا۔

(3)       مبلغین ،واعظین و مقررین جس عنوان پر گفتگو فرمائیں اسی اعتبار سے ان پر حقیقی کیفیات کا ظہوربھی ایک سعادت ہے کہ اس سے ان کا کلام مزید مؤثر ثابت ہوگا۔اسی طرح جہاں حُزن وملال کا تقاضاہو وہاں غم کا اظہاراور جہاں اظہارِ مسرت ہو وہاں تبسم نفع بخش ثابت ہوگا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 

(4)       قیامت بہت قریب ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے جو جلدازجلد اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی موت سے پہلے آخرت کی تیاری میں مشغول ہوجائے، گناہوں سے کنارہ کشی کرکے نیکیوں پر کمربستہ ہوجائے۔

(5)       حقیقی طور پر ہدایت دینے والی ذات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہے، البتہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے انبیائے کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضور سید المرسلین رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی ہدایت دے سکتے ہیں ۔

(6)       دین میں بدعات سیئہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو شخص اچھا طریقہ ایجاد کرے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا بلکہ جو جو لوگ اس اچھے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے ان تمام کا بھی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی، اسی طرح جو بھی دین کے اندر برا طریقہ ایجاد کرے گا اسے اس کا گناہ ملے گا اور جو جو لوگ اس برے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے ان تمام کا گناہ بھی اسے ملے گا اور


 

ان کےگناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔

(7)       بدعتی کی احادیث میں بہت مذمت بیان کی گئی ہے، بدعتی جب تک بدعت میں مبتلا رہتا ہے اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی، بدعتی کا روزہ، صدقہ، حج ، عمرہ، جہاد بلکہ کوئی بھی فرض یا نفل تک قبول نہیں ہوتا۔

(8)        حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مؤمنین کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر مؤمن کے دل میں حاضر وناظر ہیں ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم ہرمؤمن پر اس کے بادشاہ اور اس مؤمن کے ماں باپ سے زیادہ نافذ ہے کہ حضور ہمارے سب سے زیادہ مالک ہیں ۔

(9)       حقوق العباد کی ادائیگی میں قرض کا معاملہ بہت حساس ہے، معاشرتی زندگی میں لین دین ،بیع و شراء و دیگر کئی ایسے معمولات زندگی پیش آتے ہیں کہ جن میں ایک دوسرے سے قرض وغیرہ لیا جاتا ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے جو اپنے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف پیدا کرے اور حتی المقدور قرض کی ادائیگی پر استطاعت کی صورت میں اپنی موت سے قبل ہی جلدازجلد ادائیگی کی ترکیب بنائے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنےکی توفیق عطافرمائے،حضورنبیٔ اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم  صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی سنتوں پرعمل پیراہونے اور بدعاتِ سیئہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔

تری سنتوں پر چل کر مری روح جب نکل کر

چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے

شہا ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں

تری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

باب نمبر : 19               

اَچھے یا بُرے کا م کی بُنْیَاد ڈالنے کا بیان

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شریعت کی اِتباع کرنا نہ صرف قابل تعریف امربلکہ باعث اجر وثواب ہے، قرآن وسنت میں وہ تمام اُصولِ شرعِیَّہ بیان کردیے گئے ہیں جن کی روشنی میں علمائے اُمَّت قیامت تک پیش آنے والے تمام جدید مسائل کا حل نکالتے رہیں گے۔اب اُصُولِ شَرْعِیَّہ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی البتہ تَغَیُّرِ زَمَانہ  کے اعتبار سے مختلف مسائل پیش آتے رہیں گے۔ ان مسائل کے حل کے لیے جوبھی نیا طریقہ اِیجاد اور رائج کیا جائے گا اگر وہ قرآن وسنت واُصولِ شَرْعِیَّہ کے موافق ہے تو ایسے طریقے کو ایجاد کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ باعث ثواب ہے،ایسے طریقے کو بدعت حسنہ کہا جاتا ہے۔ اور اگر وہ طریقہ قرآن وسنت واُصولِ شرعِیَّہ کے مخالف ہے تو ایسے طریقے کو ایجاد کرنا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ آخرت میں اس پر سخت پکڑ ہے، ایسے طریقے کو بدعت سیئہ کہا جاتا ہے۔جس طرح اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرنے والے کو نہ صرف اس اچھے طریقے کو ایجاد کرنے کا ثواب دیاجاتا ہے بلکہ اس پر عمل کرنے والوں کا بھی ثواب دیا جاتا ہے ویسے ہی اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرنے والے کو نہ صرف اُس بُرے طریقے کو ایجاد کرنے کا گناہ ملتا ہے بلکہ جو جو لوگ اُس بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے اُن کا بھی اس کو گناہ ملتا رہے گا۔ ریاض الصّالحین کا یہ باب’’اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنے‘‘کے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں 2آیاتِ کریمہ اور 2اَحادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ۔پہلےآیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔

 



[1]فتح الباری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب الاقتداءبسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔الخ،۱۴/۲۲۳، تحت الحدیث: ۷۲۸۸۔

[2]اشعۃ اللمعات،کتاب المناسک،الفصل الاول،۲/۳۲۰۔

[3]مرقاۃ المفاتیح، کتاب المناسک،الفصل الاول ،۵/۳۸۰،تحت الحدیث:۲۵۰۵۔

[4]شرح مسلم للنووی،کتاب الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمرۃ، ۵/۱۰۲، الجزء التاسع ملتقطا۔

[5]مرآۃالمناجیح، ۴/۸۷۔

[6]ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع، ۴/۳۰۸، حدیث:۲۶۸۵بتغیر ۔

[7]شرح الطیبی، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ۱/۳۶۱، تحت الحدیث:۱۶۵ ملتقطا۔

[8]الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۹۵۔

[9]مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ۱/۴۰۸،۴۰۷، تحت الحدیث:۱۶۵۔

[10]اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۱۵۰۔

[11]دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمحافظۃعلی السنۃ، ۱/۴۱۷، تحت الحدیث:۱۵۸۔

[12]الحدیقۃ الندیۃ ، ۱/۹۷۔

[13]مرآۃ المناجیح،۱/ ۱۶۶ ملخصا۔

[14]بخاری،کتاب الاعتصام بالكتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللَّه، ۴/۴۹۹،حدیث:۷۲۸۰۔

[15]ارشاد الساری  ،کتاب الاعتصام بالكتاب والسنۃ ، باب الاقتداء بسنن رسول اللَّه،  ۱۵ ٰ/  ۲۷۳ ،تحت الحدیث:  ۷۲۸۰ ۔

[16]عمدۃ القاری، کتاب  الاعتصام بالكتاب والسنۃ ، باب الاقتداء بسنن رسول اللَّه ،۱۶/۵۰۴، تحت الحدیث:۷۶۸۰ ۔

[17]اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۱۳۶ملخصا۔

[18]مرآۃ المناجیح،۱/۱۴۸۔

[19]مدارج النبوۃ،۲/۲۲۴ ملخصًا۔

[20]مسلم، کتاب الا شربۃ ، باب آداب طعام والشراب و احکا مھا ، ص۱۱۱۸، حدیث:۲۰۲۱۔

[21]شرح مسلم للنووی،کتاب    الا شربۃ ، باب آداب طعام والشراب و احکا مھا ،۷/۱۹۲، الجزء الثالث عشر ۔

[22]اکمال المعلم، کتاب الا شربۃ ، باب آداب طعام والشراب و احکا مھا ،۶/۴۸۷، تحت الحدیث:۲۰۲۱۔

[23]دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمحافظۃعلی السنۃ، ۱/۴۲۱، تحت الحدیث:۱۶۰ملتقطا۔

[24]مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفضائل، باب فی المعجزات،۰ ۱/۲۳۳، تحت الحدیث:۵۹۰۴ملخصاً۔

[25]مرآۃ المناجیح،۸/ ۲۱۲۔

[26]احیاء العلوم،کتاب ذم الکبر والعجب، ۳/۴۲۳ملخصًا۔

[27]احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب،۳/۴۲۹ ملخصا۔

[28]بخاری، کتاب الاذان، باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعدھا، ۱/۲۵۶، حدیث:۷۱۷۔

[29]مسلم، کتاب الصلوۃ، باب تسویۃ الصفوف واقامتھا وفضل الاول۔۔۔ الخ، ص۲۳۱، حدیث:۴۳۶۔

[30]شرح بخاری لابن بطال، کتاب الاذان، باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعدھا ، ۲/۳۴۴۔

[31]شرح مسلم للنووی،کتاب الصلوۃ، باب تسویۃ الصفوف۔۔۔الخ، ۲/۱۵۷، الجزء الرابع ۔

[32]شرح بخاری لابن بطال، کتاب الاذان، باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعدھا ، ۲/۳۴۴۔

[33]مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصف، ۳/۱۷۰، تحت الحدیث:۱۰۸۵۔

[34] کشف المشکل من حدیث الصحیحین، ۲/۲۰۵۔

[35]عمدۃ القاری، کتاب  الاذان ،باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعدھا،۴/۳۵۳، تحت الحدیث:۷۱۷ ۔

[36]عمدۃ القاری، کتاب  الاذان ،باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعدھا،۴/۳۵۴، تحت الحدیث:۷۱۸ ۔

[37]مرآۃ المناجیح، ۲/۱۸۱۔

[38]اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصف، ۱/۵۰۲ ۔

[39]مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباھلی۔۔۔الخ،  ۸/۲۹۶،حدیث :۲۲۳۲۶۔

[40]مسلم، کتاب الاشربۃ، باب الامر بتغطیۃ الاناء وایکاء السقاء۔۔الخ، ص۱۱۱۶، حدیث:۲۰۱۶۔

[41]شرح بخاری لابن بطال، کتاب الاستئذان، باب لا تترک النار فی البیت عند النوم ، ۹/۶۶۔

[42]فتح الباری، کتاب الاستئذان، باب لا تترک النار فی البیت عند النوم، ۱۲/۷۱، تحت الحدیث:۶۲۹۴۔

[43]عمدۃ القاری، کتاب  الاستئذان،باب لاتترک النار فی البیت عند النوم،۱۵/۴۰۱، تحت الحدیث:۶۲۹۴ ۔

[44]دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمحافظۃعلی السنۃ، ۱/۴۲۴، تحت الحدیث:۱۶۲ملخصاً۔

[45]اشعۃ اللمعات،کتاب الاطعمۃ، باب تغطیۃ الاوانی وغیرھا، ۳/۵۶۹ ملخصاً۔

[46]عمدۃ القاری، کتاب  الاستئذان،باب لاتترک النار فی البیت عند النوم،۱۵/۴۰۱، تحت الحدیث:۶۲۹۳ملخصاً ۔

[47]مرآۃ المناجیح، ۶/۸۹۔

[48]مرآۃ المناجیح، ۶/۸۸۔

[49]مسلم، کتاب الفضائل، باب بیان    مثل   مابعث النبی  من الھد والعلم، ص۱۲۵۳، حدیث۲۲۸۲۔

[50]شرح مسلم للنووی،کتاب الفضائل ، باب مثل مابعث بہ النبی سلی اللہ علیہ وسلم من الھدی والعلم، ۸/۴۷، الجزءالخامس عشر۔

[51]اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۱۴۱۔

[52]مرآۃ المناجیح،۱/۱۵۵ ملخصاً۔

[53]مسلم، کتاب  الفضائل، باب  الشفقۃ   علی امتہ ۔۔۔الخ، ص۱۲۵۴، حدیث ۲۲۸۵۔

[54]شرح مسلم للنووی، کتاب     الفضائل، باب  الشفقۃ   علی امتہ ۔۔۔الخ، ۸/ ۵۰، الجزء الخامس عشر، ملخصاً ۔

[55]اکمال المعلم،کتاب     الفضائل،باب  الشفقۃ   علی امتہ ۔۔۔الخ،۷/۲۵۳،تحت الحدیث:۲۲۸۴۔

[56]اشعۃ المعات،کتاب  الایمان ،باب    الاعتصام بالكتاب والسنۃ ،۱/۱۴۰ ملخصا۔

[57]مرآۃ المناجیح،۱/۱۵۴ ملتقطا۔

[58]مسلم، کتاب الاشربۃ، باب استحباب لعق الاصابع والقصعۃ۔۔۔الخ، ص۱۱۲۲، حدیث:۲۰۳۳بتغير قليل۔

[59]شرح مسلم للنووی،کتاب الاشربۃ، باب باب استحباب لعق الاصابع ۔۔۔الخ ، ۷/۲۰۳، الجزء الثالث عشر۔

[60]اکمال المعلم، کتاب الاشربۃ، باب استحباب لعق الاصابع والقصعۃ۔۔الخ،۶/۵۰۱، تحت الحدیث:۲۰۳۲۔

[61]شرح الطیبی، کتاب الاطعمۃ، الفصل الاول، ۸/۱۴۷، تحت الحدیث:۴۱۶۷۔

[62]مرآۃ المناجیح،۶/۱۱۔

[63]ابن ماجۃ، کتاب الاطعمۃ،باب النھی عن القاء الطعام،۴/۴۹،حدیث:۳۳۵۳، تنگ دستی کے اسباب اور اس کا حل، ص۵۔

[64]مسلم،کتاب الجنۃوصفۃ نعیمھاو اھلھا،باب فناء الدنیاوبیان الحشریوم القیامۃ،ص۱۵۳۰،حدیث:۲۸۶۰بتغير قليل۔

[65]عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی واتخذ اللہ ابراھیم خلیلاً، ۱۱/۵۶، تحت الحدیث:۳۳۴۹۔

[66]فتح الباری، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر، ۱۲/۳۲۸، تحت الحدیث:۶۵۲۶۔

[67]نزہۃ القاری،۴/۳۹۰۔

[68]اشعۃ اللمعات، کتاب الفتن،باب الحشر،۴/۳۸۹۔

[69]مرآۃ المناجیح،۷/۳۶۶۔

[70]مسلم، کتاب الفضائل، اثبات حوض نبینا۔۔۔الخ،  ص۱۲۵۷، حدیث: ۲۲۹۳۔

[71]مقالات کاظمی، ۲/۱۲۴۔

[72]مرآۃ المناجیح، ۷/۴۰۹۔

[73]شرح  مسلم للنووی، کتاب الطھارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ۔۔۔الخ، ۲/۱۳۶، الجزء الثالث۔

[74]شرح المؤطا للزرقانی، کتاب الطھارۃ، باب جامع الوضو، ۱/۱۲۲، تحت الحدیث: ۵۷ ملخصا۔

[75]بخاری،کتاب الادب،باب النھی عن الخذف،۴/۱۶۱،حدیث:۶۲۲۰۔

[76]مسلم،کتاب الصیدوالذبائح،باب اباحۃ مایستعان بہ علی الاصطیاد۔۔الخ،ص۱۰۸۰،حدیث:۱۹۵۴بتغير ۔

[77]عمدۃ القاری،کتاب تفسیرالقراٰن،باب قولہ اذیبا یعونک تحت الشجرۃ،۱۳/۳۲۳،تحت الحدیث:۴۸۴۱۔

[78]مرقاۃ المفاتیح،کتاب الدیات،باب مالایضمن من الجنایات،۷/۷۸،تحت الحدیث:۳۵۱۶۔

[79]شرح مسلم للنووی،کتاب الصید والذبائح،باب اباحۃ مایستعان بہ۔۔۔الخ،۷/۱۰۶، الجزءالثالث عشر۔

[80]مسلم، کتاب الحج ، باب استحباب تقبیل الحجر الاسود فی الطواف، ص۶۶۲، حدیث:۱۲۷۰بتقدم وتاخر۔

[81]عمدۃ القاری، کتاب الحج، باب ما ذکر فی الحجر الاسود، ۷/۱۶۵، تحت الحدیث:۱۵۹۷۔

[82]مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناسک، الفصل الثالث ،۵/۴۸۱، تحت الحدیث:۲۵۸۹۔

[83]اشعۃ اللمعات، کتاب المناسک، باب دخول مکۃ الطواف،۲/۳۵۸۔

[84]نزہۃ القاری،۳/۱۰۰ ملخصا۔

[85]عاشقان رسول کی 130حکایات ،ص۲۲۶۔

[86]تفسیر نعیمی، پ۱، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵،۱/۶۳۰۔۶۳۱ ملتقطا۔

[87]ترمذی، کتاب الحج، باب ماجاءفی الحجرالاسود، ۲/۲۸۶، حدیث:۹۶۳۔

[88]خزائن العرفان، پ۵، النساء، تحت الآیۃ: ۶۵۔

[89]تفسیر روح البیان، پ۵، النسا ء، تحت الآیۃ:۶۵، ۲/۲۳۱۔

[90]تفسیر طبری ، پ۱۸، النور، تحت الآیۃ:۵۱، ۹/۳۴۱۔

[91]نورالعرفان، پ۱۸، النور، تحت الآیۃ: ۵۱۔

[92]عیون الحکایات،۱/۲۹۲۔

[93]مسلم،کتاب الایمان، باب بیان انہ سبحانہ   وتعالی لم یکلف الا مایطاق ،ص۷۷،حدیث:۱۲۵۔

[94]نور العرفان، پ۳، البقرہ، تحت الآیۃ: ۲۸۴۔

[95]اکمال المعلم، کتاب الایمان، باب بیان انہ سبحانہ تعالی لم یکلف الا ما یطاق، ۱/۴۲۰، تحت الحدیث:۱۲۵۔

[96]تفسیر صاوی، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۴، ۱/۲۴۳ ماخوذا۔

[97]مسلم، کتاب الایمان، باب اذاھم  العبد بحسنۃ۔۔۔الخ،ص۷۹، حدیث: ۱۲۸۔

[98]تفسیر خازن، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۴،۱/۲۲۴۔

[99]ابن ماجۃ، کتاب الطلاق، باب طلاق المکرہ والناس، ۲/۵۱۳، حدیث: ۲۰۴۳۔

[100]تفسیر طبری، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۶،۳/۱۵۷۔

[101]ابن ماجۃ، کتاب الطھارۃ، باب التشدید فی البول، ۱/۲۱۷، حدیث: ۳۴۶۔

[102]تفسیر درمنثور، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۵،۲/۱۳۶۔

[103]تفسیر بیضاوی، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۶، ۱/۵۸۸۔

[104]خزائن العرفان، پ۳، البقرہ، تحت الآیۃ: ۲۸۵۔

[105]فتاوی رضویہ، ۱/۱۰۴۲، جزء: ب۔

[106]مرآۃ المناجیح،۱/۸۷۔

[107]تفسیرنعیمی،پ۳،البقرہ،تحت الآیۃ:۲۸۶، ۳/۲۲۴۔

[108]تفسیر بیضاوی،پ۱۱،یونس،تحت الآیۃ:۳۲ ،۳/۱۹۶۔

[109]تفسیر طبری، پ۱۱،یونس ، تحت الآیۃ:۳۲، ۶/۵۵۹۔

[110]تفسیر خازن، پ۷، الانعام ، تحت الآیۃ:۳۸، ۲/۱۵۔

[111]تفسیر ابن کثیر، پ۷، الانعام ، تحت الآیۃ:۳۸، ۳/۲۲۶۔

[112]تفسیر خازن، پ۵، النساء ، تحت الآیۃ:۵۹، ۱/۳۹۷۔

[113]تفسیر درمنثور، پ۸، الانعام ، تحت الآیۃ:۱۵۳، ۳/۳۸۵۔

[114]تفسیرخازن، پ۳،آل عمران ، تحت الآیۃ:۳۱، ۱/۲۴۳ملخصا۔

[115]بخاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا  علی صلح  جور  فالصلح   مردود، ۲/۲۱۱، حدیث:۲۶۹۷۔

[116]مسلم،کتاب الاقضیۃ، باب نقض الاحکام الباطلۃ  ورد محدثات الامور، ص۹۴۵، حدیث: ۱۷۱۸۔

[117]شرح مسلم للنووی،کتاب  الاقضیۃ، باب نقض الاحکام الباطلۃ  ۔۔۔الخ، ۶/۱۶، الجزء الثانی عشر ۔

[118]دلیل الفالحین، باب فی  النھی عن البدع ومحدثات الامور، ۱/۴۴۰، تحت الحدیث:۱۷۰۔

[119]جاء الحق، ص۱۷۸ماخوذا۔

[120]مرقاۃ المفتایح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۳۶۸، تحت الحدیث: ۱۴۱۔

[121]جاء الحق، ص۲۲۶، بتصرف۔

[122]مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ ۔۔۔الخ،ص۵۰۸، حدیث: ۱۰۱۷۔

[123]رد المحتار، مقدمۃ،۱/۱۴۰۔

[124]عمدۃ القاری، کتاب  الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور، ۹/۵۸۵، تحت الحدیث:۲۶۹۷۔

[125]نزہۃ القاری،۳/۸۵۰۔

[126]فتح الباری، کتاب الطب، باب من اکتوی۔۔۔الخ،۱۰/۱۳۲، تحت الحدیث:۵۷۰۵۔

ارشاد الساری، کتاب الطب، باب من اکتوی ۔۔۔ الخ،۱۰ /۴۹۹، تحت الحدیث: ۵۷۰۴۔

[127]مرآۃالمناجیح،۱/۱۴۶۔

[128]مسلم،کتاب الجمعۃ، باب  تخفیف الصلوۃ والخطبۃ،ص۴۳۰،حدیث:۸۶۷۔

[129]مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب الخطبۃ والصلاۃ، ۳/۵۰۰، تحت الحدیث:۱۴۰۷۔

[130]اکمال المعلم، کتاب  الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ۳/۲۶۸، تحت الحدیث:۸۶۷۔

[131]شرح مسلم للنووی،کتاب الجمعۃ، باب خطبتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الجمعۃ، ۳/۱۵۴، الجزء السادس ملخصا۔

[132]مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۳۶۸، تحت الحدیث:۱۴۱۔

[133]کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، باب البدع و الرفض من الاکمال،۱/ ۱۲۳،حدیث: ۱۱۲۱۔

[134]المعجم الاوسط،من اسمہ علی، ۳/۱۶۵،حدیث:۴۲۰۲۔

[135]ابن ماجۃ،کتاب السنۃ، باب اجتناب البدع والجدل،۱/۳۸،حدیث:۴۹۔

[136]اخلاق الصالحین،ص۳۶ بتقدم وتاخر۔

[137]دلیل الفالحین، باب  فی النھی عن البدع ومحدثات الامور، ۱/۴۴۲، تحت الحدیث:۱۷۱۔

[138]نورالعرفان، پ۲۱، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶۔

[139]شرح مسلم للنووی،کتاب الجعۃ، باب خطبتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الجمعۃ، ۳/۱۵۴، الجزء السادس ملخصا۔

[140]مرآۃ لمناجیح،۲/۳۴۳۔