قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتاہے:
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ۱۹، الفرقان:۷۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے ربّ ہمیں دے ہماری بیبیوں اورہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس آیت مبارکہ میں کامل مؤمنین اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خاص بندوں کی دعا بیان کی گئی ہےکہ وہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنادے، ان کا بڑا بنادے، ان کا لیڈر بنادے۔‘‘یہ بڑا بننا کیوں ہے؟ اس لیے ہے تاکہ ہم جو نیک کام کریں یا دین میں کوئی نیک اور اچھا طریقہ ایجاد کریں ہمیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی وہی نیک کام کریں اور اس اچھے طریقے کی اتباع کریں ، عمل کا جذبہ حاصل کریں اور ان کےنقش قدم پرچل کر وہ بھی نیکیوں والے کاموں میں لگ جائیں ۔ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’یعنی اے ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّہمیں ایسا امام اور پیشوا بنادے کہ لوگ ہماری (نیک اور اچھے اعمال میں )اقتداء کریں ۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’یعنی ہمیں تقویٰ اور اہل تقویٰ یعنی متقی لوگوں کا پیشوا بنادے کہ وہ ہماری اقتداء کریں ۔‘‘ حضرت سَیِّدُنَا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یعنی ہمیں ویسا امام اور پیشوا بنادے جیسا کہ ہم سے قبل لوگوں کو بنایا تھا کہ ہم نے ان کی اِقتداء کی اور ہمارے بعد آنے والے ہماری اقتداء کریں ۔‘‘([1])
اگر امامت وپیشوائی طلب کرنا اس لیے ہے کہ میں نیکوں پرہیزگاروں کے لیے ایک مثال بنوں ، آئیڈیل بنوں ، ان کو صحیح نصیحت کرسکوں ، صحیح بات بتا سکوں ، تو یہ پیشوائی شریعت میں مطلوب ومحمود اور اس کی دعا کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ پاک میں خود ذکر فرمایا ہے۔البتہ اگرامامت وپیشوائی کی ایسی طلب ہے جس کے اندر حُبِّ جاہ اور طلبِ شُہرت ہے تو یہ مذموم ہے۔یعنی نیکوں وپرہیزگاروں کا پیشوا بننا تو ہے لیکن اپنی ذات کی اَنانیت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو بڑا شمار کرنے کے طور پر کہ جناب میں بڑا لیڈر ہوں ،میں بڑا پیشوا ہوں ، میں بڑا مذہبی قائد ہوں ، میرے پیچھے اتنے لوگ ہیں ، میرے ماننے والے اتنے ہیں ، میرے چاہنے والے اتنے ہیں ، میرے ساتھ محبت کرنے والے اتنے ہیں ، اگر یہ پیشوائی اپنی ذاتی عزت اور شہرت چاہنے کے طور پر ہے تو یہ مذموم یعنی قابل مذمت ، بُری اور ممنوع ہے۔تفسیر خازن میں ہےکہ بعض مفسرین نے
فرمایا:’’اس آیت مبارکہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین میں (بغیر حُبِّ جاہ وطلب شہرت کےاس لیے) امامت وپیشوائی طلب کرنا (کہ لوگ نیک کاموں میں اِس کی اِتباع کریں یہ)مطلوب اور مرغوب ہے۔‘‘([2])
ارشادباری تعالی ہے:
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا (پ۱۷،الانبیاء: ۷۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں ۔
اِس آیت مبارکہ میں بھی اِس بات کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے نیک پرہیزگار متقی مسلمانوں کو دیگر مسلمانوں کا امام وپیشوا بنایا تاکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلائیں ، نیک کاموں میں لوگ ان کی پیروی کریں ، نیک اور اچھے طریقوں میں ان کی اتباع کریں ، برے کاموں سے بچیں ، الغرض اَحکامات اِلٰہیہ میں اُن کی اِتباع واِقتداء کریں ۔ تفسیر طبری میں ہے: ’’یعنی خیر کے کاموں میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی اِطاعت و فرمانبرداری اور اُس کے اَوامر و نواہی میں (یعنی جن کاموں کے کرنے یا نہ کرنے کا ربّ عَزَّوَجَلَّنے حکم ارشاد فرمایا ہے اُن کاموں میں )اُن کی پیروی اور اِتباع کی جائے۔‘‘ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :’’یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُنہیں امام بنایا تاکہ اُس کے اَحکامات میں اُن اِماموں وپیشوا حضرات کی اِقتداء کی جائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے لوگ اُن کے ذریعے ہدایت پاتے ہیں اور وہ لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں ۔‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:171
نیک یا بُرےعمل اِیجاد کرنے کی جَزاءیاسزا
عَنْ اَبِي عَمْرٍو جَرِ یْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ اَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ ،بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَا رَاَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ،فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:( یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) اِلَى آخِرِ الْآيَةِ:(اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱) )(پ۴،النساء:۱)وَالْآيَةُ الاُخْرَی الَّتِي فِي آخِرِالْحَشْرِ:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-) (پ۲۸،الحشر:۱۸)تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ:وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ‘‘فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ،ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَاَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ،حَتَّى رَاَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَهَلَّلُ كَاَ نَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ اَجْرُهَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ. ([4])
قَوْلُہُ ’’مُجْتَابِی النِّمَارِ‘‘ہُوَ بِالْجِیْمِ وَبَعْدَ الْاَلِفِ بَاءٌمُوَحَّدَۃٌ.وَالنِّمَارُ:جَمْعُ نَمِرَ ۃٍ،وَہِیَ:کِسَاءٌمِنْ صُوْفٍ مُخَطَّطٌ،وَمَعْنَی’’مُجْتَابِیْہَا‘‘ اَیْ لَا بِسِیْہَا قَدْ خَرَقُوْہَا فیِ رُؤُسِہِمْ.’’وَالْجَوْبُ‘‘الْقَطْعُ،وَمِنْہُ قَوْلُہُ تَعَالیٰ: (وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ(۹) )(پ۳۰،الفجر:۹)اَیْ:نَحَتُوْہُ وَقَطَعُوْہُ.وَقَوْلُہُ’’تَمَعَّرَ‘‘ہُوَ بِالْعَیْنِ الْمُہْمَلَۃِ، اَیْ: تَغَیَّرَ. وَقَوْلُہُ:’’رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ‘‘بِفَتْحِ الْکَافِ وَضَمِّہَا اَیْ:صُبْرَ تَیْنِ.وَقَوْلُہُ:’’کَاَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ‘‘ ہُوَ بِالذَّالِ الْمُعْجَمَۃِ، وَفَتْحِ الْہَاءِ وَالْبَاءِ الْمُوَحَّدَۃِ. قَالَہُ الْقَاضِی عِیَاضٌ وَغَیْرُہُ. وَصَحَّفَہُ بَعْضُہُمْ فَقَالَ: ’’مُدْہُنَۃٌ‘‘ بِدَالٍ مُہْمَلَۃٍ وَضَمِ الْہَاءِ وَبِالنُّوْنِ، وَکَذَا ضَبَطَہُ الْحُمَیْدِیُّ، وَالصَّحِیْحُ الْمَشْہُوْرُ ہُوَ الْاَوَّلُ. وَالْمُرَادُ بِہِ عَلَی الْوَجْہَیْنِ: الصَّفَاءُ وَالْاِسْتِنَارَۃُ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابو عَمرو جریر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی وقت میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ بے لباس لوگ آئے جنہوں نے اُون کی دھاری دار چادریں یا ٹاٹ کی چادریں پہنی ہوئی تھیں اوران کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ، ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مُضَر سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کو اِس فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھ کر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ اَنور متغیر ہوگیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اندر تشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے اور حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اذان کا حکم دیا ، سَیِّدُنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان دی اور اقامت کہی اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھائی،پھر خطبہ دیا اوریہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
(یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱))(پ۴، النساء:۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت پھیلادیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہروقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔
پھریہ دوسری آیت پڑھی جو سورۂ حشر کے آخرمیں ہے:
( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-)(پ۲۸، الحشر:۱۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیےکیا آگے بھیجا۔
پھر ارشاد فرمایا: ’’لوگ اپنے دینار، درہم، کپڑوں ، ایک صاع گندم، ایک صاع کھجوروں میں سے کچھ نہ کچھ صدقہ کریں اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ جنت نشان کو سننے کے بعد ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے ان کاہاتھ تھکنے والا تھا بلکہ تھک ہی چکا تھا۔اس کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنے صدقات بارگاہِ رسالت میں پیش کرنے لگےیہاں تک کہ میں نے غلے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور میں نےدیکھا کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ انورخوشی سےکُنْدَن (یعنی خالص سونے) کی طرح چمک رہا تھا۔پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’جس نے اسلام میں کوئی نیک اور
اچھاطریقہ ایجاد کیا تواُسے اُس کا اَجر ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا اوراُن عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اُسے اس کاگناہ ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ملے گااور اُن عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔‘‘
مختلف الفاظ کے معانی: ٭’’مُجْتَابِی النِّمَارِ‘‘:’’نِمَار‘‘نَمِرَۃٌ کی جمع ہےجس کا معنی ہے:’’اُون کی دھاری دار چادر۔‘‘ ٭’’مُجْتَابِیْھَا‘‘ کا مطلب ہے کہ ’’انہوں نے چادروں میں سوراخ کرکےاپنے سروں پر ڈالی ہوئی تھیں ۔‘‘ ٭’’اَلْجَوْبُ‘‘ کامعنی ہے:’’کاٹنا۔‘‘جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافرمان ہے(وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ(۹) )پ۳۰، الفجر: ۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں ۔‘‘ ٭’’تَمَعَّرَ‘‘ کا معنی ہے:’’رنگ بدل گیا۔‘‘ ٭’’رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ‘‘میں ’’کوْمَیْنِ‘‘ کو ’’کَوْمَیْنِ‘‘ کاف پرزبر اور ’’کُوْمَیْنِ‘‘ کاف پر پیش کے ساتھ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں ۔اس کا معنی ہے: ’’دو ڈھیر۔‘‘ ٭’’کَاَ نَّہُ مُذْھَبَۃٌ‘‘کو بعض نے ’’مُدْھُنَۃٌ‘‘بھی ذکر کیا ہے لیکن صحیح اور مشہور پہلے والا ہے البتہ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہے یعنی: ’’چہرۂ اَنور کا روشن ہو نا ۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا حدیث پاک کے ابتدائی نصف حصے کا مضمون یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبیلہ مُضَرکے فقروفاقہ والے اصحاب کو دیکھ کر انتہائی غمزدہ ہوگئےحتی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چہرۂ اَنور کا رنگ متغیر ہوگیا، پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہاں موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کواُن کی مددکرنے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی، جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اُن کی مدد کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دیکھ کر بہت ہی زیادہ خوش ہو گئے۔ اِس سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دوعظیم سنتوں کا پتا چلا:(1)ایک تویہ کہ غریبوں کی مدد کرنا، اُن کا اِحساس کرنا، اُن کے غم میں شریک ہونا، اُن کے دکھ کو محسوس کرنا، جن کے پاس کھانے اور پہننے کو نہیں ہے اُن کی اِس حالت کا اپنے دل میں اِحساس کرناآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔(2)دوسرا
یہ کہ غریبوں کی مدد کرنا اور اُس مدد پر خوش ہونایہ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قبیلہ مُضَر کے اُن تمام لوگوں کو شدید حاجت مند دیکھ کراور اغنیا ءمسلمانوں کا اُن کی مدد کرکے اُن سے ضرر کو دُور نہ کرنے کی وجہ سےچہرۂ اَنور متغیر ہوا کیونکہ شریعت نےخوش حال مسلمانوں پر محتاج مسلمان سےضررکودُورکرنااِس طور پرواجب کیا ہےکہ وہ اس بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائیں ،بے لباس کو کپڑے پہنائیں ۔چونکہ قبیلہ مُضَر کے اُن مسلمانوں کی بھی یہی حالت تھی اور اَغنیاء مسلمان اُن کی حاجت روائی کی طرف متوجہ نہ ہورہے تھے پس اِسی سبب سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ اَنورمتغیر ہوگیا نہ کہ اُن کے فاقہ کودیکھ کرکیونکہ فاقہ کرنا تو اِس اُمَّت کے صالحین کی شان ہے۔‘‘([5])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اِس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کونیک مہم کے لیے جمع کرنا ، اُن کو وعظ کرنا، اچھی مصلحتوں پر اُبھارنااوراُن کو بُری باتوں سے ڈرانا مستحب ہے۔اس موقع پریہ آیت تلاوت کرنے کا سبب یہ تھاکہ یہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کوصدقہ پراُبھارنے کے لیے زیادہ فائدے مند تھی کیونکہ اس آیت میں مسلمانوں کے حق کو اس طور پر مؤکدکیا گیاہے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘([6])(اور ایک بھائی کا دوسرے بھائی پر حق ہوتاہے کہ وہ استطاعت کی صورت میں اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے۔)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں البتہ مساجد ومدارسِ اسلامیہ وغیرہ دینی
کاموں کے لیے چندہ کرنا نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہے اور اُس کی اَصل سُنَّت سے ثابت ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ،عظیم البرکت،مجدددین وملت،پروانۂ شمع رسالت،مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ ج۱۶، ص۴۱۸پر ارشاد فرماتے ہیں : ’’مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے۔‘‘مزید فرماتے ہیں : ’’اور کسی دوسرے کے لیے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کے لیے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔‘‘فتاویٰ رضویہ ج۲۳، ص۱۲۷پر ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں :’’اُمورِ خیر کے لیے مسلمانوں سے اس طرح چندہ کرنا بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ جو لوگ اِس سے روکتے ہیں (وہ اِس آیت): (مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ(۱۲)) (پ۲۹، القلم:۱۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’بھلائی سے بڑا روکنے والا حدسے بڑھنے والا گنہگار‘‘میں داخل ہوتے ہیں ۔‘‘پھر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی مذکورہ بالا حدیث پاک بیان فرمائی۔ پیارے اسلامی بھائیو! مسجدوں ، مدرسوں ،اور مذہبی وسماجی اداروں کے چندہ کنندگان کے لیے چندے کے مسائل جاننا فرض ہے، چندے کے تفصیلی مسائل اور اس کی مختلف احتیاطوں کے بارے میں جاننے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’چندے کے بارے میں سوال جواب‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
مذکورہ بالا حدیث پاک میں اچھے اور نیک کرنے کو ایجاد کرنے اور اُسے جاری رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے نیز بُرے اور گناہ والے کاموں سے ڈرایا گیا ہے۔ نیز اِس بات کو بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جو اچھے کام کی اِبتداء کرے گا، اُسے جاری کرےگا، اُسے اُس کے اپنے عمل کا تو ثواب ملے گا ہی لیکن اُس کے بعدجو بھی لوگ اُس اچھے ونیک کام کو کرتے رہیں گے اُن کا بھی ثواب اُس اچھے کام کی ابتداء کرنے والے کو ملتا رہے گا،اِسی طرح جو بُرے اور گناہ والے کام کی ابتداء کرے گا اُسے اُس کے اپنے عمل کا تو گناہ ملے گا ہی لیکن اُس کے بعدجوبھی لوگ اُس بُرے وگناہ والے کام کو کرتے رہیں گے اُن کا بھی گناہ اُس بُرے کام کی ابتداء کرنے
والے کو ملتا رہے گا۔
چنانچہ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس اِرشادمیں اچھے کام کی ابتداءاوراچھے طریقے کوجاری کرنے اورباطل وقبیح کام ایجاد کرنےسے ڈرانے پر اُبھاراگیاہے۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شروع میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی تو ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے اُن کاہاتھ تھک گیا۔پھراُن کی پیروی کرتے ہوئے دیگرصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےبھی خیرات کی تو اِس فضیلت وعظمت کاسہرااُس صحابی کےسرجاتاہےجواِس نیک کام کی ابتداء کرنے والےتھے اوراُس بھلائی کادروازہ کھولنےوالےتھے۔اِس حدیث پاک میں حضورِاکرم نورِ مُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس ارشاد:’’ہرنیا کام بدعت ہےاورہربدعت گمراہی ہے۔‘‘کے حکم کی بھی تخصیص ہے کہ یہاں ’’ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘سے اِیجاداتِ باطلہ اور بدعاتِ سیئہ ومذمومہ مراد ہیں ۔‘‘([7])(کہ اچھا کام اِیجاد کرنا نہ صرف محمود یعنی قابل تعریف بلکہ باعث اجروثواب ہے بلکہ جو لوگ اُس پرعمل کرتے رہیں گے اُس نیک عمل ایجاد کرنے والے کو اُن تمام کا بھی ثواب ملتا رہے گا اور اُن کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔)([8])
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں :’’حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوش ہونےکی دو ۲وجہیں ہیں :(1) ایک یہ کہ مسلمانوں نےآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ترغیب پر اپنے مال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کیےاور صدقہ کرنے میں سخاوت کی۔ (2) دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنےاس واقعے کےبعد اس فقر والے لشکر پرفتوحات کادروازہ کھول دیا۔‘‘([9])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : ’’یعنی غربت کی وجہ سے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پاس سوائے ایک کمبل کے تن ڈھکنے کو کوئی کپڑا نہ تھا اس کے باوجود غزوے اور جہاد کے شوقین تھے کہ تلواریں ہر ایک کے پاس تھیں ۔اُن کی فقیری سے خاطر اقدس کو بہت ملال پہنچا جس کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے، کیوں نہ ہو بے نواؤں فقیروں کے غم خوار جو ہیں ، ہم غریبوں پر وہ رنج نہ کریں تو کون کرے؟یہ حدیث پاک اس آیت کی تفسیر ہے: (عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ )(پ۱۱، التوبہ:۱۲۸)ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’جن پر تمہارامشقت میں پڑنا گراں ہے ۔‘‘مزید فرماتے ہیں :’’اِس حدیث پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے:
(1) ایک یہ کہ بوقت ضرورت چندہ کرنا جائز ہے۔
(2) دوسرے یہ کہ مسجد میں دوسروں کے لیے سوال جائز ہے۔جن احادیث میں مسجد میں مانگنے کی ممانعت ہے وہاں اپنے لیے مانگنا مراد ہے لہٰذا یہ حدیث ان کے خلاف نہیں ۔‘‘مزید فرماتے ہیں :’’فقراء کی حاجت روائی اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی خیرات پر خوشی کی وجہ سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنی اُمَّت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور جو اللہ رسول کو راضی کرنا چاہے وہ فقیروں کی حاجت پوری کرے۔‘‘مزید فرماتے ہیں :’’مُوْجِدِ خیر(یعنی کسی اچھی کام کو ایجاد کرنے والا) تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر پائے گا لہٰذا جن لوگوں نے علم فقہ، فن حدیث، میلاد شریف، عُرسِ بزرگان، ذکر خیر کی مجلسیں ، اسلامی مدرسے، طریقت کے سلسلےاِیجاد کیے اُنہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔‘‘مزید فرماتے ہیں :’’یہاں اِسلام میں اچھی بدعتیں ایجاد کرنے کا ذکر ہےنہ کہ چھوڑی ہوئی سنتیں زندہ کرنے کا جیسا کہ اگلے عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔ اس حدیث سے بدعت حسنہ کے خیر ہونے کا اعلیٰ ثبوت ہوا،یہ حدیث اُن تمام احادیث کی شرح ہے جن میں بدعتوں کی برائیاں آئیں ،صاف معلوم ہوا کہ بدعتِ سیئہ بُری ہے اور اُن احادیث میں یہی مراد ہے۔یہ حدیث پاک بدعت کی دو قسمیں فرمارہی ہے: (1)بدعتِ حسنہ اور (2)
بدعت سیئہ۔ اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی، اُن لوگوں پر افسوس ہے جو اِس حدیث پاک سے آنکھیں بند کر کے ہر بدعت کو بُرا کہتے ہیں حالانکہ خود ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں ۔‘‘([10])
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اورتمام مسلمانوں پر کمال مہربان ہیں ، اُن کا مشقت یا تکلیف میں پڑنا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بہت گراں ہے۔
(2) وعظ ونصیحت یا بیان کرتے ہوئے موضوع کی مناسبت سے آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرنا سنت ہے۔
(3) نیک مقاصد کے لیے لوگوں کو جمع کرنا، وعظ ونصیحت کرنا، راہِ خدا میں خرچ کرنے پر اُبھارنا سنت ہے۔
(4) مسجد میں اپنے لیے مانگناجائز نہیں البتہ مساجد ومدارسِ اِسلامیہ وغیرہ دینی کاموں کے لیے چندہ کرنا نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہےاور اس کی اصل سنت سے ثابت ہے۔
(5) اِسی طرح کسی بھی کارِ خیر کے لیے چندہ مانگنے والے کو بلاوجہِ شرعی روکنے کی ممانعت ہے۔
(6) غریبوں کی غربت یا فَقروفاقہ دیکھ کراس پر غمگین ہونااور اُن کی غربت وفَقر کو دور کرنے کے لیے اِقدامات کرنا، نیز اُن کی تکلیف دور ہونے پر خوشی کا اِظہار کرنا سنت سے ثابت ہے۔
(7) اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی مالی مُعاونت کرنا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔
(8) اگر کوئی شخص اسلام میں اچھا اور نیک طریقہ ایجاد کرے یا اس کی بنیاد رکھے تواسے اس کا ثواب ملے گا اور جو جو لوگ اس پرعمل کرتے رہیں گے ان کا بھی ثواب ملتا رہے گا اوران عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
(9) اِسی طرح اگرکوئی شخص اِسلام میں بُرا اور گناہ والا طریقہ اِیجاد کرے یا اُس کی بنیاد رکھے تو اُسے اُس کا
گناہ ملے گا اورجوجولوگ اُس پرعمل کرتے رہیں گے اُن کابھی گناہ اُسے ملے گااوراُس بُراعمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
(10) جن لوگوں نے مختلف دینی علوم جیسے علم فقہ،علم اُصولِ فقہ،علم تفسیر، علم اُصولِ تفسیر،علم حدیث، علم اُصولِ حدیث،مدارس اسلامیہ، ان میں پڑھایاجانے والا دینی نصاب، میلاد شریف، عرس بزرگانِ دین، ذکر خیر کی مجلسیں ، طریقت کے سلسلے،تصوف وسلوک کی اہم باتیں وغیرہ ایجاد کیں انہیں قیامت تک اِن کا ثواب ملتا رہے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(11) ’’ہر بدعت گمراہی ہے‘‘سے مُراد ہروہ نیا کام ہےجو خلافِ شریعت، باطل اور بدعت سیئہ ہو۔
(12) راہِ خُدامیں مال خرچ کرنے اور صدقہ کرنے،مسلمانوں کی مالی معاونت کرنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا وخوشنودی ہے۔
(13) حضورنبی کریم رؤف رحیم اپنی اُمَّت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں ، فقیروں کی حاجت روائی کرنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہےکہ وہ ہمیں فرائض وواجبات،سنن ومستحبات کے ساتھ ساتھ نیک اور اچھے طریقوں پر عمل کرنے کی اور بُرے طریقوں سے بچنے کی توفیق عطافرمائے، نیز ہمیں راہِ خدا میں خوب صدقہ وخیرات کرنے، مسلمانوں کی مالی معاونت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:172
ہر ناحق قتل کا گناہ قابیل کے سر پر ہے
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْاَ وَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِاَ نَّهُ كَانَ اَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ. ([11])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم،نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جسے بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہےتو حضرت سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کے پہلے بیٹےکے حصے میں بھی اُس کاخون ہوتا ہے کیونکہ اُس نے سب سے پہلے قتل کو ایجاد کیا۔‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :’’ یہ حدیث قواعدِاِسلامیّہ میں سے ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جس کسی نے بھی کوئی بُری چیز اِیجاد کی تو اُس پر اُس کا گناہ ہے اورقیامت تک اُس عمل میں جو بھی اُس کی پیروی کرے گا اُس کا گناہ اُس ایجاد کرنے والے کے سر بھی ہوگا۔ اِسی طرح جس نے بھی کوئی اچھا عمل ایجاد کیا اُس کے لیے اُس کا اَجر وثواب ہے اور قیامت تک جو بھی اُس پرعمل کرےگااُس ایجاد کرنے والے کو بھی اُس کا ثواب ملےگا۔‘‘([12])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ- (پ۶، المائدۃ: ۳۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلا لیا۔
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس آیت مبارکہ کے تحت نورالعرفان میں فرماتے ہیں : ’’ظلماً قتل بہت سے گناہوں کا باعث ہے کہ اسی قتل کی وجہ سے قابیل نبی زادہ ہونے کے باوجود ہلاک ہوا اور بنی اسرائیل نے بہت ناحق قتل کیے ۔ انبیائے کرام کو شہید کیا۔اس (آیت مبارکہ)سے معلوم ہوا کہ گناہ کا ایجاد کرنا زبردست گناہ ہے اور نیکی کا ایجاد کرنا زبردست نیکی ہے۔
اس سے اشارۃً بدعت سیئہ اور حسنہ کی تقسیم معلوم ہوئی کیونکہ مُوْجِدِ قتل کو تمام جہان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، ایسے ہی جو ایک جان کو بچائے اور پھر لوگ اس کی دیکھا دیکھی جانیں بچانا شروع کردیں تو ان سب کی نیکیوں میں اس مُوْجِد کا بھی حصہ ہوگا لہٰذا ہر نیک و بدکام کے اِیجاد کا یہی حال ہے۔‘‘([13])
نیکی پر مدد کرنے والا نیک کام کرنے والے کی مثل اور بُرائی پر مدد کرنے والا بُرے کام کرنے والے کی مثل ہے۔چنانچہ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں :’’یہ حدیث پاک اِس قاعدے کی اَصل ہےکہ حرام کام میں مددکرنابھی حرام ہے۔کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: (وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- )( پ۶،المائدۃ:۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اورگناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔‘‘اور یقیناًنیکی پر مددکرنے والانیکی کرنے والے کی مثل اور برائی پر مدد کرنے والا بُرائی کرنے والے کی مثل ہے۔‘‘([14])
مذکورہ حدیث پاک میں ’’اِبنِ آدم‘‘کے ساتھ لفظ ’’اَوَّل‘‘ آیا ہے جس سے بعض شارحین نے اس بات پر استدلال کیا ہے یہ قتل کرنے والا حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا سب سے پہلا بیٹا ہے، لیکن کئی شارحین ومفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس بات کی تردیدکی ہے اور فرمایا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ پہلا بیٹا نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا یہ واقعہ کئی اولادوں کے بعد ہوا تھا البتہ حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ وہ سب سے پہلا بیٹا ہے جس نے پہلا قتل کیا۔([15])
(1) حضرت سَیِّدُنَا آدم عَلَیْہِ السَّلَامکے جس بیٹے نے سب سے پہلے قتل کیا اس کے نام میں علمائے
کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے لیکن اکثر کے نزدیک درست یہی ہے کہ اس کا نام ’’قابیل‘‘ تھا۔([16])
(2) جس جگہ یہ قتل ہوا اس مقام میں بھی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے لیکن علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ہابیل کو ہندمیں جبل نوذ پر قتل کیاگیا ہےاور یہی قول درست ہے۔‘‘([17])
حضرت سَیِّدَتُنَا حوا ء عَلَیْہَا السَّلَامکے ہر حمل سے ایک بچہ اور ایک بچی پیدا ہوتی تھی سوائے حضرت سَیِّدُنَا شیث عَلَیْہِ السَّلَام کےکہ یہ تنہا پیدا ہوئے۔جب حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کودنیا میں تشریف لائے ہوئے سو100سال گزر چکے توقابیل اور اُس کی جڑواں بہن ’’اقلیمہ‘‘پیدا ہوئے، اِن کے بعد ہابیل اور اُن کی جڑواں بہن ’’لیوذا‘‘ پیدا ہوئے۔بوجہ ضرورت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی شریعت میں یہ جائز تھا کہ ایک حمل کے لڑکے کادوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کر دیا جاتا۔البتہ یہ جائز نہیں تھا کہ ایک ہی حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا ایک ساتھ نکاح کیا جائے۔ جب یہ چاروں بالغ ہوگئے تو حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے چاہا کہ قابیل کا نکا ح لیوذا سے اور ہابیل کا نکاح اقلیمہ سے کردیں ۔قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی اس کی بہن اقلیمہ چونکہ بہت حسین وجمیل تھی، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اقلیمہ سے اس کا نکا ح کردیا جائے حالانکہ یہ اُن کی شریعت میں جائز نہ تھا۔جب وہ اِس بات پر بضد ہوا تو حضرت سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَامنے حکم دیا کہ دونوں اِس مسئلے کے حل کے لیے اپنی اپنی قربانی ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کریں ، جس کی قربانی مقبول ہوگی اقلیمہ کا نکا ح اس کے ساتھ کردیا جائےگا۔
اُس دور میں یہی طریقہ رائج تھا اور جس کی قربانی ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہوتی آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی اور اس کی قربانی کو کھاجاتی۔قابیل کاشت کارتھا اور ہابیل کے پاس بکریاں تھیں ۔قابیل نے
سب سے ردی غلے کا ایک ڈھیرقربانی کے لیے پیش کیا اور اپنے دل میں سوچا کہ مجھے پرواہ نہیں میری طرف سے قبول ہو یا نہ ہو کیونکہ شرعاً تو ہابیل ہی میری بہن سے شادی کرے گا۔ہابیل نے ایک موٹا تازہ مینڈھا، دودھ اور مکھن قربانی کےلیے پیش کیا اور دل میں یہ سوچا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو فیصلہ فرمائے گا میں اس پر راضی ہوں ۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آسمان سے سفید آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کھا گئی، لہذا ہابیل سے قابیل کی بہن اقلیمہ کا نکاح ہوناطے پاگیا جو درحقیقت پہلے ہی طے تھا۔اِس سے قابیل کے دل میں ہابیل کی دشمنی پیدا ہوگئی یہاں تک کہ اس نے ہابیل کو قتل کر ڈالا۔حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ہابیل کا وہ مینڈھازندہ جنت میں اٹھا لیا گیا اور جنت ہی میں رہایہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی قربانی میں وہی مینڈھا فدیہ بنا۔([18])
علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سب سے پہلا قاتل قابیل ا ور سب سے پہلامقتول ہابیل ہے۔چونکہ قابیل وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا اب جو بھی اس کے بعد (ناحق)قتل کرے گا،وہ اس کی اقتداء کرنے والا ہوگا،اب چاہے وہ ایک واسطے سے قتل کرے یا کئی واسطوں سے۔‘‘([19])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے:
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ- (پ۲۲، فاطر: ۱۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
آیت مبارکہ کو پڑھنے کے بعد بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس آیت مبارکہ اور مذکورہ حدیث پاک
میں تعارض ہے کہ ’’آیت مبارکہ میں اِس بات کا بیان ہے کہ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی جبکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ بُرا طریقہ ایجاد کرنے کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اس بُرا طریقہ ایجاد کرنے والے کو ملے گا۔‘‘جبکہ حقیقتاً ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے،آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے کہ کل بروزِ قیامت کسی کی دوسرے کے گناہوں کے عوض پکڑ نہ کی جائے گی البتہ وہ لوگ اس حکم سے خارج ہیں جن کے سبب دیگر لوگ گمراہ ہوئے کہ ان کی دیگر لوگوں کوگمراہ کرنے کے سبب پکڑ کی جائے گی، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘- (پ۲۰، العنکبوت: ۱۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور بے شک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ۔
چنانچہ صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی پارہ ۲۲، سورہ فاطر، آیت نمبر۲۲ کے تحت ’’خزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں :’’معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا جو اس نے کیے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی البتہ جو گمراہ کرنے والے ہیں اُن کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے اُن کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہو گا اور ان گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا:( وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘- )(پ۲۰، العنکبوت: ۱۳)اور درحقیقت یہ اُن کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں ۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے مضمون سے یہ واضح ہوا کہ جو شخص کسی بھی بُرے طریقے کو ایجاد کرے گا تو اُس بُرے طریقے کو اِیجاد کرنے والے اور اُس پرعمل کرنے والے کو اپنے اُس عمل کا تو گناہ ملے گا لیکن ساتھ ہی اُن تمام لوگوں کے عمل کا بھی اُسے گناہ ملے گا جو اس طریقے پر عمل کرکے گناہ میں مبتلا ہوئے۔مثلاً کوئی شخص مَعَاذَ اللہ گانے باجے کی تباہ کاریوں میں ملوث تھا، اس نے اپنے گانوں کا ایک البم یا سی ڈی وغیرہ جاری کردی۔اب اس گانے والے کو تو اپنے اس گانے اور البم یا سی ڈی وغیرہ جاری
کرنے کا گناہ ملے گا لیکن اُس البم یا سی ڈی وغیرہ کو جو جو لوگ سنتے رہیں گے اُن تمام کا گناہ بھی اسے ملتا رہے گا کیونکہ اُس بُرے کام کو اِسی نے ایجاد کیا۔اسی طرح اگر کوئی شخص کاروبار کے اندر دھوکہ فراڈ، چوری،خیانت وغیرہ کرتا ہے، لوگوں کو یہ تمام گناہ سکھاتا ہے اور دیگر لوگ بھی اُس سے سیکھ کر اِن تمام گناہوں میں ملوث ہوجاتے ہیں تو اِسے اپنے اِن تمام بُرے اعمال کا تو گناہ ملے گا لیکن جو لوگ اِس کے سکھانے کی وجہ سے اِن تمام گناہوں میں ملوث ہوئے اُن کو اُن کے عمل کا گناہ ملنے کے ساتھ ساتھ اِسےبھی اُن کا گناہ ملتا رہے گا۔
یہاں ایک اہم بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بُرا طریقہ اِیجاد کرنے والا یا جس کے سبب لوگ کسی بُرے طریقے پر عمل کرنا شروع کردیں ، اگر اُسے اپنے اُس بُرے عمل پر شرمندگی ہوئی، ندامت ہوئی اور اُس نے اُس بُرے طریقے یاعمل سے توبہ کرلی تو کیا اب بھی اُن لوگوں کا گناہ اُسے ملتا رہے گاجو لوگ اُس کے ایجاد کردہ بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے؟جی نہیں !اگر اُس شخص نے اپنے اُس برے عمل یا طریقے سے توبہ کرلی ، اُس پر ندامت اختیار کی، حتی المقدور اپنے اُس بُرے عمل کے خاتمے کی کوشش کی تو اب اُسے دیگر لوگوں کے عمل کا گناہ نہیں ملے گا کیونکہ کسی گناہ پر نادم ہونا اُس گناہ سے توبہ ہے اور کسی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ، لہذا اب جو لوگ اُس پر عمل کریں گے اُنہیں اپنے عمل کا گناہ ملے گا اِسے اُن کے عمل کا کوئی نقصان نہ ہوگااِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبَیْدَہ بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہُ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔‘‘ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: ’’اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ یعنی ندامت توبہ ہے۔‘‘([20])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں سے توبہ کرنے، اُن سے چھٹکارہ پانے کا ایک بہترین ذریعہ اچھی صحبت بھی ہے کہ صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، اچھی صحبت اچھا بنادیتی ہے اور بُری صحبت بُرا۔تبلیغ قرآن وسنت
کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کامشکبار مدنی ماحول بھی اچھی صحبت فراہم کرتا ہے، اس مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر بے شمار ایسے لوگوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی جو اپنی سابقہ زندگی نہ صرف گناہوں میں گزار رہے تھے بلکہ اُن کے گناہوں بھرے بُرے طریقوں پر عمل کرکے دیگر لوگ بھی اپنی آخرت کو تباہ وبرباد کررہے تھے۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاِس کی برکت سے پابندسنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے:
حیدرآباد دکن (ہند) کے 26 سالہ نوجوان کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ میں گناہوں کی پُرخار وادیوں میں بھٹک رہا تھا، عملی حالت بہت خراب تھیپڑوسیوں کو ستانا ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان سے جھگڑا کرنا، کلب کے بے ہودہ ماحول میں وقت بر باد کرنا، موڈلنگ کرنا، داڑھی منڈوانا، نت نئے فیشن اپنا نا اور گھر والوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا میری روز مرہ زندگی کا ایک حصہ بن چکاتھا۔ انہی عاداتِ بد کی وجہ سے پڑوسی اور اہلِ محلہ اپنے بچوں کو میری صحبت تو صحبت میرے سائے سے بھی دور رکھتے اور مجھے نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے، مگرمجھ پر ان کے اس برتاؤ کا کچھ اثر نہ ہوتا۔
ان تمام بری خصلتوں کے ساتھ ساتھ فنکاری اور گلوکاری کا بھوت ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا اور اپنے اس مقصد میں کامیابی کے لیے تو میں رات دن تگ و دو کرتا رہتا، بالآخر مجھے کامیابیاں ملنے لگیں لہٰذا میں اسٹیج ڈراموں اور مختلف ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اپنی مسحور کُن آواز سے لوگوں کو متأثر کرنے لگا۔ جب لوگ مجھے دادِ تحسین سے نوازتے تو میں خوشی سے پھولا نہ سماتا اور جس روز مجھے ’’تیلگو‘‘ فلم میں ہیرو کے ساتھ ایک فلمی رول ادا کرنے کا موقع ملا اس روز تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا کیونکہ یہ میرا برسوں پرانا خواب تھا جو اب شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ غرض روز بروز کی بڑھتی ہوئی شہرت نے مجھے اس قدر اندھا کر دیا تھا کہ میں انجامِ آخرت سے یکسر غافل ہوکر شب و روز گناہوں سے نامۂ اعمال سیاہ کر رہا تھا، مگر قربان جائیے دعوتِ اسلامی کے مشکبا ر مدنی ماحول پر کہ جس نے مجھ گنہگا ر و بدکار کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی
سے بچا کر نیکی کی راہ پر گامزن کردیا۔ میری اصلاح کا سبب کچھ اس طرح بنا کہ ایک دن مدنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوگئی، انہوں نے نہایت گرم جوشی سے ملاقات کے بعد بڑی اپنائیت سے میری خیریت دریافت کی، ان کے اس اندازِ دل رُبائی نے مجھے متأثر کردیا یہی وجہ تھی کہ جب انہوں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پر خلوص دعوت پیش کی تو میں انکار نہ کر سکا اور سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوگیا۔ وہاں متعدد اسلامی بھائیوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو سفید لباس میں ملبوس سروں پر سبز سبز عماموں کے تاج سجائے دیکھ کر میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی اور یہ سوچ کر اپنے آپ پر ندامت ہونے لگی کہ آخر یہ بھی تو میری طرح نوجوان ہیں مگر انہوں نے ’’جوانی دیوانی ہوتی ہے‘‘کے مصداق میری طرح اپنی جوانی کے قیمتی لمحات کو نادانی والے کاموں میں برباد کرنے کے بجائے رضائے الٰہی کے حصول کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ خیر میں بھی ان عاشقانِ رسول کے قُر ب کی بر کتیں لوٹنے لگا۔ یہاں مجھے وہ قلبی سکون ملا جو آج سے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔
اجتماع کے اختتام پر ایک مبلغ دعوتِ اسلامی نے مجھ پر انفرادی کوشش کی تو ان کے ترغیب دلانے پر میں راہِ خدا میں مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ قافلے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور یوں میری زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی آنے لگی مگر اس سب کے باوجود ابھی تک میرے دل و دماغ سے عالمی شہرت یافتہ گلوکار اور فنکا ر بننے کا خمار مکمل طور پر نہیں اترا تھا۔ ایک روز ایک مبلغ دعوتِ اسلامی نے مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت،بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیان کی کیسٹ بنام ’’مُردے کی بے بسی‘‘ تحفۃً دی جسے سن کر مجھ پر رقت طا ری ہو گئی۔ میرے جسم کا رُواں رُواں کانپ اُٹھا، گناہوں پر ندامت کی وجہ سے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ موت کے مراحل میری نظروں میں گھومنے لگے اور مجھ پر یہ بات آشکار ہو گئی کہ عنقریب اس دنیا ئے فانی کی تمام تر آسائشیں چھوڑ کر مجھے بھی مرنا ہے اور گھپ اندھیری قبر میں اترنا ہے، دولت و شہرت نہ تو قبر و آخرت میں میرے کچھ کام آئے گی اور نہ ہی عذابِ نار کا حقدار بننے سے مجھے بچا پائے گی۔ یقیناً زندگی بھر کے کرتوتوں کا حساب میری گردن پر ہوگا، اگر گلوکا ری اور فنکاری کی حالت میں مر گیا تو
میرا کیا بنے گا؟ میں نے اس بیان کو متعدد بار سنا مگر ہربا ر دل میں ایک مدنی انقلاب محسوس کیا بالآخر اس بیان کی برکت سے میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہو کر غوث پاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اس کے بعد بھی میں نے کئی مرتبہ یہ بیان سنالیکن جب جب سنتا میری آنکھوں سے آنسوجاری ہو جاتے۔ مجھ جیسا گناہگار جو کل تک نمازوں کی ادائیگی کے معاملے میں سستی کا شکا ر تھا، آج نہ صرف خود نمازی بن گیا تھا بلکہ دوسروں کو نمازیں پڑھانے والا بن گیا۔ مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفرمیرا معمول بن گیا۔ میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عمل کا کچھ ایسا جذبہ ملا کہ میں نے اپنا چہرہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّت (داڑھی شریف)سے مزیّن کرلیا۔ سر پر سبزعمامے شریف کا تاج سجا کر سفید مدنی لباس میں ملبوس رہنے لگا۔ میرے تمام گھر والے اور پڑوسی حیران تھے کہ آخر اسے کیا ہوگیا، اس کی زندگی میں اس قدر بڑی تبدلی کیسے رونما ہو گئی؟ مگر انہیں کیا خبر کہ یہ انقلابِ پُر اثر میرے پیر و مرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضانِ نظر کا کرشمہ تھا۔ تا دمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّحیدرآباد (ہند) میں شہر مشاورت کے رکن کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقی کے لیے کوشاں ہوں ۔([21])
آتش میں نہ جلوں گافردوس میں رہوں گا
جاؤں گا خلد کہہ کر عطار رہنما ہیں
(1) اس حدیث پاک میں اسلام کا ایک بہت بڑا قاعدہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جوکوئی بھی اچھا یا برا ایسا عمل
ایجاد کرے جس کی لوگ اتباع کریں ، اس پر عمل کریں تو ان کے عمل کی اچھی یا بری جزا میں وہ شخص بھی شریک ہوگا جس نے وہ کام سب سے پہلے کیا ہوگا۔
(2) قتل ناحق اور ظلماً قتل کی اسلام میں بہت مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر فرمایا گیا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کا اس سے بچنا لازم وضروری ہے۔
(3) سب سے پہلا قتل ناحق چونکہ قابیل نے کیا تھا اس لیے اب قیامت تک جو بھی ناحق قتل ہوتے رہیں گے ان سب کے گناہ میں قابیل کا بھی حصہ ہوگا۔
(4) جس طرح جائزکام میں مدد کرنا جائز اور شرعاً مطلوب ہے اسی طرح ناجائز کام میں مدد کرنا بھی ناجائز اور شرعاً مذموم یعنی قابل مذمت ہے۔
(5) بُراکام ایجاد کرنے والا اگر بعد میں اس بُرے کام سے سچی توبہ کرلے تو اب اس بُرے کام پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں وہ شریک نہ ہوگا کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔
(6) اس حدیث مبارکہ میں ہمارے لیے بے شمار عبرت کے مدنی پھول ہیں کہ ہمیں کسی بھی برے کام کو ایجاد کرنے یا رواج دینے سے بچنا چاہیے کہ اس میں دنیا وآخرت دونوں کا نقصان ہے، نیز برے طریقوں سے بچتے ہوئے انہیں ختم کرنااور اچھے طریقوں کو ایجاد کرنا اور مسلمانوں میں رائج کرنا ایک اچھا عمل ہے۔
یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی تمام برے طریقوں سے نجات عطا فرما ، اچھے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کا عامل بنا، ہمیں نیک پرہیزگار، ماں باپ کا فرمانبردار،نمازی ، سنتوں کا پابند اور سچا پکا عاشق رسول بنا، ہماری ہمارے ماں باپ اور ساری اُمَّت مسلمہ کی مغفرت فرما، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بَھلائی یا گُمراہی کی دَعْوَت کا بیان
بھلائی پر رَہنمائی کرنے اورہدایت یا گمراہی کی طرف بلانےکاباب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دینِ اسلام ایک ایسا کامل دین ہےجوتمام فطری اورطبعی تقاضوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، انسانی فطرت اپنی بنیادی تخلیق کےلحاظ سےاچھی خصلتوں اورعادات کو پسند کرتی ہےجبکہ اَعمالِ قبیحہ اور خصائل رَذِیلہ سےاُ کتاہٹ محسوس کرتی ہے۔خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےبھی انسان کو اچھائیوں کو اختیار کرنے اور برائیوں سے کنارہ کشی کرنےکاحکم دیاہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےنبیوں اوررسولوں کو دنیا میں مبعوث فرمایااوران پاک ہستیوں کو یہ ذمہ داری عطا فرمائی کہ وہ انسان کواپنےخالق حقیقی کی بندگی کادرس دیں ، اُنہیں نیکی کی دعوت دیں اور بُرائی سے منع کریں ، نیزعلم دین کی روشنی سے اُن کےدلوں کو مُنَوَّرفرمائیں ۔لیکن جہاں اَنبیاء و رُسُل بھلائی اورہدایت کی طرف رہنمائی کرنےکےلیےاِس عالَم میں مبعوث کیے گئے وہیں ابلیس بھی بارگاہِ ایزدی سےمردودونامرادہوکربندگانِ خداکوگمراہی کی طرف دھکیلنے آ پہنچا۔ معلوم ہوا کہ نیکیوں اوربھلائیوں کی جانب رہنمائی کرنا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکا طریقہ اور گناہوں و برائیوں کی طرف بلانا شیطان کا طریقہ ہے۔نیز اچھےاَعمال کی طرف رہنمائی کرنے والے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے طریقے پر اور بُرے اَفعال کی دعوت دینے والےشیطان کے طریقے پر ہیں ۔ جس طرح نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنے والے ثواب جاریہ کےمستحق ہیں اِسی طرح برائیوں پر دلالت کرنے والے گناہ عظیم کے مستحق ہیں ۔
رِیاض الصالحین کا یہ باب بھی ’’بھلائی پر رَہنمائی کرنے، ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے‘‘ کے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی نےاس باب میں 4آیاتِ کریمہ اور 4احادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ،اس باب میں ان آیات کی تفسیراوراَحادیث کی تشریح کے ساتھ ساتھ اچھائی کی جانب دلالت اوربھلائی کی طرف رہنمائی کرنےکی اہمیت،اس کی فضیلت،اس کی اقسام، برائی کی طرف رہنمائی کی مذمت اوراُس کےنقصانات بھی بیان کیے جائیں گے۔پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ ( پ ۲۰، القصص : ۸۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور اپنے ربّ کی طرف بلاؤ۔
حضر ت سَیِّدُنَا اسماعیل حقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ:’’ لوگوں کو اپنے ربّ کی عبادت اور اس کی توحید کی طرف بلاؤ۔‘‘([22])امام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’اپنے ربّ کے دین کی طرف بلاؤ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کفار اور مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے میں شدت اختیار کرو۔‘‘([23])(یعنی انہیں بھرپوردعوت دو۔)
ارشادِ باری تعالٰی ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ( پ ۱۴،النحل :۱۲۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اپنے ربّ کی راہ کی طرف بلاؤپکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔
حضرت سَیِّدُنَا ابو لیلیٰ اَشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ اپنے ائمہ کی اطاعت کو لازم پکڑ لو اور ان کی مخالفت نہ کرو، بے شک ان کی اطاعت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی ہے۔بے شک مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو اس کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعےبلاؤں ،پس جس نےبھی اس معاملے میں میری مخالفت کی تو وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہےاور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے ذمے سے بری ہوگیااورجس شخص کوتمہارے کسی معاملے میں حاکم بنایا گیا اوراس نےاس کےبرعکس کام کیا (یعنی ناحق فیصلہ کیا) تواس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ،فرشتوں اور تمام لوگوں
کی لعنت ہے۔‘‘([24])
حافظ عمادالدین ابن کثیر دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں :’’اس آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے رسول حضرت محمدمصطفےٰ، احمد مجتبےٰ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو حکم فرمایا ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق کوحکمت کے ساتھ اس کی طرف بلائیں ۔‘‘امام ابن جریر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’حکمت سےمراد وہ ہےجو اللہ عَزَّ وَجَلَّنےاپنےحبیبصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم پرکتاب وسنت سے نازل فرمایاہے اور اچھی نصیحت سے مرادایساوعظ ہے جس میں ڈر(یعنی خوف)اورگزشتہ اُمَّتُوں کے واقعات ہوں ،اِن لوگوں کواِس کےذریعے نصیحت کروتاکہ وہ اللہ کی نافرمانی کرنےسےبچیں ۔‘‘([25])
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتفسیرخزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :’’ یعنی خلق کو دین ِاسلام کی دعوت دو۔پکی تدبیر سے وہ دلیل محکم مراد ہے جو حق کو واضح اور شبہات کوزائل کردے اور اچھی نصیحت سےترغیبات و ترہیبات مراد ہیں ۔‘‘([26])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- ( پ ۶،المائدۃ :۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پرایک دوسرے کی مدد کرو۔
اِمَام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیتفسیردرمنثور میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :’’ بِرْ یعنی بھلائی سے مراد( اُن کاموں کا کرنا ہے )جن کا حکم دیا گیا ہے اور تقویٰ یعنی پرہیزگاری سے مراد(اُن کاموں سے رُکنا ہے)جن سے منع کیا گیا ہے۔حضرت سَیِّدُنَا امام احمد، عبد بن حمید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی
عَلَیْہِمَا نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں اور سَیِّدُنَا امام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی تاریخ میں حضرت سَیِّدُنَا وابصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک روایت نقل کرتے ہیں ، فرمایا: میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور میں نے یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ نیکی اور گناہ میں سے ہر ایک کے بارے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کروں گا۔جیسے ہی میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے دلی ارادے کے بارے میں خبر دیتے ہوئے مجھ سےفرمایا:’’يَا وَابِصَةُ أُخْبِرُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ أَمْ تَسْأَلُ؟یعنی اےوابصہ!کیا میں تمہیں بتادوں کہ تم مجھ سے کیا سوال کرنے آئے ہویا تم خود ہی سوال کرو گے؟‘‘ میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ ہی ارشاد فرمادیجئے۔‘‘ فرمایا: ’’تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کر نے آئے ہو۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی تین انگلیوں کوجمع فرمایا اور انہیں میرے سینے میں مارتےہوئے فرمایا:’’اے وابصہ! اپنے دل سے فتویٰ طلب کر، اپنے نفس سے فتویٰ طلب کر،نیکی وہ ہے جس سے دل اور نفس مطمئن ہوجائے، گناہ وہ ہے جوتیرے دل میں کھٹکےاورتیرے سینے میں شک پیداکرے،اگرچہ لوگ تجھے فتویٰ دیں اور توفتویٰ دیاجائے۔‘‘([27])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ ( پ۴،ال عمران :۱۰۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں ۔
حافظ عمادالدین ابن کثیر دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں :’’اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں ۔ ‘‘حضرت سَیِّدُنَاامام محمد باقِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ
تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی اور اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:’’خیر سے مراد قرآن کریم اور میری سنت کی اتباع کرنا ہے۔‘‘اوراس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اِس اُمَّت میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو اِسی کام میں مشغول رہے ، اگرچہ اُمَّت میں سے ہرشخص پر واجب ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق بھلائی کا حکم دے اور بُرائی سے منع کرے۔‘‘جیسا کہ حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ تم میں سے جو بُرائی دیکھےاُسےچاہیےکہ اپنے ہاتھ سے روکے،اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو توا پنے دل میں اُسے بُراخیال کرےاور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘([28])
تفسیر خزائن العرفان میں ہے:’’اس آیت سے اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَ نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے) کی فرضیت اور اِجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’ نیکیوں کا حکم کرنا اور بدیوں ( بُرائیوں )سے روکنا بہترین جہاد ہے۔‘‘([29])
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نعیمی میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :’’اے مسلمانو !تم سب کو ایسا گروہ ہونا چاہیے یا ایسی تنظیم بن کر رہو جو تمام ٹیڑھے (بگڑے ہوئے) لوگوں کو خیر (بھلائی) کی دعوت دیں ،کافروں کو ایمان کی ،فاسقوں کو تقوے کی ،غافلوں کو(غفلت سے ) بیداری کی ،جاہلوں کو علم و معرفت کی ،خشک مزاجوں کو لذّتِ عشق کی ،سونے والوں کو بیداری کی اور اچھی باتوں ،اچھے عقیدوں ،اچھے عملوں کا زبانی،قلمی،عملی،قوت سے،نرمی سے، گرمی سے حکم دے اوربُری باتوں ،بُرے عقیدے،بُرے کاموں ،بُرے خیالات سے لوگوں کو (اپنے اپنے منصب کے مطابق) زبان، دل،عمل،قلم ،تلوارسے روکے،سارے مسلمان مبلغ ہیں ،سب پر ہی فرض ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا
حکم دیں اور بُری باتوں سے روکیں ۔‘‘([30])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:173
بھلائی کی طرف رہنمائی کرنےکی فضیلت
عَنْ اَبی مَسۡعُوۡدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو اَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ،مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہِ.([31])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابومَسْعُود عُقْبَہ بن عَمر واَنصاری بدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:’’جس نےکسی نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کےلیےنیکی کرنے والے کی مثل اجر ہے۔‘‘
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’دلیل الفالِحین شرحِ ریاض الصالحین‘‘ میں مسلم شریف کے حوالے سےمذکورہ حدیث پاک کا پس منظر حضرت سَیِّدُنَا ابومَسْعُود عُقْبَہ بن عَمرو اَنصاریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضورِ اَکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اورعرض کی: ’’میری سواری تھک گئی ہے،میرے لیے کسی متبادل سواری کا انتظام فرما دیجئے۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے فرمایا:’’میرے پاس تو فی الحال کوئی سواری نہیں ہے۔‘‘ایک صحابی نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!میں اسے اس شخص کے بارےمیں بتا سکتا ہوں جو اسے متبادل سواری دے سکتا ہے۔‘‘توآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس نےکسی نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کےلیےنیکی کرنے والے کی مثل اجر ہے۔‘‘([32])
نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کا ثواب اور خود اس نیکی کو کرنے والے کے ثواب کے برابر ہونے یا نہ ہونے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے مختلف اقوال ہیں : (1) پہلا قول یہ ہے کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا کہ اس نیکی کرنے والے کو ملے گا لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ دونوں کو مقدار کے اعتبار سے برابر ثواب ملے۔(2) دوسرا قول یہ ہے کہ ثواب کے ملنے میں دونوں برابر ہیں کہ جس طرح نیکی کرنے والے کو اس عمل کا ثواب ملا اسی طرح نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی ثواب ملالیکن نیکی کرنے والے کے ثواب میں جوزیادتی ہے ، نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس میں شامل نہیں ہے۔(3) تیسرا قول علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا ہے، فرماتے ہیں کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کا ثواب خود نیکی کرنے والے کے ثواب کے ہرطرح سے برابر ہوسکتا ہے کیونکہ نیک اعمال پر ثواب اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل وکرم سے عطا فرماتا ہے ، اب اس کی مرضی کہ وہ جسے چاہے جتنا چاہے عطا فرمادے خصوصاً جبکہ نیت بھی بالکل درست ہو کہ اس صورت میں تو اگر بندہ وہ نیکی کسی وجہ سے نہ بھی کرسکا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا بھی ثواب عطا فرمائے گا۔لہٰذا خود نیکی کرنے والے اور اس نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے یا دیگر لوگوں کے ثواب میں برابری ہونا کوئی بعید نہیں ہے۔پھر اس بات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا جائے خصوصاً ان احادیث میں جن میں اسی طرح کا مضمون ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: ’’جس نےروزہ دار کوافطارکرایاتو اس کےلیےبھی روزہ دار کی مثل اجرہے۔‘‘([33])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں اس حدیث پاک کےتحت فرماتے ہیں :’’اس حدیث پاک میں بھلائی پر رہنمائی کرنے،اس پرمطلع کرنے اوربھلائی کرنے والےکے ساتھ معاونت کرنے کی فضیلت کو بیان کیاگیاہےنیزا س میں علم سکھانےاورعبادات کے وظائف سکھانے
کی فضیلت کا بیان ہے، خصوصاً عابدین میں سے ان لوگوں کو جو اُن وظائف پر عمل کریں ۔‘‘([34])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :’’حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:مَنْ دَلَّجس نے نیکی کی طرف رہنمائی کی۔یعنی قول سے،فعل سے، اشارے سےیالکھ کر رہنمائی کی۔ عَلَی خَیْرٍ یعنی نیکی وبھلائی والے کام پر۔ یعنی علم یاایسے عمل کی طرف رہنمائی کی جس میں اجروثواب ہےتو اس رہنمائی کرنے والے کے لیےبھی اس نیکی کرنے والے کی مثل اجر ہوگا۔ یعنی بھلائی کرنے والے کے اجر میں سے کوئی کمی کیے بغیر رہنمائی کرنے والے کو ثواب ملے گا۔‘‘([35])
(1)۔۔۔ قول سے رہنمائی کرنے کی مثالیں :اس کی ایک مثال تومذکورہ حدیث پاک میں ہی بیان کی گئی ہے کہ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اپنے قول کے ذریعے رہنمائی کی کہ انہوں نے کسی ایسے شخص کا پتہ بتادیا جو اُن کے لیے سواری وغیرہ کا بندوبست کرسکے۔ اسی طرح کسی شخص نے دوسرے سے مسجد، مدرسے، جامعہ یا کسی بھی نیک مقام کا پتا پوچھا اور اس نے اسے پتا سمجھادیا تو یہ بھی قول کے ذریعے ہی نیکی کی طرف رہنمائی ہے۔اسی طرح کسی شخص کو ایک نیک عمل ، کسی ورد یا وظیفے کے بارے میں علم ہے، اب اس نے اپنے دوسرے بھائی کو بھی وہ وظیفہ بتادیا کہ اس کا اتنا ثواب ہے، غریب کی مدد کرنے کا اتنا ثواب ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو دُور کرنے کا اتنا ثواب ہے، کسی مسلمان کی خیر خواہی کرنے کا اتنا ثواب ہے وغیرہ وغیرہ تو یہ تمام صورتیں بھی قول کے ذریعے نیکی کی طرف رہنمائی کرنے ہی کی مثالیں ہیں ۔
(2)۔۔۔ فعل سے رہنمائی کرنے کی مثالیں :ایک شخص کو وضو کرنا نہیں آتا تھا، یانماز پڑھنی نہیں
آتی تھی، یاقرآن پڑھنا نہیں آتا تھا، یا بیان کرنا نہیں آتا تھا، نیکی کی دعوت دینا نہیں آتا تھا، انفرادی کوشش کرنا نہیں آتا تھا، وغیرہ وغیرہ اب دوسرے شخص نے اپنےعمل کے ذریعے اسے یہ تمام باتیں سکھادیں تو یہ تمام صورتیں فعل کے ذریعے نیکی کی طرف رہنمائی کرنے ہی کی مثالیں ہیں ۔
(3)۔۔۔ اشارے سے رہنمائی کرنے کی مثالیں :راستے میں چلتے ہوئےکسی شخص نے پوچھ لیا کہ مسجد، مدرسہ، اجتماع ذکرونعت وغیرہ اسی طرف ہے ؟ تو اشارے سے اسے بتادینا کہ جی ہاں ، اسی طرف ہے، یا کسی اور جگہ کا پتا پوچھا تو اسے اشارے سے بتادیا، یا کسی نے پوچھا کہ فلاں نماز کا وقت ہوگیا ہے تو اسے اشارے سے بتادیا، یا کسی نے پوچھا کہ ہفتہ وار اجتماع شام کو کب شروع ہوجاتا ہے تو اسے اشارے سے بتادیا کہ فلاں وقت شروع ہوجاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ تو یہ تمام صورتیں بھی اشارے سے نیکی کی طرف رہنمائی کرنے کی مثالیں ہیں ۔
(4)۔۔۔ لکھ کر رہنمائی کرنے کی مثالیں :ایک شخص کو کسی اچھی جگہ جانا تھا، مگر اسے اس جگہ کا مکمل ایڈریس معلوم نہیں تھا، دوسرے شخص نے کسی کاغذ وغیرہ پر لکھ کر اسے پورا ایڈریس سمجھادیا، یا کسی شخص نے دوسرے شخص کو مختلف قسم کے نیکیوں والے اَعمال لکھ کر دے دیے کہ تم اِن تمام اعمال پر عمل کرو گے تو اتنا اتنا ثواب ملے گا، یا کسی شخص کو کوئی شرعی مسئلہ معلوم نہیں تھا دوسرے شخص نے وہ شرعی مسئلہ اسے کاغذ پر لکھ کر دے دیا، یا کسی شخص نے اپنے دوسرے بھائی کو عقائد، احادیث مبارکہ، شرعی مسائل، حکایات وروایات پرمشتمل کتابوں کی فہرست بنادی کہ وہ ان کتب کو خرید کر ان سے استفادہ کرے تو یہ تمام صورتیں بھی لکھ کر نیکی کی طرف رہنمائی کرنے ہی کی مثالیں ہیں ۔
(1) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی نیکی کرنے والے کی مثل اجر ملتا ہے۔
(2) نیکی کی طرف رہنمائی کرنےو الے اور نیکی کرنے والے دونوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل وکرم سے اجر وثواب عطا فرماتا ہے لہذا رہنمائی کرتے ہوئے یا نیکی کرتے ہوئے اس کے فضل پر ہی نظر کرنی چاہیے۔
(3) اگر کوئی شخص کسی نیک کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ اس نیک کام پر کسی کی رہنمائی کردے کہ ا س طرح اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اس نیکی کرنے والے کی طرح اجر ملے گا۔
(4) کسی بھی نیک کام کی طرف رہنمائی کرنے کے مختلف طریقے ہیں ، قول سے،فعل سے،لکھ کر، اشارے سے جس طرح بھی رہنمائی کی جائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر اجروثواب عطا فرماتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، نیکیوں کی ترغیب دینے، نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنے ، بُرائیوں سے بچنے، دوسروں کو بھی بُرائیوں سے بچانے کی توفیق عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:174
بُرائی کی طرف رَہْنُمَائی کرنےکی مَذَمَّت
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ دَعَا اِلَی ہُدًی، کَانَ لَہُ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوۡرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوۡرِہِمْ شَیْئًا،وَمَنْ دَعَا اِلَی ضَلَالَۃٍکَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْئًا.([36])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور اُن کے اجروں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔‘‘
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث پاک کےتحت فرماتے ہیں کہ ہدایت یعنی رہنمائی کی دوقسمیں ہیں :(1)وہ ہدایت جو منزلِ مقصود تک پہنچا دے۔(2) مطلق ہدایت چاہیے وہ مقصود تک پہنچائے یانہیں اور حدیث پاک میں اِسی مطلق ہدایت کا ذکر ہےکہ جس میں فقط اَعمالِ صالحہ کی طرف رہنمائی کی جائے۔حدیث میں ” ھُدًی“(ہدایت) کا لفظ نکرہ آیا ہے اور عربی زبان میں نکرہ لفظ قلیل وکثیر،عظیم وحقیر سب کو شامل ہوتاہے۔ہدایت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف بلایاجائےاور نیک اعمال پر رہنمائی دی جائےاور ہدایت کاادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی ہدایت دی جائے۔([37])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں دراصل دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہے، پہلے وہ لوگ جو نیکی و بھلائی والے کاموں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جبکہ دوسرے وہ لوگ جو گناہ وبرائی والے کاموں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔پہلی قسم کے لوگ نہ صرف اپنے اس نیک کام کا اجروثواب پاتے ہیں بلکہ اُن کی رہنمائی پر جتنے لوگ نیکیوں والے کام کرتے رہیں گے اُن تمام لوگوں کے اجر کے برابر انہیں بھی اجر ملتا رہے گا، جبکہ دوسری قسم کے لوگوں کو نہ صرف اپنےاس بُرے کام کا گناہ ملے گا بلکہ ان کے گمراہ کرنے سے جتنے لوگ اس گمراہی پر چلتے رہیں گے ان تمام کا بھی گناہ ان کو ملتا رہے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
تو کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ:جو دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنتے ہیں ، دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں ، نیکی کی دعوت دیتے ہیں ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی طرف، صدقات وخیرات کی طرف، ذکر اللہ کی طرف بلاتے ہیں ، تلاوت قرآن کی ترغیب دیتے ہیں ، لوگوں کو ذکر ودُرُودِپاک پڑھنے کی ترغیب
دِلاکر ان کی زبانوں کو ذکر ودُرُود سے تر کردیتے ہیں ، خدمت خلق پر لگادیتے ہیں ، لوگوں کو اپنے ہمسایوں کے حقوق پورا کرنے پر لگادیتے ہیں ، ماں باپ کی خدمت کی دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں ، اپنے بیوی بچوں کے حقوق پورا کرنے کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں ، حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی کے متعلق بتاتے ہیں ، تو یہ اس لیے بھی خوش قسمت ہیں کہ ان کو اپنے اس عمل کا توثواب ملے گاہی لیکن ان کی اس دعوت کی وجہ سے جوجولوگ عمل کرتے رہیں گے ان تمام کے اجرکے برابر بھی ان کو اجر ملتا رہے گا۔
اور کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ:جو دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بنتے ہیں ، جن کی وجہ سے معاشرے میں بدعقیدگی و بے حیائی پھیلی، بُرائی پھیلی، بدنیتی پھیلی، خیانت وبددیانتی پھیلی، دھوکہ اور فراڈ پھیلا، لوگ فلموں اور ڈراموں کی طرف مائل ہوئے، گانے باجوں پر لگ گئے یا دیگر گناہوں میں لگ گئے تو یہ اس لیے بھی بدقسمت ہیں کہ اِن کو اپنے اِس بُرے عمل کا تو گناہ ملے گا ہی لیکن اِن کے سکھانے یا بُرے کاموں کی طرف رہنمائی کرنے کے سبب جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوتے رہیں گے اُن تمام لوگوں کا گناہ اِن لوگوں کو بھی ملتا رہے گا اور اُن عمل کرنے والوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظام اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامان تمام مقدس ہستیوں کے نامۂ اعمال میں ثواب دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکی ہدایت ورہنمائی سے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عمل کیا، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ہدایت ورہنمائی سے تابعین، ان کی ہدایت ورہنمائی سے تبع تابعین اور ان کی رہنمائی سےاولیائے عظام وعلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے عمل کیا اور ان حضرات کی ہدایت ورہنمائی سے قیامت تک لوگ برابر عمل کرتے رہیں گے اور اُن تمام لوگوں کے اعمال کا ثواب اِن تمام مقدس ہستیوں کو بھی ملتا رہے گا۔چنانچہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِیْ قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مِرْقَاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سےمعلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کا ثواب اپنی اُمَّت کےاعمال کی زیادتی کےاعتبارسےبہت زیادہ ہےجس کاکوئی شماراورحدنہیں ،اسی طرح سابقین واوّلین
مہاجرین وانصارصحابۂ کرام کےثواب کاکوئی اندازہ نہیں ،اسی طرح دیگرسلف وصالحین اور علماء ومجتہدین کی اپنے بعد میں آنے والوں اوران کی اتباع کرنے والوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بے شمار نیکیاں ہیں ، اسی حدیث پاک سے ہمیں متقدمین کی متاخرین پرہرطبقے میں فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ ([38])
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کےتحت لکھتےہیں کہ یہ حکم نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور اُن کے صدقہ سے تمام صحابہ،ائمہ مجتہدین،علماء متقدمین و متاخرین سب کو شامل ہے۔ مثلًا اگرکسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نمازی بنیں تو اس مبلغ کو ہر وقت ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہوگا۔اور ان نمازیوں کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب۔اس سےمعلوم ہوا کہ حضور کا ثواب مخلوق کے اندازے سے وراءہے، ربّ فرماتا ہے:( وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ(۳) )( پ۲۹، القلم :۳) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے۔)ایسےہی وہ مصنفین جن کی کتابوں سےلوگ ہدایت پارہےہیں قیامت تک لاکھوں کاثواب انہیں پہنچتارہےگا۔‘‘([39])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور سے اخذ کردہ اس نفیس نکتے سے علم وحکمت کے درج ذیل کئی مدنی پھول حاصل ہوئے:
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے وطفیل ہم سب کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اَحکام نازل فرمائے اور آپ نے اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو وہ اَحکام تعلیم فرمائے، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے تابعین کو، تابعین نے تبع تابعین اور اِس طرح پوری اُمَّت مُسْلِمَہ تک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فیضان عام پہنچا، نیز قیامت تک جو جو لوگ دین اِسلام واَحکامِ شَرْعِیَّہ پر عمل کرتے رہیں گے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ثواب اور درجات میں بے حد وبے شمار اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمکی حیات ظاہری کم وبیش تریسٹھ 63سال ہے،لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کسی بھی اُمَّتی کی عمر اگر ہزاروں سال بھی ہوجائے اور وہ عمر بھر نیکیاں ہی نیکیاں کرتا رہے تب بھی ثواب میں کسی بھی صورت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برابر ہرگز ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ لہٰذا بعض گمراہ لوگوں کا یہ عقیدہ رکھنا کہ ’’بسااوقات اُمَّتی اَعمال وثواب میں نبی سے بڑھ جاتے ہیں ۔‘‘ سراسر باطل ومردود اور قرآن وسنت کے بالکل خلاف ہے۔
(2) اسی طرح کوئی شخص ہزاروں سال تک عبادت وریاضت کرتا رہے لیکن صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ثواب تک ہرگزنہیں پہنچ سکتا کہ وہ بھی بالواسطہ اِن ہی مقدس ہستیوں کے سبب نیک اعمال میں مصروف ہے اور اُس کا دن بدن نیک اعمال کرناجیسے اُس کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کے اضافے کا سبب ہے ویسے ہی اُن تمام کے نامۂ اَعمال میں بھی نیکیوں کا باعث ہے جن کی ہدایت ورہنمائی سے اُسے عبادت وریاضت کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی۔
(3) حضرت سَیِّدُنَا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، حضرت سَیِّدُنَا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق اور حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاِن چاروں ائمہ نے اُمّتِ مُسْلِمَہ کے لیے قرآن وحدیث سے بالتفصیل اَحکامِ شَرْعِیَّہ اَخذ کیے، لہذا اِنہیں تو اِن کے اِس نیک عمل کا ثواب ملے گا ہی لیکن قیامت تک جوجو لوگ اُن کے اَخذ کردہ مسائل پرعمل کرتے رہیں گے اُن تمام کاثواب انہیں بھی ملتا رہے گا۔ اِن چاروں ہستیوں بالخصوص امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجو تابعی بھی ہیں ، اِن کے خلاف زبان طعن دراز کرنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تو انہیں وہ مقام ومرتبہ عطا فرمایا کہ قیامت تک ان کے نامۂ اَعمال میں نیکیوں اور ثواب کا خزانہ جمع ہوتا رہے اور اِن پر طعن کرنے والے اپنے نامۂ اعمال میں گناہوں کے اَنبار لگارہے ہیں ، کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی سیرتِ طَیِّبَہ کو بطریق اَحسن بیان کرتے ہیں ، اُس پر عمل کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ثواب میں اضافہ کرتے ہیں اور کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو
مَعَاذَ اللہ اِن مقدس ہستیوں کے خلاف زبانِ طعن دراز کرکے رحمت الٰہی سے دُوری جیسی نحوست میں مبتلا ہوتےہیں اور اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بے ادبی، بے ادبوں کی صحبت سے محفوظ فرمائے، نیک اور باادب لوگوں کی اچھی صحبت عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کسی بُرے وگناہ والے عمل کی طرف رہنمائی کرنے والا شخص اگر اپنے اس عمل سے توبہ کرلے تو اب اُسے اُس عمل کا گناہ نہیں ملے گا کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ، اِسی طرح نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر بُرائی میں مبتلا ہوجائے تو اُس کے ثواب کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’کسی گناہ کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر خود اس گناہ سے توبہ کرلے ، اگرچہ دیگر لوگ اس پر عمل کرتے رہیں تو کیا اس کی توبہ سے بُرائی کی طرف رہنمائی کرنے کا گناہ معاف ہوجائےگا؟ کیونکہ توبہ پچھلے گناہوں کو مٹادیتی ہے، یا معاف نہیں ہوگا؟ کیونکہ توبہ کی شرط یہ ہے کہ مظلوم کی لی ہوئی چیز اسے لوٹائی جائے اور گناہ کو چھوڑ دیا جائے جبکہ یہاں جس گناہ کی طرف رہنمائی کی گئی تھی وہ تو باقی ہے اور ا س کی نسبت اس شخص کی طرف ہی ہے، گویا اس شخص نے مظلوم کا حق نہیں لوٹایا، نہ ہی گناہ سے رُجوع کیا۔ اس کے جواب میں علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے کہ اس کا گناہ معاف ہوجائے گا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ اس کی توبہ صحیح نہیں ، حالانکہ ایسا قول کسی نے نہیں کیا ۔جہاں تک مظلوم کا حق لوٹانے کی بات ہے تو اگر ممکن ہے تو لوٹا دے اور حتی المقدور جتنا ممکن ہو گناہ ترک کر دے۔پس جب اس نےتوبہ کرلی اور گناہ سے نادم ہوگیاتوگناہ کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا جیسا کہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرنےوالااگربرائی میں مبتلا ہوجائےتوپھراس کےلیےبھلائی کی طرف رہنمائی کا ثواب منقطع ہوجاتاہے۔اسی طرح کثیرکفار اسلام سے قبل گمراہی کی طرف بلاتے تھےلیکن اسلام لانے کے
بعد اُن کےگناہ معاف ہوگئےتوتوبہ کا معاملہ بھی اسی طرح ہےبلکہ اس سےبھی زیادہ قوی ہے۔ کیونکہ حدیث پاک میں ہےکہ گناہ سےتوبہ کرنےوالا ایساہے جیسےاس نےگناہ کیاہی نہیں ۔‘‘([40])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص پہلے پہل کوئی بُرا طریقہ ایجاد کرے گا تو قیامت تک جتنے لوگ اس طریقے پر عمل کریں گے ، ان سب کا گناہ اس شخص کے اَعمال نامے میں لکھا جائے گا۔ اسی وجہ سے بعض بزرگ فرماتے ہیں : ’’ ایک کھوٹا روپیہ دھوکے سے چلادینا سو کَھرے روپوں کی چوری سے کہیں بدتر ہے۔‘‘ کیونکہ سو روپے کی چوری ایک ہی گناہ ہے جو کہ چرانے والے کی اپنی ذات تک محدود رہتا ہے کہ فقط اسے اپنی ہی چوری کا گناہ ملے گا لیکن ایک کھوٹے روپے کا چلا دینا ایک ایسامستقل گناہ ہے جو اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک یہ کھوٹا روپیہ لوگوں کے ہا تھوں میں آتا جاتا رہے گا۔ لہٰذا اس برے عمل یعنی کھوٹے سکے کو رواج دینے والے کی زندگی میں اُس کے مرنے کے بعد لوگوں کا جو کچھ نقصان اس کھوٹے روپیہ کی وجہ سے ہوا وہ سب گناہ اِس شخص کے اَعمال نامے میں لکھے جاتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ کھوٹا روپیہ فنا ہو جائے۔’’اچھے ہیں وہ لوگ جن کے مرنے پر ان کے گناہ بھی مرجاتے ہیں اور افسوس ہے اس شخص پر جو کہ خود تو مر جائے لیکن اس کے گناہوں کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہے۔‘‘([41])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر گناہ کا معاملہ فقط گناہ کرنے والے اور ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہوتو ایسا گناہ ندامت، اس گناہ سے توبہ اور آئندہ نہ کرنے کے عہد سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف فرمادے گا، لیکن اگر کسی شخص نے ایسا گناہوں بھرا طریقہ ایجاد کیا کہ جس پر لوگ چل پڑے اور گناہوں میں مبتلا ہوئے توایسے گناہ سے ندامت، اس گناہ سے توبہ اور آئندہ نہ کرنے کے عہد کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ بندہ جن جن
لوگوں کو اس گناہ سے روک سکتا ہے اُن کو بھی روکے، یا اپنے اس ایجاد کردہ گناہوں بھرے طریقے کو ختم کرنے کی حتی المقدور کوشش کرےتو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس گناہ سے مکمل معافی مل جائے گی، بصورت دیگر لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کرنے کے سبب ہوسکتا ہے کہ اس کی توبہ کو ربّ عَزَّ وَجَلَّ قبول نہ فرمائے۔ چنانچہ،
حضرتِ سیِّدُنا خالدرَبَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسے منقول ہے ، بنی اسرائیل کے ایک شخص نے شریعت کا علم حاصل کیا اور پھر اس دینی علم کی وجہ سے دُنیوی دولت اور شہرت طلب کرتا رہا ،اس کی ساری زندگی اسی کام میں گزر گئی۔ جب بُڑھاپاآیا،موت کے سائے گہرے ہوئے اور سفرِدنیا ختم ہونے لگا تو اسے اپنی غَلَطی کا خُوب اِحساس ہوا۔ اس نے اپنے آپ کو مخاطَب کرکے کہا:’’تو نے دین میں جو بِگاڑ پیدا کیا ہے لو گ تو اس سے ناواقف ہیں لیکن تیرا کیا خیال ہےکیا اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی تیرے اس بِگا ڑ سے بے خبر ہے؟وہ وَحْدَہُ لَاشَریک ذات تو ہرہر شے سے واقف ہے، اب تیری موت قریب آگئی ہے، تیرے لیے بہتر ہے کہ جلدازجلد اپنی بد اَعمالیوں سے توبہ کر لے۔‘‘چنانچہ اس اسرائیلی عالِم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کی اور اپنی ہَنْسلی گلےکی ہڈی میں زنجیر ڈال کراپنے آپ کومسجد کے ستون سے باندھ دیا اور کہا : ’’میں اس وقت تک اپنے آپ کوآزاد نہیں کروں گا جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہوجائے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے میری توبہ قبول فرمالی ہےاور اگر میری توبہ قبول نہ ہوئی تو اسی حالت میں اپنی جان دے دوں گا۔ جب اس نے اس طرح اِلتَجا کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس وقت کے نبی عَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ:’’اس اسرائیلی عالِم سے کہہ دو کہ اگر تیرا گناہ ایسا ہوتا جو صرف میرے اور تیرے درمیان تک مَحدُود ہوتا تومیں تیری توبہ قبول کرلیتا لیکن جن لوگوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیاحال ہوگا ؟تو نے انہیں گمراہ کرکے جہنم میں داخل کروادیا اب میں تیری توبہ ہرگز قبول نہیں کروں گا۔‘‘([42])
مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :’’یہ
حدیث اس آیت کےخلاف نہیں :(لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) )(پ۲۷، النجم: ۳۹)ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔‘‘کیونکہ یہ ثوابوں کی زیادتی اس کے عملِ تبلیغ کا نتیجہ ہے۔’’جس نے گمراہی کی طرف بلایا۔‘‘کے تحت فرماتے ہیں کہ:’’اس میں گمراہیوں کے مُوجِدین مُبَلِّغین سب شامل ہیں تا قیامت ان کو ہر وقت لاکھوں گناہ پہنچتے رہیں گے۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں : (عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ- )(پ۳، البقرۃ: ۲۸۶) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی۔‘‘ کیونکہ یہ اس کےاپنےفعل یعنی تبلیغ شر کی سزا ہے۔([43])
(1) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اس کی رہنمائی سے نیکی کرتے رہیں گے، اسی طرح برائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا بھی گناہ ملے گا جو اس کی رہنمائی سے گناہ کرتے رہیں گے۔
(2) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو رہنمائی کرنے کا ثواب مل جائے گا اب جس کی رہنمائی کی وہ نیکی کرے یا نہ کرے۔
(3) بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی ہدایت ورہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں اور بہت بدقسمت ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی گمراہی وبربادی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی بھی اُمَّتی آپ کے اعمال وثواب کے برابر ہر گز نہیں ہوسکتا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامۂ اعمال میں قیامت تک بے حدوبے حساب ثواب داخل ہوتا رہے گا۔
(5) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے عظام، چاروں ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ثواب میں بھی قیامت تک اضافہ ہوتارہے گا کہ ان کی رہنمائی سے لوگ اَحْکَامِ شَرْعِیَّہ وغیرہ پر عمل کررہے ہیں اور تاقیامت کرتے رہیں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(6) کسی بُرے عمل کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر اس سے توبہ کرلے، اس بُرے عمل کو روکنےیا اس رہنمائی کے سبب بُرے اَعمال کرنے والوں کو حتی المقدور روکنے کی کوشش کرے تو اب اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس سابقہ بُرے طریقے پر رہنمائی کرنے کا گناہ نہیں ملے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(7) بندے کو چاہیے کہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتا رہے کہ کسی بھی گناہ کی سچی پکی توبہ کرنے سے اُس گناہ کے وبال سے نجات مل جاتی ہے۔
(8) کتنے اچھے ہیں وہ لوگ جن کے انتقال کے ساتھ ہی ان کے گناہ بھی مرجاتے ہیں اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو خود تو مرجاتے ہیں لیکن ان کے گناہوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں لوگوں کوبھلائی والے کاموں کی طرف بلانے،علم دین سکھانےاور گناہوں سے بچانے کی توفیق عطافرمائےاور ہمیں ایسے تمام اعمال کی طرف رہنمائی کرنے سے محفوظ فرمائے جو ہمارے لیے گناہ جاریہ کا سبب ہوں ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:175
کُفَّار کو دَعوتِ اِسلام کی ترغیب
عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ سَہۡلِ بۡنِ سَعْدٍالسَّاعِدِیِّ،رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ:لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ غَدًارَجُلًا یَفْتَحُ اللہُ عَلَی یَدَیْہِ،یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوۡلَہُ وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوۡلُہُ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوۡکُوۡنَ لَیْلَتَہُمْ اَ یُّہُمْ یُعْطَاہَا،فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُوۡلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کُلُّہُمْ یَرْجُوۡ ا اَنْ یُّعْطَاہَا،فَقَالَ اَ یْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ؟فَقِیۡلَ:یَا رَسُوۡلَ اللہِ ھُوَ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ،قَالَ فَاَرْسِلُوۡا اِلَیْہِ، فَاُ تِیَ بِہِ،فَبَصَقَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ،وَدَعَا لَہُ فَبَرَاَ،حَتَّی کَاَنْ لَّمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ، فَاَعْطَاہُ
الرَّایَۃَ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ اُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَکُوۡنُوۡا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ:انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ، حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ،ثُمَّ ادْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ،وَاَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللہِ تَعَالٰی فِیۡہِ، فَوَاللہِ لَاَنْ یَّہْدِیَ اللہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ .([44])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے غزوۂ خیبر کے دن ارشادفرمایا:’’کل میں یہ جھنڈا اُس شخص کودوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّخیبر فتح فرمائےگا۔ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو ل صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ساری را ت یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں صبح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کس کو جھنڈا عطا فرماتے ہیں ۔جب صبح ہوئی تو تمام لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوگئے، ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ کاش یہ جھنڈااُسے دیاجائے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاستفسارفرمایا: ’’علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟‘‘بتایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا: ’’انہیں بلاؤ۔‘‘
چنانچہ سَیِّدُنَا علی المرتضیٰرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کولایا گیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی آنکھوں میں اپنا لُعاب مبارک لگایا اور دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہوگئیں گویا کبھی دردتھاہی نہیں ۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو جھنڈا عنایت فرمایا۔سَیِّدُنَا مولاعلی شیرخدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیامیں کفارسے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری مثل( مسلمان ) نہ ہوجائیں ؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ نرمی سے جاؤ یہاں تک کہ تم اُن کے میدان میں اُتر جاؤ ،پھراُنہیں اسلام کی دعوت دواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کے بارے میں انہیں آگاہ کرو،خدا کی قسم! اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری وجہ سے کسی ایک کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارےلیے سُرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
حدیث پاک میں ہے:’’وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو ل صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس کے تحت فرماتے ہیں :’’یعنی وہ دو وَصفوں کا جامع ہے اور دو متلازم شرفوں کو پانے والا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے محبت فرماتا ہے اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی ہیں ۔بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت یہ ہےکہ وہ اسے اپنی رضاکے کاموں کی توفیق دےاور اس پر ثابت قدمی عطافرمائےاور بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ورسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت یہ ہے کہ وہ ان کے حکم پر عمل پیرا ہواور جن چیزوں سے انہوں نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرے۔‘‘([45])
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِی میں فرماتے ہیں کہ یہ سات( 7)ہجری کے ابتدا کا واقعہ ہے۔سَیِّدُنَا موسیٰ بن عُقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےبیان فرمایاکہ جب رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں تقریباً 20روزقیام فرمایا،پھر خیبر کی طرف خروج فرمایا جس کی فتح کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ سےوعدہ فرمایا تھا۔سَیِّدُنَاعَمروبن اکوع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو خیبر کےایک قلعے کی طرف بھیجا انہوں نے جنگ کی لیکن فتح نہ ہوئی اور وہ لوٹ آئے،پھر اگلے دن حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھیجاانہوں نے بھی جنگ کی لیکن فتح نہ ہوئی تو آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’کل میں یہ جھنڈا اس شخص کودوں گا جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم محبت کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت
کرتا ہے،اس کے ہاتھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّقَلعۂ خیبر فتح فرمائےگااور وہ خالی ہاتھ واپس نہ آئے گا۔‘‘
حضرت سَیِّدُنَا سَلْمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان فرماتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنَا علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوبلایااور اُس دن اُن کو آشوبِ چشم تھاتو نبی پاک صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اُن کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا پھر فرمایا:’’یہ جھنڈالواور خیبر کی طرف روانہ ہوجاؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے ہاتھوں پر فتح عطافرمائے گا۔‘‘حکم ملتے ہی سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتیزی سے روانہ ہوئے اور میں آپ کے پیچھے پیچھے تھاحتی کہ آپ نےقلعہ کے نیچے پتھروں میں جھنڈاگاڑدیا۔ایک یہودی نےقلعے کے اوپر سے دیکھاتو پوچھا:’’تم کون ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’میں علی بن ابی طالب ہوں ۔‘‘یہودی نےکہا:’’اس کتاب کی قسم جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمائی ہے! تم غالب آجاؤگے۔‘‘پھر سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماسی وقت واپس تشریف لائے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح فرمادیا۔([46])
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِکْمَالُ الْمُعْلِمْ میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت کی علامتوں میں سے دوعلامتوں کا بیان ہے:قولی وفعلی:(1)قولی تو یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات کی غیبی خبر دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ہاتھ پر خیبر فتح فرمائے گا اور پھر بفضل الٰہی ایسا ہی ہوا۔(2) فعلی یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی دُکھتی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا اور ان کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہوگئیں ۔([47])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’سُرخ اُونٹ عربوں کے نزدیک انتہائی قیمتی اور پسندیدہ مال شمار کیا جاتا تھا، عرب لوگ اس کونفیس (قیمتی) چیزکی مثال دینے کے لیے بطورِمُحاورہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں پرآخرت کے اُمورکودنیاکی چیزسے تشبیہ دینا فقط بات سمجھانے کےلیےہےورنہ حقیقۃً دونوں میں کوئی برابری نہیں کیونکہ باقی رہنے والی آخر ت کاایک ذرہ بھی دُنْیَاوَمَافِیْھَا سے بہترہے۔‘‘([48])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی اس حدیث پاک کےتحت لکھتےہیں کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غلام حضرت سَیِّدُنَا ابو رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جس دن حضور سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃُ الِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو جھنڈےکےساتھ بھیجا اس دن میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ہی تھا، جب ہم قلعے کے قریب پہنچےتو یہود خیبر کےقلعے سے نکل آئے، سخت جنگ ہوئی، ایک یہودی نے آپ کے ایک ہاتھ پر کوئی چیز ماری جس سے ڈھال گر گئی آپ نے قلعے کا دروازہ اٹھالیااور اُسے ڈھال کی طرح استعمال فرمایا ،خیبر فتح فرمانے کے بعد اُسے سات آدمیوں نے اُٹھانا چاہا میں اُن میں آٹھواں تھا مگر بہت کوشش کے باوجودوہ ہل نہ سکا۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے اس دروازے کو چالیس آدمیوں نے اٹھانا چاہا مگر نہ اٹھا سکے۔بعض روایات میں ہے کہ اس دروازے کو ستر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی نہ اٹھا سکے۔([49])
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’جب سے حضور
نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لُعاب دَہَن میری آنکھوں میں لگا تب سے میری آنکھیں کبھی نہ دُکھیں ۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن یعلیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسردیوں کے کپڑے گرمیوں میں اور گرمیوں کے کپڑے سردیوں میں پہنتے تھے۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا :’’جب حضورِ اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتح خیبر کے موقع پر میری آنکھوں میں اپنا مبارک لعابِ دَہَن لگایا تو ساتھ میں یہ دعا بھی دی: یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ علی سے ٹھنڈک اور گرمی دُور کردے۔بس اُس دن سے مجھے نہ سردی لگتی ہے نہ گرمی۔‘‘([50])
نزہۃ القاری میں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھوں میں تکلیف تھی اس لیے آپ غزوۂ خیبر میں اسلامی لشکر کے ساتھ تشریف نہیں لائے تھے بلکہ مدینہ طیبہ ہی رہ گئےتھے۔مگر بعد میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں ایسا اِضطراب پیدا ہواکہ آشوبِ چشم کے باوجود خیبر آگئے۔بعدازاں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو جھنڈا عطا فرمایا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھوں میں اپنا مبارک لعابِ دہن لگایا، آپ کو روانہ فرمایا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قلعۂ خیبر فتح فرمایا۔([51])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پارہ۲۱سورہ لقمان کی آخری آیت میں ارشاد ہوتاہے:
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بیشک اللہکے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا
اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠(۳۴) (پ۲۱، لقمان: ۳۴)
کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں کل کے کسب یعنی کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کرے گی؟ کا بھی ذکر ہے۔ حالانکہ مذکور بالا حدیث پاک میں صراحتاً حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بتادیا کہ کل قلعۂ خیبر کیسے فتح ہوگا؟ آیت مبارکہ اور حدیث پاک دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ آیت مبارکہ میں جو یہ فرمایا گیا کہ پانچوں علوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ہیں اس سے مراد ذاتی علم ہے کہ بذاتِ خود ان پانچ علوم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ہاں اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کو ان پانچوں علوم کی خبر دے دے تو اس کے بتائے سے ، اس کی عطا سےوہ بھی ان کو جانتا ہے۔ چنانچہ تفہیم البخاری میں ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتاہےکہ قرآنِ کریم میں سورۂ لقمان کی آخری آیت میں جو مذکورہےکہ پانچ اشیاء کا اللہ کے سواکسی کو علم نہیں ،وہ ذاتی علم پر محمول ہے کہ بذات خود ان کو اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا کیونکہ ان پانچ میں کل کے کسب کا بھی علم ہے کہ اس کو خداہی جانتاہےحالانکہ سیدعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سارے صحابہ کو ببانگ دہل فرمایا:میں کل ایک شخص کو جھنڈادوں گااوروہ خیبر فتح کرےگا۔چنانچہ ایساہی ہوا۔لیکن یہ خبر اللہ تَعَالٰی کے علم عطاکرنے سےتھی۔ تو آیت کا معنی یہ ہواکہ اللہ کے بتائے بغیران پانچوں کو کوئی نہیں جانتاہے۔اس معنیٰ کی طرف آیت کے آخری لفظ میں اشارہ ہے کہ: (اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠(۳۴)) (پ۲۱، لقمٰن:۳۴) ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے۔‘‘ملاجیون رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی نے تفسیر اتِ احمدیہ میں اس کا معنیٰ یہ بیان کیا کہ ’’ اللہ تَعَالٰیجاننے والااور خبر دینے والاہے۔یعنی اللہ ان پانچوں کو جانتا ہے اور اپنے خاص بندوں کو بھی خبر دارکرتاہے۔‘‘([52])
فیوض الباری میں ہے:’’اس حدیث سے واضح ہواکہ اسلام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ کفار اور مشرکین
کو قتل کردیاجائےبلکہ ان کی بھلائی اور آخرت میں کامیابی کےلیے ان کی ہدایت مقصود ہے۔ اسی لیےنبی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت ہوجائے وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔جمہورفقہائے اسلام کا مذہب یہ ہے کہ کفار سے جہاد کرنے سے پہلے انہیں دعوت اسلام دینا واجب ہے اور اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دی جاچکی ہے تو جنگ سے پہلے دوبارہ دعوتِ اسلام دینا مستحب ہے۔سَیِّدُنَا امام مالک کا صحیح مذہب اور امام شافعی کا قول جدیداور سَیِّدُنَا امام ابوحنیفہ،امام اوزاعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ملک العلماء علامہ کاشانی عَلَیْہِ الرَّحْمَہنے لکھا ہے کہ اگر کفار کو پہلے دعوتِ اسلام نہ پہنچی ہو تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ زبانی اُنہیں دعوتِ اسلام دیں ۔سورۂ نحل کی آیت 125میں اللہ تَعَالٰینے فرمایا ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ- ( پ ۱۴،النحل :۱۲۵)
ترجمہ : حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دیجئے اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو کہ جو سب سے بہتر ہو۔
اگر اُن کے کچھ شکوک وشبہات ہوں تواُن کو دُور کردوتاکہ حجت تمام ہوجائےنیز جہاد کا مقصد کفار کو قتل کرنانہیں ہے بلکہ جہاددعوتِ اسلام کی بنا پر فرض ہے۔اگر تبلیغ سے وہ اسلام کو قبول کرلیں تو اس سے بہتر اور کیا ہے؟ زیر بحث حدیث میں حضورکا یہ ارشاد کہ: اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت ہوجائے وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔اسی امر کا آئینہ دار ہے۔‘‘([53])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کےمختلف اجزاء کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
…٭’’ تقدیر الٰہی یہ ہے کہ حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) فاتح خیبر ہوں اور اس فتح کا سہرا اُن کے سر رہے ورنہ اور صحابی بھی فتح کرسکتے تھے۔جس پر حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہاتھ رکھ دیتے وہ ہی فتح
کرلیتا، اِنہیں صحابہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) نے یرموک اور قادسیہ جیسی جنگیں فتح فرمائی ہیں ۔
…٭ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسو ل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے محبت کرتے ہیں ۔)یعنی اللہ رسول اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہونا پسند کرتے ہیں ۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تو اللہ رسول کو پیارے ہیں باقی تمام صحابہ اورحضرت فاطمۃ الزہرا، حسنین کریمین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)خدا کو پیارے نہیں ، خدا تعالٰی ان سب سے ناراض ہے نَعُوْذُ بِاللّٰه۔
…٭ (صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے وہ را ت اس غوروخوض میں گزاری کہ جھنڈا کس کو عطا کیا جائے گا۔)یعنی تمام صحابہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)نے رات بھر صبح کا انتظار کیا کہ دیکھیں کس کی قسمت چمکتی ہے، صبح کو تمام صحابہ اِسی امید میں حضورِ انور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے سامنے پیش ہوگئے مگر یہ سعادت تو حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نصیب میں تھی، چونکہ اس سعادت کے ملنے کی تمنا کرنا، اس کا رات بھر انتظار کرنا بھی عبادت تھا اس لیے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے صراحۃً حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کا نام نہیں لیا تاکہ سب لوگ انتظار اور تمنا کرکے ثواب پائیں ۔
…٭ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟)حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اس لیے وہ فجر کی نماز میں حاضر نہ ہوسکے، اپنے خیمے میں رہے،حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے بطورِ تعجب پوچھا کہ اِس مبارک موقعے پر علی کیوں نہیں ،یہ نہیں ہوا تھا کہ حضرت علی (اس وقت)مدینہ منورہ میں تھے، حضور نے پکارا: اے علی! میری مدد کو پہنچو، میرا ساتھ صحابہ نے چھوڑ دیا، آپ مدینہ سے اُڑ کر خیبر پہنچے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰه! یہ سب روافض کا بہتان ہے۔
…٭ (حضرتِ سَیِّدُناعلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کولایا گیا۔) یعنی آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ دوسرے صحابہ آپ کو پکڑ کر حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تک لائے ،حضور نے آنکھوں کی تکلیف دیکھ کر لعابِ دہن لگایا، یہ ہےلعابِ رسول کا معجزہ۔حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی آنکھ کا سرمہ ہے،حضرت عبداللہ ابن عتیک کی ٹوٹی ہڈی کا سریش ہے، کھاری کنویں میں پڑے میٹھا کردے ،خشک کنویں میں پڑے اس میں پانی پیدا کردے غرضیکہ معجزات کا مجموعہ ہے۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس کے بعد آپ کی آنکھوں میں کبھی
کوئی تکلیف نہ ہوئی۔خیال رہے کہ حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو یہ خبر تھی کہ خلافت حیدری میں اسلامی فتوحات نہ ہوں گی، خانہ جنگی رہے گی، اس لیے فتح خیبر کے لیے آپ کو چنا گیا تاکہ تاقیامت خیبر کا ہر ذرہ آپ کی شجاعت کے خطبے پڑھے۔ع
تَعَالَی اللہ تری شوکت تری صولت کا کیا کہنا
کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرہ
…٭ (حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا میں ان سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری مثل ( مسلمان) نہ ہوجائیں ؟)یعنی کیا میں اہلِ خیبر کو جبرًا مسلمان بناؤں کہ وہ یا تومسلمان ہوجائیں یا قتل کردیئے جائیں ،خیبر کے عام باشندے یہودی تھے۔
…٭ (حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا: نرمی سے جاؤ یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اُتر جاؤ تو پھرانہیں اسلام کی دعوت دواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کے بارے میں اُنہیں خبردو،خدا کی قسم! اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری وجہ سے کسی ایک کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارےلیے سُرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔) یعنی ان پر ایک دم حملہ مت کرو، بلکہ پہلے انہیں مسلمان ہوجانے کی رغبت دو، اسلام پر مجبور نہ کرو۔ایک کافر کو مسلمان بنانا دنیا کی بڑی دولت سے بھی بہتر ہے بلکہ کافر کو قتل کرنے سے بہتر ہے کہ اسے رغبت دے کر مسلمان کرلیا جاوے کہ اس سے اس کی ساری نسل مسلمان ہوگی۔([54])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(1) حضور نبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ،
علومِ خمسہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
(2) قرآن واحادیث میں جہاں بھی مخلوق سے علم غیب کی نفی ہے یا ذات باری تعالی کے لیے اثبات ہے وہاں ذاتی علم غیب مراد ہے کہ بالذات اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کو غیب کا علم ہے ، ذاتی طور پر کوئی بھی مخلوق علم غیب نہیں رکھتی اور جہاں مخلوق کے لیے علم غیب کا اثبات ہے وہاں عطائی علم غیب مراد ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے اس کی مخلوق، اس کے بندے، انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام،صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان،اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی غیب جانتے ہیں ۔
(3) بندے کی اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت لازم وملزوم ہے کہ جب بندہ اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اس سے محبت فرماتے ہیں ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا غیب کی خبر دینا اور اپنے مبارک لعابِ دہن سے مولاعلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھوں کو ٹھیک کردینا دونوں نبوت کی علامتیں ہیں ۔
(5) سُرخ اونٹوں کی مثال عرب لوگ بطورِ تشبیہ دیتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک یہ قیمتی مال ہے۔
(6) قرآن وسنت میں جہاں بھی اُخروی اُمور کو دُنیوی اُمور سے تشبیہ دی جاتی ہے وہاں سمجھانا مقصود ہوتا ہے نہ کہ اِن اُمور کی حقیقت مراد ہوتی ہے۔
(7) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا جذبۂ جہاد صدکروڑ مرحباکہ شدیدمرض کی حالت میں بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت کے لیے حاضر ہوجایا کرتے تھے۔
(8) کسی دینی معاملے میں سوتے ہوئے بھی سوچ بچار کرنا عبادت ہےجیسا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ساری رات یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں وہ خوش نصیب کون ہوگا؟ جسے کل صبح رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجھنڈا عطا فرمائیں گے۔
(9) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بہت ہی عظمت وشان والے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتح خیبر کے لیے آپ کا انتخاب فرمایا، نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ
نے آپ کو ایسی طاقت عطا فرمائی ہے کہ جس دروازے کو آپ نے اکیلے اکھاڑ لیا اسے ستر70آدمی بھی نہ اٹھا سکتے تھے۔
(10) مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک لعابِ دہن سے 2دائمی برکتیں حاصل ہوئیں کہ ایک تو آپ کی آنکھیں دوبارہ کبھی نہ دُکھیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سردی گرمی کا احساس نہ ہوتاتھا۔
(11) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک لعاب دہن پاکیزہ اور بیماریوں سے نجات دینے والا ہے۔
(12) جنگ کرنے سے قبل کفار کو دعوت اسلام دینا واجب ہے، اگر پہلے دے چکے ہیں تو اب دعوت دینا مستحب ہے، کیونکہ جہاد کا مقصود اسلام کی دعوت کو عام کرنا ہے۔
(13) اسلام دہشت گردی، بدامنی وجنگ وجدال پر نہیں اُبھارتا بلکہ اسلام تو امن وآشتی اور بھائی چارے کا درس دیتاہے، جبھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو جنگ سے قبل نرمی سے بات کرنے اور اسلام کی دعوت پیش کرنے کا حکم دیا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےنقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی دینی امور میں ان جیسا عظیم جذبہ عطا فرمائے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے فیضان سے ہمیں بھی مالا مال فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:176
بھلائی پررہنمائی کرنا رسول اللہ کی سُنَّت ہے
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ ، اَنَّ فَتًی مِنْ اَسْلَمَ قَالَ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ، اِنِّی اُرِیۡدُ الْغَزْ وَ وَلَیْسَ مَعِی مَا اَتَجَہَّزُ بِہٖ، قَالَ: ائْتِ فُلَانًا، فَاِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ، فَمَرِضَ، فَاَتَاہُ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ: اَعْطِنِی الَّذِی تَجَہَّزْتَ بِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ، اَعْطِیہِ الَّذِی تَجَہَّزْتُ بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی مِنْہُ
شَیْئًا، فَوَاللہِ لَا تَحْبِسِیْنَ مِنْہُ شَیْئًا فَیُبَارَکَ لَکِ فِیۡہِ.([55])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ قبیلہ َ اسلم کے ایک نوجوان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں جہادکرنے کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا۔‘‘وہ نوجوان اس شخص کے پاس آیا اور کہا کہ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے آ پ کو سلام ارشاد فرمایا ہے نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ مجھے وہ سامان دے دیں جو آپ نےجہاد کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘اس شخص نےاپنی زوجہ سے کہا: ’’اے فلانی !اس کو وہ سامان دے دو جو میں نے جہاد کے لیے تیارکیا ہے اور اس میں سے کوئی چیز مت رکھنا، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! اگر تم نے اس میں سے کوئی چیز بھی نہ رکھی تو اس میں تیرےلیے برکت ہوگی۔‘‘
عَلَّامَہْ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن‘‘ میں فرماتے ہیں :’’ اسلم، قبیلے کےبڑےکانام ہے۔نسب کچھ اس طرح ہے:اسلم بن اَفْصٰی بن حارِثہ بن عَمرو بن عامربن عُوَیْمِربن عمر۔برقی نےیہ نسب اسی طرح بیان کیاہےاورخلیفہ بن خیاط نےیوں بیان کیاہے:اسلم بن اَفْصٰی بن حارثہ بن اِمرؤُالقیس بن ثعلبہ بن المازن بن الازد بن الغوث۔اس قبیلے میں کثیرصحابہ اورتابعین پیدا ہوئے ہیں اور اس کے بعدوالےطبقےمیں کئی علماءاورراوِیانِ حدیث اس قبیلے میں پیداہوئےہیں ۔([56])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل میں جلدی کیا کرتے تھے۔ کیونکہ جیسے ہی وہ صحابی
وہاں پہنچے اور اپنا مدعا بیان کیا تو دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فوراً اپنی زوجہ کو وہ سامان دینے کے لیے کہا۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اس شخص نےنبی پاک صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےحکم کی تعمیل میں جلدی کرتےہوئے اپنی زوجہ سے کہا کہ اس شخص کوسواری، زادِراہ اورجوسامان میں نےتیارکیاتھااورمسافرکوجس چیزکی حاجت ہوتی ہےوہ تمام اشیاء دےدواوراس سامان میں سے کوئی چیزبھی اپنے پاس نہ روکنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اگرتونےاس میں سےکچھ بھی نہ روکاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھےاس میں برکت عطا فرمائے گااور(اگرتونےاس میں سے کوئی چیز بھی اپنے پاس رکھی تو اس میں برکت نہ ہوگی)کیونکہ اِس صورت میں یہ مالک کی رضامندی اور خواہش کےبغیر تصرف کرنا ہےکیونکہ اُس نےتو وہ تمام چیزیں اس شخص کودینے کا حکم دیا ہےجسے سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے بھیجا ہےپس جب تم نےاس کےحکم کی مخالفت کی اوراس شخص کےلیےان اشیاکوزیادہ گمان کرتےہوئےان میں سےبعض چیزوں کواس سے روک لیاتو تمہارے لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔‘‘([57])
اِس حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس شخص کی بھلائی کی طرف رہنمائی فرمائی جوجہادمیں شریک ہونےکاخواہش مندتھالیکن سازوسامان نہ ہونےکی وجہ سےجہادمیں جانے سے قاصرتھاایک ایسے شخص کی طرف جس نےجہادمیں جانےکی تیاری کی تھی مگربیماری کےباعث جہادمیں شریک ہونے سے قاصر ہوگیا تھا۔اس حدیث پاک کی اس باب سےیہی مناسبت ہےکہ اس میں بھلائی کی طرف رہنمائی کاذکرہے۔([58])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث
میں بھلائی پر رہنمائی کرنے کی فضلیت کو بیان کیاگیا ہےاور اس بات کو بھی بیان کیاگیاہےکہ انسان جب اپنےمال کوکسی نیک کام میں خرچ کرنے کی نیت کرلےاورپھرکسی عذرکی بناپروہ نیکی اس کے لیےمُتَعَذَّر (بہت مشکل) ہو جائے تو اس شخص کے لیے مستحب ہے کہ اپنےمال کوکسی دوسرےنیک کام میں خرچ کر دے بشرطیکہ اس نےاس نیکی کی نذرنہ مانی ہوجواس کےلیےمُتَعَذَّرہوگئی۔([59])(اگراس نےاس نیک کام کی نذر مان رکھی ہےتوعذرختم ہونےکاانتظار کرےاورمانع ختم ہوتےہی اپنی نذرکوپوراکرے،وہ مال کسی دوسرے نیک کام میں خرچ نہ کرے۔)
حضرت سَیِّدُنَا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ بھلائی کے کاموں میں لوگوں کی سربراہی کرنے والے کوقیامت کے دن بلاکرکہا جائے گا:’’اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کواپنے اعمال کے بارے میں جواب دو۔‘‘ پھراسے بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا جائے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے بلا حجاب ملاقات فرمائے گااور اسے جنت کا مژدہ سنا یا جائے گا،پھروہ اپنا اور نیکی کے کاموں میں ساتھ دینے والوں اور اس پر مُعَاوَنَت کرنے والوں کا مقام ومرتبہ دیکھے گا،اسے کہا جائے گا: ’’یہ فلاں کا ٹھکانا ہے اور یہ فلاں کا ٹھکاناہے۔‘‘ پھر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ان کے لیے تیار کردہ اِنعام و اِکرام دیکھےگااوراپنا مقام سب رُفقاءسے افضل پائے گا، پھراسے جنتی لباس پہنایا جائے گا،اس کی تاج پوشی کی جائے گی، اس کاچہرہ چاند کی طرح چمکنے لگے گا۔ اسے دیکھنے والی ہر جماعت کہے گی:’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اِسے ہم میں شامل فرمادے۔‘‘ وہ آگے بڑھتا رہے گا حتی کہ نیکی کے کاموں میں مُعَاوَنَت کرنے والے ساتھیوں سے آکر کہےگا:’’اےفلاں !تمہیں مبارک ہو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارےلیے جنت میں یہ یہ انعامات تیار کررکھے ہیں ۔‘‘ وہ انہیں ربّ تعالٰی کے ان کے لیے جنت میں تیار کیے گئے انعام واکرام کی خبریں دےرہا ہوگا توان کے چہرے بھی اس کی طرح نور سے چمکنے لگیں گے۔اہل محشر ان کےچہروں کی نورانیت دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔([60])
(1) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کی تعمیل میں بہت جلدی کیا کرتے تھے۔
(2) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نیکیوں کے حریص ہوا کرتے تھےیہی وجہ ہے کہ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس اگرچہ جہاد کے اسباب نہ تھے مگر بارگاہ ِرسالت میں اپنی نیت پیش کردی۔
(3) جس طرح نیکیاں کرنا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے اسی طرح نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنا بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔
(4) کسی شخص نے امر خیر کی تیاری کی مگر کسی مجبوری کی وجہ سے اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا تو اسے چاہیے کہ اس نیکی کی طرف کسی کی رہنمائی کردے، اس کی معاونت کردے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بھی اس نیکی کرنے والے کی طرح ثواب ملے گا۔
(5) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والوں اور نیکیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آخرت میں نہایت ہی عظیم الشان انعامات تیار کررکھے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، نیکیاں پھیلانے، نیکیوں کی ترغیب دینے، نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنے ، برائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں گناہوں سے سچی پکی توبہ نصیب فرمائے، ہماری تمام جائز حاجات کو پورا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
اجمالی فہرست |
06 |
زہریلے جانور کے کاٹے پر دم کرنا |
29 |
|
المدینۃ العلمیۃ کا تعارف |
08 |
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دم کرنا |
30 |
|
پیش لفظ وکام کا طریقہ کار |
09 |
حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کا دم کرنا |
30 |
|
باب نمبر(7) |
15 |
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنے اہلِ خانہ پر دم کرنا |
30 |
|
یقین وتوکُّل کا بیان |
15 |
تعویذات میں کوئی حرج نہیں ۔ |
31 |
|
(1)مسلمانوں کی آزمائش |
15 |
دعوت اسلامی اور مجلس تعویذات عطاریہ |
31 |
|
(2)رب تعالی پر بھروسہ کامیابی کی ضمانت ہے۔ |
16 |
مدنی گلدستہ |
32 |
|
(3)ہمیشہ رب تعالی پر بھروسہ کرو۔ |
17 |
حدیث نمبر:75 |
33 |
|
(4)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ |
18 |
جامع استغفار |
33 |
|
(5)مشورہ کرنا توکل کے خلاف نہیں |
18 |
توکل کی حقیقت |
35 |
|
(6) بھروسہ کرنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ |
19 |
معرفت الٰہی رکھنے والا نوجوان |
35 |
|
(7)مؤمنوں کی علامات |
19 |
مدنی گلدستہ |
37 |
|
یقین اور توکل کی تعریف |
20 |
حدیث نمبر:76 |
38 |
|
توکل کیسے حاصل ہو؟ |
20 |
سَیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا توکل |
38 |
|
کسب معش توکل کے خلاف نہیں ، مُتَوَکِّل کی علامات |
21 |
آگ گلزار بن گئی۔ |
38 |
|
رزق دس 10دن سے منتظر تھا |
22 |
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یقین وتوکل |
39 |
|
حدیث نمبر:74 |
22 |
بڑی مصیبت کا وظیفہ |
40 |
|
رسول اللہکے سامنے اُمتوں کا پیش ہونا |
22 |
مدنی گلدستہ |
41 |
|
(1)رسول اللہکے سامنے امتوں کا پیش ہونا |
24 |
حدیث نمبر:77 |
42 |
|
(2)سترہزار کا بِلاحساب جنت میں داخلہ |
25 |
جنتیوں کے دِلوں کی حالت |
42 |
|
(3)بِلاحساب جنت میں داخل ہونے والوں کی خصوصیات |
25 |
پرندوں کے دلوں سے تشبیہ کی وجہ |
42 |
|
حضرتِ سَیِّدُنَا عُکَّاشَہ بِن محصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ |
26 |
پرندوں کی چند خوبیاں |
43 |
|
دوسرے شخص کیلئے دعا کیوں نہیں کی گئی؟ |
26 |
توکل بہترین چیز ہے۔ |
44 |
|
دم کرنے کا جواز اور ممانعت میں مطابقت |
28 |
مدنی گلدستہ |
44 |
|
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی دم کیا کرتے تھے۔ |
29 |
حدیث نمبر:78 |
45 |
|
نظرکا دَم کرنے کا حکم |
29 |
بے مثال توکل وشجاعت |
45 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
توکل کی اعلیٰ ترین مثال |
47 |
گمراہی اور پھسلنے کا فرق |
64 |
|
نجد کی وضاحت اور غیب کی خبر |
48 |
مدنی گلدستہ |
64 |
|
رسول اللہ کی عطاؤں کا طلبگار |
48 |
حدیث نمبر:83 |
65 |
|
حدیث میں مذکور جنگ کا پس منظر |
49 |
شیطان سے حفاظت کا نسخہ |
65 |
|
حدیث میں مذکور چندامور کی وضاحت |
50 |
تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کی برکات |
66 |
|
مدنی گلدستہ |
51 |
گھر سے مراد رہنے کی جگہ ہے۔ |
66 |
|
حدیث نمبر:79 |
52 |
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل |
67 |
|
توکل کرنے کا حق |
52 |
مدنی گلدستہ |
68 |
|
بغیر کوشش کے رزق ملنا |
52 |
حدیث نمبر:84 |
68 |
|
رب تعالی دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ |
53 |
طالبِ علم کی برکت سے رزق |
68 |
|
حق توکل کیا ہے؟ |
53 |
دو بھائی اور ان کے کام |
69 |
|
رب تعالی کی شانِ رزّاقی |
54 |
طالبِ علم کے سرپرست پر کرم |
69 |
|
توکل کی چار اقسام |
54 |
رِزْق میں برکت کا بہترین ذریعہ |
70 |
|
مدنی گلدستہ |
55 |
دین کے لئے وقف ہونا |
70 |
|
حدیث نمبر:80 |
55 |
مدنی گلدستہ |
71 |
|
سوتے وقت پڑھے جانے والے بابرکت کلمات |
55 |
با ب نمبر:8 |
73 |
|
تمام امور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسہ کرنا |
57 |
اِستِقامت کا بیان |
73 |
|
سونے کی تین سنتیں |
57 |
(1)دِین پر قائم رہو! |
73 |
|
مدنی گلدستہ |
58 |
(2)فرشتوں کے دوست |
74 |
|
حدیث نمبر:81 |
59 |
(3)خوف اورغم سے محفوظ |
75 |
|
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عظیم توکل |
59 |
حدیث نمبر:58 |
76 |
|
اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ |
60 |
اسلام پر استقامت |
76 |
|
کفار اندھے ہوگئے۔ |
60 |
تکمیل اسلام والی بات |
76 |
|
بہترین عبادت |
61 |
رب تعالی پر ایمان لانے کا معنی |
77 |
|
تَوکُّلْ کیا ہے؟ |
61 |
استقامت کے متعلق اقوال بزرگانِ دین |
77 |
|
مدنی گلدستہ |
61 |
رب تعالی کے نزدیک پسندیدہ عمل |
78 |
|
حدیث نمبر:82 |
63 |
ایک رات میں ختمِ قرآن |
78 |
|
گھر سے نکلتے وقت کی دعا |
63 |
مدنی گلدستہ |
78 |
|
فتنوں سے بچنے کی آسان دعا |
63 |
حدیث نمبر :86 |
79 |
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
جنت رحمتِ الٰہی سے ملے گی |
79 |
آنکھ کے عجائبات |
100 |
|
رحمت وفضل الہی سے اعمال کی تکمیل |
80 |
ہڈیوں کے عجائبات |
100 |
|
نیک اعمال کی توفیق |
80 |
سرکے عجائبات |
101 |
|
اعمال کے ذریعے دخول جنت کی وضاحت |
81 |
دانتوں کے عجائبات |
101 |
|
صحابہ کرام کے استفسار کی وضاحت |
82 |
گردن وپٹھوں کے عجائبات |
101 |
|
مدنی گلدستہ |
84 |
تین جسمانی حوض |
102 |
|
باب نمبر:9 |
85 |
کانوں کے عجائبات |
102 |
|
غوروفکر کا بیان |
85 |
سرسے پاؤں تک ہزار ہا عجائبات |
102 |
|
(1)بہترین نصیحت |
85 |
پیٹ کے عجائبات |
102 |
|
(2)عقل مندوں کے لئے نشانیاں |
86 |
زمین اور نباتات کے عجائبات |
104 |
|
(3)تخلیق کائنات میں غور وفکرکرو۔ |
88 |
معدنیات کے عجائبات میں غور وفکر |
105 |
|
(4)سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت |
88 |
حیوانات کے عجائبات میں غورو فکر |
105 |
|
تَفَکُّر کی تعریف |
89 |
چیونٹی کے عجائبات |
106 |
|
غور و فکر کرنے کے فضائل |
90 |
مکڑی کے عجائبات |
106 |
|
تَفَکُّر کے بارے میں اقوال بزرگانِ دین |
92 |
مچھر کے عجائبات |
106 |
|
مختلف اُمُورِ خیر کی مختلف چابیاں |
92 |
چیونٹی کے انڈے کے عجائبات |
107 |
|
شیطانی کفریہ وسوسے کا علاج |
93 |
سمندرکے عجائبات میں غوروفکر |
108 |
|
آخرت میں سب سے زیادہ خوشی |
93 |
ایک سمندی جانورکے عجائبات |
108 |
|
پانچ چیزوں میں غور وفکر |
93 |
ایک سمندری درخت کے عجائبات |
109 |
|
تین چیزوں کے بارے میں نہ سوچو۔ |
94 |
سمندری کشتیوں کے عجائبات |
109 |
|
اصل پرہیزگاری |
95 |
ہواکے عجائبات میں غوروفکر |
109 |
|
ابدالوں کی دس صفات |
95 |
آسمان کے عجائبات میں غور وفکر |
111 |
|
مفلس تاجر کی مثال |
95 |
مدنی گلدستہ |
112 |
|
دانائی میں اضافہ کرنے والی چیزیں |
96 |
با ب نمبر:10 |
113 |
|
غوروفکرکیوں ضروری ہے؟ |
96 |
نیکیوں پر ابھارنے کا بیان |
113 |
|
(1) مختلف اعضاء کے بارے میں غورو فکر |
96 |
(1) نیکیوں میں سبقت کرو۔ |
113 |
|
(2)مخلوق کے عجائبات میں غوروفکر |
98 |
(2)ربّ کی بخشش کی طرف دوڑو۔ |
114 |
|
جسمِ انسانی کے عجائبات |
99 |
حدیث نمبر:87 |
115 |
|
پیدائش کے عجائبات |
100 |
نیک اعمال میں جلدی کرو۔ |
115 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
ایک بہت بڑے فتنے کی نشاندہی |
115 |
صحابہ کرام کی مبارک زندگیاں |
130 |
|
اعمال میں جلدی کرنےکا معنی |
115 |
اسلام کے دوننھے مجاہد |
131 |
|
صبح وشام، مؤمن وکافر ہونے کا معنی |
116 |
مدنی گلدستہ |
132 |
|
دین کو مال دنیا کے بدلے بیچنا |
116 |
حدیث نمبر:92 |
133 |
|
سب سے بدتر شخص کی علامات |
117 |
آنے والا دَور پہلے سے بُرا ہوگا۔ |
133 |
|
بے وقوف کون؟ |
117 |
نیا دور پہلے والے سے برا |
133 |
|
مدنی گلدستہ |
118 |
مختلف زمانوں کی فضیلت کی وضاحت |
134 |
|
حدیث نمبر: 88 |
118 |
شر سے کیا مراد ہے؟ |
135 |
|
صدقہ کرنے میں جلدی کرنا |
118 |
بدتر ہونے کی ایک وجہ |
135 |
|
زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرو۔ |
119 |
زمانہ نبوی سے دوری کا اثر |
136 |
|
صحابہ کرام کی محبت |
120 |
مدنی گلدستہ |
136 |
|
اُحد یہاڑ جتنا سونا |
120 |
حدیث نمبر:93 |
137 |
|
مدنی گلدستہ |
121 |
نیک اعمال میں جلدی کرو۔ |
137 |
|
حدیث نمبر:89 |
122 |
سات7 اُمورکی وضاحت |
138 |
|
جنت کی بشارت |
122 |
خوش نصیب کون؟ |
138 |
|
یہ جنتی شخص کون تھے؟ |
122 |
عبادت کب کرو گے ؟ |
139 |
|
شہادت کا عظیم جذبہ |
122 |
فتنہ دجال کے متعلق کچھ معلومات: |
140 |
|
جنت کی خوشبو |
123 |
مدنی گلدستہ |
141 |
|
رسول اللہ کا علم غیب |
124 |
حدیث نمبر:94 |
142 |
|
مدنی گلدستہ |
125 |
فتح کا جھنڈا |
142 |
|
حدیث نمبر:90 |
125 |
غزوہ ٔخیبر |
143 |
|
کو ن سا صدقہ افضل ہے ؟ |
125 |
جنگ ِخیبر کا سبب |
143 |
|
’’شُحٌّ‘‘کے مختلف معانی |
126 |
قلعہ خیبر پر پے درپے مختلف حملے |
144 |
|
حریص (لالچی)کا صدقہ |
126 |
مولاعلی پر خصوصی فضل وکرم |
145 |
|
مرتے وقت صدقہ وخیرات |
127 |
حکم نبوی کی تعمیل میں جلدی |
147 |
|
مدنی گلدستہ |
128 |
نیک اعمال میں جلدی کرو۔ |
147 |
|
حدیث نمبر:91 |
129 |
مدنی گلدستہ |
148 |
|
تلوار کا حق |
129 |
باب نمبر:11 |
149 |
|
تلوار کے حق سے کیا مراد ہے؟ |
129 |
’’مجاہدہ‘‘ کا بیان |
149 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
(1)راہِ خدا میں کوشش |
149 |
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دو عظیم نعمتیں |
167 |
|
(2)مرتے دم تک عبادت |
150 |
نقصان اُٹھانے والا اِنسان |
167 |
|
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف توجہ رکھو۔ |
150 |
دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ |
168 |
|
(4)ذرہ بھر نیکی پر بھی اجر |
151 |
دنیا کی حقیقت |
168 |
|
(5)آگے بھیجی ہوئی نیکیاں |
151 |
پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو۔ |
169 |
|
(6)صدقہ وخیرات کی ترغیب |
152 |
مدنی گلدستہ |
170 |
|
مجاہدے کی تعریف |
152 |
حدیث نمبر :98 |
170 |
|
حدیث نمبر :95 |
153 |
رسول اللہ کاکثرت سے عبادت کرنا |
170 |
|
اللہ کے ولی کا دشمن اللہ کا دشمن ہے۔ |
154 |
عبادت میں شدت کرنا |
171 |
|
ولی کون ہے؟ |
154 |
حضور کا رات بھر عبادت کرنے کی وجوہات |
172 |
|
دشمنی اور جنگ سے متعلق دو اہم مدنی پھول |
154 |
عبادت گزاروں کی تین اقسام |
172 |
|
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہونے کی وجہ سے عداوت |
155 |
رات کی عبادت نے بخشوادیا۔ |
173 |
|
ولی سے عدا وت کا وبال |
156 |
مدنی گلدستہ |
173 |
|
فرائض اور نوافل کی ادائیگی میں فرق |
156 |
حدیث نمبر :99 |
174 |
|
کن نوافل سے قرب ِ الٰہی حاصل ہو تا ہے؟ |
157 |
رسول اللہ کا جذبۂ ِعبادت |
174 |
|
فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل ادا کرنے والے کی مثال |
157 |
’’رات کو زندہ کرنا‘‘ کے مختلف معانی |
175 |
|
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اپنے بندے سے محبت کا انعام |
158 |
عبادت کے لیے گھر والوں کو جگانا |
176 |
|
سالکین کا آخری اور واصلین کا پہلا درجہ |
159 |
گھر والوں کو نیکی کی دعوت |
177 |
|
ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں ہونا |
159 |
ایک اہم وضاحت |
177 |
|
ایک اشکال اور اس کا جواب |
160 |
آخری عشرے میں زیادہ عبادت کی وجوہات |
177 |
|
دِنوں کا سفر لمحوں میں طے کرلیا۔ |
162 |
تہبند مضبوط باندھ نے سے کیا مراد ہے؟ |
178 |
|
مدنی گلدستہ |
163 |
اعتکاف کا مقصدعظیم |
179 |
|
حدیث نمبر 96: |
164 |
مدنی گلدستہ |
179 |
|
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندوں سے محبت |
164 |
حدیث نمبر :100 |
180 |
|
حدیث کے ظاہری معنی کی وضاحت |
165 |
قوی مؤمن ضعیف مؤمن سے بہتر ہے۔ |
180 |
|
قلیل عبادت پرکثیر ثواب |
165 |
قوی مؤمن کون ہے؟ |
181 |
|
یہ کلام تمثیلی یعنی بطورِ مثال کےہے۔ |
165 |
ضعیف مؤمن کون ہے؟ |
182 |
|
مدنی گلدستہ |
166 |
قوی اور ضعیف دونوں مؤمنوں میں بھلائی ہے۔ |
182 |
|
حدیث نمبر :97 |
167 |
قوی وضعیف مؤمن کا جنتی درجات میں فرق |
182 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
حرص کسے کہتے ہیں ؟ |
183 |
مدنی گلدستہ |
205 |
|
نیکیوں کی حرص |
183 |
حدیث نمبر :103 |
206 |
|
جو کچھ ہوتا ہے مشیت الٰہی سے ہوتا ہے۔ |
185 |
نماز تہجد میں طویل قیام کرنا |
206 |
|
لفظ ”اگر“ کے استعمال پر ثواب کی صورت |
186 |
بیٹھ جانے کے ارادے کی وجہ |
206 |
|
لفظ ”اگر“کے بارے میں تحقیق |
187 |
قلبی اِرادے کو بُرا سمجھنے کی وجوہات |
206 |
|
لفظ ”اگر“ کا استعمال کب ممنوع ہے؟ |
188 |
طویل قیام افضل یا کثرت رکوع و سجود؟ |
208 |
|
مدنی گلدستہ |
189 |
کثرت رکوع وسجود کی افضیلت پر تین احادیث |
208 |
|
حدیث نمبر :101 |
190 |
طویل قیام کی افضیلت پر تین احادیث |
209 |
|
جہنم اور جنت ڈھانپ دی گئی ہیں ۔ |
190 |
ایک اہم مسئلے کی وضاحت |
210 |
|
جنت و دوزخ کا راستہ |
191 |
دونوں اقسام کی احادیث میں تطبیق |
210 |
|
جبریل امین کا جنت و دوزخ کا مشاہدہ |
191 |
حدیث پاک سے ماخوذ چند مدنی پھول |
211 |
|
جنت ودوزخ کے پردے |
192 |
نماز میں رسول اللہ کا خیال اور ادب واحترام |
212 |
|
جنت ودوزخ فقط دو ٹھکانے |
193 |
علم وحکمت کے مدنی پھول |
212 |
|
آتش دوزخ کا پردہ |
193 |
تین ایمان افروز احادیث مبارکہ |
214 |
|
شہوات کی پیروی کا وبال |
193 |
پہلی حدیث مبارکہ |
214 |
|
شہوات سے کیا مراد ہے؟ |
194 |
دوسری حدیث مبارکہ |
215 |
|
جنت کو ڈھانپنے والی مصیبتیں |
195 |
تیسری حدیث مبارکہ |
216 |
|
مدنی گلدستہ |
196 |
مدنی گلدستہ |
217 |
|
حدیث نمبر :102 |
197 |
حدیث نمبر :104 |
218 |
|
رسول اللہ کی نماز کا انداز |
197 |
میت کے ساتھ قبر تک جانے والی تین چیزیں |
218 |
|
سَیِّدُنَاحذیفہ بن یمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تعارف |
198 |
دو بے وفا اور ایک وفادار ساتھی |
218 |
|
حبیب خداکے ہمراز |
199 |
گھر والوں میں کون شامل ہے؟ |
218 |
|
نوافل میں اقتداء کرنا |
199 |
ایک اشکال اور اس کی وضاحت |
219 |
|
نفل کی جماعت کا حکم |
200 |
میت کے ساتھ مال جانے سے کیا مراد ہے؟ |
219 |
|
خلاف ترتیب قراءت کا مسئلہ |
201 |
انسان کا مال تین طرح کاہے۔ |
220 |
|
دورانِ نماز تسبیح، تحمید اور تعوذ کا حکم |
202 |
قبرمیں اعمال کی مختلف شکلیں |
220 |
|
تسبیحاتِ رکوع و سجودکی قرآن سے موافقت |
203 |
قبر عمل کا صندوق ہے۔ |
221 |
|
ایک لطیف نکتہ |
204 |
مُردے کے صدمے |
221 |
|
ایک اہم وضاحت |
204 |
قبر کی کہانی، قبر کی زبانی |
223 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
مدنی گلدستہ |
225 |
حدیث نمبر : 107 |
242 |
|
حدیث نمبر :105 |
226 |
ایک سجدہ کرنے کی فضیلت |
242 |
|
جنت و جہنم جوتوں کے تسموں سے زیادہ قریب |
226 |
حدیث پاک کا پس منظر |
243 |
|
جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ |
227 |
سَیِّدُنَاثوبان کے دو مرتبہ خاموش رہنے کی وجہ |
243 |
|
جنت وجہنم کے قرب کی وجوہات |
227 |
کثرت سجود کے حکم کی حکمتیں |
244 |
|
فکر آخرت کی ترغیب |
228 |
سجدوں کی کثرت قرب الہی کا سبب |
244 |
|
ایک لفظ میں جنت ودوزخ ہے۔ |
228 |
سجدے میں عجزوانکساری ہے۔ |
244 |
|
معمولی عمل سے دخول جنت وجہنم |
229 |
سجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت |
245 |
|
کسی بھی عمل کو معمولی نہ سمجھو۔ |
229 |
سجدوں کی کثرت کا معنی |
245 |
|
اللہ اکبر کہنے کی برکت |
230 |
سجدوں کی کثرت عظیم مراتب کا سبب |
246 |
|
مدنی گلدستہ |
231 |
سجدے کے سبب گناہوں کی معافی |
246 |
|
حدیث نمبر :106 |
232 |
سجدے سے متعلق بزرگانِ دین کے احوال و اقوال |
246 |
|
جنت میں رسول اللہ کی رفاقت |
232 |
روزانہ ایک ہزار 1000سجدے |
246 |
|
سَیِّدُنَا ربیعہ بن کعب کامختصرتعارف |
233 |
جوانی کے سجدے قابل رشک |
247 |
|
رسول اللہ کی کرم نوازی کی وجوہات |
233 |
کسی چیز پر افسوس نہیں |
247 |
|
رسول اللہ کے اختیارات کی وسعت |
234 |
سجدے میں قرب الہی کی زیادتی |
247 |
|
فضل و کرم وکمال کے دریا |
234 |
سجدے میں دعائیں زیادہ مانگو |
247 |
|
تمام کام رسول اللہ کے دست اقدس میں |
235 |
مدنی گلدستہ |
248 |
|
مرافقت سے مراد قریبی مرتبہ ہے۔ |
235 |
حدیث نمبر :108 |
249 |
|
حضور کے مساوی کسی کا مقام نہ ہوگا۔ |
236 |
بہترین شخص کون ہے؟ |
249 |
|
قرب خدا اور قرب حبیب خدالازم وملزوم |
236 |
سَیِّدُنَا عبد اللہ بن بسر کا مختصر تعارف |
249 |
|
جنتی رفاقت کا سبب |
237 |
لوگوں میں سب سے بہترین شخص |
249 |
|
سَیِّدُنَاربیعہ پر بارگاہ رسالت کی عطائیں |
238 |
عمل کے اچھا ہونے کے معنی |
251 |
|
اختیاراتِ مصطفےٰپر تین احادیث مبارکہ |
239 |
لمبی عمر نیک اعمال میں اضافے کا باعث |
251 |
|
(1)زمین کے خزانوں کی کنجیاں |
239 |
زندگی کے لمحات انمول ہیرے ہیں ۔ |
252 |
|
(2)صحابی رسول اور روزے کا کفارہ |
239 |
زندگی بہت مختصر ہے۔ |
253 |
|
(3)صحابی رسول اور قربانی کا جانور |
240 |
یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے۔ |
253 |
|
اختیاراتِ مصطفےٰ کا تفصیلی عقیدہ |
240 |
مدنی گلدستہ |
254 |
|
مدنی گلدستہ |
241 |
حدیث نمبر: 109 |
255 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
مذکورہ آیت مبارکہ کا شانِ نزول |
256 |
رب تعالی پر ظلم کے حرام ہونے کا معنی |
278 |
|
سَیِّدُنَاانس بن نضر کی کرامت |
257 |
ظلم کی حرمت پر مذاہب کا اِجماع |
279 |
|
کیا جنگ بدر پہلی جنگ تھی؟ |
258 |
سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟ |
279 |
|
سَیِّدُنَاانس بن نضر کاعہد |
259 |
ظلم کرنے کی ممانعت |
280 |
|
جنگ اُحد میں مسلمانوں کے میدان چھوڑنے کی وجہ |
259 |
ظلم کی ممانعت پر تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
280 |
|
سَیِّدُنَا انس بن نضر اور جنت کی خوشبو |
261 |
تمام لوگوں کی گمراہی سے کیا مرادہے؟ |
281 |
|
سَیِّدُنَاانس بن نضر کی جراءت وبہادری وصبر وتحمل |
262 |
گمراہ ہونے کے دو معنی |
281 |
|
جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا |
263 |
ہدایت طلب کرنے میں حکمت |
282 |
|
مدنی گلدستہ |
263 |
کھانے کے ساتھ پینے، لباس کے ساتھ رہائش کا ذکر |
282 |
|
حدیث نمبر :110 |
265 |
حدیث میں خطاب عام بندوں سے ہے۔ |
283 |
|
صحابہ کرام کے صدقہ کرنے کا انداز |
265 |
شرک کے سوا تمام گناہ معاف |
283 |
|
آیتِ صدقہ سے مراد کونسی آیت ہے؟ |
265 |
ربّ کو نفع و ضرر پہنچانے سے کیا مراد ہے؟ |
283 |
|
مزدوری کرکے صدقہ کرنا |
266 |
کیا اللہکےخزانے میں کمی ہوسکتی ہے؟ |
284 |
|
کثیر مال خرچ کرنے والے صحابی |
266 |
عدل فضل کے خلاف نہیں |
285 |
|
صحابہ کرام پر طعن کرنے والے منافقین |
267 |
خیر اور شر سے کیا مراد ہے؟ |
286 |
|
ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی |
267 |
نیکیاں رب کی توفیق، گناہ شامت نفس |
287 |
|
رسول اللہ کے قرب کے لیے صدقہ کرنا |
268 |
مدنی گلدستہ |
287 |
|
راہِ خدا میں خرچ کرنے کےفضائل |
268 |
با ب نمبر: 12 |
289 |
|
صدقہ کرنے کے پچیس25فوائد |
269 |
عمر کےآخری حِصّے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے پر |
289 |
|
صدقے سے متعلق تین حکایات |
270 |
پر اُبھارنے کا باب |
289 |
|
(1)امتحان میں کامیاب ہونے والا نوجوان |
270 |
عمرکےبارےمیں سوال |
289 |
|
(2)بیس سال عمر میں اضافہ |
272 |
حدیث نمبر:112 |
291 |
|
(3)ایک کے بدلے دس انڈے |
273 |
رب تعالی کس کاعذر قبول نہیں فرماتا؟ |
291 |
|
مدنی گلدستہ |
274 |
عذر باقی نہ چھوڑنے کا معنی |
291 |
|
حدیث نمبر :111 |
276 |
بڑھاپے کے بعد فقط موت ہے۔ |
292 |
|
ظلم کی حرمت |
276 |
عمر کے چار حصے |
292 |
|
سب سے زیادہ شرف والی حدیث |
277 |
بوڑھے شرابی کی توبہ |
293 |
|
حدیث قدسی کی تعریف |
277 |
آئیے!توبہ کرلیجئے۔ |
296 |
|
ظلم کی تعریف |
278 |
مدنی گلدستہ |
296 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
حدیث نمبر:113 |
297 |
آخری حالت پر اٹھایا جائے گا۔ |
312 |
|
سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عِلمی مقام |
297 |
آخری کلام جنت میں داخلے کا سبب |
312 |
|
بیٹوں کے ساتھ تمثیل کی وجہ |
298 |
جس حالت پر موت اسی پر اٹھایا جانا |
313 |
|
سَیِّدُنَاعبد اللہ بن عباس کی فضیلت |
299 |
آخری حالت کا اعتبار ہے۔ |
313 |
|
اس امت کے بہت بڑے عالم |
299 |
موت سے ایک سال پہلے |
314 |
|
بعدانتقال ملنے والا انعام واکرام |
299 |
شیطان کا خطرناک جال |
314 |
|
(1)علم و حکمت کی دعا |
300 |
رب تعالی کی خفیہ تدبیر |
315 |
|
(2)رسول اللہ کی خدمت گزاری |
300 |
مدنی گلدستہ |
317 |
|
(3)اُمّتِ محمدیہ کے بڑے عالم |
300 |
باب نمبر :13 |
319 |
|
(4) علم میں برکت کی دعا |
301 |
بھلائی کے طریقوں کی کثرت کابیان |
319 |
|
(5)دستِ شفقت کی برکتیں |
301 |
(1)رب تعالی ہر بھلائی کو جانتا ہے۔ |
319 |
|
مدنی گلدستہ |
302 |
(2)ذرّہ بھر نیکی کی قدر و منزلت |
320 |
|
حدیث نمبر:114 |
302 |
(3) بھلائی کا فائدہ |
321 |
|
ذکراللہ کی کثرت |
302 |
(4)اچھے اعمال کی ترغیب |
322 |
|
رکوع و سجود میں دعائیں |
305 |
باب سے متعلقہ مزید آیات مبارکہ |
322 |
|
حضور کےاِسْتِغْفَار فرمانے کی وجہ |
305 |
(5)نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو۔ |
322 |
|
موت پر تنبیہ |
306 |
(6)اچھی چیز دینے میں تمہارا ہی بھلا ہے۔ |
322 |
|
تسبیح واستغفار سے متعلق چند احادیث |
306 |
(7)تم جو بھلائی کرو اللہ کو اس کی خبر ہے۔ |
323 |
|
تسبیح و تحمید کی برکتیں |
307 |
(8)بھلائی کے مختلف کاموں کی ترغیب |
323 |
|
اُحُد پہاڑ کے برابر عمل |
307 |
حدیث نمبر: 117 |
324 |
|
روزانہ ایک ہزار 1000نیکیاں |
307 |
کونساعمل افضل ؟ |
324 |
|
موت کی تیاری |
308 |
دو اَفضل ترین اَعمال |
325 |
|
مدنی گلدستہ |
308 |
بے مثال قوم |
327 |
|
حدیث نمبر:115 |
309 |
مدنی گلدستہ |
328 |
|
آخری عمر میں وحی کی کثرت |
309 |
حدیث نمبر:118 |
328 |
|
کثرت سے وحی نازل ہونے کی وجہ |
310 |
ہر جوڑ پر صدقہ ہے ۔ |
328 |
|
مدنی گلدستہ |
311 |
نیکیاں کمانے کا آسان طریقہ |
329 |
|
حدیث نمبر:116 |
312 |
نمازِچاشت کی فضیلت |
329 |
|
زندگی کے آخری لمحات کی اہمیت |
312 |
عمرے کا ثواب |
330 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
ایک لقمہ صدقہ کی برکت |
330 |
روزانہ 360 نفلی نیکیاں ضرور کریں ۔ |
345 |
|
زبانی دلی اور عملی تبلیغ |
331 |
مدنی گلدستہ |
346 |
|
مدنی گلدستہ |
331 |
حدیث نمبر: 123 |
347 |
|
حدیث نمبر:119 |
332 |
صبح و شام جنت کی مہمانی |
347 |
|
اُمت کے اچھے اوربُرے اعمال |
332 |
مسجدمیں بغرض عبادت آنے کی فضیلت |
347 |
|
مسلمانوں کی خیر خواہی |
332 |
مسجد سے متعلق 4فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
348 |
|
نگاہِ مصطفےٰ کی جولانی |
333 |
جنت کی ابدی نعمتیں |
349 |
|
تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
334 |
مدنی گلدستہ |
350 |
|
مدنی گلدستہ |
334 |
حدیث نمبر:124 |
351 |
|
حدیث نمبر:120 |
335 |
کسی شےکوحقیرنہ جانو۔ |
351 |
|
ہرتسبیح صدقہ ہے۔ |
335 |
بکری کے کُھرسےکیامرادہے؟ |
351 |
|
صدقہ سے موسوم کرنے کی وجہ |
336 |
تحفہ دینے والے کے آداب |
352 |
|
امربالمعروف ونہی عن المنکر کا ثواب زیادہ |
336 |
تحفہ لینے والے کے آداب |
352 |
|
مباح شے اچھی نیت سے عبادت |
337 |
تحفہ دینےکی حکمتیں |
352 |
|
اچھی نیت پر ثواب کا بیان |
337 |
تحائف سے متعلق 4فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
353 |
|
فی نفسہ قضائے شہوت پر اجر نہیں ۔ |
337 |
مدنی گلدستہ |
353 |
|
تبلیغ دین ذکر واذکار سے افضل ہے۔ |
338 |
حدیث نمبر:125 |
354 |
|
سنتیں عام کریں ، دین کا ہم کام کریں ۔ |
338 |
ایمان کی شاخیں |
354 |
|
مدنی گلدستہ |
339 |
ایمان کی ستّر(70)شاخیں |
354 |
|
حدیث نمبر:121 |
340 |
حیا ایمان کا حصہ ہے۔ |
356 |
|
کسی نیکی کو حقیر نہ جانو۔ |
340 |
حیاکی تعریف |
356 |
|
ہرنیکی پر ثواب دیا جاتا ہے۔ |
340 |
حیاایمان کا رکن اعلیٰ ہے۔ |
357 |
|
مسلمانوں کو خوش کرنا بھی نیکی ہے۔ |
340 |
حیا کی اقسام |
358 |
|
مسکراکرملنا صَدَقہ ہے۔ |
341 |
حیاکے متعلق شرعی اَحکام |
358 |
|
بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنت ہے۔ |
341 |
حیاسےمتعلق3 فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
358 |
|
مدنی گلدستہ |
343 |
مدنی گلدستہ |
359 |
|
حدیث نمبر :122 |
343 |
حدیث نمبر:126 |
360 |
|
انسان کے تین سو ساٹھ360 جوڑ |
343 |
ہرتَرجگرمیں اجرہے۔ |
360 |
|
ہر نعمت کے بدلے شکر |
344 |
مخلوق پررحم کرو۔ |
361 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
ہرترجگر سے کیا مراد ہے؟ |
361 |
نیکیاں گناہوں کاکفارہ ہیں ۔ |
376 |
|
موذی جانورمارناثواب ہے۔ |
362 |
فضل ربّ سےگناہوں کی معافی |
376 |
|
مدنی گلدستہ |
362 |
مدنی گلدستہ |
378 |
|
حدیث نمبر: 127 |
363 |
حدیث نمبر:131 |
378 |
|
راستےسےتکلیف دہ چیزہٹانےکی فضیلت |
363 |
نمازکے انتظارکی فضیلت |
378 |
|
لوگوں سےتکلیف کو دورکرنا |
363 |
نامۂ اعمال سے خطاؤں کا مٹنا |
379 |
|
موذی چیز کو ختم کردینا جائز ہے۔ |
364 |
مسجد میں حاضری |
379 |
|
جنت میں لے جانے والے اعمال |
365 |
رِباط سے کیا مراد ہے؟ |
380 |
|
مدنی گلدستہ |
365 |
4فرامین مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
380 |
|
حدیث نمبر:128 |
366 |
مدنی گلدستہ |
381 |
|
نماز جمعہ کی فضیلت |
366 |
حدیث نمبر:132 |
282 |
|
جمعہ کی وجہ تسمیہ |
366 |
جنت میں داخلہ |
382 |
|
دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا |
367 |
ٹھنڈی نمازوں سےکیامرادہے؟ |
382 |
|
غسل جمعہ کاوقت |
367 |
دونمازوں کے بطور خاص ذکر کی وجہ |
383 |
|
جمعہ کی فضیلت پر 8فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
368 |
مدنی گلدستہ |
384 |
|
مدنی گلدستہ |
369 |
حدیث نمبر:133 |
384 |
|
حدیث نمبر:129 |
370 |
سفرو مرض میں نیک اعمال |
384 |
|
جسم سےگناہوں کا جھڑ نا |
370 |
نیک اعمال پر ہمیشگی |
385 |
|
صغیرہ گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔ |
371 |
ختم نہ ہونے والااجر |
385 |
|
گناہ جھڑنےکی کیفیت |
371 |
یہ حدیث عموم پر نہیں ۔ |
386 |
|
دو احادیث میں تطبیق کی صورت |
371 |
بیماری اورسفر میں فرائض معاف نہیں ۔ |
386 |
|
بطور خاص آنکھ کا ذکر کرنے کی وجہ |
372 |
مدنی گلدستہ |
387 |
|
وضو سے گناہوں کی سیاہی دور ہوتی ہے ۔ |
372 |
حدیث نمبر:134 |
387 |
|
گناہ جھڑنے کی حکایت |
373 |
ہر نیکی صدقہ ہے |
387 |
|
دل ودماغ کےگناہوں کی معافی |
374 |
معروف(نیکی) سے کیا مراد ہے؟ |
388 |
|
وضو کی فضیلت پر6فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
374 |
صدقہ کیا ہے؟ |
388 |
|
مدنی گلدستہ |
375 |
مال خرچ کیے بغیرصدقے کاثواب |
389 |
|
حدیث نمبر: 130 |
376 |
صدقہ سے متعلق تین احادیث مبارکہ |
389 |
|
نمازورمضان کی فضیلت |
376 |
مدنی گلدستہ |
390 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
حدیث نمبر:135 |
391 |
مدنی گلدستہ |
408 |
|
درخت لگاناصدقہ ہے۔ |
391 |
حدیث نمبر:140 |
409 |
|
اپنے ہاتھ سے کمانا افضل ہے۔ |
391 |
کھانےپینےکےبعدحَمدالٰہی |
409 |
|
آخرت کااجر |
393 |
کھانا کھاکر شکر بجالانا |
409 |
|
بہت جلد پھل مل گیا ۔ |
393 |
اپنے ساتھیوں کی رعایت |
409 |
|
ہمیشہ ثواب ملتارہےگا۔ |
394 |
پچھلے گناہ مُعاف |
410 |
|
کانٹالگنے پر بھی ثواب |
394 |
ہر لقمے پرحمدالٰہی |
410 |
|
مدنی گلدستہ |
395 |
کھاناکھانے کی سنتیں اور آداب |
410 |
|
حدیث نمبر:136 |
395 |
کھانے کی ’’40‘‘نیتیں |
411 |
|
مسجد کی طرف اُٹھنے والے ہرقدم پرنیکی |
395 |
مل کر کھانے کی مزید نیّتیں |
412 |
|
جتنی مشقت زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ |
396 |
مدنی گلدستہ |
413 |
|
مسجد کی طرف کثرت سے جانا |
397 |
حدیث نمبر:141 |
413 |
|
گھر مسجدسے دور |
398 |
برائی سے رُکنا بھی صدقہ ہے ۔ |
413 |
|
مدنی گلدستہ |
399 |
کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہیے۔ |
414 |
|
حدیث نمبر:137 |
399 |
نیکی پر قدرت نہ ہوتو۔۔۔! |
414 |
|
نیکیوں کاحریص |
399 |
برائی سے رک جانا صدقہ ہے۔ |
415 |
|
مسجد کی طرف چلنے کا ثواب |
400 |
حلال و جائز کاموں میں مصروفیت |
415 |
|
مسجد کی طرف جانے سے متعلق چند ایمان افروز روایات |
401 |
مصیبت زدہ کی مدد کرنا |
416 |
|
مدنی گلدستہ |
402 |
صَدَقہ کی برکت سے جان بچ گئی ۔ |
416 |
|
حدیث نمبر:138 |
403 |
مدنی گلدستہ |
417 |
|
کسی کواپنی نفع بخش چیز دینے کی فضیلت |
403 |
ثواب بڑھانے کے نسخے |
418 |
|
جنت میں داخل کرانے والی خصلتیں |
403 |
باب نمبر: 14 |
421 |
|
مدنی گلدستہ |
404 |
عبادت میں میانہ روی کابیا ن |
421 |
|
:139 |
405 |
(1)نزولِ قرآن باعث مشقت نہیں ۔ |
421 |
|
جہنم کی آگ سے بچو۔ |
405 |
(2)رب تعالی اپنےبندوپرآسانی چاہتاہے۔ |
423 |
|
اعمالِ صالحہ کے ذریعے جہنم سے چھٹکارا |
405 |
حدیث نمبر:142 |
423 |
|
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کلام فرمانا |
406 |
سب سے زیادہ پسندیدہ عبادت |
423 |
|
اچھی بات کی فضیلت پر3 فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
407 |
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امت پر شفقت |
424 |
|
زبان کا قفل مدینہ لگائیے۔ |
407 |
اُکتاہٹ کا اطلاق ذات باری تعالی پرجائز نہیں ۔ |
425 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل |
425 |
دین میں ملنے والی نرمی اختیار کرو۔ |
441 |
|
نیک اعمال میں میانہ روی کی ترغیب |
426 |
میانہ روی مقصودتک پہنچاتی ہے۔ |
442 |
|
رب تعالی ملال سے پاک ہے۔ |
426 |
دین اسلام میں سختی نہیں ۔ |
442 |
|
آسانی اور استقامت کی ترغیب |
427 |
مدنی گلدستہ |
443 |
|
اپنے اوپر مشقت ڈالنے سے بچو۔ |
427 |
حدیث نمبر:146 |
444 |
|
مدنی گلدستہ |
428 |
نماز میں خشوع وخضوع |
444 |
|
حدیث نمبر:143 |
429 |
عبادت میں شدت کب مکروہ ہے؟ |
444 |
|
اعمالِ نبوی کی جستجو |
429 |
نمازی اپنے رب سے مناجات کرتاہے۔ |
445 |
|
وہ تین صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکون تھے ؟ |
430 |
کثرتِ عبادت کی ممانعت کن کےلیے ہے؟ |
445 |
|
سب سےزیادہ خوفِ خدا |
430 |
بعض صورتوں میں نیند بھی عبادت ہے ۔ |
446 |
|
جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔ |
430 |
مدنی گلدستہ |
446 |
|
حدیثِ پاک سےثابت ہونے والے احکام |
431 |
حدیث نمبر: 147 |
447 |
|
خوفِ الٰہی کثیر عبادت سے افضل |
432 |
اُونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت |
447 |
|
نیک لوگوں کی پیروی |
433 |
نمازی کی کیفیت کیسی ہونی چاہیے؟ |
447 |
|
حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا بارگاہ ِالٰہی میں قُربِ خاص |
433 |
اُونگھتےہوئےنماز پڑھنا |
448 |
|
علم و معرفت والے ہی اللہسےڈرتے ہیں ۔ |
434 |
اونگھ اورنیند کامفہوم |
448 |
|
حضور عَلَیْہِ السَّلَامکے نفلی روزے |
435 |
نمازودعامیں احتیاط ضروری ہے۔ |
449 |
|
مرید کے لئے احتیاط |
435 |
نیند و اُونگھ سے متعلق چندضروری مسائل |
449 |
|
مدنی گلدستہ |
436 |
مدنی گلدستہ |
450 |
|
حدیث نمبر:144 |
437 |
حدیث نمبر:148 |
450 |
|
غلو کی مذمت |
437 |
حضور عَلَیْہِ السَّلَامکی نماز اور خطبہ کی کیفیت |
450 |
|
حدیث پاک کی باب سے مناسبت |
438 |
رسول اللہ جَوَامِعُ الْکَلِم تھے۔ |
451 |
|
تین بار ارشاد فرمانے کی وجہ |
438 |
خطبہ کےآداب |
451 |
|
گفتگومیں تکلف کرنے کی ممانعت |
438 |
مدنی گلدستہ |
452 |
|
مدنی گلدستہ |
439 |
حدیث نمبر:149 |
452 |
|
حدیث نمبر:145 |
439 |
حق دارکواس کاحق دو۔ |
452 |
|
دین آسان ہے۔ |
439 |
مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ |
454 |
|
اُمت محمدیہ کے لئے آسانیاں |
440 |
عبادت میں حدسے زیادہ نہ بڑھنے کی حکمت |
454 |
|
میانہ روی منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے ۔ |
441 |
نفلی روزہ توڑنے کے احکام |
455 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
مدنی گلدستہ |
455 |
با ب نمبر: 15 |
479 |
|
حدیث نمبر:150 |
456 |
اَعمال پرمُحَافَظَت کے بارے میں باب |
479 |
|
صوم داؤدی کی فضیلت |
456 |
(1)مؤمنوں کے دِل یادِالہی میں جھک جاتے ہیں ۔ |
479 |
|
عبادات میں میانہ روی کی ترغیب |
461 |
(2)رہبانیت کی ابتدا |
480 |
|
کونسی قسم توڑ دینی چاہیے؟ |
461 |
(3)بے وقوف عورت |
481 |
|
بعض قسموں کا پوراکرنا ضروری ہے۔ |
462 |
(4) مرتے دم تک عبادتِ الٰہی |
481 |
|
ناپسندیدہ عمل |
463 |
حدیث نمبر:153 |
482 |
|
سَیِّدُنَاداؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی جرأت مندی |
463 |
وظائف پورے کرنے کی ترغیب |
482 |
|
صوم داؤدی صوم دہر سے افضل ہے ۔ |
463 |
فضلِ خدا وندی |
482 |
|
صوم دھرکے جائز ہونے کی شرط |
464 |
نفلی روزے کی نیت کا وقت |
483 |
|
صومِ داؤدی کی وجوہِ ترجیح |
464 |
دن اوررات ایک دوسرےکےخلیفہ ہیں ۔ |
483 |
|
ایک اشکال اور اس کاجواب |
465 |
مدنی گلدستہ |
484 |
|
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حکیمانہ انداز |
466 |
حدیث نمبر:154 |
485 |
|
مدنی گلدستہ |
467 |
تہجد پابندی سے اداکرنی چاہیے۔ |
485 |
|
حدیث نمبر:151 |
468 |
نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنا مستحب ہے۔ |
485 |
|
کاتبِِ وحی کا تقویٰ |
468 |
تہجد گزار کاتہجد چھوڑنا بُرا ہے۔ |
486 |
|
محفل نبوی کی برکتیں |
469 |
مدنی گلدستہ |
486 |
|
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاانوکھااندازِبیان |
470 |
حدیث نمبر:155 |
487 |
|
ایک بات تین بارکیوں ارشادفرمائی؟ |
471 |
تہجد کے بدلے بارہ رکعتیں |
487 |
|
اپنے اوقات کی تقسیم کاری |
471 |
اوراد ووظائف پر محافظت |
487 |
|
حضور عَلَیْہِ السَّلَامکی صحبت کا اثر |
472 |
رات کی نماز سےکونسی نمازمرادہے؟ |
487 |
|
مدنی گلدستہ |
474 |
زوال سے پہلے بارہ 12رکعتیں |
488 |
|
حدیث نمبر:152 |
475 |
رات میں کثرت نوافل کی پانچ حکایات |
488 |
|
ابو اِسرائیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی انوکھی نذر |
475 |
مدنی گلدستہ |
490 |
|
کون ساعمل عبادت ہے؟ |
476 |
با ب نمبر:16 |
491 |
|
جائزکام کی منت پوری کرنا ضروری ہے۔ |
476 |
سنت اور اس کے آداب کی مُحافظت کے حکم کابیان |
491 |
|
خطبہ بیٹھ کرسننا سنت ہے۔ |
477 |
(1)رسولِ خداجو عطافرمائیں وہ لے لو۔ |
491 |
|
قسم کا کفارہ |
477 |
(2)رسول خدا کی ہربات حق ہے۔ |
492 |
|
مدنی گلدستہ |
478 |
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دوستی کاراز |
493 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
(4)کامیابی کا راز |
494 |
عاملین قرآن و سنت کا جنت میں داخلہ |
510 |
|
(5)حضور عَلَیْہِ السَّلَام کوحاکم نہ ماننےوالا |
495 |
جنت کا مستحق مسلمان ہے کافر نہیں ۔ |
511 |
|
(6)اللہ ورسول کی طرف رجوع کا حکم |
496 |
دعوتِ اسلام ٹھکرانے کا انجام |
511 |
|
(7)رسول کا حکم ماننا اللہ کا حکم ماننا ہے۔ |
496 |
مدنی گلدستہ |
512 |
|
(8) ہادیٔ کونَین |
498 |
حدیث نمبر:159 |
512 |
|
(9)منافقین کےلئےوعید |
498 |
حکم نبوی پرعمل نہ کرنےکی سزا |
512 |
|
(10)اُمہاتُ المؤمنین پر خاص کرم |
499 |
وہ شخص کون تھا؟ |
513 |
|
حدیث نمبر:156 |
499 |
تکبر کا وبال |
513 |
|
کثرتِ سوال سے بچو۔ |
499 |
اُلٹے ہاتھ سے کھانا |
514 |
|
سبب حدیث |
500 |
رسول اللہ نےدعا ئے ضرر کیوں کی ؟ |
514 |
|
جتنا کہا جائے اتنے پر عمل کرو |
500 |
تکبُّر کی وجہ سے پیدا ہونے والی چند بُرائیاں |
515 |
|
کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاکت |
501 |
اسرائیلی عبادت گزار اور گنہگار |
515 |
|
عذرشرعی کی بِناپراحکام میں تخفیف |
501 |
مدنی گلدستہ |
516 |
|
عدم جواز کے لیے دلیل ضروری ہے۔ |
501 |
حدیث نمبر:160 |
517 |
|
مدنی گلدستہ |
502 |
صفیں سیدھی رکھنے کا حکم |
517 |
|
حدیث نمبر:157 |
503 |
صفوں کی درستگی میں صحابہ کرام کا عمل |
518 |
|
رسول اللہ کی صحابہ کرام کو وصیت |
503 |
اختلاف پیدا ہونے سے کیامراد ہے؟ |
518 |
|
آخرت کاخوف دلانے والاوعظ |
503 |
صفوں کےدرمیان خالی جگہ پُرکرنا |
519 |
|
الوداعی نصیحت کی کیفیت |
504 |
رسول کریم کا اندازِ تعلیم |
520 |
|
تقویٰ کی اقسام اور ان کے شرعی احکام |
505 |
صفوں کی درستگی وظاہری آداب |
521 |
|
کیاغلام حاکم وامیر بن سکتاہے؟ |
506 |
مدنی گلدستہ |
522 |
|
رسول خدا کاعلم غیب |
506 |
حدیث نمبر:161 |
522 |
|
وِصال ظاہری کے بعداختلافات |
507 |
آ گ انسانوں کی دشمن ہے۔ |
522 |
|
ہرسنت لائق اتباع ہے۔ |
507 |
سنت پرعمل نہ کرنےکا نقصان |
523 |
|
مدنی گلدستہ |
508 |
آگ کی دشمنی سےکیا مراد ہے؟ |
523 |
|
حدیث نمبر:158 |
509 |
رسول اللہ کا مشورہ |
524 |
|
جنت میں داخلہ کس کے لئے ممنوع؟ |
509 |
کیا ہر قسم کی آگ بجھا دینی چاہیے؟ |
524 |
|
مُنکر سےکیامرادہے؟ |
509 |
سونےسےپہلےکی احتیاطی تدابیر |
525 |
|
کیاگنہگار مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے؟ |
510 |
مدنی گلدستہ |
525 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
حدیث نمبر:162 |
526 |
ایک اِشکال اور اُس کا جواب |
547 |
|
علم سیکھنے اور سکھانے واےکی مثال |
526 |
مدنی گلدستہ |
548 |
|
تین قسم کے لوگ تین زمینوں کی مانند ہیں ۔ |
527 |
حدیث نمبر:166 |
549 |
|
دین سےفائدہ اٹھانےاورنہ اٹھانےوالے |
528 |
بِلاضرورت کنکرپھینکنا منع ہے۔ |
549 |
|
رحمت کا بادل |
530 |
کنکر مارنے سے متعلق وضاحت |
550 |
|
مدنی گلدستہ |
530 |
قطع تعلق کر نے کے بارے میں وضاحت |
550 |
|
حدیث نمبر:163 |
531 |
مدنی گلدستہ |
551 |
|
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی اپنی اُمّت پرشفقت |
531 |
حدیث نمبر :167 |
551 |
|
انسانوں اورپروانوں کے درمیان وجہ تشبیہ |
531 |
حجر اَسود کا بوسہ |
551 |
|
گرتے ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ |
532 |
سَیِّدُنَافاروق اعظم کے قول کی توجیہ |
552 |
|
دنیا کی لذّ تیں آگ ہیں ۔ |
532 |
حجر اسود کے پاس رونا |
552 |
|
مدنی گلدستہ |
533 |
سَیِّدُنَافاروق اعظم اورفتنے کا سدباب |
553 |
|
حدیث نمبر:164 |
534 |
حجر اسود کا نفع ونقصان دینا |
553 |
|
آداب طعام (یعنی کھانے کے آداب) |
534 |
حجراسود کی خصوصیات |
555 |
|
کھانے کی سنتیں |
535 |
مدنی گلدستہ |
556 |
|
برکت کا معنی |
535 |
با ب نمبر: 71 |
557 |
|
متکبرین کا طریقہ |
536 |
اطاعتِ خداوندی کا وجوب |
557 |
|
کھانے کا ضیاع |
536 |
(1)حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سب کے حاکم ہیں ۔ |
558 |
|
تنگی رزق کی ایک وجہ |
537 |
رسول اللہ کے حکم کا منکر اِسلام سے خارج ہے۔ |
559 |
|
آداب طعام کا مطالعہ کیجئے۔ |
537 |
(2)فلاح پانےوالےلوگ کون ہیں ؟ |
559 |
|
مدنی گلدستہ |
538 |
حکم پیغمبر میں عقل کو دخل نہ دو۔ |
560 |
|
حدیث نمبر:165 |
539 |
اللہ ورسول کی اطاعت بڑی کامیابی ہے۔ |
560 |
|
قیامت کے دِن اُٹھائے جانے کا حال |
539 |
اَحکام الٰہی میں غور وفکر کرنے والا نوجوان |
561 |
|
ایک اعتراض کا جواب |
540 |
حدیث نمبر:168 |
563 |
|
روزقیامت سب سے پہلے لباس پہننے والے |
541 |
رب تعالی طاقت سےزیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ |
563 |
|
ایک اشکال اور اس کاجواب |
541 |
آیت کے منسوخیت سے متعلق اَقوال |
565 |
|
قیامت کے دن انبیائے کرام کے اٹھنے کی حالت |
543 |
ذہن میں وارد ہونے والے پانچ اُمور |
566 |
|
رسول اللہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ |
544 |
اچھائی و برائی کا اِرادہ اور اُن کا اجر |
567 |
|
قیامت میں کن لوگوں کو لایا جائے گا؟ |
546 |
غیر اختیاری خیالات معاف ہیں ۔ |
567 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
خطا ، نسیان اور جبری کام پر مؤاخذہ نہیں ۔ |
568 |
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خطبے کی کیفیت |
590 |
|
پچھلی اُمتوں کے سخت احکام |
568 |
بعثت نبی اکرم اورقیامت کا درمیانی فاصلہ |
591 |
|
وسوسوں پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔ |
569 |
ہدایت کی غیر اللہ کی طرف اضافت |
592 |
|
وسوسے شیطان کی طرف سے ہیں ۔ |
569 |
کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟ |
593 |
|
وسوسوں کے آٹھ8 علاج |
570 |
بدعتی کی مذمت پرتین احادیث مبارکہ |
593 |
|
وسوسے کی تباہ کاری کی حکایت |
571 |
بدعتی کی مذمت پر تین اقوالِ بزرگانِ دین |
594 |
|
سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اور اُن کے فضائل وفوائد |
572 |
حضورعَلَیْہِ السَّلَام مؤمنین کی جانوں کے زیادہ حق دار ہیں ۔ |
594 |
|
مدنی گلدستہ |
575 |
حضورعَلَیْہِ السَّلَام حاضر وناظر ہیں ۔ |
595 |
|
با ب نمبر :18 |
577 |
آقا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کااپنی اُمت پراحسان |
595 |
|
نئی باتوں اور نئے اُمور سے ممانعت کا باب |
577 |
لشکرسےکون سا لشکرمرادہے؟ |
596 |
|
(1)حق کے بعد صرف گمراہی ہی ہے۔ |
577 |
مدنی گلدستہ |
597 |
|
(2)کتاب میں ہرچیز کاعلم موجود ہے۔ |
578 |
باب نمبر : 19 |
599 |
|
(3)ہرمسئلے کاحل بارگاہِ رسالت |
579 |
اچھے یا برے کا م کی بنیاد ڈالنا |
599 |
|
(4)سیدھا راستہ ایک ہی ہے۔ |
579 |
(1)ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔ |
599 |
|
(5)رسول اللہ کافرمانبرداررب تعالی کا دوست ہے۔ |
580 |
امامت وپیشوائی کی طلب سے متعلق اہم وضاحت |
600 |
|
حدیث نمبر:169 |
581 |
(2)رب تعالی کےحکم سے دین کی طرف بلانے والے |
601 |
|
دین میں نئی بات ایجادکرنےوالامردودہے۔ |
581 |
حدیث نمبر:171 |
601 |
|
مذکورہ حدیثِ پاک کی اہمیت |
582 |
نیک یا بُرےعمل اِیجاد کرنے کی جَزاءیاسزا |
601 |
|
بدعت کسے کہتے ہیں ؟ |
582 |
رسول اللہ کی دو عظیم سُنَّتِیں |
604 |
|
بدعت کی اَقسام اور اُن کی مثالیں |
583 |
حضورعَلَیْہِ السَّلَام کا چہرۂ انور متغیر ہونے کی وجہ |
605 |
|
بدعت کی قسموں کی پہچان اور علامتیں |
584 |
نیک مقاصد کے لئےلوگوں کوجمع کرنامستحب ہے۔ |
605 |
|
اِسلام میں اچھا اور بُرا طریقہ اِیجاد کرنا |
585 |
مسجد میں چندہ کرنے کی شرعی حیثیت |
605 |
|
حدیث الباب کی شرح |
586 |
اچھے کام کو جاری کرنے، بُرے کام سے رُکنے کی ترغیب |
606 |
|
کیامیلادو فاتحہ خوانی بدعت ہیں ؟ |
586 |
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے خوش ہونے کی وجہ |
607 |
|
کیاصحابہ کرام کے نہ کرنے سےکوئی فعل ناجائزہوجاتاہے؟ |
587 |
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا جذبۂ جہاد |
608 |
|
خلافِ اسلام عقائد باطل ومردودہیں ۔ |
587 |
مدنی گلدستہ |
609 |
|
مدنی گلدستہ |
588 |
حدیث نمبر:172 |
610 |
|
حدیث نمبر:170 |
589 |
ہر ناحق قتل کا گناہ قابیل کے سر پر ہے۔ |
610 |
|
رسول اللہ کاخطبہ مبارک |
589 |
یہ حدیث قواعدِاِسلامِیَّہ میں سے ہے۔ |
611 |
|
مضامین |
صفحہ |
مضامین |
صفحہ |
|
ناحق قتل کی قرآن پاک میں مذمت |
611 |
انبیاء، صحابہ ، اولیاء، علماءکی شان وعظمت |
632 |
|
ناجائز کام میں مددکرنا بھی ناجائزہے۔ |
612 |
علم وحکمت کے مدنی پھول |
633 |
|
حضرت سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کا پہلا بیٹا |
612 |
گناہ کی طرف رہنمائی کرنےوالے کی توبہ! |
635 |
|
قاتل کا نام اور قتل کی جگہ |
612 |
کھوٹا سکہ چلانے کا گناہ |
636 |
|
ہابیل وقابیل کاتفصیلی واقعہ |
613 |
لوگوں کوگمرا ہ کرنے کی سزا |
636 |
|
ناحق قتل کرنےوالےقابیل کےپیروکارہیں ۔ |
614 |
دیگرلوگوں کے اعمال کی جزا یا سزاکے متعلق اہم وضاحت |
637 |
|
ایک اہم وضاحت |
614 |
مدنی گلدستہ |
638 |
|
بُرا کام اِیجاد کرنے والے کی مثال اورتوبہ |
615 |
حدیث نمبر:175 |
639 |
|
گلوکار کیسے سُدھرا۔۔۔؟ |
616 |
کفار کو دعوت اسلام کی ترغیب |
639 |
|
مدنی گلدستہ |
619 |
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول سے محبت |
641 |
|
باب نمبر:20 |
621 |
جنگ خیبرکاپس منظروفتح خیبر |
641 |
|
بھلائی پر رہنمائی،ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانےکاباب |
621 |
نبوت کی دوعلامتیں |
642 |
|
(1)کفارومشرکین کو اسلام کی دعوت دو۔ |
622 |
سُرخ اُونٹوں کی مثال دینےکامقصد |
643 |
|
(2)لوگوں کو حکمت سے رب تعالی کی طرف بلاؤ۔ |
622 |
شیر خدا کی طاقت وجُرأت |
643 |
|
(3)نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مددکرو۔ |
623 |
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لُعاب دہن کی برکتیں |
643 |
|
(4)مسلمانوں کاایک گروہ بھلائی کی طرف بلاتا رہے۔ |
624 |
سَیِّدُنَاعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاجذبۂ جہاد |
644 |
|
نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا بہترین جہاد ہے۔ |
625 |
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاعلم غیب |
644 |
|
حدیث نمبر:173 |
626 |
جنگ سے پہلےدعوت اسلام دینےکی شرعی حیثیت |
645 |
|
بھلائی کی طرف رہنمائی کرنےکی فضیلت |
626 |
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کالُعَاب دَہن |
646 |
|
مذکورہ حدیث پاک کا پس منظر |
626 |
مدنی گلدستہ |
648 |
|
نیکی پررہنمائی کرنے اور نیکی کرنے والے کے اجر کی توضیح |
627 |
حدیث نمبر:176 |
650 |
|
بھلائی کی طرف رہنمائی والے اُمور |
627 |
بھلائی پررہنمائی کرنا رسول اللہ کی سنت ہے۔ |
650 |
|
نیکی کی طرف رہنمائی کی مختلف صورتیں |
628 |
قبیلہ اسلم کا مختصر تعارف |
651 |
|
نیکی کی طرف رہنمائی کی مختلف صورتوں کی مثالیں |
628 |
صحابہ کرام کی حکم کی تعمیل میں جلدی |
651 |
|
مدنی گلدستہ |
629 |
نیکی کی طرف رہنمائی اور باب سے مناسبت |
652 |
|
حدیث نمبر:174 |
630 |
کوئی نیک کام متعذرہوجائے تو۔۔۔! |
652 |
|
بُرائی کی طرف رہنمائی کرنےکی مذمت |
630 |
نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والوں کے چمکتے چہرے |
653 |
|
ہدایت کی اقسام |
631 |
مدنی گلدستہ |
654 |
|
خوش قسمت اور بد قسمت لوگ |
631 |
ماخذومراجع |
673 |
|
قرآن مجید |
کلام الہی |
**** |
|
کتاب کا نام |
مصنف/مؤلف/متوفیٰ |
مطبوعات |
|
کنزالایمان |
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ |
|
کتب التفسیر |
||
|
تفسیر الطبری |
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری ،متوفی۳۱۰ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۰ھ |
|
تفسیر البغوی |
امام ابو محمد الحسین بن مسعود فراء بغوی ،متوفی۵۱۶ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۴ھ |
|
التفسیر الکبیر |
امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی، متوفی۶۰۶ھ |
دار احیاء التراث بیروت۱۴۲۰ھ |
|
تفسیر البیضاوی |
امام ناصر الدین عبد اللہ بن عمر بن محمدشیرازی بیضاوی،متوفیٰ ۶۸۵ ھ |
دارالفکر بیروت۱۴۲۰ھ |
|
تفسیر الخازن |
علامہ علاء الدین علی بن محمدبغدادی، متوفی۷۴۱ھ |
اکوڑہ خٹک نوشہرہ |
|
تفسیر ابن کثیر |
عماد الدین اسماعیل بن عمر ابن کثیر دمشقی ،متوفی۷۷۴ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۹ھ |
|
الدر المنثور |
امام جلال الدین بن ابی بکر سیوطی، متوفی۹۱۱ھ |
دار الفکر بیروت۱۴۰۳ھ |
|
روح البیان |
مولی الروم شیخ اسماعیل حقی بروسی، متوفی۱۱۳۷ھ |
کوئٹہ ۱۴۱۹ھ |
|
حاشیۃ الصاوی علی الجلالین |
احمد بن محمد صاوی مالکی خلوفی، متوفی۱۲۴۱ھ |
باب المدینہ کراچی۱۴۲۱ھ |
|
روح المعانی |
ابو الفضل شہاب الدین سید محمود آلوسی، متوفی۱۲۷۰ھ |
دار احیاء التراث بیروت۱۴۲۰ھ |
|
خزائن العرفان |
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی، متوفی۱۳۶۷ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ |
|
تفسیرنعیمی |
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ |
ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور |
|
نورالعرفان |
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ |
پیربھائی کمپنی لاہور |
|
کتب الحدیث |
||
|
المؤطا |
امام مالک بن انس اصبحی المدنی، متوفی۱۷۹ھ |
دارالمعرفہ بیروت۱۴۲۰ھ |
|
مصنف عبد الرزاق |
امام ابوبکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع صنعانی، متوفی ۲۱۱ھ |
دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ |
|
المسند |
امام احمد بن محمد بن حنبل، متوفی۲۴۱ھ |
دار الفکربیروت۱۴۱۴ھ |
|
صحیح البخاری |
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ |
دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ |
|
الادب المفرد |
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ |
تاشقندازبکسان۱۳۹۰ھ |
|
صحیح مسلم |
امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی۲۶۱ھ |
دار المغنی عرب شریف ۱۴۱۹ھ |
|
سنن ابن ماجہ |
امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ، متوفی۲۷۳ھ |
دار المعرفہ بیروت۱۴۲۰ھ |
|
سنن ابی داود |
امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی۲۷۵ھ |
دار احیاء التراث بیروت ۱۴۲۱ھ |
|
سنن الترمذی |
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ |
دار المعرفہ بیروت۱۴۱۴ھ |
|
مکارم الاخلاق |
حا فظ امام ابوبکر عبد اللہ بن محمدقُرشی ،متوفی۲۸۱ھ |
دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ |
|
سنن الدار قطني |
امام علی بن عمر دار قطنی، متوفی۲۸۵ھ |
مدینۃ الاولیاء ملتان |
|
شرح معانی الآثار |
امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی، متوفی ۳۲۱ھ |
دارالکتب العلمیہ۱۴۲۲ھ |
|
المعجم الکبیر |
امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، متوفی۳۶۰ھ |
دار احیاء التراث بیروت ۱۴۲۲ھ |
|
المعجم الاوسط |
امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ،متوفی۳۶۰ھ |
دار احیاء التراث بیروت ۱۴۲۲ھ |
|
المستدرک علی الصحیحین |
امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری، متوفی۴۰۵ھ |
دار المعرفہ بیروت ۱۴۱۸ھ |
|
حلیۃ الاولیاء |
حافظ ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی شافعی، متوفی۴۳۰ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ |
|
شعب الإیمان |
امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی، متوفی۴۵۸ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ |
|
الترغیب والترھیب |
امام زکی الدین عبد العظیم بن عبد القوی منذری،متوفی۶۵۶ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۸ھ |
|
المتجر الرابح |
حافظ محمد شرف الدین عبد المؤمن بن خلف دمیاطی، متوفی ۷۰۵ھ |
دارخضر بیروت ۱۴۲۲ھ |
|
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان |
علامہ امیر علاء الدین علی بن بلبان فارسی، متوفی۷۳۹ ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۷ھ |
|
مشکاۃ المصابیح |
علامہ ولی الدین تبریزی، متوفی۷۴۲ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ |
|
مجمع الزوائد |
حافظ نور الدین علی بن ابی بکر ہیتمی، متوفی۸۰۷ھ |
دار الفکر بیروت۱۴۲۰ھ |
|
کنز العمال |
علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی برہان پوری،متوفی۹۷۵ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ |
|
کشف الخفاء |
امام اسماعیل بن محمدالعجلونی الشافعی، متوفی ۱۱۶۲ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
کتب شروح الحدیث |
||
|
شرح صحیح البخاری لابن بطال |
ابو الحسن علی بن خلف بن عبداللہ، متوفی۴۴۹ھ |
مکتبۃ الرشدریاض۱۴۲۰ھ |
|
اکمال المعلم شرح مسلم |
الحافظ ابو الفضل عیاض بن موسی بن عیاض الیحصبی،متوفی۵۴۴ھ |
دار الوفاءبیروت۱۴۱۹ھ |
|
کشف المشکل |
ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ |
دارالوطن ریاض ۱۴۱۸ھ |
|
شرح النووی علی المسلم |
امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی، متوفی۶۷۶ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۰۱ھ |
|
الاربعین النوویۃ |
امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی، متوفی۶۷۶ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۵ھ |
|
شرح الطیبی |
امام شرف الدین الحسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی، متو فی ۷۴۳ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۲ھ |
|
فتح الباری |
امام حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، متوفی۸۵۲ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۰ھ |
|
عمدۃ القاری |
امام بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی، متوفی۸۵۵ھ |
دارالفکر بیروت ۱۴۱۸ھ |
|
شرح سنن ابی داود |
امام بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی، متوفی۸۵۵ھ |
مکتبۃ الرشدریاض۱۴۲۰ھ |
|
ارشاد الساری |
علامہ شہاب الدین احمد قسطلانی، متوفی۹۲۳ھ |
دارالفکر بیروت |
|
مرقاۃ المفاتیح |
علامہ ملا علی بن سلطان قاری ،متوفی۱۰۱۴ھ |
دار الفکر بیروت ۱۴۱۴ھ |
|
فیض القدیر |
علامہ محمد عبد الرء وف مناوی، متوفی۱۰۳۱ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۲ھ |
|
اشعۃ اللمعات |
شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی، متوفی۱۰۵۲ ھ |
کوئٹہ۱۳۳۲ھ |
|
لمعات التنقیح |
شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی، متوفی۱۰۵۲ ھ |
مرکزالاولیاء لاہور |
|
دلیل الفالحین |
محمد علی بن محمد علان بن ابراہیم شافعی، متوفی۱۰۵۷ ھ |
دار المعرفہ بیروت۱۴۳۱ھ |
|
شرح الزرقانی علی المؤطا |
محمدزرقانی بن عبدالباقی بن یوسف، متوفی۱۱۲۲ھ |
داراحیاء التراث بیروت ۱۴۱۷ھ |
|
مرآۃ المناجیح |
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ |
ضیاء القرآن پبلی کیشنز |
|
نزہۃ القاری |
علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی، متوفی۱۴۲۰ھ |
برکاتی پبلشرزکھارادرکراچی |
|
تفہیم البخاری |
علامہ غلام رسول رضوی |
تفہیم البخاری پبلیکیشنز فیصل آباد |
|
فیوض الباری |
علامہ سید محمود احمد رضوی |
مکتبہ رضوان دا تا دربار روڈلاہور |
|
کتب العقائد |
||
|
جاء الحق |
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ |
ضیاء القرآن پبلی کیشنز |
|
کتب الفقہ |
||
|
المبسوط |
شمس الائمہ محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی متوفی۴۸۳ھ |
دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ |
|
المیزان الکبری |
عبد الوہاب بن احمد بن علی احمدشعرانی متوفی ۹۷۳ھ |
مصطفی البابی مصر |
|
نورالایضاح مع مراقی الفلاح |
علامہ حسن بن عمار بن علی شرنبلالی، متوفی۱۰۶۹ ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ |
|
رد المحتار |
محمد امین ابن عابدین شامی، متوفی۱۲۵۲ھ |
دار المعرفہ بیروت۱۴۲۰ھ |
|
فتاویٰ رضویہ |
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ |
رضا فاؤنڈیشن لاہور |
|
بہارشریعت |
مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
فتاویٰ امجدیہ |
مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ |
مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی۱۴۱۷ھ |
|
اِسلامی بہنوں کی نماز |
امیراہلسنت مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
کتب التصوف |
||
|
الزھد |
شیخ الاسلام عبد اللہ بن مبارک المروزی، متوفی ۱۸۱ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
الطبقات الکبری |
محمد بن سعد بن منیع ہاشمی ، متوفی۲۳۰ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۸ھ |
|
الرسالۃ القشیریۃ |
امام ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری، متوفی۴۶۵ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ |
|
احیاء علوم الدین |
امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی۵۰۵ھ |
دار صادر بیروت۱۴۲۰ھ |
|
احیاء العلوم |
امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی۵۰۵ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۳ھ |
|
لباب الاحیاء |
امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی۵۰۵ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
کیمیائے سعادت |
امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی۵۰۵ھ |
انتشارات گنجینہ تہران |
|
مجموعہ رسائل اِمام غزالی |
امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی۵۰۵ھ |
دارالفکر بیروت |
|
بھجۃ الاسرار |
ابو الحسن نور الدین علی بن یوسف شطنوفی، متوفی۷۱۳ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۳ھ |
|
شرح الصدور |
امام جلال الدین بن ابی بکر سیوطی، متوفی۹۱۱ھ |
مرکزاہلسنت برکات رضا ہند۱۴۲۳ھ |
|
الحدیقۃ الندیۃ |
سیدی عبد الغنی نابلسی حنفی، متوفی۱۱۴۱ھ |
پشاورپاکستان |
|
درۃ الناصحین |
علامہ عثمان بن حسن خوبوی، متوفی ۱۲۴۱ھ |
دارالفکر بیروت |
|
باطنی بیماریوں کی معلومات |
شعبہ بیانات دعوت اسلامی، المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی |
مکتبۃ المدینہ کراچی ۱۴۳۵ھ |
|
کتب السیرۃ |
||
|
الخیرات الحسان |
حافظ احمد بن حجر مکی ہیتمی،متوفی۹۷۴ھ |
مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی |
|
مدارج النبوۃ |
شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی،متوفی۱۰۵۲ ھ |
نوریہ رضویہ لاہور۱۴۱۷ھ |
|
شرح المواھب |
محمدزرقانی بن عبدالباقی بن یوسف، متوفی۱۱۲۲ھ |
دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۷ھ |
|
سیرت مصطفےٰ |
علامہ عبد المصطفے اعظمی متوفی۱۴۰۶ھ |
مکتبۃالمدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
کرامات صحابہ |
علامہ عبد المصطفے اعظمی متوفی۱۴۰۶ھ |
مکتبۃالمدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
کتب الأعلام |
||
|
الکامل فی ضعفاء الرجال |
امام ابو احمد عبد اللہ بن عدی الجرجانی، متوفی ۳۶۵ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
صفۃ الصفوۃ |
ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۳ھ |
|
تھذیب الاسماء واللغات |
ابو زکریایحییٰ بن شرف النووی الدمشقی، متوفی،۶۷۶ھ |
دار الفکر بیروت۱۴۱۶ھ |
|
اسد الغابۃ |
امام حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، متوفی۸۵۲ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۷ھ |
|
الکتب المتفرقۃ |
||
|
المجالسۃ وجواھر العلم |
ابوبکراحمد بن مروان الدینوری المالکی، متوفی ۳۳۳ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
العظمۃ |
ابومحمدعبداللہ بن محمدبن جعفر بن حیان ابوالشیخ الاصبہانی، متوفی ۳۶۹ھ |
دارالعاصمہ ریاض |
|
تنبیہ الغافلین |
فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی، متوفی۳۷۳ھ |
دار الکتاب العربی بیروت۱۴۲۰ھ |
|
عیون الحکایات |
ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۴ھ |
|
عیون الحکایات |
ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۸ھ |
|
التذکرۃ باحوال الموتی وامور الآخرۃ |
ابوعبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی، متوفی ۶۷۱ھ |
دارالسلام قاہرہ مصر۱۴۲۹ھ |
|
روض الریاحین |
امام عبد اللہ بن اسعد الیافعی ،متوفی۷۶۸ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ |
|
جامع العلوم والحکم |
ڈاکٹرمحمدبکر اسماعیل متوفی ۷۹۵ھ |
الفیصلیہ مکہ مکرمہ |
|
الروض الفائق |
مبلغ اسلام الشیخ شعیب حریفیش، متوفی ۸۱۰ھ |
داراحیاء التراث بیروت۱۴۱۶ھ |
|
حکایتیں اور نصیحتیں |
مبلغ اسلام الشیخ شعیب حریفیش، متوفی ۸۱۰ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
نزھۃ المجالس |
علامہ عبد الرحمٰن بن عبدالسلام الصفوری الشافعی، متوفی۸۹۴ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۹ھ |
|
اَخلاق الصالحین |
علامہ ابو یوسف شریف کوٹلوی، متوفی۱۳۷۰ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۸ھ |
|
مقالات کاظمی |
غزالی زماں مولانا احمد سعید کاظمی، متوفی۱۴۰۶ھ |
مکتبہ ضیائیہ ضیاء العلوم راولپنڈی |
|
بہشت کی کنجیاں |
علامہ عبد المصطفے اعظمی متوفی۱۴۰۶ھ |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ |
|
تذکرۃ الواعظین |
علامہ محمد بن جعفر قریشی |
کوئٹہ پاکستان |
|
نیکی کی دعوت |
امیر اہلسنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ |
|
عاشقانِ رسول کی 130حکایات |
امیر اہلسنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی |
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۳ھ |
|
ثواب بڑھانے کے نسخے |
امیر اہلسنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی |
مکتبۃ المدینہ کراچی |
|
انمول ہیرے |
امیر اہلسنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی |
مکتبۃ المدینہ کراچی |
|
وسوسے اور ان کا علاج |
امیر اہلسنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی |
مکتبۃ المدینہ کراچی |
|
سنتیں اور آداب |
شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی |
مکتبۃ المدینہ کراچی |
|
تنگ دستی کے اسباب اور اس کا حل |
شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی |
مکتبۃ المدینہ کراچی |
|
کتب اللغات |
||
|
التعریفات للجرجانی |
سید شریف علی بن محمدبن علی الجرجانی، متوفی۸۱۶ھ |
دارالمنارللطباعۃوالنشر |
٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭ڄڄڄڄ٭
اُردو کُتُب
(1) راہِ خدامیں خرچ کرنے کے فضائل (رَادُّ الْقَحْطِ وَالْوَبَاء بِدَعْوَۃِ الْجِیْرَانِ وَمُوَاسَاۃِ الْفُقَرَاء)(کل صفحات:40)
(2) کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات (کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِم فِيْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِم)(کل صفحات:199)
(3) فضائل دعا( اَحْسَنُ الْوِعَاء لِآدَابِ الدُّعَاء مَعَہ ذَیْلُ الْمُدَّعَاء لِاَحْسَنِ الْوِعَاء)(کل صفحات:326)
(4) عیدین میں گلے ملنا کیسا؟(وِشَاحُ الْجِیْدفِيْ تَحْلِیْلِ مُعَانَقَۃِ الْعِیْد)(کل صفحات:55)
(5) والدین ،زوجین اور اساتذہ کے حقوق( اَلْحُقُوق لِطَرْحِ الْعُقُوْق)(کل صفحات:125)
(6) الملفوظ المعروف بہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت (مکمل چار حصے)(کل صفحات:561)
(7) شریعت وطریقت(مَقَالُ الْعُرَفَاء بِإِعْزَازِشَرْعٍ وَّعُلَمَاء)(کل صفحات:57)
(8) ولایت کا آسان راستہ (تصورِ شیخ) (اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃ)(کل صفحات:60)
(9) معاشی ترقی کا راز(حاشیہ و تشریح تدبیر فلاح ونجات واصلاح)(کل صفحات:41)
(10) اعلیٰ حضرت سے سوال جواب(إِظْھَارُ الْحَقِّ الْجَلِي)(کل صفحات:100)
(11) حقوقُ العباد کیسے معاف ہوں ؟(اَعْجَبُ الْاِمْدَاد)(کل صفحات:47)
(12) ثبوتِ ہلال کے طریقے(طُرُقُ إِثْبَاتِ ھِلَال)(کل صفحات:63)
(13) اولاد کے حقوق(مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد)(کل صفحات31)
(14) ایمان کی پہچان (حاشیہ تمہید ِ ایمان)(کل صفحات: 74)
(15) اَلْوَظِیْفَۃُالْکَرِیْمَۃ(کل صفحات:46)
(16) کنزالایمان مع خزائن العرفان(کل صفحات:1185)
(17) حدائق بخشش(کل صفحات:446)
(18) بیاض پاک حجۃالاسلام(کل صفحات:37)
(19) تفسیرصراط الجنان جلد اول(کل صفحات:524)
(20) تفسیرصراط الجنان جلد دوم(کل صفحات:495)
(21) تفسیرصراط الجنان جلد سوم(کل صفحات:573)
(22) تفسیرصراط الجنان جلد چہارم(کل صفحات:592)
(23) اعتقادالاحباب(دس عقیدے)(کل صفحات:200)
(24) جَدُّ الْمُمْتَارعَلٰی رَدِّالْمُحْتَار(سات جلدیں ))کل صفحات:4000)
(25) اَلتَّعْلِیْقُ الرَّضَوِی عَلٰی صَحِیْحِ الْبُخَارِی(کل صفحات: 458)
(26) کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِم(کل صفحات: 74)
(27) اَلاِْجَازَاتُ الْمَتِیْنَۃ(کل صفحات: 62)
(28) اَلزَّمْزَمَۃُ الْقَمَرِیَّۃ(کل صفحات: 93)
(29) اَلْفَضْلُ الْمَوْھَبِی(کل صفحات: 46)
(30) تَمْھیْدُ الْاِیْمَان(کل صفحات: 77)
(31) اَجْلَی الْاِعْلَام(کل صفحات:70)
(32) اِقَامَۃُ الْقِیَامَۃ(کل صفحات: 60)
(1) اللہ والوں کی باتیں (حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)پہلی جلد(کل صفحات:896)
(2) اللہ والوں کی باتیں (حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)دوسری جلد(کل صفحات:625)
(3) اللہ والوں کی باتیں (حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)تیسری جلد(کل صفحات:580)
(4) اللہ والوں کی باتیں (حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)چوتھی جلد(کل صفحات:510)
(5) مدنی آقا کے روشن فیصلے(اَلْبَاھِرفِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمْ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِر)(کل صفحات:112)
(6) سایۂ عرش کس کس کوملے گا...؟(تَمْھیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش)(کل صفحات:28)
(7) نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں (قُرَّۃُالْعُیوْن وَمُفَرِّحُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن)(کل صفحات:142)
(8) نصیحتوں کے مدنی پھول بوسیلۂ احادیثِ رسول(اَلْمَوَاعِظ فِی الْاَحَادِیْثِ الْقُدْسِیَّۃ)(کل صفحات:54)
(9) جنت میں لے جانے والے اعمال(اَلْمَتْجَرُ الرَّابِح فِیْ ثَوَابِ الْعَمَلِ الصَّالِح)(کل صفحات:743 )
(10) امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی وصیتیں (وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ) (کل صفحات:46)
(11) جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلداول)(اَلزَّوَاجِرعَنْ اِقْتِرَافِ الْکَبَائِر)(کل صفحات:853)
(12) نیکی کی دعوت کے فضائل(اَلْاَمْرُبِالْمَعْرُوْف وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَر)(کل صفحات:98)
(13) فیضان مزارات ِ اولیاء(کَشْفُ النُّوْرعَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر)(کل صفحات:144)
(14) دنیاسے بے رغبتی اورامیدوں کی کمی(اَلزُّھْدوَقَصْرُالْاَمَل)(کل صفحات:85)
(15) راہِ علم (تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّم طَرِیقَ التَّعَلُّم) (کل صفحات :102)
(16) عُیُوْنُ الْحِکَایَات( مترجم،حصہ اول)(کل صفحات:412)
(17) عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ دوم)(کل صفحات:413)
(18) احیاء العلوم کا خلاصہ (لُبَابُ الْاِحْیَاء) (کل صفحات: 41 6 )
(19) حکایتیں اورنصیحتیں (اَلرَّوْضُ الْفَائِق)(کل صفحات:649)
(20) اچھے بُرے عمل(رِسَالَۃُالْمُذَاکَرَۃ)(کل صفحات:122)
(21) شکرکے فضائل(اَلشُکْرُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ)(کل صفحات:122)
(22) حسنِ اخلاق( مَکَا رِمُ الْاَخْلَا ق)(کل صفحات:102)
(23) آنسوؤں کا دریا(بَحْرُالدُّمُوْع)(کل صفحات:300)
(24) آدابِ دین (اَلْاَدَبُ فِی الدِّیْن)(کل صفحات:63)
(25) شاہراہ اولیا(مِنْھَاجُ الْعَارِفِیْن)(کل صفحات:36)
(26) بیٹے کو نصیحت(اَیُّھَاالْوَلَد)(کل صفحات:64)
(27) اَلدَّعْوَۃ اِلَی الْفِکْر(کل صفحات:148)
(28) اصلاحِ اعمال جلد اول(اَ لْحَدِیْقَۃُالنَّدِیَّۃ شَرْحُ طَرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ)(کل صفحات:866)
(29) جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلددوم)(اَلزَّوَاجِرعَنْ اِقْتِرَافِ الْکَبَائِر)(کل صفحات:1012)
(30) عاشقانِ حدیث کی حکایات (اَ لرِّحْلَۃ فِی طَلْبِ الْحَدِیْث)(کل صفحات:105)
(31) احیاء العلوم جلداول(احیاء علوم الدین)(کل صفحات:1124)
(32) احیاء العلوم جلددوم (احیاء علوم الدین)(کل صفحات:1400)
(33) احیاء العلوم جلدسوم (احیاء علوم الدین)(کل صفحات:1286)
(34) قوت القلوب(اردو)(کل صفحات:826)
(35) 76کبیرہ گناہ(کل صفحات:264)
شعبۂ درسی کُتُب
(1)مراح الارواح مع حاشیۃضیاء الاصباح(کل صفحات:241)
(2)الاربعین النوویۃ فی الأحادیث النبویۃ(کل صفحات:155)
(3)اتقان الفراسۃ شرح دیوان الحماسہ(کل صفحات:325)
(4)اصول الشاشی مع احسن الحواشی(کل صفحات:299)
(5)نورالایضاح مع حاشیۃالنوروالضیاء(کل صفحات:392)
(6)شرح العقائدمع حاشیۃجمع الفرائد(کل صفحات:384)
(7)الفرح الکامل علی شرح مئۃ عامل(کل صفحات:158)
(8)عنایۃ النحو فی شرح ھدایۃ النحو(کل صفحات:280)
(9)صرف بھائی مع حاشیۃ صرف بنائی(کل صفحات:55)
(10)دروس البلاغۃ مع شموس البراعۃ(کل صفحات:241)
(11)مقدمۃالشیخ مع التحفۃالمرضیۃ(کل صفحات:119)
(12)نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر(کل صفحات:175)
(13)نحو میرمع حاشیۃ نحو منیر(کل صفحات:203) (14)تلخیص اصول الشاشی(کل صفحات:144)
(15)نصاب النحو(کل صفحات:288) (16)نصاب اصولِ حدیث(کل صفحات:95)
(17)فیضان تجوید(کل صفحات:112) (18)المحادثۃ العربیۃ(کل صفحات:101)
(19)تعریفاتِ نحویۃ(کل صفحات:45) (20)خاصیات ابواب(کل صفحات:141)
(21)شرح مئۃ عامل(کل صفحات:44) (22)نصاب الصرف(کل صفحات:343)
(23)نصاب المنطق(کل صفحات:168) (24)انوارالحدیث(کل صفحات:466)
(25)نصاب الادب(کل صفحات:184)
(26)تفسیرالجلالین مع حاشیۃانوارالحرمین(کل صفحات:364)
(27)خلفائے راشدین(کل صفحات:341) (28)قصیدہ بردہ مع شرح خرپوتی(کل صفحات:317)
(29)فیض الادب (مکمل حصہ اوّل ،دوم)(کل صفحات:228)
(30)منتخب الابواب من احیاء علوم الدین(عربی)(کل صفحات:173)
(31)کافیہ مع شرح ناجیہ(کل صفحات:252) (32)الحق المبین(کل صفحات:128)
(33)تیسیرمصطلح الحدیث(کل صفحات:188)
(34)شرح الجامی مع حاشیۃ الفرح النامی(کل صفحات:419)
(35)شرح الفقہ الاکبر(کل صفحات:213) (36)خلاصۃ النحو(حصہ اوّل)(کل صفحات:107)
(37)خلاصۃ النحو(حصہ دوم)(کل صفحات:108) (38)ریاض الصالحین(عربی)(کل صفحات: 108)
(39)المرقاۃ(کل صفحات:91)
شعبۂ تخریج
(1)صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا عشق رسول(کل صفحات :274)
(2)بہارشریعت ،جلد اوّل (حصہ اول تاششم،کل صفحات:1360)
(3)بہارشریعت جلددوم(حصہ 7تا13)(کل صفحات:1304)
(4)اُمہات المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ (کل صفحات :59)
(5)عجائب القرآن مع غرائب القرآن (کل صفحات :422)
(6)گلدستہ عقائد واعمال(کل صفحات:244)
(7)بہارشریعت (سولہواں حصہ،کل صفحات312)
(8)تحقیقات(کل صفحات:142) (9) اچھے ماحول کی برکتیں (کل صفحات:56)
(10)جنتی زیور (کل صفحات :679) (11)علم القرآن (کل صفحات244:)
(12)سوانح کربلا(کل صفحات:192) (13) اربعین حنفیہ(کل صفحات:112)
(14)کتاب العقائد(کل صفحات:64) (15)منتخب حدیثیں (کل صفحات:246)
(16)اسلامی زندگی(کل صفحات :170) (17)آئینہ قیامت (کل صفحات :108)
(18تا24)فتاویٰ اہل سنت (سات حصے) (25) حق وباطل کا فرق(کل صفحات:50)
(26)بہشت کی کنجیاں (کل صفحات:249) (27)جہنم کے خطرات(کل صفحات:207)
(28)کراماتِ صحابہ(کل صفحات:346) (29)اخلاق الصالحین (کل صفحات:78)
(30)سیرت مصطفی(کل صفحات:875) (31)آئینہ عبرت(کل صفحات:133)
(32)بہارشریعت جلد سوم(3)(کل صفحات : 1332)
(33)جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ(کل صفحات:470)
(34)فیضانِ نماز(کل صفحات:49) (35)19دُرُودوسلام(کل صفحات:16)
(36)فیضان یٰس شریف مع دعائے نصف شعبان المعظم(کل صفحات:20)
(37)مکاشفۃ القلوب(کل صفحات:692) (38)سرمایہ آخرت(کل صفحات:200)
(39)سیرتِ رسولِ عربی(کل صفحات:758)
شعبۂ فیضانِ صحابہ واھل بیت
(1) حضرت طلحہ بن عُبَیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:56)
(2) حضرت زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:72)
(3) حضرت سیدناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:89)
(4) حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:60)
(5) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:132)
(6) فیضانِ سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:32)
(7) فیضانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کل صفحات:720)
(8) فیضانِ فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جلد اوّل) (کل صفحات :864)
(9) فیضانِ فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جلددوم)(کل صفحات :856)
شعبۂ فیضانِ صحابیات
(1) شانِ خاتونِ جنّت(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) (کل صفحات:501)
(2) فیضانِ عائشہ صدیقہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) (کل صفحات:608)
(3) فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) (کل صفحات:84)
(4) فیضانِ امہات المؤمنین(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) (کل صفحات:367)
شعبۂ اِصلاحی کُتُب
(1)غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حالات (کل صفحات : 106)
(2)تکبر(کل صفحات
:97)
(3)40فرامین مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم (کل صفحات : 87)
(4)بدگُمانی (کل
صفحات : 57)
(5)قبرمیں آنے والادوست(کل صفحات:115) (6)نورکاکھلونا(کل
صفحات : 32)
(7)اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوششیں (کل صفحات :49) (8) فکرِ مدینہ (کل صفحات:164)
(9)امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟ (کل صفحات:32) (10)ریاکاری (کل صفحات
:170)
(11)قوم جِنّات اورامیراہلسنّت(کل صفحات :262 ) (12)عشرکے احکام
(کل صفحات :48)
(13) توبہ کی روایات وحکایات (کل صفحات:124) (14)فیضانِ
زکوٰۃ(کل صفحات :150)
(15) احادیثِ مبارکہ کے انوار (کل صفحات : 66) (16)تربیت ِ اولاد (کل
صفحات : 187)
(17)کامیاب طالب علم کون ؟ (کل صفحات : 63) (18)ٹی وی اور مُووی (کل
صفحات : 32)
(19)طلاق کے آسان مسائل (کل صفحات:30) (20)مفتی دعوتِ اسلامی(کل
صفحات:96)
(21) فیضانِ چہل احادیث (کل صفحات :120) (22)شرح شجرہ قادریہ (کل
صفحات : 215)
(23)نمازمیں لقمہ دینے کے مسائل (کل صفحات:39) (24)خوف ِخداعَزَّ وَجَلَّ (کل
صفحات:160)
(25)تعارفِ امیر اہلسنّت (کل صفحات : 100) (26)انفرادی کوشش (کل
صفحات:200)
(27)آیاتِ قرآنی کے انوار (کل صفحات :62)
(28)نیک بننے اوربنانے کے طریقے(کل صفحات:696)
(29)فیضانِ احیاء العلوم(کل
صفحات:325) (30)ضیائے صدقات (کل صفحات: 408)
(31)جنت کی دوچابیاں (کل صفحات:152) (32)کامیاب استاذ کون؟(کل
صفحات:43)
(33)تنگ دستی کے اسباب(کل صفحات:33)
(34)حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزکی
425حکایات(کل صفحات:590)
(35)حج وعمرہ کامختصرطریقہ(کل صفحات:48) (36)جلدبازی کے نقصانات(کل
صفحات:168)
(37)قصیدۂ بردہ سے روحانی علاج(کل صفحات:22) (38)تذکرہ
صدرالافاضل(کل صفحات:25)
(39)سنتیں اورآداب(کل صفحات:125) (40)بغض وکینہ(کل
صفحات:83)
(41)اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ1)(سابقہ نام:مدنی نصاب برائے مدنی قاعدہ)(کل
صفحات: 60)
(42)اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ2)(سابقہ نام:مدنی نصاب برائے ناظرہ)(کل صفحات:104
)
(43)اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ3)(کل صفحات:352) (44)مزارات
اولیا ء کی حکایات(کل صفحات:48)
(45)فیضانِ اسلام کورس حصہ اوّل(کل
صفحات:79) (46)فیضانِ اسلام کورس
حصہ دوم(کل صفحات:102)
(47)محبوبِ عطارکی122حکایات(کل صفحات:208) (48)بدشگونی(کل
صفحات:128)
(49)فیضانِ معراج(کل
صفحات:134) (50)نام
کے احکام(کل صفحات:180)
شعبۂ امیراہلسنت
(1)سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیغام عطار کے نام(کل صفحات : 49)
(2)مقدس تحریرات کے ادب کے بارے میں سوال جواب(کل صفحات: 48)
(3)اصلاح کاراز (مدنی چینل کی بہاریں حصہ دوم)(کل صفحات : 32)
(4)25کرسچین قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام(کل صفحات : 33)
(5)دعوتِ اسلامی کی جیل خانہ جات میں خدمات (کل صفحات : 24)
(6) وضوکے بار ے میں وسوسے اوران کاعلاج (کل صفحات: 48)
(7)تذکرۂ امیراہلسنّت قسط سوم (سنّت نکاح)(کل صفحات :86)
(8)آداب مرشدِ کامل (مکمل پانچ حصے ) (کل صفحات: 275)
(9)بُلندآوازسے ذکرکرنے میں حکمت (کل صفحات: 48) (10)قبر کھل گئی(کل صفحات :
48)
(11)پانی کے بارے میں اہم معلومات(کل صفحات: 48) (12)گونگا مبلغ (کل صفحات :
55)
(13) دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں (کل صفحات : 220) (14)گمشدہ دولہا(کل
صفحات:33)
(15)میں نے مدنی برقع کیوں پہنا؟(کل صفحات : 33) (16)جنوں کی
دنیا(کل صفحات : 32)
(17)تذکرۂ امیراہلسنّت قسط (2)(کل صفحات:48) (18)غافل درزی (کل
صفحات : 36)
(19)مخالفت محبت میں کیسے بدلی؟(کل صفحات: 33) (20)مردہ بول
اٹھا(کل صفحات:32)
(21)تذکرۂ امیراہلسنّت قسط (1)(کل صفحات:49) (22)کفن کی
سلامتی(کل صفحات: 32)
(23)تذکرۂ امیراہلسنّت( قسط 4)(کل صفحات : 49) (24)میں حیادارکیسے
بنی؟(کل صفحات:32)
(25)چل مدینہ کی سعادت مل گئی(کل صفحات : 32) (26)بدنصیب دولہا
(کل صفحات : 32)
(27)معذوربچی مبلغہ کیسے بنی؟(کل صفحات : 32) (28)بے قصورکی مدد(کل
صفحات : 32)
(29)عطاری جن کا غسلِ میِّت (کل صفحات:24) (30)ہیروئنچی کی توبہ (کل
صفحات : 32)
(31)نومسلم کی دردبھری داستان(کل صفحات : 32) (32)مدینے
کامسافر(کل صفحات :32)
(33) خوفناک دانتوں والابچہ(کل صفحات : 32) (34)فلمی اداکارکی
توبہ(کل صفحات : 32)
(35)ساس بہومیں صلح کا راز (کل صفحات : 32) (36)قبرستان کی چڑیل (کل
صفحات :24)
(37)فیضان امیراہلسنّت (کل صفحات : 101) (38)حیرت انگیزحادثہ(کل
صفحات:32)
(39)ماڈرن نوجوان کی توبہ(کل صفحات : 32) (40)کرسچین کاقبولِ
اسلام(کل صفحات : 32)
(41)صلوٰۃوسلام کی عاشقہ(کل صفحات : 33) (42)کرسچین مسلمان ہوگیا
(کل صفحات : 32)
(43)میوزکل شوکامتوالا(کل صفحات : 32) (44)نورانی چہرے
والے بزرگ(کل صفحات : 32)
(45)آنکھوں کاتارا(کل صفحات : 32) (46)ولی سے نسبت کی
برکت(کل صفحات : 32)
(47)بابرکت روٹی(کل صفحات : 32) (48)اغواشدہ بچوں کی
واپسی(کل صفحات : 32)
(49)میں نیک کیسے بنا(کل صفحات : 32) (50)شرابی،مؤذن
کیسے بنا(کل صفحات : 32)
(51)بدکردارکی توبہ(کل صفحات : 32) (52)خوش نصیبی کی کرنیں (کل
صفحات : 32)
(53)ناکام عاشق(کل صفحات : 32)
(54)میں نے
ویڈیوسینٹرکیوں بندکیا؟(کل صفحات:32)
(55)چمکتی آنکھوں والے بزرگ(کل صفحات:32)
(56)علم وحکمت کے 125مدنی پھول(تذکرہ امیراہلسنت قسط 5)(کل صفحات:102)
(57)حقوق العبادکی احتیاطیں (تذکرہ امیراہلسنت قسط 6)(کل صفحات:47)
(58)نادان عاشق(کل صفحات:32) (59)سینماگھرکاشیدائی(کل
صفحات:32)
(60)گونگے بہروں کے بارے میں سوال جواب قسط پنجم(5)(کل صفحات:23)
(61)ڈانسرنعت خوان بن گیا(کل صفحات:32) (62)گلوکاکیسے سدھرا؟(کل
صفحات:32)
(63)نشے بازکی اصلاح کاراز(کل صفحات:32) (64) کالے بچھوکاخوف(کل
صفحات:32)
(65)بریک ڈانسرکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32) (66)عجیب
الخلقت بچی(کل صفحات:32)
(67)شرابی کی توبہ(کل صفحات:33) (68)قاتل
امامت کے مصلے پر(کل صفحات:32)
(69)چندگھڑیوں کاسودا(کل
صفحات:32) (70)سینگوں والی
دلہن(کل صفحات:32)
(71)بھیانک حادثہ(کل صفحات:30) (72)خوفناک
بلا(کل صفحات:33)
(73)پراسرارکتا(کل صفحات:27)
(74)شادی خانہ بربادی
کے اسباب اورانکا حل(کل صفحات:16)
(75)چمکدارکفن(کل صفحات:32) (76)اسلحے
کا سوداگر(کل صفحات:32)
(77)بھنگڑے بازسدھرگیا(کل صفحات:32) (78)جرائم
کی دنیا سے واپسی(کل صفحات:32)
(79)کینسرکاعلاج(کل صفحات:32) (80)اجنبی
کاتحفہ(کل صفحات:32)
(81)رسائل مدنی بہار(کل
صفحات:368) (82)انوکھی
کمائی(کل صفحات:32)
(83)بری سنگت کاوبال(کل
صفحات:32) (84)بدچلن
کیسے تائب ہوا؟(کل صفحات:32)
(85)عمامہ کے فضائل(کل صفحات:517) (86)بداطوار
شخص عالم کیسے بنا؟(کل صفحات:32)
(87)جھگڑالوکیسے سدھرا؟(کل
صفحات:32)
(88)پانچ روپے کی
برکت سے سات شادیاں ؟(کل صفحات:32)
(89)باکردار عطاری(کل صفحات:32) (90)سنگر
کی توبہ(کل صفحات:32)
(91)مفلوج کی شفایابی کاراز(کل
صفحات:32) (92)ڈانسربن
گیا سنتوں کاپیکر(کل صفحات:32)
(93)خوشبودارقبر(کل صفحات:32) (94)والدین
کے نافرمان کی توبہ(کل صفحات:32)
(95)میٹھے بول کی برکتیں (کل
صفحات:32) (96)جنتیوں
کی زبان(کل صفحات:31)
(97) اصلاح امت میں دعوت اسلامی کاکردار(کل صفحات:28)
(98)غریب فائدے میں ہے(بیان1)(کل
صفحات:30)
(99)جوانی کیسے گزاریں ؟(بیان2)(کل صفحات:44)
(100)اداکاری کا شوق
کیسے ختم ہوا؟(کل صفحات:32)
(101)ڈاکوؤں کی واپسی(کل صفحات:32)
شعبۂ اولیاء وعُلماء
(1)فیضانِ داتاگنج
بخش(کل صفحات:20) (2)فیضانِ پیرمہرعلی
شاہ(کل صفحات:33)
(3)فیضان سیداحمدکبیررفاعی(کل صفحات :33 ) (4)فیضانِ
حافظِ ملت(کل صفحات:32)
(5)فیضانِ سلطان باہو(کل صفحات:32) (6)فیضانِ
خواجہ غریب نواز(کل صفحات:32)
(7)فیضانِ محدث اعظم پاکستان(کل صفحات:62) (8)فیضانِ
عثمان مروندی(کل صفحات:43)
(9)فیضانِ علامہ کاظمی(کل صفحات:70)
شعبۂ بیاناتِ دعوتِ اسلامی
(1)باطنی بیماریوں کی
معلومات(کل صفحات:352)
(2)گلدستۂ درودوسلام(کل صفحات:660)
٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭ڀڀڀ٭
[1]…تفسیر طبری، پ۹، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۴، ۹/۴۲۵۔
[2]…تفسیر خازن، پ۱۹، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۴، ۳/۳۸۱۔
[3]…تفسیر طبری، پ۱۷، الانبیاء ، تحت الآیۃ:۷۳، ۹/۴۷۔
[4]…مسلم،کتاب الزكوة، باب الحث علي الصدقة ولوبشق تمرة او بكلمة طيبة،ص۵۰۸،حدیث:۱۰۱۷ بتغیر قلیل۔
[5]…دلیل الفالحین،باب فیمن سن سنۃ حسنۃ اوسیئۃ، ۱/۴۴۳، تحت الحدیث:۱۷۳۔
[6]…شرح مسلم للنووی،کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علی الصدقۃولوبشق تمرۃ، ۴/۱۰۲،الجزء السابع ۔
[7]…شرح مسلم للنووی،کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علی الصدقۃولوبشق تمرۃ، ۴/۱۰۴،الجزء السابع ۔
[8]… بدعت کی تعریف،اس کی اقسام، ان کے تفصیلی احکام اور دیگر تفصیلات کے لیے اسی کتاب کا باب نمبر18ملاحظہ کیجئے۔
[9]…اکمال المعلم،کتاب الزکاۃ،باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۳/۵۴۰، تحت الحدیث: ۱۰۱۷۔
[10]…مرآۃ المناجیح،۱/۱۹۵تا ۱۹۷ ملتقطا۔
[11]…بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب اثم من دعا الی ضلالۃ۔۔۔الخ،۴/۵۱۳،حدیث:۷۳۲۱ بتغیر قلیل۔
[12]…شرح مسلم للنووی،کتاب القسامۃ ، باب بیان اثم من سن القتل ،۶/۱۶۶، الجزء احد عشر۔
[13]…نورالعرفان، پ۶، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۲۔
[14]…اکمال المعلم،کتاب القسامۃ ، باب بیان اثم من سن القتل ،۵/۴۷۸، تحت الحدیث: ۱۶۷۷۔
[15]…مرقاۃ المفاتیح ،کتاب العلم ،الفصل الاول،۱/۴۶۷،تحت الحدیث:۲۱۱ ملخصا۔
[16]…فتح الباری، کتاب الدیات ، باب قول اللہ تعالی:ومن احیاھا، ۱۳/۱۶۴، تحت الحدیث:۶۸۶۷۔
[17]…عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب خلق آدم صلوات اللہ ۔۔۔الخ،۱۱/۱۸، تحت الحدیث:۳۳۳۵ ۔
[18]…نزہۃ القاری،۴/۳۶۸ملخصا۔
[19]…دلیل الفالحین، باب فیمن سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ ، ۱/۴۴۸، تحت الحدیث:۱۷۴۔
[20]…ابن ماجۃ،کتاب الزھد،باب ذکر توبہ،۴/۴۹۱، حدیث: ۴۲۵۰، ۴/۴۹۲، حدیث:۴۲۵۲۔
[21]…گلوکار کیسے سدھرا؟، ص۵۔
[22]…تفسیر روح البیان، پ۲۰ ،القصص، تحت الآیۃ: ۸۷ ،۶ /۴۴۳۔
[23]…تفسیر کبیر، پ۲۰ ،القصص، تحت الآیۃ: ۸۷ ،۹ /۲۰۔
[24]… تفسیر درمنثور، پ ۱۴، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۵ /۱۷۸۔
[25]…تفسیر ابن کثیر، پ ۱۴،النحل ،تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۴ /۵۲۶۔
[26]…خزائن العرفان، پ۱۴، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۵۔
[27]… تفسیر درمنثور،پ۶،المائدۃ،تحت الآیۃ: ۲، ۳/۱۱۔
[28]…تفسیر ابن کثیر، پ۴، آل عمران ، تحت الآیۃ:۱۰۴ ،۲/۷۸۔
[29]… خزائن العرفان ،پ ۴، آل عمران، تحت الآیۃ:۱۰۴۔
[30]…تفسیر نعیمی، پ۴، آل عمران ، تحت الآیۃ:۱۰۴ ،۴/۷۲ملخصًا۔
[31]…مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی۔۔۔ الخ ،ص۱۰۵۰ ،حدیث:۱۸۹۳۔
[32]…دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر۔۔۔الخ،۱/۴۴۹، تحت الحدیث: ۱۷۵ملخصاً۔
[33]…دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر۔۔۔الخ،۱/۴۴۹، تحت الحدیث: ۱۷۵ملخصاً۔
[34]…شرح مسلم للنووی،کتاب الامارۃ ، باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللہ۔۔۔الخ ،۷/۳۹، الجزء الثالث عشر۔
[35]…مرقاۃ المفاتیح ، کتاب العلم، الفصل الاول، ۱/۴۶۳، تحت الحدیث:۲۰۹۔
[36]…مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃاوسیئۃ۔۔۔الخ، ص ۱۴۳۸، حدیث:۲۶۷۴۔
[37]…شرح الطیبی ،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۳۵۲، تحت الحدیث:۱۵۸۔
[38]…مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۳۹۵، تحت الحدیث:۱۵۸ملخصاً۔
[39]…مرآۃالمناجیح،۱/۱۶۰۔
[40]…مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۳۹۵، تحت الحدیث:۱۵۸ملخصاً۔
[41]… تذکرۃالواعظین،ص۳۶۷ماخوذا۔
[42]…عیون الحکایات، الحکایۃ الثالثۃ والستون بعد الاربعمائۃ،ص۳۹۷۔
[43]…مرآۃالمناجیح،۱/۱۶۰۔
[44]…مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب ،ص ۱۳۱۱، حدیث: ۲۴۰۶ بتغیر۔
[45]…دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر۔۔۔الخ،۱/۴۵۱، تحت الحدیث: ۱۷۶ملخصاً۔
[46]…عمدۃ القاری، کتاب الجھادوالسیر، باب دعاءالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔الخ،۱۰/۲۶۳، تحت الحدیث:۲۹۴۲۔
[47]…اکمال المعلم ، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی ابن ابی طالب، ۷/۴۱۶، تحت الحدیث:۲۴۰۶۔
[48]…شرح مسلم للنووی،کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،۸/۱۷۸، الجزء الخامس عشر۔
[49]…مرقاۃ المفاتیح ،کتاب المناقب والفضائل،باب مناقب علی بن ابی طالب ،۱۰/۴۶۱،۴۶۰، تحت الحدیث:۶۰۸۹ ملخصا۔
[50]…مرقاۃ المفاتیح ،کتاب المناقب والفضائل،باب مناقب علی بن ابی طالب ،۱۰/۴۶۱، تحت الحدیث:۶۰۸۹۔
[51]…نزہۃالقاری،۴/۱۱۵ماخوذا۔
[52]…تفہیم البخاری،۴/۵۰۱۔
[53]…فیوض الباری،۱۲/۳۷۱۔
[54]…مرآۃالمناجیح،۸/۴۱۴۔
[55]…مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ص ۱۰۵۰ ،حدیث:۱۸۹۴ بتغیر۔
[56]…دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر والدعاءالی ھدی اوضلالۃ، ۱/۴۵۳، تحت الحدیث:۱۷۷۔
[57]…دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر والدعاءالی ھدی اوضلالۃ، ۱/۴۵۴، تحت الحدیث:۱۷۷ماخوذا۔
[58]…دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر والدعاءالی ھدی اوضلالۃ، ۱/۴۵۳، تحت الحدیث:۱۷۷ماخوذا۔
[59]…شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ ، ۷/۳۹، الجزءالثالث عشر ۔
[60]…البدور السافرۃ فی امورلاخرۃ ،باب قولہ تعالی: یوم ندعواکل اناس بامامھم، ص ۲۴۵، رقم: ۷۰۳۔