جدید و قدیم تفاسیر اور دیگر علوم ِ اسلامیہ پر مشتمل
ذخیرہ کتب کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات کے مطالب و معانی اور ان سے حاصل ہونے والے
درس و نکات کا موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق انتہائی سہل بیان،نیز مسلمانوں کے عقائد،دین اسلام
کے اوصاف و خصوصیات ، اہلسنت کے نظریات و معمولات،عبادات،معاملات ، اخلاقیات ، باطنی امراض اور
معاشرتی برائیوں سے متعلق قرآن و حدیث ، اقوال صحابہ و تابعین اور دیگر بزرگان دین کے ارشادات کی روشنی میں ایک جامع تفسیر
مع دو ترجموں کے
کَنْزُ الْاِیْمَان فِیْ تَرْجَمَۃِ الْقُرْآن
از: اعلیٰ حضرت ،مجددِ دین و ملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن
اور
کَنْزُ الْعِرْفَان فِیْ تَرْجَمَۃِ الْقُرْآن
مع
صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن
از: شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی ابو صالح محمد قاسم القادریمد ظلہ العالی
ناشر
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فرمانِ مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ : ’’ نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌمِنْ عَمَلِہ‘‘ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔
(المعجم الکبیر للطبرانی۶ / ۱۸۵حدیث: ۵۹۴۲)
دو مَدَنی پھول:
(۱) بِغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔
(۲) جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔
(1) ہربارتَعَوُّذو (2) تَسْمِیَہ سے آغاز کروں گا (3) رضائے الٰہی کیلئے اس کتاب کا اوّل تا آخر مطالعہ کروں گا (4) باوضو اور (5) قبلہ رُو مطالعہ کروں گا (6) قراٰنی آیات کی درست مخارج کے ساتھ تلاوت کروں گا۔(7) ہرآیت کی تلاوت کے ساتھ اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ کر قرآنِ کریم سمجھنے کی کوشش کرونگا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دوں گا۔ (8) اپنی طرف سے تفسیر کرنے کے بجائے علمائے حَقَّہ کی لکھی گئی تفاسیر پڑھ کر اپنے آپ کو ’’اپنی رائے سے تفسیر کرنے‘‘ کی وعید سے بچاؤں گا۔ (9) جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے وہ کروں گا اور جن سے منع کیا گیا ہے ان سے دور رہوں گا۔ (10) اپنے عقائد واعمال کی اصلاح کروں گا اور بدعقیدگی سے خود بھی بچوں گا اور دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی بچانے کی کوشش کروں گا۔ (11) جن پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا انعام ہوا ان کی پیروی کرتے ہوئے رضائے الٰہی پانے کی کوشش کرتا رہوں گا۔ (12) جن قوموں پر عتاب ہوا ان سے عبرت لیتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈروں گا۔ (13) شانِ رسالت میں نازل ہونے والی آیات پڑھ کراس کا خوب چرچا کرکے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے اپنی محبت وعقیدت میں مزید اضافہ کروں گا۔ (14) جہاں جہاں ’’اللہ‘‘کا نام پاک آئے گا وہاں عَزَّوَجَلَّ اور (15) جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پڑھوں گا۔ (16) شرعی مسائل سیکھوں گا (17) اگر کوئی بات سمجھ نہ آئی تو علمائے کرام سے پوچھ لوں گا۔ (18) دوسروں کویہ تفسیر پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گا۔ (19) اس کے مطالعہ کا ثواب آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ساری امت کو ایصال کروں گا۔ (20) کتابت وغیرہ میں شرعی غلطی ملی تو ناشرین کو تحریری طور پر مطلع کروں گا (ناشرین ومصنف وغیرہ کو کتابوں کی اغلاط صرف زبانی بتانا خاص مفید نہیں ہوتا)
اَلْحَمَدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
(شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے صراط الجنان کی پہلی جلد پردئیے گئے تاثرات)
۱۴۲۲ھ( 2002ء) کی بات ہے جب مفتیِ دعوتِ اسلامی الحاج محمد فارو ق مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی ’’چل مدینہ‘‘ کے قافلے میں ہمارے ساتھ تھے اور اِس سفرِ حج میں مجھے ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ بے حد کم گو، انتہائی سنجیدہ اور کثرت سے تلاوتِ قرآن کرنے والی اِس نہایت پرہیز گار شخصیت کی عَظَمت میرے دل میں گھر کر گئی۔ مکّۃُالمکرَّمہ زَادَھَااللہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً میں ہمارا مشورہ ہوا کہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ترجمۂ کنزالایمان کی ایک آسان سی تفسیر ہونی چاہئے جس سے کم پڑھے لکھے عوام بھی فائدہ اٹھا سکیں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مفتیِ دعوتِ اسلامی قدّس سرّہ السّامی اِس بابَرَکت خدمت کے لئے بخوشی آمادہ ہوگئے۔مُجَوَّزہ تفسیر کا نام صِراطُ الْجِنان (یعنی جنّتوں کا راستہ) طے ہوا۔ تَبَرُّکاً مکّۃُ المکرَّمہ زَادَھَااللہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً ہی میں اِس عظیم کام کا آغاز کردیا گیا، افسوس! مفتیِ دعوتِ اسلامی قدّس سرّہ السّامی کی زندگی نے ان کا ساتھ نہ دیا، 6 پاروں پر کام کرکے وہ (بروز جمعہ ۱۸ محرم الحرم ۱۴۲۷ھ) پردہ فرما گئے ۔
اللہ ربُّ العزّت کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ
چونکہ یہ کام انتہائی اہم تھا لہٰذا مَدَنی مرکز کی درخواست پرشیخ الحدیث ِوالتَّفسیر حضرت علامہ مو لانا الحاج مفتی ابوصالح محمد قاسم قادری مدّظلہ العالی نے اس کام کا از سرِ نو آغاز کیا۔ اگرچِہ اس نئے مواد میں مفتیِ دعوتِ اسلامی کے کئے گئے کام کو شامل نہ کیا جا سکا مگر چونکہ بُنیاد انہی نے رکھی تھی اور آغاز بھی مکّۃُ المکرَّمہ زَادَھَااللہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً کی پُر بہارفَضاؤں میں ہوا تھا اور ’’صِراطُ الْجِنان‘‘ نام بھی وہیں طے کیا گیا تھا لہٰذا حُصُولِ بَرَکت کیلئے یِہی نام باقی رکھا گیا ہے۔کنز الایمان اگرچِہ اپنے دور کے اعتبار سے نہایت فَصیح ترجَمہ ہے تاہم اس کے بے شمار الفاظ ایسے ہیں جواب ہمارے یہاں رائج نہ رہنے کے سبب عوام کی فہم سے بالا تر ہیں لہٰذا اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ترجمۂ قراٰنکنز الایمان شریف کو مِن و عَن باقی رکھتے ہوئے اِسی سے روشنی لیکر دورِحاضر کے تقاضے کے مطابِق حضرتِ علامہ مفتی محمد قاسم صاحِب مد ظلہ نے مَاشَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ا یک اور ترجَمے کا بھی اضافہ فرمایا، اس کانام کنزُالْعِرفان رکھا ہے۔ اِ س کام میں دعوتِ اسلامی کی میری عزیز اور پیاری مجلس،المدینۃ العلمیہ کے مَدَنی عُلَما نے بھی حصّہ لیا بالخصوص مولانا ذُوالقَرنَین مَدَنی سلَّمہُ الغَنِینے خوب معاونت فرمائی اور اس طرح صِراطُ الجِنان کی 3 پاروں پرمشتمل پہلی جلدآپ کے ہاتھوں میں ہے۔اللہ تعالیٰ الحاج مفتی محمد قاسم صاحِب مدظلہ سمیت اِسکَنْزُالْاِیْمَانِ فِیْ تَرْجَمَۃِ الْقُرْاٰنِ وَصِرَاطُ الْجِنَانِ فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْاٰنِکے مبارَک کام میں اپنا اپنا حصّہ ملانے والوں کو دنیا و آخِرت کی خوب خوب بھلائیاں عنایت فرمائے اور تمام عاشقانِ رسول کیلئے یہ تفسیرنفع بخش بنائے۔اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
طالبِ غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کا پڑوس
![]()
۹ جمادَی الْاُخْرٰی ۱۴۳۴ھ
2013-04-20
(وَ اِذَا سَمِعُوْا)
پارہ نمبر…7
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ-یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(۸۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب یہ سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ابل پڑتی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے ۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے پس تو ہمیں (حق کے) گواہوں کے ساتھ لکھ دے۔
{ وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ:اور جب یہ لوگ اُس کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا۔} جب حبشہ کی طر ف ہجرت کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نجاشی کے دربار میں جمع تھے اور مشرکینِ مکہ کا وفد بھی وہاں موجود تھا تو اس وقت نجاشی نے حضرت جعفر طیاررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی: کیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کتاب میں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکا ذکر ہے ؟حضرت جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: قرآنِ پاک میں ایک مکمل سورت حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکی طرف منسوب ہے، پھر سورۂ مریم اور سورۂ طٰہٰ کی چند آیات تلاوت فرمائیں تو نجاشی کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو گیا۔ اسی طرح جب پھر حبشہ کا وفد سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں 70 آدمی تھے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان کے سامنے سورۂ یٰسین کی تلاوت فرمائی تو اسے سن کر وہ لوگ بھی زار و قطار رونے لگے۔ اس آیت میں ان واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۳، ص۲۹۹) انہی سب کے متعلق فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ اُس کو سنتے ہیں جو رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی طرف نازل کیا گیا تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ابل پڑتی ہیں کیونکہ وہ حق کو پہچان گئے اور وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہم محمد مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پرایمان لائے اور ہم نے اُن کے برحق ہونے کی شہادت دی، پس تو ہمیں حق کی گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ دے اور ہمیں اُس حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی امت میں داخل فرما جو روزِقیامت تمام اُمتوں کے گواہ ہوں گے۔ (اوریہ بات انہیں انجیل سے معلوم ہوچکی تھی۔) اِس آیت سے معلوم ہوا کہ ذکرِ الٰہی کے وقت عشق و محبت میں رونا اعلیٰ عبادت ہے۔ اسی طرح عذابِ الٰہی کے خوف اور رحمتِ الٰہی کی امید میں رونا بھی عبادت ہے ۔بہت سے عاشقانِ قرآن، قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جھومتے ہیں ، یہ قرآن کریم سے لذت و سُرور حاصل ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ صبح کی خوشگوار ہوا سے نرم شاخیں حرکت کرتی ہیں اور تلاوت کرنے والا رحمتِ الٰہی کی نسیم سے ہلتا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو مومن قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ خوشبو بھی اچھی ہے اور مزہ بھی اچھا ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا، وہ کھجور کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو نہیں مگر مزہ شیریں ہے ۔اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے، وہ پھول کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو ہے مگر مزہ کڑوااور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا، وہ اندرائن کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو بھی نہیں ہے اور مزہ کڑوا ہے۔(بخاری، کتاب الاطعمۃ، باب ذکر الطعام، ۳ / ۵۳۵، الحدیث: ۵۴۲۷)
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے مروی ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو قرآن پڑھنے میں ماہر ہے، وہ کراماً کاتبین کے ساتھ ہے اور جو شخص رک رک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اُس پر شاق ہے یعنی اُس کی زبان آسانی سے نہیں چلتی، تکلیف کے ساتھ ادا کرتا ہے، اُس کے لیے دو اجر ہیں۔[1](مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل الماہر بالقرآن والذی یتتعتع فیہ، ص۴۰۰، الحدیث: ۲۴۴(۷۹۸))
تلاوتِ قرآن کے وقت رونا مستحب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے جلیلُ القدر بندوں کا طریقہ ہے کہ بلند مراتب پر پہنچنے کے باوجودبھی ان کی دلی کیفیات یہ ہوتی ہیں کہ جب ان کے سامنے کلامِ الٰہی کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو انہیں سن کر وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے لگتے ہیں جیسا کہ سورۂ مریم کی آیت نمبر 58 میں بیان ہوا، اسی طرح ان کی ایک اور کیفیت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰارشاد فرماتا ہے: ’’ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ﳓ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ-ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ‘‘ (زمر: ۲۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے، باربار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’یہ قرآن غم کے ساتھ نازل ہوا تھا، جب تم اسے پڑھو تو روؤ اور اگر رو نہ سکو تو رونے کی شکل بنا لو۔ (ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب فی حسن الصوت بالقرآن، ۲ / ۱۲۹، الحدیث: ۱۳۳۷)
حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قرآن کو غم کے ساتھ پڑھو کیونکہ یہ غم کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ ابراہیم، ۲ / ۱۶۶، الحدیث: ۲۹۰۲)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جب تم سورۂ سبحان میں سجدہ کی آیت پڑھو تو سجدہ کرنے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم روؤ اور اگر تم میں سے کسی کی آنکھ نہ روئے تو دل کو رونا چاہئے (اور تکلف کے ساتھ رونے کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں حزن و ملال کو حاضر کرے کیونکہ ا س سے رونا پیدا ہوتا ہے)۔( تفسیر کبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۵۸، ۷ / ۵۵۱)
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’غم ظاہر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قرآن کے ڈرانے، وعدہ اور عہد و پیمان کو یاد کرے پھر سوچے کہ اِس نے اُس کے احکامات اور ممنوعات میں کتنی کوتاہی کی ہے تو اس طرح وہ ضرور غمگین ہو گا اور روئے گا اور اگر غم اور رونا ظاہر نہ ہو جس طرح صاف دل والے لوگ روتے ہیں تو اس غم اور رونے کے نہ پائے جانے پر روئے کیونکہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔( احیاء العلوم، کتاب آداب تلاوۃ القرآن، الباب الثانی فی ظاہر آداب التلاوۃ، ۱ / ۳۶۸)
وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّۙ-وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَارَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ(۸۴)فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ(۸۵)وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠(۸۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے۔ تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دئیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بدلہ ہے نیکوں کا۔اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ ہیں دوزخ والے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہمیں کیاہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر ایمان نہ لائیں جوہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ (جنت میں ) داخل کردے۔ تو اللہ نے اُن کے اِس کہنے کے بدلے انہیں وہ باغات عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ نیک لوگوں کی جزا ہے۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو وہ دوزخ والے ہیں۔
{ وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ:اور ہمیں کیاہے کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں۔} جب حبشہ کا وفد اسلام سے مشرف ہو کر واپس گیا تو یہودیوں نے اُنہیں اِس پر ملامت کی۔ اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ جب حق واضح ہوگیا تو ہم کیوں ایمان نہ لاتے (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۴، ۱ / ۵۲۰) یعنی ایسی حالت میں ایمان نہ لانا قابلِ ملامت ہے نہ کہ ایمان لانا کیونکہ ایمان لانا تو فلاحِ دارَین کا سبب ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۸۸)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوحرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔ اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہنے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
{ لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ:پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔} اس آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی ایک جماعت سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا وعظ سن کر ایک روز حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاں جمع ہوئی اور اُنہوں نے آپس میں ترک ِدنیا کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ وہ ٹاٹ پہنیں گے اور ہمیشہ دن میں روزے رکھیں گے اور ساری رات عبادتِ الٰہی میں گزارا کریں گے، بستر پر نہ لیٹیں گے اور گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے اور عورتوں سے جدا رہیں گے نیز خوشبو نہ لگائیں گے ۔اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس ارادہ سے روک دیا گیا۔ (تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳ / ۱۵۶، الجزء السادس)
احادیث ِ مبارکہ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جن میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اعتدال کا حکم فرمایا اور عبادت کرنے میں خود کو بہت زیادہ تکلیف میں ڈالنے سے منع فرمایا ۔ اس کے لئے درج ذیل 3 احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(1)… اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا فرماتی ہیں ’’رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے پاس تشریف فرما تھے،اس وقت حضرت حولاء بنتِ تُوَیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا ان کے پاس سے گزریں۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھانے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی:’’یہ حولاء بنت تُوَیت (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا) ہیں ، لوگ کہتے ہیں کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: رات بھر نہیں سوتیں ! اتنا عمل کیا کرو جتنا آسانی سے کر سکو، بخدا! اللہتعالیٰ نہیں اکتائے گا لیکن تم اکتا جاؤ گے۔ (مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل وغیرہ، ص۳۹۴، الحدیث: ۲۱۹(۷۸۴))
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،رحمت ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مسجد میں تشریف لائے، اس وقت مسجد کے دو ستونوں کے درمیان رسی تانی ہوئی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: یہ حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کی رسی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب ان پر تھکن یا سستی طاری ہوتی ہے تو اس رسی کو پکڑ لیتی ہیں۔ حضور سیدُ المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس رسی کو کھول دو، تم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک وہ آسانی سے نماز پڑھ سکے اور جب اس پر تھکن یا سستی طاری ہو تو وہ بیٹھ جایا کرے۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل وغیرہ، ص۳۹۴، الحدیث: ۲۲۰(۷۸۵))
(3)… حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں ہمیشہ روزے رکھتا تھا اورہر رات قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا تھا، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سامنے میرا ذکر کیا گیا تو آپ نے مجھے بلوایا، میں خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم ہمیشہ روزے رکھتے ہو اور ہر رات قرآنِ مجید پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں ، یا رسول اللہ ! لیکن میں نے اس عبادت سے صرف خیر کا ارادہ کیا ہے۔ سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تمہارے لئے یہ کافی ہے کہ تم مہینے میں صرف تین دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں ا س سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے روزے رکھو کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ میں نے عرض کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی! حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے روزے کس طرح تھے؟ ارشاد فرمایا ’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ اور فرمایا ’’ہر ماہ میں ایک قرآنِ پاک ختم کیا کرو۔ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: ’’ پھر بیس دن میں ایک قرآنِ پاک ختم کر لو۔ میں نے عرض کی: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ارشاد فرمایا ’’ پھر دس دن میں ایک قرآنِ پاک ختم کر لو۔میں نے عرض کی: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’ پھر سات دن میں قرآنِ پاک ختم کر لو اور اس سے زیادہ اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو کیونکہ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ (مسلم، کتاب الصیام، باب النہی عن صوم الدہر۔۔۔ الخ، ص۵۸۵، الحدیث: ۱۸۲(۱۱۵۹))
حلال چیزوں کو ترک کرنا جائز ہوتا ہے کہ ان کا کرنا کوئی فرض و واجب نہیں ہوتا لیکن جس طرح حرام کو گناہ و نافرمانی سمجھ کر ترک کیا جاتا ہے اس طرح حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ نیز کسی حلال چیز کے متعلق بطورِ مبالغہ یہ کہنے کی اجازت نہیں کہ ہم نے اس کو اپنے اُوپر حرام کرلیا ہے۔ صوفیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے جو بہت سی چیزوں کو ترک کرنے کے واقعات ملتے ہیں وہ بطورِ علاج ہیں یعنی جس طرح بیمار آدمی بہت سی غذاؤں کو حلال سمجھنے کے باوجود اپنی صحت کی خاطر پرہیز کرتے ہوئے کئی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اسی طرح صوفیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ نفس کے علاج کیلئے بعض حلال چیزوں کو حلال سمجھنے کے باوجود ترک کردیتے ہیں ، لیکن اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اجازت تو ہے لیکن یہ اجازت نہیں کہ ان کے ساتھ حرام جیسا سلوک کیا جائے۔
اس آیت ِ مبارکہ میں پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینے سے منع فرمایا، اس سے ان لوگوں کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جو مقبولانِ بارگاہ ِ الٰہی کی طرف منسوب ہر چیز پر حرام کے فتوے دینے پر لگے رہتے ہیں اور ہرچیز میں انہیں شرک ہی سوجھتاہے۔
لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۸۹)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پرہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرواسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ تمہیں تمہاری فضول قسموں پرنہیں پکڑے گا البتہ ان قسموں پر گرفت فرمائے گا جنہیں تم مضبوط کر لو تو ایسی قسم کاکفارہ دس مسکینوں کو اس طرح کا درمیانے درجے کا کھانا دینا ہے جوتم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اُن دس کوکپڑے دینا ہے یا ایک مملوک (غلام یا لونڈی) آزاد کرناہے تو جو نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر گزار ہوجاؤ۔
{ لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ:اللہتمہیں تمہاری فضول قسموں پرنہیں پکڑے گا ۔}اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔ (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۴ / ۴۱۸-۴۱۹)
قسم کی تین قسمیں ہیں :
(1)…یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، ایسی قسم پر کفارہ نہیں۔
(2)…یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا، یہ حرام ہے۔
(3)… یمینِ مُنعقدہ، جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے ۔
یہاں آیت ِ مبارکہ میں قسم کا کفارہ بیان کیا گیا ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے۔
قسم کے کفارے سے متعلق چند مسائل یاد رکھیں :
(1)…مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بجائے انہیں صدقہ فطر کی مقدار بھی دے سکتا ہے۔
(2)…یہ بھی جائز ہے کہ ایک مسکین کو دس روز دیدے یا کھلادیا کرے۔
(3)…بہت گھٹیا قسم کا کھانا کھلانے کی اجازت نہیں ، درمیانے درجے کا ہونا چاہیے۔
(4)…مسکینوں کو کپڑے پہنائے تو وہ بھی درمیانے درجے کے ہونے چاہئیں اور درمیانے درجے کے وہ ہیں جن سے اکثر بدن ڈھک سکے اور درمیانے درجے کے لوگ پہنتے ہوں یعنی سوٹ بہت گھٹیا نہ ہو اور تین مہینے تک چل سکتا ہو۔
(5)… روزہ سے کفارہ جب ہی اداہو سکتا ہے جب کہ کھانا کھلانے، کپڑا دینے اور غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو۔
(6)…روزے رکھنے کی صورت میں ضروری ہے کہ یہ روزے مسلسل رکھے جائیں۔
(7)… کفارہ قسم توڑنے سے پہلے دینا درست نہیں۔
مشورہ:قسم کے بارے میں کچھ کلام سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 224 اور 225 کے تحت تفسیر میں گزر چکا ہے وہاں سے اس کا مطالعہ فرمائیں ، نیز قسم اور اس کے کفارے کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کیلئے بہارِ شریعت حصہ9 سے ’’قسم کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔
{ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ: اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔} قسم کی حفاظت کا حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں پورا کرو اگر اس میں شرعاً کوئی حرج نہ ہو اور یہ بھی حفاظت ہے کہ قسم کھانے کی عادت ترک کی جائے۔[2] (تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲ / ۵۱)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوشراب اور جُوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
{رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ: ناپاک شیطانی کام ہیں۔} اس آیتِ مبارکہ میں چار چیزوں کے نجاست و خباثت اور ان کا شیطانی کام ہونے کے بارے میں بیان فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے۔وہ چار چیزیں یہ ہیں : (1) شراب۔ (2) جوا۔(3) اَنصاب یعنی بت ۔(4) اَزلام یعنی پانسے ڈالنا۔ ہم یہاں بالترتیب ان چاروں چیزوں کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہیں۔
(1)… شراب۔ صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : شراب پینا حرام ہے اور ا س کی وجہ سے بہت سے گناہ پیدا ہوتے ہیں ، لہٰذا اگر اس کو معاصی (یعنی گناہوں ) اور بے حیائیوں کی اصل کہا جائے تو بجا ہے۔(بہار شریعت، حصہ نہم، شراب پینے کی حد کا بیان، ۲ / ۳۸۵)
حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ شراب ہر گز نہ پیو کہ یہ ہر بدکاری کی اصل ہے۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث معاذ بن جبل، ۸ / ۲۴۹، الحدیث: ۲۲۱۳۶)
شراب پینے کی وعیدیں :
احادیث میں شراب پینے کی انتہائی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی: (1) شراب بنانے والے پر۔ (2) شراب بنوانے والے پر۔ (3) شراب پینے والے پر۔ (4) شراب اٹھانے والے پر۔ (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر۔ (6) شراب پلانے والے پر۔ (7) شراب بیچنے والے پر۔ (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر۔ (9) شراب خریدنے والے پر۔ (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلاً، ۳ / ۴۷، الحدیث: ۱۲۹۹)
(2)…حضرت ابومالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور ا س کا نام بدل کر کچھ اور رکھیں گے، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور سور بنا دے گا۔(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات، ۴ / ۳۶۸، الحدیث: ۴۰۲۰)
(3)…حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کی ایک گھونٹ بھی پئے گا میں اس کو اُتنی ہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گامیں اس کو حوض قدس سے پلاؤں گا۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۸۶، الحدیث: ۲۲۲۸۱)
اس آیت اور اس سے بعد والی آیت میں شراب کے حرام ہونے کو 10مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے:
(1)…شراب کو جوئے کے ساتھ ملایا گیا ہے۔
(2)…بتوں کے ساتھ ملایا گیا ہے۔
(3)…شراب کو ناپاک قرار دیا ہے۔
(4)…شیطانی کام قرار دیا ہے۔
(5)…اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
(6)…کامیابی کا مدار اس سے بچنے پر رکھا ہے۔
(7)… شراب کو عداوت اور بغض کا سبب قرار دیا ہے۔
(8,9)…شراب کو ذکرُاللہ اور نماز سے روکنے والی چیز فرمایا ہے۔
(10)… اس سے باز رہنے کا تاکیدی حکم دیا ہے۔ (تفسیرات احمدی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۳۷۰)
یہاں ہم شراب نوشی کے چند وہ نتائج ذکر کرتے ہیں جوپوری دنیا میں نظر آ رہے ہیں تاکہ مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں اور جو مسلمان شراب نوشی میں مبتلا ہیں وہ اپنے اس برے عمل سے باز آ جائیں۔
(1)…شراب نوشی کی وجہ سے کروڑوں افراد مختلف مُہلک اور خطرناک امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔
(2)… لاکھوں افراد شراب نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں۔
(3)…زیادہ تر سڑک حادثات شراب پی کر گاڑی چلانے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔
(4)…ہزاروں افراد شرابیوں کے ہاتھوں بے قصور قتل وغارت گری کا نشانہ بن رہے ہیں۔
(5)…لاکھوں عورتیں شرابی شوہروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہیں۔
(6)…لاکھوں عورتیں شرابی مردوں کی طرف سے جنسی حملوں کا شکار ہو رہی ہیں۔
(7)…والدین کی شراب نوشی کی وجہ سے زندگی کی توانائیوں سے عاری اور مختلف امراض میں مبتلا بچے پیدا ہو رہے ہیں۔
(8)… لاکھوں بچے شرابی والدین کی وجہ سے یتیمی اور اسیری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
(9)…شرابی شخص کے گھر والے اور اہل و عیال ا س کی ہمدردی اور پیار و محبت سے محروم ہو رہے ہیں۔
(10)…ان نقصانات کے علاوہ شراب کے اقتصادی نقصانات بھی بہت ہیں کہ اگر شراب کی خرید و فروخت اور امپورٹ ایکسپورٹ سے حاصل ہونے والی رقم اور ان اخراجات کا موازنہ کیا جائے جو شراب کے برے اثرات کی روک تھام پر ہوتے ہیں تو سب پرواضح ہو جائے گا کہ شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی ان ا خراجات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو اس کے برے نتائج کودور کرنے پر ہو رہے ہیں ،مثال کے طور پر شراب نوشی کی وجہ سے ہونے والی نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کے علاج، نشے کی حالت میں ڈرائیورنگ سے ہونے والے حادثات، پولیس کی گرفتاریاں اور زحمتیں ، شرابیوں کی اولاد کے لئے پرورش گاہیں اور ہسپتال، شراب سے متعلقہ جرائم کے لئے عدالتوں کی مصروفیات، شرابیوں کے لئے قید خانے وغیرہ امور پر ہونے والے اخراجات دیکھے جائیں تو یہ شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ نظر آئیں گے اور ا س کے علاوہ کچھ نقصانات تو ایسے ہیں کہ جن کاموازنہ مال و دولت سے کیا ہی نہیں جا سکتا جیسے پاک نسلوں کی تباہی، سستی، بے راہ روی، ثقافت و تمدن کی پسماندگی، احساسات کی موت، گھروں کی تباہی، آرزوؤں کی بربادی اور صاحبانِ فکر افراد کی دماغی صلاحیتوں کا نقصان، یہ وہ نقصانات ہیں جن کی تلافی روپے پیسے سے کسی صورت ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے اور شراب نوشی کی آفتِ بد سے نجات عطا فرمائے۔
(2)…جوا ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۱۹ / ۶۴۶)
احادیث میں جوئے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ جوئے کے ایک کھیل کے بارے میں حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے نرد شیر (جوئے کا ایک کھیل) کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا۔ (مسلم، کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنردشیر، ص۱۲۴۰، الحدیث: ۱۰(۲۲۶۰))
اور حضرت ابوعبد الرحمٰن خطمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص نرد کھیلتا ہے پھر نماز پڑھنے اٹھتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سوئر کے خون سے وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے۔ (مسند امام احمد، احادیث رجال من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۹ / ۵۰، الحدیث: ۲۳۱۹۹)
دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہر اس عمل اور عادت سے روکا ہے جس سے ان کا مالی اور جسمانی نقصان وابستہ ہو اور وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردے۔ ایسی بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز جو ا بازی ہے جو کہ معاشرتی امن و سکون اور باہمی محبت و یکانگت کے لئے زہرِ قاتل سے بڑھ کر ہے اور قرآن و حدیث میں مختلف انداز سے مسلمانوں کو اس شیطانی عمل سے روکا گیا ہے لیکن افسوس کہ فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد اس خبیث ترین عمل میں مبتلا نظر آ رہی ہے اور یہ لوگ دنیا و آخرت کے لئے حقیقی طور پر مفیدکاموں کو چھوڑ کر اپنے شب و روز کو اسی عمل میں لگائے ہوئے ہیں اور ان کی اسی روش کا نتیجہ ہے کہ ان مسلمانوں کی نہ تودنیوی پَسماندگی دور ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ اپنی اخروی کامیابی کے لیے کچھ کر پا رہے ہیں۔ہم یہاں جوئے بازی کے 3 دنیوی نقصانات ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمان انہیں پڑھ کر اپنی حالت پر کچھ رحم کریں اورجوئے سے باز آ جائیں۔
(1)… جوئے کی وجہ سے جوئے بازوں میں بغض، عداوت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے اور بسا اوقات قتل و غارت گری تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
(2)… جوئے بازی کی وجہ سے مالدار انسان لمحوں میں غربت و افلاس کا شکار ہو جاتا ہے، خوشحال گھر بدحالی کا نظار ہ پیش کر نے لگتے ہیں، اچھا خاصا آدمی کھانے پینے تک کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے ، معاشرے میں اس کا بنا ہو اوقار ختم ہو جاتا ہے اور سماج میں اس کی کوئی قدرو قیمت اور عزت باقی نہیں رہتی۔
(3)… جوئے باز نفع کے لالچ میں بکثرت قرض لینے اور کبھی کبھی سودی قرض لینے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے اور جب وہ قرض ادا نہیں کر پاتا یا اسے قرض نہیں ملتا تو وہ ڈاکہ زنی اور چوری وغیرہ میں مبتلا ہو جاتا ہے حتّٰی کہ جوئے باز چاروں جانب سے مصیبتوں میں ایسا گھر جاتا ہے کہ بالآخر وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور انہیں اس شیطانی عمل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(3)…انصاب۔ حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جن کے پاس کفار اپنے جانور ذبح کرتے تھے ۔ (ابن کثیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳ / ۱۶۱)
امام عبداللہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس سے مراد بت ہیں کیونکہ انہیں نصب کر کے ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۳۰۲)
علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اگر انصاب سے مراد وہ پتھر ہوں جن کےپاس کفار اپنے جانور ذبح یا نَحر کرتے تھے تو ان پتھروں کوناپاک ا س لئے کہا گیا تاکہ کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اگر ان کی کوئی عظمت باقی ہے تو وہ بھی نکل جائے، اور اگر انصاب سے مراد وہ بت ہوں جن کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے(ان کے پاس جانور ذبح کئے جاتے ہوں یا نہیں ) تو انہیں ناپاک ا س لئے کہا گیا تاکہ سب پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ جس طرح اصنام سے بچنا واجب ہے اسی طرح انصاب سے بچنا بھی واجب ہے۔ (البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴ / ۱۶)
(4)… ازلام۔ زمانۂ جاہلیت میں کفار نے تین تیر بنائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک پر لکھا تھا ’’ہاں ‘‘ دوسرے پر لکھا تھا ’’نہیں ‘‘ اور تیسرا خالی تھا ۔ وہ لوگ ان تیروں کی بہت تعظیم کرتے تھے اور یہ تیر کاہنوں کے پاس ہوتے اور کعبہ معظمہ میں کفارِ قریش کے پاس ہوتے تھے(جب انہیں کوئی سفر یا اہم کام درپیش ہوتا تو وہ ان تیروں سے پانسے ڈالتے اور جو ان پر لکھا ہوتا اس کے مطابق عمل کرتے تھے) ۔پرندوں سے اور وحشی جانوروں سے برا شگون لینا اور کتابوں سے فال نکالنا وغیرہ بھی اسی میں داخل ہے۔(البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴ / ۱۶)
احادیث میں کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے،ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کسی نجومی یا کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو گویااِس نے اُس کا انکار کردیا جو (حضرت) محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل کیا گیا۔ (مستدرک، کتاب الایمان، التشدید فی اتیان الکاہن وتصدیقہ، ۱ / ۱۵۳، الحدیث: ۱۵)
(2)…حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو چالیس (40) راتوں تک اس کی توبہ روک دی جاتی ہے اور اگر اُس نے اِس کی تصدیق کی تو کفر کیا۔( معجم ا لکبیر ، ابوبکر بن بشیر عن واثلۃ، ۲۲ / ۶۹، الحدیث: ۱۶۹)
(3)…حضرت قبیصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’خط کھینچنا، فال نکالنا اور پرندے اُڑا کر شگون لینا جِبْت (یعنی شیطانی کاموں ) میں سے ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الطب، باب فی الخط وزجر الطیر، ۴ / ۲۲، الحدیث: ۳۹۰۷)
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے :
(1)… صرف نیک اعمال کرنے سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ برے اعمال سے بچنا بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں تقویٰ کے دو پر ہیں ، پرندہ ایک پر سے نہیں اڑتا۔
(2)… نیکیاں کرنا اور برائیوں سے بچنا دنیا اور دکھلاوے کے لئے نہ ہونا چاہئے بلکہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)
ترجمۂکنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا وے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: شیطان تویہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟
{ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ:بیشک شیطان تو چاہتا ہے ۔} اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ظاہری دنیوی وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں جبکہ ظاہری دینی وبال یہ ہے کہ جوشخص اِن برائیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر اور نماز سے روکے ، وہ بری ہے اور چھوڑنے کے قابل ہے، اسی لئے جمعہ کی اذان کے بعد تجارت حرام ہے۔[3]
وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْاۚ-فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۹۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچا دینا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانواور ہوشیار رہوپھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو صرف واضح طور پرتبلیغ فرمادینا لازم ہے۔
{ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ:اوراللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔} یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے جس کام کا تمہیں حکم دیا اور جس کام سے منع کیا اس میں ان کا حکم مانو اور احکامات اور ممنوعات میں اللہتعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی مخالفت کرنے سے ڈرو،پھر اگر تم اُس سے منہ موڑ لو جس کا تمہیں حکم دیا گیا اور جس سے منع کیا گیا تو جان لو کہ اس سے ہمارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ ہمارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر تو صرف واضح طور پرتبلیغ فرمادینا لازم ہے، بلکہ اس میں تمہارا اپنا نقصان ہے کہ تم اپنے اعراض کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کے مستحق ٹھہرو گے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۲، ۱ / ۵۲۵، مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۲، ص۳۰۲، ملتقطاً)
لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳)
ترجمۂکنزالایمان:جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان پر کھانے میں کوئی گناہ نہیں جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور اچھے عمل کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیکیاں کریں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
{ لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ : جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان پرکوئی گناہ نہیں۔} یہ آیتِ مبارکہ اُن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے حق میں نازل ہوئی جو شراب حرام کئے جانے سے پہلے وفات پاچکے تھے اور چونکہ شراب حرام نہ تھی تو وہ پی لیا کرتے تھے۔ جب اُن کے بعد شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اُن کی فکر ہوئی کہ اُن سے شراب کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی یا نہیں ؟( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵ / ۳۸، الحدیث: ۳۰۶۲) نیز جوصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ دیگر شہروں میں موجود ہیں اور انہیں اس بات کا علم ابھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب حرام قرار دے دی ہے ،اگر وہ اِس لاعلمی کے کچھ عرصہ میں شراب پی لیں تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے جن نیک ایمانداروں نے کچھ کھایا پیا وہ گنہگار نہیں ، اسی طرح جنہیں حرمت کا حکم نازل ہو جانے کا علم نہیں ان پر بھی حکم کی معلومات ہونے سے پہلے شراب پی لینے کی صورت میں کچھ گناہ نہیں۔
اِس آیتِ مبارکہ میں لفظ ’’اتَّقَوْا‘‘جس کے معنیٰ ڈرنے اور پرہیز کرنے کے ہیں ، تین مرتبہ آیا ہے: پہلے سے مراد شرک سے بچنا، دوسرے سے مراد تمام حرام کاموں اور گناہوں سے بچنا اور تیسرے سے مراد شبہات کا ترک کر دینا ہے۔(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۳۰۲)
بعض مفسرین نے فرمایا کہ پہلے سے مراد تمام حرام چیزوں سے بچنا اور دوسرے سے اُس پر قائم رہنا اور تیسرے سے مراد وحی کے نازل ہونے کے زمانے میں یا اُس کے بعد جو چیزیں منع کی جائیں اُن کو چھوڑ دینا ہے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ۱ / ۵۲۵، مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۳۰۳، جمل، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ۲ / ۲۷۳)
بعض مفسرین نے یہ معنیٰ بیان کیا کہ پہلے بھی گناہوں سے بچتے رہے ہوں اور اب بھی بچتے رہیں اور آئندہ بھی بچتے رہیں۔(تفسیرکبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ۴ / ۴۲۷)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِۚ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۹۴)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہونچیں کہ اللہ پہچان کرا دے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے اس کے لئے دردناک سزا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ضرور اللہ ان شکاروں کے ذریعے جن تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچ سکیں گے تمہارا امتحان کرے گا تاکہ اللہ ان لوگوں کی پہچان کرادے جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس (ممانعت) کے بعد جو حد سے بڑھے تواس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
{ لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ:ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا۔} 6 ہجری جس میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس سال مسلمان حالت ِ احرام میں تھے۔اُس حالت میں وہ اِس آزمائش میں ڈالے گئے کہ شکار کئے جانے والے جانور اور پرندے بڑی کثرت سے آئے اور اُن کی سواریوں پر چھا گئے۔ اتنی کثرت تھی کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکیلئے انہیں ہتھیار سے شکار کرلینا بلکہ ہاتھ سے پکڑ لینا بالکل اختیا رمیں تھا، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۱ / ۵۲۵)لیکن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحکمِ الٰہی کی پابندی میں ثابت قدم رہے اور حالت ِ احرام میں شکار نہ کیا۔ اس سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت بھی ظاہر ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی گناہ کے اسباب و مواقع جس قدر کثرت سے موجود ہوں ان سے بچنے میں اتنا ہی زیادہ ثواب ہے، جیسے نوجوان کو تقویٰ و پرہیزگاری اور پارسائی کا ثواب بوڑھے کی بَنِسبت زیادہ ہے۔ یونہی جو برے لوگوں کے درمیان بھی نیک رہے وہ نیکوں کے درمیان نیک رہنے والے سے بہتر ہے۔ حضرت سیدنا یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام اور زلیخا کا واقعہ بھی اِس بات کی قوی دلیل ہے لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ اِن باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ برے دوستوں کی صحبت میں رہ کریا گناہ کی جگہ جاکر نیک بننے کی کوشش کرے تاکہ زیادہ بڑا متقی بنے بلکہ حتی الامکان ایسی صحبت اور مقام سے بچنا ہی چاہیے کہ زیادہ تقویٰ کی امید پر کہیں اصل ہی سے نہ جاتے رہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖؕ-عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَؕ-وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(۹۵)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہواور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں یہ قربانی ہو کعبہ کو پہونچتی یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا اور جو اَب کرے گا اللہاس سے بدلہ لے گا اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! حالت ِاحرام میں شکار کو قتل نہ کرو اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ مویشیوں میں سے اسی طرح کا وہ جانور دیدے جس کے شکار کی مثل ہونے کا تم میں سے دومعتبر آدمی فیصلہ کریں ، یہ کعبہ کو پہنچتی ہوئی قربانی ہو یا چند مسکینوں کا کھانا کفارے میں دے یا اس کے برابر روزے تاکہ وہ اپنے کام کا وبال چکھے۔ اللہ نے پہلے جو کچھ گزرا اسے معاف فرمادیا اور جودوبارہ کرے گاتو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب ہے ،بدلہ لینے والاہے۔
{ لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ: حالتِ احرام میں شکار کو قتل نہ کرو۔}اس آیتِ مبارکہ میں حالت ِ احرام میں شکار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ یہاں اِس کے چند مسائل بیان کئے جاتے ہیں۔
(1)… مُحْرِم یعنی احرام والے پر شکار یعنی خشکی کے کسی وحشی جانور کو مارنا حرام ہے۔
(2)… جانور کی طرف شکار کرنے کے لئے اشارہ کرنا یاکسی طرح بتانا بھی شکار میں داخل اور ممنوع ہے۔
(3)…حالتِ احرام میں ہر وحشی جانور کا شکار ممنوع ہے خواہ وہ حلال ہو یا نہ ہو ۔
(4)… کاٹنے والا کتا، کوا، بچھو، چیل، چوہا، بھیڑیا اور سانپ ان جانوروں کو احادیث میں فَوَاسِق فرمایا گیا ہے اور ان کے قتل کی اجازت دی گئی ہے ۔
(5)…مچھر، پِسُّو، چیونٹی، مکھی اور حشراتُ الارض اور حملہ آور درندوں کو مارنا معاف ہے۔ (تفسیر احمدی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۵، ص ۳۷۲-۳۷۷)
(6)… حالتِ احرام میں جن جانوروں کا مارنا ممنوع ہے وہ ہر حال میں ممنوع ہے جان بوجھ کر ہو یاغلطی سے۔ جان بوجھ کر مارنے کا حکم تو اس آیت میں موجود ہے غلطی سے مارنے کا حکم حدیث شریف سے ثابت ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۵، ص۳۰۳)
حالت ِ احرام میں شکار کے کفاروں سے متعلق یہ تفصیل ہے۔
(1)… خشکی کا وحشی جانور شکار کرنا یا اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا اور کسی طرح بتانا یہ سب کام حرام ہیں اور سب میں کفارہ واجب اگرچہ اُس کے کھانے میں مجبور ہو یعنی بھوک سے مرا جاتا ہو اور کفارہ اس کی قیمت ہے یعنی دو عادل وہاں کے حساب سے جو قیمت بتا دیں وہ دینی ہوگی اور اگر وہاں اُس کی کوئی قیمت نہ ہو تو وہاں سے قریب جگہ میں جو قیمت ہو وہ ہے اور اگر ایک ہی عادل نے بتادیا جب بھی کافی ہے ۔
(2)… شکار کی قیمت میں اختیار ہے کہ اس سے بھیڑ بکری وغیرہ اگر خرید سکتا ہے تو خرید کر حرم میں ذبح کرکے فقراء کو تقسیم کردے یا اُس کا غلہ خرید کر مسا کین پر تَصَدُّق کردے، اتنی مقدار دے کہ ہر مسکین کو صدقۂ فطر کی مقدار پہنچ جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس قیمت کے غلہ میں جتنے صدقے ہو سکتے ہوں ہر صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھے اور اگر کچھ غلہ بچ جائے جو پورا صدقہ نہیں تو اختیار ہے وہ کسی مسکین کو دیدے یا اس کے عوض ایک روزہ رکھے اور اگر پوری قیمت ایک صدقہ کے لائق بھی نہیں تو بھی اختیار ہے کہ اتنے کا غلہ خرید کر ایک مسکین کو دیدے یا اس کے بدلے ایک روزہ رکھے۔
(3)…کفارہ کا جانور حرم کے باہر ذبح کیا تو کفارہ ادا نہ ہو گا اور اگر اس میں سے خود بھی کھایا تو اتنے کا تاوان دے۔(بہارِ شریعت، حصہ ششم، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، ۱ / ۱۱۷۹-۱۱۸۰)
اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِۚ-وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًاؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹۶)
ترجمۂکنزالایمان: حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پر حرام ہے خشکی کا شکارجب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لئے تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہوتب تک تم پرخشکی کا شکار حرام کردیا گیا اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔
{ اُحِلَّ لَكُمْ:تمہارے لئے حلال کردیا گیا۔} اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ محرم کے لئے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام ۔ دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریامیں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو۔( بحر الرائق، کتاب الحج، فصل ان قتل محرم صیداً۔۔۔ الخ، ۳ / ۴۷)
یاد رہے کہ دو شکار حرام ہیں : محرم کاکیا ہوا اور حرم کا۔ حرم شریف میں رہنے والے شکارکئے جانے والے جانور کو نہ وہ آدمی شکار کر سکتا ہے جو حالتِ احرام میں ہو اور نہ بغیر احرام والا، وہ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہیں۔ یہاں احرام کے شکار کی حرمت کا ذکر ہے جو احرام ختم ہونے پر ختم ہو جاتی ہے مگر حرم کا شکار ہمیشہ ہر شخص کے لئے حرام ہے خواہ وہ شخص احرام میں ہو یا احرام سے فارغ بلکہ حرم کے شکار کو اس کی جگہ سے اٹھانا بھی منع ہے۔
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآىٕدَؕ-ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۹۷)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا اور حرمت والے مہینے اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کواور حرمت والے مہینے کو اور حرم کی طرف لیجائے جانے والی قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں (حج کی قربانی ہونے کی) نشانی لٹکائی ہوئی ہو (ان سب کو) لوگوں کے قیام کا ذریعہ بنادیا ۔یہ اس لیے ہیں تاکہ تم یقین کرلو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یقین کرلو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
{ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ:اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا ذریعہ بنادیا ۔} اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خانۂ کعبہ کو لوگوں کیلئے قیام کا باعث بنایا کہ وہاں دینی اوردنیوی اُمور کا قیام ہوتا ہے، خوفزدہ وہاں پناہ لیتا ہے، ضعیفوں کو وہاں امن ملتا ہے، تاجر وہاں نفع پاتے ہیں اور حج و عمرہ کرنے والے وہاں حاضر ہو کر مناسک ادا کرتے ہیں لہٰذا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بڑی نعمت ہے۔ یونہی ذی الحجہ جس میں حج کیا جاتا ہے اور ہَدی کے جانور ان سب کے ساتھ بھی دینی اور دنیاوی امور وابستہ ہیں کہ اس کے گوشت سے غریبوں اور امیروں کا گزارہ ہوتا ہے اور اس سے ایک رکنِ اسلامی ادا ہوتا ہے۔
اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ(۹۸)
ترجمۂکنزالایمان:جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور اللہ بخشنے والا، مہربان بھی ہے۔
{ اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے۔} ارشاد فرمایا گیا کہ جان رکھو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور اللہ تعالٰی بخشنے والا، مہربان بھی ہے،تو حرم اور احرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اپنی صفت ’’شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘‘ ذکر فرمائی تاکہ خوف و امید سے ایمان کی تکمیل ہو ،اس کے بعد صفت’’غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ بیان فرما کر اپنی وسعت ِرحمت کا اظہار فرمایا۔
مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(۹۹)
ترجمۂکنزالایمان: رسول پر نہیں مگر حکم پہونچانا اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: رسول پر صرف تبلیغ لازم ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔
{ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ:رسول پر صرف تبلیغ لازم ہے۔}ارشاد فرمایا کہ میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر صرف تبلیغ لازم ہے تو جب میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حکم پہنچا کر فارغ ہوگئے تو تم پر اطاعت لازم ہوگئی اور حجت قائم ہوگئی اور تمہارے لئے عذر کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بے نیازی بھی مذکور ہے کہ وہ تمہارے حاجت مند نہیں بلکہ تم ان کے محتاج ہو۔ اگر کوئی بھی ان کی اطاعت نہ کرے تو ان کا کچھ نہ بگڑے گا کیونکہ وہ تبلیغ فرما چکے ،جیسے سورج سے اگر کوئی نو ر نہ لے تو سورج کو کوئی نقصان نہیں بلکہ نقصان اسی کا ہے جو سورج سے نور نہیں لے رہا۔
{ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ:اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔}یعنی تمہارے ظاہری اور باطنی احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے لہٰذا جیسے تمہارے اعمال ہوں گے اللہ تعالیٰ ویسی تمہیں جزا دے گا۔
قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۱۰۰)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو کہ ستھرا اور گندہ برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والوکہ تم فلاح پاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں اگرچہ گندے لوگوں کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے تو اے عقل والو! تم اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
{ قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں۔}اس آیت میں فرمایا گیا کہ حلال و حرام، نیک و بد،مسلم و کافر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہوسکتے بلکہ حرام کی جگہ حلال، بد کی جگہ نیک، کافر کی جگہ مسلمان اور کھوٹے کی جگہ کھرا ہی مقبول ہے۔
{ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ:اگرچہ گندے کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے۔}اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا داروں کو مال و دولت کی کثرت اور دنیا کی زیب و زینت بھاتی ہے حالانکہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ سب سے اچھی اور سب سے زیادہ باقی رہنے والی ہیں کیونکہ دنیا کی زینت و آرائش اور اس کی نعمتیں ختم ہو جائیں گی جبکہ وہ نعمتیں ہمیشہ باقی رہیں گی جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱ / ۵۳۰)
اس سے معلوم ہو اکہ دنیا کے مال و دولت کی چاہت،ا س کی نعمتوں اور آسائشوں کی خواہشات اور اس کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کی تمنا میں لگے رہنا اور اپنی آخرت کی تیاری سے غافل رہنا انتہائی مذموم ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ‘‘(اٰل عمران:۱۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَاۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَاؕ-وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ‘‘(اٰل عمران:۱۴۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے دنیا کا کچھ انعام دیدیں گے اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے آخرت کا انعام عطافرمائیں گے اورعنقریب ہم شکر ادا کرنے والوں کو صلہ عطا کریں گے۔
حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص ہمیشہ دنیا کی فکر میں مبتلارہے گا (اور دین کی پرواہ نہ کرے گا )تو اللہ تعالیٰ ا س کے تمام کام پریشان کر دے گا اور ا س کی مفلسی ہمیشہ اس کے سامنے رہے گی اور اسے دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور جس کی نیت آخرت کی جانب ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس کی دل جمعی کے لئے ا س کے تمام کام درست فرما دے گا اور ا س کے دل میں دنیا کی بے پروائی ڈال دے گا اور دنیا اس کے پاس خودبخود آئے گی۔(ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہم بالدنیا، ۴ / ۴۲۴، الحدیث: ۴۱۰۵)
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں ) کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا دوسرا کوئی مال نہیں اور دنیا کے لئے وہ آدمی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہیں۔(شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔ الخ، ۷ / ۳۷۵، الحدیث: ۱۰۶۳۸)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی ا س نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، پس تم فنا ہونے والی (دنیا) پر باقی رہنے والی (آخرت ) کو ترجیح دو۔(مسند امام احمد، مسند الکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری، ۷ / ۱۶۵، الحدیث: ۱۹۷۱۷)
اللہتعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنی دنیوی بہتری کے ساتھ ساتھ اپنی اخروی تیاری کی طرف بھی توجہ کرنے اور اس کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ- وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۱۰۱)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرما چکا ہے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم انہیں اس وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تم پروہ چیزیں ظاہر کردی جائیں گی اور اللہ ان کو معاف کرچکا ہے اور اللہ بخشنے والا ،حلم والا ہے۔
{ لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ: ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔} اس آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک روز سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ’’ جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ ارشاد فرمایا ’’ حذافہ۔ پھر فرمایا ’’اور پوچھو، تو حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اُٹھ کر ایمان و رسالت کا اقرار کرکے معذرت پیش کی۔(بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب وقت الظہر عند الزوال، ۱ / ۲۰۰، الحدیث: ۵۴۰)
امام ابنِ شہاب زہری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن حذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ نے اُن سے شکایت کی اور کہا کہ ’’تو بہت نالائق بیٹا ہے ،تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیت کی عورتوں کا کیا حال تھا؟ خدانخواستہ ،تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی۔ اس پرحضرت عبداللہ بن حذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ اگر سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتادیتے تو میں یقین کے ساتھ مان لیتا۔(تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲ / ۵۷)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ’’ لوگ بطریقِ اِستہزاء اس قسم کے سوا ل کیا کرتے تھے، کوئی کہتا میرا باپ کون ہے ؟کوئی پوچھتا کہ میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، وہ کہاں ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب لا تسألوا عن اشیاء ان تبد لکم تسؤکم، ۳ / ۲۱۸، الحدیث: ۴۶۲۲)
مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا۔ اس پر ایک شخص نے کہا، کیا ہر سال فرض ہے؟ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکوت فرمایا۔ سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ’’ جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو، اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے۔ (مسلم، کتاب الحج۔، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ص ۶۹۸، الحدیث: ۴۱۲(۱۳۳۷))
اس آیت اور ا س کی تفسیر میں جو روایات ذکر ہوئیں ان سے چار اہم باتیں معلوم ہوئیں
(1)…حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا علم غیب:ان روایات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ غیب کا علم رکھتے ہیں کیونکہ کسی کا حقیقی باپ کون ہے؟ اس کا تعلق غیب سے ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کلی علم عطا فرمایا گیا ورنہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ یہ نہ فرماتے کہ جو چاہو پوچھو بلکہ فرماتے کہ فلاں فلاں شعبے کے متعلق پوچھ لو یا فرماتے کہ صرف شریعت کے متعلق جو پوچھنا چاہو پوچھ لو۔ سرورِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا بغیر کسی قید کے فرمانا کہ جوپوچھنا ہے پوچھو اور پوچھنے والوں کا بھی ہر طرح کی بات پوچھ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سب کچھ جانتے ہیں اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یہی عقیدہ رکھتے تھے۔
(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اختیارات: آخری روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو اختیار دیا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جس چیز کو فرض فرمادیں وہ فرض ہوجائے۔
(3)… نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی امت پر شفقت: آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اپنی امت پر نہایت شفیق ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اگر ایک مرتبہ ہاں فرمادیتے تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے امت پر آسانی فرمائی اور ہاں نہیں فرمایا۔
نوٹ: سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کے متعلق فتاویٰ رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی درج ذیل کتابوں کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔
(1)خَالِصُ الْاِعْتِقَادْ(علم غیب سے متعلق 120دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)(2)اَنْبَاءُالْمُصْطَفٰی بِحَالِ سِرٍّ وَاَخْفٰی(حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کومَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ کاعلم دیئے جانے کا ثبوت)(3)اِزَاحَۃُ الْعَیْبِ بِسَیْفِ الْغَیْبِ (علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اوربدمذہبوں کا رد)۔اور سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے کائنات اور شریعت دونوں کے متعلق اختیارات جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عظیم تصنیف اَلْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَاعِتِی الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ البلاء (مصطفی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والاکہنے والوں کے لئے انعامات) کا مطالعہ فرمائیں۔
(4)… حلت و حرمت کا اہم اصول: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس امر کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح و جائز ہے۔ حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث میں ہے ،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ’’حلال وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اورحرام وہ ہے جس کو اُس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا تووہ معاف ہے۔(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء، ۳ / ۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲)
قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ(۱۰۲)
ترجمۂکنزالایمان: تم سے اگلی ایک قوم نے انہیں پوچھا پھر ان سے منکر ہو بیٹھے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تم سے پہلے ایک قوم نے ان اشیاء کے بارے میں سوال کیا تھا پھر اس کا انکار کرنے والے ہوگئے۔
{ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ: بیشک تم سے پہلے ایک قوم نے ان اشیاء کے بارے میں سوال کیا تھا۔} مسلمانوں کو ایک حکم دینے کے بعد سابقہ امتوں کے واقعات سے سمجھایا کہ تم سے پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے بے ضرورت سوالات کئے اور جب حضراتِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے احکام بیان فرما دیئے تو وہ ان احکام کو بجانہ لاسکے۔تو تم سوالات کرنے ہی سے بچو کیونکہ اگر تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب دے دیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ کسی سوال کا جواب تمہیں برا لگے۔
احادیث میں بے ضرورت سوالات کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے،اس سے متعلق 3احادیث درج ذیل ہیں ، چنانچہ
(1)…حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ مسلمانوں میں سب سے بڑ امجرم وہ ہے جس نے ایسی چیز کے بارے میں سوا ل کیا جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کے باعث حرام کر دی گئی۔ (بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال۔۔۔ الخ، ۴ / ۵۰۲، الحدیث: ۷۲۸۹)
(2)…حضرت ابو ثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ نے کچھ حدیں مقرر کی ہیں تو ان سے آگے نہ بڑھو، کچھ فرائض لازم فرمائے ہیں تو انہیں ضائع نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں تو ان کی حرمت نہ توڑو اورتم پر رحمت فرماتے ہوئے کچھ چیزوں سے بغیر بھولے سکوت فرمایا ہے تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔(مستدرک، کتاب الاطعمۃ، شان نزول ما احل اللہ فہو حلال، ۵ / ۱۵۷، الحدیث: ۷۱۹۶)
(3)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میں تمہیں جس کام سے روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا تمہیں حکم دوں اسے اپنی استطاعت کے مطابق کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ بکثرت سوالات کرنے اور اپنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔(مسلم، کتاب الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ص۶۹۸، الحدیث: ۴۱۲(۱۳۳۷))
مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ- وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۰۳)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ نے بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام کو مقرر نہیں کیا لیکن کافر لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان لگاتے ہیں اور ان میں اکثر بے عقل ہیں۔
{ مَا جَعَلَ اللّٰهُ : اللہ نے مقرر نہیں کیا۔} زمانۂ جاہلیت میں کفار کا یہ دستور تھا کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچے جنتی اور آخری مرتبہ اس کے نر ہوتا تواس کا کان چیر دیتے پھر نہ اس پر سواری کرتے اور نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے، اس کو بَحِیۡرَہ کہتے۔ اور جب سفر درپیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں یا تندرست ہوجاؤں تو میری اونٹنی سائِبَہ ہے اور اس اونٹنی سے بھی نفع اُٹھانا بَحِیۡرَہ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے اور بکری جب سات مرتبہ بچے جن دیتی تو اگر ساتواں بچہ نر ہوتا توا س کو مرد کھاتے اور اگر مادہ ہوتا تو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسے ہی اگر نر، مادہ دونوں ہوتے تو کہتے کہ یہ اپنے بھائی سے مل گئی، اس کو وَصِیْلَہ کہتے اور جب نراونٹ سے دس مرتبہ اونٹنی کو گابھن کروالیا جاتا تو اس کو چھوڑ دیتے، نہ اس پر سواری کرتے، نہ اس سے کام لیتے اور نہ اس کو چارے پانی سے روکتے، اس کو اَلْحَامِیْ کہتے ۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ص۳۰۶)
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ بحیرہ وہ ہے جس کا دودھ بتوں کے لئے روکتے تھے ،کوئی اس جانور کا دودھ نہ نکالتا اور سائبہ وہ جس کو اپنے بتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے کوئی ان سے کام نہ لیتا۔( بخاری، کتاب المناقب، باب قصۃ خزاعۃ، ۲ / ۴۸۰، الحدیث: ۳۵۲۱، مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب النار یدخلہا الجبارون۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۸، الحدیث: ۵۱(۲۸۵۶))
یہ رسمیں زمانۂ جاہلیت سے ابتدائے عہدِاسلام تک چلی آرہی تھیں اس آیت میں ان کو باطل کیا گیا اور فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مقرر نہیں کئے بلکہ کفار اللہ عَزَّوَجَلَّپر جھوٹ باندھتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا اُس کی طرف اِس کی نسبت غلط ہے۔یہ لوگ بیوقوف ہیں کہ جو اپنے سرداروں کے کہنے سے ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور اتنا شعور نہیں رکھتے کہ جو چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسُول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حرام نہ کی اس کو کوئی حرام نہیں کرسکتا۔
آیتِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جانور کی زندگی میں اس پر کسی کا نام پکارنا اسے حرام نہیں کر دیتا۔ ہاں ذبح کے وقت غیرِ خدا کا نام پکارنا حرام کر دے گا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جو جانور حلال ہو اسے خواہ مخواہ حرام کہنا مشرکین کا طریقہ اور سراسر جہالت ہے۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۰۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے کہ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤتو کہتے ہیں کہ ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے ہوں اور نہ انہیں ہدایت ہو۔
{ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ:اور جب انہیں کہا جائے۔} مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پیروی کرو تو وہ کہتے کہ ہمارے لئے ہمارے باپ دادا کا دین کافی ہے۔ اس پر فرمایا کہ باپ دادا کی اتباع تب درست ہوتی جب وہ علم رکھتے اور سیدھی راہ پر ہوتے۔
اللہتعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پیروی کی دعوت ملنے پرکفار نے جو جواب دیا اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مقابلے میں جاہل باپ دادوں کی رسم اختیار کرنا کفار کا طریقہ ہے۔اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو خوشی کی تقریبات میں اور غمی کے مواقع پر ناجائز و حرام رسمیں کرتے ہیں اور ان رسموں میں شامل نہ ہونے والے کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان رسموں سے منع کرنے والے سے کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں یہ رسمیں عرصۂ دراز سے چلی آ رہی ہیں ،ہم انہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے۔ اٰمین
آیت کے آخری حصے سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی اتباع اور ان کی پیروی کرنی ضروری ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰارشاد فرماتا ہے:
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ‘‘(توبہ:۱۱۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے ایمان والواللہسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشا د ہے:ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی صورت دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے، جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کا شوق دلائے۔(جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، ص۱۷۲)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۰۵)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ ہونے والا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔
{
عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ: تم اپنی فکر کرو۔}مسلمان
کفار کی اسلام سے محرومی پر افسوس کرتے تھے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد
میں مبتلا ہو کر دولتِ اسلام سے محروم رہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی
تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں ، اَمْر بِالْمَعْرُوفِ وَ نَہْی
عَنِ الْمُنْکَرکا فرض ادا کرکے تم بری الذمہ ہوچکے ہو،تم اپنی نیکی کی
جزا پاؤ گے ۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ اس آیت میں اَمْر بِالْمَعْرُوف وَ نَہْی عَنِ الْمُنْکَر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے، کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ’’ ایک دوسرے کی خبر گیری کرے، نیکیوں کی رغبت دلائے اور بدیوں سے روکے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۱ / ۵۳۴)
اور مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی جس کا خلاصہ ہے کہ تم اپنی فکر کرو یعنی عقائد درست کرکے ، نیک اعمال کر کے اپنی فکر کرو، اعمال میں تبلیغ بھی شامل ہے لہٰذا جو قدرت کے باوجود تبلیغ نہ کرے وہ راہ پر ہی نہیں۔(نور العرفان، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۱۹۸)
یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کاذکر ہوا، اس کی مناسبت سے ہم یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے 3 احادیث ذکر کرتے ہیں :
(1)…حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ‘‘اور میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ) دیکھیں اور اسے (ظلم سے) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہتعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلاء کر دے۔ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی نزول العذاب اذا لم یغیّر المنکر، ۴ / ۶۹، الحدیث: ۲۱۷۵)
(2)…اور ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اے لوگو تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان’’ عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ‘‘ کو پڑھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہو جانا کہ تم میں سے کوئی کہنے لگے ’’میں تو بس اپنی جان کی فکر کروں گا‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ تم پر تمہارے شریر لوگ حکمران بن جائیں گے جو تمہیں بڑی سخت تکلیفیں پہنچائیں گے، پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے بھی توان کی دعا قبول نہ کی جائے گی۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الامر بامعروف والنہی عن المنکر، ۲ / ۲۷۱، الجزء الثالث، الحدیث: ۸۴۴۲، تفسیر طبری، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۵ / ۹۸-۹۹)
(3)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اے لوگو! تمہیں لازمی طور پر نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ظالم حکمران مُسلَّط کر دے گا جو تمہارے بڑوں کی بزرگی کا خیال نہیں رکھے گا اور تمہارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرے گا، تمہارے نیک لوگ ا س کے خلاف دعا مانگیں گے لیکن ان کی دعا قبول نہ ہو گی اور تم مدد مانگو گے لیکن تمہیں مدد نہ ملے گی۔(احیاء العلوم، کتاب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، الباب الاول فی وجوب الامر بالمعروف۔۔۔ الخ، ۲ / ۳۸۳)[4]
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِؕ-تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۙ-وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَۙ-اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ(۱۰۶)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہونچے ان دونوں کو نماز کے بعد روکو وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم میں کسی کو موت آنے لگے تو وصیت کرتے وقت تمہاری آپس کی گواہی (دینے والے) تم میں سے دو معتبر شخص ہوں یا اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو پھر تمہیں موت کا حادثہ آپہنچے تو تمہارے غیروں میں سے دو آدمی (گواہ ہوں ) ۔ تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لو پھر اگر تمہیں کچھ شک ہو تو وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم قسم کے بدلے کوئی مال نہ لیں گے اگرچہ قریبی رشتے دار ہو اور ہم اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ۔ (اگر ہم ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور گنہگاروں میں ہوں گے۔
{ شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ:تمہاری آپس کی گواہی۔} آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ مہاجرین میں سے ایک صاحب جن کا نام بُدَیْلْ تھا وہ تجارت کے ارادے سے دو عیسائیوں کے ساتھ ملک ِشام کی طرف روانہ ہوئے۔ اُن عیسائیوں میں سے ایک کانام تمیم بن اَوْسْ داری تھا اور دوسرے کاعدی بن بداء ۔شام پہنچتے ہی بُدَیْلْ بیمار ہوگئے اور انہوں نے اپنے تمام سامان کی ایک فہرست لکھ کر سامان میں ڈال دی اور ہمراہیوں کو اس کی اطلاع نہ دی۔ جب مرض کی شدت ہوئی تو بدیل نے تمیم اور عدی دونوں کو وصیت کی کہ ان کا تمام سرمایہ مدینہ شریف پہنچ کر اُن کے گھروالوں کے حوالے کردیا جائے۔ پھربُدَیْلْ کی وفات ہوگئی ان دونوں نے اُن کی موت کے بعد ان کا سامان دیکھا تواس میں ایک چاندی کا جام تھا جس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا، اس میں تین سو مثقال چاندی تھی، بُدَیْلْ یہ جام بادشاہ کو نذر کرنے کے قصد سے لائے تھے، ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں ساتھیوں نے اس جام کو غائب کردیا اور اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ لوگ مدینہ طیبہ پہنچے تو انہوں نے بُدَیْلْ کا سامان ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا، سامان کھولنے پر فہرست ان کے ہاتھ آگئی جس میں تمام سامان کی تفصیل تھی۔ سامان کو اس فہرست کے مطابق کیا لیکن جام نہ ملا۔ اب وہ تمیم اور عدی کے پاس پہنچے اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا بدیل نے کچھ سامان بیچا بھی تھا ؟انہوں نے کہا: نہیں۔ گھر والوں نے پوچھا کہ کیا کوئی تجارتی معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ پھر گھر والوں نے دریافت کیا کہ کیا بُدَیْلْ بہت عرصہ بیمار رہے اور انہوں نے اپنے علاج میں کچھ خرچ کیا تھا؟ انہوں نے کہا’’ نہیں ‘‘۔ وہ تو شہر پہنچتے ہی بیمار ہوگئے اور جلد ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ان کے سامان میں ایک فہرست ملی ہے اس میں چاندی کا ایک جام سونے سے مُنَقَّش کیا ہوا جس میں تین سو مثقال چاندی ہے یہ بھی لکھا ہے لیکن وہ موجود نہیں ہے۔ تمیم وعدی نے کہا، ہمیں نہیں معلوم، ہمیں تو جو وصیت کی تھی اس کے مطابق سامان ہم نے تمہیں دے دیا، جام کی ہمیں خبر بھی نہیں۔ یہ مقدمہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے دربار میں پیش ہوا۔ تمیم وعدی وہاں بھی انکار پر جمے رہے اور قسم کھالی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۱ / ۵۳۴)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی روایت میں ہے کہ پھر وہ جام مکہ مکرمہ میں پکڑا گیا، جس شخص کے پاس تھا اُس نے کہا کہ میں نے یہ جام تمیم وعدی سے خریدا ہے۔ جام کے مالک کے گھروالوں میں سے دو شخصوں نے کھڑے ہو کر قسم کھائی کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ قبول کی جانے کی مستحق ہے، یہ جام ہمارے فوت ہونے والے شخص کا ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵ / ۴۴، الحدیث: ۳۰۷۱)
آیت میں یہ حکم فرمایا گیا کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آئے اور زندگی کی اُمید نہ رہے، موت کے آثار و علامات ظاہر ہوں تو اپنوں میں سے دو آدمیوں کو وصیت کا گواہ بنالو اور سفر وغیرہ میں ہو اور اپنے آدمی یعنی مسلمان نہ ملیں توغیر مسلموں کوگواہ بنا لو۔
{ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ:تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لو۔}اس سے پہلے وصیت پر گواہ بنانے کا طریقہ بتایا گیا اب قرائن اور علامات کی روشنی میں گواہی میں جھوٹ کا عنصر نمایاں ہوتا نظر آئے تو اس صورت میں گواہی لینے کا طریقہ بتایا گیا کہ جب میت کے ورثا کو وصیت کی گواہی میں شک گزرے تو وہ عصر کی نماز کے بعد گواہوں سے اس طرح گواہی لیں : دونوں گواہ یہ اقرار کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائیں کہ ہم گواہی کے بدلے کسی سے کوئی مال نہ لیں گے اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہم گواہی چھپائیں گے یعنی جھوٹی قسم نہ کھائیں گے اور نہ کسی کی خاطر ایسا کریں گے، اگر ہم ایسا کریں تو اس وقت ہم ضرور گنہگاروں میں سے ہوں گے۔آیت میں نماز سے مراد عصر کی نماز ہے ۔ سب لوگ چاہے ان کا تعلق کسی بھی دین اور مذہب سے ہو اس وقت کی تعظیم کرتے تھے اور اس وقت میں جھوٹی قسم کھانے سے بچتے تھے۔(تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۲ / ۶۰-۶۱)
فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ ﳲ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۷)
ترجمۂکنزالایمان: پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہونچایا جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اگر اس بات پر اطلاع ملے کہ وہ دونوں گواہ( گواہی میں جھوٹ بول کر) کسی گناہ کے مستحق ہوئے ہیں تو ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کا حق دبایا گیا میت کے زیادہ قریبی دو (آدمی قسم کھانے کے لئے) کھڑے ہوجائیںپھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی (یعنی ہماری قسم) ان کی گواہی سے زیادہ درست ہے اور ہم حد سے نہیں بڑھے (اور اگر ایساکریں تو) اس وقت ہم ظالموں میں ہوں گے۔
{ فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا :پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے۔}وصیت کے گواہوں کا جھوٹ ثابت ہو جائے جیسا کہ یہاں تمیم اور عدی کا جھوٹ ثابت ہوا کہ پیالہ مکہ معظمہ میں پکڑا گیا تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ میت کے وارثوں میں سے دو آدمی قسم کھا کر کہیں کہ یہ دونوں امین جھوٹے ہیں ، ہماری گواہی یعنی قسم ان دونوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے اور ہم حد سے نہیں بڑھے ،اگر ہم ایسا کریں گے تواس وقت ہم ظالموں میں ہوں گے۔ چنانچہ بدیل کے واقعہ میں جب اُن کے دونوں ہمراہیوں کی خیانت ظاہر ہوئی تو بدیل کے ورثاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے اور ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ ٹھیک ہے۔اس کے بعد پیالے کا فیصلہ ان کے حق میں کر دیا گیا۔
ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۱۰۸)
ترجمۂکنزالایمان: یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو اور اللہ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہ صحیح طریقے سے گواہی ادا کریں یا وہ اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد قسموں کو ( ورثاء کی طرف) لوٹا دیا جائے گا اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
{ ذٰلِكَ اَدْنٰى:یہ قریب تر ہے۔} عدی اور تمیم کے واقعے میں گواہی اور قسم کا جو قانون بیان ہوا یعنی جن کے خلاف دعویٰ دائر کیا گیا قسمیں کھانے کے بعد ان کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو اب میت کے ورثا میں سے دو شخص قسمیں کھائیں ،اس کی حکمت بتائی جا رہی ہے کہ لوگ اس واقعہ سے عبرت پکڑیں اور شہادتوں میں راہِ حق و صواب نہ چھوڑیں اور اس بات سے ڈرتے رہیں کہ جھوٹی گواہی کا انجام شرمندگی و رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔
فی زمانہ لوگوں کی حالت اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ ان کے نزدیک جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی گواہی دینا، جھوٹے مقدمات میں پھنسوا کر اپنے مسلمان بھائی کی عزت تار تار کر دینا، لوہے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے لاچارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینا، اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال ہڑپ کر جانا گویا کہ جرائم کی فہرست میں داخل ہی نہیں۔ اس دنیا کی فانی زندگی کو حرف ِآخر سمجھ بیٹھنا عقلمندی نہیں نادانی اور بیوقوفی کی انتہا ہے، انہیں چاہئے کہ اِن قرآنی آیات اور ان احادیث کو بغور پڑھ کر عبرت حاصل کریں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم پر حلف اٹھایا تاکہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہو گا۔(بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب عہد اللہ عزّوجل، ۴ / ۲۹۰، الحدیث: ۶۶۵۹)
حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ الزور، ۳ / ۱۲۳، الحدیث: ۲۳۷۳)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اُس نے (اپنے اوپر) جہنم کو واجب کر لیا۔( معجم الکبیر، عکرمۃ عن ابن عباس، ۱۱ / ۱۷۲، الحدیث: ۱۱۵۴۱)
یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْؕ-قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(۱۰۹)
ترجمۂ کنزالایمان: جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن اللہ رسولوں کو جمع فرمائے گا پھر فرمائے گا :تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ عرض کریں گے ، ہمیں کچھ علم نہیں۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والاہے۔
{ یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ:جس دن اللہ رسولوں کو جمع فرمائے گا۔} یہاں سے قیامت کے دن کے کچھ معاملات کو بیان فرمایا جارہا ہے ،اس آیت کاخلاصۂ کلام یہ ہے کہ قیامت کے دن تمام انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے اپنی اُمتوں کو ایمان کی دعوت دی تھی تو اُنہوں نے تمہیں کیا جواب دیا تھا ؟ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جواب دیں گے: ہمیں کچھ علم نہیں۔ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ جواب اُن کے کمالِ ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علمِ الٰہی کے حضور اپنے علم کو بالکل نظر میں نہ لائیں گے اور قابلِ ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تعالیٰ کے علم و عدل کے سپرد فرمادیں گے ورنہ حقیقت میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینا جانتے ہوں گے کیونکہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امتوں کی گواہی دیں گے۔
اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَۘ-اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ- تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًاۚ-وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ-وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْۚ-وَ اِذْ تُخْرِ جُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْۚ-وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۱۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں نےپاک روح سے تیری مدد کی تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمرکا ہوکر اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مُردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب اللہ فرمائے گا :اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میرا وہ احسان یاد کر، جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی ۔تو گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائی اور جب تو میرے حکم سے مٹی سے پرند ے جیسی صورت بناکر اس میں پھونک مارتا تھا تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی اور تو میرے حکم سے پیدائشی نابینا اور سفید داغ کے مریض کوشفا دیتا تھااور جب تو میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر کے نکالتااور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روک دیا۔ جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں سے کافروں نے کہا: یہ تو کھلا جادو ہے۔
{ اِذْ قَالَ اللّٰهُ : جب اللہ فرمائے گا۔} اس آیت میں بھی قیامت کے دن کا ایک معاملہ بیان فرمایا گیا ،گویا کہ ارشاد فرمایا ’’آپ یاد کریں جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع فرمائے گا اورجب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس طرح فرمائے گا۔(قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳ / ۲۲۴، الجزء السادس) یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ میں جو احسانات ذکر کئے گئے ان کی مفصل تفسیر سورۂ آلِ عمران آیت نمبر 37تا49 میں گزر چکی ہے۔
وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْۚ-قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ(۱۱۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا :ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ!) آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
{ وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ:اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی۔} حواری حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مخصوص اور مخلص حضرات کو کہا جاتا ہے۔ ان کے متعلق فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کی بات ڈال دی۔
یاد رہے کہ اس آیت میں لفظ ’’وحی‘‘ کی نسبت غیرِ انبیاء کی طرف ہے اورجب وحی کی نسبت غیرِ نبی کی طرف ہو تو اس سے مراد دل میں بات ڈالنا ہوتا ہے جیسے سورۂ قصص کی آیت نمبر 7میں ہے
’’ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوْسٰی ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں بات ڈال دی۔
نیز سورۂ نحل کی آیت نمبر68میں ہے
’’ وَ اَوْحٰی رَبُّكَ اِلَی النَّحْلِ ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی۔
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کروجب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔
{ اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ : جب حواریوں نے کہا۔} حواریوں نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی کہ کیا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر آسمان سے نعمتوں سے بھرپور دسترخوان اتارے گا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہو۔(تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳ / ۲۲۶، الجزء السادس، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱ / ۵۳۹، ملتقطاً)
قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ(۱۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: بولے ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (حواریوں نے) کہا: ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہم آنکھوں سے دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا ہے اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔
{ قَالُوْا:انہوں نے کہا۔}حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جب انہیں خدا خوفی کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ ’’ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ حصولِ برکت کے لئے اس آسمانی دسترخوان سے کچھ کھائیں اور ہمارا یقین قوی ہو جائے اور جیسے ہم نے قدرتِ الٰہی کو دلیل سے جانا ہے اسی طرح مشاہدے سے بھی اس کو پختہ کرلیں یعنی علم ُالیقین سے ترقی کر کے عین ُالیقین حاصل کریں۔ حواریوں کے جواب نے واضح کردیا کہ انہوں نے قدرتِ الٰہی میں شک و شبہ کی وجہ سے سابقہ مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کا مقصد کچھ اور تھا۔ حواریوں کی اِس درخواست پر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا جب تم ان روزوں سے فارغ ہوجاؤ گے تو اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرو گے قبول ہوگی۔ انہوں نے روزے رکھ کر دسترخوان اُترنے کی دعا کی۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے غسل فرمایا ، موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سرِ مبارک جھکایا اور رو کر یہ دعا کی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱ / ۵۳۹)
قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: عیسیٰ ابن مریم نے عرض کی اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عیسیٰ بن مریم نے عرض کی: اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
{ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ: عیسیٰ بن مریم نے عرض کی۔} حواریوں نے جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرمان کے مطابق عمل کیا تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی: اے اللہ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے موجودہ لوگوں کیلئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کی دلیل ہوجائے اور سب کیلئے عیدہوجائے یعنی ہم اس کے اترنے کے دن کو عید بنائیں ، اس کی تعظیم کریں ،خوشیاں منائیں ،تیری عبادت کریں اورشکر بجالائیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو اُس دن کو عید بنانا، خوشیاں منانا، عبادتیں کرنا اور شکرِ الٰہی بجالانا صالحین کا طریقہ ہے اور بیشک تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری یقینا قطعاً حتماً اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے۔ اس لئے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجالانا اور فرحت و سُرور کا اظہار کرنا مستحسَن و محمود اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :جب سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا’’ یہ کیا ہے؟ یہودیوں نے عرض کی:یہ اچھا دن ہے۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کا روزہ رکھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ تمہاری نسبت میرا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے تعلق زیادہ ہے چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری، کتاب الصوم، باب صیام یوم عاشوراء، ۱ / ۶۵۶، الحدیث: ۲۰۰۴)
ترمذی شریف میں ہے، حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک یہودی کی موجودگی میں یہ آیت پڑھی
’’ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند فرمایا۔‘‘
یہ آیت سن کر اس یہودی نے کہا: اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : یہ آیت ہماری دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵ / ۳۳، الحدیث: ۳۰۵۵)
اس کی شرح میں مفسرِ شہیر، حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ جن تاریخوں میں اللہ کی نعمت ملے انہیں عید بنانا شرعاً اچھا ہے۔(مراٰۃالمناجیح، جمعہ کا باب، تیسری فصل، ۲ / ۳۱۴، تحت الحدیث: ۱۲۸۸)
نوٹ: میلاد شریف کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے علامہ اسماعیل نبہانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’جواہرُ البحار ‘‘ کی تیسری جلد کا مطالعہ فرمائیں۔
قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اُتارتا ہوں پھر اب جو تم میں کفر کرے گا تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ نے فرمایا: بیشک میں وہ تم پر اُتارتا ہوں پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی کو نہ دوں گا۔
{ قَالَ اللّٰهُ : اللہ نے فرمایا۔} حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی درخواست کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ میں وہ دسترخوان اتارتا ہوں لیکن اس کے نازل ہونے کے بعدجو کفر کرے گا تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی کو نہ دوں گا،چنانچہ آسمان سے خوان نازل ہوا ،اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کفر کیا وہ صورتیں مَسخ کرکے خنزیر بنادیئے گئے اور تین روز میں سب ہلاک ہوگئے۔ (تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۲ / ۶۶)
وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْۗ-بِحَقٍّ ﳳ-اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗؕ-تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(۱۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا عرض کرے گا پاکی ہے تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہونچتی اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب اللہ فرمائے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟ تووہ عرض کریں گے: (اے اللہ!) تو پاک ہے۔ میرے لئے ہرگز جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی توتجھے ضرور معلوم ہوتی۔تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔
{وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ:اور جب اللہ فرمائے گا۔} یہ بھی قیامت کے واقعے کا بیان ہے کہ بروزِ قیامت عیسائیوں کی سرزنش کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمائے گا کہ’’ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!کیاتم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟ اس خطاب کو سن کر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کانپ جائیں گے اورعرض کریں گے: اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ تو تمام نَقائص و عُیوب سے پاک ہے اور اس سے بھی کہ کوئی تیرا شریک ہوسکے ۔ میرے لئے ہرگز جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں یعنی جب کوئی تیرا شریک نہیں ہوسکتا تو میں یہ لوگوں سے کیسے کہہ سکتا تھا؟ اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی توتجھے ضرور معلوم ہوتی۔ تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ یہاں علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنا اور معاملہ اس کے سپرد کردینا اور عظمت ِالٰہی کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا یہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شانِ ادب ہے۔
مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْۚ-وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۱۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو مجھے تو نے حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھا را بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: میں نے تو ان سے وہی کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہا ر ا بھی رب ہے اور میں ان پر مطلع رہا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور تو ہرشے پر گواہ ہے۔
{ مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖ:میں نے تو ان سے وہی کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔}حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پہلے تو عرض کریں گے کہ یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، تو سب جانتا ہے، پھر عرض کریں گے کہ ’’میں نے تو ان سے وہی کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہا ر ارب ہے اور میں ان پر مطلع رہا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور تو ہرشے پر گواہ ہے۔
آیتِ مبارکہ میں ’’ تَوَفَّیْتَنِیْ ‘‘ کے لفظ سے قادیانی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات پر اِستِدلال کرتے ہیں اور یہ استدلال بالکل غلط ہے کیونکہ اوّل تو لفظ ’’ یَتَوَفّٰى ‘‘ موت کے لئے خاص نہیں بلکہ کسی شے کو پورے طور پر لینے کو کہتے ہیں خواہ وہ بغیر موت کے ہو جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا:
’’ اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا ‘‘(الزمر۴۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں۔
دوسرا یہ کہ جب یہ سوال و جواب روزِ قیامت کا ہے تو اگر لفظ ’’یَتَوَفّٰى‘‘ موت کے معنی میں بھی فرض کرلیا جائے جب بھی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آسمان سے زمین پر تشریف لانے سے پہلے وفات پانا اِس سے ثابت نہ ہوسکے گا۔ اس مسئلے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی15ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی کتاب’’اَلجُرَازُ الدَّیَّانِیْ عَلَی الْمُرْتَدِّالْقَادِیَانِیْ(مرتدقادیانی کے رد پر رسالہ ) کا مطالعہ فرمائیں۔
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے۔
{ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ : اگر تو انہیں عذاب دے۔}حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو معلوم ہوگا کہ قوم میں بعض لوگ کفر پر مصر رہے، بعض شرفِ ایمان سے مشّرف ہوئے اس لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں یہ عرض ہے کہ’’ ان میں سے جو کفرپر قائم رہے اُن پر تو عذاب فرمائے تو بالکل حق و بجا اور عدل وانصاف ہے کیونکہ انہوں نے حجت تمام ہونے کے بعد کفراختیار کیا اور جو ایمان لائے انہیں تو بخشے تو تیرا فضل وکرم ہے اور تیرا ہر کام حکمت ہے۔
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے بھی اس آیتِ مبارکہ کو پڑھ کراللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی امت کیلئے دعا فرمائی چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے قرآن پاک میں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس قول کی تلاوت فرمائی ’’رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ- فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ۔۔۔الآیہ ‘‘ اے میرے رب!ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، جو شخص میری پیروی کرے گا وہ میرے راستہ پر ہے۔‘‘ اور وہ آیت پڑھی جس میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ قول ہے’’اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ- وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ‘‘ اے اللہ! اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔پھر نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے دست ِدعا بلند کر دئیے اور روتے ہوئے عرض کرنے لگے :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری امت ، میری امت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرئیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے معلوم کرو (حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے) کہ ان پر اس قدر گریہ کیوں طاری ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حضرتجبرئیلعَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے معلوم کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب عرض کردیا (حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے) اللہ تعالیٰ نے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں کریں گے۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم لامتہ۔۔۔ الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲))
اس حدیث پاک سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
(1)…رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اپنی امت پر کمال درجے کے شفیق ومہربان تھے اور امت کی بھلائی اور بہتری میں کوشاں رہتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی امت کے لئے کسی شرط اور قید کے بغیر بخشش کی دعا مانگی۔
(2)…اس امت مرحوم کے لئے عظیم بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کی بخشش کے معاملے میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو راضی فرمائے گا ۔
(3)…اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا مقام بہت بلند ہے کہ سب کچھ جاننے والا ہونے کے باوجود حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکو اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں بھیجا اور اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت اور شرف کوظاہر فرمایا۔
(4)…نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبولیت کے اتنے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عظمتوں کو ظاہر فرماتا اور آپ کو راضی فرماتا ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفتن، باب الحوض والشفاعۃ، الفصل الاول، ۹ / ۵۳۰، تحت الحدیث: ۵۵۷۷، ملخصاً)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں اور انہی کے الفاظ میں ہم بھی عرض گزار ہیں کہ :
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے
ان کی امّت میں بنایا انھیں رحمت بھیجا یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعویٰ کیا ہے
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْؕ-لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ نے فرمایا کہ یہ ہے وہ دن جس میں سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہسے راضی یہ ہے بڑی کامیابی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ نے فرمایا: یہ (قیامت) وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، وہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔
{ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ:یہ (قیامت) وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔}اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جنہوں نے دنیا میں سچ بولا تھا ان کا سچ قیامت کے دن انہیں کام آئے گا اور انہیں نفع دے گا کیونکہ عمل کا مقام دنیا ہے آخرت نہیں کہ آخرت تو جز املنے کا دن ہے۔
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن سچ نفع دے گا تو جھوٹ اور ریاکاری کسی صورت نفع نہ دے گی لہٰذا عقلمند انسان کو چاہئے کہ سچائی کے راستے پر چلنے کی خوب کوشش کرے کیونکہ ایمان کے بعد سچائی کو اختیار کرنا بندے کو نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔ (روح البیان، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۲ / ۴۶۷-۴۶۸)
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’سچائی کو لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فُجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ، ص۱۴۰۵، الحدیث: ۱۰۵(۲۶۰۷))
اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے ،سچائی کے راستے کو اختیار کرنے اورجھوٹ بولنے سے بچتے رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اٰمین۔
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّؕ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۱۲۰)
ترجمۂکنزالایمان:اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
{ لِلّٰهِ:اللہ ہی کے لئے ہے۔}اس آیت میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکو خدا کہنے والے عیسائیوں کا رد بھی ہے کہ جب آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اوریہ دونوں حضرات بھی اللہ تعالیٰ کی مِلک میں اور ا س کے بندے ہیں تو یہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ جو کسی کی ملک میں اور عبد ہو وہ خدا ہر گز نہیں ہو سکتا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ پوری سورۂ اَنعام ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سورۂ اَنعام کی6 آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں اور باقی سورت ایک ہی مرتبہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ۔( خازن، تفسیر سورۃ الانعام، ۲ / ۲)
اس میں 20رکوع اور 165 آیتیں ہیں۔
عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ ‘‘ کہا۔(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ذکر سورۃ الانعام، ۲ / ۴۷۰، الحدیث: ۲۴۳۳)
سورۂ اَنعام قرآنِ مجید میں مذکور سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے پہلی مکی سورت ہے اور اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد ،جیسے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت ،ا س کی صفات اور اس کی قدرت کو انسان کی اندرونی اور بیرونی شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ وحی اور رسالت کے ثبوت اور مشرکین کے شُبہات کے رد پر عقلی اور حِسی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے ،قیامت کے دن اعمال کاحساب ہونے اور اعمال کی جزاء ملنے کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
(1) …زمین میں گھوم پھر کر سابقہ لوگوں کی اجڑی بستیاں ،ویران گھر اور ان پر کئے ہوئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے آثار دیکھ کر ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
(2) …جانور ذبح کرنے اور ذبح شدہ جانور کا گوشت کھانے کے احکام بیان کئے گئے اور اپنی طرف سے حلال جانوروں کو حرام قرار دینے کا رد کیا گیا ہے ۔
(3) …والدین کے ساتھ احسان کرنے، ظاہری اور باطنی بے حیائیوں سے بچنے، تنگدستی کی وجہ سے اولاد کو قتل نہ کرنے اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(4) … حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا اور آخر میں قرآن اور دین اسلام کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
سورۂ اَنعام کی اپنے سے ما قبل سورت’’ مائدہ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر87 میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔
اور سورۂ اَنعام میں یہ خبر دی گئی کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چند (حلال) چیزوں کو(اپنی طرف سے ) حرام قرار دے دیا اور یہ کہہ دیاکہ اسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اور یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں کو اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو (اپنی طرف سے) حرام قرار دے دیا تو وہ کفار کے مشابہ ہو جائیں گے۔(تناسق الدرر، سورۃ الانعام، ص۸۵)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزالعرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ؕ-ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی اس پر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔} اس آیت میں بندوں کو اللہ تعالیٰ کی حمد کی تعلیم فرمائی گئی کہ وہ جب حمد کرنے لگیں تو ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ کہیں ،ا ور آسمان وزمین کی پیدائش کا ذکر اس لئے ہے کہ اِن میں دیکھنے والوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّکی حکمت وقدرت کے بہت سے عجائبات ، عبرتیں اور منافع ہیں۔ حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ تو ریت میں سب سے پہلی یہی آیت ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱، ۲ / ۲)
{ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ:اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا۔}یعنی ہر اندھیرا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی نے پیدا فرمایا ہے خواہ وہ اندھیرا رات کا ہو، کفر کا ہو، جہالت کا ہو یا جہنم کا ہو ۔ یونہی ہر ایک روشنی اسی نے پیدا فرمائی خواہ وہ روشنی دن کی ہو ، ایمان و ہدایت کی ہو، علم کی ہو یا جنت کی ہو۔
یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالیٰ ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیتِ الٰہی کے حوالے کرنا بری بات ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہے اور جو برائی سرزد ہو اسے اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔
نیز اس آیت میں ظُلُمات یعنی تاریکیوں کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ہے۔
{ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ:پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔}قدرت ِ الٰہی کے ان دلائل کے بعد فرمایا کہ ایسے دلائل پر مطلع ہونے اور قدرت کی ایسی نشانیاں دیکھنے کے باوجود کفار اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو حتّٰی کہ پتھروں کو پوجتے ہیں حالانکہ کفار اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہاں کفار کے شرک کا ذکر ہوا اس مناسبت سے شرک کی تعریف درج ذیل ہے۔
شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی غیر کو واجبُ الوجود یا لائقِ عبادت سمجھاجائے ۔ حضرت علامہ سعدُ الدین تفتازانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :’’اَ لْاِشْتِرَا کُ ھُوَاِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِبِمَعْنٰی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِکَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنٰی اِسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِ‘‘ یعنی ’’شرک یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجبُ الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے۔( شرح عقائد نسفیہ، مبحث الافعال کلہا بخلق اللہ تعالی والدلیل علیہا، ص ۷۸)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِخدا کو معبود یا مستقل بالذّات و واجبُ الوجود نہ جانے ۔ (فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۱۳۱)
صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد تر قسم ہے اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں۔ (بہار شریعت، حصہ اول، ایمان وکفر کا بیان،۱ / ۱۸۳)
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًاؕ-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا اور ایک مقرر وعدہ اس کے یہاں ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت کا فیصلہ فرمایا اور ایک مقررہ مدت اسی کے پاس ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو۔
{ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ:وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔} اس آیت میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو کہتے تھے کہ ہم جب گَل کر مٹی ہو جائیں گے توپھر کیسے زندہ کئے جائیں گے؟ انہیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمہارے باپ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ان کی نسل سے لوگ پیدا ہوئے ،پھر ا س نے ایک مدت کا فیصلہ فرمایا جس کے پورا ہوجانے پر تم مرجاؤ گے اور مرنے کے بعد اُٹھانے کی ایک مقررہ مدت بھی اسی کے پاس ہے ،پھر اے کافرو! تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک کرتے ہو حالانکہ تمہیں علم ہے کہ تمہاری تخلیق کی ابتدا کرنے والا اللہ تعالٰی ہے اور جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بدرجہ اَولیٰ قادر ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲، ۲ / ۳، جلالین، الانعام، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۱۲، ملتقطاً)
وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِؕ-یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی اللہ ہے آسمانوں کااور زمین کا اسے تمہارا چھپا اور ظاہر سب معلوم ہے اور تمہارے کام جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی اللہ آسمانوں میں اور زمین میں( لائقِ عبادت) ہے۔ وہ تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے اور وہ تمہارے سب کام جانتا ہے۔
{ وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ: اور وہی اللہ آسمانوں میں اور زمین میں( لائقِ عبادت) ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ذکر کیاگیا اور اس آیت سے اللہتعالیٰ کے کامل علم کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آسمانوں اور زمینوں میں رہتا ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ ہر جگہ اس کی عبادت ہو رہی ہے اور ہر جگہ وہی معبود حقیقی ہے اور ہر جگہ اسی کی سلطنت و حکومت ہے، جیساکہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ‘‘(زخرف:۸۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور وہی آسمان والوں کامعبود ہے اور زمین والوں کامعبود ہے اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔
{ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ:وہ تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے۔}امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ تمام معلومات کا عالم ہے، زمین کی تہ سے لے کر آسمانوں کی بلندی تک جو کچھ جاری ہے سب کا احاطہ فرمانے والا ہے، وہ ایسا عالم ہے کہ اس کے علم سے زمین و آسمان کا کوئی ذرہ باہر نہیں جا سکتا بلکہ وہ سخت اندھیری رات میں صاف چٹان پر چلنے والی سیاہ چیونٹی کے چلنے کی آواز کو بھی جانتا ہے، وہ فضا میں ایک ذرے کی حرکت بھی جانتا ہے، وہ پوشیدہ امور سے واقف اور دلوں کے وسوسوں ،خیالات اور پوشیدہ باتوں کا علم رکھتا ہے،اس کا علم قدیم ،ازلی ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس علم کے ساتھ موصوف رہا ہے،اس کا علم جدید نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ذات میں آنے کی وجہ سے حاصل ہو اہے۔(احیاء العلوم، کتاب قواعد العقائد، الفصل الاول فی ترجمۃ عقیدۃ اہل السنّۃ فی کلمتی الشہادۃ۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۲۶)
وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی انکے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشانی نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
{وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ:اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی نہیں آتی۔} اس سے پہلی آیات میں مشرکین کے اس کفر کو بیان کیاگیا جو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتے تھے اور اس آیت سے مشرکین کے ا س کفر کو بیان کیا گیا ہے جو وہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ کرتے تھے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ کا کفر وسرکشی میں حال یہ ہے کہ ان کے پاس جب بھی قرآنِ مجید کی آیات آتی ہیں یا وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات دیکھتے ہیں تو وہ ا س سے منہ پھیر لیتے ہیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۴، ۲ / ۴، ملتقطاً)
فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْؕ-فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا تو عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آنے والی ہیں جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے۔
{ فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ: تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا۔}یہاں حق سے یا قرآنِ مجیدکی آیات مراد ہیں یاتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات کہ جب بھی قرآن کی آیتیں یا نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات کفارِ مکہ کے سامنے آتے یا حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ انہیں کچھ سمجھاتے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو جھٹلاتے۔ اس پر فرمایا کہ عنقریب ان کے پاس خبریں آنے والی ہیں اس چیز کی جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسی عظیم الشان خبر ہے اور اس کی ہنسی بنانے کا انجام کیسا خوفناک ہے ۔
اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا۪-وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہوں نے نہ د یکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا اور ان کے نیچے نہریں بہائیں تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا انہوں نے نہیں د یکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا، انہیں ہم نے زمین میں وہ قوت و طاقت عطا فرمائی تھی جو تمہیں نہیں دی اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش بھیجی اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کردیں۔
{ اَلَمْ یَرَوْا:کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} اس سے پہلی آیات میں سرزنش اور وعید کے ذریعے کفارِ مکہ کواللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے منہ پھیرنے، حق کو جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مذاق اڑانے سے منع کیا گیا اور ا س آیت میں سابقہ قوموں کا عبرت ناک انجام بیان کر کے انہیں نصیحت کی جا رہی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا شام اور دیگر ملکوں کی طرف سفر کرنے کے دوران کفارِ مکہ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا۔ اے اہلِ مکہ! ہم نے انہیں زمین میں وہ قوت و طاقت عطا فرمائی تھی جو تمہیں نہیں دی اور جب انہیں ضرورت پیش آئی تو ہم نے ان پر موسلا دھار بارش بھیجی جس سے ان کی کھیتیاں شاداب ہوئیں اور ان کے درختوں ، رہائش گاہوں اور محلات کے قریب نہریں بہا دیں جس سے باغ پرورش پائے ،پھلوں کی کثرت ہوئی اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بَہم پہنچے لیکن جب انہوں نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور ان کے احکامات کو جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا اور ان کی یہ جاہ و حشمت اور سازو سامان انہیں ہلاکت سے نہ بچاسکا اور ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کردیں اور دوسرے لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا۔ ان کاعبرت ناک انجام دیکھ کر تم بھی نصیحت حاصل کرو اور سابقہ کفار والی روش اختیار نہ کرو ورنہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب آ سکتا ہے۔
اس آیت میں گزری ہوئی اُمتوں کا جو حال اور انجام بیان کیا گیا کہ وہ لوگ قوت ، دولت اور مال و عیال کی کثرت کے باوجود کفر و سرکشی اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے احکام کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے، اس میں بطورِ خاص کفار اور عمومی طور پر ہر مسلمان کے لئے عبرت اور نصیحت ہے ،ا س لئے سب کو چاہئے کہ اُن کے حال سے عبرت حاصل کرکے خواب ِغفلت سے بیدار ہوں اور کفر و سرکشی اور گناہوں کو چھوڑ کر ایمان، اطاعت، عبادت اور نیک کاموں میں مصروف ہو جائیں۔
اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دنیوی خوشحالی ، مال و دولت اور سہولیات کی کثرت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا مندی کی علامت نہیں ورنہ قارون تو بہت بڑا مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہوتا۔ یہاں سے ان لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی دنیوی ترقی، سائنسی مہارت، سہولیات کی کثرت، ایجادات کی بہتات، مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر انہیں بارگاہِ الٰہی میں مقبول اور مسلمانوں کو مردود سمجھتے ہیں اور اخلاق و کردار میں مسلمانوں کو کفار کی تقلید کامشورہ دیتے ہیں۔ کفار کی یہ دنیوی کامیابی مقبولیت کی نہیں بلکہ مہلت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ کافروں کی جلد پکڑ نہیں فرماتا بلکہ انہیں مہلت دیتا اور آسائشیں عطا فرماتا ہے،پھر انہیں اپنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ نیز نام نہاد دانشور، مسلمانوں کو یورپ کی اندھی تقلید کا نہ ہی فرمائیں تو بہتر ہے اور وہ اپنی قارونی سوچ اپنے پاس ہی رکھیں۔
وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم تم پر کاغذ میں کچھ لکھا ہوا اتارتے کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے جب بھی کافر کہتے کہ یہ نہیں مگر کھلا جادو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم کاغذ میں کچھ لکھا ہوا آپ پر اتار دیتے پھر یہ اسے چھو لیتے تب بھی کافر کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
{ وَ لَوْ نَزَّلْنَا: اور اگرہم اتار دیتے۔} یہ آیت نضربن حارث ، عبداللہ بن اُمیّہ اور نوفل بن خویلد کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ اے محمد! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) ہم تم پر ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں ، وہ گواہی دیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور تم اس کے رسول ہو۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۷۰) اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں کیونکہ اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دی جاتی اور وہ اُسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے تو بھی یہی کہتے کہ ان کی نظر بندی کردی گئی تھی اورکتاب اُترتی نظر توآئی تھی لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھا جیسے انہوں نے معجزہ شقُّ القمر یعنی چاند کے دوٹکڑے ہونے کے معجزے کو جادو بتایا اور اس معجزہ کو دیکھ کربھی ایمان نہ لائے، اسی طرح اِس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادا ً انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے نفع نہیں اٹھاسکتے۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌؕ-وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہوگیا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور (کافروں نے) کہا :ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہ اتار دیا گیا حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو فیصلہ کردیا جاتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔
{ وَ قَالُوْا:اور انہوں نے کہا۔}یعنی مشرکین نے مزید یہ کہا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہ اتار دیا گیا جسے وہ دیکھتے ۔ اس پر فرمایا گیا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتہ اتار دیتااور کافر پھر بھی ایمان نہ لاتے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب ان پر لازم ہوجاتا کیونکہ یہ سنتِ الٰہیہ ہے کہ جب کفار اجتماعی طورپر کوئی نشانی طلب کریں اور اس نشانی کے ظاہر ہوجانے کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہوجاتا ہے اور وہ ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر کافروں کا مطالبہ پورا کردیا جاتا اور یہ پھر بھی ایمان نہ لاتے تو انہیں ایک لمحے کی بھی مہلت نہ ملتی اور ان سے عذاب مُؤخر نہ کیا جاتا۔
یاد رہے کہ کافروں نے ایسے فرشتے کے اترنے کا مطالبہ کیا تھا جو اُن کافروں کو بھی نظر آئے اور اسی کا رد کیا گیا تھا ورنہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایک کیا بہت سے فرشتے نازل ہوتے تھے اور بسا اوقات انسانی شکل میں حاضر ہوتے تھے جنہیں صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمبھی دیکھتے تھے۔ ان کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ فرشتہ اپنی اصلی صورت میں آئے اور ہم اسے اسی صورت میں دیکھیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ کفار نے بہت سی نشانیاں طلب کیں جو پوری بھی ہوئیں جیسے چاند کے دو ٹکڑے ہونا وغیرہ اور اس کے بعد وہ ایمان بھی نہیں لائے تو ایسی صورت میں آیت میں بیان کردہ حکم کے مطابق تو سب کو ہلاک کردیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا تو آیت کا مطلب کیا ہے یا پھر ان معجزات کے دکھائے جانے کا مطلب کیا ہوا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نبوت پر دلالت کرنے والی نشانی دو طرح کی ہے (1) عام نشانی۔ (2) خاص نشانی۔ عام نشانی وہ ہے کہ جس کا تمام لوگ مطالبہ کریں یا سب مطالبہ تو نہ کریں لیکن اس کا مشاہدہ سب کر لیں۔ خاص نشانی وہ ہے کہ جس کا مطالبہ مخصوص لوگ کریں اور تمام ا فراد اس کا مشاہدہ نہ کر سکیں۔گزشتہ امتوں میں نشانی دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل کرنے میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ رہا کہ عام نشانی یعنی جس میں سب عام و خاص شریک ہو جائیں اسے پورا کرنے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل فرماتا جبکہ خاص نشانی کے پورا ہونے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل نہیں فرماتا۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا مطالبہ مخصوص لوگوں نے کیا جو پورا ہوا لیکن یہ عام نشانی نہ تھی بلکہ خاص تھی کہ جب چاند دو ٹکڑے ہوا اس وقت اکثر لوگ سو رہے تھے، اور کئی مقامات پر اختلافِ مَطالع یا بادل حائل ہونے کی وجہ سے چاند دو ٹکڑے ہوتا نظر نہ آیا، اس لئے مطالبہ کرنے والوں پر عذاب نازل نہ ہوا۔(شرح السنہ للبغوی، کتاب الفضائل، باب علامات النبوۃ، ۷ / ۶۶، تحت الحدیث: ۳۶۰۵، ملخصاً)
مرقاۃُ المفاتیح میں یہی عبارت شرحُ السنہ سے منقول ہے۔ ا س کی روشنی میں ابو جہل یا دیگر کفار کے مطالبات کو دیکھا جائے تو وہ خاص مطالبے خاص فرد کے لئے پورے ہوئے تھے اس لئے اس پر عذاب نازل نہ ہوا۔
وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ(۹)
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم نبی کو فرشتہ بنادیتے توبھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جس میں اب پڑے ہیں۔
{ وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا:اور اگر ہم نبی کو فرشتہ بنادیتے۔} یہ ان کفار کا جواب ہے جو نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو کہا کرتے تھے ، ’’یہ ہماری طرح بشر ہیں ‘‘اور اسی پاگل پن میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے۔ انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جارہی ہے کہ اُن سے نفع حاصل کرنے اور تعلیمِ نبی سے فیض اُٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لاسکتے، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مرجاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا تو بھی اسے مرد ہی بنایا جاتا اور صورت ِانسانی ہی میں بھیجا جاتا تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں اور اس کا کلام سن سکیں اور اس سے دین کے احکام معلوم کرسکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا؟ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹، ۲ / ۵)
وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹّاکیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب ! بیشک تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا تو وہ جو ان میں سے (رسولوں کا) مذاق اڑاتے تھے ان پر ان کا مذاق ہی اتر آیا۔
{ وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ : اور اے محبوب ! بیشک تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا۔} کفار نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا مذاق اڑاتے جس سے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَرنجیدہ ہوتے۔ اس پر سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے فرمایا گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا تو جو مذاق اڑاتے تھے ان کا نہایت بھیانک انجام ہوا اور وہ مبتلائے عذاب ہوئے ۔اس میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی و تسکینِ خاطر ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَرنجیدہ و مَلُوْل نہ ہوں ، کفار کا پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے اور اس کا وبال ان کفار کو اٹھانا پڑا ہے ۔نیز اس میں مشرکین کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ پچھلی اُمتوں کے حال سے عبرت حاصل کریں اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ ادب کا طریقہ ملحوظ رکھیں تاکہ پہلوں کی طرح مبتلائے عذاب نہ ہوں۔
کفارِ قریش کے پانچ سردار (1) عاص بن وائل سہمی (2) اسود بن مُطَّلِب (3) اسود بن عبدیغوث (4) حارث بن قیس اور ان سب کا افسر (5)ولید بن مغیرہ مخزومی ،یہ لوگ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بہت ایذاء دیتے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا مذاق اڑایا کرتے تھے، اسود بن مُطَّلِب کے خلاف حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے دُعا کی تھی کہ یارب! عَزَّوَجَلَّ، اس کو اندھا کردے۔ ایک روزتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مسجدِ حرام میں تشریف فرما تھے کہ یہ پانچوں آئے اور انہوں نے حسبِ دستور طعن اور مذاق کے کلمات کہے اور طواف میں مشغول ہوگئے۔ اسی حال میں حضرت جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولیدبن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص کے قدموں کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبدیغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں ان کا شر دفع کروں گا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ میں یہ ہلاک ہوگئے ،ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دوکان کے پاس سے گزرا تو اس کے تہہ بند میں ایک تیر کی نوک چبھ گئی، لیکن اُس نے تکبر کی وجہ سے اس کو نکالنے کے لئے سر نیچا نہ کیا، اس سے اس کی پنڈلی میں زخم آیا اور اسی میں مرگیا۔ عاص بن وائل کے پاؤں میں کانٹا لگا اور نظر نہ آیا، اس سے پاؤں ورم کرگیا اور یہ شخص بھی مرگیا ۔اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد ہوا کہ دیوار میں سر مارتا تھا اسی میں مرگیا اور یہ کہتا مرا کہ مجھ کو محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) نے قتل کیا، اور اسود بن عبدیغوث کو ایک بیماری اِسْتِسْقَاء لگ گئی، کلبی کی روایت میں ہے کہ اس کو لُولگی اور اس کا منہ اس قدر کالا ہوگیا کہ گھر والوں نے نہ پہنچانا اور نکال دیا اسی حال میں یہ کہتا مرگیا کہ مجھ کو محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کے رب عَزَّوَجَلَّ نے قتل کیا اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ جاری ہوا ، وہ اسی میں ہلاک ہوگیا۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۵، ۳ / ۱۱۱، ملخصاً)
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرمادو: زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
{ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ:تم فرمادو:زمین میں سیر کرو ۔} یہاں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ عذاب کا مذاق اڑانے والوں سے فرما دیں کہ جاؤ اور زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟ اور انہوں نے کفرو تکذیب کا کیا ثمرہ پایا؟ یہاں زمین سے مراد وہ زمین ہے جہاں پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور اب تک وہاں اُن اُجڑی بستیوں کے آثار موجود ہیں اور سیر کا یہ حکم ترغیب کے لئے ہے نہ کہ وجوب کے لئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ خوفِ الٰہی پیدا کرنے کے لئے عذاب والی جگہ جا کر دیکھنا بہتر ہے کیونکہ خبر کے مقابلے میں مشاہداتی چیز کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ نیز جیسے عذاب کی جگہ دیکھنے سے خوف پیدا ہوتا ہے اسی طرح رحمت کی جگہ دیکھنے سے عبادت کی رغبت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت پیدا ہوتی ہے، لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت دیکھنے کے لئے بزرگوں کے آستانے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی ہیں ، جا کر سفر کر کے دیکھنا بھی بہتر ہے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کا شوق پیدا ہو۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمانی قوت حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا باعثِ رحمت ہے اور اس آیت سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو صرف تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور طرف سفرکو مطلقاًناجائز کہتے ہیں اور ا س کی دلیل کے طور پر یہ حدیث پیش کرتے ہیں ،حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ ان تین مسجدوں کے سوا کسی کی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں (1) مسجدِ حرام۔ (2) رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی مسجد۔ (3) مسجدِ اقصی۔(بخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب مسجد بیت المقدس، ۱ / ۴۰۳، الحدیث: ۱۱۹۷)
اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ان مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف اس لئے سفر کر کے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے ممنوع ہے کیونکہ ان کے علاوہ سب مسجدوں میں نماز پڑھنے کاثواب برابر ہے۔ اگر اس حدیث کے یہ معنی کئے جائیں کہ ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا حرام ہے یا ان تین مسجدوں کے علاوہ کہیں اور سفر کرنا جائز نہیں تو یہ حدیث قرآنِ مجید کی اس آیت اور دیگر احادیث کے بھی خلاف ہو گی ،نیز اس معنی کے حساب سے کہیں کا کوئی سفر کسی مقصد کے لئے جائز نہ ہو گا مثلاً جہاد، طلبِ علم، تبلیغِ دین،تجارت، سیاحت وغیرہ کسی کام کے لئے سفر جائز نہ ہو گا اور یہ امت کے اجماع کے خلاف ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے مزارات پر جانا ممنوع و حرام نہیں بلکہ جائز اور مستحسن ہے ۔
قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلْ لِّلّٰهِؕ-كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَؕ-لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تم فرماؤ اللہ کا ہے اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کچھ شک نہیں وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی ایمان نہیں لاتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟ فرمادو: اللہ ہی کا ہے اس نے اپنے ذمۂ کرم پر رحمت لکھ لی ہے۔بیشک وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گاجس میں کچھ شک نہیں۔ وہ جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا ہوا ہے تووہ ایمان نہیں لاتے۔
{ قُلْ:تم فرماؤ۔} مزید فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ ان سے پوچھیں کہجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کا مالک کون ہے؟ اولاً تو وہ خود ہی کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ وہ اس کے معتقد ہیں اوراگر وہ یہ نہ کہیں تو تم خود یہ جواب دو کہ سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہوہی نہیں سکتا اور وہ اِس جواب کی مخالفت کرہی نہیں سکتے کیونکہ بت جن کو یہ مشرکین پوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،خود دوسروں کے مَملوک ہیں جبکہ آسمان و زمین کا وہی مالک ہوسکتا ہے جو حَیّ و قَیُّوم، اَزلی و اَبدی ، قادرِ مطلق، ہر شے پر مُتَصَرِّف اور حکمران ہو، تمام چیزیں اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہوں ، ایسا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں ، اس لئے تمام آسمانی و زمینی کائنات کا مالک اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔
{ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ: اس نے اپنے ذمۂ کرم پر رحمت لکھ لی ہے۔} یعنی اس نے رحمت کا وعدہ فرمالیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکا وعدہ خلافی کرنا اور معاذاللہ جھوٹ بولنا محال ہے۔ اس نے رحمت کا وعدہ فرمالیا اور رحمت عام ہے دینی ہو یا دُنیوی، اپنی معرفت اور توحید اور علم کی طرف ہدایت فرمانا بھی اسی رحمت فرمانے میں داخل ہے، یونہی کفار کو مہلت دینا اورسزا دینے میں جلدی نہ فرمانا بھی رحمت میں داخل ہے کیونکہ اس سے انہیں توبہ اوررجوع کا موقع ملتا ہے۔( جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۳۲۲-۳۲۳)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحیم اور سب سے بڑھ کر کریم ہے ،اس کے رحم و کرم کے خزانوں کی کوئی انتہاء نہیں ،وہ چاہے تو عمر بھر کے گناہ گار کو پل بھر میں بخش دے اور ا س کی ساری خطائیں معاف فرما دے لیکن اس کی وسیع رحمت کو دیکھ کر ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ بندہ گناہوں پر بے باک ہو جائے اور ا س کی نافرمانی کی پرواہ نہ کرے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، جس کا خلاصہ ہے کہ’’گناہ گار مومن ا س طرح دھوکے میں مبتلا ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں :اللہ تعالیٰ کریم ہے اور مجھے اس کے عفو و درگزر کی امید ہے،پھر اس بات پر بھروسہ کر کے اعمال سے غافل ہوجاتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت وسیع اور رحمت و کرم عام ہے، اس کی رحمت کے سمندر کے مقابلے میں بندوں کے گناہوں کی کیا حیثیت ہے، ہم توحید کو ماننے والے اور مومن ہیں اور ایمان کے وسیلے سے اس کی رحمت کے امید وار ہیں۔ بعض اوقات ان کے پاس اس امید کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے باپ دادا نیک لوگ تھے اور ان کا درجہ بلند تھا جیسے کئی لوگ اپنے نسب کی وجہ سے دھوکے کا شکار ہیں حالانکہ وہ خوفِ خدا، تقویٰ اور پرہیز گاری وغیرہ کے سلسلے میں اپنے آباؤ اَجداد کی سیرت کے خلاف چلتے ہیں تو گویا اِن کا گمان یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے باپ دادا سے بھی زیادہ معزز ہیں کیونکہ وہ باپ دادا توانتہائی درجہ کے تقویٰ کے باوجود خوف زدہ رہتے تھے اوریہ لوگ انتہائی درجہ کے فسق وفجور کے باوجودبے خوف ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بہت بڑ ادھوکہ ہے، اسی طرح شیطان اعلیٰ نسب والوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتا ہے کہ جو کسی انسان سے محبت کرتا ہے وہ اس کی اولاد سے بھی محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چونکہ تمہارے آباؤ اجداد سے محبت کی ہے لہٰذا وہ تم سے بھی محبت کرتا ہے،اس لئے تمہیں عبادت کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پر دھوکہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اطاعت گزار کو پسند فرماتا اور گناہگار کو نا پسند فرماتا ہے تو جس طرح گناہگار بیٹے کو برا جاننے کی وجہ سے ا س کے فرمانبردار باپ کو برا نہیں جانتا اسی طرح فرمانبردار باپ کی اطاعت گزاری کی وجہ سے اس کے گناہگار بیٹے سے محبت بھی نہیں کرتا، اگر محبت باپ سے بیٹے کی طرف چلی جاتی تو قریب تھا کہ نفرت بھی سرایت کرتی جبکہ حق بات یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا اور جس شخص کا یہ خیال ہو کہ وہ اپنے باپ کی پرہیز گاری کی وجہ سے نجات پائے گا تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو یہ گمان کرتا ہو کہ باپ کے کھانے سے وہ بھی سیر ہو جائے گا، باپ پئے تو بیٹا بھی سیراب ہو جائے گا، باپ کے سیکھنے سے بیٹا بھی عالم ہو جائے گا اور باپ کعبہ شریف میں پہنچ جائے تو اس کے وہاں پہنچنے سے یہ بھی وہاں پہنچ جائے گا اور کعبہ شریف کو دیکھ لے گا۔ (یاد رکھیں کہ ) تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرناہر ایک پر لازم ہے ،اس میں والد اپنے بیٹے کی طرف سے کفایت نہیں کرتا اور اس کے برعکس بھی یہی حکم ہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغرور، بیان ذم الغرور وحقیقتہ وامثلتہ، ۳ / ۴۷۱-۴۷۲، ملخصاً)[5]
وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِؕ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان:اور اسی کا ہے جو کچھ بستا ہے رات اور دن میں اور وہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سب کچھ اسی کا ہے جو رات اور دن میں بستا ہے اور وہی سننے والا جاننے والاہے ۔
{ وَ لَهٗ:اور اسی کا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ رات اور دن میں کائنات میں بسنے والی یا سکون حاصل کرنے والی ہر چیز یعنی تمام موجودات اسی کی مِلک ہے اور وہ سب کا خالق، مالک اور رب ہے ۔( جلالین مع جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲ / ۳۲۳)
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُؕ-قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۴)قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۵)مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَىٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں وہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا۔ تم فرماؤ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ اس دن جس سے عذاب پھیر دیا جائے ضرور اس پر اللہ کی مہر ہوئی اور یہی کھلی کامیابی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا کسی اور کو اس اللہ کے سوا والی بنالوں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے؟ اور وہ کھلاتا ہے اور وہ خود کھانے سے پاک ہے۔تم فرماؤ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبرداری کے لئے گردن جھکاؤں اور تو ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ تم فرماؤ: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔اس دن جس سے عذاب پھیر دیا گیا توضرور اس پر اللہ نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} کفارِ عرب نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کہا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اپنے ملک والوں کے دین کی طرف آجائیں اور توحید کا ذکر چھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳ / ۲۴۵، الجزء السادس) اور فرمایا گیا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، انہیں جواب دو کہ کیا میں اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اور کو اپنا والی بنالوں جو آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والا ہے نیز وہ سب کو کھلاتا ہے اور وہ خود کھانے سے پاک ہے، ساری مخلوق اُس کی محتاج ہے اوروہ سب سے بے نیاز ہے۔لہٰذا ایسے خالق و مالک، رحیم و کریم کو میں ہر گز نہیں چھوڑ سکتا۔ اس نے تو مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبرداری کے لئے گردن جھکاؤں کیونکہ نبی اپنی اُمت سے دین میں آگے ہوتے ہیں اور اس نے یہ حکم دیا ہے کہ میں شرک سے پاک رہوں۔
{ مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَىٕذٍ:اس دن جس سے عذاب پھیر دیا گیا۔}اس آیت سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن عذاب سے بچنا اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے ہو گا صرف اپنے اعمال اس کے لئے کافی نہیں کیونکہ اعمال سبب ہیں۔
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۷)وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس برائی کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر اللہ تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی حکمت والا خبردارہے۔
{ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ:اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے۔} ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے کوئی برائی مثلاً بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا پہنچائے تو اس کے سوا اس برائی کو کوئی دور کرنے والا نہیں یعنی اس کی مرضی کے خلاف اس کا بھیجا ہوا عذاب کوئی نہیں دفع کر سکتا۔ اور جہاں تک نیک اعمال اور بزرگوں کی دعا سے عذاب اٹھ جانے کا تعلق ہے تو اسے بھی رب کریم عَزَّوَجَلَّہی اپنے فضل و کرم سے ،اِن اسباب کے وسیلہ سے اٹھاتا ہے اور جیسے برائی کا پہنچنا اور دور ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، ایسے ہی بھلائی جیسے صحت و دولت وغیرہ کاپہنچنا بھی اسی خداوند ِ کریم کیقدرت سے ہے کیونکہ وہ ہر شے پر قادر ہے، کوئی اس کی مَشِیَّت کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا تو اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ معبود وہ ہے جو قدر تِ کاملہ رکھتا ہو اور کسی کا حاجت مند نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسا کوئی نہیں ، لہٰذا صرف اسی کو رب مانواسی کی عبادت کرو۔یہ ردِ شرک کی دل میں اثر کرنے والی دلیل ہے۔
قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةًؕ-قُلِ اللّٰهُ- شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُ نْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَؕ-اَىٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰىؕ-قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُۚ-قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤں اور جن جن کو پہنچے تو کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ :سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ فرمادو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور میری طرف اِس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور جن کو یہ پہنچے انہیں ڈراؤں۔ کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں ؟ تم فرماؤکہ میں یہ گواہی نہیں دیتا ۔ تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں ان سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو۔
{ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً:سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ }اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ اہلِ مکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہنے لگے کہ اے محمد! ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) ہمیں کوئی ایسا دکھائیے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا گواہ ہے اور سب سے بڑا گواہ وہی ہے۔( صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۵۶۷)
اللہتعالیٰ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی کئی طرح دی: ایک یہ کہ اپنے خاص بندوں سے گواہی دلوا دی۔ دوسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر جو کلام اتارا، اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اعلان فرمایا۔ تیسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے۔ یہ سب رب تعالیٰ کی گواہیاں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی گواہی دینا سنت ِرسول اللہ ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی دینا سنتِ خدا ہے، ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا گواہ خود ربُ العالمین عَزَّوَجَلَّہے اور کلمۂ شہادت میں دونوں گواہیاں جمع فرما دی گئیں ،سُبْحَانَ اللہ۔
{ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ: اور میر ی طر ف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے۔}یعنی اللہ تعالیٰ میری نبوت کی گواہی دیتا ہے اس لئے کہ اُس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا عظیم معجزہ ہے کہ تم فصیح وبلیغ اور صاحبِ زبان ہونے کے باوجود اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے،اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک عاجز کرنے والا ہے اور جب یہ عاجز کرنے والا ہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی یقینی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان’’ لِاُ نْذِرَكُمْ بِهٖ ‘‘سے یہی مراد ہے یعنی میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی گئی تا کہ میں اس کے ذریعے تمہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے سے ڈراؤں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۸)
{ وَ مَنْۢ بَلَغَ:اور جن تک یہ پہنچے۔} یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جن افراد تک یہ قرآنِ پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراؤں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا یہاں تک کہ اس نے قرآن سمجھ لیاتو گویا کہ اس نے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دیکھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کلام مبارک سنا۔(در منثور، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۲۵۷)
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کسریٰ اور قَیصر و غیرہ سَلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے۔( خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۸)
اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’ مَنْۢ بَلَغَ ‘‘ بھی فاعل کے معنیٰ میں ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اس قرآن سے میں تمہیں ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ (جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۳۲۷)
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ترو تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا، بہت سے لوگ جنہیں کلام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴ / ۲۹۹، الحدیث:۲۶۶۶)
اور ایک روایت میں ہے’’ سننے والے سے زیادہ افقہ ہوتے ہیں۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴ / ۲۹۸، الحدیث:۲۶۶۵)
اس سے فقہا کی قدرومنزلت معلوم ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی نبوت اور قرآن کی ہدایت کسی زمان و مکان اور کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں۔
{ اَىٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ: کیا تم گواہی دیتے ہو؟} یہاں مشرکوں سے خطاب ہے یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرمائیں کہ اے مشرکو! کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں ؟ اے حبیب ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ! تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا بلکہ تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں ان جھوٹے خداؤں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ عَزَّوَجَلَّکاشریک ٹھہراتے ہو ۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کریبلکہ تمام بے دینوں سے دور رہے اور کفر و شرک و گناہ سے بیزار رہے بلکہ مومن کو چاہیے کہ اپنی صورت، سیرت، رفتار و گفتار سے اپنے ایمان کا اعلان کرے۔[6]
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْۘ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان:جن کو ہم نے کتاب دی اس نبی کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کوایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (لیکن ) جو اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالنے والے ہیں تو وہ ایمان نہیں لاتے۔
{ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ:جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی۔} یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء جنہوں نے توریت و انجیل پائی وہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حلیہ مبارک اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے نعت و صفت سے جوان کتابوں میں مذکور ہے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں یعنی جیسے اولاد کے اولاد ہونے میں شبہ نہیں اسی طرح حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے نبی ہونے میں انہیں شبہ نہیں۔ چنانچہ اس کا ثبوت اس روایت سے بھی ملتا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہی آیت حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے پڑھ کرحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو پہچاننے کی صورت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: میں نے جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا دیدار کیا تو انہیں پہچان گیا بلکہ اپنے بیٹے کے مقابلے میں انہیں زیادہ جلدی پہچان گیا، میں اس بات کی گواہی تو دے سکتا ہوں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سچے رسول ہیں لیکن عورتوں نے کیا کیا وہ میں نہیں جانتایعنی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے میرے پیچھے کوئی خیانت کر لی ہو اور یہ بیٹا میرا نہ ہولیکن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سچے رسول ہونے میں مجھے کسی قسم کا شبہ نہیں ہوسکتا۔
تفسیر بغوی میں پہچاننے کی یہ صورت لکھی ہے ’’جیسے اپنے بیٹے کو دیگر بچوں کے درمیان پہچان لیتے ہیں کہ آدمی ہزاروں میں اپنے بیٹے کو بلا تَرَدُّد پہچان لیتا ہے ایسے ہی یہ لوگ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو پہچانتے ہیں لیکن ان میں جو اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں تو وہ ایمان نہیں لاتے۔ یہودیوں کا ایمان نہ لانا حسد کی وجہ سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حسد کے ہوتے ہوئے کسی کی خوبی تسلیم کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔اس آیت سے یہ اہم مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو جاننا پہچاننا ایمان نہیں بلکہ انہیں ماننا ایمان ہے۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے بیشک ظالم فلاح نہ پائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک ظالم فلاح نہ پائیں گے۔
{ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون؟}جو کسی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرائے یا جو بات اس کی شان کے لائق نہ ہو اس کی طرف نسبت کرے وہ سب سے بڑا ظالم ہے کیونکہ ظلم کہتے ہیں کسی شے کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینا تو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شایانِ شان نہیں ہے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف منسوب کرنا یقینا سب سے بڑا ظلم ہوگا۔
اس وعید میں مشرک بھی داخل کہ وہ توحید کو اس کی جگہ سے ہٹاتے ہیں اور دیگرکفار بھی داخل ہیں۔ یونہی اس میں فلموں ، ڈراموں یا کسی بھی ذریعے سے کفریات سیکھ کر بولنے یا خوشی سے سننے والے بھی داخل ہیں کہ وہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف وہ چیزیں منسوب کرتے ہیں جو اس کی شایانِ شان نہیں اور اس میں زمانۂ ماضی اور خصوصاً زمانۂ حال کے وہ اسکالرز ،دانشور اور مفکر بھی شامل ہیں جو دیدہ دانستہ قرآن کی غلط تفسیریں کرتے ہیں یا نااہل ہوتے ہوئے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔
وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(۲۲)ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(۲۳)اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان:اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ پھر ان کی کچھ بناوٹ نہ رہی مگر یہ کہ بولے ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے۔ دیکھو کیسا جھوٹ باندھا خود اپنے اوپر اور گم گئیں ان سے جو باتیں بناتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے ، تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (خدا کا شریک) گمان کرتے تھے؟ پھر ان کی اس کے سوا کوئی معذرت نہ ہوگی کہ کہیں گے ،ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔اے حبیب! دیکھو اپنے اوپر انہوں نے کیسا جھوٹ باندھا ؟اور ان سے غائب ہوگئیں وہ باتیں جن کا یہ بہتان باندھتے تھے۔
{ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ :پھر ان کی کوئی معذرت نہ ہوگی۔} قیامت کے دن کافروں کے پاس اپنے کفر و شرک سے معذرت کی کوئی صورت نہ ہوگی سوائے اس کے کہ شرک سے صاف انکار کردیں گے کہ ہم تو مشرک تھے ہی نہیں۔ ان کے متعلق اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، دیکھو اپنے اوپر انہوں نے کیسا جھوٹ باندھا کہ عمر بھر کے شرک ہی سے مکر گئے۔ مشرکین شروع میں تو اپنے جرموں کا انکار کریں گے پھر دوسرے وقت اقرار کریں گے اور پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے کہ ہمیں تو ہمارے بڑوں نے گمراہ کیا تھا۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَۚ-وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیںکہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردئیے ہیں کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا ہے اور اگر ساری نشانیاں (بھی) دیکھ لیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے حتّٰی کہ جب تمہارے پاس تم سے جھگڑتے ہوئے آتے ہیں تو کافر کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں۔
{ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ:اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتا ہے۔}ایک مرتبہ ابوسفیان، ولید، نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تلاوتِ قرآن پاک سننے لگے تو نضرسے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا: میں نہیں جانتا ،زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قصے کہہ رہے ہیں جیسے میں تمہیں سنایا کرتا ہوں۔ ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں۔ ابوجہل نے کہا کہ اس کا اِقرار کرنے سے مرجانا بہتر ہے۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۱۰) کافر وں کے قرآنِ پاک کو پرانے قصے کہنے سے مقصد کلامِ پاک کا وحیِ الٰہی ہونے کا انکار کرنا ہے۔
وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْــٴَـوْنَ عَنْهُۚ-وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ اس سے روکتے اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور ہلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں اور انہیں شعور نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ (دوسروں کو) اس سے روکتے اور خود اس سے دور بھاگتے ہیں اور وہ اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔
{ وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ:اور وہ (دوسروں کو) اس سے روکتے ہیں۔}یعنی مشرکین لوگوں کو قرآن شریف سے یارسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے سے دوسروں کوروکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ یہ آیت کفارِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کوسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی مجلس میں حاضر ہونے اور قرآنِ کریم سننے سے روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے کہ کہیں کلامِ مبارک اُن کے دل میں اثر نہ کرجائے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲ / ۱۰)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ یہ آیت تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چچا ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی جو مشرکین کو تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ایذا رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان لانے سے بچتے تھے۔( قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۲۵۱، الجزء السادس) لیکن بظاہر پہلا قول ہی صحیح ہے کیونکہ یہاں جمع کا صیغہ بیان ہوا ہے۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کاش کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر آپ دیکھیں جب انہیں آگ پر کھڑا کیا جائے گا پھر یہ کہیں گے اے کاش کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے اور ہم اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں۔
{ وَ لَوْ تَرٰى: اور اگر آپ دیکھیں۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کافروں کی حالت دیکھیں جب انہیں آگ پر کھڑا کیا جائے گا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بڑی خوفناک حالت دیکھیں گے اور اس وقت کافر کہیں گے کہ اے کاش کہ کسی طرح ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے اور ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہو جائیں تاکہ اس ہولناک عذاب سے بچ سکیں۔
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ پہلے جو یہ چھپا رہے تھے وہ ان پر کھل گیا ہے اور اگر انہیں لوٹا دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بیشک یہ ضرور جھوٹے ہیں۔
{ بَلْ بَدَا لَهُمْ: بلکہ ان پر ظاہر ہوگیا۔} جیسا کہ اُوپر اسی رکوع میں مذکور ہوچکا کہ مشرکین سے جب فرمایا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنے کفر کو چھپا جائیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے ،اس آیت میں بتایا گیا کہ پھر جب انہیں ظاہر ہوجائے گا جو وہ چھپاتے تھے یعنی ان کا کفر اس طرح ظاہر ہوگا کہ ان کے اَعضاو جَوارح ان کے کفر و شرک کی گواہیاں دیں گے تب وہ دُنیا میں واپس جانے کی تمنا کریں گے ۔اسی کافرمایا جارہا ہے کہ کافر اگرچہ دنیا میں لوٹائے جانے اورایمان لانے کی تمنا ظاہر کررہے ہیں لیکن ان کے ایمان لانے کی تمنا سچی نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ پہلے جو یہ اپنا مشرک ہوناچھپا رہے تھے وہ ان پر کھل گیا ہے اور اگر انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تو پھر وہی کریں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بیشک یہ ضرور جھوٹے ہیں۔
وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ(۲۹)وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْؕ-قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ-قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ-قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠(۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بولے وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں۔ اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے فرمائے گا کیا یہ حق نہیں ہے کہیں گے کیوں نہیں ہمیں اپنے رب کی قسم فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے کہا تھا کہ زندگی تو صرف دنیاوی زندگی ہی ہے اور ہمیں اٹھایا نہیں جائے گا۔ اور اگر تم دیکھو جب انہیں ان کے رب کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا تو وہ فرمائے گا: کیا یہ حق نہیں ؟ توکہیں گے: کیوں نہیں ، ہمیں اپنے رب کی قسم ۔ فرمائے گا تو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔
{ وَ قَالُوْا: اور انہوں نے کہاتھا۔} یہ ان کافروں کا مقولہ ہے جو قیامت کے منکر ہیں اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ جب سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کفار کو قیامت کے احوال اور آخرت کی زندگی، ایمانداروں اور فرمانبرداروں کے ثواب، کافروں اور نافرمانوں پر عذاب کا ذکر فرمایا تو کافر کہنے لگے کہ زندگی تو بس دنیا ہی کی ہے اور جب ہم مرنے کے بعد اس دنیا سے چلے جائیں گے تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۱۱) کافروں کا تو عقیدہ ہی یہ تھا کہ زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہے اور مرنے کے بعد کوئی اٹھایا نہیں جائے گااور اسی اعتقادکی بنا پر ان کی زندگی غفلت کا شکار تھی لیکن مسلمانوں پر بھی افسوس ہے کہ ان کا تو قطعی عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو اٹھایا جائے گا، اعمال کا جواب دینا پڑے گا لیکن اس کے باوجود وہ غفلت میں پڑے ہیں ، یہ بڑی افسوس ناک صورت ہے چنانچہ اسی مفہوم میں بزرگوں نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔حضرت ابو جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اس شخص پر بڑی حیرت ہے جو ہمیشگی کے گھر (جنت) کی تصدیق تو کرتا ہے لیکن کوشش دھوکے کے گھر (دنیا کو پانے اور اسے سنوارنے) کے لئے کرتا ہے۔ (کتاب الزہد لابن ابی الدنیا، ص۲۸، رقم: ۱۴)
امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ایک بزرگ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ’’اس شخص پر تعجب ہے جو احسان کرنے والے کی معرفت کے بعد اس کی نافرمانی کرتا ہے اور شیطان لعین کی سرکشی کو جاننے کے بعد اس کی اطاعت کرتا ہے۔(احیاء العلوم، کتاب شرح عجائب القلب، بیان تفصیل مداخل الشیطان الی القلب، ۳ / ۴۷)
حضرت فضیل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’مجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہوتا جو عمارت بنا کر چھوڑ جاتا ہے بلکہ اس پر تعجب ہوتا ہے جو اس عمارت کو دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتا۔ (احیاء العلوم، کتاب الفقر والزہد، بیان تفصیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ، ۴ / ۲۹۲)
حضرت وہیب مکی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’کسی شخص کے لئے یہ بات کیسے مناسب ہے کہ وہ دنیا میں ہنسے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی فریادیں ، گردشیں اور خوفناک مَناظر ہیں ، قریب ہے کہ سخت رعب اور خوف سے اس کے جسم کے جوڑ کٹ جائیں۔(تنبیہ المغترین، الباب الثانی فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم ظنہم بنفسہم الہلاک۔۔۔ الخ، ص۱۰۹)
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَاۙ-وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں تقصیر کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان پر اچانک قیامت آئے گی تو کہیں گے : ہائے افسوس اس پر جو ہم نے اس کے ماننے میں کوتاہی کی اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے ۔ خبردار، وہ کتنا برا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
{ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ:بیشک ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کو جھٹلایا ۔} یعنی جن کافروں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن اعمال کے حساب کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کو جھٹلایا تو انہوں نے اپنی جانوں کا ہی نقصان کیا کہ وہ لازوال نعمتوں کے گھر جنت سے محروم ہو جائیں گے اور جہنم کے دَرکات میں دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ جب قیامت کے دن ان منکروں پر اچانک قیامت آئے گی اور یہ اپنی ذلت و رسوائی کو دیکھیں گے تو کہیں گے : ہائے افسوس !ہمیں اس پر بہت ندامت ہے جو ہم نے دنیا میں قیامت کو ماننے میں کوتاہی کی اور اس دن پر ایمان لا کر اس لئے تیاری نہ کی اور نیک اعمال کرنے سے دور رہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۱۲، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۲۲، ملتقطاً)
{ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ:اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہوں گے۔}حدیث شریف میں ہے کہ کافر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے سامنے نہایت قبیح بھیانک اور بہت بدبودار صورت آئے گی وہ کافر سے کہے گی: تو مجھے پہچانتا ہے؟ کافر کہے گا،نہیں،تو وہ کافر سے کہے گی :میں تیرا خبیث عمل ہوں ، دنیا میں تو مجھ پر سوار رہا تھا اور آج میں تجھ پر سوار ہوں گا اور تجھے تمام مخلوق میں رسوا کروں گا پھر وہ اس پر سوار ہوجائے گا۔ (تفسیر طبری، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۱، ۵ / ۱۷۸، خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۱۲)
قیامت کے دن کافر کا تویہ حال ہو گاجبکہ دنیا میں کئے گئے برے اعمال مسلمان کے لئے بھی اُخروی خسارے کا سبب بن سکتے ہیں چنانچہ حدیث میں ہے ،رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’چار آدمی ایسے ہیں کہ وہ جہنمیوں کی تکلیف میں اضافے کا سبب بنیں گے اوروہ کھولتے پانی اور آگ کے درمیان دوڑتے ہوئے ہلاکت وتباہی مانگتے ہوں گے۔ اُن میں سے ایک پر انگاروں کاصندوق لٹک رہا ہوگا، دوسرا اپنی آنتیں کھینچ رہا ہو گا، تیسرے کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہے ہوں گے اور چوتھا اپنا گوشت کھا رہا ہو گا۔ صندوق والے کے بارے میں جہنمی ایک دوسرے سے کہیں گے: ’’اس بدبخت کو کیا ہوا؟ اس نے تو ہماری تکلیف میں اور اضافہ کر دیا۔ صندوق والا یہ جواب دے گا ’’میں اس حال میں مرا کہ میری گردن پر لوگوں کے اموال کا بوجھ (یعنی قرض) تھا۔ پھر اپنی انتڑیا ں کھینچنے والے کے متعلق کہیں گے: اس بدبخت شخص کا معاملہ کیسا ہے جس نے ہماری تکلیف کو اور بڑھا دیا؟ تو وہ جواب دے گا ’’ میں کپڑوں کو پیشاب سے بچانے کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ پھر جس کے منہ سے خون اور پیپ بہہ رہی ہو گی،اس کے بارے میں کہیں گے: اس بدنصیب کا معاملہ کیا ہے جس نے ہماری تکلیف کو اور زیادہ کر دیا؟ وہ کہے گا’’میں بدنصیب بری بات کی طرف متوجہ ہوکر اس طرح لذت اُٹھاتا تھا جیسا کہ جماع کی باتوں سے۔ پھر جو شخص اپنا گوشت کھا رہا ہوگا اس کے متعلق جہنمی کہیں گے: اس مردود کو کیا ہوا جس نے ہماری تکلیف میں مزید اضافہ کر دیا؟ تو وہ جواب دے گا ’’ میں بد بخت غیبت کر کے لوگوں کا گوشت کھاتا اور چغلی کرتا تھا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، الصمت وآداب اللسان، باب الغیبۃ وذمہا، ۷ / ۱۳۲، رقم: ۱۸۷، حلیۃ الاولیاء، شفی بن ماتع الاصبحی، ۵ / ۱۹۰، رقم: ۶۷۸۶، الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ، الکبیرۃ الثامنۃ والتاسعۃ بعد المائتین، ۲ / ۱۸-۱۹)
نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے ناتواں کے سر پر اتنا بوجھ بھاری واہ واہ
وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
{ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ :اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے۔} ارشاد فرمایا کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے جسے بقا نہیں ، بہت جلد گزر جاتی ہے جبکہ نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مومنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امور آخرت میں سے ہیں۔
مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی ، چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ’’ دنیا کی زندگی وہ ہے جو نفس کی خواہشات میں گزر جائے اور جو زندگی آخرت کے لئے توشہ جمع کرنے میں صَرف ہو، وہ دنیا میں زندگی تو ہے مگر دنیا کی زندگی نہیں لہٰذا انبیاء و صالحین کی زندگی دنیا کی نہیں بلکہ دین کی ہے۔ غرضیکہ غافل اور عاقل کی زندگیوں میں بڑا فرق ہے۔ (نور العرفان، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۲۰۸)
امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس بات کو بڑے پیارے انداز میں سمجھایا ہے چنانچہ کیمیائے سعادت میں ارشاد فرماتے ہیں :دنیا داروں کا دنیوی کاروبار میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلا دینے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گروہ کشتی میں سوار ہوا اور وہ کشتی کسی جزیرے پر جا کر رُکی، لوگوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ضروری حاجات سے فارغ ہونےکے لئے جزیرے پر اتر گئے۔ ملاح نے اعلان کیا: یہاں زیادہ دیر نہیں رکیں گے لہٰذا وقت ضائع کئے بغیر صرف طہارت وغیرہ سے فارغ ہو کر جلدی واپس پلٹیں۔ جزیرے میں اترنے کے بعد لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے:
(1)…کچھ لوگ جزیر ے میں سیر و سیاحت اور اس کے عجائبات دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ انہیں کشتی میں واپس آنا یاد نہ رہا حتّٰی کے وہیں بھوک پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے اور درندوں کی غذا بنے۔
(2)…عقلمند لوگ اپنی حاجات سے جلدی فارغ ہو کر کشتی میں اپنی من پسند جگہ پر آکر بیٹھ گئے۔
(3)…کچھ لوگ جزیرے کے انوار اور عجیب و غریب قسم کے پھولوں ، غنچوں ، شگوفوں ، وہاں کے پرندوں کے اچھے نغمات سنتے اور وہاں کے قیمتی پتھروں کو دیکھتے رہ گئے اور ان میں سے بعض ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے صرف دیکھنے پر ہی اِکتفا نہ کیا بلکہ وہاں سے بہت سی چیزیں اپنے ساتھ ا ٹھا لائے۔ اب کشتی میں مزید جگہ تنگ ہوئی تو اپنے ساتھ لانے والی اشیاء کو کشتی میں رکھنے کی جگہ نہ پا سکے تو مجبوراً انہیں سروں پر اٹھانا پڑا۔ ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ ان اشیاء کی رنگت میں تبدیلی شروع ہو گئی اور خوشبو کی بجائے اب بدبو آنے لگی ،اب انہیں کہیں پھینکنے کی جگہ بھی نہ تھی نادم و پشیمان اسی طرح اپنے سروں پر اٹھانے پر مجبور تھے۔
پہلے گروہ کی مثال کفار و مشرکین اور بد عقیدہ لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو کلی طور پر دنیا کے سپرد کر دیا اور اسی کے ہو کر رہ گئے ،اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت کوفراموش کر دیا، انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں محبوب رکھا۔
دوسرا گروہ ان عقلمندوں کا تھا جسے مومنین سے تعبیر کیا گیا، وہ طہارت سے فارغ ہوتے ہی کشتی میں سوار ہوئے اور عمدہ سیٹوں کو پا لیا( یعنی جنت کے مستحق ہوئے۔)
تیسرے گروہ کی مثال خطاکاروں کی ہے کہ انہوں نے ایمان کو تو محفوظ رکھا مگر دنیا میں ملوث ہونے سے بچ نہ سکے۔ (کیمیائے سعادت، عنوان سوم: معرفت دنیا، فصل چہارم، ۱ / ۹۵-۹۶، ملخصاً)
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تمہیں رنجیدہ کرتی ہیں تو بیشک یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں کاانکار کرتے ہیں۔
{ قَدْ نَعْلَمُ:ہم جانتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ اخنس بن شریق او ر ابوجہل کی آپس میں ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا، اے اَبُوالْحَکَمْ! (کفار ابوجہل کو اَبُوالْحَکَمْ کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلع ہوسکے، اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سچّے ہیں یا نہیں ؟ ابوجہل نے کہا کہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بے شک سچّے ہیں ، کبھی کوئی جھوٹا حرف اُن کی زبان پر نہیں آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قُصَیْ (حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے آباؤاجداد میں سے ایک بزرگ ہیں ) کی اولاد ہیں اور حج اور خانہ کعبہ کے متعلق تو سارے اعزاز انہیں حاصل ہی ہیں ،اب نبوت بھی انہیں میں ہوجائے تو باقی قریشیوں کے لئے اعزاز کیا رہ گیا۔( تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۷۷)
ترمذی شریف میں حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ’’ ابوجہل نے سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے کہا، ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لائے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانعام، ۵ / ۴۵، الحدیث: ۳۰۷۵) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم جانتے ہیں کہ ان کافروں کی باتیں آپ کو رنجیدہ کرتی ہیں لیکن آپ تسلی رکھیں کیونکہ قوم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی صداقت کا اعتقاد رکھتی ہے ا سی لئے پوشیدہ طور پر یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے البتہ حسد اور عناد کی وجہ سے یہ ظالم لوگ علانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۱۳)
اس آیت کے ایک معنیٰ یہ بھی ہوتے ہیں کہ’’اے حبیب اکرم !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ کی تکذیب آیاتِ الٰہیہ کی تکذیب ہے اور تکذیب کرنے والے ظالم ہیں یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو جھٹلانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جھٹلانا ہے۔
وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ-وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِۚ-وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ(۳۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آہی چکیں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اورکوئی اللہ کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بیشک تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آ چکی ہیں۔
{ وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا۔} رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے قلب ِ اطہر کی تسلی کیلئے فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،آپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور تکذیب کرنے والے ہلاک کئے گئے۔لہٰذا اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ بھی صبر کریں۔ کوئی اللہ عَزَّوَجَلَّکی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور اس کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا۔ رسولوں کی نصرت اور ان کی تکذیب کرنے والوں کا ہلاک ہونا اس نے جس وقت مقدر فرمایا ہے اس وقت ضرور ہوگا۔اور بیشک تمہارے دل کے سکون کے لئے تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جانتے ہیں کہ انہیں کفار سے کیسی ایذائیں پہنچیں۔ یہ پیشِ نظر رکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دل مطمئن رکھیں۔ اس آیت میں مبلغین کیلئے بھی تسلی ہے کہ اگر انہیں راہِ تبلیغ میں مشقتیں پیش آئیں تو وہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکالیف کو یاد کرکے صبر اختیار کریں۔
وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ان کا منہ پھیرنا آپ پر شاق گزرتا ہے تو اگر تم سے ہوسکے توزمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرکے ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤ اوراگر اللہچاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے! ہر گزبے خبر نہ بن۔
{ وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ:اور اگر تم پر شاق گزرتا ہے۔}سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئیں۔جو اسلام سے محروم رہتے ہیں ان کی محرومی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر بہت شاق رہتی تھی ۔ اس پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو رنج و تکلیف سے بچانے کیلئے اس انداز میں فرمایا گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سب لوگوں کے ایمان لانے کی طرف سے امید منقطع فرمالیں اور یوں رنج و غم سے نجات پائیں ، چنانچہ اس پر جو فرمایا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اگر ان کافروں کا منہ پھیرنا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بے پناہ رحمت اور شفقت کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر شاق گزرتا ہے تو اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے ایمان لانے کی خاطرزمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرکے ان کافروں کے پاس ان کی کوئی مطلوبہ نشانی لاسکتے ہیں تو لا کر دیکھ لیں۔ یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتسلیم و رضا کے مقام پر رہ کر اس معاملے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حوالے کردیں اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایسا نہیں کیا۔
اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ﳳ-وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں اور ان مردہ دلوں کو اللہ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: صرف وہ لوگ مانتے ہیں جو سنتے ہیں اور اللہ ان مردہ دلوں کو اٹھائے گا پھر اس کی طرف انہیں لوٹایا جائے گا۔
{ اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ: صرف وہ لوگ مانتے ہیں جو سنتے ہیں۔}ارشاد فرمایا کہ صرف وہ لوگ مانتے ہیں جو توجہ اور غور وفکر کے ساتھ دل لگا کر سمجھنے کیلئے سنتے ہیں جبکہ یہ کفار تو مردہ دل ہیں یہ کیا مانیں گے ۔آخرت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ان دل کے مردوں کو اٹھائے گا اورپھر اسی کی طرف انہیں لوٹایا جائے گا اوریہ اپنے اعمال کی جزا پائیں گے۔ وعظ و نصیحت کا اثر بھی تبھی ہوتا ہے جب آدمی ماننے اور عمل کرنے کے جذبے کے ساتھ توجہ کے ساتھ سنے ورنہ بے توجہی سے سننے کا نتیجہ عام طور پر کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی؟ تم فرمادو کہ بیشک اللہ کسی نشانی کے اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔
{ وَ قَالُوْا: اور انہوں نے کہا۔} کفارِ مکہ نے کہا تھا کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا کہ ان کے جواب میں اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتم فرمادو کہ بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ اس بات سے بے علم ہیں کہ اگر کوئی نشانی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اتار دی تو نہ ماننے کی صورت میں فوری طور پر ہلاک کردیے جائیں گے۔ کفار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے مشاہدہ کئے تھے اُن پر قناعت نہ کی اور سب سے مکر گئے اور ایسی نشانی طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذابِ الٰہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ’’ اَللّٰہُمَّ اِنۡ کَانَ ہٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنۡدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ‘‘ یارب اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ (ابو سعود، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۷، ۲ / ۱۴۶) اس پر انہیں فرمایا گیا کہ یہ جاہل ہیں اور جانتے نہیں کہ اس طرح کی نشانی کا اترنا ان کے لئے بلا و مصیبت ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کردیئے جائیں گے اور اپنی موت خود اپنے منہ سے مانگ رہے ہیں۔ ان معجزات کا نہ اتارنا بھی حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رحمت کی وجہ سے ہے۔
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىٕرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْؕ-مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں اڑتا ہے مگر تم جیسی اُمتیں ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا پھر اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار نہیں ہے اور نہ ہی اپنے پروں کے ساتھ اڑنے والا کوئی پرندہ ہے مگر وہ تمہاری جیسی امتیں ہیں۔ ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ پھر یہ اپنے رب کی طرف ہی اٹھائے جائیں گے۔
{ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ:مگر وہ تمہاری جیسی امتیں ہیں۔} یعنی تمام جاندار خواہ وہ چوپائے ہوں یا درندے یا پرندے، سب تمہاری طرح اُمتیں ہیں۔ یہ مُماثَلَت تمام اعتبارات سے نہیں بلکہ بعض اعتبار سے ہے اور ان وجوہ کے بیان میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ حیوانات تمہاری طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پہچانتے اور اسے واحدو یکتا جانتے، اس کی تسبیح پڑھتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ وہ مخلوق ہونے میں تمہاری مثل ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ انسان کی طرح باہمی الفت رکھتے اور ایک دوسرے سے سمجھتے سمجھاتے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ روزی طلب کرنے ،ہلاکت سے بچنے، نرمادہ کی امتیاز رکھنے میں تمہاری مثل ہیں۔ بعض نے کہا کہ پیدا ہونے ،مرنے، مرنے کے بعد حساب کے لئے اُٹھنے میں تمہاری مثل ہیں۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲ / ۱۵)
{ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ:ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کمی نہیں چھوڑی۔} یعنی جملہ علوم اور تمام ’’ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ ‘‘ کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے ۔اس کتاب سے یہ قرآنِ کریم مراد ہے یا لوحِ محفوظ۔ (جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲ / ۳۴۵) اس سے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا علمِ کلی ثابت ہوا کیونکہ سارے علوم لوحِ محفوظ یا قرآن میں ہیں اور یہ کتابیں حضورِاقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علم میں ہیں۔
{ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ: پھر یہ اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے۔} تمام انسان، جانور، پرندے قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے ۔ انسان تو جنت یا جہنم میں جائیں گے جبکہ جانور اور پرندوں کا حساب ہوگا اس کے بعد وہ خاک کردیئے جائیں گے۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲ / ۷۸)
اس سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن انسانوں اور جنوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کا بھی حساب ہو گا۔ بعض احادیث میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے ،چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث: ۶۰(۲۵۸۲))
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’قیامت کے دن زمین کھچ کر چمڑے کی طرح دراز ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ انسانوں ،جنوں ، چوپایوں اور وحشی جانوروں الغرض تمام مخلوق کوجمع فرمائے گا، اس دن اللہ تعالیٰ جانوروں کے درمیان بھی قصاص رکھے گا یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا، پھر انہیں کہا جائے گا کہ تم سب مٹی ہو جاؤ۔ اس وقت کافر یہ تمنا کرے گا کہ کاش میں بھی مٹی ہو جاتا۔( مستدرک، کتاب الاہوال، جعل اللہ القصاص بین الدواب، ۵ / ۷۹۴، الحدیث: ۸۷۵۶)
وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِؕ-مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُؕ-وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے رستے ڈال دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ، اندھیروں میں ( ہیں۔) اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ پر ڈال دے۔
{ وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا:اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔} ارشاد فرمایا کہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ بہرے اور گونگے ہیں کیونکہ حق ماننا اور حق بولنا انہیں مُیَسَّر نہیں اوروہ جہالت، حیرت اور کفر کے اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ پر ڈال دے اور اسلام کی توفیق عطا فرمائے۔
قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَۚ-اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴۰)بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠(۴۱)
ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر سچے ہو۔ بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر تم سچے ہو۔بلکہ تم اسی (اللہ) کو پکارو گے تو اگراللہ چاہے تو وہ مصیبت ہٹا دے جس کی طرف تم اسے پکارو گے اور تم شریکوں کو بھول جاؤ گے۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکوں سے فرمائیں کہ بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اس وقت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے اُن سے حاجت روائی چاہو گے ؟اگر تم اپنے اس دعویٰ میں کہ معاذ اللہ بت معبود ہیں ، سچے ہو تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے بلکہ تمام ہولناکیوں اور تکلیفوں میں تم اللہ عَزَّوَجَلَّہی کو پکارو گے تو اگراللہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو تم سے وہ مصیبت ہٹادے جس کو دور کرنے کی طرف تم اسے پکارو گے اور اگر وہ چاہے تو اس مصیبت کو دور نہ کرے اور اس وقت تم ان بتوں کو بھول جاؤ گے جنہیں تم خدا عَزَّوَجَلَّ کا شریک قرار دیتے تھے اور جنہیں اپنے اعتقاد ِباطل میں تم معبود جانتے تھے اور اُن کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آسکتے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتارکردیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔
{ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا:اور ہم نے رسول بھیجے۔}ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے لیکن لوگ ان پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتار کردیا اور فقرو اِفلاس اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے باز آئیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں تکالیف اور مصیبتیں بعض اوقات رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بن جاتی ہیں کہ بندوں کو رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور صالحین کے درجات بلند کرتی ہیں۔
فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۴۳)فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴)
ترجمۂکنزالایمان:تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے تو دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے۔ پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑاتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردئیے تھے۔پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔
{ فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا:تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑاتے}اس آیت اور اِس کے بعد والی آیت میں مجموعی طور پر یہ فرمایا گیا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ گڑگڑاتے تاکہ ہم انہیں توبہ کا موقع دیتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردئیے تھے پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں اور وہ کسی طرح نصیحت قبول کرنے کی طرف نہ آئے ، نہ تو پیش آنے والی مصیبتوں سے اور نہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں سے، توہم نے ان پر ہر چیز یعنی صحت و سلامت اور وسعتِ رزق و عیش و غیرہ کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس عیش و عشرت پرخوش ہوگئے اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھنے لگے اور قارون کی طرح تکبر کرنے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اور انہیں مبتلائے عذاب کردیا اور اب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہیں۔
یاد رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت پر خوش ہونا اگر فخر، تکبر اور شیخی کے طور پر ہو تو برا ہے اور کفار کا طریقہ ہے اور اگر شکر کے طور پر ہو تو بہتر ہے اور صالحین کا طریقہ بلکہ حکمِ الٰہی ہے، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) ‘‘ (والضحی: ۱۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا ‘‘ (یونس: ۵۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر اور گناہوں کے باوجود دنیاوی راحتیں ملنا در اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور اس کا غضب و عذاب ہے کہ اس سے انسان اور زیادہ غافل ہو کر گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ گناہ اچھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں اور یہ کفر ہے ۔
حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کی پسند کے مطابق عطا فرما رہاہے تو یہ ان کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِستِدراج اور ڈھیل ہے ،پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی
’’ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔‘‘ (مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶ / ۱۲۲، الحدیث: ۱۷۳۱۳)
حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم ! جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وسعت عطا فرمائی اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ کہیں اس میں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی کوئی خفیہ تدبیر نہ ہو تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور اس کی فکر کمزور ہے اور جس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وسعت روک لی اور اس نے یہ گمان نہ کیا کہ وسعت روکنے میں اس کے لئے کوئی بھلائی ہو گی تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور ا س کی فکر کمزور ہے۔ (تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۶۵، الجزء السادس)
اس سے ان نام نہاد دانشوروں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے جو کافروں کی ترقی دیکھ کر اسلام سے ہی ناراض ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کی معیشت کا رونا روتے ہوئے انہیں کفار کی اندھی تقلید کادرس دیتے ہیں اور اسلامی شرم و حیا اور تجارت کے شرعی قوانین کو لات مارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاؕ-وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیوں سراہا اللہ رب سارے جہان کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
{ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:تو ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی۔} ارشاد فرمایا کہ ایمان کی بجائے کفر اختیار کرنے اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے گناہوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب کے سب ہلاک کردیئے گئے ،ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑا گیا۔
{ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ:اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اس پر کہ اس نے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کی جڑ کاٹ دی ۔ اس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ لوگ ظالموں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد کریں اور ا س کا شکر بجا لائیں۔(تفسیر سمرقندی، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۵، ۱ / ۴۸۵)
اس سے معلوم ہوا کہ گمراہوں ،بے دینوں اور ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس پر شکر کرنا چاہئے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی سیرتِ مبارکہ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں چنانچہ
ابو جہل کے قتل پر حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سجدۂ شکر ادا کیا ۔(سیرت حلبیہ، باب غزوۃ بدر الکبری، ۲ / ۲۳۶)
عاشورہ کے دن نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے روزہ رکھنے کا حکم دیا کہ اس دن فرعون ہلاک ہوا۔ (مسلم، کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء، ص۵۷۲، الحدیث: ۱۲۸(۱۱۳۰))
حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یمامہ کی فتح اور مسیلمہ کذاب کے مرنے کی خبر ملنے پر سجدۂ شکر کیا اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جب( خارجیوں کے درمیان) ذُو الثَّدِیَّہ یعنی دو پستانوں والے مرد کو مردہ پایا تو سجدہ ٔشکر کیا۔(فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ۱ / ۴۵۷)
لہٰذا مؤمن کی وفات پر ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھئے اور موذی کافر کی موت پر’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ پڑھئے۔
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، (اے لوگو!) بھلا بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جوتمہیں یہ چیزیں لادے گا؟ دیکھو ہم کیسے بار بار نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر (بھی) یہ لوگ منہ پھیر تے ہیں۔
{ قُلْ اَرَءَیْتُمْ:تم فرماؤ، (اے لوگو!) بھلا بتاؤ۔}یہاں توحید ِ باری تعالیٰ کی دلیل پیش کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے اور علم و معرفت کا تمام نظام درہم برہم ہوجائیتو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کون معبود ہے جوتمہیں یہ چیزیں لادے گا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ، تو اب توحید پر قوی دلیل قائم ہوگئی کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی اتنی قدرت و اختیار والا نہیں تو عبادت کا مستحق صرف وہی ہے اور شرک بدترین ظلم وجرم ہے۔
{ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ:دیکھو ہم کیسے بار بار نشانیاں بیان کرتے ہیں۔}یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ دیکھیں کہ کبھی ہم انہیں اپنی نعمتیں یاد دلا کر ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں ، کبھی سابقہ امتوں پر آنے والے عذابات یاد دلا کر اور کبھی ا س بات سے ڈراتے ہیں کہ ہم چاہیں توان کے کانوں ،آنکھوں اور دلوں کو بے کار کر دیں اور کبھی ان کے سامنے اپنی اُلوہیت، قدرت اور وحدانیت پر دلائل پیش کرتے ہیں تاکہ یہ کسی طرح ایمان لے آئیں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ ان نشانیوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ (البحر المحیط، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۱۳۵، ملخصاً)
قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک یا کھلم کھلا تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اچانک یا کھلم کھلا اللہ کا عذاب آجائے تو ظالموں کے سواکون تباہ کیا جائے گا؟
{ قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ:تم فرماؤ، بھلا بتاؤ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کاعذاب آنے کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :
(1)… اچانک آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جو پیشگی علامتوں کے بغیر آتا ہے اور ا س کے ذریعے کفار کو تباہ و برباد کر دیاجاتا ہے۔
(2)…کھلم کھلا آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جس کے آنے سے پہلے اس کی علامتیں نمودار ہوتی ہیں تاکہ لوگ اگر اس عذاب سے بچنا چاہیں تو اپنے کفر اور سرکشی سے توبہ کر کے بچ سکتے ہیں اور اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں عذاب میں مبتلا کر کے تباہ کر دیا جاتا ہے۔
وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸)وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔
{ وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ:اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے ہوتے ہیں۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجتے کہ کفار ان سے اپنی من مرضی کے معجزات طلب کرتے پھریں بلکہ اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کو اطاعت پر ثواب کی بشارت اور نافرمانی کرنے پر عذاب کی وعید سنائیں تو جو اپنے کفر کو چھوڑ کر ان پر ایمان لے آیا اور ا س نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی تو ان پر دنیوی یا اخروی عذاب کاکوئی خوف ہے اور نہ وہ ثواب ضائع ہونے کے اندیشے سے غمگین ہوں گے اور جنہوں نے ہماری ان آیتوں کو جھٹلایا جو ہمارے رسولوں نے ان کے سامنے بیان کیں تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳ / ۳۲)
اس سے معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان اور نیک اعمال دونوں ضروری ہیں ،ایمان لانے کے بعد خود کونیک اعمال سے بے نیاز سمجھنے والے اور ایمان قبول کئے بغیر اچھے اعمال کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھنے والے دونوں احمقوں کی دنیاکے باسی ہیں البتہ ان دونوں صورتوں میں صاحب ِ ایمان قطعاً بے ایمان سے بہتر ہے۔
امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’جب بندہ ایمان لاتا ہے اور ا س کے بعد اچھے اعمال کرتا اور برائیوں سے باز رہتا ہے نیز امید اور خوف کے درمیان اس طرح مُتَرَدِّد رہتا ہے کہ اسے عمل قبول نہ ہونے کا ڈر ہوتا ہے اور وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ وہ ہمیشہ نیک عمل نہ کر سکے اوراس کا خاتمہ اچھا نہ ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس بات کی امید بھی رکھتا ہے کہ وہ اسے مضبوط او ر ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا،اس کے دین کوموت کی سختیوں سے بچائے گا حتّٰی کہ وہ توحید پر دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور باقی کی زندگی اس کے دل کو خواہشات سے محفوظ رکھے گا تاکہ وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو ایسا آدمی عقلمند ہے لیکن ا س کے علاوہ لوگ دھوکے میں ہیں اور عنقریب عذاب کو دیکھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون شخص سب سے زیادہ بھٹکا ہو اتھا اور کچھ وقت کے بعد اس کی خبر تم ضرور جان لو گے ،اس وقت وہ کہیں گے۔
’’ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ‘‘ (سجدہ:۱۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ہمارے رب! ہم نے دیکھا اور سنا تو ہمیں واپس بھیج دے تاکہ نیک کام کریں ، بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔
یعنی ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ جس طرح زمین میں بیج ڈالے اور ہل چلائے بغیر فصل پیدا نہیں ہوتی اسی طرح آخرت میں اجر و ثواب اچھے عمل کے بغیر نہیں ملتا، اے اللہ !عَزَّوَجَلَّ، تو ہمیں واپس بھیج دے ،ہم اچھے عمل کریں گے ، اب ہمیں تیری اس بات کی صداقت معلوم ہوگئی :’’ وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى‘‘(نجم:۳۹،۴۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔
(لیکن اس وقت ان کی یہ باتیں انہیں کوئی فائدہ نہ دیں گی اور نہ ہی انہیں واپس بھیجا جائے گا)۔( احیاء العلوم، کتاب ذم الغرور، بیان ذم الغرور وحقیقتہ وامثلتہ، ۳ / ۴۷۲-۴۷۳)
قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌۚ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُؕ-اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠(۵۰)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو اسی کا تا بع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے تم فرماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیارے تو کیا تم غور نہیں کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب!) تم فرمادو :میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں خود غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کا پیروکار ہوں جو میری طرف آتی ہے۔ تم فرماؤ ،کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ تو کیا تم غور نہیں کرتے؟
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} کفار کا طریقہ تھاکہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے، کبھی کہتے کہ آپ رسول ہیں تو ہمیں بہت سی دولت اور مال دے دیجئے تاکہ ہم کبھی محتاج نہ ہوں اور ہمارے لئے پہاڑوں کو سونا کردیجئے ۔کبھی کہتے کہ گزشتہ اور آئندہ کی خبریں سنائیے اور ہمیں ہمارے مستقبل کی خبر دیجئے کہ کیا کیا پیش آئے گا؟ تاکہ ہم منافع حاصل کرلیں اور نقصانوں سے بچنے کیلئے پہلے سے انتظام کرلیں۔کبھی کہتے ہمیں قیامت کا وقت بتادیں کہ کب آئے گی؟ کبھی کہتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے بھی ہیں اور نکاح بھی کرتے ہیں۔اُن کی اِن تمام باتوں کا اِس آیت میں جواب دیا گیا کہ تمہارا یہ کلام نہایت بے محل اور جاہلانہ ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہو اُس سے وہی باتیں دریافت کی جاسکتی ہیں جو اُس کے دعوے سے تعلق رکھتی ہوں ، غیر متعلق باتوں کا دریافت کرنا اور اُن کو اُس کے دعوے کے خلاف دلیل وحجت بنانا انتہا درجے کی جہالت ہے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرما دیجئے کہ میرا دعویٰ یہ تو نہیں کہ میرے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّکے خزانے ہیں جو تم مجھ سے مال و ودلت کا سوال کرو اور اگرمیں تمہاری مرضی کے مطابق تمہارا دعویٰ پورا نہ کروں تو تم رسالت کے منکر ہوجاؤ اورنہ میرا دعویٰ ذاتی غیب دانی کا ہے کہ اگر میں تمہیں گزشۃ یا آئندہ کی خبریں نہ بتاؤں تو میری نبوت ماننے میں بہانہ کرسکو ۔ نیز نہ میں نے فرشتہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ کھانا پینا اورنکاح کرنا قابلِ اعتراض ہو تو جن چیزوں کا دعویٰ ہی نہیں کیا، اُن کا سوال کرنا ہی بے موقع محل ہے اور ایسے سوال کو پورا کرنا بھی مجھ پر لازم نہیں۔ میرا دعویٰ تونبوت و رسالت کا ہے اور جب اس پر زبردست دلیلیں اور قوی بُرہانیں قائم ہوچکیں تو غیر متعلق باتیں پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔
اس سے صاف واضح ہوگیا کہ اس آیتِ کریمہ کوتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے غیب پر مطلع کئے جانے کی نفی کے لئے سند بنانا ایسا ہی بے محل ہے جیسا کفار کا ان سوالات کو انکارِ نبوت کی دستاویز بنانا بے محل تھا ۔ مذکورہ بالاکلام کو پڑھنے کے بعد اب دوبارہ آیت کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے ، اسے پڑھیں اور غور کریں کہ کیا واقعی آیت میں یہی بیان نہیں کیا گیا ،فرمایا: (اے حبیب!) تم فرمادو :میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہکے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں خود غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتاہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کا پیروکار ہوں جو میری طرف آتی ہے اور یہی نبی کا کام ہے لہٰذا میں تمہیں وہی دوں گا جس کی مجھے اجازت ہوگی اور وہی بتاؤں گا جس کی اجازت ہوگی اوروہی کروں گا جس کا مجھے حکم ملا ہو۔ اس آیت سے حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علمِ عطائی کی نفی کسی طرح مراد ہی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس صورت میں آیتوں میں تَعارُض کا قائل ہونا پڑے گا اور وہ بالکل باطل ہے۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۲ / ۱۷، مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۳۲۲، جمل ، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۲ / ۳۵۳، ملتقطاً)
علامہ نظامُ الدین حسن بن محمد نیشا پوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ ارشاد ہوا کہ’’ اے نبی! فرمادو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ‘‘یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے میرے پاس نہیں ( بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ) تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے پاس ہیں مگر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لوگوں سے ان کی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں (اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان سے ایسا فرمایا) اور وہ خزانے ’’تمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم‘‘ ہیں ، حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ پھر فرمایا ’’میں نہیں جانتا یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے، ورنہ حضورِا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تو خود فرماتے ہیں ’’مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب کاعلم مجھے عطا کیا گیا۔ (تفسیر نیشاپوری، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳ / ۸۳)
اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہیں ؟اس سے مراد یہ ہے کہ کیا مؤمن و کافر اور عالم و جاہل برابر ہیں یعنی ہرگز برابر نہیں ہیں۔
وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس قرآن سے ان لوگوں کو ڈراؤ جواس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف یوں اٹھایا جائے گا کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو گا اور نہ کوئی سفارشی۔(انہیں اس) امید پر( ڈراؤ) کہ یہ پرہیزگار ہوجائیں۔
{ وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ:اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو۔}اس سے پہلے یہ بیان ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کامنصب بشارت دینا اور ڈر سنانا ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکوحکم دیا کہ وہ بھی لوگوں کوڈر سنائیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس قرآن میں ذکر کئے گئے عذابات سے ان لوگوں کو ڈرائیں جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف یوں اٹھایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کاکوئی حمایتی اور سفارشی نہ ہو گا۔آپ لوگوں کو اس امید پر ڈرائیں کہ یہ کفر اور گناہوں کو چھوڑ کر پرہیز گار بن جائیں۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴ / ۵۳۹، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۳۴-۳۵، ملتقطاً)
یاد رہے کہ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقابلے میں کوئی کسی کا حمایتی اور سفارشی نہ ہوگا ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اجازت سے حمایتی و سفارشی ہوں گے جیسے انبیاء، اولیاء، شہداء، صلحاء، علماء اور حجاجِ کرام وغیرہا ،یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِذن اور ا س کی اجازت سے لوگوں کی حمایت اور سفارش کریں گے۔ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکی شفاعت تو واضح ہے۔ تبرکاً ،دیگر حضرات کی شفاعت سے متعلق 4احادیث پیش کی جاتی ہیں۔
(1)… حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تین جماعتیں شفاعت کریں گی۔ انبیاء پھر علماء پھر شہید لوگ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الشفاعۃ، ۴ / ۵۲۶، الحدیث: ۴۳۱۳)
(2)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ شہید کے ستر اہلِ خانہ کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب فی الشہید یشفع، ۳ / ۲۲، الحدیث: ۲۵۲۲)
(3)… حضرت جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: عالم اور عابد دونوں کو(قیامت کے دن) دوبارہ زندہ کیاجائے گا ، اس کے بعد عابد سے کہا جائے گا کہ تو جنت میں داخل ہو جا اور عالم کو حکم ہو گا کہ تم ابھی ٹھہرو اور لوگوں کی شفاعت کرو۔(شعب الایمان، السابع عشر من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فی فضل العلم وشرف مقدارہ، ۲ / ۲۶۸، الحدیث: ۱۷۱۷)
(4)… حضرت ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرفوعاً روایت ہے کہ’’ حاجی کی شفاعت اس کے خاندان کے چار سو افراد کے حق میں قبول کی جائے گی۔(مسند البزار، مسند ابی موسی رضی اللہ عنہ، ۸ / ۱۶۹، الحدیث: ۳۱۹۶)
وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ- مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوران لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔آپ پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں۔ پھر آپ انہیں دور کریں تو یہ کام انصاف سے بعید ہے ۔
{ وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ : اور ان لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ کفار کی ایک جماعت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں آئی، اُنہوں نے دیکھا کہ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے اِردگرد غریب صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں۔ حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس بات کو منظور نہ فرمایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب مجالسۃ الفقراء، ۴ / ۴۳۵، الحدیث: ۴۱۲۷، تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲ / ۸۱) اور فرمایا گیا کہ اِن مخلص وغریب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اپنی بارگاہ سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔ ان غریب صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا رزق آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نہیں کہ غربت کی وجہ سے انہیں دور کردیا جائے اور نہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذمہ داری ان پر ہے۔ سب کا حساب اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہے، وہی تمام خلق کو روزی دینے والا ہے اور اس کے سوا کسی کے ذمہ کسی کا حساب نہیں۔
اس آیت کادوسرا معنیٰ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کفار نے غریب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم پر طعن مراد لیا تھا کہ یہ تو غربت کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے پاس بیٹھے ہوئے ہیں کہ یہاں کچھ روزی روٹی کا انتظام ہوجاتا ہے ، یہ مخلص نہیں ہیں۔ اس پر پہلے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے اِخلاص کا بیان فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا چاہتے ہوئے دن رات اس کی عبادت کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ پر ان کے احوال کی تفتیش لازم نہیں کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں ؟ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۲، ۴ / ۵۴۲ ملتقطاً)بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کو اپنے فیضِ صحبت سے نوازتے رہیں اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔
وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور یونہی ہم نے ان میں ایک کودوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی کہ یہ کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیا ؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا؟
{ وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی۔} پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے ذریعے امیروں کی آزمائش ہوتی رہتی ہے اور گزشتہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کافر غریب مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے اور ہمیشہ سے کفار کا یہ دستور رہا ہے کہ مسلمانوں کے فقر کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا اور کفر جھوٹا ہے تو مسلمان فقیر اور کفار مالدار کیوں ہیں ؟
اس سے معلوم ہوا کہ امیری و غریبی کو حق کا پیمانہ قرار نہیں دیا جاسکتا،نیز سابقہ آیت کے شانِ نزول اور اِس آیت کے درس سے بہت سے مذہبی لوگوں اور خود امیروں کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے زمانے میں بھی یہ رحجان موجود ہے کہ اگر امیر آتا ہے تو اس کی تعظیم کی جاتی ہے جبکہ غریب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ غریب کی دل شکنی کی جاتی ہے اور امیر کے آگے بچھے بچھے جاتے ہیں اور خود امیروں کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ ہمیں ذرا ہٹ کر ڈِیل کیا جائے اور ہمارے لئے اسپیشل وقت نکالا جائے اور ہمارے آنے پر مولوی آدمی ساری مصروفیت چھوڑ کر اس کے پیچھے پھرتا رہے۔ غریب آدمی پاس بیٹھ جائے تو امیر اپنے سٹیٹس کے خلاف سمجھتا ہے ، اُسے غریب کے کپڑوں سے بُو آتی ہے ، غریب کا پاس بیٹھنا اُس کی طبیعت خراب کردیتا ہے، غریب سے ہاتھ ملانا اُس امیر کے ہاتھ پر جراثیم چڑھا دیتا ہے۔ الغرض یہ سب باتیں غرور وتکبر کی ہیں ، ان سے بچنا لازم وضروری ہے۔
ایک صاحب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبھی کبھی کبھی ان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُن کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ان کے محلے کا ایک بے چارہ غریب مسلمان ٹوٹی ہوئی پرانی چارپائی پر جو صحن کے کنارے پڑی تھی جھجکتے ہوئے بیٹھا ہی تھا کہ صاحبِ خانہ نے نہایت کڑوے تیوروں سے ا س کی طرف دیکھنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ندامت سے سر جھکائے اٹھ کر چلا گیا۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو صاحبِ خانہ کی اس مغرورانہ روش سے سخت تکلیف پہنچی مگر کچھ فرمایا نہیں ، کچھ دنوں بعد وہ صاحب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے یہاں آئے تو آپ نے اسے اپنی چارپائی پر جگہ دی۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں کریم بخش حجام اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا خط بنانے کے لئے آئے، وہ اس فکر میں تھے کہ کہاں بیٹھوں ؟ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: بھائی کریم بخش! کیوں کھڑے ہو؟ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان صاحب کے قریب بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ کریم بخش حجام ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ اب ان صاحب کے غصہ کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے سانپ پھنکاریں مارتا ہو اور فوراً اٹھ کر چلے گئے پھر کبھی نہ آئے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۱ / ۱۰۸ملخصًا)
اپنی عادتوں پر غور کرکے ایک مرتبہ پھر اس آیت کا ترجمہ دیکھ لیں ، فرمایا: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی تاکہ یہ (مالدار کافر غریب مسلمانوں کو دیکھ کر) کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیا ؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا؟
وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ-اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ: ’’ تم پر سلام‘‘ تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں سے جو کوئی نادانی سے کوئی برائی کر لے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا:اور جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے ان کے ساتھ سلام کی ابتداء فرمائیں اور انہیں یہ بشارت دیں کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّنے فضل و احسان کرتے ہوئے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں سے جو کوئی نادانی سے کوئی برائی کر لے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو بیشک اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخشنے والا اور اس پر مہربانی فرمانے والا ہے۔ (مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۳۲۳، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳ / ۳۸-۳۹، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ نیک مسلمانوں کا احترام اور ان کی تعظیم کرنی چاہئے اور ہر ایسی بات سے بچنا چاہئے جو انکی ناراضی کا سبب بنے کیونکہ انہیں ناراض کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے ، جیساکہ حضرت عائذ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے سامنے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی پھر حضرت ابو بکر صدیق نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کو ا س کی خبر دی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اے ابو بکر! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، شاید تم نے انہیں ناراض کر دیا ،اگر تم نے انہیں ناراض کر دیا تو اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کو ناراض کر دیا۔ پھر حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے پاس گئے اور کہا: اے میرے بھائیو! میں نے تم کو ناراض کر دیا؟ انہوں نے کہا : نہیں اے بھائی ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔ (مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم، باب من فضائل سلمان وصہیب وبلال، ص۱۳۵۹، الحدیث: ۱۷۰ (۲۵۰۴))[7]
وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠(۵۵)
ترجمۂکنزالایمان:اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں اور اس لیے کہ مجرموں کا رستہ ظاہر ہوجائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں اور اس لیے کہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے ۔
{ وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ:اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں۔}یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کے سامنے ا س سورت میں اپنی وحدانیت کے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں ہم اسی طرح اپنی حجتوں اور دلائل کومفصل بیان فرماتے ہیں اور ہم قرآنِ مجید میں اطاعت گزاروں ،گناہ کے بعد توبہ کر لینے والوں کے اوصاف اور گناہ پر اڑے رہنے والوں کی صفات بیان کرتے ہیں تاکہ حق ظاہر ہو جائے اور اس پر عمل کیا جائے اور اس لئے یہ چیزیں بیان کرتے ہیں کہ مجرموں کاراستہ اور ان کا طریقہ واضح ہو جائے تاکہ ا س سے بچا جائے ۔( خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲ / ۲۰، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳ / ۳۹، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہو اکہ آدمی کو چاہئے کہ وہ فلاح و کامیابی کے راستے پر چلے اور وہاں تک پہنچے جہاں نیک لوگ پہنچے اور اس کا سب سے بہترین راستہ فوری طور ر اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کے لئے نیک اعمال کرنا ہے۔امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’زندگی کی ہر گھڑی بلکہ ہر سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا کوئی بدل نہیں ،وہ اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ تجھے ابدی سعادت تک پہنچا دے اور دائمی بدبختی سے بچا لے ا س لئے ا س سے زیادہ نفیس جوہر اور کیا ہو سکتا ہے، اگر تم اسے غفلت میں ضائع کر دو گے توواضح نقصان اٹھاؤ گے اور اگر اسے گناہ میں صرف کرو گے تو واضح طور پر ہلاک ہو جاؤ گے۔ اب اگر تم ا س مصیبت پر نہیں روتے تو یہ تمہاری جہالت ہے اور جہالت کی مصیبت تمام مصیبتوں سے بڑ ھ کر ہے۔ (افسوس) لوگ غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں ،جب موت آئے گی تووہ جاگ جائیں گے ،اس وقت ہر مفلس کو اپنے اِفلاس کا اور ہر مصیبت زدہ کو اپنی مصیبت کا علم ہو جائے گا لیکن ا س وقت اس کا ازالہ نہیں ہو سکے گا۔( احیاء العلوم، کتاب التوبۃ، الرکن الاول فی نفس التوبۃ، بیان انّ وجوب التوبۃ عام فی الاشخاص۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۵)
مزید فرماتے ہیں ’’جب تم ان تین دہشت ناک باتوں پر ہمیشگی اختیار کرو گے اور رات دن کے ہر حصے میں ان کی یاد تازہ کرتے رہو گے تو تمہیں گناہوں سے ضرور سچی اور خالص توبہ نصیب ہو جائے گی:
(1)…گناہوں کی حد درجہ برائی بیان کرنا۔
(2)…اللہ تعالیٰ کی سزا کی شدت، دردناک عذاب، اس کی ناراضی اور ا س کے غضب و جلال کاذکر کرنا۔
(3)…اللہ تعالیٰ کے غضب و عذاب کی سختی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کمزوری اور ناتوانی کو یاد کرنا کہ جو شخص سورج کی تپش، سپاہی کے تھپڑ اور چیونٹی کے ڈنک کو برداشت نہیں کر سکتا تو وہ نارِ جہنم کی تپش، عذاب کے فرشتوں کے کوڑوں کی مار، لمبی گردنوں والے بختی اونٹوں کی طرح لمبے اور زہریلے سانپوں کے ڈنک اور خچر جیسے بچھوؤں کے ڈنک کیسے برداشت کر سکے گا۔(منہاج العابدین، العقبۃ الثانیۃ: عقبۃ التوبۃ، ص۳۳)
قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قُلْ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهْوَآءَكُمْۙ-قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(۵۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تم فرماؤ میں تمہاری خواہش پر نہیں چلتا یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اس کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ تم فرماؤ، میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا۔ (اگر یوں ہوتا) تو میں بھٹک جاتا اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ ہوتا۔
{ قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ:تم فرماؤ: مجھے منع کیا گیا ہے۔}اس سے پہلی آیت میں بیان ہو ا کہ اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ حق ظاہر ہو جائے اور مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے اور اس آیت میں بیان فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے راستے پر چلنے سے منع فرمایا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کافروں سے فرما دیں کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اس کی عبادت کروں جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو اور تمہارا ان کی عبادت کرنا بھی کسی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض خواہش پرستی اور اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کی وجہ سے ہے کیونکہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جمادات اور پتھر ہیں جن کامرتبہ انسان سے انتہائی کم ہے اور اعلیٰ مرتبے والے کا کم مرتبے والے کی عبادت کرنا ایسا کام ہے کہ عقل بھی اس کا رد کرتی ہے۔اگر میں نے تمہاری خواہشوں کی پیروی کی ہوتی تو میں راہ حق سے بھٹک جاتا اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ ہوتا۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۷، ۵ / ۸)
قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖؕ-مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ(۵۷)قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ(۵۸)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ میں تو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم اسے جھٹلاتے ہو میرے پاس نہیںجس کی تم جلدی مچا رہے ہو حکم نہیں مگر اللہکا وہ حق فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا۔ تم فرماؤ اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز جس کی تم جلدی کررہے ہو تو مجھ میں تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا اور اللہ خوب جانتا ہے ستمگاروں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں تو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلایا ہے۔ جس (عذاب کے آنے) کی تم جلدی مچارہے ہووہ میرے پاس نہیں ، حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ وہ حق بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم فرماؤ اگر وہ (عذاب) میرے پاس ہوتا جس کی تم جلدی مچا رہے ہوتو میرے اور تمہارے درمیان معاملہ ختم ہوچکا ہوتا اوراللہ ظالموں کوخوب جانتا ہے۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ فرمائیں کہ میں تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور مجھے اس کی معرفت حاصل ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں جبکہ تم اس کے ساتھ اوروں کو شریک کر کے اسے جھٹلاتے ہو۔ یہاں روشن دلیل قرآن شریف، معجزات اور توحید کے واضح دلائل سب کو شامل ہیں۔
{ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ:جس کی تم جلدی مچارہے ہووہ میرے پاس نہیں۔}چونکہ کفار مذاق اڑانے کیلئے حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہا کرتے تھے کہ ہم پر جلدی عذاب نازل کرائیے، اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا اور ظاہر کردیا گیا کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے یہ سوال کرنا نہایت غلط ہے کیونکہ عذاب نازل کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کا م ہے،تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا نہیں۔ ہاں اگر سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس کیلئے دعا کردیں تو بات جدا ہے جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی دعا سے قومِ نوح تباہ ہوئی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی دعا سے فرعون اور اس کی قوم تباہ ہوئی اور دیگر انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعاؤں سے ان کی قومیں تباہ ہوئیں ایسے ہی حبیب ِکریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی دعا سے کفارِمکہ بھی برباد ہوجاتے۔ اگلی آیت میں مزید فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتم فرماؤ اگروہ عذاب میرے پاس ہوتا جس کی تم جلدی مچارہے ہوتومیرے اور تمہارے درمیان معاملہ ختم ہوچکا ہوتااور میں تمہیں ایک لمحے کی مہلت نہ دیتا اور تمہیں رب عَزَّوَجَلَّ کا مخالف دیکھ کر بے دریغ ہلاک کر ڈالتا، لیکن اللہ تعالیٰ حلیم وکریم ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا تو اس کی بارگاہ میں رجوع کرو، نہ کہ اس کے حلم و کرم کی وجہ سے جَری ہوجاؤ۔
وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ-وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور جو پتّا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ ان کو صرف وہی جانتا ہے اور جو کچھ خشکی اورتری میں ہے وہ سب جانتا ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا اور نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے مگر وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اور کوئی تر چیز نہیں اور نہ ہی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں ہے۔
{ وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ:اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔} تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے ’’یہ جو آیت میں فرمایا کہ ’’ غیب کی کنجیاں اللہہی کے پاس ہیں اُس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا ‘‘ اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء ً بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔(عنایۃ القاضی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۴ / ۷۳) اور تفسیر صاوی میں ہے:یہ آیتِ کریمہ اس بات کے منافی نہیں کہ اللہتعالیٰ نے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکو بعض چیزوں کا علمِ غیب عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(تفسیر صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۲ / ۵۸۶)
علمِ غیب سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ حضرت امام ا حمد رضاخان کی کتاب ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہْ بِالْمَادَّۃِ الْغَیْبِیَّہْ‘‘(علم غیب کے مسئلے کا دلائل کے ساتھ تفصیلی بیان)اور فتاویٰ رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں (1)’’اِزَاحَۃُ الْعَیْب بِسَیْفِ الْغَیْب ‘‘(علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اور بد مذہبوں کا رد ) (2) ’’خَالِصُ الْاِعْتقاد‘‘ (علم غیب سے متعلق120دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)
وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّىۚ-ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠(۶۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو پھر اسی کی طرف پھرنا ہے پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کماتے ہو اسے جانتا ہے پھر تمہیں دن کے وقت اٹھاتا ہے تاکہ مقررہ مدت پوری ہوجائے پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
{ وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ:اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کمالِ علم کابیان ہوا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کمالِ قدرت کا بیان کیا جا رہاہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور تمہاری قوتِ احساس زائل کر کے تمہیں میت کی طرح کر دیتا ہے جس سے تم پر نیند مُسلَّط ہوجاتی ہے اور تمہارے تَصَرُّفات اپنے حال پر باقی نہیں رہتے۔ پھر وہ تمہیں دن کے وقت اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری زندگی کی مقررہ مدت پوری ہوجائے اور تمہاری عمر اپنی انتہا کو پہنچے، پھر مرنے کے بعد آخرت میں اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان اعمال کی جزا ء دے گاجو کچھ تم دن رات کیا کرتے تھے۔
یہاں آیت میں پہلے نیند مسلط کرنے اور اس کے بعد بیدار کرنے کابیان ہوا، اس میں قیامت قائم ہونے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر واضح دلیل ہے کہ جو رب عَزَّوَجَلَّ ا س چیز پر قادر ہے کہ روز مرہ سونے کے وقت ایک طرح کی موت تم پر وارِدکرتا ہے جس سے تمہارے حواس اور ان کے ظاہری افعال جیسے دیکھنا، سننا، بولنا، چلنا پھرنا اور پکڑنا وغیرہ سب مُعَطَّل ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد پھر بیداری کے وقت وہی رب عَزَّوَجَلَّ تمام اعضاء کو ان کے تصرفات عطا فرما دیتا ہے اور وہ دیکھنا سننا، بولنا اور چلنا پھرنا وغیرہ شروع کر دیتے ہیں تو وہ رب عَزَّوَجَلَّ مخلوق کو ان کی حقیقی موت کے بعد زندگانی کے تصرفات عطا کر نے پر بھی قادر ہے ۔
وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ(۶۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ قصور نہیں کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور وہی اپنے بندوں پرغالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے توہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔
{ وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ:اور وہی اپنے بندوں پرغالب ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰبندوں کے تمام امور میں ہر طرح سے تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے، وہی عطا کرتا اور وہی اپنی عطا روکتا ہے، وہی ملاتا اور وہی توڑتا ہے،وہی نفع و نقصان پہنچاتا ہے ،وہی عزت و ذلت دیتا ہے ،وہی زندگی اور موت دیتا ہے، اس کے فیصلے کو رد کرنے والا کوئی نہیں اور اس کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ نہیں۔ (صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲ / ۵۸۸)ایک اور مقام پراللہ تعالیٰارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖؕ-یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ‘‘ (یونس:۱۰۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سواکوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والانہیں۔اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
{ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً: اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔} ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کی نیکی او ربدی لکھتے رہتے ہیں ،انہیں کراماً کاتبین کہتے ہیں۔ ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ،ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ دائیں طرف کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں طرف کافرشتہ برائیاں لکھتا ہے۔
بندوں کو چاہئے کہ غور کریں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام مخلوق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں گے اللہ عَزَّوَجَلَّپناہ دے۔ اسی کے پیشِ نظر امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے زبان کی حفاظت کے متعلق فرمایا: حضرت عطا بن ا بی رباح رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : تم سے پہلے لوگ فضول کلام کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ لوگ کتابُ اللہ، سنت ِ رسول، نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے اور اپنی ایسی حاجت جس کے سوا کوئی چارہ ہی نہ ہو کے علاوہ کلام کو فضول شمار کرتے تھے۔ کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ تمہارے دائیں بائیں دو محافظ فرشتے کراماً کاتبین بیٹھے ہیں
’’ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ‘‘(ق:۱۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
کیا تمہیں اس بات سے حیا نہیں آتی کہ تمہارا نامۂ اعمال جب کھولا جائے گا جو دن بھرصادر ہونے والی باتوں سے بھرا ہو گا، اور ان میں زیادہ تر وہ باتیں ہوں گی جن کا نہ تمہارے دین سے کوئی تعلق ہو گا نہ دنیا سے۔ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میرے ساتھ کوئی شخص بات کرتا ہے ،اسے جواب دینا شدید پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے زیادہ میری خواہش ہوتی ہے لیکن میں اس خوف سے اسے جواب نہیں دیتا کہ کہیں یہ فضول کلام نہ ہو جائے۔ (احیاء العلوم، کتاب آفات اللسان، بیان عظیم خطر اللسان وفضیلۃ الصمت، الآفۃ الثانیۃ فضول الکلام، ۳ / ۱۴۱) [8]
{ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا: ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں۔} اِن فرشتوں سے مراد یا تو تنہا حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام ہیں،اس صورت میں جمع کالفظ (رُسُل) تعظیم کے لئے ہے یا حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام اور وہ فرشتے مراد ہیں جو ان کے مددگار ہیں۔ جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَاماللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے مددگاروں کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں ، جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲ / ۲۳)اور ان سب فرشتوں کی شان میں فرمایا کہ یہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے یعنی تعمیلِ حکم میں اُن سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی بلکہ وہ اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں۔
ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّؕ-اَلَا لَهُ الْحُكْمُ- وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ(۶۲)
ترجمۂکنزالایمان: پھر پھیرے جاتے ہیں اپنے سچے مولیٰ اللہ کی طرف سنتا ہے اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا مالک ِ حقیقی ہے۔ سن لو، اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے۔
{ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ:پھر انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔} یعنی جب لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو فرشتے انہیں حساب کی جگہ میں اس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی جزاء کی طرف لوٹائیں گے جو ان کے تمام امور کا حقیقی مالک ہے۔ اے لوگو! سن لو، قیامت کے دن بندوں کے درمیان اسی کا فیصلہ نافذ ہے کسی اور کا کوئی فیصلہ کسی بھی طرح نافذ نہیں ہو سکتا اور وہ انتہائی قلیل مدت میں تمام مخلوق کا حساب کرنے والا ہے۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۴۶)
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’جب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور اعمال کا حساب ہوناہے اور اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے ا س کے اعمال کا حساب لینا ہے تو عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ حساب کے معاملے میں جرح ہونے سے پہلے ہی اپنے نفس کا محاسبہ کر لے کیونکہ انسان راہِ آخرت میں تاجر ہے، اس کی عمر اس کا مال و متاع ہے، اس کا نفع اپنی زندگی کو عبادات اور نیک اعمال میں صرف کرنا ہے اور ا س کا نقصان گناہوں اور معاصی میں زندگی بسر کرنا ہے اور ا س کا نفس اس تجارت میں اس کا شریک ہے اور نفس اگرچہ نیکی اور برائی دونوں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ نیکی کے مقابلے میں گناہوں اور نفسانی خواہشات کی طرف زیادہ مائل اور متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کا محاسبہ کرنا انتہائی ضروری ہے (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۴۶)۔ [9]
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’انسان کو چاہئے کہ رات سوتے وقت ایک گھڑی مقرر کرے تاکہ وہ اپنے نفس سے اس دن کا سارا حساب کتاب لے سکے اور جس طرح کاروبار میں شریک شخص سے حساب کرتے وقت (انتہائی احتیاط اور) مبالغہ سے کام لیا جاتاہے اسی طرح اپنے نفس کے ساتھ حساب کرتے ہوئے بہت سی احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ نفس بڑا مکار اور حیلہ ساز ہے، وہ اپنی خواہش کو انسان کے سامنے اطاعت کی شکل میں پیش کرتا ہے تاکہ انسان اسے بھی نفع شمار کرے حالانکہ وہ نقصان ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس سے مباحات تک کا حساب لے کہ یہ تونے کیوں کیا، یہ تو نے کس کے لئے کیا اور اگراس میں کوئی عیب دیکھے تو اپنے نفس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے (لیکن افسوس کہ فی زمانہ) انسان کس طرح فارغ ہے کہ وہ اپنے نفس سے حساب نہیں لیتا، اگر انسان ہر گناہ پر اپنے گھر میں ایک پتھر بھی رکھتا جائے تو تھوڑے دنوں میں اس کا گھر پتھروں سے بھر جائے گا، اگر کراماً کاتبین اس انسان سے لکھنے کی مزدوری طلب کریں تو ا س کے پا س کچھ باقی نہ رہے گا۔ اگر انسان کبھی غفلت میں چند بار سُبْحَانَ اللہ پڑھتا ہے تو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے میں نے یہ سو مرتبہ پڑھ لیا جبکہ سارا دن بیہودہ بکواسات کرتا پھرتا ہے انہیں شمار نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں شمار کرنے کے لئے کوئی ایسی چیز ہاتھ میں لیتا ہے تاکہ ا سے معلوم ہو جائے کہ میں نے سارے دن میں کتنے گناہ کئے ہیں۔ اس صورتِ حال کے باوجود یہ سوچنا کہ میرا نیکیوں کا پلڑ اوزنی ہو جائے کتنی بے عقلی ہے! اسی لئے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال تولے جائیں تم اپنے اعمال کا خود جائزہ لے لو۔ اور اپنا محاسبہ کرنے میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی کیفیت یہ تھی کہ جب رات ہوتی تو اپنے پاؤں پر درے لگاتے اور کہتے کہ بتا تو نے آج کیا کیا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ایک دیوار کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سنا ’’واہ واہ! لوگ تجھے امیرُ المؤمنین کہتے ہیں لیکن خدا کی قسم ! تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور اس کے عذاب میں مبتلا ہونے کو تیار رہتا ہے۔(کیمیائے سعادت، رکن چہارم، اصل ششم در محاسبہ ومراقبہ، مقام سوم در محاسبات، ۲ / ۸۹۱-۸۹۲)
قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًۚ-لَىٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۶۳)قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ(۶۴)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گِڑگِڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے ۔تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بے چینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ ،وہ کون ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر کی ہولناکیوں سے نجات دیتا ہے ؟ تم اسے گڑگڑا کر اور پوشیدہ طور پر پکارتے ہو (اورتم کہتے ہو کہ) اگر وہ ہمیں اس سے نجات دیدے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔ تم فرماؤ، اللہ تمہیں ان ہولناکیوں سے اور ہر بے چینی سے نجات دیتا ہے پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت میں کفار کو ان کے شرک پرتنبیہ کی گئی ہے کیونکہ خشکی اور تری کے سفروں میں جب وہ مبتلائے آفات ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور انہیں ایسی شدتوں اور ہولناکیوں سے واسطہ پڑتا ہے جن سے دل کانپ جاتے ہیں اور خطرات قلوب کو مضطرب اور بے چین کردیتے ہیں اس وقت بت پرست بھی بتوں کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سے دُعا کرتا ہے اور اُسی کی جناب میں تَضَرُّع وزاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس مصیبت سے اگر تونے نجات دی تو میں شکر گزار ہوں گا اور تیرا حقِ نعمت بجالاؤں گا لیکن ہوتا کیا ہے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّنے اگلی آیت میں بیان فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَانہیں بتاؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ان ہولناکیوں سے اور اس کے علاوہ زندگی کی ہر بے چینی سے نجات دیتا ہے لیکن پھر بھی تم لوگ شرک کرتے ہو اور بجائے شکر گزاری کے ایسی بڑی ناشکری کرتے ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ بت نکمے ہیں ،کسی کام کے نہیں پھر اُنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک کرتے ہو ، یہ کتنی بڑی گمراہی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا میں کفار کی بعض دعائیں قبول ہو جاتی ہیں کہ کفار جو مصیبت میں پھنس کر نجات کی دعا کرتے تھے، رب عَزَّوَجَلَّانہیں نجات دے دیتا تھا، شیطان نے اپنی درازیٔ عمر کی دعا کی جو قبول ہوئی۔
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ(۶۵)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا مختلف گروہ بنا کر آپس میں لڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم کس طرح بار بار آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں۔
{ هُوَ الْقَادِرُ: وہی قادر ہے۔}اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک اور دلیل بیان کی گئی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تمہارے شرک کی وجہ سے تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمادے جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم اور اصحابِ فیل یعنی ابرہہ کے لشکر کے ساتھ کیا گیا، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب بھیجے جیسے فرعون کو غرق کیا گیا اور قارون کو زمین میں دھنسا دیا گیا، یا مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑا دے اور تمہیں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ دیکھیں کہ ہم کس طرح قرآن مجید میں بار بار مختلف انداز سے وعدہ اور وعید کی آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں اور اپنی سرکشی و عناد سے باز آ جائیں۔(تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۵، ۵ / ۲۰، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳ / ۴۷، ملتقطاً)
یاد رہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنتِ جاریہ ہے کہ وہ (اپنی نافرمانی کرنے کی سزا میں ) مسلمانوں کو کافروں سے اور کافروں کو مسلمانوں سے لڑوا دیتا ہے اسی طرح کافروں کو کافروں سے اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوا دیتا ہے جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ’’ جب آیت کا یہ حصہ نازل ہوا کہ’’ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے‘‘ تو سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا، تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ حصہ نازل ہوا کہ’’ یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے‘‘ تو فرمایا، میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ حصہ نازل ہوا’’ یا تمہیں لڑوا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے‘‘ تو فرمایا: یہ آسان ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۲۱، الحدیث: ۴۶۲۸)
اور صحیح مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز رحمت ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے مسجدِ بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دُعا کی پھر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ۔ ایک سوال تو یہ تھا کہ’’ میری اُمّت کو قحط عام سے ہلاک نہ فرمائے‘‘ یہ قبول ہوا ۔دوسرا یہ تھا کہ’’ انہیں غرق کرکے عذاب نہ دے‘‘یہ بھی قبول ہوا۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ’’ ان میں باہم جنگ و جدال نہ ہو ‘‘یہ قبول نہیں ہوا ۔ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ہلاک ہذہ الامۃ بعضہم ببعض، ص۱۵۴۴، الحدیث: ۲۰(۲۸۹۰))
وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّؕ-قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ(۶۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور اسے جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہاری قوم نے اس کو جھٹلایا حالانکہ یہی حق ہے۔ تم فرماؤ، میں تم پر نگہبان نہیں ہوں۔
{ وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ: اور تمہاری قوم نے اس کو جھٹلایا۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کی قوم کے سرکش لوگوں نے اسے یعنی قرآن شریف کو یا نزولِ عذاب کو جھٹلایا حالانکہ وہ حق ہے ۔ تو اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تم ان سے فرما دو کہ ’’میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں بلکہ میرا کام رہنمائی کرنا ہے جو میں نے احسن طریقے سے سر انجام دے دیا ہے جبکہ دلوں کی ذمہ داری مجھ پر نہیں کہ اگر تم ہدایت نہ پاؤ تو مجھ سے باز پرس ہو۔
لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ٘-وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(۶۷)
ترجمۂکنزالایمان: ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب جان جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان جاؤ گے۔
{ لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ: ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جو خبریں دیں اُن کے لئے وقت معین ہیں ،ان کا وقوع کسی تاخیر کے بغیر ٹھیک اسی وقت ہوگا اور عنقریب تم دنیا و آخرت میں ان خبروں کے درست ہونے کو جان لو گے۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۷، ۲ / ۲۵)
اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجیدمیں کافروں اور گناہگاروں کے لئے عذابات کی جو خبریں دی ہیں ان کا اپنے وقت پرواقع ہونا یقینی ہے ،یہ اعلان سننے کے بعد بھی کفر پر اڑے رہنا اور گناہوں میں مشغول رہنا حد درجہ کی حماقت ہے لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفر اور گناہوں پر اصرار کرنا چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر خود کو ہلاکت سے بچا لے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ (گناہوں پر) اصرار کرنے والے ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنے گناہوں پر قائم ہیں (اور اس کے باوجود وہ توبہ و استغفار نہیں کرتے) حالانکہ وہ جانتے ہیں (کہ ان کافعل گناہ ہے ۔)(شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی الطبع علی القلب، ۵ / ۴۴۹، الحدیث: ۷۲۳۶)[10]
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں بیہودہ گفتگو کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
{ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا: جو ہماری آیتوں میں بیہودہ گفتگو کرتے ہیں۔} اِس آیتِ مبارکہ میں کافروں ، بے دینوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا اور فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو اور اگر بھول کر بیٹھ جاؤ تو یاد آنے پر اٹھ جاؤ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی جس مجلس میں دین کا احترام نہ کیا جاتا ہو مسلمان کو وہاں بیٹھنا جائز نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ کفار اور بے دینوں کے جلسے جن میں وہ دین کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ، ان میں جانا، شرکت کرنا جائز نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے جو تمہارے پاس وہ احادیث لائیں گے جو نہ تم نے سنیں ، نہ تمہارے باپ داداؤں نے ، ان کو اپنے اور اپنے کو ان سے دور رکھو، وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحمّلہا، ص۹، الحدیث: ۷(۷))
البتہ علماء جو ان بد مذہبوں کارد کرنے کیلئے جاتے ہیں وہ اِس حکم میں داخل نہیں۔
یاد رہے کہ بد مذہبوں کی محفل میں جانا اور ان کی تقریر سننا ناجائز و حرام اور اپنے آپ کو بدمذہبی و گمراہی پر پیش کرنے والا کام ہے۔ ان کی تقاریر آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوں خواہ احادیثِ مبارَکہ پر، اچھی باتیں چننے کا زعم رکھ کر بھی انہیں سننا ہر گز جائز نہیں۔ عین ممکن بلکہ اکثر طور پر واقع ہے کہ گمراہ شخص اپنی تقریر میں قرآن و حدیث کی شرح ووضاحت کی آڑ میں ضرور کچھ باتیں اپنی بد مذہبی کی بھی ملا دیا کرتے ہیں ، اور قوی خدشہ بلکہ وقوع کا مشاہدہ ہے کہ وہ باتیں تقریر سننے والے کے ذہن میں راسخ ہو کر دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ و بے دین کی تقریر و گفتگو سننے والا عموماً خود بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف اپنے ایمان کے بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے ،لہٰذا باوجودیہ کہ وہ عقیدے میں انتہائی مُتَصَلِّب و پختہ ہوتے پھر بھی وہ کسی بدمذہب کی بات سننا ہر گز گوارا نہ فرماتے تھے اگرچہ وہ سو بار یقین دہانی کراتا کہ میں صرف قرآن و حدیث بیان کروں گا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس بارے میں اسلاف کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سیدنا سعید بن جبیر شاگردِ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو راستہ میں ایک بد مذہب ملا۔ کہا، کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایک کلمہ۔ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا، ’’وَ لَا نِصْفَ کَلِمَۃٍ‘‘ آدھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے۔ فرمایا، یہ ان میں سے ہے یعنی گمراہوں میں سے ہے۔
امام محمد بن سیرین شاگردِ انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس دو بد مذہب آئے۔ عرض کی، کچھ آیاتِ کلام اللہ آپ کو سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی کچھ احادیثِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ فرمایا، تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھا جاتا ہوں۔ آخر وہ خائب و خاسر چلے گئے۔ لوگوں نے عرض کی: اے امام! آپ کا کیا حرج تھا اگر وہ کچھ آیتیں یا حدیثیں سناتے؟ فرمایا، میں نے خوف کیا کہ وہ آیات و احادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاک ہو جاؤں۔
پھر فرمایا ’’آئمہ کو تو یہ خوف اور اب عوام کو یہ جرأت ہے، وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ۔ دیکھو! امان کی راہ وہی ہے جو تمہیں تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بتائی،’’اِیَّاکُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ ان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ دیکھو! نجات کی راہ وہی ہے جو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے بتائی،
’’فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ (انعام: ۶۸)
یاد آئے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فوراً کھڑے ہو جاؤ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۱۵ / ۱۰۶،۱۰۷ ملخصاً)
وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۶۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پرہیز گاروں پر گمراہوں کے حساب سے کچھ نہیں لیکن نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ بچیں۔
{ وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ:اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں۔}اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر ہم ان گمراہوں کو چھوڑ دیں گے اور منع نہ کریں گے تو ہم گناہگار ہوجائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔( تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۹، ۲ / ۸۷)اور فرمایا گیا کہ پرہیز گاروں پر ان مذاق اڑانے والوں کے حساب سے کچھ بھی لازم نہیں بلکہ طعن و اِستہزاء کرنے والوں کے گناہ اُنہیں پر ہیں اور اُنہیں سے اس کا حساب ہوگا، پرہیزگاروں پرکوئی وبال نہیں۔ہاں پرہیزگاروں پر یہ لازم ہے کہ انہیں نصیحت کرتے رہیں تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ وعظ و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے لیکن یہ علماء کا کام ہے عوام کا نہیں۔
وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ ﳓ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌۚ-وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْاۚ-لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠(۷۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینے کو کھولتا پانی اور درد ناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنا دین ہنسی مذاق اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا اور قرآن کے ذریعے نصیحت کرو تاکہ کوئی جان اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاکت کے سپرد نہ کردی جائے، اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا اورنہ ہی سفارشی اور اگر وہ اپنے بدلے میں سارے معاوضے دیدے تو اس سے نہ لیے جائیں گے ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ہلاکت کے سپرد کردیا گیا۔ ان کے لئے ان کے کفر کے سبب کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور دردناک عذاب ہے۔
{ وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا:اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنا دین ہنسی مذاق اور کھیل بنا لیا۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان لوگوں سے معاشرتی تعلقات اور میل جول چھوڑ دیں جنہوں نے اپنے دین کو ہنسی مذاق اور کھیل بنا لیا اوراس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا اور اس کی محبت ان کے دلوں پر غالب آ گئی اور اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ قرآن کے ذریعے انہیں نصیحت کریں تاکہ کوئی جان اپنے دنیوی برے اعمال کی وجہ سے آخرت میں ثواب سے محروم اورہلاکت کے سپرد نہ کردی جائے، قیامتکے دن اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اس ہلاک ہونے والے کا کوئی مددگار ہو گا اورنہ ہی سفارشی اور اگر وہ پکڑے جانے والا شخص اپنے عذاب سے چھٹکارے کے بدلے میں سارے معاوضے دیدے تو وہ اس سے نہ لیے جائیں گے ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ہلاکت کے سپرد کردیا گیا اور ان کے لئے ان کے کفر کے سبب کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور دردناک عذاب ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۰، ۲ / ۲۵-۲۶)
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’ یاد رکھیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنا اور ان کا مذاق اڑانا کفر ہے اور کفر کی سزا جہنم کا دائمی دردناک عذاب ہے اسی طرح کسی مسلمان کا گناہوں پر اصرار کرنا بھی ایسا عمل ہے جس سے اس کی موت کفر کی حالت میں ہو سکتی ہے۔ حضرت ابو اسحاق فزاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ایک شخص اکثر ہمارے پاس بیٹھا کرتا اور اپنا آدھا چہرہ ڈھانپ کر رکھتا تھا، ایک دن میں نے اس سے کہا کہ تم ہمارے پاس بکثرت بیٹھتے ہو اوراپنا آدھا چہرہ ڈھانپ کر رکھتے ہو ،مجھے ا س کی وجہ بتاؤ۔ اس نے کہا: میں کفن چور تھا، ایک دن ایک عورت کو دفن کیا گیا تو میں اس کی قبر پر آیا، جب میں نے ا س کی قبر کھود کر اس کے کفن کو کھینچا تو ا س نے ہاتھ اٹھا کر میرے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔ پھر اس شخص نے اپناچہرہ دکھایا تو اس پر پانچ انگلیوں کے نشان تھے۔ میں نے اس سے کہا: اس کے بعد کیا ہوا؟ اس نے کہا :پھر میں نے ا س کا کفن چھوڑ دیا اور قبر بند کر کے اس پر مٹی ڈال دی اور میں نے دل میں پختہ ارادہ کر لیا کہ جب تک زندہ رہوں گا کسی کی قبر نہیں کھودوں گا۔ حضرت ابو اسحاق فزاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’میں نے یہ واقعہ امام اوزاعی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو لکھ کر بھیجا تو انہوں نے مجھے لکھا کہ اس سے پوچھو: جن مسلمانوں کا انتقال ہوا کیاان کا چہرہ قبلے کی طرف تھا ؟میں نے اس کے بارے میں اُ س کفن چور سے پوچھا تو اس نے جواب دیا ’’ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا چہرہ قبلے سے پھرا ہوا تھا۔ میں نے ا س کا جواب امام اوزاعی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو لکھ کر بھیجا تو انہوں نے مجھے تحریر بھیجی جس پر تین مرتبہ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونْ‘‘ لکھا ہوا تھا اور ساتھ میں یہ تحریر تھا ’’جس کا چہرہ قبلے سے پھرا ہو اتھا اس کی موت دینِ اسلام پر نہیں ہوئی ،تم اللہ تعالیٰ سے اس کے عفو، مغفرت اور ا س کی رضا طلب کرو۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳ / ۵۱)
قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ۪-لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَاؕ-قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ-وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۷۱) وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُؕ-وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۷۲)وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ-وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ ﱟ قَوْلُهُ الْحَقُّؕ-وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِؕ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ(۷۳)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلا کرے نہ برُا اور الٹے پاؤں پلٹا دیے جائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں راہ دکھائی اس کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں راہ بھلادی حیران ہے اس کے رفیق اسے راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آ تم فرماؤ کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں جو رب ہے سارے جہان کا۔اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے۔ اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی ۔اس کی بات سچ ہی ہے اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا ہر چھپے اور ظاہر کا جاننے والا اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، کیا ہم اللہ کے سوا اس کی عبادت کریں جونہ ہمیں نفع دے سکتا ہے اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ اور کیااس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھر جائیں جب کہ ہمیں اللہ نے ہدایت دی ہے اس شخص کی طرح (الٹے پاؤں پھر جائیں ) جسے شیطانوں نے زمین میں راستہ بھلا دیا ہو وہ حیران ہے، اُس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آؤ۔ تم فرماؤ کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔ اور وہی ہے جس نے حق کے ساتھ آسمان و زمین بنائے اور جس دن فنا کی ہوئی ہر چیز کو وہ فرمائے گا: ’’ہو جا‘‘ تو وہ فوراً ہوجائے گی۔ اس کی بات سچی ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن اسی کی سلطنت ہے (وہ) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا ہے اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔
{قُلْ: تم فرماؤ۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مصطفی کریم ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دیتے ہیں اُن مشرکین سے فرماؤ کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی عبادت کریں جونہ ہمیں نفع دے سکتا ہے اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس میں کوئی قدرت نہیں اور کیااس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھر جائیں جب کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہدایت دی ہے اور اسلام اور توحید کی نعمت عطا فرمائی ہے اور بت پرستی کے بدترین وبال سے بچایاہے۔
{ وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا: اور کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں۔}اس آیت میں حق اور باطل کی دعوت دینے والوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی گئی کہ جس طرح مسافر اپنے رفیقوں کے ساتھ تھا، جنگل میں بھوتوں اور شیطانوں نے اس کو راستہ بہکا دیا اور کہا منزلِ مَقصُود کی یہی راہ ہے اور اس کے رفیق اس کو راہِ راست کی طرف بلانے لگے، وہ حیران رہ گیاکہ کدھر جائے ۔ اس کاانجام یہی ہوگا کہ اگر وہ بھوتوں کی راہ پر چل پڑا تو ہلاک ہوجائے گا اور رفیقوں کا کہا مانا تو سلامت رہے گا اور منزل پر پہنچ جائے گا ۔یہی حال اس شخص کا ہے جو طریقہ اسلام سے بہکا اور شیطان کی راہ چلا ،مسلمان اس کو راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں اگر اُن کی بات مانے گا راہ پائے گا ورنہ ہلاک ہوجائے گا۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۱، ۲ / ۲۶-۲۷)
{ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى: اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم فرماؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے واضح فرمایا اور جو دینِ اسلام اُن کے لئے مقرر کیا وہی ہدایت و نور ہے اور جو اِس کے سوا ہے وہ دینِ باطل ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے گردن رکھ دیں اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خاص اسی کی عبادت کریں۔
[1] …تلاوتِ قرآن کے مزید فضائل جاننے کے لئے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکارسالہ ’’تلاوت کی فضیلت ‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
[2] … قسم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے رسالہ’’قسم کے بارے میں مدنی پھول‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بھی مفید ہے۔
[3] … بغض کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’بغض و کینہ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
[4] … نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ترغیب ، جذبہ اور موقع پانے کے لئے دعوت اسلامی سے وابستگی اور مدنی قافلوں میں سفر بہت مفید ہے ۔
[5] ۔۔۔ فی زمانہ اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے اور گناہوں پر بے باکی سے بچنے کے لئے دعوت اسلامی کے ساتھ وابستگی بہت مفید ہے۔
[6] …نئے مسلمانوں میں سے جو انگلش زبان جانتے ہیں ،انہیں کتابWELCOME T0 ISLAM(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
[7] …مسلمانوں کے احترام سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کارسالہ’’احترام مسلم‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) مطالعہ فرمائیں۔
[8] … زبان کی حفاظت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’جنت کی دو چابیاں‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
[9] … اعمال کا محاسبہ کرنے کی فضیلت،ترغیب اور اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’فکر مدینہ‘‘( مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
[10] … گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کا جذبہ پانے کے لئے دعوت اسلامی کے ساتھ وابستگی بہت فائدہ مند ہے۔