اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم،نبیِّ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے:جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا۔([1])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مسلمانوں کی تابناک علمی تاریخ ان کی بزرگی وعظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امامِ اعظم ہوں یا غوثِ اعظم ،امامِ غزالی ہوں یا امامِ رازی ،شاہ عبد الحق محدثِ دہلوی ہوں یا امامِ احمد رضا خان قادری رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ نےاپنے اپنے دور میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کے فروغ و اِشاعت میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانشینی کا حق ادا کیا۔ اولیائے کرام، علمائےدین اور محدثین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی اسی نورانی وعرفانی لڑی کے ایک نایاب وبے بدل موتی محدثِ اعظم پاکستان، شىخ الحدىث والتفسىر، جامع معقولات و
منقولات، رہبر شرىعت وطرىقت حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِ القَوِی ہیں آپ بىک وقت بلندپایہ مدرس، بے مثال محدث ، خوش بىان مقرر، عظىم محقق اور مُتَدَىَّن(دیانت دار) مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر ىہ کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عاشقِ رسول اور متبع شرىعت وسنّت تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پاکیزہ زندگی ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے آئیے !اس مینارہ نور کے چند گوشوں سے اپنی زندگی کو روشن کیجئے ۔
محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد چشتى قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قصبہ دىال گڑھ ضلع گورداس پور( مشرقى پنجاب،ہند)مىں پىدا ہوئے، آپ کى تارىخ ولادت۲۹ جمادی الاخریٰ ۱۳۲۱ھ بمطابق 22ستمبر1903ء ہے۔([2])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آباو اجدادکا تعلق قصبہ دیال گڑھ کے سیہول جٹ خاندان سے تھا جو شرافت، دىانت، پاکبازى اور مہمان نوازى مىں علاقہ بھر مىں شہرت رکھتا تھا، پور اخاندان مشائخ کرام کا مرید اور عقیدت مندتھا۔والد محترم چودھرى مىراں بخش چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار علاقے کے معروف ومعزز افراد میں ہوتا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہ کسی کی غیبت کرتے نہ ہی کسی کے نقصان پر
خوش ہوتے ، یہی وجہ تھی کہ سب لوگ آپ کے گُن گانے لگے تھے ۔ والد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذریعہ معاش کاشت کاری تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى والدہ محترمہ نماز روزے کی پابند بڑى عابدہ و زاہدہ اور نیک سىرت خاتون تھىں۔ حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے تو کمال درجے کی محبت فرماتی تھیں۔ ([3])
حضرت ِمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبچپن ہی سے دینی باتوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو والد ماجدکے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے چلے جاتے ۔ذکر و اذکار اور نعت خوانی کا ایسا ذوق تھا کہ عموماً چلتے پھرتے نعتیں پڑھتے اور ذکر اللہ کیا کرتے ۔سننے والے حیران ہوتے کہ اس عمر میں ایسا ذوق و شوق۔ مَا شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ([4])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بچپن ہی سے اپنے بزرگوں سے والہانہ عقیدت تھی جس کا اظہار اسکول کی تعلیم کے دوران بھی اپنے استادصاحب سے کردیا کرتے کہ ماسٹر جی! ہمیں بزرگوں کی باتیں سنائيے اور حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کی سیرت مبارکہ پر ضرور روشنی ڈالا کیجئے ۔([5])
اےکاش ! ہم اپنے مدنی منوں اور مدنی منیوں کی تربیت اس انداز پر کریں کہ ابتدا ہی سے ان کے زبان پر ذکر ودرود اور لب پر نعت شریف جاری رہے اور جب نماز روزے کے قابل ہوجائیں تو انہیں اس کا حکم دیں نیز انہیں بزرگوں کے واقعات اور تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ ابتدا ہی سے ان کی نس نس میں بزرگوں کی محبت اور عقیدت بیٹھ جائے ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسکول جاتے تو راستےمیں ایک برساتی نالہ پڑتا تھا جو موسمِ برسات میں بھر جاتا ۔کم عمر طلبہ اسے عبور کرنے کے لئے اپنے کپڑے سمیٹتے تو گھٹنے ننگے ہوجاتے ۔ لہٰذا بڑے بھائی سے عرض کرتے : مجھے کندھوں پر بٹھا کر نالہ پار کروادیں ۔اور یوں گھٹنے کھولنے سے بچ جاتے۔([6])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !حضورمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکی کیا مدنی سوچ تھی کہ بچپن میں بھی شرعی اصولوں پر عمل رہا۔
اس واقعہ سے وہ لوگ درس ِ عبرت حاصل کریں جو کھیل تماشوں میں یا ورزش اورتیراکی کرتے ہوئے یا پھر بطورِ فیشن ایسا لباس پہنتے ہیں جس میں گھٹنے
بلکہ رانیں تک مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کھلی رہتی ہیں۔ایسے لوگ سخت گناہ گار ہیں۔ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بہار شریعت میں فرماتے ہیں :ستر عورت ہر حال میں واجب ہے، خواہ نماز میں ہو یا نہیں، تنہا ہو یا کسی کے سامنے، بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں توستر بالاجماع فرض ہے۔([7]) یاد رکھئے! مرد کے اعضائے ستر ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک ہیں جنہیں بلا ضرورت کھولنا ناجائز و حرام ہے فرمان مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ناف کے نیچے سے گھٹنے تک عورت (چھپانے کی جگہ ) ہے۔([8])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ااکثر فرمایاکرتیں: اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرا یہ لاڈلا بچہ عظیم شخصیت کا مالک ہوگا۔ اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے ارشاد فرماتیں:تمہارا نام سردار ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں دین ودنیا کا سردار بنائے۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیاکہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اسم با مسمی بنادیا ۔([9])
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت ِمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے اپنى ابتدائى تعلىم دىال گڑھ ہى مىں حاصل کى، مىٹرک کے بعد مزىد تعلىم کے لىے مرکز الاولیاء لاہور تشریف لائے اور انٹرمىڈىٹ مىں داخلہ لے لىا، اسى دوران جامع مسجد وزىر خان مرکز الاولیاء لاہور مىں اىک جلسہ منعقد ہوا، جس مىں اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے شہزادے حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنرونق افروز تھے مشتاقانِ دید پروانوں کی طرح ارد گرد منڈلارہے تھے، اسی ہجوم میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا مفتی حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے نورانی چہرے کی زیارت کی اور دست بوسی کی سعادت پائی ۔ اس ایک ملاقات نے ایسا اثر کیا کہ دل کی دنیا ہی بدل گئی چنانچہ جلسے کے اختتام پر حجۃ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى قىام گاہ پر پہنچے اورعرض گزار ہوئے : مجھے اب اىف، اے(F.A) کرنے کا کوئى شوق نہىں میں آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ علم حاصل کرسکوں جس کے آپ نمائندہ ہىں۔ولیِ کامل حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اس عرض گزار کی پیشانی پر سعادتِ ازلی کے چمکتے
ہوئےآثار دیکھے تو بھانپ گئے کہ یہ نوجوان ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جُھومر اور اہلِ سنت کا عظیم رہبر ہوگا لہذا بکمالِ شفقت درخواست کو شرف قبولیت عطا فرمایااور دو دن مزید قیام فرماکر اپنے ساتھ بریلی شریف لے آئے ۔([10])
حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنپراس قدر شفقت فرمایاکرتے تھے کہ دورانِ تعلیم آپ کو اپنے آستانے پر ٹھہرایا اور کھانے پینے،رَہن سَہن کے تمام اخراجات اپنے ذمے لئے ۔جیسا لباس اپنے صاحب زادوں مفسرِ اعظم شاہ محمد ابراہیم رضا خان جیلانی اور حضرت مولانا شاہ محمد حَمَّاد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما کے لئے سِلواتے ویسا ہی آپ کے لئے سلواتے یہاں تک کہ لباس کے رنگ میں بھی یکسانیت اختیار فرمایاکرتے ۔([11])
دارالعلوم منظر اسلام (بریلی شریف یوپی ہند )میں آپ نے حجۃ الاسلام مولانا مفتی حامد رضا خان ، مفتى اعظم ہند مولانا مفتی مصطفےٰ رضا خان اور صدر الشرىعہ مولانا مفتی امجد على اعظمى رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے اکتسابِ علم کىا،پھر صدر الشریعہ رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ’’جامعہ معىنىہ عثمانیہ“( اجمىر شرىف راجستھان)تشریف چلے گئےاور ان کتابوں کا بھى درس لىا جن سے عام طور پر طلبہ ناواقف رہتے ہىں۔([12])
جب صدر الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صدر المدرسین کی حیثیت سے دوبارہ منظر اسلام بریلی شریف میں جلوہ فرماہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تشریف لے آئے اور ۱۳۵۲ھ /1932ء میں دارالعلوم منظرِ اسلام سے سند فراغت حاصل کی ۔([13])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباع ِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں : خوفِ الٰہی و خشیت ِ ربانی ،زہدو تقویٰ ،اتباع ِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست وبرخاست میں اتباعِ سنّت ملحوظ رکھتے ۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ مىں انہماک، کم کھانا، کم سونا اور شب و روز تحصىلِ علم مىں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔([14])
جن دنوں محدث اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان منظر ِاسلام بریلی شریف میں زیر ِ تعلیم تھے ان دنوں مدرسے میں بجلی کا انتظام نہ تھا چنانچہ ساتھی طلبہ کے سوجانے کے بعد بھی محلہ سوداگران میں سرکاری لالٹین کی روشنی میں اپناسبق یاد کیا کرتے جب شفیق اساتذہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کے کمرے میں لالٹین کا بندوبست کردیا ۔([15])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد میں حاضر ہوتے اورنمازِ باجماعت میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیتےاسی طرح نمازِ عشاء کے بعد کتب سامنے رکھ کر بىٹھ جاتے اور مطالعہ کرتے، بسا اوقات فجر کى اذانىں شروع ہوجاتىں، استاد گرامى صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد على اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے آپ کى اَن تھک محنت دىکھی تو خادم کو ہداىت فرمائى کہ سردار احمد کو نماز مغرب سے پہلے کھانا کھلادىا کرو تاکہ مطالعہ مىں حرج نہ ہو۔([16])
دورانِ تعلیم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر( دىال گڑھ ضلع گورداس پور) سے
خطوط آتے توان کو پڑھے بغىر اىک مٹکے مىں ڈال دیتے، تعلىم سے فارغ ہوکر سب خطوط کو اىک ہى دفعہ پڑھااور سب کے لىے دعا کردی ، کىونکہ ان خطوط میں کسى کى بىمارى کا ذکرتھا تو کسى کے فوت ہونے کا۔([17])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی حضور محدث ِاعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے جس محنت ، لگن اور جستجو کے ساتھ علم دین حاصل کیا اس کی مثال عصر حاضر میں پیش کرنا مشکل ہےاے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے صدقے خوب خوب علمِ دین سیکھنےاور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرما ۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے۱۳۵۲ھ بمطابق1932ء ہى مىں دارالعلوم ”منظرِاسلام“ برىلى شرىف مىں اپنى تدرىسى زندگی کا آغاز کیا،تین سال
بعد استاذِ گرامى مولانا مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی مدرسہ”حافظیہ سعیدیہ“دادون ( على گڑھ یوپی) تشریف لے گئے تو آپ صدر المدرسىن کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئےپھر ۱۳۵۶ھ میں مسجد ’’بی بی جی‘‘ میں دارالعلوم مظہرِ اسلام کا قیام عمل میں آیا تو آپ وہاں تشریف لے گئے ۔ یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پندرہ سال تک متواتر بریلی شریف میں درس وتدریس اور خطابت کے فرائض سرانجام دئیے۔([18])
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان اگست 1947 ء میں رمضان المبارک کی تعطیلات گزارنے اپنے آبائی گاؤں دیال گڑھ(ضلع گورداس پور) میں تشریف فرما تھے کہ تقسیمِ ہندکا اعلان ہوا اور پورا ملک فسادات کی لپیٹ میں آگیاچنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اہل وعیال سمیت ہجرت فرمائی اور مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئے چند ماہ جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف (ضلع منڈی بہاؤالدین پنجاب )، ساروکی (تحصیل وزیرآبادضلع گوجرانوالہ )میں قیام اور تدریس کا سلسلہ رہا۔ ملک کے طول وعرض سے علماو مشائخ اور سجادہ نشین حضرات کی جانب سےتدریس اور قیام کی پرزور پیشکش ہوئی مگر آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں استاذی
المکرم مفتی امجد علی اعظمی صاحب اور مفتی اعظم ہند مصطفٰے رضا خان صاحب کے حکم کا منتظر ہوں جس جگہ وہ فرمائیں گے یا غیبی اشارہ ہوگا وہیں قیام کروں گا۔ چونکہ لائل پور ([19])جیسا صنعتی شہر ،تجارتی مرکز اور زرعی علاقہ مذہبی طور پر خشک و بَنجر ہو چکا تھالہذا اس بد مذہبی کے جمود کو توڑنے کے لئے مفتی اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب سے لائل پور میں قیام کا اشارہ ملا یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لائل پور میں جلوہ فرما ہوگئے ۔ ([20])
حضرت ِمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے شوالُ المکرم ۱۳۶۸ھ بمطابق اگست 1949ءمیں ایک مکان کرائے پر لیا اورعارضی طور پر پڑھانا شروع کردیا پھر مسجد”شاہی“ میں چھت کےبغیر ایک شامیانے کے نیچے فرش پربیٹھ کر موسم کى شدت اور دھوپ چھاؤں سے بے پروا ہو کر جان کى حفاظت اور صحت کی پرواہ کىے بغىر تَوَ کُّل عَلٰى اللہ کرتے ہوئے طلبہ کو درسِ حدىث دىنا شروع فرمادىا، رفتہ رفتہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلوص و تقوىٰ اور مسلک سے پختگى کى برکت
سے حق کى آواز پھىلنے لگى اور عوام و خواص کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علم و فضل ،حقانىت و صداقت، مستقل مزاجی ، تحمل و بردبارى ، اَخلاق و انکسارى اور مہمان نوازى نے ہر آنے والے کو متاثر کىا۔چند ماہ بعد ۱۲ ربىع الاول ۱۳۶۹ھ/2 جنورى1950ء کے پُر بہار موقع پربعد نماز عصر آپ نے احبابِ اہل سنت کے اجتماع مىں اس عظىم مِلّى ىونىورسٹى جامعہ مظہر اسلام جھنگ بازار کا سنگِ بنىاد اپنے دستِ مبارک سے رکھا اور دعائے خىر و برکت فرمائى۔([21])
حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حدىث پاک کى تعظىم مىں خوشبو لگاتے، اعلىٰ لباس زىب تن کرتے اوراطمینان سے بىٹھ کر پُروقار لہجے مىں درس حدىث دىتے۔ اسى حال کى عکاسی حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کى مَسند تدرىس سے ہوتى ہےکہ آپ بھی حدىثِ پاک پڑھانے کے لىے خاص اہتمام فرمایا کرتےچنانچہ دارالحدىث روانگى سے قبل وضو ىا غسل فرماتے، اچھااور اُجلا لباس زىب تن کرتے، عمامہ شرىف پہنتے، اس تىارى سے اىسا لگتا تھا جىسے آپ کسى بہت بڑى شخصىت کى ملاقات کو جارہے ہوں۔([22])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب مَسندِ تدرىس پر جلوہ گر ہوتے تو طلبہ ادب و احترام کى تصوىر بنے صف بستہ نصف دائرے کى شکل مىں بىٹھتے، بالعموم درسِ حدىث کى اِبتدا مندرجہ ذىل درود پاک ىا قصىدہ بردہ شرىف سے فرماتے خود بھى بڑے سوز سے پڑھتے اور طلبا سے بھى پڑھواتے۔
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى بَدۡرِ التَّام اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى نُوۡرِ الظّلَام
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى مِفۡتَاحِ دَارِالسَّلَام اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى شَفِيۡعِ جَمِيۡعِ الۡاَنَام
اىک طالب علم حدىث شرىف کى عبارت پڑھتا، متن کى تصحىح کرنے کے بعد آپ توضىح کا سلسلہ شروع فرماتے، مشکل الفاظ کى تفسىر بىان ہوتى، ترجمہ و تفہىم کے بعد اختلافی مسائل میں مطابقت پیدا فرماتے پھر مسائل اخذ کرتے ہوئے اشارہ وکنایہ کی بنیاد پر وضاحت کا بے انتہا دفتر کھل جاتا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى تدرىس کے دوران ىوں محسوس ہوتا کہ قرآن و حدىث اور اقوالِ علما کھلی کتاب کی طرح آپ کے سامنے ہیں ، شرحِ حدىث مىں توجہ کا ىہ عالم ہوتا کہ چار پانچ گھنٹے مسلسل درس ہوتا لىکن کسى طالب علم کے چہرے پر تھکاوٹ ىا اکتاہٹ کا کوئى نشان نظر نہ آتا، اَدب کی ىہ حالت تھی کہ اگر دوران درس کسى وقت عمامہ کھل جاتا تو اختتام تک کھلا ہى رہتا، درس سےفارغ ہونے کے بعد اسے صحىح کرتے، دوران ِدرس کسى بڑى
سے بڑى شخصىت سے بھی ملاقات نہ فرماتے ۔([23])
حضرت محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان وسعت ِمطالعہ اور مضبوط حافظہ کے باوجود مطالعہ کےبغیر کبھى نہ پڑھاتے، اىک دفعہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھوں مىں بڑى تکلىف تھى، ڈاکٹر نے ہر چند منع کىا کہ آپ آنکھوں پر زور نہ دىں، اس بنا پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چاہا کہ کچھ دن کے لىے کُتُب بىنى ترک کردىں، مگر اىسا نہ کرسکےکیونکہ کتابىں سامنے ہوں، فرصت بھی ہو اور پھر مطالعہ نہ ہو، یہ ممکن نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اکثر فرمایا کرتے: جس طرح تازہ روٹى اور تازہ سالن مزا دىتا ہے اسى طرح تازہ سبق اور تازہ مطالعہ مزىدار ہوتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!فقیہ ِ عصرمفتی ابو سعیدمحمدامین مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی اسی پختہ عادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئےفرماتے ہیں :آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عام مُدَرِّسِین کی طرح نہ پڑھاتے کہ ایک کتاب جب دو تین بار پڑھالی تو اب مطالعہ کی ضرورت نہیں بلکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سالہا سال حدیثِ پاک پڑھائی لیکن کیا مجال کہ کسی وقت بھی بغیر مطالعہ کوئی کتاب پڑھائی ہو ۔([24])
درسِ حدىث شرىف کى غرض و غاىت اور موضوع ہى ذکرِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے، اس لىے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ احادىث کى شرح بیان کرتے ہوئے سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرِ پاک اور اَوصافِ حَمیدہ بھی ضرور بیان فرماتے حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتےجاتے اور عشق مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مىں آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بىمار ہوتے ہىں ، بخار ىا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہىں، لىکن مجھے تکلىف ہوتى ہے تو مىں حدىثِ مصطفےٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے۔([25])
حضرت محدث ِاعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانصرف علم کى دولت ہى نہىں بانٹتے تھے بلکہ عمل کے جوہر کو بھى نکھارتے تھے تاکہ مخاطب سننےکے ساتھ ساتھ عمل کے سانچے مىں ڈھل جائے چنانچہ حدیث میں پیارے آقا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تبسم فرمانے کا ذکر آتا تو اس ادائے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنانے کے لئے خود بھی تبسم فرمایاکرتے اور طلبا کو بھی ہدایت کیا کرتے اگر
کسی کے لبوں پر تبسم نہ دیکھتے تو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے : آپ کے لبوں پر تبسم کیوں نہیں؟ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادائے تبسم پر اگرآپ تبسم نہ کریں گے تو بَھلا اور کون سا موقع ہوگا؟([26])
محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاندورانِ تدریس اور اوقات ِنماز میں عام طور پر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے جبکہ جمعہ کےدن خصوصی اہتمام کے ساتھ عمامہ باندھتے جوعموماًنسواری رنگ کا اورکبھی سفید یا زرد رنگ کا ہوتا خاص تقاریب ، خطبۂ جمعہ وعیدین کے لئے عمامہ پر سفید ململ کا لمبا چادر نما پٹکا بھی اوڑھا کرتے جو چہرہ مبارک کے ماسوا سر اور گردن پر لپیٹا ہوتا۔
مُفَسّرِقرآن حضرت علامہ مولانا محمد جلال الدّین قادریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے سر ِاَقدس اور گردن پر یوں چادر رکھنے کے انداز کو میں آج تک ایک خاص ادا سمجھتا رہا حسنِ اتفاق سے ایک حدیثِ پاک نظر نواز ہوئی ’’اَ لْاِرْتِدَاءُ لُبْسَةُ الْعَرَبِ وَالْاِلْتِفَاعُ لُبْسَةُالْاِیْمَانِ‘‘([27]) ترجمہ و تفھیم :چادر اوڑھنا عربوں کا لباس ہے اور سر اور اکثر
چہرے کو (چادر سے) ڈھانکنا ایمان والوں کا لباس ہے ۔مزید فرماتے ہیں: حدیثِ پاک کے مطالعہ کے بعد یہ واضح ہوا کہ مذکورہ انداز میں آپ کا چادر نما پٹکا رکھنانہ صرف آپ کی ادا تھی بلکہ حدیث ِپاک پر عمل بھی تھا ۔ سُبْحٰنَ اللہ ! کیسی پاکیزہ سیرت تھی، جو پہناوے کے ادنیٰ سے حصے میں بھی سنّتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ملحوظ رکھتے تھے۔([28])
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ اولیائے کرام اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اپنےہر ہر عمل میں سنّتِ مصطفٰے اور ادائے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شیخ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی سیرت پر نظر دوڑائیں تومذکورہ حدیثِ پاک پرعمل نظر آتا ہے کہ سرمبارک پر مستقل عمامہ کا تاج اس پر سفید چادر کا راج آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شخصیت کو مزید نکھار دیتا ہے۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مریدین اور متعلقین اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ترغیب سے بے شمار اسلامی بھائی نہ صرف اپنے سروں پر عمامہ شریف کا تاج سجاچکے ہیں بلکہ سفید چادر کو بھی لباس کا حصہ بناکر اپنی زندگیوں کو سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے میں مصروف ہیں۔
مُفَسّرِ قرآن حضرت علامہ مفتی محمد جلالُ الدین قادریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں: حضرت سیّد قناعت علی قادریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیایک مدت تک حضور اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی خدمت گاری کے فرائض سرانجام دیتے رہے ان کے پاس اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ کا ایک استعمال شدہ سبز رنگ والا عمامہ تھا۔ سید قناعت علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک عرس کے موقعہ پر لائل پور حاضر ہوئے تو اپنے ساتھ وہ عمامہ شریف بھی لائے اور محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے حضور پیش کیا ۔اور یوں عرض گزار ہوئے: حضور !وعدہ کیجئے کہ کل بروزِ قیامت جب آپ جنت میں داخل ہوں گے ، فقیر کو نہ بھولیں گے۔ یہ سن کر محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا: جنت میں داخلہ تو آپ کے نانا پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے طفیل ہی ملے گااور پھر یہ کہ آپ حضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ کی زیارت اور خدمت سے مُشَرَّف ہیں ۔ خود آپ کا تعلق جس گھرانے سے ہے اسی کے صدقے سب کو جنّت میں داخلہ نصیب ہو گا۔ ایک جانب سے درخواست پراصرار جاری رہا تو دوسری جانب سے انہی جملوں کی تکرار ہوتی رہی جبکہ یہ روح پرورمنظر حاضرین کے لئے بڑی رِقّت کا باعث بنا۔ پھر محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے اعلی حضرت کا سبز رنگ والا
عمامہ شریف اپنے سرِ انور پر سجایا ۔([29])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَسما کے ساتھ”رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ“ خود بھی کہتے اور دوسروں سے بھی کہلواتے، چنانچہ جب طلبا سند حدىث پڑھتے ہوئے کسى صحابى کے نام کے ساتھ” رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ“ نہ پڑھتے تو آپ انہىں روک لىتے اور فرماتے: آپ نے صحابی کا نام پڑھا ہے لہذا” رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ“ بھى کہیں ۔([30])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہ صرف خود کتبِ احادىث کا ادب کرتے بلکہ طلبہ مىں بھى ادب کا جوہر پىدا فرماتے اورتلقین فرمایا کرتے: کتب رکھتے وقت حفظِ مراتب کا خىال کرتے ہوئے حدىث پاک کى کتاب کے اوپر قرآن حکىم کے علاوہ اور کوئى کتاب نہىں رکھنى چاہىے۔ایک مرتبہ ایک طالب علم نے بخاری شریف پر گلاب کا پھول رکھ دیا تو آپ نے منع کرتے ہوئے فرمایا:پھول اگرچہ بڑی نرم و نازک چیز ہے بہرحال بخاری شریف سے افضل نہیں ۔([31])
پیارے اسلامی بھائیو!ادب انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی اور بارگاہ الٰہی
عَزَّ َجَلَّ میں سرخروئی اور بلند مقام پر پہنچاتا ہے جبکہ بے ادب ذلیل ورسوا ہوجاتا ہے محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان اور دیگر بزرگان دین کی یہی مدنی سوچ ہمیں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی حیات طیبہ میں نظر آتی ہےاس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ ایک مرتبہ آپ کی نظر ايک دينی کتاب پر پڑی جس پر کسی نے ”وائٹو“(whito،لفظ مٹانے والا قلم) رکھ ديا تھا۔آپ نے بڑھ کر وائٹو اُس کتاب پرسے ہٹا تے ہوئے اس طرح ارشادفرمايا:دينی کتاب پر کسی شے کا رکھنا اَدَب کے خلاف ہے،اس کا خيال رکھنا سعادت مندی ہے، جو اس طرف توجہ نہیں دیتا اس کی بے احتياطياں بڑھ جاتی ہيں۔پھر فرمانے لگے: دعوتِ اسلامی کے قيام سے پہلے کی بات ہے، کم و بيش 27سال قبل ميں ايک صاحب سے ملاقات کے لئے پہنچا، دورانِ گفتگو انہوں نے ہاتھ ميں لی ہوئی احادیثِ مبارکہ کی مشہور کتاب ”مشکوٰۃ شریف“ کو اس طرح اُوپر سے میز پر ڈالاکہ اچھی خاصی ”دھمک “ پیدا ہوئی ۔مجھے اس بات کا اس قدر صدمہ ہوا کہ آج کافی عرصہ گزر جانے کے با وُجود بھی جب وہ واقعہ ياد آتا ہے تو اس ”دَھْمَک“ کا صدمہ مَحسوس ہوتا ہے۔([32])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفجرکا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی بىدار ہوتےاور ضرورىات سے فارغ ہو کر ذکر و مناجات میں مصروف ہو جاتے، شاہى مسجد مىں نماز با جماعت تکبىرِ اولىٰ کے ساتھ ادا کرتے اورصبح سے دوپہر تک پھر ظہر سے عصر تک پڑھاتےرہتے ،عصر ومغرب کے درمیان استفتاء اور خطوط کے جوابات عطا فرماتےپھر مہمانوں سےملاقات، آنے والو ں کى پذىرائى،بعد عشاء اہم معاملات پر غور، خدامِ دىن ، خدامِ رضا کو دىنى مشورے، مسجد و مدرسہ کے تعمىرى منصوبے، ىہاں تک کہ چادرِ شب ہر کس و ناکس پر تَن جاتى، دن بھر کے تھکے ہارےطلبہ مطالعہ کَر کَرکے سوجاتے، مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کام ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتے مطالعہ کرنے بیٹھتے تو رات گئے تک مطالعہ جاری رہتا۔([33])
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکا کھانا سادہ اور قلىل مقدار مىں ہوتا گھر مىں جو پکتا کھالىتے ، کسى خاص کھانے کى فرمائش کبھى نہ کرتے البتہ سردىوں مىں شلجم اور گرمىوں مىں کدوشریف ر غبت سے کھاتے،ڈَلیا (چنگیری)میں جو روٹی اوپر موجود ہوتی وہی کھالیتے نیچےسے گرم روٹی نہ نکالتے،عموماً اىک وقت کی غذا تھوڑا سا
سالن اور ایک چپاتی ہوتی ، جسے خوب چبا کر کھاتے اور فرماىا کرتے کہ کھانا خوب چبا کر کھاؤ، دانتوں کا کام معدے سے نہ لو، معمول کے بغىر تناول نہ فرماتے ىہى وجہ ہے پىٹ کبھى خراب نہ ہوا۔کھانے کے درمىان میں پانی پىتے اگرکھانے کے بعد پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو بعد میں سادہ لقمہ ضرور تناول فرماتے ،کبھى کبھار چائے سے بھی لطف اندوز ہوتے ۔ٹھنڈا پانی شوق سے نوش فرماتے یہاں تک کہ سردىوں مىں صراحى رات کو باہر صحن مىں رکھواتے اورپھر اسى پانى کو پیا کرتے ،سردىوں مىں گنے کا رس مرغوب تھا برتن نہاىت صاف استعمال فرماتے۔بارش مىں بڑے شوق سے نہاتے حتى کہ اگر سردىوں مىں رات کو بارش ہوتى تو بھی نہالىتے۔خرىدو فروخت کے لىے بازار کبھى نہ جاتے۔ آپ کى نشست دوزانو ىاآلتی پالتی ہوتى۔ گرمىوں مىں بغىر بچھونے کے چار پائى پر لىٹتے، ىہ چار پائى عموما مُونج(مخصوص قسم کی گھا س کی بٹی ہوئی رسی) کى ہوتى تھى، سردىوں مىں رات کو کمرے کى کھڑکىاں کھول کر سوتےاور لحاف سىنے تک رکھتے ، گھڑی کلائی پر باندھتے نہ جیب میں رکھتے اور نہ ہی کمرے مىں ہوتى اس کے باوجود ہر کام مقررہ وقت پر ادا کرتے اور فرماىا کرتے کہ زندگى کے امور کے لىے اوقات متعىن کرلو اور پھر ان پر عمل کرو۔
اخبار بىنى نہ کرتے اگر کسى خاص وجہ سے اخبار دىکھنا ہوتا تو پہلےاس پر موجود جاندار تصاوىر کو سىاہى پھىر کر مسخ کروالىتے،لکھنے مىں بالعموم سىاہ روشنائى استعمال کرتے ،لکھتے وقت کاغذ کسی کتاب پر نہ رکھتے ، کارڈ وغىرہ ہوتا تو عموماً ہاتھ پر رکھ کر
لکھ لىتے۔ جوتا پہننے، اتارنے، مسجد مىں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کے آداب کا خود بڑا لحاظ رکھتے اور دوسروں کو بھى ان کى پابندى کى تاکىد فرماتے۔ گفتگو مىں اکثر نعم(جی ہاں) اور طَىب(بہت خوب) استعمال کرتے، جس سے کلام کا لطف دوبالا ہوجاتا۔ سوارى پر سوار ہوتےوقت اللہ اَکۡبَر کہتے اور دعائے ماثورہ پڑھتے اور جب اترتے تو سُبْحٰنَ اللہ کہتے ،دینی اجتماعات میں شرکت کے لئے دوسرے شہر تشریف لے جاتے تووہاں مزارات اولیا پر حاضرى دیاکرتے جبکہ بعض مزارات کى طرف بطور ِ خاص زىارت کى نىت سے بھی سفر فرماتےاوراخراجات خود اٹھاتے اگر کوئی پیش کرنا بھی چاہتا تو قبول نہ فرماتے نیز حاضری کے وقت باادب کھڑے رہتے اور ایصال ِثواب کرتے، صاحبِ مزار سے اسى طرح عرض و معروض اور گفتگو ہوتى جس طرح کسى زندہ انسان سے ہوتی ۔ طلبہ اور علماملاقات کے لئے حاضر ہوتے تو انہیں بڑى فراخ دستى سے تحائف عطا فرماتے۔([34])
برِصغىر پاک و ہند کے دور دراز علاقوں مىں بیانات کے لىے تشرىف لے جاناہوتا تو یہ نہیں سوچتے کہ وہاں جانا کتنا مشکل ہےبلکہ ىہى مدنظررکھتے کہ وہاں جانا کتنا اہم ہےاور نہ یہ کہتے کہ مىرے لىےسوارى کا بندوبست کردو ىا زادِراہ دے
دوبلکہ اپنا اور ساتھ سفر کرنے والے طالب علم کا کرایہ اکثرخود ادا کرتےاورجس جگہ پہنچنے کا وعدہ فرمالىتے وہاں لازمى طور پر پہنچتے، وعدہ فرما کر ىا ذمہ دارى قبول کرکے نہ پہنچنے کى مثال آپ کى پورى زندگى مىں نہىں ملتى۔
قافلوں میں سفر کی ہو کثرت ہم سے یوں دین کی لے لے خدمت
عاجزانہ الٰہی دعا ہے یا خدا تجھ سے میری دعا ہے([35])
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دورانِ سفر نماز کے اوقات کا خاص خىال رکھتے، جہاں بھى نماز کا وقت ہوجاتا سوارى سے اتر کر باجماعت نماز ادا کرتے اور پھر سفر جارى فرمادىتے،عموماًزادِ راہ لوٹا مصلی ،چادر ،شیروانی وغیرہ ہوتا، اس دوران بھى اپنے ہم سفروں سے دىنى مسائل ہى پر تبادلہ خىال ہوتا، جہاں وقت مىسر آتا قصىدہ بردہ شریف اور امامِ اہلسنت، اعلىٰ حضرت، مجددِ دىن و ملت ، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے اشعار اپنے تلامذہ اور نعت خواں سے سنتے اور شاد شاد ہوتے۔([36])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ساداتِ کرام کا بے حد ادب کرتے اور ان سے کسی طرح کا کام لینا پسند نہ فرماتے چنانچہ دینی اجتماعات ىا عرس مبارک کے انتظامات کے لىے طلبہ کى ڈىوٹىاں لگائى جاتىں تو ساداتِ کرام کےذمے کوئی ڈىوٹى نہ لگاتےاگر کوئی عرض کردیتا تو ارشادفرماتے:ان کى ڈىوٹى ىہ ہے کہ بس لنگر کھائىں، یہ شہزادے ہیں اور شہزادوں کو کوئی کام نہیں دیا جاتا۔([37])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی جس سے حقیقی محبت ہو اس کی ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے ساداتِ کرام کا تعلق چونکہ دو جہاں کے مالک ومختار،رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہے اسی نسبت کی وجہ سے اولیا وعُلمااور عوام الناس ہمیشہ ان کا ادب کرتے ہیں اسی طرح کا ایک واقعہ بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بارے میں ملتا ہے آپ عرب امارات میں قیام کے دوران ایک صاحب کی وساطت سے بعض Testکروانے کے لئے دبئی کے ایک ہسپتال کی لیبارٹری میں تشریف لےگئے۔ وہاں پر اپنے بول کی شیشی (Urine Bottle)ان صاحب کو ان کے بے حد اصرار کے باوجود نہ اٹھانے دی ۔ بعد میں آپ سے عرض کی گئی :آپ نے ان صاحب کو یہ شیشی نہیں اٹھانے دی
اس میں کیا حکمت ہے ؟ تو ارشاد فرمایا: وہ سید صاحب تھے ، ان کو اپنے پیشاب کی بوتل کیسے پکڑاؤں ؟ اگر قیامت کے دن سید صاحب کے جدِ اعلی اور ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمادیا : الیاس!کیا تیرا پیشاب اٹھانے کے لئے میرا بیٹا ہی رہ گیا تھا تو اس وقت میں کیا جواب دوں گا ؟([38])
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مُحِبّ اپنےمحبوب کی اطاعت کرتا ہے اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ایک سچے عاشق رسول تھے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کوئی فعل خلافِ سنت ہو اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے :ایک مرتبہ نمازِ عصر کےبعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد سے باہر تشریف لائے جن لوگوں کو مسجد میں مصافحہ کا موقع نہ مل سکا تھا وہ مصافحہ کے لئے جُوق دَر جُوق آگے بڑھے ایک شخص نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بائیں ہاتھ میں بطورِ نذرانہ کچھ رقم دینے کی کوشش کی جونہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس بات کا اندازہ ہوا فوراً ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : الٹے ہاتھ سے لینا اور الٹے ہاتھ میں دینا خلافِ سنت
ہے ۔([39])
سیدھے ہاتھ سے لینے دینےکی اس سنت کی پاسداری کا یہ عالم تھاکہ شعورى اور غىر شعورى طور پر بھى اس کا خلاف نہ ہوتابلکہ اپنے متعلقىن کو باربار تاکىد فرمایاکرتے کہ لىنے اور دىنے مىں دائىں ہاتھ کو استعمال کرو، ىہ عادت اىسى پختہ ہوجائے کہ کل قىامت میں جب نامہ اعمال پىش ہو تو اسى عادت کے موافق داىاں ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو کام بن جائے گا۔([40])
حضور محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نعلین کو قبلہ رخ رکھا کرتے تھے چنانچہ ایک دن شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مدنی مذاکرے کے دوران ایک سوال کے ضمن میں ارشادفرمایاکہ برسوں پہلے گوجرانوالہ(پنجاب) کے دورے کے دوران اسلامی بھائیوں کے ہمراہ استاذالعلماء حضرت علامہ مفتی ابوسعید محمد عبد اللطیف قادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ (صدر مدرس دارالعلوم عطائے مصطفی جگنہ گوجرانوالہ) سے ملاقات کے لیے آپ کے درِدولت پر حاضرہواتودورانِ گفتگوارشادفرمایا : میرے استاذ ی المکرم حضرت محدثِ اعظم
پاکستان اپنے نعلین مبارکین بھی قبلہ رخ رکھاکرتے تھے۔
شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے جنات کا بادشاہ صفحہ 23 پر فرماتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا چہرہ بھی مُمکِنہ صُورت میں قِبلہ رُخ رکھنے کی عادَت بنانی چاہئے کہ اِس کی بَرَکتیں بے شُمار ہیں چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراہیم زَرنوجی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں :دو طَلَبہ علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے پردیس گئے، دونوں ہم سبق رہے ،جب چند سالوں کے بعد وطن لوٹے تو ان میں ایک فَقِیہ (یعنی زبردست عالم ومُفتی ) بن چکے تھے جبکہ دوسرا عِلم و کمال سے خالی ہی رہا تھا ۔اُس شہر کے عُلَمائے کرام نے اِس اَمر پر خوب غَور و خَوض کیا، دونوں کے حُصولِ علم کے طریقۂ کار ،اندازِ تکرار اوراُٹھنے بیٹھنے کے اطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو ایک بات نُمایاں طور پر سامنے آئی کہ جو فَقِیہ بن کرپلٹے تھے اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وَقْت قِبلہ رُو بیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جو کہ کَورے کاکَورا پلٹا تھا وہ قبلے کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنے کا عادی تھا ۔چُنانچِہ تمام عُلَماء و فُقَہاء اِس بات پر مُتَّفق ہوئے کہ یہ خوش نصیب اِستِقبالِ قِبلہ(یعنی قبلے کی طرف رُخ کرنے ) کے اِہتِمام کی بَرَکت سے فَقِیہ بنے کیوں کہ بیٹھتے وقت کعبۃُ اللہ شریف کی سَمْت مُنہ رکھنا سنّت ہے۔([41])
حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سفر وحضر ہر جگہ تبلیغ و اصلاح کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ چنانچہ تانگے والوں کی عموماً عادت ہوتی ہےکہ وہ اپنے گھوڑے کو یا تو گالیاں دیتے ہیں یا پیار سے انہیں بیٹا کہتے ہیں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انہیں تاکید فرماتے کہ کسی جانور کو گالی دینا جائز نہیں اور کسی جانور کو بیٹا کہنا بھی جائز نہیں ۔([42])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی سیرت مبارکہ سے ایک اور مدنی پھول یہ ملا کہ مبلغ ہر جگہ مبلغ ہوتا ہے گھر میں ہو یا باہر، سفرہو یا حضر ،شادی بیاہ کی تقریبات ہو یا کسی سے ملاقات ،خلافِ شریعت کام کوئی بڑا آدمی کرے یا چھوٹا آدمی،اسے چاہیے کہ شرعی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے احسن انداز میں اس فريضہ کو ضرور سر انجام دےاور اصلاح کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے۔
ایک مرتبہحضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانحضرت داتا گنج بخش سیّدعلی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دربار گہر بار (مرکزالاولیاء لاہور)میں حاضرتھے
اور دعا مانگ رہے تھےکہ ایک اجنبی شخص آیا اور دربار کی طرف منہ کرکے سجدہ کیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دعا چھوڑکر اس کو تنبیہ فرمائی کہ سجدہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہوتا ہے مخلوق میں سے کسی کو سجدہ جائز نہیں اگر کوئی شخص مخلوق میں سے کسی کو معبود سمجھ کر سجدہ کرے تو کفر ہےاور اگر اسے معبود نہ سمجھے صرف تعظیم کے لئے سجدہ کرے پھر بھی ہماری شریعت میں حرام اور ممنوع ہے۔پھر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےدربار شریف کےمنتظمین سے فرمایا: اس مضمون کی ایک تختی بنواکر یہاں لگادی جائے کہ مزارات کو سجدہ جائز نہیں چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ہدایت پر وہاں جَلی حروف میں ایک تختی آویزاں کردی گئی ۔([43])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے،سنتوں کی خوشبو پھیلانے،عِلْمِ دین کی شمعیں جلانے اور لوگوں کے دلوں میں اولیاءاللہ کی محبت و عقیدت بڑھانے میں مصروف ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(تادمِ تحریر)دنیا کے کم وبیش 200ممالک میں اس کا مَدَنی پیغام پہنچ چکا ہے۔ساری دنیا میں مَدَنی کام کومنظم کرنے کےلئے تقریباً 92سے زیادہ مجالس قائم ہیں،انہی
میں سے ایک’’مجلسِ مزاراتِ اولیا‘‘بھی ہے جودیگر مدنی کاموںکے ساتھ ساتھ درج ذیل خدمات انجام دے رہی ہے۔
1. یہ مجلس اولیائےکرامرَحِمَہُمُاللہ ُالسَّلَامکےراستےپرچلتےہوئےمزاراتِ مبارکہ پرحاضر ہونے والے اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کیلئے کوشاں ہے۔
2. یہ مجلس حتَّی المَقدُورصاحبِ مزارکے عُرس کے موقع پراِجتماعِ ذکرونعت کرتی ہے۔
3. مزارات سے مُلْحِقہ مساجِد میں عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافلے سفرکرواتی اوربالخصوص عُرس کے دنوں میں مزارشریف کے اِحاطے میں سنّتوں بھرے مَدَنی حلقے لگاتی ہے جن میں وُضو،غسل،تیمم،نمازاور ایصالِ ثواب کا طریقہ،مزارات پر حاضری کے آداب اوراس کا درست طریقہ نیز سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتیں سکھائی جاتی ہیں۔
4. عاشِقانِ رسول کو حسبِ موقع اچھی اچھی نیتوں مثلاًباجماعت نمازکی ادائیگی، دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت،درسِ فیضانِ سنت دینے یا سننے،صاحبِ مزار کے اِیصالِ ثواب کیلئے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلوں میں سفراورفکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی انعامات کارسالہ پُرکرکے ہر مَدَنی یعنی قَمری ماہ کی ابتِدائی دس تاریخوں کے اندراندراپنے ذِمہ دارکوجمع کرواتے رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
5. ’’مجلس مزاراتِ اولیاء‘‘ایامِ عُرس میں صاحبِ مزارکی خدمت میں ڈھیروں ڈھیرایصالِ ثواب کاتحفہ بھی پیش کرتی ہے اورصاحبِ مزاربُزرگ کے سَجادہ نشین،خُلَفَااورمَزارات کے مُتَوَلِّی صاحبان سے وقتاًفوقتاًملاقات کرکے اِنہیں دعوتِ اسلامی کی خدمات،جامعاتُ المدینہ و مدارِسُ المدینہ اور بیرونِ ملک میں ہونے والے مَدَنی کام وغیرہ سےآگاہ رکھتی ہے۔
6. مَزارات پرحاضری دینے والےاسلامی بھائیوں کوشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی عطاکردہ نیکی کی دعوت بھی پیش کی جاتی ہے۔
اللہعَزَّ وَجَلَّ ہمیں تا حیات اولیاکرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا ادب کرتے ہوئے ان کے در سے فیض پانے کی توفیق عطا فرمائے اور ان مبارک ہستیوں کے صدقے دعوتِ اسلامی کو مزید ترقیاں عطا فرمائے ۔
اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاناپنے وقت کی بہت قدر فرمایا کرتے تھے خاص طور پر صبح کے وقت کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے:صبح کا وقت باتوں میں ہرگز ضائع نہ کریں نماز کے بعد تلاوت اورپھر اپنے اسباق میں مشغول رہیں ، اِنْ
شَآءَ اللہُ الْعَزِیْز سارا دن اچھا گزرے گا ۔([44])
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی اصلاح ِ عقائد کے ساتھ ساتھ اصلاح ِاعمال کے کام کو بھی بخیر وخوبی سر انجام دے رہی ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوت ِاسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور علمائے کرام کے اقوال کی روشنی میں اس پیاری پیاری مدنی تحریک کے کام کو پروان چڑھانےمیں مصروفِ عمل ہے،ذرا حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے اسی فرمان کی جانب توجہ کیجئےکہ مرکزی مجلسِ شوری کی جانب سے ہر اسلامی بھائی کو ایک مدنی پھول یہ بھی عطا ہوا ہے کہ مجھے روزانہ کے پانچ مدنی کام کرنے ہیں ان میں سے ایک مدنی کام بعد نماز فجر ”مدنی حلقہ“ میں شرکت کرنا ہےیعنی نگرانِ ذیلی مشاورت /ذیلی ذمہ دار مدنی انعامات روزانہ بعد نماز فجر تا اشراق و چاشت ”کنز الایمان شریف“ سے تین آیات کا ترجمہ و تفسیر ”خزائن العرفان “،”نور العرفان“ یا” صراط الجنان “سے سنائیں، مسجد درس، منظوم ”شجرہ شریف “،اورادوظائف کی ترکیب اور فکر مدینہ کا اجتماعی حلقہ لگائیں نیز ذیلی مشاورت آج کے مدنی کاموں کے لئے مشورہ کرے۔
محدثِ اعظم پاکستانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکے وجودِ مسعود میں عاجزی و انکساری
کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہاں تک کہ فارسی کی ابتدائی کتب پڑھنے والےطالب علم کو بھى” مولانا“ کہہ کرمخاطب فرماتے ۔([45])
حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانتعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت بھی فرماتے جب صداقت و امانت ،تقوی و طہارت، جہاد و شجاعت ،صبر و قناعت، تبلیغ و توکل اوراخلاق وغیرہ کا بیان ہوتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کی خوب وضاحت فرماتے،طلبہ کی تربیت کرتے ہوئے ان اخلاق سے مُتَّصِف ہونے کی ہدایت فرماتےاور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے نیز آج کل بعض کاروباری اور پیشہ وردینداروں میں جو تکلفات اور نزاکتیں پائی جاتی ہے اس کا خوب رَد فرماتے اور طلبہ کو ایسی باتوں سے بچنے اور توکل و خلوص کے ساتھ شیر بن کر پرخلوص اور بےلوث ہوکر خدمت دین اور اتباعِ شریعت و سنت کی تلقین فرماتے ۔([46])
حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان طلبہ کونہ تو جسمانی سزا دیتے اور نہ ہی جھڑکتے چنانچہ حضرت علامہ مولاناابو داؤد محمد صادق مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی فرماتے ہیں :
آپ کو کبھی کسی طالب علم کو جھڑکتے ،گالی دیتے اورمارتے نہ دیکھا گیا اس کے برعکس زبانی تنبیہ کا ایسا انداز اختیار فرماتے جس سے طالب علم خود بخود اصلاح کی جانب مائل ہوجاتا۔ اس خوبصورت اندازِاصلاح کو بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: دورِ طالب علمی کے ایک ساتھی کو اسباق سے فارغ ہوکر بازار میں گھومنے پھرنے کی عادت تھی ایک دن عصر کے بعدسیر سپاٹاکرکے لوٹے تو حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے انہیں اپنے قریب بلوایا اور فرمایا: بتائیے ! فلاں بازار کی کتنی گلیاں ہیں یا فلاں گلی میں کل کتنی اینٹیں ہیں؟ بس آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس اشارے پر ہمارے اس ساتھی نے اپنی عادت ترک کردی ۔([47])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! کتنا پیارا اور سادہ انداز ہے کہ سزا دینے کی ضرورت پڑی نہ سخت جملے کہنے پڑے اورطالب علم کی اصلاح ہوگئی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حضور محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انداز شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذات بابرکت میں نمایا ں نظر آتا ہے آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ طلبہ پر نہایت شفیق اورمہربان ہیں، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی وقتاً فوقتاًجامعات و مدارس المدینہ کے اساتذہ و ناظمین کی تربیت فرماتے رہتے ہیں کہ طلبہ کو جسمانی سزا نہ دی جائے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
فرماتے ہیں:
٭…اساتذہ کو تاکید ہے کہ طالبِ علم کیسا ہی جُرم کرے ڈنڈی سے مارنا کُجا اس کو ہاتھ بھی نہ لگائیں۔
٭…مار دھاڑ کے علاوہ بھی ہر گز کوئی ایسی سزا مت دیجئے جو طالبِ
علم کو آپ سے باغی بنادے۔
٭…باربار ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے طالبِ علم ڈھیٹ ہوجانے کے ساتھ ساتھ
اپنے اُستاذ سے مُتنفر بھی ہوسکتا ہے۔
فقیہ ِ عصرمفتی ابو سعیدمحمد امىن مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی بىان کرتے ہىں: محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکی رہائش گاہ پر نلکا ( ہىنڈ پمپ)لگ رہا تھا، آپ درسِ حدىث پاک سے فارغ ہو کر گھر تشرىف لائے اور نلکا لگانے والوں سے فرماىا:اَب چھٹى کروکہ آرام کا وقت ہے ظہر کے بعد کام مکمل کر لىنا،ان کے جانے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے اور بڑے بھائى حضرت مولانا حاجى محمد حنىف مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کو بلوایا اور فرماىا: مسترى نلکا لگانے کے لئے ریت نکال رہے تھے، ظہر کے بعد آئیں گے اب تم دونوں رىت نکالو، ابھی ہم دونوں بھائىوں نے اىک بار ہى رىت نکالى تھی کہ آپ نے فرماىا: اَب رہنے دو ،ىہ سُن کر ہم دونوں شرمندہ ہوئے کہ شاید کام صحیح
نہیں کرسکے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہماری شرمندگی بھانپ گئے اور فرماىا: ىہ جن کا کام ہے وہى کرىں گے۔ تم دونوں کو اس لىے بلاىا تھا کہ تمہارے ہاتھ لگ جائىں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پانى مىٹھا نکل آئے گا۔([48])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکے اس واقعہ سےعلم دین کے طلب گار کی قدرو منزلت کا اندازہ لگانے کی کوشش کیجئے جبکہ فی زمانہ طالبِ علم کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں، طرح طرح کی تکالیف دی جاتی ہیں، اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔یاد رکھئے کہ علم دین حاصل کرنا یقیناً بہت بڑی سعادت ہے چنانچہ حضرت سیّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا:جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تواللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتاہے اور بےشک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں ۔([49])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عُمُوماًمالداروں کی دعوت قبول نہ کرتے البتہ کوئی غریب مسلمان دعوت کی پیشکش کرتا تو جہاں تک ممکن ہوتاقبول فرمالیتے اور اس کے معمولی وسادہ کھانے پر بھی اُس کی تعریف فرماتے تاکہ اس کے دل میں کوئی مَلال نہ آئے۔چنانچہ ایک مرتبہ ایک غریب آدمی کی دعوت پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ اس کا مکان چھپر نما اور بدبودار علاقے میں ہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُس کی دِلجوئی کے لئے نہ صرف کھانا تناوُل فرمایابلکہ اپنے کسی عمل سےاس غریب کو یہ احساس نہ ہونے دیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بدبو محسوس کررہے ہیں، حالانکہ عام حالات میں معمولی سی بدبو بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے ناگوار ہوتی۔([50])
ایک عقیدت مند نے دعوت کی پیشکش کرتے ہوئے پوچھا :حضور! کھانے کا انتظام کیسا ہونا چاہیے اور آپ کیا کھانا پسندکریں گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا: مولانا! خشک روٹى ، پسى ہوئى مرچىں اور نلکے کا سادا پانى مىرے لىے کافى ہے، کسى تکلىف کى ضرورت نہىں۔([51])
شاعرِاہلسنت حضرت علامہ مفتی مجیب الاسلام نسیم اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنےدورِ طالب علمی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں :جن دنوں حضور محدثِ ِاعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی قیام گاہ مسجد” بی بی جی “ (بریلی شریف ) کا ایک کمرہ تھا میں حضرت کی خدمت میں رہا کرتا تھا قریب کسی گھر سےمیرے لئے جو کھاناآتا تھا وہ بہت اچھا نہ ہوتا، اکثر و بیشتر کھانا دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے: مجھے بھوک لگ رہی ہے آپ اپنا کھانا مجھے دیدیں جب میرا کھانا آجائے تو آپ کھا لینا ۔کافی دنوں بعد معلوم ہوا کہ جو کھانا میرے مزاج کے مطابق نہ ہوتاوہ تو حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان تناول فرمالیتے اور اپنا کھانا میرے لئے چھوڑ دیتےتھے ۔([52])
پیارے اسلامی بھائیو! اَسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے ایثارو قربانی کے واقعات سے تاریخ بھری ہوئی ہے ان کے کارنامے،واقعات اور فرامین آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں اگر آج بھی ہم ان کی پیروی کریں تو اس بگڑے ہوئے معاشرے میں اُخوَّت و بھائی چارہ کی مثالیں قائم کرسکتے ہیں اسی جانب توجہ دلاتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی شہرہ آفاق کتاب فیضانِ سنت جلد ۱،صفحہ ۳۱۴ پر ارشاد فرماتے ہیں :کھانے میں سے اچّھی اچّھی بوٹیاں
چھانٹ لینا یا مل کر کھا رہے ہوں تو اس لئے بڑے بڑے نوالے اٹھا کر جلدی جلدی نِگلنا کہ کہیں میں رَہ نہ جاؤں یا اپنی طرف زِیادہ کھانا سمیٹ لینا اَلْغَرَض کسی بھی طریقے سے دوسروں کو محروم کردینا دیکھنے والوں کو بدظن کرتا ہے اور یہ بے مُرُوَّتوں اور حریصوں کا شَیوہ ہے ۔اچھّی اَشیاء اپنے اسلامی بھائیوں یا اہلِ خانہ کیلئے ایثار کی نیّت سے تَرک کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب پائیں گے۔جیسا کہ سلطانِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بخشِش نشان ہے:جوشخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اس خواہش کو روک کر(دوسروں کو)اپنے اوپر ترجیح دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بخش دیتاہے ۔([53])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کتنے متقی ،پرہیز گار اور طلبہ کے حقوق کا خیال رکھا کرتے تھے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے جس میں مدارس اور جامعات کے منتظمین کے لئے درس ہی درس ہے چنانچہ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے کھانا کھانے کے بعد روٹی کا بچا ہوا ٹکڑا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بھینس کو کھلانا چاہا جونہی آپ کی نظر اس طالب علم پر پڑی تو فرمایا:کیا کررہے ہو ؟ عرض کی:حضور !
روٹی کھاتے ہوئے یہ ٹکڑا بچ گیا تھالہذا بھینس کو کھلارہا ہوں، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : لنگر کی روٹیوں پر طلبہ کا حق ہے نہ کہ میری بھینس کا، اس بچے ہوئے ٹکڑے کو لنگر میں رکھ آؤ ،ٹکڑے جمع ہوکر فروخت ہوجائیں پھر طلبہ کے کام آسکتے ہیں ۔ ([54])
مدرسہ اور مسجد کی رقم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کبھی اپنے پاس نہیں رکھی لوگ رقم دیتےتو فوراً فرماتے :خزانچی کو دے دو ۔بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ لوگوں نے آپ کو نذرانہ پیش کیا چاہے وہ دست مبارک میں دیا ہو یا منی آرڈر کی صورت میں،جب تک یہ واضح نہ ہوجاتا کہ خاص آپ کے لئے ہے تب تک اپنے استعمال میں نہ لیتے اور مدرسےہی میں جمع کروادیا کرتے ۔([55])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی سیرتِ مبارکہ یقیناً مدنی پھولوں کا مہکتا گلدستہ ہےمذکورہ واقعہ سے ایک مدنی پھول یہ بھی ملتا ہے کہ مسجد، مدرسہ ، فلاحی ادارہ یا کسی بھی مد میں حاصل کی گئی چندے کی رقم فوراً اس کے متعلقین تک پہنچادینی چاہیے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ
مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ چندے کی رقم کے بارے میں بے حد احتیاط فرماتے ہیں ،آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ’’چندے کے بارے میں سوال جواب ‘‘نامی تالیف میں نہ صرف لاعلمی کے باعث چندے کی بابت ہونے والے گناہوں کی نشاندہی فرمائی ہے بلکہ بعض ان مسائل کو بھی بیان فرمایا ہے کہ جن کا جاننا مسجدوں ، مدرسوں اور مذہبی و سماجی اداروں کے چندہ کُنِندگان کے لئے فرض ہے ۔مذکورہ اداروں کی کمیٹیوں کو بالخصوص اور بالعموم ہر مسلمان کو اس کتاب کا ضرور بالضرور مطالعہ کرنا چاہئے ۔
’’چندے کے بارے میں سوال جواب‘‘ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃ حاصل کیجئے۔اس کتاب کو دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتاہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ محدثِ اعظم پاکستانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی ذات ایک ہمہ گیر شخصیت کی حامل تھی،آپ کی درس وتدریس وعظ ونصیحت رُشد و ہدایت کی مصروفیات اس قدر زیادہ تھیں کہ دیگر کاموں کی جانب متوجہ ہونا
آسان نہ تھا مگر اس کے باوجود آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسلک اور قوم وملت کے لئے کئی گراں قدر خدمات سرانجام دیں جنہیں احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
آل انڈیا سنی کانفرنس میں نمایاں کردار،تحریک پاکستان میں مؤثر انداز، فلاحی کمیٹی برائے مہاجرین 1947ء میں بنیادی کردار ،تحریک ختم نبوت53- 1952ء میں بصیرت افروز اقدام ،مدارس اسلامیہ کا قیام ومروجہ نصاب کی اصلاح ،تعمیر مساجد و مدارس میں بے مثال جدو جہد ۔([56])
اسی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود کافی علمی ذخیرہ بھی چھوڑا جن میں سے بعض مطبوعہ اور اکثر غیر مطبوعہ ہیں۔چند کے نام یہ ہیں :تبصرہ مذہبی برتذکرہ مشرقی (مطبوعہ)،اسلامی قانون وراثت (مطبوعہ)، نصرت خداداد(مناظرہ بریلی کی مفصل روئیداد مطبوعہ )، سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(بدمذہبوں کے غلط اور بے بنیاد اعتراضات کا دندان شکن جواب )، فتاویٰ محدثِ اعظم (مطبوعہ)، حواشی و افادات صحاح ستہ (غیر مطبوعہ )۔ ([57])
حضرت محدثِ اعظم پاکستانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے ملفوظات امت مسلمہ کے
لئے عطیہ خداوندی سے کم نہیں ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ملفوظات کی روشنی سے علمائے کرام، طلبہ اورکثىر خلق ِخدا فیض یاب ہوئی۔ آئیے اس مدنی گلدستہ کے چند پھولوں سے اپنے دل ودماغ کو معطر کیجئے ۔
٭…حدیثِ پاک کی ۳۸۰ کتب ہیں آج کل ساری کتب ِاحادیث ملتی بھی نہیں ہیں لہذا جب کبھی تم سے کوئی کسی حدیث کے بارے میں سوال کرے تو یہ مت کہو کہ یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث میرے علم میں نہیں ہے ، یا میں نے نہیں پڑھی ۔([58])
٭…قرآن وحدیث اور کتب دینی کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہاں پڑی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہاں رکھی ہیں ۔([59])
٭…بیان ٹھوس کریں،جو مسئلہ بیان کریں اس کا ثبوت تحقیقا یا الزاما آپ کے پاس ہو،آپ ہوں اور کتابوں کا مطالعہ۔
٭…جس قدر علم میں توجہ کریں گے اتنا ہی ترقی و عروج حاصل کریں گے ۔
٭…آپ دین کے مبلغ اور ترجمان ہیں آپ کا کردار بے داغ ہوناچاہیے ۔
٭…علم اور علما کے وقار کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھیں کوئی ایسا کام نہ کریں کہ علما کا وقار مجروح ہو۔
٭…علمِ دین کو دنیا حاصل کرنےکا ذریعہ ہرگز نہ بنائیں اگر بنایاتو نقصان اٹھائیں گے۔
٭…علمائے کرام ہمیشہ لباس اُجلا اور عمدہ واعلیٰ پہنیں نیز اس کی شرعی حیثیت کا خیال بھی ضروری ہے ۔
٭…عمدہ جوتا استعمال کریں تاکہ دنیاداروں کی نگاہ عالم کے جوتوں پر رہے ۔
٭…نمازیوں سے اخلاق سے پیش آئیں ۔ جو سنی دھوکے میں ہیں ان کی اصلاح جاری رکھیں ۔
٭…دنیاداروں سے بے تکلفانہ روابط قائم نہ کریں ۔
٭…بے ضرورت بازار نہ جائیں اور نہ کسی دکان پر بیٹھیں۔([60])
٭…دین کی خدمت ،دین کے لئے کریں لالچ نہ کریں ۔اگر ایک جگہ سے خدمت کم ہوگی تو دوسری جگہ سے کسر پوری ہوجائے گی ۔([61])
٭…پیارے آقا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اتنا ذکر کریں کہ لوگ آپ کو دیوانہ تصور کریں ۔
٭…سنی بمنزلہ ایک چراغ کے ہے جتنے سنیوں کا اجتماع ہوگا اتنے چراغ زیادہ ہوں گے اور ان کی روشنی و خیر وبرکت عام ہوگی ۔
٭…ایک مرتبہ ایک صاحب سے فرمایا:میں اپنوں سے الجھ کر وقت ضائع نہیں
کرنا چاہتا اتنا وقت میں تبلیغ دین اور بد مذہبوں کی تردید میں صرف کروں گا ۔([62])
٭…آخری ایام میں حضرت مخدوم پیر سیدمحمدمعصوم شاہ نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے فرمایا:شاہ صاحب !میری دوباتوں کے گواہ رہنا ،ایک یہ ہے کہ میں حضور غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مرید اور غلام ہوں دوسرے یہ کہ اس فقیر نے عمر بھر کسی بے دین سے مصافحہ نہیں کیا۔([63])
دورۂ حدیث شریف کے آخری درس کے موقع پر آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ہدایات کچھ یوں ہوا کرتی تھیں :آج آپ لوگ رخصت ہورہے ہیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم دیکھیں گے کہ آپ اپنے اپنے علاقوں میں کس طرح دین کا کام کرتے ہیں آپ لوگ شیر بن کر تبلیغ کے میدان میں آئیں اورپوری جاں فشانی کے ساتھ دین پاک اور مذہب مہذَّب اہلِ سنت کی خدمت کریں اور بے دینی ،بد دینی و باطل پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں آئندہ زندگی میں ایسے موقع پیش آئیں گے کہ نفس پرست و دنیا دار لوگ اپنی خواہش کے مطابق شریعت کے خلاف آپ سے فتوے لینے کی کوشش کریں گے اس سلسلے میں آپ پر رعب ڈالا جائے گا اور لالچ بھی دیا جائے گا لہذا لازم ہے کہ آپ ایسی باتوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں حق پر قائم رہیں حق
کا اعلان کریں اور دین کے تحفظ و ناموس اور کلمہ حق کی خاطر اگر کوئی قربانی بھی پیش کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں ۔([64])
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان اسکول کی تعلیم کے دوران ہی سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت خواجہ شاہ سراج الحق چشتی کرنالوی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے بیعت ہوگئے تھے۔پیرومرشد نے وصال سے قبل اپنے مریدِ کامل کو تمام سلاسل میں خلافت واجازتِ تامہ اور خصوصی نوازشات سے نوازا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سلسلہ عالىہ قادرىہ مىں حجۃالاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان ، مفتى اعظم ہند مولانا محمد مصطفےٰ رضا خان اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے علاوہ دیگراکابرین کى طرف سے بھى خلافت واجازت حاصل تھى ۔([65])
ایک معمار کى اصل صلاحىت اس کى عمارت سے اور فنکار کى عظمت اس کے فن سے ظاہر ہوتى ہے اسى طرح مدرس کى کامىابى اس کے تلامذہ کى استعداد اور تعداد سے پہچانى جاتى ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے تلامذہ اور خلفاء کى فہرست طوىل ہے جن مىں چند اىک کے نام ىہ ہىں۔
فقیہ اعظم ہند،شارح بخاری حضرت مفتی محمدشریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور یوپی ،ہند )،مفسرِ اعظم حضرت مولانا ابراہیم رضا خان (شیخ الحدیث جامعہ رضویہ منظرالاسلام بریلی شریف )،مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (دارالعلوم امجدیہ باب المدینہ کراچی )،شیخ الحدیث، شارح بخاری حضرت علامہ غلام رسول رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (شیخ الحدیث دارالعلوم سراجیہ رسولیہ رضویہ، سردار آباد)آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حضرت محدث اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے خلافت کا شرف بھی حاصل ہے۔مفسرِ قرآن حضرت مولانا جلال الدین قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ،حافظ الحدیث، اُستاذالعلماءحضرت مولاناسیّد محمد جلال الدین شاہ (شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ نوریہ رضویہ،بھکھی شریف)آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خلافت سے بھی نوازا تھا۔شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفٰے اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ،مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی عبد القیوم ہزاروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (ناظم اعلی جامعہ رضویہ مرکز الاولیاء لاہور )، استاذالعلماء حضرت علامہ تحسین رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (شیخ الحدیث جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف)،فیض ملت حضرت مولانافیض احمد اویسیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (شیخ الحدیث جامعہ اویسیہ بہاول پور )، حضرت مولانا عبدالرشىدرضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (شیخ الحدیث غوثیہ رضویہ سمندری سردارآباد )،شہزادۂ محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا قاضى محمد فضل رسول حىدر رضوى مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی ( خلف اکبر)، فقیہ عصرحضرت مولانا الحاج مفتى ابوسعید محمد امىن مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی (مہتمم جامعہ امىنىہ
رضوىہ سردارآباد)، نائب محدثِ اعظم پاکستان نباض قوم حضرت مولانا ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی (مہتمم دارالعلوم سراج العلوم گوجرنوالہ )،عالمی مبلغِ اسلام حضرت مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ،حضرت علامہ ابوالشاہ عبدالقادر احمد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (بانی دارالعلوم جامعہ قادریہ سردارآباد) آخرالذکر پانچوں ہستیوں کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے شرفِ تلمذ کے ساتھ ساتھ خلافت کا شرف بھی حاصل ہے۔ ([66])
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکےخلیفہ و جانشین آپ کے بڑے صاحبزادے قاضى محمد فضل رسول حىدر رضوى مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی ہیں جنہیں حضور محدثِ اعظم پاکستان نےوصال سے ایک سال قبل ۱۳۸۱ھ میں عرسِ قادری رضوی کے موقع پرعلما ومشائخ کی موجودگی میں جمیع سلاسل کی خلافت عطا فرماکر اپنا جانشین مقرر کیا ۔نیز دستارِفضیلت سے مشرف فرماتے ہوئے جملہ علوم وفنون کی روایات کی سند بھی عطا فرمائی ۔([67])
محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چار صاحب زادے اور
چھ صاحب زادیاں عطا فرمائی تھیں صاحبزادگان کے نام یہ ہیں ۔مولانا محمد فضل رسول حیدررضویمَدَّظِلُّہُ الْعَالِی،مولانا فضل احمد رضارضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، مولانا محمد فضل کریم رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، چوتھے صاحب زادے مولانا محمد فضل رحیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا ۔([68])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ درس وتدریس اور مسلک حق کی ترویج واشاعت تھاآپ کا دن قَالَ اللهُ تَعَالٰی اور قَالَ الرَّسُوۡل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں گزرتا تورات سراپا عجز اور اظہار عبدیت میں بسر ہوتی،اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کثیر کرامات کا ظہور ہواآئیے !حصول برکت نزول رحمت کے لئے چند کرامات ملاحظہ کیجئے :
شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنت،بانیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوئی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی شہرہ آفاق کتاب فیضانِ سنّت کے باب فیضان آداب طعام کے صفحہ ۴۰۱ پر فرماتے ہیں :حضرت مُحَدِّث
اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان جھنگ بازار گھنٹہ گھر میں مُنعقِد ہونے والی محفلِ میلاد میں بیان فرما رہے تھے ۔ بیان کا موضوع نورانیّتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھا ۔ بیان جاری تھا کہ تقریباً آدھ گھنٹہ بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی توجہ دائیں طرف لگی ہوئی ایک ٹیوب لائٹ کی طرف گئی ، یہ ٹیوب کسی فنی خرابی کی وجہ سے کبھی جلتی تھی، کبھی بجھتی تھی ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ٹیوب سے مخاطب ہو کر فرمایا: اری ٹیوب ! تو کبھی جلتی ہے ، کبھی بجھتی ہے، حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نورِ مبارک سے تمام جہان روشن ہو گیا اور تو کیوں ناشکر ی بنتی ہے۔ خبردار ! خبردار !توبُجھی تو۔۔۔۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس ارشاد سے نعرہ رسالت کی گونج پڑ گئی، تمام حاضِرین نے ملا حَظہ فرمایا کہ وہ ٹیوب لائٹ اختِتامِ جلسہ تک مُتَواتَر روشن رہی۔
مزیدآپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریرفرماتے ہیں : حکیم محمد اشرف قادری چشتی انار کلی سردار آباد(فیصل آباد)لکھتے ہیں:میری شادی ہونے کے طویل عرصہ بعد تک اولاد نہ ہوئی ۔حُصُولِ اولاد کے لئے دوائیں استِعمال کیں، دعائیں مانگیں اور وظائف پڑھے مگر گوہرِمُراد ہاتھ نہ آیا۔ بِالآخِر حضرت مُحَدِّث اعظم پاکستان حضرتِ مولیٰنا سردار احمد قُدِّسَ سِرُّہُ کی خدمتِ بابَرَکت میں محرومیِ اولاد کا تذکِرہ کر کے دُعا کا طالِب ہوا ۔ انہی دنوں میرے ہمسائے چودھری عبد الغفور نے مجھے بتایا،
تین دن سے مجھے خواب میں ایک بُزُرگ نظر آتے ہیں، ان کے سامنے آپ کھڑے ہیں اور آپ کی گود میں چاند سا خوبصورت بیٹا ہے۔ اُن بُزُرگ نے فرمایا:حکیم صاحِب! ایک بکرا صَدَقہ دیں جس میں سے لنگڑے لُولوں کو بھی حصّہ ملے ،چُنانچِہ میں نے حضرتِ مُحَدِّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی جناب میں اس خواب کا ذکر کیا اور عرض کی: میراخیال ہے کہ ایک بکرا ذَبح کر کے جامِعہ رضویہ کے لنگر میں پیش کر دوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حکیم صاحِب ! یہاں تو اللہ تَعَالٰی کا کرم ہے ، بکرے آتے ہی رہتے ہیں ، بہتر یہ ہے کہ جُمُعہ کو گھر میں گوشت اور روٹیاں پکائی جائیں اور جُمُعہ کی نَماز کے بعد خَتم شریف پڑھا جائے ، پکا ہوا گوشْتْ روٹیوں سمیت وَہیں غُرَباء میں تقسیم کیا جائے۔ تم میاں بیوی بھی کھاؤ اوراس میں سے وہاں کے لنگڑے لُولوں کو بھی حصّہ ملے۔یہ یاد رہے کہ خواب کا ذکر کرتے وَقت میں نے لنگڑے لُولوں کے مُتَعَلِّق بُزُرگ کا ارشاد قبلہ مُحَدِّث اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے عرض نہیں کیا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خود ہی ارشاد فرمایا اور یہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندہ کرامت تھی کہ غیب کی بات بتا دی! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ارشاد کے مطابِق عمل کیا گیا ۔ اس کے بعد اللہ تَعَالٰی نے اپنے فضل و کرم اور حضرتِ مُحَدِّثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی دعاؤں کے صَدْقے بیٹا عنایت فرمایا۔([69])
حضرت محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کا رعب و دبدبہ جنات پر بھى قائم تھا، شرىر جنات آپ تو آپ ، آپ سے نسبت رکھنے والى چىز وں سے بھى گھبراتے تھے، چنانچہ مولانا ابو سعىد مفتى محمد امىن مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی بىان کرتے ہىں:لائل پورگىان ملز کے غىر آباد ہوجانے کى صورت مىں کچھ مہاجرین وہاں آباد ہوگئے، ان میں سے ایک صاحب سىدى محدثِ اعظم پاکستان کے مرىد تھے،ایک مرتبہ حاضر خدمت ہو کر عرض گزار ہوئے کہ حضور! ہمارے گھر کے صحن مىں پتھر اور اىنٹىں آکر گرتی ہىں،ہم بڑے خوف زدہ ہىں ہمارا کچھ کىجئے، سىدى محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےمجھے اور مولانا سىد زاہد على شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بلاىا اور فرماىا۔ تم دونوں میری چھڑی لے کر ان کے گھر جاؤ اور اُسے صحن میں مار کر کہو: ہمىں سردار احمد نے بھىجا ہے اور ىہ اُن کى چھڑى ہے، خبردار!! آئندہ اىسى حرکت ہر گز نہ کرنا۔چنانچہ ہم دونوں ان صاحب کے گھر گئے اور حسبِ حکم جنوں کو وہ پیغام پہنچا کر لوٹ آئے ،کچھ دنوں بعد وہ صاحب حاضر ہو ئے اور عرض گزار ہوئے :اللہ تَعَالٰی کے فضل وکرم سے اب کوئى خوف وہراس نہىں رہا، اب پتھر برستے ہىں نہ اینٹیں گرتی ہیں ۔([70])
استاذگرامی صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میری زندگی میں دوہی باذوق پڑھنے والے ملے ایک مولوی سردار احمد (یعنی محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ )اور دوسرے حافظ عبد العزیز (یعنی حافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بانی الجامعۃ الاشرفیہ)۔ ([71])
دوسرے استاذِ گرامى مفتی اعظم ہند مولانا محمدمصطفےٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں: اگرچہ مولانا سردار احمد کو مىں نے پڑھاىا، مگر آج وہ اس قابل تھے کہ مجھے پڑھاتے۔
صدر الافاضل مولانامحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے ایک مرتبہ محدثِ اعظم پاکستان کو سنی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے مکتوب لکھا جس میں یہ الفاظ بھی تھے :آپ کی شرکت اس کانفرنس کی روح ہے۔([72])
حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو۲۰جمادی الاخری ۱۳۸۲ھ میں
علاج کی غرض سے باب المدینہ کراچى لایا گیا انہی ایام علالت میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایاکرتے تھے کہ کمرے کی سمندر کی جانب والی کھڑکی کھول دو اس طرف سے مجھے بریلی شریف کی خوشبو آتی ہے ۔([73])
علاج سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طبیعت میں بہتری کے آثار نمودار ہوئے جو ۲۵ رجب المرجب۱۳۸۲ھ بروز اتوارتک دیکھے گئےپھر نماز عصر کے لىے وضو فرماىا تو طبىعت گرنے لگى، ۲۷ رجب المرجب کو کمزورى بڑھى اور۲۹ تاریخ کو غنودگی کی کىفىت طارى ہوگئى، دونوں ہاتھ بندھ گئے اسى دوران نبىرۂ غوثِ اعظم پىر زادہ سىد عبدالقادر گىلانى سفىر ِعراق تشرىف لائے تو آپ نے آنکھىں کھولىں، پھردوبارہ وہی کىفىت طارى ہوگئى، پاس بىٹھے علما و خدام سے فرمایا:” يَا سَلَامُ“کثرت سے پڑھو۔ اسى عالم مىں آپ کے ہر سانس کے ساتھ ” الله ھُو“ ” الله ھُو “ کى آوازىں آرہى تھىں، بالآخر ىکم شعبان ۱۳۸۲ھ بمطابق 29دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمىانى رات اىک بج کر چالىس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہداىت کا مہر منىر ” الله ھُو“ کى آواز کے ساتھ دنىا کى ظاہرى نظروں سے ہمىشہ ہمىشہ کے لىے اوجھل ہوگىا۔(انا لله وانا اليہ راجعون )
قلب و جگر کو پاش پاش کردىنے والى وصال پر ملال کی خبر نے پورے ملک مىں
کہرام مچادىا، جو جو خبر سنتا، غم مىں ڈوب جاتا اوراس کی آنکھوں سے سیل اشک رواں ہوجاتے غسل اور کفن کا سلسلہ باب المدینہ کراچى مىں ہوا جس میں اکابر ِاہلسنّت نے شرکت کی حسب ِ وصیت کفن مبارک پر رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور غوثیت مآب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام نامی لکھا گیا ۔آپ کا جنازہ مبارکہ بذریعہ ٹرین باب المدینہ کراچی سے لائل پور لایا گیا ۔ہر اسٹیشن پر علمااور محبین کی کثیر تعداد موجود ہوتی جو پھولوں کے ہار لئے پروانہ وار کھڑی نظر آتی ،جنازہ مبارکہ لائل پور پہنچا تو اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی فضا ”نعرہ تکبیر“ اور” نعرہ رسالت “سے گونج رہی تھی آخرکار جنازہ مبارکہ کو اٹھایاگیا اورجس وقت جنازہ مبارکہ کچہری بازار میں داخل ہوا تو عشق رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں نے اور ہی رنگ اختیار کرلیاجس کے اثرات نمایاں اور بہت ہی واضح ہوگئے ہوا کچھ یوں کہ تابوت مبارک پر انوار و تجلیات کی بارش ہر آنکھ کو صاف طور پر نظر آنے لگی ،بچے بوڑھے جوان ہر قسم کے لوگ وہاں موجود تھے اور بڑی حیرت سے عالم انوار کی اس بارش کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہے تھے جب یہ بے مثال جلوس گھنٹہ گھر پہنچا تو یکایک اس نور نے دبیز چادر کی صورت اختیار کرلی اور سارا تابوت اس میں چھپ گیا چمکیلے تانبے کے باریک پتروں کی طرح نور کی سنہری کرنیں تابوت پر گر رہی تھیں ہزار ہا افراد نے تعجب سے اس آسمانی منظر کو دیکھا کچھ دیر تک یہی کیفیت رہی پھر آہستہ آہستہ تابوت دوبارہ نظر آنا شروع ہوا بالآخر جنازہ مبارکہ ایک وسیع و عریض میدان میں لایاگیا جہاں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی
نمازجنازہ تلمیذوخلیفہ ٔمحدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولاناابوالشاہ عبد القادر احمد آبادی (بانی جامعہ قادریہ رضویہ سردارآباد)نے پڑھائی۔جنازے میں اتنے لوگ شریک تھے کہ کبھی لائل پور کی تاریخ میں جمع نہ ہوئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آخری آرام گاہ جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں واقع ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عرس مبارک ہر سال ۲۹،۳۰رجب المرجب کونہایت عقیدت و محبت سے منایا جاتاہے جس میں ملک بھر سے تشریف لائے ہوئے علماومشائخ کرام اپنے نورانی وعلمی بیانات سے حاضرین و سامعین کے قلوب کو جِلا بخشتے ہیں ۔([74])
مولانا محمد احسن چشتی نظامی محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال مبارک کے دس برس بعد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۲۰ محرم الحرام ۱۳۹۲ ھ بروز منگل رات کو اپنا ایک مضمون مکمل کرنے کے لئے مجھےبخاری شریف کی ایک حدیث پاک کی تلاش تھی ۔میں نے بہت ڈھونڈی مگر تلاش بسیار کے باوجود میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اسی پریشانی کے عالم میں ساڑھے دس بجے کے قریب میری آنکھ لگ گئی۔آنکھ تو کیا لگی قسمت جاگ اٹھی، محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چاند سا چہرہ چمکاتے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:نظامی صاحب !
پریشان کیوں ہیں ؟ میں نے عرض کی :حضور! ایک حدیث پاک ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا ہوں مگر مل نہ سکی ، یہ کہہ کروہ حدیثِ پاک حضرت محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گوش گزار کی تو فوراً فرمایا:یہ حدیث پاک بخاری شریف کے فلاں صفحہ پر ہے، چنانچہ میں نے خواب میں ہی بخاری شریف آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حضور پیش کردی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جونہی بخاری شریف کھولی اسی صفحے پر میری مطلوبہ حدیث پاک جگمگا رہی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:لو !یہ رہی وہ حدیثِ پاک ۔اس کے فوراً بعد میری آنکھ کھل گئی میں نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو حضور محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مجھے کہیں نظر نہ آئے بالآخر میں نے اٹھ کر وضو کیا اور دو رکعت نفل ادا کئے پھر بخاری شریف کھول کر حضرت محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا خواب میں بتایا ہوا صفحہ نکالا تو میں حیران رہ گیااس صفحہ پر وہی حدیث مبارک میری آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون بخش رہی تھی ۔ ([75])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ کو مزار شریف پر آنا مبارک ہو، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی طرف سے سنّتوں بھرے مَدَنی حلقوں کا سِلسِلہ جاری ہے ، یقیناً زندگی بے حد مختصر ، ہم لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں،عنقریب ہمیں اندھیری قبر میں اترنا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا ، ان انمول لمحات کو غنیمت جانئے اور آئیے ! اَحکامِ الٰہی پر عمل کا جذبہ پانے ، مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتیں اور اللہ کے نیک بندوں کے مزارات پر حاضری کے آداب سیکھنے سکھانے کے لئے مَدَنی حلقوں میں شامل ہوجائیے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو دونوں جہاں کی بھلائیوں سے مالا مال فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
[1] …مَجْمَعُ الزَّوَائِد ،۱۰/۲۵۳،حدیث :۱۷۲۹۸
[2] … تذکرہ محدث اعظم،ص۱۶
[3] …حیات محدث اعظم ،ص۲۷ ملخصاًوغیرہ
[4] … حیات محدثِ اعظم، ص٣٠
[5] … حیات محدثِ اعظم، ص۳۲بتغیر
[6] … حیات محدثِ اعظم، ص۳۰
[7] … بہارِ شریعت ،حصہ۳ ،ص۴۷۹
[8] … سنن الدارقطني،کتاب الصلاۃ، باب الأمر بتعليم الصلوٰت،۱/۸۷۶،حديث: ۸۷۶
[9] … حیات محدثِ اعظم، ص۳۰ بتغیر
[10] … حیات محدث اعظم ،ص۳۳ ملخصاًوغیرہ
[11] … حیات محدث اعظم،ص۳۴ ملخصاً
[12] … تذکرہ مشائخ قادریہ ،ص ۲۸۳ملخصاًوغیرہ
[13] … سیرت صدر الشریعہ ،ص ۲۰۲
[14] … حیات محدث اعظم ،ص۳۸ملخصاً
[15] … سیرتِ صدرالشریعہ، ص۲۰۱
[16] … حیات محدث اعظم، ص۳۶ملخصاًوغیرہ
[17] … حیات محدث اعظم، ص۴۰ملخصاً
[18] … حیات محدث اعظم،ص۴۴تا ۴۵ ملخصاً
[19] … لائل پور کا موجودہ نام فیصل آباد ہے جسے شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے نام کی مناسبت سے ”سردار آباد“ کہہ کر پکارتے ہیں ۔
[20] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان ،۱/۱۵۰تا ۱۵۲ملخصاًوغیرہ
[21] …تذکرہ محدث اعظم پاکستان،۲/ ۱۲۹ملخصاً وغیرہ
[22] … حیات محدث اعظم، ص۵۷ملخصاًوغیرہ
[23] … حیات محدث اعظم، ص۵۸،۵۹ملخصاًوغیرہ
[24] … حیات محدث اعظم ،ص۴۹ملخصاًوغیرہ
[25] … حیات محدث اعظم، ص۱۵۳وغیرہ
[26] … حیات محدث اعظم، ص۶۱ملخصاً
[27] … رواہ طبرانی عن ابن عمربحوالہ جامع صغیر للسیوطی ، مطبوعہ مصر جلد ۱، ص۲۱۰
[28] … تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان ، ۲/۳۴۱،ملخصاً
[29] … تذکرہ محدّثِ اعظم پاکستان ، ۲ / ۳۷۵،ملخصاً
[30] … حیات محدث اعظم، ص۱۶۱ملخصاً
[31] … حیات محدث اعظم ،ص۱۶۳ملخصاًوغیرہ
[32] … تذکرہ امیر اہلسنت،قسط ۴،ص۳۴ تا ۳۵
[33] … حیات محدث اعظم ،ص ۱۹۷ملخصاًوغیرہ
[34] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲/۲۸۲ تا ۲۸۳ملخصاًوغیرہ
[35] … وسائل بخشش، ص۱۳۸
[36] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان،۱/۲۷۳تا۲۷۴ملخصاًوغیرہ
[37] … حیات ِ محدث ِ اعظم ،ص۱۶۰
[38] … فکرِ مدینہ ،ص ۹۶بتغیر
[39] … حیات محدث اعظم، ص۱۵۶ملخصاًوغیرہ
[40] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان ،۲/۲۸۳ملخصاً
[41] … تَعلِیمُ الْمُتعلّم ،ص١١٤
[42] … حیات محدث اعظم ،ص۸۸ملخصاً
[43] … حیات محدث اعظم ،ص۸۶ملخصاً
[44] … حیات محدث اعظم، ص۱۴۲ملخصاً
[45] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان،۲/ ۲۷۰ملخصاً
[46] … حیات محدث اعظم، ص۵۴ملخصاً
[47] … حیات محدث اعظم، ص۵۳ملخصاً
[48] … حیات محدث اعظم ،ص ۵۳ملخصاً
[49] … سنن ابن ماجہ ، کتاب السنة ،۱/۱۴۵، الحدیث:۲۲۳
[50] … حیات محدّث اعظم،ص۱۸۴،ملخصاًوغیرہ
[51] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان،۲/ ۲۷۱ملخصاً
[52] … حیات محدث اعظم، ص۵۱ملخصاً
[53] … اتحاف السادۃ المتقین ،۹/۷۷۹
[54] … حیات محدث اعظم ،ص ۲۲۸
[55] … حیات محدث اعظم، ص۱۲۱ملخصاً
[56] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان ،۲/ ۶۰،ملخصاً
[57] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲/ ۴۴۰ تا ۴۴۷ ملخصاً
[58] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲/ ۳۲۳ بتغیر
[59] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲/ ۴۳۸
[60] … حیات محدث اعظم، ص۸۵،۱۲۵ملتقطاً
[61] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲/ ۴۳۸
[62] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان،۲/ ۴۳۸ تا ۴۳۹ملتقطاً
[63] … حیات محدّث اعظم،ص۱۶۹بتغیر
[64] … حیات محدث اعظم، ص۵۷ملخصاً
[65] … سیرت صدر الشریعہ ،ص ۲۰۴ملخصاً
[66] … تذکرہ جمیل حجۃ الاسلام شاہ حامد رضا ،ص۲۵۴ تا ۲۵۵ملتقطاًوغیرہ
[67] … حیات محدث اعظم، ص ۳۷۹ملخصاً
[68] … حیات محدث اعظم ،ص ۳۷۸
[69] … فیضان سنت، باب آداب طعام ،۱/۳۹۹
[70] … حیات محدث اعظم، ص ۱۹۲
[71] … حیات حافظ ملت، ص۸۲۵
[72] … حیات محدث اعظم، ص ۳۸۷بتغیر
[73] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان،۲/ ۳۷۴ملتقطاً
[74] … حیات محدث اعظم، ص۳۳۳ تا ۳۴۲ ملخصاً
[75] … تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲/ ۵۲۳بتغیر