اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

اسلاف کا اندازِ تجارت ([1])

دُرود شریف کی فضیلت

رسولِ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے: جس نے دن اوررات میں میری طرف شوق ومحبت کی وجہ سے تین تین مرتبہ درودِ پاک پڑھااللہ عَزَّوَجَلَّ پرحق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اور رات کے گُناہ بخش دے۔([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دورِ اسلاف اور طرزِ تجارت

منقول ہے کہ ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جو ’’واسط‘‘([3])کے مقام پر


 

 تھے انہوں نے گندم سے بھری ایک کشتی بصرہ([4])شہرکی طرف بھیجی اور اپنے وکیل کو لکھا:جس دن یہ کھانا بصرہ پہنچے اُسی دن اسے بیچ دینا،اگلے دن تک تاخیر نہ کرنا۔چونکہ وہاں بھاؤ (Rate)بڑھنے کے امکانات تھے تو تاجروں نے وکیل کو مشورہ دیاکہ اگر  اسے جمعہ کے دن تک مُؤخَّر کر لو تو دُ گنا نفع ہو گا۔چنانچہ اس  نے جمعہ تک وہ گندم فروخت نہ کی جس کی وجہ سے اسے کئی گُنا فائدہ ہوگیا۔جب وکیل نے خوشی خوشی یہ واقعہ مالک کو لکھ کر بھیجا تو انہوں نےاسے جواب لکھا:اے شخص!ہم اپنے دین کی سلامتی کے ساتھ تھوڑے نفع پر ہی قناعت کر لیا کرتے ہیں مگرتم نے اس کے برخِلاف کِیا۔ ہمیں یہ پسند نہیں کہ اس میں کئی گُنا(دُنیوی)نفع ہو اور اس کے بدلے ہمیں دینی و اُخروی  نُقصان پہنچے۔لہٰذا جیسے ہی تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو فوراً وہ تمام مال بصرہ کے فقرا پر صدقہ کر دینا۔ شاید ایسا کرنے سے میں ذخیرہ اندوزی کے گُناہ سے برابر برابر نَجات پا سکوں یعنی  نہ تو میرا (اُخروی)نقصان ہو اور نہ ہی (دُنیوی) فائدہ۔([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حکایت پاکیزہ تجارت اور اسلامی مَعاشی اَقْدار کی جو خوبصورت تصویرپیش کر رہی ہےاس  سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے اسلاف کا اندازِ تجارت اور طرزِ معیشت کس قدر اعلیٰ تھا۔اسلامی تاریخ کے صفحات ایسے باکردار لوگوں کے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں جو نہ


 

 صرف اپنے ذاتی مُعاملات بلکہ تجارتی مصروفیات میں بھی صدق و امانت، عدل و انصاف تقویٰ و احسان، ایثار و بھلائی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کو اپناتے ہوئے اسلام کے مَعاشی اصولوں پر کاربند رہے شاید اسی وجہ سے ان کے دور کی مَعاشی خوشحالی اپنی مثال آپ تھی،مگر افسوس!جیسے جیسے ان خوبیوں کی جگہ ظلم و جبر،فسق و فجور، ناانصافی،دروغ گوئی(جھوٹ)،فریب دہی (دھوکا)،مَفادپرستی،سُود خوری اور بدخواہی جیسی بُرائیاں مُسلمانوں کے کردار میں پیدا ہوتی گئیں ان کی مَعِیْشت دن بدن زوال پذیر ہوتی گئی اور بالآخر تباہی کے اندھے کنویں میں جاپڑی۔اگر آج بھی ہم قرآن و حدیث میں بیان کردہ حُصُولِ رزق کے مدنی پھولوں پر عمل کریں اور کسب وتجارت کے مُعاملے میں اپنے اسلاف کا طرزِعمل اختیار کریں تو اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ پورے مُعاشرے میں ایک شاندار خوشحالی لا سکتے ہیں اور مَعِیْشت کو ایک بار پھر عروج و اِسْتِحکام  نصیب ہوسکتا ہے۔

مَعِیْشت کا آغاز

صَدْرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی مقصدِ کسب و تجارت اور آغازِ مَعِیْشت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ انسانی ضروریات اتنی زائد اور اُن کی تَحْصِیل (حاصل کرنے)میں اتنی دُشواریاں ہیں کہ ہر شخص اگر اپنی تمام ضروریات کا تنہا متکفل(ذِمّے دار )ہونا چاہے غالباً عاجز ہو کر بیٹھ رہے گااور اپنی زندگی کے ایّام خوبی کے ساتھ گُزار نہ سکے گا، لہٰذا اُس حکیمِ


 مُطْلق(عَزَّوَجَلَّ) نے انسانی جماعت کو مختلف شعبوں اور مُتَعدّد قسموں پرمنقسم(تقسیم) فرمایا کہ ہر ایک جماعت ایک ایک کام انجام دے اور سب کے مَجْمُوعہ سے ضروریات پوری ہوں۔مثلاً کوئی کھیتی کرتا ہے کوئی کپڑا بُنْتا ہے،کوئی دوسری دستکاری کرتا ہے، جس طرح کھیتی کرنے والوں کو کپڑے کی ضرورت ہے، کپڑا بُننے والوں کو غلّہ کی حاجت ہے، نہ یہ اُس سے مستغنی (بے پروا)نہ وہ اس سے بے نیاز، بلکہ ہر ایک کو دوسرے کی طرف احتیاج(ضرورت)،لہٰذا یہ ضرورت پیدا ہوئی کہ اِس کی چیز اُس کے پاس جائے اور اُس کی اِس کے پاس آئے تاکہ سب کی حاجتیں پوری ہوں اور کاموں میں دُشواریاں نہ ہوں۔یہاں سے مُعاملات کا سلسلہ شروع ہوا ،بیع (خرید و فروخت)وغیرہ ہر قسم کے مُعاملات وجود میں آئے۔

اسلام چونکہ مکمل دین ہے اور انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر اس کا حکم نافذ ہے، جہاں عبادات کے طریقے بتاتا ہے مُعاملات کے مُتَعَلِّق بھی پوری روشنی ڈالتا ہے تاکہ زندگی کا کوئی شعبہ تشنہ (ادھورا)باقی  نہ رہے اور مُسلمان کسی عمل میں اسلام کےسوا دوسرے کا محتاج نہ رہے۔ جس طرح عبادات میں بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز اسی طرح تَحْصِیلِ مال کی بھی بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز اور حلال روزی کی تَحْصِیل اس پر موقوف کہ جائز و ناجائز کو پہچانے اور جائز طریقے پر عمل کرے ناجائز سے دوربھاگے۔([6])چنانچہاللہ عَزَّوَجَلَّ   کا ارشاد پاک ہے:


 

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ-(پ۵،النساء:۲۹)

 ترجَمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤمگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو۔

طلبِ حلال ایک فریضہ ہے

یاد رکھئے!کسب و تجارت کے ذریعے اپنے ماں باپ،بہن بھائی اور بیوی بچوں وغیرہ کے لئے رزقِ حلال کا حُصُول اور اس کی طلب صرف انسانی ضرورت ہی نہیں بلکہ اہم ترین فریضہ بھی ہے۔نبیِ رحمت،شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ حقیقت بُنیاد ہے: طَلَبُ کَسْبِ الۡحلَالِ فَرِيۡضَةٌ بَعۡدَ الۡفَرِيۡضَة یعنی حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔([7]) قرآنِ پاک  میں جابجا رزقِ حلال حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اپنے فضل سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی تلاش و جستجو جاری رکھنے کی ترغیب اور اس کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے آئیے اس ضمن میں پانچ فرامینِ خداوندی مُلاحظہ کیجئے۔

کسب کی ترغیب پر مشتمل 5فرامینِ خداوندی

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ ۳۰، النبا:۱۱)            ترجَمۂ کنز الایمان:اور دن کو روزگار کے لئے بنایا۔


 

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠(۱۰) (پ ۸، الاعراف:۱۰) ترجَمۂ کنز الایمان: اور بے شک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ دیا اور تمہارے لئے اسمیں زندگی کے اسباب بنائے، بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ- (پ۲، البقرة:۱۹۸)

ترجَمۂ کنز الایمان:تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو۔

وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ- (پ۲۹، المزمل:۲۰)

ترجَمۂ کنز الایمان:اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے۔

فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (پ۲۸،الجمعة:۱۰)

ترجَمۂ کنز الایمان:تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

جستجوئے روزگار کی عظمت

حضرتِ سَیِّدُنا  کَعْب بن عُجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ سرورِ عالم نورِ مجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ایک روزصحا بۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔اتنے میں ایک نوجوان قریب سے گُزرا۔صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے ایک طاقتور اور مضبوط جسم والےنوجوان کو دیکھا تو  کہا: کاش!اس کی جوانی اور طاقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں خرچ ہوتی۔اِس پررحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اگر یہ شخص اپنے چھوٹے بچوں کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ہی  کی راہ میں ہے اور اگر یہ شخص اپنے بوڑھے والدین کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا


ہے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی  کی راہ میں ہے اور اگر یہ شخص اپنے بوڑھے والدین کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی راہ میں ہے اور اگر یہ خود کو (لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا حرام کھانےسے)بچانے کے لئے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے البتہ اگر یہ دکھاوے اور تفاخُر ( فخر)کے لئے نکلا ہے تو یہ شیطان کی راہ میں ہے۔([8])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ اپنے والدین کی خدمت اور اولاد کی کفالت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے کی کس قدر اہمیت ہے کہ رسولِ کریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں شمار فرمایا۔ یادرکھئے !سچائی،انصاف اور دیانتداری کے ساتھ حلال و حرام کا لحاظ رکھتے ہوئے تجارت،  مُلازمت، یامحنت مزدوری کرنے والےنہ صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ  کو محبوب ہیں بلکہ ایسوں کا حشر بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّاچھوں کے ساتھ ہوگا نیز ان کی مغفرت کردی جائے گی اور کل بروزِ قیامت ان کے چہروں کی تابانی چودھویں کے چاند کی مانند ہوگی۔ آئیے !حرفت وتجارت اور کام کاج کی فضیلت پر مشتمل 4فرامینِ مُصطفٰے مُلاحظہ کیجئے۔

کسب کی فضیلت پر مشتمل 4فرامینِ مُصطفٰے

1.    اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاء یعنی سچا امانت دار


 

تاجرانبیاء،صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔([9])

2.    اِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّپیشہ ور( کام کاج کرنے والے ) مومن کو پسند فرماتا ہے۔([10])

3.    مَنْ اَمْسٰی کَالًّا مِنْ عَمَلِ یَدَیْهِ اَمْسٰی مَغْفُوْرًا لَه  یعنی جو اپنے ہاتھ کے کام سے تھک کر شام کرتاہے وہ مغفرت یافتہ ہوکر شام کرتاہے۔([11])

4.    مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اِسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْئَلَةِ وَسَعْيًا عَلٰی اَھْلِهٖ وَتَعَطُّفًا عَلٰی جَارِهٖ لَقِیَ اللهَ وَ وَجْهُهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ یعنی جس نے خود کو سوال سے بچانے ،اپنے اہلِ خانہ کے لئے بھاگ دوڑ کرنے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لئے حلال طریقے سےدُنیا طلب کی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔([12])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے پیشے

کسبِ حلال نہ صرف ایک باعثِ فضیلت عمل ہے بلکہ کئی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ


السَّلَام کے علاوہ نبیوں کے سُلطان رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بھی پیاری پیاری سنت ہےلہٰذا اسے سنت سمجھ کر اختیار کرنا چاہئے۔انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے کسب کے لئے مختلف پیشے اپنائے۔چنانچہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اولاً کپڑا سازی کا کام کِیا کرتے تھے پھرکھیتی باڑی کرنے لگے۔حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام لکڑی کا پیشہ،حضرت اِدْرِیْس عَلَیْہِ السَّلَام درزی گری، حضرت ہُود و صالح عَلَیْہِمَاالسَّلَام تجارت،حضرت اِبراہیم و لُوط عَلَیْہِمَا السَّلَام کھیتی باڑی اور حضرت شُعَیْب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے تھے۔اسی طرح  حضرت مُوسیٰ کَلِیۡمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بکریاں چراتے،حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام  زِرَہ(جنگ میں استعمال ہونےوالا فولاد کا جالی دار کرتا) بناتے،حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام پوری دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود پنکھے اور زنبیلیں بنایا کرتے تھےاورہمارے پیارےآقا سیِّدُ الانبیاء احمدِ مُجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تجارت کواپنی ذات ِ بابرکت سے شرف بخشاہے۔([13])

بیان کردہ تفصیل سے  معلوم ہوا کہ رزقِ حلال کے حصول کیلئے انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  نے بھی صنعت و تجارت  کو اختیار کیا،اس بات میں تو کسی شک و شبہے کی گُنجائش نہیں کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہر قسم کی برائیوں اور گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ،اگر کسب و تجارت میں برائیوں کا اِرْتکاب ضروری ہوتا یا اس میں بذاتِ خود کوئی خرابی ہوتی تو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہرگز ہرگز اسے اختیارنہ فرماتے ،


 

 حقیقت یہ ہے کہ خرابیاں اور بدعنوانیاں کاروبار میں نہیں بلکہ خود ہمارے کردار میں موجود ہیں جن کے سدِّباب (روک تھام)کے لئے شریعتِ مطہرہ نے جائز و ناجائز اور حلال وحرام کے پیمانے مقرر کردیئے تاکہ کوئی مُسلمان ظلم کا شکار نہ ہو اور نہ ہی کسی کی حق تلفی ہو لہٰذا جو لوگ ان احکامات پر عمل پیرا ہوئے  وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے ، اور جنہوں نے ان احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حرام و حلال کی تمیز نہ کی اور خواہشِ نفس پر چلے وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر (ناکام)ہوئے۔ آیئے حدیث پاک کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں تجارت کے کیا ضابطے ہیں اورایک تاجر کو کیسا ہونا چاہئے۔

تاجر کو کیسا ہونا چاہئے؟

حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دوجہاں کے تاجور سلطانِ بحر و بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بےشک سب سے پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی ہے جوبات کریں تو جھوٹ نہ بولیں،جب ان کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کریں،جب وعدہ کریں تو اس کی خلاف ورزی نہ کریں، جب کوئی چیز خریدیں تو اس میں عیب نہ نکالیں، جب کچھ بیچیں تو اس کی بیجا تعریف نہ کریں،جب ان پر کسی کا کچھ آتا ہو تو اس کی ادائیگی میں سُستی نہ کریں اور جب ان کا کسی اورپرآتا ہوتو اس کی وُصولی کے لئے سختی نہ کریں ۔([14])


 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیث مبارکہ میں تجارتی اصولوں پر مشتمل جو مدنی پھول بیان کئے گئے ہیں درحقیقت یہ مدنی پھول رزق میں برکت اور مُلک و قوم کی ترقّیِ معیشت کے ضامن ہیں۔صحابہ ٔ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اسلاف و بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے عملی زندگی کے ہرمیدان میں ان خوبیوں کو اپنے کردار کا حصہ بنا رکھا تھا۔ان مُبارک ہستیوں کی نظر میں معاشی خوشحالی کا مفہوم ہرگزہرگز یہ نہ تھاکہ مُلک و قوم کو خواہ کتنا ہی خسارہ ہوجائے ،مُسلمان بھائی کتنا ہی مالی بدحالی کا شکار ہوجائے مگر میرے مالی حالات بہتر ہونے چاہئیں،میری ذاتی ملکیت ودولت میں اضافہ ہونا چاہئے۔جائز و ناجائز کسی بھی طریقے سے دوسرے مُسلمانوں کو کنگال کرکے ان کے مال  کو اپنی جائداد کا سنگِ بنیاد قرار دینا ان کے دل نے کبھی گوارا نہ کیاکیونکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ آج کے بعض تاجروں (Business men) کی طرح ’’پیسہ ہو چاہے جیسا ہو ‘‘کے قائل نہ تھے بلکہ وہ تو اپنے مُسلمان بھائیوں کے حقیقی خیر خواہ ہوا کرتے تھے اور ان کے نُقصان  کو اپنا نُقصان سمجھا کرتے تھےلہٰذا ہمیں بھی اسلاف کے طرزِ عمل اور پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے فرامین کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے اندر تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا جذبہ بیدار کرنا چاہئے۔

دین خیر خواہی کا نام ہے

حضرت تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ


 

واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی ہے  ہم نے عرض کی کہ کس کی؟ فرمایا:اللہ کی، اس کی کتاب کی، اور اس کے رسول کی اور مسلمانوں کے اماموں کی اور عوام کی۔([15])

حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر بن عبدُ الله رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نبیِ مکرَّم ، رسولِ مُحتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کرچکا ہوں۔([16])

بے مثال خیر خواہی

حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر بن عبدُ الله رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ اپنے غلام کو حکم دیا کہ ایک گھوڑا خرید لاؤ،اس غلام نے تین سو درہم میں ایک گھوڑا خریدا اور گھوڑے کے مالک کو ساتھ لے آیا۔تاکہ حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے رقم ادا کریں، جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ گھوڑا دیکھا تو اس کے مالک سے کہا کہ تمہارا گھوڑا توتین سو درہم سے زیادہ مالیت کا ہے کیا تم اسے چار سو درہم میں بیچو گے؟ مالک نے کہا اے ابو عبدُ الله ( یہ حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ہے) جیسے آپ کی مرضی پھر حضرت سَیِّدُنا جریر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا یہ چار سو درہم سے بھی زیادہ مالیت کا ہے ، کیا تم اسے پانچ سو درہم میں بیچو گے؟ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی طرح سو سو دِرہم کا اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی


عَنْہُ نے وہ گھوڑا آٹھ سو درہم میں خریدا، جب حضرت سَیِّدُنا جریر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس بارے میں پوچھا گیا ،تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بیعت کی ہے۔([17])

دیانتداری کی اعلٰی مثال

مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا یونس بن عُبَیْد بَصْری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِ الْقَوِی کے پاس مختلف اقسام اور مختلف قیمتوں کے حُلّے(چادریں،جبے)تھے۔ ان میں سے ایک قسم ایسی تھی کہ ہر حُلّے کی قیمت 400درہم تھی اور ایک قسم ایسی تھی کہ ہر حُلّہ 200 درہم کا تھا۔نمازکا وقت ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھتیجے کو دکان پرچھوڑ کر خود نماز کے لئے تشریف لے گئے۔اسی اثنا میں ایک اَعرابی(دیہاتی)آیا اور اس نے 400 درہم  کا حُلّہ طلب کیا،بھتیجے نے اس کے سامنے200درہم والا حُلّہ پیش کیا، اسے وہ اچھا لگا اور اس نے400درہم پر راضی ہو کر اسے خرید لیا۔اَعرابی حُلّہ ہاتھ میں لئے واپس جا رہا تھا کہ حضرت سیِّدُنا یونس بن عُبَیْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس کا سامنا ہو گیا۔انہوں نے اپنے حُلّے کو پہچان کر اُس سے پوچھا:یہ حُلّہ کتنے میں خریدا ہے؟اس نے جواب دیا:400درہم میں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ200درہم سے زیادہ کا نہیں ہے،تم جاکر اسے واپس کر دو۔ اس نے کہا:ہمارے شہر میں یہ حُلّہ500 درہم کا ہے نیز مجھے یہ پسند بھی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے فرمایا:واپس پلٹ


 

جاؤ کہ دین میں خیر خواہی دنیا و مافیہا(یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس)سے بہتر ہے۔ چنانچہ آپ اسے واپس دکان پر لائے اور 200درہم واپس کر دئیے۔پھر اپنے بھتیجے کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا:تمہیں شرم نہیں آئی!کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتے کہ چیز  کی قیمت کے برابر نفع لیتے ہواورمسلمان کی  خیر خواہی کو ترک کرتے ہو؟بھتیجے نے جواب دیا:میں نے اس کے راضی ہونے پر ہی اتنا زیادہ نفع لیا تھا۔آپ نے فرمایا: کیا تم نے اس کے حق میں وہی پسند کیا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو؟ ([18])

لمحۂ فکریہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ حکایت خیر خواہی اور احسان کی ایک عظیم مثال پیش کر رہی ہے ۔ اے کاش کہ معیشت کا رونا رونے والے لوگ پیارے آقا مدینے والے مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے اس ارشاد کو پڑھ کر اس پر عمل کرلیں تو یہ معیشت کا بحران ختم ہوجائے کہ محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ یعنی تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔([19]) بھلا وہ کون سا شخص ہے جواپنے لئے یہ پسند کرے گا کہ مجھے ملاوٹ والا مال ملے، مجھے دھوکہ دے کر  یا جھوٹ بول


 

کر مال دیا جائے،مجھ سے  سُود لیا جائے ،مجھ سے رشوت لی جائے، میرے بھولے پن کا فائدہ اُٹھا کر میری جیب خالی کردی جائے؟ یقیناً  کوئی شخص اپنے لئے یہ باتیں پسند نہیں کرتا تو پھر اپنے مُسلمان بھائیوں کے لئے ایسا کیوں سوچا جاتا ہے؟ بیان کردہ حکایت میں حضرت سیِّدُنا یونس بن عُبَیْد بَصْری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِ الْقَوِی نے اپنے بھتیجے کی کوتاہی پر فوراً اسے سرزنش کی کہ تجھے شرم نہیں آتی ؟تجھے اللہ کا خوف نہیں کہ اتنا زیادہ نفع لے رہا ہے۔یقیناً یہ تربیت کا ایک بہترین انداز تھاتاکہ وہ بچہ آئندہ اس قسم کی حرکتوں سے باز رہے مگر افسوس ! ہماری اَخلاقی حالت تو اس قدر گر چکی ہے کہ اگر ہمارا بچہ جھوٹ بول کر یادھوکہ دے کر کسی کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائے توہم اسے ایک شاندار کارنامہ سمجھتے ہیں،اس پر بچے کو شاباشی دیتے ہیں،اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور دادِ تحسین دیتے ہوئے اس قسم کے جملے کہتے ہیں کہ بیٹا اب تم بھی سیکھ گئے ہو،تمہیں کاروبار کرنا آگیا ہے،تم سمجھدار ہوگئے ہو وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ایسے موقعے پر تو ہمیں اپنے بچے کی تربیت کرنی چاہئے کہ بیٹا جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر کاروبار نہیں کرنا چاہئے ورنہ اس کے وبال سے ہمارے کاروبار ومال میں زوال آجائے گا اور ہم تباہ و برباد ہوجائیں گے۔

بہت بڑی خیانت

یاد رکھئے! تجارت ہو یا دیگرمعاملات، کسی کو دھوکہ دینا یا جھوٹ بولنا انتہائی سخت جرم اور بہت بڑی خیانت ہے ۔ چنانچہ


 

حضرتِ سَیِّدُنا سفیان بن اَسِیْد حضرمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو یہ فرماتے ہوئےسنا کہ بڑی خیانت کی بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں سچا جان رہا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔([20])

ایک اور حدیثِ پاک میں ہے:سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق وفجور (گُناہ)ہے اور فسق وفجور دوزخ میں لے جاتا ہے۔([21])

اَللہُ اَکْبَر جب مطلقاً جھوٹ بولنا بھی گُناہ ہے تو پھر کسی مسلمان بھائی کے ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اسے لُوٹ لینا کس قدر شدید ہوگا۔صد افسوس کہ آج کل کثرت سے جھوٹ بولنے کو کمال اورترقی کی علامت جبکہ سچ کو بے وقوفی اور ترقی میں رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کئی لوگ اپنا مال بیچنے کے لئے جھوٹی قسم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اپنے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو رزق نصیب میں لکھا ہے وہی ملے گا۔نہ تو سچ بولنے سے آپ کے حصے کے رزق میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی جھوٹ بول کر آپ اپنے حصے سے زیادہ رزق حاصل کر سکتے ہیں البتہ جھوٹ بولنا بہت بڑی بے برکتی اور معاشی تباہی کا سبب ثابت ہو سکتاہے۔

سَیِّد المرسلین،جنابِ صادق و امین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ حقیقت


 

 بُنیاد ہے: جھوٹی قسم سامان تو بکوادیتی ہے لیکن برکت مٹا دیتی ہے۔([22])

معلوم ہوا کہ جھوٹا شخص چاہے کتنی ہی کامیابیاں سمیٹ لےمگر آخرِ کار جھوٹ کا وبال اسے پہنچے گا،بالفرض  دنیا میں نہ بھی سہی مگرآخرت کا خسارہ تو ضرور ہے  اور یقیناًخسارۂ آخرت سے  بڑھ کر انسان کے لئے کوئی مصیبت نہیں۔ لہٰذا کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی والا معاملہ کریں اور رزق کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات پر بھروسہ  کرنے کو اپنا شیوہ بنالیں ۔ آج کل تجارتی معاملات میں جگہ جگہ جھوٹ اور دھوکہ دہی اسی وجہ سے عام ہوچکی ہے کہ لوگوں نے رازقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّپر توکّل اور بھروسہ کرنا چھوڑ دیا  ہے۔ آیئے ! اُس پاک ذات پر توکّل کا ذہن بنایئے جس نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمّۂکرم پر لے رکھا ہے ۔

رزق کا ضامن کون؟

دنیا میں بسنے والے تمام جاندار،خواہ  ترقی یافتہ شہری ہوں یا کسی گاؤں کے دیہاتی، گھنے جنگلات میں رہنے والے حیوانات ہوں یا بلند وبالا درختوں کی چوٹی پر بنے نشیمن میں آباد پرندے، سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا پتھر وں کے پیٹ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتقدیس کرنے والے کیڑے ، ہرایک کا رزق خدائے خالق و رازِق عَزَّوَجَلَّنے اپنے ذمّے لے رکھا ہے۔چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:


 

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (پ۱۲،ھود:۶)

ترجَمۂ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمّۂ کرم پر نہ ہو

 جب خود اللہ ربُّ العالمین جَلَّ جَلَالُہ ہرجاندار کے رزق کا کفیل ہے تو ہمیں چاہئے کہ اسی کی ذات پر توکّل کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو معاشی نقصان پہنچانے کے بجائے جائز اور حلال طریقے سے رزق طلب کریں۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّجو نصیب میں ہے وہ ضرور ملے گا۔دو عالَم کے مالِک و مختار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : بے شک رزق بندے کو تلاش کرتا ہے جیسے اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے۔([23])

ارشادِ باری تعالٰی ہے :

وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖؕ-قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا(۳) (پ ۲۸، الطلاق-۳)

 ترجَمۂ کنز الایمان:اور جو اللّٰہ سے ڈرے اللّٰہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور  اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشکاللّٰہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بیشک اللّٰہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔

یادرکھئے!وُسعتِ رزق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا میں ہی پوشیدہ ہے،جب ہمارے


 

معاشرے کا ہرفرداللہ عَزَّ  وَجَلَّ پربھروسہ کرے گااور ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ رحمتِ الٰہی  کا طالب ہوگا نیز اپنے دل میں تقویٰ وپرہیزگاری کا پودا لگائےگا تو اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں خوشحالی  کا راج ہوگا۔

تجارت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا معمول 

اگر ہم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت پر نظر ڈالیں تو ہرطرف تقویٰ وپرہیزگاری اور طلبِ رضائے الٰہی  کی بہاریں نظر آتی ہیں۔وہ مقبولانِ خدا تجارت تو کرتے مگر کبھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تھے ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تجارت تو کرتے تھے مگر جب انہیں حُقُوقُ اللہ میں سے کوئی حق پیش آجاتا تو تجارت اور خریدو فروخت انہیں ذکرُ اللہ سے نہ روکتی،یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرلیتے۔([24]) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسی طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے  اللہ عَزَّوَجَلَّ   اپنے پاک کلام قرآن مجید فُرقان حمید میں  ارشاد فرماتا ہے:

رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ ﭪ- (پ۱۸، النور:۳۷)

 ترجَمۂ کنز الایمان:وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ كی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے۔

حضرت ابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھاکہ بازار والوں نے اذان سنتے


 

ہی اپنا (تجارتی )سامان چھوڑا اور نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایاکہ اِنہی لوگوں کے حق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آیت ”رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ “نازل فرمائی ہے۔([25])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام کا اولین دور کتنا خوبصورت اور روشن تھا کہ جب  مسلمان تقویٰ وپرہیزگاری کے پیکر ہوا کرتے تھے،وہ  حضرات کسبِ حلال کیلئے تجارت تو کرتے تھے مگر بددیانتی ، جھوٹ اور فریب وغيره سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے۔آئیے!ترغیب کے لئےاسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سچی اور پاکیزہ تجارت کے دو ایمان افروز واقعات مُلاحظہ کیجئے۔

(1)عیب دار چیز بِکنے پر ردِّ عمل

کروڑوں حنفیوں کے پیشوا حضرت سَیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حصولِ رزقِ حلال کے لئے تجارت کا پیشہ اپنایا تھا ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے مگر اس کے باوجودآپ کی تجارت احسان، خیر خواہی اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں پر مشتمل تھی ۔چنانچہ حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور مجھے مالِ تجارت بھیجتے ہوئے فرمایاکرتے:اے حفص! فلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب تم اسے فروخت کروتو عیب بیان کر دینا۔ حضرت


 

 سیِّدُناحفص نے ایک مرتبہ مالِ تجارت فروخت کیااور بیچتے ہوئے عیب بتانابھول گئے۔ جب امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو علم ہوا تو آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کر دی ۔([26])

(2)دیانتدار تاجر

حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بھی تجارت کیا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا اور آپ اپنے اس عہدپر سختی سے عمل بھی کِیاکرتےتھے۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بازار تشریف لے گئےاور60دینار کے بدلے96صاع بادام خریدے پھر انہیں بیچنے لگے اور ان کی قیمت 63دینار رکھی، تھوڑی دیرکے بعد آپ کے پاس ایک تاجر آیا اورکہنے لگا:میں یہ سارے بادام آپ سے خریدنا چاہتا ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خرید لو۔ اس نے پوچھا: کتنے دینار لیں گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:63دینار۔اس تا جر نے کہا:حضور!باداموں کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور اب 96 صاع باداموں کی قیمت 90دینا ر تک پہنچ چکی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مجھے 90دینار میں یہ بادام فروخت کردیں۔حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا لہٰذا میں اپنے وعدہ کے مطابق تمہیں یہ با دام بخوشی 63دینار میں فروخت


کرتا ہوں، اگر چاہو تو خرید لو، میں اس سے زیادہ رقم ہر گز نہیں لوں گا۔ وہ تاجر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا نیک بندہ تھااوراپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کاخواہاں تھا ۔دھوکے سے ان کا مال لینے والا یا بددیانت تا جر نہ تھا۔جب اس نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی یہ بات سنی تو کہنے لگا : میں نے بھی اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کبھی بھی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بد دیانتی نہیں کروں گا اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کا نقصان پسند کروں گا۔ اگر تم بادام 90 دینار میں بیچو تو میں خریدلوں گا ،اس سے کم قیمت میں کبھی بھی یہ بادام نہیں خریدوں گا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بھی اپنی بات پر قائم رہے اور فرمایا: میں 63دینار سے زیادہ میں فروخت نہیں کرو ں گا ۔چنانچہ نہ تو اس امانت دارتاجر نے یہ بات گوارا کی کہ مَیں کم قیمت میں خریدو ں او رنہ ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تین دینار سے زیادہ نفع لینے پرراضی ہوئے بالآخر ان کاسودا نہ بن سکا اور تا جر وہاں سے چلا گیا ۔([27])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام حُصُولِ مال کی خواہش کے بجائےلقمۂ حرام سے بچنے کی فکرکیا کرتے تھےیہی وجہ ہے کہ امام اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم نے فروخت کردہ کپڑوں کی حاصل شدہ رقم اپنے پاس رکھنا گوارا نہ کی مگر افسوس! بدقسمتی سے فی زمانہ اکثر لوگوں کو کثرتِ مال ہی کی فکر دامن گیر رہتی ہے حالانکہ دنیا میں جس کے پاس


 جتنا زیادہ مال ہوگا آخرت میں اسے اتنا ہی زیادہ حساب بھی دینا ہوگا۔

ذرے ذرے کا حساب

حضورِ پاک،صاحب ِلولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ قیامت کے دن مالِ حلال جمع کرنے والے اور اسے حلال جگہ خرچ کرنے والے ایک شخص کو لایاجائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ حساب کے لئے کھڑے رہو۔پھر اس سے ہر دانے ،ذرے اور ہر ہر دانق (درہم کے چھٹے حصے)کا حساب لیاجائے گا کہ اس نے اسے کہا ں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا۔پھر فرمایا: اے ابنِ آدم ! تو ایسی دنیا کا کیا کرے گا جس کے حلال کا حساب دینا پڑے گا اور حرام کی سزا بھگتنا پڑے گی۔([28])

سب سے مالدار صحابی کے حسابِ قیامت کا احوال

شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب فیضانِ سنت کے باب نیکی کی دعوت کے صفحہ 353پر ارشاد فرماتے ہیں:عَشَرَۂ  مُبشَّرہ کے روشن ستارے حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   جو کہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں سب سے زیادہ مالدار تھے،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا سارا ہی مال یقینی طور پر حَلال تھا اورکثر تِ مال غفلت شعاری کے بجائے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے لیے خشیتِ الٰہی کا سبب بن گئی تھی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حسابِ قیامت کی حِکایت بھی


 

 سراپا عبرت ہے،ملاحظہ فرمایئے چُنانچِہ

ایک بار سرکار عالی وقارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے پاس تشریف لا کر فرمایا:اے اصحابِ محمد! آج رات اللہ تعالٰی نے جنَّت میں تمہارے مکان اور منزلیں نیز میرے مکان سے کس کا کتنا دُور مکان ہے سب مجھے دکھائے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے جلیل القدر اصحابِ کرام کی منزلیں فردًا فردًا بیان کرنے کے بعد حضرتِ عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا:اے عبدالرحمٰن(میں نے دیکھا)کہ تم مجھ سے بَہُت دُور ہوگئے یہاں تک کہ مجھے تمہاری ہلاکت کا خَدشہ ہونے لگا پھر کچھ دیر بعد تم پسینے میں شَرابور مجھ تک پہنچے تو میرے پوچھنے پر تم نے بتایا: مجھے حساب کے لیے روک لینے کے بعد مجھ سے پوچھ گچھ شُروع ہوگئی کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟راوی کہتے ہیں،حضرتِ عبدالرحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سُن کر رو پڑے اور عرض کی:یہ سو اُونٹ جو آج ہی رات مِصر سے مالِ تجارت سَمیت آئے ہیں،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گواہ بنا کرانہیں مدینۂ پاک کے غریبوں اوریتیموں پر صَدَقہ کرتا ہوں۔([29])

حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  کی خدمت میں عرض کی:مجھے اندیشہ ہے کہ کثرت ِ مال کہیں (آخرت میں)مجھے ہلاکت میں نہ ڈال دے ! انہوں نے فرمایا:اپنا مال


 

  راہ ِخدامیں خرچ کرتے رہا کرو۔([30])

مالداروں کیلئے لمحۂ فکریہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینی قَطعی حلال مال رکھنے والے اپنا مالِ حلال دونوں ہاتھوں سے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں لٹانے والے کے حسابِ قیامت کی اس لرزہ خیز حکایت پر نظر رکھتے ہوئے مال داروں کو غور کرنا اور قِیامت کے ہو شرُبا اَھوال(یعنی دہشتوں اور گھبراہٹوں)سے ڈرنا چاہئے اور جو لوگ محض دُنیوی حرص کے سبب مال اِکٹھا کئے جاتے،اس کیلئے در بدر بھٹکتے پھرتے اور مال بڑھانے کے نظام کو بہتر سے بہترین بناتے چلے جاتے ہیں اُنہیں اپنی اس رَوِش پر نظرِ ثانی کر لینی چاہئے اور جو صورت دنیا و آخرت دونوں کیلئے بہترہو وہ اختیار کرنی چاہئے۔

مال و دولت کے متعلق اچھی اچھی نیتیں

حلال مال جمع کرنا فی نفسہٖ مُباح ہے(یعنی نہ اس میں ثواب ہے نہ گناہ)۔اگر کوئی علمِ نیّت رکھنے والا اِس کی اچّھی اچّھی نیّتیں کر لے تو خواہ مالِ حلال کے ذَرِیعے اَربوں پتی بن جائے اُس کا مال اُس کی آخرت کیلئے نقصان دہ نہیں۔مگر یاد رہے! رسمی طور پر صرف زَبان سے نیّت کے الفاظ ادا کر لینے کو نیّت نہیں کہتے،نیّت دل کے اُبھار اور پکے ارادے کا نام ہے یعنی جو نیّت کررہا ہے وہ اُس کے دل میں اِس طرح موجود ہو کہ میں نے 100 فیصدی ایساکرنا ہی کرنا ہے۔مال ودولت کے بارے میں نیّت کی


رغبت دلاتے ہوئی حُجۃ  الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں:مال لینے،چھوڑنے،خرچ کرنے اور روکنے میں نیَّت صحیح ہونی چاہئے۔مال اِس لئے حاصِل کرے کہ عبادت پرمددحاصِل ہواورمال چھوڑنا ہو تو زُہد(یعنی دنیا سے بے رغبتی)کی نیّت سے اور اُسے حقیر سمجھتے ہوئے چھوڑے۔جب یہ طریقہ اختیار کرے گا تو مال کا موجود ہونا اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا،اِسی لئے امیرُالْمُؤمنین حضرتِ مولائے کائنات،علیُّ المُرتَضٰی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:اگر کوئی شخص تمام رُوئے زمین کا مال حاصِل کرے اور اس کا ارادہ رِضائے الٰہی کاحُصول ہو تو وہ زاہد(یعنی دنیا سے بے رغبت)ہے اور اگرتمام مال چھوڑ دے لیکن رِضائے خداوندی مقصود نہ ہو تو وہ زاہد نہیں ہے۔پَس آپ کی تمام حَرَکات و سَکَنات اللہ تعالٰی کے لیے ہوں اور عبادت سے باہَر نہ ہوں یا عبادت پر مدد گار ہوں۔جو چیزیں عبادت سے زیادہ دُور ہیں وہ کھانا کھانا اورقَضائے حاجت(یعنی استنجا)ہے لیکن یہ دونوں بھی عبادت پرمدد گار ہیں جب ان سے آپ کا مقصود یہ ہو گا یعنی عبادت پر قوّت اوردل جمعی حاصِل کرنے کی نیَّت ہو گی تو یہ کام بھی آپ کے حق میں عبادت ہوں گے۔اسی طرح جو چیزیں آپ کی حفاظت کرتی ہیں مَثَلًا قمیص،اِزار(یعنی پاجامہ) بچھونا اوربرتن وغیرہ تو ان سب میں بھی اچھی نیّت ہونی چاہئے کیوں کہ دین کے سلسلے میں ان تمام چیزوں کی ضَرورت ہوتی ہے اور جو کچھ ضَرورت سے زائد ہو اُس سے بندگانِ خدا کو نفع پہنچانے کی نیّت ہونی چاہئے اورجب کسی شخص کو اس کی ضَرورت


 

 ہو تو انکار نہ کرے جو شخص اس طرح کا عمل کرے گا اُس نے مال کے سانپ(یہاں مال کو’’سانپ‘‘سے تشبیہ دی گئی ہے)سے اُس کا(مُفید حصّہ یعنی)جوہر اور تِریاق(زہر مُہرہ یعنی زہر کی دوا جو زہر کا اُتار کرتی ہے)بھی لے لیا اور(خود سانپ کے)زَہر سے محفوظ (بھی) رہا،ایسے آدمی کومال کی کثرت نقصان نہیں پہنچاتی لیکن یہ کام وُہی شخص کر سکتا ہے جس کے قدم دین میں مضبوط ہوں اور اُس کے پاس کثیر علمِ دین ہو۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی  آگے چل کر مال و دولت سے بچ کر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جس طرح نابینا کا بِینا(یعنی آنکھ والے)کی طرح پہاڑوں کی چوٹیوں اور دریاؤں کے کَناروں تک پہنچنا اور کانٹے دار راستوں سے گزرنا ممکن نہیں اِسی طرح عام آدمی کا مال و دولت کی آفتوں سے بچنا بھی ناممکن ہے۔([31]) مال و دولت پرہیز گار اور بکثرت علمِ دین رکھنے والا ہی چاہے تو لے سکتا ہے کہ شریعت کے مطابِق اِسے حاصِل اور شریعت ہی کے مطابِق اِسے استِعمال کر سکتا ہے اورمال کی آفتوں سے خود کو بچا سکتا ہے۔

کسبِ حلال  کیلئےعلمِ دین ضروری ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ مال ودولت کی آفتوں سے بچنے کسبِ حلال حاصل کرنےکے لئے علمِ دین کا ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ مال کی آفتوں اور حرام روزی سے وہی شخص بچ سکے گا جسے حلال و حرام کا علم ہوگا شاید اسی لئے اِمَامُ الْعَادِلِیْن ، سَیِّدُ المُحَدَّثِیْن حضرت ِ سَیِّدُنا فاروق ِاعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے


 

 حکم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خریدوفروخت کریں جو دین میں فقیہ ہوں۔([32])

یاد رکھئے!وہ معاملات جن سے بندے کا واسطہ پڑتا ہے ان کے بارے میں شرعی احکام سیکھنا فرض ہے ۔ مگر افسوس ! آجکل اکثر تاجروں اور ملازموں کی اس کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ آئیےاس ضمن میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ایک مکتوب ملاحظہ کیجئے۔

مکتوبِ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!افسوس! آج کل صِر ف و صِرف دنیاوی عُلوم ہی کی طرف ہماری اکثریت کا رُجحان ہے۔ علمِ دین کی طرف بَہُت ہی کم مَیلان ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے :طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍیعنی عِلم کا طَلَب کرنا ہر مسلمان مرد (و عورت) پرفرض ہے([33])اِس حدیثِ پاک کے تحت میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے جو کچھ فرمایا، اس کا آسان لفظوں میں مختصراً خُلاصہ عرض کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ۔ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بُنیادی عقائد کا علم حاصِل کرے ۔ جس سے آدمی صحیح العقیدہ سُنّی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالَفَت سے کافِر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد مسائلِ نَماز یعنی اِس کے فرائض و شرائط و مُفسِدات ( یعنی نماز توڑنے والی


 

 چیزیں) سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رَمَضانُ الْمبارَک کی تشریف آوری ہو تو روزوں کے مسائل ، مالِکِ نصابِ نامی(یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والے مال کے نِصاب کا مالک) ہو جائے توزکوٰۃ کے مسائل، صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو مسائلِ حج،نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل ،تاجِر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مُزارِع یعنی کاشتکار(وزمیندار)کھیتی باڑی کے مسائل،ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل۔ وَ عَلٰی ھٰذَاالْقِیاس(یعنی اور اِسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہرمسلمان عاقِل و بالغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔([34])

اجارہ کے مسائل سیکھنافرض ہے

      دورِ حاضر میں بہت سے افراد تجارت کے بجائے ملازمت کے ذریعے اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرتے ہیں لہٰذا انہیں چاہئے کہ اجارے کے مسائل سیکھیں اور اپنی روزی کو حرام کی آمیزش (ملاوٹ)سے بچائیں۔شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ”حلال طریقے سے کمانے کے 50مدنی پھول“ صفحہ 1پر فرماتے ہیں:جس کو مُلازم رکھنا ہے اُسے مُلازم رکھنے کے اور جس کو مُلازمت کرنی ہے اُسے مُلازمت کے ضروری اَحْکام جاننے فرض ہیں۔آئیے!اس رسالے میں بیان کئے گئے چند مدنی پھول مُلاحظہ کیجئے۔

1.    سیٹھ اور نوکر دونوں کے لئے حسبِ ضرورت اِجارے کے شرعی احکام سیکھنا


 

 فرض ہے، نہیں سیکھیں گے تو گنہگار ہوں گے۔([35])

2.    نوکر رکھتے وقت ، ملازمت کی مدّت ، ڈیوٹی کے اوقات اور تنخواہ وغیرہ کا پہلے سے تَعَیُّن ہونا ضروری ہے۔

3.    چاہے گورنمنٹ کا ادارہ ہو یا پرائیویٹ ملازِم اگر ڈیوٹی پر آنے کے معاملے میں عُرف سے ہٹ کر قصداً تاخیر کریگا یا جلدی چلا جائے گا یا چُھٹّیاں کرے گا تو اس نے معاہدے کی قَصْداً خلاف ورزی کا گناہ توکیاہی کیا اور ان صورتوں میں پوری تنخواہ لے گا تومزید گنہگار اور عذابِِ نار کا حقدار ہو گا۔فرمانِ امام احمد رضاخان:’’جوجائز پابندیاں مشروط (یعنی طے کی گئی )تھیں ان کا خلاف حرام ہے اوربکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔‘‘([36])

4.    گورنمنٹ کے اِدارے کا افسر دیر سے آتا ہواور اس کی کوتاہی کے سبب دفتر دیر سے کھلتا ہو تب بھی ہر ملازِم پر لازم ہے کہ طے شدہ وقت پر پہنچ جائے اگرچہ باہر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے۔ خائن و غیر مختار افسر کا ملازِم کو دیر سے آنے یاجلد ی چلے جانے کا کہنا یا اجازت دے دینابھی ناجائز کوجائز نہیں کر سکتا۔وقت کی پابندی سبھی پر ضروری ہی رہے گی۔


 

5.    ملازِم دفتر یادکان پر آنے جانے کا وقت رجسٹروغیرہ میں درست لکھے،اگر غلط بیانی سے کام لیا اور ڈیوٹی کم دینے کے باوجود پورے وقت کی تنخواہ لی تو گنہگار وعذابِِ نار کا حقدار ہے۔

6.    جن اداروں میں ملازِمین کوعلاج کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، اِن میں جھوٹے بہانوں سے دوا حاصل کرنا،اپنا نام لکھوایا بتا کر کسی دوسرے کیلئے دوا نکلوا لینا وغیرہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ ایسوں کے ساتھ جان بوجھ کر تعاوُن کرنے والا بھی گنہگار ہے۔

7.    تنخواہ زیادہ کرانے اور عہدے وغیرہ میں ترقی کروانے کے لیے جعلی(نقلی) سند لینا ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے۔

8.    اگرکسی عذر کی وجہ سے اَجیر خاص کا م نہ کرسکا تو اُجرت کامستحق نہیں ہے مَثَلاً بارش ہورہی تھی جس کی وجہ سے کام نہیں کیا اگرچہ حاضر ہوا اُجرت نہیں پائے گا(یعنی اُس دن کی تنخواہ نہیں ملے گی)۔ ([37]) البتہ اگر اِس کی تنخواہ کا بھی عُرْف ہے تو ملے گی کہ تعطیلات معہودہ (یعنی جن چھٹیوں کامعمول ہو تا ہے اُن )کی تنخواہ ملتی ہے ۔

9.    مراقب(یعنی سپر وائزر)یامقررہ ذِمے دارتمام مزدوروں کی حسب استطاعت نگرانی کرے۔ وقت اور کام میں کوتاہی اور سستیاں کرنے والوں کی مکمَّل


 

 کارکردَگی ( رَپورٹ) کمپنی یا ادارے کے  مُتَعَلّقہ افسر تک پہنچائے ۔ مراقب (سپروائزر) اگر ہمدردی یا مُروَّت یا کسی بھی سبب سے جان بوجھ کر پردہ ڈالے گا تو خائن وگنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔

10. کسی مذہبی ادارے میں اِجارے کے شَرْعی مسائل پر سختی سے عمل دیکھ کر نوکری سے کترانا یا صرف اِس وجہ سے مُسْتَعفی ہو کر ایسی جگہ ملازَمت اختیار کرلینا جہاں کوئی پوچھنے والا نہ ہو انتہائی نامناسِب ہے۔ ذِہْن یہ بنانا چاہئے کہ جہاں اِجارے کے شَرْعی اَحکام پر سختی سے عمل ہو وَہیں کام کروں تا کہ اِس کی بَرَکت سے مَعصِیَت کی نحوست سے بچوں اور حلال اورستھری روزی بھی کماسکوں۔

11. ملازِم اپنے دفتر وغیرہ کا قلم ، کاغذ اور دیگر اشیاء اپنے ذاتی کاموں میں صَرْف کرنے سے اجتناب(یعنی پرہیز) کرے ۔

12. اگراِدارے کی طرف سے ذاتی کام میں ٹیلیفون استعمال کرنے کی اجازت ہو تواجازت کی حدتک استعمال کرسکتے ہیں اگراجازت نہیں توذاتی کام کے لیے استعمال کرناناجائز وگناہ ہے۔

13.  اجارے کے وقت میں کبھی کبھار بَہُت قلیل (یعنی تھوڑے سے )وقت کیلئے ذاتی فون سننے کی عُرفاً اجازت ہوتی ہے۔البتّہ اگر کوئی اِجارے کے اَوقات میں باربار فون سنتا ہے اور پھر بات چیت بھی دس پندر منٹ سے کم نہیں ہوتی ا س طرح کے ذاتی فون سننا جائز نہیں کہ اس طرح کام اورمُسْتاجر(یعنی اجارے پر


 

 لینے والے) کا بھی نقصان ہوگا ۔ 

14. ملازم نے اگر مَرَض کی وجہ سے چھٹّی کر لی یا کام کم کیا تومُسْتاجر(یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اُس) کو تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر اِس کی صورت یہ ہے کہ جتنا کام کم کیا صرف اُتنی ہی کٹوتی کی جائے مَثَلاً 8گھنٹے کی ڈیوٹی تھی اور تین گھنٹے کام نہ کیا تو صرف تین گھنٹے کی اُجرت کاٹی جائے، پورے دن بلکہ آدھے دن کی اُجرت کاٹ لینا بھی ظلم ہے۔([38])

15. متولیان مسجِد کی رِضامندی کی صورت میں امام و مُؤَذِّن عُرْف سے زائد چُھٹّیوں میں اپنا نائب دیدیا کریں تو تنخواہ نہیں کاٹی جائے گی۔

16. امام،مُؤَذِّن یا کسی بھی دکان وغیرہ کا ملازِم سخت بیمار ہو جائے یا اُس کے یہاں کوئی انتقال کر جائے تو اِن صورَتوں میں ہونے والی چُھٹّیوں میں وہاں کا عُرف دیکھا جائے گا اگر تنخواہ کاٹنے کا عُرف ( یعنی معمول) ہے تو  کاٹ لی جائے ورنہ نہ کاٹی جائے۔

17. امام یا مُؤَذِّن یا مدرِّس یا کسی ملازِم کا گھر دُور ہے ،’’پیّا جام ہڑتال ‘‘کی وجہ سے سواری نہ ملی یا ہنگاموں کے صحیح خوف کے سبب چھٹی ہو گئی تو اگرپہلے سے طے ہو گیا تھا کہ ایسے مواقع پر تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی یا وہاں کاعُرف (یعنی معمول)ہی ایسا ہو کہ ایسے مواقع پر کٹوتی نہیں ہوتی تو اس طرح کی چھٹی کی


 

تنخواہ پائے گا۔ یادرہے! معمولی ہڑتا ل چھٹی کیلئے عذر نہیں ۔

18. چوکیدار ،گارڈ یا پولیس وغیرہ جن کا کام جاگ کر پہرا دینا ہوتا ہے اگر ڈیوٹی کے اوقات میں اِرادۃً سو گئے تو گنہگار ہوں گے اور( قصداً یا بِلاقَصْد) جتنی دیر سوئے یا غافِل ہوئے اُتنی دیر کی اُجرت کٹوانی ہوگی۔

19. ایک ہی وقت کے اندر دو جگہ نوکری کرنایعنی اجارے پر اجارہ کرنا ناجائز ہے۔ البتّہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر لگا ہواہے تواب اپنے سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کرسکتا ہے،جب کہ پہلی جگہ کے سبب دوسری جگہ کے کام میں کسی طرح کی کوتاہی نہ ہوتی ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ہماری بداعمالیاں اور معاشی بحران

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سچائی اور دیانتداری کے ساتھ رزقِ حلال کے حُصُولکے لئے بیان کردہ مدنی پھولوں پر عمل کرنا نہایت ضروری ہےمگر افسوس!آجکل اس کی طرف سے توجہ ہٹتی جارہی ہے۔ایک طرف ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا مبارک دور تھا جب ہرطرف سچائی ، دیانت داری اور احکاماتِ الٰہیہ کی بجاآوری کا لحاظ کیا جاتا تھاجبکہ دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ حرص ِ مال اور لالچ کی پٹی ہماری آنکھوں پربندھی ہے ۔اذان کی صدا بلند ہوتی ہے مگر ہماری حرص ہمیں کاروبار چھوڑ کرربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نہیں جھکنے دیتی۔


بددیانتی ،جھوٹ ، دھوکے بازی اور بالخصوص سُود کی برائی ہمارے کاروبار کا حصہ بن چکی ہے ۔آج ہماری اکثریت  کاروبار اور تجارت میں خدا کی یاد سے غافل رہتی ہے ، اگر اس دوران ہماری زبان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام آتا بھی ہے تو جھوٹی قسم کھانے اور خود کو ایک مہذَّب و خُوش اخلاق شخصیّت کے طور پر مُتعارف کروانے کیلئے تاکہ سامنے والا ہماری دینداری اور خُوش اخلاقی سے متاثر ہوکر ہم پر اندھا اعتماد کرلے اور ہم اس کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائیں ۔انجامِ آخرت سے بے خوف نہ جانے کتنے ہی تاجر(Business men)دنیا کے عارضی نفع کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مال لُوٹنے کے باوجود آج  ہماری معاشی صورتِ حال انتہائی اَبتر ہے اور پورا معاشرہ ایک بدترین معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہےظاہر ہے ہمارے کاروبار اور بازار میں جب اس قدر کثرت سے برائیاں پائی جائیں گی تو معیشت تباہ نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا۔آج جسے دیکھو وہی معاشی ناہمواری اور فقر و تنگ دستی کے سبب پریشان ہے۔اس معاشی بحران کی زَد میں آکر کسی کی زمین گئی تو کسی کا گھر بک گیا،کوئی اپنی گاڑی بیچ رہا ہے تو کوئی گھر والوں کے زیور۔بوڑھا باپ بسترِ علالت پر لیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے لیکن بے روزگار بیٹے کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ باپ کے علاج کیلئے دواؤں کا انتظام کرسکے،غریب باپ جب شام کو خالی ہاتھ گھر پہنچتا ہے تو بچوں کا حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنا اسے غمزدہ اور افْسُردہ کردیتا ہے۔غربت،بے روزگاری اور معاشی ناہمواری کے عفریت (بُھوت) 


نسلِ انسانی کو اپنے آہنی پنجوں میں دبوچ کر اسکا خون نچوڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں بھتہ خوری،لُوٹ ماری،قتل و غارت گری  اور اس طرح کے دیگر جرائم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ زندگانی تنگ ہوکر رہ گئی ہے۔

تنگ زندگانی کی وجہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا ہم میں سے کسی نے سنجیدگی کے ساتھ کبھی اس بات پر غور کیا کہ آخر ہماری زندگانی اس قدر تنگ کیوں ہوگئی؟ہم بلندیوں سے پستیوں کی طرف کیوں آگئے؟ اس قدر معاشی بد حالی کا شکار کیوں ہوگئے ؟  کاروبار کے لاتعداد وسائل،روزگار کے اَن گنت مواقع اور ترقّی کے بے مثال ذرائع کے باوجود آخرکارہم روز افزوں مَعاشی تنزلی کا شکار کیوں ہوتےجارہے ہیں ؟ذرا غور کیجئے!کہیں ان ساری پریشانیوں کی وجہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یاد سے غفلت تو نہیں؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا  (پ۱۶، طٰهٰ:۱۲۴)

ترجَمۂ کنز الایمان: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کیلئے تنگ زندگانی ہے ۔

صدرالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی  خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:تنگ زندگانی یہ ہے کہ ہدایت کا اِتّباع (پیروی) نہ کرنے سے عملِ بد اور حرام میں مبتلا ہو یا قناعت سے محروم ہو کر  گرفتارِحرص (لالچ میں گرفتار)ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی


 

اس کو فراخِ خاطر (کُشادہ دلی)اور سُکونِ قلب میسّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اور حرص کے غموں سے کہ ”یہ نہیں وہ نہیں“ حال تاریک اور وقت خراب رہے اور مومن مُتوکِّل کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو ”حیاتِ طیّبہ“ کہتے ہیں۔حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خوفِ خدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زندگانی ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے منہ پھیرنے کی آفتیں کس قدر شدید ہیں کہ انسان کی  معیشت تنگ ہوجائے گی ، وہ ناجائز وحرام کاموں میں  مبتلا ہوجائے گا،قناعت کی دولت چھن جائے گی اور حرص کی بھیانک آگ ہر طرف سےاسے  اپنی لپیٹ میں لے لے گی،جتنا بھی کمالے گا اس کی حرص کی آگ نہیں بجھے گی۔وہ مال کو پُرسکون زندگی کا ذریعہ سمجھے گا مگر دولت وشہرت حاصل ہونے کے باوجوداُسےقلبی سکون حاصل نہ ہوگا۔ آرام دہ بستر تو ہوگا لیکن چین کی نیند میسر نہ ہوگی۔خواہشات کا سیلاب  اسکے  صبرو شکر اور خوشیوں کی عمارت کو بہا لے جائے گا اور طرح طرح کے  غم اسکی زندگی کو تاریک کردیں گے، غرض وہ سکون کی اُس دولت سے محروم رہے گا جو حیاتِ طیِّبہ (اچھی زندگی )کی صورت میں ایک مومن مُتوکِّل کو حاصل ہوتی ہے ۔اللہعَزَّ  وَجَلَّ اپنے پاک کلام میں اُس ”حیاتِ طیِّبہ“ کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ ( پ۱۴، النحل:۹۷)

ترجَمۂ کنز الایمان: جو اچھا کام کرے مرد


 

اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-

ہو یا عورت اور ہو مسلمان،تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے۔

صدر الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی اس آیتِ مُبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی دنیا میں رزقِ حلال اور قناعت عطا فرما کر اور آخرت میں جنّت کی نعمتیں دےکر(اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں حیاتِ طیّبہ عطا فرمائے گا)۔ مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اس کی زندگانی دولت مند کافِر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزیاللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)کی طرف سے ہے جو اس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافِر جو اللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)پر نظر نہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج و تَعَب (دُکھ اور تکلیف)اور تحصیلِ مال (مال حاصل کرنے) کی فکر میں پریشان رہتا ہے۔

یاد رہے!کہ الله عَزَّ  وَجَلَّ نے انسان کو دنیا میں محض  بے بس اور مجبور بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اسے اچھائی اور برائی کا شعور بھی عطا فرمایا ہے نیز قرآنِ پاک میں یہ بھی واضح کردیا کہ کِن خُوش بختوں کو اچھی زندگی ملے گی اور کون سے بدبخت لوگ تنگ زندگانی کا شکار ہوں گے۔اب ظاہر ہے جیسے ہم اعمال کریں گے  ویسی ہی جزا پائیں گے۔ اگر ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی اطاعت وفرمانبرداری کے راستے پر چلیں گے تو وہ ہماری زندگی کو ”حیاتِ طیّبہ“میں تبدیل فرما دے گا اوراگراس کی نافرمانیوں اور برائیوں کا راستہ اختیار کیا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی یاد سے رو گردانی کی،نماز کا وقت ہو جانے کے باوجود


 

دوپیسے کی خاطر نماز کے لئے اپنا کاروبار چھوڑنا گوارا نہ کیا نیز حُصُولِ مال میں حرام و حلال کا خیال نہ رکھا تو تنگ زندگانی کے بھیانک شکنجوں میں پھنسنا ہمارا مقدر ہوگا۔ اَلْاَمَانُ وَالْحَفِیْظ

ایک وسوسے کاجواب

ہوسکتا ہے بعض لوگوں کے ذہن میں شیطان یہ وسوسہ پیدا کرتا ہو کہ اسلام نے تجارتی مُعاملات میں بہت زیادہ سختیاں اور پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے مُسلمان معاشی ترقّی سے محروم ہیں اس کے برعکس اسلامی قُیُودات سے آزاد غیر مُسلم قومیں دن بہ دن ترقّی کرتی جارہی ہیں ۔

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت، مجدّدِدین و ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 17صفحہ 360میں اس شیطانی وسوسے کی کاٹ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:تجارتِ حرام کے دروازے (جو)آج کل بکثرت کھلے ہیں ان کی بَنْدِش (روک تھام)کو اگر تنگی سمجھا جائے تو مجبوری ہے وہ تو بےشک شرعِ مطہر نے ہمیشہ کیلئے بندکئے ہیں۔  جو آج بے قیدی(آزادی )چاہے کل نہایت سخت شدید قید میں  گرِفتار ہوگا اور جو آج احکام کا مُقَیَّد(پابند)رہے کل بڑے چین کی آزادی پائے گا۔ دنیا مُسلمان کےلئے قید خانہ ہے اور کافر کےلئے جنت ۔ مُسلمانوں  سے کس نے کہا کہ کافروں کی اموال کی وُسعت اور طریقِ تحصیلِ آزادی اور کثرت کی طرف نگاہ پھاڑ کر دیکھے ، اے مسکین!تجھے تو کل کا دن سنوارنا ہے۔


 

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸)اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) (پ۱۹، الشعراء:۸۸)

جس دن نہ مال نفع دے گا نہ اولاد ، مگر جو اللہ کے حضور سلامت والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔

اے مسکین ! تیرے ربّ نے پہلے ہی تجھے فرمادیا ہے:

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱) (پ۱۶، طٰهٰ:۱۳۱)

اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ اس دُنیوی زندگی کی آرائش کی طرف جو ہم نے کافروں کے کچھ مردوں و عورتوں کے برتنے کو دی تاکہ وہ اس کے فتنہ میں پڑ ے رہیں اور ہماری یاد سے غافل ہوں اور تیرے ربّ کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے شک ہمارے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کا کلام سچا ہے، اس نے  ہمیں جو حکم دیا اس کو مان لینا،اس پر راضی رہنااور اس پر عمل کرلینا ہی  ہماری بندگی کی معراج ہے۔ یاد رکھئے!دیگر چیزوں کی طرح تجارتی مُعاملات میں بھی اسلام نے مُسلمانوں کے نہ صرف اُخروی بلکہ دُنیوی مفادات اور ان کے تحفّظ کا خیال رکھاہے اور طاقت واختیار سے بڑھ کر کوئی حکم ان پر مسلط نہیں کیا البتہ اسلام تجارتی اور غیرتجارتی تمام مُعاملات میں سُود اور حرام کی راہیں تنگ ہی نہیں بلکہ انہیں بند بھی کرتا ہے۔تاریخ کے مُطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مُسلمانوں کی تجارت اور معیشت کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔سُودی نظام نہ ہونے کے باوجود مُسلمانوں کی  معاشی خوشحالی کے ایسے ایسے شاندار اَدوار گزرے ہیں کہ ان کے بارے میں پڑھ کر


 

عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔

معاشی خوشحالی کاحسین دور

حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِیْز تقریباً اڑھائی سال یعنی 30 مہینے خلیفہ رہے مگر ناجائز آمدنیوں کی روک تھام،ظُلم کے سدِّباب اور مال کی دیانتدارانہ تقسیم کے نتیجے میں ایک سال میں ہی لوگوں کے مالی حالات اتنے بہتر ہوگئے تھے کہ کوئی شخص بھاری رُقوم لاتا اور کسی اہم شخصیّت سے کہتا کہ آپ کی نظر میں جو ضرورت مند ہوں ان کو یہ مال دے دیجئے تو بڑی دوڑ دھوپ اور پوچھ گچھ کے بعد بھی کوئی ایسا آدمی نہ ملتا جسے یہ مال دے دیا جائے ، بالآخر اسے وہ مال واپس لے جانا پڑتا ۔([39])

یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِ  یْز نے مجھے افریقہ میں صدقہ وُصول کرنے کے لئے بھیجا میں نے صدقہ وُصول کرکے فقرا کو تلاشا کہ ان پر تقسیم کردوں لیکن مجھ کو کوئی فقیر نہیں ملا کیونکہ حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِ  یْز نے لوگوں کو دولت مند بنادیا تھا، لہٰذا میں نے صدقہ کی رقم سے غلام خرید کر آزاد کردیئے۔([40])

معاشی خوشحالی کی وجہ

معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُبارک


 

 دور میں تمام مُسلمان غنی ہوچکے تھے اورکوئی بھی زکوٰۃ کا مستحق نہیں تھا ۔اس کی ایک وجہ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا عدل وانصاف تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ  اُس دور میں مُسلمانوں کی تمام تر کاروباری سرگرمیاں شرعی حُدود کے اندر رہ کرہوتی تھیں گویا کہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ  انہوں نے معاشی میدان میں بے مثال ترقّی  کی ،یہاں تک کہ  ہر طرف مال ودولت کی فراوانی ، آسودگی اور خوشحالی عام ہوچکی تھی اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی ترقی  کیلئے ہر طرح کی آزادی کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضامندی اور شریعت کی قید و  پابندی ضروری ہے ۔

معاشی بحران کا سبب

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے معاشی اصول حقیقی ترقّی اور خوشحالی کے ضامن ہیں  اور ان کی خلاف ورزی ایسی معاشی برائیاں پیدا کرتی ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔کسی بھی جگہ آنے والے  معاشی بحران کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سرمائے اور دولت کا چند لوگوں اور چند اداروں کی تجوریوں میں رُک جانابھی ہےکیونکہ سرمائے کا چند ہاتھوں میں ٹھہر جانا اعتدال اور توازُن کو ختم کردیتا ہے اور درحقیقت یہی عدمِ توازُن معاشی بحران کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں دو قسم کے معاشی نظام رائج ہیں۔٭ ایک اشتراکیت اور ٭دوسرا سرمایہ داریت ، لیکن یہ دونوں نظام اِفْراط و تَفْریط کا شکار ہیں کیونکہ  اِشْتِراکی


 

 نظام میں تمام لوگوں کی ذاتی ملکیتوں کوان کی مرضی کے خلاف جبراً (زبردستی) چھین کر ایک مخصوص جماعت کی ملکیت میں دے دیا جاتا ہے البتہ اس کے بدلے ایک حد  تک ان کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں مالداروں  کو اتنی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ وہ دولت سے اپنی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امیر، امیر تر اور غریب، غریبتر ہوتا جاتا ہے ۔اس کے برعکس اسلام کے معاشی نظام میں نہ اشتراکیت کی قید  ہے نہ سرمایہ داریت کی کھلی آزادی، بلکہ یہ نظام تقویٰ،احسان، ایثار، عدل، اخوت، تعاون، توکّل اور قناعت جیسی عظیم اخلاقی قَدروں پر قائم ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کو دیگر تمام نظاموں پر فوقیت حاصل ہے ۔

معیشت کی تباہی میں سُود کاکردار

بدقسمتی سے اس وقت ہمارے ہاں جو معاشی نظام رائج ہے وہ سرمایہ داریت کا نظام ہے اور اس پورے نظام کی عمارت ”سُود“ کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ مثلاً: ایک شخص نے سُودی ادارے میں دس فيصد سُود پر دس لاکھ روپے جمع کروائے۔اُس ادارے نےوہی دس لاکھ روپے پندرہ فیصد سُود پر صنعت کار  کو دیئے ، جب مہینہ پورا ہوا تو اس صنعت کار نے پندرہ فیصد سُود ادارے کو دیا، ادارے نے دس فیصد سُود رقم کے مالک کو دیا اور پانچ فیصد خود رکھ لیا ۔رقم کے مالک کوبھی فائدہ ہوا اور سُودی ادارے کو بھی مگر جس صنعت کار نے سُود ادا کیا اسے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ


 

اس نے سُود پر لی گئی رقم سے جومصنوعات( Products) تیار کیں ان کی قیمت میں پندرہ فیصد اضافہ کردیا۔ یوں اُس صنعت کار نے سُود کی رقم اپنی مصنوعات سے حاصل کرلی لہٰذا اُس کا بھی فائدہ ہوگیا۔لیکن اس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑا کہ جب اشیاء کی قیمتیں اسکی قوتِ خرید سے بڑھ گئیں اور ضروریاتِ زندگی کی چیزیں خریدنا بھی ان کے لئے مشکل ہوگیا۔اسی طرح کچھ کمپنیاں اپنی پروڈکشن بڑھانے اور مارکیٹ میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لئےتشہیر (Advertisement) کا سہارا لیتی ہیں ،عموماً اس تشہیر کے لئے سُود پر پیسہ لیا جاتا ہےاور اس سُود کی ادائیگی بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کے پیسوں سے ہی کی جاتی ہےغرض اس ظلم و ناانصافی اور معاشی تباہی کی ابتداء سُود (Interest) نے کی ۔

سُود کا اُخروی نقصان

یقیناً سُود ایک ایسی برائی ہے جس نے ہمیشہ مَعِیْشت کو تباہ کیا ہے،قرآن و حدیث میں سُود کی نہایت سخت الفاظ میں مذمّت بیان کی گئی ہے ،حتی کہ سُود سے باز  نہ آنے والوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اسکے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے لڑائی کرنے والوں کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸)فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا

ترجَمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو!اللہسے ڈر و اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سُود اگر مسلمان ہو ۔پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور


 

بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(۲۷۹) (پ۳، البقرۃ:۲۷۹)

 اللہ کے رسول سے لڑائی کااور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

 اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- (پ۳، البقرۃ:۲۷۵)

 ترجَمۂ کنز الایمان:وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیاہو۔یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسُود۔

      صدرُ الْافاضل حضرت علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: معنی یہ ہیں کہ جس طرح آسیب زدہ سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا گرتا پڑتا چلتا ہے، قیامت کے روز سُود خوار کا ایسا ہی حال ہوگا کہ سُود سے اس کا پیٹ بہت بھاری اور بوجھل ہوجائے گا اور وہ اس کے بوجھ سے گر پڑے گا۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس آیت میں سُود کی حرمت اور سُود خواروں کی شامت کا بیان ہے سُود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں کہ ٭سُود


 

میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ معاوضہ مالیہ میں ایک مقدارِ مال کا بغیر بدل و عوض کے لینا ہے یہ صریح ناانصافی ہے ۔٭دوم سُود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سُود خوار کو بے محنت مال کا حاصل ہونا تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی معاشرت کو ضَرَر (نقصان)  پہنچاتی ہے۔٭ سوم سُود کے رواج سے باہمی موَدَّت (محبّت) کے سُلوک کو نُقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سُود کا عادی ہوتو وہ کسی کو ”قرضِ حسن“ سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا ۔ ٭چہار م سُود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بےرحمی پیدا ہوتی ہے اور سُود خوار اپنے مَدیُون (مقروض)کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے اس کے علاوہ بھی سُود میں اور بڑے بڑے نقصان ہیں اور شریعت کی مُمانَعَت عین حکمت ہے۔

سُود کی مذمت میں 4احادیثِ مُبارکہ

1.     حضرت سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رَسُوۡلُ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے سُود لینے والے اور سُود دینے والے اور سُود کا کاغذ لکھنے والے اور اُس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اورفرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔([41])  

2.    حضرت سَیِّدُنا عبدُاللہ بن حَنْظَلَہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سُود کا ایک دِرہم جس کو جان کر کوئی کھائے،


 

 وہ چھتیس مرتبہ زنا سے بھی سخت ہے۔([42])

3.    حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ  وسلَّم نے فرمایا: شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح(بڑے بڑے) ہیں،ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟۔ کہا:یہ سُود خور ہیں۔([43])  

4.    حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے راویت ہے کہ محسنِ کائنات،فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنےفرمایا:سُود سے(بظاہر) اگرچہ  مال زیادہ ہو،مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔([44])

علّامہ عبدُ الرؤف مَناوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:سود کے ذریعے مال میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہےمگر سود لینے والے شخص پر (مال کی) تباہی و بربادی کے جو دروازے کھلتے ہیں ان کی وجہ سے وہ مال کم ہوتے ہوتے بالآخر ختم ہوجاتا ہے۔([45])سودی مال کی ہلاکت و تباہی کے بارے میں ارشادِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ہے۔


 

œÒÑ  یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ- (پ ۳،البقرة:۲۷۶)

ترجَمۂ کنز الایمان:اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔

اس (آیت)سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ مومن کے لئے سود میں برکت نہیں یہ کافر کی غذا ہوسکتی ہے مومن کی نہیں ، گندگی کا کیڑا گندگی کھا کر جیتا ہے بلبل پھول کو۔ لہذا اپنے آپ کو کفار پر قیاس نہ کرو کافر سود لے کر ترقی کرے گا مومن زکوٰۃ دے کر۔دوسرے یہ کہ سود کے پیسہ سے زکوۃ خیرات قبول نہیں ہوتے۔([46])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً ایسا کوئی مُسلمان نہیں ہوگا جوقرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات کے باوجود بھی سُود سے باز نہ آئے اور اسے اپنی معاشی ترقّی کا ضامن سمجھے۔یقیناًسود اور اس کے علاوہ دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ حرام مال دنیا و آخرت کی تباہی کا باعث ہے آیئے اسی ضمن میں مالِ حرام کی تباہ کاریاں بھی  ملاحظہ کیجئے۔

جیسی غذا ویسے کام

مال حرام کا وبال یہ ہے  کہ جب لقمۂ حرام پیٹ میں پہنچتا ہےتو اس سے بننے والا خون انسان کو مزید برائیوں پر ابھارتا ہے ۔یوں وہ برائیوں کےدلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور اپنی عاقبت برباد کربیٹھتاہے۔چنانچہ شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں:کھایا جانے ولا ہر لقمہ اپنے ہی جیسے افعال کا سبب  بنتا ہے


 

یعنی اگر وہ لقمہ حرام کا ہوگا تو حرام کاموں کا سبب بنے گا،مکروہ ہوگا تو مکروہ  اور اگر مباح ہوگا تو مباح کاموں کا سبب بنے گااور اسی طرح اگر کھانابابرکت ہوگا تو اچھے کاموں کاسبب بنےگا اور بندے کےافعال میں برکت اور زیادتی کا باعث ہوگا۔([47])

لقمۂ حرام قبولیتِ دُعا میں رکاوٹ

لقمۂ حرام کا ایک وبال یہ بھی ہے کہ یہ دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ کا سبب بن جاتا ہےجیساکہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ايک شخص کا ذکر کيا جو طويل سفر کرتاہے،جس کے بال پریشان اوربدن غبار آلود ہےاور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر يا ربّ! يا ربّ! کہتاہے حالانکہ اس کا کھانا حرام ہو، پینا حرام ، لباس حرام ، اورغذا حرام،پھر اس کی دعاکیسے قبول ہو گی۔([48])

 لقمۂ حرام قبولیتِ اعمال میں رکاوٹ

جس طرح لقمۂ حرام کی نحوست سے دُعاؤں کی قبولیت رک جاتی ہے اسی طرح نیک اعمال بھی قبولیت کی منزل تک نہیں پہنچ پاتےجیساکہ مَحبوبِ ربُّ العالمین، جنابِ صادق وامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: اے سعد (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )!اپنی غذا پاک کر لو! مستجابُ الدعوات ہو جاؤ گے، اُس ذاتِ پاک کی قسم جس


 کے قبضۂ قدرت ميں محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پيٹ ميں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہيں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زيادہ بہترہے۔([49])

بیان کردہ روایات سے  یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مالِ حرام ہلاکت ہی ہلاکت ہےلہٰذا ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ دنیا وآخرت کی بربادی سے بچنےکے لئے سود اور مالِ حرام سے کنارہ کشی اختیار کرلے خواہ اس کے بدلے اسے کتنا ہی بڑا دنیوی خسارہ کیوں نہ اُٹھانا پڑے۔مگر افسوس!فی زمانہ جبکہ معاشرے میں  رشوت ، سُود، دھوکا اور بد دیانتی وغیرہ عام ہوچکی ہے اوپر سے نیچے تک تقریباً سارا نظام تہس نہس ہوچکا ہے، اگردین کا درد رکھنے والا کوئی اسلامی بھائی سمجھانے کی کوشش بھی کرے تو اس قسم کی باتیں سُننے کو ملتی ہیں:’’بھئی کیا کریں مجبوری ہے،ہم تو بے بس ہیں ،اس کے بغیر چارہ ہی نہیں،سب چلتا ہے،ہم اکیلے کر بھی کیا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘ حالانکہ یہ باتیں درست نہیں،کیونکہ نہ  تو ہم بے بس و مجبور ہیں اور نہ ایساہے کہ ان حرام کاریوں کے بغیر چارہ نہیں اور جہاں تک اس بات کا تعلّق ہےکہ ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں تو  جناب کم از کم اپنی ہی اصلاح کی کوشش کرلیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ پورا نظام خود بخود ٹھیک ہوجائےگا۔دراصل ہم چاہتے ہیں کہ دوا بھی نہ کھائیں اور مرض سے شفا بھی مل جائے ،مانا کہ معاشی خوشحالی کے لئے پورے مُعاشرے کو سُود اور دیگر


 

 بُرائیوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے مگر یاد رکھیں!معاشرہ افراد سے بنتا ہے، جب تک افراد اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کریں گے سارے معاشرے کی اصلاح مشکل ہے۔لہٰذا ہر شخص انفرادی طور پر اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے معاشرے میں خود بخود تبدیلی آجائے گی اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول بھی ہے۔شیخِ طریقت،امیر ِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں ملک و بیرونِ ملک کئی مقامات پر حیرت انگیز اصلاحی انقلاب رونما ہوچکا ہے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے مُریدین و محبین کو اوّلاً اپنی ذات کی اور ثانیاًدوسروں کی اصلاح کا ذہن دیتے ہوئے یہ مدنی  مقصد عطا فرمایا کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘یہی وجہ ہے کہ دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونے والا ہر اسلامی بھائی مُعاشرے کے بجائے سب سے پہلے اپنی اصلاح کی کوشش کرتاہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس مدنی ماحول کی برکت سے مُعاشرے کے بدترین لوگوں کا شمار بہترین لوگوں میں ہونے لگا،جُھوٹ، غیبت، چُغلی ،وعدہ خلافی،گالی گلوچ،قتل و غارت گری،رشوت خوری،طرح طرح کے ناجائز کاروبار اور ان کے علاوہ سینکڑوں معاشرتی برائیوں میں مبتلا افراد توبہ تائب ہوگئے۔آئیے اس کی ایک جھلک مُلاحظہ کیجئے۔

میں نے ویڈیو سینٹر کیوں بند کیا؟

لانڈھی(باب المدینہ، کراچی)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے:


 

 ہمارے علاقے میں ایک ویڈیو سینٹرکے باہر دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائی اصلاحِ اُمّت کی کُڑھن میں موسمِ گرما کی حِدّت (تپش) اور موسمِ سرما کی شِدّت کی پروا کئے بغیر مُسْتَقِل مِزاجی سے چوک درس دیا کرتے تھے ۔اسلامی بھائی اس ویڈیوسینٹر کے مالک کو بھی درس میں شرکت کی دعوت دیتے رہتے لیکن وہ روزانہ مصروفیت کا کہہ کر معذرت کر لیتا بالآخر ایک دن چوک درس میں شرکت کر ہی لی۔ جب مبلغِ دعوتِ اسلامی نے درس شروع کیا تو خوفِ خدا اور عشقِ مُصطفٰے سے بھرپور الفاظ تاثیر کا تیر بن کر ان کے دل میں پیوست ہو گئے ۔ دل و دماغ پر چھائے غفلت کے پردے ہٹ گئے ۔ان پر چوک درس کی برکت سے فکرِ آخرت غالب آگئی۔ جب مبلغِ دعوتِ اسلامی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی تو فوراً راضی ہو گئے اور یوں وہ ہفتہ واراجتماع میں شرکت کرنےاور دیگر مدنی کاموں میں حصہ لینے لگے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تھوڑے ہی عرصے میں ان میں مُثبت تبدیلی آنے لگی۔انہوں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کرلی اور گُناہوں میں مبتلا کرنیوالا کاروبار (ویڈیوسینٹر)ختم کر دیاا ور دھاگہ،لیس کا کام شروع کر دیا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے ویڈیو سینٹر کے مالک میں کیسی زبردست مُثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ


 

 نہ صرف وہ نیک اجتماعات میں شرکت کرنے لگے بلکہ ویڈیو سینٹر جیسامذموم کاروبار بھی چھوڑ دیا۔یقیناً اگر سارے مُسلمان کاروبار اور دیگر مُعاملات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی والے کام ترک کردیں اور اس کی یاد کو اپنےدل میں بسالیں تو کیا بعیدکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ان کے رزق میں ایسی برکت عطا فرمادے کہ ان کے معاشی مسائل کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔آئیے احادیثِ مُبارکہ کی روشنی میں ترقیِ معیشت اور رزق میں برکت سے مُتَعَلِّق تین مدنی پھول مُلاحظہ کیجئے۔

رزق میں برکت کے روحانی علاج

(1) نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: جس نے استغفارکو اپنے اوپر لازم کرلیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے راحت عطافرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطافرمائیگا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔([50])

(2)ملفوظاتِ اعلیٰحضرت میں ہے:ایک صحابی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)خدمتِ اقدس (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)میں حاضر ہوئے اور عرض کی:دنیانے مجھ سے پیٹھ پھیرلی۔ فرمایا:کیا وہ تسبیح تمہیں یا دنہیں جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے ۔ خلقِ دنیا آئے گی تیرے پاس ذلیل وخوارہو کر، طلوعِ فجر کے ساتھ سوبار کہا کر ”سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سَبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْم وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ([51]) اُن


 

صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو سات دن گزرے تھے کہ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:”حضور! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی، میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں کہا ں رکھوں ۔“([52])

(3) حضرت سَیِّدُنا سَہَلْ بن سَعَد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ اَقْدَس شفیعِ روز ِمَحْشَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضر ہوکر اپنی مفلسی کی شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، جب تم گھر میں داخل ہوتوگھر والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی نہ ہوتو مجھ پر سلام عرض کرو اور ایک بار قُلْ ھُوَاﷲشریف پڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا پھر اﷲتعالٰی نے اس کو اتنا مالا مال کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کی بھی خدمت کی۔([53])

اسلام میں نظریۂ زکوٰۃ

معاشی ترقی اور رزق میں برکت کا ایک بہترین طریقہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔یاد رکھئے!زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رُکن اور اہم ترین مالی عبادت ہے۔یہ ایسا خوبصورت نظام ہے جس کے ذریعے مُعاشرے کے نادار اور محتاج لوگوں کو مالی مدد ملتی ہے۔اگر سارے مالدار لوگ درست طریقے سے زکوٰۃ ادا کریں تو غربت و افلاس کا خاتمہ ہوجائے۔قرآن مجید، فرقانِ حمید میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے


 

بارے میں سخت وعید آئی ہے ، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:

وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) (پ۱۰، التوبة:۳۴)

 ترجَمۂ کنز الایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔

زکوٰۃ نہ دینے والوں کے بارےمیں تین احادیثِ مبارکہ  ملاحظہ کیجئے:

(1) جوقوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا ۔([54])

(2) دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے، اُن میں ایک وہ تونگر بھی ہے جو اپنے مال میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا۔([55])

(3)جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لئے آگ کے پتھر بنائے جائیں گے ان پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور اُن سے اُس کی کروٹ ، پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی، جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے، اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف۔([56])


 

زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمتیں

(1)سخاوت انسان کاکمال ہے اور بخل عیب۔اسلام نے زکوٰۃ کی ادائیگی جیسا پیارا عمل مسلمانوں کو عطا فرمایاتاکہ انسان میں سخاوت جیساکمال پیدا ہواور بخل جیساقبیح عیب اس کی ذات سے ختم ہو۔

(2)جیسے ایک ملکی نظام ہوتاہے کہ ہماری کمائی میں حکومت کابھی حصہ ہوتاہے جسے وہ ٹیکس کے طور پر وصول کرتی ہے اور پھر وہی ٹیکس ہمارے ہی مفاد میں یعنی ملکی انتظا م پر خرچ ہوتاہے بلا تشبیہ ہمیں مال ودولت اور دیگرتمام نعمتوں سے نوازنے والی ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ ہی کی پیاری ذات پاک ہےاور زکوٰۃ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا حق ہے ، جو ہمارے ہی غرباء پر خرچ کیا جاتاہے۔

(3) ربّ عَزَّوَجَلَّچاہتاتو سب کو مال ودولت عطا فرماکر غنی کردیتا لیکن اس کی مشیت ہے کہ اس نے اپنے ہی بندوں میں بعضوں کو امیر اور دولت مندکیا اور بعضوں کو غریب رکھااور امیروں یعنی صاحبِ نصاب پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم کردی تاکہ اس سے امیروں اور غریبوں میں محبت وانسیّت اور باہمی امداد کا جذبہ پیدا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو سب مل بانٹ کر کھائیں اور اس کا شکرادا کریں۔

(4)شریعت نے زکوٰۃ فرض کرکے کوئی انہونی چیز فرض نہیں کی بلکہ اگر ہم اپنے اطراف میں غوروفکر کریں تو زکوٰۃ کی حقیقت ہر جگہ موجود ہے۔ جیسے کہ پھلوں کا گودا انسان کے لیے ہے مگر چھلکا جانوروں کا حق ہے۔گندم میں پھل ہمارا حصہ مگر


 

 بھوسہ جانوروں کا ، گندم میں بھی آٹا ہمارا ہے تو بھوسی جانوروں کی۔ہمارے جسم میں بال اور ناخن وغیرہ کا حدِّ شرعی سے بڑھنے کی صورت میں علیحدہ کرنا ضروری ہے کہ یہ سب جسم کی زکوٰۃ یعنی اضافی چیزمَیل ہیں۔بیماری تندرستی کی زکوٰۃ، مصیبت راحت کی زکوٰۃ ، نمازیں دنیاوی کاروبار کی گویا زکوٰۃ  ہیں۔

(5) اگر ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ فرض ہے زکوٰۃ کی ادائیگی کا التزام کرلے تو مسلمان کبھی دوسروں کے محتاج نہ ہوں گے۔ مسلمانوں کی ضرورتیں مسلمانوں سے ہی پوری ہوجائیں گی اور کسی کو بھیک مانگنے کی بھی حاجت نہ ہوگی۔([57])

بہر حال دولت کو تجوریوں میں بند کرنے کے بجائے زکوٰۃ  و صدقات کی صورت میں راہِ خدا میں  خرچ کریں ورنہ یقین کیجئے کہ زکوٰۃ  ادا نہ کرنا  آخرت کے دردناک عذاب اور دنیا میں معاشی بدحالی کا سبب بن سکتا ہے۔آیئے ہم سب مل کراِرتکازِ دولت (Concentration of  wealth)کے اس سلسلے کو ختم کرنے اور دل کھول کر راہِ خدا اورنیکی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی نیت کریں پھر دیکھئے گا معیشت بھی ترقّی  کرے گی، لوگوں کی قوّتِ خریدبھی بڑھے گی اور معاشی نظام میں بھی خوشحالی آئے گی۔اِنْ شَآءَ اللہعَزَّوَجَلَّ

تعارف دعوتِ اسلامی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اس پُر فتن دور میں تبلیغ


 قرآن وسنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘ساری دنیا میں دین کی تبلیغ اور نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ لاکھوں عاشقانِ رسول بالخصوص شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی شب و روز انتھک کوششوں کے نتیجے میں دعوت ِ اسلامی کا مدنی پیغام تادمِ تحریر دنیا کے   192 سے زائد ممالک میں پہنچ چکا ہے اوربے شمارمسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا ہوچکا ہے۔دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کو مُنَظّم طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے وقتاً فوقتاً حسبِ ضرورت مُختلِف مجالس اور شعبہ جات کا قیام عمل میں  لایا جاتا رہا حتی کہ تادم تحریر 95 سے زائد شعبہ جات قائم کئے جاچکے ہیں مَثَلاً مساجد کی تعمیرات کے لئے ’’مجلس خدام ُ المساجد‘‘،مدنی منّوں اور مدنی منّیوں کے حفظ و ناظرہ کے لئے ’’مدرِسۃ المدینہ‘‘،انہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دُنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے’’دارُ المدینہ‘‘،بالِغان کی تعلیمِ قرآن کے لئے ’’مدرِسۃُ المدینہ برائے بالِغان‘‘، فتاویٰ کیلئے’’دارُالافتاء اہلسنّت ‘‘، عُلَماءاور عالمات کی تیاری کے لئے’’جامعۃُ المدینہ‘‘، تربیت ِ اِفتاء کے لئے ’’تَخَصُّص فی الفِقہ‘‘اور امّت کو درپیش جدید مسائل کے حل کیلئے ’’مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ‘‘،پیغامِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو عام کرنے اور اصلاحی کتب کی فراہمی کیلئے’’مجلس المدینۃُ العلمیۃ‘‘،تصانیف وتالیفات کو شرعی اَغلاط سے مَحفوظ رکھنے کیلئے’’مجلسِ تفتیشِ کتب و رَسائل ‘‘، روحانی علاج کیلئے ’’مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ‘‘،مختلف محکموں کے آفیسرز ،تاجر حضرات اور اہم شخصیات کو نیکی


 

 کی دعوت دینے اور دعوتِ اسلامی سے متعارف کرانے کے لئے’’مجلسِ رابطہ‘‘، میڈیا  کے ذریعے دُنیا بھر کے لوگوں تک اسلام اور سنتوں کا پیغام پہنچانے کے لئے’’مدنی چینل‘‘اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کو شش کے لئے دنیا کے کئی ممالک میں ’’مدنی قافلوں اور ہفتہ وار اجتماعات ‘‘  کا مدنی جال بچھایا جاچکا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خطیر رقم کے بغیر اس قدر زائد شعبہ جات میں دین کا کام کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے جس کا اندازہ چند ایک شعبہ جات کے درج ذیل سالانہ ،ماہانہ یا روزانہ کے اخراجات سے لگایا جاسکتا ہے۔

چند شعبہ جات کے اخراجات

1.   جامعۃ المدینہ(للبنین،للبنات):پاکستان میں جامعۃ المدینہ (للبنین و للبنات)کی تعداد 347،طلبہ وطالبات کی تعداد 20173 اور سالانہ اخراجات تقریباً  (661,670,000)  چھیاسٹھ کروڑ سولہ لاکھ ستر ہزار روپے ہیں۔

2.   مدرسۃ المدینہ)للبنین و للبنات(:ان مدارس کی تعداد تقریباً: 2064،طلبہ و طالبات کی تعداد تقریباً: 101410، اس سال حفظ کرنے والے طلبہ و طالبات کی تعداد:3730، سالانہ اخراجات: (696823128) اُنہتّر کروڑ اَڑسٹھ لاکھ تئیس ہزارایک سو اٹھائیس  روپے ہیں۔

3.   مدرسۃ المدینہ بالغان:پاکستان بھر میں مدرسہ المدینہ بالغان کی تعدادتقریباً 5000 ہےجن میں تقریباً 43532 اسلامی بھائی قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

4.        مدرسۃ المدینہ بالغات:مدرسہ المدینہ بالغات کی تعداد 3505ہےجن میں تقریباً


 

 34500 اسلامی بہنیں علم دین حاصل کرتی ہیں۔

5.   مدرسہ آن لائن)للبنین و للبنات(:مدرسہ المدینہ آن لائن طلبہ کی تعداد تقریباً2300 اور مدنی عملہ کی تعداد 250 ہے۔سالانہ اخراجات (38400000)تینکروڑ چوراسی لاکھ روپے ہے۔ ( واضح رہے آن لائن مدرسہ میں اسلامی بھائیوں کو اسلامی بھائی اور اسلامی بہنوں کو اسلامی بہنیں پڑھاتی ہیں )

6.   مجلسِ اعتکاف:گذشتہ سال پاکستان بھر میں پورے ماہِ رمضان کا اعتکاف 104 مقامات پر ہوا اورمعتکفین کی تعداد:10180 رہی۔جبکہ آخری عشرے کا سنّتِ اعتکاف1375 مقامات پر ہواجس میں معتکفین کی تعداد:73541 رہی ۔ گزشتہ سال اعتکاف پر ہونے والے اخراجات تقریبا ً7 کروڑ 50 لاکھ ہیں۔اس سال پاکستان بھر میں پورے ماہِ رمضان اعتکاف کا ہدف 119 مقامات اور آخری عشرے کے  اعتکاف کا ہدف 4100 مقامات ہیں۔

7.        مجلس خدام المساجد:صرف باب المدینہ کراچی میں 6 ماہ میں 50 کروڑ روپے مساجد کی تعمیر پر خرچ ہوئے ۔ جبکہ پورے پاکستان میں 375 مساجد زیر تعمیر ہیں۔

8.   اجیر:اس وقت تقریبا ً 12000 اجیر دعوتِ اسلامی کے تحت کام کر رہے ہیں۔

9.   مجلس علاج:علاج معالجہ پر مجلس علاج کے سالانہ اخراجات تقریباً (15600000) ایک کروڑ چھپن لاکھ روپے ہیں۔ 

10.              دارالمدینہ:پاکستان بھر میں 38دارالمدینہ ہیں ۔ جن میں 8000 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں دار المدینہ پر سالانہ 28 کروڑ 80 لاکھ روپے اخراجات آتے ہیں۔

11.              مدنی چینل:مدنی چینل کے یومیہ اخراجات تقریباً 15 لاکھ روپے اور ماہانہ اخراجات تقریباً چار کروڑ پچاس لاکھ روپے (45000000) ہیں۔


 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مستقل بنیادوں پر اور وہ بھی اتنے بڑے پیمانے پر اخراجات یقیناً زکوۃ و صدقات کے مدنی عطیات ہی کے ذریعےممکن ہے لہٰذا آپ بھی اپنی زکوۃ ،فطرہ،صدقات و غیرہ سے مُتَعَلّق تمام مدنی عطیات دعوتِ اسلامی کو دے کر سرمایہ آخرت اکٹھا کیجئے۔

      اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اسلاف کے اندازِ تجارت کے مطابق سچائی ،دیانتداری اور مُسلمانوں کی خیر خواہی کا خیال رکھتے ہوئےتجارت و ملازمت اور کاروبار کرنے نیز خوشدلی سے زکوۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

زکوٰۃ کون لے سکتا ہے؟

      شریعتِ مُطَہَّرَہ نے زکوٰۃ کا حقدار ہونے کے لیے ایک مالی معیار مقرر کیا ہے جس میں حکمت یہ ہے کہ ان لوگوں کی اعانت ہو سکے جو انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مستحقِ زکوٰۃ (شرعی فقیر)کے لئے ضروری ہے کہ وہ درج ذیل شرائط پر پورا اترتاہوجبکہ وہ ہاشمی یا سیِّدنہ ہو۔قرض اور حاجت اصلیہ میں مشغول تمام اموال کو نکال کر درج ذیل باتیں اس میں پائی جاتی ہوں۔

1.    اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونانہ ہو ۔

2.    ساڑھے باون تولہ چاندی اس کی ملکیت میں نہ ہو ۔


 

3.    ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو رقم بنتی ہے وہ اس کے پاس نہ ہو۔مثلاً 03 شعبانُ المعظم 1434ھ مطابق 13جون2013 ء کو چاندی کی قیمت فی تولہ 860روپے کے اعتبار سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم45150روپے بنتی ہے لہٰذا اتنی رقم بھی اس کے پاس نہ ہو۔

4.    ساڑھے باون تولہ چاندی کی مذکورہ قیمت کے برابر اس کے پاس کسی قسم کا مالِ نامی مثلاً مالِ تجارت ،پرائز بانڈز وغیرہ نہ ہوں۔

5.    اتنی ہی قیمت کے برابر اس کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد اشیاء مثلاً اضافی فرنیچر، گھریلو ڈیکوریشن کا سامان نہ ہو۔

6.    سونا یا چاندی اگر اوپر بیان کردہ مقدار سے کم ہے لیکن سونے یا چاندی کے ساتھ ساتھ دیگر وہ چیزیں بھی اس کے پاس ہیں کہ مالک نصاب ہونے میں جن کا شمار کیا جاتا ہے تو اب سب کی قیمت ملاکر دیکھیں گے اگر تمام کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مذکورہ قیمت کے برابر آتی ہے تو ایساشخص بھی زکوٰۃ کا مستحق نہیں۔ مثلاً ایک شخص کے پاس 10ہزار روپے کے پرائز بانڈز ،5ہزار روپے کیش اور ایک تولہ سونا تھا جس کی قیمت فی زمانہ تقریباًباون ہزار سات سو روپے بنتی ہے جب ان تمام کو ملایاگیا تو کُل67,700 روپے ہوئے اور اتنی مالیت کا حامل شخص زکوٰۃ کا مستحق نہیں لہٰذا ایسے کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔


 

7.    اسی طرح اگر سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہے مگر اتنا ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے مساوی ہے مثلا فی زمانہ ڈیڑھ تولہ سونا کی رقم بھی ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم سے زائد ہے اگر اتنی مقدار میں بھی سونا اس کے پاس ہے تو وہ زکاۃ نہیں لے سکتا ۔

8.    دو رشتے ایسے ہیں جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔(1)اولاد اپنے والدین کو اوپر تک اور والدین اپنی اولاد کو نیچے تک۔(2) شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو۔

مدَنی پھول: جو خود زکوٰۃ کا مستحق نہ ہو لیکن اس کے بالغ بچے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی مستحق زکوٰۃ ہوں یا اس کی بیوی زکوٰۃ کی مستحق ہو تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ۔

عطیات جمع کروانے کے لئے بنک اکاؤنٹ نمبرز

برائے زکوۃ و صدقاتِ واجبہ

A/C No.0388514411000260

Title : Dawateislami

Bank : MCB Bank

Cloth Market Branch (0063)

Karachi.

برائے عطیات و صدقاتِ نافلہ

A/C No.0388841531000263

Title : Dawateislami

Bank : MCB Bank

Cloth Market Branch (0063)

Karachi.

 


 

 

 

 

 

		پرائز بانڈز		پارٹیوں کی ادائیگیاں	
		پراوِ یڈَنٹ فنڈ میں جمع شدہ رقم		ملازمین کی تنخواہیں	
		بی سی اور کمیشن میں جمع شدہ رقم		گزشتہ سال کی زکوۃ جو ادا نہ کی گئی ہو۔	
4	مالِ تجارت	خام مال فیکٹری وغیرہ میں			
		تیار شدہ مال فیکٹری یا دکان وغیرہ میں			
		تجارتی پلاٹس، مکان یا فلیٹ			
		کاروبار میں شراکت کے قابل زکوۃ اثاثہ جات 			
			500000		300000
کل مالِ زکوۃ(رقم)	500000               زکوۃ نکالنے کا فارمولا :کل رقم کو 40پر تقسیم کریں  200000÷40=5000
منہا شدہ رقم          300000
قابل زکوۃ رقم        200000
زکوۃ کس طرح نکالی جائے
سب سے پہلے زکوۃ واجب ہونے کی قمری تاریخ کا تعین کر لیں۔زکوۃ واجب ہونے کی قمری/اسلامی تاریخ	
اِس تاریخ کو ملکیت میں موجود قابل زکوۃ اثاثوں کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق مالیت کا   تَعَیُّن درجِ ذیل طریقے سے کیجئے،ضروری اموالِ زکوۃ چارٹ میں درج کردئے گئے ہیں۔
قابل زکوۃ اثاثوں کی مالیت	رقم	وہ رقم جو زکوۃ کی رقم سے الگ کرنی ہے/Liablities	رقم
1	سونا	سونا (زیورات)		اگر قرضہ لیا ہوا ہے	
2	چاندی	چاندی(زیورات)		مکان ،دکان اشیاء کی واجب الادا قسطیں	
3	کرنسی	ملکی وغیر ملکی کرنسی موجودہ ریٹ		کمیٹی(BC)کے بقایا جات(جبکہ یہ کمیٹی مل چکی ہو)	
		بینکوں میں جمع شدہ رقم (علاوہ سود)		یوٹیلیٹی بلز، بجلی، گیس وغیرہ اگر سال پورا ہونے سے پہلے آچکے ہوں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


                                                                                                                                                                              ماخذ و مراجع

۔۔۔

قرآن پاک

کلام باری تعالیٰ

۔۔۔

نمبر شمار

کتاب

مصنف /مؤلف/متوفی

مطبوعہ

1

ترجمہ کنزالایمان

اعلیٰ  حضرت امام احمد رضا خان  متوفی۱۳۴۰ھ

مکتبۃ المدینہ، کراچی۱۴۳۲ھ

2

خزائن العرفان

صدالافاضل سیِّد نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ھ

مکتبۃ المدینہ،کراچی

3

نور العرفان

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ

پیر بھائی کمپنی کراچی

4

تفسیر ابن عربی

محمد بن علی الطائی الحاتمی المعروف بابن عربی ، متوفی ۶۳۸ھ

دار الکتب العلمیہ ،بیروت ۲۰۱۱ء

5

جامع احکام القرآن

ابو عبداللّٰهمحمد بن احمد انصاری قرطبی، متوفی ۶۷۱ھ

دار الفکر، بیروت

6

صحیح البخاری

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی۲۵۶ھ

دارالکتب العلمیہ۱۴۱۹ھ

7

صحیح مسلم

امام مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری متوفی۲۶۱ھ

دارابن حزم۱۴۱۹ھ

8

سنن الترمذی

امام محمد بن عیسیٰ  ترمذی متوفی۲۷۹ھ

دارالفکر ،بیروت۱۴۱۴ھ

9

سنن ابی داود

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی ۲۷۵ھ

دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۱ھ

10

سنن ابن ماجه

امام ابو  عبداللّٰهمحمد بن یزید ابن ماجہ، متوفی ۲۷۳ھ

دار المعرفہ، بیروت۱۴۲۰ھ

11

شرح النووی

 علی المسلم

امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی،

متوفی ۶۷۶ھ

دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۰۱ھ

12

المسند

امام ابو عبداللّٰه احمد بن محمد بن حنبل متوفی۲۴۱ھ

دارالفکر، بیروت۱۴۱۴ھ

13

المصنف

حافظ عبداللّٰهمحمد بن ابی شیبۃ  عبسی متوفی۲۳۵ھ

دارالفکر،بیروت۱۴۱۴ھ

14

المعجم الکبیر

حافظ سلیمان بن احمد طبرانی متوفی۳۶۰ھ

داراحیاء التراث العربی۱۴۲۲ھ

15

المعجم الاوسط

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی۳۶۰ھ

دارالکتب العلمیہ ،بیروت ۱۴۲۰ھ

16

شعب الایمان

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی۴۵۸ھ

دارالکتب العلمیہ، بیروت۱۴۲۱ھ

17

کنز العمال

علی متقی بن حسام الدین ہندی برہان پوری، متوفی ۹۷۵ھ

دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۹ھ

18

صحیح ابن حبان

ابو حاتم محمد بن حبان تميمي الدارمي، متوفى۳۵۴ھ

دار الکتب العلمیہ بیروت

19

صحیح ابن خزیمة

امام محمدبن اسحاق بن خزیمۃ النیسابوری ،متوفی۳۱۱ھ

المکتب الاسلامی، بیروت

20

فیض القدیر

علامہ محمد عبد الرء ُوف مناوی، متوفی۱۰۳۱ھ

دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۲ھ

21

الترغیب والترھیب

امام عبد العظیم بن عبد القوی منذری، متوفی ۶۵۶ھ 

دار الفکر، بیروت۱۴۱۸ھ

22

مرآۃ المناجیح

حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ

ضیاء القرآن پبلی کیشنز

23

تاریخ بغداد

حافظ ابوبکر علی بن احمد خطیب بغدادی، متوفی ۴۶۳ھ

دار الکتب العلمیہ،بیروت ۱۴۱۷ھ

24

تاریخ دمشق لابن عساکر

علامہ علی بن حسن، متوفیٰ ۵۷۱ ھ

دار الفکر، بیروت ۱۴۱۵ھ

25

الاستیعاب فی معرفة الاصحاب

ابوعمر یوسف  عبداللّٰه بن محمد بن عبد البر قرطبی، متوفی ۴۶۳ھ

دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۲ھ

26

احیاء علوم الدّین

امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ

دار صادر، بیروت۲۰۰۰ء

27

عیون الحکایات

ابوفرج عبد الرحمن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ

دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۴ھ

28

فتاوی رضویہ

امام اہلسنت احمد رضا خان متوفی ۱۳۴۰ھ

رضا فاؤ نڈیشن  لاہور

29

بہارِشریعت

مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ

مکتبۃ المدینہ

30

ملفوظات اعلیٰ حضرت

اعلیٰ حضرت  امام احمد رضاخان، متوفی ۱۳۴۰ھ

مکتبۃ المدینہ

31

رد المحتار

محمد امین ابن عابدین شامی، متوفی ۱۲۵۲ھ

دار المعرفہ، بیروت۱۴۲۰ھ

32

لسان الميزان

امام حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، متوفی ۸۵۲ھ

دار احیاء التراث العربی بیروت

33

رسائل نعیمیہ

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ

ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور

34

حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی ۴۲۵ حکایات

المدینہ العلمیۃ

مکتبۃ المدینہ

 



[1]مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شورٰی حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے ۱۳ جمادی الثانی۱۴۳۰ ہجری بمطابق 7 جون 2009 عیسوی بروزاتوار عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں’’معاشی بحران اور اس کا حل‘‘کے نام سے بیان فرمایا۔مگر بعد میں انہی کی تجویز پرضروری ترمیم واضافےکےبعد”اسلاف کا اندازِ تجارت“کے نام سے 9 رمضانُ المبارک ۱۴۳۵ ہجری بمطابق8 جولائی2014 عیسوی کو تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیۃ)

[2]الترغیب والترھیب،۲/۳۲۸،حدیث:۲۳

[3]عراق کے مشرقی حصے میں واقع ایک شہر۔

[4]عراق کے جنوبی حصے میں واقع ایک شہر۔

[5]احیاء العلوم ،کتاب آداب الکسب والمعاش، باب فی بیان العدل الخ، ۲/۹۳ملخصًا

[6]بہار شریعت،۲/۶۰۸

[7]شعب الایمان، باب فی حقوق الاولادالخ ، ۶/۴۲۰،حدیث:۸۷۴۱

[8]معجم الاوسط،۵/۱۳۶،حديث:۶۸۳۵

[9]ترمذی،کتاب البيوع،باب ماجاء فی التجاروتسمية النبی اياھم،۳/۵،حديث:۱۲۱۳

[10]معجم الاوسط،۶/۳۲۷، حديث:۸۹۳۴

[11]معجم الاوسط،۵/۳۳۷، حديث:۷۵۲۰

[12]مصنف ابن ابی شيبة،کتاب البيوع والاقضية،باب فی التجارةالخ،۵/۲۵۸،حديث:۷

[13]مراٰة المناجیح ، ۴/۲۲۸، ملخصاً

[14]شعب الایمان ، باب حفظ اللسان،۴/۲۲۱،حدیث: ۴۸۵۴

[15] مسلم،کتاب الایمان، باب بیان الدین النصیحة، ص۴۷،حدیث:۹۵

[16] بخاری ،کتاب الایمان، باب قول النبی الدین النصیحة الخ، ۱/۳۵، حدیث:۵۷

[17] شرح نووی،کتاب العلم، باب بیان الدین النصیحة، ۱/۴۰، الجزء الثانی

[18]احیاء العلوم،کتاب آداب الکسب والمعاش، باب  فی الاحسان فی المعاملة ،۲/۱۰۲

[19]بخاری ،کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیه  مایحب لنفسه،۱/۱۶، حدیث:۱۳

[20]ابوداؤد،کتاب الادب، باب فی المعاریض،۴/۳۸۱ حدیث:۴۹۷۱

[21] مسلم،کتاب الادب،باب قبح الکذب، ص۱۴۰۵،حدیث:۲۶۰۷

[22] بخاری، کتاب البيوع،باب يمحق الله الرباالخ،۲/ ۱۵، حديث: ۲۰۸۷

[23]صحیح ابن حبان،کتاب الزکاة، باب ماجاء فی الحرصالخ، ۴/۹۸، حدیث:۳۲۲۷

[24]بخاری،کتاب البیوع، باب  و اذا راوا تجارة الخ،۲/۹، تحت الباب :۱۱

[25]معجم کبیر،عبد الله بن مسعودالخ، ۹/۲۲۲، حدیث:۹۰۷۹

[26] تاریخ بغداد،باب مناقب ابی حنیفة ، ۱۳/۳۵۶

[27]عیون الحکایات،الحکایة الخامسة والاربعون بعد المائة ، ص۱۶۴ ،ملخصاً

[28]کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال ، ۳/ ۹۷، حدیث: ۶۳۲۵

[29] تاریخ دِمشق ،۳۵/۲۶۶

[30] استیعاب فی معرفةالاصحاب ،۲/۳۸۹

[31] اِحیاءُ العلوم ،۳/۳۲۵

[32] ترمذی، ابواب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاة علی النبی،۲/۲۹، حدیث: ۴۸۷

[33] ابن ماجه،۱/۱۴۶،حدیث:۲۲۴

[34]ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ، ۲۳/۶۲۳،۶۲۴

[35]دعوت اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ  کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد3حصّہ14 صَفْحَہ104 تا184میں اِجارے کے تفصیلی احکام درج ہیں

[36]فتاویٰ رضویہ،۱۹/۵۲۱

[37] ردّالمحتار،۹/۱۱۷

[38] تفصیل کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد19 صفحہ515 تا 516 دیکھ لیجئے

[39]حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی 425حکایات، ص۴۵۸

[40]حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی 425حکایات، ص۴۵۹

[41]مسلم،کتاب المساقاة...الخ، باب لعن اٰکل الربا ومؤکله، ص۸۶۲،حدیث:۱۵۹٨

[42]مسند امام احمد،مسند الانصار، ۸/۲۲۳، حدیث:۲۲۰۱۶

[43]ابن ماجه،کتاب التجارات،باب التغلیظ فی الربا،۳/۷۲،حدیث:۲۲۷۳

[44]مسندامام احمد ،مسند عبدالله بن مسعود،۲/۵۰، حدیث:۳۷۵۴

[45] فیض القدیر،۴/۶۶،تحت الحدیث:۴۵۰۵

[46] نور العرفان، پ۳، البقرة، تحت الآیة:۲۷۶

[47] تفسیر ابن عربی،پ۳، البقرة، تحت الآیة:٢٧٦ ،۱/۱۱۴

[48] مسندامام احمد ، مسند ابی ھریرہ ،۳ /۲۲۰،حدیث:۸۳۵۶

[49] معجم الاوسط ،۵/۳۴، حدیث: ۶۴۹۵

[50] ابن ماجه ،کتا ب الادب ،باب الاستغفار ،۴/۲۵۷، حدیث: ۳۸۱۹

[51] لسان المیزان،حرف العین،۴/۳۰۴ ،حدیث:۵۱۰۰

[52] ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص ۱۲۸

[53] الجامع لاحکام القر آن،للقرطبی،۲۰/۲۳۱

[54]معجم الاوسط ، ۳/۲۷۵، حدیث: ۴۵۷۷

[55]صحیح ابن خزیمة،کتاب الزکاة ، باب ذکر ادخال مانع الزکاة الخ ،۴/ ۸،حدیث: ۲۲۴۹

[56] صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب اثم مانع الزکاة ، حدیث: ۹۸۷، ص۴۹۱

[57] رسائل نعیمیہ، ص۲۹۸، بتصرف