{1} یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ(۶) (حجر، ع۱)([1] )
مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ(۲) (قلم، ع۱) ([2] )
نہیں تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ۔
اے وہ شخص کہ اتار ا گیا اس پر قرآن تو البتہ دیوانہ ہے۔
{2} اَىٕنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ(۳۶) (صافات، ع۲)([3] )
کیاہم چھوڑدینے والے ہیں اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کے واسطے۔
بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ(۳۷) (صافات، ع۲)([4] )
بلکہ وہ لایاہے حق اور سچا کیاہے پیغمبروں کو۔
وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗؕ- (یس، ع۵)([5] )
اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھایااور اس کے لائق نہیں ۔
{3} اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(۴۷) (بنی اسرائیل، ع۵)([6] )
نہیں پیروی کرتے تم مگر ایک مرد مسحور (جادو مارا )کی۔
اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا(۴۸) (بنی اسرائیل ، ع۵)([7] )
دیکھ کیونکر بیان کیں انہوں نے تیرے واسطے مثالیں ۔ پس وہ گمراہ ہوگئے پس نہیں پاسکتے کوئی راہ (طعن کی )۔
{4} لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤۙ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۳۱) (انفال، ع۴)([8] )
اگر ہم چاہیں تو کہہ لیں ایسا۔ یہ کچھ نہیں مگر قصے کہانیاں پہلوں کی۔
قُلْ لَّىٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا(۸۸) (بنی اسرائیل، ع۱۰)([9] )
کہہ دے اگر جمع ہوویں آدمی اور جن اس پر کہ لاویں ایسا قرآن تو نہ لاویں گے ایسا خواہ مدد کریں ایک کی ایک۔
{5} اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ- (یونس، ع۴)([10] )
یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو باندھ لیاہے۔
قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۳) (یونس، ع۴)([11] )
کہہ دے تم لے آؤ ایک سور ت ایسی اور پکارو جس کو پکار سکو اللّٰہ کے سوا اگر ہو تم سچے۔
{6} لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةًۚۛ- (فرقان، ع۳)([12] )
آپ پر قرآن ایک دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا۔
كَذٰلِكَۚۛ-لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا(۳۲) (فرقان،ع۳)([13] )
اسی طرح اتارا ہم نے تاکہ ثابت رکھیں ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو اور آہستہ آہستہ پڑھا ہم نے اس کو آہستہ پڑھنا۔ (یعنی ہر بات کے وقت پر اس کا جواب آتا رہے تو پیغمبر کا دل ثابت رہے۔ موضح)
{7} لَسْتَ مُرْسَلًاؕ- (رعد،اخیر آیت) ([14] )
تو رسول نہیں ۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠(۴۳) (رعد، اخیر آیت) ([15] )
کہہ دے کافی ہے اللّٰہ گواہی دینے والا درمیان میرے اور درمیان تمہارے اور وہ شخص کہ اس کے پاس ہے علم کتاب کا۔
یٰسٓۚ(۱) وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ(۲) اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۳)
یس! قسم ہے قرآن محکم کی تحقیق تو البتہ رسولوں میں سے ہے۔
{8} اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا(۹۴)
(بنی اسرائیل، ع۱۱)([16] )
کیا اللّٰہنے آدمی کو پیغمبر بناکر بھیجا ہے ؟
قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا(۹۵) (بنی اسرائیل، ع۱۱)([17] )
کہہ دے اگر ہوتے زمین میں فرشتے چلاکر تے آرام سے تو البتہ ہم اتارتے ان پر آسمان سے فرشتے کو پیغمبر بناکر۔
مطلب یہ کہ تجانس موجب توانس اور تخالف موجب تباین ہے([18] ) اس لئے فرشتوں کے لئے فرشتہ مبعوث ہونا چاہیے اور اہل ارض کے لئے بشر رسول چاہیے۔
{9} مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِؕ- (فرقان، ع۱)([19] )
کیا ہوا ہے اس پیغمبر کو کہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِؕ- (فرقان، ع۲)([20] )
اور نہیں بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے پیغمبر مگر تحقیق وہ البتہ کھاتے تھے کھانا اور چلتے تھے بازاروں میں ۔
{10} وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ(۳۱) (زخرف، ع۳)([21] )
کیوں نہ اتاراگیا یہ قرآن ایک مرد پر ان دو بستیوں سے۔
اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَؕ-نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاؕ-وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۳۲) (زخرف، ع۳)([22] )
کیا وہ بانٹتے ہیں تیرے پروردگار کی رحمت کو۔ ہم نے بانٹی ہے انکے درمیان انکی روزی حیات دنیا میں اور ہم نے بلند کیا ان میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں تاکہ پکڑیں بعضے ان کے بعضوں کو محکوم اور تیرے پروردگار کی رحمت بہتر ہے اس چیز سے کہ وہ جمع کرتے ہیں ۔
{11} هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍۙ-اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ(۷)o (سبا، ع۱)([23] )
کیا ہم راہ بتادیں تم کو اس شخص کی طرف جو خبردیتا ہے تم کو کہ جب تم ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے نہایت ریزہ ریزہ ہونا تحقیق البتہ نئی پیدائش میں ہوگے۔
اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌؕ-بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ(۸) (سبا، ع۱)([24] )
کیا باندھ لیا ہے اس نے اللّٰہپر جھوٹ یا اس کوجنون ہے بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے عذاب اور دورکی گمراہی میں ہیں ۔
{12}ایک روز آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد حرام سے نکل رہے تھے کہ باب بنی سہم میں عاص بن وائل سہمی آپ سے ملا اور کلام کیا۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوا تو اَشقیائے قریش نے پوچھا کہ تم کس سے باتیں کر رہے تھے عاص بولاکہ ابتر (بے نسل ) سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صاحبزادہ جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن مبارک سے تھا انتقال کرچکا تھا اس لئے عاص نے حضور کو یہ طعن دیا کہ زندگی تک ان کا نام ہے پیچھے کون نام لے گا۔ (مدارج النبوت) ([25] )
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳) (کوثر) ([26] )
تحقیق تیر ا دشمن وہی ہے بے نسل۔
چنانچہ عاص مذکو رکا نام نابود ہوگیامگر حضور انور بِاَبِیْ ہُوَ وَاُمِّیْ کا نام قیامت تک روشن ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذریت قیامت تک رہے گی۔
{13}حضرت کو کئی دن وحی نہ آئی دل مُکَدَّر ([27] ) رہا تہجد کو نہ اٹھے کافروں نے کہا: اس کو چھوڑ دیا اس کے رب نے۔ (موضح قرآن )
وَ الضُّحٰىۙ(۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ(۲) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) (الضحی) ([28] )
قسم ہے دن چڑھے کی اور رات کی جب ڈھانپ لیوے نہیں چھوڑدیا تجھ کو تیرے رب نے اور نہ نا خوش رکھا۔
موضح القرآن میں ہے کہ پہلے فرمائی دھوپ روشن کی اور رات اندھیری کی یعنی ظاہر میں بھی اللّٰہ تعالٰی کی دو قدرتیں ہیں باطن میں بھی کبھی چاندنا ہے کبھی اندھیرا۔ دونوں اللّٰہ کے ہیں اللّٰہ سے دور کبھی نہیں بندہ۔
{14} هُوَ اُذُنٌؕ- (توبہ، ع۸)([29] )
وہ ہر کسی کی بات سن کر لگ جانے والا ہے۔
قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْؕ- ([30] )
کہہ دے وہ اچھا سننے والا ہے تمہارے واسطے ایمان لاتا ہے اللّٰہ پر اور باور کرنے والاہے مومنوں کی بات اور رحمت ہے واسطے ان (منافقوں ) کے جنہوں نے اظہار ایمان کیا تم میں سے۔
{15}منافقوں نے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حرم محترم عائشہ صدیقہ پر بہتان لگایا تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
خود اللّٰہ تعالٰی نے حضرت صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی برآء ت آسمان سے نازل فرمائی۔ (دیکھو سورۂ نور، ع ۲)([31] )
{98} جو شخص حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سب و شِتْم کرے ([32] ) یاکسی وجہ سے صراحۃً یا کنایتہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تنقیص ِشان کرے([33] ) اس کاقتل کرنا بالاتفاق واجب ہے۔ مگر اس میں اختلاف ہے کہ یہ قتل کرنا بطریق حد ہے کہ بالفعل مارڈالنا چاہیے اور توبہ نہ کرانی چاہیے۔ یابطریق رِدَّت([34] ) ہے کہ اس سے توبہ طلب کی جائے اگر توبہ کرے تو بخش دینا چاہیے۔ اس مسئلے میں مختار قول اوَّل ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ اہانت کرنے والا مسلمان ہو اگر کافر ہو اور اسلام لاوے تو در گزر کرنا چاہیے۔
{99} اگرحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس جہاد کے لئے نکلیں توہر مسلمان پرواجب تھاکہ آپ کے ساتھ نکلے اور اگر کوئی ظالم آپ کے قتل کا قصد کرے تو جو مسلمان حاضر ہو اس پر واجب تھاکہ آپ کی حفاظت میں اپنی جان سے دریغ نہ کرے۔ چنانچہ ارشا د باری تعالٰی ہے:
مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-ٖ (توبہ، ع۱۵)
نہ چاہیے مدینے والوں کو اور جو ان کے گرد اعراب ہیں کہ رہ جائیں رسول اللّٰہ کے ساتھ سے اور نہ یہ کہ اپنی جان کو چاہیں زیادہ ان کی جا ن سے۔([35] )
{100} حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جس شخص کے لئے جس حکم کی تخصیص چاہتے کردیتے۔ چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت خزیمہ اَنصار ی کے لئے یہ تخصیص فرمائی کہ ان کی شہادت، حکم دو شہادت کا رکھتی ہے۔ اسی طرح آپ نے حضرت ام عطیہ انصاریہ کو نیاحت کی رخصت دی اور حضرت اسماء بنت عمیس کو رخصت دی کہ وہ اپنے خاوند حضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شہادت پر صرف تین دن سوگواری کرے۔ بعد ازاں جو چاہے کرے اور حضرت ابو بردہ بن نیار کو اجازت دے دی کہ تمہارے واسطے قربانی میں ایک سال سے کم کا بز غالہ([36] )کافی ہے اور آپ نے ایک فقیر سے ایک عورت کا نکاح کردیا او ر اس کا مہر یہ مقرر فرمایا کہ فقیر کو جتنا قرآن یاد تھا وہ اس عورت کو پڑھا دے۔
{101} حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تپ([37] ) اس شدت سے چڑھتا تھا جیسا کہ دوآدمیوں کو چڑھتا ہے تاکہ ثواب دو چند ملے۔
{102} مرضِ موت میں حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عیادت کے لئے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام تین دن حاضر خدمت ہوتے رہے۔
{103}جب ملک الموت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو اتو اذن طلب کیا۔ آپ سے پہلے اس نے کسی نبی سے اذن طلب نہیں کیا۔
{104}حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جنازۂ شریف کی نماز مسلمانوں نے گروہ ہاگروہ الگ الگ بغیر امامت کے پڑھی۔ آپ کے غلام شقران نے جسد مبارک کے نیچے لحد میں قطیفۂ نجرانیہ([38] ) بچھادی جو آپ اوڑھا کرتے تھے۔
نماز بے جماعت اور قطیفہ کا بچھانا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خصائص سے ہے۔
{105} آ پ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسم مقدس کو مٹی نہیں کھاتی۔ تمام پیغمبروں کایہی حال ہے۔عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
{106} حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بطورِ میراث کچھ نہیں چھوڑا جو کچھ آپ نے چھوڑا وہ صدقہ وو قف تھااور اس کا مصرف وہی تھا جوآپ کی حیات شریف میں تھا۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔
{107} حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے مرقد شریف میں حیات ِحقیقیہ کے ساتھ زندہ ہیں اور اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ۔ تمام پیغمبروں کا یہی حال ہے۔عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام۔
{108} حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا مرقد منور کعبہ مکرمہ اور عرش معلی سے بھی افضل ہے۔
{109} آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرقد منور پر ایک فرشتہ مؤکل ہے جو آپ کی امت کے درود آپ کو پہنچاتا ہے۔ جیسا کہ امام احمد ونسائی کی روایت میں ہے۔ جس وقت کوئی شخص آپ پر درود بھیجتاہے وہ فرشتہ عرض کرتاہے کہ یامحمد! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس وقت فلاں بن فلاں آپ پر درود بھیجتا ہے۔([39] ) حاکم کی روایت میں ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللّٰہ کے فرشتے ہیں جو زمین میں گشت کرتے ہیں وہ میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں ۔([40] )
{110}حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہر روز صبح و شام آپ کی امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ نیک اعمال پر آپ اللّٰہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور برے اعمال کے لئے بخشش طلب فرماتے ہیں ۔ حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی کہ کوئی روز ایسا نہیں مگر یہ کہ صبح و شام امت کے اعمال نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پیش کیے جاتے ہیں ۔ پس آپ ان کی پیشانیوں سے اور ان کے اعمال سے پہچانتے ہیں ۔([41] )
{111}آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے پہلے قبر مبارک سے نکلیں گے۔ آپ کا حشر اس حالت میں ہوگا کہ آپ براق پر سوار ہوں گے اور سترہزار فرشتے ہمرکاب ہوں گے۔ حضر ت کعب اَحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت میں ہے کہ ’’ ہر روز صبح کو ستر ہزار فرشتے آسمان سے اتر کر حضور انور کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے بازو ہلاتے ہیں (اور آپ پر درود بھیجتے ہیں ) اسی طرح شام کے وقت وہ آسمان پرچلے جاتے اور ستر ہزار اور حاضر ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جب آپ قبر شریف سے نکلیں گے تو ستر ہزار فرشتے آپ کے ساتھ ہوں گے۔ موقف میں آپ کو بہشت کے حلوں کی نہایت نفیس خلعت عطا ہوگی۔ ‘‘
{112}آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے منبر منیف([42] )اور قبر مبارک کے مابین بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
{113}حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قیامت کے دن مقامِ محمو د عطا ہوگا جس سے مراد بقولِ مشہور مقام شفاعت ہے۔
{114}قیامت کے دن اہل موقف طولِ وقوف کے سبب سے گھبراجائیں گے([43] ) اور بغرضِ شفاعت دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلام کے پاس یکے بعد دیگرے جائیں گے اور آخر کارحضو ر خاتم النبیین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوں گے آپ کو اہل موقف میں فصل قضاء کے لئے شفاعت عظمیٰ عطا ہوگی اور ایک جماعت کے حق میں بغیر حساب جنت میں داخل کیے جانے کے لئے اور دوسری جماعت کے رفع درجات کے لئے شفاعت کی اجازت ہوجائے گی۔ اس طرح ستر ہزار بہشت میں بے حساب داخل ہوں گے اور ستر ہزار کے ساتھ اوربہت سے بے حساب بہشت میں جائیں گے۔ اس کے علاوہ آپ کو اپنی امت کے لئے اور کئی قسم کی شفاعت کی اجازت حاصل ہوگی۔
{115}قیامت کے دن حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تبلیغ پر شاہد طلب نہ کیا جائے گا حالانکہ باقی انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے طلب کیا جائے گااور آپ تمام انبیائے کرام کے لئے تبلیغ کی شہادت دیں گے۔
{116} حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حوض کوثر عطا ہوگا۔
{117} حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا منبر منیف([44] )آپ کے حوض پر ہوگا۔
{118}قیامت کے دن حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت پہلے سب پیغمبروں کی امتوں سے زیادہ ہوگی۔ کُل اہل بہشت کی دو تہائی آپ ہی کی امت ہوگی۔
{119}قیامت کے دن ہر ایک نسب و سبب منقطع ہوگا(یعنی سود مندنہ ہوگا) مگر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نسب وسبب منقطع نہ ہوگا۔ اسی واسطے حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ام کلثوم بنت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے نکاح کیا تھا۔
{120} قیامت کے دن لوائے حمد حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک میں ہوگا اور حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام اور ان کے سوا اور تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اس جھنڈے تلے ہوں گے۔
{121}حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام (امت سمیت) سب سے پہلے پل صراط سے گزریں گے۔
{122}حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے پہلے بہشت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ خازن جنت پوچھے گا کہ کون ہیں ؟ آپ فرمائیں گے کہ میں محمدہوں ۔ وہ عرض کرے گا کہ میں اٹھ کر کھولتا ہوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے کسی کے لئے نہیں اٹھااور نہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کسی کے لئے اٹھوں گا۔ پھر آپ سب سے پہلے بہشت میں داخل ہوں گے۔
{123} آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وسیلہ عطا ہوگا جو جنت میں اعلیٰ درجہ ہے۔
{124}جنت میں حضرت آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کنیت ان کی تمام اولاد میں سے سوائے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کسی اور کے نام پر نہ ہوگی۔ چنانچہ ان کو ابو محمد کہاجائے گا۔
{125}جنت میں سوائے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کتاب (قرآن کریم) کے کوئی اور کتاب نہ پڑھی جائے گی اور نہ سوائے حضور کی زبان کے کسی اور زبان میں کوئی تکلم کرے گا۔
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی فضیلت قرآن کریم سے ثابت ہے۔ چنانچہ سورۂ اَحزاب میں باری تعالٰی عَزَّاِسْمُہٗ ارشاد فرماتا ہے:
{1} یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا(۲۸)
اے نبی!اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگانی اور اسکی زینت چاہتی ہو توآؤ میں تمہیں کچھ فائدہ دوں اور خوش اسلوبی سے تمہیں رخصت کردوں ۔([45] )
{2} وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۲۹)
اور اگر تم خدا اور اس کے رسول اور سرائے آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں ([46] )سے نیکو کاروں کے لئے خدا نے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔([47] )
{3} یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو صریح بے حیائی کا کام کرے گی اس کو دہری سزا دی جائے گی اور یہ خدا پر آسان ہے۔([48] )
اللّٰهِ یَسِیْرًا(۳۰)
{4} وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِۙ-وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا(۳۱)
اور جو تم میں سے اللّٰہ اور اسکے رسول کیلئے فرما نبرداری اور نیک عمل کرے گی ہم اسکو دہرا ثواب دیں گے اور اس کیلئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔([49] )
{5} یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)
اے نبی کی بیویو!تم عام عورتوں کی مثل نہیں ہو۔اگر تم پرہیز گاری رکھو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کروجس سے وہ شخص جسکے دل میں بیماری ہے لالچ کرے اور تم نیک بات کہا کرو([50] )
{6} وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)
اور تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور قدیم جاہلیت کے سے بناؤ سنگار دکھاتی نہ پھرو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔اے اہل بیت نبی! خدا تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے پلیدی کو دور کردے اور تم کو خوب پاک کردے([51] )
{7} وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠(۳۴)
اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں اور دانائی کی باتیں پڑھکر سنائی جاتی ہیں انکو یاد کرو بیشک اللّٰہ لطف کرنے والا خبردار ہے۔([52] )
{آیہ1و2} ہجرت کے نویں سال آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا۔ جب ۲۹ دن گزرنے پر مہینہ پورا ہوا توحضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام یہ آیت تخییر لائے اس وقت ازواج مطہرات نو تھیں یعنی حضرت عائشہ و حفصہ و ام حبیبہ بنت ابی سفیان و سودہ بنت زمعہ و ام سلمہ بنت ابی امیہ و صفیہ بنت حیی بن اخطب و میمونہ بنت حارث ہلالیہ و زینب بنت جحش اسدیہ و جویریہ بنت حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ۔ ان سب نے زینت دنیا پر اللّٰہ اور رسول کو اختیار کیا۔پس ثابت ہوا کہ وہ نہ دنیا چاہتی تھیں اور نہ ان کے دلوں میں دنیا کی زینت کی کچھ ہوس تھی کیونکہ اگر ہوتی تو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سے مفارقت کر کے کچھ دے دلا کرانہیں رخصت فرمادیتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔پس معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ رضائے خداو رسول کی طلبگار تھیں اور حسن آخرت کی متمنی تھیں اس عمل نیک پر اللّٰہ تعالٰی نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انہیں نوپر مقصور فرمادیااور فرمایا:
لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَؕ-
اسکے بعد تیرے واسطے اور عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کی بجائے اوروں کو بیویاں بنالے اگر چہ انکا حسن تجھ کو اچھا لگے مگر وہ جنکا مالک ہوگیا تیرا دایاں ہاتھ۔([53] )
یعنی چونکہ انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اختیار کیا ہے اس لئے آپ بھی ان پر دوسری عورتوں کو اختیار نہ کریں ۔
{آیہ3و4}اسی نیک عمل پر جزائے مذکورہ کے علاوہ اللّٰہ تعالٰی نے ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو یہ شرف بخشا کہ خود ان سے خطاب کیا اور ان کو اپنے حبیب پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نسبت دے کر فرمایا: اے نبی کی بیویو! تم میں سے اگر کوئی ناشائستہ حرکت کرے گی تو دیگر عورتوں کی نسبت اسے دگنا عذاب ہوگااور اگر نیک عمل کرے
گی تو اسے دوسری عورتوں سے دگنا ثواب ملے گا۔موضح القرآن میں ہے:یہ بڑے درجے کا لازِمہ ہے۔ نیکی کا ثواب دونا اور برائی کا عذاب دونا۔پیغمبرکو بھی فرمایا:
اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ (بنی اسرائیل، ع۸)
اس وقت البتہ ہم تجھے چکھاتے دگنا عذاب زندگی کا اور دگنا عذاب موت کا۔([54] )
اس سے اَزواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کا مقرباتِ درگاہِ الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔اسی وجہ سے حر([55] ) کی حد رقیق ([56] )کی حد سے دگنی ہے اور انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلام کو ان اُمور پر عتاب ہوتا ہے جن پر دوسرے لوگوں کو نہیں ہوتا۔ یہاں سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ باقی تمام عورتوں سے بہتر تھیں کیونکہ ان کا عذاب و ثواب باقی تمام عورتوں کے عذاب و ثواب سے دگنا ہے۔یہاں ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے لئے یہ بھی بشارت ہے کہ ان سے کوئی کھلی ناشائستہ حرکت سرزد نہ ہوگی کیونکہ آیہ(۳۰) سورۂ اَحزاب ازقبیل لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ([57] )ہے۔ بایں ہمہ([58] )جو لوگ ازواج مطہرات کے حق میں دریدہ د ہنی([59] ) کرتے ہیں وہ اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں کیونکہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنے حبیب پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج کو ناشائستہ حرکات سے محفوظ رکھا ہے اور اجر مضاعف([60] )کے علاوہ ان کے لئے آخرت میں رزقِ کریم تیار کر رکھا ہے۔ اس سے ان کا بہشتی ہونا ظاہرہے۔
{آیہ5} اس آیت میں خداوند تعالٰی نے ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے لئے تضعیف ثواب و عذاب([61] ) کی
وجہ بیان فرمادی کہ تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔ تم میں وہ وصف ہے جو اَوروں میں نہیں ۔ یعنی تم تحریم نکاح اور احترام و تعظیم کے لحاظ سے مومنوں کی مائیں ہو۔ (وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-) ([62] ) اور زَوجاتِ سید المرسلین ہو۔پھر فرمایا کہ اگر تم حکم الٰہی اور رِضائے رسول کی مخالفت سے ڈرتی ہو تو پس پردہ سے مردوں کے ساتھ نرمی سے کلام نہ کرو کیونکہ ایسا کرنا اگرچہ فاجر سے فاجر مومن میں کسی شہوت و طمع کا باعث نہیں ہوسکتا مگر منافق میں ہوسکتا ہے اور تم ایسی نیک بات کیا کرو جو تہمت و اِطماع سے پاک ہو یعنی سنجیدگی و خشونت([63] ) سے کلام کیا کرو اور ناز و کرشمہ سے بات نہ کیا کرو۔
{آیہ6} اور تم اپنے گھروں میں رہا کرو کیونکہ تمہارا تبرز یعنی باہر نکلنا کرشمہ آمیز کلام سے بھی زیادہ طمع دلانے والا ہے اور تم جاہلیت اُولیٰ کی عورتوں کی طرح چلنے میں تبختر([64] )نہ کرو کیونکہ تبختر تو تبرز سے بھی اشد ہے اور تم نماز و زکوٰۃ ادا کیا کرو اور تمام اوامر و نواہی میں خدا اور رسول کی اطاعت کیا کرو کیونکہ اے اہل بیت نبی!اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے پلیدی دور کردے اور پاک و صاف بنائے جیسا کہ پاک صاف بنانے کا حق ہے۔
{آیہ7} اور تمہارے گھروں میں جو آیات تلاوت کی جاتی ہیں تم ان کو یاد کر لیا کرو تاکہ خود عمل کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ۔
آیہ {6} میں جسے آیہ تطہیر کہتے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت ہیں ۔اسی واسطے ازواج کے ساتھ مطہرات استعمال کیا جاتا ہے۔ آیہ {1} سے آیہ {7} تک ان ہی سے خطاب اور ان ہی کا ذکر ہے اور ان ہی کے لئے اَوامر و نواہی بیان ہوئے ہیں ۔ مگر شیعہ کہتے ہیں کہ آیاتِ سابقہ و لاحقہ کے اَحکام تو اَزواج کے لئے ہیں درمیان میں صرف آیہ {6} میں ان سے خطاب نہیں بلکہ فقط حضرت علی و فاطمہ و حسنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم مخاطب ہیں ۔ ان کا یہ قول محض ہٹ دھرمی ہے۔ان چاروں کا آیات میں ذکر تک نہیں ۔ باعتبار موارد آیات سابقہ و لاحقہ کسی اجنبی کے ساتھ فصل موجب فساد بلاغت ہے۔زوجہ کا مرد کے اہل بیت میں ہونا نص قرآن سے ثابت ہے۔ دیکھو آیات ذیل:
قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۰) وَ امْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(۷۱)قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاؕ-اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ(۷۲)قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِؕ-اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ(۷۳) (ہود ،ع۷)
فرشتے بولے (ابراہیم سے)ڈرو مت ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور انکی بیوی (سارہ) کھڑی تھی وہ ہنس پڑی۔ہم نے اسکو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔وہ کہنے لگی ہائے میری خرابی!کیا میرے اولاد ہوگی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا شوہر بوڑھاہے بیشک یہ عجیب بات ہے۔ فرشتے بولے کیا تو خدا کے امر سے تعجب کرتی ہے، اے اہلبیت نبی تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں وہ بیشک تعریف کیا گیا اور بزرگ ہے۔([65] )
ان آیتوں میں فرشتوں نے حضرت سارہ کو بیٹا اور پوتا پیدا ہونے کی بشارت دی ہے۔حضرت سارہ اس پر تعجب کرتی ہیں ۔فرشتے حضرت سارہ کو لفظ اہل بیت سے خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ یہ جائے تعجب نہیں ۔تم پر خدا کی رحمت اور برکتیں ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔مزید بحث کے لئے تحفہ شیعہ مولفۂ خاکسار دیکھو۔
ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی تعداد میں اختلاف ہے۔گیارہ پر سب کا اتفاق ہے۔ جن میں سے چھ (حضرت خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، ام سلمہ،سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ) قبیلہ قریش سے اور چار (حضرت زینب بنت جحش، میمونہ، زینب بنت خزیمہ، جویریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ) عربیات غیر قریش خلفائے قریش سے ہیں اور ایک (حضرت صفیہ) غیر عربیہ بنی اسرائیل سے ہے. ([66] )ذیل میں بہ ترتیب تزوج ان سب کا حال بطریق اختصار لکھا جاتا ہے۔ ([67] )
ان کا سلسلہ نسب قُصٰی میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خاندان سے جا ملتا ہے۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت سے پہلے طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں ۔ ان کی پہلی شادی ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی سے ہوئی۔ جن سے دو لڑکے ہندوہالہ نام پیدا ہوئے۔ یہ دونوں صحابی ہیں ۔حضرت ہند کی روایت سے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حلیہ شریف منقول ہے۔
ابو ہالہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی عتیق بن عائذ مخزومی سے ہوئی جن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی۔اس کا نام بھی ہند تھا۔یہ اسلام لائیں اور اپنے چچیرے بھائی صیفی بن امیہ بن عائذ مخزومی سے شادی کی۔ان سے ایک لڑکا محمد بن صیفی پیدا ہواجس کی اولاد کو حضرت خدیجہ کے تعلق کے سبب بنو طاہرہ کہتے ہیں ۔
عتیق کے انتقال کے بعد آنحضرت کے نکاح میں آئیں جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے اسی نیک نہاد بیوی کے بطن مبارک سے تھی۔تفصیل آگے آئے گی۔ ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔
حضرت خدیجہ سب سے پہلے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائیں ۔ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں ۔ان کی زندگی میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے دوسری شادی نہیں کی۔انہوں نے اپنے مال سے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مدد دی۔ ایک روز حراء میں حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے کھانا لارہی تھیں ۔حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ خدیجہ جب آئیں تو آپ ان کو ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام پہنچادیں اور بہشت میں ایک موتیوں کے محل کی بشارت دیں ۔
اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّمیں حضرت خدیجہ و عائشہ باقی سب سے افضل تھیں ۔ حضرت خدیجۃ الکبری نے ہجرت سے تین سال پہلے 65سال کی عمر میں انتقال فرمایا اور کوہِ حُجون میں دفن ہوئیں ۔آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو قبر میں اتارا۔ ان پر نماز نہ پڑھی گئی کیونکہ اس وقت تک نماز جنازہ فرض نہ ہوئی تھی۔([68] )
ان کا سلسلہ نسب کعب بن لوئَ یْ بن غالب میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملتا ہے۔ قدیم الاسلام تھیں ۔ پہلے اپنے والد کے چچیرے بھائی سکران بن عمرو بن عبد شمس کے نکاح میں تھیں ۔حضرت سکرا ن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی قدیم الاسلام تھے۔دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی۔ جب مکہ واپس آئے تو حضرت سکران نے وفات پائی اور ایک لڑکا یادگار چھوڑا جس کا نام عبد الرحمن تھا۔ حضرت عبد الرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ جلولاء([69] ) (آخر ۱۶ھ) میں شہادت پائی۔
حضرت خدیجۃ الکبری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے انتقال سے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہایت پریشانی ہوئی کیونکہ گھر بار بال بچوں کا انتظام ان ہی سے متعلق تھا۔یہ دیکھ کر خولہ بنت حکیم نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ نکاح کر لیجئے۔ فرمایا:کس سے؟ خولہ نے حضرت عائشہ و سودہ کا نام لیا۔ آپ نے دونوں سے خواستگاری([70] ) کی اجازت دے دی۔ خولہ حضرت سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس گئیں اور کہا کہ خدا نے تم پر کیسی خیر و برکت نازل فرمائی ہے۔ سودہ نے پوچھاکہ وہ کیا ہے؟ خولہ نے کہا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے مجھے آپ کے پاس بغرض خواستگاری بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے منظور ہے مگر میرے باپ سے بھی دریافت کرلو۔‘‘ چنانچہ وہ ان کے والدکے پاس گئیں اور جاہلیت کے طریق پر سلام کیا۔ یعنی ’’ اَ نْعَمْ صَبَاحًا ‘‘کہا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ خولہ نے اپنا نام بتایا پھر نکاح کا پیغام سنایا۔ انہوں نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) شریف کفو ہیں مگر سودہ سے بھی دریافت کرلو۔ خولہ نے کہا کہ وہ راضی ہیں ۔ یہ سن کر زمعہ نے کہا کہ نکاح کے لئے آجائیں ۔ اس طرح باپ نے نبوت کے دسویں سال سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکا نکاح حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے کردیا۔سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکا بھائی عبد اللّٰہ بن زمعہ آیا۔یہ معلوم کر کے کہ بہن کا نکاح رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہو چکا ہے اس نے اپنے سر پر خاک ڈال لی۔ عبد اللّٰہ مذکور جب اسلام لائے تو ان کو اپنے اس فعل پر افسوس ہوا کرتا تھا۔
حضرت سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاطبیعت کی فیاض تھیں ۔ایک روز حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک
درہموں کی تھیلی آپ کی خدمت میں بھیجی۔آپ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لانے والوں نے جواب دیا کہ درہم ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے فرمایا کہ درہم کھجوروں کی طرح تھیلی میں بھیجے جاتے ہیں ! یہ کہہ کر اسی وقت تمام درہم تقسیم کردیئے۔
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد کی تعمیل میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاامتیازی حیثیت رکھتی تھیں ۔چنانچہ امام احمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بروایت ابو ہریرہ نقل کیا ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسے فرمایا کہ یہ حج اسلام ہے جو گردن سے ساقط ہوگیا اس کے بعد تم بوریا کو غنیمت سمجھنا۔ (یعنی گھر سے نہ نکلنا) آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال شریف کے بعد تمام ازواج مطہرات، سوائے سودہ اور زینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے، حج کو جایا کرتی تھیں اور وہ دونوں فرماتی تھیں کہ خدا کی قسم!رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وصیت سننے کے بعد ہم چوپایہ پرسوار نہ ہوں گی۔
حضرت سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے کتب متداولہ([71] )میں 5 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے ایک صحیح بخاری میں ہے۔حضرت عبد اللّٰہ بن عباس اور یحییٰ بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے ان سے روایت کی ہے۔ انہوں نے خلافت فاروقی کے آخری زمانہ میں انتقال فرمایا۔ بعضے سالِ وفات ۵۴ھ یا ۵۵ھ بتاتے ہیں ۔([72] )
واللّٰہ اعلم بالصواب ۔
ان کا نسب مرہ بن کعب میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے خاندان سے ملتا ہے۔بعثت کے چار برس بعد پیدا ہوئیں ۔ اپنے بھانجے عبد اللّٰہ بن زبیرکے تعلق سے اُم عبد اللّٰہ کنیت رکھتی تھیں ۔
چھ برس کی تھیں کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عقد نکاح میں آئیں ۔ پہلے جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب تھیں ۔خولہ بنت حکیم آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایماء سے ام رومان (والدۂ
عائشہ صدیقہ)کے پاس گئیں اور نکاح کا پیغام سنایا۔ام رومان نے رضا مندی ظاہر کی۔حضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر آئے تو ان سے تذکرہ کیا انہوں نے کہا کہ عائشہ تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بھائی کی بیٹی ہے، کیا یہ جائز ہے؟رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کہلا بھیجا کہ تم اسلام میں میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں یہ نکاح جائز ہے۔ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ام رومان سے کہا کہ ’’مطعم بن عدی اپنے پوتے کے لئے خواستگاری کر چکا ہے، واللّٰہ ! ابوبکر نے کبھی وعدہ کے خلاف نہیں کیا۔‘‘ اس لئے وہ مطعم کے پاس گئے اور اس سے تذکرہ کیا۔ مطعم نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ بیوی نے حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہا کہ اگر ہم نے اس لڑکے کا نکاح تمہارے ہاں کردیا تو شاید تم اس کو صابی([73] ) بنا لو گے اور اپنے دین میں داخل کرلو گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہاں سے اٹھ آئے اور خولہ کے ہاتھ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ نکاح کے لئے تشریف لے آئیں ۔ چنانچہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے (ماہ شوال ۱۰ نبوت میں ) حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکا نکاح کر دیا اور ہجرت کے پہلے سال ماہ شوال میں مدینہ منورہ میں نو سال کی عمر میں آپ کی رسم عروسی ادا کی گئی۔
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال شریف کے وقت حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی عمر مبارک اٹھارہ سال تھی۔انہوں نے چھیاسٹھ برس کی عمر میں ۵۷ھ میں انتقال فرمایا اور حسب وصیت رات کے وقت جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو مروان بن الحکم کی طرف سے اس وقت حاکم مدینہ تھے نماز جنازہ پڑھائی۔
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّمیں سے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے زیادہ محبت تھی۔ان کو دوسری ازواج پر اور کئی باتوں میں فضیلت تھی۔ چنانچہ ان کے سوا کسی اور زوجہ کے والدین مہاجر نہ تھے۔ان کی براء ت اللّٰہ تعالٰی نے آسمان سے نازل فرمائی۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامان کی صورت ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لائے اور عرض کیا کہ ان سے
شادی کر لیجئے۔ ان کے سوا کسی اور زوجہ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام کو نہیں دیکھا۔ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور یہ ایک برتن میں غسل فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھا کرتے اور یہ سامنے لیٹی ہوتیں ۔ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر وحی نازل ہوتی اور آپ اور یہ ایک لحاف میں ہوتے۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال شریف ان ہی کی گود میں اور ان ہی کی نوبت([74] ) میں ہوا اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان ہی کے حجرے میں دفن ہوئے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا عالمہ فصیحہ تھیں ۔حضرت موسیٰ بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ذکر کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے بڑھ کر فصیح نہیں پایا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ صحابہ کرام کو کوئی ایسا مشکل مسئلہ پیش نہیں آیا کہ جس کا حل انہوں نے حضرت عائشہ کے پاس نہ پایا ہو۔ محمود بن لبید کا بیان ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات کو بہت سی حدیثیں یاد تھیں مگر حضرت عائشہ و ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ان میں ممتاز تھیں ۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت عمر و عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے عہد میں فتویٰ دیا کرتی تھیں یہاں تک کہ انتقال فرماگئیں ، یَرْحَمُہَا اللّٰہُ۔رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَصحاب میں سے اَکابر حضرت عمر و حضرت عثمان حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد حضرت صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی خدمت میں کسی کو بھیج کر حدیثیں پوچھا کرتے تھے۔
آپ کثیرۃ الحدیث([75] ) تھیں ۔دو ہزار دو سو دس حدیثیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مروی ہیں جن میں سے 174 پر شیخین کا اتفاق ہے اور 54 میں امام بخاری اور 28 میں امام مسلم منفرد ہیں ۔
آپ وقائع و اشعار عرب سے خوب واقف تھیں ۔حضرت عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے بڑھ کر کسی کو قرآن و فرائض و حلال و حرام و فقہ و شعر و طب و حدیث عرب و نسب کا عالم نہیں پایا۔
آپ زاہدہ اور سخی تھیں ۔ام الدرداء روایت کرتی ہیں کہ ایک روز حضرت عائشہ روزہ دار تھیں ان کے پاس ایک لاکھ درہم آئے۔انہوں نے وہ سب تقسیم کردئیے میں نے کہا : کیا آپ یوں نہ کرسکتی تھیں کہ ایک درہم بچالیتیں جس سے گوشت خرید کر روزہ افطار کرتیں ۔انہوں جواب دیا کہ اگر تو مجھے یاد دلا دیتی تو میں ایسا ہی کر لیتی۔([76] )
بعثت سے پانچ برس پہلے جب قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے پیدا ہوئیں ۔ پہلے خنیس بن حذیفہ سہمی کے نکاح میں تھیں ۔ان ہی کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی۔ حضرت خنیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غزوۂ بدر میں کئی زخم کھائے۔ غزوہ کے بعد ان ہی زخموں کی وجہ سے انتقال فرماگئے۔
حضرتخنیسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنی بیٹی کے نکاح کی فکر ہوئی۔فتح بدر کے دن حضرت رُقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں حفصہ کا نکاح تم سے کردیتا ہوں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا۔پھر چند روز کے بعد کہہ دیا کہ میرا ارادہ ان ایام میں نکاح کرنے کا نہیں ہے۔بعد ازاں حضرت فاروق نے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ذکر کیا مگر وہ چپ ہو رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ اس پر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو رنج ہوا۔اس کے بعد آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواستگاری کی اور شعبان ۳ ھمیں نکاح ہوگیا۔ نکاح کے بعد حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ میری بے التفاتی کی وجہ صرف یہ تھی جو مجھے معلوم تھا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حفصہ کا ذکر کیا تھامیں حضور کا راز اِفشاء کرنا نہ چاہتا تھا۔ اگر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حفصہ سے نکاح نہ کرتے تو میں قبول کرلیتا۔
حضرت حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے ساٹھ حدیثیں مروی ہیں جن میں سے صرف پانچ بخاری میں ہیں ۔
انہوں نے شعبان ۴۵ ھ میں حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عہد خلافت میں انتقال فرمایا۔ مروان بن الحکم نے جو مدینہ کا گورنر تھانماز جنازہ پڑھائی اور بنو حزم کے گھر سے مغیرہ کے گھر تک جنازہ کو کندھا دیااور مغیرہ کے گھر سے قبر تک حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ شرف حاصل کیا۔([77] )
ہند نام،ام سلمہ کنیت تھی۔ باپ کا نام حذیفہ اور بقول بعض سہیل تھا۔ماں کا نام عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھا۔ پہلے اپنے چچا زاد بھائی ابو سلمہ (عبد اللّٰہ) بن عبد الاسد بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں جو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رضاعی بھائی تھے۔ ام سلمہ و ابو سلمہ دونوں قدیم الاسلام تھے۔دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ چنانچہ ان کے بیٹے سلمہ حبشہ ہی میں پیدا ہوئے۔پھر مکہ میں آئے اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ام سلمہ پہلی عورت ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ میں آئیں ۔مدینہ ہی میں ان کے ہاں عمر اور درہ و زینب پیدا ہوئیں ۔
حضرت ابو سلمہ بدر و اُحد میں شریک ہوئے۔اُحد میں زخمی ہوگئے ایک ماہ کے بعد زخم چنگا([78] ) ہوگیا۔ پھر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو ایک سریہ میں بھیج دیا۔ ایک ماہ کے بعد واپس آئے تو زخم پھر پھوٹ آیااور ۸جمادی الاخریٰ ۴ ھ میں وفات پائی۔ وفات کے وقت حضرت ام سلمہ حاملہ تھیں ۔ وضع حمل کے بعد حضرت ابوبکر و عمر نے خواستگاری([79] ) کی تو ام سلمہ نے انکار کردیا۔ پھر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نکاح کا پیغام بھیجا تو مرحبا کہہ کر یہ عذر پیش کیے:
{1}…میں سخت غیور عورت ہوں ۔
{2}…صاحب عیال ہوں ۔
{3}…میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں نہیں کہ میرا نکاح کردے۔ ایک روایت میں ہے کہ میری عمر زیادہ ہے۔
رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان عذروں کا تسلی بخش جواب دیا اور نکاح ہوگیا۔
جب حدیبیہ میں صلح نامہ لکھا جاچکا تو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اب اٹھوقربانیاں دو اور سر منڈواؤ۔ چونکہ صحابہ کرام کو بے نیل مرام ([80] ) واپسی سے رنج و ملال تھا۔ انہوں نے تعمیل ارشاد میں تامُل کیا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خفا ہو کر حضرت ام سلمہ کے خیمہ میں تشریف لے آئے اور اِمْتِثالِ اَمر میں توقف کی شکایت کی۔ اُم سلمہ نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ ان کو معذور رکھیں ، ان پر ایک امر عظیم گزرا ہے، ان کا خیال تو فتح مکہ کا تھاان کو یقین تھا کہ وہ مکہ میں عمرہ بجا لائیں گے۔ باوجود فقدانِ مطلوب آپ نے قریش سے صلح کرلی اور ان کی نہ سنی۔ اگر خاطر اَشرف اس پر ہے کہ وہ نحر و حلق کریں تو آپ کسی سے کچھ نہ فرمائیں اور خود نحر و حلق فرمائیں ۔یہ دیکھ کر ان کو بجز اِتباع چارہ نہ ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا اور حضرت اُم سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی تدبیر سے وہ مشکل حل ہوگئی اور یہ ان کی دانشمندی اور صواب رائے کی واضح دلیل ہے۔
حضرتِ اُم سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے کتب متداولہ میں 378حدیثیں مروی ہیں جن میں سے تیرہ پر بخاری و مسلم کا اتفاق ہے اور تین کے ساتھ امام بخاری اور تیرہ کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں ۔ باقی دیگر کتب میں ہیں ۔
ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّمیں سب کے بعد حضرت اُم سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے 84 برس کی عمر میں وفات پائی۔ ان کے سنہ وفات میں سخت اختلاف ہے۔واقدی کا قول ہے کہ شوال ۵۹ھ میں انتقال فرمایا اور حضرت ابو ہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ امام بخاری تاریخ کبیر میں ۵۹ ھلکھتے ہیں ۔بقول ابن حبان امام حسین کی شہادت کی خبر آنے کے بعد آخر ۶۱ھ میں وفات پائی۔ابراہیم حربی ۶۲ھ بتاتے ہیں ۔ مگر صحیح مسلم میں ہے کہ حارث بن عبد اللّٰہ بن اُبی اور عبد اللّٰہ بن صفوان حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس لشکر کی بابت پوچھا جو زمین میں دھنس جائے گا۔یہ سوال اس وقت کیا گیا جب یزید بن معاویہ نے مسلم بن عقبہ کو لشکر اسلام کے ساتھ مدینہ کی طرف بھیجا تھا اور واقعہ حرہ پیش آیا تھاجو ۶۳ھ میں تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ام سلمہ واقعہ حرہ تک زندہ تھیں ۔([81] )
اصلی نام رَمْلہ اور کنیت اُم حبیبہ تھی۔آپ حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دختر بلند اختر اور حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بہن تھیں ۔ پہلے عبیداللّٰہ بن جحش کے نکاح میں تھیں ۔ دونوں نے اسلام لاکر حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی۔ وہیں ان کی لڑکی حبیبہ پیدا ہوئی۔ عبیداللّٰہ عیسائی ہو کر حبشہ ہی میں مر گیا۔ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ام حبیبہ کی حالت وغربت کو مدنظر رکھتے ہوئے نجاشی کی معرفت نکاح کا پیغام دیا جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔ چنانچہ نجاشی نے ۷ ھمیں ان کا نکاح حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے کردیا۔ جیسا کہ اس کتاب میں پہلے آچکا ہے۔ جب نکاح کے تمام رسوم ادا ہوگئے تو نجاشی نے ان کو شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں روانہ کردیا۔
حضرت اُم حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی روایت سے کتب متداولہ میں 65 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے دو پر بخاری و مسلم کا اتفاق ہے اور ایک کے ساتھ امام مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ منفرد ہیں ۔ باقی دیگر کتب میں ہیں ۔ آپ کا وصال مدینہ منورہ میں ۴۴ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئیں ۔([82] )
ان کی پہلی شادی حضرت زید بن حارِثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی تھی۔ حضرت زید قبیلہ قضاعہ میں سے تھے۔ لڑکپن میں گرفتار ہوکر مکہ میں حضرت خدیجۃ الکبری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاتھ بطور غلام فروخت ہوئے۔ حضرت خدیجہ نے انہیں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حوالے کردیا۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نبوت سے پہلے ان کو آزاد کر کے متبنٰی([83] ) بنالیا اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد کہا کرتے تھے۔ حضرت زید سابقین اِلی الاسلام([84] ) میں سے تھے ان پر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاص توجہ تھی۔ آپ اہم امور میں ان سے کام لیتے اور لشکر کی
قیادت تک ان کے سپردکردیتے۔ اسی وجہ سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی اُمَیْمَہ بنت عبد المطلب کی صاحبزادی زینب بنت جحش سے کردینا چاہا مگر زینب اور ان کا بھائی راضی نہ ہوئے۔ اس پر یہ آیت اتری:
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶) (احزاب،ع ۵)
کسی مسلمان مرد یا عورت کو لائق نہیں جس وقت خدا اور اس کا رسول کوئی کام مقرر کردے کہ ان کو اپنے کام میں اختیار ہواور جو کوئی اللّٰہاور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا۔([85] )
پس حضرت زینب نکاح پر راضی ہوگئیں اور نکاح ہوگیا۔
حضرت زید اگر چہ عربی الاصل تھے مگر قریشی نہ تھے۔ قریش کی لڑکیوں خصوصاً اولاد عبد المطلب کے لئے اَشرافِ قریش میں کفو تلاش کیے جایا کرتے تھے اس لئے کچھ عرصہ طبعی طور پر حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی حرکاتِ عادِیہ کو کبر و تعاظم ([86] ) پر محمول کرنے لگے اور حضرت زینب بھی ان سے متکدر رہنے لگیں ۔ چنانچہ حضرت زید نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ان کی شکایت کی۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس طرح کی باتوں پر طلاق نہیں دیا کرتے۔ اسی امر کی طرف آیۂ ذیل میں اشارہ ہے۔
وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَۚ-وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُؕ- (احزاب، ع۵)
اور جس وقت تو کہہ رہا تھا اس شخص سے جس پر اللّٰہ نے اور تونے انعام کیا ہے کہ اپنی بیوی کو اپنے لئے تھام رکھ اور خدا سے ڈر اور تو اپنے جی میں چھپاتا تھا اس چیز کو جسے اللّٰہ ظاہر کرنے والا ہے اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا اور اللّٰہ زیادہ لائق ہے اس کا کہ تو اس سے ڈرے۔([87] )
بایں ہمہ اگر زید ان کو طلاق دیتے تو ایسی سیدہ شریفہ کے لئے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جیسا کفو اور کون ہو سکتا تھا اس لئے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاطر اَشرف میں آتا تھا کہ بصورتِ طلاق زینب کی تطییب خاطر([88] )اور اس کے حقوق کی رعایت کے لئے ان سے نکاح کرلینا ضروری ہوگامگر آپ اسے ظاہر نہ کر سکتے تھے کیونکہ جاہلیت میں متبنٰی ([89] )کو بمنزلہ ولد حقیقی ([90] ) سمجھتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ متبنیٰ کی مطلقہ([91] )کے ساتھ نکاح جائز نہیں ۔
آخر کار حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے طلاق دے دی۔ عدت گزرنے پر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زید ہی کو نکاح کا پیغام دینے کے لئے زینب کے پاس بھیجا۔ حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جواب دیا کہ میں استخارہ کرلوں ۔ پس اللّٰہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی:
فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآىٕهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًاؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا(۳۷)
(احزاب، ع۵)
پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دیدی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا نکاح ختم ہوجائے اور اللّٰہ کا حکم ہو کر رہتا ہے۔([92] )
اس طرح حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا نکاح ( ۳ ھ یا ۵ ھ میں ) 35 برس کی عمر میں ہوگیا۔ حضرت زینب فخر کیا کرتی تھیں کہ دیگر ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکا نکاح تو ان کے باپ یا بھائی یا اہل نے کردیا مگر میرا نکاح اللّٰہ تعالٰی نے آسمان سے کردیا۔ اس نکاح میں یہ حکمت بھی تھی کہ پسر خواندہ([93] )کی مطلقہ کا حکم معلوم ہوگیا۔
جب یہ نکاح ہوگیا تو مخالفوں نے کہا کہ محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام کردیا مگر خود اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں :
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (احزاب، ع۵)
محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَسَلَّم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن خدا کے پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں ۔([94] )
وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ- (احزاب، ع۱)
اور تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے نہیں بنایا یہ تمہارے مونہوں کی بات ہے۔([95] )
پس حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجو زید بن محمد کہلاتے تھے اس کے بعد زید بن حارثہ کہلانے لگے۔
حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی زاد بہن ہونے کے علاوہ جمال میں بھی ممتاز تھیں اس لئے ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّمیں سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ہمسری کا دم بھرتی تھیں چنانچہ خود حضرت صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : کَانَتْ تُسَامِیْنِیْ ۔ وہ میرا مقابلہ کرتی تھیں ۔
آپ نہایت راست گو اور پارسا تھیں ۔جب حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پر بہتان لگایا گیا تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ سے حضرت عائشہ کی نسبت پوچھا۔ آپ نے صاف کہہ دیا: وَ اللّٰہِ مَا عَلِمْتُ اِلَّا خَیْرًا ۔ واللّٰہ!مجھے عائشہ کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ۔
اسی راستی سے متاثر ہو کر حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے فرمایا کہ میں نے کوئی عورت زینب سے دین میں بہتر، خدا سے زیادہ ڈرنے والی، زیادہ سچ بولنے والی اور زیادہ صلہ رحم اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی۔
ایک دفعہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ مال مہاجرین میں تقسیم فرمارہے تھے۔ حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اس معاملہ میں کچھ بول اٹھیں ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ناگوار گزرا۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: عمر!ان کو جانے دو !یہ اَوَّاہ یعنی خاشع متضرع ([96] )ہیں ۔
حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا زاہدہ اور طبیعت کی فیاض تھیں ۔اپنے ہاتھ سے معاش پیدا کرتیں اور خدا کی راہ میں لٹا دیتیں ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر کیا تھا جو انہوں نے صرف ایک سال لیااور اپنے حاجت مند رشتہ داروں میں تقسیم کر کے دعا مانگی کہ خدایا! یہ عطیہ مجھے اگلے سال نہ ملے۔ حضرت فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ خبر لگی تو انہوں نے حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے لئے ایک ہزار اور بھیجا مگر حضرت زینب نے اسے بھی تقسیم کردیا۔ آپ کی دعا قبول ہوگئی اور آیندہ سال وفات پائی۔
ایک روز آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے فرمایا: اَسْرَعُکُنَّ لِحَاقًا بِیْ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا ۔تم میں سے مجھ سے جلدی ملنے والی وہ ہے جس کا ہاتھ تم سب سے لمبا ہے۔
ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اس ارشاد کو حقیقت پر محمول کرتی تھیں ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال شریف کے بعد جب ہم کسی ایک کے حجرے میں جمع ہوتیں تو ہم دیوار پر اپنے ہاتھوں کو ناپا کرتی تھیں ۔ ہمارا یہی خیال رہا یہاں تک کہ حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جو کوتاہ قد تھیں ہم سب سے پہلے انتقال فرمایااس وقت ہماری سمجھ میں آیا کہ ارشاد مذکور میں ہاتھ کا لمبا ہونا فیاضی کی طرف اشارہ تھا۔
جب حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنا کفن تیار کر رکھا ہے۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ایک کفن بھیجیں گے۔ دونوں میں سے ایک کو خیرات کردینا۔ چنانچہ اس وصیت پر عمل کیا گیا۔حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے مدینہ منورہ میں ۲۰ ھ میں پچاس یا تریپن برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت فاروق کی یہ آرزو تھی کہ خود حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو قبر میں اتاریں اس لئے ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَ سے دریافت کیا کہ ان کو قبر میں کون اتارے؟ جواب آیا کہ جو حیات میں ان کے گھر میں داخل ہوا کرتا تھا۔
حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں جن میں سے دو پر بخاری ومسلم کا اتفاق ہے۔([97] )
آپ مساکین کو کثرت سے کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے ام المساکین کی کنیت سے مشہور تھیں ۔ پہلے حضرت عبد اللّٰہ بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نکاح میں تھیں ۔ حضرت عبد اللّٰہ نے جنگ اُحد (۳ھ ) میں وفات پائی۔اسی سال آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نکاح میں آئیں اور صرف دو تین مہینے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں رہنے پائی تھیں کہ تیس سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بعد یہی ایک بی بی تھیں جنہوں نے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حیات شریف میں انتقال فرمایا۔([98] )
ان کی بہن ام الفضل لبابہ کبریٰ حضرت عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نکاح میں تھیں ۔ حضرت میمونہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پہلے مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی کے نکاح میں تھیں ۔مسعود نے طلاق دے دی تو ابو رُھم بن عبد العزّٰی نے ان سے شادی کرلی۔ ابو رُھم کے انتقال کے بعد حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کا نکاح مقام سرف میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کردیا۔ سرف ہی میں ۵۱ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی اور قبر میں اتارا۔ جب جنازہ اٹھانے لگے تو حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا کہ یہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ ہیں ان کے جنازے کو زیادہ حرکت نہ دو آہستہ لے چلو۔ ان کی روایت سے 76 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے سات پر بخاری و مسلم کا اتفاق ہے۔([99] )
حضرت جویریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا والد حارث بن ابی ضرار تھا جو قبیلہ بنی مُصْطَلِق کا سردار تھا۔ یہ پہلے مسافع بن صفوان مصطلقی کے نکاح میں تھیں جو ’’غزوۂ مریسیع‘‘ (۵ ھ)میں قتل ہوا۔ اس غزوہ میں بہت سے لونڈی غلام مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ چنانچہ حضرت جویریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت ثابت بن قیس بن شِماس اَنصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حصہ میں آئیں مگر انہوں نے حضرت ثابت سے نو اوقیہ سونے پر کتابت([100] )کرلی۔ پھر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یوں عرض کی: ’’یا رسول اللّٰہ! میں حارث کی بیٹی جویریہ ہوں میرا حال آپ سے پوشیدہ نہیں میں ثابت بن قیس بن شِماس کے حصہ میں آئی ہوں میں نے ان سے نو اُوقیہ سونے پر کتابت کرلی ہے۔ یہ رقم میرے مقدور سے زائد ہے مگر میں نے آپ کی فیاضی کی امید پر منظور کر لی ہے اور اب اسی کا سوال کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں ۔‘‘ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر چیز نہیں چاہتی ہو؟ انہوں نے پوچھا: وہ چیز کیا ہے؟ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں تمہارا زَرِ کتابت ادا کر دیتا ہوں اورتم سے نکاح کرلیتا ہوں ۔ حضرت جویریہ نے عرض کیا کہ مجھے منظور ہے۔ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت ثابت کو بلایا وہ بھی راضی ہوگئے چنانچہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نو اوقیہ سونا ادا کردیا اور حضرت جویریہ کو آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔
جب لوگوں کو اس نکاح کی خبر لگی تو انہوں نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رشتہ مصاہرت([101] )کی رعایت سے بنی مُصْطَلَق کے باقی تمام لونڈی غلاموں کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا ارشاد ہے کہ ’’ہم نے کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جو اپنی قوم کے لئے جویریہ سے بڑھ کر باعث برکت ہو کیونکہ ان کے سبب سے بنی مُصْطَلَق کے سینکڑوں گھرانے آزاد ہوگئے۔‘‘
جب حضرت جویریہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر بیس سال تھی۔ ان کا نام برہ تھا حضورانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بدل کر جویریہ رکھا۔ربیع الاوَّل ۵۰ ھ میں انتقال فرماگئیں اور مدینہ منورہ جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ ان کی روایت سے سات حدیثیں منقول ہیں جن میں سے دو بخاری میں اور دومسلم میں اور باقی دیگر کتب میں ہیں ۔([102] )
باپ کا نام حیی بن اَخطب تھاجو بنو نضیر کا سردار تھا۔ ماں کا نام ضرر تھاجو بنو قریظہ کے سردار سموال کی بیٹی تھی۔ حضرت صفیہ کی پہلی شادی سلام بن مشکم قریظی سے ہوئی۔ طلاق کے بعد کنانہ بن ابی الحقیق کے نکاح میں آئیں ۔ جب غزوۂ خیبر ( ۷ھ) میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنو ابی الحقیق کا قلعہ قموص فتح کیا تو کنانہ قتل ہوا۔ حضرت صفیہ کا باپ اور بھائی کام آئے خود بھی گرفتار ہوئیں ۔جب خیبر کے تمام قیدی جمع کیے گئے تو دحیہ کلبی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایک لونڈی کی درخواست کی۔ حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا کہ جاؤ ایک لونڈی لے لو۔ چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ کو لے لیا۔ ایک صحابی نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ نے صفیہ جو رئیسۂ قریظہ و نضیر تھی دِحیہ کو عطا فرما دی وہ تو آپ ہی کے لائق ہے۔‘‘ اس پر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دحیہ کلبی کو دوسری لونڈی عطا فرمادی اور خود صفیہ کو آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔جب خیبر سے روانہ ہوکر صَہْبَاء میں پہنچے تو رسم عروسی ادا کی گئی اور لوگوں سے ماحضر جمع کر کے دعوتِ وَلیمہ دی گئی۔
حضرت صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں ۵۰ ھ میں انتقال فرمایااور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ ان کی روایت سے دس حدیثیں منقول ہیں جن میں صرف ایک متفق علیہ ہے۔([103] )
پہلے ذکر آچکا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے جو حضرت ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بطن مبارک سے تھے حضرت خدیجۃ الکبری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے تھی۔ صاحبزادیاں بالاتفاق چار تھیں ۔ چاروں نے زمانہ اسلام پایا اور شرف ہجرت حاصل کیا مگر صاحبزادوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ قاسم و ابراہیم پر اتفاق ہے۔ بقول زُبیر بن بکار (متوفی۲۵۶ھ)صاحبزادے تین تھے۔ قاسم ،عبد الرحمن (جن کو طیب وطاہر بھی کہتے تھے)، ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ اکثر اہل نسب کی یہی رائے ہے۔([104] )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولاد کرام میں حضرت قاسم بعثت سے پہلے پیدا ہوئے اور قبل بعثت ہی سب سے پہلے انتقال فرماگئے۔ابن سعد نے بروایت محمد بن جبیر بن مطعم نقل کیا ہے کہ دو سال زندہ رہے۔ بقولِ مجاہد سات دن اور بقولِ مفضل بن غسان غلابی تیرہ مہینے زندہ رہے۔ ابن فارس کہتے ہیں کہ سن تمیز کو پہنچ گئے تھے۔آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کنیت ابو القاسم ان ہی کے نام پر ہے۔([105] )
صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں ۔بعثت سے دس سال پہلے جب آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عمر مبارک تیس سال کی تھی پیدا ہوئیں ۔ان کی شادی ان کے خالہ زاد بھائی ابو العاص بقیط بن ربیع سے ہوئی۔ ابو العاص حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی بہن ہالہ کے بطن سے تھے۔حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے کہنے سے ان کا نکاح بعثت سے پہلے حضرت زینب سے کردیا تھا۔ جب حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمکو منصب رسالت عطا ہوا تو حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صاحبزادیاں آپ پر ایمان لائیں مگر ابوالعاص شرک پر قائم رہا۔ اسی طرح حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعثت سے پہلے اپنی صاحبزادی رُقیہ کا نکاح عُتْبَہ بن ابی لہب سے اور ام کلثوم کا نکاح عتیبہ بن ابی لہب سے کردیا تھا۔
جب آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تبلیغ کا کام شروع کیا تو قریش نے آپس میں کہا کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی بیٹیاں چھوڑدو اور ان کو اس طرح تکلیف پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ ابو العاص سے کہنے لگے کہ تو زینب کو طلاق دیدے ہم تیرا نکاح قریش کی جس لڑکی سے تو چاہے کرادیتے ہیں ۔ ابو العاص نے انکار کیا مگر ابو لہب کے بیٹوں نے حضرت رُقیہ و اُم کلثوم کو ہم بستری سے پیشتر طلاق دے دی۔
اگر چہ اسلام نے حضرت زینب و ابو العاص میں تفریق کردی تھی مگر مسلمانوں کے ضعف کے سبب سے عمل درآمد نہ ہوسکا یہاں تک کہ ہجرت وقوع میں آئی۔ جب قریش جنگ کے لئے بدر آئے تو ابو العاص بھی ان کے ساتھ آئے اور گرفتار ہوگئے۔ حضرت زینب نے ان کے بھائی عَمْرو کے ہاتھ مکہ سے ان کا فدیہ بھیجا جس میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو پہنا کر پہلے پہل ابو العاص کے ہاں بھیجا تھا۔ جب حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر نہایت رقت طاری ہوگئی اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا زمانہ یاد آگیا۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد سے صحابہ کرام نے فدیہ واپس کردیا اور ابو العاص کو بھی چھوڑ دیا۔ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابوالعاص سے وعدہ لیا کہ مکہ جاکر حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو مدینہ بھیج دیں گے۔
جب ابوالعاص مکہ روانہ ہوئے تو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زید بن حارثہ اور ایک انصاری کو بھیجا کہ حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو ’’بطنِ یاجج‘‘ سے مدینہ لے آئیں ۔ ابو العاص نے مکہ میں پہنچ کر ایفائے وعدہ کیا اور حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے کہہ دیا کہ تم اپنے والد کے ہاں چلی جاؤ۔حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے چپکے چپکے سفر کی تیاری کی۔ابوالعاص کے بھائی کنانہ نے اونٹ پر سوار کرلیا اور تیر و کمان لے کر دن کے وقت روانہ ہوا۔ قریش کے چند آدمیوں نے تعاقب کیا اور ذو طویٰ میں جا گھیرا۔ ہبار بن اسود جو بعد میں ایمان لایا آگے بڑھا۔
اس نے حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نیزہ سے ڈرا کر اونٹ سے گرا دیا۔ وہ حاملہ تھیں حمل ساقط ہوگیا۔یہ د یکھ کر کنانہ نے ترکش([106] ) میں سے تیر نکال کر زمین پر رکھ لئے اور کہنے لگا: ’’جو شخص میرے نزدیک آئے گا وہ تیر سے بچ کر نہ جائے گا۔‘‘ یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ ابو سفیان نے کہا: ’’ٹھہرو! ہماری بات سن لو۔‘‘ اس پر کنانہ رک گیا۔ ابوسفیان بولا: ’’ہمیں محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے ہاتھ سے جو مصیبتیں پہنچی ہیں وہ تمہیں معلوم ہیں اب اگر تم دن دہاڑے ان کی لڑکی کو لے جاؤ گے تو لوگ اسے ہماری کمزوری پر محمول کریں گے ہمیں زینب کو روکنے کی ضرورت نہیں جب شور ہنگامہ کم ہوجائے گا تو رات کو اسے چوری چھپے لے جانا۔‘‘ کنانہ نے اس رائے کو تسلیم کیا اور چند روز کے بعد ایک رات حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اونٹ پر سوار کر کے لے آیااور زید اور انصاری کے حوالہ کردی۔ وہ دونوں ان کو مدینہ لے آئے۔
جُمَادَی الا ُولیٰ ۶ھ میں ابوالعاص ایک قافلۂ قریش کے ساتھ بغرض تجارت ملک شام کو گئے۔ان کے پاس قریش کابہت سا مال تھا۔مقام عیص کے نواح میں ان کو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایک سریہ ملاجو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖوَسَلَّم نے بسر کردگی حضرت زید بن حارثہ بھیجا تھا۔اس سریہ نے ابوالعاص کا تمام مال لے لیا ابوالعاص ہمراہیوں سمیت گرفتار ہوگئے۔حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ابوالعاص کو پناہ دی۔ صبح کو جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖوَسَلَّم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے پکار کر کہا کہ میں نے ابوالعاص کو پناہ دی ہے مسلمانوں میں سے ایک ادنیٰ شخص پناہ دے سکتا ہے اس لئے ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہ تھا۔اس کے بعد رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سفارش پر ابوالعاص کا تمام مال واپس کردیا گیا۔ ابوالعاص نے مکہ میں پہنچ کر وہ مال قریش کے حوالہ کردیا۔ پھر کہا:اے گروہ قریش! کیا تم میں سے کسی کا مال میرے ذمے باقی ہے؟سب بولے کہ نہیں ۔خدا تجھے جزائے خیر دے۔ بعد اَزاں ابوالعاص نے کلمہ شہادت پڑھ کر کہا : ’’اللّٰہ کی قسم! حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس اسلام لانے سے مجھے یہی امر مانع ہوا کہ تم گمان کرتے کہ میں نے صرف تمہارے مال ہضم کر جانے کے لئے ایک حیلہ کیا ہے۔ اس کے بعد ابوالعاص نے محرم ۷ھ میں مدینہ آکر اِظہار اِسلام کیااور آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نکاحِ اَوَّل یا نکاحِ جدید کے ساتھ ان کے حوالہ کردیا۔
حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ۸ ھ میں انتقال فرمایا۔ام ایمن سودہ بنت زمعہ اور ام سلمہ نے غسل دیا اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ابوالعاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قبر میں اتارا۔
حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد ایک لڑکا علی نام اور ایک لڑکی اُمَامہ تھی۔ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی والدہ ماجدہ کی زندگی میں چھوٹی عمر میں قریب بلوغ کے وفات پائی۔ ابن عساکر کہتے ہیں کہ بعض اہل نسب نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اُمَامہ سے بڑی محبت تھی۔نماز میں بھی ان کو اپنے کندھے پر رکھ لیتے جب رکوع کرتے تو اتار دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر سوار کرلیتے۔ ایک دفعہ نجاشی نے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کی خدمت میں ایک حلہ بھیجا جس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی انگوٹھی کا نگینہ حبشی تھا۔حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ انگوٹھی اُمَامہ کو عطا فرمائی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک روز کسی نے حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا جس میں ایک زَرِّین ہار([107] ) تھا۔ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سب ایک مکان میں جمع تھیں اُمامہ مکان کے ایک گوشہ میں مٹی سے کھیل رہی تھیں حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سب سے پوچھا کہ یہ ہار کیسا ہے؟ہم نے عرض کیا کہ اس سے خوبصورت و عجیب ہار ہمارے دیکھنے میں نہیں آیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں اسے اپنے محبوب ترین اہل کو دونگا۔ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سمجھیں کہ عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکو ملے گامگر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اُمَامہ کو بلایا اور اپنے دست مبارک سے وہ ہار ان کے گلے میں ڈال دیا۔
حضرت ابوالعاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُمَامہ کے نکاح کردینے کی وصیت کر گئے تھے۔حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے مرتے وقت حضرت علی مرتضی کَرَّم اللّٰہ تَعَالٰی َوجْہَہُ الْکَرِیْم سے وصیت کی کہ میرے بعد اُمَامہ سے نکاح کر لینا اس لئے حضرت زہراء کے بعد حضرت زبیر نے امامہ کا نکاح حضرت علی سے کردیا۔ حضرت علی نے حضرت مغیرہ بن نوفل سے وصیت کی کہ میرے بعد تم امامہ سے نکاح کرلینا۔ چنانچہ
حضرت مغیرہ نے حضرت علی کَرَّم اللّٰہ تَعَالٰی َوجْہَہُ الْکَرِیْم کی شہادت کے بعد امامہ سے نکاح کرلیا اور ان سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام یحییٰ تھا۔ بعضے کہتے ہیں کہ اُمامہ کی کوئی اولاد نہیں ۔ حضرت اُمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے حضرت مُغیرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں وفات پائی۔([108] )
حضرت رُقیہ اور ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں کی شادی ابو لہب کے بیٹوں سے ہوئی تھی جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبلیغ کا کام شروع کیا تو ابو لہب لعین نے اپنے بیٹوں سے کہا: ’’اگر تم محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار نہیں کرتے تو تمہارے ساتھ میری نشست و برخاست حرام ہے۔‘‘ عُتْبَہ اور عُتَیْبَہ دونوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی۔آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رقیہ کا نکاح حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کردیا۔
نکاح کے بعد حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت رُقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان کے ہاں وہاں ایک لڑکا پیدا ہواجس کا نام عبد اللّٰہ تھا۔عبد اللّٰہ نے اپنی ماں کے بعد ۴ ھ میں چھ برس کی عمر میں وفات پائی۔
حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حبشہ سے مکہ میں آئے اور مکہ سے دونوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ایام بدر میں حضرت رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بیمار تھیں اس لئے حضرت عثمان ان کی تیمارداری کے لئے غزوۂ بدر میں شامل نہ ہوئے۔ جس روز حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فتح کی بشارت لے کر مدینہ میں آئے اسی روز حضرت رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بیس سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ بدر کے سبب جنازہ میں شریک نہ ہوسکے۔
کنیت کے ساتھ ہی مشہور ہیں ۔پہلے عُتَیْبَہبن ابی لہب کے نکاح میں تھیں ۔ جب عُتَیْبَہ نے ان کو اپنے باپ
کے کہنے سے طلاق دی، رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گستاخی سے پیش آیا۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کی قمیص پھاڑ دی تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان مبارک سے نکلا: ’’یااللّٰہ ! اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو اس پر مسلط کردے۔‘‘ کچھ مدت کے بعد ابو لہب اور عُتَیْبَہ بغرض تجارت ایک قافلہ کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک راہب کے صومعہ ([109] )کے پاس اترے، راہب نے کہا کہ یہاں درندے بہت ہیں ۔ ابولہب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تمہیں میری عمر اور میرا حق معلوم ہے؟وہ بولے کہ ہاں ! ابو لہب نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )نے میرے بیٹے پر بد دعا کی ہے۔ تم اپنی متاع صومعہ پر جمع کردو اور عُتَیْبَہ کے لئے اس کے اوپر بستر کر دو اور خود اس کے گردا گرد سوجاؤ!چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔رات کو ایک شیر آیااس نے سب کو سونگھاپھر متاع پر کود کر عُتَیْبَہ کو پھاڑ ڈالا۔ اہل قافلہ نے ہر چند شیر کو تلاش کیامگر نہ ملا۔
حضرت رُقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بعد ربیع الاوَّل ۳ ھ میں ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکا نکاح حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوا اور شعبان ۹ھ میں انتقال ہوا۔آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز جنازہ پڑھائی۔([110] )
فاطمہ نام ،زہرا اور بتول لقب ہیں ، جمال و کمال کے سبب سے زہراء کہلاتی تھیں اور ماسوا سے انقطاع کی وجہ سے بتول تھیں ۔بعثت کے پہلے سال یا بعثت سے ایک سال پہلے یا پانچ سال پہلے بنا بر اختلافِ روایات پیدا ہوئیں ۔([111] )
ہجرت کے دوسرے سال آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا نکاح حضرت علی مرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجَہَہُ سے کردیا۔آپ نے حضرت علی سے پوچھا کہ ادائے مہر کے واسطے تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت علی نے جواب
دیا کہ ایک گھوڑا اور زِرَہ ہے۔ فرمایا کہ گھوڑا جہاد کے لئے ضروری ہے زِرَہ کو فروخت کر ڈالو۔چنانچہ وہ زِرَہ حضرت عثمان غنی نے 480 درہم کو خریدی۔ حضرت علی نے قیمت لاکر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے ڈال دی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں سے کچھ حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیا کہ خوشبو خرید لائیں اور باقی جہیز وغیرہ کے لئے اُم سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے حوالہ کیا، اس طرح عقد ہوگیا۔جہیز میں یہ چیزیں تھیں : ([112] )ایک لحاف، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں درخت خرما ([113] ) کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں ، ایک مشک، دو گھڑے۔ اسی سال ماہ ذوالحجہ میں رسم عروسی ادا کی گئی۔ حضرت علی مرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی َوجْہَہُ الْکَرِیْم نے ادائے رسم کے لئے مکان کرایہ پر لیا۔ پھر حضرت حارِثہ بن نعمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دے دیا۔ ([114] )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے اہل میں فاطمہ سب سے پیاری تھیں ۔ جب سفرپر جایا کرتے تو اخیر میں فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مل کر جاتے جب واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ سے ملتے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے کہ فاطمہ میرا پارۂ گوشت ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ فاطمہ ہی کی نسبت حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: خیر نساء ھذہ الامۃ۔ سیدۃ نساء العالمین۔ سیدۃ نساء اہل الجنۃ۔ سیدۃ نساء المومنین۔ افضل نساء الجنۃ۔ ([115] )
صاحبزادیوں میں صرف حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا سلسلہ نسب جاری ہے اور قیامت تک رہے گا۔
حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو گھر کا تمام کام کرنا پڑتا تھا۔ایک روز خبر لگی کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لونڈی غلام آئے ہیں اس لئے وہ ایک خادمہ کی درخواست کرنے کے لئے حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دولت خانہ میں آئیں ۔ آخر کار بارگاہِ رسالت سے جو جواب ملااس کا ذکر پہلے آچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔
خانگی([116] )معاملات میں بعض دفعہ حضرت علی و فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میں رنجش ہوجایا کرتی تھی تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام دونوں میں مصالحت کروادیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روز کا ذکر ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دولت خانہ میں تشریف لے گئے۔ حضرت علی کو وہاں نہ پایا آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زہراء سے (محاورۂ عرب کے موافق) پوچھا کہ میرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم دونوں میں کچھ ان بن ہوگئی ہے وہ ناراض ہوکر نکل گئے اور میرے ہاں قیلولہ نہیں فرمایا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص سے فرمایا کہ دیکھو تو کہاں ہیں ؟ اس نے آکر عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں ۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں تشریف لے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ پہلو کے بل لیٹے ہوئے ہیں چادر پہلو سے گری ہوئی ہے اور خاک آلود ہورہے ہیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم خاک جھاڑنے لگے اور فرمایا: اے ابو تراب! اٹھ بیٹھو۔ اس حدیث کے راوی حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی کو اس نام سے پیارا کوئی نام نہ تھا۔([117] ) (صحیحین)
فتح مکہ کے بعد حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ابو جہل کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہا۔حضرت زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے سنا تو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہنے لگیں : ’’آپ کو قوم کہتی ہے کہ آپ اپنی صاحبزادیوں کے لئے ناراض نہیں ہوتے۔ یہ دیکھئے کہ علی ابو جہل کی لڑکی سے نکاح کرنے لگے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اما بعد!میں نے ابو العاص سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کردیا۔ اس نے مجھ سے بات کہی اور سچ کر دکھائی مجھ سے وعدہ کیا اور پورا کردیا۔ فاطمہ میرا گوشت پارہ ہے میں پسند نہیں کرتا کہ
اسے تکلیف پہنچے۔ اللّٰہ کی قسم! رسول خدا کی لڑکی اور دشمن خدا کی لڑکی ایک شخص کے ہاں جمع نہ ہوں گی۔‘‘ یہ سن کر حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجَہَہُ الْکَرِیْم نے خواستگاری([118] ) چھوڑدی۔([119] )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال شریف کے بعد حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کبھی ہنستی نہ دیکھی گئیں اور وصال شریف کے چھ ماہ بعد ۳ رمضان ۱۱ ھ میں انتقال فرماگئیں ۔ حضرت عباس نے نماز جنازہ پڑھائی۔ بقیع میں رات کے وقت دفن ہوئیں ۔ حضرات علی و عباس و فضل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے قبر میں اتارا۔([120] )
حضرت زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد تین لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں ۔ امام حسن وامام حسین جو اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔ محسن و رُقیہ جو بچپن میں انتقال کرگئے۔ ام کلثوم جن کی شادی حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوئی۔ زینب جن کا نکاح عبد اللّٰہ بن جعفر سے ہوا۔ ان میں سے سوائے حضرات حسنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے کسی سے نسل نہیں رہی۔([121] )
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد میں یہ سب سے چھوٹے ہیں ۔بعثت کے بعد پیدا ہوئے اور بچپن میں انتقال فرماگئے۔طیب و طاہر اِن ہی کے لقب ہیں ۔([122] )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے آخری اولاد ہیں ۔ ذی الحجہ ۸ ھ میں مقام
عالیہ([123] ) میں جہاں ان کی والدہ حضرت ماریہ قبطیہ رہا کرتی تھیں پیدا ہوئے۔ اسی سبب سے عالیہ کو مشربہ ام ابراہیم بھی کہنے لگے تھے۔ ابو رافع کی بیوی سلمیٰ نے جو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا آپ کی پھوپھی صفیہ کی لونڈی تھیں دایہ گری کی خدمت انجام دی۔ جب ابو رافع نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان کی ولادت کی بشارت دی تو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابو رافع کو ایک غلام عطا فرمایا۔ ساتویں دن عقیقہ دیا اور سر کے بالوں کے برابر چاندی خیرات کی اور حضرت ابراہیم کے نام پر ابراہیم نام رکھا۔
دودھ پلانے کے لئے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابراہیم کو ام سیف کے حوالہ کیا۔ام سیف کا شوہر ابو سیف لوہار تھا۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم ابراہیم کو دیکھنے کے لئے عوالی مدینہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے ہم آپ کے ساتھ ہوا کرتے حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ابراہیم کو گود میں لے کر چوما کرتے۔ گھر دھوئیں سے پُر ہوا کرتا، بعض دفعہ میں پیشتر پہنچ کر ابو سیف کو اطلاع کردیتا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لا رہے ہیں دھواں نہ کرو۔یہ سن کر ابوسیف اپنا کام بند کردیتے۔
حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ام سیف ہی کے ہاں انتقال فرمایا۔ حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر ہوئی کہ ابراہیم حالت نزع میں ہے۔ اس وقت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے پاس تھے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے دیکھا کہ نزع کی حالت ہے گود میں اٹھا لیا آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ عبد الرحمن نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ ایسا کرتے ہیں ! فرمایا: ابن عوف! یہ رحمت و شفقت (میت پر) ہے۔ پھر فرمایا: ’’ابراہیم! ہم تیری جدائی سے غمگین ہیں آنکھیں اشکبار ہیں دل غمگین ہے ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو۔‘‘
چھوٹی سی چارپائی پر جنازہ اٹھایا گیا۔بقیع میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز جنازہ پڑھائی حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قبر سے متصل دفن ہوئے۔ فضل و اسامہ نے قبر میں اتارا رسول اللّٰہصَلَّی
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے کنارے کھڑے تھے آپ کے ارشاد سے ایک انصاری پانی کی مشک لایا اور قبر پر چھڑک دیااور شناخت کے لئے ایک نشان قائم کیا گیاجیسا کہ حضرت عثمان کی قبر پر کیا گیاتھا۔ حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عمر حسب روایت صحاح 17 یا 18 ماہ تھی۔
عرب جاہلیت کا اِعتقاد تھا کہ جب کوئی بڑا شخص مر جاتا یا کوئی حادثہ عظیم وقوع میں آتا ہے تو سورج یا چاند میں گہن لگ جاتا ہے۔اتفاق سے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کے دن سورج میں گہن لگ گیا تھااس لئے لوگ کہنے لگے کہ یہ ابراہیم کی موت کے سبب سے ہے۔آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ سورج چاند خدا تعالٰی کے دو نشان ہیں کسی کی موت سے ان میں گہن نہیں لگتا۔([124] )
اعتراض:یہود و نصاریٰ اور ان کے کاسہ لیس([125] ) آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثرتِ اِزدواج پر طعن کرتے ہیں اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں دَرِیدہ دَ ہنی([126] ) کرتے ہیں ۔
جواب :اس اعتراض کا جواب اللّٰہ تعالٰی نے اپنے کلام پاک میں یوں دیا ہے:
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ- (رعد، ع۶)
اور البتہ بیشک ہم نے تجھ سے پہلے پیغمبر بھیجے اور ان کو عورتیں اور اولاد دی۔([127] )
اس آیت میں اللّٰہ تعالٰی اپنے حبیب پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خطاب فرماتا ہے کہ آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ہیں ہم نے ان کو عورتیں دیں جیسا کہ تجھ کو دیں ۔اس کی تفصیل بائبل میں پائی جاتی ہے چنانچہ حضرت ابراہیم کے ہاں تین بیویاں تھیں ۔ (پیدائش، باب۱۱، آیہ۲۹، باب۱۶، آیہ۳، باب ۲۵، آیہ اول) حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلام کی چار بیویاں تھیں ۔(پیدائش، باب ۲۹، باب ۳۰، آیہ ۴، ۹)ان چار میں سے راحیل کی نسبت لکھا ہے:’’راحیل خوبصورت اور خوشنما تھی۔یعقوب (نکاح سے پہلے) راحیل پر عاشق تھا۔‘‘ (پیدائش، باب ۲۹، آیہ ۱۷، ۱۸)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی دو بیویاں تھیں ۔ (خروج، باب ۲، آیہ ۲۱۔ اعداد، باب ۱۲، آیہ اول) حضرت جدعون نبی
کی بہت سی بیویاں تھیں جن سے ستر لڑکے پیدا ہوئے۔ (اقضاۃ، باب۸، آیہ ۳۰) حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلام کے ہاں بہت سی بیویاں تھیں ۔ (اول سموئیل، باب۱۸، آیہ ۲۷۔ باب ۲۵، آیہ ۴۲، ۴۳۔ دوم سموئیل، باب ۳، آیہ ۲تا۵۔ باب ۵، آیہ ۱۳) حضرت داؤد نے حالت پیری میں ابی ساج سونمی سے نکاح کیا تاکہ وہ گرم رہیں ۔ (اول سلاطین، باب اول) حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کے ہاں بہت عورتیں تھیں ۔ چنانچہ اول سلاطین (باب ۱۱، آیہ ۳،۴) میں یوں ہے:
’’ اس کی سات سو جورواں بیگمات تھیں اور تین سو حر میں([128] )اور اس کی جوروں نے اس کے دل کو پھیرا کیونکہ ایسا ہوا کہ جب سلیمان بوڑھا ہوا تو اس کی جوروں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا۔‘‘
پس ثابت ہوا کہ’’ ایک سے زائد زوجہ کا ہونا‘‘ نبوت کے منافی نہیں ۔بائبل میں جو پیغمبروں کی نسبت دَرِیدہ دَہنی ([129] )کی گئی ہے ہم اسے غلط سمجھتے ہیں اور پیغمبروں کو معصوم جانتے ہیں ۔ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ ۔ دنیا سے میرے لئے عورتیں اور خوشبو محبوب بنائی گئی اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی۔([130] )
اس حدیث کے معنی میں دو قول بیان کیے جاتے ہیں :ایک یہ کہ حب اَزواج، زیادہ موجب ِابتلاء و تکلیف اور بَمُقْتَضائے بشریت([131] ) آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادائے رسالت سے غافل ہونے کا اندیشہ ہے مگر اس کے باوجود حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے کبھی بھی غافل نہ رہے تو اس سے معلوم ہوا کہ حب نسا میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے مشقت زیادہ اور اَجر اَعظم ہے۔
دوسرے یہ کہ حب نساء اس واسطے ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلوات اپنی ازواج کے ساتھ ہوں اور مشرکین جو آپ کو ساحر و شاعر ہونے کی تہمت لگاتے تھے وہ جاتی رہے۔بس عورتوں کا محبوب بنایا جانا آپ کے
حق میں لطف ربانی ہے۔ غرض بہر صورت یہ حب آپ کے لئے باعث فضیلت ہے۔([132] )
اس حدیث کے اَخیر میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ محبت آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے اپنے پروردگار کے ساتھ کمالِ مناجات سے مانع نہیں بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باوجود اس محبت کے اللّٰہ تعالٰی کی طرف ایسے متوجہ ہیں کہ اس کی مناجات میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہتی ہیں اور ماسوا میں آپ کے لیے ٹھنڈک نہیں ۔ پس حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت حقیقت میں صرف اپنے خالق تبارک و تعالٰی کے لئے ہے اور حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ حب نساء جب حقوق عبودیت کے ادا میں مخل نہ ہوبلکہ اِنقطاع الی اللّٰہ([133] )کے لئے ہو تو وہ از قبیل کمال ہے ورنہ از قبیل نقصان ہے۔([134] )
شیخ تقی الدین سبکی فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جو چار سے زیادہ ازواج کی اجازت دی گئی۔اس میں یہ بھید ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے چاہا کہ بواطن شریعت و ظواہر شریعت([135] )اور وہ امور جن کے ذکر سے حیا آتی ہے اور وہ جن کے ذکر سے شرم نہیں آتی۔ یہ سب بطریق نقل امت تک پہنچ جائیں چونکہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں میں سب سے زیادہ شرمیلے([136] )تھے اس لئے اللّٰہ تعالٰی نے آپ کے لئے چار سے زائد عورتیں جائز کردیں جو شرع میں سے نقل کریں حضرت کے افعال آنکھوں دیکھے اور اقوال کانوں سنے، جن کو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مردوں کے سامنے بیان کرنے سے حیا کرتے تھے تاکہ اس طرح نقل شریعت کامل ہوجائے۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواج کی تعداد کثیر ہوگئی تاکہ اس طرح کے اقوال و افعال کے نقل کرنے والے زیادہ ہوجائیں ۔ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ہی سے غسل و حیض و عدت وغیرہ کے مسائل معلوم ہوئے۔ یہ کثرت ازواج حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے معاذاللّٰہ شہوت کی غرض سے نہ تھی اور نہ آپ وطی کو العیاذ باللّٰہ لذت بشریہ کے لئے پسند فرماتے تھے۔ عورتیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے صرف اس واسطے محبوب بنائی گئیں کہ وہ
آپ سے ایسے مسائل نقل کریں جن کے زبان پر لانے سے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شرم و حیا کرتے تھے۔ پس آپ بدیں وجہ ازواج سے محبت رکھتے تھے کہ اس میں شریعت کے ایسے مسائل نقل کرنے پر اعانت تھی۔ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے وہ مسائل نقل کیے جو کسی اور نے نہیں کیے۔ چنانچہ انہوں نے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منام اور حالت خلوت میں جو نبوت کی آیات بینات دیکھیں اور عبادت میں آپ کا جو اجتہاد دیکھا اور وہ امور دیکھے کہ ہر عاقل شہادت دیتا ہے کہ وہ صرف پیغمبر میں ہوتے ہیں اور ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے سوا کوئی اور ان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ یہ سب ازواج مطہرات سے مروی ہیں ۔اس طرح حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثرت ازواج سے نفع عظیم حاصل ہوا۔([137] )
ایمان پر خاتِمہ کے چار اَوراد
ایک شخص اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اورایمان پر خاتِمہ بالخیر کیلئے دعا کا طالب ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُس کیلئے دعا فرمائی اورارشاد فرمایا: {1}(روزانہ) 41 بار صبح کو یَا حَیُّ یَا قَیَّوْمُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ اوّل و آخِر دُرُود شریف نیز{2} سوتے وَقت اپنے سب اَوراد کے بعد سُورۂ کافرون روزانہ پڑھ لیا کیجئے اس کے بعد کلام وغیرہ نہ کیجئے ہاں اگر ضَرورت ہو تو کلام کرنے کے بعد پھر سُورۂ کافرون تلاوت کر لیں کہ خاتِمہ اِسی پر ہو اِن شاءاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خاتِمہ ایمان پرہو گا ۔ اور{3} تین بار صبح اور تین بار شام اس دُعا کا ورد رکھیں : اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ نُّشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَّعلَمُہٗ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَانَعلَمُہٗ (الملفوظ، حصہ۲،ص۳۱۱، مکتبۃ المدینہ باب المدینہ ) {4} بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰٰی نَفْسِیْ وَ وُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ۔صبح وشام تین تین بارپڑھئے، دین، ایمان، جان، مال،بچّے سب محفوظ رہیں۔ (فیض القدیرشرح شرح الجامع الصغیر،الحدیث:۶۱۳۹،۶۱۴۰،ج۴، ص۶۸۳)
(غروب آفتاب سے صبح صادِق تک رات اور آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صبح ہے۔ )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا فرض ہے۔ آپ جو کچھ اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے لائے ہیں اس کی تصدیق فرض ہے۔ایمان بالرسول کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔
وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (فتح، ع۲)
اور جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا پس تحقیق ہم نے کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔([138] )
اس آیت میں بتا دیا گیا ہے کہ جو شخص ایمان باللّٰہ اور ایمان بالرسول کا جامع نہ ہو وہ کافر ہے۔
حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت واجب ہے۔آپ کے اَوامر کا اِمتثال([139] ) اور آپ کے نواہی([140] )سے اجتناب لازم ہے۔
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷) (حشر ، ع۱)
اور جو کچھ رسول تم کو دے تم اسے لے لو اور جس سے تم کو منع فرمائے اس سے تم باز رہو اور اللّٰہ سے ڈرو تحقیق اللّٰہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔([141] )
حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت و سنت کا اقتداء و اتباع واجب ہے۔
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (آل عمران،ع۴)
کہہ دیجئے اگر تم اللّٰہکی محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللّٰہ تم کو دوست رکھے گا اور تم کو تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللّٰہ
بخشنے والا مہربان ہے۔([142] )
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱) (احزاب، ع۳)
بیشک تمہارے واسطے رسول اللّٰہ میں اچھی پیروی تھی اس شخص کے لئے جو ثواب خدا اور روز آخر کی توقع رکھتا تھا اور جس نے اللّٰہ کو بہت یاد کیا۔([143] )
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-ط (احزاب، ع۱)
نبی مومنوں کیلئے ان کی جانوں سے سزاوارتر ہیں اور اَزواجِ پیغمبر اُن کی مائیں ہیں ۔([144] )
اس آیت سے ظاہر ہے کہ دین و دنیا کے ہر امر میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مومنوں کو اپنی جانوں سے زیادہ پیارے ہیں ۔اگر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی امر کی طرف بلائیں اور ان کے نفوس کسی دوسرے امر کی طرف بلائیں تو حضور کی فرمانبرداری لازم ہے کیونکہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس امر کی طرف بلاتے ہیں اس میں ان کی نجات ہے اور ان کے نفوس جس امر کی طرف بلاتے ہیں اس میں ان کی تباہی ہے اس لئے واجب ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام مومنوں کو اپنی جانوں سے زیادہ محبوب ہوں وہ اپنی جانیں حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر فدا کردیں اور جس چیز کی طرف آپ بلائیں اس کا اتباع کریں ۔
حضرت سہل بن عبد اللّٰہ تُسْتَری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت میں تحریر فرماتے ہیں :’’جو شخص یہ نہ سمجھا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی میری جان کے مالک ہیں اور یہ نہ سمجھا کہ تمام حالات میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولایت (حکم و تصرف) نافذ ہے اس نے کسی حال میں آپ کی سنت کی حلاوت
نہیں چکھی کیونکہ آپ اَولٰی بالمومنین ہیں ۔‘‘
ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم حضور سرورِ اَنامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِتباع کیسے بے چون و چرا([145] ) کیا کرتے تھے۔
{1}حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی وفات سے چند گھنٹے پیشتر اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے دریافت کیا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کفن میں کتنے کپڑے تھے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات شریف کس دن ہوئی۔([146] )اس سوال کی و جہ یہ تھی کہ آپ کی آرزو تھی کہ کفن و یوم وفات میں بھی حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موافقت نصیب ہو۔([147] )حیات میں تو حضورانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اتباع تھا ہی وہ ممات میں بھی آپ ہی کا اتباع چاہتے تھے۔اللّٰہ! اللّٰہ! یہ شوقِ اتباع!کیوں نہ ہو! صدیق اکبر تھے۔رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ
{2}حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جس امر پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم عمل کیا کرتے تھے میں اسے کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔اگر میں آپ کے حال سے کسی امر کو چھوڑدوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں سنت سے منحرف([148] )ہوجاؤں گا۔([149] )
{3} زید کے باپ اسلم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ حجر اسود کو بوسہ دیا اور (اس کی طرف نگاہ کر کے) فرمایا: اگر میں نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھ کو بوسہ نہ دیتا۔(بخاری، کتاب المناسک) ([150] )
{4}حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی۔ آپ نے اسکو نکال کر پھینک دیااور فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ آگ کی انگاری اپنے ہاتھ میں ڈالے؟‘‘ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ تو اپنی انگوٹھی اٹھالے اور (بیچ کر) اس سے فائدہ اٹھا۔ اس نے جواب دیا: نہیں ! اللّٰہ کی قسم!میں اسے کبھی نہ لوں گاحالانکہ رسول خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پھینک دیا ہے۔([151] ) (مشکوٰۃ بحوالہ صحیح مسلم، باب الخاتم)
{5}حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا گزر ایک جماعت پر ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی۔ انہوں نے آپ کو بلایاآپ نے کھانے سے انکار کیا اور فرمایا کہ نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیا سے رحلت فرماگئے اور جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔([152] ) (مشکوٰۃ بحوالہ صحیح بخاری،باب فضل الفقراء)
{6} رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے آٹے کی بھوسی کبھی صاف نہ کی جاتی تھی۔([153] ) (بخاری، کتاب الاطعمہ) ابن سعد نے بروایت ابو اسحاق روایت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو بن چھانے آٹے کی روٹی کھاتے دیکھا ہے اس لئے میرے واسطے آٹا نہ چھانا جایاکرے۔
(طبقات ابن سعد، جزء اول، قسم ثانی، ص۱۰۹) ([154] )
{7} حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو دیکھا گیا کہ اپنی اونٹنی ایک مکان کے گرد پھرا رہے ہیں ۔اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ میں نہیں جانتا مگر اتنا کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسا کرتے دیکھا ہے اس لئے میں نے بھی کیا۔([155] ) (امام احمد و بزار) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکابر صحابہ امورِ عادِیہ([156] ) میں بھی حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اقتداء کیا کرتے تھے۔
{8}مسجد نبوی سے ملحق حضرت عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مکان تھا جس کا پرنالہ بارش میں آنے جانے والے نمازیوں پر گرا کرتا تھا۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے اُکھاڑ دیا۔ حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللّٰہ کی قسم! ۱س پرنالے کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دست مبارک سے میری گردن پر سوار ہوکر لگایا تھا۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا کہ آپ میری گردن پر سوار ہوکر اس کو پھر اسی جگہ لگادو! چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔([157] )
رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت واجب ہے۔چنانچہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (توبہ، ع۳)
کہہ دیجئے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا قبیلہ و کنبہ اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو اور گھر جو تم پسند رکھتے ہو تمہارے نزدیک اللّٰہاور اسکے رسول اور اسکی راہ میں جہاد سے زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرویہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم بھیجے اور اللّٰہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔([158] )
اس آیت سے ثابت ہے کہ ہر مسلمان پر اللّٰہ اور رسول کی محبت واجب ہے کیونکہ اس میں بتا دیا گیا ہے کہ تم کو اللّٰہاور رسول کی محبت کا دعویٰ ہے اس لئے کہ تم ایمان لائے ہو پس اگر تم غیر کی محبت کو اللّٰہ اور رسول کی محبت پر ترجیح دیتے
ہو تو تم اپنے دعوے میں صادق نہیں ہو۔اگر تم اس طرح محبت غیر سے اپنے دعوے کی تکذیب کرتے رہو گے تو خدا کے قہر سے ڈرو۔آیت کے اَخیر حصے سے ظاہر ہے کہ جس کو اللّٰہ و رسول کی محبت نہیں وہ فاسق ہے۔
حضرت اَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن (کامل)نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں کی نسبت زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ (بخاری، کتاب الایمان) ([159] )
ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور سلف صالحین کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کیسی محبت تھی۔
{1}ایک روز حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ بیشک آپ سوائے میری جان کے جو میرے دو پہلوؤں میں ہے میرے نزدیک ہر شے سے زیادہ محبوب ہیں ۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ہرگز مومن (کامل )نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر نے جواب میں عرض کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پرکتاب نازل فرمائی بیشک آپ میرے نزدیک میری جان سے جو میرے دو پہلوؤں میں ہے زیادہ محبوب ہیں ۔اس پر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اَلْاٰنَ یَا عُمَریعنی اے عمر!اب تمہارا ایمان کامل ہوگیا۔(صحیح بخاری) ([160] )
{2}حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کیں ۔ دوسری حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ جلالت و ہیبت والا نہ تھا۔میں آپ کی ہیبت کے سبب سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔‘‘ (صحیح مسلم) ([161] )
{3}جب فتح مکہ کے دن حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد ابو قحافہ ایمان لائے تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوش ہوئے۔اس پر حضرت صدیق نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق دے کر بھیجا ہے اس (ابو قحافہ) کے اسلام کی نسبت (آپ کے چچا) ابو طالب کا اسلام (اگر وہ اسلام لاتے) میری آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈا کرنے والا ہوتا اس واسطے کہ ابو طالب کا اسلام آپ کی آنکھ کو (بہت سے امور کی نسبت) زیادہ ٹھنڈا کرنے والا تھا۔ ([162] )
{4} حضرت ثمامہ بن اُثال یمامی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجو اہل یمامہ کے سردار تھے ایمان لاکر کہنے لگے: ’’اے محمد!خدا کی قسم! میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا آج وہی چہرہ مجھے سب چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللّٰہ کی قسم ! میرے نزدیک کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔اب وہی دین میرے نزدیک سب دینوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللّٰہ کی قسم!میرے نزدیک کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔ اب وہی شہر میرے نزدیک سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، باب وفد بنی حنیفہ ) ([163] )
{5}حضرت ہند بنت عتبہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا (زوجہ ابو سفیان بن حرب) جو حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کلیجہ چبا گئی تھیں ایمان لاکر کہنے لگیں :’’یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رُوئے زمین پر کوئی اہل خیمہ میری نگاہ میں آپ کے اہل خیمہ سے زیادہ مبغوض نہ تھے لیکن آج سے میری نگاہ میں رُوئے زمین پر کوئی اہل خیمہ آپ کے اہل خیمہ سے زیادہ محبوب نہیں رہے۔‘‘ (صحیح بخاری،باب ذکر ہند بنت عتبہ) ([164] )
{6}حضرت صفوان بن اُمیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حنین کے دن رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے مال عطا فرمایا حالانکہ آپ میری نظر میں مبغوض ترین خلق تھے آپ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ میری نظر میں محبوب ترین خلق ہوگئے۔ (جامع ترمذی۔ باب ماجاء فی اعطاء المولفۃ قلوبہم) ([165] )
{7}فتح مکہ میں حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ابو سفیان بن حرب کو جواب تک ایمان نہ لائے تھے اپنے پیچھے خچر پر سوار کر کے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں لائے۔ حضرت عمر فاروق نے عرض کیا: اگر اجازت ہو تو اس دشمن خدا کی گردن اڑادوں ۔ حضرت عباس نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نے ابو سفیان کو پناہ دی ہے۔ حضرت عمر فاروق نے اصرار کیا تو حضرت عباس نے کہا: اے ابن خطاب! اگر ابوسفیان قبیلہ بنو عدی میں سے ہوتے تو آپ ایسا نہ کہتے۔اس پر حضرت عمر فاروق نے کہا: اے عباس! جس دن آپ اسلام لائے آپ کا اسلام میرے نزدیک خطاب کے اسلام سے (اگر وہ اسلام لاتا)زیادہ محبوب تھا کیونکہ آپ کا اسلام رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک زیادہ محبوب تھا۔([166] )
{8}جنگ احد میں ایک عفیفہ([167] ) کے باپ ، بھائی اور شوہر شہید ہوگئے۔اسے یہ خبر لگی تو کچھ پروا نہ کی اور پوچھا کہ یہ تو بتاؤ کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں ؟ جب اسے بتا دیا گیا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبحمد اللّٰہ بخیر ہیں تو بولی کہ مجھے دکھادو! حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو دیکھ کر کہنے لگی:کُلُّ مُصِیْبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَلٌ ۔ تیرے ہوتے ہر ایک مصیبت ہیچ ہے۔([168] ) (سیرت ابن ہشام) ؎
بڑھ کر اُس نے رُخِ اَقدس کو جو دیکھا تو کہا تو سلامت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رَنج و اَلم
میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی برادر بھی فدا اے شہ دیں ترے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
{9}حضرت عبد الرحمن بن سعد کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پاؤں سن ہوگیا۔ان سے یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ کے نزدیک جو سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے اسے یاد کیجئے۔یہ سن کر آپ نے کہا:یا محمد! ([169] ) (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )(اور آپ کا پاؤں اچھا ہوگیا) ([170] )
{10}حضرت بلال بن رَباح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت آیا تو ان کی بیوی نے کہا: وَا حُزْنَا (ہائے غم)یہ سن کر حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: وَا طَرَبَاہ غَدًا اَ لْقی الْاَحِبَّۃَ مُحَمَّدًا وَ حِزْبَہ ۔([171] ) وارے خوشی!میں کل دوستوں یعنی محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اور آپ کے اصحاب سے ملوں گا۔([172] )
{11}جب ۷ ھ میں قبیلہ اشعریین میں سے حضرت ابو موسیٰ وغیرہ مدینہ شریف کو آئے تو زیارت سے مشرف ہونے سے پہلے پکار پکار کر یوں کہنے لگے: غَدًا نَلْقِی الْاَحِبَّۃَ مُحَمَّدًا وَ حِزْبَہ۔ہم کل دوستوں یعنی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے دوستوں سے ملیں گے۔([173] )
{12}جنگ اُحد کے بعد قبیلہ عضل و قارَہ کے چند اشخاص آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کہنے لگے کہ آپ اپنے چند اصحاب کو ہمارے ساتھ روانہ کردیں تاکہ وہ ہم کو اسلام کی تعلیم دیا کریں ۔ آپ نے مرثد بن ابی مرثد، خالد بن بکیر، عاصم بن ثابت، خبیب بن عدی، زید بن([174] ) دَثِنِّہ اور عبد اللّٰہ بن طارق کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جب وہ آب رجیع پر پہنچے تو انہوں نے بے وفائی کی اور قبیلہ ہذیل کو بلالیا اور ہذیل کے ساتھ مسلح ہوکر ان اصحاب کو گھیر لیااور کہا کہ خدا کی قسم! ہم تم کو قتل کرنا نہیں چاہتے۔ ہم تمہارے عوض میں اہل مکہ سے کچھ لینا چاہتے ہیں ۔ حضرت مرثد و خالد و عاصم نے اپنے تئیں دشمنوں کے حوالے نہ کیااور مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ باقی تینوں کے ہاتھ انہوں نے جکڑ لئے۔جب ظہران میں پہنچے تو عبد اللّٰہ بن طارق نے اپنا ہاتھ نکال لیا اور تلوار ہاتھ میں لی۔ دشمن پیچھے ہٹ گیا اور دور سے پتھر پھینکتے رہے یہاں تک کہ حضرت عبد اللّٰہ شہید ہوگئے۔ باقی دو کو انہوں نے قریش کے ہاتھ بیچ دیا۔ چنانچہ حضرت زید کو صفوان بن امیہ نے خریدا تاکہ ان کو اپنے باپ امیہ بن خلف کے بدلے قتل کردے۔ صفوان نے
حضرت زید کو اپنے غلام نسطاس کے ساتھ تنعیم بھیج دیا۔حضرت زید کو قتل کرنے کے لئے حد حرم سے باہر لے گئے تو ابو سفیان نے (جو اب تک اسلام نہ لائے تھے) ان سے یوں کہا:’’اے زید!میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم یہ پسندکرتے ہو کہ اس وقت ہمارے پاس بجائے تمہارے محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہوں جن کو ہم قتل کردیں اور تم آرام سے اپنے اہل میں بیٹھو ۔ ‘‘
حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا:’’اللّٰہ کی قسم!میں پسند نہیں کرتا کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم اس وقت جس مکان میں تشریف رکھتے ہیں ان کو ایک کانٹا لگنے کی تکلیف بھی ہو، اور میں آرام سے اپنے اہل میں بیٹھا رہوں !‘‘
یہ سن کر ابو سفیان نے کہا:’’میں نے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ دوسروں سے ایسی محبت رکھتا ہو جیسا کہ محمد( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اصحاب محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے رکھتے ہیں ۔‘‘
اس کے غلام نسطاس نے حضرت زید کو شہید کردیا۔رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (سیرت ابن ہشام بروایت ابن اسحاق) ([175] )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے محب صادق میں علامات ذیل پائی جاتی ہیں ۔ اگر کوئی شخص حب احمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دعویٰ کرے اور اس میں یہ علامات نہ پائی جائیں تو وہ حب میں صادق و کامل نہیں ۔
{1}آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَقوال و اَفعال و آثار کا اِقتدائ، آپ کی سنت پر عمل، آپ کے اَوامر کا اِمتثال([176] )اور آپ کی نواہی ([177] )سے اجتناب اور آپ کے آداب سے آراستہ ہونا۔
{2}آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکر کثرت سے کرنا۔مثلاً درود شریف کثرت سے پڑھنا، حدیث شریف پڑھنا، مولود شریف کا پڑھنا یا مجالس میلاد شریف میں شامل ہونا۔
{3} آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہونے کا نہایت اشتیاق پیدا ہونا جیسا کہ حضرت
بلال و ابو موسیٰ وغیرہ کو تھا۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ
{4}آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کرنا۔ (تفصیل آگے آئے گی اِنْ شَاء اللّٰہ تَعَالٰی)
{5} آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جن سے محبت رکھتے تھے (اہل بیت عظام و صحابہ کرام مہاجرین و انصاررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) ان سے محبت رکھنااور جو شخص ان بزرگواروں سے عداوت رکھے اس سے عداوت رکھنا اورجو ان کو سب و شتم کرے([178] ) اس کو بُرا جاننا۔
صحابہ کرام کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس قدر محبت تھی کہ مباحات میں بھی جو اشیاء حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو محبوب و پسندیدہ تھیں وہی صحابہ کرام کو بھی محبوب تھیں ۔جیسا کہ واقعات ذیل سے ظاہر ہے۔
حضرت عبید بن ([179] )جریج رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ میں نے دیکھا کہ تم بیل کے دباغت کیے ہوئے چمڑے کا بے بال جوتا پہنتے ہو۔ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ ایسا جوتا پہنا کرتے تھے جس میں بال نہ ہوں اور اسی میں وضو کیا کرتے تھے اس لئے میں دوست رکھتا ہوں کہ ایسا جوتا پہنوں ۔(شمائل ترمذی) ([180] )
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھانے کے لئے بلایا جو اس نے تیار کیا تھا۔میں بھی حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ساتھ گیا جو کی روٹی اور شوربا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے لایا گیا جس میں کدو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا۔ میں نے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ پیالے کے اطراف سے کدو کی قاشیں تلاش کرتے تھے اس لئے میں اس دن کے بعد سے کدو ہمیشہ پسند کرتا رہا۔ (مشکوٰۃ بحوالہ صحیحین، کتاب الاطعمہ) ([181] )
امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے اس روایت کا ذکر آیا کہ حضور سرور عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کدو کو پسند فرماتے تھے۔ ایک شخص نے کہا : اَنَا مَا اُحِبُّہ(میں اس کو پسند نہیں کرتا)یہ سن کر امام موصوف نے تلوار کھینچ لی اور فرمایا:جَدِّدِ الْاِیْمَانَ وَ اِلَّا لَاَقْتُلَــنَّکَ ۔ تجدید ایمان کر ورنہ میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔(مرقاۃ، جزء ثانی، ص۷۷)([182] )
ایک روز حضرات حسن بن علی اور عبد اللّٰہ بن عباس اور عبد اللّٰہ بن جعفر بن ابی طالب حضرت سلمیٰ(خادمۂ رسول اللّٰہ )کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے واسطے وہ کھانا تیار کرو جسے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پسند فرمایا کرتے اور خوش ہوکر کھایا کرتے تھے۔ اس نے (امام حسن سے) کہا: بیٹا! آج تم اسے پسند نہ کرو گے۔ حضرت امام نے کہا کہ تم ہمارے واسطے وہی تیار کردو۔ پس حضرت سلمیٰ نے کچھ جو کا آٹا ایک ہنڈیا میں چڑھادیا۔ اوپر سے روغن زیتون اور کالی مرچیں اور زِیرہ ڈال دیا۔پک گیا تو ان کے آگے رکھ کر کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کھانے کو پسند فرمایا کرتے تھے اور خوش ہوکر کھایا کرتے تھے۔ (شمائل ترمذی) ([183] )
{6}جو لوگ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بغض و دشمنی رکھیں ان کو اپنا دشمن سمجھنا اور مخالف ِسنت و مبتدع سے دور رہنا، مخالف شریعت سے نفرت کرنا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ- (مجادلہ، ع۳)
تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو اللّٰہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ دوستی کریں ایسوں سے جو اللّٰہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اگر چہ وہ لوگ انکے باپ یا انکے بیٹے یا انکے بھائی یا ان کے گھرانے کے ہوں ۔([184] )
اس آیت پر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا پورا پورا عمل تھا۔ انہوں نے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی اعانت میں اپنی آبرو اور جان ومال سے دریغ نہ کیا۔کفار و مشرکین کے ہاتھوں سے اَذِیتیں برداشت کیں ۔خدا و رسول کے لئے اپنا وطن چھوڑا، خویش([185] ) و اقارب سے رشتہ الفت توڑا،اعلاء کلمۃ اللّٰہ کے لئے جہاد کیا اور خدا و رسول کی خوشنودی کے لئے اَعداء اسلام کو خواہ اقارب ہی ہوں قتل کیا یا کرنا چاہا۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ بن جرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یوم بدر میں اپنے والد کو قتل کر دیا۔([186] ) عبد اللّٰہبن اُبی جو رأس المنافقین([187] ) تھا اس کے صاحبزادے حضرت عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا: اجازت ہو تو میں ابن اُبی کو قتل کردوں ۔ مگر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اجازت نہ دی۔([188] ) حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ بدر میں اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ مخزومی کو قتل کر دیا۔([189] )بدر کے دن حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لڑکے عبد الرحمن نے جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے مبارز طلب کیا تو خود حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے مگر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اجازت نہ دی۔([190] ) جنگ احد میں حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔([191] )حضرات علی و حمزہ و عتبہ بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے جنگ بدر میں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو جو انکے گھرانے کے تھے قتل کرڈالا۔ جنگ بدر کے خاتمہ پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا لیکن حضرت فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں
تاکہ ہم ان کو قتل کردیں ۔ مثلاً عقیل کو حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالے کردیں اور میرے فلاں رشتہ دار کو میرے سپرد کردیں ۔مگر حضور رحمۃ للعالمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رائے پر عمل کیا۔([192] )
{7} قرآن کریم سے محبت رکھنا جس کو رسول اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا خُلْق بنایا ہوا تھا۔ قرآن کریم سے محبت رکھنے کی نشانی یہ ہے کہ ہمیشہ اس کی تلاوت کرے اور اس کے معانی سمجھے اور اس کے احکام پر عمل کرے۔ حضرت سہل بن عبد اللّٰہ تُسْتَری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :
’’خدا کی محبت کی نشانی قرآن سے محبت رکھنا ہے اور قرآن سے محبت رکھنے کی علامت رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت رکھنا ہے اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت رکھنے کی علامت آپ کی سنت سے محبت رکھنا ہے اور سنت سے محبت رکھنے کی نشانی آخرت سے محبت رکھنا ہے اور آخرت سے محبت رکھنے کی نشانی دنیا سے بغض رکھنا ہے اور بغض دنیا کی علامت یہ ہے کہ اس سے بجز کفاف و قوت لا یموت ذخیرہ نہ کرے جیسا کہ مسافر اپنے ہاتھ اسی قدر توشہ لے جاتا ہے کہ جس سے منزل مقصود پر پہنچ جائے۔‘‘
{8}رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت پر شفقت رکھنا اور ان کی خیر خواہی کرنا جیسا کہ خود حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا کرتے تھے۔
{9} دنیا میں رغبت نہ کرنا اور فقر کو غنا پر ترجیح دینا۔حضرت عبد اللّٰہ بن مغفل کا بیان ہے کہ ایک شخص نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خدا کی قسم! میں بے شک آپ سے محبت رکھتا ہوں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: دیکھ تو کیا کہتا ہے۔اس نے تین مرتبہ یہی عرض کیا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو فقر و فاقے کے لئے برگستوان([193] ) تیار کرلے
کیونکہ فقر و فاقہ میرے محب کی طرف اس سے بھی جلدی پہنچتا ہے جتنی کہ پانی کی رَو اپنے منتہیٰ کی طرف پہنچتی ہے۔([194] )
اس حدیث میں برگستوان کنایہ صبر سے ہے جس طرح لڑائی میں برگستوان گھوڑے کو اذیت سے بچاتی ہے اسی طرح صبر عاشقِ رسولِ خدا کو فقر و فاقے کی اذیت سے بچاتا ہے کیونکہ صبر کے بغیر نفوس فقر کی تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتے۔
خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت رکھتے اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں ۔حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا: آپ کیا فرماتے ہیں اس شخص کی نسبت جو ایسی قوم سے محبت رکھتا ہے جن سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی۔ آپ نے فرمایا: اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یعنی انسان قیامت کے دن ان لوگوں کے زمرہ میں اٹھے گا جن سے وہ محبت رکھتا تھا۔([195] )
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کیا کہ قیامت کب ہوگی۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس!تونے اس دن کے لئے کیا تیار کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے کچھ تیار نہیں کیا۔ہاں خدا اور رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔آپ نے فرمایا کہ تو اس کے ساتھ ہوگا کہ جس سے محبت رکھتا ہے۔([196])
اس حدیث کے تحت میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یوں تحریر فرماتے ہیں : ’’چوں خدارا دوست مے داری در جوار رحمت و عزت وے خواہی بود وچوں رسول خدار ا دوست داری نیز از مقام قربت و عنایت وے بہرہ ور
باشی اگر چہ مقام او بلند ترو عزیز تراست کہ کسے بآنجانر سد اما نور محبت و تبعیت وے بر محبان و تابعان وے خواہدتافت([197] )
و بمعیت قربت وے مشرف خواہد ساخت۔‘‘ ([198] )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان فرماتی ہیں ([199] ) کہ ایک شخص نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ بے شک میرے نزدیک میری جان اور میری اولاد سے زیادہ پیارے ہیں ، میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں مگر جس وقت آپ یاد آجاتے ہیں تو جب تک آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کو دیکھ نہ لوں صبر نہیں آتا۔ جب میں اپنی مو ت اور آپ کی موت کویاد کرتا ہوں تو میں یقین کرتا ہوں کہ جنت میں داخل ہوکر آپ انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ بلند مرتبہ میں اٹھائے جائیں گے اور میں جب جنت میں داخل ہوں گا تو(ادنیٰ درجہ میں ہونے کے سبب سے) مجھے ڈر ہے کہ آپ کو نہ دیکھ سکوں گا۔یہ سن کر آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے:
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (نساء، ع۹)([200] )
اور جو کوئی اللّٰہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے پس وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللّٰہ نے انعام کیا ہے یعنی پیغمبروں ، صدیقوں ، شہیدوں اور نیکوں کے ساتھ اور یہ اچھے رفیق ہیں ۔([201] )
ذیل میں وہ آیات پیش کی جاتی ہیں جن میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کا ذکر ہے:
(الف)
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) (فتح، ع۱)
ہم نے تجھے احوال بتانے والا اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ تم اللّٰہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤاور اسکی مدد کرو اور اسکی تعظیم کرو اور خدا کو شام و صبح پاکی کے ساتھ یاد کرو۔([202] )
اس آیت میں اللّٰہ تعالٰی نے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کے واجب ہونے کی تعلیم دی ہے۔
(ب)
{1} یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)
اے ایمان والو!اللّٰہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللّٰہ سے ڈرو تحقیق اللّٰہ سننے والا جاننے والا ہے۔([203] )
{2} یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)
اے ایمان والو!تم اپنی آواز نبی کی آواز سے اونچی نہ کرواور اس سے بات اونچی نہ کہو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے کہتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت جاویں اور تمہیں خبر نہ ہو۔([204] )
{3} اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)
تحقیق جو لوگ رسول اللّٰہ کے پاس اپنی آوازیں پست کرتے ہیں وہی ہیں جن کے دلوں کو اللّٰہ نے پرہیزگاری کیلئے جانچا ہے ان کیلئے معافی اور بڑا ثواب ہے۔([205] )
{4} اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)
تحقیق وہ لوگ جو تجھے حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔([206] )
{5} وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (حجرات، شروع)
اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو ان کے واسطے بہتر ہوتا اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔([207] )
سورۂ حجرات کی ان پانچ آیتوں میں اللّٰہ تعالٰی نے مومنوں کو آداب تعلیم فرمائے ہیں ۔
آیہ {1} میں بتایا گیا ہے کہ تم کسی قول یا فعل یا حکم میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پیش دستی نہ کرو۔([208] ) مثلاً جب حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں کوئی سوال کرے تو تم حضور سے پہلے اس کا جواب نہ دو۔ جب کھانا حاضر ہو تو حضور سے پہلے کھانا شروع نہ کرو۔جب حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی جگہ کو تشریف لے جائیں تو تم بغیر کسی مصلحت کے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے نہ چلو۔امام سہل بن عبد اللّٰہ تُسْتَرِی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنے مومن بندوں کو یہ ادب سکھایا کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے تم بات نہ کرو۔ جب آپ فرمائیں تو تم آپ کے ارشاد کو کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔آپ کے حق کی فروگذاشت([209] )اور آپ کے احترام و توقیر کے ضائع کرنے میں تم خدا سے ڈرو۔خدا تمہارے قول کو سنتا اور تمہارے عمل کو جانتا ہے۔
آیہ {2}کا شان نزول یہ ہے کہ ۹ ھ میں بنی تمیم کا ایک وفد آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہم پرکسی کو امیر مقرر فرما دیں ۔حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ آپ قَعْقَاع بن مَعْبَد کو امیر بنادیں ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ اقرع بن حابس کو امیر بنادیں ۔حضرت صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ آپ میری مخالفت کرتے ہیں ۔ حضرت فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا کہ نہیں ! اس طرح دونوں جھگڑ پڑے اور ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس قدر دھیمی آواز سے کلام کیا کرتے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو دوبارہ دریافت کرنے کی حاجت پڑتی ([210] ) اور حضرت صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بقول حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قسم کھالی کہ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کلام نہ کیا کروں گامگر اس طرح جیسا کہ کوئی اپنے ہمراز سے پوشیدہ باتیں کرتا ہے۔([211] )
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ جب آیہ
‘’ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ’‘([212] )
نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جو بلند آواز اور خطیب ِانصار تھے)گھر میں بیٹھ گئے۔ کہنے لگے کہ میں دوزخیوں میں سے ہوں اور وہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر نہ ہوئے۔ ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا کہ ثابت کا کیا حال ہے۔ کیا وہ بیمار ہے؟ حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ وہ میرا ہمسایہ ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بیمار ہے۔ اس کے بعد سعد نے حضرت ثابت سے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قول ذکر کیا۔ حضرت ثابت نے کہا کہ یہ آیت
نازل ہوئی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں اس لئے میں دوزخیوں میں سے ہوں ۔حضرت سعد نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ ذکر کردیا تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: نہیں بلکہ وہ بہشتیوں میں سے ہے۔([213] )
اس آیت کی رُو سے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس شریف میں بلند آواز سے بولنا اتنا بھاری گناہ تھا کہ اس سے اَعمال اَکارت و برباد ہوجاتے۔ اللّٰہ تعالٰی کو حضراتِ شیخین واَمثالہماکا طریق ادب پسند آیا۔ ان کی مدح میں آیہ {3} نازل فرمائی اور ان کو متقی ہونے کی سند عطا فرمائی اور قیامت کے دن ان کو مغفرت و اجر عظیم کی بشارت دی۔
ایک دفعہ بعض لوگوں نے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حجروں کے باہر سے یا محمد یا محمد کہہ کر پکارا۔ اس پر آیہ {4}نازل ہوئی([214] )جس میں بتادیا گیا ہے کہ اس طرح پکارنا سوء ادب ہے ایسی جرأت وہ لوگ کرتے ہیں جن کو عقل نہیں ۔حسن ادب اور تعظیم حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو اس میں تھی کہ وہ لوگ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے در دولت پر بیٹھ جاتے اور انتظار کرتے یہاں تک کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود باہر تشریف لاتے۔ اس طرح کا حسن ادب ان کے لئے موجب ثواب تھا۔ جیسا کہ آیہ {5} میں ہے۔
(ج)
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (نور، ع۹)
تم اپنے درمیان رسول کا پکارنا ایسا نہ ٹھہراؤ جیسا کہ ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔([215] )
اس آیت میں بتادیاگیا ہے کہ تم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نام لے کر (یامحمد یا محمد) نہ پکارا کرو جیسا کہ ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہوبلکہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اَدب سے یوں پکارا کرو: یا رسول
اللّٰہ، یا نبی اللّٰہ، یا خیر خلق اللّٰہ۔ اس کا مزید بیان پہلے آچکا ہے۔
(د)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)(بقرہ، ع۱۳)
اے ایمان والو!تم راعنا نہ کہو اور انظرنا کہو اور بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔([216] )
جس وقت رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ ارشاد فرماتے تو مسلمان عرض کیا کرتے: ’’ رَاعِنَا ‘‘ (ہماری طرف متوجہ ہوجئے،یعنی ذرا ٹھہرئیے کہ ہم سمجھ لیں ) عبرانی زبان میں اس لفظ کے معنی شریر کے ہیں ۔ یہود اس لفظ کو بطریق استہزاء استعمال کرتے تھے اور تعریض و اشارہ اسی معنی کی طرف کیا کرتے تھے۔ چونکہ ’’ رَاعِنَا ‘‘ کا التباس([217] ) عبرانی لفظ سے ہوتا تھا اس لئے اللّٰہ تعالٰی نے مومنوں کو تعلیم دی کہ تم بجائے ’’ رَاعِنَا ‘‘ کے ’’ انْظُرْنَا ‘‘ (ہماری طرف متوجہ ہوجئے)استعمال کیا کرو۔([218] ) جس کے معنی وہی ہیں جو ’’ رَاعِنَا ‘‘کے ہیں اور اس میں کسی قسم کی تلبیس([219] ) کا احتمال نہیں اور تم بغور سنا کرو تاکہ دوبارہ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہود جو اس طرح تعریض و استہزاء کرتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔اس آیت شریف سے ظاہر ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان مبارک میں ایسے الفاظ محتملہ استعمال نہ کرنے چاہئیں کہ جن میں تعریض ہو اور تنقیص شان کا وہم ہو۔
ذیل میں چند ایسی مثالیں درج کی جاتی ہیں جن سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کس کس طرح اپنے آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیربجا لاتے اور آپ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔
{1} ماہ ذی قعدہ ۶ھ میں جب آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حدیبیہ میں تھے تو بدیل بن ورقاء خزاعی کے بعد عروہ بن مسعود جو اُس وقت تک ایمان نہ لائے تھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گفتگو کرنے کے لئے حاضر خدمت اقدس ہوئے وہ واپس جا کر قریش سے یوں کہنے لگے:
ای قوم و اللّٰہ لقد وفدت علی الملوک و وفدت علی قیصر وکسری و النجاشی و اللہ ان رایت ملکا قط یعظمہ اصحابہ ما یعظم اصحاب محمد محمدًا واللہ ان تنخّم نخامۃ الا وقعت فی کف رجل منھم فدلک بھا وجھہ و جلدہ و اذا امرھم ابتدروا امرہ و اذا توضأ کادوا یقتتلون علی وضوئہ و اذا تکلم خفضوا اصواتھم عندہ و ما یحدون الیہ النظر تعظیمًا لہ و انہ قد عرض علیکم خطۃ رشدٍ فاقبلوھا۔
اے میری قوم!اللّٰہ کی قسم! میں البتہ بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں اور قیصر اور کسریٰ و نجاشی کے ہاں گیا ہوں ،اللّٰہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ جس کے اصحاب اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسا کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے اصحاب محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی کرتے ہیں ۔اللّٰہ کی قسم!اس (محمد) نے جب کبھی کھنکار پھینکا ہے تو وہ اصحاب میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرا ہے جسے انہوں نے اپنے منہ اور جسم پر مل لیا ہے۔ جب وہ اپنے اصحاب کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس کی تعمیل کے لئے دوڑتے ہیں اور جب وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کے پانی کے لئے باہم جھگڑنے کی نوبت پہنچنے لگتی ہے اور جب وہ کلام کرتے ہیں تو اصحاب ان کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کردیتے ہیں اور ازروئے تعظیم ان کی طرف تیز نگاہ نہیں کرتے۔ انہوں نے تم پر ایک نیک امر پیش کیا ہے اسے قبول کرلو۔([220] )
{2} حضرت طَلْحَہ بن عبید اللّٰہ تمیمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَصحاب نے ایک جاہل اَعرابی سے کہا کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کرو کہ قرآن میں جو سورۂ اَحزاب میں آیا ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ (احزاب، ع۳)
بعضے مسلمانوں میں سے وہ مرد ہیں کہ سچ کیا انہوں نے وہ عہد جو اللّٰہ سے باندھا تھا پس بعض ان میں سے وہ ہے جو پورا کر چکا کام اپنا۔([221] )
اس آیت میں قَضٰى نَحْبَهٗ کون ہے۔اصحاب کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرنے کی جرأت نہ کیا کرتے تھے۔ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توقیر کیا کرتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہیبت کھاتے تھے۔اس اَعرابی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منہ پھیر لیا۔ دوبارہ پوچھا تو بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے سبز کپڑوں میں نمودار ہوا۔جب رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا تو فرمایا کہ وہ سائل کہاں ہے؟ اعرابی نے کہا: ’’یارسول اللّٰہ! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْکَ وَسَلَّم ) سائل میں ہوں ۔‘‘ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (میری طرف اشارہ کر کے) فرمایا: یہ ان میں سے ہے جس نے اپنا عہد پورا کیا۔([222] )
{3} حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اصحابِ مہاجرین و انصار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں تشریف لاتے اور وہ بیٹھے ہوتے۔ ان کے درمیان حضرت ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی ہوتے۔ان میں سے سوائے حضرت ابوبکر و عمر کے کوئی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر نہ اٹھاتا۔وہ دونوں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے اور حضور ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے،وہ دونوں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھ کر تبسم فرماتے اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی طرف دیکھ کر تبسم فرماتے۔([223] )
{4} حضرت علی مرتضیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضرین مجلس کے ساتھ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’جس وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کلام شروع کرتے تو آپ کے ہمنشین اس طرح سر جھکا لیتے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں ۔ جس وقت آپ خاموش ہوجاتے تو وہ کلام کرتے اور کلام میں آپ کے سامنے
تنازع([224] ) نہ کرتے اور جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کلام کرتا اسے خاموش ہوکر سنتے یہاں تک کہ وہ اپنے کلام سے فارغ ہوجاتا۔‘‘([225] )
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں سب سے پہلے خود حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے تھے۔ حاضرین مجلس سب سکون کی حالت میں باادب بیٹھے سنا کرتے تھے۔آپ کے بعد صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم عرض کرتے۔مگر وہ کلام میں تنازُع نہ فرماتے تھے۔مجلس میں ایک وقت میں دو شخص کلام نہ کرتے اور نہ کوئی دوسرے کے کلام کو قطع کرتا تھا۔بلکہ متکلم کے کلام کو سنتے رہتے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجاتا۔
{5} حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم (بپاس ادب) رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازوں کو ناخنوں سے کھٹکھٹایا کرتے تھے۔([226] )
{6} رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ذی قعدہ ۶ ھ میں عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ جب حدیبیہ میں پہنچے تو قریش ڈر گئے۔ اس لئے آپ نے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مکہ میں بھیجا اور ان سے فرمایاکہ تم قریش کو اطلاع دے دو کہ ہم عمرہ کے لئے آئے ہیں لڑائی کے لئے نہیں آئے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ان کو دعوت اسلام دواور مسلمان مردوں اور عورتوں کو جو مکہ میں ہیں فتح کی بشارت دو۔ راستے میں حضرت اَبان بن سعید اموی جو اَب تک ایمان نہ لائے تھے حضرت عثمان سے ملے۔ انہوں نے حضرت عثمان کو جوار دی اور اپنے پیچھے گھوڑے پر سوار کر کے مکہ میں لے آئے۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام پہنچایا۔ حدیبیہ میں مسلمان کہنے لگے کہ عثمان خوش نصیب ہے جس نے بیت اللّٰہ کا طواف کرلیا۔ یہ سن کر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمانے لگے کہ میرا گمان ہے کہ عثمان ہمارے بغیر طوافِ کعبہ نہ کریں گے۔ اسی اَثنا میں یہ غلط خبر اڑی کہ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
عَنْہُ مکہ میں قتل کردئیے گئے۔اس لئے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں سے بیعت رضوان لی۔ حضرت عثمان چونکہ مکہ میں تھے اس لئے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر مار کر ان کو بیعت کے شرف میں داخل کیا۔اس طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہاتھ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ قرار پایا۔ بیعت رضوان کے بعد جب حضرت عثمان واپس تشریف لائے تو مسلمانوں نے ان سے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ بیت اللّٰہ کا طواف کرلیا۔اس پر حضرت عثمان نے جواب دیا کہ تم نے میری نسبت گمانِ بد کیا۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ایک سال ٹھہرا رہتا اور حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم حدیبیہ میں ہوتے تو میں آپ کے بغیر طواف نہ کرتاقریش نے مجھ سے کہا تھا کہ طواف کرلومگر میں نے انکار کردیا تھا۔([227] )
حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ ادب قابل غور ہے کہ کفار مکہ آپ سے کہہ رہے ہیں کہ تم بیت اللّٰہ کا طواف کرلومگر آپ جواب دیتے ہیں کہ مجھ سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اپنے آقائے نامدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بغیر اکیلا طواف کروں ۔ادھر جب مسلمانوں نے کہا کہ خوشا حال عثمان کا کہ ان کو خانہ کعبہ کا طواف نصیب ہوا تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ سن کر فرماتے ہیں کہ عثمان بغیر ہمارے ایسا نہیں کرسکتا۔آقا ہو تو ایسا،خادم ہو تو ایسا۔ امام بوصیری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قصیدہ ہمزیہ میں کیا خوب فرمایا ہے:
وابٰی یطوف بالبیت اذ لم یدن منہ الی النبی فناء
فجزتہ عنھا ببیعۃ رضوا نَ ید من نبیہ بیضاء
ادب عندہ فضاعف الاعمال بالترک حبذ الادباء([228] )
اور حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیت اللّٰہ کے طواف سے انکار کردیا اس لئے کہ بیت اللّٰہ کی کوئی طرف رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب نہ تھی۔پس ان کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ید بیضاء نے بیعت رضوان میں اس
نیک عمل کا بدلہ دیا۔ یہ (تنہا طواف نہ کرنا) عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں ایک بڑا ادب تھاجس کے سبب ان کو طواف سے دگنا ثواب ملا۔ اصحابِ محمد کیا خوب ادیب تھے۔
اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سب کے سب با ادب تھے مگر حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں یہ خوبی خصوصیت سے تھی کیونکہ ان میں وصف حیاء جو مَنْشائِ اَدَب ([229] )ہے سب سے زیادہ تھا۔آپ نے جب سے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی اپنا دایاں ہاتھ کبھی اپنی شرمگاہ پر نہ رکھا۔([230] )
{7} حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موت کا وقت آیا تو آپ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: پہلی حالت یہ تھی کہ میں سب سے زیادہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جانی دشمن تھا اگر میں اس حالت میں مرجاتا تو دوزخی تھا۔ دوسری حالت اسلام کی تھی کہ کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ جلال و ہیبت والا نہ تھااور میں آپ کی ہیبت کے سبب سے آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا اس واسطے اگر مجھ سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حلیہ شریف دریافت کیا جائے تو میں بیان نہیں کرسکتا۔ اگر میں اس حال میں مر جاؤں تو امید ہے کہ اہل جنت میں سے ہوں گا۔ تیسری حالت حکمرانی کی تھی کہ جس میں میں اپنا حال نہیں جانتا۔([231] )
{8} حضرت اسلع بن شریک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناقہ([232] ) کا کجاوَہ کسا کرتا تھا۔موسم سرما میں ایک رات مجھے غسل کی حاجت ہوگئی۔ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے سفر کا ارادہ کیا۔میں نے حالت جنابت میں کجاوہ کسنا پسند نہ کیااور میں ڈرا کہ اگر ٹھنڈے پانی سے غسل کروں تو مر جاؤں گا یا بیمار ہوجاؤں گا اس لئے میں نے انصار میں سے ایک شخص سے کجاوہ کسوایا۔پھر میں نے پانی گرم کرکے غسل کیا اور رسول
اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اَحباب سے جاملا۔ آپ نے فرمایا:اے اسلع! آج کجاوہ اپنی جگہ سے کیوں ہل گیا؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں نے نہیں کسا ایک انصاری نے کسا ہے۔ آپ نے سبب دریافت فرمایا، میں نے عرض کیا: مجھے غسل کی حاجت ہوگئی تھی اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے مجھے اپنی جان کا خوف تھا اس لئے میں نے اس سے کسوایا تھااور پھر پانی گرم کرکے میں نے غسل کیاتھا۔اس پر اللّٰہ تعالٰی نے آیۂ تیمم یعنی
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى …الخ (نساء، ع ۷) ([233] )
نازل فرمائی۔([234] )
{9} ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملے۔ان کو غسل کی حاجت تھی۔ان کا بیان ہے کہ میں پیچھے ہٹ گیا۔پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت تھی۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مومن پلید نہیں ہوتا۔([235] )
{10} حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ حذیفہ بن الیمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت حذیفہ سے مصافحہ کرنے لگے حضرت حذیفہ پیچھے ہٹ گئے اور یہ عذر کیا کہ مجھ کو غسل کی حاجت ہے۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مسلمان جب اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کے گناہ یوں دور ہوجاتے ہیں جیسا کہ درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں تو اللّٰہ تعالٰی ان پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے جن میں ننانوے اس کے لئے ہیں جو ان دونوں میں سے زیادہ
بشاش و کشادہ رو اور نیکو کار اور اپنے بھائی کی حاجت روائی میں احسن ہو۔([236] )
{11} حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت قباث بن اشیم سے پوچھا کہ تم بڑے ہو یا رسول اللّٰہ؟ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) انہوں نے جواب دیا کہ آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھ سے بڑے ہیں البتہ میں پیدائش میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے ہوں ۔([237] )
{12} حضرت سعید بن یربوع مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام صرم تھا۔ایک روز رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے پوچھا کہ ہم میں سے کون بڑا ہے میں یا تو؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے بڑے ہیں اور نیک ہیں میں عمر میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ ہوں ۔ یہ سن کر آپ نے ان کا نام بدل دیا اور فرمایا کہ تم سعید ہو۔([238] )
{13} حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا بیان ہے کہ میں نے حدیث و کلام میں حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ نہیں دیکھا۔ جب وہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آتیں تو آپ ان کے لئے کھڑے ہوجاتے اور مرحبا کہہ کر ان کو چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے لئے کھڑی ہوجاتیں اور آپ کا دست مبارک پکڑ کر مرحبا کہتیں اور چومتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں ۔ جب مرض موت میں وہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں آئیں تو حضور نے مرحبا کہہ کر ان کو چوما۔([239] )
{14} دو یہودی حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ سے نو ظاہر نشانیاں دریافت کیں آپ نے بیان فرمادیں تو انہوں نے آپ کے دونوں ہاتھ مبارک اور دونوں پاؤں مبارک کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ پیغمبر ہیں ۔([240] )
{15} صفوان بن عسال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ یہودیوں کی ایک قوم نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک اور ہر دو پائے مبارک کو بوسہ دیا۔([241] )
{16} حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ہم کسی غزوہ میں تھے لوگ پسپا ہوگئے۔ ہم نے کہا کہ ہم نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کس طرح ملیں گے حالانکہ ہم لشکر سے بھاگ آئے ہیں اور خدا کا غضب لے پھرے ہیں ۔ پس ہم نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں نماز فجر سے پہلے حاضر ہوئے۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہو کر نکلے اور فرمایاکہ یہ کون ہیں ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم فراری ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ‘’ لَا بَلْ اَنْتُمْ الْعَکَّارُوْنَ ‘‘ نہیں بلکہ تم عَکَّاری (ہٹ کر حملہ کرنے والے ) ہو۔ یہ سن کر ہم نے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک کو بوسہ دیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں تمہارا گروہ ہوں میں مسلمانوں کا گروہ ہوں ۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ (انفال، ع۲)([242] )
مگر ہٹنے والا لڑائی کے لئے یا پناہ ڈھونڈنے والا ایک گروہ کی طرف([243] )
{17} ام اَبان بنت وَازِع بن زَارِع اپنے دادا زَارِع سے جو وفد عبد القیس میں تھے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب ہم مدینہ میں پہنچے تو ہم اپنے کجاووں سے جلدی جلدی اتر کر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست
مبارک اور پائے مبارک کو چومنے لگے۔ مُنْذِرُالاَشَجّ ([244] ) (رئیس وفد) کچھ دیر کے بعد لباس تبدیل کر کے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللّٰہ تعالٰی دوست رکھتا ہے حلم و وقار۔ منذر نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! یہ خصلتیں مجھ میں کسبی ہیں یاجبلی؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جبلی ہیں ۔یہ سن کر منذر نے کہا: سب ستائش خدا کو ہے جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا کیا ہے جن کو اللّٰہ اور اللّٰہ کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوست رکھتے ہیں ۔([245] ) روایت بیہقی میں ہے کہ منذر نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک کو پکڑ کر بوسہ دیا۔([246] )
{18} حضرت بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا: یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں اسلام لایا ہوں مجھے کوئی ایسی چیز دکھائیے جس سے میرا یقین زیادہ ہوجائے۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ آپ اس درخت کو اپنے پاس بلالیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تو جاکر اسے بلا لا۔ وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تجھے بلاتے ہیں ۔ یہ سن کر وہ ایک طرف کو جھکا اور اس کی جڑیں اکھڑیں ۔پھر دوسری طرف کو جھکا اور جڑیں اکھڑیں ، اسی طرح وہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ السلام علیک یا رسول اللّٰہ‘‘یہ دیکھ کر اعرابی نے کہا: مجھے کافی ہے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس درخت سے فرمایا کہ اپنی جگہ پر چلا جا۔ چنانچہ وہ چلا گیا اور اپنی جڑوں سے قائم ہوگیا۔اعرابی نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے سر مبارک اور ہر دو پائے مبارک کو بوسہ دوں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اجازت دے دی۔ (اور اس نے سر مبارک اور ہر دو پائے مبارک کو چوما) پھر اس نے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص دوسرے کو سجدہ نہ کرے۔اگر میں ایسے سجدے کی اجازت دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا اس پر بڑا حق ہے۔ ([247] )
{19} حضرت ابو بزہ مکی مخزومی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقا عبد اللّٰہ بن سائب کے ساتھ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے اُٹھ کر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک اور پائے مبارک کو بوسہ دیا۔ (اصابہ۔ترجمہ ابو بزہ مکی) ([248] )
{20} حضرت مسور بن مخرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ذکر کرتے ہیں کہ میرے والد مخرمہ نے مجھ سے کہا: بیٹا! مجھے خبر ملی ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس قبائیں آئی ہیں جنہیں وہ تقسیم فرمارہے ہیں مجھے انکے پاس لے چل! چنانچہ ہم وہاں حاضر ہوئے اس وقت رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے دولت خانہ میں تھے۔والد نے مجھ سے کہا:’’ بیٹا!نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو میرے واسطے بلادو۔‘‘ مجھ پر یہ امر ناگوار گزرا۔میں نے کہا: کیا میں تمہارے واسطے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آواز دوں !! میرے والد نے کہا: بیٹا! وہ جبار نہیں ہیں ۔ تب میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آواز دی آپ نکلے اور آپ کے پاس ایک دِیبا ([249] ) کی قبا تھی جس کے تکمے ([250] ) سونے کے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے مخرمہ! یہ ہم نے تمہارے واسطے چھپا رکھی ہے اور مخرمہ کو عطا فرمادی۔([251] )
{21} حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ذکر کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غریب خانہ پر تشریف لائے اور دروازے میں فرمایا: ‘’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہ ‘‘میرے باپ نے دھیمی آواز سے جواب دیا۔ میں نے کہا: کیا آپ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اندر آنے کی اجازت نہیں دیتے؟
انہوں نے کہا: اسی طرح رہنے دیجئے تا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم پر زیادہ سلام بھیجیں ۔ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسری بار اسی طرح سلام کہا۔ حضرت سعد نے دھیمی آواز سے جواب دیا۔ حضور تیسری بار سلام کہہ کرواپس ہو گئے حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے پیچھے نکلے اور عرض کیا: یارسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں آپ کا سلام سنتا رہا اور دھیمی آواز سے جواب دیتا رہاتا کہ آپ ہم پر زیادہ سلام بھیجیں ۔ یہ سن کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ واپس تشریف لائے آپ نے حضرت سعد کی درخواست پر غسل فرمایا۔ حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے زعفران سے رنگی ہوئی چادر پیش کی جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اوڑھ لی اور پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا فرمائی:
اَ للّٰھُمَّ اجْعَلْ صَلَوَا تَکَ وَ رَحْمَتَکَ عَلٰی اٰلِ سَعْدِ ْبنِ عُبَادَۃ([252] )
بعد ازاں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھانا تناول فرمایا۔جب آپ واپس ہونے لگے تو میرے والدنے سواری کے لئے ایک دراز گوش پیش کیاجس پر لحاف پڑا ہوا تھا اور مجھ سے کہا کہ ساتھ ہولو۔ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ہولیا۔حضور نے مجھ سے فرمایا کہ میرے ساتھ سوار ہو جاؤ۔ میں نے انکار کیا آپ نے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ ورنہ واپس ہو جاؤ۔ اس لئے میں واپس چلا آیا۔(ابو داؤد، کتاب الادب) ([253] )
{22}حضرت جابر بن عبداللّٰہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد بزرگوار بہت سا قرض چھوڑگئے تھے جب کھجوروں کے توڑنے کا وقت آیا تو حضرت جابر نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں یوں عرض کیا:’’آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد کے دن شہید ہو گئے اور اپنے اوپر بہت سا قرض چھوڑ گئے میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کی زیارت کر لیں ۔‘‘
حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یوں نہ کہا کہ آپ قرض خواہوں کے پاس چلئے بلکہ بپاس ادب عرض کیا کہ قرض خواہ آپ کی زیارت کرلیں ۔(بخاری، باب قضاء الوصی دیون ا لمیت بغیر محضر من الورثۃ) ([254] )
{23} ایک روز قبیلہ اَسلم کے چند صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم تیر اندازی میں باہم مقابلہ کر رہے تھے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر وہاں ہوا۔ جب حضرت مِحْجَنْ بن اَدْرَع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک اَسلمی سے مقابلہ کر رہے تھے تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے بنی اسمٰعیل! تم تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارا باپ تیرانداز تھا۔ تم تیر پھینکتے جاؤ میں ابن اَدرع کے ساتھ ہوں ۔یہ سن کر حضرت نضلہ بن عبید اسلمی نے اپنے ہاتھ سے کمان پھینک دی اور عرض کیا : ’’جب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ابن اَدرع کے ساتھ ہیں تو میں اس کے ساتھ تیر نہیں پھینکتا کیونکہ جس کے ساتھ آپ ہیں وہ مغلوب نہیں ہو سکتا۔‘‘یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔([255] )
{24} جب آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں رونق اَفروز ہوئے توآپ نے حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں قیام فرمایا۔ آپ مکان کے نیچے کے حصے میں ٹھہرے اور ابو ایوب مع عیال اوپر کے حصے میں رہے ایک رات ابو ایوب بیدار ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر مبارک کے اوپر چلتے پھرتے ہیں ۔یہ کہہ کر انہوں نے اس جگہ سے ہٹ کر ایک جانب میں رات بسر کی۔پھر صبح کو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا۔حضور اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ نیچے کے حصے میں میرے واسطے آسانی ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ میں اس چھت پر نہیں چڑھتا جس کے نیچے آپ ہوں ۔پس آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اوپر کے حصے میں تشریف لے گئے اور ابو ایوب نیچے کے حصے میں چلے آئے۔ ابو ایوب حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے کھانا بھیجا کرتے جو بچ کر آتا خادم سے دریافت کرتے کہ طعام میں حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انگلیاں کس جگہ تھیں ۔پھر اسی جگہ سے کھاتے۔ایک روز کھانا تیار کیا گیا جس میں لہسن تھا۔جب کھانا واپس آیا تو حضرت ابو ایوب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حسب معمول خادم سے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انگلیوں کی جگہ دریافت کی۔جواب ملا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھایا ہی نہیں ۔یہ سن کر ابو ایوب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ڈر گئے اور اوپر جاکر عرض کیا کہ کیا یہ (لہسن)حرام ہے؟ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
فرمایا کہ حرام تو نہیں لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔یہ سن کر انہوں نے عرض کیا کہ میں بھی اس چیز کو نا پسند کرتا ہوں جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ناپسند کرتے ہیں ۔ (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کراہت کی وجہ یہ کہ) آپ کے پاس فرشتے اور وحی آیا کرتی تھی۔([256] )
{25} حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسجد میں دیکھا۔ آپ اُکڑوں([257] )بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ جب میں نے آپ کو نہایت خشوع سے اس حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو (ہیبت و جلال کے سبب سے) میں خوف سے کانپنے لگی۔([258] ) (شمائل ترمذی،باب ما جاء فی جلسۃ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)
{26} حضرت براء بن عازِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کچھ پوچھنا چاہتا تو اسے (آپ کی ہیبت کی وجہ سے) دو سال (یا سالوں )تاخیر میں ڈال دیتا۔([259] )
{27} حضرت حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک طعام ہوتے تو ہم طعام میں ہاتھ نہ ڈالتے یہاں تک کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہلے شروع فرماتے اور اپنا دست مبارک اس میں ڈالتے۔(صحیح مسلم،باب آداب الطعام والشراب واحکامہما) ([260] )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر جس طرح آپ کی حیات دنیوی میں واجب تھی اسی طرح وفات شریف کے بعد بھی واجب ہے۔سلف و خلف کا یہی طریقہ رہا ہے۔ ذیل میں چند مثالیں بغرض تو ضیح درج کی جاتی ہیں ۔
{1} حضرت اسحٰق تُجِیبی([261] )رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ذیقعدہ ۳۵۲ھ) فرماتے ہیں کہ آنحضرت کے وصال شریف کے بعد جب آپ کا ذکر آتا تو صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم خشوع و انکسار ظاہر کیا کرتے۔ ان کے بدن پررونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فراق اور اشتیاق زیارت میں رویا کرتے۔یہی حال بہت سے تابعین کا تھا۔(شفاء شریف) ([262] )
{2} حضرت سائب بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں مسجد نبوی میں لیٹا ہوا تھا ایک شخص نے مجھ پر کنکری ماری۔ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ان دو شخصوں کو لاؤ! میں بلا لایا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو یا کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں دُرّے لگاتا۔ کیا تم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔(صحیح بخاری، باب رفع الصوت فی المسجد) ([263] )
{3} حضرت نافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مسجد نبوی میں تھے نا گہاں ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں آئی۔آپ نے اسے بلا کر پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں قبیلہ ثقیف سے ہوں ۔ پھر دریافت کیا: تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں بلکہ طائف کا رہنے والا ہوں ۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے دھمکایا اور فرمایا: اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں ۔(وفاء الوفائ، جزو ثانی، ص ۳۵۴)([264] )
{4} خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں امام مالک سے مناظرہ کیا اور اَثنائے مناظرہ میں آواز بلند کی۔ حضرت امام نے فرمایا: اے امیر المومنین! اس مسجد میں اپنی آواز کو بلند مت کروکیونکہ اللّٰہ تعالٰی
نے ایک قوم کو یوں ادب سکھایا:
لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (17) الآیہ۔([265] )
اور ایک قوم جو آداب بجا لائی ان کی یوں تعریف کی:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ (18)الآیہ۔([266] )
اور ایک قوم کی یوں مذمت کی:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ (19)الآیہ۔([267] )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا احترام وفات شریف کے بعد بھی و یسا ہی ضروری ہے جیسا کہ حالت حیات میں تھا۔ یہ سن کر ابو جعفر دھیما پڑگیا، کہنے لگا کہ اے عبد اللّٰہ (امام مالک) کیا میں قبلہ رو ہوکر دعا مانگوں یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب منہ کروں ۔ امام مالک نے جواب دیا کہ تم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے اپنا منہ کیوں پھیرتے ہو حالانکہ وہ قیامت کے دن تمہارے وسیلہ اور تمہارے باپ آدم کے وسیلہ ہیں بلکہ تم حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کی طرف منہ کرو اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے وسیلہ سے دعا مانگو اللّٰہ تعالٰی قبول کرے گا۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) ( نساء، ع ۹)
اور اگر یہ لوگ جس وقت کہ اپنی جانوں پہ ظلم کرتے ہیں آپکے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور پیغمبر انکے لئے بخشش مانگتا تو وہ اللّٰہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے([268] ) (شفاء شریف) ([269] )
{5} شیخ الاسلام([270] )نور الدین علی بن احمد سمہودی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ۹۱۱ ھ) لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں منکرات سے ایک امر جس میں متصدیانِ صیغۂ تعمیر تساہل کرتے ہیں([271] )یہ ہے کہ مسجد نبوی میں آرہ کش اور بڑھئی اور سنگ تراش کام کرنے کے لئے لائے جاتے ہیں ۔ اشیاء کے توڑنے پھوڑنے اور چیر نے وغیرہ سے سخت شور وشغب برپا ہوتا ہے حالانکہ یہ سب کام مسجد سے باہر تیار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح عمارت کا مصالحہ خچروں اور گدھوں پر مسجد میں لایا جاتا ہے حالانکہ اسے آدمی مسجد کے دروازے میں سے اندر لا سکتے ہیں ۔ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اگر مسجد نبوی کے گرد کسی مکان میں میخ کے ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت نہ دو۔ اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ حضرت علی مرتضی نے اپنے گھر کے دونوں کواڑ مناصع([272] ) میں تیار کرائے کہ مبادا تیاری میں لکڑی کی آواز سے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت پہنچے۔ انتہی([273] )(وفاء الوفائ،جزء اول، ص۴۷۹)
{6} امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں ایوب سختیانی، محمد بن منکدر تیمی، امام جعفر صادق، عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق، عامر بن عبد اللّٰہ بن زبیر، صفوان بن سلیم اور امام محمد بن مسلم زُہری سے ملا کرتا تھا میں نے ان کا یہ حال دیکھا کہ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکر آتا تو ان کا رنگ زرد ہوجاتا وہ شوق زیارت میں رویا کرتے بلکہ بعضے تو بے خود ہوجایا کرتے۔ (شفاء شریف) ([274] )
{7} امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی بپاس ادب کبھی مدینہ شریف کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیا۔(شفاء شریف) ([275] )
{8} امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دروازے پر کئی ایسے خراسانی گھوڑے اور مصری خچر دیکھے کہ جن سے بہتر میں نے نہیں دیکھے۔ میں نے امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا کہ یہ کیسے اچھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب میری طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہیں ۔میں نے کہا: اپنی سواری کے لئے ان میں سے کچھ رکھ لیں ۔ انہوں نے کہا: مجھے خداسے شرم آتی ہے کہ اس زمین کو جس میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں اپنے گھوڑے کے سموں ([276] )سے پامال کروں ۔(وفاء الوفائ، جزء ثانی، ص۴۵۰)([277] )
{9} ایک شخص نے کہا کہ مدینہ طیبہ کی مٹی خراب ہے۔امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فتویٰ دیا کہ اسے تیس دُرِّے مارے جائیں اور قید کیا جائے اور فرمایا کہ ایسا شخص تو اس لائق ہے کہ اس کی گردن مار ی جائے۔ وہ زمین جس میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام فرما رہے ہیں اس کی نسبت وہ گمان کرتا ہے کہ وہ خراب ہے۔(شفاء شریف) ([278] )
{10} حضرت احمد بن فضلویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑے غازی اور تیر انداز تھے۔ انہوں نے جب سنا کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کمان کو اپنے دست مبارک میں لیا ہے تو اس روز سے بپاس ادب کبھی کمان کو بے وضو نہیں چھوا۔ (شفاء شریف) ([279] )
{11} حضرت عثمان([280] ) غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایک عصا تھا، حضرت جہجاہ غفاری نے یوم وار سے پہلے ان کے ہاتھ سے چھین لیا اور اپنے گھٹنے پر رکھ کر اسے توڑنا چاہا(یا توڑ دیا) اس جرأت پر حاضرین چلا اٹھے۔ان کے گھٹنے میں مرض آکلہ پیدا ہوگیا۔انہوں نے بدیں خیال کہ مبادا مرض بدن میں سرایت کرجائے گھٹنے کو کاٹ دیا مگر ایک سال تمام نہ ہونے پایا کہ وفات پائی۔([281] )
{12} حضرت ابو الفضل جوہری اَندلسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہ نے زیارت کے لئے مدینہ منورہ کا قصد کیاجب اسکے مکانات
کے قریب پہنچے تو سواری سے اتر پڑے اور یہ اشعار پڑھتے ہوئے پیدل چلے:
وَ لَمَّا رَاَ یْنَا رَسْمَ مَنْ لَّمْ یَدَعْ لَنَا فُؤَادًا لِعِرْفَانِ الرَّسُوْمِ وَلَا لُـبًّا
نَزَلْنَا عَنِ الْاَکْوَارِ نَمْشِیْ کَرَامَۃً لِمَنْ بَانَ عَنْہٗ اَنْ نُّلِمَّ بِہٖ رَکْبًا(شفاء شریف) ([282] )
جب ہم نے اس ذات شریف کے آثار دیکھے جس نے آثار شریفہ کی پہچان کے لئے ہمارے واسطے نہ دل چھوڑا
نہ عقل خالص۔ہم پالانوں سے اتر پڑے اور اس ذات شریف کی تعظیم کے لئے پیدل چلنے لگے جس کی زیارت سواری
کی حالت میں بعید از ادب ہے۔
بعض مشائخ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام پیدل حج کو گئے۔ان سے سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ غلامِ مفرور اپنے مولا کے دروازے پر سوار ہوکر نہیں آتا اگر ہم میں طاقت ہوتی تو سر کے بل آتے۔ (شفاء شریف) ([283] )
رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر میں سے یہ امر بھی ہے کہ آپ کی آلِ اَطہار و ذُرِّیت طیبہ اور ازواجِ مطہرات کی تعظیم و تکریم اور ان کے حقوق کی رعایت کی جائے۔ اسی طرح آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب کرام کی تعظیم و توقیر کرنا حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تعظیم و تکریم ہے۔ صحابہ کرام کے درمیان جو اختلاف و مشاجرات([284] )وقوع میں آئے ان کی تاویل نیک کرنی چاہیے۔وہ مجتہد تھے جو کچھ انہوں نے کیا اَزرُوئے اِجتہاد و خلوص کیا۔وہ کسی طرح مورد طعن نہیں ہیں ۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ تفصیل کی اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں ۔ ؎
ترسم آں قوم کہ بر درد کشاں مے خندند در سرِکار خرابات کنند ایماں را
قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’شفاء شریف‘‘ میں فرماتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جن کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت ہے ان کی تعظیم و تکریم کرنا، حرمین شریفین میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشاہد و مساکن کی تعظیم کرنا، آپ کے منازل اور وہ چیزیں جن کو آپ کے دست مبارک یا کسی اور عضو نے چھوا یا آپ کے نام
سے پکاری جاتی ہوں ان سب کا اِکرام کرناحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ہی کی تعظیم و تکریم میں داخل ہے۔([285] )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم میں سے ایک امر یہ ہے کہ آپ کی حدیث شریف کی تعظیم کی جائے۔ حدیث شریف کے پڑھنے یا سننے کے لئے غسل کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔جب حدیث شریف پڑھی جائے تو اپنی آواز کو بلند نہ کرنا چاہیے بلکہ دھیمی کردینی چاہیے۔ جیسا کہ حیات شریف میں حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تکلم کے وقت ہو ا کرتا تھا اور مستحب ہے کہ حدیث شریف اونچی جگہ پڑھی جائے۔ حدیث شریف پڑھتے پڑھاتے وقت کسی کی تعظیم کے لئے اٹھنا مکروہ ہے۔
جب لوگ امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس طلب علم کے لئے آتے توخادمہ دولت خانہ سے نکل کر ان سے دریافت کیا کرتیں کہ حدیث شریف کے لئے آئے ہو یا مسائل فقہیہ کے لئے۔ اگر وہ کہتے کہ مسائل کے لئے آئے ہیں تو امام موصوف فوراً نکل آتے اور اگر وہ کہتے کہ ہم حدیث کے لئے آئے ہیں تو امام مالک غسل کرکے خوشبو لگاتے پھر لباس تبدیل کر کے نکلتے۔آپ کے لئے ایک تخت بچھایا جاتاجس پر بیٹھ کر آپ روایت حدیث کرتے۔ اَثنائے روایت میں مجلس میں عُود جلایا جاتا یہ تخت صرف روایت حدیث کے لئے رکھا ہوا تھا۔ جب امام موصوف سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس طرح رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث کی تعظیم کروں ۔([286] )
حضرت عبد اللّٰہبن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ([287] )بیان کرتے ہیں کہ میں امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ عقیق([288] )کی طرف جا رہا تھا راستہ میں میں نے ان سے ایک حدیث کی بابت پوچھا۔ انھوں نے مجھے جھڑک دیا اور
فرمایا کہ مجھے تم سے توقع نہ تھی کہ راستہ چلتے ہوئے مجھ سے حدیث شریف کی بابت سوال کرو گے۔([289] )
قاضی جریر بن عبد الحمید نے امام مالک سے حالت قیام میں ایک حدیث کی بابت پوچھا۔ امام موصوف نے انکے لئے قید کا حکم دیا۔جب حضرت امام سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ قاضی تادیب کا زیادہ سزاوار ہے۔([290] )
ہشام بن عمار نے امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے جوکھڑے تھے ایک حدیث پوچھی۔آپ نے اس کے بیس کوڑے مارے۔پھر ترس کھا کر بیس حدیثیں روایت کیں ۔یہ دیکھ کر ہشام نے کہا کہ کاش وہ اور کوڑے مارتے اور زیادہ حدیثیں روایت کرتے۔([291] )
حضرت ابن سیرین تابعیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بعض وقت ہنس پڑتے مگر جب ان کے پاس رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث کا ذکر آتا توان پر خشوع طاری ہو جاتا۔([292] )
حضرت قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نسبت مروی ہے کہ جب وہ حدیث سنتے تو ان کو گریہ و اضطراب لاحق ہو جاتا۔([293] )
حافظ عبد الرحمن بن مہدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ( متوفی ۱۹۸ ھ) جب حدیث پڑھتے تو حاضرین مجلس کو چپ رہنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ بفحوائے([294] ) لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ([295] )حدیث شریف کی قراء ت کے وقت سکوت واجب ہے جیسا کہ حیات شریف میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قول مبارک کے سننے کے وقت واجب تھا۔([296] )
امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے کہ ایک شخص حضرت ابن مُسیِّب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا آپ
اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔اس نے آپ سے ایک حدیث دریافت کی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُٹھ بیٹھے اور حدیث بیان کی۔اس نے کہا: میں چاہتا تھا کہ آپ اٹھنے کی تکلیف نہ فرماتے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ لیٹے ہوئے حدیث شریف بیان کروں ۔([297] )
حضرت عبد اللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر تھا۔آپ ہم سے حدیثیں بیان کر رہے تھے۔اثنائے قراء ت میں آپ کو ایک بچھو نے سولہ مرتبہ ڈنک مارا۔ آپ کا رنگ زرد ہو رہا تھامگر آپ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث کو قطع نہ کیا۔ جب آپ روایت حدیث سے فارغ ہوئے اور سامعین چلے گئے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے آج آپ سے ایک عجیب بات دیکھی ہے۔ فرمایا: ہاں ! میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث کی عظمت و احترام کے لئے صبر کیا۔ ([298] )
(ماخوذ از مواہب و شفاء شریف)
{1} حضرت ابن سیرین تابعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کچھ بال مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس یا اہل انس سے ملے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال کا ہونا میرے نزدیک دنیا و ما فیہا سے محبوب تر ہے۔ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے سر مبارک کے بال منڈواتے تو حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سب سے پہلے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے موئے مبارک لیتے۔ (صحیح بخاری، کتاب الوضو، باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان) ([299] )
{2} حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا
کہ حجام آپ کے سر مبارک کو مونڈ رہا تھا۔صحابہ کرام آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گرد حلقہ باندھے ہوئے تھے۔ وہ سب یہ چاہتے تھے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جو بال مبارک گرے وہ کسی نہ کسی کے ہاتھ میں ہو۔([300] )
( صحیح مسلم، باب قربہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم من الناس و تبرکہم بہ)
{3} حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (مزدلفہ سے) منیٰ میں آئے اور جمرہ عقبہ میں کنکریاں پھینک کر اپنے مکان پر تشریف لائے ۔([301] )پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجام کو بلایااور سر مبارک کے داہنی طرف کے بال منڈوائے اور ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلا کر عطا فرمائے۔ بعد ازاں حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بائیں طرف کے بال منڈواکر ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلا کر عنایت کیے اور ان سے فرمایا کہ یہ تمام بال لوگوں میں تقسیم کردو۔([302] ) (مشکوۃ بحوالہ صحیحین، کتاب المناسک ،باب الحلق)
مرا ا ز زلف تو موئے بسند است فضولی مے کنم بوئے بسند است
{4} حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کچھ سرخ رنگ کے بال تھے جو ایک ڈبیا بشکل جلجل([303] ) میں رکھے ہوئے تھے۔لوگ ان بالوں سے نظر بد اور دیگر بیماریوں کا علاج کیا کرتے تھے۔کبھی تو ان کو پانی کے پیالہ میں رکھتے پھر پانی کو پی لیتے اور کبھی جلجل کو پانی کے مٹکے میں رکھ دیتے پھر اس پانی میں بیٹھ جاتے۔ ([304] )یہ ما حصل حدیث بخاری ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب ما یذکر فی الشیب)
{5} امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تاریخ میں بروایت ابوسلمہ نقل کیا ہے کہ محمد بن عبد اللّٰہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد (عبد اللّٰہ بن زیدرائی الاذان) منحر([305] )میں نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر تھے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ضَحایا([306] )تقسیم فرمائے اور اس کو اپنے بالوں میں سے دیا۔([307] ) (اصابہ)
طبقات([308] ) ابن سعد میں اس روایت میں اتنا اور ہے کہ محمد مذکور فرماتے ہیں کہ وہ بال مہندی اور وَسمہ([309] ) سے رنگا ہوا ہمارے پاس موجود ہے۔([310] )
{6} حضرت ابو محذورہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (موذن اہل مکہ) کے سر کے سامنے کے حصے میں بالوں کا ایک جوڑا تھاجب وہ زمین پر بیٹھتے اور اس کو کھول دیتے تو بال زمین سے لگ جاتے۔کسی نے ان سے کہا کہ ان بالوں کو منڈوا کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ان کو منڈوا نہیں سکتا کیونکہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دست مبارک ان کو لگا ہوا ہے۔([311] ) (شفاء شریف)
{7} حضرت خالد بن وَلید قرشی مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ٹوپی جنگ یرموک میں گم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ تلاش کرو تلاش کرتے کرتے آخر کار مل گئی۔لوگوں نے ان سے سبب پوچھا تو فرمایا کہ ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عمرہ ادا فرمایا۔ جب آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سر مبارک منڈوایا تو لوگ آپ کے موئے مبارک لینے کے لئے دوڑے۔ میں نے بھی آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیشانی مبارک کے بال لے کر اس ٹوپی میں رکھ لئے جس لڑائی میں یہ ٹوپی میرے پاس رہی مجھے فتح نصیب ہوتی رہی۔([312] ) (اصابہ، ترجمہ خالد بن ولید)
’’شفاء شریف‘‘ میں اس طرح ہے کہ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ٹوپی میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کچھ بال تھے۔وہ ٹوپی کسی غزوہ میں گر گئی۔حضرت خالد نے اس کے لئے مڑ کر سخت حملہ کیا جس میں بہت سے مسلمان کام آئے۔صحابہ کرام نے ان پر اعتراض کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے یہ حملہ ٹوپی کے لئے نہیں کیا بلکہ موئے مبارک کے لئے کیا تھا جو اس ٹوپی میں تھے کہ مبادا ([313] )ان کی برکت میرے پاس نہ رہے اور وہ کافروں کے ہاتھ لگ جائیں ۔([314] )
{8} آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ام سلیم (والدۂ انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) کے ہاں چمڑے کے فرش پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔جب آپ سوجاتے تو وہ آپ کے پسینہ مبارک کو ایک شیشی میں جمع کرلیتیں اور شانہ کرتے وقت([315] ) جو بال گرتے ان کو اور پسینہ مبارک کو سک([316] )میں ملا دیتیں ۔ حضرت ثمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ جب حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت آیا تو مجھے وصیت کی کہ اس سک میں سے کچھ میرے حنوط([317] ) میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔([318] ) (صحیح بخاری، کتاب الاستیذان، باب من زار قوما فقال عند ہم)
{9} آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ام سلیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر میں آکر ان کے بستر پر قیلولہ فرمایا کرتے اور وہ گھر میں نہ ہوا کرتیں ۔ایک روز حسب معمول حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ان کے بستر پر سوئے ہوئے تھے جب ان کو خبر ہوئی تو آکر دیکھا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پسینہ بستر پر ایک چمڑے کے ٹکڑے پر پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے ڈبے میں سے ایک شیشی نکالی اور پسینہ مبارک کو اس میں نچوڑنے لگیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھ کھلی تو پوچھا کہ ام سلیم !تم کیا کر رہی ہو؟ ام سلیم نے عرض کیا کہ ہم اپنے بچوں کے لئے آپ کے پسینے کی برکت کے امیدوار ہیں ۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا۔([319] )
(صحیح مسلم،باب طیب عرقہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم والتبرک بہ)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پسینۂ مبارک کو بچوں کے چہرے اور بدن پر مل دیا کرتے تھے جس سے وہ تمام بلاؤں سے محفوظ رہاکرتے تھے۔
{10} حضرت ثابت بنانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھ سے کہا کہ یہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بالوں میں سے ایک بال ہے جب میں مرجاؤں تو اسے میری زبان کے نیچے رکھ دینا۔ چنانچہ میں نے حسب وصیت ان کی زبان کے نیچے رکھ دیا اور وہ اسی حالت میں دفن کیے گئے۔ (اصابہ،ترجمہ انس بن مالک) ([320] )
{11} جب حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کچھ بال اور ناخن منگوائے اور وصیت کی کہ یہ میرے کفن میں رکھ دیئے جائیں ۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔([321] )
(طبقات ابن سعد، جزء خامس، ص۳۰۰)
{12} حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خدام اپنے برتن (جن میں پانی ہوتا) لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوتے۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر ایک برتن میں اپنا دست مبارک ڈبو دیتے۔بعض وقت سردی ہوتی تو بھی اسی طرح کرتے۔ ([322] )
(صحیح مسلم، باب قربہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم من الناس وتبرکہم بہ وتواضعہ لہم)
{13} جب رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وضو فرماتے تووضوکے پانی کے لئے حاضرین میں لڑائی تک نوبت پہنچنے لگتی۔(صحیح بخاری، کتاب الوضوئ، باب استعمال فضل وضوء الناس) ([323] )
{14} حضرت ابوجُحَیْفَہ (وہب بن عبد اللّٰہ سوائی)کا بیان ہے کہ میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چرمی سرخ قبہ میں تھے۔ میں نے حضرت بلال کو دیکھاکہ انہوں نے
رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وضو کا پانی لیا اور لوگ اس پانی کو لینے کے لئے دوڑ رہے تھے۔ جس کو اس میں سے کچھ ملتا وہ اسے اپنے ہاتھوں پر ملتا اور جس کو کچھ نہ ملتا وہ دوسرے کے ہاتھ کی تری لے کر مل لیتا۔([324] )
(صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب القبۃ الحمراء من ادم)
{15} حضرت طلق بن علی یمامی کا بیان ہے کہ ہم اپنے وطن سے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نکلے۔ حاضر خدمت ہوکر ہم نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نماز پڑھی اور عرض کیا کہ ہمارے وطن میں ہمارا ایک گرجا ہے۔پھر ہم نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے درخواست کی کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے وضو کا بچا ہوا پانی عنایت فرمائیں ۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پانی طلب فرمایا اوروضو کر کے بقیہ آب کی ایک کلی ہمارے واسطے چھاگل میں ڈال دی اور روانگی کی اجازت دے کر فرمایا کہ جب تم اپنے وطن میں پہنچ جاؤ تو اپنے گرجا کو توڑ ڈالو اور اس کی جگہ پر اس پانی کو چھڑک دو اور گرجا کی جگہ پر مسجد بنالو۔ہم نے عرض کیا کہ ہمارا شہر مدینہ منورہ سے دور ہے گرمی سخت ہے یہ پانی خشک ہو جائے گا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس میں اور پانی ڈال لینا برکت زیادہ ہوجائے گی۔([325] )
(مشکوٰۃ بحوالہ نسائی،باب المساجدومواضع الصلوٰۃ)
{16}ایک روز حضرت خداش بن ابی خداش مکی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایک پیالے میں کھانا کھاتے دیکھا۔انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے وہ پیالہ بطور تبرک لے لیا۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب حضرت خداش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاں تشریف لے جاتے تو ان سے وہی پیالہ طلب فرماتے۔اسے آب زمزم سے بھر کر پیتے اور چہرے پر چھینٹے مارتے۔(اصابہ، ترجمہ خداش) ([326] )
{17} حضرت اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے بعض ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاں بطور عروس بھیجا۔ جب ہم خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں تو آپ صَلَّی
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک بڑا پیالہ دودھ کا نکالا اور اس میں سے پی کر اپنی بیوی کو دیا۔ وہ بولیں کہ مجھے اشتہاء نہیں ۔([327] )حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تو بھوک اور جھوٹ کو جمع نہ کر۔ پھر مجھے عنایت فرمایامیں اس پیالہ کو اپنے ہونٹوں پر پھرانے لگی حالانکہ میں پیتی نہ تھی محض بدیں غرض([328] )پھراتی تھی کہ میرے ہونٹ اس جگہ سے لگ جائیں جہاں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہونٹ مبارک لگے تھے۔ بعد ازاں ہم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیوی کو چھوڑ آئے۔(معجم صغیر طبرانی، اسم عبدالحمید ) ([329] )
{18} حضرت عاصم احول رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیالہ دیکھا جو عریض و عمدہ اور چوب نضار (درخت گز یا شمشاد) کا بنا ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا تھا۔ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے چاندی کے تار سے جوڑا ہو ا تھا۔ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں نے اس پیالہ میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بارہا پانی پلایا ہے۔بقول ابن سیرین اس میں لوہے کا ایک حلقہ تھا حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چاہا کہ بجائے لوہے کے سونے یا چاندی کا حلقہ بنائیں مگر ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ جس چیز کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنایا ہو اُسے تبدیل نہ کرنا چاہیے، یہ سن کر ویسا ہی رہنے دیا۔([330] ) (صحیح بخاری، کتاب الاشربہ، باب الشرب من قدح النبیصلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم واٰنیتہ)
پھر یہ پیالہ حضرت نضر بن انس کی میراث سے آٹھ لاکھ درہم کو خریدا گیا۔ امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ میں نے اس پیالے کو بصرہ میں دیکھا اور اس میں پانی پیا ہے۔(شرح شمائل للبیجوری بحوالہ شرح مناوی) ([331] )
{19} ایک روز آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اصحاب سقیفہ بنی ساعِدہ میں رونق افروز تھے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا کہ ہمیں پانی پلاؤ۔چنانچہ حضرت سہل
نے ایک پیالہ میں حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اور آپ کے اصحاب کو پانی پلایا۔ حضرت ابو حازم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حضرت سہل نے وہی پیالہ ہمارے واسطے نکالا اور ہم نے پانی پیا۔ اس پیالہ کو خلیفہ عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سہل سے مانگ کر لے لیا۔(صحیح مسلم، باب اباحۃ النبیذالذی لم یشتدولم یصرمسکراً) ([332] )
{20} رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عبد اللّٰہ بن انیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو عرنہ میں خالد بن سفیان بن نُبَیْح ہذلی([333] )کے قتل کرنے کے لئے بھیجا۔ حضرت عبد اللّٰہ نے اسے قتل کردیا اور اس کا سر لے کر ایک غار میں داخل ہوئے، اس غار پر مکڑی نے جالا تن دیا، دشمن جو تعاقب میں آئے انہوں نے وہاں کچھ نہ پایا، اور نا امید واپس ہوگئے۔ حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ غار سے نکل کراٹھارہ دن کے بعد خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور خالد کے سر کو سامنے رکھ کر قصہ بیان کیا۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دست مبارک میں عصا تھا۔ آپ نے عبد اللّٰہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُ کو عطا فرمایا اور یوں ارشاد فرمایا: ’’ تخصّر بھٰذہ فی الجنّۃ ‘‘بہشت میں اس پر ٹیک لگانا۔ وہ عصا حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس رہاجب ان کی وفات کا وقت آیا تو وصیت کی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ کر میرے ساتھ دفن کردینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔([334] )
{21} امام ابن مامون کا بیان ہے کہ ہمارے پاس رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیالوں میں سے ایک پیالہ تھاہم اس میں بغرض شفاء بیماروں کو پانی پلایا کرتے تھے۔(شفاء شریف) ([335] )
{22} رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اُونی جبہ کسروانی تھا جس کی جیب اور دونوں چاکوں پر دِیبا کی سنجاف([336] )
تھی۔ یہ جبہ پہلے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس تھاان کے بعد حضرت اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے لے لیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ اس جبہ کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہنا کرتے تھے۔ہم اسے دھو کر بغرضِ شفاء بیماروں کو پلاتے ہیں۔([337] )
{23} حضرت محمد بن جابر کے دادا سیار بن طلق یمامی وفد بنی حنیفہ میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ایمان لائے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے اپنی قمیص کا ایک ٹکڑا عنایت فرمائیے میں اس کے ساتھ اپنا دل بہلایا کروں گا۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی درخواست منظور فرماکر اپنی قمیص کا ایک ٹکڑا عنایت فرمایا۔ محمد بن جابر کا بیان ہے کہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ ٹکڑا ہمارے پاس تھاہم اسے دھو کر بغرض شفاء بیماروں کو پلایا کرتے تھے۔(اصابہ، ترجمہ سیار بن طلق) ([338] )
{24} جب حضرت وَلید بن وَلید بن مغیرہقرشی مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ میں قید سے بھاگ کر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ میں مرا جاتا ہوں آپ مجھے کسی زائد کپڑے میں جو آپکے جسد اطہر پر رہا ہو کفنانا! چنانچہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو اپنی قمیص میں کفنا یا۔([339] )(اصابہ، ترجمہ ولید بن ولید بن مغیرہ)
{25} حضرت عبد اللّٰہ بن خازم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ([340] )کے پاس ایک سیاہ عمامہ تھا جسے وہ جمعہ اور عیدین میں پہنا کرتے تھے۔لڑائی میں جب فتح پاتے تو بطور تبرک اس عمامہ کو پہنتے اور فرماتے کہ یہ عمامہ مجھے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہنایا تھا۔ (اصابہ)([341] )
{26} ایوب بن نجار بروایت ابو عبد اللّٰہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا کے پاس رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لحاف تھا۔جب حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے ان کے داداکوکہلا بھیجا۔ چنانچہ وہ اس لحاف کو چمڑے میں لپیٹ کر لائے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس سے اپنے چہرے کو ملنے لگے۔ (تاریخ صغیر للبخاری، ص ۱۱۱)([342] )
{27}رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض وقت شفاء بنت عبد اللّٰہ قرشیہ عدویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے گھر میں قیلولہ فرماتے۔حضرت شفاء نے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ایک بچھونا اور ایک چادربنوائی تھی جس میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سوجایا کرتے۔ وہ بچھونا اور چادر حضرت شفاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے خاندان میں رہی یہاں تک کہ مروان بن الحکم نے لے لی۔(استیعاب واصابہ) ([343] )
{28}جب حضرت کعب بن زُہیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایمان لاکر اپنا قصیدہ بَانَتْ سُعَاد پڑھا تو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو اپنی چادر اڑھائی۔ حافظ ابن حجر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِصابہ میں بروایت سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نقل کیا ہے کہ یہ وہی چادر ہے جسے خلفاء عیدین میں پہنتے ہیں ۔(انتہی) ([344] )
ابو بکر بن اَنباری (متوفی ۱۰ذی الحجہ ۳۲۸ھ) کی روایت میں ہے کہ جب حضرت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس شعر پر پہنچے : ؎
انّ الرّسول لنور یستضاء بہٖ مھند من سیوف اللّٰہ مسلول
تو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی طرف چادر مبارک پھینک دی۔ حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس چادر کے لئے دس ہزار درہم خرچ کیے مگر حضرت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چادر کے لئے میں کسی کو اپنی ذات پر ترجیح نہیں دیتا۔ حضرت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات
کے بعد حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے وَرَثہ سے وہ چادر بیس ہزار درہم کولے لی۔ابن انباری کا قول ہے کہ وہی چادر آج تک سلاطین کے پاس ہے۔ (شرح قصیدہ بانت سعاد لابن ہشام المتوفی ۷۶۱ھ) ([345] )
{29} حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ چادر میں نے اپنے ہاتھ سے بُنی ہے میں آپ کے پہننے کے لئے لائی ہوں ۔ آپ کو ضرورت تھی اس لئے آپ نے قبول فرمائی۔پھر آپ اسے بطورِ تہبند باندھ کر ہماری طرف نکلے۔ صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے ایک نے دیکھ کر عرض کیا: کیا اچھی چادر ہے یہ مجھے پہنا دیجئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ہاں ! کچھ دیر کے بعد آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجلس سے اٹھ گئے پھر واپس آئے اور وہ چادر لپیٹ کر اس سائل صحابی کے پاس بھیج دی۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اس سے کہا کہ تونے اچھا نہ کیا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس چادر کا سوال کیا۔حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی کا سوال رد نہیں فرماتے۔ اس صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: اللّٰہ کی قسم! میں نے صرف اس واسطے سوال کیا کہ میرے مرنے پر یہ چادر میرا کفن بنے۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ چادر اس کا کفن ہی بنی۔(صحیح بخاری،کتاب اللباس ،باب البرود والحبرۃ والشملۃ) ([346] )
{30} حضرت ابو بردہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ہمیں ایک کملی جو پیوندوں کی کثرت سے نَمْدہ([347] )کی مثل تھی اور ایک موٹا تہبند نکال کر دکھایا اور فرمایا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان دونوں میں وصال فرمایا۔(صحیح بخاری،کتاب اللباس،باب الاکسیۃ والخمائص) ([348] )
{31} آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاتَم شریف([349] )جس میں تین سطریں یوں تھی( اللہ محمدرسول )حضرت ابو بکر
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تھی پھر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس رہی بعدازاں حضرت عثمان غنی کو ملی۔ جب ان کی خلافت کو چھ برس ہو گئے تو ایک روز وہ چاہِ اریس پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ہاتھ میں سے کوئیں میں گر پڑی تین دن تلاش کرتے رہے کوئیں کا تمام پانی نکالا گیامگر نہ ملی۔
جب حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کی خاتم گم ہو گئی تھی تو ان کی باد شاہت جاتی رہی تھی۔ یہی راز حضور ختم المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاتم گم ہو نے میں تھا۔ چنانچہ اس کے بعد اس فتنہ کا آغاز ہوا جس کا انجام حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت پر ہوا۔(وفاء الوفائ،جزء ثانی، ص ۱۲۱)([350] )
{32} آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہِ وَسَلَّم کی تلوار ذوالفقار حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تھی۔ جب وہ حضرت امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد یزید کے پاس مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت مسوربن مخرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت امام سے وہی تلوار مانگی تھی اور عرض کیا تھاکہ’’آپ سے لے لیں گے، جب تک میرے جسم میں جان ہے کوئی مجھ سے نہ لے سکے گا۔‘‘([351] )
(صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب ماذکر من درع النبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم وعصاہ وسیفہ الخ)
امام اصمعی (متوفی ۲۱۳ھ) ذکر کرتے ہیں کہ ایک روز میں خلیفہ ہارون رشید کے ہاں گیاانہوں نے مجھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تلوار ذوالفقار دکھائی جس سے بہتر میں نے کوئی تلوار نہیں دیکھی۔([352] ) (زرقانی، جزء ثالث، ص۳۷۸)
{33} حضرت عیسیٰ بن طہمان کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ہمیں دو پرانے نعلین نکال کر دکھائے جن میں سے ہر ایک میں بندش کے دو دو تسمے تھے۔اس کے بعد حضرت ثابت بنانی نے بروایت انس مجھ سے
بیان کیا کہ یہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نعلین شریفین ہیں ۔([353] )
(صحیح بخاری، باب ما ذکر من درع النبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم الخ)
{34} جنگ بدر میں حضرت زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو برچھی عبیدہ بن سعید بن عاص کی آنکھ میں ماری تھی وہ یادگار رہی بدیں طور کہ حضرت زُبیر سے حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مُستَعار لی پھر آپ کے چاروں خلفاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے پاس بطورِ تبرک منتقل ہوتی رہی بعد ازاں حضرت عبد اللّٰہبن زُبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس رہی یہاں تک کہ حَجَّاج نے ان کو ۷۳ھ میں شہید کردیا۔([354] ) (صحیح بخاری،باب شہود الملائکۃ ببدر)
{35} جنگ احد میں حضرت عبد اللّٰہ بن جحشرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تلوار ٹوٹ گئی آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو ایک کھجور کی شاخ عطا فرمائی وہ ان کے ہاتھ میں تلوار بن گئی۔اس تلوار کو عرجون کہتے تھے۔یہ بطور تبرک ان کے خاندان میں رہی یہاں تک کہ بغا ترکی([355] ) کے ہاتھ جو معتصم باللّٰہ ابراہیم بن ہارون رشید کے امیروں میں سے تھا بغداد میں دوسو دیناروں میں فروخت ہوئی۔([356] ) (زرقانی علی المواہب،جزء ثانی، ص۴۳)
{36} حضرت عتبان بن مالک انصاری خزرجی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میری بصارت جاتی رہی۔ میں نے ایک شخص کو بھیج کر رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قدم رنجہ فرمائیں اور میرے مکان میں نماز پڑھیں تاکہ میں آپ کی جائے نماز کو مسجد مقرر کرلوں ۔ چنانچہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مع اصحاب تشریف لائے اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے مکان میں نماز پڑھی۔([357] ) (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
{37} ایک روز رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ابو مریم جہنی کی عیادت کو تشریف لے گئے اور وہیں میدان میں نماز پڑھ کر واپس ہوگئے۔ قبیلہ جہینہ کے چند اشخاص نے ابو مریم سے کہا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے درخواست کریں کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس ہمارے واسطے ایک مسجد کی حد بندی کردیں ۔ چنانچہ ابو مریم راستے ہی میں حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جاملے اور عرض کیا کہ آپ میری قوم کے لئے ایک مسجد کی حد بندی کردیں ۔ چنانچہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے واپس ہوکر بنو جہینہ میں ایک مسجد کی حد بندی کر دی۔([358] ) (اصابہ، ترجمہ ابو مریم جہنی)
{38}آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منبر شریف کے تین درجے تھے۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے اوپر کے درجہ پر بیٹھتے اور درمیانی درجہ پر اپنے پاؤں مبارک رکھتے۔ حضوراقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے عہد خلافت میں بپاس ادب درمیانی درجہ پر کھڑے ہوتے اور جب بیٹھتے تو پاؤں سب سے نیچے کے درجہ پر رکھتے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی خلافت میں سب سے نیچے کے درجہ پر کھڑے ہوتے اور جب بیٹھتے تو پاؤں زمین پر رکھتے ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی خلافت کے پہلے چھ سال حضرت عمر فاروق کی طرح کرتے رہے پھررسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جلوس کی جگہ([359] ) چڑھے۔([360] ) (وفا ء الوفائ،جزء اول، ص۲۸۰)
کشف الغمہ للشعرانی(جزء اول، ص۱۶۱) میں ہے کہ جب حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا عہد آیا تو انہوں نے منبر شریف کے درجات زیادہ کردیئے۔وہ اوپر کے تینوں درجوں کو چھوڑ کر زیادت کے پہلے درجہ پر کھڑے ہوا کرتے تھے۔([361] )
{39} حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو دیکھا گیا کہ منبر منیف میں جو جگہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بیٹھنے کی تھی اسے ہاتھ سے مس کیاپھر اس ہاتھ کو اپنے منہ پر مل لیا۔([362] ) (شفاء شریف وطبقات ابن سعد)
{40} یحییٰ بن سعید جو امام مالک کے استاد تھے جب عراق کو جاتے تو منبر شریف کے پاس آکر اسے مس کرتے اور دعا مانگتے۔([363] ) (وفاء الوفائ، جزء ثانی، ص۴۴۲)
{41} مسجد نبوی میں پہلی آتشزدگی یکم رمضان ۶۵۴ھ میں ہوئی، اس میں منبر نبوی کا بقایا بھی جل گیا چنانچہ ابو الیمن بن عساکِر جو آتشزدگی کے وقت زندہ تھے ’’تحفۃ الزائر‘‘ میں یوں لکھتے ہیں :
’’منبر نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بقایا جل گیا۔اس منبر کے رمانہ کو جس پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیٹھنے کے وقت اپنا دست مبارک رکھا کرتے تھے،زائرین مس کیا کرتے تھے اور دو خطبوں کے درمیان اورپیشتر حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر کی جس جگہ پر بیٹھا کرتے تھے اس جگہ کو اور منبر پر رونق افروز ہونے کے وقت جس جگہ پر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دو قدم ہوا کرتے تھے اس جگہ کو بھی زائرین مس کیا کرتے تھے۔ اب آتشزدگی سے وہ اس برکت عامہ و نفع عائد سے محروم ہوگئے۔([364] ) (وفاء الوفائ،جزء اول،ص۲۸۰)
{42} حضرت اَسعد بن زِرارَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ایک چارپائی بطور ہدیہ پیش کی تھی جس کے پائے ساگوان([365] )کی لکڑی کے تھے۔حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اس پر سویا کرتے تھے۔ جب وفات شریف ہوئی تو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اسی پر رکھا گیا۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھی وفات پانے پر اسی پر رکھا گیا۔ بعد ازاں عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو
بھی اسی پر رکھا گیا۔ پھر لوگ بطور تبرک اپنے مردوں کو اسی پر رکھا کرتے تھے۔یہ چارپائی بنو اُمَیَّہ کے عہد میں میراث عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا میں فروخت ہوئی۔ عبد اللّٰہ بن اسحاق نے اسکے تختوں کو چار ہزار درہموں میں خرید لیا۔([366] ) (زرقانی علی المواہب بحوالہ ابن عماد، جزء ثالث، ص۳۸۲)
{43} روایت ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متروکات میں سے بعض چیزیں حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تھیں ۔وہ ایک کمرے میں محفوظ تھیں ۔ ابن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر روز ایک بار ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ اَشراف میں سے اگر کوئی ان سے ملنے آتا تو اس کو بھی ان کی زیارت کرایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس کمرے میں ایک چارپائی، چمڑے کا تکیہ جس میں خرما کی چھال بھری ہوئی تھی، ایک ایک جوڑا موزہ، قطیفہ (لحاف)، چکی اور ترکش تھی جس میں چند تیر تھے۔ لحاف میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر مبارک کے میل کا اثر([367] ) تھا۔ ایک شخص کو سخت بیماری لاحق تھی جس سے شفاء نہ ہوتی تھی۔ابن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اجازت سے اس میل میں سے کچھ دھو کر بیمار کی ناک میں ٹپکا دیا گیا وہ چنگا([368] ) ہوگیا۔([369] )
(مدارج النبوت، جزء ثانی، ص ۶۰۸)
{44} دلائل اَبی نُعَیم میں ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے سخت پتھر ایسے نرم ہوگئے کہ غار بن گئے۔ چنانچہ احد کے دن حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا سر مبارک پہاڑ کی طرف مائل کیاتاکہ مشرکین سے اپنا جسم
مبارک چھپائیں ۔ پس اللّٰہ تعالٰی نے پتھر کو ایسا نرم کیا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا سر مبارک اس میں داخل کردیا۔ وہ پتھر اب تک باقی ہے اور لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں ۔اسی طرح مکہ مشرفہ کے ایک دَرَّہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز میں ایک سخت پتھر سے قرار پکڑا وہ ایسا نرم ہوگیا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دو بازوئے مبارک نے اس میں اثر کیا وہ پتھر مشہور ہے جو لوگ حج کرنے کو جاتے ہیں اس کی زیارت کرتے ہیں ۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے لئے شب معراج میں صخرائے بیت المقدس([370] ) خمیر کی مانند ہوگیا۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے اپنا براق باندھا۔لوگ آج تک اسے اپنے ہاتھ سے چھوتے ہیں ۔([371] )(دلائل النبوۃ للحافظ ابی نعیم الاصبہانی المتوفی ۴۳۰ھ،ص۳۱۵)
{45} عبد الرحمن بن زید عراقی کا بیان ہے کہ ہم ربذہ میں ([372] )حضرت سلمہ بن اَکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھایا جو ایسا ضخیم تھا کہ گویا اونٹ کا سم تھااور فرمایا کہ میں نے اس ہاتھ سے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بیعت کی ہے، پس ہم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیا۔([373] ) (طبقات ابن سعد، جزء رابع، قسم ثانی، ص۳۹)
{46} اسماعیل بن یعقوب تیمی روایت کرتے ہیں کہ ابن منکدر (متوفی ۲۰۵ھ ) مسجد نبوی کے صحن میں ایک خاص جگہ پر لَوٹتے اور لیٹتے۔ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس جگہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا ہے۔ راوی کا قول ہے کہ میرا گمان ہے کہ ابن منکدر نے کہا کہ خواب میں دیکھا ہے۔([374] ) (وفاء الوفائ، جزء ثانی، ص۴۴۵)
اَمثلہ مذکورہ بالا کے مطالعہ کے بعد کسی مسلمان کو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آثار شریفہ سے تبرک کا انکار نہیں ہوسکتا۔اولیاء و علماء جو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکات کے وارث ہیں ان کے آثار شریفہ میں بھی برکت ہوتی ہے۔اس سے انکار کرنا حرمان و بد نصیبی کی علامت ہے۔زیادہ تفصیل کی اس مختصر میں گنجائش نہیں ۔
شیخ الاسلام حافظ ابو الفتح تقی الدین بن دقیق العید (متوفی ۱۱ صفر ۷۰۲ھ) رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح میں یوں فرماتے ہیں :
یا سائرًا نحو الحجاز مشمّرًا اجھدفدیتک فی المسیروفی السریٰ
واذا سھرت اللیل فی طلب العلا فحذار ثم حذار من خدع الکریٰ
فالقصد حیث النّور یشرق ساطعًا و الطرف حیث تری الثریٰ متعطرًا
قف بالمنازل والمناہل من لدن وادی قباء الی حمی امّ القریٰ
و توخّ آثار النّبیّ فضع بھا متشرفا خدّیک فی عفر الثریٰ
و اذا رأیت مھابط الوحی الّتی نشرت علی الآفاق نورا انورا
فاعلم بانّک ما رأیت شبیھہا مذ کنت فی ماضی الزمان ولا تریٰ
اے حجاز کی طرف تیزی سے چلنے والے! میں تجھ پر فدا تو رات دن چلنے میں کوشش کرنا۔ اور جب تو بزرگیوں کی طلب میں رات کو جاگے تو اونگھ کے فریب سے بچنا پھر بچنا۔ تو اس جگہ کا قصد کرنا جہاں نور خوب چمک رہا ہے۔اور جہاں خاک خوشبودار نظر آتی ہے تو ان منازل اور چشموں پر ٹھہر جاناجو وادیٔ قباء کے قریب سے ام القری (مکہ معظمہ)کے سبزہ زار تک ہیں ۔اور نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آثار کا قصد کرنا اور ان کی زیارت سے مشرف ہوتے ہوئے وہاں اپنے ہر دو رخسار کو روئے خاک پر رکھ دینا۔اور جب تو وحی کے اترنے کی جگہوں کو دیکھے جنہوں نے تمام دنیا پر نورا نور پھیلا دیا ہے تو جان لینا کہ تونے اپنی گزشتہ عمر میں ان کی مثل نہیں دیکھا اور نہ آیندہ دیکھے گا۔ (فوات الوفیات، ترجمہ ابن دقیق العید) ([375] )
[1] … ترجمۂکنزالایمان: اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک تم مجنون ہو۔(پ۱۴،الحجر:۶)۔علمیہ
[2] … ترجمۂکنزالایمان:تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں۔(پ۲۹،القلم:۲)۔علمیہ
[3] … ترجمۂکنزالایمان:کیا ہم اپنے خداؤں کو چھوڑدیں ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے ۔(پ۲۳،الصّٰفّٰت:۳۶)۔علمیہ
[4] … ترجمۂکنزالایمان:بلکہ وہ تو حق لائے ہیں اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق فرمائی۔ (پ۲۳،الصّٰفّٰت:۳۷)۔علمیہ
[5] … ترجمۂکنزالایمان:اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے۔(پ۲۳،یٰس:۶۹)۔علمیہ
[6] … ترجمۂکنزالایمان:تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا ۔(پ۱۵،بنی اسراء یل :۴۷)۔علمیہ
[7] … ترجمۂکنزالایمان:دیکھو انہوں نے تمہیں کیسی تشبیہیں دیں تو گمراہ ہوئے کہ راہ نہیں پاسکتے۔(پ۱۵،بنی اسراء یل :۴۸)۔علمیہ
[8] … ترجمۂکنزالایمان:ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے۔(پ۹،الانفال:۳۱)۔علمیہ
[9] … ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لا سکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو۔(پ۱۵،بنی اسراء یل:۸۸)۔علمیہ
[10] … ترجمۂکنزالایمان:کیا یہ کہتے ہیںکہ انہوں نے اسے بنالیا ہے۔(پ۱۱،یونس:۳۸)۔علمیہ
[11] … ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور اللّٰہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو۔
(پ۱۱،یونس:۳۸)۔علمیہ
[12] … ترجمۂکنزالایمان:قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا۔(پ۱۹،الفرقان:۳۲)۔علمیہ
[13] … ترجمۂکنزالایمان:ہم نے یونہی بتدریج اسے اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔
(پ۱۹،الفرقان:۳۲)۔علمیہ
[14] … ترجمۂکنزالایمان:تم رسول نہیں۔(پ۱۳،الرعد:۴۳)
[15] … ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ اللّٰہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میںاور وہ جسے کتاب کا علم ہے۔ (پ۱۳،الرعد:۴۳)
[16] … ترجمۂکنزالایمان:کیا اللّٰہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا۔(پ۱۵،بنی اسراء یل:۹۴)۔علمیہ
[17] … ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ اگر زمین میں فرشتے ہوتے چین سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ اتارتے ۔(پ۱۵،بنی اسراء یل:۹۵)۔علمیہ
[18] … یعنی ہم جنس ہونا اُنسیت اور غیر جنس ہونا اَجنبیت و دوری کا باعث ہوتا ہے۔
[19] … ترجمۂکنزالایمان: اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے۔(پ۱۸،الفرقان:۷)۔علمیہ
[20] … ترجمۂکنزالایمان:اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے۔ (پ۱۸،الفرقان:۲۰)۔علمیہ
[21] … ترجمۂکنزالایمان:کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر۔ (پ۲۵،الزخرف:۳۱)۔علمیہ
[22] … ترجمۂکنزالایمان:کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹااور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے اور تمہارے رب کی رحمت ان کی جمع جتھا سے بہتر۔ (پ۲۵،الزخرف:۳۲)۔علمیہ
[23] … ترجمۂکنزالایمان:کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیںجو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزے ہوکر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بننا ہے۔
(پ۲۲،سبا:۷)۔علمیہ
[24] … ترجمۂکنزالایمان:کیا اللّٰہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا (جنون) ہے بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں۔(پ۲۲،سبا:۸)۔علمیہ
[25] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔ (پ۳۰،الکوثر:۳)۔علمیہ
[26] … مدارج النبوت، قسم پنجم، باب اول، ذکر اولاد کرام انحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،ج۲،ص۵۱۵۔علمیہ
[27] … غمگین ورنجیدہ۔
[28] … ترجمۂکنزالایمان:چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا۔
(پ۳۰،الضحی:۱۔۳)۔علمیہ
[29] … ترجمۂکنزالایمان:وہ تو کان ہیں۔(پ۱۰،التوبۃ:۶۱)۔علمیہ
[30] … ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لئے کا ن ہیں اللّٰہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں۔(پ۱۰،التوبۃ:۶۱)۔علمیہ
[31] … پ۱۸،النور:۱۱۔۲۰۔علمیہ
[32] … برا بھلاکہے معاذا للّٰہ۔
[33] … آپ کی شان میں گستاخی کرے معاذا للّٰہ ۔
[34] … مرتد ہونے کے طور پر۔
[35] … ترجمۂکنزالایمان:مدینے والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللّٰہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اورنہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔(پ۱۰،التوبۃ:۱۲۰)۔علمیہ
[36] … بھیڑ کا بچہ۔
[37] … بخار۔
[38] … نجرانی چادر یا کمبل۔
[39] … مسند البزّار،مسند عمار بن یاسر،الحدیث:۱۴۲۵،ج۴،ص۲۵۴۔علمیہ
[40] … سنن النسائی،کتاب السہو،باب السلام علی النبی،الحدیث:۱۲۷۹،ص۲۱۹۔علمیہ
[41] … مسند البزار،مسند عبد اللّٰہ بن مسعود،الحدیث:۱۹۲۵،ج۵،ص۳۰۸ والزہد لابن المبارک، زیادات الزہد لنعیم بن حماد، باب فی عرض عمل الاحیاء علی الاموات،الحدیث:۱۶۶،ص۴۲۔علمیہ
[42] … اَرفع و اَعلیٰ منبر۔
[43] … یعنی میدانِ محشر میں کھڑے ہونے والے بہت لمبا عرصہ کھڑا رہنے کی وجہ سے گھبرا جائیں گے۔
[44] … ارفع و اعلیٰ منبر۔
[45] … ترجمۂکنزالایمان:اے غیب بتانے والے (نبی)اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہوتو آؤ میں تمہیں مال دوںاور اچھی طرح چھوڑ دوں۔ (پ۲۱،الاحزاب:۲۸)۔علمیہ
[46] … موضح القرآن میں ہے کہ یہ جو فرمایا کہ جو نیکی پر ہیں ان کو بڑا ثواب ہے۔ حضرت کی ازواج سب نیک ہی رہیں وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ مگر حق تعالیٰ صاف خوشخبری کسی کو نہیں دیتا تاکہ نڈر نہ ہوجاوے، خاتمہ کا ڈرلگا رہے۔ مدارک و بیضاوی میں ہے کہمِنْکُنَّ میں مِنْ بیانیہ ہے کیونکہ ازواج مطہرات سب محسنات تھیں۔۱۲منہ
[47] … ترجمۂکنزالایمان:اور اگر تم اللّٰہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللّٰہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لئے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ (پ۲۱،الاحزاب:۲۹)تفسیرا لبیضاوی،سورۃ الاحزاب، تحت الایۃ:۲۸-۳۰،ج۴، الجزئ۲۱، ص۳۷۲۔علمیہ
[48] … ترجمۂکنزالایمان:اے نبی کی بیبیوجو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے اس پر اوروں سے دونا عذاب ہوگااور یہ اللّٰہ کو آسان ہے۔ (پ۲۱،الاحزاب:۳۰)۔علمیہ
[49] … ترجمۂکنزالایمان:اورجو تم میں فرمانبردار رہے اللّٰہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لئے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۱)۔علمیہ
[50] … ترجمۂکنزالایمان: اے نبی کی بیبیوتم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللّٰہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو ۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۲)۔علمیہ
[51] … ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللّٰہ اور اسکے رسول کا حکم مانو اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کر دے۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۳)۔علمیہ
[52] … ترجمۂکنزالایمان:اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللّٰہ کی آیتیں اور حکمت بیشک اللّٰہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے۔
(پ۲۲،الاحزاب:۳۴)۔علمیہ
[53] … ترجمۂکنزالایمان: ان کے بعد اور عورتیں تمہیں حلال نہیںاور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مال۔ (پ۲۲،الاحزاب:۵۲)۔علمیہ
[54] … ترجمۂکنزالایمان:اور ایسا ہوتا تو ہم تم کو دونی عمر اور دو چند موت کا مزہ دیتے۔ (پ۱۵،بنی اسراء یل:۷۵)۔علمیہ
[55] … آزاد۔
[56] … غلام۔
[57] … یہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خطاب ہے۔ یعنی اگر برسبیل فرض و تقدیر تو شرک کرے گا اگرچہ یہ محال ہے تیر ا عمل باطل ہوجائے گا۔ (زمر، ع۷) ۱۲منہ … (ترجمۂکنزالایمان:کہ اے سننے والے اگر تو نے اللّٰہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا۔ (پ۲۴،الزمر:۶۵) ۔علمیہ)
[58] … ا س کے باوجود۔
[59] … برا بھلا کہنا۔
[60] … دُگنا اجر۔
[61] … ثواب و عذاب کا دُگنا ہونا۔
[62] … ترجمۂکنزالایمان:اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔ (پ۲۱،الاحزاب:۶)۔علمیہ
[63] … رُعب۔
[64] … اِترا نا۔
[65] … ترجمۂکنزالایمان:بولے ڈرئیے نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیںاور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحق کی خوشخبری دی اور اسحق کے پیچھے یعقوب کی بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے بیشک یہ تو اچنبھے (تعجب) کی بات ہے فرشتے بولے کیا اللّٰہ کے کام کا اچنبھا کرتی ہو اللّٰہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے اس گھر والوبیشک وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا۔ (پ۱۲،ہود:۷۰۔۷۳)۔علمیہ
[66] … شرح الزرقانی علی المواھب، المقصدالثانی۔۔۔الخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاھرات وسراریہ۔۔۔الخ، ج۴، ص۳۵۹-۳۶۱ملخصا۔علمیہ
[67] … یہ حالات عموماً زرقانی علی المواہب سے ماخوذ ہیں۔ زرقانی نے بحوالہ دیگر کتب ان کو یکجا جمع کردیا ہے۔
[68] … شرح الزرقانی علی المواھب، المقصدالثانی ۔۔۔الخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاھرات وسراریہ۔۔۔الخ،ج۴، ص۳۶۳-۳۷۶ملخصا۔علمیہ
[69] … ایک مقام کا نام۔
[70] … نکاح کا پیغام بھیجنا۔
[71] … مشہورو رائج کتابیں۔
[72] … شرح الزرقانی علی المواھب، المقصدالثانی ۔۔۔الخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاھرات وسراریہ۔۔۔الخ،ج۴، ص۳۸۱- ۳۹۳ملخصا۔علمیہ
[73] … بے دین۔
[74] … باری۔
[75] … باکثرت حدیثیں روایت کرنے والی۔
[76] … شرح الزرقانی علی المواہب،المقصدالثانی۔۔۔الخ،الفصل الثالث فی ذکرازواجہ الطاھرات ۔۔الخ،عائشۃ ام المؤمنین، ج۴، ص۳۸۱-۳۹۲ملخصاً۔علمیہ
[77] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔إلخ ، ج ۴، ص۳۹۳،۳۹۵۔علمیہ
[78] … ٹھیک۔
[79] … نکاح کا پیغام دینا۔
[80] … بلا حصولِ مقصد۔
[81] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔إلخ، ج۴، ص ۳۹۶،۴۰۳۔علمیہ
[82] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔إلخ، ج۴، ص ۴۰۳-۴۰۹۔علمیہ
[83] … منہ بولا بیٹا۔
[84] … جنہوں نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیاتھا۔
[85] … ترجمۂکنزالایمان:اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللّٰہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۶)۔علمیہ
[86] … بڑائی۔
[87] … ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللّٰہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللّٰہ سے ڈراور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللّٰہ کو ظاہر کرنا منظور تھااور تمہیں لوگوں کے طعنے کا اندیشہ تھا اور اللّٰہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۷)۔علمیہ
[88] … دلجوئی۔
[89] … منہ بولا بیٹا۔
[90] … حقیقی بیٹے کی طرح ۔
[91] … طلاق یافتہ۔
[92] … ترجمۂکنزالایمان: پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللّٰہ کا حکم ہوکر رہنا۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۷)۔علمیہ
[93] … منہ بولا بیٹا۔
[94] … ترجمۂکنزالایمان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے ۔
(پ۲۲،الاحزاب:۴۰)۔علمیہ
[95] … ترجمۂکنزالایمان:اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایایہ تمہارے اپنے منھ کا کہنا ہے ۔ (پ۲۱،الاحزاب:۴)۔علمیہ
[96] … خوفِ خدا رکھنے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گڑ گڑانے والی۔
[97] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔إلخ، ج ۴، ص ۴۰۹۔۴۱۵۔علمیہ
[98] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔ إلخ ، ج۴، ص۴۱۶۔۴۱۸۔علمیہ
[99] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات۔۔۔ إلخ ، ج۴ ، ص۴۱۸۔۴۲۴۔علمیہ
[100] … آقا کا اپنے غلام سے مال کی ادائیگی کے بدلے اس کی آزادی کا معاہدہ کرنا کتابت کہلاتا ہے اور جو مال مقرر ہو اسے بدلِ کتابت کہتے ہیں۔علمیہ
[101] … سسرالی رشتہ۔
[102] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔ إلخ ،ج۴، ص۴۲۴۔۴۲۸۔علمیہ
[103] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔ ۔إلخ ،ج۴، ص،۴۲۸۔۴۳۶۔علمیہ
[104] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام ۔۔۔ إلخ ، ج۴، ص ۳۱۳۔۳۱۴۔علمیہ
[105] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔ إلخ ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام ۔۔۔ إلخ ، ج۴، ص ۳۱۶۔۳۱۷۔علمیہ
[106] … تیر دان۔
[107] … سونے کا ہار۔
[108] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی۔۔۔إلخ،الفصل الثانی فی ذکراولادہ الکرام،ج۴،ص ۳۱۸۔۳۲۲۔علمیہ
[109] … گرجا۔
[110] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام ۔۔۔ إلخ ، ج۴،ص ۳۲۲۔۳۲۷۔علمیہ
[111] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام ۔۔۔ إلخ ، ج۴،ص ۳۳۱۔۳۳۳۔علمیہ
[112] … طبقات ابن سعد، جزء ثامن، ترجمہ زہرائ۔…(الطبقا ت الکبری ،تسمیۃ النساء المسلمات والمھاجرات من قریش۔۔۔الخ، باب ما ذکر بنات رسول اللّٰہ ، ج۸ ص۱۹…شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد اوّل ۔۔۔إلخ، ذکر تزویج علی بفاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا،ج ۲،ص ۳۵۷۔۳۶۰۔علمیہ)
[113] … کھجور کے درخت۔
[114] … وفاء الوفاء للسمہودی۔…(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، کتاب النساء ، حرف الفاء ، فاطمۃ الزھراء : ۱۱۵۸۷ ، ج۸ ، ص۲۶۴۔علمیہ)
[115] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی۔۔۔إلخ،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج ۴،ص ۳۳۴۔۳۳۶۔علمیہ
[116] … گھریلو۔
[117] … صحیح البخاری ، کتاب: فضا ئل اصحاب النبی ، باب مناقب علی بن ابی طالب ۔۔۔ الخ،الحدیث :۳۷۰۳ ، ج۲، ص۵۳۵۔علمیہ
[118] … نکاح کا پیغام بھیجنا۔
[119] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج ۴، ص ۳۳۵۔علمیہ
[120] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، کتاب النسائ، حرف الفائ، فاطمۃ الزھراء :۱۱۵۸۷، ج ۸،ص۲۶۸۔علمیہ
[121] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام، ج ۴، ص ۳۳۹ … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، کتاب النسائ، فیمن عرف بالکنیۃ من النسائ،حرف الکاف،ام کلثوم بنت علی:۱۲۲۳۷، ج ۸،ص۴۶۵… الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،کتاب النسائ،حرف الزای المنقوطۃ، زینب بنت علی :۱۱۲۶۷، ج۸، ص۱۶۶…سبل الھدی والرشاد،فی بعض مناقب السیدۃ فاطمۃ۔۔۔إلخ،ج ۱۱، ص ۵۱۔علمیہ
[122] … شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی ۔۔۔إلخ،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج۴،ص۳۱۴۔علمیہ
[123] … مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی آبادی کو عالیہ یا عوالی مدینہ کہتے ہیں۔
[124] … سبل الھدی والرشاد،فی الباب الخامس فی بعض مناقب سیدناابراہیم ۔۔۔إلخ،ج ۱۱، ص ۲۱۔۲۴۔علمیہ
[125] … ان کے نقش قدم پر چلنے والے۔
[126] … گستاخی۔
[127] … ترجمۂکنزالایمان:اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں اور بچے کئے۔ (پ۱۳،الرعد:۳۸)۔علمیہ
[128] … کنیزیں۔
[129] … گستاخی۔
[130] … سنن نسائی،کتاب عشرۃ النسائ،باب حب النسائ،الحدیث:۳۹۴۵،ص۶۴۴۔علمیہ
[131] … بشری تقاضے کے تحت۔
[132] … شرح النسائی للسیوطی،کتاب عشرۃ النسائ، باب حبّ النساء ،ج۴،الجز۷،ص۶۱۔۶۲۔علمیہ
[133] … اللّٰہ سے خاص تعلق۔
[134] … شرح النسائی للسیوطی،کتاب عشرۃ النسائ، باب حبّ النساء ،ج۴،الجز۷،ص۶۲۔۶۳۔علمیہ
[135] … شریعت کے ظاہری اور باطنی اُمور۔
[136] … شرم والے۔
[137] … زہر الربیع للسیوطی وحاشیہ سندی برنسائی۔…(شرح النسائی للسیوطی ،کتاب: عشرۃ النساء ، باب میل الرجل الی بعض نسائہ دون بعض، ج۴،جز ۷، ص۶۴۔علمیہ)
[138] … ترجمۂکنزالایمان:اور جو ایمان نہ لائے اللّٰہ اور اس کے رسول پر تو بیشک ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
(پ۲۶،الفتح:۱۳) ۔علمیہ
[139] … احکامات کی تعمیل۔
[140] … جن سے آپ نے منع فرمایا ۔
[141] … ترجمۂکنزالایمان:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ کا عذاب سخت ہے ۔(پ۲۸،الحشر:۷) ۔علمیہ
[142] … ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللّٰہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللّٰہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۱) ۔علمیہ
[143] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک تمہیں رسول اللّٰہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لئے کہ اللّٰہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللّٰہ کو بہت یاد کرے۔(پ۲۱،الاحزاب:۲۱) ۔علمیہ
[144] … ترجمۂکنزالایمان:یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔ (پ۲۱،الاحزاب:۶) ۔علمیہ
[145] … بلا حیل و حجت۔
[146] … صحیح البخاری،کتاب الجنائز ، باب موت یوم اثنین،الحدیث:۱۳۸۷، ج۱، ص۴۶۸۔علمیہ
[147] … صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب موت یوم الاثنین۔
[148] … نسیم الریاض بحوالہ ابو دائود وبخاری۔
[149] … نسیم الریاض ، القسم الثانی فیما یجب علی الانام من حقوقہ ۔۔۔الخ،الباب الاول فی فرض الایمان ۔۔۔الخ ، فصل فی ان مخالفۃ امرہ۔۔۔الخ ، ج۴ ،ص ۴۱۴۔علمیہ
[150] … صحیح البخاری ، کتاب الحج ، باب ما ذکر فی الحجر الاسود،الحدیث :۱۵۹۷، ج۱، ص۵۳۷ ۔علمیہ
[151] … مشکاۃ المصابیح، کتاب الباس، باب الخاتم ، الحدیث:۴۳۸۵، ج۲ ،ص۱۲۳۔علمیہ
[152] … مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق، باب فضل الفقرائ۔۔۔الخ، الحدیث:۵۲۳۸، ج۲ ، ص۲۵۴ ۔علمیہ
[153] … صحیح البخاری،کتاب الاطعمۃ، باب ماکان النبی و اصحابہ یاکلون، الحدیث: ۵۴۱۳،ج۳، ص۵۳۲ ۔علمیہ
[154] … الطبقات الکبری لابن سعد، باب ذکر طعام رسول اللّٰہ وما کان یعجبہ منہ ، ج۱ص۳۰۱ ۔علمیہ
[155] … الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی، القسم الثانی،الباب الاوّل ،فصل وامّاوردعن السلف، ج۲،ص۱۵ ۔علمیہ
[156] … روز مرہ کے عام معاملات۔
[157] … وفاء الوفائ، اول، ص ۳۴۸۔…(وفاء الوفائ،الفصل الثانی عشر فی زیادۃ عمر بن الخطاب۔۔۔الخ،بین عمر بن الخطاب فی المسجد النبوی،ج۱، الجز۲،ص۴۸۶ ۔علمیہ )
[158] … ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللّٰہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیاد ہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم لائے اور اللّٰہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔(پ۱۰،التوبۃ:۲۴) ۔علمیہ
[159] … صحیح البخاری،کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان، الحدیث:۱۵، ج۱، ص۱۷۔علمیہ
[160] … صحیح البخاری،کتاب الأیمان والنذور،باب کیف کانت یمین النبی، الحدیث: ۶۶۳۲،ج۴، ص۲۸۳…والشفائ، القسم الثانی فیما یجب علی الانام، الباب الثانی فی لزوم محبتہ، ج۲ ص۱۹۔علمیہ
[161] … صحیح مسلم ،کتاب الأیمان،باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۲، ص۷۴-۷۵ ۔علمیہ
[162] … نسیم الریاض بحوالہ احمد وابن اسحاق۔ اصابہ، ترجمہ ابو طالب۔…(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء المھملۃ،۱۰۱۷۵ ابوطالب،ج۷،ص۱۹۹ملخصا ۔علمیہ)
[163] … صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب وفد بنی حنیفہ۔۔۔الخ،الحدیث:۴۳۷۲،ج۳،ص۱۳۱-۱۳۲ملخصا ۔علمیہ
[164] … صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ذکر ھند بنت عتبۃ۔۔۔الخ،الحدیث: ۳۸۲۵،ج۲،ص۵۶۷ملخصا ۔علمیہ
[165] … سنن الترمذی،کتاب الزکاۃ،باب:ما جآء فی اعطاء المولفۃ ،الحدیث :۶۶۶، ج۲، ص۱۴۷۔علمیہ
[166] … بیہقی و بزار۔ اصابہ، ترجمہ ابو طالب بحوالہ ابن اسحاق۔ … (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ،حرف الطاء المھملۃ،اصابۃ،۱۰۱۷۵ ابوطالب،ج۷،ص۲۰۰-۲۰۱ ۔علمیہ)
[167] … پارسا عورت۔
[168] … السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، غزوۃ احد، ص۳۴۰ ۔علمیہ
[169] … الادب المفرد للبخاری، باب مایقول الرجل اذاخدرت رجلہ۔
[170] … الأدب المفرد للبخاری،باب ما یقول الرجل اذاخدرت رجلہ،الحدیث:۹۹۳،ص۲۶۲ ۔علمیہ
[171] … شفاء شریف۔
[172] … الشفائ، القسم الثانی فیما یجب علی الأنام، الباب الثانی۔۔۔الخ، فصل فی علامات محبتہ،ج۲،ص ۲۳ ۔علمیہ
[173] … زرقانی علی المواہب بحوالہ امام احمد وغیرہ۔…(الشفائ، القسم الثانی فیما یجب علی الأنام، الباب الثانی۔۔۔الخ، فصل فی علامات محبتہ،ج۲،ص ۲۵ ۔علمیہ)
[174] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ زید بن مثنہ ‘‘ لکھا ہے یہ ہمیں نہیں ملا البتہ’’ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، اسد الغابۃ ، المستدرک علی الصحیحن للحاکم‘‘اور حدیث و سیرت کی دیگرکتب میں ’’ زَید بن دَثِنَّہ ‘‘ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں ’’ زَید بن مثنہ ‘‘کے بجائے ’’ زَید بن دَثِنَّہ ‘‘ لکھا ہے ۔و اللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب ۔علمیہ
[175] … السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ،غزوۃ احد، ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث،ج۳، ص۳۶۹- ۳۷۱ ۔علمیہ
[176] … احکام کی تعمیل۔
[177] … جن سے آپ نے منع فرمایا۔
[178] … بُرا بھلا کہنا۔
[179] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں اس طرح لکھا ہے : عبید بن جریح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔الخ، جبکہ ‘’شمائل ترمذی ‘‘ میں ہے: ‘’ عن عبید بن جریج انہ قال لابن عمر رأیتک تلبس النعال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔الخ ‘‘ اس کے علاوہ بخاری ، مسلم، دلائل النبوۃ للبیہقی ، سبل الہدی و الرشاد اور حدیث و سیرت کی دیگر کتب میں بھی(الفاظِ مختلفہ کے ساتھ اس روایت میں) ‘’عبید بن جریج ‘‘ اور’’ ابن عمر‘‘ کا ذکر ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں ‘’عبید بن جریح ‘‘ اور ‘’ عمر ‘‘کے بجائے ‘’ عُبید بن جُریج ‘‘اور ‘’ ابن عُمَر‘‘ لکھا ہے ۔و اللّٰہ تعالی اعلم بالصواب۔ علمیہ
[180] … الشمائل المحمدیۃ للترمذی، الباب فی نعلہ ، الحدیث:۷۴،ص۶۴۔علمیہ
[181] … مشکاۃ المصابیح،کتاب الاطعمۃ، الحدیث:۴۱۸۰،ج۲،ص۹۲ ۔علمیہ
[182] … مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب الجماعۃ وفضلھا ،ج۳،ص۱۶۶۔علمیہ
[183] … الشمائل المحمدیۃ للترمذی، الباب فی ادام رسول اللّٰہ، الحدیث:۱۶۹،ص۱۱۱۔علمیہ
[184] … ترجمۂکنزالایمان:تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللّٰہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللّٰہاور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔(پ،۲۸،المجادلۃ:۲۲) ۔علمیہ
[185] … رشتہ دار۔
[186] … اصابہ بحوالہ طبرانی۔…(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف العین المھملۃ،عامر بن عبد اللّٰہ: ۴۴۱۸،ج۳،ص۴۷۶ ۔علمیہ)
[187] … منافقین کا سردار۔
[188] … اصابہ، ترجمہ عبداللّٰہ بن عبداللّٰہ بن ابی۔…(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف العین المھملۃ ، ترجمۃ : ۴۸۰۲ ، ج۴، ص۱۳۳۔علمیہ)
[189] … سیرت ابن ہشام۔…(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ، من قتل ببدر من المشرکین، من بنی محزوم، ص۲۹۷ ۔علمیہ)
[190] … استیعاب، ترجمہ عبدالرحمن بن ابی بکر۔…(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،ترجمۃعبدالرحمن بن ابی بکر،ج،ص۳۶۸۔علمیہ)
[191] … نسیم الریاض وغیرہ۔
[192] … صحیح مسلم، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔… (صحیح مسلم ،کتاب الجھاد والسیر ، باب : الامداد بالملائکۃ۔۔۔الخ ، الحدیث: ۱۷۶۳، ص۹۷۰۔علمیہ)
[193] … ایک حفاظتی لبادہ جو جنگ میں پہنتے ہیں اور گھوڑے پر بھی ڈالتے ہیں۔
[194] … ترمذی، ابواب الزہد ۔ … ( سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب : ما جآء فی فضل الفقر ، الحدیث : ۲۳۵۷ ، ج۴ ، ص۱۵۷۔علمیہ)
[195] … مشکوٰۃ بحوالہ صحیحین، باب الحب فی اللّٰہ ومن اللّٰہ۔…(مشکاۃ المصابیح ، کتاب الآداب ، باب : الحب فی اللّٰہ ومن اللّٰہ ، الحدیث:۵۰۰۸ ج۳، ص۷۵ ۔علمیہ)
[196] … درمنثور بحوالہ طبرانی وابن مردو یہ وابو نعیم فی الحلیۃ والضیاء المقدسی فی صفۃ الجنۃ۔…(صحیح البخاری ، کتاب الآداب ، باب:ما جاء فی قول الرجل ویلک،الحدیث:۶۱۶۷،ج۴،ص۱۴۶۔علمیہ)
[197] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ‘’ تاخت ‘‘ لکھا ہے جو کہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ‘’ اشعۃ اللمعات‘‘ میں ‘’ تافت ‘‘ ہے اور ازروئے معنی بھی ‘’ تافت ‘‘ ہی مناسب معلوم ہوتا ہے لہٰذا ہم نے یہاں ‘’ اشعۃ اللمعات‘‘کے مطابق ‘’ تافت ‘‘ لکھا ہے۔
و اللّٰہ تعالٰی اعلم ۔علمیہ
[198] … ترجمہ: جب تو اللّٰہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے تو تجھے اللّٰہ کے جوار رحمت اور حضور علیہ الصلاۃ و السلامکے قرب میں جگہ نصیب ہو گی اگرچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام بہت بلند ہے اور وہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکتا لیکن آپ کی پیروی اور محبت کا نور آپ کے محبین وتابعین پر ضرور چمکے گا ۔علمیہ(اشعۃ اللمعات،کتاب الآداب،باب الحب فی اللہ و من اللہ، ج۴، ص۱۴۴) ۔علمیہ
[199] … در منثور بحوالہ طبرانی وابن مردو یہ وابو نعیم فی الحلیۃ والضیاء المقدسی فی صفۃ الجنۃ۔
[200] … ترجمۂکنزالایمان:اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے فضل کیا یعنی انبیااور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔ (پ۵،النسائ:۶۹) ۔علمیہ
[201] … الدر المنثور فی التفسیر الما ثور،سورۃ النسائ، تحت الایۃ :۷۰،ج۲، الجزئ۵،ص۵۸۸ ۔علمیہ
[202] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتاتاکہ اے لوگو تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللّٰہ کی پاکی بولو۔ (پ۲۶،الفتح:۸۔۹) ۔علمیہ
[203] … ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو اللّٰہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ سنتا جانتا ہے۔ (پ۲۶،الحجرات:۱) ۔علمیہ
[204] …ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ۲۶،الحجرات:۲) ۔علمیہ
[205] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللّٰہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللّٰہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ (پ۲۶،الحجرات:۳) ۔علمیہ
[206] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔ (پ۲۶،الحجرات:۴) ۔علمیہ
[207] … ترجمۂکنزالایمان:اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ۲۶،الحجرات:۵) ۔علمیہ
[208] … یعنی آگے نہ بڑھو۔
[209] … کوتاہی۔
[210] … بخاری، تفسیر سورۂ حجرات۔…(صحیح البخاری،کتاب التفسیر،سورۃ الحجرات، باب :لاترفعوا اصواتکم۔۔۔الخ، الحدیث :۴۸۴۵، ج۳ ص۳۳۱ وباب ان الذین ینادونک۔۔۔الخ،ص۳۳۲،الحدیث:۴۸۴۷ ۔علمیہ)
[211] … اسباب نزول للواحدی۔…(جامع اسباب النزول، سورۃ الحجرات، ص ۳۲۳ ۔علمیہ)
[212] … ترجمۂکنزالایمان: اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے۔ (پ۲۶،الحجرات:۲) ۔علمیہ
[213] … صحیح مسلم، باب مخافات المؤمن ان یحبط عملہ۔…(صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب:مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ، الحدیث: ۱۱۹، ص۷۳-۷۴ ۔علمیہ)
[214] … جامع اسباب النزول، سورۃ الحجرات، ص ۳۲۳۔۳۲۴ ۔علمیہ
[215] … ترجمۂکنزالایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ۱۸،النور:۶۳) ۔علمیہ
[216] … ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔(پ۱،البقرۃ:۱۰۴) ۔علمیہ
[217] … یکسانیت کی وجہ سے شبہ پڑنا۔
[218] … جامع اسباب النزول، سورۃ البقرۃ، ص ۲۷ ۔علمیہ
[219] … فریب۔
[220] … صحیح بخاری، کتاب الشروط۔…(صحیح البخاری،کتاب الشروط،باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ الحدیث: ۲۷۳۱۔۲۷۳۲،ج۲، ص۲۲۴۔۲۲۵ملخصًا ۔علمیہ)
[221] … ترجمۂکنزالایمان:مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللّٰہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا۔
(پ۲۱،الاحزاب:۲۳) ۔علمیہ
[222] … ترمذی، کتاب التفسیر، تفسیر سورۂ احزاب۔…(سنن الترمذی،کتاب التفسیر،باب:سورۃ الاحزاب،الحدیث :۳۲۱۴، ج۵، ص۱۴۰ ۔علمیہ)
[223] … ترمذی، ابواب المناقب۔…(سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب: فی مناقب ابو بکر وعمرکلیھما،الحدیث:۳۶۸۸، ج۵، ص۳۸۸ ۔علمیہ)
[224] … بحث و تکرار۔
[225] … شمائل ترمذی، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔…(الشمائل المحمدیۃ للترمذی، باب:ما جآء فی خلق رسول اللّٰہ، الحدیث:۳۳۴،ص۱۹۸ ۔علمیہ)
[226] … الادب المفر د للبخاری، باب قرع الباب۔ اس روایت سے پایا جاتاہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازوں میں حلقے نہ تھے۔ صحابہ کرام بپاس ادب بجائے دستک دینے کے ناخنوں سے کھٹکھٹایا کرتے تھے۔۱۲منہ…( الأدب المفرد للبخاری، باب قرع الباب ،الحدیث:۱۱۱۱،ص۲۹۰ ۔علمیہ)
[227] … زاد المعادلابن قیم، قصۂ حدیبیہ اور درمنثور للسیوطی، تفسیر سورۂ فتح۔…(الدر المنثور فی التفسیر الما ثور،سورۃ الفتح، تحت الایۃ: ۱۸،ج۷، الجزئ۲۶،ص۵۲۱ ملتقطا و زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، فصل فی قصۃ الحدیبیۃ،الجزء الثالث،ج۲، ص۲۱۰-۲۱۱ ۔علمیہ)
[228] … السیرۃ الحلبیۃ،باب ذکر مغازیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم، ج۳،ص۲۵ ۔علمیہ
[229] … ادب کا باعث۔
[230] … سنن ابن ماجہ ،کتاب الطھارۃ وسننھا،باب کراھیۃ مس الذکر...الخ الحدیث:۳۱۱،ج۱،ص۱۹۸ ۔علمیہ
[231] … صحیح مسلم، باب کون الاسلا م یہد م ماقبلہ و کذالحج والعمرۃ۔…(صحیح مسلم ،کتاب الأیمان،باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ و کذا الہجرۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۲، ص۷۵ ۔علمیہ)
[232] … اونٹنی۔
[233] … ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ۔ (پ۵،النساء:۴۳) ۔علمیہ
[234] … اصابہ بحوالہ طبرانی، ترجمہ اسلع الاعرجی۔ تفسیر درمنثور بحوالہ طحاوی ودارقطنی و طبرانی وبیہقی وغیرہ۔…( الدر المنثور فی التفسیر الما ثور،سورۃ النسائ، تحت الایۃ :۴۳،ج۲، الجزئ۵،ص۵۴۷ ۔علمیہ)
[235] … ترمذی،کتاب الطہارت، باب ماجاء فی مصافحۃ الجنب۔…(سنن الترمذی،کتاب الطھارۃ،باب:ماجآء فی مصافحۃ الجنب، الحدیث :۱۲۱، ج۱، ص۱۷۰ ۔علمیہ)
[236] … کشف الغمہ للشعرانی، جز ء ثانی، ص ۱۸۴۔…(کشف الغمۃ للشعرانی ، کتاب الاقضیۃوالشھادات ، فرع فی المصافحۃ و طلاقۃ الوجہ، ج۲،ص۲۸۸۔علمیہ)
[237] … جامع ترمذی، باب ماجاء فی میلاد النبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ۔…(سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب: فی میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ،الحدیث :۳۶۳۹، ج۵، ص۳۵۶۔علمیہ)
[238] … اصابہ، ترجمہ سعید بن یربوع۔…(الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ،حرف السین المھملۃ،باب سعید بن یربوع،ترجمہ ۳۳۰۲، ج۳،ص۹۸۔علمیہ)
[239] … الادب المفر د للبخاری ، باب الرجل یقبل ابنتہ۔…(الأدب المفرد للبخاری، باب الرجل یقبل ابنتہ، الحدیث:۱۰۰۰، ص۲۶۴۔علمیہ)
[240] … جامع ترمذی، ابواب الاستیذانِ والادب، باب ماجاء فی قبلۃ الید و الرجل۔…(سنن الترمذی،کتاب الاستئذان والادب، باب ما جاء فی قبلۃ الید والرجل،الحدیث :۲۷۴۲، ج۴، ص۳۳۶۔علمیہ)
[241] … ابن ماجہ، باب الرجل یقبل یدالرجل۔…(سنن ابن ماجہ ،کتاب الادب،باب الرجل یقبل ید الرجل، الحدیث:۳۷۰۵، ج۴، ص۲۰۵ ۔علمیہ)
[242] … ترجمۂکنزالایمان:مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو۔(پ۹، الانفال:۱۶)۔علمیہ
[243] … الادب المفردللبخاری، باب تقبیل الید۔ تفسیر درمنثور بحوالہ ابو دائود و ترمذی وابن ماجہ وغیرہ۔…(الأدب المفرد للبخاری ، باب تقبیل الید،الحدیث:۱۰۰۱،ص۲۶۴ا-علمیہ)
[244] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ مُنْذِر الشیخ ‘‘ لکھا ہے جبکہ ’’سنن ابی داود شریف ‘‘ اورحدیث و سیرت کی دیگرکتب میں ان صحابی کا نام ’’ مُنْذِرُالاَشَجّ ‘‘ مرقوم ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے ’’ مُنْذِر الشیخ ‘‘ کے بجائے ’’سنن ابی داود شریف ‘‘کے مطابق’’ مُنْذِرُالاَشَجّ ‘‘ لکھا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۔علمیہ
[245] … ابو دائود، کتاب الادب، باب فی قبلۃ الجسد۔ الادب المفر د للبخاری، باب تقبیل الید۔…(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی قبلۃ الرجل، الحدیث:۵۲۲۵،
[246] … زرقانی علی المواہب، وفد عبدالقیس۔ الادب المفرد للبخاری، باب التؤدۃ فی الامور۔…(الزرقانی علی المواھب،المقصد الثانی، الوفد الرابع وفد عبد القیس،ج۵،ص۱۴۰۔علمیہ)
[247] … دلائل حافظ ابی نعیم، مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن، ص ۱۳۸۔…(تاریخ مدینۃ دمشق ، باب جامع دلائل نبوتہ علیہ السلام، الحدیث:۱۱۲۳،ج۴،ص۳۶۵۔علمیہ)
[248] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، باب الکنی۔حرف الباء الموحدۃباب ابوبزۃ المکی،ترجمۃ ۹۶۱۹،ج۷،ص۳۴۔علمیہ
[249] … ایک قسم کا ریشمی کپڑا۔
[250] … بٹن۔
[251] … صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب المزَرَّر بالذہب۔…(صحیح البخاری ،کتاب اللباس ، باب المزرر بالذھب ، الحدیث: ۵۸۶۲،ج۴، ص۶۷۔علمیہ)
[252] … اے اللّٰہ! سعد بن عبادہ کی آل پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرما۔علمیہ
[253] … سنن ابی داود ،کتاب الادب،باب کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستئذان، الحدیث:۵۱۸۵، ج۴، ص۴۴۵۔علمیہ
[254] … صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قضاء الوصی دیون المیت۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۷۸۱،ج۲، ص۲۴۷۔علمیہ
[255] … اصابہ بحوالہ ابن اسحاق، ترجمہ محجن بن ادرع اسلمی نیز مشکوٰۃ بحوالہ بخاری، باب اعداد آلۃ الجہاد۔…(عمدۃ القاری،کتاب الجہاد والسیر،باب التحریض علی الرمی،الحدیث:۲۸۹۹،ج۱۰،ص۲۲۰۔علمیہ)
[256] … صحیح مسلم، باب اباحت اکل الثوم۔…(صحیح مسلم ،کتاب الأشربۃ ، باب اباحۃ اکل الثوم ، الحدیث: ۲۰۵۳۔۱۸۱، ص۱۱۳۵۔علمیہ)
[257] … تلووں کے بل اس طرح بیٹھنا کہ گھٹنے کھڑے رہیں۔
[258] … الشمائل المحمدیۃ للترمذی، باب:ما جآء فی جلسۃرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ، الحدیث:۱۲۰، ص۸۹۔علمیہ
[259] … شفاء شریف۔ علی القاری شرح میں لکھتے ہیں کہ اسے ابو یعلی نے روایت کیاہے۔۱۲منہ…( الشفاء القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ، فصل: فی عادۃالصحابۃ فی تعظیمہ، ج۲، ص۴۰۔علمیہ)
[260] … صحیح مسلم ،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشراب و احکامھا، الحدیث:۲۰۱۷،ص۱۱۱۶۔علمیہ
[261] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ اسحٰق نجیبی‘‘ لکھا ہے جبکہ شفاء شریف اور دیگرکتب میں ان بزرگ کا نام ’’ اسحٰق تُجِیبی ‘‘ ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے ’’ اسحٰق نجیبی ‘‘ کے بجائے’’ اسحٰق تُجِیبی ‘‘ لکھا ہے۔ و اللّٰہ تعالٰی اعلم۔علمیہ
[262] … الشفاء القسم الثانی ۔۔۔الخ،الباب الثانی فی لزوم محبتہ، فصل: فی علامۃ محبتہ ، ج۲، ص۲۶۔علمیہ
[263] … صحیح البخاری،کتاب الصلوۃ،باب رفع الصوت فی المساجد،الحدیث:۴۷۰،ج۱، ص۱۷۸۔علمیہ
[264] … وفاء الوفائ،الابواب الشارعۃ فی المسجد،الفصل الثالث عشر فی البطیخاء فیہ۔۔۔الخ، ج۱،الجز۲،ص۴۹۹۔علمیہ
[265] … ترجمۂکنزالایمان:اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔ (پ۲۶،الحجرات:۲)۔علمیہ
[266] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں۔ (پ۲۶،الحجرات:۳)۔علمیہ
[267] … ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔ (پ۲۶،الحجرات:۴)۔علمیہ
[268] … ترجمۂکنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریںتو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ (پ۵، النسائ:۶۴)۔علمیہ
[269] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:واعلم ان حرمۃ النبی۔۔۔الخ،ج۲،ص۴۱۔علمیہ
[270] … وفاء الوفاء بحوالہ ابن زبالہ، جز ء اول، ص ۳۹۸۔
[271] … یعنی تعمیر و توسیع کے ذمہ داران سستی دکھاتے ہیں۔
[272] … مناصع مدینہ منورہ سے باہر ایک جگہ کانام ہے جہاں عورتیں زمانہ جاہلیت میں رات کے وقت بو ل و براز کے لیے جایا کرتی تھیں۔ کذافی معجم البلدان للیاقوت۔۱۲منہ
[273] … وفاء الوفاء باخبار دارالمصطفٰی،الباب الرابع، الفصل الحادی والعشرون، الجز۲، ص ۵۵۹۔علمیہ
[274] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:واعلم ان حرمۃ النبی۔۔۔الخ،ج۲،ص۴۱۔۴۳۔علمیہ
[275] … بستان المحدثین،ص۱۹
[276] … ُکھروں۔
[277] … وفاء الوفاء، الباب الثامن فی زیارۃ النبی۔۔۔الخ،الفصل الرابع فی آداب الزیارۃ، ج۲، الجز۴،ص۱۴۱۴ ۔علمیہ
[278] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۷۔علمیہ
[279] … الشفاء،القسم الثانی ۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲،ص۵۷۔علمیہ
[280] … تاریخ صغیر للبخاری، مطبوعہ انوار احمدی الہ آباد، ص ۴۲۔
[281] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۷۔علمیہ
[282] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۸۔علمیہ
[283] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۸۔علمیہ
[284] … تنازع۔
[285] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۶۔علمیہ
[286] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲،ص۴۵۔علمیہ
[287] … حضرت عبد اللّٰہبن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے یہ روایت ہمیں نہیں ملی البتہ شفاء شریف اور دیگر کتب میں یہ روایت حضرت عبد الرحمن ابن مہدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہ سے منقول ہے،ہو سکتا ہے مصنف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس شفاء شریف کا جو نسخہ ہو اس میں ایسا ہی ہویا پھر کتابت میں غلطی ہوئی ہو ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب۔ علمیہ
[288] … ایک وادی کا نام۔
[289] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲، ص۴۶۔علمیہ
[290] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲، ص۴۶۔علمیہ
[291] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲، ص۴۶۔علمیہ
[292] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲،ص۴۴۔علمیہ
[293] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:واعلم ان حرمۃ النبی۔۔۔الخ، ج۲،ص۴۳۔علمیہ
[294] … یعنی اس آیت مبارکہ کے مطابق۔
[295] … ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے۔(پ۲۶،الحجرات:۲)۔علمیہ
[296] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:واعلم ان حرمۃ النبی۔۔۔الخ،ج۲،ص۴۳۔علمیہ
[297] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل: فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲،ص۴۴۔علمیہ
[298] … الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:فی سیرۃ السلف ۔۔۔الخ، ج۲،ص۴۶۔علمیہ
[299] … صحیح البخاری،کتاب الوضوئ،باب الماء الذی یغسل بہ شعرالانسان،الحدیث:۱۷۰۔۱۷۱،ج۱،ص۸۲۔۸۳۔علمیہ
[300] … صحیح المسلم،کتاب الفضائل،باب قرب النبی علیہ السلام من الناس۔۔۔الخ،الحدیث : ۲۳۲۵،ص۱۲۷۰۔علمیہ
[301] … ’’ مشکاۃ المصابیح ‘‘ میں یہاں یہ الفا ظ بھی ہیں : و نحر نسکہ اور قربانی کا جانور ذبح کیا ۔ علمیہ
[302] … مشکاۃ المصابیح،کتاب المناسک،باب الحلق،الحدیث:۲۶۵۰،ج۱، ص۴۹۳ ۔علمیہ
[303] … چھوٹی گھنٹی نما۔
[304] … صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب مایذکر فی الشیب،الحدیث:۵۸۹۶،ج۴، ص۷۶۔علمیہ
[305] … اونٹوں کو نَحْرکرنے کی جگہ۔
[306] … قربانی کے جانور۔
[307] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف العین المھملۃ،ترجمۃعبد اللّٰہ بن زید بن ثعلبۃ،ج۴، ص۸۵۔علمیہ
[308] … طبقات ابن سعد، جزء ثالث، قسم ثانی، ص ۸۷۔
[309] … ایک قسم کا خضاب جس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ سرخ ہوتا ہے ۔و اللّٰہ تعالٰی اعلم۔علمیہ
[310] … الطبقات الکبری لابن سعد طبقات البدریین من الانصار،عبد اللّٰہ بن زید۲۱۸، ج۳، ص۴۰۶۔علمیہ
[311] … الشفائ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲،ص۵۶۔علمیہ
[312] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف الخاء المعجمۃخالد بن ولید المخزومی،ج۲، ص۲۱۷۔علمیہ
[313] … کہیں ایسا نہ ہو۔
[314] … الشفاء،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۶۔علمیہ
[315] … کنگھی کرتے وقت۔
[316] … ایک قسم کی خوشبو ہے جو مرکب ہوتی ہے۔۱۲منہ
[317] … کافور وصندل وغیرہ جو مردے کے کفن و جسم پر مل دیا جاتا ہے۔۱۲منہ
[318] … صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،باب من زارقوما فقال عندھم، الحدیث:۶۲۸۱،ج۴، ص۱۸۲-۱۸۳۔علمیہ
[319] … صحیح المسلم ،کتاب الفضائل ، باب طیب عرق النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ ، الحدیث :(۸۴) ۔ (۲۳۳۱)، ص۱۲۷۲۔علمیہ
[320] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف الالف انس بن مالک انصاری،ج۱، ص۲۷۶۔علمیہ
[321] … الطبقات الکبری لابن سعد،الطبقۃ الثالثۃ من اھل المدینۃ من التابعین عمر بن عبد العزیز۹۹۵،ج۵،ص۳۱۸۔علمیہ
[322] … صحیح المسلم،کتاب الفضائل،باب قرب النبی علیہ السلام من الناس۔۔۔الخ،ص۱۲۷۰،الحدیث: ۲۳۲۴۔علمیہ
[323] … صحیح البخاری،کتاب الوضو ء،باب استعمال فضل وضوء الناس، الحدیث:۱۸۹،ج۱، ص۸۹ملخصا۔علمیہ
[324] … صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب القبۃ الحمراء من ادم،الحدیث:۵۸۵۹،ج۴، ص۶۶ ۔علمیہ
[325] … مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلوۃ،باب المساجد ومواضع الصلوۃ،الحدیث:۷۱۶،ج۱، ص۱۵۱۔علمیہ
[326] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف الخاء المعجمۃ،ترجمۃ خداش بن ابی خداش، ج۲، ص۲۲۸۔علمیہ
[327] … یعنی بھوک نہیں۔
[328] … اس غرض سے۔
[329] … المعجم الصغیر للطبرانی،باب العین ، من اسمہ عبد الحمید، الحدیث:۷۱۱، ج۱، ص۲۵۲۔علمیہ
[330] … صحیح البخاری ، کتاب الاشربۃ ، باب الشرب من قدح النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ ، الحدیث:۵۶۳۸، ج۳، ص۵۹۵ملخصا۔علمیہ
[331] … مرقاۃ المفاتیح،کتاب الاطعمۃ، باب النقیع والا نبذۃ ، الفصل الاول، تحت الحدیث: ۴۲۸۶،ج۸،ص۱۰۹۔علمیہ
[332] … صحیح المسلم،کتاب الاشربۃ،باب اباحۃ النبیذ الذی لم یشتد۔۔۔الخ، الحدیث:۲۰۰۷، ص۱۱۱۲۔علمیہ
[333] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’نیج ہذلی‘‘ لکھا ہے لیکن زرقانی علی المواہب، حیاۃ الحیوان اور دیگر کتب میں ’’ نُبَیح ہُذلی‘‘ ہے لہٰذا ہم نے کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے یہاں ’’نیج ہذلی‘‘کے بجائے ’’ نبیح ہذلی ‘‘ لکھا ہے۔ علمیہ
[334] … حیاۃ الحیوان للدمیری تحت عنکبوت۔ زرقانی علی المواہب، باب ہجرۃ المصطفٰے واصحابہ الی المدینۃ۔…(حیاۃالحیوان الکبری،باب العین المھملۃ،العنکبوت،ج۲،ص۲۲۶، و شرح الزرقانی علی المواہب،باب الہجرۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ۔۔۔الخ،ج۲،ص۱۲۶۔علمیہ)
[335] … الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی،القسم الاوّل، الباب الرابع، فصل فی کراماتہ،ج ۲،ص ۳۳۱۔علمیہ
[336] … ایک قیمتی ریشمی جھالر۔
[337] … صحیح مسلم، باب تحریم اناء الذہب والفضۃ علی النساء والرجال۔…(صحیح المسلم،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضۃ علی الرجال والنسائ۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۰۶۹ص۱۱۴۷۔علمیہ)
[338] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف السین المھملۃ،سیار بن طلق الیمامی ج۳، ص۱۹۴۔علمیہ
[339] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف الواو، الواوبعدھااللام،الولید بن الولید بن المغیرۃ ۹۱۷۲ج۶، ص۴۸۶۔علمیہ
[340] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’عبداللّٰہ بن حازم‘‘ لکھا ہے لیکن اصابہ اور دیگر کتب میں ’’عبداللّٰہ بن خازم‘‘ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے اصابہ کے مطابق ’’ عبداللّٰہ بن خازم ‘‘ لکھا ہے۔علمیہ
[341] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف العین المھملۃ،عبد اللّٰہ بن خازم ،ج۴، ص۶۱۔علمیہ
[342] … تاریخ الصغیر للبخاری،ج۱،ص۲۶۴۔علمیہ
[343] … الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ، کتاب النساء ، باب الشین ، ترجمۃ الشفاء بنت عبد اللّٰہ القرشیۃ العدویۃ ، ج۴ ، ص۱۸۶۸۔علمیہ
[344] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف الکاف،کعب بن زھیر بن ابی سلمی ۷۴۲۶،ج۵، ص۴۴۳۔علمیہ
[345] … السیرۃ الحلبیۃ، باب یذکر فیہ مایتعلق بالوفود...الخ،ج ۳،ص ۳۰۲۔علمیہ
[346] … صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب البرود والحبرۃ والشملۃ،الحدیث:۵۸۱۰،ج۴، ص۵۴۔علمیہ
[347] … موٹا کُھردرا اُونی کپڑا۔
[348] … صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب الاکسیۃ والخمائص،الحدیث:۵۸۱۸،ج،ص۵۵ملتقطا طرفہ۳۱۰۸۔علمیہ
[349] … انگوٹھی مبارک۔
[350] … وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی، الباب السادس فی آبا رھا المبارکات ، الفصل الاول بئر أریس،ج۳ ، ص۹۴۳- ۹۴۴۔علمیہ
[351] … صحیح البخاری ، کتاب فرض الخمس ، باب ما ذکر من درع النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم و عصاہ و سیفہ۔۔۔الخ ، الحدیث:۳۱۱۰،ج۲، ص۳۴۴۔علمیہ
[352] … شرح الزرقانی علی المواھب، المقصدالثانی۔۔۔الخ، الفصل الثامن فی الات حروبہ۔۔۔الخ،ج۵، ص۸۶۔علمیہ
[353] … صحیح البخاری ، کتاب فرض الخمس ، باب ما ذکر من درع النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم و عصاہ و سیفہ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۱۰۷،ج۲، ص۳۴۳۔علمیہ
[354] … صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا، الحدیث:۳۹۹۸،ج۳، ص۱۸۔علمیہ
[355] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’بفا ترکی ‘‘ لکھا ہے لیکن زرقانی علی المواہب اور دیگر کتب میں ’’ بُغَا تُرکی‘‘ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں ’’بفا ترکی ‘‘ کے بجائے ’’ بُغَا تُرکی ‘‘ لکھا ہے۔علمیہ
[356] … شرح الزرقانی علی المواھب، المقصدالاول،کتاب المغازی، باب غزوۃ احد،ج۲، ص۴۳۳-۴۳۴۔علمیہ
[357] … صحیح المسلم،کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعاً،ج۲، الحدیث: (۳۳)، ص۳۸۔علمیہ
[358] … الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،باب الکنی، حرف المیم،ابومریم الجہنی:۱۰۵۳۱، ج۷، ص۳۰۷۔علمیہ
[359] … تشریف فرما ہونے کی جگہ۔
[360] … وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی،الفصل الرابع فی خبر الجذع الذی کان یخطب۔۔۔الخ، عودالی الاختلاف فی صانع المنبر، ج۱،الجزء ۲،ص۳۹۸۔علمیہ
[361] … کشف الغمۃ، کتاب الصلوۃ ،فصل فی الاذان والخطبۃ وغیرھما،الجزء ۱،ص۱۷۷۔علمیہ
[362] … الشفاء،الباب الثالث،فصل:ومن اعظامہ واکبارہ ۔۔۔الخ، ج۲،ص۵۷۔علمیہ
[363] … وفاء الوفائ،الباب الثامن فی زیارۃ النبی۔۔۔الخ،الفصل الرابع فی آداب الزیارۃ۔۔۔الخ،ما یلزم من الزائرمن الادب۔۔۔الخ، ج۲، الجز۴، ص۱۴۰۳۔علمیہ
[364] … وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی، الفصل الرابع فی خبر الجذع الذی کان یخطب۔۔۔الخ ، مساحۃ المنبر ، ج۱، الجزئ۲،ص۴۰۶۔علمیہ
[365] … ایک درخت جس کی لکڑی مضبوط ہوتی ہے۔
[366] … شرح الزرقانی علی المواھب،المقصد الثانی۔۔۔الخ،الفصل الثامن فی الات حروبہ۔۔۔الخ، ج۵، ص۹۶۔علمیہ
[367] … یہ ’’ میل کا اثر ‘‘ مجاز۱ً ہے کیونکہ ہمارے پسینے کا اثر میل کہلاتا ہے جبکہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پسینہ مبارکہ کا عرق شریف میل ہونے سے پاک ہے۔ مشہور محدث حضرت عبدالرحمن ابن جوزی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی کتاب ’’ الوفا باحوال مصطفی‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’وکان فی القطیفۃ ا ثر رشح عرق رأسہ أطیب من ریح المسک ۔‘‘ یعنی اس لحاف میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر مبارک کے پسینہ اقدس کے قطرات لگے تھے جس میں مشک سے زیادہ عمدہ اور پاکیزہ خوشبو تھی۔ (الوفا باحوال المصطفی لابن الجوزی،ج۲،۱۳۱)…علمیہ
[368] … ٹھیک۔
[369] … مدارج النبوت، باب یازدہم، ذکر عمامہ مبارک،ج۲،ص۶۰۸۔علمیہ
[370] … بیت المقدس کا پتھر۔
[371] … دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الثلا ثون، الحدیث:۵۳۹، الجزء ۲،ص۳۵۳۔علمیہ
[372] … سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ زبدہ ‘‘ لکھا ہے لیکن طبقات ابن سعد اور دیگر کتب میں ’’ ربذہ ‘‘ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں ’’ زبدہ ‘‘ کے بجائے ’’ ربذہ ‘‘لکھا ہے۔علمیہ
[373] … الطبقات الکبری لابن سعد،الصحا بۃ الذین اسلموا قبل فتح مکۃ،سلمۃ بن اکوع طبقات البدریین من الانصار،عبد اللّٰہ بن زید۲۱۸، ج۴، ص۲۲۹۔علمیہ
[374] … وفاء الوفائ،الباب الثامن فی زیارۃ النبی۔۔۔الخ،الفصل الرابع فی آداب الزیارۃ۔۔۔الخ،ما یلزم من الزائرمن الادب۔۔۔الخ، ج۲، الجزئ۲،ص۱۴۰۶ ۔علمیہ
[375] … فوات الوفیات،حرف المیم ،ترجمہ شیخ تقی الدین ابن دقیق،ج۳،ص۴۴۴۔علمیہ