حج و عُمرہ والوں کیلئے انمول تحفہ
اِحرام اورخوشبودار صابن
٭٭٭٭
مجلس تحقیقاتِ شرعیہ
مکتبہ المدینہ
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو
اللہ ورَسُول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فضل و کرم سے تبلیغِ قرآن و سنت کی غیر سیاسی عالمگیر تحریک، دعوتِ اسلامی نہ صرف تبلیغی حوالے سے اصلاحِ اُمّت کے مَدَنی کام میں کوشاں ہے بلکہ ہر شعبہ میں خدمتِ دین کا جذبہ لیے مصروفِ کار ہے۔ علمی حوالے سے بھی کثیر جامعات بنام ’’ جامعۃ المدینہ‘‘ قائم ہیں جن میں بِلامبالغہ ہزاروں تشنگانِ علم اپنی سیرابی کا سامان کررہے ہیں ، پھر ہر شعبے سے متعلق مجالس کا قیام بھی دینی کام کے جذبے کی پختگی اور صدق کا شاہدِ عَدل ہے۔
جِدّت و ترقی کے فکری انقلاب نے جہاں حیاتِ انسانی کو کئی طرح کی آسانیاں دیں ہیں وہیں بعض جگہ مشکلات سے بھی دو چار کیا ہے،نئی ایجادات اور معاشرتی و معاملاتی نظام سے متعلق شرعی و فقہی رہنمائی ایک انتہائی دشوار اور پیچیدہ کام ہوتا جارہا ہے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کتابُ .اللہ .اور حدیثِ رسول. .اور فقہ کے عظیم ذخائر میں ان مسائل کے نظائر پیش کرنے کے بعد احکام کی عِلَل،اسباب اور.محتملات. پر غور کرتے ہوئے نیز اسبابِ ستہ مثلِ عُرف و رواج وغیرہ کا لحاظ رکھتے ہوئے مسائل کا حل انتہائی ذہنی بیداری،.تَیَقُّظ .کا مُتَقاضی ہے۔
بحمدہ تعالٰی شیخِ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے جدید دور کے پیش آمدہ مسائل کی تنقِیح و توضیح جیسی اہم دینی ذمہ داری کی طرف بھی توجہ فرمائی اور دعوتِ اسلامی کے مبلغین سے جَیِّد مفتیانِ کرام.کَثَّرَھُمُ اللہُ تَعَالٰی. پر مشتمل ایک مجلس بنام ’’مجلس تحقیقاتِ شرعیہ‘‘دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے تحت متعین کی،ان حضرات نے انتہائی جانفشانی اور کدو کاوش کے بعد سرکارِ اعلی حضرت عظیم البرکت،عظیم المرتبت،پروانۂ شمع رسالت ،مجدد ِدین و ملت،باعثِ خیر و برکت،حضرت علامہ مولانا القاری الحافظ الحاج امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی تعلیمات اور طریقۂ کار کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے کام شروع کیا اور ابتدائی طور پر محرِم کے خوشبودار صابن اور دیگر خوشبودار اشیاء کے استعمال سے متعلق شرعی حکم کی تنقیح و توضیح کی جسے ممتاز علماء و مفتیانِ کرام نے سراہا اوراپنی جلیل القدر تصدیقات و آراء سے بھی نوازا جس میں مفتی ٔاعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی جیسی راسخ العلم شخصیت بھی شامل ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یہ تحقیقِ انیق بصورت ِ رسالہ بنام ’’احرام اور خوشبودار صابن‘‘آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ کو غلطی اور خطاسے محفوظ فرمائے اور شرعی مسائل کی دُرست تنقِیح کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
مجلس مکتبۃ المدینہ
۳ ذیقعد ۱۴۲۴ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ :کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل اُمور کے بارے میں :
۱۔ حجاز مقدس کے ہوٹلوں میں خوشبودار صابن، معطر شیمپو اور خوشبووالے پاؤڈر ہی ہاتھ دھونے کے لئے رکھے جاتے ہیں اور احرام والے بلا تکلف ان کو استعمال کرتے ہیں۔
۲۔ طیارہ وائیر پورٹ پر بھی احرام والوں کو یہی ملتا ہے۔
۳۔ کپڑے اور برتن دھونے کا پاؤڈر بھی حجازِ مقدس میں خوشبودار ہی ہوتا ہے۔
۴۔ مسجدین کریمین کی دھلائی میں بھی اسی طرح کا خوشبودار مائع استعمال کیا جاتا ہے اور وقتاً فوقتاً دھلائی ہوتی رہتی ہے جس سے احرام والوں کے پاؤں سَن جاتے ہیں اور اس سے بچنا بے حد دشوار ہے۔
۵۔ عطریات اور دیگر خوشبویات میں فرق ۔
۶۔ خوشبودار ٹشو پیپر کا استعمال احرام کی حالت میں بھی بلا تکلف کیا جاتا ہے۔
۷۔ سُرمہ و ٹوتھ پیسٹ میں بھی خوشبو ہوتی ہے۔
۸۔ کھانے والی خوشبو لگانا اور لگانے والی خوشبو کھانا کیسا ہے؟
۹۔ اگر صابن کو بنیتِ خوشبو استعمال کیا تو کیسا اور اگر حصولِ خوشبو مقصود نہ ہو تو کیا حکم ہے؟
۱۰۔ مکہ میں لوگ عطریات لگاتے ہیں اور پھر کسی محرم سے مصافحہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں مہک آجاتی ہے اس کا حکم شرعی کیا ہے؟
۱۱۔ لوگ احرام کی نیت کرلیتے ہیں پھر لوگ ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے ہیں اس کا حکم کیا ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب:
سوال میں مذکورہ امور کے جوابات سے قبل خوشبو کی تعریف ، اس کی اقسام اور کسی چیز میں اس کے مخلوط ہونے کی صورتوں کا سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
عربی زبان میں خوشبو کے لئے ’’طیب‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ لغوی طور پر اس سے مراد وہ شے ہے جس سے خوشبو حاصل کی جائے۔ چنانچہ علامہ ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لسان العرب( ج ۱ ص ۵۶۴ مطبوعہ دارالفکر بیروت)اور علامہ مرتضیٰ زبیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی تاج العروس( ج ۳، ص ۲۸۴ مطبوعہ دارالھدایہ بیروت)میں بیان فرماتے ہیں :اَلطِّیْبُ ما یطیَّب بہ وقد تَطیّبَ بِالشَّیء وطیب فلان فلانا بالطیبیعنی طیب وہ شے ہے جس سے خوشبودار ہواجائے۔( کہا جاتا ہے) وہ شے کے ساتھ خوشبو دار ہوا اور فلاں نے فلاں کو خوشبودار کیا۔
جبکہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کی تعریف مختلف الفاظ میں ذکر کی ہے۔ چنانچہ علامہ سید ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی ردالمحتار(ج ۳، ص ۵۷۳ ، مطبوعہ مدینۃ الاولیاء ملتان)میں علامہ عمر بن نُجَیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی النھرالفائق( ج ۲، ص ۱۱۵ ،مطبوعہ باب المدینہ کراچی )میں ، علامہ زین ابن نجیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی البحرالرائق( ج ۳، ص۳ ،مطبوعہ کوئٹہ)میں علامہ ابن ھُمَّام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلام فتح القدیر (ج۲، ص ۴۳۸،مطبوعہ کوئٹہ) میں ،علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(ص ۶۰۹ ،مطبوعہ باب المدینہ کراچی )میں ،علامہ محمود عینی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی
البنایۃ(ج ۴، ص ۲۴۰، مطبوعہ کوئٹہ)میں اور علامہ ابوبکر حدّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد الجوھرۃ النیرۃ(ص ۲۰۷ مطبوعہ پشاور)میں اس کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں :الطیب جسم لہ رائحۃ طیبۃ مستلذۃ کالزعفران والبنفسج والیاسمینیعنی خوشبو ایک ایسا جسم ہے جس کے لئے ایسی پاکیزہ بوہو جس سے لذت حاصل کی جاتی ہے جیساکہ زعفران ،بنفشہ اور یاسمین۔
جبکہ علامہ عَلاؤ الدین انصاری اَندر پتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے فتاویٰ تاتار خانیہ (ج ۲، ص ۵۰۳، مطبوعہباب المدینہ کراچی )میں اس کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے کہ اَلطِّیْبُ عِبَارَۃٌ عن عَیْن لہ رائحۃ طیبۃیعنی خوشبو ایک ایسے عین (ذات ) سے عبارت ہے جس کے لیے عمدہ بو ہو۔
جبکہ علامہ مُلّاعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی شرح اللُّباب( ص ۳۱۰، مطبوعہ باب المدینہ کراچی ) میں فرماتے ہیں :الطیب ما تطیب بہ ویکون لہ رائحۃ مستلذۃ ویُتَّخذُ منہ الطیبُیعنی خوشبو وہ شے ہے جس سے خوشبودار ہوا جائے اور اس کے لیے مرغوب بو ہو اور اس سے خوشبو بنائی جاتی ہو۔
جبکہ حاشیۃ الطحطاوی علی الدُّر المختار(ج ۱، ص ۵۲۰ ،مطبوعہ کوئٹہ)اور فتاویٰ عالمگیری( ج ۱، ص ۲۴۰ مطبوعہ دارالفکر بیروت)میں یوں مذکور ہے کہ الطیب کلُّ شئی لہ رائحۃ مستلذّۃ ویعدّہ العقلاء طیبایعنی خوشبو ہر وہ شے ہے جس کے لئے مرغوب بو ہو اور عقلاء اس کو خوشبو شمار کرتے ہوں۔
ان تمام تعریفات سے جو مستفاد ہوا وہ درج ذیل ہے:
(۱)خوشبو وہ شے یا جسم ہے، جسے عرف عام میں خوشبو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے،
اور عقلِ سلیم رکھنے والے بھی اسے خوشبو شمار کرتے ہوں۔(۲) بالذات خوشبو نہ ہو، مگر اس سے خوشبو بنائی جاتی ہو۔ مثلاً زیتون اور تل کا تیل ، جیسا کہ علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کی تعریف سے مستفاد ہوا۔
اولاً یاد رہے کہ جسم ، لباس اور منہ ان میں سے ہر ایک کے لئے اپنی اپنی نوعیت کے اعتبارسے علیحدہ علیحدہ خوشبو ہوتی ہے۔بعض خوشبوئیں ایسی ہیں کہ جن کو جسم پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ باڈی اسپرے، خوشبو دار تیل ، مہندی، خوشبودارپاؤڈر وغیرہ۔بعض کا استعمال لباس پر ہوتاہے جیسا کہ عام عطریات اور کستوری وغیرہ اور بعض منہ کے لئے بطورِ خوشبو استعمال کی جاتی ہیں جیسے الائچی وغیرہ ۔
علامہ شمس الدین سرخسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی المبسوط(ج ۴،ص ۱۲۲،مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت) میں فرماتے ہیں :واعلم ان المحرم ممنوع من استعمال الدھن والطیب لقولہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :’’الحج الشعث التفل، وقال: یأتون شعثا غبرا من کل فج عمیق‘‘ واستعمال الدھن والطیب یزیل ھذا الوصف وما یکون صفۃ العبادۃ یکرہ ازالتہیعنی جان لیجئے کہ مُحرم کو تیل ( خوشبودار )اورخوشبو کے استعمال سے منع کیاگیاہے، رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمانِ عالیشان کی بناء پر کہ ’’حاجی بکھرے بال والا اور بو والا ہوتا ہے۔‘‘ اور فرمایا : لوگ دور دراز راستے سے پراگندہ سر ، غبار آلود چہرے والے ہو کر آتے ہیں اور تیل اور خوشبو کا استعمال اس وصف کو زائل کردیتا ہے اور جو چیز عبادت کی صفت ہو اس کا زائل کرنا مکروہ ہے۔
حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی شرح اللُّباب( ص ۳۱۲)میں فرماتے ہیں :المراد بالالصاق اللصوق والتعلق بحسب الریح لابالتصاق جزء الطیب ولھذا لوربط بثوبہ مسکا اونحوہ یجب الجزاء ولو ربط العود لم یجب لوجود الالصاق فی الاول دون الثانییعنی الصاقِ خوشبو سے مراد اس کا ( کپڑے یا جسم پر) بو کے اعتبار سے چمٹنا یا متعلق ہونا ہے، نہ کہ اجزائے خوشبو کے اعتبار سے، اسی وجہ سے اگر کسی نے اپنے کپڑے میں مشک یا اس کی مثل(خوشبو دینے والی کوئی شے) باندھی تو کفارہ واجب ہوگا اور اگر عُود باندھی ہو ، تو نہیں۔ پہلی صورت میں الصاق کے پائے جانے اور دوسری میں نہ پائے جانے کی وجہ سے۔
(۱) عود میں جزاء واجب نہ ہونے کی علّت یہ ہوسکتی ہے کہ عود کو جب تک جلایا نہ جائے عموماً وہ خوشبو نہیں دیتی لہٰذا یہ خوشبو شمار نہیں ہوتی بخلاف مشک کے کہ اس کا لباس پر باندھنا بھی خوشبو میں شامل ہے۔خود ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی شرح اللباب ( ص ۳۲۲) میں فرماتے ہیں : وان ربط العود فلا شیء علیہ وان وجد رائحتہ کذا فی البحر الزاخر وغیرہ لکن فیہ ان العود لیس لہ رائحۃ الا بالنار ولو فرض وجود عود لہ رائحۃ بالحک مثلا فلا شک ان حکمہ کالعنبر وغیرہ لان العلۃ ھی الرائحۃ ھذایعنی اگر کسی نے عود کو باندھا تو کوئی کفارہ نہیں اگرچہ اس کی خوشبو پائی جائے جیسا کہ اَلْبَحرالزَّاخر وغیرہ میں ہے۔ لیکن اس میں یہ ( اشکال) ہے کہ عود کے لیے آگ کے بغیر خوشبو ہوتی ہی نہیں اور اگر ایسی عود کا وجود فرض
کرلیاجائے کہ جسے رگڑنے کے ذریعے خوشبو حاصل ہوسکتی ہو تو بے شک اس کا حکم عنبر وغیرہ کی طرح ہوگا کیونکہ علت تو یہی خوشبو ہے۔
(۲)جسم یا لباس پر خوشبو کا عَین لگے بغیر صرف بُو سے ’’کفارہ‘‘ کے لئے ایک قید اور ضروری ہے کہ اگر خوشبو کا انتفاع (نفع لینا) دھویں کے ذریعے ہو، بایں صورت کہ اس کا عین بطورِ خوشبو استعمال نہ کیا جاتا ہو، تو اس صورت میں انتفاع کی نیت و قصد ضروری ہے، ورنہ بے نیت و قصد صرف جسم یا لباس میں بوبس جانے سے کچھ نہیں ۔
علامہ ابن نُجَیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی البحرالرائق( ج ۳، ص ۴) میں فرماتے ہیں : ولافرق بین ان یلتزق بثوبہ عینہ اورائحتہ فلذا صرحوا انہ لو بخر ثوبہ بالبخور فتعلق بہ کثیرفعلیہ دم وان کان قلیلا فصدقۃ لانہ انتفاع بالطیب بخلاف ما اذا دخل بیتا قد اجمر فیہ فتعلق بثیابہ رائحۃ فلا شئی علیہ لانہ غیرمنتفع بعینہیعنی اس میں کوئی فرق نہیں کہ محرم کے کپڑے کے ساتھ خوشبو کا عین متعلق ہو یا اس کی بو، اسی وجہ سے علماء نے صراحت کی کہ اگر کسی نے اپنے کپڑوں کو خوشبو سے دھونی دی اور اس کی وجہ سے کثیر خوشبو متعلق ہوگئی تو ’’ دم ‘‘ ہو گا اوراگر قلیل ہو تو ’’صَدَقہ‘‘ کیونکہ یہ خوشبو سے نفع اٹھانا ہے،بخلاف اگر کوئی ایسے کمرے میں داخل ہوا جس میں دھونی دی گئی ہو اور اس کے کپڑے میں بو بس جائے تو کچھ نہیں کیونکہ یہ اس کے عین کے ساتھ نفع اٹھانا نہیں۔
یہی عبارت علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے حاشیۃ الطحطاوی علی الدر (ج ۱، ص ۵۲۰) ، علامہ محمد بن سعید عبدالغنی علیہ رحمۃُ اللہِ الغنی نے اِرشاد السّاری( ص ۳۱۲) اور علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے رَدُّالمُحتار( ج ۳ ص ۴۹۶) میں نقل فرمائی۔
مبسوط للسرخسی (ج۴، ص ۱۲۳) میں ہے :عن محمد رحمہ اللہ ان
المحرم اذا دخل بیتا قد اجمر فیہ فطال مکثہ حتی علق ثوبہ لا یلزمہ شیء ولو اجمرثیابہ بعد الاحرام فعلیہ الجزاء لان الاجمار اذا کان فی البیت فعین الطیب لم یتصل بثوبہ ولاببدنہ انما نال رائحتہ فقط بخلاف ما اذا اجمر ثیابہ فان عین الطیب قد علق بثیابہیعنی امام محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الصَّمَد سے مروی ہے کہ اگر مُحرم ( احرام والا) ایسے کمرے میں داخل ہو جسے دھونی دی گئی ہو اور وہاں کافی دیر ٹھہرا رہا یہاں تک کہ بو اس کے کپڑوں میں بس گئی تو اس پر کچھ لازم نہیں اور اگر اپنے کپڑوں کو احرام کی نیت کے بعد دھونی دی تو کفارہ واجب ہے کیونکہ دھونی دینا جب کمرے میں ہو تو عین خوشبو نہ تو اس کے بدن سے متعلق ہوئی ہے اور نہ ہی کپڑوں سے بلکہ اس نے تو صرف بو پائی ہے بخلاف اپنے کپڑوں کو دھونی دینے کے کہ اس صور ت میں عین خوشبو اس کے کپڑوں میں بس گئی ہے۔
علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر( جلد ۱، ص ۵۱۹) میں فرماتے ہیں :ولا بأس ان یجلس فی حانوت عطار او موضع یتبخر فیہ الا انہ یکرہ ان کان الجلوس ھناک لاشتمام الرائحۃ یعنی عطر فروش کی دکان یا ایسی جگہ جہاں دھونی دی جارہی ہو بیٹھنے میں حرج نہیں ، لیکن اگر وہاں بیٹھنا خوشبو سونگھنے کی نیت سے ہو تو مکروہ ہے۔
واضح ہوا کہ علماء نے جہاں یہ فرمایا کہ ’’ خوشبو میں قصد اور عدم قصد برابر ہیں ‘‘ وہاں مراد خوشبو کا عین یا اس کی ذات کا لگنا ہے، جبکہ خوشبو کے اثر یعنی بو کے لئے اس کا قصد یا خوشبو کا عادۃً اسی طرح استعمال کیا جانا ضروری ہے جیسا کہ عود کی دھونی بے قصد خوشبو بس جائے تو کچھ نہیں۔ یہ فرق واضح رہے کہ خطا کا مقام ہے۔
مَلِکُ العلماء ابوبکر کاسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی بَدَائِع الصَّنَائع(ج ۲،ص۱۹۰ مطبوعہ کوئٹہ)میں علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر( ج ۱، ص ۵۲۰) میں اور فتاویٰ عالمگیری( ج ۱، ص ۲۴۰) میں ہے :قال اصحابنا ان الاشیاء التی تستعمل فی البدن علی ثلاثۃ انواع نوع ھو طیب محض معد للتطیب بہ کالمسک والکافور والعنبر وغیرذلک وتجب بہ الکفارۃ علی ای وجہ استعمل حتی قالوا لوداوی عینہ بطیب تجب علیہ الکفارۃ لان العین عضوکامل استعمل فیہ الطیب فتجب الکفارۃ و نو ع لیس بطیب بنفسہ ولا فیہ معنی الطیب ولا یصیرطیبا بوجہ کالشحم فسواء اکل اوادھن اوجعل فی شقاق الرجل لاتجب الکفارۃ ونوع لیس بطیب بنفسہ لکنہ اصل الطیب یستعمل علی وجہ الطیب ویستعمل علی وجہ الادام کالزیت والشیرج فیعتبر فیہ الاستعمال فان استعمل استعمال الادھان فی البدن یعطی لہ حکم الطیب وان استعمل فی مأکول اوشقاق رجل لایعطی لہ حکم الطیب کالشحم اہ یعنی ہمارے اصحاب نے فرمایا : بدن پر استعمال ہونے والی اشیاء تین قسم کی ہیں ، خوشبوئے محض کہ جو خوشبو حاصل کرنے کے لیے ہی تیار کی گئی، جیسے مشک، کافور، عنبر وغیرہ ، اس میں کفارہ واجب ہوگا، خواہ کسی طور پر اسے استعمال کیا گیا ہو۔ حتی کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر کسی نے خوشبو سے اپنی آنکھ کا علاج کیا ، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا، کیونکہ آنکھ ایک مکمل عُضو ہے اور اس میں خوشبو کو استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا کفارہ لازم ہوگا۔دوسری قسم وہ کہ جو بذاتِ خود خوشبو نہ ہو، نہ ہی اس میں خوشبو والا معنیٰ پایا جاتا ہو جیسا کہ چربی تو اس میں کھانا یا بطورِ تیل استعمال کرنا یا پیروں کی پھٹن پر لگانا سب برابر ہے اور اس
میں کوئی کفارہ واجب نہیں۔ تیسری نوع وہ کہ جو بذاتِ خود تو خوشبو نہیں ، لیکن خوشبو کی اصل ہے کہ بطورِ خوشبو بھی استعمال ہوتی ہے اور بطورِ سالن بھی۔ جیسے زیتون اور تل کا خالص تیل۔ اس میں اس کا استعمال مُعتبر ہے ( چنانچہ ) اگر بطورِ تیل بدن پر استعمال ہو، تو اس کے خوشبو ہونے کا حکم دیا جائے گا اور اگر کسی کھانے والی شے یا پیروں کی پھٹن میں استعمال ہو، تو چربی کی طرح خوشبو کا حکم نہ دیا جائے گا۔ا ھ
(۱)خالص خوشبوئیں یعنی جو صرف خوشبو ہی کے لئے مستعمل( استعمال ہوتی) ہوں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی اور استعمال نہ ہو جیسے مروَّجہ عطریات وغیرہ اس میں نیت کی شرط نہیں اس کو جس طرح بھی استعمال کیا جائے کفارہ لازم آئے گا۔
(۲) جومِنْ وَجہ(ایک وجہ سے) خوشبو اور مِنْ وَجْہ خوشبو نہیں ، اگر اسے بدن پر بطورِ خوشبو استعمال کیا جائے ، تو اس میں بھی نیت کی حاجت نہیں ، اگر کوئی اپنے بدن پر اس کا استعمال بھول کر بھی کرلے تب بھی کفارہ لازم ہوگا۔ جیسے زیتون کا خالص تیل … اور… اگر بطورِ دوا استعمال کیا تو خوشبو کا حکم نہیں ۔
یہ اَمر بھی قابلِ توجُّہ ہے کہ اگر خوشبو کو کسی شے کے ساتھ مخلوط کردیا( ملادیا ) گیا ہو خواہ وہ شے ماکولات ( کھانے والی اشیاء ) میں سے ہو یا مشروبات (پینے والی ) میں سے یا ان کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے مستعمل ہو، اس کے احکام میں تفصیل ہے۔ اگر خوشبو کو کسی شئے میں ڈال کر عملِ نار کرلیا گیا ہو تو اس کے استعمال سے مطلقاً کوئی شئے واجب نہیں اور کوئی کراہیت بھی نہیں اگرچہ مہک آرہی ہو۔
(۲) وہ شے جس میں خوشبو ملائی گئی اگر ماکولات میں سے ہے اور اس میں آگ کا عمل بھی نہیں کیا گیا تو خوشبو غالب ہونے کی صورت میں کفارہ واجب ہوگا اور مغلوب ہو تو کفارہ واجب نہیں لیکن اگر خوشبو (مہک ) آتی ہو، تو مکروہ ہے۔
(۳) اگر ٹھوس خوشبو کو مشروبات میں بغیر عملِ نار کے ملایا گیا ، تو مطلقاً خوشبو کا حکم دیا جائے گا۔ لیکن اگر خوشبو غالب ہو تو ’’دم‘‘ ورنہ’’ صدقہ‘‘ واجب ہوگا۔ ہاں اگر خوشبو غالب نہ ہونے کی صورت میں بھی مشروب کو تین مرتبہ پیا ، تو ’’دم‘‘ لازم ہوگا۔
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی ردالمحتار ( ج ۳، ص ۵۷۶) میں فرماتے ہیں :اعلم ان خلط الطیب بغیرہ علی وجوہ لانہ اما ان یخلط بطعام مطبوخ او لا ففی الاول لاحکم للطیب سواء کان غالبا اومغلوبا وفی الثانی الحکم للغلبۃ ان غلب الطیب وجب الدم وان لم تظھر رائحتہ کما فی الفتح والا فلاشیء علیہ غیر انہ اذا وجدت معہ الرائحۃ کرہ وان خلط بمشروب فالحکم فیہ للطیب سواء غلب غیرہ ام لاغیر انہ فی غلبۃ الطیب یجب الدم وفی غلبۃ الغیرتجب الصدقۃ الاان یشرب مرارا فیجب الدم۔خلاصہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
غلبہ کا اعتبار اجزاء کی کثرت سے ہوگا نہ کہ خوشبو سے۔
شرح اللباب ( ص ۳۱۷) میں ہے:فان کان الغالب الملح ای اجزائہ لا طعمہ ولا لونہ فلاشیء علیہیعنی اگر نمک غالب ہو یعنی اس کے اجزاء نہ کہ اس کا رنگ اور
اس کا ذائقہ ۱ھ۔
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی ردالمحتار( ج ۳، ص ۵۷۶) میں فرماتے ہیں :والظاہر انہ ان وجد من المخالط رائحۃ الطیب کما قبل الخلط فھوغالب والا فمغلوبیعنی ظاہر یہ ہے کہ اگر مخالط ( ملائی گئی شئے) میں خوشبو کی مہک ویسی پائی جیسی ملنے سے پہلے تھی ، تو خوشبو غالب ہے، ورنہ مغلوب۔
علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی نے یہ بات علامہ ابن امیر حاج حلبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے نقل کی لیکن البحرالرائق میں اس عبارت کے تحت علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی مِنحَۃُ الخالقمیں فرماتے ہیں :ان ھذا الفرق ینافیہ ما قدمناہ عن الفتح من انہ اذاکان الطیب غالب یجب الجزاء وان لم تظھررائحتہ فانہ یقتضی ان المناط کثرۃ الاجزاء لاوجود الرائحۃ،تأملیعنی یہ فرق اس کے منافی( نفی کرنے والا )ہے جو ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے پہلے ذکر کیا کہ ’’ اگر خوشبو غالب ہے، تو جزاء واجب ہوگی اگرچہ مہک ظاہر نہ ہو۔‘‘ کیونکہ یہ قول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مدار کثرت اجزاء پر ہے نہ کہ وجود پر ، غور کرلیجئے۔(منحۃ الخالق علی ھامش البحر الرائق ج ۳، ص ۶)
اسی طرح ردالمحتار ( ج ۳ ص ۵۷۷) میں فرمایا :قلتُ لکن قول الفتح المارّ فی غیرالمطبوخ وان لم تظھر رائحتہ یفید اعتبارالغلبۃ بالاجزاء لا بالرائحۃ وقد صرح بہ فی شرح اللبابیعنی میں کہتا ہوں :’’ لیکن فتح القدیر کابغیر پکائی ہوئی چیز کے بارے میں جو قول گزرا کہ اگرچہ مہک ظاہر نہ ہو، یہ اجزاء کے اعتبار سے غلبہ کا فائدہ دیتا ہے نہ کہ مہک کے ساتھ اور شرح اللباب میں اسی کی صراحت کی۔‘‘
قابل توجہ امر ہے کہ خوشبو کی کثرت میں اعتبار اگرچہ اجزاء کی کثرت کا ہے
لیکن ساتھ میں مہک کا وجود بھی ضروری ہے، حتّٰی کہ اگر اس کی بو ختم ہوجائے تو اس کا اعتبار جاتا رہا۔صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور امام اہلسنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے کلمات سے یہی ظاہر ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ ( ج ۴، ص ۶۸۹ ) میں ہے :’’ اگر مشک وغیرہ خوشبو اتنی کم پڑی کہ خوشبو نہ دے یا مدت گزرنے سے اُتر گئی کہ اب خوشبو جاتی رہی تو کراہت بھی نہیں۔‘‘
بہارِ شریعت ( ص ۳۲ حصہ ششم ،مطبوعہ مرکزالاولیاء لاہور) میں ہے:’’جس کھانے کے پکنے میں مشک وغیرہ پڑے ہوں اگرچہ خوشبو دیں یا بے پکائے جس میں کوئی خوشبو ڈالی اور وہ بو نہیں دیتی اس کا کھانا پینا( جائز ہے)۔‘‘اسی طرح (ص ۸۶) پر فرمایا :’’ کھانے میں پکتے وقت خوشبو پڑی یا فنا ہوگئی تو کچھ نہیں ورنہ اگر خوشبو کے اجزاء زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے اور کھانا زیادہ ہو تو کفارہ کچھ نہیں مگر خوشبو آتی ہو تو مکروہ ہے۔‘‘حاصل یہ ہوا کہ اجزاء کی کثرت کا اعتبار جب ہے کہ مہک بھی موجود ہو، ورنہ اجزاء کی کثرت کا بھی اعتبار نہیں۔
نیز علامہ حلبی اور شیخ ابن ھمامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَا کے اقوال میں تطبیق ممکن ہے کہ اِختلاط سے پہلے جو خوشبو کی مہک تھی ، اختلاط کے بعد بھی اسی مہک کا پایا جانا عموماً اس وقت ہی ہوگا کہ جب خوشبو کے اجزاء کثرت سے ہوں ، ورنہ اس مہک میں تبدیلی آجائے گی اور یہ تبدیل شدہ مہک اب کھانے کی کہلائے گی، نہ کہ خوشبو کی۔ اور یہی تبدیل شدہ مہک، دراصل خوشبو کا فنا ہوجانا ہے کہ درحقیقت اب یہ وہ مہک نہیں ، جو خوشبو کی تھی۔ مہک کی تبدیلی ہوجانا، ذوقِ سلیم رکھنے والا شخص باآسانی معلوم کرسکتا ہے۔
ارشاد الساری ( ص ۳۱۷) میں ہے :الفرق بین الغالب وغیرہ ان وجد من المخالط رائحۃ الطیب کما قبل الخلط وحس الذوق السلیم بطعمہ فیہ حسا ظاہرا فھو غالب والا فھومغلوبیعنی غالب و مغلوب میں فرق یہ ہے کہ اگر مخالَط میں خَلط( ملنے)سے پہلے والی خوشبو کی مہک پائی جائے اور ذوقِ سلیم رکھنے والا ظاہری حس کے ساتھ اس کے ذائقے کو محسوس کرے، تو خوشبو غالب ہے، ورنہ مغلوب اھ۔یہ عبارت علامہ ابن نجیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بھی البحر الرائق ( ج ۳، ص ۶ ) میں نقل فرمائی۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
خوشبو دار صابن میں معلومات کے مطابق دو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں :
(۱) آگ میں پکاتے وقت خوشبو ڈالی جاتی ہے۔
(۲) صابن کے آمیزے کو گرم کیا جاتا ہے اور پھر حرارت کم کرکے اس کو چالیس ڈگری پر لا کر خوشبو ملائی جاتی ہے۔
پہلی صورت میں تو ماسبق( گزشتہ) کلام کی روشنی میں حکم واضح ہے کہ جب خوشبو ڈالنے کے بعد آگ کا عمل کرلیا گیا ، تو خوشبو کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے، اور بغیر کسی کراہیت کے اس کا استعمال جائز ہوگا۔لہٰذا حکم جواز دیا جائے گا۔جبکہ دوسری صورت میں بھی حکم جواز ہی مناسب ہے۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔ پہلے جو حکم جواز بیان کیا
گیا ، اس پر ایک اِشکال وارد ہوتا ہے، جس کا دور کرلینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اشکال:آپ نے خوشبو دار صابن جب کہ اس کی خوشبو کو پکالیا گیا ہو کے جواز کا حکم دیا، حالانکہ فقہاء نے صابن یا اس کی مِثل میں خوشبو شامل ہونے والی اشیاء کے استعمال پر کفارے کا حکم لگایا۔
علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے ردالمحتار( ج ۳، ص ۵۷۷) میں ،نیزفتاویٰ عالمگیری (ج ۱، ص ۲۴۱) میں اشنان( ایک خوشبودار بوٹی جو صابن کی جگہ استعمال کی جاتی تھی) کے بارے میں فرمایا کہ ’’ اگر اَشنان میں خوشبو ملی ہو اور محرم نے اسے استعمال کیا، تو اگر دیکھنے والا کہے کہ یہ اشنان ہے، تو اس پر ’’ صدقہ ‘‘ ہوگا اور اگر وہ اسے خوشبو قرار دے تو ’’دم‘‘ ہوگا۔‘‘ اس حکم میں آگ پر پکانے یا نہ پکانے کی کوئی قید نہیں لگائی۔
عالمگیری کی عبارت یہ ہے :’’ لو غسل المحرم باشنان فیہ طیب فان کان من راہ سماہ اشناناکان علیہ الصدقۃ وان کان سماہ طیباکان علیہ الدم کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔‘‘ترجمہ حسبِ سابق ہے۔
جواب: اس عبارت میں اگرچہ عملِ نار ہونے یا نہ ہونے کی قید نہیں ، لیکن ماقبل میں جب فقہاء نے طعام مطبوخ ( پکے ہوئے) کا حکم بیان کردیا، تو اب یہ مسئلہ بھی اسی پر محمول ہونا چاہیے کہ آگ نے جس طرح کھانے میں تغیر لا کر خوشبو کے حکم کو اصلاً ساقط کردیا، صابون یا اس کی مثل اشیاء میں بھی وہ یہی عمل کرے گی۔ لہٰذا اعتبار آگ کے عمل کا ہے، اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ شئے ماکولات میں سے ہی ہو، مشروبات اور دیگر اشیاء میں بھی یہ حکم جاری ہوگا۔
امام اہلسنت ، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، اعلیٰ حضرت احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے خمیرہ تمباکو کا ایسا حقہ پینا جائز قرار دیا ہے کہ جس میں سنبل اور مشک کی خوشبو کو ملایا گیا ہو اور حکم جواز کی علت ، آگ کے عمل کو قرار دیا، حالانکہ خمیرہ نہ تو کھایا جاتا ہے اورنہ ہی حقیقۃً پیا جاتا ہے، اس دھویں پر مجازاً پینے کا اطلاق ہوتا ہے۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت جَدُّالْمُمتارعلٰی رَدِّالمحتار(ج ۲، ص ۲۴۰ مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی) میں فرماتے ہیں :یستفاد منہ حکم خمیرۃ التتن ألملقی فیھا سنبل الطیب والمسک ونحوھما فان الخمیرۃ لا توکل ولا تشرب لاھی ولاجزء منھا بل تؤثر فیھا النارفتحلیھا دخانا، فتنقلب حقیقتھا،وقلب العین مغیرللحکم فھولم یاکل طیباولم یشربہ وانما شرب دخانامطیبا فینبغی ان لاشیء علیہ غیرالکراھۃ ان وجدت الرائحۃ ثم الکراھۃ حیث اطلقت للتحریم فیلزم التأثیم فیما یظھر بل لعل الاظھر ان ھذا لعمل النار یلتحق بالمطبوخ وقد علم من الشرح ان لا شیء فیہ ولاکراھۃ والطیب الممزوج فی الخمیرۃ عمل فیہ النار فینبغی ان لاحکم فیھا للطیب اصلا،ملخصا اھیعنی اس سے خمیرہ تمباکو کا حکم مستفاد ( حاصل) ہوتا ہے کہ جس میں سنبل اور مشک اور انکی مثل دیگر خوشبویات ڈالی جاتی ہیں۔ کیونکہ خمیرہ نہ تو کھایا جاتا ہے اور نہ ہی پیا جاتا ہے، نہ اس کی ذات اور نہ ہی اس کا کوئی جز، بلکہ اس میں آگ اثر کرتی ہے اور اسے دھواں بنادیتی ہے۔ لہٰذا اس کی حقیقت تبدیل ہوجاتی ہے اور قلبِ ماہیت حکم کو بدل دیتی ہے، لہٰذا حقہ پینے والے نے ، نہ تو خوشبو کھائی اور نہ ہی اسے پیا ، اس نے تو خوشبو دار دھواں پیا ہے، تو مناسب ہے کہ اس پر کوئی کفارہ نہ ہو۔ لیکن اگر خوشبو
پائی جائے تو کراہیت ہوگی پھر جب کراہیت مطلق کہی جائے تو وہ تحریم کے لیے ہوتی ہے تو ظاہر ااس سے گناہ گار ہونا لازم آتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ خمیرہ آگ کے عمل کی وجہ سے مطبوخ کے ساتھ ملحق ہوگیا اور شرح سے یہ بات معلوم ہوچکی کہ مطبوخ میں کوئی کفارہ بھی نہیں اور نہ ہی کوئی کراہیت اور خمیرہ میں ملائی جانے والی خوشبو پر آگ نے عمل کرلیا، تو مناسب یہ ہے کہ خوشبو ہونے کا اصلاحکم نہ ہو۔
مزید یہ کہ خوشبودار مرہم یا دوا اگرچہ ماکول یا مشروب نہیں لیکن اس میں بھی آگ کا عمل ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار ہے چنانچہ ملاّ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی شرح اللباب ( ص ۳۱۹) میں فرماتے ہیں :لو تداوی بالطیب ای المحض الخالص او بدواء فیہ طیب ای غالب ولم یکن مطبوخا لماسبق الخ یعنی اگر کسی نے خالص خوشبو کو بطورِ دوا استعمال کیا یا ایسی دوا جس میں خوشبو غالب ہو اور اسے پکایا نہ گیا ہو، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ۔
ارشاد الساری ( ص ۳۱۸) میں ہے:’’واما ان یخلط بمایستعمل فی البدن کالاشنان ونحوہ فحکمہ مثل حکم خلطہ بمشروب اھیعنی اگر خوشبو اس چیز کے ساتھ ملے جو بدن میں استعمال کی جاتی ہو، جیسے اشنان وغیرہ، تو اس کا حکم مشروب میں خوشبو کے ملنے کی طرح ہے۔‘‘
امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےتبیین الحقائق(ج۲، ص ۵۳ ،مطبوعہ مدینۃ الاولیاء ملتان) میں واضح صراحت کی کہ جس طرح طبخ (پکائی) کا عمل ہونے نہ ہونے کے اعتبار سے کھانے کی تقسیم ہے، یہی حکم مشروبات میں بھی ہے چنانچہ فرمایا :’’لواکل زعفرانا مخلوطا بطعام اوطیب آخر ولم تمسہ النار یلزمہ دم وان مستہ فلا
شیء علیہ لانہ صارمستھلکا وعلی ھذا التفاصیل فی المشروبیعنی اگر کسی نے زعفران کھائی جو کہ کسی طعام یا کسی اور خوشبو کے ساتھ مخلوط تھی اور اسے آگ نے نہ چھوا ہو تو’’دم‘‘ لازم ہوگا۔ اور اگر آگ نے چھوا ہو، تو کوئی کفارہ نہیں۔کیونکہ وہ زعفران ہلاک (فنا) ہوگئی اور یہی تفصیل مشروبات میں ہے۔‘‘
علامہ حسن بن محمد سعید عبدالغنی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغنیارشاد الساری ( ص ۳۱۶) میں فرماتے ہیں :فلا جزاء فیمایطبخ کالقھوۃ المذکورۃ وکدواء طبخ بھیل ونحوہ لانہ صارمستھلکایعنی جس شے کو پکالیا گیا ہو، اس میں کوئی کفارہ نہیں ، جیسا کہ مذکورہ قہوہ اور وہ دوا جس میں ھیل اور اس کی مثل کو پکالیا گیا ہو، کیونکہ وہ فنا ہوگئی ۔بلکہ اَشْنَان والا مسئلہ بھی عدم طبخ کے ساتھ مقید ہے ، شرح اللُّباب میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ چنانچہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے پہلے امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی عبارت نقل کی جو ماقبل میں گزری اور پھر اس کے بارے میں صاحبِ لباب کے حوالے سے نقل کیا کہقال المصنف رحمہ اللہ ولم یقید بالغلبۃ فی لزوم الدم فیحمل علی المقید والا فمخالف لما فی الفتح یعنی مصنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی عبارت کے بارے میں فرمایا، انہوں نے دم کے لزوم کو غلبہ کے ساتھ مقید نہیں کیا، پس اسے اس قید پر ہی محمول کیا جائے گا، ورنہ یہ فتح القدیر میں موجود مسئلے کے مخالف ہوگا۔(شرح اللباب ص ۳۱۷)
پھر ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے فتح القدیر کی عبارت نقل کی جو ’’خوشبو میں آگ کے عمل‘‘ کے تحت ردالمحتار کے حوالے سے نقل کی جاچکی ہے اور پھر اَشنان والا مسئلہ تحریر کیا۔ زیادتی فوائد کی غرض سے نقل عبارت میں مضائقہ نہیں چنانچہ فرمایا:وقد
قالوا فیما لو جعل الزعفران فی الملح ان کان الزعفران غالبا فلا شیء علیہ وفی المنتقی اذا غسل المحرم یدہ باشنان فیہ طیب فان کان اذا نظرالیہ قالوا ھذا اشنان فعلیہ صدقۃ وان قالوا ھذا طیب فعلیہ دم انتھی دونوں عبارتوں کا خُلاصہ گزر چکا۔
اس کے بعد مُلا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :ولیس فیھما مایفید التقیید بل مطلق یقید بما ذکرہ الزیلعی فیحمل علی غیرالمطبوخ فتأمل فانہ موضع الزللیعنی ان دونوں مسئلوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ، جو امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مسئلہ کی (غلبہ کے ساتھ) تقیید کا فائدہ دے۔ بلکہ یہ مسئلے ( طبخ وغیر طبخ کی قید سے)مطلق ہیں ، تو انہیں اس کے ساتھ مقید کیا جائے، جو امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ذکر کیا۔ لہٰذا ان کو غیرِ مطبوخ پر محمول کیا جائے۔غور کرلیجئے ، کیونکہ یہ خطا کا مقام ہے۔ (شرح اللباب ص ۳۱۷)والحمدللّٰہ رب العالمین
دوسری صورت میں بھی اس صابن کے استعمال کا جواز ظاہر ہے، کیونکہ آگ کے عمل سے مراد ، حرارت کا پایا جانا ہے نہ کہ آگ کا وجودِ حقیقی، جیسا کہ آج کل الیکٹرونک آلات کے ذریعے حرارت پیدا کی جاتی ہے ، مثلاً جیسے ہیٹر وغیرہ پر چائے اور دیگر اشیاء پکائی یا گرم کی جاتی ہیں۔اب جیسا کہ ماقبل گزرا کہ صابن کو خوشبودار کرنے کے لیے چالیس ڈگری کی حرارت قائم رکھ کر خوشبو ملائی جاتی ہے، لہٰذا آگ کی تاثیر پائے جانے کی بناء پر مذکور صابن میں موجود خوشبو مُسْتَھلک (ہلاک شدہ) کے
حکم میں ہے۔
شیمپو ( مائع صابن) اگر سریا داڑھی میں استعمال کیا جائے، تو خوشبو کی ممانعت کی علت پر غور کے نتیجے میں اس کی ممانعت کا حکم ہی سمجھ میں آتا ہے،بلکہ کفارہ بھی ہونا چاہیے ، جیسا کہ خطمی(خوشبودار بوٹی)سے سر اور داڑھی دھونے کا حکم ہے کہ یہ بالوں کو نرم کرتا ہے اور جویں مارتا ہے اور محرم کے لیے یہ ناجائز ہے۔
دُرمختار (ج ۳، ص ۴۹۸) میں ہے :’’غسل راسہ ولحیتہ بخطمی لانہ طیب اویقتل الھوام‘‘یعنی سر اور داڑھی کو خِطمی سے دھونا (حرام ہے) کیونکہ یہ خوشبو ہے یا جوؤں کو مارتا ہے۔‘‘اس عبارت کے تحت علامہ سید ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی ردالمحتار میں ارشاد فرماتے ہیں :’’المراد الغسل بماء مزج فیہ کما فی القھستانی وقولہ لانہ طیب اشار الی الخلاف فی علۃ وجوب اتقائہ فالوجوب متفق علیہ وانماالخلاف فی علتہ وموجبہ فیتقہ عندالامام لان لہ رائحۃ طیبۃ وان لم تکن زکیۃ وموجبہ دم وعندھما لانہ یقتلہ الھوام ویلین الشعر وموجبہ صدقۃ یعنی خطمی سے ( سر یا داڑھی) دھونے سے مراد اس پانی سے دھونا ہے جس میں خطمی ملائی گئی ہو جیسا کہ قھستانی میں ہے اور ان کا کہنا :’’لانہ طیب‘‘ یہ خطمی سے بچنے کی علت میں اختلاف کی طرف اشارہ ہے اس سے بچنے پر تو سب کا اتفاق ہے لیکن اس کی علت و حکم میں اختلاف ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیک محرم اس سے بچے گا کیونکہ اس کے لیے عمدہ خوشبو ہوتی ہے اگرچہ تیز نہیں اور اس کے استعمال کا موجَب ( لازمی ہونے والی شئے) ’’دم‘‘ ہوگا اور صاحبین رَحْمَۃُ اللہِ علیہما کے نزدیک کیونکہ یہ جویں مارتا اور بال نرم
کرتا ہے اور اس کا موجَب ’’صدقہ‘‘ ہے۔‘‘
اختلاف کی اصل یہ ہے کہ چونکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جویں مارنے اور بال نرم کرنے کی صفت رکھنے کے ساتھ ساتھ، خطمی کا خوشبو ہونا بھی ثابت ہے، لہٰذا جِنایت(جرم) کا مل ہے اور ’’ جنایتِ کاملہ‘‘ کے نتیجے میں ’’دم‘‘ واجب ہوتا ہے۔جب کہ صاحِبَین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک چونکہ یہ خوشبو نہیں ، لہٰذا یہاں ’’جنایتِ قاصرہ‘‘ (نامکمل جرم)کا ثبوت ہوگا ور اس کا موجب ’’صدقہ‘‘ ہے۔
شیمپوسے سر دھونے کی صورت میں بھی بظاہر جنایتِ قاصرہ کا وجود ہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں بھی آگ کا عمل ہوتا ہے۔ لہٰذا خوشبو کا حکم تو ساقط ہوگیا لیکن بالوں کو نرم کرنے اور جوئیں مارنے کی علت موجود ہے ، لہٰذا ’’صَدَقہ‘‘واجب ہونا چاہیے۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر کسی کے سر پر بال اور چہرے پر داڑھی نہ ہو تو کیا اب بھی حکم سابق ہی لگایا جائے گا؟بظاہر اس صورت میں کفارے کا حکم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حکم ممانعت کی علت بالوں کا نرم اور جوؤں کا ہلاک ہونا تھا اور مذکورہ صورت میں یہ علت مفقود ہے اور انتفاء علت( علت کا نہ ہونا) انتفاء معلول کو مُسْتلزم ( لازم کرنے والی)ہے لیکن اس سے اگر میل چھوٹے تو یہ مکروہ ہے کہ محرم کو میل چھڑانا مکروہ ہے۔اور ہاتھ دھونے میں اس کی حیثیت صابن کی سی ہے کیونکہ یہ مائع حالت میں صابن ہی ہے اوراس میں بھی آگ کا عمل کیاجاتاہے ۔اس کی مزید توضیح سوال نمبر۴کے جواب کے ضمن میں آئے گی ۔
واشنگ پاؤڈر چاہے ہاتھ دھونے کے لیے استعمال ہو یا کپڑے یا برتن دھونے کے لیے، اس میں کوئی کفارہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کی تیاری میں بھی آگ کاعمل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد خوشبو ملائی جاتی ہے، نیز عُرف و عادت میں اس سے خوشبو کا حصول بھی مقصود نہیں ہوتا، مزید اس پر تَعاملِ اُمت بھی ہے۔ سوال نمبر ۲ اور ۳ کا جواب بھی اسی کے ضمن میں آگیا اور بالفرض اگر پکا نہ ہو اور خوشبو ملی ، تو وہی حکم ہوگا جو پیچھے اشنان کا گزرا۔
مسجدین کریمین کے فرش کی دھلائی میں اگر محرم کے پاؤں سَن جائیں ، تو کوئی کفارہ نہیں کہ یہ خوشبو نہیں۔ اور بالفرض اگر یہ محلول خالص خوشبو بھی ہوتا ، تو بھی کفارہ واجب نہ ہوتا، کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ محلول پہلے پانی میں ملایا جاتا ہے اور پانی اس محلول سے زائد اور یہ محلو ل مغلوب ہوتا ہے اور اگر مائع خوشبو کو کسی مائع میں ملایا جائے اور مائع غالب ہو، تو کوئی جزاء نہیں ہوتی۔ کتبِ فقہ میں جو مشروبات کا حکم عموماً تحریر ہے اس سے مراد ٹھوس خوشبو کا مائع میں ملایا جانا ہے۔
علامہ حسین بن محمد عبدالغنی مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشاد الساری ( ص ۳۱۶)میں فرماتے ہیں : ومنہ یعلم ان نحو السکرالمبلول اذاخلط بنحو ماء الورد فانہ اذاکان ماء الورد مغلوباکما ھوالغالب عادۃ لا جزاء فیہ ونقل الملا علی نحوہ عن الطرابلسی واقرہ وایدہ واصلہ من المحیطیعنی
اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ گیلی شکر ( یعنی میٹھا شربت) اور اس کی مثل ، گلاب کے پانی کے ساتھ ملایا جائے، تو اگر عرق گلاب مغلوب ہو، جیسا کہ عادۃً ایسا ہی عام طور پر ہوتا ہے ، تو اس میں کوئی کفارہ نہیں ، اور علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے اسی کی مثل طَرابلسی سے نقل کیا اور اسے برقرار رکھا اور اس کی تائید کی اور اس کی اصل محیط میں ہے۔
علامہ عبدالغنی مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مزید فرماتے ہیں :انماحملناعبارتہ علی ما اذا کان الطیب جامدا لئلا تناقض عبارتہ ما مرعن المحیط لان الضمیر فی قولہ ولوخلطہ علی ما ھو المتبادر من عبارتہ عائد الی الزعفران ویظھر فرق بین المائع والجامد لان المائع من الطیب اذا کان مغلوبا یصیرمستھلکا فی المشروب لکمال امتزاجہ بہ بخلاف الجامد لبقاء عینہ فلذا وجب فی المغلوب صدقۃ یعنی ہم نے فتح القدیر کی عبارت کو اس پر محمول کیا، جب کہ خوشبو جامد ( ٹھوس) ہو تا کہ ان کی عبارت اس سے نہ ٹکرائے جو ’’محیط‘‘ کے حوالے سے گزری۔ کیونکہ ان کے قول ’’ خَلَطَہ ‘‘ میں ضمیر کا زعفران کی طرف عائد ہونا (لوٹنا) ہی ان کی عبارت سے مُتبادر ( واضح ) ہے۔ اور مائع اور ٹھوس میں فرق ظاہر ہے کیونکہ مائع خوشبوجب مغلوب ہو تو وہ مائع میں کمالِ امتزاج ( ملنے ) کی وجہ سے مُستھلک(فنا ) ہو جاتی ہے، بخلاف ٹھوس کے کہ اس کا عین باقی رہتا ہے، اسی وجہ سے ٹھوس کے مغلوب ہونے میں بھی ’’صدقہ‘‘ واجب ہوتا ہے۔
لہٰذا اس محلول سے بھی خوشبو کا حکم ساقط ہوگیا۔ شیمپو میں بھی اگر مائع صورت میں خوشبو ملائی جاتی ہے تو ظاہر یہی ہے کہ وہ قلیل ہوتی ہے لہٰذا اس صورت میں شیمپو میں بھی کفارہ نہیں۔
خوشبو کی تعریف اور اس کی اقسام پر ابتدائی گفتگو سے ظاہر ہوا کہ خوشبو کئی اقسام کی ہوتی ہے، کھانے والی، بدن پر لگانے والی اور سر یا داڑھی پر لگانے والی وغیرہ جب کہ عِطرعادۃً لباس پر ہی استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ہر خوشبو کو عطر نہیں کہہ سکتے۔ جیسے الائچی لیکن ہر عطر خوشبو ہے، لہٰذا ان کے مابین عُموم خصوص مطلق کی نسبت ہے، خوشبو اعم ہے اور عطر اخص۔
خوشبودار ٹشو پیپر میں اگر خوشبو کا عین موجودہے یعنی وہ پیپر خوشبو سے بھیگا ہوا ہے ، تو اس تری کے بدن پر لگنے کی صورت میں جو حکم خوشبو کا ہوتا ہے، وہی اس کا بھی ہوگا۔ یعنی اگر قلیل ہے اور عضوِ کامل کو نہ لگے، تو صدقہ، ورنہ اگر کثیر ہو یا کامل عضو کو لگ جائے، تو دم ہے۔ اور اگر عَین موجود نہ ہو، بلکہ صرف مہک آتی ہو، تو اگر اس سے چہرہ وغیرہ پونچھا اور چہرے یا ہاتھ میں خوشبو کا اثر آگیا، تو کوئی ’’کفارہ‘‘نہیں کہ یہاں خوشبو کا عین نہ پایا گیا اور ٹشو پیپر کا مقصودِ اصلی خوشبو سے نفع لینا نہیں۔
ھندیہ ( عالمگیری ج ۱، ص ۲۴۱) میں ہے:لودخل بیتا قد اجمرفعلق بثوبہ رائحۃ فلا شیء علیہ لانہ غیرمنتفع بعینہیعنی اگر کوئی ایسے کمرے میں داخل ہوا جس کو دھونی دی گئی اور اس کے کپڑے میں مہک بس گئی ، تو کوئی کفارہ نہیں ، کیونکہ اس نے خوشبو کے عین سے نَفع نہیں اٹھایا۔
سیدی ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے شرح اللباب ( ص ۱۲۱) میں خوشبو کا جرم لگے بغیر، صرف مہک لگنے کے جواز کے بارے میں صراحت فرمائی ہے، چنانچہ فرماتے
ہیں :ومسہ ای لمس الطیب ان لم یلتزق ای شیء من جرمہ الی بدنہ فانہ حینئذ نوع من استعمالہ بخلاف اذا تعلق بہ ریحہ وعبق بہ فوحہ فانہ لا تضرہ اھیعنی (احرام کے مکروہات میں سے) اس یعنی خوشبو کا چھونا ( بھی) ہے ۔ بشرطیکہ وہ چمٹے نہیں یعنی اس خوشبو کے جرم میں سے کوئی شے اس کے بدن کو نہ چمٹے کیونکہ اس وقت یہ خوشبو کے استعمال کی ایک قسم قرار پائے گی بخلاف اس کے کہ جب اس کے ساتھ خوشبو کی مہک متعلق ہوجائے اور ( بغیر جرم کے) خوشبو لگے اور بھڑ کے تو یہ اس کے لیے مُضر( نقصان دہ ) نہیں ۔ اس کے بارے میں تفصیلی بیان ’’خوشبو کے استعمال سے مراد‘‘ کے عنوان کے تحت گزر چکا ہے۔
سرمہ اگر بغیر خوشبو کا ہے توسنت یا ضرورت کی وجہ سے اس کے استعمال میں کوئی حرج ( گناہ ) نہیں لیکن محرم کے لیے بلا ضرورت ا س کا استعمال مکروہ ہے اور بظاہر ’’کراہتِ تنزیہی‘‘ ہے اور عموماً سرمے میں خوشبو نہیں ہوتی ہیکما ھوالمشاھداور اگر سرمہ خوشبودار ہو، تو ایک یا دو بار استعمال میں ’’صَدَقہ‘‘ ہے اور تین یا اس سے زائد میں ’’دم‘‘۔
’’ شرح اللُّباب ‘‘ ( ص ۱۲۲)میں ہے:والاکتحال بما لا طیب فیہ ای عملا بالسنۃ وتقویۃ للباصرۃ لا قصد الزینۃیعنی ایسا سرمہ لگانا مُباح ( جائز ) ہے کہ جس میں خوشبو نہ ہو۔ یعنی سنت پر عمل کی نیت سے اور بصارت ( بینائی) کی تقویت کے لیے، نہ کہ قصد ِ زینت سے۔
عالمگیری ( ج ۱ ، ص ۲۴۱) میں ہے :عن محمد علیہ الرحمۃ فیمن اکتحل
بکحل مطیب مرۃ او مرتین فعلیہ الصدقۃ وان کان مرارا کثیرۃ فعلیہ دم یعنی امام محمد علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاحدسے، اس شخص کے بارے میں کہ جس نے خوشبو دار سرمہ ایک یا دو مرتبہ لگایا، مروی ہے کہ اس پر ’’ صدقہ‘‘ ہے اور اگر کئی مرتبہ لگایا ، تو اس پر ’’دم‘‘واجب ہے۔
بہار ِ شریعت( ص ۸۶ حصہ ششم) میں ہے :’’خوشبود ار سرمہ ایک یا دو بار لگایاتو ’’صدقہ‘‘ دے، اس سے زیادہ میں ’’دم‘‘ ہے اور جس سرمہ میں خوشبو نہ ہو، اس کے استعمال میں حرج ( گناہ ) نہیں ، جب کہ بضرورت ہو اور بِلا ضرورت مکروہ۔‘‘
ٹوتھ پیسٹ میں اگر آگ کا عمل ہوتا ہے، جیسا کہ یہی مُتَبادِر ہے ، جب تو حکم کفارہ نہیں ، جیسا کہ ماقبل تفصیل سے گزر چکا۔ لیکن اس میں عموماً منہ کی بدبو دور کرنے اور خوشبو حاصل کرنے کا قصد ہوتا ہے، لہٰذا اس کا استعمال ’’کراہیت‘‘ سے خالی نہیں۔
امام اہلسنّت ، مجدد دین و ملت ، پروانہ شمع رسالت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ ( ج ۴، ص ۶۸۹) میں فرماتے ہیں :تمباکو کے قِوام میں خوشبو ڈال کر پکائی گئی ہو، جب تو اس کا کھانا مطلقاً جائز ہے اگرچہ خوشبو دیتی ہو، ہاں خوشبو ہی کے قصد سے اسے اختیار کرنا کراہت سے خالی نہیں۔
اگر وہ خالص خوشبو ہے ، تب تو اس کا کھانا اور لگانا برابر ہے، جب کہ عرف و عادت میں اس کے دونوں طرح استعمال کو خوشبو کہاجاتا ہو، جیسے مُشک،زعفران وغیرہ۔اور اگر خالص خوشبو نہیں ، جیسے زیتون کا تیل ، اگر اس کا بطورِ خوشبو استعمال ہو، تو
کفارہ ، ورنہ کچھ نہیں۔اور اگر خوشبو کسی خاص شے کے ساتھ مختص( خاص)ہے اور دوسری جگہ جب تک مہک نہ دے اسے خوشبو نہیں کہا جاتا۔ جیسے الائچی کہ منہ کی خوشبو کے لیے خاص ہے اور اگر کوئی اسے کپڑے میں باندھ لے یا داڑھی میں اٹکالے ، تو کوئی اسے خوشبو کا استعمال نہیں کہتا، تو اس صورت میں کچھ نہیں ، اس کا صریح جزیہ عود کو کپڑے میں باندھنے کا ’’ خوشبو کے استعمال سے مراد ‘‘کی بحث میں گزر چکا۔
صابن یا خوشبو دار واشنگ پاؤڈر وغیرہ کو خوشبو کے قصد سے استعمال کرنا مکروہ ہے، جیسا کہ ٹوتھ پیسٹ کے بیان کے ضمن میں تمباکو کے خوشبودار قوام کے بارے میں امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے حوالے سے گزرا۔ بلا قصد و نیتِ خوشبو اس کے استعمال کا حکم بھی ماسبق میں و اضح ہوچکا۔
اس میں بھی وہی تفصیل ہوگی ، جو ٹشو پیپر کے بیان میں گزری کہ مثلاً کسی ایسے شخص سے مُصافحہ کیا جس نے عطر لگایا تھا اور ہاتھ میں اگرخوشبو کا عین لگا تو’’ کفارہ ‘‘ ہوگا اور اگر عین نہ لگا بلکہ ہاتھ میں صرف مہک آئی، تو کوئی کفارہ نہیں کہ اس محرم نے خوشبو کے عین سے نفع نہ اٹھایا، ہاں اس کو چاہیے کہ ہاتھ کو دھو کر اس مہک کو زائل کردے۔
احرام کی نیت کے بعد گلاب کا ہار نہ پہنا جائے، کیونکہ گلاب کا پھول خود عین
خوشبو ہے اور اس کی مہک بدن اور لباس میں بَس بھی جاتی ہے۔ چنانچہ اگر اس کی مہک لباس میں بس گئی اور کثیر ہے اور چار پہر یعنی بارہ گھنٹے تک اس کپڑے کو پہنے رہا تو ’’ دم‘‘ ہے ، ورنہ ’’صدقہ ‘‘اور اگر خوشبو تھوڑی ہے اور کپڑے میں ایک بالشت یا اس سے کم میں لگی ہو اور چار پہر تک اسے پہنے رہا تو ’’صدقہ‘‘ اور اس سے کم پہنا، تو ایک مٹھی گندم دینا واجب ہے۔اور اگر خوشبو قلیل ہے، لیکن بالشت سے زیادہ حصے میں ہے، تو کثیر کا ہی حکم ہے یعنی چار پہر میں ’’ دم ‘‘ اور کم میں ’’ صدقہ‘‘۔
شرح اللباب ( ص ۳۲۰) میں ہے:اذا کان الطیب فی ثوبہ شبرا فی شبر ای مقدارھما طولا وعرضا فھو داخل فی القلیل فان مکث ای دام یوما فعلیہ صدقۃ او اقل منہ فقبضۃ کذا فی المجرد والفتحیعنی اگر کسی کپڑے میں خوشبو بالشت دربالشت لگی یعنی طول و عرض میں ، تو وہ قلیل میں داخل ہے، پس اگر وہ ٹھہرا رہا یعنی دن بھر پہنا رہا، تو اس پر صدقہ ہے۔اور اس سے کم ہے تو ایک مٹھی کھانا۔ ایسا ہی مُجرَّد اور فتح القدیر میں ہے۔
ردالمحتار ( ج ۳، ص ۵۷۵) میں ہے: یمکن اجراء التوفیق المار ھنا ایضا بان الطیب اذا کان فی نفسہ کثیرا لزم الدم وان اصاب من الثوب اقل من شبر وان کان قلیلا لا یلزم حتی یصیب اکثر من شبر فی شبر وربما یشیرالیہ قولھم لوربط مسکا اوکافورا اوعنبراکثیرا فی طرف ازارہ او ردائہ لزمہ دم ای ان دام یوما ولو قلیلا فصدقۃ یعنی گزشتہ تطبیق کو یہاں بھی جاری کرنا ممکن ہے کہ اگر وہ فی نفسہ کثیر ہو تو ’’دم‘‘ لازم ہوگا۔ اگرچہ کپڑے میں بالشت سے زیادہ کو نہ لگے اور اگر خوشبو قلیل ہو تو دم لازم نہیں جب تک بالشت در بالشت سے زیادہ کپڑے کو نہ لگے
اور شاید اسی کی طرف فقہاء کا قول اشارہ کرتا ہے کہ اگر محرم نے مشک یا کافور یا عنبر بہت زیادہ اپنے تہبندیا چادر کے کنارے میں باندھی ، تو دم لازم ہوگا۔ یعنی اگر دن بھر پہنا رہا اور اگر دن سے کم ہے، تو صدقہ واجب ہے۔اور اگر یہ ہار پہننے کے باوجود کوئی مہک کپڑوں میں نہ بسی، تو کوئی کفارہ نہیں اب اس کی حیثیت عود کو کپڑے میں باندھنے کی طرح ہوگئی کہ جب تک اس کی مہک کپڑوں میں نہ آئے، کفارے کا حکم نہیں ، جیسا کہ ’’خوشبو کے استعمال سے مراد‘‘ کے بیان میں گزرا۔ لہٰذا محرم کو چاہیے کہ طیارے میں سوار ہونے کے بعد احرام کی نیت کرے تاکہ اس ناجائز کام سے بچ جائے اور اگر خوشبو لگ جائے تو اس کو فوراً دھولے اور کفارے کی جو بھی صورت واضح ہو اس کے مطابق عمل کرے۔
ھذا ماظھرلنا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
۲ذوالقعدہ ۱۴۲۳ھ بمطابق ۲۶ جنوری۲۰۰۳ء
اراکین مجلسِ تحیقاتِ شرعیہ(دعوتِ اسلامی)
{تصدیقات}
