اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنط
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندہ جب تک مجھ پر دُرود پڑھتا رہتا ہے،ملائکہ اُس پر رحمت نازل کرتے رہتے ہیں اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ دُرود پاک کم پڑھے یا زیادہ ۔([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جب سرزمینِ عرب پر آفتابِ نبوّت طُلُوع ہوا تو اس کی نورانیّت سے سےکفر کی تاریکیاں چھٹنے لگیں ، لوگ آہستہ آہستہ معبودانِ باطلہ کو چھوڑ کر حلقہ بگوشِ اسلام
ہونے لگےاور شِرک سے بیزار ہو کر اللہ واحد ویکتا کی عبادت کرنے لگے لیکن ابھی تک اِعلانیہ دعوتِ اسلام کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ اسی دوران اللہربُّ العزّت جَلَّ جَلَالُہٗ کا حکم ہوا کہ اے محبوب! آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائیے تو رسولِ اکرم ،نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نےتمام قریش کو جمع کرکے انہیں دعوتِ اسلام پیش کی چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :
وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ(۲۱۴) (پ۱۹، الشعرآء:۲۱۴)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ۔
تو پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش کی شاخوں کو پکارنا شروع کیا:اے بنی فہر! اے بنی عدی ! یہاں تک کہ لوگ جمع ہوگئے اور جو نہ آسکا اس نے اپنا نمائندہ بھیجا کہ جاکر دیکھے آخر بات کیا ہے۔جب ابو لہب سمیت قریش کے دیگر لوگ آچکے تو مبلغِ اعظم، رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:اگر میں یہ کہوں کہ وادی کے اس طرف ایک لشکرِ جرّار ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا مانو گے ؟ سب نے کہا :جی ہاں !ہم آپ کی تصدیق کریں گے کیونکہ ہم نے تو ہمیشہ آپ کو سچ بولتے ہی سُنا ہے ۔ فرمایا:تو پھر میں تمہیں قیامت کے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو سب کے سامنے ہے۔اس پر (مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ)ابولہب بکواس کرنے لگا: تم ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جاؤ کیا ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا؟تو اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں:
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ(۱)مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ(۲) (پ۳۰، اللھب:۱۔۲)
ترجَمۂ کنز الایمان:تباہ ہوجائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا۔([3])
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نور العرفان میں مذکورہ بالا آیات کے تحت فرماتے ہیں :اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:
٭ایک یہ کہ ربّ (عَزَّوَجَلَّ)کے بدگویوں (گستاخوں)کو حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) نے جواب دیا اور حضور کے بدگویوں کا ربّ (عَزَّ وَجَلَّ)نے جواب دیا ، دشمنانِ خدا کی جوابدہی سنَّتِ رسول ہے اور دشمنانِ رسول کو جواب دینا سنَّتِ الٰہیہ ہے ۔
٭ دوسرے یہ کہ جس قسم کی بکواس کفار نے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) سے کی اسی قسم کا جواب ربّ نے دیا ، معلوم ہوتا ہے کہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) ربّ تعالیٰ کے محبوبِ اکبر ہیں۔
٭تیسرے یہ کہ قرآنِ کریم نے تمام مجرموں کی سزائیں بیان فرمائیں جن میں سب سے زیادہ سخت سزا حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کے بدگو کی ہے کہ قرآنِ کریم نے اس کے مُتَعَلِّق کبھی فرمایا”زَنِیْم“(جس کی اصل میں خطا)،کبھی فرمایا ” اَبْتَر (ہر خیر سے محروم) ،کبھی فرمایا”تَبَّتْ یَدَا“ (دونوں ہاتھ تباہ ہوجائیں)،کبھی فرمایا”لَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ“ (اللہ ہرگز انہیں نہیں بخشے گا) ایسی سخت سزائیں کسی مجرم کی ذکر نہ ہوئیں ایسے
ہی جیسے انعام حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کے ادب پر دیئے گئے ایسے کبھی عبادت پر نہ دیئے گئے ۔
٭چوتھے یہ کہ بڑی شرافت ، عزّت ونسب والے ومال والے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کی مخالفت سے ذلیل وخوار ہوگئے تو دوسروں کا کیا پوچھنا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ جب گستاخ و بے ادب ابولہب نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں گستاخانہ جملے بکے تو قہرِ الٰہی جوش میں آیا اور خدائے جبّار و قہّار نے اس بدبخت کے بھیانک انجام کی غیبی خبر دیتے ہوئے سورۃ اللّہب نازل فرمائی ۔آئیے حصولِ عبرت و نصیحت کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں ابولہب اور اس جیسے دیگر گستاخانِ رسول کا انجام مُلاحظہ کیجئے۔
ابو لہب نبیِ کریم، رؤوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک چچا تھا ۔اس کا نام عبدُ العزّٰی بن عبدُ الْمُطّلِب اور کُنیت ابو عتبہ تھی ۔ اس کے چہرے کی چمک کی وجہ سے اسے ابو لہب کہا جاتا تھا۔یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں گستاخی کرتا، آپ سے بغض رکھتا اور بہت زیادہ اذیّت پہنچاتا تھا نیز آپ کو اور دینِ اسلام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔([4]) اس کی گستاخی اس حد تک بڑھ چکی
تھی کہ جب سَیِّدِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے جاتے تو یہ بدبخت بھی وہاں پہنچ جاتا اورآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان میں نازیبا کلمات کہتا ۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ربیعہ بن عِباد دِیلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام لانے کے بعد زمانہ جاہلیت کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ لوگ نبیِ اَکْرَم ، رسولِ مُحتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے اردگرد جمع تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم اُن سے فرمارہے تھے:يَا اَيُّهَا النَّاسُ قُوْلُوْا لاَ اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ تُفْلِحُوا اے لوگو ! لآاِلٰہَ اِلَّا اللہ کہو،فلاح پاجاؤگے۔جبکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے پیچھے ایک صاف ستھرے چہرے اور بھینگی آنکھوں والا شخص کھڑا تھا جس کے سر پر دوچوٹیاں تھیں وہ لوگوں سے کہہ رہا تھا :یہ بے دین ، جھوٹا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جہاں جاتے یہ بھی پیچھے پیچھے جاتا ۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا چچا ابولہب ہے۔([5])
مذکورہ بالا روایت سے ابولہب کی کمینگی اور رسولِ اَکْرَم، نُورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے کِیْنَہ پَرْوَرِی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر یہ ایک قابلِ تسلیم حقیقت ہے کہ گستاخِ رسول کو بالآخر بھیانک انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ابولہب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے رہتی دُنیا کے لئے عبرت کا
نِشان بنادیا۔
غزوۂ بدر کے بعد اللہعَزَّ وَجَلَّنے ابولہب کو عَدَسَہ ([6]) کی بیماری میں مبتلا کردیا جس کے بعد وہ صرف سات دن ہی زندہ رہا اور پھر ہلاک ہوگیا ۔ ابولہب کی ہلاکت کے بعد اس کے بیٹوں نے اسے یونہی پڑے رہنے دیا اور تین دن تک دفن ہی نہ کیا یہاں تک کہ اس کی لاش سے بدبو آنے لگی ۔قریش کے لوگ عدسہ سے اس طرح ڈرتے تھے جیسے طاعون سے ڈرتے ہیں (شایداسی لئے کوئی بھی شخص اس کی مردار لاش کو ہاتھ لگانے کے لئے تیار نہ تھا)بالآخر قریش کے ایک آدمی نے اس کے بیٹوں سے کہا: تمہارا بیڑا غرق ہو!کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہارا باپ گھر میں پڑا سڑ رہاہے اور تم ہو کہ اسے دفن نہیں کرتے۔ وہ کہنے لگے:ہمیں ڈر ہے کہ اس کی بیماری کہیں ہمارے ہی گلے نہ پڑ جائے۔ اس شخص نے کہا چلو میں اس کام میں تمہاری مدد کر دیتا ہوں پھر ان سب نے غسل کے نام پر دُور ہی سے اس پر پانی پھینک دیا اور کوئی بھی اس کے قریب نہ گیااس کے بعد اسے اُٹھا کر وادیٔ مکہ کے بالائی حصے کی طرف لے گئے جہاں اسے ایک دیوار کے سہارے کھڑا کیا اور اس پر پتھر پھینکتے رہے یہاں تک کہ وہ ان پتھروں کے نیچے ہی دفن ہوگیا۔([7])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ابولہب کی ہلاکت کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان کیسے پورا ہوا ،اس بدبخت کے لئے اس سے بڑھ کر ذلّت اور کیا ہوسکتی ہے کہ مرنے کے بعد اس کے اپنے ہی بیٹوں نے اس کی لاش کو دفن کرنے کے بجائے گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیانیز تین دن بعد بھی صرف اور صرف اس وجہ سے اس کے غسل و دفن کا انتظام کیا گیا کہ لوگ کیا کہیں گے۔یقیناً رسولِ کریم، رؤوفٌ رَّحِیْم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ عظیم میں بے ادبی کرنے والے بدبختوں کو نہ چین کی موت نصیب ہوتی ہےاور نہ ہی ان کی ہلاکت پر کسی آنکھ سے آنسو ٹپکتا ہےاور پھر یہ تو صرف دنیا کا عذاب ہے اسی سے جان نہ چھوٹے گی بلکہ مرنے کے بعد قبرکا درد ناک عذاب اور پھر جہنّم کی ہولناک سزاؤں کو ہمیشہ کے لئے جھیلنا ہوگا۔
جس طرح ابولہب ہلاک وبرباد ہوا،نہ اس کا مال اسے کام آیا اور نہ ہی اولاد، اسی طرح اس کی وہ بدبخت بیوی بھی ذلّت کی موت مری جو ہمیشہ رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف پہنچانے میں سرگرمِ عمل رہتی تھی ۔سورۃ اللہب میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ابولہب کے ساتھ ساتھ اس کی بدبخت بیوی کا انجام بھی پیشگی ہی بیان فرمادیا تھا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَّ امْرَاَتُهٗؕ-حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ(۴)فِیْ
ترجَمۂ کنز الایمان:اور اس کی جورُو لکڑیوں
جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠(۵) (پ۳۰، اللھب:۴۔۵)
کا گٹھا سر پر اٹھائے اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا۔
صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی ان آیات کے تحت فرماتے ہیں :اُمِّ جمیل بنتِ حَرْب بن اُمیّہ (حضرت) ابوسفیان (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی بہن جو رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمسے نہایت عِناد و عداوت (بغض، دشمنی) رکھتی تھی اور باوجود یہ کہ بہت دولتمند اور بڑے گھرانے کی تھی لیکن سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی عداوت میں انتہا کو پہنچی تھی کہ خود اپنی سر پر کانٹوں کا گٹھا لاکر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے راستہ میں ڈالتی تاکہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کو اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے اصحاب کو ایذا و تکلیف ہو اور حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کی ایذا رسانی اس کو اتنی پیاری تھی کہ وہ اس کام میں کسی دوسرے سے مدد لینا بھی گوارا نہ کرتی تھی ۔ایک روز یہ بوجھ اٹھا کر لارہی تھی کہ تھک کر آرام لینے کے لئے ایک پتّھر پر بیٹھ گئی ایک فرشتے نے بحکمِ الٰہی اس کے پیچھے سے اس گٹھے کو کھینچا وہ گرا اور رسّی سے گلے میں پھانسی لگ گئی اور وہ مرگئی ۔
اس طرح ابو لہب کی بیوی بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو ایذا دینے کے جُرْم میں غضبِ الٰہی کا شکار ہوئی اور اپنے بنائے ہوئے پھندے میں خود ہی پھنس کر نہایت ذلّت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچی ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تاریخ میں ایسے متعدد واقعات موجود ہیں جب کفارومشرکین نے رحمتِ عالم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی شان میں ہرزہ سرائی (بکواس )کی توآپ اپنے کمالِ حِلم و بُرْدْباری کی وجہ سے خاموش رہے لیکن ربّ العالمین عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کورُسوا کرکے خاک میں ملا دیا،انہیں میں سے ایک واقعہ شاہِ فارس کسریٰ کابھی ہے ۔چھٹی سن ہجری کے ماہِ ذوالحجۃ ُالحرام میں جب رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم حُدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کی طرف مکتوب (خط) لکھے اور انہیں اسلام کی دعوت پیش کی۔مکتوب پر مُہر لگانے کے لئے آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بھی بنوائی ۔ چنانچہ
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے مکتوب لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ ایسا مکتوب نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگی ہو، لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں ”محمد رسول اللہ“ نقش تھا ۔([8])
ایک مکتوب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرت عبدُ اللہ بن حُذافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ فارس کے بادشاہ کسریٰ کی طرف بھیجاجس کا مضمون کچھ یوں تھا:
بَسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ
محمدرسولُ اللہ نبیِ اُمّی کی طرف سے کسریٰ شاہِ فارس کے نام۔
اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمپر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں تمہیں اللہعَزَّ وَجَلَّکی طرف بلاتا ہوں کیونکہ مجھےاللہعَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ جو زندہ ہیں انہیں ڈرسناؤں اور جو کافرہیں ان پر حجت پوری ہو جائے ۔ اسلام قبول کرنے ہی میں سلامتی ہے اگر انکار کرو گے تو سارے مجوسیوں کی گمراہی کا گناہ تمہاری گردن پر ہوگا ۔
جب اس بدبخت کے سامنے یہ ہدایت نامہ پڑھا گیا تو اس نے وہ مبارک مکتوب (خط)لیا اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سُلطانِ دو جہاں،شہنشاہِ کون و مکاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے مُتَعَلِّق یہ بھی کہا کہ میرا ایک غلام مجھے اس طرح کا خط لکھنے کی جَسارَت کیسے کر سکتا ہے۔ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو کسریٰ کی اس نازیبا حرکت کا پتا چلا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہعَزَّ وَجَلَّ اس کی بادشاہت کو ٹکڑے ٹکڑے کرے۔ اور پھر ویسا ہی ہوا جیسا آپ نے فرمایا تھا۔ چنانچہ مکتوب پھاڑنے کے کے بعد کسریٰ نے اپنے یمن کے گورنر باذان کو لکھا کہ حجاز میں رہنے والے اس شخص کے پاس اپنے دو طاقتور جوان بھیجو تاکہ وہ اسے پکڑ کر میری
بارگاہ میں پیش کریں ۔باذان نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فوراً دوآدمی منتخب کئے اور انہیں ایک خط دےکرسیِّدِ عالَم، نورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس روانہ کیا جس میں لکھاتھا کہ آپ ان دونوں جوانوں کے ہمراہ کسریٰ کے پاس حاضر ہوجائیں۔ جب باذان کے قاصد تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے کچھ یوں گفتگوکی :شاہوں کے شاہ کسریٰ کی طرف سے ہمارے گورنر باذان کو حکم ملاہے کہ آپ کواُس کے سامنے پیش کیا جائے،اگر آپ ہمارے ساتھ چلنے پر آمادہ ہیں تو باذان بطورِ سفارش ایک خط شہنشاہ کو تحریرکر دے گا جس کا فائدہ یہ ہوگاکہ شاہِ فارس آپ کو اذیّت پہنچانے سے باز رہے گا اور اگر آپ نے ساتھ چلنے سے انکار کیا تو آپ اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی قوم کو ہلاک کردے گا اور آپ کے شہروں کو اُجاڑ کے رکھ دے گا ۔اس ساری گفتگو کے دوران سرکارِ دوعالم،نورِ مجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اُن دونوں کی صورت دیکھنا بھی گوارا نہ فرمایاکیونکہ انہوں نے داڑھیاں منڈائی اور مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں۔ جب ان کی بات پوری ہوچکی تو پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :تمہارے لئے خرابی ہو آخر داڑھی منڈانے اور مونچھیں بڑھانے کا حکم تمہیں کس نے دیا؟وہ بولے ہمارے ربّ کسریٰ نے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مجھے تو میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّنے داڑھی بڑھانے اورمونچھیں تراشنے کا حکم دیا ہےنیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں اسلام
کی دعوت بھی پیش کی، پھر ان سے فرمایا:ابھی تو تم یہاں سے چلے جاؤ کل دوبارہ آنا میں تمہیں اپنے ارادے سے آگاہ کروں گا۔اسی رات جبریْلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں یہ خبر لائے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّنے آپ کی گستاخی کرنے والے بدبخت کسریٰ پر اس کے بیٹے شیرویہ کو مسلط کردیا جس نے رات کی فلاں ساعت میں کسریٰ کو قتل کردیا۔اگلے دن جب وہ دونوں افراد بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ان سے فرمایا:باذان کو جاکر یہ بات بتا دو کہ گزشتہ رات سات پہر گزرنے کے بعد میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے ربّ کسریٰ کو ہلاک کر دیا۔ یہ سُن کر وہ دونوں کہنے لگے :آپ کو معلوم بھی ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا ہم آپ کی طرف سے یہ بات بادشاہ کو لکھ بھیجیں؟سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :ہاں ضرور اسے خبر دو اور ساتھ ہی یہ بھی کہناکہ عنقریب میرا دین اور میری حکومت کسریٰ کی سرحدوں تک پہنچے گی بلکہ وہاں تک پہنچے گی جہاں تک کوئی کُھر یا سُم والا جانور پہنچ سکتاہے،اور اسے کہہ دینا کہ اگر اسلام قبول کرلو تو میں تمہارا مال و اسباب اور بادشاہت تمہارے ہی حوالے کردوں گا۔ یہ دونوں قاصد واپس باذان کے پاس پہنچے اور اسے ساری باتیں کہہ سنائیں باذان نے کہا کہ اگر ان کی خبر سچ ہے تو یقیناً وہ نبیِ مُرْسَلْ ہیں ۔ابھی تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ باذان کے پاس شیرویہ کا خط آیا جس میں اس نے اپنے باپ( شاہِ فارس )کو قتل کرنے کی خبر دے دی۔اب باذان پر سرورِ کونین،رحْمتِ دارین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
واٰلہٖ وسلَّم کی صداقت اور ان کی عظمت و رفعت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی لہٰذا باذان اور بہت سے فارسیوں نے اسلام قبول کرلیا۔([9])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ فارس کا بادشاہ خُسرو پرویز جس نے برس ہا برس تک نصف دنیا پر حکومت کی،جسے اپنی طاقت پربڑا ناز تھا اور اس کے آگے کسی کو سراٹھانے کی ہمت نہ ہوتی تھی جب اس نے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے نامۂ مبارک کی بے ادبی کی تو اس کا یہ انجام ہوا کہ اسی کے لختِ جگر نے انتہائی ذلت کے ساتھ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس کی سلطنت کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا،اقتِدار، دولت اور وسیع وعریض سلطنت نے اس کے اندر غرور اور تکبر پیدا کردیا تھا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھاکہ یہ تووہ ذاتِ بابرکت ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پوری کائنات کی بادشاہت عطا فرمادی ہے ، دنیا کےسب تخت وتاج ان کے قدموں میں ہیں ،بڑے سے بڑے بادشاہ ان کے گدایانِ در بن کر حاضرِ خدمت ہو تے ہیں،ان کی عظمت ورفعت کواللہعَزَّ وَجَلَّ نے وہ عُروج بخشا ہےکہ اسے کوئی گھٹا نہیں سکتا بلکہ ایسی جَسارت کرنے والے خود ہلاک و برباد ہوجاتے ہیں۔جس نے بھی ان کی عظمت مٹانے کی کوشش کی وہ خود آپ مٹ گیا مگر پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی عظمتوں کے آج بھی ڈنکے بج رہے ہیں۔
وہی دھوم اُن کی ہے مَا شَآءَ اللہ مِٹ گئے آپ مِٹانے والے
سرورِ کائنات،فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکائنات کی سب سے مکرّم ومُعَظّم ہستی ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں سب سے زیادہ مقبول ومحبوب ہیں ایسے میں اگر کوئی دُشْمنِ نبوّت پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمپر طعنہ زنی کرے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ خالقِ کائنات عَزَّ وَجَلَّاس بات کو گوارا کرلے، وہ ہستی جنہیں حبیبِ خدا ہونے کا شرف حاصل ہواس کے مُتَعَلِّق کسی بھی قسم کے نازیبا الفاظ استعمال کرنا یا انہیں کسی بھی طرح سے تکلیف پہنچانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ہرگز ہرگز پسند نہیں بلکہ ایسی جسارت کرنے والوں کو تو دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۱) (پ۱۰، التوبة:۶۱)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور وہ جو رسولُ اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
ایک اور مقام پر اللہعَزَّ وَجَلَّ نے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۵۷) (پ۲۲، الاحزاب:۵۷)
ترجَمۂ کنز الایمان:بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے کئے ذلّت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
معلوم ہواکہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی
گستاخی کرنے اور انہیں اذیّت پہنچانے والاآخرت میں دردناک عذاب کا مستحق ہے اوردنیا میں بھی اس کا انجام بھیانک ہوتا ہے ۔حضرت علیُّ المُرْتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ نبیِ مکرّم، رسولِ مُحتشَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے ایک موئے مبارک کو پکڑکر ارشاد فرمایا :جس شخص نے میرے ایک بال کو تکلیف دی بے شک اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو تکلیف دی اس پر زمین وآسمان کے بھرنے کے برابر خدا کی لعنت۔([10]) تو جب سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے کسی بال مبارک کو تکلیف پہنچانے والا لعنتِ خداوندی کا مستحق ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا جو محبوبِ خدا کی گستاخی کرکے آپ کی ذات کو تکلیف اور قلبِ نازنیں کو رنج پہنچائے ،ایسے بدبخت کو یقیناً قہرِ الٰہی کی مار پڑے گی اور اس کا نشان صَفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔
ایک مرتبہ ابو لہب کے بیٹے عتیبہ نے بارگاہِ نبوّت میں گستاخی کی یہاں تک کہ بدزبانی کرتے ہوئے حضور رحمۃٌ للعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم پر جھپٹ پڑا اور آپ کے مقدس پیراہن کو پھاڑ ڈالا۔ اس گستاخ کی بے ادبی سے آپ کے قلبِ نازک پر انتہائی رنج و صدمہ گزرا اورجوشِ غم میں آپ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
اللّٰہُمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْباً مِّنْ کِلَابِکَ اے اللہ! اپنے کتّوں میں سے کسی کتّے کو اس پر مسلّط فرما دے۔چنانچہ جب ابولہب اور عتیبہ دونوں تجارت کے لئے ایک قافلہ کے ساتھ ملکِ شام گئے تو رات کے وقت مقامِ زرقا میں ایک راہب کے پاس ٹھہرے۔ راہب نے قافلے والوں کو بتایا کہ یہاں درندے بہت ہیں اس لئے تمام لوگ ذرا ہوشیار ہو کر سوئیں۔ یہ سُن کر ابو لہب نے قافلے والوں سے کہا کہ اے لوگو!محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) نے میرے بیٹے عتیبہ کے لئے ہلاکت کی دعا کی ہے۔ لہٰذا تم لوگ تمام تجارتی سامانوں کو اکٹھا کرکے اس کے اوپرعتیبہ کا بستر لگادو اور سب لوگ اس کے ارد گرد سوجاؤ تاکہ میرا بیٹا درندوں کے حملے سے محفوظ رہے۔ چنانچہ قافلہ والوں نے عتیبہ کی حفاظت کا پورا پورا بندوبست کیا لیکن رات کے وقت اچانک ایک شیر آیا اور سب کو سونگھتے ہوئے کُود کر عتیبہ کے بستر پرپہنچا اور اس کے سر کو چبا ڈالا۔ لوگوں نے شیر کو تلاش کیا مگر کچھ بھی پتا نہیں چل سکا کہ یہ شیر کہاں سے آیا تھا اور کدھر چلا گیا۔([11]) اس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو اذیّت دینے والا عتیبہ دنیا میں ہی بدترین موت کا شکار ہوکر واصِلِ جہنّم ہوا۔
کفارِ قریش میں سے کچھ افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے باقاعدہ رسولِ کریم ، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف دینے اور آپ کے ساتھ استہزا کرنے کا
معمول بنا رکھا تھا مگروہ پیکرِ حِلم صبر کرتے اور ان کی برائیوں کا بدلہ اچھائی سے دیتے۔ لیکن یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب کو تکلیفیں دی جائیں اور ربّ عَزَّ وَجَلَّ ان گستاخوں کی خبر نہ لے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی تسکینِ خاطر کے لئے ارشاد فرمایا:
اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ(۹۵) (پ۱۴، الحجر:۹۵)
ترجَمۂ کنز الایمان:بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں۔
صدرُ الْافَاضِل حضرت علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : کُفّارِقریش کے پانچ سردار (۱) عاص بن وائل سہمی اور (۲) اسودبن مطلب اور (۳) اسود بن عبدِ یَغُوْث اور(۴)حارث بن قیس اور ان سب کا افسر(۵) ولید ابنِ مغیرہ مخزومی ۔ یہ لوگ نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو بہت ایذا دیتے اور آپ کے ساتھ تمسخُر و استہزاء(ہنسی مذاق ) کرتے تھے۔ اسود بن مطلب کے لئے سیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا کی تھی کہ یاربّ اس کو اندھا کر دے ۔ ایک روز سیِّدِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم مسجدحرام میں تشریف فرما تھے ، یہ پانچوں آئے اور انہوں نے حسبِ دستور طعن و تمسخُر کے کلمات کہے اور طواف میں مشغول ہوگئے۔اسی حال میں حضرت جبریْلِ امین حضرت (محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص کے کَفِ پا کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور
اسود بن عبد یغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں ان کا شردفع کروں گا چنانچہ تھوڑے عرصہ میں یہ ہلاک ہوگئے ۔ ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دوکان کے پاس سے گزرا اس کے تہہ بند میں ایک پیکان چبھا مگر اس نے تکبّر سے اس کو نکالنے کے لئے سر نیچا نہ کیا اس سے اس کی پنڈلی میں زخم آیا اور اسی میں مرگیا ۔ عاص ابنِ وائل کے پاؤں میں کانٹا لگا اور نظر نہ آیااس سے پاؤں ورم کرگیا اور یہ شخص بھی مرگیا ۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد ہوا کہ دیوار میں سر مارتا تھا اسی میں مرگیا اور یہ کہتا مرا کہ مجھے محمّد نے قتل کیا (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) اور اسود بن عبد یغوث کو استسقاء (پیٹ بڑھ جانے اور بہت زیادہ پیاس محسوس ہونے والا ایک مرض)ہوا اور کلبی کی روایت میں ہے کہ اس کو لُو لگی اور اس کا منہ اس قدر کالا ہوگیا کہ گھر والوں نے نہ پہچانا اور نکال دیا اسی حال میں یہ کہتا مرگیا کہ مجھ کو محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) کے ربّ نے قتل کیا اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ جاری ہوا ، اسی میں ہلاک ہوگیا ۔
گستاخانِ رسول تباہ وبرباد ہوتے رہے،شَمعِ عِشْقِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم جلتی رہی اور اسلام غالب آتا رہا،یوں اسلام کی شان وشوکت اور عظمت کا چرچا عرب کے باہر بھی ہونے لگا تھا عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مختلف قبائل کے سردار بھی گِروہ دَرگِروہ اسلام کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ مُنورہ میں حاضر ہورہے تھے مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ابھی تک اسلام کی حقانیت اور بالادستی کو قبول کرنے کے
لئے تیار نہ تھے انہی لوگوں میں عرب کا ایک بڑا رئیس عامر بن طفیل بھی تھا جس نے بیرِ معونہ کے مقام پر نبیِ کریم، رَ ؤوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے بھیجے ہوئے ستّر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کردیا تھا ۔ نَعُوْذُبِاللہ
اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کا غلبہ دیکھ کر عامر بن طفیل کی قوم نے اس سے کہا کہ عامر! لوگ جَوق در جَوق اسلام قبول کررہے ہیں اب تم بھی اسلام قبول کرلو۔عامر متکبرانہ لہجے میں بولا:وَاللہ میں نے تو خود یہ قسم کھا رکھی ہے کہ اس وقت تک سکون سے نہ بیٹھوں گا جب تک اہْلِ عرب میرے نقشِ قدم پرنہ چلنے لگیں تو پھر میں بھلا قریش کے اس جوان کی پیروی کیسے کرلوں؟بالآخر عامر اپنے چند ساتھیوں سمیت مدینے کے تاجدار، دوعالم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم پر دھوکے سے قاتلانہ وار کرنے کے ناپاک ارادے سے مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوا ۔اس نے اپنے ساتھی اَرْبَد سے کہا کہ میں انہیں اپنی طرف مشغول رکھوں گا اور تو موقع ملتے ہی تلوار کا وار کردینا۔ جب عامر سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو کہنے لگا :اے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) مجھ سے صلح کرلیجئے۔آپ نے فرمایا اُس وقت تک تجھ سے صلح نہیں ہوسکتی جب تک تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات پر ایمان نہ لے آئے جو واحد و یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔اِدھر اَرْبَد نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو مصروفِ گفتگو دیکھا تو اپنے
ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تلوار نکالناچاہی مگردستے پر ہاتھ رکھتے ہی اس کا بازو شَل ہوگیا،جب وہ کچھ نہ کرسکا اور عامر نے اس کی ناکامی محسوس کی توایک بار پھراپنی بات دہرائی کہ مجھ سے صلح کرلیجئے لیکن سیِّدِ عالَم، نورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا وہی جواب تھا کہ جب تک تو اللہ وَحْدَہ لَاشَرِیْک پر ایمان نہیں لائے گا تجھ سے صلح نہیں ہوسکتی۔ عامر نے کہا :اچھا اگر میں اسلام قبول کرلوں تو آپ مجھے کیا دیں گے ؟ فرمایا:تجھے وہی کچھ دوں گا جو دوسرے مسلمانوں کو ملتا ہے اور تجھ پر بھی وہی احکامات لاگو ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں پر لاگو ہوتے ہیں۔عامر بولا:اگر میں اسلام قبول کرلوں تو کیا آپ مجھے اپنے بعد حکمرانی عطا کریں گے؟ فرمایا:ہرگز نہیں!حکمرانی نہ تو تجھے مل سکتی ہے اور نہ ہی تیری قوم کو اس کے بعد رسولِ اکرم، شہنشاہِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ و سلَّم نے اسے ایک پیشکش کی مگر اس بدبخت نے مُسْتَرَدْ کردی اور کہنے لگا:ایسا کر لیجئے کہ مجھے گاؤں والوں کی حکمرانی دیجئے اور آپ خود شہر والوں پر حکمرانی کیجئے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے صاف انکار کردیا۔ یہ سن کر عامر بھڑک اٹھا اور (دھمکی آمیز لہجے میں )کہنے لگا:میں اللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس شہر کو گھوڑوں اور جنگجو جوانوں سے بھردوں گا۔اس کے جانے کے بعد حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا فرمائی :اے اللہعَزَّ وَجَلَّ مجھے عامر بن طفیل کے شر سےبچا۔اُدھر عامر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ واپس جارہاتھا کہ اچانک عذابِ الٰہی نے عامر کو اپنی گرفت میں لیا اور اس کے گلے میں طاعون کی گِلٹی نکل آئی
جو اونٹ کی گردن میں بھی نکل آئے تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔اسی پریشانی کے عالم میں وہ لوگ بنی سَلُول کی ایک عورت کے گھر میں ٹھہرگئے ۔عامر اس گلٹی سے بہت گھبرا رہا تھا ،بار بار اسے چھوتا اور کہتا:اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور سَلُولِیّہ کے گھر میں موت۔اسے میدانِ جنگ میں عزت کی موت نہ ملنے کا دُکھ تو تھا ہی لیکن اب وہ اس بات سے بھی خوفزدہ تھا کہ کہیں اسے سَلُولِیّہ کے گھر میں ہی موت نہ آجائے کیونکہ عامر کی قوم قبیلۂ بنی سلول کو اچھا نہیں سمجھتی تھی لہٰذا اس جگہ موت آنااس کے لئے انتہائی ذلت کا باعث تھا،وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا اس لئے جلدی سے گھوڑے پر سوار ہوا مگر موت نے اس گستاخ کو مزید مہلت نہ دی اور وہ اسی جگہ مرکرجہنم واصل ہوا۔
اب اس کے ساتھی اَرْبَد کی باری تھی وہ واپس اپنی قوم میں پہنچا توانہوں نے پوچھا:پیچھے کی کیا خبر ہے ؟چاہئے تو یہ تھا کہ اَرْبَد گزشتہ پیش آنے والے واقعات سے عبرت حاصل کرتا لیکن مَعَاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّوہ شانِ رسالت میں ہرزہ سرائی (بکواس ) کرتے ہوئے کہنے لگا:وہ ہمیں نجانے کس کی عبادت کی دعوت دے رہا تھا،جی تو چاہتا ہے کہ وہ اس وقت میرے سامنے ہو اور میں تیر مار کر اسے قتل کردوں۔ایک یا دو دن بعد اَرْبَد اپنا اونٹ لے کر کہیں جارہا تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آسمان سے ایسی بجلی نازل کی جس نے اَرْبَد اور اس کے اونٹ کو جلا کر بھَسَم کر دیا۔([12])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر چہ بیان کردہ تمام واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب جب کسی بد بخت نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو کسی بھی طرح ایذا پہنچائی یا ان کی شان میں بےادبی کی جرأت کی تو ایسے شخص کو مخلوق کے بجائے خود خالِقِ کائناتعَزَّ وَجَلَّ نے سزا دی مگر اس سے کو ئی یہ نہ سمجھے کہ گستاخِ رسول کو کوئی سزا نہیں دینی چاہئے بلکہ اس کا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے سپرد کردینا چاہئے۔غور کیجئے کہ جب تک کعبے کے پاسباں نہ تھے تب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ خود اس کی حفاظت فرما رہا تھا مگر پاسبانوں کی موجودگی میں اس کی حفاظت کا ذِمّہ انہی کو سونپ دیا یہی وجہ ہے کہ جب ابرہہ نے کعبے پر یلغار کی تو فوراً ابابیلوں کا لشکر نازل ہوگیا اور ابرہہ کی فوج اور ان کے قوی ہیکل ہاتھیوں کو زمین چاٹنے پر مجبور کردیا مگر جب یزیدیوں نے خانۂ کعبہ پر فوج کشی کرکے بیتُ اللہ کی حرمت کو پامال کیا تو کہیں سے کوئی ابابیل نہ آئی۔ناموسِ رسالت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ کبھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب کی عزت و ناموس کی حفاظت اپنے ذِمّۂ کرم پر لی اور گستاخانِ رسول کے مُتَعَلّق ارشاد فرمایا :
اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ(۹۵) (پ۱۴،النحل:۹۵)
ترجَمۂ کنز الایمان:ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں
اور کبھی یہ حفاظت اپنے بندوں کے سپرد کر کے انہیں گستاخانِ رسول کے مُتَعَلّق
حکم ارشاد فرمایا:
مَّلْعُوْنِیْنَۚۛ-اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا(۶۱) (پ۲۳،الاحزاب:۶۱)
ترجَمۂ کنز الایمان:پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر مارے جائیں۔
ہوسکتا ہے کہ شیطان کسی کے ذہن میں یہ وسوسہ بھی پیدا کرے کہ حُسنِ اَخْلاق کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم تو تکلیف پہنچانے والوں کو معاف فرمادیا کرتے تھےلہٰذا ہمیں بھی ان کا طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے سزا کے بجائے معافی کو ترجیح دینی چاہئے۔تو یاد رکھئے! اگرچہ سردارِ دوجہاں،شہنشاہِ کون و مکاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم انتہائی رحمدل ، مُشفِق اور مہربان تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے کبھی بھی ذاتی انتقام لینے کی غرض سے نہ کسی کو جان سے مارا اور نہ ہی کسی کو ہلکی سی بھی چوٹ پہنچائی، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمذاتی رنج پہنچانے والوں کو نہ صرف معاف فرمادیتے بلکہ انہیں دعاؤں سے بھی نوازتے لیکن اس کے باوجود آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے احکامِ الٰہیہ کے ساتھ کفر و تضحیک (مذاق)کبھی برداشت نہ کی۔چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے :مَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهٖ اِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلہِ بِهَا سیِّد عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہ لیتے مگر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احکام کی خلاف ورزی کی
جاتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر اس کاانتقام لیتے تھے۔([13])
ممکن ہے دینی معلومات نہ رکھنے والے یا اسلام دشمن عناصر اسے ظلم و بربریّت کا نام دیں اور اس کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کریں لہٰذا یہ بات ذہن نشین رکھنا نہایت ضروری ہے کہ جس شخص کےجرم کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہو، دوسرے لوگوں کو اس سے حوصلہ مِلتا ہو، دین کی بنیاد کمزور ہوتی ہو اور لوگوں کی عزت و آبرو اور جان و مال پامال ہوتے ہوں، شریعت کے مطابق ایسے شخص کو سزا دینا اور اس پر حد جاری کرنا ظلم و بربریّت نہیں بلکہ مخلوقِ خدا پر رحمت و شفقت اور انْسِدادِ ظلم و بربریّت (ظلم کی روک تھام)ہے۔ بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے جو سزائیں مقرر فرمائیں ان میں سراسر اَمْن اور رحمت ہے کیونکہ دیْنِ اسلام درحقیقت ایک ایسا پُرامن نظام ہے جس میں ہر انسان کی جان و مال اور عزت و ناموس کے تحفّظ کا خاص خیال رکھا گیا ہے لہٰذا اگر چندایک مجرموں پر سزا نافذ کرنے سے باقی سب لوگوں کی جان و مال کو تحفظ اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کو عبرت مل جائے تو اس سے بڑھ کر رحمت و شفقت اور کیا ہوگی۔ قرآنِ مجید،فُرقانِ حمید میں خدائے رحمٰن و رحیم عَزَّ وَجَلَّ نے جا بجا مختلف جرائم کی ایسی زبردست اور عبرتناک سزائیں بیان فرمائی ہیں جو نہ صرف اس کے بندوں کے تحفظ
بلکہ پورے معاشرے میں امن و سلامتی کی ضامن ہیں ۔چنانچہ جانی تحفظ کے لئے قصاص (خون کے بدلے خون )فرض کیا اور فرمایا کہ اس میں تمہاری زندگی ہے، مالی تحفظ کے لئے چورکے ہاتھ کاٹنے کا حکم ارشادفرمایانیزپاک دامن عورت پر تہمت لگانے اور زنا کرنے والوں کو کوڑے لگانے کا حکم ارشاد فرمایا اور دین کے معاملات میں ترس کھانے اور نرمی دکھانے کی ممانعت فرمائی آئیے اس ضمن میں 4فرامینِ خداوندی مُلاحظہ کیجئے۔
)1( لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۷۹) (پ۲، البقرة:۱۷۹)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو کہ تم کہیں بچو۔
)2(وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۳۸) (پ۶، المائدة:۳۸)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور جو مرد یا عورت چور ہوتو انکا ہاتھ کاٹو ان کے کئے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
)3(وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ(پ ۱۸،النور:۴)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی
شَهَادَةً اَبَدًاۚ-
گواہی کبھی نہ مانو۔
)4(اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-(پ۱۸، النور:۲)
ترجَمۂ کنز الایمان:جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر
یعنی شرعی سزائیں جاری کرنے میں کسی کی رعایت نہ کرو ۔ نہ کمزور پر ترس کھا کر اسے معاف کرو، نہ بڑے آدمی کی بڑائی سے مرعوب ہوکر اسے چھوڑ دو۔ معلوم ہوا کہ شرعی سزاؤں میں رعایت کرنی کفار کا طریقہ ہے ۔ نیز اس رعایت کرنے سے دنیا میں جرم بڑھیں گے اور ملکی انتظام میں فرق آئے گا۔([14])
انسانی حقوق کی آڑ میں اسلامی حدود پر اعتراض کرنے والے غور کریں کہ اسلام نے جرائم کی روک تھام اور حقوقِ انسانیّت کے تحفظ کے لئے کیسے اہم اقدامات کئے ہیں ۔ یقینا ًایک انسان کے لئے اس کی جان و مال اور عزّت سب سے اہم چیز ہوتی ہے اگر اسلام نے ان چیزوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے انتہائی سخت قوانین نافذ کئے تو اسی میں انسانیت کا تقدس ہے جبکہ ان حدود کو غیرانسانی قرار دے کر ان پر اعتراض
کرنا انسانیت کے دائرے سے نکل جانے والے مجرموں کی حمایت اور حقوقِ انسانیت کی کھلم کھلا تذلیل کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے کہ چور کو سزا اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے کسی کے مالی حقوق کو پامال کیا، زانی کو سزا اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے انسانی عزّت کی دھجیاں بکھیر دیں، شرابی کو کوڑے اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ اس نے اپنی ہی ذات کے تقدس کو نظر انداز کردیا، تہمت لگانے والے کو سزا اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے ایک پاک دامن انسان پر کیچڑ اُچھال کر اس کی معاشرتی عزّت کو مجروح کیا، اب ذرا سوچئے!کیا چور کو سزا نہ دینے میں جس کی چوری کی گئی اس کی حق تلفی نہیں ؟ اسی طرح زانی ، شرابی اور دوسرے مجرموں کو سزا نہ دینے میں کیا انسانیّت کی تذلیل نہیں ؟ یقیناً ان تمام لوگوں کو سزا نہ دینے میں انسانیّت کی تذلیل ہے اور اسلام میں اس تذلیل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں، اسلام ان مجرموں کو معاف کرکے انسانیّت پر ظلم کرنے کے بجائے انہیں سزا دے کر انسانیّت پر احسان کرنے آیا ہے۔ اسلام ہی انسانیت کا بہت بڑا محافظ ہےجبکہ اس کے برعکس اسلامی سزاؤں کو ظلم قرار دینے والے ہی درحقیقت انسانیّت کے بہت بڑے دشمن ہیں ورنہ انہیں اُس وقت انسانی تقدس کیوں نہیں نظر آتا جب خود کو مہذّب کہلانے والی قومیں اپنے نظریاتی مخالفوں اور جنگی قیدیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑتی ہیں۔ کیا سگریٹ سے جسموں کو داغنا، بجلی کے جھٹکے (Electric shocks) دینا اور بھوکے کتّوں سے زندہ انسان کی بوٹیاں نوچوانا انسانیّت پر ظلم نہیں؟کیا اُس وقت انسانیّت کا تقدس پامال نہیں ہوتا
جب ایسی سزائیں دی جاتی ہیں جنہیں لکھنے کی قلم میں سکت ہے نہ بیان کرنے کا زبان میں یارا، بلکہ انہیں سن کر ہی سر شرم سے جھک جاتا ہے۔جبکہ اسلامی حدود اور شرعی سزاؤں میں نہ انسانیّت کی تذلیل ہے نہ حقوقِ انسانیّت کی پامالی بلکہ اُس بغاوت ، جُرم اور سرکشی کی تذلیل ہے جس نے انسانیّت کو لائقِ احترام نہیں سمجھا لہٰذا شرعی سزائیں یقینی طور پر تحفظِ انسانیت کی ضامن ہیں اور انہی میں انسانیّت کا تقدس ہے۔
جب اسلام میں ایک عام آدمی کی جان و مال ، عزت و ناموس پر حملہ کرنے والے کے لئے سخت سزا مقرر کی گئی ہے تو پھر مُحسنِ انسانیّت،پیکرِ عظمت وشرافت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی ناموس پر حملہ کرنے والے کے لئے کسی قسم کی نرمی یا معافی کی گنجائش کیونکر روا رکھی جاسکتی ہے ؟انہی کی بدولت تو انسانیّت کو ذِلّت سے نجات ملی اور عزّت کا تاج نصیب ہوا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی گستاخی تو عام جُرم کے مقابلے میں جُرمِ عظیم ہے ۔قرآن وحدیث اور اہْلِ علم کے اجماع کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ گستاخِ رسول کی سزا قتل ہے۔
شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ گستاخِ رسول کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“میں لکھتے ہیں: نبی کی ادنیٰ سی گستاخی کرنے والا بھی کافر و مُرتَد ہے۔ ”شِفا ء شریف“ صَفْحَہ
215 پر ہے:عُلماء کا اِجماع ہے کہ حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافِر ہے اور اس پر عذابِ الٰہی کی وعید جاری ہے اور امّت کے نزدیک وہ واجبُ الْقَتل ہے اور جو اس کے کفر اورعذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافِر ہے۔([15])
خاتَمُ المحققین علّامہ سَیِّدمحمد امین ابنِ عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی تحریر فرماتے ہیں کہ علّامہ تقی الدین سبکی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنی کتاب”السَّیْفُ الْمَسْلُوْل عَلٰی مَنْ سَبَّ الرَّسُوْل“میں بیان کرتے ہیں:قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں تنقیص کرے اور سبّ و شتم (گالی گلوچ)سے کام لے وہ واجب القتل ہے۔
حضرت ابو بکربن المُنْذِر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ تمام اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص حضورِ اکرم ،نورِ مجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو سبّ و شتم کرے اس کا قتل واجب ہے۔
امام مالک بن انس،امام لیث، امام احمد بن حنبل اور امام اسحٰق رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اسی کے قائل ہیں اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کابھی یہی مذہب ہے۔
قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
عَنْہ اور ان کے اصحاب نیز امام ثوری ،اہْلِ کوفہ اور امام اوزاعی رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بھی اسی طرح کا قول منقول ہے۔
حضرت امام محمد بن سحنون رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ علما نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو سبّ و شتم کرنے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے کفر و عذاب پر اجماع کیا ہے اور ایسے شخص پر عذابِ الٰہی کی وعید ہے نیز جو شخص ایسے(بد بخت) کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔([16])
خود سرورِ دوعالم، نورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے دیگر تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ناموس کے تحفظ کے لئے فرمایا: مَنْ سَبَّ نَبِیّاً فَاقْتُلُوْهُیعنی جو شخص کسی بھی نبی کوگالی دے اسے قتل کردو۔([17])لہٰذا اس قسم کی شرعی سزاؤں کو فساد کا نام دینا کسی طرح بھی درست نہیں البتہ کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی گستاخی کو نظر انداز کر کے گستاخ کو معاف کر دینے سے فساد ضرور لازم آتا ہے کہ لوگ اس پر جری ہو جائیں گے شاید یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے منصبِ رسالت کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے دین اور پیغمبرِ دین کا مذاق اڑانے والے بے باک لوگوں کو معاف نہیں فرمایا بلکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بھیج کر معاشرے کے ان ناسُوروں کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا یا پھر صحابۂ کرام نے خود ہی غیرتِ ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے لوگوں کا قلع قمع کیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ان
بدبختوں کا خون رائیگاں قرار دیا آئیے اس ضمن میں تین واقعات مُلاحظہ کیجئے۔
حضرت سَیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ابورافع نامی ایک یہودی شخص رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو سخت ایذا پہنچاتا تھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ابو رافع حجاز میں واقع اپنے قلعہ میں موجودتھا کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے انصار کے کچھ جوانوں کو اس کے پاس بھیجا اور حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عتیک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کا امیر بنا دیا ۔ جب یہ حضرات سورج ڈوبنے کے بعد اس کے محل کے قریب پہنچے تو حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عتیک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم یہاں بیٹھو، میں جاتا ہوں اور دربان سے مل ملا کر کوئی ترکیب بناتا ہوں شاید میں اندر جانے میں کامیاب ہوجاؤں۔چنانچہ وہ آگے بڑھے اور دروازہ کے قریب پہنچ کر اپنے آپ کو کپڑے میں اس طرح چھپالیا جیسے قضائے حاجت کر رہے ہوں۔قلعہ والے اندر جا چکے تو دربان نے انہیں بھی آواز لگائی : اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو آجا کیونکہ میں دروازہ بند کررہا ہوں۔ حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عتیک فرماتے ہیں کہ میں اندر داخل ہوکر چھپ گیا۔ جب سب آ چکےتو دربان نے دروازہ بند کر کے چابیاں کھونٹی پر لٹکا دیں۔ میں چابیوں کی طرف لپکا اور انہیں لے کر ایک دروازہ کھولا، وہ اپنے مکان کے بالائی حصےمیں تھا اور اس کے پاس
کہانیاں سنائی جارہی تھیں جب کہانی سنانے والے جاچکے تو میں اوپر چڑھ گیا اور پھر جو بھی دروازہ کھولتا اسے اندر سے بند کر لیتا،میں نے (دل میں )کہا اگر ان لوگوں کو میری خبر ہوبھی جائے تب بھی وہ مجھ تک نہ پہنچ پائیں گے جب تک میں اسے قتل نہ کردوں۔جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ ایک اندھیرے مکان میں اپنے بیوی بچوں کے درمیان تھا مگر مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ آخر وہ خود کس جگہ پر ہے۔ میں نے ابورافع کہہ کر آواز دی، اس نے جواب دیا کون ہے؟ میں آواز کی طرف لپکا اور تلوار کی ایک ضرب لگائی، میں ڈر رہا تھاکیونکہ وار خالی گیا اور وہ چلّایا، میں وہاں سے نکل گیا اور تھوڑی دیر رُک کر دوبارہ اندر گیا اور کہا:ابورافع! یہ کیسی آواز تھی؟ اس نے کہا کہ تیری ماں کی خرابی ہو، گھر میں کوئی شخص موجود ہے جس نے تھوڑی دیر پہلے مجھ پر تلوار چلائی تھی۔یہ سنتے ہی میں نے ایک اور وار کیا جس نے اسے نیم جان کردیا لیکن وہ مرا نہیں تھا ،میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں گھونپ کر پیٹھ تک پہنچا دی۔ جب مجھے اس کے قتل کا یقین ہوچلا تو میں ایک ایک دروازہ کھولتا گیا اور سیڑھیوں تک پہنچ گیا میں نے یہ سمجھ کر قدم بڑھایا کہ میں زمین تک پہنچ چکا ہوں بس چاندنی رات میں نیچے گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی، میں اسے عمامہ سے باندھ کر وہاں سے نکل گیا، دروازے تک پہنچا تو یہ سوچ کر وہیں بیٹھ گیا کہ آج رات یہاں سے نکلوں گا نہیں جب تک یقین نہ ہوجائے کہ میں اسے مار چکا ہوں ۔ جب مرغ نے اذان دی تو موت کی خبر دینے والے نے فصیل (قلعہ کی دیوار)پرچڑھ
کر آواز لگائی کہ میں اہل حجاز کے سوداگر ابو رافع کی موت کی خبر سناتا ہوں۔جب یہ اعلان سُنا تو میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس جاکر کہا کہ نجات مل گئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ابو رافع کو قتل کر دیا ہے۔جب میں نے رسولُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس آ کر سارا ماجرا بیان کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے اس پر دَسْتِ مُبارک پھیر دیا جس کی برکت سے وہ پاؤں ایسا ٹھیک ہو ا جیسے اس میں سِرے سے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔([18])
حضرت سَیِّدُنا علی المُرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ : ایک یہودی عورت رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک عاشِقِ رسول نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو رسولُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے خون کو رائیگاں (ضائع)قرار دے دیا۔([19])
حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کی اُمِّ وَلَد لونڈی رسولِ اکرم،نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو مَعَاذَ اللہ
عَزَّ وَجَلَّ گالیاں دیا کرتی اور بُرا بھلا کہا کرتی تھی وہ نابینا اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی ،ایک رات جب اس عورت نے رسولُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گالیاں دینا شروع کیں تو اس نابینا نے بھالا (دھاری دار آلہ )لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اتنی زور سے دبایا کہ وہ ہلاک ہوگئی ۔ صبح رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا : جس شخص نے ايسا کیا ہے میں اسے قسم دیتا ہوں میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ رسولُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی یہ بات سن کر وہ نابینا آدمی کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا ڈگمگاتے قدموں سے آگے بڑھا حتی کہ نبی اکرم،نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے جاکر بیٹھ گیا اور عرض گزار ہوا: یارسولَ الله! میں اس لونڈی کا مالک تھا وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گالیاں دیتی اور بُرا بھلا کہا کرتی تھی میں اسے منع کیا کرتا مگر وہ نہ مانتی ،میں اسے ڈانٹتا مگر وہ باز نہ آتی، اس کے بطن سے میرے موتیوں کی مانند دوبیٹے بھی ہیں اور وہ مجھ پر بہت مہربان تھی۔مگر گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اتنی زور سے دبایا کہ اسے قتل کردیا۔ پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :تم سب گواہ ہو جاؤ کہ اس کا خون رائیگاں (ضائع) ہوگیا۔([20])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یاد رکھئے!کہ شریعت کی مقرر کردہ سزاؤں کو نافذ کرنے کا اختیار ہر کس و ناکس کو نہیں کیونکہ شرعی حدود اور سزاؤں کا مقصدِ عظیم لوگوں کو احکامات الٰہیہ کا پابند کرنا،جرائم کی روک تھام کرنا اور نظامِ عدل و انصاف کو منظّم سے منظّم تر بنانا ہے۔ اگر سزا دینے کا اختیار عوام کو دے دیا جائے تو جرائم ختم ہونے کے بجائے اور بڑھ جائیں گے ،آپس میں ذاتی دشمنیاں پیدا ہوجائیں گی اور یوں معاملات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جائیں گے لہٰذا دیگر شرعی سزاؤں کی طرح گستاخِ رسول کو سزا دینے کا اختیار بھی قاضِیِ اسلام ہی کو ہے ۔لہٰذا کوئی شخص چاہےنمازی ہو ،تہجد گزار ہو،یا کیسا ہی پرہیزگار ہو اگر اس نے واقعی سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی گستاخی کی تو اب وہ مرتد ہوگیا، اسلام سے خارج ہوگیا اور واجبُ القتل ہوگیا۔قاضی کو چاہئے کہ اس کو قتل کردےاَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے ملک پاکستان میں بھی گستاخِ رسول کے لئے (مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ– C 295 کے تحت) یہی شرعی قانون ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے لہٰذا اگر کوئی گستاخِ رسول پکڑا جائے تو ہم سب کی ذمّہ داری بنتی ہے کہ ہم اس کو قانون کے حوالے کریں ، اور قانون کو چاہئے کہ اس گستاخِ رسول کو کیفرِ کردار تک پہنچائے،البتہ اگر کوئی شخص مَحَبّتِ رسول میں ڈوب کر اور عِشْقِ رسول سے مغلوب ہوکر قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور کسی گستاخِ رسول کو کیفرِ کردار تک پہنچادیتا ہے تو اس کے لئے شریعتِ اسلامیہ میں اس
طرح کی سزائیں نہیں جو عام آدمی کے قاتل کے لئے ہوتی ہیں کیونکہ اس نے مسلمان کو نہیں گستاخِ رسول کو مارا ہے، البتہ اُسے چاہئے تھا کہ اپنے ہاتھ میں قانون نہ لیتا بلکہ قانون نافذ کرنے والوں کے ذریعے اس کو سزا دلوائی جاتی کیونکہ اپنے ہاتھ میں قانون لینے سے بارہا مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں جسے ہر ذی شعور سمجھ سکتا ہے۔
اِس موقع پر ایک عاشِقِ رسول کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا لازمی بات ہے کہ قانون ہاتھ میں نہ لیں تو کیا کریں،اُس نے ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی گستاخی کرکے ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے۔اِس کے بارے میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز کتاب ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘کے صفحہ 199پر بیان کردہ ایک سوال اور اس کا جواب ہماری شرعی رہنمائی کے لئے کافی ہے آئیے مُلاحظہ کیجئے۔
سُوال:گستاخِ رسول کے ساتھ مسلمانوں کو کیا سُلوک کرنا چاہئے؟
جواب: اِس ضِمْن میں میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمت میں کئے گئے سوال جواب کا خُلاصہ عرض کرتا ہوں:۔ سُوال: ایک مُقرِّر نے جلسے میں کہا : حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے خیال فرمایا کہ میرے دانت ایسے روشن ہیں کہ آج تک کسی کے ایسے نہ ہوئے۔ (مَعَاذَ
اللہ)اِس تکبُّرکی بِنا پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکا دندانِ اقدس جنگِ اُحُد میں شہید ہوگیا تھا۔ الجواب: اُس نے حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں مَعَاذَ اللہ تکبُّر کا لفظ کہا، یہ صریح کفر ہے۔ اُس کا ایمان جاتا رہا، اُس کی عورت اُس کے نِکاح سے نکل گئی۔ اُس نے جیسے مجمع میں یہ جُملہ کہا اِسی قسم کے مَجمع میں توبہ کرے اور اِسلام لائے ۔ا گر نئے سرے سے اسلام نہ لائے تو مسلمانوں کو اُس سے سلام و کلام حرام ، اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کی شادی غمی میں شریک ہونا حرام، بیمار پڑے ، تو اُسے پوچھنے جانا حرام ، مر جائے تو اُس کے جنازے پر جانا حرام، اُسے غسل و کفن دینا حرام، اس کے جنازے کی نَمازحرام، اسے مسلمانوں کے قبرِستان میں دَفن کرنا حرام ، اُسے مرنے کے بعد کوئی ثواب پہنچانا حرام ، بلکہ اس کے کُفر پرمُطَّلع ہو کر جو اسے مسلمان سمجھتا رہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا مُعامَلہ کرے، بلکہ اُس کے کفر میں شک بھی کرے تو وہ خو د بھی کافر ہو جائے گا۔اورجن لوگوں نے اس جُملے کوسن کر پسند کیا، تو وہ سب پسند کرنے والے بھی اس کی مِثل کافِر ہو گئے اور ان کی عورَتیں بھی ان کے نِکاح سے نکل گئیں۔([21])
اس کے بعد شیخِ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید فرماتے ہیں :یاد رکھئے! گستاخوں کے ساتھ اس قسم کا رَوِیّہ (رَوِی۔یہ)اختیار کرنے کا حکم،سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی تعلیمات سے حاصِل ہوتا ہے۔
جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ہے:میرے صحابہ کو گالی مت دو، کیونکہ آخِر زمانے میں ایک قوم آئے گی ، جو میرے صَحابہ کو گالی دے گی ، پس اگر وہ (گالیاں دینے والے)بیمار ہو جائیں تو ان کی عِیادت نہ کرنا ، اگر مر جائیں تو ان کی نَمازِ جنازہ نہ پڑھنا ، ان سے ایک دوسرے کا نِکاح نہ کرنا، نہ انہیں وِراثت میں سے حصّہ دینا، نہ انہیں سلام کرنا اور نہ ہی ان کے لئے رَحمت کی دُعا کرنا۔([22])جب صَحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمْ اَجْمَعِیْن کو گالی دینے والے کے بارے میں یہ حکم فرمایا گیا توشاہِ خیرالانام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہِ عالی میں گستاخی کرنے والے کا معاملہ کس قَدَراَشَد ہوگا ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! گستاخی کا یہ بدترین فعل جو آج سے سینکڑوں برس پہلے کفار نے اپنایا آج ایک بار پھر نئے انداز اور نئے طریقوں سے شروع ہوچکا ہے ۔اُس وقت بھی کفار جب مسلمانوں کے دلوں سے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم اور دینِ اسلام کی محبت مٹانے میں ناکام ہوگئے تو گالی گلوچ اور گستاخیوں جیسی گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے اور اِس دور میں بھی مغربی ممالک کے اندر اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر دشمنانِ اسلام اور گستاخانِ رسول ایک بار پھر متحرک ہوگئے ہیں کبھی قرآن کی بے حرمتی کرتے ہیں تو کبھی محبوبِ رحمن، سرورِ ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی ذاتِ عالیہ کے توہین آمیز خاکے بناکر دنیا کے
ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری کرتے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ۔ یقیناًجب رحمتِ کونین، رسولِ ثقلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کی جائے گی تو ایک مسلمان اپنے جذبات پر کیسے قابو رکھ سکے گا…؟کیا اس کا دل خون کے آنسو نہ روئے گا…؟کیا اس کی زبان پر اس گھٹیا حرکت کی مذمت جاری نہ ہوگی…؟ ظاہر ہے ہو گی اور ضرور ہوگی بلکہ ہر مسلمان کا دل اور زبان چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتے ہونگے :
بتلادو گستاخِ نبی کو غیرتِ مسلم زندہ ہے
دین پہ مرمٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
یاد رکھئے!ایک مسلمان کے دل میں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی محبت ہمہ وقت موجزن رہتی ہے اور رہنی بھی چاہئے کیونکہ یہی تواس کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ اور اس کے ایمانِ کامل کا ذریعہ ہے ۔ جیساکہ حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں۔([23]) یہی وجہ ہے کہ جب جب گستاخانِ رسول کی طرف سے ناموسِ رسالت پر کوئی آنچ آئی تو اُس کے نتیجے میں بالعموم دنیا بھر کے اور بالخصوص پاکستان کے عاشقانِ رسول مُسلمان اپنے اپنے انداز سے اس گستاخانہ حرکت کا سدِّباب کرنے اور اس سے پہنچنے
والی تکلیف اور درد کا اظہار کرنے کے لئے سراپا احتجاج بن گئے گویا زبانِ حال سے یہ اعلان کرنے لگے:
ہم نے ہر دور میں تقدیْسِ رسالت کیلئے وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسمِ سیاست کا فسوں صرف اک نامِ محمد سے محبت کی ہے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محبتِ رسول کا تقاضا ہے کہ اُن گستاخوں سے شدید نفرت کے علاوہ اُن کا بائیکاٹ بھی کیا جائے اور یقیناً دنیا بھر کے مسلمان مختلف طریقوں سے دشمنانِ اسلام کا بائیکاٹ کرتے بھی ہیں لیکن سنجیدگی سے غور کریں کہ کیا یہ بات سب سے بہتر نہیں کہ گستاخانِ رسول کا بائیکاٹ عملی طور پر کیا جائے اور وہ بھی اس طرح کہ اوّل تو ہم گستاخوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو اعلیٰ حضرت کے بیان کردہ جواب سے مُسْتَفَاد ہے کہ نہ ان سے سلام و کلام کریں، نہ ان کے پاس بیٹھیں ، اور نہ ہی ان کی شادی غمی میں شریک ہوں بلکہ بیماری کی حالت میں عیادت بھی نہ کریں حتی کہ مر جائے تو نہ اُسے غسل دیں اور نہ ہی اُس کے جنازے میں شریک ہوں غرض ان بدبختوں کے ساتھ مُسلمانوں کا سا کوئی بھی معاملہ نہ کریں دوم یہ کہ ہم اپنے آپ کو نماز،روزے،اور اُن تمام چیزوں کا پابند بنائیں جن کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے۔نماز کے بارے میں تو رحمتِ عالَم، نورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مبارک ہے:جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ ([24])میری آنکھوں کی
ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔بھلا وہ کون سا عاشق ہوگا جو اپنے محبوب کی آنکھوں کو راحت اور ٹھنڈک نہ پہنچانا چاہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ نماز کی پابندی کریں نیز اپنی زندگی میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کے سانچے میں ڈھال کر کفّار کا حقیقی اور عملی بائیکاٹ کریں،انہوں نے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی شان میں گستاخی کی تو ہم ان کے طرزِ زندگی کا بائیکاٹ کریں ، انہوں نے ہمارےجذبات مجروح کئے تو ہم داڑھی ،عمامہ اور سنّت کے مطابق لباس اپنا کر ان کے چہروں اور ملبوسات کا بائیکاٹ کریں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی یہ بڑی افسوس ناک بات ہے کہ ہم زبان سے تو حُرمتِ رسول پر مرمٹنے کے دعوے کرتے ہیں لیکن ہمارا چہرہ اور لباس پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے دشمنوں جیسا ہے۔یہ کیسی محبت ہے ؟یہ کیسا عشق ہے؟عشق ومحبت کے وہ جذبات جو ہم اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں آخر انہیں عملی جامہ کیوں نہیں پہناتے ؟محبّتِ رسول ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اُن گستاخانِ رسول اور دُشمنانِ اسلام کے چہروں کی مخالفت کریں بلکہ خود تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے واضح طور پر ارشاد فرما دیا: خَالِفُوْا الْمُشْرِکِیْنَ وَفِّرُوْا اللِّحَی وَاَحْفُوْ الشَّوَارِبَیعنی مشرکوں کی مخالفت کرو داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں خوب پست کرو۔([25])ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:اَحْفُوْالشَّوَارِبَ وَاَعْفُوْ
اللِّحَی وَلَا تَشَبَّھُوْا بِالْیَھُوْدِ یعنی مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیوں کو معافی دو، یہودیوں جیسی صورت نہ بناؤ۔([26])اگر ہم ان فرامینِ مصطفےٰ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے غور کریں اور ان کی کسوٹی پر اپنے عشق کا موازنہ کریں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور ہمارے عشق کا معیار بالکل آشکار ہوجائے گا کہ پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم تو ہمیں مشرکوں کی مخالفت کرنےکا حکم دیں اور یہودیوں جیسی صورت بنانے سے منع فرمائیں اور ہم ہیں کہ اُن کی پیاری پیاری سنّت داڑھی شریف کو مونڈ کر نالیوں میں بہائیں اور اس فعْلِ قبیح پر ذرا بھی نہ شرمائیں پھر اس کے باوجود اُن سے عشق و محبت کے نعرے بھی لگائیں ،کیا واقعی عشق اسی کا نام ہے…؟شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی اسی کُڑھن کا اظہار کرتے ہوئے دل پر چوٹ کرنے کے لئے ارشاد فرماتے ہیں:
سنّت کی طرف لوگو تم کیوں نہیں آجاتے کیوں سرْد گناہوں کا بازار نہیں ہوتا
سرکار کا عاشق بھی کیا داڑھی منڈاتا ہے کیوں عشق کا چہرے سے اظہار نہیں ہوتا
(وسائل بخشش، ص۲۳۴)
اس وقت اُمّتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ گستاخانِ رسول کی تہذیب (Culture)ہے جو اپنے ساتھ انتہائی مہلک اثرات لئے اس قوم پر نہایت تیزی کے ساتھ چھارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج عشق و محبت
کےدعوے کرنے والوں کا طرزِ زندگی اسلام کے دشمنوں جیسا نظر آتا ہے۔رہن سہن، کھانے پینے کا انداز،شادی بیاہ کی تقریبات اور دیگر طرح طرح کے رسم و رواج انہی لوگوں جیسے ہیں۔الغرض آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں اُنہی کی تہذیب پروان چڑھ رہی ہے۔اس نئی تہذیب کا ظاہر کتنا ہی بھلا ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے جس قدر اخلاقی تباہی اور معاشرتی بگاڑ پیدا کیا ہے وہ اس تہذیب کے سیاہ اور مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
یاد رکھیں کہ جو کسی قوم کی نقّالی کرے گا وہ انہیں میں سے شمار ہوگا ۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ مبارک ہے :مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ یعنی جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا۔([27]) اس حدیثِ مبارکہ میں انگریزی فیشن کے متوالوں کے لئے درسِ عبرت ہے،جنہیں اُن گستاخانِ رسول کے فیشن تو یاد آتے ہیں لیکن اُن کی گستاخیاں یاد نہیں آتیں ۔ اُن کے تہوار منانے تو یاد آتے ہیں لیکن اُن کی اسلام سے نفرت یاد نہیں آتی۔اگر واقعی ہم محبتِ رسول کا دعویٰ کرنے میں سچے ہیں تو پھر آیئے میدانِ عمل میں اُتر کر گستاخوں کی تہذیب کا بائیکاٹ کیجئے اور یہ عزمِ مُصمّم کرلیجئے کہ ہم کھانے پینے،اُٹھنے بیٹھنے،چلنے پھرنے،سونے جاگنے اور اوڑھنے پہننے میں نیز خوشی و غمی کی تمام
تقریبات بلکہ زندگی کے ہرہر شعبے میں صرف اور صرف وہی طور طریقے اختیار کریں گے جو ہمارے محبوب آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں سے ثابت ہیں نیز جو تہذیب ہمیں ان سے دور کرے ہم اسے ٹھوکر مارتے ہیں اور جو چیز نبیِ اکرم،نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو پسند نہیں ہم اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے ہیں ۔آیئے گستاخانِ رسول کو منہ توڑ عملی جواب دینے کے لئے سنت کے مطابق سفید لباس ،زلفیں ،مسواک ،عمامہ شریف کا تاج اور دیگر سنتیں اپنا لیجئے تاکہ رسولِ اکرم،شہنشاہِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمسے ہماری بے پناہ محبت دیکھ کر کبھی بھی کو ئی بدبخت گستاخی کی جسارت نہ کر سکے۔
یاد رکھئے!عمامہ شریف میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی سنّتِ مبارکہ ہے اور عاشقانِ رسول کے نزدیک اتباعِ سنّت سے بڑھ کر بھلا کیا چیز عزیز ہوسکتی ہے؟محبوب کی سنتوں پر دل وجان سے عمل کرنا بھی تو محبت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اور پھر کس قدر خوشی کی بات ہے کہ رحمتِ عالَم،نورِ مُجَسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے سنت سے محبت رکھنے والوں کے لئے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ([28])لہٰذا اگر گستاخانِ رسول کا عملی بائیکاٹ
کرنا ہے تو سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی پیاری پیاری سنّت عمامہ شریف کو اپنا لیجئے یہ نہ صرف آپ کے عشق ومحبت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اس کے بے شمار فضائل بھی ہیں۔آئیے ترغیب کے لئے عمامہ شریف کے 8فضائل ملاحظہ کیجئے۔
1. تاجدارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے عمامہ کی طرف ا شارہ کرکے فرمایا: فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں۔([29])
2. عمامہ شریف مسلمانوں کا وقاراور عرب کی عزت ہے تو جب عرب عمامہ اتار دینگے اپنی عزت اتار دينگے۔([30])
3. عمامہ باندھو تمہاری بُرْدْباری (قوتِ برداشت) میں اضافہ ہوگا اور عمامے عرب کے تاج ہیں۔([31])
4. ٹوپی پر عمامہ ہمارا اور مشرکین کا فرق ہے ہر پیچ کہ مسلمان اپنے سر پر دے گا اس پر روزِ قیامت ایک نور عطا کیا جائے گا۔([32])
5. عمامہ کے ساتھ دو رکعتیں بغیر عمامہ کی ستر(۷۰)رکعتوں سے افضل ہیں۔([33])
6. عمامہ کے ساتھ باجماعت نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے ۔([34])
7. بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اسکے فرشتے دُرود بھیجتے ہیں جمعہ کے دن عمامہ والوں پر۔([35])
8. عمامہ کیساتھ ایک جمعہ بغیر عمامہ کے ستر(۷۰) جُمعُوں کے برابر ہے ۔([36])
اپنے آپ کو سنتوں کا پیکربنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کوعشْقِ رسول کادرس دیں، اس کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ مدنی پھولوں پر عمل کرکے اپنے گھر میں مدنی ماحول قائم کریں تاکہ ہماری اولاد کی پرورش سنّتوں بھرے ماحول میں ہو ۔کیونکہ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ایک طرف تو ہم حُرمتِ رسول پہ کٹ مرنے کے دعوے کرتے ہیں اور گستاخانِ رسول کی گستاخیوں پر ہمارا خون کھولتا ہے لیکن دوسری طرف ہمارے بچے انہیں گستاخوں کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں بلکہ جن گانوں میں اللہعَزَّ وَجَلَّ کی شان میں گستاخی کی جاتی اور کفریہ کلمات بَکے جاتے ہیں ہماری اولاد انہی گانوں پر ناچتی اور ڈانس کرتی نظر آتی ہے۔نجانے اُس وقت ہماری غیرتِ ایمانی کہاں چلی جاتی ہے جب ہماری اولاد سُنّتوں بھرا مدنی لباس چھوڑ کر دشمنانِ اسلام کا لباس پہنتی ہے ، آخر اُس وقت ہمیں اُن کی گستاخیاں کیوں
نہیں یاد آتیں ؟یاد رکھئے ! ہمارا یہ طرزِ عمل نئی نسل پر نہایت بری طرح اثر انداز ہورہا ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ لاشعوری طور پر ہم ایک ایسی نسل تیار کررہے ہیں جو برائے نام مسلمان ہوگی جن کے دلوں میں عشقِ رسول کا وہ جذبہ مفقود ہوگا جو آج ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں بدقسمتی سے اس کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ غور کیجئے کہ دشمن کیسی چالیں چل رہا ہے لیکن ہم ہیں کہ غفلت کی نیند سورہے ہیں ۔اب ہمیں بیدار ہونا پڑے گا اور اُن گستاخانِ رسول کو ایسا جواب دینا ہوگا کہ وہ ہمیشہ یاد رکھیں۔ایک دودن کے لئے نہیں بلکہ زندگی بھر کیلئے اسلام کے دشمنوں کو لاجواب کر دیجئے۔آیئے اس بات کا عہد کریں کہ اب ہم اپنے گھر کو گستاخانِ رسول کی تہذیب کا گہوارہ نہیں بننے دیں گے… نماز،روزہ ،حج، زکوۃ اور دیگر شرعی احکامات کی پاسداری کریں گے… ہم اپنے گھرمیں سنتوں بھرا مدنی ماحول قائم کریں گے…ہمارے گھر سے فلموں ڈراموں کے بجائے حمد ونعت اور منقبت کی آوازیں آئیں گی … ہم اپنی اولاد کو مَحَبّتِ رسول کا ایسا درس دیں گےجسے مرتے دم تک نہ بھلایا جاسکے …اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! گذشتہ اَدْوَار میں مسلمانوں کی عملی پختگی، احکامِ اسلام کی بجاآوری اور جذبۂ عشْقِ رسول کی پاسداری کے سبب کفّار توہیْنِ رسالت کے ارتکاب سے ڈرتے تھے وہ جانتے تھے کہ مسلمان جاگ رہے ہیں اس لئے ایسی حرکتیں کم ہی
کرتے تھے لیکن اب تو باقاعدہ گستاخیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور کفار جفاکار اس قسم کی حرکتوں پر جری ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عملی طور پرنہایت ہی کمزور ہوچکے ہیں۔ہماری اسی بے عملی اور بے حسی کو دیکھ کر کفار بے باک ہوگئے کہ جس مسلمان کو اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے اتنی محبت نہ رہی کہ وہ ان کی سُنَّتوں کو اپنائے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ اسے کسی غیر مسلم کے ساتھ کھڑا کردو تو دونوں میں کوئی فرق نظر نہ آئے ایسے بے حِس مسلمان پر اس کے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی گستاخی کا کیا اثر ہوگا؟ یہ تو غفلت کی چادر تانے سورہا ہے تھوڑی دیر کے لئے جاگے گا اور پھر سوجائے گا۔صرف اس کی زبان محبتِ رسول کے نعرے لگاتی ہے بقیہ پورا وجود گستاخِ رسول سے مَحَبّت کے نعرے لگا رہا ہے۔ واقعی اس وقت اُمّتِ مُسلمہ کی اکثریّت غفلت کی نیند سورہی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر دشمنانِ اسلام سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں ہرزَہ سرائی (بکواس)کرتے ہیں ایسے حالات میں اُمتِ مسلمہ کا اس غفلت کی نیند سے بیدار ہونا ناگُزیر ہے۔اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسُنّت،مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بَلا کے ہیں
تیری گٹھڑی تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
سونا پاس ہے سُونا بَن (37) ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے
)حدائقِ بخشش،ص۱۸۵(
آئیے! زندگی بھر کیلئے عشْقِ رسول کا مجسّم پیکر بننے، گستاخِ رسول کا زبردست عملی بائیکاٹ کرنے اور امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ مدنی مقصد ”مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے“کے تحت دنیا بھر کے لوگوں کو محبتِ رسول کا درس دینے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر کیجئے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں کی برکت سے ہزارہا غیرمسلم کلمہ طیّبہ پڑھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئےاور رسولِ اکرم، شہنشاہِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے سچے غلام بن گئے ۔آئیے اس ضمن میں ایک نوجوان کے اسلام قبول کرنے کی مدنی بہار ملاحظہ کیجئے۔
دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول کا ایک مدنی قافلہ نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے ۱۵ رَمَضَانُ الْمُبَارَک ۱۴۲۸ ھ بمطابق 27 ستمبر 2007ء باب المدینہ (کراچی) سے ہند (بھارت) روانہ ہوا۔ مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول ہند کے مختلف شہروں (جے پور، دہلی، بمبئی اور حیدرآباد دکن وغیرہ) میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کے بعد واپس مرکز الاولیاء (لاہور، پاکستان) کی جانب محوِسفر تھے کہ اٹاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]…سُنسان
جنگل
بارڈر پر مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول کی ملاقات ایک تعلیم یافتہ غیرمسلم نوجوان سے ہو گئی۔ مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول نے جب اسے اپنی جانب متوجہ پایا تو پُرتپاک انداز میں ملاقات کی اور اَحسن انداز میں اسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے اسلامی زندگی کے روشن پہلوؤں سے روشناس کروایا۔ اس غیر مسلم نوجوان کی گفتگو سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ اسلامی تعلیمات سے متأثر ہے۔ اس نوجوان کی لگن اور میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّتوں کو غور سے سننے کے انداز نے مدنی قافلے والوں کو طویل گفتگو پر مجبور کر دیا۔انفرادی کوشش کا یہ سلسلہ کم و بیش تین گھنٹے تک جاری رہا، جس نے اس نوجوان پر اسلام کی حقانیت آفتابِ نیم روز (دوپہر کے سورج) کی طرح ظاہر کر دی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ عاشقانِ رسول کی انفرادی کوشش رنگ لائی اور وہ نوجوان مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول کے کردار اور میٹھی گفتار سے متأثر ہو کر اسلام کی حقانیت کا قائل اور قبولِ اسلام کی طرف مائل ہو گیا۔ اسلامی بھائیوں نے اُسے ہاتھوں ہاتھ کلمہ طیبہ: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھا کر حلقہ بگوشِ اسلام کر لیا۔ اس نومسلم کا اسلامی نام ’’احمد رضا‘‘ رکھا گیا۔ شرکائے مدنی قافلہ نے اس نومسلم اسلامی بھائی کو قبولِ اسلام پر مبارک باد دی اور بطورِ تحفہ کتب و رسائل دے کر دعائے اِستقامت سے نوازا۔
اللہعَزَّ وَجَلَّہمیں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی محبت اور حُرمتِ رسول کے دفاع کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
|
٭…٭…٭ |
قرآن پاک |
کلام باری تعالیٰ |
*** |
|
نمبر شمار |
کتاب |
مصنف /مؤلف/متوفی |
مطبوعہ |
|
1 |
ترجمہ کنزالایمان |
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان متوفی۱۳۴۰ھ |
مکتبۃ المدینہ،کراچی۱۴۳۲ھ |
|
2 |
تفسیر ابن کثیر |
عماد الدین اسماعیل بن عمر ابن کثیر دمشقی متوفی ۷۷۴ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
3 |
خزائن العرفان |
صدالافاضل سیِّد نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ھ |
مکتبۃ المدینہ،کراچی |
|
4 |
نور العرفان |
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی۱۳۹۱ھ |
پیر بھائی کمپنی کراچی |
|
5 |
صحیح البخاری |
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی۲۵۶ھ |
دارالکتب العلمیہ۱۴۱۹ھ |
|
6 |
سنن ابی داود |
امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی متوفی ۲۷۵ھ |
دار احیاء التراث العربی، بیروت |
|
7 |
المسند |
امام ابو عبداللّٰه احمد بن محمد بن حنبل متوفی۲۴۱ھ |
دارالفکر، بیروت۱۴۱۴ھ |
|
8 |
شرح معانی الآثار |
امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی متوفی ۳۲۱ ھ |
دار الکتب العلمیہ،بیروت ۱۴۲۲ھ |
|
9 |
المعجم الاوسط |
امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ۳۶۰ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
10 |
شعب الإیمان |
امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی متوفی ۴۵۸ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
11 |
تاریخ بغداد |
حافظ ابوبکر علی بن احمد خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ |
دار الکتب العلمیہ بیروت |
|
12 |
فردوس الاخبار |
حافظ ابو شجاع شیرویہ بن شہرداربن شیرویہ دیلمی متوفیٰ۵۰۹ھ |
دار الفکر،بیروت ۱۴۱۸ھ |
|
13 |
مشکاة المصابیح |
علامہ ولی الدین تبریزی متوفی ۷۴۲ھ |
دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ |
|
14 |
کنز العمال |
علی متقی بن حسام الدین ہندی برہان پوری متوفی ۹۷۵ھ |
دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۹ھ |
|
15 |
السیرة النبویة لابن هشام |
ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ۲۱۳ھ |
دار الکتب العلمیۃ بیروت۱۴۲۲ھ |
|
16 |
دلائل النبوة |
امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی متوفی ۴۵۸ ھ |
دار الکتب العلمیہ، بیروت |
|
17 |
دلائل النبوة |
حافظ ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی متوفی ۴۳۰ھ |
المکتبۃ العصریہ بیروت |
|
18 |
الطبقات الکبریٰ |
محمد بن سعد بن منیع ھاشمی متوفی۲۳۰ھ |
دار الکتب العلمیہ،بیروت |
|
19 |
شرح الزرقانی علی المواھب |
محمدزرقانی بن عبدالباقی بن یوسف متوفی۱۱۲۲ھ |
دار الکتب العلمیہ، بیروت |
|
20 |
رسائل ابن عابدین |
علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفیٰ ۱۲۵۲ ھ |
سھیل اکیڈمی لاہور ۱۴۱۱ھ |
|
21 |
فتاوی رضویہ |
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان متوفی ۱۳۴۰ھ |
رضا فاؤ نڈیشن لاہور |
|
22 |
حدائقِ بخشش |
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان متوفی ۱۳۴۰ھ |
مکتبۃ المدینہ، کراچی |
|
23 |
کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب |
امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی |
|
[1]…مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شورٰی حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان ۷ جمادی الثانی۱۴۳۱ ہجری بمطابق 20 مئی 2010 عیسوی بروز جمعرات عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا۔ ۱۴۲۸ ہجری بمطابق 2007 عیسوی کو بنگلہ دیش مورو میں کیا گیا ایک اور بیان گستاخوں کا انجام اسی میں ضمّ کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد۶ذوالحجۃ الحرام ۱۴۳۵ ہجری بمطابق 2 اکتوبر2014 عیسوی کو تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔ (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیۃ)
[2]… مسند امام احمد ، حدیث عا مر بن ربیعة، ۵/۳۲۴ ،حدیث:۱۵۶۸۰
[3]… بخاری ، کتاب التفسیر، باب ولا تخزنی یوم یبعثون، ۳/۲۹۴، حدیث:۴۷۷۰
[4]… تفسیر ابن کثیر، پ۳۰، اللھب ، تحت الآیة ۱، ۸/۴۸۵
[5]… مسند امام احمد، مسند الکوفیین ،حدیث ربیعة بن عباد الدیلی، ۷/۲۱، حدیث:۱۹۰۲۶
[6]…عَدَسَہ طاعون کی قسم کی ایک زہریلی پھنسی ہے جو پہلے چھوٹی سی نکلتی ہے پھر اُس کا زہر سارے جسم میں پھیل جاتا ہے اور آدمی مرجاتا ہے۔
[7]… دلائل النبوة للبیھقی، باب وقوع الخبربمکة…الخ ، ۳/۱۴۶
[8]… بخاری ، کتاب العلم، باب مایذکرفی المناولة …الخ ،۱/۴۰، حدیث:۶۵
[9]…دلائل النبوة لابی نعیم، الفصل السابع عشر،ص ۲۰۶، حدیث: ۲۴۱، طبقاتِ کبریٰ،ذکر بعثة …الخ، ۱/۱۹۹، ملخصاًو مفھوماً
[10]… کنزالعمال،کتاب الفضائل، باب فضائل النبی…الخ، ۱۲/۱۵۹، حدیث:۳۵۳۴۷
[11]… شرح المواهب ،باب فی ذکر اولادہ الکرام، ۴/۳۲۵،۳۲۶ ملخصاً
[12]… سیرةِ ابن ھشام ، قصة عامر بن الطفیل …الخ، ۴/۴۷۹، معجم الاوسط، باب من اسمه مسعدة ، ۶/۳۷۸، حدیث: ۹۱۲۷، ملخصاً ومفھوماً
[13]… بخاری، کتاب المناقب، باب صفة النبی ،۲/۴۸۹،حدیث:۳۵۶۰
[14]… نور العرفان، پ ۱۸، النور، تحت الآیة:۲
[15]… کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص199
[16]… مجموعة رسائل ابن عابدین ،کتاب تنبیه الولا ة والحکام…،الجزء الاول،ص۳۱۶
[17]… فردوس الاخبار، باب المیم، ۲/۲۸۵، حدیث: ۶۰۹۸
[18]… بخاری،کتاب المغازی،باب قتل ابی رافع…الخ،۳/۳۰،حدیث:۴۰۳۹
[19]… ابو داود،کتاب الحدود،باب الحکم فیمن سب النبی، ۴/۱۷۲،حدیث:۴۳۶۲
[20]… ابو داود،کتاب الحدود،باب الحکم فیمن سب النبی، ۴/۱۷۲، حدیث: ۴۳۶۱
[21]… فتاوٰی رضویہ،۱۴ /۶۴۶۔ ۶۴۷
[22]… تاریخ بغداد،۸/۱۳۹
[23]… بخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان،۱/۱۷، حدیث:۱۵
[24]…نسائی، کتاب عشرةالنساء، باب حب النساء، ص۶۴۴، حدیث:۳۹۴۶
[25]… بخاری ،کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، ۱/۷۵، حدیث:۷۵۹۲
[26]… شرح معانی الآثار،کتاب الکراھیة، باب حلق الشارب، ۴/۲۳۰، حدیث: ۶۵۶۲
[27]… ابو داود،کتاب اللباس، باب فی لبس الشھرة،۴/۶۲، حدیث:۴۰۳۱
[28]… مشکاة المصابیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب...الخ، ۱/ ۵۵، حدیث:۱۷۵
[29]… کنزالعمال ،کتاب المعيشة والعادات،باب آداب التعمم ،۱۵/۲۰۵،حديث: ۴۱۹۰۶
[30]… فردوس الاخبار ، باب العين ،۲/۹۱،حديث: ۴۱۱۱
[31]… شعب الایمان، باب فی الملابس، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۵، حدیث: ۶۲۶۰
[32]… کنز العمال، کتاب المعیشة والعادات، فرع فی العمائم، ۱۵/۱۳۲، حدیث:۴۱۱۲۶
[33]… فردوس الاخبار ، باب الرا ء،فصل رکعتان، ۱/۴۱۰،حديث:۳۰۵۴
[34]… فردوس الاخبار،باب الصاد ،۲/۳۱،حديث: ۳۶۲۱
[35]… کنز العمال، کتاب الصلاة، باب فی صلاة الجمعة …الخ، ۷/۳۰۲، حدیث:۲۱۱۶۲
[36]… فردوس الاخبار ،باب الجیم، ۱/۳۲۸،حديث: ۲۳۹۳