اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کے فضائل اور پاکیزہ حیات کے بیان پر مشتمل، مَدَنی پھولوں سے معمور ایک مفصل اور تخریج شدہ کتاب
فیضانِ اُمَّہَاتُ المؤمنین
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ
پیش کش
مجلِسِ المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)
شعبہ فیضانِ صحابیات وصالِحات
ناشر
مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
نامِ کتاب : فیضانِ اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ
پیش کش : شعبہ فیضانِ صحابیات وصالحات (مجلس المدینۃ العلمیۃ)
طباعتِ اوّل : ربیع الاول ۱۴۳۶ھ بمطابق جنوری 2015ء
تعداد :
ناشر : مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
تصدیق نامہ
تاریخ: ۲۹ صفر المظفر ۱۴۳۶ھ حوالہ نمبر: ۱۹۸
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِیْن
تصدیق کی جاتی ہے کہ کتاب ”فیضانِ اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ“(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) پر مجلس تفتیش کتب و رسائل کی جانب سے نظرِ ثانی کی کوشش کی گئی ہے۔مجلس نے اسے عقائد،کفریہ عبارات،اخلاقیات، فقہی مسائل اور عربی عبارات وغیرہ کے حوالے سے مقدور بھر ملاحظہ کر لیا ہے، البتہ کمپوزنگ یا کِتابت کی غَلَطیوں کا ذِمَّہ مجلس پر نہیں۔
مجلس تفتیش کتب ورسائل(دعوتِ
اسلامی)
22-12-2014
www.dawateislami.net, E.mail:ilmia@dawateislami.net
مَدَنِی اِلْتِجا: کسی اور کو یہ کِتاب چھاپنے کی اِجازت نہیں
(دورانِ مطالعہ ضرورتاً ا نڈر لائن کیجئے، اشارات لکھ کر صفحہ نمبر نوٹ فرما لیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!عِلْم میں ترقی ہو گی۔)
|
صفحہ |
عنوان |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
المدینۃ العلمیۃ (کا تعارف) |
6 |
سیرتِ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
134 |
|
|
پیش لفظ |
8 |
|
||
|
اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ |
11 |
سیرتِ حضرت زینب بنت جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
188 |
|
|
سیرتِ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
26 |
|||
|
سیرتِ حضرت جُویریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
230 |
|
||
|
سیرتِ حضرت سودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
41 |
سیرتِ حضرت اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
256 |
|
|
سیرتِ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
68 |
|
||
|
سیرتِ حضرت حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
94 |
سیرتِ حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
285 |
|
|
سیرتِ حضرت زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
119 |
سیرتِ حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا |
318 |
|
|
تفصیلی فہرست |
343 |
|
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اپنے نفس کو لوگوں سے بدلہ لینے میں مشغول نہ کرو کہ اس طرح نقصان زیادہ ہو گا اور اس میں مشغول رہنے کی وجہ سے عمر بھی ضائع ہو گی۔ [احياء علوم الدين،كتاب آداب الالفة والاخوة، الباب الثالث فى حق المسلم...الخ، ۲/ ۲۶۳ ]
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
”اُمَّہَاتُ الْمُؤْمِنِیْن“ کے تیرہ حُرُوف کی نسبت سے اس کِتاب کو پڑھنے کی 13 نِیَّتیں
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،۳ ۳۲۵/، الحديث:۵۸۰۹)
دو۲ مَدَنی پُھول : بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عمل خیر کا ثواب نہیں ملتا۔
جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اُتنا ثواب بھی زیادہ۔
(۱) ہر بار حمد و (۲) صلوٰۃ اور (۳)تَعَوُّذ و (۴) تسمیہ سے آغاز کروں گا (اسی صفحہ پر اُوپر دی ہوئی دو۲ عربی عِبارات پڑھ لینے سے چاروں نیتوں پر عمل ہو جائے گا)۔ (۵)رِضائے الٰہی کے لئے اس کتاب کا اوّل تا آخر مُطَالَعہ کروں گا۔ (۶)حتی الوسع اس کا باوُضو اور (۷) قبلہ رو مُطَالعہ کروں گا۔ (۸) قرآنی آیات واحادیث مبارکہ کی زیارت کروں گا۔ (۹)جہاں جہاں ”اللہ“ کا نامِ پاک آئے گا وہاں عَزَّ وَجَلَّ اور (۱۰)جہاں جہاں ”سرکار“ کا اسم مبارک آئے گا وہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پڑھوں گا۔ (۱۱)دوسروں کو یہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دِلاؤں گا۔ (۱۲)اس حدیثِ پاک تَھَادَوْا تَحَابُّوْا ایک دوسرے کو تحفہ دو آپس میں محبت بڑھے گی۔ (مؤطا امام مالک، ص٤٨٣، الحديث:١٧٣١) پر عمل کی نیت سے (ایک یا حسبِ توفیق) یہ کتاب خرید کر دوسروں کو تحفۃً دوں گا۔ (۱۳)کتابت وغیرہ میں شرعی غَلَطی ملی تو ناشِرین کو تحریری طور پر مطلع کروں گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! (ناشِرین کو کتابوں کی اَغْلاط صرف زبانی بتا دینا خاص مفید نہیں ہوتا)۔
از: شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادِری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ وَبِفَضْلِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تبلیغ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علم شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزم مصمم رکھتی ہے، اِن تمام اُمُور کو بحسن خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس ”اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہ“ بھی ہے جودعوتِ اسلامی کے عُلَما ومفتیانِ کِرَام کَثَّـرَھُمُ اللّٰہُ السَّلَام پر مشتمل ہے، جس نے خالص علمی، تحقیقی اور اشاعتی کام کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ۶ شعبے ہیں:
(۱):شعبہ کتبِ اعلیٰ حضرت (۲):شعبہ تراجم کتب
(۳):شعبہ درسی کتب (۴):شعبہ اصلاحی کتب
(۵):شعبہ تفتیش کتب (۶):شعبہ تخریج
”اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہ“کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،عظیم البَرَکت،عظیم المرتبت، پروانۂ شمع رسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامِیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالم شریعت، پیرِ طریقت،باعثِ خیر و برکت، حضرتِ علاّمہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضِر کے تقاضوں کے مطابق حتی الْوَسْع سَہْل اُسْلُوب میں پیش کرنا ہے۔ تمام
اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس علمی ، تحقیقی اور اشاعتی مَدَنی کام میں ہر ممکن تعاوُن فرمائیں اور مجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کتب کا خود بھی مطالعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلائیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ”دعوتِ اسلامی“ کی تمام مجالس بَشُمول ”اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہ“ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عمل خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرما کر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ ہمیں زیرِ گنبد ِخضرا شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ
٭…٭…٭…٭…٭…٭
”وسوسہ“ کے لغوی معنی ہیں: ”دھیمی آواز“ شریعت میں برے خیالات اور فاسد فکر (یعنی بری سوچ) کو وسوسہ کہتے ہیں۔ (اشعہ،۱/۳۰۰) تفسیر بغوی میں ہے: وسوسہ اس بات کو کہتے ہیں: جو شیطان انسان کے دل میں ڈالتا ہے۔ (تفسير بغوى، ۲،۴ ص۵۱۸،۱۲۷)
وہ خوش نصیب خواتین جنہیں سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شرفِ زوجیت سے نوازا، قرآنِ کریم نے انہیں مؤمنوں کی مائیں قرار دیا ہے۔ خدائے ذُوْالجلال نے اپنے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاک ازواج کو بہترین اوصاف سے نوازا تھا، احکامِ شرع کی پاس داری، تقویٰ وپرہیزگاری، زُہد وعبادت الغرض ایسے بےشمار اوصاف ہیں جو انہیں دنیا جہان کی سب عورتوں سے نمایاں اور اونچے مقام پر فائز کر دیتے ہیں اور یہ درحقیقت پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت اور تربیت کا ہی اثر تھا کہ انہیں اس قدر بلند مقام ورتبہ حاصل ہوا اور ان کی پاکیزہ حیات کے شب وروز قیامت تک کے لوگوں کے لئے بہترین نمونہ قرار پائے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے فیضان سے امت کو مالا مال فرمائے (اٰمِیْن)۔
یاد رکھئے کہ اسلامی بہنیں ان نیک وپارسا ہستیوں کی سیرت کے سانچے میں ڈھل کر بالخصوص گھروں کو امن کا گہوارہ بنانے اور بالعموم پورے معاشرے کو سدھارنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لہٰذا ان نُفُوسِ قدسیہ کا فیضان زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لئے تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃ نے اصلاحی نہج کے مطابق ا س موضوع پر کام کا بیڑا اٹھایا جو اب تکمیل و اشاعت کے مراحل طے کر کے آپ کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے:
}اختلاف سے صَرْفِ نظر کرتے ہوئے صرف ان صحابیات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا حضورِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ پاک کی فہرست میں شامل ہونا سب کے نزدیک ثابت ومُسَلَّم (تسلیم شدہ) ہے اور یہ کُل گیارہ نُفُوسِ قدسیہ ہیں۔
}کتاب کو بارہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا باب اجتماعی طور پر تمام اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ سے متعلق فضائل ومسائل پر مشتمل ہے اور بقیہ گیارہ ابواب بالترتیب گیارہ اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی سیرتِ طیبہ پر مشتمل ہیں۔
}ہر باب کی ترتیب اس انداز میں کی گئی ہے کہ گویا وہ الگ سے ایک رسالہ ہے اس لئے معدودے چند مقامات پر مضامین کا تکرار ناگُزِیر ہے۔
}کتاب میں حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجۂ اوّل حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور زوجۂ دُوُم حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سیرت حُصُولِ برکت کے لئے اور تکمیل موضوع کی خاطر مختصر طور پر بیان کی گئی ہے کیونکہ ان پر شعبے کی الگ سے دو۲ کتابیں ”فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ اور ”فیضانِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلّ! اس کتاب پر المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی ) کے شعبے ”فیضانِ صحابیات وصالِحات“ کے کُل پانچ۵ اسلامی بھائیوں نے
کام کرنے کی سعادت حاصل کی بالخصوص محمد خرم شہزاد عطاری المدنی، محمد شہزاد عنبر عطاری المدنی اور محمد عادِل عطاری المدنی نے خوب کوشش کی۔ اس میں جو بھی خوبیاں ہیں یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد وتوفیق، اس کے پیارے حبیب، حبیب لبیب، ہم گناہوں کے مریضوں کے طبیب، حُضُور احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عطا، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی عنایت اور شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبِلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظر شفقت کا ثمرہ ہے اور خامیوں میں ہماری کوتاہیوں کا دخل ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ وہ دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول المدینۃ العلمیۃ کو مزید برکتیں عطا فرمائے۔ انہیں دن پچیسویں اور رات چھبیسویں ترقیاں عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم.
شعبہ فیضانِ صحابیات وصالِحات
المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کسی کی نعمت چھن جانے کی آرزو کرنا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۴/۴۲۸) مثلاً کسی شخص کی شہرت یا عزت ہے اب یہ آرزو کرنا کہ اس کی شہرت یا عزت ختم ہو جائے۔ البتہ دوسرے کی نعمت کا زوال (یعنی ضائع ہو جانا) نہ چاہنا بلکہ ویسی ہی نعمت کی اپنے لئے تمنا کرنا یہ غبطہ (یعنی رشک) کہلاتا ہے اور یہ شرعاً جائز ہے۔ (طريقه محمديه، ۱/۶۱۰)
اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز کے بعد حمد وثنا اور درود شریف پڑھنے والے سے فرمایا: ”اُدْعُ تُجَبْ وَسَلْ تُعْطَہ دُعا مانگ! قبول کی جائے گی، سوا ل کر! دیا جائے گا۔“([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نِکاح سنتِ انبیاء ہے۔ شیخ محقق حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ سِوائے حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ اور حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نِکاح فرمایا۔([2]) ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی کئی حکمتوں کے پیش نظر متعدد نکاح فرمائے۔
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتنے نکاح فرمائے اور ان خوش نصیب خواتین کی تعداد کیا ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو کر اُمَّہَاتُ المؤمنین کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئیں...؟ اس سلسلے میں جن پر سب کا اتفاق ہے وہ گیارہ صحابیات رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنۡہُنَّ ہیں۔ ان میں سے چھ۶ تو قبیلہ قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم وچراغ تھیں، جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: (۱)...حضرت خدیجہ بنتِ خویلد
(۲)...حضرت عائشہ بنتِ ابو بکر صِدِّیق (۳)...حضرت حفصہ بنتِ عمر فاروق
(۴)...حضرتِ اُمِّ حبیبہ بنتِ ابوسفیان (۵)...حضرت اُمِّ سلمہ بنتِ ابوامیہ
(۶)...حضرت سودہ بنت زمعہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن
چار۴ کا تعلق قبیلہ قریش سے نہیں تھا بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں، وہ یہ ہیں: (۱)...حضرت زینب بنتِ جحش
(۲)...حضرت میمونہ بنتِ حارث (۳)...حضرت زینب بنتِ خزیمہ
(۴)...حضرت جُویریہ بنت حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ
اور ایک غیر عربیہ تھیں، بنی اسرائیل سے تعلق تھا۔ یہ حضرتِ صفیہ بنتِ حیی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قبیلہ بنی نضیر سے تھیں۔
ان گیارہ میں سے دو۲ ازواجِ مطہرات حضرتِ خدیجہ بنتِ خویلد اور حضرتِ زینب بنت خزیمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا تو رسولِ پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ ظاہِری میں ہی دارِ آخرت کو کوچ کر گئی تھیں جبکہ بقیہ نو۹ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد انتقال فرمایا۔([3])
واضح رہے کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے بھی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عام لوگوں کی نسبت زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی تھی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی اس باب میں وسعت وکشادگی عطا ہوئی، اللہ رَبُّ الْعِزّت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗؕ-سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَّقْدُوْرَا٘ﰳۙ (۳۸)(۳۸) (پ۲۲، الاحزاب:۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان: نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لئے مقرر فرمائی اللہ کا دستور چلا آ رہا ہے ان میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے۔
صدرُ الْاَفاضِل، بدرُ الْاَماثل حضرتِ علامہ مفتی سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کو بابِ نکاح میں وسعتیں دی گئیں کہ دوسروں سے زیادہ عورتیں ان کے لیے حلال فرمائیں جیسا کہ حضرت داود عَلَیْہِ السَّلَام کی سو بیبیاں اور حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی تین سو بیبیاں تھیں۔ یہ ان کے خاص احکام ہیں ان کے سِوا دوسروں کو روا نہیں نہ کوئی اس پر معترض ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جس کے لیے جو حکم فرمائے اس پر کسی کو اعتراض کی کیا مجال، اس میں یہود کا ردّ ہے جنہوں نے سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر چار۴ سے زیادہ نکاح کرنے پر طعن کیا تھا اس میں
انہیں بتایا گیا کہ یہ حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے خاص ہے جیسا کہ پہلے انبیاء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے لیے تعدادِ ازواج میں خاص احکام تھے۔([4])
یاد رکھنا چاہئے کہ سرکارِ عالی وقار، محبوب ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو متعدد نکاح فرمائے اور متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت سے نوازا ان میں سیاسی وقومی اور دینی حوالے سے بہت ساری حکمتیں پائی جاتی تھیں، مَعَاذَ اللہ کوئی نکاح کسی نفسانی جذبے اور خواہش کی بنا پر ہرگز نہیں تھا۔ شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زیادہ تر جن عورتوں سے نکاح فرمایا ، وہ کسی نہ کسی دینی مصلحت ہی کی بِنا پر ہوا، کچھ عورتوں کی بے کسی پر رحم فرما کر اور کچھ عورتوں کے خاندانی اعزاز و اکرام کو بچانے کے لئے، کچھ عورتوں سے اس بِنا پر نکاح فرما لیا کہ وہ رنج والم کے صدموں سے نڈھال تھیں، لہٰذا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کےزخمی دلوں پر مرہم رکھنے کےلئےان کو اعزاز بخش دیا کہ اپنی ازواج مطہرات میں ان کو شامل فرما لیا۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اتنی عورتوں سے نکاح فرمانا ہرگز ہرگز اپنی خواہش نفسی کی بِنا پر نہیں تھا، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیویوں میں حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنۡہَا کے سوا کوئی بھی کنواری نہیں تھیں بلکہ سب عمردراز اور بیوہ تھیں حالانکہ اگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خواہش فرماتے تو کونسی ایسی کنواری لڑکی تھی جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نکاح کرنے کی تمنا نہ کرتی مگر دربارِ نبوت کا تو یہ معاملہ ہے کہ شہنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی قول فعل، کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہوا جو دنیا اور دین کی بھلائی کےلئے نہ ہو، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو کہا اور جو کیا سب دین ہی کے لئے کیا بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو کہا اور کیا وہی دین ہے بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ اکرم ہی مجسم دین ہے۔([5]) یہاں ان نکاحوں کی برکت سے حاصل ہونے والے کثیر در کثیر فوائد اور ان میں پائی جانے والی حکمتوں میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:
}احکامِ شریعت کی تبلیغ واشاعت: حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعدد نکاح فرمانے میں ایک بہت بڑی حکمت یہ تھی کہ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کے ذریعے خصوصاً خواتین کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں احکامِ شریعت سے روشناس کیا جائے کیونکہ اسلام دین کامل ہے، یہ زندگی کے ہر گوشے وشعبے میں اپنے ماننے والوں کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ اس تناظُر میں بہت سے نسوانی پہلو ایسے بھی آتے ہیں جنہیں ہر کسی کے سامنے کھول کر بیان کرنے
میں حیا مانع ہوتی ہے لیکن شرعی نقطۂ نظر سے ان کا جاننا ضروری بھی ہے تاکہ فرائض وواجبات، سنن ومستحبات کی بہتر طور پر بجا آوری ہو سکے۔ اُمّت کے ان مسائل سے آگاہ ہونے کا بہترین طریقہ یہ تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم متعدد عورتوں سے نکاح فرما کر ان کی تعلیم وتربیت کریں اور یہ زیادہ سے زیادہ عورتوں کو اس علم سے بہرہ ور کریں، اس طرح تبلیغ دین کا یہ فریضہ جلد از جلد انجام پذیر ہو۔ اس حوالے سے اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ دیگر صحابیات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر شرعی احکام کا علم حاصل کرتیں اور پیش آمدہ مسائل کا حل دریافت کرتیں اور یہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھ کر انہیں بتا دیتیں۔ حضرتِ سیِّدُنا علامہ شہابُ الدِّین سیِّد محمود آلوسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اسی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”لِتَكَثُّرِهِ النِّسَاءَ حِكْمَۃٌ دِیْنِیَّۃٌ جَلِیْلَۃٌ اَیْضًا وَ ھِیَ نَشْرُ الْاَحْکَامِ الشَّرْعِیَّۃِ لَا تَکَادُ تُعَلَّمُ اِلَّا بِوَاسِطَتِھِنَّ حضورِ انور، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثرتِ ازواج میں ایک عظیم دینی حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے اُن احکامِ شرعیہ کو عام کیا جائے جو انہیں کے ذریعے سکھائے جا سکتے ہیں۔“([6])
}غلط رسومات کا خاتمہ: ایک حکمت یہ تھی کہ دورِ جاہلیت میں فروغ پائی ہوئی غلط رسومات کی کاٹ ہو اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ مثلاً جاہلیت کے دستور کے مطابق منہ بولے بیٹے کو بھی حقیقی اور اصلی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا اور اس کی مطلقہ (طلاق یافتہ) یا بیوہ سے نِکاح کو حرام سمجھا جاتا تھا۔ شاہِ خیرالانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حضرت زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو عقدِ زوجیت میں قبول فرمانے سے جاہلیت کے اس دستور کا خاتمہ ہو گیا کیونکہ حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے طلاق یافتہ تھیں اور حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کمالِ شفقت ومہربانی فرماتے ہوئے اپنا بیٹا فرمایا تھا۔ بہرحال اس تمام تر صورتِ حال سے امت پر یہ بات واضح ہوگئی کہ لےپالک اور منہ بولے بیٹے کے وہ احکام نہیں ہوتے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں اور دورِ جاہلیت کی وہ مذموم رسم مٹ گئی۔([7])
}مخلص وجانثار اصحاب کی حوصلہ افزائی: بعض شادیوں کے ذریعے اپنے بعض مخلص وجانثار اصحاب کی حوصلہ افزائی اور ہمت بندھائی فرمائی اور انہیں ان کی خدمات کا صلہ عطا فرماتے ہوئے شرفِ مُصَاہرت سے نوازا۔ جی ہاں! امتی کے لئے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ کونین کے والی صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اسے مُصَاہرت کا شرف حاصل ہو جائے بلکہ عشاق کا تو یہ حال ہے کہ
؏ اتنی نسبت بھی مجھے دونوں جہاں میں بس ہے
تو مِرا مالک و مولیٰ ہے میں بندہ تیرا([8])
اور
؏ زاہِد ان کا میں گنہ گار وہ میرے شافع
اتنی نسبت کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے([9])
عاشق اکبر حضرت سیِّدنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی جانثاری و وفا شعاری سے کون واقِف نہیں، جب لوگوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جھٹلایا انہوں نے تصدیق کی اور راہِ اسلام میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی صاحبزادی حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اپنی زوجیت میں قبول فرما کر انہیں اس عظیم شرف وفضیلت سے نوازا جس پر زمانہ رشک کرتا ہے۔ نیز حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ساتھ نکاح سے خواتین کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور انہیں احکامِ شریعت سے روشناس کرنے کا مقصد بھی بخوبی انجام پذیر ہوا کیونکہ علمی شان وشوکت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو سب ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ پر فوقیت حاصل ہوئی اور احکامِ
شریعت کا بہت بڑا ذخیرہ اُمَّت تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے واسطے سے پہنچا۔ مشہور تابعی بزرگ اور عظیم مُحَدِّث حضرت سیِّدنا امام شہابُ الدِّین زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ”لَوْ جُمِعَ عِلْمُ عَائِشَۃَ اِلٰی عِلْمِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعِلْمِ جَمِیْعِ النِّسَاءِ لَکَانَ عِلْمُ عَائِشَۃَ اَفْضَلَ اگر حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے علم کے مقابلے میں دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ اور تمام عورتوں کا علم جمع کر لیا جائے تب بھی حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے علم کا پلہ بھاری نکلے گا۔“([10])
}غلامی سے آزادی: بعض نکاحوں سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ جس قبیلے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نکاح فرمایا اس قبیلے کے تمام افراد جو مسلمانوں کے پاس غلام تھے، آزاد کر دئیے گئے۔ اس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ جب قبیلہ بنی مصطلق کے لوگوں نے مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع کیں تو اتفاقاً مسلمانوں کو بھی اس کی خبر پہنچ گئی۔ پہلے تو اس خبر کی تصدیق کے لئے حضرتِ بُریدہ بن حُصَیْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو بنی مصطلق کی طرف بھیجا گیا جب انہوں نے دیکھا کہ واقعی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے
لئے ایک بڑا لشکر تیار کیا جا رہا ہے تو آ کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتایا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فتنہ پرداز کفار کو ان کے ناپاک عزائم سے روکنے کے لئے مسلمانوں کو ان سے جنگ کے لئے بلایا۔ شمع رسالت کے پروانے جان کی بازی لگانے کے لئے فوراً میدان میں اتر آئے۔ اللہ رَبُّ الْعِزّت نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ بہت سارا مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور بنی مصطلق کے سینکڑوں لوگ قیدی بنا لئے گئے۔ سردارِ قبیلہ کی بیٹی جس کا نام برہ تھا پھر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تبدیل فرما کر جویریہ رکھا، اسلام لے آئی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے نکاح فرما لیا۔ جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اس نکاح کی خبر ہوئی تو ان شمع رسالت کے پروانوں کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ جس قبیلے میں مصطفےٰ جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نکاح فرمائیں اس قبیلے کے لوگ ان کی غلامی میں رہیں چنانچہ انہوں نے قبیلے کے تمام لوگوں کو یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ یہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصہار (سسرالی رشتے دار) ہیں۔([11])
ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی شان وعظمت
}اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں بہت بلند مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے۔ فرمانِ ربّانی ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ (پ۲۲، الاحزاب:۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو تم اَور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔
صَدْرُ الْاَفاضِل حضرتِ علامہ مفتی سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (یعنی) تمہارا مرتبہ سب سے زیادہ ہے اور تمہارا اجر سب سے بڑھ کر، جہان کی عورتوں میں کوئی تمہاری ہمسر نہیں۔([12])
}حرمتِ نکاح اور ادب واحترام کے سلسلے میں انہیں تمام مؤمنین کی مائیں قرار دیا گیا ہے کہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کسی کو ان سے نکاح کرنا حلال نہیں اور ان کا ادب واحترام ماں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ- (پ۲۱ الاحزاب:۶)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔
علامہ سیِّد محمود آلوسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں (کہ ان کا مؤمنین کی مائیں ہونا دو۲ حکموں میں ہیں):
(۱)...نکاح کے حرام ہونے میں۔
(۲)...تعظیم کی حق دار ہونے میں۔
اس کے علاوہ دوسرے احکام مثلاً وراثت اور پردہ وغیرہ کے سلسلے میں ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا۔ نیز (شرعی احکام میں) ان کی بیٹیوں کو مؤمنین کی بہنیں اور ان کے بھائیوں کو مؤمنین کے ماموں نہ کہا جائے گا۔([13])
}اطاعت اور نیک اعمال پر ان کے لئے عام لوگوں کی نسبت دگنا ثواب ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِۙ-وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا(۳۱) (پ۲۲، الاحزاب:۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو تم میں فرماں بردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دونا (دگنا) ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لئے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔
}ان کے لئے گناہوں کی نجاست سے آلودہ نہ ہونے کی بشارت ہے۔ اللہ رَبُّ العزت ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) (پ۲۲، الاحزاب:۳۳) ترجمۂ کنزالایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔
مفسر شہیر، حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ
اللّٰہ ِالْغَنِی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس طرح کہ تم کو گناہوں اور بد اخلاقیو ں کی نجاست میں آلودہ نہ ہونے دے۔ یہ مطلب نہیں کہ مَعَاذَ اللہ اب تک گناہ تھے اب پاکی عطا ہوئی۔ اس آیت سے دو۲ مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور کی ازواج واولاد گناہوں سے پاک ہے۔ دوسرے یہ کہ ازواج یقیناً حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اہل بیت ہیں کیونکہ یہ تمام آیات ازواجِ مطہرات (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ )سے ہی مخاطب ہیں۔([14])
}صحابۂ کرام وصحابیات رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں سے بعض وہ حضرات جنہوں نے اسلام کو اس کے ابتدائی ایام میں قبول کیا اور سب سے پہلے حُضُورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی، قرآنِ کریم نے انہیں ”اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ “ کے دل نشین خطاب سے نوازا۔ آیتِ مبارکہ ہے:
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ
ترجمۂ کنزالایمان: اور سب میں اگلے پہلے مُہَاجِر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لئے تیار
تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)
(پ۱۱،التوبة:۱۰۰)
کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑئی کامیابی ہے۔
صَدْرُ الْاَفاضِل، بدرُ الْاَماثِل حضرت علامہ مفتی سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: (مُہَاجِرین میں اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ سے وہ ہیں) جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازیں پڑھیں یا اہل بدر یا اہل بیعتِ رضوان ( اور انصار میں سے) اصحابِ بیعتِ عقبہ اُوْلیٰ جو چھ۶ حضرات تھے اور اصحابِ بیعتِ عقبہ ثانیہ جو بارہ تھے اور اصحابِ بیعتِ عقبہ ثالثہ جو ستر اصحاب ہیں۔([15]) اس اعتبار سے بعض اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ بھی اس فضیلت میں داخِل ہیں یہاں صرف اُن کے اسمائے گرامی ذکر کئے جاتے ہیں جن کا دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنا معلوم ہے:
(۱)...اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا سودہ بنتِ زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۲)... اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۳)...اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ بنتِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا
(۴)... اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۵)... اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۶)... اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۷)...اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
واضح رہے کہ یہ تمام اُمَّہَات المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ ہجرتِ مدینہ سے سے پہلے ہی مُشَرَّف بہ اسلام ہو چکی تھیں جبکہ ”تبدیلیٔ قبلہ ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد یعنی دو۲ ہجری، ماہِ شعبان، منگل کے دن ہوئی ۔“([16])
؏ وہ نساءِ نبی طیِّبات و خلیق
جن کے پاکیزہ تر سارے طور و طریق
جو بہرحال نورِ خدا کی رفیق
اہل اسلام کی مادرانِ شفیق
بانُوان طہارت پہ لاکھوں سلام([17])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم.
٭…٭…٭…٭…٭…٭
سیرتِ حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا[18]
حضرتِ سیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْـکَرِیْم سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”مَا مِنْ دُعَآءٍ اِلَّا وَبَیْنَہٗ وَ بَیْنَ السَّمَآءِ حِجَابٌ حَتّٰی یُصَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ فَاِنْ فُعِلَ اِنْخَرَقَ ذٰلِكَ الْحِجَابُ وَ دَخَلَ الدُّعَآءُ وَ اِذَا لَمْ يُفْعَلْ رَجَعَ ذٰلِكَ الدُّعَآءُ ہر دُعا اور آسمان کے درمیان ايك حجاب ہوتا ہے حتی کہ مجھ پر اور میری آل پر دُرُود پڑھا جائے، اگر ایسا کیا جائے تو وہ پردہ چاک ہو جاتا ہے اور دُعا آسمان میں داخِل ہو جاتی ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو وہ پلٹ آتی ہے۔“([19])
؏ دُعا کے ساتھ نہ ہَووے اگر درود شریف
نہ ہووے حشر تلک بھی بَرآور حاجات
قبولِیَّت ہے دُعا کو درود کے باعث
یہ ہے درود کہ ثابت کرامات و برکات([20])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
چھٹی صدی عیسوی جب ہر طرف ظلم وبَرْبَرِیَّت اور قتل وغارت گری کا دَور دَورہ تھا، اَخلاقی ومعاشی، مُعَاشرتی و سیاسی زندگی میں انتہائی گھناؤنی بُرائیاں جنم لے چکی تھیں، ظُلْم کی حد یہ تھی کہ چھوٹی چھوٹی بے گناہ بچیوں کو زندہ دَرْگَور (دفن) کر دیا جاتا تھا، زِناکاری جیسے اخلاق سوز جرائم کا ایسے کھلے عام اِرْتِکاب ہوتا تھا کہ گویا یہ گُناہ ہی نہ ہوں، ہر چہار جانب شرک وکفر کی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں، جہالت وبے وقوفی کی انتہا یہ تھی کہ انسان اپنے خالِقِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت سے منہ موڑ کر خود کے تراشیدہ (اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے) باطِل معبودوں کی پوجا پاٹ میں مصروف تھا کہ کائناتِ ارضی کی ان اندھیر وادیوں کو کفر کی تاریکیوں سے نجات دینا جب منظورِ معبودِ حقیقی ہوتا ہے تو مکہ مُعَظَّمَہ کی پاک سرزمین میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور کا سورج طُلُوع فرما دیتا ہے، چنانچہ پھر کائنات کا ذرہ ذرہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور سے جگمگا اٹھتا ہے، گوشہ گوشہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور سے منور ہو جاتا ہے، ظلم وکفر کی تاریک بدلیاں چھٹ جاتی ہیں اور زمانہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور سے پُرنور ہو جاتا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔
سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خَلْقِ خُدا کو صرف اس ایک معبودِ حقیقی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کی طرف بلاتے ہیں جو سب کا خالق و مالِک ہے،
نہ اس کی کوئی اَوْلاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، وہ سب کا پالنے والا ہے، سب اسی سے رِزْق پاتے اور اسی کے دَرْ سے حاجتیں بَر لاتے ہیں۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو اس معبودِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کی دعوت دیتے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے حق کی پکار پر لبیک کہا جاتا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، راہ میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں،تَنِ نازنین (یعنی مبارک جسم) پر پتھر برسائے جاتے ہیں، اِتِّہام و دُشْنام طرازی (جھوٹے الزامات وگالیوں) کے تیروں کی بارِش کر دی جاتی ہے اور کل تک کا سب کی آنکھوں کا تارا آج سب سے بڑا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے ۔ ایسے نازُک دَور میں جو ہستیاں حق کی پُکار پر لبیک کہتی ہوئی سب سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ حق کو قبول کرنے کی سعادت سے سرفراز ہوئیں اور ” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اے ایمان والو!“کی پکار کی سب سے پہلے حق دار قرار پائیں، ان میں ایک نمایاں نام مجسمۂ حُسْنِ اخلاق، پاکیزہ سیرت و بلند کِردار، فہم وفراست اور عقل ودانش سے سرشار، جُود وسخا کی پیکر، صِدْق و وفا کی خُوگر اُس عظیمُ الْقَدر ذات سُتُودَہ صِفات کا ہے جنہوں نے عورتوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا، حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت سے جو سب سے پہلے مُشَرَّف ہوئیں، اللہ ربُّ الْعِزّت نے جنہیں جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وَساطت سے سلام بھیجا، جنہوں نے حبیبِ کِبْرِیَاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت
بابرکت میں کم وبیش 25 سال رہنے کی سعادت حاصل کی، جنہوں نے شِعْبِ ابی طالِب میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مَحْصُور رہ کر رفاقت، محبت اور وَارَفتگی کا مِثالی نمونہ پیش کیا، جنہوں نے اپنی ساری دولت حُضُورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں ڈھیر کر دی، جن کی قبر میں ہادیِ برحق صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اترے اور اپنے دستِ اقدس سے انہیں قبر میں اُتارا، تاریخ میں جنہیں طاہِرہ و صِدِّیقہ جیسے عظیم الشّان القاب سے یاد کیا جاتا ہے، یہ خاتونِ جنت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی والِدہ ماجِدہ، نوجوانانِ جنت کے سرداروں حضراتِ حَسَنَیْنِ کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کی نانی جان، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سروَرِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی محبوب زوجہ مطہرہ ہیں، آپ کی حَیَات میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی اور سے نِکاح نہ فرمایا اور آپ کو جنت میں شور وغل سے پاک محل کی بشارت سنائی۔
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ہر ہر قدم پر سیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رحمةٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حوصلہ بڑھایا اور ہمت بندھائی۔ اس سلسلے میں ابتدائے وحی کے موقع پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے اعلیٰ کِردار کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی
جا سکتی ہے۔ حضرتِ سیِّدنا علّامہ محمد بن اسحاق مَدَنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ سیّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی کُفّار کی جانب سے اپنا ردّ اور تکذیب وغیرہ کوئی ناپسندیدہ بات سن كر غمگین ہو جاتے اس کے بعد حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لاتے تو اِن کے باعِث آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وہ رنج وغم کی کیفیت دُور ہو جاتی۔“([21])
؏ وہ انیسِ غم، مُوْنِسِ بے کساں
وہ سُکُونِ دل، مالکِ انس و جاں
وہ شریک حَیَات، شہِ لامکاں
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام([22])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اس سے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عظیم شان کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اُس دَور میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی اور ہر مشکل سے مشکل وقت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا جب اسلام کے ماننے والوں کو طرح طرح کی مشکلات
اور آزمائشوں کا سامنا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی حَیَاتِ طَیِّبَہ کے اس دَرَخْشاں (روشن وچمک دار) پہلو سے ہمیں یہ مَدَنی پُھول چننے کو ملتا ہے کہ خواہ کیسے ہی کٹھن حالات ہو، کیسی ہی مشکلات کا سامنا ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت وفرمانبرداری سے رُوگردانی ہرگز نہیں کرنی چاہئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لائے ہوئے پیارے دین ”اِسلام“ کی خاطِر مالی وجانی کسی قسم کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔
تَعَارُفِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قُرَیش کی ایک باہمت، بلند حوصلہ اور زِیْرَک (عَقْل مند) خاتون تھیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت بہترین اوصاف سے نوازا تھا جن کی بدولت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا جاہلیت کے دَور شر وفساد میں ہی طاہِرہ کے پاکیزہ لقب سے مشہور ہو چکی تھیں۔
سرکارِ ابدِ قرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتۂ نِکاح میں منسلک ہونے سے پہلے دو۲ مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شادی ہو چکی تھی پہلے ابوہالہ بن زُرَارَہ تمیمی سے ہوئی اِس کے فوت ہو جانے کے بعد عتیق بن عابِد مخزومی سے،([23]) جب یہ بھی وفات پا گیا تو کئی رؤسائے قریش نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنۡہَا کو شادی کے لئے پیغام دیا لیکن آپ نے انکار فرما دیا اور کسی کا بھی پیغام قبول نہ کیا پھر خود سرکارِ دوعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شادی کی درخواست کی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حبالۂ عقد میں آئیں۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وِلادت باسعادت عامُ الْفِیْل سے 15 سال پہلے ہے۔([24]) نام خدیجہ، والِد کا نام خُوَیْلِد اور والِدہ کا نام فاطمہ ہے۔ والِد کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے: ”خُوَیْلِد بن اَسَد بن عَبْدُ الْعُزّٰی بن قُصَیّ بن کِلَاب بن مُرَّة بن کَعْب بن لُؤَیّ بن غالِب بن فَهِرّ“ اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے: ”فاطِمہ بنتِ زَائِدة بن اَصَمّ بن ھَرِم بن رواحہ بن حَجَر بن عَبْد بن مَعِیْص بن عامِر بن لُؤَیّ بن غالِب بن فَهِرّ“([25])
حضرتِ قُصَیّ بِنْ کِلَاب میں جا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ اس حوالے سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی نسبت سب سے کم واسِطوں سے آپ کا نسب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب سے ملتا ہے۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی کُنْیَت اُمُّ الْقَاسِم([26]) اور اُمِّ ھِند ہے۔([27]) لقب بہت سے ہیں جن میں سب سے مشہور الکبریٰ ہے۔ مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں آپ کو طاھِرہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔([28])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے فضائل و مناقِب بےشمار ہیں۔ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے بہت محبت تھی حتی کہ جب آپ کا وِصال ہو گیا تو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کثر ت سے آپ کا ذکر فرماتے اور اپنی بلند وبالا شان کے باوجود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سہیلیوں کا اکرام فرماتے۔ روایت میں ہے کہ بارہا جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس میں کوئی شے پیش کی جاتی تو فرماتے: اسے فلاں عورت کے پاس لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ کی سہیلی تھی، اسے فلاں عورت کے گھر لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ سے محبت کرتی تھی۔([29])
ایک بار حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن حضرتِ ہالہ بنتِ خُوَیْلِد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سرکارِ رِسالَت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بارگاہِ اقدس میں حاضِر ہونے کی اجازت طلب کی، ان کی آواز حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے بہت ملتی تھی چنانچہ اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا اجازت طلب کرنا یاد آ گیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جُھرجُھری لی ۔([30])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ان چار۴ خواتین میں سے ہیں جنہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنتی عورتوں میں سب سے افضل قرار دیا ہے، جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبد الله بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا سے رِوایَت ہے فرماتے ہیں کہ ایک بار رسولِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمین پر چار۴ خُطُوط (Line's) کھینچ کر فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہیں؟ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ”اَللہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جنتی عورتوں میں سب سے زِیادہ فضیلت والی یہ
عورتیں ہیں: (۱)...خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد
(۲)...فاطِمہ بنتِ مُحَمَّد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)
(۳)...فِرعون کی بیوی آسیہ بنتِ مُزَاحِم ([31])
(۴)...اور مَرْیَم بنتِِ عِمْران۔ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) ([32])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو دنیا میں رہتے ہوئے جنتی پھل سے لطف اندوز ہونے کا شرف بھی حاصل ہے چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو جنّتی انگور کِھلائے۔([33])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتہ
اِزدِواج میں منسلک ہونے کے بعد تاحیات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُعاملات میں آپ کی ممد ومُعَاوِن رہیں اور ہر قسم کی پریشانی میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غم گساری کرتی رہیں بالآخر نبوت کے دسویں سال، دس رَمَضَانُ الْمُبَارَک کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے داعِیِ اَجَل کو لبیک کہا اور اپنے آخِرت کے سفر کا آغاز فرمایا۔ بوقتِ وفات آپ کی عمر مُبارَک 65 برس تھی۔([34])
جس وَقْت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا وِصال ہوا اس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا اس لئے آپ پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی گئی۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”فِیْ الْوَاقِع (دَرْحقیقت) کُتُبِ سِیَر (سیرت کی کتابوں) میں عُلَماء نے یہی لکھا ہے کہ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے جنازۂ مُبَارَکہ کی نماز نہ ہوئی کہ اس وقت یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد اس کا حکم ہوا ہے۔“([35])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں واقع
حَجُوْن([36])کے مقام پر دفن کیا گیا۔ حُضُور رحمتِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بہ نفس نفیس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی قبر میں اترے([37]) اور اپنے مقدس ہاتھوں سے دفن فرمایا۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا وہ خوش نصیب اور بلند رتبہ خاتون ہیں جنہوں نے کم وبیش 25 برس تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِ اقدس میں رہنے کی سعادت حاصِل کی اور سِوائے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے کہ وہ حضرتِ ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے پیدا ہوئے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام اَوْلادِ اَطہار اِنہیں سے ہوئی([38]) آپ مؤمنین کی سب سے پہلی ماں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے والی سب سے پہلی خاتون ہیں۔ شہنشاہِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِکاح میں آنے سے پہلے دو۲ مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نِکاح ہو چکا تھا، پہلے ابوہالہ بن زُرَارَہ تمیمی سے ہوا۔ ابوہالہ سے دو۲ فرزند ہالہ اور ہِنْد پیدا ہوئے اور دونوں ایمان لا كر شَرَفِ صحابيت سے مُشَرَّف ہوئے۔([39]) ابوہالہ کی موت کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عتیق بن عابِد مخزومی سے نِکاح فرمایا، اس سے ایک لڑکی ہِنْدہ پیدا ہوئی، یہ بھی ایمان لا کر شرفِ صحابیت سے مُشَرَّف ہوئیں۔([40])
سرکارِ نامدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تین۳ شہزادے: (۱)...حضرت سیِّدنا قاسِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
(۲)...حضرت سیِّدنا عَبْدُ اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
(۳)...حضرت سَیِّدنا ابراھیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
اور چار۴ شہزادیاں: (۱)...حضرت سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۲)...حضرت سیِّدَتُنا رُقیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۳)...حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ کُلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
(۴)...حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا تھیں۔
اور سِوائے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے سب اولاد حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے ہوئی۔ شہزادگان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا عہدِ طُفُولیت میں ہی انتقال فرما گئے جبکہ چاروں شہزادیاں حیات رہیں اور بڑی ہو کر اپنے اپنے گھر والیاں ہوئیں۔ سِوائے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے تینوں شہزادیاں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عہدِ مُبَارَک میں ہی انتقال فرما گئیں، حضرتِ بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمانے کے چھ۶ ماہ بعد انتقال فرمایا۔([41]) اللہ رَبُّ الْعِزّت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! فُیُوضِ صحابہ وصحابیات وغیرہ اخیارِ امت سے فیض یاب ہونے کے لئے آپ بھی تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس مَدَنی ماحول کی برکت سے عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور ان صالحین اُمَّت کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کا ذہن بنتا ہے، آئیے! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر صحابہ وصالحین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم اَجْمَعِیْن سے فیض یاب ہونے والی
ایک اسلامی بہن کی قابلِ رشک مَدَنی بہار ملاحظہ فرمائیے اور جھومئے، چنانچہ مرکز الاولیا (لاہور) کی ایک ذمے دار اسلامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میری والِدہ ایک عرصے سے گُردوں کے مرض میں مبتلا تھیں۔ ربیع النُّور شریف کے پُرنور مہینے میں پہلی مرتبہ ہم ماں بیٹی دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے اللہ اللہ اور مرحبا یامصطفےٰ کی پُرکیف صداؤں سے گونجتے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع میں شریک ہوئیں۔ شرعی پردہ کرنے کے لئے مَدَنی بُرقع پہننے، آئندہ بھی سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے اور مزید اچھی اچھی نیتیں کر کے ہم دونوں گھر لوٹ آئیں۔ رات کے وقت امی جان کو یکایک دل کا دَورہ پڑا، سنّتوں بھرے اجتماع میں گونجنے والی اللہ اللہ کی مسحور کُن صداؤں کا نشہ گویا ابھی باقی تھا شاید اسی لئے میری امی جان اپنی زندگی کے آخری تقریباً 25 مِنَٹ اللہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا وِرْد کرتی رہیں اور پِھر ...پِھر...اُن کی رُوْح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔
؏ عَفْوْ فرما خطائیں مِری اے عَفُوّ!
شوق و توفیق نیکی کی دے مجھ کو تُو
جاری دل کر کہ ہر دم رہے ذکرِ ھُو
عادتِ بد بدل اور کر نیک خُو([42])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدنا اُبَیّ بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے بارگاہِ رِسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُود پڑھتا ہوں، آپ فرمائیں کہ میں ذکر و اوراد کا کتنا وقت دُرُود خوانی کے لئے مقرر کروں؟ فرمایا: جتنا تم چاہو۔ میں نے کہا: ایک چوتھائی...؟ فرمایا: جتنا چاہو، اگر اس سے بڑھا دو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: آدھا...؟ فرمایا: جتنا چاہو، اگر اور بڑھا دو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: دو۲ تَہائی...؟ فرمایا: جتنا چاہو، لیکن اگر اور اِضافہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: میں سارا وَقْت دُرُود ہی پڑھوں گا۔فرمایا: تب یہ تمہارے غموں کو کافی ہو گا اور تمہارے گناہ مِٹا دے گا۔([43])
؏ ہر درد کی دوا ہے صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد
تعویذِ ہر بَلا ہے صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد([44])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
چھٹی صدی عیسوی جب انسان جاہلیت کے زمانۂ شروفساد میں اپنی حَیَات کے قیمتی ایّام غفلت میں پڑے بسر کر رہا تھا اور اس کا رُواں رُواں کفر وشرک کی نجاستوں سے لِتھڑا ہوا تھا تب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عرب کے ریگ زاروں([45]) اور کوہساروں([46]) میں اپنے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مبعوث فرمایا۔ آفتابِ رِسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارگاہِ ربُّ الْاَنام عَزَّ وَجَلَّ سے وہ پیارا دین اسلام لے کر اس کرۂ ارضی پر تشریف لائے جس نے اپنے نُور سے جاہلیت کے اندھیروں کو دُور کر دیا اور شرک وکفر کی تاریکیوں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو توحید وایمان کے انوار سے جگمگا کر راہِ ہِدایت پر گام زَن کیا۔
السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اِعْلانِ نبوت فرمایا اور لوگوں کو قبولِ اسلام کی دعوت دی تو بغض وحَسَد سے پاک دل رکھنے والی نیک طینت ہستیوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ حق پر لبیک کہا، ان کے اَعْضا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِطاعت کے لئے جھک گئے اور قُلُوب واذہان (دل ودماغ) دین اسلام کی خدمت کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح یہ پاک باز ہستیاں کفر وجہالت کی تاریکیوں سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آ گئیں۔ ان میں سے وہ حضرات جنہوں نے اسلام کو اس کے ابتدائی دنوں میں قبول کیا، قرآنِ
کریم نے اِنہیں اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے دل نشین خطاب سے نوازا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تین۳ عظیم وجلیل بشارتیں بھی سنائیں کہ
}اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن سے راضی ہے۔
}وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی ہیں۔
}اُن کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں گے۔
چنانچہ پارہ گیارہ ، سورۂ توبہ، آیَت نمبر 100 میں ہے:
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ۱۱،التوبة:۱۰۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور سب میں اگلے پہلے مُہاجِر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے، اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لئے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
یہ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ جنہوں نے اِسلام کو اس کے ابتدائی ایّام میں قبول کیا اور سب سے پہلے حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت ورِسالت کی گواہی دی، اِن میں سے جلیل القدر صَحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدنا سُھَیْل بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ کے بھائی حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ اور آپ کی زَوْجہ
حضرتِ سیِّدَتُنا سَوْدَہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی تھیں۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہ وہ دَور تھا کہ جب اِسلام کے جِلَوْ (ہم راہی) میں آنے والوں کو ہر طرح سے ستایا جاتا تھا اور اس کی ایذا رسانی میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی جاتی تھی، ایسے پُرآشوب دَور میں یہ نیک سیرت وپاک طبیعت ذواتِ مُقَدَّسہ اِسلام کے دامن رحمت سے وابستہ ہوئیں اور اس پختگی کے ساتھ وابستہ رہیں کہ کفر وشر کے تُند وتیز جھونکے بھی ان کے پایۂ ثبات (استقامت) میں لَغْزِش نہ لا سکے۔
جب دین اسلام کے پیروکاروں پر کفار کی جانب سے جور وسِتَم کی انتہا ہو گئی اور ان کے مظالم نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا تو غم گسارِ جہاں، شفیع مُذنِباں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان دین اسلام کے فِدائیوں کو یہ کہتے ہوئے سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت کی اِجازت مرحمت فرما دی کہ ”اِنَّ بِاَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكًا لَا يُظْلَمُ اَحَدٌ عِنْدَهٗ فَالْحَقُوْا بِبِلَادِهٖ حَتّٰى يَجْعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ فَرَجًا وَّمَخْرَجًا مِمَّا اَنْتُمْ فِيْهِ سرزمین حبشہ میں ایسا عادِل بادشاہ ہے کہ اس کے ہاں کسی پر ظُلْم نہیں کیا جاتا، تم لوگ اس کے ملک میں چلے جاؤ حتی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لئے کُشَادْگی اور اِن مَصائِب سے نکلنے کا راستہ بنا دے جس میں تم مبتلا ہو۔“([47])
کُفَّارِ مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو اُن ظالموں نے اِن لوگوں کی گِرِفتاری کے لئے اِن کا تَعَاقُب کیا لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے۔ یہ مُہَاجِرین کا قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اتر کر امن وامان کے ساتھ خدا کی عِبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں بعد ناگہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفارِ مکہ مسلمان ہو گئے۔ یہ خبر سن کر چند لوگ حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آ کر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔ چنانچہ بعض لوگ تو پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں رُوپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفارِ مکہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظُلْم ڈھانے لگے تو حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے پھر لوگوں کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ سے واپس آنے والے اور ان کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی (۸۳) مَرد اور اٹھارہ عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔([48]) اِس دوسری بار کی ہجرت میں حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ اور آپ کی زوجہ حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی شریک ہوئے۔([49])
ہجرت کے کچھ عرصہ بعد حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے شوہر
حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ کے ساتھ مکہ مُعَظَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً واپس آ گئیں۔([50]) اس وَقْت بھی کُفَّارِ ناہنجار مسلمانوں کی ایذا رسانی میں اسی طرح سرگرم تھے اور ان کی تکلیف دہی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ لیکن یہ دونوں مقدس ہستیاں سرکارِ رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قرب سے فیض یاب ہونے کے لئے مکہ میں رہائش پذیر دیگر مسلمانوں کے ساتھ یہیں مقیم ہو گئیں اور کفارِ بداطوار کے ظلم وستم نہایت صبر وتحمل سے سہتی رہیں لیکن اپنے ایمان کے لہلہاتے ہوئے چمن کو شرک وکفر کی آگ کی ہلکی سی آنچ تک نہ آنے دی۔
ایک رات حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے خواب دیکھا کہ شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیدل چلتے ہوئے اِن کی طرف مُتَوجِّہ ہوئے حتی کہ اپنے پائے اقدس ان کی گردن پر رکھتے ہوئے گزر گئے۔ جب آپ نے اپنے شوہر (حضرتِ سَکْرَان بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ) کو اس خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: اگر تمہارا خواب سچا ہے تو عنقریب میں یقینی طور پر وفات پا جاؤں گا اور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تجھ سے نِکاح فرمائیں گے۔
پھر ایک دوسری رات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے خواب دیکھا کہ چاند ٹوٹ کر
آپ پر گِر پڑا ہے اور آپ کروٹ کے بل لیٹی ہوئی ہیں۔ بیدار ہونے پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اس خواب کا بھی اپنے شوہر سے تذکِرہ کیا۔ انہوں نے کہا: اگر تیرا خواب سچا ہے تو میں بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد شادی کرو گی۔([51])
جس دن حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنا دوسرا خواب بیان کیا تھا اسی دن حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ بیمار ہو گئے، کچھ دن بیمار رہے اور پھر بہت جلد اس دارِ ناپائیدار سے رخصت ہو کر دارِ آخرت کی طرف کوچ فرما گئے۔([52])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذرا غور فرمائیے! سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے وہ لمحات کس قدر غم انگیز اور تکلیف دِہ ثابت ہوئے ہوں گے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے شوہر نامدار حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُوفات پا گئے تھے، یقیناً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر مَصائب و آلام کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو گا اور پھر ایسے میں کہ جب کوئی ہم ساز وہم خیال بھی پاس موجود نہ ہو تو
مصیبت میں اور اِضافہ ہو جاتا ہے، ایسے تکلیف دِہ حالات میں بڑے بڑے سُورْماؤں (بہادروں) کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور پایۂ ثبات میں لرزِش آجاتی ہے، لیکن قربان جائیے حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عزم واستقلال اور استقامت عَلَی الْاِسْلام پر کہ ایسے جاں سوز اور روح فرسا اوقات میں بھی زبان پر حرفِ شِکایَت نہ آنے دیا اور سینہ سِپَر ہو کر تمام مصائب وآلام کا مقابلہ کیا۔ حبیبِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا مُشَرَّف ہونا اگرچہ بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں منظور ہو چکا تھا لیکن سوال یہ اٹھتا تھا کہ ایسا کیسے ہو...؟
ان دنوں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ان سے کچھ روز پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا ابوطالِب کے وفات پاجانے کی وجہ سے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت زِیادہ مغموم اور رنجیدہ خاطِر تھے کیونکہ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی محبوب زوجہ مطہرہ ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسالت پر عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُوْنِس وغم خوار اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بچوں کی والِدہ تھیں اور ابوطالِب بھی ہر مشکل گھڑی میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدد کرتے تھے، چنانچہ تین۳ یا پانچ۵ روز کے فاصلے سے یکے بعد دیگرے ان دونوں
کا انتقال کر جانا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے بڑا دل دَوز سانحہ تھا اور اسی باعث آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سال کو غم واَلَم کا سال قرار دیا چنانچہ روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے عَامُ الْحُزْن کا نام دیا۔([53]) جس کا مطلب ہے: غم وپریشانی کا سال۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس میں حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جو قدر ومَنْزِلَت تھی صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اسے جانتے تھے اس لئے وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَفْسُرْدَگی کی وجہ سے بھی بخوبی واقِف تھے، چنانچہ
ایک دن جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُکی زَوْجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا خولہ بنتِ حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بارگاہِ رِسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو کر عرض گزار ہوئیں: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا خیال ہے کہ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نہ ہونے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تنہائی نے آ لیا ہے؟ فرمایا: ہاں! وہ میرے بچوں کی ماں اور گھر کی نگہبان تھی۔([54]) حضرتِ سیِّدَتُنا خولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عرض کیا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شادی کیوں نہیں فرما لیتے؟ استفسار فرمایا: کس سے؟ عرض کیا: اگر چاہیں تو باکِرہ (کنواری)
سے اور اگر چاہیں تو ثَیِّبَہ (یعنی طلاق یافتہ یا بیوہ) سے۔ فرمایا: باکِرہ کون ہے؟ عرض کیا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سب سے زیادہ محبوب شخص کی شہزادی عائشہ بنتِ ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا۔ پھر فرمایا: ثَیِّبَہ کون ہے؟ عرض کیا: سَودہ بنتِ زَمَعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائی ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین کی پیروی کرتی ہیں۔ اس پر حُضُورِ اقدس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اِرشاد فرمایا: جاؤ! دونوں کو میری طرف سے نِکاح کا پیغام دے دو۔
سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے اِجازت پا کر حضرتِ سیِّدَتُنا خَولہ بنتِ حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہاں تشریف لے گئیں، اِن کے والِدَین سے اس سلسلے میں بات چیت کی پھر حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس آ کر کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں کیا خوب خیر وبرکت عطا فرمائی ہے۔ حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: مجھے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے نِکاح کا پیغام دوں۔ حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے فرمایا: میں چاہتی ہوں کہ تم میرے والِد کے پاس جا کر اِنہیں یہ بات بتاؤ۔
حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے والِد بہت زیادہ بوڑھے تھے انہیں اس
قدر بڑھاپا آیا ہوا تھا کہ حج بھی ادا نہ کر سکے تھے۔ حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بات سن کر حضرتِ خَولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اِن کے پاس تشریف لے آئیں اور زمانۂ جاہلیت کے دستور کے مُطابِق سلام کیا۔ اُنہوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: خولہ بنتِ حکیم۔ پوچھا: کیا کام ہے؟ کہا: مجھے حضرتِ مُحَمَّد بن عَبْدُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے سَودہ کو نِکاح کا پیغام دوں۔ اس پر اُنہوں نے کہا: کفو([55]) تو اچھا ہے، تمہاری سہیلی (یعنی حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ حضرتِ سیِّدَتُنا خولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے فرمایا:انہیں یہ رشتہ پسند ہے۔ کہا: اسے میرے پاس بُلا لاؤ۔
حضرتِ سیِّدَتُنا خَولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ میں حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ان کے والِد کے پاس لائی تو وہ حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کہنے لگے: اے میری بچی! یہ کہتی ہیں کہ مُحَمَّد بن عَبْدُ اللہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم) نے تمہاری طرف نِکاح کا پیغام بھیجا ہے، وہ اچھے کفو ہیں، کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہاری شادی اُن سے کر دوں؟ حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جواب دیا: جی ہاں۔
حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی رائے معلوم کرنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے والِد زَمعَہ بن قیس کہنے لگے: اِنہیں (یعنی رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو) میرے پاس بُلا لائیے۔ جب سَیِّدُ الثَّقَلَیْن، نَبِیُّ الْحَرَمَیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو انہوں نے حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کر دیا۔([56]) اور اس طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آکر اُمَّہَاتُ المؤمنین کی فہرست میں شامِل ہو گئیں۔ اعلانِ نبوت کے 10ویں سال، شوال المکرم کے مہینے میں حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح فرمایا۔([57])
؏ہ نساءِ نبی طیِّبات و خلیق
جن کے پاکیزہ تر سارے طَور و طریق
جو بہرحال نُورِ خُدا کی رفیق
اہلِ اِسلام کی مادَرانِ شفیق
بانُوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام([58])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا ایک بھائی عَبْد بن زَمعَہ جو اِن دِنوں حج کے لئے گیا ہوا تھا (اور ابھی تک مُشَرَّف بہ اسلام نہیں ہوا تھا)، جب وہ واپس آیا اور اِسے حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کا عِلْم ہوا تو غیظ وغضب اور رنج وملال کے سبب اپنے سر میں خاک ڈالنے لگا۔([59])
پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی بصارت وبصیرت کو نورِ اِسلام سے روشن کر دیا اور وہ قبولِ اسلام سے مُشَرَّف ہوئے، کفارِ ناہنجار کے معبودانِ باطلہ کے منکر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایک اور معبودِ حقیقی ہونے کے معتقد ہوئے اور حُضُور سرورِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسالت پر ایمان لا کر تمام عقائدِ اِسلامیہ کے مُعْتَرِف ہوئے تو اپنی اس گُزَشتہ حرکت پر نادِم وپشیمان ہوتے ہوئے کہا: ”لَعَمْرُكَ اِنِّیْ لَسَفِيْهٌ يَّوْمَ اَحْثِىْ فِیْ رَاْسِیْ التُّرَابَ اَنْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قسم ہے زندگی کی! اُس دن میں نادان اورکم عقل تھا کہ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ساتھ نِکاح کرنے کی وجہ سے میں نے اپنے سر میں مٹی ڈالی تھی۔“([60])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! کفر ایک تاریک کھائی اور اسلام ایک روشن مَنارہ ہے، کفر اپنے مقتداؤں (پیروکاروں) کو جہنّم کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسلام کا پیروکار جنت کی اَبَدی وسَرْمَدی نعمتوں سے فلاح یاب ہوتا ہے، کفر پر اِصرار ابوجہل جیسا بدبخت بناتا اور اسلام پر استقامت کے ساتھ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دیدار صحابیت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرماتا ہے۔ کسی نے کیا خوب فرمایا ہے:
؏ لَعَمْرُكَ مَا الْاِنْسَانُ اِلَّا بِدِيْنِهِ
فَلَا تَتْرُكِ التَّقْوىٰ اِتَّكَالًا عَلَى النَّسَبِ
لَقَدْ رَفَعَ الْاِسْلَامُ سَلْمَانَ فَارِسِ
وَقَدْ وَضَعَ الشِّرْكُ الشَّقِیَّ اَبَا لَهَبِ([61])
یعنی قسم ہے زندگی کی! انسان دین کے بغیر کچھ بھی نہیں لہٰذا تم نسب پر بھروسا کرتے ہوئے تقویٰ کو ترک مت کرو کہ اِسلام نے حضرتِ سیِّدُنا سَلْمَان فارِسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو بلند فرما دیا اور شرک نے ابولہب کو بدبخت بنا دیا۔
جب مسلمانوں کو مُشْرِکِین کی طرف سے ایذائیں دئیے جانے کا سلسلہ بہت طویل ہو گیا اور ان کے ظلم وسِتَم سے مسلمانوں پر عرصۂ حَیَات تنگ ہو گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کا اپنے پیارے وطن مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں زندگی بسر کرنا دُوْبَھر (دُشْوار) ہو گیا تو سَیِّدُالْمُرْسَلِیْن، خاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کو مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِـیْمًا کی طرف ہجرت کی اِجازت مرحمت فرما دی اور کچھ روز بعد خود بھی ہجرت فرما کر مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا تشریف لے گئے اور اس کے گلی کوچوں کو اپنے جلوؤں سے جگمگانے لگے۔ مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں قیام پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد حُضُورِ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ زَیْد بن حارثہ اور اپنے غُلام حضرتِ ابورَافِع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کو 500 دِرْہَم اور دو۲ اونٹ دے کر مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا بھیجا اور یہ حضرتِ فاطمہ، حضرتِ اُمِّ کلثوم، حضرتِ سَودہ بنتِ زَمعَہ، حضرتِ اُسَامہ اور حضرتِ اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم کو لے کر مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا آ گئے۔ جب یہ حضرات مدینہ شریف پہنچے ان دِنوں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجدِ نَبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اس کے گِرد حجروں کی تعمیر فرما رہے تھے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنہیں حجروں میں اپنے اہل وعیال کو ٹھہرایا۔([62])
مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں قیام کے کچھ عرصہ بعد تک تو صرف حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہی حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہیں پھر سات۷ یا آٹھ۸ ماہ بعد حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی رخصت ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضِر ہو گئیں۔([63]) اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پے در پے متعدد نِکاح فرمائے اور کئی خواتین کو شرفِ زوجیت سے نوازا۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت ہی دین دار اور سلیقہ شِعار خاتون تھیں، کاشانۂ نَبَوی میں آنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہمیشہ رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا کے حُصُول کے لئے کوشاں رہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا یہ بات یقینی طور پر جانتی تھیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب ازواج سے زیادہ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے محبت فرماتے ہیں نیز عمر رسیدہ ہونے کے سبب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ اندیشہ بھی ہوا کہ کہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے طلاق نہ دے دیں چنانچہ آپ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کے قلبِ اقدس میں فرحت وسُرور داخِل کرنے اور اپنا اندیشہ دُور کرنے کی غرض سے اپنی باری کا دن بھی اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہبہ کر دیا جیسا کہ ترمذی شریف کی رِوایَت میں حضرتِ سیِّدنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں طلاق دے دیں گے تو انہوں نے عرض کیا: (یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!) مجھے طلاق مت دیجئے گا، مجھے اپنی زوجیت میں ہی رکھئے اور میری باری کا دن حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے مقرر فرما دیجئے۔ رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے منظور فرما کر ایسا ہی کیا۔([64])
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے محض سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا وخوش نُودی پانے اور بروزِ قیامت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں اُٹھنے کے لئے جس عظیم ایثار وقربانی کا مُظاہَرہ فرمایا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا سینہ محبتِ رسول کا خزینہ تھا اور اتنی بڑی قربانی دے کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے وہ اعلیٰ تاریخ رقم کی ہے جس کی مثال نادر ونایاب ہے۔ اےکاش! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عشقِ رسول کا ایک ذرّہ ہمیں بھی نصیب ہو جائے اور ہم گناہ ونافرمانیوں سے کنارہ کَش ہو کر عَمَلی طور پر سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُطِیع وفرمانبردار ہو جائیں۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جس والہانہ محبت وعقیدت سے سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاداری وخدمت گزاری کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ گُزَشتہ صفحات میں آپ نے ان کی پاکیزہ سیرت کے چند سنہری عنوان ملاحظہ کئے، آئیے! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نام ونسب اور خاندان کے حوالے سے چند ابتدائی باتیں بھی معلوم کرتے جائیے، چنانچہ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نام سَوْدَہ، والِد کا نام زَمعَہ اور والِدہ کا نام شَمُوْس ہے۔ والِد کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے: ”زَمعَه بن قیس بن عَبْدِ شَمْس بن عَبْدِ وُدّ بن نصر بن مالِک بن حِسْل بن عامر بن لُؤَیّ“ اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے: ”شَمُوْس بنتِ قیس بن زید بن عَمْرو بن لَبِیْد بن خِرَاش بن عامر بن غنم بن عَدِی بن نجار۔“
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی کنیت اُمِّ اَسْوَد ہے۔([65])
حضرتِ لُؤَیّ میں جا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔([66]) حضرت لُؤَیّ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے 9ویں جدِّ محترم ہیں۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا طویل القامت اور بھاری جسم کی حامِل تھیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پہلے شوہر حضرتِ سیِّدنا سَکران بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے آپ کے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عَبْدُالرَّحْمٰن رکھا گیا۔([67])
احادیث کی رائج کتابوں میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے مروی احادیث کی تعداد پانچ۵ ہے جن میں سے ایک بخاری شریف میں ہے باقی سُنَنِ اَرْبَعَہ (یعنی احادیث کی چار۴ مشہور کِتابوں سنن ابوداؤد، سنن تِرمِذی، سنن ابنِ ماجہ اور سنن نسائی) میں ہیں۔([68])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ڈھیروں ڈھیر فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندان کے بیشتر افراد کو رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی ہونے کا شَرَف حاصل ہے، ان میں سے تین۳ کا یہاں ذِکْر کیا جاتا ہے، چنانچہ
یہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدار کر کے شَرَفِ صحابیت سے مُشَرَّف ہوئے۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ ان کی والِدہ عاتکہ بنتِ اَخْیَف ہیں۔([69])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھائی ہیں۔ قدیمُ الْاِسْلام صحابی ہیں اور ہجرتِ حبشہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک ہوئے۔([70])
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ انہیں کے بارے میں حضرت عَبْد بن زَمعَہ اور حضرت سعد بن
ابووقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کے درمیان اختلاف ہوا تھا۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کہتے تھے کہ یہ میرے بھتیجے ہیں اور حضرت عَبْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔ مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فیصلہ کرتے ہوئے حضرتِ عَبْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے فرمایا: اے عَبْد بن زَمعَہ! یہ تمہارا بھائی ہے۔([71])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنے اعلیٰ اوصاف اور حُسْنِ اخلاق کی بدولت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پسندیدہ شخصیت بن چکی تھیں حتی کہ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بعض اوقات یہاں تک فرماتیں: ”مَا رَاَيْتُ امْرَاَةً اَحَبَّ اِلَیَّ اَنْ اَكُونَ فِیْ مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ میں نے ایسی کوئی عورت نہیں دیکھی جس کے طریقے پر ہونا مجھے سودہ بنتِ زمعہ کے طریقے پر ہونے سے زِیادہ محبوب ہو۔“([72])
یہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ اور اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کے درمیان محبت ہی کا اثر تھا جو بعض اوقات آپس میں مزاح (خوش طبعی) کا سبب بنتا تھا، چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ میں ایک دفعہ مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے خَزِیْرہ([73])پکا کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لائی (وہاں حضرتِ سودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی موجود تھیں) میں نے حضرت سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کہا: اسے کھاؤ۔ انہوں نے انکار کیا۔ میں نے دوبارہ کہا: اسے کھاؤ ورنہ میں اسے تمہارے چہرے پر مَل دُوں گی۔ انہوں نے پھر انکار کیا تو میں نے اپنا ہاتھ خَزِیْرہ میں ڈالا اور اسے حضرت سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چہرے پر مَل دیا۔ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرانے لگے پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دستِ اقدس سے حضرتِ سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے خَزِیْرہ ڈال کر ان سے فرمایا: تم بھی اسے عائشہ کے منہ پر مَل دو اور پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرانے لگے۔([74])
یاد رہے کہ مزاح کرنا اگرچہ مباح ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ نہ تو اس میں جھوٹ شامل ہو اور نہ اس سے کسی کا دل دُکھے۔ نیز بہت کثرت سے
مزاح کرنے کو بھی عُلَمائے دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے ناپسند فرمایا ہے، حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدنا امام ابوحامِد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْوَالِی فرماتے ہیں: مزاح میں اِفْرَاط (حد سے بڑھنا) زِیَادہ ہنسنے کا باعِث ہوتا ہے اور زِیادہ ہنسنا دل کو مُردہ کرتا، بعض حالتوں میں کینہ (چھپی دشمنی) اور بُغْض و عداوت پیدا کرتا اور شخصیت کے ہیبت و وَقار کو گراتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں: اگر تم ایسا مزاح کر سکتے ہو جیسا حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن فرمایا کرتے تھے تو اس میں کوئی حَرَج نہیں، ان حضرات کا مزاح ایسا ہوتا تھا کہ مزاح میں بھی ہمیشہ سچ بولتے، نہ کسی کا دل دُکھاتے اور نہ حد سے بڑھتے بلکہ کبھی کبھار ہی کیا کرتے۔ لیکن یہ بہت بڑی غَلَطی ہے کہ انسان مزاح کو پیشہ بنا لے، ہمیشہ اور بہت زِیادہ کرے پھر سیِّد عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فعل مُبارَک کو دلیل بنائے۔([75])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نِہَایَت کریم وسخی خاتون تھیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو سخاوت کی نعمت سے بھی بہت نوازا تھا۔ ایک دفعہ کا ذِکْر ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس درہموں سے بھرا ہوا ایک بڑا سا تھیلا
بھیجا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پوچھا: یہ کیا ہے؟کہا: درہم۔ اس پر آپ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: کھجوروں کی طرح اتنے بڑے تھیلے میں...!! پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے یہ سب دِرْہَم راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں تقسیم فرما دئیے۔([76])
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 397 صفحات پر مشتمل کتاب ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ کے صفحہ 102 پر شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقل فرماتے ہیں: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرض حج ادا کر چکی تھیں۔ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے دوبارہ نفلی حج وعمرہ کے لئے عرض کی گئی تو فرمایا کہ میں فرض حج کر چکی ہوں۔ میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے گھر میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب میرے بجائے میرا جنازہ ہی گھر سے نکلے گا۔ راوی فرماتے ہیں: خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس کے بعد زندگی کے آخری سانس تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا گھر سے باہر نہیں نکلیں۔([77])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ جب اس پاکیزہ دَور میں بھی اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پردے کے مُعَاملے میں اس قدر احتیاط تھی تو آج اس گئے گزرے دَور میں جس میں پردے کا تَصَوُّر ہی مٹتا جا
رہا ہے، مرد وعورت کی آپسی بےتکلفی اور بدنگاہی کو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عیب ہی نہیں سمجھا جا رہا ایسے نامُسَاعِد حالات میں ہر حیا دار وپردہ دار اسلامی بہن سمجھ سکتی ہے کہ اس کو کتنی محتاط زندگی گزارنی چاہئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سَیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پاکیزہ حَیَات کے چند نمایاں پَہْلو
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا حُضُور سیِّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ مطہرہ اور اُمُّ المؤمنین (تمام مؤمنوں کی امی جان) ہیں۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے کم وبیش تین۳ برس رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کاشانۂ اقدس میں ایسے گزارے کہ اس عرصے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کاشانۂ اقدس میں اور کوئی زوجہ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نہیں تھیں۔([78])
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس میں خوشی داخِل کرنے کے لئے اپنی باری کا دن حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے ایثار کر دیا تھا۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ان چھ۶ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سے ہیں جن کا تَعَلُّق قبیلہ قریش سے تھا۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا صَاحِبَۃُ الْھِجْرَتَیْن ہیں کہ پہلے حبشہ کی طرف ہجرتِ ثانیہ (دوسری ہجرت) میں شرکت فرمائی اور پھر شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آنے کے بعد مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی طرف ہجرت کی۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ہیں۔([79])
رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتۂ اِزْدِواج میں مُنْسَلِک ہونے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا تاحَیَات سرورِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت گزاری میں کوشاں رہیں، ہر ممکن طریقے سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دل جُوئی میں مصروف رہیں حتی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس میں خوشی داخِل کرنے کے لئے اپنی باری کا دن بھی اُمُّ المؤمنین، زوجۂ سیِّد المرسلین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہبہ کر دیا۔ بالآخر زمانۂ سلطنت حضرتِ امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ میں شوال المکرم 54ھ کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پیکِ اَجَل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے آخرت کے سفر کا آغاز فرمایا۔([80])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پاکیزہ حَیَات کے چند حسین باب ملاحظہ کئے، اس میں بِالْخُصُوص اسلامی بہنوں کے لئے رہنمائی کے بے شُمار مَدَنی پُھول ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سیرت کا مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ رِضائے رسول کو ہر چیز پر مُقَدَّم جانا جائے، کیسی ہی مشکل اور کٹھن گھڑی کیوں نہ ہو صبر وشکیبائی کا دامن ہرگز نہ چھوڑا جائے۔ یاد رکھئے! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سیرتِ طَیِّبہ پر عمل کرنے والی اسلامی بہن خود کو اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُقَرَّب بندی اور اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہیں۔ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کا مَدَنی ماحول اسی بات کا خواہاں ہے کہ تمام اسلامی بہنیں صحابیات وصالحات کی سیرتِ پاک کی روشنی میں زندگی گزارنے والی بن جائیں اور ان کی زندگی قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھل جائے۔ آپ بھی اس مَدَنی ماحول سے ہردم وابستہ رہئے، ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت کیجئے اور فکرِ مدینہ کرتے ہوئے روزانہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرنے کا معمول بنا لیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے پابندِ سنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنے گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭…٭…٭…٭…٭…٭
سیرتِ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا[81]
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 25 صَفْحات پر مشتمل رِسالے ”غفلت“ کے صفحہ ایک پر شیخ طریقت، امیرِ اہلسنت حضرتِ علّامہ ابوبِلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ دُرُود شریف کی فضیلت نقل کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عافیت نِشان ہے: ”اے لوگو! بے شک بروزِ قیامت اُس کی دہشتوں اور حِساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہو گا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُود شریف پڑھے ہوں گے۔“([82])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! تاریخِ اسلام کی وہ عظیم القدر ہستیاں جن کے عِلْم کے نور سے زمانہ آج بھی پُرنور ہے اور وہ اپنے اعلیٰ اخلاق اور عمدہ اوصاف کی وجہ سے آج بھی اُسی طرح زندہ وجاوید ہیں جیسے ظاہِری حَیَات میں تھیں ان میں سے ایک بلند رتبہ ذات اُمُّ المؤمنین، زَوْجۂ سیِّدُ المرسلین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ہے۔ امت کی اس عظیم ماں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس قدر
کثیر فضائل سے نوازا ہے جس کا اِحاطہ وشُمار ممکِن نہیں، ایک یہی فضیلت کیا کم ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سرکارِ عالی قار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے محبوب زوجہ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہیں۔ مزید یہ کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پاک دامنی کی گواہی خود ربّ تعالیٰ نے دی اور اس کے لئے قرآنِ کریم کی 18 آیات نازِل فرمائیں، آپ کو حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے سلام کہا، آپ کے بستر اقدس میں رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر وحی نازِل ہوئی، آپ ہی کے حجرۂ اقدس میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا سے ظاہِری پردہ فرمایا، یہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مزارِ اقدس بنا اور قیامت تک یہ مزارِ اقدس فِرِشتوں کے جھرمَٹ میں گھِرا رہے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر کروڑہا کروڑ رحمتیں اور بَرَکَتیں نازِل فرمائے۔ آئیے! اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سیرت کے چند حسین گوشوں کے بارے میں پڑھئے اور ان سے حاصِل ہونے والے مَدَنی پُھولوں سے اپنی سوچ وفکر کو مہکائیے، چنانچہ
سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اپنی نبوت ورسالت کا اِعْلان فرمایا اور لوگوں کو بتوں کی پوجا پاٹ سے کنارہ کش ہونے اور خالِقِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کرنے کی دعوت دی تو شرک وکفر میں پَروان چڑھے لوگوں کی طبیعتوں پر یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دشمن ہو گئے۔ اس شر وفتنہ سے بھرپور دَور میں کچھ حضرات ایسے بھی تھے کہ جب ان تک
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعلانِ نبوت کی خبر پہنچی تو وہ بغیر کسی حیل وحجت کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لا کر اسلام کے سایۂ رحمت میں داخِل ہو گئے۔ ان میں سے ایک نمایاں نام امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا ہے۔ دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہوتے ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے تبلیغ دین کا آغاز فرما دیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی دعوت کی بدولت بہت سے افراد مُشَرَّف بہ اسلام ہو کر اَجِلَّہ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم کی فَہْرِسْت میں شامِل ہوئے۔
بعثت نبوی کے چوتھے سال جب حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے گھر میں اسلام کا نور داخِل ہو چکا تھا تب اس بابرکت گھرانے میں حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وِلادت ہوئی۔([83]) اس طرح سے آپ رَضِـیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ اسلامی ماحول میں ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پیدائش ہوئی، اسی ماحول میں شُعُور کی آنکھ کھولی اور اسی ماحول میں پَروان چڑھیں۔
اعلانِ نبوت کے 10ویں سال، 10رَمَضَانُ الْمُبَارَک کو جب حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عمر تقریباً چھ۶ برس تھی، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہو گیا، ان کے انتقال سے
تین۳ دن پہلے ابوطالِب بھی وفات پا چکے تھے۔ ابوطالِب اور حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وفات کے بعد رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت رنجیدہ ومغموم رہنے لگے تھے۔([84]) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس میں حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جو قدر ومنزلت تھی صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اسے جانتے تھے اس وجہ سے وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَفْسُرْدَگی کی وجہ سے بھی بخوبی واقِف تھے، چنانچہ
ایک دن جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُکی زَوْجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا خولہ بنتِ حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بارگاہِ رِسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو کر عرض گُزار ہوئیں: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا خیال ہے کہ حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نہ ہونے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تنہائی نے آ لیا ہے؟ فرمایا: ہاں! وہ میرے بچوں کی ماں اور گھر کی نگہبان تھی۔([85]) حضرتِ سیِّدَتُنا خولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عرض کیا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شادی کیوں نہیں فرما لیتے؟ استفسار فرمایا: کس سے؟ عرض کیا: اگر چاہیں تو باکِرہ (کنواری) سے اور اگر چاہیں تو ثَیِّبَہ (یعنی طلاق یافتہ یابیوہ) سے۔ فرمایا: باکِرہ کون ہے؟ عرض کیا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
مخلوق میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سب سے زِیادہ محبوب شخص کی شہزادی عائشہ بنتِ ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا۔ پھر فرمایا: ثَیِّبَہ کون ہے؟ عرض کیا: سودہ بنت زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائی ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین کی پیروی کرتی ہیں۔ اس پر حُضُورِ اقدس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اِرشاد فرمایا: جاؤ! دونوں کو میری طرف سے نِکاح کا پیغام دے دو۔
سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے اِجازت پا کر حضرت سیِّدَتُنا خَولہ بنتِ حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہاں تشریف لے گئیں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی والِدہ ماجِدہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ رُوْمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کہا: اے اُمِّ رُوْمان! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم لوگوں کو کیا خوب خیر وبرکت عطا فرمائی ہے...!! حضرتِ اُمِّ رُوْمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: مجھے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھیجا ہے تا کہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے نِکاح کا پیغام دوں۔ حضرتِ اُمِّ رُوْمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے فرمایا: آپ، حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے آنے کا انتظار کیجئے۔ جب حضرت سیِّدُنا صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ تشریف لائے تو صورتِ حال معلوم ہونے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے فرمایا: کیا عائشہ کا حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِکاح
ہو سکتا ہے کیونکہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بھائی کی بیٹی (یعنی بھتیجی) ہے؟ حضرتِ سیِّدَتُنا خولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو کر حضرتِ صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا یہ سوال عرض کیا تو مکی مَدَنی سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر کے پاس لوٹ جاؤ اور اس سے کہو کہ میں تمہارا بھائی اور تم میرے بھائی اسلامی رشتے کے اعتبار سے ہو لہٰذا تمہاری بیٹی کا نِکاح مجھ سے ہو سکتا ہے۔ حضرت سیِّدَتُنا خولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو بتایا اور پھر اُنہوں نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کر دیا۔([86]) اور اس طرح حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آ کر اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی فَہْرِسْت میں شامِل ہو گئیں۔ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وفات کے چند ہفتوں بعد، شوال المکرم کے مہینے میں حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح فرمایا تھا لیکن اِس وَقْت رخصتی عمل میں نہیں آئی بلکہ رخصتی بعد میں ہوئی۔([87])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! بیان کی گئی روایت میں حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر
صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھائی کہنے کا ذِکْر گزرا، یاد رہے! یہاں حُضُور رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے اس لفظ کا استعمال مسئلہ دَرْیَافْت کرنے کے لئے ضرورتاً تھا ورنہ عام حالات میں اور بِلاضرورت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھائی کہہ کر پکارنا یا عام گفتگو میں بھائی کہنا اہل اسلام کے عقیدے میں حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے، چنانچہ مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بشر یا بھائی کہہ کر پکارنا یا مُحاوَرہ میں نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو یہ کہنا حرام ہے، عقیدہ کے بیان یا دَرْیَافْتِ مسائل کے اور احکام ہیں۔ یہاں ضرورتاً اس کلمہ کا استعمال فرمایا ہے (کہ) حضرتِ صِدِّیْقِ اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ) نے مسئلہ دَرْیَافْت کیا کہ حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے مجھے خِطابِ اُخُوَّت سے نوازا ہے، کیا اس خِطاب پر حقیقی بھائی کے احکام جاری ہوں گے یا نہیں اور میری اولاد حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو حلال ہو گی یا نہیں؟([88])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے ماں باپ کے
گھر میں ہی تھیں کہ ہجرتِ مدینہ کا واقعہ پیش آیا اور مسلمان اپنے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے ہجرت کر کے مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا چلے گئے۔ کچھ رَوز بعد حُضُور سرورِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی حضرت صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لے آئے۔ مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں قیام پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اہلِ خانہ کو مدینہ شریف لانے کے لئے حضرتِ زَیْد بن حارِثَہ اور اپنے غُلام حضرتِ ابورَافِع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کو 500 دِرْہَم اور دو۲ اونٹ دے کر مکہ روانہ کیا، حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بھی اپنی اہلیہ حضرتِ اُمِّ رُوْمان اور دو۲ شہزادیوں حضرتِ عائشہ اور حضرتِ اَسْماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کو مدینہ شریف لانے کے لئے حضرتِ عبد الله بن اُرَیْقِط رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو دو۲ یا تین۳ اُونٹ دے کر ان کے ہمراہ کر دیا ۔ جب یہ حضرات، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرتِ صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے اہل خانہ کو لے کر مدینہ شریف پہنچے ان دِنوں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجدِ نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اس کے گرد حجروں کی تعمیر فرما رہے تھے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے گھر والوں کو انہیں حجروں میں ٹھہرایا۔([89])
مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا آمد کے کچھ عرصہ بعد تک تو اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے والِدَین کے پاس رہیں پھر ہجرت کے سات۷ ماہ بعد شوال المکرم میں رخصت ہو کر کاشانۂ نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں داخِل ہوئیں۔([90])
جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کاشانۂ اقدس میں آئیں اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عمر صرف نو۹ سال تھی([91]) چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ساتھ آپ کے کھلونے بھی تھے اور آپ ان کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی دِل جُوئی کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں جب رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لاتے تو وہ اندر چُھپ جاتیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں میرے پاس بھیج دیتے اور وہ پھر میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔([92])
اسی طرح ايك روز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لائے اور ان کی گڑیوں کو دیکھ کر استفسار فرمایا: یہ کیا ہے؟ اُمُّ المؤمنین حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عرض کیا: میری گڑیاں ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا ملاحظہ فرمایا جس کے کپڑے کے دو۲ پر تھے۔ فرمایا: یہ ان کے درمیان کیا نظر آتا ہے؟ عرض کی: گھوڑا۔ فرمایا: اس کے اوپر کیا ہے؟ عرض کی: دو۲ پر۔ فرمایا: گھوڑے کے دو۲ پر...؟ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عرض کیا: کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہیں سنا کہ حضرتِ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے گھوڑے پروں والے تھے۔ حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اتنا تَبَسُّم فرمایا کہ میں نے دندانِ مُبارَک کی زیارت کر لی۔([93])
بہرحال اس کم عمری کے عالَم میں ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اُمورِ خانہ دَاری (گھر کے کام کاج) سیکھے اور نِہایَت خُوش اُسْلُوبی سے انہیں انجام دیتی رہیں حتی کہ اپنے کپڑے خود سِی لیتیں، خود ہی جَو شریف کو پِیس کر آٹا بناتیں۔ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قربانی کے لئے جو جانور بھیجتے خود اپنےہاتھوں سے ان
کے لئے رسیاں بٹتیں اور اس کے ساتھ ساتھ رحمتِ عالَم، شاہِ آدم وبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بھی کوئی کمی نہ ہونے دیتیں۔
کاشانۂ اقدس میں آنےکے بعد دن رات سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار شریف اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبتِ بابَرَکت سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چشمہ عِلْم سے بھی خوب سیراب ہوئیں اور اس بحرِ محیط سے عِلْم کے بیش بہا موتی چُن کر آسمانِ عِلْم ومعرفت کی اُن بلندیوں کو پہنچ گئیں جہاں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے شاگردوں کی فَہْرِسْت میں نظر آنے لگے۔ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو جب بھی کوئی گھمبیر اور ناحَل مسئلہ آن پڑتا تو اس کے حَل کے لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی طرف رُجُوع لاتے، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں: ہم اصحابِ رسول کو کسی بات میں اِشْکَال ہوتا تو اُمُّ المؤمنین حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بارگاہ میں سوال کرتے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے ہی اس بات کا عِلْم پاتے۔([94])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ان تمام معاملات کو
بطورِ احسن انجام دینے کے ساتھ ساتھ ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی عِبادت بھی بہت کرتی تھیں، دن کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اکثر روزہ دَار ہوتیں اور رات کو مسجودِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہِ صمدیَّت میں سجدہ ریز رہتیں، چنانچہ آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کے بھتیجے حضرتِ سیِّدُنا امام قاسِم بن محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا بیان ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بِلاناغہ نمازِ تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دَاربھی رہا کرتی تھیں۔([95])
ایک دفعہ کا ذِکْر ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عَبْدُالرَّحمٰن بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا یومِ عرفہ کو (مدینہ شریف میں) اُمُّ المومنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس آئے اُس دن حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا روزے سے تھیں اور گرمی کی شدت کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر پانی چِھڑکا جا رہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا عَبْدُالرَّحمٰن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے عرض کیا: روزہ اِفطار کر لیجئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ارشاد فرمایا: میں اسے اِفطار کر لوں...؟ حالانکہ میں نے اپنے سرتاج، صاحِبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلےکے گناہوں کا کفّارہ ہے۔([96])
دیگر اعلیٰ اوصاف کی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سخاوت کا وَصْف بھی
بہت نمایاں تھا۔ حضرت سیِّدُنا عبد الله بن زُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا فرماتے ہیں کہ میں نے دو۲ عورتوں سے بڑھ کر کسی کو سخاوت کرتے نہیں دیکھا اور وہ حضرتِ عائشہ اور حضرتِ اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا ہیں لیکن اِن دونوں کی سخاوت کا انداز مختلف تھا۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا جمع کرتی رہتیں، جب اچھی خاصی رقم جمع ہو جاتی تو پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کر دیتیں اور حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا جمع نہیں کرتی تھیں، جو چیز جب ان کے ہاتھ میں آتی اللہ عَـزَّ وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کر دیتیں، کَل کے لئے بچا کر نہ رکھتیں۔([97])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پاکیزہ ومُبارَک حَیَات میں ہمارے لئے سیکھنے کے بے شمار مَدَنی پُھول ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سب سے کم عمر تھیں مگر علم وفضل، زُہد وتقویٰ، سخاوت اور عِبادت ورِیاضت میں بہت نمایاں تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ گھریلو کام کاج بھی نہایت خوش اُسْلُوبی سے انجام دیتیں، اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا آرام پسند اور کام کاج سے جی چُرانے والی نہ تھیں بلکہ ان کا ہر ہر منٹ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت، علم دین سیکھنے اور گھریلو کام کاج کرنے میں گزرتا تھا۔ کاش! آج كَل كی اسلامی بہنیں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی سیرت کے ان دَرَخشندہ
(دَرَخْ-شِنْ-دَہ) پہلوؤں کو اَپنا لیں، یقین جانئے! اگر ایسا ہو گیا تو رَوز رَوز کے جھگڑوں اور گھریلو ناچاقیوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! گھر امن کا گہوارہ بن جائیں گے۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا دِن رات سرکارِ والاتبار، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شربتِ دیدار سے اپنی آنکھوں کو سیراب کرتے ہوئے کاشانۂ اقدس میں آرام وسُکون کے دن گُزَار رہی تھیں کہ وہ قیامت خیز سانحہ بپا ہونے کا وقت قریب آیا جب سرکارِ عالی وقار، محبوبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس دنیا سے ظاہِری پَردہ فرمایا۔ وِصال شریف سے چند رَوز پیشتر جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسترِ علالت پر تشریف فرما ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کیفیت یہ تھی کہ بار بار دَرْیافت فرماتے: کَل میں کہاں ہوں گا...؟ کَل میں کہاں ہوں گا...؟ اس سے اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ جان گئیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس رہنا چاہتے ہیں لہٰذا سبھی نے متفقہ طور پر عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حُضُور جہاں رہنا پسند فرماتے ہیں، رہئے...! چنانچہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس رہنے لگے۔([98])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کریمانہ شان تھی کہ اس قدر عَدْل فرمایا کرتے تھے ورنہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر یہ واجِب نہ تھا۔ یقیناً آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عمل مُبارَک سے امت کو تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے لئے راہِ عمل متعین کرنی چاہئے مگر بدقسمتی سے آج کا مسلمان اس سے یکسر غافِل ہے۔ حکیم الامت حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان مذکورہ بالا روایت کے تحت فرماتے ہیں: یہ ہے حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا عَدْل وانصاف! جب اتنا عَدْل کرے تو چند بیبیاں رکھے۔ آج مسلمانوں نے چار۴ بیویوں کی اجازت کی آیت تو پڑھ لی، عَدْل کی آیت سے آنکھیں بند کر لی ہیں، آج جس قدر ظُلْم مسلمان اپنی بیویوں پر کر رہے ہیں اس کی مِثال نہیں ملتی، نبی کی تعلیم کیا ہے اور امت کا عمل کیا...!!([99])
اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو لاکھوں کروڑوں فضائل عالیہ عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وفات شریف سے کچھ پہلے حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی نَرْم کی ہوئی مسواک اِسْتِعمال فرمائی جس سے آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنۡہَا کا لُعَاب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لُعَاب شریف سے مِل گیا چنانچہ اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرتِ عَبْدُ الرَّحمٰن بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا، رسولِ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصال شریف سے کچھ پہلے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے، ان کے ہاتھ میں مِسْواک تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مِسْواک کی طرف نظر فرمائی اور حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رغبت دیکھتے ہوئے حضرتِ عَبْدُ الرَّحمٰن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے وہ مِسْواک لی، چبا کر نَرْم کی اور پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیش کر دی، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے قبول فرمایا اور اپنے دندانِ مُبارَک سے اسے شرف بخشا۔([100])
تقریباً آٹھ۸ روز تک حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے حجرے میں مقیم رہنے کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمایا۔ وصال شريف كے وقت اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے سینے پر سہارا دیا ہوا تھا۔([101])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تَعَارُفِ سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَانام ونسب
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کانام عائشہ ہے، والِدِ محترم حضرتِ سيِّدُنا ابوبكر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ہیں اور والِدہ محترمہ کا نام زینب تھا لیکن یہ اپنی کنیت اُمِّ رُوْمَان سے زیادہ مشہور ہیں۔ والِدِ محترم کی طرف سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب اس طرح ہے: ”ابوبَکْر بن عثمان بن عامِر بن عَمْرو بن کَعْب بن سَعْد بن تَیْم بن مُرَّہ بن کَعْب بن لُؤَیّ“ ([102]) اور والِدہ محترمہ کی طرف سے یہ ہے: ”اُمِّ رُوْمان بنتِ عامِر بن عُوَیْمِر بن عبدِ شَمْس بن عَتَّاب بن اُذَیْنَه بن سُبَیْع بن دُھْمَان بن حارِث بن غَنْم بن مالِک بن کِنَانَه“ ([103])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی کنیت اُمِّ عَبْدُ اللہ ہے، یہ کنیت اَوْلاد کی نسبت سے نہیں بلکہ بَھانجے حضرتِ عَبْدُ اللہ بن زُبَیْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کی نسبت سے ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن اسماعیل بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نقل فرماتے ہیں، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ ایک بار میں نے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بےکس پناہ میں حاضِر ہو کر عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی دیگر بیبیوں کو کنیت سے نوازا ہے، مجھے بھی عطا فرمائیے تو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بھانجے عَبْدُ اللہ کی نسبت سے کنیت رکھ لو۔([104])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے القاب بےشمار ہیں جن میں سے ایک صِدِّیقہ بھی ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی صَدَاقت کی گواہی قرآنِ کریم نے دی ہے اور ایک لقب حُمَیْرا ہے، سیِّدُ الْاَنبیاء، محبوبِ کِبْرِیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بہت سے مقامات پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اسی لقب سے یاد فرمایا ہے۔
حضرتِ مُرَّہ میں جا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ حضرتِ مُرَّہ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتویں جَدِّ محترم ہیں۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث مروی ہیں جن میں سے 174 مُتَّفَقٌ عَلَیْه یعنی بُخاری ومسلم دونوں میں، 54 احادیث صرف بُخاری شریف میں اور 68 احادیث صرف مسلم شریف میں ہیں۔([105])
حضرتِ عُرْوَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے رِوایَت ہے، فرماتے ہیں کہ مرد وعورت میں سِوائے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے کسی نے بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے برابر احادیث رِوایَت نہیں کیں۔([106])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا خاندان عرب کے بہت معزز قبیلے بنوتمیم سے تَعَلُّق رکھتا تھا جس کے پاس زمانۂ جاہلیت میں خون بہا اور دِیتیں جمع کرنے کا عہدہ تھا۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قبیلہ بنوتمیم کے اس اشرف واکرم خاندان کی چشم وچراغ تھیں جو اسلام کی ابتدا میں ہی اس کے نور سے منور ہو گیا تھا۔ خاندانی اعتبار سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت شرف وکمال حاصل ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندان کے بہت سے افراد ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہو کر رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَجِلَّہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فَہْرِسْت میں شامِل ہوئے جن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ قریش کے ایک تجارت پیشہ نِہَایَت مُعَزّز شخص تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا شمار زمانۂ جاہلیت میں رؤسائے قُرَیْش میں ہوتا تھا اور دیگر سردار آپ سے مختلف اُمُور میں مشورے کیا کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا معروف
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَدُوْد سے رِوَایَت ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا شمار قریش کے ان دس مایہ ناز لوگوں میں ہوتا ہے جن کی شرافت زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ اسلام دونوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے پاس لوگ فیصلہ کروانے کے لئے اپنے مُقَدَّمات لایا کرتے تھے کیونکہ اس وقت کوئی انصاف پسند بادشاہ تو تھا نہیں جس کے پاس وہ اپنے تمام معاملات کو پیش کرتے، اس لیے ہر قبیلہ میں اس کے رئیس اور شریف شخص کو اس کی ولایت حاصل ہوتی تھی لہٰذا لوگ اپنے فیصلے کروانے کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ہی کی خدمت میں حاضر ہوتے۔([107])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا صِدْق وصفا ،زُہْد ووَفا،جُود وسخا اور فوزو فلاح کی خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ نہایت نیک سیرت خاتون تھیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اُن خوش نصیب عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے اَوَائِلِ اسلام میں ہی سیِّدِعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ اسلام پر لبیک کہتے ہوئے سرتسلیم خم کیا تھا اور ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہو کر حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدار کر کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ہجرت کے چھٹے سال ذُوْالحجہ کے مہینے میں انتقال فرمایا۔ تدفین کے وقت حُضُور رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ان کی قبر میں
اترے اور دُعائے مغفرت سے نوازا۔ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو قبر میں اُتارا گیا تو سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَّنْظُرَ اِلَی امْرَاَۃٍ مِّنَ الْحُوْرِ الْعَیْنِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی اُمِّ رُوْمَان جو حورِ عین میں سے کسی کو دیکھنے کا خواہش مند ہو تو وہ اُمِّ رُوْمَان کو دیکھ لے۔“([108])
یہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے سگے بھائی ہیں، بہت ہی بَہَادُر اور اچھے تیر انداز تھے، جنگِ بدر و اُحُد میں کُفَّار کے ساتھ تھے پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر اپنا خُصُوصی فضل وکرم فرمایا اوریہ مُشَرَّف بہ اسلام ہو گئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی وفات 53 ہجری میں مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا سے تقریباً 10 میل پر واقِع ایک پہاڑ کے قریب ہوئی اور پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو مکہ شریف میں لا کر سپردِ خاک کیا گیا۔([109])
سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی
پاکیزہ حیات کے چند نمایاں پَہْلو
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسے بہت سے فضائل سے نوازاہے جو بِلامبالغہ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اَوْجِ ثُرَیّا (ثریا کی بلندی) پر پہنچانے کے لئے کافی ہیں مثلاً
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، رسولِ پاک، صاحِبِ لَوْلَاک، سَیَّاحِ اَفْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے محبوب زَوْجہ ہیں۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پاک دامنی کی گواہی خود ربِّ کریم عَزَّ وَجَلَّ نے دی اور ”اس براءَت میں اس نے اٹھارہ آیتیں نازل فرمائی۔“([110])
}رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے سِوا اور کسی کنواری عورت سے نِکاح نہیں فرمایا۔
}رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حَیَات شریف کے آخری لمحات میں فِرِشتوں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے سِوا حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس اور کوئی نہ تھا۔
}شہنشاہِ ابرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے حجرۂ مُبَارَکہ میں ہی دنیا سے ظاہِری پردہ فرمایا۔
}یہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا رَوْضَہ شریف بنا جو عرشِ عُلیٰ سے بھی افضل ہے اور
}اس فضیلتِ بے پایاں کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا حجرۂ مُبَارَکہ قیامت تک فِرِشتوں کے جھرمٹ میں رہے گا۔
بطورِ نمونہ یہ چند ایک مثالیں پیش کی گئی ہیں ورنہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے
فضائل تو حد وشمار سے بھی باہر ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے یہی فضائل ہیں جو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو دیگر تمام ازواجِ طَیِّبات وطاہِرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں نمایاں کر دیتے ہیں اور ایک منفرد وبلند مقام پر فائز کر دیتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آپ پر رحمت ہو اور آپ کے صدقے ہماری بےحِساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دنیائے اسلام کو اپنے عِلْم وعِرفان کے انوار سے جگمگاتے ہوئے باختلافِ اقوال 17رمضان المبارک منگل کی رات 58ھ کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اس فانی دنیا سے کوچ فرمایا، عظیم مُحَدِّث، جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور حسبِ وصیت رات کے وَقْت جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو سپردِ خاک کیا گیا، بوقتِ وفات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عمر شریف 67سال تھی۔([111])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول ایسا پاکیزہ اور پیارا ماحول ہے جس کی برکت سے لاکھوں اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا ہے اور وہ گناہوں کی
دلدل سے نکل کر نیکیوں کے سفر میں جانِبِ مدینہ رَواں دَواں ہو گئے ہیں، آئیے ایک ایسی ہی اسلامی بہن کی زندگی میں مَدَنی انقلاب آنے کا واقعہ پڑھئے جس کی ہر شام وسحر گناہوں میں بسر ہوتی تھی اور نِت نئے فیشن کرنا، بےپَردہ تفریح گاہوں میں گھومنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا گویا اس کی عادتِ ثانیہ ہو چکی تھی۔ پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے اس کو دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول میسر ہوا تو یکلخت اس کی زندگی نے پلٹا کھایا اور وہ گناہوں کی دلدل سے نکل کر سنتوں کی راہ پر گام زن ہو گئیں مزید کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ آفتابِ رِسالَت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدار پُرانوار بھی نصیب ہوا، آئیے! ملاحظہ کیجئے:
پنجاب( پاکستان )کے شہرگلزارِ طیبہ(سرگودھا) کی مقیم اسلامی بہن کی تحریر کا خُلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میری عملی حالت انتہائی ابترتھی، ماڈرن سہیلیوں کی صحبت کے باعِث میں فیشن کی پُتلی اور مخلوط تفریح گاہوں کی بےحَد متوالی تھی، مَعَاذَ اللہ نہ نماز پڑھتی نہ ہی روزے رکھتی اور بُرقع سے تو کَوسَوں دُور بھاگتی تھی بس T.V اور V.C.R ہوتا اور میں۔ خُود سَر اتنی تھی کہ اپنے سامنے کسی کی چلنے نہیں دیتی تھی۔ اُن دِنوں میں کالج میں فرسٹ ایئر کی طالِبہ تھی۔ایک روز مجھے کسی نے مکتبۃ المدینہ کے جاری کردہ سنّتوں بھرے بیان کی کیسٹ بنام ”وُضو اور سائنس“ تحفے میں دی، بیان معلوماتی اورخاصا دلچسپ تھا۔ اس بیان سے متاثر ہو کر میں نے علاقے میں
ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جانا شروع کر دیا۔ مَدَنی ماحول کا نُور میری تاریک زندگی کو منور کرنے لگا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! میں اپنی بُری عادتوں سے توبہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت سے کچھ ہی عرصے میں مَدَنی برقع پہننے لگی۔ میرے گھر والے ، رشتے دار اور میری سہیلیاں اس حیرت انگیز تبدیلی پر بہت حیران تھے، انہیں یہ سب خواب لگ رہا تھا مگر یہ سو فیصدی حقیقت تھی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! اب میں اپنے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دیتی ہوں۔ دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مَدَنی کام کرنے کی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوتی ہوں، روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے مَدَنی انعامات کے رِسالے کے خانے پُر کر کے ہر ماہ جمع کروانا میرا معمول ہے۔ایک روز مجھ پر ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا ایسا کرم ہوا کہ میں جتنا بھی شکر کروں کم کم اور کم ہے۔ ہوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی، میں نے خواب میں دیکھا کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے، میں جس جگہ بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے ، میں بےساختہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادل نظر آتے ہیں، میں بےاختیار یہ سلام پڑھنا شروع کر دیتی ہوں:
؏اے صبا! مصطفےٰ سے کہہ دینا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
اچانک میرے سامنے ایک حسین وجمیل اور نورانی چہرے والے بزرگ سفید لباس میں ملبوس سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سر مُبَارَک پر سجائے مسکراتے ہوئے تشریف لے آئے، میں ابھی نظارے ہی میں گُم تھی کہ کسی کی آواز سنائی دی: یہ حُضور ِاکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔ پھر میری آنکھ کُھل گئی۔ میں اپنی سعادتوں کی اس معراج پر شدتِ جذبات سے رونے لگی۔دل چاہتا تھا کہ آنکھیں بند کروں اور بار بار وہی منظر دیکھوں۔اب بھی ہر رات اسی امید پر دُرُودِ پاک پڑھتے پڑھتے سوتی ہوں کہ کاش! میرے بَھاگ دوبارہ جاگ اٹھیں
؏کیا خبر آج کی شب دِید کا ارماں نکلے
اپنی آنکھوں کو عقیدت سے بچھائے رکھئے([112])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: قیامت کے دن مؤمن کے میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزن دار نیکی ”اچھے اخلاق“ ہوں گے۔ [سنن الترمذى، كتاب البر والصلة، باب ماجاء فى حسن الخلق، ص۴۸۶، الحديث:۲۰۰۲]
سیرتِ حضرت حَفْصَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بعدِ اذان دُرُود شریف کی فضیلت
حضرتِ سیِّدنا عبدالله بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُـمَا سے رِوایَت ہے کہ اُنہوں نے تاجدارِ رِسالَت، شہنشاہِ نبوت، مخزنِ جُود وسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ جب تم مُؤذِّن کو اذان کہتے سنو تو ایسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے اس کے بعد مجھ پر دُرُود بھیجو۔“ بے شک جو مجھ پر ایک دُرُود بھیجتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر دس رحمتیں نازِل فرماتا ہے۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے میرے لئے وسیلہ مانگو، وسیلہ جنت میں ایک جگہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے، مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں۔ جو میرے لئے وسیلہ مانگے اس کے لئے میری شفاعت لازِم ہے۔([113])
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود اور سلام، بارگاہِ ربُّ الْاَنام میں کس قدر محبوب اور قاریِ دُرُود وسلام کے لئے کس قدر خیر وبرکت کا موجِب ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو کوئی ایک بار دُرُود بھیجتا ہے ربّ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازِل فرماتا ہے۔ نیز اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعدِ اذان دُرُود شریف پڑھنا
نہ صرف جائز بلکہ باعِثِ ثواب بھی ہے۔
؏حکم حق ہے پڑھو دُرُود شریف
چھوڑو مت غافلو! دُرُود شریف
پڑھ کے ایک بار پاؤ دس رحمت
خوب سودا ہے لَو دُرُود شریف([114])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شروع سے ہی اِس دنیائے آب وگِل میں بعض ہستیاں ایسی بھی ہوتی آئی ہیں جن کے علم وعمل کے نور اور زُہد وعبادت کی خوشبو سے زمانہ صدیوں تک چمکتا اور مہکتا رہتا ہے، گلستانِ ہِدایَت کی ایسی ہی عِطْر بیز (خوشبو پھیلانے والی) کلیوں میں سے ایک خوش نما کلی امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت سے فضائل وکمالات عطا فرمائے تھے۔ آئیے! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پاکیزہ حیات کے چند خوش نما پہلوؤں کے بارے میں پڑھئے اور سیرت کے ان حسین مَدَنی پُھولوں سے اپنے مَشامِ جاں کو معطر کیجئے، چُنانچِہ
آفتابِ رُشْد و ہِدایَت، شہنشاہِ نبوت ووِلایَت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
جب جزیرہ نما عرب کی پاک زمین سے شرک وکفر کی نجاست دُور کرنے اور کُل عالَم کو خُوشبوئے اِسلام سے مہکانے کے لئے نبوت ورِسالت کا اِظہار واعلان فرمایا اور لوگوں کو جاہلیت کے باطِل معبودوں کی بندگی ترک کرنے اور ایک معبودِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کرنے کی دعوت دی تو شرک وکفر کی فضاؤں میں پروان چڑھے ہوئے، ان معبودانِ باطلہ کے پُجاریوں نے حق کی پکار پر لبیک کہنے کے بجائے اُلٹا اس کی ترویج واشاعت کی راہ میں رُکاوٹیں حائل کرنی شروع کر دیں، ظالم ہر اس شخص کے درپے آزار ہو جاتے جو قبولِ اسلام سے مُشَرَّف ہوتا۔ اس دَور میں بعض شخصیات ایسی بھی تھیں کہ اگر وہ اسلام لے آتیں تو کفار کے قلب پر اسلام کی ہیبت اور عَظَمت کا سکّہ بیٹھ جاتا۔ اس سلسلے میں سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظر انتخاب حضرت عُمَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر پڑی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حضرت عُمَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قبول اِسلام کی توفیق دئیے جانے کی دُعا کرتے ہوئے عرض کیا: ”اَللّٰھُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِاَبِیْ جَھْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ان دو۲ آدمیوں ابوجہل اور عُمَر میں سے تجھے جو محبوب ہے اس کے ذریعے اسلام کو غَلَبہ عطا فرما۔“([115])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُعا کو شرفِ قبولیت سے نوازا اور حضرت عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو اسلام لانے کی توفیق مرحمت
فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعلانِ نبوت فرمانے کے چھٹے سال ایمان لانے کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے جبکہ ابھی حضرتِ سیِّدنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو مُشَرَّف بہ اسلام ہوئے تین۳ روز ہی ہوئے تھے۔([116]) حضرتِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے مُشَرَّف بہ اسلام ہونے سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، ان کے حوصلے اور زیادہ بلند ہو گئے اور کُفَّار بُغْض وعَداوت کی آگ میں جَل کر کوئلہ ہو گئے۔ اس موقعے پر اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے یہ آیَتِ مُبارَکہ نازِل فرمائی: ([117])
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴)(پ۱۰، الانفال:۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔
آپ کے ذریعے اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اِسلام کو غلبہ اور فتح ونصرت عطا فرمائی، چنانچہ اس کا تَذکِرہ کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ”مَا زِلْنَا اَعِزَّۃً مُنْذُ اَسْلَمَ عُمَرُ جب سے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مُشَرَّف بہ اسلام ہوئے ہیں تب سے ہم ہمیشہ غالِب رہے ہیں۔“([118])
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے اسلام لانے
کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی کوششوں کے نتیجے میں آپ کے گھر والے بھی اسلام لے آئے اور یوں یہ پاک ومتبرک گھرانہ اسلام کے جھنڈے تلے آکر اس کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ رسولِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمی و رُوحانی چشمے سے سیراب بھی ہونے لگا۔ اس وقت حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی عمر مبارک تقریباً 10 برس ہو گی کیونکہ روایت کے مطابق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وِلادت حُضُور سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِعْلانِ نبوت سے پانچ۵ سال پہلے ہوئی۔([119])
حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنے والِدِ بُزُرْگْوَار حضرتِ سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کاشانۂ اقدس میں پرورش پاتی رہیں حتی کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سِنِّ بُلُوغت کو پہنچی تو اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں سے ایک جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدنا خنیس بن حُذَافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو حضرتِ عبدالله بن حُذَافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بھائی ہیں اور مُجَاہِدینِ بدر میں سے بھی ہیں، کے ساتھ رشتہ اِزْدِوَاج میں مُنْسَلِک ہو گئیں۔([120])
کُفَّار کے جور وستم سے تنگ آ کر مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کے
مظلوم مسلمانوں نے جب سیِّد عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِجازت سے مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی طرف ہجرت کی تو حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی اپنے شوہر نامدار حضرت سیِّدنا خنیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ یہاں ہجرت کر آئیں اور آرام وچین سے زندگی بسر کرنے لگیں۔ کچھ رَوز بعد باعِثِ تخلیق کائنات، شہنشاہِ مَوْجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ہجرت کر کے مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا تشریف لے آئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نُور سے مدینہ کے دَر ودیوار جگمگا اُٹھے، گھر گھر خوشیاں پھیل گئیں اور پورے مدینے میں عید کا سا سماں ہو گیا۔
کفار جن کو مسلمانوں کا آرام وسُکُون سے زندگی بسر کرنا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا، مسلمانوں کے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر آنے کے بعد بھی ستانے سے باز نہ آئے، ہمیشہ مسلمانوں کے مذہبی فرائض کی بجاآوری میں مُزَاحَمت کرتے رہتے اور دین اِسلام کو صحیفۂ ہستی سے مِٹانے کی کوشش میں مصروفِ پیکار رہتے نہ صرف خود بلکہ آس پاس کے دیگر قبائل کو بھی مسلمانوں کی مُخَالَفَت پر اُبھارتے جس کے نتیجے میں کفار اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگیاں بڑھتی گئیں اور حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے گئے۔ بالآخر حالات کی اس سنگینی نے ہجرت کے دوسرے سال ایک زبردست جنگ کی صورت اختیار کر لی چنانچہ مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا سے تقریباً 80 میل کے فاصلے پر واقع بدر کے مقام پر وہ عظیم معرکہ ہوا جس
میں کُفَّارِ قریش اور مسلمانوں کے درمیان سخت خون ریزی ہوئی اور مسلمانوں کو وہ عظیم الشان فتح مبین نصیب ہوئی جس کے بعد اسلام کی عزت واقبال کا پرچم اتنا سربلند ہو گیا کہ کفارِ قریش کی عظمت وشوکت خاک میں مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے جنگِ بدر کے دن کا نام یَوْمُ الْفُرْقَان رکھا۔ جنگِ بدر میں کُل 14 مسلمان شہادت سے سرفراز ہوئے جن میں سے چھ۶ مُہَاجِر اور آٹھ۸ اَنصار تھے۔([121])
بدر کے شہ سواروں میں سے ایک حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے شوہر نامدار حضرت سیِّدنا خُنَیْس بن حُذَافہ سَھْمِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے، واقعہ بدر کے بعد مدینہ شریف میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رِحْلَت فرما گئے([122]) جبکہ ایک رِوايَت کے مُطَابِق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس کے بعد غزوۂ اُحُد میں بھی شریک ہوئے اور زخمی ہوئے، پھر انہیں زخموں کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا انتقال ہو گیا۔([123])
[1]...سنن النسائى، كتاب السهو، باب التمجيد والصلاة...الخ، ص۲۲۰، الحديث:۱۲۸۱.
[2]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دُوُم در ذکرِ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ، ۲/۴۶۲.
[3]...المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه...الخ، ۱/۴۰۱
[4]...خزائن العرفان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ:۳۸، ص۷۸۳.
[5]...جنتی زیور، ص۴۰۸.
[6]...روح المعانى، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآية:۵۱ ، ۲۲/۳۲۸.
[7]...تفصیل کے لئے اسی کتاب کے باب ”سیرتِ اُمُّ المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ کا مطالعہ کیجئے۔
[8]...ذوقِ نعت، ص۱۴.
[9]...حدائق بخشش، ص۱۷۱.
[10]...الاستيعاب فى معرفة الاصحاب، كتاب النساء وكناهن، باب العين، ۴/۱۸۸۳.
نوٹ: تفصیل کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”فیضانِ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ کے ابواب (۱):سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی علمی شان وشوکت (۲):سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بحیثیتِ مفسرہ اور (۳):سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بطورِ مُحَدِّثہ ومفتیہ کا مطالعہ کیجئے۔
[11]...تفصیل کے لئے اسی کتاب کے باب ”سیرتِ اُمُّ المؤمنین حضرتِ جویریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ کا مطالعہ کیجئے۔
[12]...خزائن العرفان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ:۳۲، ص۷۸۰.
[13]...روح المعانى، پ۲۱، الاحزاب، تحت الآية:۶ ، ۲۱/۲۰۲، ملتقطًا.
[14]...نور العرفان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ:۳۳، ص۸۲۹، ملتقطاً.
[15]...خزائن العرفان، پ۱۱، التوبہ، تحت الآیۃ:۱۰۰، ص۳۸۰.
[16]...تفسیر نعیمی، پ۱۱، التوبہ، تحت الآیۃ:۱۰۰، ۱۱/۲۶.
[17]...شرح کلامِ رضا، ص۱۰۵۷.
[18]...ان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ 84 صفحات پر مشتمل کتاب ”فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ کا مطالعہ کیجئے۔
[19]...الصلات والبشر، الباب الثانى، الحديث الثانى والخمسون، ص۸۳.
[20]...ماہنامہ نعت( اکتوبر۱۹۹۵ء)، ص۴۱.
[21]... السيرة النبوية لابن اسحاق، تحديد ليلة القدر، ۱/۱۸۶.
[22]...بہارِ عقیدت، ص۱۱.
[23]... المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث، ۱/۴۰۲، ملتقطًا.
بعض رِوایات میں ہے کہ پہلے عتیق سے ہوئی اس کی وفات کے بعد ابوہالہ سے۔ وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَم. دیکھئے : [المعجم الكبير للطبرانى، ۹/۳۹۲، الحديث:۱۸۵۲۲].
[24]... الطبقات الكبرى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة..الخ، ۱/۱۰۵
[25]... المرجع السابق، تسمية نساء المسلمات...الخ، ۴۰۹۶-ذكر خديجة...الخ ، ۸/۱۱.
[26]...سير اعلام النبلا، ۱۶-خديجة ام المؤمنين، ۲/۱۰۹.
[27]...معرفة الصحابة للاصبهانى، ذكر الصحابيات...الخ، ۳۷۴۶-خديجة...الخ، ۶/۳۲۰۰.
[28]...المعجم الكبير للطبرانى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ۹/۳۹۱، الحديث:۱۸۵۲۲.
[29]...الادب المفرد، باب قول المعروف، ص۷۸، الحديث:۲۳۲.
[30]... صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی...الخ، ص۹۶۲، الحديث۳۸۲۱.
[31]...حضرتِ آسیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مؤمنہ خاتون تھیں کہ ایک جلیل القدر نبی حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لا کر ان کی صحابیت کا شرف پایا۔ فِرعون کو جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ایمان لانے کی خبر ہوئی تو اُس دشمن خُدا نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر ایسے ایسے جاں سوز مظالم ڈھائے کہ دھرتی کا کلیجہ کانپ کر رہ گیا بالآخر ان مظالم کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا شہید ہو گئیں۔
[32]...مسند احمد، مسند بنى هاشم، مسند عبد الله بن العباس...الخ، ۲/۲۴۱، الحديث:۲۷۲۰
[33]...المعجم الاوسط للطبرانى، باب الميم، من اسمه محمد، ۴/۳۱۵، الحديث:۶۰۹۸.
[34]...امتاع الاسماع، فصل فى ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ام المؤمنين خديجة بنت خويلد، ۶/۲۸.
[35]... فتاویٰ رضویہ، ۹/۳۶۹.
[36]...”حَجُون“ مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے بالائی حصے میں واقع ایک پہاڑ ہے، اس کے پاس اہل مکہ کا قبرستان ہے۔ [معجم البلدان، حرف الحاء والجيم...الخ، ۲/۲۲۵] اب اسے جَنَّتُ الْمَعْلٰی کہا جاتا ہے۔ شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرتِ علّامہ ابو بِلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں: جَنَّتُ الْبَقِیْع کے بعد جَنَّتُ الْمَعْلٰی دنیا کا سب سے افضل قبرستان ہے۔ یہاں اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ، حضرتِ سیّدُنا عبد الله بن عمر اور کئی صحابہ وتابعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور اولیاء وصالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے مزاراتِ مقدسہ ہیں۔ اب ان کے قبے (یعنی گنبد) وغیرہ شہید کر دئیے گئے ہیں، مزارات مسمار کر کے ان پر راستے نکالے گئے ہیں۔ [رفیق المعتمرین، ص۱۲۳].
[37]... شرح الزرقانی على المواهب، المقصد الاول، وفاة خديجة وابى طالب، ۲/۴۹.
[38]... فتح البارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة...الخ ، ۷/۱۷۲، تحت الحديث:۳۸۲۱ ، بتقدم وتأخر.
[39]... شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، تزوجه صلى الله تعالى عليه وسلم من خديجة، ۱/۳۷۳، ملتقطاً.
[40]... المرجع السابق، ص۳۷۴.
[41]...فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، ص۶۹-۷۳، ملخصاً.
[42]... اسلامی بہنوں کی نماز، ص۲۷۹.
[43]... سنن الترمذى، ابواب صفة القيامة...الخ، ٢١-باب، ص۵۸۳الحديث:۲۴۵۷.
[44]...پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۱۔
[45]...ریگستان، ریتلے میدان۔
[46]... پہاڑی سلسلہ، جہاں بہت سے پہاڑ ہوں۔
[47]... السنن الكبرى للبيهقی، كتاب السير، باب الاذن بالهجرة، ۹/۱۶، الحدیث:۱۷۷۳۴.
[48]...سيرتِ مصطفىٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، چوتھا باب، ص۱۲۷.
[49]...تتمة جامع الاصول، الركن الثالث، الفن الثانى، الباب الاول فى ذكر النبى صلى الله عليه وسلم وما يتعلق به، الفصل السابع فى ازواجه وسراريه، ۱۲/۹۷.
[50]...المرجع السابق.
[51]...شرح الزرقانی على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه صلى الله عليه وسلم، ۴/۳۷۸.
[52]...المرجع السابق.
[53]...المواهب اللدنية، المقصد الاول، هجرته صلى الله عليه وسلم، ۱/۱۳۵.
[54]...الطبقات الكبرىٰ، تسمية النساء المسلمات...الخ، ذكر ازواج ...الخ، ۸/۴۵.
[55]...کفو کے لغوی معنی مُمَاثَلَت اور برابری کے ہیں۔ ملک العلما حضرتِ علّامہ مفتی محمد ظفر الدین بہاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”محاورۂ عام (یعنی عام بول چال) میں فقط ہم قوم کو کفو کہتے ہیں اور شرعاً وہ کفو ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یا کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نِکاح ہونا اولیاءِ زن (یعنی عورت کے باپ دادا وغیرہ) کے لئے عرفاً باعِثِ ننگ وعار (شرمندگی وبدنامی کا سبب) ہو۔ [فتاویٰ ملک العلما، کتاب النکاح، ص۲۰۶] نوٹ: کفو کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے بہارِشریعت، جلد دُوُم، حصہ سات۷، صفحہ 53 تا 57 اور پردے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 361 تا 384 کا مُطَالعہ کیجئے۔
[56]...مسند احمد، حديث السيدة عائشة رضی الله عنها، ۱۰/۴۸۵، الحديث:۲۶۵۱۷، ملتقطًا.
[57]... سير اعلام النبلاء، ۴۰-سودة ام المؤمنين، ۲/۲۶۷.
[58]...شرح کلامِ رضا، ص۱۰۵۷.
[59]... مسند احمد، حديث السيدة عائشة رضى الله عنها، ۱۰/۴۸۵، الحديث:۲۶۵۱۷ ، مفصلًا.
[60]... المرجع السابق.
[61]... جامع العلوم والحكم، الحديث السادس والثلاثون، ۲/۳۱۰.
[62]... المستدرك للحاكم، كتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم، ذكر اداء الصداق...الخ، ۵/۶، الحديث:۶۷۷۳ ، ملتقطًا.
[63]... البداية والنهاية، كتاب سيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم...الخ، باب هجرة رسول الله صلى الله عليه وسلم...الخ، فصل وبنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعائشة..الخ، الجزء الثالث، ۲/۲۴۵.
[64]... سنن الترمذى، كتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة النساء، ص۷۰۴، الحديث:۳۰۴۰
[65]...الاستيعاب فى معرفة الاصحاب، كتاب النساء وكناهن، باب السين، ۳۳۹۴-سودة بنت زمعة، ۴/۱۸۶۷.
[66]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دوم در ذکرِ ازواجِ مطہرات، ۲/۴۶۷.
[67]...شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه...الخ، ۴/۳۷۷.
[68]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دوم در ذکر ازواج مطہرات، ۲/۴۶۷.
[69]... الاصابة، ذكر من اسمه عبد...الخ، ۵۲۸۹-عبد بن زمعة، ۴/۳۱۰، ماخوذًا.
[70]... اسد الغابة، باب الميم والالف، ۴۵۹۷-مالك بن زمعة، ۵/۳۲، ملتقطًا.
[71]...اسد الغابة، باب العين والباء، ۳۳۱۱-عبد الرحمن بن زمعة، ۳/۴۴۴، ملتقطًا.
[72]... صحيح مسلم، كتاب الرضاع، باب جواز هبتها..الخ، ص۵۵۲، الحديث:۱۴۶۳.
[73]... ایک عربی کھانا جس میں گوشت کے ٹکڑے پانی میں پکاتے ہیں جب پانی تھوڑا رہ جاتا ہے تو آٹا مِلا کر اتار لیتے ہیں۔
[74]... مسند ابى يعلى الموصلى، تتمة مسند عائشة، ۴/۴، الحديث:۴۴۷۶ ، ملتقطاً.
[75]... احياء علوم الدين، كتاب آفات اللسان، الآفة العاشرة:المزاح، ۳/۱۵۸،۱۵۹، ملتقطًا.
[76]... الطبقات الكبرى، ذكر ازواج...الخ، ٤١٢٧-سودة بنت زمعة، ۸/۴۵.
[77]...الدر المنثور، سورة الاحزاب، تحت الاية:۳۳ ، ۶/۵۹۹.
[78]... سير اعلام النبلاء، ۴۰-سودة ام المؤمنين، ۲/۲۶۵.
[79]...اسی کتاب کا صفحہ نمبر 24 ملاحظہ کیجئے۔
[80]... الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج...الخ، ۴۱۲۷-سودة بنت زمعة، ۸/۴۶.
[81]...ان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ 608 صفحات پر مشتمل کتاب ”فیضانِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا“ کا مطالعہ کیجئے۔
[82]... فردوس الاخبار، باب حرف الياء، ۵/۳۷۵، الحديث:۸۲۱۰.
[83]...سیرتِ سیِّد الانبیا، حصہ اوّل، ۴بعثتِ نبوی، ص۹۴.
[84]...سیرتِ سیِّد الانبیا، حصّہ اول، ۱۰ بعثتِ نبوی، ص۱۱۹و۱۲۰، ملتقطًا.
[85]... الطبقات الكبرى، تسمية النساء المسلمات...الخ، ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ٤١٢٧-سودة بنت زمعة، ۸/۴۵.
[86]...مسند احمد، حديث السيدة عائشة رضى الله عنها، ١٠/٤٨٥، الحديث:٢٦٥١٧، ملتقطًا
[87]...سیرتِ سیِّد الانبیا، حصّہ اوّل، ۱۰ بعثتِ نبوی، ص۱۲۰.
[88]... جاء الحق، حصّہ اوّل، حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو بشر یا بھائی کہنے کی بحث، ص۱۵۰، ملتقطًا.
[89]...المستدرك للحاكم، كتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم، ذكر اداء الصداق...الخ، ۵/۶، الحديث:۶۷۷۳، ملتقطًا.
[90]...سیرتِ سیِّد الانبیا، حصہ دُوُم، باب سِوُم، ١ ہجری کے واقعات، ص۲۵۰.
[91]...المرجع السابق.
[92]... صحيح البخارى، كتاب الادب، باب الانبساط الى الناس، ص۱۵۲۱، الحديث:۶۱۳۰.
[93]... مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دوم، درذکرِ ازواجِ مطہرات، ۲/۴۷۱.
[94]... سنن الترمذی، ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب فضل عائشة رضى الله عنها، ص۸۷۳، الحديث:۳۸۸۲.
[95]... سیرتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، انیسواں باب، ص۶۶۰.
[96]... مسند احمد، ۱۱۴۴-حديث السيدة عائشة رضى الله عنها، ۱۰/۲۶۷، الحديث:۲۵۷۱۲.
[97]...الادب المفرد، باب سخاوة النفس، ص۹۲، الحديث:۲۸۰.
[98]...صحيح البخارى، كتاب النكاح، باب اذا استأذن الرجل...الخ، ص۱۳۴۱، الحديث:۵۲۱۷.
[99]...مراٰۃ المناجیح، باری مقرر کرنے کا بیان، پہلی فصل، ۵/۸۲.
[100]...صحيح البخارى، كتاب المغازى، باب مرض النبى صلى الله عليه وسلم ووفاته، ص۱۱۴۰، الحديث:۴۴۵۰، بتغير قليل.
[101]...سیرتِ سيِّد الانبیاء، حصہ دُوُم، باب سِوُم، ۱۱ہجری کے واقعات، ص۵۹۷، بتغیر قلیل.
[102]... الاصابة، ذكر من اسمه عبد الله، ۴۸۳۵-عبد الله بن عثمان بن عامر، ۸/۴۴۰.
[103]...المرجع السابق، كتاب النساء، فيمن عرف بالكنية من النساء، ۱۲۰۲۷-ام رومان، ۸/۴۴۰.
[104]...الادب المفرد، باب كنية النساء، ص۲۵۲، الحديث:۸۵۱.
[105]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دُوُم در ذکرِ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ، ۲/۴۷۳ .
[106]... البداية والنهاية، السنة الثامنة والخمسين للهجرة، ذكر من توفى فيها الاعيان، ۸/۴۸۶.
[107]...تاریخ الخلفاء، ابوبكر صديق، فصل فى مولده ومنشئه، ص۲۰.
[108]... الاصابة، كتاب النساء، حرف الراء، ۱۲۰۲۷-ام رومان، ۸/۴۴۰ و ۴۴۱، ملتقطًا.
[109]... الاستيعاب، حرف العين، باب عبد الرحمٰن، ۱۳۹۴-عبد الرحمٰن بن ابى بكر الصديق، ۲/۸۲۴–۸۲۶، ملتقطًا.
[110]...تفسیر خزائن العرفان، پ۱۸، النور، تحت الآیۃ:۱۱، ص۶۵۱.
[111]... شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث، عائشة ام المؤمنين، ۴/۳۹۲.
[112]...اسلامی بہنوں کی نماز، ص۲۷۶.
[113]... صحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب استحباب القول...الخ، ص۱۵۰، الحديث:۳۸۴.
[114]...نورِ ايمان، ص۳۹.
[115]...سنن الترمذى، ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب فى مناقب ابى حفص...الخ، ص۸۳۹، الحديث:۳۶۹۰.
[116]...مدارج النبوة، قسم دوم، باب در سال ششم...الخ، ۲/۴۴، ملتقطًا.
[117]... المرجع السابق، ص۴۵.
[118]... صحيح البخارى، كتاب فضائل اصحاب النبى رضى الله عنهم، باب مناقب عمر ابن الخطاب رضى الله عنه...الخ، ص۹۳۴، الحديث:۳۶۸۴.
[119]...الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج رسول الله عليه السلام، ۴۱۲۹-حفصة بنت عمر، ۸/۶۵
[120]... اسد الغابة، باب الخاء والنون، ۱۴۸۵-خنيس بن حذافة، ۲/۱۸۸، ماخوذاً.
[121]...عامۂ کتبِ سیرت۔
[122]...ارشاد السارى، كتاب المغازى، باب (۱۲/۱۲)، ۷/۱۸۰، تحت الحديث:۴۰۰۵.
[123]...اسد الغابة، باب الخاء والنون، ۱۴۸۵-خنيس بن حذافة، ۲/۱۸۸.