حضرتِ خنیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رِحْلَت کے بعد حضرتِ سيِّدنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی شہزادی حضرتِ حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دوسری شادی کے لئے فکرمند ہوئے اور حضرت صِدِّیق اکبر اور حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُـمَا کو اِن سے نِکاح کی پیشکش بھی کی، چنانچہ خود فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ عثمان بن عفّان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آ کر انہیں حفصہ سے نِکاح کی پیشکش کی۔ انہوں نے جواب دیا: میں اپنے معاملے میں غور کروں گا۔ میں چند رَوز انتظار کرتا رہا پھر ایک رَوز ان سے میری ملاقات ہوئی تو کہنے لگے: مجھ پر ابھی یہی واضح ہوا ہے کہ فِی الْحَال نِکاح نہ کروں۔حضرتِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں: پھر حضرتِ ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ سے آپ کی شادی کر دوں؟ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔([1])
دونوں طرف سے رضامندی نہ پائی جانے کی وجہ سے حضرتِ سیِّدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رنجیدہ خاطِر ہو گئے اور بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو کر اس کا ذکر کیا۔ رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں تسلّی دیتے ہوئے اور حوصلہ بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یَتَزَوَّجُ حَفْصَۃَ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْ عُثْمَانَ وَیَتَزَوَّجُ عُثْمَانُ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْ حَفْصَۃَ حفصہ سے وہ شادی کرے گا جو عثمان سے بہتر ہے اور عثمان اُس سے شادی کرے گا جو حفصہ سے بہتر ہے۔“([2])
اس واقِعِے کو گزرے ابھی چند رَوز ہی ہوئے تھے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف نِکاح کا پیغام دیا اور حضرتِ عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ان کا نِکاح کر دیا۔ نِکاح کے بعد جب حضرت سیِّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ملاقات حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے ہوئی تو حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے کہا: جب آپ نے مجھ سے حفصہ کی بات کی تھی اور میں نے کوئی جواب نہ دیا تھا اس پر شاید آپ کو مجھ پر غصہ آیا ہو؟ درحقیقت میں یہ بات جانتا تھا کہ شہنشاہِ ابرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ذکر فرمایا ہے اور میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا راز بھی ظاہِر نہیں کر سکتا تھا۔ اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِن سے نِکاح نہ فرماتے تو میں ضرور قبول کر لیتا۔([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! مذکورہ بالا رِوایَت اپنے ضمن میں نصیحت کے بےشمار مَدَنی پُھول لئے ہوئے ہے مثلاً کسی کے راز کی حِفاظت کرنا، رنجیدہ دل شخص کو تسلی دینا اور کسی کے دل میں پیدا ہونے والے مُتَوقِّع شکوک وشبہات کی
بیخ کَنِی کرنا وغیرہ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ شرعی تقاضوں کی رِعایَت کے ساتھ بیوہ عورت کا دوسرا نِکاح کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں جیسا کہ خود حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی شہزادی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے نِکاح کے لئے فکرمند ہوئے اور بالآخر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت سے مُشَرَّف ہوئیں۔ اس سے آج کل کی ایک بےہُوْدَہ رَسْم کی کاٹ بھی ہو گئی جس کے مُطَابِق بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نِکاح کرنے کو انتہائی بُرا اور باعِثِ ننگ وعار سمجھا جاتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ اِمام احمد رِضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن دَورِ حاضِر کی اس بےہُوْدَہ رَسْم کا ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (بعض جاہِل لوگ) نِکاحِ بیوہ کو ہُنُود (ہندوؤں) کی طرح سخت ننگ وعار جانتے اور مَعَاذَ اللہ حرام سے بھی زائد اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکی بیوہ ہو گئی اگرچہ شوہر کا منہ بھی نہ دیکھا ہو اب عمر بھر یونہی ذَبح ہوتی رہے، ممکن ہے نِکاح کا حرف بھی زبان پر نہ لا سکے۔ اگر ہزار میں سے ایک آدھ نے خوفِ خدا و ترسِ روزِ جزا کر کے اپنا دین سنبھالنے کو نِکاح کر لیا تو اس پر چار طرف سے طعن وتشنیع کی بوچھار ہے، بےچاری کو کسی مجلس میں جانا بلکہ اپنے کنبے میں منہ دِکھانا دُشوار ہے۔ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔ یہ بُرا کرتے اور بےشک بہت بُرا کرتے ہیں، باتباعِ کفار (کافِروں کی پیروی کرتے ہوئے) ایک بےہُوْدَہ رَسْم ٹھہرا لینی پھر اس کی بِنا پر مُباحِ شرعی پر اِعْتِراض بلکہ بعض صُوَر (صورتوں) میں اَدائے واجِب سے اِعْرَاض (رُوگردانی) کیسی جَہالت اور نِہَایَت خوفناک حالت
ہے پھر حاجت والی جوان عورتیں اگر روکی گئیں اور مَعَاذَ اللہ بشامتِ نَفْس کسی گناہ میں مبتلا ہوئیں تو اس کا وبال ان روکنے والوں پر پڑے گا کہ یہ اس گناہ کے باعث ہوئے۔مزید فرماتے ہیں: (کیا یہ) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاص جگر پاروں سَیِّدۃُ النّساء، بتولِ زہرا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی اَبِیْہَا وَ عَلَیْہَا وَسَلَّم کی بطنی صاحبزادیوں سے زیادہ عزت والیاں، بڑھ کر غیرت والیاں ہیں، جن کے دو دو، تین تین اور اس سے بھی زائد نِکاح ہوئے...!! ([4])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہمیں چاہئے کہ تمام رُسُومِ یہود وہُنُود سے پیچھا چھڑائیں اور اپنے پیارے دین اسلام کے احکامات کو عملی طور پر اپنائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ جہنّم کا دردناک عذاب مُقَدَّر ہو جائے۔ یاد رکھئے! اگر ایسا ہوا تو تباہی ہی تباہی ہو گی!!!اس لئے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبِلال محمد الیاس عطّاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:
؏ سنّتوں سے بھائی رشتہ جوڑ تُو
نِت نئے فیشن سے مُنہ کو مَوڑ تُو
چھوڑ دے سارے غَلَط رسم و رواج
سنّتوں پہ چلنے کا کر عہد آج
یا خُدا ہے التجا عطاؔر کی
سنّتیں اَپنائیں سب سرکار کی([5])
شہنشاہِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آکر حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کاشانۂ نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں اپنی زندگی کے خوبصورت ترین لمحات گزارنے لگیں۔ تمام ازواجِ پاک کی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا و خُوشنودی پانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھتیں اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علمی و رُوْحانی فیضان سے فیض یاب ہو کر عِبادتِ الٰہی میں خوب خوب کوشش کرتیں، دن کو رَوزہ رکھتیں رات کو شب بیداری کر کے عِبادت میں گزارتیں۔ بارگاہِ الٰہی میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا یہ عمل اس قدر مقبول ہوا کہ ایک دفعہ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طلاق دینے کا اِرادہ فرمایا تو حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ربّ تعالیٰ کے حکم سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ عالی میں حاضِر ہو کر ان کی شب بیداری اور روزہ داری کو بیان کرتے ہوئے طلاق دینے سے منع کر دیا۔ چنانچہ حضرت سیِّدنا عمّار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام حاضِر ہو کر عرض گُزار ہوئے: ”لَا تُطَلِّقْھَا فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ وَاِنَّھَا زَوْجَتُکَ فِیْ الْجَنَّۃِ یعنی یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! انہیں
طلاق مت دیجئے کیونکہ یہ روزہ دار و شب بیدار ہیں اور جنّت میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اہلیہ ہیں۔“([6])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی پاکیزہ حیات کے بابرکت ایام پر غور کیجئے کہ کس طرح گھر کے تمام کام کاج بطورِ احسن پورے کرنے کے باوجود ان کا کوئی دن ربّ تعالیٰ کی عِبادت سے خالی نہیں گزرتا تھا، آپ کی سیرتِ طَیِّبہ امت کی بیٹیوں کے لئے بہترین راہِ عمل مُہَیَّا کرتی ہے۔ شیخ الحدیث حضرتِ علّامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: گھریلو کام دَھندا سنبھالتے ہوئے رَوزانہ اتنی عِبادت بھی کرنی پھر حدیث وفقہ کے عُلُوم میں بھی مہارت حاصِل کرنی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیبیاں آرام پسند اور کھیل کود میں زندگی بسر کرنے والی نہیں تھیں بلکہ دن رات کا ایک منٹ بھی وہ ضائع نہیں کرتی تھیں اور دن رات گھر کے کام کاج یا عِبادت یا شوہر کی خدمت یا عِلْم حاصِل کرنے میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! ان خوش نصیب بیبیوں کی زندگی نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِکاح میں ہونے کی برکت سے کتنی مقدس، کس قدر پاکیزہ اور کس درجہ نورانی زندگی تھی۔([7]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن
کے صدقے ہماری بے حِساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت ہی بلند ہمت اور سخاوت شعار خاتون ہیں۔ حق گوئی حاضِر جوابی اور فہم وفِراست میں اپنے والِدِ بُزُرْگْوَار کا مِزاج پایا تھا۔ اکثر رَوزہ دَار رہا کرتی تھیں اور تلاوتِ قرآنِ مجید اور دوسری قسم کی عِبادتوں میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ ان کے مِزاج میں کچھ سختی تھی اسی لئے حضرتِ امیر المؤمنین عُمَر بن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ان کی کسی سخت کلامی سے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بار بار اِن سے فرمایا کرتے تھے کہ اےحفصہ! تم کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے طلب کر لیا کرو، خبردار! کبھی حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کسی چیز کا تقاضا نہ کرنا نہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کبھی ہرگز ہرگز دل آزاری کرنا ورنہ یاد رکھو کہ اگر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تم سے ناراض ہو گئے تو تم خدا کے غضب میں گرفتار ہو جاؤ گی۔([8])
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ بنتِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کا تعلُّق عرب کے ایک نہایت ہی معزز واشرف قبیلے قریش کی شاخ بنی عدی سے تھا۔ تاجدارِ
انبیاء، محبوبِ کِبْرِیَاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعْلانِ نبوت سے پانچ۵ سال پہلے جب قریش بَیْتُ اللہ شریف کی تعمیرِ نو (نئے سرے سے تعمیر) میں مصروف تھے تب حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے ہاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وِلادت ہوئی۔ والِد کی طرف سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب یہ ہے: ” عُمَر بن خطّاب بن نُفَیْل بن عبدُ العُزّٰی بن رَباح بن عبد اللہ بن قُرْط بن رَزَاح بن عدی بن کعب بن لُؤَیّ بن غالِب“ اور والِدہ کی طرف سے اس طرح ہے: ”زینب بنتِ مَظْعُون بن حبیب بن وھب بن حُذَافه بن جُمَح“([9])
حضرتِ كعب میں جا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ حضرتِ کعب، رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آٹھویں جدِّ محترم ہیں۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ایک شرف یہ بھی حاصِل تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندان کے بہت سے افراد کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شرفِ صحابیت عطا فرمایا تھا اور وہ رسولِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلیل القدر صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی صف میں شامل ہوئے تھے ان میں چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا خلیفۃالمسلمین، امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہزادی ہیں اور
}سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ صحابی ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اِنَّ اللہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمایا ہے۔“([10]) اور فرمایا: ”لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطّاب ہوتا۔“([11])
}قرآن پاک کی کئی آیات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی رائے کے مُوَافق نازِل فرمائی ہیں۔([12])
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنّتی ہونے کی بشارت سنائی۔([13])
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے بارے میں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبر دی ہے کہ شیطان آپ سے خوف کھاتا ہے۔([14])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا حضرت سیِّدنا زَیْد بن خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔ یہ غزوۂ بدر، اُحُد، خندق، حدیبیہ وغیرہ تمام غزوات میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک ہوئے۔ اُحُد کے رَوز حضرتِ سیِّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی زِرَہ انہیں پہننے کے لئے کہا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے جواب دیا: مجھے بھی شہادت کا شوق ہے جیسے آپ کو ہے۔ پھر دونوں ہی اسے چھوڑ کر میدانِ جنگ میں دشمن سے نبرد آزما ہوئے۔
حضرتِ سیِّدنا زَیْد بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے جنگِ یمامہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت پر حضرتِ سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت زِیادہ رنجیدہ وپُرملال ہوئے اور فرمایا: ”مَا هَبَّتِ الصَّبَا اِلَّا و اَنَا اَجِدُ مِنْهَا رِيْحَ زَيْد جب بھی ہوا چلتی ہے میں اس سے زَیْد کی خوشبو پاتا ہوں۔“ اور فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ زید پر رحم فرمائے...!! میرا بھائی دو۲ اچھی باتوں میں مجھ پر سبقت لے گیا ہے:
(۱)...مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا۔
(۲)...مجھ سے پہلے جامِ شہادت نوش کیا۔([15])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی والِدۂ ماجِدہ حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، جلیل القدر صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی بہن ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں دَفْن ہونے والے پہلے صحابی ہیں۔([16]) مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا انتقال ہوا تو رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بوسہ دیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ مُبارَک سے آنسو رَواں تھے۔([17])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پُھوپھی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا قدیمُ الْاِسْلام صحابیات میں سے ہیں اور عشرۂ مبشرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم میں شامل ایک جلیل القدر صحابِیِ حضرت سیِّدنا سعید بن زَیْد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اہلیہ ہیں۔ آپ ہی اپنے بھائی حضرت عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِسلام قبول کرنے کا سبب بنی تھیں۔([18])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھائی حضرتِ سیِّدنا عبدالله بن عُمَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
عَنْہُـمَا نہایت عِبادت گُزار، پرہیز گار، بلند پایہ عالم، فقیہ اور مجتہد صحابی ہیں۔ آپ کے نیک وپرہیز گار ہونے کی گواہی خود رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دی ہے، چُنانچِہ بخاری شریف میں حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے اِرشاد فرمایا: ”اِنَّ عَبْدَ اللہِ رَجُلٌ صَالِحٌ عبدالله نیک آدمی ہے۔“([19])
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! کیا خُوب اور پیاری پیاری نسبتیں ہیں...!! واقعی جس ہستی کو ایسی عظیم نسبتیں حاصِل ہوں ان کی عظمت وشان کا اندازہ کون کر سکتا ہے...!! ایک یہی نسبت کیا کم ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مدینے کے تاجدار، دوعالَم کے مالِک ومختار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سے ہیں:
؏ وہ نساءِ نبی طیِّبات و خلیق
جن کے پاکیزہ تَر سارے طَور و طریق
جو بہرحال نُورِ خُدا کی رفیق
اہلِ اِسلام کی مادَرانِ شفیق
بانُوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام([20])
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ایک بہت عظیم نسبت یہ بھی حاصِل ہے کہ غزوۂ بدر جس میں مسلمانوں کو غلبہ اور کُفَّار کو شِکَسْتِ فاش ہوئی تھی اور اس غزوے میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے بارے میں رسولِ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا تھا: ”لَا يَدْخُلَ النَّارَ اَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَّالْحُدَيْبِيَةَ جو بدر اور حدیبیہ میں موجود تھا وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔“([21]) اس میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے خاندان کے اِن چھ۶ افراد نے شرکت کی سعادت حاصِل کی تھی:
(۱)...آپ کے والِدِ محترم حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔
(۲)...چچا جان حضرت سیِّدُنا زید بن خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔
(۳-۵)...ماموں جان حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن مظعون، حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن مظعون اور حضرتِ سیِّدُنا قُدَامَہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُـمْ۔
(۶)...ماموں زاد بھائی حضرت سیِّدُنا سائب بن عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُـمَا۔([22])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت بڑی عِبادت گزرا ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ
وحدیث میں بھی ایک ممتاز درجہ رکھتی تھیں، مُرَوَّجہ اور مشہور کُتُب میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے مروی احادیث کی تعداد 60 ہے۔ ان میں چار۴ مُتَّفَقٌ عَلَیْه یعنی بخاری ومسلم دونوں میں ہیں اور تنہا مسلم میں چھ۶ احادیث اور 50 احادیث دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔([23]) علم حدیث میں بہت سے صحابہ و تابعین ان کے شاگردوں کی فہرست میں نظر آتے ہیں جن میں خود ان کے بھائی حضرت عبد الله بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بہت مشہور ہیں۔([24])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حُضُور سیِّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ مطہرہ اور اُمُّ المؤمنین (یعنی تمام مؤمنوں کی امی جان) ہیں۔
}آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُن چھ۶ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سے ہیں جن کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا۔([25])
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا خلیفۂ ثانی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی شہزادی ہیں۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ہیں۔([26])
دنیا کو اپنے علمی فیضان سے فیض یاب کرتے ہوئے بالآخر شعبان المعظم 45ھ کو مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے انتقال فرمایا۔ اس وقت حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعَاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حکومت کا زمانہ تھا اور مَروان بن حکم مدینہ کا حاکم تھا، اسی نے اِن کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور کچھ دُور تک ان کے جنازہ کو بھی اُٹھایا پھر حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبر تک جنازہ کو کاندھا دئیے چلتے رہے۔ ان کے دو۲ بھائیوں حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن عمر اور حضرتِ سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُـمَا اور ان کے تین۳ بھتیجوں حضرتِ سیِّدُنا سالم بن عبد الله ، حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن عبد الله اور حضرتِ سیِّدُنا حمزہ بن عبد الله رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُـمْ نے انہیں قبر میں اتارا اور یہ جنّت البقیع میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ کے پہلو میں مدفون ہوئیں۔ بوقتِ وفات ان کی عمر 60 یا 63 برس تھی۔([27])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہر وقت اپنی آخرت کی فکر میں رہنا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا اُمَّہَاتُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ ان مقدس ہستیوں کی سیرت کو اپنے لئے مشعل راہ بناتے ہوئے ہمیں بھی اپنی قبر وآخرت کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔ آئیے! اس پر مضبوطی سے کاربند ہونے کا ذہن پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے مُنْسَلِک ہو جائیے کہ اس مَدَنی ماحول کی برکت سے کئی بد اخلاق اور بگڑے افراد کی زندگیوں میں سُدھار آ گیا ہے، کل تک دنیا ہی کی محبت میں مست رہنے والے اور والیاں بہتریٔ آخرت کے لئے مصروف ہو گئیں، عَدَمِ تربیت اور مَدَنی ماحول سے دُوری کی وجہ سے جن کے گھر بدسُکُونی اور بے آرامی کے شِکار تھے وہ اب مَدَنی ماحول کی برکت سے امن کا گہوارہ بن گئے ہیں جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صفحات پر مشتمل رِسالے ”معذور بچی مبلغہ کیسے بنی؟“ صفحہ 11 پر ہے: باب المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگنے سے پہلے بہت سی عورتوں کی طرح میں بھی بے پردگی، فیشن زدگی اور فحش کلامی جیسی برائیوں میں مُلَوَّث تھی، فلمیں ڈرامے دیکھنا میرا شوق اور گھر والوں سے لڑنا جھگڑنا میرا محبوب مشغلہ تھا، اپنے بچوں کے ابو سے زبان درازی کرنے کو گویا میں اپنا حق سمجھتی تھی، عِلْمِ دین سے کَوسَوں دُور اور فکرِ آخرت سے یکسر غافِل تھی، میرے سدھرنے کی ترکیب یوں بنی کہ ایک دن میں اپنی بہن کے ساتھ ان کی سہیلی کے گھر گئی ان کی سہیلی جو ایک با حَیَا اور پُروقار شخصیت کی مالِک تھیں، بڑی ملنساری سے پیش آئیں۔ دورانِ گفتگو انکشاف ہوا کہ وہ دعوتِ اِسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ
ہیں۔ میں ان کی خوش اخلاقی اور عاجِزی وانکساری سے بڑی متاثر ہوئی۔ انہوں نے بڑے دھیمے اور محبت بھرے لہجے میں ہمیں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ ان کی اس مختصر سی انفرادی کوشش کے نتیجے میں مجھے اتوار کے روز ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضِری کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہاں پر میں نے تلاوتِ قرآن، نعت شریف اور بیان سنا۔ جب ذِکْرُ اللہ کے بعد اجتماعی دُعا میں کی جانے والی گریہ و زاری سنی تو میرے دل کی دنیا زَیر و زَبر ہو گئی، مجھ پر عجیب رِقّت طاری تھی، پچھلی زندگی کے گناہ میری نگاہوں میں گھوم رہے تھے، میں مارے شرم کے پانی پانی ہو گئی، آنکھوں سے اشکِ ندامت بہہ نکلے، میں نے خوب گڑگڑا کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنے تمام گناہوں کی مُعافی مانگی اور توبہ کر لی۔ اجتماع کے بعد میں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا جس میں نمازوں کی پابندی تھی، پَردے کی عادت تھی، بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت تھی، گفتار میں نرمی تھی، نِگاہوں کی حِفاظت تھی الغرض قدم قدم پر شریعت کی پاسداری کی کوشش تھی۔ دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول پر قربان! جس کی بدولت مجھے سدھرنے کا موقع ملا۔
؏ یا ربّ میں تیرے خوف سے روتی رہوں ہر دم
دیوانی شہنشاہِ مدینہ کی بنا دے
اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے! اِخلاص کے ساتھ کی گئی اِنْفِرادی کوشش کی کیسی برکتیں نصیب ہوئیں اور بربادیٔ آخرت کے راستے پر چلنے والی اِسلامی بہن کو
جنّت میں لے جانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق مل گئی۔ ہر اسلامی بہن کو چاہئے کہ گھبرائے اور شرمائے بغیر دیگر اِسلامی بہنوں (خواہ ان کا تَعَلُّق کسی بھی شعبے سے ہو) کو نیکی کی دعوت ضرور پیش کیا کریں۔ کیا عجب کہ ہمارے چند کلمات کسی کی دنیا و آخرت سنوارنے اور ہمارے لئے کثیر ثوابِ جاریہ کا ذریعہ بن جائیں۔
}عالموں کی دواتوں کی روشنائی قیامت کے دن شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہو جائے گی۔ [كنزالعمال، كتاب العلم، قسم الاقوال، المجلد الخامس، ۱۰/۶۱، الحديث:۲۸۷۱۱]
}ایک فقیہ ایک ہزار عابدوں سے زیادہ شیطان پر بھاری ہے۔ [سنن ابن ماجة، كتاب السنة، باب فضل العلماء...الخ، ص۴۹، الحديث:۲۲۲]
زَیْنَب بنتِ خُزَیْمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدنا ابوبکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں: میں نے اپنے مرحوم پڑوسی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: ”مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعَامَلہ فرمایا؟“ وہ بولا: میں سخت ہولناکیوں سے دوچار ہوا، منکرنکیر کے سوالات کے جوابات بھی مجھ سے نہیں بن پڑ رہے تھے، میں نے دل میں خیال کیا کہ مجھ پر یہ مصیبت کیوں آئی ہے...؟ کیا میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا...؟ اتنے میں آواز آئی: دنیا میں زبان کے غیر ضروری اِسْتِعمال کی وجہ سے تجھے یہ سزا دی جا رہی ہے۔ اب عذاب کے فِرِشتے میری طرف بڑھے۔ اتنے میں ایک صاحِب جو حسن وجمال کے پیکر اور معطر معطر تھے وہ میرے اور عذاب کے درمیان حائل ہو گئے اور انہوں نے مجھے منکرنکیر کے سوالات کے جوابات یاد دِلا دئیے اور میں نے اسی طرح جوابات دے دیئے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! عذاب مجھ سے دُور ہوا۔ میں نے ان بزرگ سے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رَحْم فرمائے، آپ کون ہیں؟ فرمایا: ”تیرے کثرت کے ساتھ دُرُوْد شریف پڑھنے کی برکت سے میں پیدا ہوا ہوں اور مجھے ہر مصیبت کے وقت تیری اِمداد پر مَامُوْر کیا گیا ہے۔([28])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مکہ کی پاک سرزمین میں جب اِسلام کا سورج طلوع ہوا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب رسول حُضُور احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی نبوت ورِسالت کا اِظہار واِعلان فرماتے ہوئے دعوتِ اِسلام کا آغاز فرمایا تو جو پاک طبیعت و نیک طینت ہستیاں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے پہلے پہل ہی ایمان لانے کی سعادت سے مُشَرَّف ہوئیں ان میں حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی شامِل ہیں۔ یہ اپنی سخی وفیاض طبیعت اور یتیموں ومسکینوں پر مہربانی وشفقت کی بدولت زمانۂ جاہلیت میں ہی اُمُّ الْمَسَاکِیْن کے دِل آویز خِطاب سے مشہور ہو چکی تھیں([29])اور اسلام جو بذاتِ خُود سخاوت وفیاضی کا درس دیتا ہے اِس سے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی اس صفت میں چار چاند لگ گئے۔ سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! جب امتیوں کی یہ شان ہے تو پیارے آقا، دوعالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عالَم کیا ہو گا...؟ کون آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ جُود وسخاوت کا اندازہ کر سکتا ہے...؟
؏تِرے جُود و کَرَم کا کوئی اندازہ کرے کیونکر
تِرا اِک اِک گدا فیض و سخاوت میں ہے حاتم سا([30])
سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آ کر کاشانۂ نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں داخِل ہونے سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا صحیح تر قول کے مُطَابِق حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ رشتۂ اِزْدِواج میں منسلک تھیں۔ ہجرت کے تیسرے سال مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا سے تقریباً تین۳ میل کے فاصلے پر واقِع اُحُد کے میدان میں مسلمانوں اور کفّار کے درمیان جو عظیم معرکہ بپا ہوا حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بھی پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں سفر کر کے حق و باطِل کے اس عظیم معرکے میں شرکت کی سعادت حاصِل کی اور کفر کی گردنیں کاٹ کر عَلَمِ اسلام کو بلند فرماتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔([31])
حضرتِ سیِّدُنا سَعْد بن ابووقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اُحُد کے روز حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا: کیوں نہ ہم بارگاہِ رَبُّ الْعِزّت میں دُعا کریں؟ پھر یہ دونوں حضرات تنہا ایک گوشے میں چلے گئے۔
حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابووقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دُعا کی: اے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! کل جب قومِ کفّار سے ہمارا آمنا سامنا ہو تَو مجھے سخت جنگ جُو اور غیظ وغضب سے بھرپور شخص ملے، پِھر میں تیری راہ میں اُس سے لڑوں وہ مجھ سے لڑے، انجام کار مجھے اس کے مقابلے میں کامیابی عطا فرما حتی کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال غنیمت لے لوں۔ حضرتِ عبد الله بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اٰمین کہی۔ پِھر حضرتِ عبد الله بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دُعا کی: اے مالِک ومولیٰ عَزَّ وَجَلَّ ! کل ایسے شخص سے میری مڈھ بھیڑ (آمنا سامنا) ہو جو سخت جنگ جُو اور غیظ وغضب سے بھرپور ہو، میں تیری راہ میں اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے، بالآخر وہ مجھ پر غالب آئے، میرا ناک (اور کان) کاٹ ڈالے اور کَل جب میں تجھ سے مِلوں تَو، تُو فرمائے: اے عبد الله ! تیرا ناک اور کان کس وجہ سے کاٹے گئے؟ میں عرض کروں: مولیٰ! تیری اور تیرے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی راہ میں۔ اس پر تُو اِرشاد فرمائے: ”صَدَقْتَ تُو نے سچ کہا۔“
(یہ واقِعہ بیان فرمانے کے بعد) حضرتِ سیِّدُنا سَعْد بن ابووقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (اپنے بیٹے سے) فرمایا: اے بیٹے! عبد الله بن جحش کی دُعا میری دُعا سے بہتر تھی، میں نے انہیں دن کے آخری پَہَر دیکھا کہ ان کے کان اور ناک دھاگے میں پِرو کر لٹکائے گئے ہیں۔([32])
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! آپ نے حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن جَحْش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جذبۂ شہادت ملاحظہ کیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی راہ میں تن من دھن قربان کرنے کے عملی مبلغ تھے بلکہ سب صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ہی یہ معمول تھا کہ وہ دِین اسلام کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دَریغ نہیں کیا کرتے تھے، کاش! صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس جذبۂ صادِق کے صَدْقے ہمیں ایسی توفیق نصیب ہو کہ ہم کسی بھی پریشانی و مصیبت کو خاطِر میں نہ لاتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں ہمہ تن مصروف رہیں، ہمارا لفظ لفظ کلمۂ حق کا بیان ہو اور رُوْئیں رُوْئیں سے عشق رسول آشکارا ہو، اے کاش! ایسا جذبہ نصیب ہو کہ دین کی خاطِر جان کی بازی لگانے سے بھی دَریغ نہ کریں، کیونکہ
؏شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مُؤمِن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشْوَر کُشائی([33])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدنا عبد الله بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نِکاح تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ
نبوت ووِلایَت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ہوا۔ مروی ہے کہ جب سرکارِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں نِکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے اپنا مُعَامَلہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سپرد کر دیا پھر حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح فرما لیا اور ساڑھے 12 اُوْقِیَہ مہر نِکاح مقرر فرمایا۔([34])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے بہت کم عرصہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبتِ بافیض میں بسر کیا ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کے چند ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا، اس لئے کُتُبِ سیرت وتاریخ میں بہت کم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے احوال کا ذکر ملتا ہے، اس کمیٔ ذکر کے باوجود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عَظَمَت کا ستارہ بہت بلند نظر آتا ہے جس کے چند حسین گوشے آپ نے ملاحظہ کئے، اب آئیے! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نام ونسب اور خاندان کے حوالے سے بھی چند ابتدائی باتوں سے متعارف ہو جائیے، چنانچہ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا اسم گرامی زینب اور والِد کا نام خُزَیْمہ ہے۔ آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب اس طرح ہے: ”خُزَیْمَة بن حارث بن عبد اللہ بن عَمْرو بن عبدِ مناف بن هلال بن عامر بن صَعْصَعَة بن مُعَاويه بن بكر بن هوازن بن منصور بن عِكْرَمَة بن خصفة بن قيس بن عيلان([35]) بن مُضَر“([36])
حضرتِ مُضَر میں جا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ حضرتِ مُضَر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے 18ویں جَدِّ محترم (دادا جان) ہیں۔
ایک قول کے مطابق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی اَخَواتی (ماں شریک) بہن ہیں([37]) اس قول کے مطابق اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا خاندانی پس منظر ملاحظہ کیا جائے تو اس میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو سعادت دَرْ سعادت حاصِل تھی کیونکہ اس اعتبار سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، ہِند بنتِ عوف کی بیٹی ہیں اور ہِند بنتِ عوف وہ خاتون ہیں جن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ سسرالی رشتوں کے اعتبار سے سب سے معزز خاتو ن ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی دو۲ بیٹیاں حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ
خُزَیْمہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا میمونہ بنتِ حارِث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا تو سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت سے مُشَرَّف ہوئیں کہ جب حضرت زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہو گیا اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نکاح فرمایا اور دیگر بیٹیاں بھی معزز ترین افراد کے نِکاح میں تھیں، چنانچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا حضرتِ سیِّدُنا عبّاس اور حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا نیز حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق، حضرتِ سیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ، حضرتِ سیِّدُنا جعفر بن ابوطالِب اور حضرتِ سیِّدُنا شَدَّاد بن ہَاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم جیسے عمائدین اسلام بھی ان کے دامادوں میں شامِل ہیں۔([38])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو خاندانی اعتبار سے ایک یہ شرف بھی حاصِل ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اُن چار۴ عظیم بہنوں کی اَخَواتی (ماں شریک) بہن ہیں جن کو حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَلْاَخَوَاتُ الْمُؤْمِنَات کا دل نشین لقب عطا فرمایا ہے، وہ چار۴ بہنیں مُنْدَرَجہ ذیل ہیں:
}اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا مَیْمُوْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
}اُمِّ فضل حضرتِ سیِّدَتُنا لُبَابَہ بنتِ حارِث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
}حضرتِ سیِّدَتُنا سلمٰی بنتِ عُمَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
}حضرتِ سیِّدَتُنا اَسْماء بنتِ عُمَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔([39])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حُضُور سیِّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجۂ مطہرہ اور اُمُّ المؤمنین (تمام مؤمنوں کی امی جان) ہیں۔
}غریبوں ومسکینوں پر شفقت واحسان کی بدولت زمانۂجاہلیت میں ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اُمُّ المساکین کے دِل نواز خِطَاب سے پکارا جانے لگا تھا۔([40])
}ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عِلاوہ صرف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہی ہیں جنہوں نے سرکارِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ مُبَارَکہ میں انتقال کیا([41]) اور حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنہیں دفن فرمایا۔([42])
}ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں صرف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی نمازِ جنازہ خود پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ادا فرمائی کیونکہ جب حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہوا تھا اس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا۔([43])
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اُن خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہبہ کر دی تھیں اور ان کے بارے میں اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی:
تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُؕ-وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَؕ- (پ۲۲، الاحزاب:۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان:پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کِنارے کر دیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں۔
چنانچہ بخاری شریف میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے رِوایَت ہے، فرماتی ہیں کہ میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنی جانیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بخش دیتی تھیں۔ میں کہتی تھی: کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے؟ پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ (مذکورہ بالا) آیت اُتاری تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ربّ کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔([44])
مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ حضرتِ اُمُّ المؤمنین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کا عقیدہ یہ تھا:
؏خُدا کی رِضا چاہتے ہیں دَو عالَم
خُدا چاہتا ہے رِضَائے مُحَمَّد
لہٰذا اگر حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہم جیسے گنہگاروں کو ربّ (عَزَّ وَجَلَّ) سے بخشوانا چاہیں تو ربّ تعالیٰ ضرور بَخْش دے گا کیونکہ وہ حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی رِضا چاہتا ہے:
؏تُو جو چاہے تو ابھی مَیل مِرے دِل کے دُھلیں
کہ خُدا دِل نہیں کرتا کبھی مَیلا تیرا
خَیَال رہے کہ چند عورتوں نے اپنے کو حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر پیش کیا ہے: (۱)...مَیْمُونہ
(۲)...اُمِّ شریک
(۳)...زینب بنتِ خُزَیْمہ
(۴)...خَوْلَہ بنتِ حکیم (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ)۔([45])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمی ورُوْحانی فیضان سے فیض یاب ہوتے ہوئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار کے شربت سے اپنی آنکھوں کو سیراب کرتے ہوئے سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آنے کے آٹھ۸ماہ بعد ربیع الآخر چار۴ ہجری میں 30 برس کی عمر پا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سفر آخرت کا آغاز فرمایا۔ ایک قول یہ ہے کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آنے کے بعد صرف دو۲ یا تین۳ ماہ حیات رہیں۔ رسولِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور جَنَّتُ الْبَقِیْع میں دَفْن فرمایا۔([46])
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وفات کے بعد جب سیِّدُ الْاَنبیاء، محبوبِ کِبْرِیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے عقدِ نِکاح فرمایا تو انہیں حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے حجرے میں ٹھہرایا۔([47])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سیرتِ پاک کے چند رَوشن پہلو آپ نے ملاحظہ کئے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو کثیر انعامات سے نوازا تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ایسا دِل عطا فرمایا تھا جو غریبوں ومسکینوں کی محبت سے لبریز تھا اور اس صفت میں امتیازی شان کی وجہ سے ہی آپ کو اُمُّ المساکین کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ آپ کی سیرتِ مُبارَکہ کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے ہمیں بھی فقرا اور مساکین کےساتھ مہربانی واحسان کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں قرآن وسنّت پر عمل کرنے اور اَسْلافِ کِرام کے نُقُوشِ قدم پر چلنے کا ذہن دیا جاتا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس مَدَنی ذہن کو اِسلامی بہنیں قبول کرتی ہیں اور آئے دن ایسی مَدَنی بہاریں رُوْنُما ہوتی ہیں کہ نیکیوں میں سبقت اور شرعی پردے کا ذہن نہ رکھنے والیاں نیکوکار اور پردہ دَار بن جاتی ہیں۔ ترغیب کے لئے ایک مَدَنی بہار یہاں بیان کی جاتی ہے، چنانچِہ
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفْحات پر مشتمل رِسالے ’’بدنصیب دُولہا‘‘ صَفْحہ 19پر ہے: باب المدینہ(کراچی) کی ایک اِسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ میں پہلے بہت زیادہ فیشن ایبل تھی، فون کے ذریعے غیر مردوں سے دوستی کرنے میں بڑا لطف آتا، آس پڑوس کی شادیوں میں رسم مہندی کے موقع پر مجھے خاص طور پر بُلایا جاتا، وہاں میں دوسری لڑکیوں
کو ڈانس اور ڈانڈیا سکھاتی تھی، ایک سے بڑھ کر ایک گانے مجھے زبانی یاد تھے۔ آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے مجھ سے گانا سنانے کی فرمائش کی جاتی۔ (وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ)
ویسے میں کبھی کبھار نماز بھی پڑھ لیتی اور رمضان المبارَک میں روزے بھی رکھ لیتی تھی۔ بد قسمتی سے گھر میں T.V بہت دیکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے میں گناہوں سے بچ نہیں پاتی تھی۔ مجھے نعتیں پڑھنے کا شوق تو تھا مگر فضول مَشَاغِل کی وجہ سے نہ پڑھ پاتی۔ ایک بار ربیع النّور شریف کی شام نمازِ مَغْرِب کے بعد میرے بڑے بھائی گھر آئے ان کے ہاتھ میں تین۳ کیسٹ تھے جن میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان بنام ’’قبر کی پہلی رات‘‘ بھی تھا۔ میں نے جب اس بیان کو سنا تو مجھے جھٹکا تو لگا مگر میں گناہوں کے دَلْدَل میں اس قدر پھنسی ہوئی تھی کہ مجھ میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی، اتنا فرق ضرور پڑا کہ گناہوں کا اِحساس ہونے لگا ۔ ایک دن پڑوس میں دعوتِ اسلامی کی ذمہ دَار اسلامی بہنوں نے بسلسلہ گیارہویں شریف اجتماعِ ذکرو نعت کا اِہْتِمام کیا۔ امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے کیسٹ بیان سننے کی بَرَکت سے میں نے زندگی میں پہلی بار اجتماعِ ذکرو نعت میں جانے کا اِرادہ کیا۔ مگر وہاں جانے کے لئے بھی خُوب میک اپ کر کے جدید فیشن کا لباس پہنا۔ اجتماعِ ذکرو نعت میں ایک اسلامی بہن نے سنّتوں بھرا بیان فرمایا، جس نے میرے دِل پر بڑا اثر کیا۔ بیان کے بعد غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا لکھا ہوا کلام ’’یا غوث! بُلا لو مجھے بغداد بُلا لو‘‘ پڑھا گیا۔ اس کلام
کو سن کر میری دل کی دنیا زَیرو زَبر ہو گئی۔ یوں میرا دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں جانے کا سلسلہ بن گیا اور کچھ ہی عرصہ میں مَدَنی برقع پہننے کی سَعادت بھی پانے لگی۔ آج میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر مَدَنی کاموں کی دُھومیں مَچانے کے لئے کَوشاں ہوں۔
حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں کہ انسان کے تین۳ دشمن ہیں:
.....دنیا.....شیطان.....نفس.....
لہٰذا دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے، شیطان کی مخالفت کر کے اور نفس کی خواہشات ترک کر کے اس سے محفوظ رہے۔ [احياء علوم الدين، كتاب رياضة النفس، بيان الطريق الذى يعرف به الانسان...الخ، ۳/۸۴]
سیرتِ حضرت اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
حضرتِ سیِّدُنا امام مَجْدُ الدِّین محمد بن یعقوب فیروز آبادی عَلَیْہِ رَحْمـَۃُ اللہِ الْہَادِی نقل فرماتے ہیں کہ مصر میں ایک نیک وپارسا شخص تھا جسے ابو سعید خیّاط کہا جاتا تھا۔ وہ لوگوں سے ملتا جلتا تھا نہ ان کی محفلوں میں شریک ہوتا۔ پھر اچانک اس نے پابندی کے ساتھ حضرتِ ابنِ رشیق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ اللَّطِیْف کی محفل میں حاضِر ہونا شروع کر دیا۔ اس پر لوگوں کو حیرانی ہوئی اور انہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس کی وجہ دریافت کی۔ فرمایا: مجھے خواب میں سرکارِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدارِ پُرانوار کی سعادت حاصِل ہوئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ابنِ رشیق کی محفل میں حاضِر ہوا کرو کیونکہ وہ اس میں مجھ پر کثرت سے دُرُود پڑھتا ہے۔ (لہٰذا میں نے حُضُور سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمانِ گوہر بار پر عمل کرتے ہوئے ان کی مجلس میں حاضِر ہونا شروع کر دیا۔)
پھر جب حضرتِ ابنِ رشیق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ اللَّطِیْف کا انتقال ہوا تو انہیں خواب میں اچھی حالت میں دیکھا گیا۔ پوچھا گیا: ”بِمَ اُوْتِیْتَ ھٰذَا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ انعامات ملنے کا سبب کیا بنا؟“ فرمایا: ”بِکَثْرَۃِ صَلَاتِیْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم محبوبِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنا۔“([48])
؏وِرْد کُن ہر دَم دُرودِ پاک را
شاد کُن بَر خود شَہِ لولاک را
تابیاید قطرہ از بحرِ کرم
محو سازد جملہ عصیاں و جرم([49])
(یعنی ہر دَم دُرُودِ پاک کا وِرْد کر کر کے شہِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خود سے خوش کر کہ اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بحرِ کرم سے ایک قطرہ بھی نصیب ہو گیا تو وہ تمام گناہ اور جرم مِٹا دے گا۔)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دِل ودماغ پر کفر وجہالت کی تاریکیاں چھا چکی تھیں، قبیلوں اور مختلف افراد کے سینوں میں ایک دوسرے کے خِلاف نفرت وعداوت کی آگ بھڑک رہی تھی جس کی وجہ سے قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا۔ نیز جہالت وبےوقوفی نے لوگوں کی عقلوں پر کچھ ایسے پردے ڈال رکھے تھے کہ وہ اپنے خالق حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت سے منہ موڑ کر اپنے بنائے ہوئے باطِل معبودوں کی پوجا پاٹ میں مصروف تھے۔ زِناکاری جیسے اَخلاق سَوز جَرائم کا ایسے کھلے عام اِرْتِکاب ہوتا تھا کہ گویا یہ گناہ ہی نہ ہوں۔ عورتوں سے حقوقِ زندگی چھین لیے گئے تھے، ظلم
کی حد یہ تھی کہ چھوٹی چھوٹی بے گناہ بچیوں کو زندہ دَرْگَور (دفن) کر دیا جاتا تھا الغرض اس طرح کے کئی انسانیت سوز جرائم کی وجہ سے دنیا تباہی کے کنارے پہنچی ہوئی تھی اور بلکتی ہوئی انسانیت کسی نجات دِہَنْدَہ (نجات دینے والے) کے انتظار میں تھی۔
ایسے میں خالق کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ نے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے اس عظیم ہستی کو مبعوث فرمایا جنہیں اس نے سب سے پہلے پیدا فرمایا اور جن کے لیے یہ کائنات کی رونقیں سجائیں۔ آفتابِ رسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سرچشمہ رُشْد وہدایت ہونے کی حیثیت سے فرشِ گیتی پر جلوہ افروز ہوئے اور لوگوں کو خُدائے واحِد عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کی طرف بُلانے لگے۔ بہت جلد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور کی کرنوں سےکفر وگمراہیت اور الحاد وبےدینی کی گھٹا ٹوپ (سخت تاریک) رات کا خاتمہ ہوا اور دنیا میں توحید و رسالت اور ایمان کے نور سے منور ایک نئے سویرے نے طلوع کیا۔ جو لوگ سب سے پہلے آفتابِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور کی کرنوں سے منور ہوئے اور کفر وگمراہیت کی اُس تاریک رات میں صبح صادِق([50])کی طرح روشنی کی پہلی کرن بن کر چمکے ان میں سے ایک حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ ہِند بنتِ ابو اُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور دوسرے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے شوہرِ نامدار حضرتِ سیِّدُنا ابوسلمہ عبد الله
بن عَبْدُ الْاَسَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ بھی ہیں۔ ان دونوں مبارک ہستیوں نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں ہی اس کی حقانیت کو پہچانا اور مُشَرَّف بہ اسلام ہو کر اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کی فَہْرِست میں شامِل ہو گئے جن کے بارے میں اللہ ربُّ العزّت کا فرمانِ عظمت نشان ہے:
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ۱۱،التوبة:۱۰۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور سب میں اگلے پہلے مُہَاجِر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لئے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ گیارہویں نمبر پر اسلام لانے کی سعادت سے مُشَرَّف ہوئے۔([51])
عامۂ کُتُبِ سیرت کے مُطَابِق شروع شروع میں پوشیدہ طور پر دعوتِ اسلام دی جاتی رہی اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رازداری کے ساتھ دین اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے کیونکہ اس وقت تک اعلانیہ دعوت کا حکم نہیں آیا تھا۔
چند برسوں بعد جب اس کا حکم آیا اور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اعلانیہ طور پر اسلام کی دعوت دینے لگے اور کھلم کھلا جاہلیت کی بُرائیوں کا ردّ فرمانے لگے تو جاہلیت کی فضاؤں میں پروان چڑھنے والوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔ یہاں سے مسلمانوں کی ایذا رسانیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا اور کفار ومشرکین نے اسلام کے فدائیوں پر ظلم وستم کے وہ وہ پہاڑ ڈھائے کہ دھرتی کا کلیجہ کانپ کر رہ گیا، آئیے! ان مظالم کی مختصر روداد حضرتِ علّامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے قلم سے ملاحظہ کیجئے اور راہِ خدا میں پیش آنے والی ہر مصیبت وپریشانی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کا ذہن بنائیے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ”کفارِ مکہ نے ان غرباء مسلمین پر جور وجفا کاری کے بے پناہ اندوہناک مظالم ڈھائے اور ایسے ایسے روح فرساء اور جاں سوز عذابوں میں مبتلا کیا کہ اگر ان مسلمانوں کی جگہ پہاڑ بھی ہوتا تو شاید ڈگمگانے لگتا۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تَنُّور کی طرح گرم ہو جاتے، ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کر کے اس جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ کروٹ نہ بدلنے پائیں، لوہے کو آگ میں گرم کر کے ان سے ان مسلمانوں کے جسموں کو داغتے، پانی میں اس قدر ڈبکیاں دیتے کہ ان کا دم گھٹنے لگتا، چٹائیوں میں ان مسلمانوں کو لپیٹ کر ان کی ناکوں میں دھواں دیتے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا او روہ
کرب و بےچینی سے بدحواس ہو جاتے۔“([52])
لیکن یہ تمام تکلیفیں اور یہ تمام مظالم سہنے کے باوجود ان شمع رسالت کے پروانوں کے پائے ثبات میں ذرہ برابر لرزش نہ آئی۔ سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! یہ کیسا استقلال تھا اور کیسی استقامت تھی کہ چاروں طرف سے کفر وشرک کی تُند وتیز آندھیوں میں گھِرے ہوئے ہونے کے باوجود اپنے ایمان کی شمع کو بجھنے نہ دیا...!! اس کا تذکِرہ کرتے ہوئے حضرت علّامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ”خدا کی قسم! شرابِ توحید کے ان مستوں نے اپنے استقلال واستقامت کا وہ منظر پیش کر دیا کہ پہاڑوں کی چوٹیاں سر اُٹھا اُٹھا کر حیرت کے ساتھ ان بلا کَشانِ اسلام (اسلام کی راہ میں مصیبتیں برداشت کرنے والوں) کے جذبۂ استقامت کا نظارہ کرتی رہیں۔ سنگدل، بے رحم اور درندہ صفت کافِروں نے ان غریب وبےکس مسلمانوں پر جبر واِکْرَاہ اور ظلم وستم کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا مگر ایک مسلمان کے پائے استقامت میں بھی ذرہ برابر تَزَلْزُل نہیں پیدا ہوا اور ایک مسلمان کا بچہ بھی اسلام سے منہ پھیر کر کافِر ومرتد نہیں ہوا۔“([53])
ان ناقابل برداشت مظالم کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی مادرِ وطن سے ہجرت کر جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، چنانچہ روایت کا خلاصہ ہے کہ جب سر زمین مکہ (اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود) مسلمانوں پر تنگ ہو گئی، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فدائیوں کو طرح طرح کی اذیتوں سے دو چار کیا گیا اور انہیں مصیبتوں وبلاؤں میں گرفتار کیا گیا تو رسولِ پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں جانِبِ حبشہ ہجرت کر جانے کا فرمایا کہ ”اِنَّ بِاَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكاً لَا يُظْلَمُ اَحَدٌ عِنْدَهٗ فَالْحَقُوْا بِبِلَادِهٖ حَتّٰى يَجْعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ فَرَجاً وَّمَخْرَجًا مِمَّا اَنْتُمْ فِيْهِ سرزمین حبشہ میں ایسا (عادِل) بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظُلْم نہیں کیا جاتا، تم لوگ اس کے ملک میں چلے جاؤ حتی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لئے کشادگی اور ان مصائب سے نکلنے کا راستہ بنا دے جن میں تم مبتلا ہو۔“([54])
رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِجازت پا کر اعلانِ نبوت کے پانچویں سال، رَجَبُ المرجَّب کے مہینے میں 11 مرد اور 4 عورتوں نے جانبِ حبشہ ہجرت کی۔([55]) ان مُہاجِرین حبشہ کی صف میں حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور آپ کے شوہر نامدار حضرتِ سیِّدنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
بھی شریک تھے۔([56])
سرزمین حبشہ مسلمانوں کے لئے بہت امن و سکون کی جگہ ثابت ہوئی اور مسلمان بِلاخوف وخطر خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہو گئے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا حبشہ کے پرسکون ماحول سے متعلق فرماتی ہیں: ”ہمیں اپنے دین کے حوالے سے اطمینان وسکون حاصِل ہوا اور ہم نے اس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کی کہ نہ ہمیں تکلیف دی جاتی اور نہ ہم کوئی ناپسندیدہ بات سنتے۔“([57])
کچھ عرصے بعد حضرتِ ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ (اپنی زوجہ محترمہ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو لے کر) مکہ واپس آ گئے یہاں پہنچ کر جب دوبارہ کفارِ قریش کی اذیتوں سے دوچار ہوئے نیز مدینہ شریف میں انصار کے ایمان لانے کی خبر بھی ملی تو اس کی طرف ہجرت کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔([58]) ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرتِ علامہ ابو محمد عبد الملک بن ہشام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَام نقل فرماتے ہیں: جب حضرتِ سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کا پختہ ارادہ کیا تو اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور اپنے فرزند حضرت سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو کجاوے میں سوار کیا پھر انہیں لئے ہوئے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل پڑے۔ جب حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے میکے والوں بنو مغیرہ نے انہیں دیکھا تو وہ آئے اور کہنے لگے: تمہیں تو ہم نہیں روک سکتے لیکن ہمارے خاندان کی اس لڑکی کے بارے میں تم کیا چاہتے ہو؟ ہم کیوں اسے تمہارے پاس چھوڑ دیں کہ تم اسے شہر بہ شہر لئے پھرو؟ یہ کہہ کر انہوں نے اونٹ کی نکیل کو ان سے چھین لیا اور حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ان سے علیحدہ کر دیا۔ اس پر حضرتِ ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے خاندان بنو عبد الاسد کے لوگوں کو طیش آ گیا اور انہوں نے غضب ناک ہو کر کہا: بخدا! جبکہ تم نے اُمِّ سلمہ کو اس کے شوہر سے علیحدہ کر دیا ہے جو ہمارے خاندان میں سے ہیں تو ہم ہرگز ہرگز ابوسلمہ کے بیٹے سلمہ کو اس کے پاس نہیں رہنے دیں گے کیونکہ وہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ پھر ان میں حضرتِ ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے بیٹے سلمہ کو لے کر چھینا جھپٹی ہوئی بالآخر بنوعبد الاسد والے اسے لے کر چلے گئے اور حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بنومغیرہ کے لوگوں نے اپنے پاس روک لیا۔ مگر حضرت ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ شریف چلے گئے۔
حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا شوہر اور بچے کی جدائی پر ہر صبح وادیٔ مکہ میں بیٹھ کر رونا شروع کر دیتیں اسی طرح تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ ایک دن
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا ایک چچا زاد بھائی آپ کے پاس سے گزرا اور آپ کا حال دیکھ کر اس کو آپ پر رحم آیا اور اس نے بنومغیرہ کو سمجھاتے ہوئے کہا: تم نے اس مسکینہ کو اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے اور اسے کیوں نہیں جانے دیتے...!! بالآخر بنو مغیرہ نے اس پر رضا مند ہوتے ہوئے حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کہا: اگر چاہو تو اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ۔ پھر حضرت ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے خاندان والوں نے بچے کو حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے سپرد کر دیا۔ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بچے کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہوئیں اور تنہا جانب مدینہ روانہ ہوگئیں۔ جب تنعیم کے مقام پر پہنچیں تو حضرتِ عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے کہا: اےابواُمَیَّہ کی بیٹی! کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جواب دیا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جا رہی ہوں۔ انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ فرمایا: بخدا! میرے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور میرے اس بچے کے سوا کوئی نہیں؟ یہ سن کر حضرتِ عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں تمہیں اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لی اور پیدل چلتے ہوئے آگے بڑھے۔ حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: خدائے ذُوالجلال کی قسم! میں نے عرب کے کسی شخص کو حضرت عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے زیادہ شریف نہیں پایا کہ وہ جب کسی منزل پر پہنچتے، اونٹ کو بٹھاتے پھر مجھ سے دُور ہٹ جاتے۔ جب میں نیچے اتر جاتی تو آ کر اونٹ
لے جاتے، اس سے کجاوہ اتار کر کسی درخت کے ساتھ باندھتے اور پھر دُور جا کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتے۔ جب روانگی کا وقت قریب ہوتا تو اونٹ کے پاس جا کر اسے آگے بڑھاتے، اس کی پیٹھ پر کجاوہ باندھتے اور پھر دُور جا کر کہتے: سوار ہو جائیے۔ جب میں سوار ہو کر درست ہو کر بیٹھ جاتی تو آ کر اس کی مہار پکڑ کر چلنے لگتے حتی کہ اگلی منزل پر پہنچ جاتے۔ اس طرح کرتے کرتے مجھے مدینہ تک پہنچا دیا، جب قبا کے مقام میں واقع بنی عمرو بن عوف کا گاؤں نظر آیا تو وہ وہاں سے یہ کہہ کر مکہ واپس چلے گئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے برکت کی امید پر گاؤں میں داخل ہو جاؤ، تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔([59]) اس طرح حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی بہ خیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ کچھ عرصے بعد دیگر مسلمان اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں سے اس کے در ودیوار جگمگانے لگے اور جو مسلمان پہلے سے ہی مدینہ شریف میں موجود تھے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد سے ان کے دل فرحت وسرور سے بھر گئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اسلام کی تعمیر وترقی اور ترویج واشاعت میں مَردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کی راہ میں آنے والی ہر مصیبت وپریشانی کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مذکورہ واقعہ
اس کی واضح دلیل ہے، ذرا غور تو کیجئے! ایک ماں سے جب اس کا بچہ چھین لیا جائے اور شوہر بھی قریب موجود نہ رہے تو یہ اس کے لئے کس قدر صبر آزما اور جاں سوز گھڑی ہو گی...؟ لیکن اس سب کے باوجود زبان پر حرفِ شکایت نہ آنے دینا بلکہ دل میں بھی شکوہ کو جگہ نہ دینا اور یہ تمام مصیبتیں اور پریشانیاں سہنے کے باوجود راہِ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنا یقیناً بہت بڑی قربانی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ امت کی ان عظیم ماؤں کے صدقے ہمیں بھی اپنے تن من دھن سے دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم.
پیاری پیاری اسلامی بہنو! کفارِ بد اطوار کی اِسلام دشمنی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ مسلمانوں کے مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا ہجرت کر آنے کے باوجود بھی وہ اپنی سفاکانہ حرکتوں سے باز نہ آئے، ہمیشہ مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے رہتے اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مِٹانے کے لئے کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑتے۔ جس کے نتیجے میں ہجرت کے دوسرے سال مدینہ منورہ سے تقریباً 80میل کے فاصلے پر واقع بدر کے مقام پر اور پھر اس کے ایک سال بعد تین۳ ہجری میں مدینہ منورہ سے تقریباً تین۳ میل کے فاصلے پر واقع اُحُد کے میدان میں حق و باطِل کی عظیم جنگیں ہوئیں جن میں کفار کو منہ کی کھانی پڑی، اِسلام کا سورج بلند ہوا اور کفر ذلیل و رسوا ہوا۔
اسلام و کفر کے ان دو۲ عظیم معرکوں میں شاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہمراہی میں حضرت ابو سلمہ عبد الله بن عبد الاسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بھی سفر کر کے شرکت کی سعادت حاصِل کی اور انتہائی شجاعت و بہادری اور جواں مردی سے کفار کا مقابلہ کرتے ہوئے کفر کو پاؤں تلے روند کر پرچم اسلام بلند سے بلند فرمایا۔ مروی ہے کہ اُحُد کے کارزار (جنگ) میں دشمنوں کو تہ تیغ کرتے ہوئے حضرت سیِّدنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ خود بھی زخمی ہو گئے، ایک ماہ تک عِلاج مُعَالجہ کرتے رہے حتی کہ صحّت یاب ہو گئے۔([60])
شب و روز یوں ہی گزرتے رہے کہ ایک دن حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ میاں بیوی دونوں جنتی ہوں، اس کے بعد وہ عورت کسی سے شادی نہ کرے تو اللہ ربُّ الْعِزّت دونوں کو جنّت میں جمع فرمائے گا۔ اسی طرح جب عورت مر گئی اور اس کے بعد اس کا خاوند زندہ رہا۔
لہٰذا آؤ! عہد کریں کہ تم میرے بعد شادی نہیں کرو گے اور میں تمہارے بعد۔ اس پر حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے فرمایا: تم میری ایک بات مانو گی؟ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے فرمایا: میں جب بھی آپ سے مشورہ کرتی ہوں اس میں میرا ارادہ آپ کی اِطاعت کا ہی ہوتا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابو سلمہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے فرمایا: پھر ایسا کرو کہ جب میں وفات پا جاؤں تو تم دوسری شادی کر لینا۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بارگاہِ الٰہی میں اس طرح دُعا کی: ”اَللّٰھُمَّ ارْزُقْ اُمَّ سَلَمَۃَ بَعْدِیْ رَجُلًا خَیْرًا مِّنِّیْ لَا یُحْزِنُھَا وَ لَا یُؤْذِیْھَا الٰہی! اُمِّ سلمہ کو میرے بعد مجھ سے بہتر شوہر عطا فرما جو اسے غم زدہ کرے نہ تکلیف دے۔“([61])
محرم الحرام چار۴ ہجری میں ناگہاں مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں یہ خبر پہنچی کہ سلمہ بن خویلد اور طلحہ بن خویلد مدینہ منورہ پر چڑھائی کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ جس پر شاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی پسپائی کے لئے حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی سرکردگی میں 150 مُہاجِرین و انصار کو روانہ فرمایا لیکن جب انہیں مسلمانوں کے اس لشکر کی خبر ہوئی جو ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا گیا تھا تو بہت سے اونٹ اور بکریاں چھوڑ کر بھاگ گئے جنہیں مسلمان مجاہِدین نے مالِ غنیمت بنا لیا اور لڑائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔([62])
وہ زخم جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اُحُد کے میدان میں کفار کو نیست و نابود
کرتے ہوئے پہنچا تھا اگرچہ مُنْدَمِل ہو چکا تھا لیکن اس سفر سے واپسی پر وہ پھر ہَرا ہو گیا جس کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک بار پھر بستر علالت پر دراز ہو گئے۔ اس بار جاں بر نہ ہو سکے اور کچھ عرصہ اسی طرح گزار کر آٹھ۸ جمادی الاخریٰ چار۴ ہجری میں دارِ فنا (دنیا) سے دارِ بقا (آخرت) کی طرف کوچ فرمایا۔([63])
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری
سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب حضرتِ ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے انتقال کی اطلاع ہوئی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے، دیکھا کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دستِ اقدس سے ان کی آنکھیں بند فرما دیں اور فرمایا: روح جب قبض کر لی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے جاتی ہے۔([64])
حُضُور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عظیم کی وضاحت کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ روح جب جسم سے جدا ہوتی ہے تو نظر بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے چلی جاتی ہے لہٰذا
آنکھ کھلی رہنے سے فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔([65]) اس لئے انہیں فوراً بند کر دینا چاہئے۔
پھر جب حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر والوں نے غم و اندوہ کے سبب آہ و بُکا شروع کی تو حُضُورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا کہ اپنے متعلق خیر ہی کی دُعا کرنا کیونکہ فِرِشتے تمہارے کہے پر اٰمِیْن کہتے ہیں۔([66])
پھر بارگاہِ رَبُّ الْاَنام میں دُعا کرتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عرض کیا: ”اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَبِیْ سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ فِیْ الْمَھْدِیِّیْنَ وَاخْلَفْہٗ فِیْ عُقْبِہٖ فِیْ الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِرْلَنَا وَلَہٗ یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ وَافْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ وَنَوِّرْ لَہٗ فِیْہِ الٰہی! ابو سلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما، پسماندگان میں اس کا بہتر بدل عطا فرما، اے ربّ العٰلمین! ہماری اور اس کی مغفرت فرما، اس کی قبر کشادہ فرما دے اور اِس کے لئے اُس میں روشنی و نور پیدا فرما۔“([67])
خیال رہے کہ مَیِّت پر رونا برا نہیں مگر نوحہ کرنا حرام اور جہنّم میں لے جانے
والا کام ہے، نوحہ کرنے والیوں کا عذاب بیان کرتے ہوئے رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِرشاد فرماتے ہیں: نوحہ کرنے والیوں کی قیامت کے دن جہنم میں دو۲ صفیں بنائی جائیں گی، ایک صف جہنمیوں کے دائیں طرف، دوسری بائیں طرف۔ وہ جہنمیوں پر یوں بھونکتی رہیں گی جیسے کتے بھونکتے ہیں۔([68])
نوحہ یعنی میت کے اوصاف (خوبیاں) مبالغہ کے ساتھ (خوب بڑھا چڑھا کر) بیان کر کے آواز سے رونا جس کو بین (بھی) کہتے ہیں بِالْاِجْماع حرام ہے۔ یوہیں واویلا، وَامُصِیْبَتَاہ (ہائے مصیبت) کہہ کر چِلّانا۔([69])
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! انسان کی موت اس کے پسماندگان کے لئے بہت ہی صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے، بڑے بڑے دل گردے والے اس وقت جامے سے باہر آ جاتے ہیں لہٰذا ایسے مواقع پر زبان کو قابو میں رکھنا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا نہایت ہی اجر و ثواب کا باعث ہوتا ہے۔ یاد رکھئے! بے صبری سے کام لینے اور زبان کے بے قابو ہونے سے صبر کا اجر وثواب برباد اور انسان طرح طرح کے گناہوں میں تو مبتلا ہو سکتا ہے مگر مرنے والا پلٹ کر نہیں آ سکتا۔
؏آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے([70])
اس لئے مصیبت میں واویلا کرنے کے بجائے اپنے اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے کر اجر و ثواب کمانا چاہئے نیز ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہتر بدل عطا کئے جانے کی دُعا کرنی چاہئے کہ سرکارِ ذی وقار، محبوب ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو اسی کی تلقین فرمائی اور اسی پر عمل کا حکم فرمایا ہے چنانچہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے رِوایَت ہے، فرماتی ہیں کہ رحمتِ عالم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب بھی کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ وہی کہے جس کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکم فرمایا ہے کہ ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پِھرنا (لوٹ کر جانا) ہے۔ الٰہی! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہتر بدل عطا فرما۔“
تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔
حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: جب حضرتِ ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا انتقال ہوا تو میں بولی کہ حضرتِ ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے بہتر کون
مسلمان ہو گا کہ وہ تو پہلے گھر والے ہیں جنہوں نے سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف (مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا) ہجرت کی...!! پھر میں نے یہ دُعا کہہ ہی لی چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے ان کے عوض رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عطا فرمائے۔([71])
مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان حدیثِ مذکورہ بالا کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں: یہ عمل بڑا مُجَرَّب (تجربہ شدہ) ہے۔ فوت شدہ میت اور گم شدہ چیز سب پر پڑھا جائے لیکن جس گمی چیز کے ملنے کی امید ہو اس پر رَاجِعُوْنَ تک پڑھے اور جس سے مایوسی ہو چکی ہو اس پر پورا پڑھے، مگر ضروری یہ ہے کہ زبان پر یہ الفاظ ہوں اور دل میں صبر۔
نیز حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے فرمان”ابوسلمہ سے بہتر کون مسلمان ہو گا“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (آپ کی) نگاہ میں ان خصوصیات (یعنی سب سے پہلے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے) کے لحاظ سے ابوسلمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ) جزوی طور پر سب سے بہتر تھے اس لیے آپ نے یہ خیال کیا لہٰذا حدیث پر اعتراض نہیں ہو سکتا کہ خلفائے راشِدین تو ابوسلمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ) سے افضل تھے۔ یعنی ایمان کہتا تھا کہ اس دُعا کی برکت سے مجھے ان سے بہتر خاوند ملے گا مگر عقل وسمجھ کہتی تھی ناممکن ہے میں نے عقل کی نہ مانی
ایمان کی مانی اور دُعا پڑھ لی اس کی برکت سے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے نِکاح میں آئی جن پر لاکھوں ابو سلمہ قربان۔([72])
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت سے مُشَرَّف ہونا وہ عظیم نعمت ہے کہ کروڑوں نعمتیں اس پر قربان کی جا سکتی ہیں۔ کس قدر خوش بخت ہیں وہ عظیم ہستیاں جو اس نعمت سے بہرہ ور ہوئیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آ کر امت کے تمام مؤمنین کی مائیں کہلائیں۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی اس عظیم نعمت سے سرفراز ہوئیں جس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عدت ختم ہونے کے بعد پہلے حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو پیامِ نکاح دیا لیکن آپ نے انکار کر دیا پھر حضرتِ سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے پیامِ نکاح دیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے انہیں بھی انکار کر دیا۔ اس کے بعد سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی شخص([73]) کے ذریعے پیغام بھجوایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جواباً
عرض کیا: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قاصِد کو خوش آمدید! آپ بارگاہِ رِسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو کر میری طرف سے عرض کیجئے: (یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ کا پیغام سر آنکھوں پر لیکن عرضِ حال یہ ہے کہ) میں رشک ناک عورت ہوں (یعنی ازواجِ مطہرات سے شکر رنجی کا خیال ہے) اور عیال دار ہوں اور میرا کوئی ولی موجود نہیں۔“ قاصِد (پیغام رساں) نے بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہو کر گزارشِ احوال کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کہلا بھیجا: جہاں تک تمہارے اس قول کا تَعَلُّق ہے کہ ”میں عیال دار ہوں۔“ اس سلسلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے بچوں کو کافی ہو گا اور یہ قول کہ ”میں غیرت مند خاتون ہوں۔“ اس کے لئے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کروں گا کہ وہ تمہاری غیرت دُور فرما دے اور جہاں تک تمہارے اولیا([74]) کی بات ہے تو موجود و غیر موجود میں سے کوئی بھی اسے ناپسند نہیں کرے گا۔ جب حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا تک یہ پیغام پہنچا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنے بیٹے حضرتِ عمر بن ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا سے
فرمایا: اے عُمَر! اُٹھو اور رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ میرا نکاح کر دو۔([75])
چار۴ ہجری جبکہ ماہِ شَوَالُ المکرم کے ختم ہونے میں دس روز باقی تھے تب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عدت ختم ہوئی اور یہ مہینہ ختم ہونے سے چند شب پہلے ہی پیارے وکریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نکاح فرما لیا۔([76]) اور اس مبارک حجرے میں ٹھہرایا جہاں پہلے حضرتِ زینب بنتِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا رہائش پذیر تھیں کیونکہ اس وقت ان کا انتقال ہو چکا تھا۔([77])
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو دو۲ چکیاں، دو۲ مٹی کے گھڑے اور کھجور کی چھال سے بھرا ہوا چمڑے کا ایک تکیہ بطورِ حق مہر عطا فرمایا۔([78]) حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اتنے سامان کے عوض حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نکاح فرمایا جس کی قیمت دس درہم بنتی تھی۔([79])
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شاہِ حبشہ حضرتِ نجاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے لئے بطورِ تحفہ کچھ مال ومتاع روانہ فرمایا لیکن ان تک یہ تحفہ پہنچنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا اور وہ مال ومتاع واپس آ گیا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں سے تھوڑا بہت ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کو عطا فرمانے کے بعد باقی سب حضرتِ ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو عطا فرما دیا چنانچہ حضرتِ اُمِّ کلثوم بنتِ ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ جب احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نکاح کیا تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی طرف ایک حُلّہ اور چند اُوْقِیَہ([80]) مشک بھیجا ہے، میرا نہیں خیال کہ یہ چیزیں اس کے پاس پہنچنے تک وہ زندہ رہے گا اور یہ اسے ملیں گی بلکہ مجھے واپس کر دی جائیں گی۔ جب وہ مجھے واپس کر دی جائیں تو وہ تیرے لئے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں: جیسا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا کہ (حضرت نجاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ انتقال کر گئے اور) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تحفہ واپس کر دیا گیا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمام ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو ایک ایک اُوْقِیَہ مشک عطا فرمائی اور باقی سارا مشک اور حُلّہ حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو عطا فرما دیا۔([81])
حضرتِ سيِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت ہی باہمت، بلند حوصلہ، محنت کش اور ہنر مند خاتون تھیں، پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نکاح کے بعد گھر میں قدم رکھتے ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا اور عالی ہمت وحوصلے اور سلیقہ شعاری و ہنر مندی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں نبھانے میں مصروف ہو گئیں۔ مروی ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا گھر میں داخل ہوئیں تو وہاں مٹی کا گھڑا، چکی، پتھر کی ہانڈی اور دیگچی پڑی ہوئی نظر آئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے گھڑے اور دیگچی کے اندر جھانکا تو گھڑے میں جَو اور دیگچی میں تھوڑا سا گھی پڑا ہوا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جَو لے کر پیسے، پھر پتھر کے برتن میں انہیں گوندھا اور گھی لے کر سالن کے طور پر لگایا۔ فرماتی ہیں کہ شادی کی رات یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اہلیہ کا کھانا تھا۔([82])
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے اس طرزِ حیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ تن آسانی و آرام پسندی کی خواہاں نہ ہوتی تھیں بلکہ اس سے کَوسَوں دُور اور گھریلو کام کاج میں
مصروف رہا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی ساتھ رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھنا اور پھر بڑھ چڑھ کر ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی عِبادت بھی کرنا وہ ممتاز وَصْف ہیں جو ان کے عالی وبلند مقام و مرتبہ کو مزید ارفع و اعلیٰ کر دیتے ہیں اور اس سے ان کی شخصیت مزید نکھر کر سامنے آتی اور بعد والوں کے لئے بہترین راہِ عمل فراہم کرتی ہیں۔ اے کاش! امت کی ان عظیم ماؤں کے صدقے ہم سے بھی سستی و کاہلی دُور ہو جائے اور ہم محنت و جفاکشی اور عِبادت گزاری جیسے اعلیٰ اوصاف کی بہترین مثال بن جائیں۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم.
پیاری پیاری اسلامی بہنو! گزشتہ صفحات میں آپ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سیرت کے چند ابواب ملاحظہ کئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جس صبر واستقامت اور عزم واستقلال کے ساتھ مصائب وآلام برداشت کئے اور اپنے پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دی، وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے جس کی روشنی میں چل کر ہم منزلِ مقصود (ربّ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا) پانے کے سلسلے میں کامیابی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اس سے بہرہ ور فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم. آئیے! اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نام ونسب اور خاندان وغیرہ کے حوالے سے سیرت کی چند ابتدائی اور بنیادی باتیں ملاحظہ کیجئے، چنانچہ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نام ھِند ہے، والِد کا نام حُذَیْفَہ یا سُھَیل اور کنیت ابواُمَیَّہ ہے اور والِدہ کا نام عاتِکہ ہے۔([83]) والِد کی طرف سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نسب اس طرح ہے: ”ابواُمَیَّہ بن مُغِیْرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم بن یَقِظَہ بن مُرَّہ بن کَعْب بن لُؤَیّ“([84]) اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے: ”عاتِکہ بنتِ عامِر بن رَبِیْعَہ بن مالِک بن خُزَیْمَہ بن عَلْقَمَہ بن فِراس بن غَنْم بن مالِک بن کِنانہ“([85])
حضرتِ مُرَّہ بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا میں جا کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نسب رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے حضرتِ مُرَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتویں جدِّ محترم ہیں۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی کنیت اُمِّ سَلَمَہ ہے اور آپ نام کے بجائے کنیت سے زیادہ مشہور ہیں۔
خاندانی اور نسبی حوالے سے بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت بلند مقام ومرتبہ حاصل ہے چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا عرب کے سب سے معزز قبیلے قریش کی شاخ بنی مخزوم کی چشم وچراغ تھیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے والِد ابو اُمَیَّہ حُذَیفہ بن مُغِیرہ ان تین۳ افراد میں سے تھے جنہیں ان کی سخاوت کی بنا پر ”زَادُ الرَّاکِب مُسَافِر کا توشہ“ کہا جاتا تھا۔ لِسَانُ الْعَرَب میں ہے کہ یہ جب سفر پر نکلتے اور اِن کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہو لیتے تو نہ وہ زادِ سفر ساتھ لیتے اور نہ اُنہیں دورانِ سفر آگ جلانے کی حاجت پیش آتی بلکہ یہ اُن سب کو خوراک سے بےپرواہ کرنے کے لئے کافی ہوتے۔([86]) اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا ابوعثمان ہشام بن مغیرہ دَورِ جاہلیت میں سردار تھے ان کی اطاعت کی جاتی تھی اور انہیں ”فارِسُ الْبَطْحَاء بطحا کا شہ سوار“ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔([87])
ان اخلاقی ومعاشرتی خوبیوں کے عِلاوہ قبولِ اسلام میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندان کے کئی افراد نے سبقت کی اور سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت سے مُشَرَّف ہو کر دونوں جہان کی بھلائیوں کے حق دار ہوئے۔ بہ نظر اختصار یہاں ان میں سے چند کے صرف نام
اور مختصر ذکر کیا جاتا ہے:
}حضرت مُہَاجِر بن ابواُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ: یہ حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے سگے بھائی ہیں۔ ان کا نام ولید تھا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے ناپسند فرمایا اور بدل کر مُہَاجِر رکھ دیا۔([88])
}حضرتِ عبد الله بن ابواُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ: یہ حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی عاتکہ بنتِ عبد المطلب کے بیٹے ہیں۔([89])
}حضرتِ زُہَیر بن ابواُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ: یہ بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھائی ہیں۔
}حضرتِ عامر بن ابواُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ: حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھائی ہیں، فتح مکہ کے سال ایمان قبول کیا۔([90])
}حضرتِ قریبہ بنتِ ابواُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا: حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن ہیں۔
}حضرتِ خالِد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ: حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچازاد بھائی ہیں، دَورِ جاہلیت میں قریش کے سرداروں میں سے تھے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو سَیْفُ اللہ
کا خطاب دیا۔ حضرتِ سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے دورِ خلافت میں 21 ہجری میں وفات ہوئی۔([91])بہت عظیم شخصیت ہیں۔
یہ شرف بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو حاصل ہے کہ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندان میں بہت قریبی قرابت داری پائی جاتی تھی چنانچہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی عاتِکہ بنتِ عَبْدُ الْمُطَّلِب، حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے والد ابواُمَیَّہ بن مُغِیرہ کی زوجیت میں تھی([92]) اس لحاظ سے یہ حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سوتیلی والِدہ ہوئیں۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بےشمار صِفاتِ عالیہ میں ایک صفت ذہانت اور فراست کا کمال بہت نمایاں ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا عقل ودانائی، حکمتِ عملی اور معاملہ فہمی کا بہترین نمونہ تھیں، صلح حدیبیہ کے واقعے میں اس کی ایک جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اس صلح کا مختصر واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ذوالقعدۃ الحرام چھ۶ ہجری کو پیارے پیارے آقا، مکی مَدَنی
مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ عبد الله بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا پر خلیفہ مقرر فرمایا اور چودہ سو (1400) سے زائد صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے ساتھ لے کر عمرہ کرنے کے لئے مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کی طرف روانہ ہوئے، اس سفر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ مطہرہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھیں،([93]) جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو کفارِ مکہ آڑے آئے اور مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا، پھر کفار اور مسلمانوں کے درمیان صلح کا ایک معاہدہ طے پایا جسے تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معاہدے کے مطابق ...
}دس سال تک لڑائی موقوف رہے گی اور لوگ امن میں رہیں گے۔
}اہل مکہ میں سے جو کوئی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلا آئے اسے واپس کر دیا جائے گا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں سے اگر کوئی مکہ چلا جائے تو اہل مکہ اسے واپس نہیں کریں گے۔
}قبائل عرب کو اختیار ہو گا کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں دوستی کا مُعَاہَدہ کر لیں۔
}اس سال مسلمان بغیر عمرہ کئے ہی لوٹ جائیں گے البتہ آیندہ سال آئیں گے اور صرف تین۳ دن مکہ میں ٹھہریں گے۔
}سِوائے تلوار کے دوسرا کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے اور تلواریں بھی نیاموں میں رکھیں گے۔([94])
جب مُعَاہدہ لکھا جا چکا تو رسولِ نامدار، شہنشاہِ ابرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا: ”قُوْمُوْا فَانْحَرُوْا ثُمَّ احْلِقُوْا اُٹھو اور قربانیاں پیش کر کے سر منڈاؤ۔“([95]) لیکن (عمرہ ادا نہ کر پانے کی وجہ سے) یہ شمع رسالت کے پروانے اس درجہ دم بخود ہو کر سوچ بچار میں مصروف تھے کہ انہیں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کی خبر ہی نہ ہو پائی یا انہوں نے اسے رخصت پر محمول کیا کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں احرام کھول دینے کی اجازت عطا فرمائی ہے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بذاتِ خود احرام میں ہی رہیں گے،([96]) لہٰذا ان میں سے کوئی بھی نہ اُٹھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین۳ مرتبہ اسے دہرایا پھر حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے مسلمانوں کے اس حال کا ذکر کیا۔ اس پر حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے رائے پیش کی کہ یَا نَبِیَّ اللہ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ پسند فرمائیں تو ایسا کیجئے کہ باہر تشریف لے جائیے، کسی سے کچھ مت فرمائیے اور خود اپنے قربانی کے جانور ذَبح فرما دیجئے پھر حجام کو بلا کر حلق کروا لیجئے۔([97]) گویا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی فہم وفراست سے یہ بات جان لی تھی کہ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو قربانیاں کرنے اور حلق کروانے (سر منڈانے) سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ اسی لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے قربانی کے جانور ذَبح کرنے اور حلق کروانے کا مشورہ دیا تا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ذہنوں سے یہ احتمال دُور ہو جائیں اور وہ تعمیل حکم میں جلدی کریں چنانچہ روایت میں ہے کہ پیارے آقا، دوعالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا ہی کیا۔ جب مسلمانوں نے یہ بات دیکھی تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے، قربانیاں دیں اور ایک دوسرے کا حلق کرنے کے لئے یوں بھاگ دوڑ مچی کہ اِزْدِحام کی وجہ سے آپس میں لڑائی جھگڑے کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔([98])
حضرت سیِّدنا علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس میں مشورہ کرنے کی فضیلت، صاحبِ فضل وکمال عورت سے مشورہ کرنے کا جواز، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی فضیلت اور آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی حکمت ودانائی کا بیان ہے حتی کہ امامُ الْحَرَمَیْن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بارے میں فرمایا: سِوائے حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہم کسی ایسی خاتون کے بارے میں نہیں جانتے جس کی رائے ہمیشہ درست ثابِت ہوئی ہو۔([99])
عقل ودانائی اور رائے کی پختگی کے ساتھ ساتھ عِلْمِ فقہ میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو غیرمعمولی مہارت حاصل تھی کیونکہ فطری ذہین تو آپ تھیں ہی اس پر رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فیض صحبت...!! اس نے سونے پر سہاگے کا کام کیا جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا مرتبہ صفِ صحابہ میں بہت بلند ہو گیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا شمار ان صحابیات میں ہونے لگا جنہیں شرعی احکام وقوانین کی ماہِر سمجھا جاتا تھا۔ حضرت سیِّدنا امام شمس الدین محمد بن احمد ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ”کَانَتْ تُعَدُّ مِنْ فُقَهَاءِ الصَّحَابِیَاتِ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو فقہا (یعنی شرعی احکام وقوانین کی ماہر) صحابیات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں شمار کیا جاتا تھا۔“([100]) آئیے! اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے مروی چند مسائل ملاحظہ کیجئے:
سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے سوالات
جب حضرت اُمِّ حکیم بنت اُسید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے والِد کا انتقال ہوا اس وقت ان کی والِدہ کی آنکھوں میں تکلیف تھی اور وہ جِلَاء کا سرمہ لگاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی کنیز کو اس کا حکم معلوم کرنے کی غرض سے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال عرض کیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا نے ارشاد فرمایا: یہ سرمہ مت لگاؤ مگر جب اور چارۂ کار نہ ہو اور سخت تکلیف ہو تو رات کے وقت لگاؤ اور دن میں دھو ڈالو۔([101])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہ روایت عورت کے عدت کے دنوں سے متعلق ہے۔ آج کل عورتوں کی جانب سے طلاق کے مُطَالبات زوروں پر ہیں، لیکن اس پر کیا کہئے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس کے احکامات سے بےبہرہ ہے، اسلامی تعلیمات سے روشناسی نہ ہونے کے برابر ہے، جہالت و بے عملی کا دور دورہ ہے یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عدت گزارنے کی بھی ذرا پروا نہیں کی جاتی۔ واضح رہے کہ ہر عاقلہ بالغہ مسلمان عورت جو موت یا طلاقِ بائن کی
عدت میں ہو اس پر سوگ واجب ہے۔([102]) سوگ کے یہ معنیٰ ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں، نہ پہنے اور خوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔ یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی، دھانی، چمپئی اور طرح طرح کے رنگ جن میں تَزَیُّن ہوتا ہے سب کو ترک کرے۔([103])
اسلامی بہنیں عدت اور سوگ سے متعلق تفصیلی اور ضروری معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت، جلد دُوُم، صفحہ 232 تا 247 کا مطالعہ فرمائیں۔
ایک شخص نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے عرض کی: اے اُمُّ المؤمنین! بعض اوقات دل میں ایسا خیال آتا ہے کہ اگر اسے زبان پر لاؤں تو اعمال برباد ہو جائیں اور اگر لوگ اسے جان لے تو مجھے قتل کر دیا
جائے۔ اس پر حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ارشاد فرمایا: میں نے رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بھی اس طرح کا سوال ہوا تھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: شیطان ایسی بات مؤمن کے دل میں ہی ڈالتا ہے۔([104])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! بندۂ مومن کی سب سے قیمتی دولت اس کا ایمان ہے اور شیطان جو اس کا ازلی دشمن ہے ہمیشہ اسے اس عظیم دولت سے محروم کرنے کے درپے رہتا ہے لہٰذا وہ اس بندۂ مومن کے دل میں اسلامی عقائد ومعمولات سے متعلق طرح طرح کے خیالات ڈالتا ہے۔ بسااوقات یہ خیالات جنہیں وسوسہ کہا جاتا ہے، ایمان کے لئے اس قدر تباہ کن اور خطرناک ہوتے ہیں کہ اگر بندۂ مومن ان پر عمل کر گزرے یا انہیں زبان پر ہی لے آئے تو دائرہ اسلام سے خارج ہو کر کفر کی تاریک کھائی میں جا پڑے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے سوال کرنے والا شخص بھی شاید کسی ایسے ہی خیال میں مبتلا ہوا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جو جواب دیا اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دل میں ایسے خیالات کا آ جانا قابل گرفت نہیں اور نہ ان کی وجہ سے بندہ گنہگار ہوتا ہے۔
لیکن یاد رکھئے! جب بھی دل میں ایسے خیالات آئیں تو فوراً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ
طلب کرتے ہوئے انہیں جھٹک دیجیے کیونکہ یہ اگرچہ قابلِ گرفت تو نہیں ہیں لیکن بعض اوقات بندہ ان خیالات کی رَوْ میں بہتا ہوا اتنا دُور نکل جاتا ہے کہ واپسی کا راستہ ہی مفقود ہو جاتا ہے اور سِوائے تباہی وبربادی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بخاری اور مسلم شریف کی حدیث ہے کہ رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”یَاْتِی الشَّیْطَانُ اَحَدَکُمْ فَیَقُوْلُ مَنْ خَلَقَ کَذَا مَنْ خَلَقَ کَذَا حَتّٰی یَقُوْلَ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَاِذَا بَلَغَہٗ فَلْیَسْتَعِذْ بِاللّٰہِ وَلْیَنْتَہِ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی...؟ فلاں کس نے پیدا کی...؟ حتی کہ کہتا ہے: تمہارے ربّ کو کس نے پیدا کیا...؟ جب اس حد کو پہنچے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرو اور اس (خیال) سے باز رہو۔“([105])
جب کبھی کوئی وسوسہ آئے تو تَعَوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھے لیجیے۔ مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل، حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی فرماتے ہیں: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ دَفْعِ شیطان کے لئے اِکسیر (نہایت مفید) ہے۔([106])
پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بڑی محبت تھی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ شاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ایسے بستر اور تکیے پر آرام فرما ہوئے جو کھجور کی چھال سے بھرا ہوا تھا۔ جب بیدار ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک جسم پر اُس کے نشان پڑ گئے۔ یہ دیکھ کر حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا رونے لگیں۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: اے اُمِّ سلمہ! تمہیں کس بات نے رُلایا؟ عرض کی: میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسم اقدس پر کھجور کی چھال کے نشانات دیکھے ہیں اس وجہ سے رو پڑی۔ اس پر سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لَا تَبْکِیْ فَوَاللہِ لَوْ اَرَدْتُ اَنْ تَسِیْرَ مَعِیَ الْجِبَالُ لَسَارَتْ رو مت، خُدائے ذُوْالجلال کی قسم! اگر میں چاہوں کہ پہاڑ میرے ساتھ ساتھ چلیں تو ضرور وہ چل پڑیں۔“([107])
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان کتنی بلند ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کتنے زیادہ اختیارات سے نوازا ہے کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارادہ فرماتے تو یہ بلند وبالا پہاڑ اور ان کی یہ آسمان کو چھوتی ہوئی چوٹیاں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کے ساتھ ساتھ چل پڑتیں۔ خیال رہے کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اختیارات کی حد نہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کے اِذْن وعطا سے کُل کائنات کے مالِک ومختار ہیں، انسان وفِرِشتے، جِنَّات وشیاطین کوئی چیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قبضہ واختیار سے باہر نہیں اور کیوں نہ ہو کہ
؏ خالق کل نے آپ کو مالِکِ کل بنا دیا
دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں([108])
بخاری شریف میں حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے روایت ہے کہ مکے مدینے کے تاجدار، دوعالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ بے شک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کر دی گئیں۔“([109]) اور فرمایا: ”اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللہُ یُعْطِیْ میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ عطا فرماتا ہے۔“([110]) چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیارے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذْن وعطا سے جس کو جو چاہیں عطا فرمائیں اور جس سے چاہیں محروم فرما دیں اور جس کے لئے جو چاہیں حلال فرمائیں اور جس کو جس چیز سے چاہیں منع فرما دیں، ہر شے پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم نافِذ ہے اور کسی کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کے آگے دَم مارنے کی گنجائش نہیں۔ سیِّدِی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا
خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن فرماتے ہیں:
؏حکم نافِذ ہے تِرا خامہ [111] تِرا سیف [112] تِری
دَم میں جو چاہے کرے دَور ہے شاہا تِرا([113])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سفینہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا غلام تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے فرمایا: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور یہ شرط کرتی ہوں کہ تم تاحیات شاہِ خیر الانا م صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کرتے رہو۔ میں نے عرض کی: اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا یہ بات شرط نہ بھی کرتیں تب بھی میں کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جُدائی اختیار نہ کرتا۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے مجھے آزاد کر دیا اور رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت گزاری مجھ پر شرط کر دی۔([114])
ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت نمایاں مقام حاصل تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی
محبوب ترین ازواج میں سے ایک تھیں۔ مروی ہے کہ ایک بار حضرتِ سیِّدنا عروہ بن زُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے عرض کیا: خالہ جان! رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کون سی زوجہ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا زیادہ محبوب تھیں؟ فرمایا: میں اس بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی، ہاں! زینب بنتِ جحش اور اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں خاص مقام حاصل تھا اور میرا خیال ہے کہ میرے بعد یہ دونوں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔([115])
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، دوعالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُوئے مبارَک (برکت والے بال) تھے جب کسی انسان کو نظرِ بد لگ جاتی یا کوئی اور بیماری آن پڑتی تو سرکارِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُوئے مبارک سے آپ اس کا علاج فرماتیں۔([116])
؏ وہ کرم کی گھٹا گیسوئے مشک سا
لکۂ ابر رأفت پہ لاکھوں سلام([117])
معلوم ہوا کہ حضراتِ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُوئے مبارک بھی دافِعِ بلا اور باعِثِ شِفا ہو سکتے ہیں اور ان سے برکت کا حُصُول زمانۂ صحابۂ کِرَام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ہی چلا آ رہا ہے۔ مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ علامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان فرماتے ہیں: صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بال شریف کو دافِعِ بلا، باعِثِ شِفا سمجھتے تھے کہ انہیں پانی میں غسل دے کر شِفا کے لئے پیتے تھے کیونکر نہ ہو کہ جب حضرت یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کی قمیص دافِعِ بلا ہو سکتی ہے تو حُضُورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بال شریف بدرجۂ اَوْلیٰ دافِعِ بلا ہو سکتے ہیں۔([118])
؏ہم سِیَہ کاروں پہ یا ربّ تپش محشر میں
سایہ افگن ہوں تیرے پیارے کے پیارے گیسو([119])
ایک دفعہ حضرتِ جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (حضرتِ دحیہ کلبی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی صورت میں) سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضرتِ ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس موجود تھیں۔ حضرتِ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ گفتگو کرتے رہے پھر اُٹھ کر چلے گئے۔ اس کے بعد پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے دریافت فرمایا: یہ کون تھے؟ عرض کی: حضرتِ دحیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، فرماتی ہیں: اللہ رَبُّ الْعِزّت کی قسم! میں
نے انہیں حضرتِ دحیہ کلبی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ہی سمجھا تھا لیکن پھر میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خطبہ سنا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ وہ حضرتِ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام تھے۔([120])
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: جس روز پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا سے ظاہِری پردہ فرمایا، میں نے اپنا ہاتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سینہ اقدس پر رکھا، پھر کئی ہفتے گزر گئے میں بدستور کھانا کھاتی اور وُضو کرتی رہی لیکن میرے ہاتھ سے مشک کی خوشبو نہ گئی۔([121])
حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اُمّتِ مسلمہ کے بعض افراد کی توبہ کے احکامات وحی کے ذریعے اس وقت نازِل ہوئے جبکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے گھر میں تھے چنانچہ حضرتِ سیِّدنا یزید بن عبد الله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ بیان فرماتے ہیں کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حضرتِ ابو لبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی توبہ کی قبولیت صبح سحری کے وقت نازِل ہوئی جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے
حجرے میں تھے۔ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سحری کے وقت مسکراتے ہوئے ملاحظہ کیا تو عرض کی: ”مِمَّ تَضْحَکُ یَا رَسُولَ اللہِ؟ اَضَحَکَ اللہُ سِنَّکَ یعنی یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کیوں مسکراتے ہیں؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہمیشہ مسکراتا رکھے۔“ ارشاد فرمایا: ”تِیْبَ عَلٰی اَبِیْ لُبَابَۃَ ابولبابہ کی توبہ قبول ہو گئی ہے۔“([122])
سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوالات
بقدرِ حاجت عِلْمِ دین کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے اس لئے ہمارے اسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا شروع سے ہی یہ طریقہ رہا ہے کہ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود وقت نکالتے اور علم دین حاصل کرتے اور اگر کوئی پیچیدہ و ناحل مسئلہ درپیش ہوتا تو اس کے حل کے لئے اپنے سے اَعْلَم (زیادہ جاننے والے) کی طرف رُجوع کرتے۔ آئیے! اس سلسلے میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے وہ چند لمحات ملاحظہ کیجئے جو آپ نے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تحصیل عِلْم کی راہ میں بسر کئے:
ایک دفعہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کے پاس ایک انصاریہ عورت موجود تھی
کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں معلوم ہوتے تھے۔ ان انصاریہ خاتون نے اپنے کرتے کی آستین سے پردہ کر لیا۔ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا سے) کوئی گفتگو کی جسے وہ انصاریہ خاتون نہ سمجھ سکیں۔ (جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لے گئے تو) انہوں نے حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا سے عرض کیا: اے اُمُّ المؤمنین! میرا خیال ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال کی حالت میں تشریف لائے تھے؟ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا نے فرمایا: ہاں! کیا تم نے سنا نہیں جو حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تھا؟ عرض کیا: حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا فرمایا تھا؟ جواب دیا کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تھا: جب زمین میں شر پھیل جائے اور لوگ اس سے باز نہ آئیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ زمین والوں پر اپنا ہولناک عذاب بھیجے گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ فرمایا: ہاں! ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے، لوگوں کو پہنچنے والا عذاب انہیں بھی گھیر لے گا لیکن پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں اپنی مغفرت اور رضوان کی طرف لے جائے گا۔([123])
اس روایت میں گناہوں کی نحوست بیان کی گئی ہے کہ یہ عذابِ الٰہی نازِل
ہونے کا سبب بنتے ہیں، ایسا عذاب جو نیک لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس لئے عقل مند شخص کو چاہئے کہ وہ خود بھی گناہوں سے باز رہے اور دوسروں کو بھی ان سے منع کرے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ان سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
ایک دفعہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسخ کی گئی قوم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ان کی نسل بھی ہے؟ ارشاد فرمایا: ”مَا مُسِخَ اَحَدٌ قَطُّ فَکَانَ لَہٗ نَسْلٌ وَّ لَا عَقِبٌ جس کسی کو بھی مسخ کیا گیا اس کی نسل و اولاد نہیں۔“([124])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! گزشتہ اُمَّتوں میں سے بعض پر ان کی سرکشی و نافرمانی کے سبب ایک یہ عذاب بھی نازِل ہوا کہ ان کی صورتیں مسخ کر کے بندروں اور سوروں کی سی بنا دی گئیں۔ اللہ رَبُّ الْعِزّت ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـٕیْنَۚ(۶۵) (پ۱، البقرة:۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا ہو جاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔
صَدْرُ الْاَفاضل حضرتِ علامہ مفتی سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمـَۃُ
اللہِ الْہَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: شہر ایلہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھاکہ شنبہ (ہفتہ) کا دن عبادت کے لئے خاص کر دیں اس روز شِکار نہ کریں اور دنیاوی مشاغل ترک کر دیں ان کے ایک گروہ نے یہ چال کی کہ جمعہ کو دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودتے اور شنبہ کی صبح کو دریا سے ان گڑھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آ کر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہو جاتیں یک شنبہ (اتوار) کو انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے شنبہ (ہفتہ) کے روز نہیں نِکالتے چالیس یا ستر سال تک یہی عمل رہا جب حضرتِ داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کا عہد آیا آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا قید کرنا ہی شکار ہے جو شنبہ کو کرتے ہو اس سے باز آؤ ورنہ عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔ وہ باز نہ آئے۔ آپ نے دُعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کر دیا، عقل وحواس تو ان کے باقی رہے مگر قوتِ گویائی زائل ہو گئی، بدنوں سے بدبو نکلنے لگی، اپنے اس حال پر روتے روتے تین۳ روز میں سب ہلاک ہو گئے، ان کی نسل باقی نہ رہی۔ یہ ستر ہزار کے قریب تھے بنی اسرائیل کا دوسرا گروہ جوبارہ ہزار کے قریب تھا انہیں اس عمل سے منع کرتا رہا جب یہ نہ مانے تو انہوں نے ان کے اور اپنے محلوں کے درمیان دیوار بنا کر علیحدگی کر لی ان سب نے نجات پائی۔ بنی اسرائیل کا تیسرا گروہ ساکِت رہا اس کے حق میں حضرت ابنِ عباس (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا) کے سامنے (حضرت) عکرمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ) نے کہا کہ وہ مغفور ہیں کیونکہ امر بالمعروف فرضِ کفایہ ہے
بعض کا ادا کرنا کُل کا حکم رکھتا ہے ان کے سُکوت کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان کے پندپذیر ہونے سے مایوس تھے۔ (حضرت) عکرمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ) کی یہ تقریر حضرتِ ابنِ عباس (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا) کو بہت پسند آئی اور آپ نے سُرور سے اُٹھ کر ان سے معانقہ کیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔([125])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! عبرت عبرت اور سخت عبرت کا مقام ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی حیلہ سازیوں میں پڑ کر ربّ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری میں کوتاہی اور اس کی حکم عدولی اور سرکشی و نافرمانی انتہائی خطرناک و تباہ کن ہے۔ لہٰذا اپنے نازک بدن پر رحم کیجئے! نفس و شیطان کی فریب کاریوں و دغا بازیوں سے خود کو بچائیے! کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آ لے اور توبہ کا بھی موقع نہ ملے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ مسخ شدہ افراد صرف تین۳ دن تک بھوک پیاس کی حالت میں زندہ رہے اور چوتھے روز سب کے سب ہلاک کر دئیے گئے، نہ ان میں سے کوئی زندہ رہا نہ ان کی نسل چلی۔ حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی فرماتے ہیں: مشہور ہے کہ موجودہ بندر انہیں کی اولاد میں سے ہیں، غَلَط ہے ان سے پہلے بھی بندر تھے اور یہ موجودہ بندر ان پہلے بندروں کی اولاد سے ہی ہیں کیونکہ صحیح روایت میں ہے کہ کوئی مسخ شدہ قوم تین۳ دن سے زیادہ نہیں جیتی نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے نہ اس کی نسل چلتی ہے۔([126])
ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرتِ ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی اولاد پر میں جو کچھ خرچ کرتی ہوں کیا اس میں میرے لئے ثواب ہے حالانکہ میں انہیں کَسْ مَپُرْسی کی حالت میں نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ وہ میری بھی اولاد ہے؟ فرمایا: ”نَعَمْ لَکِ اَجْرٌ مَّا اَنْفَقْتِ عَلَیْھِمْ ہاں! جو کچھ تم ان پر خرچ کرو اس کا تمہیں اجر ملے گا۔“([127])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کے بطن سے ان کے پہلے شوہر حضرتِ سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی کچھ اولاد تھی، چونکہ وہ حضرتِ ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بھی اولاد تھی اس لئے آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ پتا نہیں میں ان کی ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں جو خرچ کرتی ہوں اس میں مجھے ثواب ملے گا یا نہیں کیونکہ اگر ثواب نہ ملے تب بھی میں انہیں بےیار ومددگار تو نہیں چھوڑوں گی چنانچہ آپ نے اپنے مسئلے کے حل کے لئے بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں رجوع کیا اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہاں! جو کچھ تم ان پر خرچ کرو اس کا تمہیں اجر ملے گا۔ حکیم الامت حضرتِ علامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
اللہِ الْحَنَّان حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس فرمانِ عالی کی شرح میں ثواب ملنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کیونکہ یہ یتیم بھی ہیں اور تمہارے عزیز ترین بھی، ان پر خرچ کرنا یتیم کو پالنا بھی ہے، اور عزیز کا حق ادا کرنا بھی، اپنے فوت شدہ خاوند کی روح کو خوش کرنا بھی۔([128])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا حُضُور سیِّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ مطہرہ اور اُمُّ المؤمنین (تمام مؤمنوں کی امی جان)ہیں۔
}آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو ان چھ۶ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سے ہونے کا شرف حاصِل ہے جن کا تَعَلُّق قبیلہ قریش سے تھا۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہیں۔([129])
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پہلے حبشہ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
}آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو فقہاء (یعنی شرعی احکام وقوانین کی ماہِر) صحابیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
سرکارِ والا تبار، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے ظاہِری پردہ فرمانے کے بعد ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سب سے پہلے حضرتِ زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے انتقال فرمایا اور سب سے آخر میں حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے۔ امام شمس الدین ابو عبد الله محمد بن احمد ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اُمَّہَاتُ المؤمنین میں سب سے آخر میں انتقال فرمانے والی آپ ہی ہیں۔ آپ نے بہت عمر پائی حتی کہ سَیِّدُ الشُّھَدَاء حضرت سیِّدنا امام حسین بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا کی شہادت کا زمانہ پایا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی شہادت کی وجہ سے اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر غشی طاری ہو گئی، بہت زیادہ رنجیدہ خاطر ہوئیں اور پھر بہت کم عرصہ حیات رہنے کے بعد انتقال فرما گئیں۔([130])
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سالِ وفات میں بہت اِخْتِلاف ہے، شارحِ بخاری حضرتِ علامہ احمد بن محمد قسطلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے 59 ہجری کو انتقال فرمایا اور ایک قول یہ ہے کہ 62 ہجری کو انتقال فرمایا جبکہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔([131])
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دفن کیا گیا۔ بوقتِ وفات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عمر مبارک 84 برس تھی۔([132])
حضرتِ ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے آپ سے دو۲ بیٹے سلمہ اور عُمَر اور دو۲ بیٹیاں زینب اور دُرَّہ پیدا ہوئیں۔([133]) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آپ سے کوئی اولاد نہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر عِلْمِ دین کی روشنیوں سے منور ہونے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے کہ اس مَدَنی ماحول کی برکت سے گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کے ساتھ ساتھ عِلْمِ دین سیکھنے کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے۔ آئیے! ایک ایسی ہی اسلامی بہن کی مَدَنی بہار ملاحظہ فرمائیے جس کے شب و روز گناہوں کی تاریکیوں اور غفلت کی اندھیریوں میں بسر ہو رہے تھے لیکن آخر کار دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے اسے گناہوں کی دلدل سے نکال کر کس طرح راہ علم کی مسافر بنا دیا؟
آئیے ملاحظہ کیجئے...!! چنانچہ
باب المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں ایک ماڈرن لڑکی تھی۔ دنیوی تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا، فلم بینی کا بھوت تو کچھ ایسا سوار تھا کہ میں ایک رات میں تین تین چار چار فلمیں دیکھ ڈالتی اور مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ گانوں کی بھی ایسی رسیا تھی کہ گھر کا کام کاج کرتے وقت بھی ٹیپ ریکارڈ پر اونچی آواز سے گانے لگائے رکھتی۔ میری ایک بہن کو (جو کہ شادی ہو جانے کے بعد دوسرے شہر میں رہائش پذیر تھیں) دعوتِ اسلامی سے بڑی محبت تھی۔ وہ جب کبھی باب المدینہ (کراچی) آتیں تو اتوار کے دن دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں ضرور شرکت کرتیں، رات میں عشق رسول میں ڈوبی ہوئی پُرسوز نعتیں سنا کرتیں، جس کی وجہ سے مجھے گانے سننے کا موقع نہ ملتا چنانچہ مجھے ان پر بہت غصہ آتا بلکہ کبھی کبھی تو ان سے لڑ پڑتی۔ ایک مرتبہ جب وہ باب المدینہ آئیں تو قریب بلا کر نہایت شفقت سے کہنے لگیں: ”جو بیہودہ فلمیں اور ڈرامے دیکھتا ہے وہ عذاب کا حق دار ہے۔“ مزید انفرادی کوشش جاری رکھتے ہوئے بالآخر انہوں نے مجھے فیضان مدینہ میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے پر راضی کر لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی
سعادت حاصل کی۔ اتفاق سے اس دن وہاں بیان کا موضوع بھی ٹی وی کی تباہ کاریاں تھا یہ بیان سن کر میرے دل کی کیفیت بدلنا شروع ہو گئی، رقت انگیز دُعا نے سونے پر سہاگے کا کام کیا، دورانِ دُعا مجھ پر رقت طاری اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے، میں نے سچے دل سے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ بھی کر لی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! جب میں سنتوں بھرے اجتماع سے واپس گھر کی طرف روانہ ہوئی تو میرا دل ٹی وی کے گناہوں بھرے پروگراموں اور گانوں باجوں سے بیزار ہو چکا تھا۔ اجتماع سے واپسی پر اپنے کمرے میں موجود کارٹونوں کی تصاویر اتار کر کعبہ مُشَرَّفَہ اور مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے پیارے پیارے طغرے آویزاں کر دئیے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! تادمِ تحریر میں جامعۃ المدینہ (للبنات) میں درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں نیز اپنے علاقے میں علاقائی مشاورت کی خادِمہ (ذمہ دار) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کے لئے بھی کوشاں ہوں۔
؏سرکار! چار یار کا دیتا ہوں واسطہ
ایسی بہار دو نہ خزاں پاس آ سکے([134])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
سیرتِ حضرت زینب بنتِ جَحْش رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا
حضرتِ سیِّدنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے رِوَایَت ہے کہ رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پڑھنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ تیزی سے گناہوں کو مِٹانے والا ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلام بھیجنا غلام آزاد کرنے سے افضل ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت، راہِ خدا میں تلوار چلانے سے افضل ہے۔([135])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! رسولِ رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاک ازواج رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں ایک نمایاں نام صِدْق و وَفا کی پیکر، جُود وسَخا کی خُوْگر، عقل و دانش سے سرشار، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کا ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اعلیٰ کِردَار اور حُسْنِ اَخلاق کا بہترین نمونہ تھیں، خوف وخَشِیَّتِ الٰہی آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، جود وسخا اور زُہْد وقناعت گویا آپ کی عادتِ ثانیہ ہو گئی تھی، حضرتِ سیِّدنا امام شمس الدین محمد بن احمد ذہبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ان صِفاتِ عالیہ کا ذِکْر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”کَانَتْ مِنْ سَادَۃِ النِّسَاءِ دِیْنًا
وَّوَرِعًا وَّجُوْدًا وَّمَعْرُوْفًا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا دین، تقویٰ، سخاوت اور نیکی کے اعتبار سے تمام عورتوں کی سردار تھیں۔“([136]) آئیے! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی حیاتِ پاک کے چند دَرَخْشَاں پہلو ملاحظہ کیجئے:
مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں جب اسلام کی معطر ہوا کے جھونکے چلنے لگے اور آفتابِ اسلام نے پوری آب وتاب کے ساتھ طُلُوع ہو کر آفاقِ عالَم کو اپنی تابانی سے دَمْکَانا شروع کیا تو جن لوگوں نے سب سے پہلے اس کی تابانی سے تاباں ہو کر بِلاحِیْل وحجت صدائے حق پر لبیک کہا یہ وہی لوگ تھے جو فطری طور پر نیک طبع واقِع ہوئے تھے اور اَدْیانِ باطلہ سے بیزار ہو کر پہلے سے ہی دین حق کی تلاش میں سرگرداں تھے چنانچہ شیخ الحدیث حضرتِ علّامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: واضح رہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے جو سابقین اَوَّلین کے لقب سے سرفراز ہیں ان خوش نصیبوں کی فَہْرِسْت پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ سب سے پہلے دامن اسلام میں آنے والے وہی لوگ ہیں جو فطرۃً نیک طبع اور پہلے ہی سے دین حق کی تلاش میں سرگرداں تھے اور کفارِ مکہ کے شرک و بت پَرَسْتی اور مُشْرِکانہ رُسُوْمِ جاہلیت سے متنفر و بیزار تھے چنانچہ نبی برحق (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے دامن میں دین حق کی تجلی دیکھتے ہی یہ نیک بخت لوگ پَروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور مُشَرَّف بہ اسلام ہو گئے۔([137])
ان قُدْسِی صِفَات کی حامِل ہستیوں میں حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی ہیں، حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اِسْلام کے آنگن میں اپنے مسلمان افرادِ خانہ کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کی، ایک ایسی زندگی جو کفر کی تاریکیوں سے دُور ہو کر اسلام کی روشنی میں آ چکی تھی، ضلالت وگمراہی کی پگڈنڈیوں میں بھٹکنے سے جو رہائی پا چکی تھی، گناہوں کی سیاہی جس سے دُھل چکی تھی اور وہ نیکیوں کے نور سے منور وتاباں ہو چکی تھی۔
شب و روز گزرتے رہے، وَقْت کا دھارا پوری رفتار سے بہتا رہا لیکن آفتابِ اسلام کے طُلُوع فرمانے کے بعد سے ہمراہیانِ اسلام پر کفار کے ظلم وستم کی جو کالی گھٹائیں چھائی تھیں ان میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ روز بَروز بڑھتی ہی رہیں اور قید وبند کی یہ صُعُوبتیں طویل سے طویل ہوتی گئیں، سرفروشانِ اسلام نے یہ تمام مظالم سہنے کے باوجود اپنے پایۂ ثبات میں لَرْزِش نہ آنے دی، جور وستم کی آگ میں تو جلتے رہے لیکن کفر کی آگ میں کودنا اِنہیں گوارا نہ ہوا اور اس طرح ان فِدایانِ اسلام نے چاروں طرف سے کفر کی تاریکیوں میں گھِرے ہوئے ہونے کے باوجود اپنے ایمان کی شمع کو رَوْشن رکھا پھر جب بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم ہوا تو یہ فِدایانِ اسلام اپنے گھر بار اور مادرِ وطن کو چھوڑ کر حبشہ میں جا بسے۔ مُہَاجِرین حبشہ کی اس فَہْرِسْت میں
حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی شامل ہیں، آپ نے اپنے بھائی حضرتِ سیِّدنا عبد الله بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور دیگر افرادِ خانہ کی ہمراہی میں ہجرت کی۔([138]) ہجرتِ حبشہ کے کچھ عرصے بعد جب سرکارِ دو عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ سے ہجرت فرما کر مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی میں مدینہ شریف ہجرت کر آئیں۔([139])
بنو جحش کے مکہ سے ہجرت کر آنے کے بعد سردارِ مکہ ابوسُفْیَان بن حَرْب نے ان کے گھر پر قبضہ کر کے اسے عَمْرو بن عَلْقَمَہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ جب بنی جحش کو اس کی خبر ہوئی تو حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں اس کا ذِکْر کیا، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے عبد الله ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں اس سے بہتر گھر جنت میں عطا فرمائے؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں، میں راضی ہوں۔([140])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا پہلا نکاح رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے ساتھ ہوا۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن اس کا تفصیلی ذِکْر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حُضُور سیِّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبل طُلُوعِ آفتابِ اسلام زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو مولیٰ (غلام) لے کر آزاد فرمایا اور مُتَبَنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنایا تھا ، حضرتِ زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کہ حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی اُمَیْمَہ بنتِ عَبْدُ الْمُطَّلِب کی بیٹی تھیں، سیِّد عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنہیں حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے نِکاح کا پیغام دیا، اوّل تو راضی ہوئیں اس گمان سے کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے لئے خواستگاری فرماتے ہیں، جب معلوم ہواکہ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے لئے طَلَب ہے، اِنکار کیا اور عرض کر بھیجا کہ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں حُضُور کی پھوپھی کی بیٹی ہوں ایسے شخص کے ساتھ اپنا نِکاح پسند نہیں کرتی اوران کے بھائی عبدالله بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بھی اسی بِنا پر انکار کیا، اس پر یہ آیۂ کریمہ اتری:
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرما دیں تو انہیں اپنے
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶)(پ۲۲، الاحزاب:۳۶)
مُعَاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی بہکا۔
اسے سن کر دونوں بہن بھائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا تائب ہوئے اور نِکاح ہو گیا۔“([141])
حضرتِ سیِّدُنا زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی طرف سے حُضُورِ اکرم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو 10دینار، 60دِرْہَم، ایک جوڑا کپڑا، 50مُد کھانا اور 30 صاع کھجوریں بطورِ مہر عطا فرمائیں۔([142])
حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک سال یا کچھ زیادہ عرصہ حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی زَوْجیّت میں رہیں، پھر آپس میں ناسازگاری پیدا ہو گئی۔([143]) آخر حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ کر لیا لیکن جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس
بارے میں بات کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع فرما دیا۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ شکایت لے کر آئے اور حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، جب اس بارے میں حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مشور کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا (جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے): ([144])
اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ (پ۲۲، الاحزاب:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر۔
عُلَما فرماتے ہیں: حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے روکنے کا حکم دینے میں مقصود حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو آزمانا تھا کہ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے دل میں زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی رغبت باقی ہے یا بالکل ہی متنفر ہو گئے ہیں۔ اس وَقْت تو حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ رک گئے لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوکر عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے زینب کو طلاق دے دی ہے۔([145])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنۡہَا کے نِکاح کے واقعے سے ہمیں دَرْج ذیل مَدَنی پُھول چننے کو ملے:
}معلوم ہوا کہ بارگاہِ ربِّ ذُوْالجلال میں رسولِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان بہت اَرْفَع و اعلیٰ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فیصلے کو اپنا فیصلہ فرمایا اور حُضُور کے حکم فرمانے پر مُبَاح کام کو بھی فرض قرار دیا چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ظاہِر ہے کہ کسی عورت پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے فرض نہیں کہ فُلاں سے نِکاح پر خواہی نخواہی راضی ہو جائے خُصُوصاً جبکہ وہ اس کا کفو نہ ہو، خُصُوصاً جبکہ عورت کی شرافتِ خاندان کواکِبِ ثُرَیَّا سے بھی بلند وبالاتر ہو، بایں ہمہ (ان تمام باتوں کے باوجود) اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیا ہوا پیام نہ ماننے پر ربُّ الْعِزّت جَلَّ جَلَالُہٗ نے بِعَیْنِهٖ وہی الفاظ اِرشاد فرمائے جو کسی فرضِ اِلٰہ (اللہ تعالیٰ کے فرض) کے ترک پر فرمائے جاتے اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ پاک کے ساتھ اپنا نامِ اقدس بھی شامِل فرمایا یعنی رسول جو بات تمہیں فرمائیں وہ اگرہمارا فرض نہ تھی تو اب ان کے فرمانے سے فرضِ قطعی ہو گئی، مسلمانوں کو اس کے نہ ماننے کا اَصْلاً (بالکل بھی) اِختِیار نہ رہا، جو نہ مانے گا صریح گمراہ ہوجائے گا، دیکھو! رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم دینے سے کام فرض ہو جاتا ہے
اگرچہ فِیْ نَفْسِهٖ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا فرض نہ تھا ایک مُبَاح وجائز اَمْر تھا۔([146])
؏جتنا مِرے خُدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز
جو کچھ تِری رِضا ہے خُدا کی وہی خوشی
جو کچھ تیری خوشی ہے خُدا کو وہی عزیز
محشر میں دو جہاں کو خُدا کی خوشی کی چاہ
میرے حُضُور کی ہے خُدا کو خوشی عزیز([147])
}یہ مَدَنی پُھول بھی حاصِل ہوا کہ اسلام میں کسی کو کسی پر رنگ ونسل اور علاقے کی بنیاد پر فضیلت حاصِل نہیں بلکہ اسلام میں فضیلت کا مِعْیَار تقویٰ ہے چنانچہ اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پ۲۶، الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
معلوم ہوا کہ کسی گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر، کسی آزاد کو غلام پر یا غلام کو آزاد پر رنگ اور نسل کی بنیاد پر کچھ فضیلت نہیں ہے بلکہ ان میں جو بڑا متقی ہے وہی افضل بھی ہے۔ اس کا عملی اِظْہَار رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی پھوپھی کی بیٹی کا
نِکاح ایک آزاد کردہ غلام کے ساتھ کر کے فرمایا جس سے غلاموں کو نیچ تَصَوُّر کرنے کی نِہَایَت قبیح سوچ کی کاٹ بھی ہو گئی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے طلاق دینے کے بعد جب حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عدت پوری ہو چکی تو سیّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی طرف نِکاح کا پیغام بھیجا اور اس کے لئے حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو ہی منتخب فرمایا تا کہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ یہ عَقْد زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی رضا مندی کے بغیر زبردستی واقِع ہوا ہے اور انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے دل میں زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی خواہش نہیں ہے چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے فرمایا کہ جاؤ اور زینب کو میری طرف سے نِکاح کا پیغام دو۔حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ وہاں سے چلے جب حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا آٹے کا خمیر کر رہی تھیں۔فرماتے ہیں: جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی اس قدر عَظَمت پیدا ہوئی کہ میں اِنہیں نظر بھر کر دیکھ بھی نہ سکا کیونکہ رسولِ خدا، محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں پیغامِ نِکاح بھیجا تھا لہٰذا میں ایڑیوں کے بل گھوما اور پشت پھیر کر کہا: ”یَا زَیْنَبُ!
اَبْشِرِیْ اَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَّ یَذْکُرُکِ اے زینب! خوش ہو جاؤ کیونکہ مجھے محبوبِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھیجا ہے، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہیں نِکاح کا پیغام دیا ہے۔“([148])
محبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغامِ نِکاح سن کر حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جواب دیا کہ میں اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے مشورہ کئے بغیر کچھ نہیں کر سکتی پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لائیں اور سجدے میں سر رکھ کر بارگاہِ رَبُّ الْعِزّت میں عرض گُزار ہوئیں:”اے پاک پَرَوَرْدِگار عَزَّ وَجَلَّ! تیرے پاک پیغمبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے نِکاح کا پیغام دیا ہے اگر میں تیرے نزدیک ان کی زَوْجیّت میں داخِل ہونے کے لائق ہوں تَو اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تُو اِن کے ساتھ میرا نِکاح فرما دے۔“ دُعا قبول ہوئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیت نازِل فرمائی:
فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا (پ۲۲، الاحزاب:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نِکاح میں دے دی۔
اس آیت کے نُزُول کے بعد حُضُور تاجدارِ رِسالَت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور
اس کو یہ خوش خبری سنائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کو میری زوجیت میں دے دیا ہے؟ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک خادِمہ حضرت سلمیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا دوڑتی ہوئی حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچیں اور یہ آیت سنا کر خوش خبری دی۔ حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس بشارت سے اس قدر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اُتار کر اس خادِمہ کو اِنعام میں دے دیا، سجدۂ شکر بجا لائیں اور دو۲ ماہ کے روزے رکھنے کی نذر مانی۔([149]) اس کے بعد ناگہاں (اچانک) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مکان میں تشریف لے گئے ان کا سر برہنہ تھا۔ اس پر عرض گُزَار ہوئیں: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! بغیر خطبہ اور بغیر گواہ کے آپ نے میرے ساتھ نِکاح فرما لیا؟ اِرشاد فرمایا: ”اَللہُ الْمُزِوِّجُ وَ جِبْرِیْلُ الشَّاھِدُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نِكاح فرمانے والا ہے اور حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام گواہ ہیں۔“([150])
اس کے بعد دن چڑھے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعوتِ ولیمہ کا اہتمام فرمایا اور اتنی بڑی دعوت فرمائی کہ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سے کسی کے ساتھ نِکاح کے موقع پر اتنی بڑی دعوت نہیں فرمائی مروی ہے
کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کو روٹی اور گوشت کِھلایا حتی کہ وہ شکم سیر ہو گئے۔ کھانے کے بعد سب لوگ اٹھ کر چلے گئے لیکن تین۳ افراد کھانا کھا کر اسی جگہ باتوں میں مشغول ہو گئے اور باتوں کا سلسلہ اس قدر دراز ہو گیا کہ ان کا بیٹھنا حُضُور عَلَیْہِ السَّلَام پر بھاری معلوم ہوا، حضور عَلَیْہِ السَّلَام اس جگہ سے اس لئے اٹھے کہ یہ لوگ بھی ہم کو قیام فرماتے دیکھ کر اٹھ جائیں مگر وہ حضرات نہ سمجھے، مکان تنگ تھا گھر والوں کو بھی ان کی وجہ سے تکلیف ہوئی، حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے اٹھ کر حجروں میں تشریف لے گئے، دَورہ فرما کر جو تشریف لائے تو ملاحظہ فرمایا کہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہ دیکھ کر پھر واپس ہو گئے تب ان لوگوں کو خیال ہوا اور اٹھ گئے، اس پر اللہ رَبُّ الْعِزّت نے مسلمانوں کو بارگاہِ رِسالت کے آداب سے خبردار کرتے ہوئے یہ آیتِ مُبَارَکہ نازِل فرمائی: ([151])
[1]... صحيح البخارى، کتاب النکاح، باب عرض الانسان ابنته...الخ، ص۱۳۱۹، الحديث:۵۱۲۲.
[2]... الاصابة، كتاب النساء، حرف الحاء المهملة، القسم الاول، حفصة بنت عمر، ۸/۹۴.
[3]...صحيح البخارى، کتاب النكاح، باب عرض الانسان ابنته...الخ، ص۱۳۱۹، الحديث:۵۱۲۲ ، ملتقطًا.
[4]...فتاویٰ رضویہ، ۱۲/۲۸۹ ، ۳۱۸.
[5]...وسائل بخشش، ص۶۷۰.
[6]... المعجم الكبير، ذکر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم، حفصة بنت عمر...الخ، ۱۰/۸، الحديث:۱۸۸۲۷.
[7]... جنّتی زیور، تذكرۂ صالحات، حضرتِ حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، ص۴۸۵.
[8]... سيرتِ مصطفیٰ، انیسواں باب، حضرت حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، ص۶۶۲.
[9]... المستدرک للحاکم، كتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم، ذكر ام المؤمنين حفصة...الخ، ۵/۱۸،۱۹، الحديث:۶۸۰۹،۶۸۱۲.
[10]...سنن الترمذى، ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب فى مناقب ابى حفص...الخ، الحديث:۳۶۹۱، ص۸۳۹.
[11]...المرجع السابق، ص۸۴۰، الحديث:۳۶۹۵.
[12]...تاريخ الخلفا، عمر ابن الخطاب رضى الله عنه، فصل فى موافقات...الخ، ۷۸.
[13]...سنن ابوداؤد، كتاب السنة، باب فى الخلفاء، ص۷۳۲، الحديث:۴۶۴۹.
[14]...السنن الكبرى للبيهقى، كتاب النذور، باب مايوفى به...الخ، ۱۰/۱۳۲، الحديث:۲۰۱۰۱.
[15]... اسد الغابة، باب الزاء والهاء والواء، ۱۸۳۴-زيد بن خطاب، ۲/۳۵۷، ملتقطًا.
[16]...المرجع السابق، باب العين والثاء، ۳۵۹۴-عثمان بن مظعون، ۳/۵۹۱.
[17]...سنن الترمذى، كتاب الجنائز، باب ماجاء في تقبيل الميت، ص۲۶۰، الحديث:۹۸۹.
[18]...اسد الغابة، حرف الفاء، ۷۱۸۲-فاطمة بنت الخطاب، ۷/۲۱۵، ملتقطًا.
[19]... صحيح البخارى، كتاب فضائل اصحاب النبى، باب مناقب عبد الله بن عمر...الخ، ص۹۴۷، الحديث:۳۷۴۰٠.
[20]...شرح كلامِ رضا، ص۱۰۵۷.
[21]...مسند احمد، مسند النساء، حديث ام مبشر...الخ، ۱۱/۱۷۱، الحديث:۲۷۸۰۱.
[22]... المعجم الكبير، ذكر ازواج رسول الله رضى الله عنهن، حفصة بنت عمر...الخ، ۱۰/۷، الحديث:۱۸۸۲۲،۱۸۸۳۲.
[23]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دُوُم در ذکرِ ازواجِ مطہرات، حفصہ بنت عمر، ۲/۴۷۴.
[24]...سیرت مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، انیسواں باب، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، ص۶۶۳.
[25]...المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث...الخ، ۱/۴۰۱.
[26]...اسی کتاب کا صفحہ نمبر 24 ملاحظہ کیجئے۔
[27]...سیرت مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، انیسواں باب، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، ص۶۶۴، بتغیر قلیل.
[28]...القول البديع، الباب الثانى فى ثواب الصلوة على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ص۱۲۷.
[29]... المستدرک للحاکم، کتاب معرفة الصحابة رضی الله عنهم، ذكر ام المؤمنين زينب بنت خزيمة رضى الله عنها...الخ، ۵/۴۴، الحديث:۶۸۸۴.
[30]...ذوقِ نعت، ص۵۹.
[31]...المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه الطاهرات...الخ، ۱/۴۱۰، ملتقطًا.
والمستدرك للحاكم، كتاب معرفة الصحابة رضى الله تعالٰى عنهم، ذكر ام المؤمنين زينب بنت خزيمة العامرية رضى الله تعالٰى عنها، ۵/۴۳، الحديث:۶۸۸۳، مختصرًا.
[32]...السنن الكبرى للبيهقى، جماع ابواب الانفال، باب السلب للقاتل، ۶/۵۰۱، الحديث:۱۲۷۶۹.
[33]...کلیاتِ اقبال،ص۴۳۲.
[34]...الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج رسول الله رضى الله عنهن، ۴۱۳۳-زينب بنت خزيمة رضى الله عنها، ۸/۹۱.
[35]...عيون الاثر فى فنون المغازى والسير، ذكر ازواجه...الخ، زينب بنت خزيمة، ۲/۳۹۶.
[36]...نسب قريش، ولد معد بن عدنان، ص۷.
[37]...شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث، زينب ام المساكين...الخ، ۴/۴۱۶.
[38]...اسد الغابة، حرف اللام، ۷۲۵۲-لبابة بنت الحارث، ۷/۲۴۶، بتغير قليل.
[39]...معرفة الصحابة لابى نعيم، باب السين، ٣٩٠٤-سلمى بنت عميس الخثعمية، ۶/۳۳۵۴، الحديث:۷۶۷۶.
[40]... السيرة الحلبية، باب ذكر ازواجه وسراريه، ۳/۴۴۶.
[41]...الاستيعاب فى معرفة الاصحاب، محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ۱/۴۵.
[42]...الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج رسول الله، ۴۱۳۳-زينب بنت خزيمة، ۸/۹۲.
[43]...فتاوىٰ رضویہ، ۹/۳۶۹.
[44]...صحيح البخارى، كتاب التفسير، سورة الاحزاب، باب [ترجي من تشاء...الخ]، ص۱۲۱۷، الحديث:۴۷۸۸.
[45]...مراٰة المناجيح،بیویوں سے بَرتاوا، پہلی فصل، ۵/۹۵.
[46]...شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث، زينب ام المساكين...الخ، ۴/۴۱۸، بتغير قليل.
[47]...امتاع الاسماع، فصل فى ذكر من بنى...الخ، واما بيوته، ١٠/٩٣.
[48]...الصلات والبشر، الباب الرابع، الاثار الواردة فى فضائل...الخ، ص۱۶۵.
[49]...شفاء القلوب، ص۱۹۵.
[50]...وہ روشنی جو جانبِ مشرق اس جگہ ظاہر ہوتی ہے جہاں سے آفتاب طلوع ہونے والا ہو اور بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی ہے اور زمین پر اُجالا ہو جاتا ہے۔
[51]...شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، ذكر اول من امن...الخ، ۱/۴۵۸.
[52]...سیرتِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، تیسرا باب، مسلمانوں پر مظالم، ص۱۱۸.
[53]...المرجع السابق، ص۱۱۷.
[54]...السنن الكبرى للبيهقى، كتاب السير، باب الاذن بالهجرة، ۹/۱۶، الحديث: ۱۷۷۳۴.
[55]...المواهب اللدنية، المقصد الاول، هجرته صلى الله عليه وسلم، ۱/۱۲۵.
[56]...شرح الزرقانی علی المواهب، المقصد الاول، الهجرة الاولى الى الحبشة، ۱/۵۰۴.
[57]...مسند احمد، مسند عقيل بن ابى طالب رضى الله عنه، ۱/۵۴۶، الحديث:۱۷۶۶.
[58]...السيرة النبوية لابن هشام، الجزء الثانى، ذكر المهاجرين الى المدينة، ۱/۸۵.
[59]...السيرة النبوية لابن هشام، الجزء الثانى، ذكر المهاجرين الى المدينة، ۱/۸۵.
[60]...شرح الزرقانى علی المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه...الخ، ۴/۳۹۸.
[61]...الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ۴۱۲۰-ام سلمة، ۸/۷۰.
[62]...شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، كتاب المغازى، سرية ابى سلمة...الخ، ۲/۴۷۲، ملخصًا.
سیرتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، نواں باب، سریہ ابو سلمہ، ص۲۸۸، بتغیر قلیل.
[63]...شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازوجه...الخ، ۴/۳۹۸.
[64]... صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب فى اغماض الميت...الخ، ص۳۳۰، حديث۹۲۰.
[65]...مرقاة المفاتيح، كتاب الجنائز، باب ما يقال عند من حضره الموت، الفصل الاول، ٤/٧٧، تحت الحديث:۱۶۱۹.
[66]... صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب فى اغماض الميت...الخ، ص۳۳۰، حديث۹۲۰.
[67]... المرجع السابق.
[68]... المعجم الاوسط، باب الميم، من اسمه محمد، ۴/۶۶، الحديث۵۲۲۹.
[69]...کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۴۹۶.
[70]...حدائق بخشش، حصہ اوّل، ص۱۶۰.
[71]... صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب ما يقال عند المصيبة، ص۳۲۹، الحديث:۹۱۸.
[72]... مراٰۃ المناجیح، باب مرنے والے کو تلقین، پہلی فصل، ۲/۴۴۵.
[73]...صحیح مسلم شریف کی روایت کے مطابق یہ شخص حضرتِ سیِّدُنا حاطِب بن ابوبلتعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ تھے۔ [صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب ما يقام عند المصيبة، ص۳۲۹، الحديث:۹۱۸] اور بیہقی کی روایت کے مطابق یہ شخص حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ تھے۔ [السنن الكبرىٰ، كتاب النكاح، باب الابن يزوجها اذا كان عصبة...الخ، ۷/۲۱۲، الحديث:۱۳۷۵۲] وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ
[74]...ولی کی جمع۔ شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ولی کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اصطلاحِ فقہ میں ولی اس عاقِل بالغ شخص کو کہتے ہیں جسے دوسرے کی جان یا مال پر مخصوص قدرت یعنی ”اتھارٹی“ حاصل ہو۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”ولی وہ ہے جس کا قول دوسرے پر نافِذ ہو، دوسرا چاہے یا نہ چاہے۔“ [پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۳۵۸] تفصیل کے لئے بہار شریعت جلد دُوُم صفحہ 42 تا 52 اور پردے کے بارے میں سوال جواب صفحہ 357 تا 360 کا مطالعہ فرمائیے۔
[75]...الطبقات الكبرىٰ، ذکر ازواج النبى صلى الله عليه وسلم، ٤١٣٠-ام سلمة ...الخ، ۸/۷۱.
[76]...المرجع السابق، ص۶۹.
[77]...المرجع السابق، ص۷۳.
[78]...المرجع السابق، ص۷۱.
[79]...مسند ابى يعلى، مسند ثابت البنانى عن انس، ۳/۱۲۹، الحديث:۳۳۸۵.
[80]...اہل عرب کا ایک وزن۔
[81]...مسند احمد، مسند القبائل، حديث ام كلثوم...الخ، ۱۱/۲۴۳، الحديث:۲۸۰۳۶.
[82]...الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج النبى صلى الله عليه وسلم، ٤١٣٠-ام سلمة...الخ، ۸/۷۳.
[83]...الاصابة، ۱۲۰۶۵-ام سلمة بنت ابى امية، ۸/۴۵۵، ملتقطًا.
[84]...الجوهرة فى نسب النبى واصحابه العشرة، ازواجه صلى الله عليه وسلم، ۲/۶۵.
[85]...المستدرك للحاكم، كتاب معرفة الصحابة، خطبة النجاشی على نكاح ام حبيبة، ۵/۲۲، الحديث:۶۸۲۵.
[86]...لسان العرب، باب الزاء، تحت اللفظ ”زود“، ۳/۱۷۱۱.
[87]...امتاع الاسماع، فصل فى ذكر اصهاره، اصهاره من قبل ام سلمة، ۶/۲۲۰.
[88]...اسد الغابة، ۵۱۳۴-المهاجر بن ابى امية، ۵/۲۶۵.
[89]...المرجع السابق،، ۲۸۲۰-عبد الله بن ابى امية بن المغيرة، ۳/۱۷۶.
[90]...المرجع السابق، ۲۶۸۲-عامر بن ابى امية، ۳/۱۱۵.
[91]...الاكمال، حرف الخاء ، فصل فى الصحابة، ۲۱۶-خالد بن الوليد، ص۲۹.
[92]...الجوهرة فى نسب النبى واصحابه العشرة، عماته صلى الله عليه وسلم، ۲/۴۹.
[93]...المواهب اللدنية، المقصد الاول، صلح الحديبية، ۱/۲۶۶، ملتقطًا.
[94]...الكامل فى التاريخ، سنة ست من الهجرة، ذكر عمرة الحديبية، ۲/۹۰، ملتقطًا.
[95]... صحيح البخارى، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد...الخ، ص۷۰۸، الحديث:۲۷۳۱.
[96]...فتح البارى، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد والمصالحة مع اهل الحرب...الخ، ۵/۴۲۵، تحت الحديث:۲۷۳۱، ملتقطًا.
[97]...صحيح البخارى، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد والمصالحة مع اهل الحرب...الخ، ص۷۰۸، الحديث:۲۷۳۱، ملخصًا.
[98]...المرجع السابق.
[99]...فتح البارى، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد والمصالحة مع اهل الحرب...الخ، ۵/۴۲۶، تحت الحديث:۲۷۳۱، ملتقطًا.
[100]...سير اعلام النبلاء، ۲۰-ام سلمة ام المؤمنين، ۲/۲۰۳.
[101]...سنن ابى داود، كتاب الطلاق، باب فيما تجتنب...الخ، ص۳۶۹، الحديث:۲۳۰۵.
[102]...بہارِ شریعت، حصہ ہشتم، سوگ کا بیان، ۲/۲۴۳، بتغیر قلیل.
[103]...المرجع السابق، ص۲۴۲.
[104]...المعجم الاوسط، باب الحاء، من اسمه الحسن، ۲/۳۲۴، الحديث:۳۴۳۰.
[105]...صحيح البخارى، كتاب بدء الخلق، باب صفة ابليس...الخ، ص٨٣٧، الحديث:۳۲۷۶.
[106]...مراۃ المناجیح، وسوسے کا باب، پہلی فصل، ۱/۸۲.
نوٹ: وسوسے کے بارے میں مزید معلومات اور ان سے بچنے کے عِلاج جاننے کے لئے شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ”وضو کے بارے میں وسوسے اور ان کا علاج“ صفحہ 21 تا 28 کا مطالعہ کیجئے۔
[107]...المطالب العالية بزوائد المسانيد العثمانية، ۱۳/۲۵۱، الحديث:۳۱۶۰.
[108]...رسائل نعیمیہ، سلطنت مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ص۱۴.
[109]...صحيح البخارى، كتاب الجنائز، باب الصلاة على الشهيد، ص۳۷۷، الحديث:۱۳۴۴.
[110]...المرجع السابق، كتاب العلم، باب من يرد الله به خيرا...الخ، ص٩٢، الحديث:۷۱.
[111]...قلم۔
[112]...تلوار۔
[113]...حدائق بخشش، ص۳۰.
[114]...سنن ابى داود، كتاب العتيق، باب فى العتيق على الشرط، ص۶۱۹، الحديث:۳۹۳۲.
[115]...الطبقات الكبرىٰ، ذكر ازواج رسول الله، ۴۱۳۲-زينب بنت جحش، ۸/۹۱.
[116]... صحيح البخارى، كتاب اللباس، باب ما يذكر فى الشيب، ص۱۴۸۰، حديث۵۸۹۶.
[117]...حدائق بخشش، ص۲۹۹.
[118]...مراۃ المناجیح، دواؤں اور دعاؤں کا بیان، تیسری فصل، ۶/۲۴۹، ملتقطًا.
[119]...حدائق بخشش، ص۱۱۹.
[120]...صحيح البخارى، كتاب المناقب، باب علامات النبوة فى الاسلام، ص۹۲۲، الحديث:۳۶۳۴.
[121]...دلائل النبوة للبيهقى، جماع ابواب مرض رسول الله صلى الله عليه وفاته...الخ، باب ما يؤثر عنه صلى الله عليه وسلم من الفاظه فى مرض...الخ، ۷/۲۱۹.
[122]...السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بنى قريظة فى...الخ، الجزء الثالث، ۲/۱۴۷.
[123]...مسند احمد، مسند النساء، حديث ام سلمة...الخ، ۱۱/۳۲، الحديث:۲۷۲۸۶.
[124]...مسند ابى يعلى الموصلى، مسند ام سلمة...الخ، ۵/۲۶۷، الحديث:۶۹۶۱.
[125]...خزائن العرفان، پ۱، سورۃ البقرۃ، تحت الآیہ:۶۵، ص۲۴.
[126]...تفسیر نعیمی، سورۃ البقرہ، تحت الآیہ:۶۵، ۱/۴۵۲.
[127]... صحیح البخاری، كتاب النفقات، باب وعلى الوارث مثل ذالك، ص۱۳۶۷، الحدیث۵۳۶۹
[128]...مراۃ المناجیح، باب بہترین صدقہ، پہلی فصل، ۳/۱۱۸.
[129]...اسی کتاب کا صفحہ نمبر 24 ملاحظہ کیجئے۔
[130]... سیر اعلام النبلاء، ۲۰-ام سلمة ام المؤمنين، ۲/۲۰۲.
[131]... المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث، ۱/۴۰۸.
[132]...المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث، ۱/۴۰۸.
[133]...المرجع السابق، ص۴۰۷، ملتقطًا.
[134]...اسلامی بہنوں کی نماز، ص۳۰۲.
[135]...الصلات والبشر، فصل فى كيفية الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم، ص۱۶۶.
[136]...سیر اعلام النبلاء، ٢١-زينب ام المؤمنين، ۲/۲۱۲.
[137]...سيرتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، چوتھا باب، ص۱۱۲.
[138]...اسد الغابة، باب العين والباء، ۲۸۵۸-عبد الله بن جحش، ۳/۱۹۵، بتغیر قلیل.
[139]...الطبقات الكبرىٰ، ۴۱۳۲-زينب بنت جحش، ۸/۸۰، بتغير قليل.
[140]...السيرة النبوية لابن هشام، مقام رسول فى دار ابى ايوب، ۲/۱۱۱.
[141]...فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۵۱۷.
[142]...تفسير البغوى، سورة الاحزاب، تحت الآية:۳۶، ۳/۵۶۵.
[143]...مدارج النبوة، قسم پنجم، باب دُوُم در ذکرِ ازواجِ مطہرات، ۲/۴۷۶.
[144]...سنن الترمذى، كتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة الاحزاب، ص۷۴۲، الحديث:۳۲۱۴.
[145]...مدارج النبوة، قسم پنجم، باب دُوُم در ذکرِ ازواجِ مطہرات، ۲/۴۷۶.
[146]...فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۵۱۷.
[147]...ذوقِ نعت، ص۹۷، ملتقطًا.
[148]...مسند احمد، مسند انس بن مالك، ۵/۵۶۳، الحديث:۱۳۳۶۶.
[149]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دوم در ذکرِ ازواجِ مطہرات، ۲/۴۷۷.
[150]...مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب دوم در ذکرِ ازواجِ مطہرات، ۲/۴۷۷.
المعجم الكبير للطبرانى، ذكر ازواج رسول الله، ذكر تزويج النبى صلى الله عليه وسلم زينب...الخ، ۱۰/۱۶۵، الحديث:۱۹۶۰۴، بتغير قليل.
[151]...شانِ حبيب الرحمٰن، ص۱۸۱.
وصحيح مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب...الخ، ص۵۳۴، الحديث:۱۴۲۸.