اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
شیطٰن لاکھ سستی دلائے یہ رسالہ (48 صَفْحات) مکمَّل پڑھ لیجئے
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بیماریبرداشت کرنے کا جذبہ دوبالا ہو گا۔
سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صاحبِ معطَّرپسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’اے لوگو! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اورحساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے۔‘‘(اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۵ص۲۷۷ حدیث۸۱۷۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے: دوعابِد یعنی عبادت گزار پچاس سال تکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے رہے ،پچا سویں سال کے آخِر میں ان میں سے ایک عابد سخت بیمار ہو گئے،وہ بارگاہِ ربِّ باری عَزَّ وَجَلَّ میں آہ وزاری کرتے ہوئے
اس طرح مُلْتَجِی ہوئے(یعنی التجا کرنے لگے):’’ اے میرے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! میں نے اتنے سال مسلسل تیرا حکم مانا، تیری عبادت بجا لایا پھر بھی مجھے بیماری میں مبتلا کردیا گیا، اس میں کیا حکمت ہے ؟ میرے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ! میں توآزمائش میں ڈال دیا گیا ہوں ۔‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں کو حکم فرمایا:ان سے کہو،’’تم نے ہماری ہی امداد واحسان اور عطا کردہ توفیق سے ہماری عبادت کی سعادت پائی، باقی رہی بیماری!تو ہم نے تم کو اَبرار کا رُتبہ دینے کے لئے بیمار کیا ہے۔تم سے پہلے کے لوگ تو بیماری ومصیبتوں کے خواہش مندہوا کرتے تھے اورہم نے تمہیں بِن مانگے عطا فرمادی ۔‘‘( عُیُون الْحِکایات حصّہ ۲ ص۳۱۲ بتصرّف )
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :بیماری بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ،اس کے مَنافِع بے شمار ہیں ، اگرچِہ آدمی کو بظاہر اس سے تکلیف پہنچتی ہے مگر حقیقۃً راحت و آرام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آتا ہے۔ یہ ظاہری بیماری جس کو آدمی بیماری سمجھتا ہے، حقیقت میں روحانی بیماریوں کا ایک بڑا زبردست علاج ہے۔حقیقی بیماری اَمراضِ رُوحانیہ (مَثَلاً دُنیا کی مَحَبَّت ، دولت کی حرص ،بُخل ، دل کی سختی وغیرہ)ہیں کہ یہ البتّہ بہت خوف کی چیز ہے اور اِسی کو مرضِ مُہلک (مُہ۔لِک۔ یعنی ہلاک کرنے والی بیماری) سمجھنا چاہئے۔(بہارِ شریعت ج ۱ص ۷۹۹)
یہ ترا جسم جو بیمار ہے تشویش نہ کر یہ مَرَض تیرے گناہوں کو مِٹا جاتا ہے
اصل بربادکن امراض گناہوں کے ہیں بھائی کیوں اِس کو فراموش کیا جاتا ہے(وسائلِ بخشش(مُرَمَّم) ص۴۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بیماریوں کا ذِکرکرتے ہوئے فرمایا :مومِن جب بیمار ہو پھر اچھا ہو جائے، اس کی بیماری سابقہگناہوں سے کفّارہ ہو جاتی ہے اور آیِندہ کے لیے نصیحت اورمنافِق جب بیمار ہوا پھر اچھا ہوا، اس کی مثال اونٹ کی ہے کہ مالک نے اسے باندھا پھر کھول دیا تو نہ اسے یہ معلوم کہ کیوں باندھا، نہ یہ کہ کیوں کھولا! ( ابوداوٗد ج۳ص۲۴۵ حدیث ۳۰۸۹ ملخّصًا)
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّتحضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّاناِس حدیثِ پاک کے تحت ’’مرآت ‘‘جلد2 صَفْحَہ 424 پر فرماتے ہیں :کیونکہ مومن بیماری میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرے کسی گناہ کی وجہ سے آئی اور شاید یہ آخِری بیماری ہو جس کے بعد موت ہی آئے، اِس لیے اسے شِفا کے ساتھ مغفِرت بھی نصیب ہوتی ہے۔ (جبکہ) منافقغافل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں وجہ سے میں بیمار ہوا تھا (مَثَلاً فلاں چیز کھا لی تھی ، موسم کی تبدیلی کے سبب بیماری آئی ہے، آج کل اس بیماری کی ہوا چلی ہے وغیرہ) اور فُلاں دوا سے مجھے آرام ملا (وغیرہ وغیرہ) اَسباب میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مُسَبِّبُ الْاَسباب(یعنی سبب پیدا کرنے والے رب عَزَّ وَجَلَّ) پر نظر ہی نہیں جاتی، نہ توبہ کرتا ہے نہ اپنے گناہوں میں غور۔ ( مراٰۃ المناجیح )
مَرَض اُسی نے دیاہے دوا وہی دے گا
کرم سے چاہے گا جب بھی شفا وہی دے گا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا فتح موصلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوَلِی کی اَہلیۂ محتر مہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا ایک مرتبہ زور سے گِریں جس سے ناخن مُبارک ٹوٹ گیا، لیکن دَرد سے ’’ ہائے ہو ‘‘ کرنے کے بجائے ہنسنے لگیں !! کسی نے پوچھا : کیا زَخم میں دَرد نہیں ہو رہا ؟ فرمایا :’’ صَبْر کے بدلے میں ہاتھ آنے والے ثواب کی خوشی میں مجھے چوٹ کی تکلیف کا خیال ہی نہ آسکا ۔‘‘(اَلْمُجالَسَۃ لِلدَّیْنَوَرِی ج ۳ ص ۱۳۴)
امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عَظَمت اور معرفت کا یہ حق ہے کہ تم اپنی تکلیف کی شکایت نہ کرواور نہ اپنی مصیبت کا تذکرہ کرو۔([1])( بِلاضَرورت بیماری پریشانی کا دوسروں پراظہار بے صَبری ہے افسوس!معمولی نَزلہ اور زُکام یا دَرد سر بھی ہو جائے توبعض لو گ خوامخواہ ہر ایک کو کہتے پھرتے ہیں )
ٹوٹے گو سرپہ کوہِ بلا صَبْر کر ، اے مبلِّغ !نہ تُو ڈگمگا صَبْر کر
لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صَبْر کر، ہاں یہی سنّتِ شاہِ ابرارہے(وسائلِ بخشش(مرمَّم)ص ۴۷۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیماری اور پریشانی پرشِکوہ کرنے کے بجائے صَبْر کی عادت بنانی چاہئے کہ شکایت کرنے سے مصیبت دُور نہیں ہوجاتی بلکہ بے صبری کرنے سے صَبْرکا
اَجرضائِع ہو جاتا ہے۔بلا ضرورت بیماری و مصیبت کا اِظہار کرنا بھی اچّھی بات نہیں ۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:’ ’جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے چھپایا اور لوگوں سے اس کی شکایت نہ کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّپر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے۔‘‘ (مُعْجَم اَ وْسَط ج ۱ ص ۲۱۴ حدیث ۷۳۷ )
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوَلِینَقْل کرتے ہیں :حضرتِ سیِّدُنا احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ایک بار میری داڑھ میں شدید درد ہوا جس کے سبب میں ساری رات سو نہ سکا ۔ میں نے دوسرے دن اپنے چچا جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان کی خدمت میں شکایت کی کہ’’ میں داڑھ کے درد کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکا ۔‘‘ اس بات کو میں نے تین باردُہرایا۔ اِس پر اُنہوں نے فرمایا: تم نے ایک ہی رات میں ہونے والے اپنے دَرد کی اتنی زِیادہ شکایت کر ڈالی! حالانکہ میری آنکھ کو ضائِع ہوئے تیس برس ہو چکے ہیں ، (اگر چِہ دیکھنے والوں کو معلوم ہو مگر اپنی زَبان سے ) میں نے کبھی کسی سے اِس کی شکایت نہیں کی!(اِحیاء العُلوم ج ۴ص ۱۶۴)اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
سرورِ عالَم ،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے:جب کوئی بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے کہ جاکر دیکھو میرا بندہ کیا کہتا ہے۔ بیمار اگراللہ تَعَالٰیکی حمد وثنا کرتا (مَثَلاً اَلْحَمْدُ للہکہتا )ہے تو فرشتےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں جاکر اس کا قَول عرض کرتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ خوب جانتا ہے ۔ ارشادِ الٰہی ہوتا ہے : ’’اگر میں نے اِس بندے کو اس بیماری میں موت دے دی تو اسے جنّت میں داخل کروں گا اور اگر صحّت عطا کی تو اسے پہلے سے بھی بہتر گوشت اور خون دو ں گا اور اس کے گناہ کومُعاف کردوں گا۔‘‘(موطّا امام مالک ج۲ص ۴۲۹حدیث ۱۷۹۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{۱} بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے کو بیماری میں مبتلا فرماتا رہتاہے یہاں تک کہ اس کا ہر گناہ مٹادیتا ہے۔(اَلْمُستَدرَک ج۱ص ۶۶۹حدیث ۱۳۲۶)
{۲} جب مومن بیمارہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے گناہوں سے ایسا پاک کردیتا ہے جیسے بھٹّی لوہے کے زنگ کو صاف کردیتی ہے ۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۴ ص ۱۴۶ حدیث ۴۲)
{۳}جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی مسلمان کو جسمانی تکلیف میں مبتلا کرتا ہے تو فرشتے سے فرماتا ہے:’’ جو نیک عمل یہ تندرستی کی حا لت میں کیا کرتا تھا اس کے لئے وُہی لکھو ۔‘‘پھراگر
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے شفا عطا فرماتاہے تو اس کے (گناہ ) دھل جاتے ہیں اور وہ پاک ہوجاتا ہے اور اگر اس کی موت آجائے تواس کی مغفرت فرمادی جاتی ہے اور اس پر رحم کیا جاتا ہے۔(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۴ ص ۲۹۷حدیث ۱۲۵۰۵)
{۴}مریض کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتّے جھڑتے ہیں ۔(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج ۴ ص ۱۴۸ حدیث ۵۶)
{۵} اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: جب اپنے بندے کی آنکھیں لے لوں پھر وہ صبر کرے، تو آنکھوں کے بدلے اسے جنّت دوں گا۔(بُخاری ج۴ص۶ حدیث ۵۶۵۳)
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں ایک شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے کہا : ’’ یہ کتنا خوش نصیب ہے کہ بیمارہوئے بِغیر ہی فوت ہو گیا ۔‘‘تو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:’’ تم پر افسوس ہے! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کسی بیماری میں مبتلا فرماتا تو اس کے گناہ مٹادیتا۔‘‘(موطّا امام مالک ج ۲ص ۴۳۰حدیث ۱۸۰۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بخار میں جسمانی تکلیف ضَرور ہے مگر اُخروی فائدے بے شمار ہیں ، لہٰذا گھبرا کر شکوہ وشکایت کرنے کے بجائے صَبْر کر کے اَجر کمانا چاہئے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے:جو ایک رات بخار میں مبتلا ہواور اس پر صَبْر کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی رہے تو اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے جیسے اُس دن
تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۷ ص ۱۶۷حدیث ۹۸۶۸)
حضور تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک مریض کی عیادت فرمائی تو فرمایا: تجھے بشارت ہو کہ اللہ تَعَالٰیفرماتا ہے: بخار میری آگ ہے اس لئے میں اسے اپنے مومِن بندے پر دنیا میں مُسَلَّط کرتا ہوں تا کہ قیامت کے دن ا س کی آگ کا حصّہ(یعنی بدلہ) ہو جائے۔(ابنِ ماجہ ج۴ص۱۰۵ حدیث ۳۴۷۰ )
سر کا رِ مدینہ ،قرا رِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پا س تشر یف لے گئے ۔فر ما یا :تمہیں کیا ہو گیا ہے جو کانپ رہی ہو ؟عر ض کی : ’’بخا ر آگیا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں بَرَ کت نہ کرے ۔ ‘‘اِس پرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بخار کو بُر ا نہ کہو کہ یہ تو آدمی کی خطاؤ ں کو اس طر ح دور کر تا ہے جیسے بھٹّی لوہے کے میل کو ۔‘‘( مسلم ص۱۳۹۲حدیث ۲۵۷۵)
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: بیماریاں ایک یا دو عُضْوْ کو ہوتی ہیں مگر بخار سر سے پاؤں تک ہر رَگ میں اثر کرتا ہے، لہٰذا یہ سارے جسم کی خطائوں اور گناہوں کومُعاف کرائے گا ۔ (مراٰۃ المناجیح ج ۲ ص ۴۱۳)
یہ ترا جسم جو بیما ر ہے تشو یش نہ کر
یہ مَرَ ض تیر ے گنا ہو ں کو مٹاجاتا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اور جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو چھواتو عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ کو تو بہت تیز بخار ہے! فرمایا:ہاں ! مجھے تمہارے دومردوں کے برابر بخار ہوتا ہے ۔ میں نے عرض کی: کیایہ اِس لئے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے دُگناثواب ہوتاہے؟ ارشاد فرمایا:ہاں!( مُسلم ص ۱۳۹۰حدیث ۲۵۷۱ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ بیماریوں اور پریشانیوں پر بے صبر ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا ، کسی کا کچھ نہیں بگاڑا پھربھی نہ جانے ہم پر یہ پریشانیاں کیوں !ایسوں کیلئے بیان کردہ حدیثِ پاک میں کافی ووافی درس موجود ہے ، یقینا ہمارے معصوم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی کسی کاکچھ نہیں بگاڑا تھا، پھر بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیگر مردوں کے مقابلے میں دُگنا بخار آتا تھاتو معلوم ہو اکہ ’’دوسروں کا کچھ بگاڑنا‘‘ ہی بیماریوں اورمصیبتوں کا باعث نہیں ہوتا، نیز بیماریاں او رپریشانیاں مسلمان کو ثواب کا خزانہ دلاتیں ، گناہوں کو معاف کرواتیں اورصَبْر کرنے والے مسلمان کو جنّت کا حقدار بناتی ہیں ۔
بعض اوقات نادان لوگ بیماری اور مصیبت سے تنگ آ کراللہ تَعَالٰی پر اعتراض کرتے
ہوئے کفریات بک دیتے ہیں ، یقینا اِس طرح ان کی بیماری یا مصیبت دُور تو ہوتی نہیں اُلٹا ان کی اپنی آخِرت دائو پر لگ جاتی ہے۔ مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب،’’کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب‘‘ صَفْحَہ 179 پر ہے:اگر کسی نے بیماری،بے روزگاری ،غربت یا کسی مصیبت کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اِعتراض کرتے ہوئے کہا : ’’اے میرے رب ! تو مجھ پر کیوں ظلم کرتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تو کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔‘‘ تو وہ کافرہے۔
زباں پر شکوۂ رنج و الم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ثواب کمانے کا جذبہ صد کروڑ مرحبا! کہ ثواب کمانے کے شوق میں دعا مانگ کر بخار حاصِل کر لیا!چنانچِہ حضرتِسیِّدُناابو سَعِید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہم جن بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں ہمارے لئے ان میں کیا ہے؟ارشاد فرمایا:(یہ بیماریاں گناہوں کے ) کفّارے ہیں ۔حضرت ِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! اگرچِہ بیماری کم ہی ہو ؟ فرمایا:’’ اگر چِہ کانٹا چبھے یا کوئی اور تکلیف پہنچے۔ ‘‘ تو حضرت ِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے لئے یہ دُعا کی(یااللہ) :’’مرتے دم تک بخار مجھسے جدا نہ ہو اور یہ بخار مجھے حج ،عمرہ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد اور فرض
نماز باجماعت ادا کرنے سے نہ روکے۔‘‘ پھر ان کے وِصال تک جس نے بھی انہیں چُھوا بخار کی تَپِش محسوس کی ۔(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۴ ص ۴۸ حدیث ۱۱۱۸۳)اللہُ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
یقیناً مسلمان کیلئے بیماریوں اور پریشانیوں میں دونوں جہانوں کی بھلائیاں ہیں ، بخار ہو یا کوئی سی بیمارییا مصیبت اس سے گناہ مُعاف ہوتے اور جنّت کا سامان ہوتا ہے۔
بخار تیرے لئے ہے گنہ کا کَفّارہ([2])
کرے گا صبر تو جنّت کا ہو گا نظّارہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں سر درد میں مبتلاہو پھر اُس پر صَبْر کرے تو اُس کے پچھلے گناہ مُعاف کردئیے جائیں گے۔‘‘(مُسنَدُ البَزّارج۶ص۴۱۳حدیث۲۴۳۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُبْحٰنَ اللہ! راہِ خدا میں نکلنے والوں کی بھی کیا شان ہے! اِس حدیثِ پاک کے
تحت مجاہِدین کے علاوہ طلبۂ علمِ دین ،حج و عمرہ کیلئے گھر سے نکلنے والے اور سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں حصولِ علمِ دین کی غرض سے سفر کرنے والے عاشقانِ رسول بھی شامل ہیں چونکہ یہ سب راہِ خدا میں ہوتے ہیں لہٰذا ان میں سے بھی کسی کے سرکا درد ہوا تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے پچھلے گناہ(صغیرہ) مُعاف کر دیئے جائیں گے ۔
منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا فتح مو صلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الولیکو دردِسرہُوا توخوش ہو کر ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے وہ مَرَض عنایت فرمایاجو انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو درپیش ہوتا تھا لہٰذا اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ میں 400 رَکعَت نفل پڑھوں۔(152رَحمت بھری حکایات ص۱۷۱)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ118پر ہے:(اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :) دردِ سر اور بخار وہ مبارَک امراض ہیں جو انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ہوتے تھے ، ایک ولِیُّ اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دردِ سر ہوا ، آپ نے اس شکریہ میں تمام رات نوافل میں گزاردی کہ ربُّ العزّت تبارَکَ وَتعالیٰ نے مجھے وہ مرض دیا جو انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ہوتا تھا ۔ اللہُ اَکْبَر! یہاں (عوام کی )یہ حالت کہ اگر برائے نام درد معلوم ہوا تو یہ خیال ہوتا ہے کہ جلد نماز پڑھ لیں ۔ پھر فرمایا : ہر ایک مرض یا تکلیف جسم کے جس مَوضِع (یعنی جگہ ) پر
ہوتی ہے وہ زیادہ کفّارہ اُسی موقع(یعنی مقام) کا ہے کہ جس کاتعلُّق خاص اِس سے ہے لیکن بخاروہ مرض ہے کہ تمام جسم میں سَرایت کرجاتا ہے جس سے بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے ) (بخار) تمام رَگ رَگ کے گناہ نکال لیتا ہے ۔ (ملفوظات اعلٰی حضرت ص ۱۱۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا عطا ء بن ابو رَباح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟میں نے عرض کی: ضرور دکھائیے۔ فرمایا: یہ حبشی عورت، اس نے نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہوکر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!مجھے مرگی([3])کا مَرَض ہے جس کی وجہ سے میں گر جاتی ہوں اور میرا پردہ کھل جاتا ہے لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے میرے لئے دعا کیجئے ۔ فرمایا:’’ اگر تم چاہو تو صَبْرکرو اور تمہارے لئے جنّت ہے اوراگر چاہو تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کروں کہ وہ تمہیں عافیت عنایت فرما دے۔ ‘‘ عرض کی : میں صَبْر کروں گی۔ پھر عرض کی: (جب مرگی کا دورہ پڑتا ہے) میرا پردہ کھل جاتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ میرا پردہ نہ کُھلا کرے ۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ (بُخاری ج۴ص۶حدیث ۵۶۵۲)
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان مِرآت جلد2 صَفْحَہ427 پرفرماتے ہیں:اُس مبارَک عورت کا نام سُعَیرہ یاسُقَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی کنگھی چوٹی کی خدمت انجام دیتی تھیں ( لمعات و مرقات) (مرگی میں گر جاتی ہوں اورمیرا پردہ کھل جاتا ہے ) کے ضِمْن میں مفتی صاحِب فرماتے ہیں :یعنی گِر کر مجھے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا، دوپٹا وغیرہ اتر جاتا ہے ، خوف کرتی ہوں کہ کبھی بے ہوشی میں سِتْر نہ کھل جائے۔ آگے چل کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے اس صحابیہ کو’’شِفا یا صبر ‘‘ کا اختیار دینے کے تعلُّق سے مفتی صاحِب فرماتے ہیں :اس میں اشارۃً معلوم ہوا کہ کبھی بیماری کی دوا اور مصائب میں دعا نہ کرنا ثواب اور صبر میں شامل ہے اس کا نام خودکشی نہیں ، خُصوصاً جب پتا لگ جائے کہ یہ مصیبت رب کی طرف سے امتحان ہے اِسی لیے (حضرتِ سیِّدنا) ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے نمرود کی آگ میں جاتے وقت اور حضرتِ ( سیِّدنا امام)حسین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے میدان کربلا میں دَفْعِیہ(دَف۔عِی۔یَہ۔یعنی آزمائش دور ہونے) کی دعا نہ کی، ورنہ عام حالات میں دوا بھی سنّت ہے اور دعا بھی ۔ ( مراٰۃ المناجیح )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوْرَۃُ الشَّمْس کو پڑھ کر مرگی والے کے کان میں پھونک مارنا بہت مفید ہے۔(جنتی زیور ص۶۰۲)
اُمّ الْمُؤمِنِینحضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا : جب مومِن کی نس چڑھ جاتی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کا ایک گناہ مٹادیتا ہے ، اُس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کا ایک دَرَجہ بُلند فرماتا ہے۔(مُعْجَم اَ وْسَط ج۲ ص ۴۸حدیث ۲۴۶۰ )
سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ راحت نشان ہے:مَنْ قَتَلَہٗ بَطْنُہٗ لَمْ یُعَذَّبْ فِیْ قَبْرِہٖ۔ یعنی جسے اس کے پیٹ(کی بیماری) نے مارا اُسے عذاب ِقبر نہ ہوگا۔ (تِرمِذی ج۲ص۳۳۴حدیث۱۰۶۶)
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کی شرح میں فرماتے ہیں : یعنی پیٹ کی بیماری سے مرنے والا عذابِ قبر سے محفوظ ہے کیونکہ اسے دنیا میں اس مَرَض کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچ چکی ، یہ تکلیف ِقبر کا دَفْعِیَّہ (یعنی دُور کرنے والی)بن گئی ۔ ( مراٰۃ ج ۲ ص ۴۲۵)
{۱}’’ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔‘‘ (اِس کے حاشیے میں صَدرُالشَّریعہ
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اِس سے مُراد اِستِسقا (اِس۔تِس۔قا۔ یعنی ایسی بیماری جس میں پیٹ بڑھ جاتا ہے اور پیاس بہت لگتی ہے )یا’’ دست (MOTION) آنا ‘‘دونوں قول ہیں اور یہ لفظ دونوں کو شامل ہو سکتا ہے لہٰذا ا ُس کے فضل سے امّید ہے کہ دونوں کو شہادت کااجر ملے ) {۲} ذاتُ الْجَنب ( ذاتُ۔ لْ۔جَمْبْ۔یعنی پہلو یا پسلی کے درد ) میں مرنے والا {۳} سِل(کہ اس میں پھیپھڑوں میں زخم ہو جاتے اور منہ سے خون آنے لگتا ہے اس) میں مرنے والا{۴}بخا ر میں مرنے والا {۵} مرگی میں مرنے والا{۶}جو مرض میں لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ40بار کہے اور اسی مرض میں مر جائے (وہ شہید ہے )اور اچھا ہو گیا تو اُس کی مغفرت ہو جائے گی۔(تفصیل کیلئے دیکھئے :بہارِ شریعت ج۱ ص ۸۵۷ تا ۸۶۳ مکتبۃ المدینہ)
حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: موسیٰ(عَلَیْہِ السَّلَام) نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عرض کی: مریض کیعِیادت کرنے والے کو کیا اجرملے گا؟ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا :’’اس کے لئے دو فرشتے مقرَّر کئے جائیں گے جوقبر میں ہر روز اس کیعِیادت کریں گے حتّٰی کہ قِیامت آ جائے۔‘‘(اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۳ ص۱۹۳ حدیث ۴۵۳۶)
رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عَظَمت نشان ہے:جب تم
کسی بیمار کے پاس جاؤ تو اسے اپنے لیے دعا کے لیے کہو کہ اس کی دعافِرشتو ں کی دعا کی طرح ہے۔( ابنِ ماجہ ج۲ص۱۹۱حدیث۱۴۴۱)
حضور رتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک اَعرابی کی عِیادت کو تشریف لے گئے اور عادتِ کریمہ یہ تھی کہ جب کسی مریض کی عِیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ فرماتے: لَا بَأْسَ طَهُوْرٌ إِنْ شَآءَ الله ۔(یعنی : کوئی حَرَج کی بات نہیں اللہ تَعَالٰی نے چاہا تو یہ مَرض (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے۔) اس اعرابی سے بھی یِہی فرمایا: لَا بَأْسَ طَهُوْرٌ إِنْ شَآءَ الله۔(بُخاری ج۲ ص۵۰۵حدیث ۳۶۱۶)
حضرتِ سیِّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے مریض کی عِیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اورسات مرتبہ یہ الفاظ کہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّاُسے اُس مرض سے شِفا عطا فرمائے گا : اَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ أَنْ يَشْفِيَكَ۔ یعنی میں عظمت والے ،عرشِ عظیم کے مالک اللہ عَزَّوَجَلَّسے تیرے لئے شِفا کا سُوال کرتاہوں ۔(ابو داوٗد ج۳ ص ۲۵۱حدیث ۳۱۰۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭مریض کی عِیادت کرنا سنّت ہے ٭اگر معلوم ہے کہعِیادت کوجائے گا تو اس بیمار پر گِراں (یعنی ناگوار) گزرے گا ایسی حالت میں عِیادت نہ کرے ٭عِیادت کو جائے اور مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمہاری حالت خراب ہے اور نہ سر ہلائے جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہے٭ اس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہئیں جو اس کے دل کو بھلی معلوم ہوں ٭اس کی مزاج پُرسی کرے ٭ اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھے مگر جبکہ وہ خود اس کی خواہش کرے ٭ فاسق کیعِیادت بھی جائز ہے کیونکہ عیادتحُقوقِ اسلام سے ہے اور فاسِق بھی مسلم ہے۔ (بہارِ شریعت ج ۳حصہ ۱۶ص۵۰۵ ملخّصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صدکروڑ افسوس!بڑا نازک دور ہے،’’ جھوٹ‘‘بولنے جیسے حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام سے بچنے کا ذہن بہت کم رہ گیا ہے، نہ خوفِ خدا ہے نہ شرمِ مصطَفٰے ، نہ عذابِ قبر کا دھڑکا ہے نہ دوزخ کا کھٹکا!ہر طرف گویا! جھوٹ !جھوٹ ! اوربس جھوٹ کا راج ہے!یقین مانئے! بیمار ہو یا تیمار دار ، مریض ہو یا مزاج پُرسی کرنے والا رشتے دار،دوست دار یا محلّے دارجسے دیکھو! بے دھڑک جھوٹ بولتا دکھائی دے رہا ہے۔ چونکہ یہ رسالہ بیماری کے متعلق ہے لہٰذا اُمّت کی خیر خواہی کے لئے ’’ بیماری‘‘ کے چند جُدا جُدا
عُنوانات کے تحت بولے جانے والے جھوٹ کی کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں :
جس قسم کے مُبالغے (مُبا۔لَ۔غَے)کا عادۃً رواج ہے لوگ اسے مبالغے ہی پر محمول(یعنی گمان ) کرتے ہیں اس کے حقیقی معنی مراد نہیں لیتے وہ جھوٹ میں داخِل نہیں ، مَثَلاً یہ کہا کہ میں تمھارے پاس ہزار مرتبہ آیا یا ہزار مرتبہ میں نے تم سے یہ کہا۔ یہاں ہزار کا عدد مراد نہیں بلکہ کئی مرتبہ آنا اور کہنا مراد ہے، یہ لفظ ایسے موقع پر نہیں بولا جائے گا کہ ایک ہی مرتبہ آیا ہو یا ایک ہی مرتبہ کہا ہو اور اگر ایک مرتبہ آیا اور یہ کہہ دیا کہ ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹا ہے۔(رَدُّالمحتارج۹ص۷۰۵){۱} بعض اوقات بیماری کا تذکرہ کرنے میں ایسا مبالغہ کیا جاتا ہے کہ عرف و رواج میں لوگ اس حد کی بیماری کو بیان کرنے کیلئے مبالغے کے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے ،مَثَلاً: کسی کو معمولی سی بیماری ہو اُس کے بارے میں کہنا:’’ اس کی طبیعت بہت سخت ناساز ہے‘‘ یہ جھوٹ ہے{۲} اجتماع وغیرہ میں حقیقت میں کسی اور وجہ سے شرکت نہ کی اوراتِّفاق سے کوئی معمولی سی بیماری بھی تھی مگر غیر حاضِری کا سبب بیماری نہ ہونے کے باوُجُود کہنا:’’ میں سخت بیمار تھا اِس لئے نہ آ سکا۔‘‘ اس جُملے میں گناہ بھرے دو جھوٹ ہیں ! (الف) معمولی سی بیماری کو’’ سخت بیماری‘‘ کہا (ب) بیماری کو غیر حاضِری کا سبب قرار دیاحالانکہ سبب کچھ اور تھا{۳} اسی طرح معمولی بخار ہو اور کہنا:’’ مجھے اتنا تیز بخار تھا کہ ساری رات سو نہیں سکا‘‘{۴}کام کے لئے بولیں تو معمولی تھکاوٹ ہونے کے باوُجُود جان چھڑانے کے لئے کہنا:’’ میں بہت تھکا
ہوا ہوں کسی اور سے کام کا کہہ دیں ‘‘ہاں صرف اتنا کہا: ’’تھکا
ہوا ہوں ‘‘ تو جھوٹ نہیں ۔ یا {۵} معمولی سا درد ہو تب بھی بولنا: میری ٹانگوں میں شدید درد ہے{۶} یونہی کورٹ کچہری میں پیشی وغیرہ سے بچنے کے لئے معمولی بیماری کو بڑا بنا کر پیش کرنا مَثَلاًکہنا: ان کے دل کی شِریان(VEIN) بند ہے ،دل کا دَورہ پڑ سکتا ہے وغیرہ ۔
مزاج پُرسی کرنے میں اکثر رسمی سُوالات کی تکرار ہوتی ہے مَثلاً: کیا حال ہے؟ خیریت ہے؟ عافیت ہے؟کیسے ہیں آپ؟صحت کیسی ہے؟ اور سنائو طبیعت اچھّی ہے؟ ٹھیک ٹھاک ہیں نا؟کوئی پریشانی تو نہیں ؟وغیرہ وغیرہ ۔تجرِبہ یِہی ہے کہ عُمُوماً سائل (یعنی پوچھنے والا)صِرف بولنے کی خاطر بول رہا ہوتا ہے، حقیقت میں مخاطَب(یعنی جس کی مزاج پُرسی کر رہا ہے اُس) کی طبیعت سے اُسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔اب اگر مَسْئول (مَس۔اُوْل) یعنی جس سے سُوال کیا گیا وہ شخص بیمار،ٹینشن کا شکار،قَرض دار اور مشکِلات سے دو چار ہو اور اپنے اَمراض اور دُکھوں کی فائل کھولدے اور پریشانیوں کی فہرِس بیان کرناشروع کر دے تو خود سائل یعنی مزاج پُرسی کرنے والا امتحان میں پڑ جائے! لہٰذاجس سے طبیعت پوچھی گئی وہ چاہے تو بہ نیّتِ شکرِ الٰہی مختلف نعمتوں مَثَلاً : ایمان کی دولت ملنے ،دامنِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہاتھ میں ہونے کا تصوُّر باندھ کر اس طرح کے جوابات دیکر ثواب کما سکتا ہے : {۱} اَلحَمدُ لِلّٰہ {۲} اَلحَمدُ لِلّٰہ علٰی کُلِّ حال(یعنی ہر حال میںاللہ کا شکر ہے ) {۳} مالک کا بہت کرم ہے{۴}اللہ تعالٰی کی رحمت ہے وغیرہ۔ اِسی طرح اللہ تعالٰیکی عطا کردہ دیگر نعمتوں کے مقابلے میں اپنی تکلیفوں کو کم تر تصوُّر کرتے ہوئے بھی شکرِ الٰہی کی
نیّت سے یا رحمتِ الٰہی کی اُمّیدپربیان کردہ چار جوابات میں سے کوئی سا جواب دے سکتا ہے ۔یاد رہے! اگر بیماری پر توجُّہ ہے لیکن اس کے باوجودبغیر شرعی رُخصت کے اَلحَمدُ للّٰہ، اَلحَمدُ للّٰہ علٰی کُلِّ حال، مالک کا کرم ہے یا اسی طرح کاکوئی جملہ کہنا جس سے بیمار ہونے کے باوُجوداسی مرض کے متعلق صحت بہتر بتانا مقصود ہوجس کے بارے میں پوچھا جارہا ہے تو یہ گناہ بھرا جھوٹ ہے۔
جب کسی سے پوچھا جاتا ہے: آپ کی طبیعت کیسی ہے؟تو طبیعت ناساز ہونے کے باوجود بسااوقات اس طرح کے جوابات ملتے ہیں :{۱} ٹھیک ہوں {۲} بہت ٹھیک ہوں {۳} بالکل ٹھیک ہوں {۴} طبیعت فرسٹ کلاس ہے{۵} اے ون طبیعت ہے {۶}کسی قسم کی تکلیف نہیں {۷} مزے میں ہوں {۸} ذرّہ برابر بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے {۹}ایک دَم فِٹ ہوں ۔
مریض کی طرف سے دیئے جانے والے مذکورہ 9 جوابات گناہ بھرے جھوٹ ہیں ۔ البتہ مریض کی جواب دینے میں کوئی صحیح تاویل(یعنی بچائو کی سچّی دلیل) یا دُرُست نیّت ہو تو گناہ سے بچت ممکن ہے مگر عُمُوماً بِغیر کسی نیّت کے ہی مذکورہ اور اس سے ملتے جلتے جھوٹے جوابات دے دیئے جاتے ہیں ۔ اگر بیماری ذِہن میں نہ ہو، جیسے عارِضی یعنی وقتی طور پر ہو جانے والے آرام پر بسا اوقات انسان اپنی بیماری بھول جاتا ہے، تو ایسی حالت میں ’’ٹھیک ہوں ‘‘ وغیرہ کہہ دیا تو گناہ نہیں نیزمعمولی مَرَض میں بیماری کو ناقابلِ ذکر سمجھتے ہوئے یا اکثر
مَرَض ٹھیک ہو جانے اور معمولی سا رہ جانے کی صورت میں بھی’’ ٹھیک ہوں ‘‘کہنے میں حَرَج نہیں البتّہ ایسے موقع پر بالکل ٹھیک ہوں ، فرسٹ کلاس طبیعت ہے،اے ون ہوں ، ذرَّہ برابر بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اِسی معنیٰ کے دیگر الفاظ کہنا گناہ بھرا جھوٹ شُمار ہوں گے۔
کسی نے طبیعت پوچھی اور مریض کے منہ سے بِغیر کسی نیّت کے بے اختیار نکلا : ’’اَلحَمدُ لِلّٰہ ‘‘ تو اس میں حرج نہیں ۔ یا بیماری کی طرف توجُّہ ہونے کے باوُجُود’’ ٹھیک ہوں ‘‘کے معنیٰ میں نہیں بلکہ ہر حال میں شکرِ الٰہی بجالانے کی نیّت سے کہا: ’’اَلحَمدُ لِلّٰہ علٰی کُلِّ حال‘‘(یعنی ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ) تو اس صورت میں بھی جھوٹ نہیں ۔
(جو بات سچ کا الٹ ہے وہ جھوٹ ہے)
ذیل میں جو جملے دئیے جارہے ہیں یہ جھوٹ بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی ،یونہی اِن کے بولنے میں رخصت کی صورت بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، لہٰذا اگر کوئی دوسرا شخص یہ جملے بولے تو ہم اُس کے بارے میں گناہ گار ہونے کی بدگمانی نہ کریں البتّہ اپنی حد تک اِس طرح کے جملے بولتے وقت بات کی صداقت اور اپنی نیّت کا خیال رکھیں ۔سمجھانے کے لئے ایک مثال عرض ہے کہ جیسے ایک آدَمی نے ہمارے سامنے مُرَغّن(یعنی تیل گھی والا) کھانا کھایااور کسی دوسرے شخص سے کہا کہ میں پرہیز کر رہا ہوں تو ضَروری نہیں یہ کہنا جھوٹ ہو کیونکہ ہو سکتا
ہے کہ ڈاکٹر نے مہینے میں ایک مرتبہ اِس طرح کھانے کی اجازت دی ہو یا یہ جملہ کہتے وَقت قائل کی (یعنی کہنے والے کی) توجّہ اپنے کھانے کی طرف نہ رہی ہو۔اسی طرح بقیہ جملوں میں بھی بَہُت سے اِحتمالات وقِیاسات ہو سکتے ہیں ۔
{۱}آپ تو مَاشَآءَ اللہبہت صبر (یا ہمت ) والے ہیں {۲} آپ نے تو بڑے بڑے دُکھ اٹھائے ہیں مگر کبھی ’’اُف‘‘ تک نہیں کیا{۳}آپ نے تو ہمیشہ صبر ہی کیا ہے {۴} واہ! بھئی ! واہ!آپ کے چہرے پر تو ’’پانی‘‘ آ گیاہے{۵}مَاشَآءَ اللہ اب توآپ بالکل ٹھیک ہو چکے ہیں! {۶} آپ تو بیمار لگ ہی نہیں رہے!{۷} آپ کی بیماری بھاگ گئی ہے! {۸} نہیں ! نہیں ! آپ کو تو کچھ بھی نہیں ہوا ہے{۹} مبارک ہو!آپ کی ساری رپورٹیں کلئیر آئی ہیں {۱۰} تشویشناک مرض پر مطّلع ہونے کے باوُجُود کہنا:’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،ڈاکٹر تو خوامخواہ ہی ڈرا دیتے ہیں ‘‘ {۱۱}فُلاں کو بھی یہ مرض ہوا تھا دو دن میں ٹھیک ہوگیا تھا تم بھی جلدی ٹھیک ہوجاؤ گے (جس مریض کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں اس کا حقیقت کی دنیا میں کوئی وجود نہیں ہوتا ){۱۲} بخار میں تپتے مریض کی نبض پر ہاتھ رکھ کرجان بوجھ کر کہنا:’’نہیں بھائی!نہیں ! تمہیں کوئی بُخار ُوخار نہیں ہے‘‘{۱۳}دل کی تائید نہ ہونے کے باوُجُود محض تسلی دینے کیلئے سخت بیمار سے کہنا:’’بھائی! تم تو چھوٹی سی بیماری میں دل ہار بیٹھے !‘‘
(جو بات سچ کا الٹ ہے وہ جھوٹ ہے)
{۱}کینسر وغیرہ کے اندیشے کے موقع پر کہنا:’’ مجھے اپنی بیماری کی کوئی پروا نہیں ، بس
چھوٹے چھوٹے بچّوں کی فکر ہے‘‘{۲}میرے پاس بالکل گنجائش نہیں ، میں علاج کا خرچ برداشت کر ہی نہیں سکتا(حالانکہ اچھی خاصی رقم جمع کرکے رکھی ہوتی ہے) {۳}گنجائش ہونے کے باوُجُود لوگوں کی ہمدردیاں لینے کیلئے کہنا: میرے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہیں علاج کیلئے کہاں سے لائوں !{۴}میں فل پرہیزی کر رہا ہوں ( حالانکہ کہیں دعوت ہو تو’’جناب‘‘سب سے پہلے جا پہنچتے ہیں){۵} ڈاکٹر صاحب! بالکل ٹائم ٹُوٹا ئم دوا پی رہا ہوں ( حالانکہ خوب ناغے کر رہے ہوتے ہیں) {۶}شوگر کے مریض کاکہنا: میں مٹھائی تو چکھتا تک نہیں ( جب کہ بے چارے مٹھائی کھانے سے باز نہیں رہ پارہے ہوتے ){۷}کسی بھاری بھر کم شخص کو وزن کم کرنے کا ہمدردانہ مشورہ ملنے پر جواب : میں کھانے پینے میں کافی احتیاط کر رہا ہوں ( حالانکہ کڑھائی گوشت ہویا فرائی گوشت، شربت ہو یا ٹھنڈی بوتل،قورمہ ہویا بریانی ، کباب ہو یاسموسہ جو بھی ان کے سامنے آتا ہے بچ کر نہیں جاتا!){۸} مَرَض کی طرف توجُّہ ہونے کے باوُجُود کہنا:بھلا چنگا ہوں {۹} میں بیمار تھوڑی ہوں {۱۰}گلے شکوے کا انبار لگانے کے بعد کہنا :’’ میں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ‘‘ (یہ گناہ بھرا جھوٹ اُسی صورت ہو گا جبکہ بولتے وقت صبر کی تعریف کی طرف توجُّہ ہو) {۱۱} تکلیف کی شدّت کے باوُجُود کہنا :’’نہیں !نہیں !مجھے کوئی تکلیف نہیں ہورہی!‘‘ {۱۲}مجھے بیماری کا غم نہیں اپنے وقت کے ضائع ہونے کا افسوس ہورہا ہے {۱۳} خیراتی شفاخانے میں مفت علاج کروانے کے باوُجُود کہنا:’’ علاج کے سارے اَخراجات میں نے خود برداشت کئے ہیں کسی نے جھوٹے منہ بھی تعاون کی پیش کش نہیں کی ۔‘‘
(بیان کردہ طبّی اور دیسی علاج اپنے طبیب کے مشورے سے کیجئے)
{۱}بخار والا بکثرتبِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيْر پڑھتا رہے ۔
{۲} گرمی کا بخار ہو تويَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ47 بارلکھ (یا لکھوا)کرپلاسٹک کوٹنگ کرکے چمڑے یا ریگزین یا کپڑے میں سی کر گلے میں ڈال دیجئے اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰیبخار جاتا رہے گا۔
{۳}یَاغَفُوْرُکاغذ پر تین بار لکھ( یا لکھوا)کرپلاسٹک کوٹنگ کرکے چمڑے یا ریگزین یا کپڑے میں سی کرگلے میں ڈال یا بازو پر باندھ دیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّہر قسم کے بخار سے نجات ملے گی۔
{۴} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 30بار کاغذ پرلکھ کر پانی کی بوتل میں ڈال کر مریض کو دن میں تین بار تھوڑا تھوڑا پانی پلایئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بخار اتر جائے گا ، ضرورتاً مزید پانی شامل کرتے رہئے۔( مدّت ِ علاج : تا حصول شفا)
عمل کے دَوران مریض سُوتی(یعنی COTTONکے) کپڑے پہنے رہے (کے ٹی یا دوسرے مصنوعی دھاگے کے بنے ہوئے کپڑے نہ ہوں) اب کوئی دُرُست قراٰن پڑھنے والا باوُضُو ہر بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطکے ساتھ بآوازِبلند 21بار سُوْرَۃُ الْقَدْر اس طرح
پڑھے کہ مریض سُنے، مریض پردم بھی کرے اور پانی کی بوتل پر بھی دَم کرے ۔ مریض وقتاً فوقتاً اس میں سے پانی پیتا رہے۔یہ عمل تین دن تک مسلسل کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بخار چلا جائے گا۔
جس کو دَرد وغیرہ کے سبب نیند نہ آتی ہو تو اُس کے پاس لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کثرت سے پڑھنے سے اُس کو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نیند آجائے گی نیزاللہ ربُّ العِزّت عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت سے مریض جلد صحّت یاب بھی ہو جائے گا۔( مریض کو پڑھنے کی آواز نہ جائے اِس کی احتیاط کیجئے)
{۷}اگر نیند نہ آتی ہو تو لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 11بار پڑھ کر اپنے اُوپر دم کر دیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نیند آ جائے گی۔
{۸}جہاں زہریلے جانور نے کاٹا ہو اُس کے گرد اُنگلی گھماتا ہوا ایک سانس میں سات بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط پڑھ کر دم کرے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ زہر کا اثر زائل (یعنی ختم)ہو جائے گا۔
{۹} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 11بار لکھ(یالکھوا) کر ولادت کے بعد فوراً نہلا کر بچّے کو پہنا دینے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مُوذی جانوروں اور پیچش کے مَرَض سے حفاظت ہوگی۔
{۱۰}اگر راستے میں کتا بھونکنے اورحملہ کرنے لگے تويَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ 3بارپڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کتا چُپ چاپ واپَس چلا جائے گا۔
{۱۱} بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط 21 بار جو رات سوتے وقت پڑھ لے، اُس رات وہ ہر قسم کے ناگہانی (یعنی اچانک ہونے والے)حادِثات، شریر انسان و جنات کے حملوں اوراچانک موت سے محفوظ رہے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
{۱۲}يَا اللہُ یَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ کا آسیب زدہ بکثرت ورد کرتا رہے، اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰیآسیب جاتا رہے گا۔
{۱۳} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 41بار لکھ (یا لکھوا)کرپلاسٹک کوٹنگ کرکے چمڑے یا ریگزین یا کپڑے میں سی کر بازو میں باندھ لے یا گلے میں پہن لے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اثرات دُور ہوں گے۔
نیند نہ آتی ہو،ڈراؤنے خواب آتے ہوں ، نیند میں جسم پروزن پڑتا ہویا ایسا محسوس ہوتا ہو جیسے کوئی دبوچ رہا ہے نیز جنّ،جادو وغیرہ بلا وآفت سے حفاظت کیلئے سوتے وقت عُمر بھر روزانہ بلا ناغہ یہ عمل کیجئے:دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلاکر تینوں قُلْ شریف (یعنی سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص، سُوْرَۃُ الْفَلَق اور سُوْرَۃُ النَّاس) ایک ایک بار پڑھ کر ان پر دَم کر کے سر، چہرے ،سینے اور آگے پیچھے جہاں تک ہاتھ پہنچیں سارے بدن پر پھیریئے ۔ پھر دوبارہ ، سہ بارہ (یعنی تیسری بار) اِسی طرح کیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کا فائد ہ خود ہی دیکھ لیں گے۔
{۱۵}لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 101بار پڑھ کر سِحر زدہ ( یعنی جس پر جادو کیا گیا ہو اُس) پر دَم کر دیا جائے یایہی لکھ کر دھو کر پلا دیاجائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ سحر(یعنی جادو) کا اثر ختم ہو جا ئے گا۔
{۱۶}مریض کے سر سے لے کر پائوں کے انگوٹھے تک آسمانی رنگ کے گیارہ سوتی دھاگے ناپ لیجئے، ان گیار ہ دھاگوں کودو مرتبہ تہ کرلیجئے، اب دھاگے کے سِرے پرایک ڈِھیلی گِرہ لگائیے پھر ایک بار سُوْرَۃُ الْفَلَق پڑھ کر اس گِرہ میں پھونک ماریئے اورفوراً کَس دیجئے،اِسی طریقے پرگیارہ گِرہیں لگانے کے بعددھاگے کودہکتے کوئلوں میں ڈالدیجئے۔ (گیس کے چولہے پر توا وغیرہ رکھ کر اُس پر بھی جلا سکتے ہیں )اگرجادوہواتوبدبوآئے گی،جب تک بدبوآتی ر ہے روزانہ ایک بار یہ عمل کرتے رہئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ جادو کا اثر خَتم ہوجا ئے گا۔
{۱۷} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 11بار نئی رِکابی پر لکھ کر پینے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ لَقْوے سے نجات ملے۔
{۱۸} یَا اللہُ 100بار سوتے وقت پڑھنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شیاطین کی شرارت نیز فالج اور لقوے کی آفت سے حفاظت ہو گی۔
لقوے کا دیسی علاج:مَغْز ریٹھا حسب ِضرورت (دیسی دواکی دکان سے) لے کر کوٹ لیجئے، اب خالص شہد ڈال کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیجئے، ایک ایک گولی صبح و شام
نیم گرم دودھ پتّی چائے کے ساتھ استِعمال کیجئے۔ چند دن یا چند ہفتے یا چند ماہ کے استعمال سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شفا نصیب ہو جائے گی۔
{۱۹}ہربار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطکے ساتھ سُوْرَۃُ قُرَیْش 1بار (اوّل آخِر 11 بار دُرُود شریف) پڑھ (یاپڑھوا)کر آبِ زم زم شریف یا اُس پانی میں جس کے اندر آبِ زم زم شریف کے چند قطرے شامل ہوں دم کیجئے اور روزانہ صبح، دوپہر اور شام پی لیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ 40روز کے اندر اندر شِفا یاب ہو جائیں گے ۔(صرف ا یک بار دَم کیا ہوا پانی کافی ہے حسبِ ضَرورت مزید پانی ملا لیجئے)
{۲۰}چھوٹے بچے کو یرقان (پیلیا، JAUNDICE) ہو گیا ہو تو ہر باربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطکے ساتھ سُوْرَۃُ الْفَاتِحہ 21 بار پڑھ کر پیاز پر دم کرکے اُس کے گلے میں پہناد یجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شِفاحاصل ہو گی۔
{۲۱} سُوْرَۃُ الْبَیِّنَہ لکھ کر تعویذ بنا کر گلے میں پہنا دیجئے اِنْ شَآءَاللہُ الْعَزِیْز یرقان جاتا رہے گا۔
{۲۲} سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی
السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱) (پ۲۸، الحشر:۱)101 بار
پڑ ھ کر پانی پر دم کر کے پِلانا یرقان کے
لیے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نہایت مفید رہے گا۔
{۲۳}یَا حَسِیْبُ 300بار پڑھ کرپانی پر دم کر کے اکیس (21)دن تک پلانے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ یرقان سے شِفا حاصِل ہو گی۔
{۲۴} سُوْرَۃُ یٰسٓکی یہ آیت: سَلٰمٌ- قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(۵۸)تین بار پڑھ کر اپنی انگلی پر دم کر کے دانتوں پر ملئے اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی درد جاتا رہے گا۔
{۲۵} یَا اللہُ 7 بار کاغذ پر لکھ (یا لکھوا )کر تعویذ کی طرح لپیٹ کر (بہتر یہ ہے کہ پلاسٹک کوٹنگ کر کے) داڑھ کے نیچے دبانے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ داڑھ کا درد دُور ہوجائے گا۔
دانت کے درد کا دیسی نسخہ :مسوڑھوں میں دردیاسُوجن ہو، پیپ آتا ہو تو تقریباً5گرام پھٹکری کو ایک گلاس پانی میں گرم کرلیجئے اور جب پھٹکری پگھل کر پانی میں گھل جائے تو اس کو دانتوں اور مسوڑھوں پر مل لیجئے مَسُوڑھوں میں درد یا سوجن ہو یا پیپ آتی ہو، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہو جائے گا۔
اگر دانت میں سخت درد ہوتوباوضو سُوْرَۃُ قُرَیْش21بار پڑھ کر نمک پر دم کیجئے اور وہ نمک درد والے دانت پر ملئے اور دانتوں کے درمیان رکھئے دن میں دو تین بار یہ عمل کرنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہوجائے گا۔
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 46بار سادہ کاغذ پر لکھ کر پانی میں دھو کر پینے سے پِتّے اور مثانے
کی پتھری اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ریزہ ریزہ ہو کر نکل جائے گی۔ (مدّتِ علاج: تا حصولِ شِفا)
کچے پپیتے پر سفید یا کالا نمک لگا لیجئے اور تھوڑی سی پسی ہوئی کالی مِرچ چھڑک کیجئے اور دن میں تین مرتبہ (تقریباًدس دس گرام) خوب اچھی طرح چبا کر کھائیے ، چبانا دُشوار ہو تو پیس کر بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ گُردے (اور پتّے ) کی پتھری نکل جائے گی۔ زیادہ مقدار میں نہ کھائیے کیونکہ یہ ثقیل(یعنی وزنی) ہونے کے سبب دیر سے ہضْم ہوتا ہے (اگرچِہ دوسری چیزوں کو جلد ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے )۔
{۲۸} وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۴۴) (پ۱۲، ھُود:۴۴) تھوڑا تھوڑاپیشاب بار بار آتا ہو تو اس کیلئے ان آیاتِ مبارَکہ کو لکھ (یالکھوا)کر بازو میں باندھ یا گلے میں پہن لیا جائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شفا حاصِل ہو گی۔
{۲۹}ایک بار دُرُود شریف پڑھ کر ہر بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ سُوْرَۃُ اَلَمْ نَشْرَح 7 بار پھر آخر میں ایک بار دُرُود شریف پڑھ کر دم کر دیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
گردے کا درد خَتْم ہو جائے گا۔
{۳۰}گردوں کی بیماری کے سبب پیشاب تھوڑا تھوڑاآتا ہو یا پیشاب میں جلن اور چبھن ہوتی ہو اور کوئی دوا کارگر نہ ہوتی ہو تو بارش کے پانی پر باوُضو ہر بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ سُوْرَۃُ اَلَمْ نَشْرَح گیارہ بار پڑھ کر دم کردیجئے اور دن میں چار بار (صبح ناشتے سے قبل، ظہر کے وقت ،عصر کے بعد اور سوتے وَقت) تین تین گھونٹ وہ پانی پئیں ۔ ہر بارپینے سے پہلے سات بار دُرُودِ ابراہیم پڑھ لیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی گردے کی بیماری اور پیشاب کی جلن وغیرہ دُور ہوجائے گی ۔
روزانہ صبح نہار منہ تین گرام میٹھا سوڈا پانی سے استعمال کیجئے (طبیب کی اجازت سے) ، پیاس ہو یا نہ ہو زیادہ سے زیادہ پانی استِعمال کیجئے۔ گیارہ دن میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آرام آجائے گا۔ اگر مرض پرانا ہے تو 41دن تک یہ علاج کیجئے۔
{۳۱} بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ-یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۲۴) (پ۲۸، الحشر:۲۴) کبھی مثانے یا گُردے میں پتھری کے سبب یا گرم تاثیر والی چیزوں کے کثرتِ استعمال سے
پیشاب میں خون آنے لگتا ہے۔ نیزلال مرچ کا زیادہ استعمال پیشاب میں جلن پیدا کرتا ہے ۔ مریض کو چاہئے کہ گرم تاثیر والی چیزوں اور لال مرچوں سے پرہیز کرے۔ ہر دو گھنٹے بعد اوّل آخر تین تین بار دُرود شریف کے ساتھ اوپر دی ہوئی آیتِ مبارکہ تین بار پڑھ کر پانی پر دم کر کے پی لیجئے۔(مدّت علاج: تا حصولِ شفا)
{۳۲} بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط سَلٰمٌ- قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(۵۸) (پ۲۳، یٰس:۵۸)
کاغذ پر باوضولکھ (یالکھوا )کر پلاسٹک کوٹنگ کرکے کپڑے وغیرہ میں سی کر ناف پر اِس طرح باندھئے کہ ناف کے نیچے نہ جائے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شفا حاصِل ہو گی ۔
{۳۳} سُوْرَۃُ نُوْح سوتے وقت ایک بارپڑھ کراپنے اوپردم کیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِحتلام نہیں ہو گا۔
{۳۴}سوتے وقت دل کی جگہ شہادت کی انگلی سے ’’یا عمر‘‘ لکھنے کی عادت بنایئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شیطان کے دَخْل سے محفوظ رہتے ہوئے احتِلام سے بچیں گے۔
{۳۵}یَا شَکُوْرُاگر آنکھوں میں روشنی کم ہو گئی ہو تو 41بار پڑھ کر پانی پر دم کر کے
آنکھوں پر یہ پانی ملئے۔(مدّتِ علاج:تا حصولِ شفا)
{۳۶} نظر کمزور ہو جائے یاچلی جائے تو ’’یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَا اَللہُ یَا سَلَامُ‘‘ 41 بار(اوّل آخِر ایک بار دُرُود شریف)پڑھ کر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر دم کرے اورمنہ پر ڈالے اور آنکھوں پر مَلے اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی فائدہ ہو گا۔(مدّتِ علاج: مسلسل7دن )مدنی پھول: منہ پر ڈالتے وقت کوئی پاک کپڑا وغیرہ بچھا لیجئے تا کہ دم کئے ہوئے پانی کی بے ادَبی نہ ہو۔
{۳۷}بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط ہر نماز کے بعدتین بار پڑھ کر اُنگلی پر دم کر کے اپنی آنکھوں پر لگایئے۔ یہ عمل عمر بھر جاری رکھئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بینائی کی کمزوری دُور ہو گی نیز سفید اور کالے موتیے سے بھی حفاظت ہو گی۔
{۳۸}یَا سَمِیْعُ21 بار (اوّل آخر تین مرتبہ دُرُود شریف) پڑھ کر مریض کے دونوں کانوں میں پھونک مار دیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کان کے درد سے چھٹکارا ملے گا۔ (مدّتِ علاج:تا حصولِ شفا)
{۳۹}ہر باربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطکے ساتھ سُوْرَۃُ الْفَاتِحہ تین بار (اوّ ل آخر تین مرتبہ دُرُود شریف) پڑھ کر تین روز تک روزانہ مریض پر دم کیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّنزلہ زکام سے نَجات حاصل ہوگی۔
سُوْرَۃُ یٰسٓ کی یہ آیت: سَلٰمٌ- قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(۵۸)101 بار، اوّل آخِر تین تین بار دُرُود شریف پڑھ (یا پڑھوا)کر کسی کھانے یا پینے کی چیز پر دم کر کے کھایا پی لیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شِفاملے گی۔ (مدّتِ علاج:تا حصولِ شفا)
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 75بار پڑھ کر دل میں سوراخ والے بچّے نیز گھبراہٹ ،دل اور سینے کے تمام مریضوں کے سینے پر دم کرنا بِفَضلہٖ تعالٰی مفید ہے۔
{۴۲} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 60بار پڑھ کر دم کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نظرِ بد کا اثر جاتا رہے گا۔
{۴۳} ہرچیز کھانے پینے سے قبل بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط پڑھ لینے کا عادی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نظرِ بد سے محفوظ رہے گا۔
{۴۴} یَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ 786بار کاغذ پر لکھ (یا لکھوا)کر تعویذکی طرح لپیٹ کر پلاسٹک کوٹنگ کر کے ریگزین یا کپڑے وغیرہ میں سی کر بازو میں باندھ یا گلے میں پہن لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نظر بد کا اثر ختم ہو جائیگا۔ جس کے ہاتھ پاؤں میں درد ہو اُس کیلئے بھی یہ تعویذ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مفید ہے۔
{۴۵}باوُضوہرباربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطکے ساتھ تین تین بار سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ، سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص، سُوْرَۃُ الْفَلَق اور سُوْرَۃُ النَّاس (اوّل آخر تین بار دُرُود شریف) پڑھ کر بچّوں پر دم کیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بچے نظر لگنے وغیرہ سے محفوظ رہیں گے۔(یہ عمل روزانہ صبح و شام یعنی دن میں دوبار کرنا ہے )
{۴۶} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 66بار روزانہ پڑھ کرمرگی کے مریض پر دم کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہو گا۔علاوہ اَزیں بخار ، نزلہ ،زُکام، کھانسی ہر قسم کے درد اور آنکھوں کی بیماریوں کیلئے بھی یہ روحانی علاج مفید ہے۔(مدّت ِ علاج: تا حصولِ شفا)
{۴۷} یَا اَللہُ یَا رَحْمٰنُ 40 بار ایک سانس میں پڑھ کرجسے مِرگی کا دورہ پڑا ہو اُس کے کان میں دم کیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فوراً ہوش میں آ جائے گا۔
{۴۸} بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطکے ساتھ سُوْرَۃُ الشَّمْس پڑھ کر مرگی والے کے کان میں پھونک مارنا بَہُت مفید ہے۔
{۴۹} باوُضو ہر بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ سُوْرَۃُ الَّیْل 41 بار پڑھ کر سَرسوں یا ناریل کے تیل کی بوتل پردم کرلیجئے، روزانہ سوتے وقت سر پر اس تیل کی مالش کیجئے ۔کچھ دن مالش کرنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ سر کے بال جھڑنا بند ہوجائیں گے۔
داڑھی کے بال جھڑتے ہوں تو اس کیلئے بھی یہ عمل مفید ہے۔(ضرورتاً اُسی بوتل میں دوسرا تیل شامل کر لیجئے)
زیتون کے تیل میں شہد ایک چمچ اورپسی ہوئی دارچینی آدھا چمچ ملا کر گنج پر لگایئے۔ کچھ عرصہ مسلسل استعمال کرنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نئے بال نکلنا شروع ہوجائیں گے ۔
{۵۰}اگر بدن پر کہیں وَرَم یعنی سُوجن ہو گئی ہوتو لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 67بار لکھ (یا لکھوا)کر اپنے پاس رکھئے یا تعویذ بنا کر پہن لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ وَرَم دُور ہو جائے گا۔
{۵۱}لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 76بار کاغذ وغیرہ پر لکھ (یا لکھوا) کر آبِ زم زم شریف سے دھو کر پینے والا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مُوذی اَمراض سے محفوظ رہے گا۔
{۵۲}فجر کی سنّتوں اور فرض کے درمِیان ہر باربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ 41 بار سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ پڑھئے ( مدّت : تا حصولِ شفا) ایک صاحِب کا کہنا ہے : ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے یہ روحانی علاج کیا تو میری کمر کا درد چلا گیا۔‘‘
{۵۳}بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط پڑھ کر سر پردم کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ درد جاتا
رہے گا یہی کاغذ پر لکھ کر تعویذ بنا کر سر میں باندھ لینے سے بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہو جا ئے گا ۔
{۵۴}یَا سَلَامُ11 بار پڑھ کر دم کیجئے، 3 یا 7 یا 11 بار اسی طرح پڑھ کر دَم کیجئے، اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی 11 بار کی تعداد پوری ہونے سے قبل ہی آدھے سر کا دَرْد کافور (یعنی دور)ہو جائے گا، یہ عمل پورے سر کے درد کے لئے بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مفید ہے۔
{۵۵} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 65بار بعدِ نمازِ عَصر پڑھ کر سر پر دَم کرنے سے آدھے اورپورے سر کا دَرْد اللہ پاک کے کرم سے ختم ہوجائے گا۔
{۵۶}زَبان پر ایک چٹکی نمک رکھ کر12 مِنَٹ کے بعد ایک گلاس پانی پی لیجئے سر میں کیسا ہی دَرْد ہو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہو جائیگا۔(ہائی بلڈ پریشر کے مریض یہ علاج نہ کریں کہ ان کیلئے نمک کا استِعمال نقصان دِہ ہو تا ہے)
{۵۷}بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَالسَّمَآءِط بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ بِیَدِہٖ شِفَآءٌط بِسْمِ اللَّهِ الَّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُطمریض کے سر پرہاتھ رکھ کر تین بار یا سات بار یہ دعا پڑھ کر سر پر دم کیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شفا حاصل ہوگی ۔
دردِ سر،چکر آنے اور دماغی کمزوری کا روحانی علاج
{۵۸}اُسْکُنْ سَکَّنْتُکَ بِالَّذِیْ لَہٗ مَا فِی اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمطجس کے سر میں دَرد ہو یا چکّر آتے ہوں اس کے سرپر دَرد کی جگہ ہاتھ رکھ
کر یہ کلمات سات بار پڑھ کر سر پرپھونک مار دیجئے۔اسلامی بہن خود اپنے سر کے درد کی جگہ پکڑ لے اوراس کا محرم یا شوہر پڑھ کر اُس کے سر پر پھونک مار دے،مریض سے پوچھ لیجئے ، اگر ابھی درد باقی ہو تو دوبارہ یہی عمل کیجئے، چند مرتبہ کرنے سے اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی سر کا دَرد ختم ہو جائے گا اور دماغی کمزوری دور ہو گی مگردماغی کمزوری کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہ عمل روزانہ کسی ایک ہی وَقت میں (مَثَلاًروزانہ دن کے12بجے) سات دن تک مسلسل کیا جائے۔
{۵۹} دینی مدرسے کا طالبِ علم ،امتحان میں کامیابی کے لئے پانچوں نمازوں کے بعد باوُضو ہر باربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص 16مرتبہ پڑھے اور پھراللہ تَعَالٰیسے امتحان میں کامیابی کی دعا مانگے، اِنْ شَآءَاللہ تَعَالٰی اُسے کامیابی حاصل ہو گی۔ یہ عمل اپنے وطن میں یا بیرونِ ملک جائز ملازمت کے حصول کی خاطرانٹرویو میں کامیابی کے لئے بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کار آمد ہے ۔
{۶۰}یَا سَلَامُ:اٹھتے ،بیٹھتے ،چلتے، پھرتے،باوُضو ،پڑھتے ر ہئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اَمراض وآفات سے نَجات ملے گی اور روزی میں بَرَکت ہو گی۔
{۶۱}دائمی مریض ہر وقت یَا مُعِیْدُ پڑھتا رہے، اَللہ ربُّ العِزّتصحّت عنایت فرمائے گا۔
{۶۲}خاوَند بری عادت کا شکار ہو اور گھر میں ہر وقت جھگڑا رہتا ہو تو بیوی ہر باربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ گیارہ مرتبہ سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ پڑھ کر پانی پر دم کرے پھر اپنے خاوَند کو پلائے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شوہر نیکی کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔(شوہر بلکہ کسی کو بھی اس عمل کاپتا نہ چلے ورنہ غلط فہمی کے سبب پریشانی ہو سکتی ہے)جب جب موقع ملے یہ عمل کر لیا جائے، دم کیا ہوا پانی کولر میں موجود پانی میں بھی ڈالا جا سکتا ہے ،بے شک خاوَند کے علاوہ اور افراد ِ خانہ بھی اُس میں سے پئیں ،ضرورتاً دوسرا پانی کولر میں ڈالتے رہیں۔
{۶۳} اوّل آخر گیارہ بار دُرُودِ ابراہیم اور درمیان میں ’’ سُوْرَۃُ مَرْیَم‘‘ پڑھ کرپانی پر دم کیجئے، ضَرورتاً دوسرا پانی ملا تے رہئے، مریض وُہی پانی سارا دن پئے، یہ عمل چالیس دن تک بلاناغہ کرتے رہئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شِفا حاصل ہو گی۔(دوسرا بھی پڑھ کر دم کر کے مریض کو پلا سکتا ہے)
{۶۴}یہ آیتِ کریمہ : اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠(۱۴) (پ۲۹، المُلک: ۱۴) 2022بار (اوّل آخر 11بار درود شریف)پڑھ کرکینسر کے مریض پر دم کیجئے پانی اور دوا پر دم کر کے بھی پلایئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت فائدہ ہو گا۔(مدّت: تاحصولِ شفا)
{۶۵}سات دن تک روزانہ باوضویَا رَقِیْبُ100بار (اوّل آخر 11 بار دُرُود شریف) پڑھ کرکینسر کے مریض پر دم کیجئے،اگر زخم ہو تو اُس پر بھی دم کیجئے اگر کینسر کا زخم جسم کے
اندرونی حصّے یا پردے کی جگہ ہو توزخم کی جگہ پر کپڑے کے اوپر دم کر دیجئے۔اگر جسم کے باہَر زخم ہے تو سرسو ں کے تیل پر بھی دم کر دیجئے اور وہ تیل مریض زخم پر لگاتا رہے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ زخم صحیح ہوجائیگااور کینسر دور ہو گا۔
{۶۶}کینسر خواہ کسی قسم کا ہو ، ایک کلو زیتون کے تیل میں 100گرام ہلدی اچّھی طرح پکا کرچھان کر رکھ لیجئے،مریض ہر غذا کے بعد بیس بیس قطرے پی کر اوپر نیم گرم پانی پی لیا کرے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہو گا۔
ایک جدید تحقیق کے مطابق روزانہ منا سب مقدار میں پستے کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کئی قسم کے کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ کینسر پر کام کر نے والی ایک ’’امریکی ایسوسی ایشن‘‘ کے تَحت کی جانے والی تحقیق کے مطا بِق پستے میں وٹامنE کی ایک خاص قسم ہوتی ہے جس کے ذریعے پھیپھڑوں سمیت کئی اقسام کے کینسرزکے خلاف مضبوط مدافعتی (مُدا۔فَ۔عَتی۔) نظام (Immune System Strong) حاصل کیا جا سکتا ہے۔
{۶۷}یَا قَوِیُّ11 بار، پانچوں نمازوں کے بعد سر پر داہنا(یعنی سیدھا) ہاتھ رکھ کر پڑھئے۔(جنتی زیور ص ۶۰۵ )
{۶۸} رات کو سوتے وقت ’’ یَاذَاالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ‘ ‘تین مرتبہ پڑھ کر 3 باداموں
پردم کیجئے،ایک بادام اُسی وقت ،ایک صُبح نَہارمُنہ اور ایک دو پَہر کے وَقت کھایئے۔ وا لِدَین بھی یہ عمل کرکے بچّوں کوکھلاسکتے ہیں ۔(مُدّت21دن )
{۶۹} لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ 564بار پڑھ کراَللہ تَعَالٰی کے حضور حِفظ میں آسانی کی دعا کیجئے، کوشِش جاری رکھنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّقراٰنِ کریم حِفْظ ہو جائے گا۔
{۷۰} یَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ ایک بار کاغذ پرلکھ کرتعویذ بنا کربازو میں باندھ یا گلے میں ڈال لیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نسیان ( یعنی بھولنے) کی بیماری سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔
{۷۱} یَا عَلِیْمُ 7 بار اور ہر باربِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط کے ساتھ سُوْرَۃُ اَلَمْ نَشْرَح 21 مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے جس بچے یا بڑے کا حافِظہ کمزور ہو اُس کو پلایئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ حافِظہ مضبوط ہو جائے گا۔
{۷۲}اگر شوہرسے بیوی کم مَحَبَّت کرتی ہوتو شوہرروزانہ بعد نمازِ عصر با وُضومنہ میں مصری کی ڈلی رکھ کر یَا وَدُوْدُ 101 بار (اوّل آخر تین بار درود شریف) پڑھ کر اپنی بیوی کا تصوُّر باندھ کر اُس کے سینے پر دم کر دے۔اگر شوہر مَحَبَّت کم کرتا ہو توبیوی یہی عمل کرے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ میاں بیوی ایک دوسرے سے مَحَبَّت کرنے لگیں گے۔ (یہ عمل صرف میاں بیوی کی مَحَبَّت کے لئے ہے اور چپکے سے کرناہے نہ میاں بیوی ایک دوسرے کو بتائیں نہ کسی اور کو پتا چلے کہ غلط فہمی کے سبب نقصان ہو سکتا ہے)
{۷۳}بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط 786 بار (اوّل آخر تین بار درود شریف) پڑھ (یا پڑھوا ) کر ایک بوتل پانی پر دم کرکے رکھ لیجئے اور وہ پانی روزانہ صبح نَہار منہ اور سوتے وقت بچے کو پلاتے رہئے ،ضرورتاً دوسرا پانی ملاتے رہئے ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ذِہن روشن ہو جائے گا۔(مدّت : تا حصولِ مراد)
{۷۴}آیۃُ الکرسی11بار اوریَا عَظِیْمُ7 بار (اوّل آخر تین بار دُرُود شریف) پڑھ کر ایک چٹکی نمک پر دم کر کے اس کو پانی میں ڈال کر پی لیجئے۔یہ عمل دن میں تین بارکیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنڈکس ختم ہو جائے گا۔
{۷۵}بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم۔ الٓـمّٓصٓ طٰسٓمّٓ کٓہٰیٰعٓصٓ یٰسٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیۡم حٰمٓ عٓسٓقٓنٓ وَالْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوۡنَ ۔باوضو تین بار پڑھ کر مریض پر دم کیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مرگی کا دَورہ ختم ہو جائے گا۔
{۷۶} ایک مرتبہ سُوْرَۃُ الْکَوْثَر پڑھ کر بچّے کے سیدھے گال پر دَم کیجئے۔ دوسری مرتبہ سُوْرَۃُ الْکَوْثَر پڑھ کراُلٹے گال کی طرف اور تیسری مرتبہ پڑھ کراس کی پیشانی پر
دَم کردیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نظر اُتر جائے گی۔(شروع میں تین بار دُرُود شریف ایک بار اعوذ اور ہر بار سُوْرَۃُ الْکَوْثَر سے قبل پوری بِسمِ اللہ پڑھنی ہے)
{۷۷}تین مرتبہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمطپڑھ کر سات مرتبہ یہ دعا: اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا۔پڑھ کرجس کو نظر ہو اس پر دَم کیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نظر اُتر جائے گی۔
{۷۸} بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط سات بار،ایک مرتبہ آیۃُ الکرسی، تین مرتبہ سُوْرَۃُ الْفَلَق، تین مرتبہ سُوْرَۃُ النَّاس (فلق اور ناس کے قبل ہر بار پوری بِسمِ اللہ پڑھنی ہے) اوّل آخر ایک باردُرُود پاک پڑھ کر تین عدد سرخ مِرچوں پر دم کیجئے۔ پھر اِن مرچوں کو مریض کے سر کے گرد 21بارگھما کر چولہے میں ڈال دیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّنظرکا اثردُور ہوجائے گا۔
{1} چار عدد کڑھی پتّے ایک کپ پانی میں رات بھر پڑے رہنے دیجئے، صبح نَہار منہ اُن چار میں سے دوپتّے چبا کر کھالیجئے اوراوپر سے وُہی پانی پی لیجئے۔(بقیہ دو کڑھی پتے سالن وغیرہ میں استعمال کر لیجئے ) اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ صرف ایک ہفتے میں بلڈ پریشر نارمل ہو جائے گا بلکہ ایک ہی دن میں فرق محسوس ہو گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس علاج سے بلڈپریشر کے مریض کے چِہرے پر بھی رونق آجاتی ہے۔
{2}حسبِ ضرورت کریلے کاٹ کر بیج سمیت خشک کرلیجئے ، پھر پیس کر پوڈر بنا لیجئے۔صبح و شام آدھی آدھی چمچی کھانے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شوگر ،بلڈپریشر اور کولیسٹرول نارمل ہو جائے گا۔(مدت علاج: تا حصولِ شفا)
شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
![]()
۲۱ رجَب المرجّب ۱۴۳۶ھ
11-05-2015
|
کتاب |
مطبوعہ |
کتاب |
مطبوعہ |
|
قراٰن مجید |
|
الترغیب والترہیب |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
|
بخاری |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
المجالسۃ |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
|
مسلم |
دار ابن حزم بیروت |
احیاء العلوم |
دار صادر بیروت |
|
ابو داوٗد |
دار احیاء التراث العربی بیروت |
عیون الحکایات |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
|
ترمذی |
دار الفکر بیروت |
منہاج القاصدین |
دار التوفیق دمشق |
|
ابن ماجہ |
دار المعرفۃ بیروت |
ردالمحتار |
دار المعرفۃ بیروت |
|
موطا امام مالک |
دار المعرفۃ بیروت |
ملفوظات اعلیٰ حضرت |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
مسند امام احمد |
دار الفکر بیروت |
بہار شریعت |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
معجم ا وسط |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
مراٰۃ المناجیح |
ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور |
|
مسند البزار |
مکتبۃ العلوم و الحکم مدینہ منورہ |
جنتی زیور |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
شعب الایمان |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
152رحمت بھری حکایات |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
المستدرک |
دار المعرفۃ بیروت |
وسائل بخشش(مرمم) |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی |
|
الفردوس بمأثور الخطاب |
دار الکتب العلمیۃ بیروت |
٭٭٭٭٭ |
٭٭٭٭٭ |