(1)…اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴)وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا (پ۲،البقرة:۲۰۵،۲۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربعض آدمی وہ ہےکہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سےبڑاجھگڑالوہےاورجب پیٹھ پھیرےتو زمین میں فساد ڈالتا پھرے۔
(2)… مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ(۵۸) (پ۲۵،الزخرف:۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:انھوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑنےکو بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔
(3)… اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْۙ-اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِۚ (پ۲۴،المؤمن:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بے کسی سند کے جو انھیں ملی ہو ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہو س جسے نہ پہنچیں گے۔
(4)… وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﳓ (پ۲۱،العنکبوت:۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراےمسلمانوکتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقے پر۔
(1)…اللہعَزَّ وَجَلَّکو سب سےزیادہ ناپسندشخص وہ ہےجوبڑاجھگڑالو ہے۔([1])
(2)… جوشخص بغیرعلم کےخصومت(جھگڑےواختلاف)میں پڑتاہےوہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے ۔([2])
(3)…کوئی قوم ہدایت پررہنےکےبعدگمراہ نہیں ہوتی مگرجھگڑوں کےسبب۔([3]) یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی:
مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ(۵۸) (پ۲۵،الزخرف:۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:انھوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑنےکوبلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالولوگ۔([4])
(4)…مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف عالِم کی لغزش ، منافق کےقرآن پاک میں جھگڑنے اور دنیا کا ہے جو تمہاری گردنوں کو کاٹ کر رکھ دے گی۔ ([5])
(5)…قرآن میں جھگڑنا کفر ہے([6])۔ ([7])
(6)…جس نےباطل کی حمایت میں جان بوجھ کرجھگڑاکیاوہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی میں رہے گایہاں تک کہ اُسے چھوڑ دے۔([8])
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:”جس نےایساکیابلاشبہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب میں پلٹا ۔“([9])
اس حدیْثِ پاک کو امام ابوداؤد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روایت کیا ہے۔
(7)…مجھےاپنی اُمت پرسب سےزیادہ خوف گفتگو کےماہر منافق کاہے ([10])۔([11])
(8)…حیاء اور کم گوئی ایمان کی دوشاخیں ہیں اور فحش گوئی اور زیادہ بولنا نفاق کی دو شاخیں ہیں۔([12])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ابلیس لعین کا قول یوں بیان فرماتا ہے:
وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ(پ۵،النساء:۱۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:قسم ہے میں ضرور بہکا دوں گااور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گےاورضرورانہیں کہوں گاکہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں:اللہعَزَّ وَجَلَّکی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دینے سے مراد خصی کرنا ہے ۔
رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جواپنےغلام
کوقتل کرے
گا ہم اسےقتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک
کاٹیں گے۔([13])یہ حدیْثِ پاک صحیح ہے۔
رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جس نے اپنے غلام کو خصی کیا ہم اسےخصی کریں گے([14])۔([15])
حُضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:مَنْ مَّثَّلَ بِعَبْدِہٖ فَھُوَحُرٌّیعنی جو اپنے غلام کا مُثلہ کرے گا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹے گا)تووہ غلام آزاد ہوجائے گا۔([16])
بخاری ومسلم میں ہے:
مصطفٰےجانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جس نےاپنے غلام پر زِنا کی تہمت لگائی بروزِ قیامت اس پر حدقائم کی جائے گی۔([17])
حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے آخری بات جو یاد کی گئی وہ یہ ہے کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا ۔([18])
رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے گھوڑوں اور چوپایوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا([19])۔ ([20])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲)وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳)
اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴)لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵)یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ۳۰،المطففین:۱تا۶)
ترجمۂ کنز الایمان: کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ(ناپ کر) لیں پورالیں اور جب انھیں ماپ یا تول کردیں کم کردیں کیا ان لوگوں کوگمان نہیں کہ انھیں اٹھناہے ایک عظمت والےدن کےلیےجس دن سب لوگ ربُّ العالمین کےحُضورکھڑےہوں گے۔
ماپ تول میں ڈنڈی مارنا چوری، خیانت اور ناحق طریقے سے دوسروں کے مال کھانے کا ایک طریقہ ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(1)…
اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹) (پ۹،الاعراف:۹۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا اللہ کی خفیہ تدبیر سے نڈر ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے نڈرنہیں ہوتے مگر تباہی والے ۔
(2)…
حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً (پ۷،الانعام:۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان:یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انھیں ملا تو ہم نے اچانک انھیں پکڑ لیا ۔
(3)…
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ(۷)(پ۱۱،یونس:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کربیٹھےاوراس پرمطمئن ہوگئےاوروہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں ۔
(1)…
اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(۸۷) (پ۱۳،یوسف:۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شکاللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔
(2)…
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا (پ۲۵،الشوری:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہی ہے کہ مینہ اتارتا ہےاُن کے ناامید ہونے پر۔
(3)…
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ- (پ۲۴،الزمر:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ۔
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:تم میں سےکوئی نہ مرے مگر اس طرح کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اچھی امید رکھتا ہو۔([22])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ- (پ۲۱،لقمٰن:۱۴) ترجمۂ کنز الایمان:یہ کہ حق مان میرااور اپنے ماں باپ کا ۔
رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جولوگوں کاشکرادانہیں کرتا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکابھی شکر ادا نہیں کرتا۔([24])
ایک بزرگ فرماتے ہیں : نعمت کی ناشکری کبیرہ گناہ ہے اور نعمت کا شکر محسن کو بدلہ دینا اور اس کے لئے دعا کرنا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠(۳۰) (پ۲۹،الملک:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا۔
(1)…حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:بچے ہوئے پانی کو مت روکو کہ اس کی وجہ سے تم گھاس کو روکو گے۔([25]) ([26])یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں ہے۔
(2)…بچے ہوئے پانی کو فروخت مت کرو۔([27])
اس حدیْثِ پاک کو امام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینے روایت کیا ہے۔
(3)… جس نے بچے ہوئے پانی یا بچی ہوئی گھاس کو روکا اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قیامت اپنے فضل کوا س سے روک لے گا۔ ([28])
اس حدیْثِ پاک کو امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
(4)…تین شخصوں
سے اللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِ قیامت کلام فرمائے گا نہ ان کی طرف
نظرِ رحمت فرمائے گااور ان کے لئے دردناک عذاب ہے:(۱)…وہ شخص جس کے پاس کسی ویرانے میں بچا ہوا پانی ہو اور وہ اس پانی کو مسافر سے روکے (۲)…وہ شخص جو کسی حکمران کی بیعت کرے اور اس بیعت سے اس کی غرض دنیا ہی ہو کہ اگر وہ اسے دنیا(مال ودولت وغیرہ)سے عطا کرے تو اس سے وفادار رہے اور اگر دنیا میں سے کچھ عطا نہ کرے تو بے وفائی برتے اور(۳)…وہ شخص جو عصر کے بعد کوئی سودا فروخت کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھالے کہ میں نے خود اتنی قیمت میں لیا ہے خریدنے والا اس کو سچا سمجھ رہا ہو حالانکہ وہ جھوٹا ہو ۔ ([29])
یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں ہےاور بخاری شریف کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں:”وہ مرد جو بچے ہوئے پانی کو روکے اُس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: آج میں اپنا فضل تجھ سے روکتا ہوں جس طرح تونے بچے ہوئے پانی کو روکا جس کو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔“([30])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
قیامت کےروزحسرت٭…فرمانِ مصطفٰے:قیامت کےدن سب سےزیادہ حسرت اُسےہوگی جسےدنیامیں علم حاصل کرنےکاموقع ملامگراُس نےحاصل نہ کیااوراُسےہوگی جس نےعلم حاصل کیا دوسروں نےتو اُس سےسُن کرنفع اُٹھایالیکن اس نے نہ اُٹھایا(یعنی اس علم پرعمل نہ کیا)۔(تاریخ ابن عساکر،۵۱/ ۱۳۸) |
حضرتِ سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر ایک گدھے کے پاس سے ہوا جس کے چہرے کو داغا گیا تھا۔یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے اس کو داغا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے۔ “([32])اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابوداودشریف کی روایت میں ہے:کیاتمہیں یہ خبرنہیں پہنچی کہ جوکسی چوپائے کےچہرےکوداغےیااس کےچہرےپرمارےمیں نےاس پرلعنت کی ہے([33])۔([34])
رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ
فرمان:”کیاتمہیں یہ خبر نہیں پہنچی میں نے اس پر لعنت کی ہے“اس سے معلوم ہوتا ہے
کہ جس شخص کو اس وعید کی
خبر نہ پہنچی ہو اور اس سے یہ کام سرزد ہوگیا ہو تو وہ گنہگار نہیں اور جس شخص کو یہ خبر مل گئی تھی پھر بھی وہ اس فعل کا مُرتَکِب ہوا تو وہ اس لعنت میں داخل ہے۔ یونہی عام کبیرہ گناہوں کے بارے میں بھی ہم یہی کہتے ہیں مگر یہ کہ وہ گناہ ایسا ہو جس کی حرمت و قباحت کا علم ضروریات دین میں سے ہو تو اس صورت میں بندے کا جاہل ہوناعُذر نہیں ہوگا۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) (پ۷،المائدة:۹۱،۹۰)
ترجمۂ کنزالایمان:شراب اورجوااوربت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیراوردشمنی ڈلوادے شراب اور جوئے میں اورتمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کئی آیاتِ مُبارَکہ نازل فرمائی ہیں جو لوگوں کے اَموال ناحق کھانے والوں کی ہلاکت کے بارے میں ہیں۔
حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جس نےاپنےساتھی سےکہا:’’آؤمیں تمہارےساتھ جواکھیلوں“تواُسےچاہئےکہ(بطورِکفّارہ)صدقہ دے۔([36]) ([37])یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں ہے۔
جب صرف جوا کھیلنے کی بات چیت کرنا ایسا گناہ ہے جو کہ بطورِکفارہ صدقہ کرنے کا باعث ہے تو جو شخص جوا کھیلے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ ایسا شخص ناحق لوگوں کا مال کھانے والوں میں داخل ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ ﰳالْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِؕ-وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠(۲۵) (پ۱۷،الحج:۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراس ادب والی مسجدسے جسےہم نےسب لوگوں کےلیےمقررکیا کہ اس میں ایک ساحق ہےوہاں کےرہنےوالے اور پردیسی کااورجواس میں کسی زیادتی کاناحق ارادہ کرےہم اُسےدردناک عذاب چکھائیں گے۔
حضرتِ
سیِّدُناعُبَیْدبن عُمیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےوالدماجد
سے روایت کرتے
ہیں کہ رسولِ اکرم،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحِجَّۃُالْوَدَاعمیں ارشاد فرمایا :’’سنو! بلاشُبہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دوست نمازی ہیں جو نماز قائم کرتے، رمضان کے روزے رکھتے اور ثواب کی نیت سے اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں اورجن کبیرہ گناہوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے منع فرمایا ان سے بچتے ہیں۔‘‘ ایک شخص نےعرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کبیرہ گناہ کتنےہیں؟فرمایا:کبیرہ گناہ9 ہیں: (۱)اللہعَزَّ وَجَلَّکےساتھ شریک ٹھہرانا(۲)ناحق کسی مسلمان کوقتل کرنا (۳)میدان جہادسےپیٹھ پھیرنا(۴)یتیم کامال کھانا(۵)سودکھانا(۶)پاک دامن عورت پرزنا کی تہمت لگانااور(۷)مسلمان والدین کی نافرمانی کرنااور(۸)بَیْتُ اللہجو تمہارا قبلہ ہے اس میں جو باتیں حرام ہیں انہیں حلال کرلینا([39])۔جوشخص بھی اس حالت میں مرےگاکہ ان کبیرہ گناہوں کااس نےاِرْتکِاب نہ کیاہواوروہ نماز قائم کرتا اورزکوٰۃ دیتاہوتووہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےساتھ اس گھرمیں ہوگاجس کے دروازے کے کواڑ سونے کےہوں گے۔([40])
اس حدیْثِ پاک کی سَنَد صحیح ہے۔
رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو حَرَم میں کسی کو قتل کرے یا قاتل کے بجائے کسی بے گناہ کو قتل کرےیا زمانَۂ جاہلیت کے انتقام میں کسی کو قتل کرے۔ ([41])
اس حدیْثِ پاک کو امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مُسْنَد میں روایت کیا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(1)…حُضور اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نمازِ جمعہ سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارےمیں ارشاد فرمایا:میں نے ارادہ کیا کہ ایک شخص کو جماعت کروانےکا حکم دوں پھر جو لوگ نماز جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے گھروں کواُن کے ساتھ جلادوں۔([42])
(2)…لوگ نماز ِجُمعہ چھوڑنے سے باز رہیں ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّان کے دلوں پر مہر کردے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔([43])
اس حدیث شریف کو امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(3)… جوشخص تین جمعےسستی کےسبب چھوڑدےگا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل پر مُہر لگادے گا([44])۔([45])
اس حدیْثِ پاک کی سَنَد قَوِی ہے اور اسے امام ابوداؤد اور امام نَسائی عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہنے روایت کیا ہے۔
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حَفْصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں:رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :جمعہ کے لئے جانا ہر بالغ پر واجب ہے۔([46])
اس حدیث کو امام نَسائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روایت کیا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے :
وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ۲۶،الحجرات:۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور عیب نہ ڈھونڈھو۔
اسی
حوالےسےحضرتِ سیِّدُناحاطِب بن ابی بَلْتَعَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکاواقعہ
بھی ہے۔حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےان کےقتل کاارادہ کیاتوحُضورصَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےیہ کہہ کرمنع فرمادیاکہ یہ اصحابِ بدرمیں سےہیں۔([47]) ([48])
اگر کسی کی جاسوسی کے سبب اسلام و اہْلِ اسلام کو کمزو ر کرنا، مسلمانوں کا قتل ہونا، انہیں کفار کا غلام اور قیدی بننا لازم آئے یا لوٹ مار وغیرہ جیسے اُمورِ فاسدہ لازم آئیں تو ایسا شخص ان لوگوں میں سے ہے جو زمین میں فساد پھیلاتا ہےاور کھیتی اور لوگوں کو ہلاک کرتا ہےپس ایسےشخص کےقتل کرنے کاحکم ہے اور یہ شخص عذاب کا حقدار ہے۔ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔یہ بَدِیْہِی(واضح) بات ہر جاسوس جانتا ہے کہ چُغْلی کرناکبیرہ گناہوں میں سے ہےتو بطورِجاسوس لوگوں کی چُغْلی کرنے کا عمل تو مزید کئی گناہوں کے لازم آنے کے سبب بہت بڑا اور عظیم گناہ ہے۔ وَاللہ اَعْلَم
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(1)…رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:تم میں سےکوئی اس وقت تک(کامل)مومن نہیں ہوسکتاجب تک وہ اپنےبھائی کےلئےوہ پسندنہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔([49])یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں ہے۔
(2)…مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اُسے اس کے اہل وعیال، اس کی جان اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ ([50])
یہ حدیْثِ پاک صحیح ہے۔
(3)…رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:تم میں سےکوئی اُس وقت تک (کامل)مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہوجائے ۔([51]) ا س حدیْثِ پاک کی سَنَدصحیح ہے۔
(4)…سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:خداکی قسم!وہ شخص ( کامل)مومن نہیں جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔([52])
(5)…رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو کسی بُرائی کودیکھے اُسے چاہئےکہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دےاگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے بدل دے اور اگر اس کی بھی اِسْتِطاعَت نہ ہو تو اپنے دل میں اسے بُرا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ ([53])
اس حدیْثِ پاک کو امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
ظالموں کے متعلق مسلم شریف کی یہ حدیث پاک ہے :
(6)… جو اپنے ہاتھ کے ساتھ ان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو ان سے اپنی زبان کےساتھ جہادکرےوہ مومن ہےاورجوان سےاپنےدل کےساتھ جہادکرے وہ مومن ہےاور اس کے سوا رائی کے دانے کے برابربھی ایمان نہیں([54])۔ ([55])
اس حدیْثِ
پاک میں دلیل ہے کہ جوشخص دل میں بھی گناہوں کوبُرا نہیں جانتا اور نہ گناہوں کےختم
ہونے کو پسند کرتا ہے وہ ایمان سے خالی ہے ۔قَلبی جہاد یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہے :اللہ!باطل
اور اہْلِ باطل کو
تباہ وبرباد کردے یا ان کے حال کی اصلاح فرمادے۔
(7)…رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بلاشُبہ تم پر فاسق حکمران مقرر کئے جائیں گےجن کےکچھ کام تم پسند کرو گے،کچھ ناپسند۔تو جو اِن کے بُرے کاموں کو ناپسند جانے وہ بَری ہوگیا اور جو ان کے بُرے کاموں پر انکار کرے وہ سلامت رہا مگر ( وہ ہلاک ہوگیا)جو ان کے بُرے کاموں پر راضی ہو اور ان کی پیروی کرے۔ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی : کیا ہم ان کے ساتھ جنگ نہ کریں؟ رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:نہیں،جب تک وہ نمازی رہیں ([56])۔ ([57])
اس حدیث کوامام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روایت کیا ہے۔
(8)…رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایسی دوقبروں کےپاس سےگزرے جن میں عذاب دیاجارہاتھاتوارشادفرمایا:ان دونوں کوعذاب دیاجارہاہےاورکسی ایسی بات کےسبب انہیں عذاب نہیں دیاجارہا جس سےبچنابہت دشوارہو،ہاں یہ کبیرہ ہے۔ان میں سےایک پیشاب سےنہیں بچتاتھااوردوسراچُغْلی کیاکرتاتھا۔([58])
(9)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاارشادفرماتے ہیں:حُضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے نا حق جھگڑے میں کسی کی اعانت کی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس جھگڑے سے الگ ہوجائے۔([59])یہ حدیْثِ پاک صحیح ہے۔
(10)…رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:مَکر([60])اوردھوکاآگ میں(لے جاتا)ہے۔([61]) اس حدیْثِ پاک کی سَنَد قَوِی ہے۔
(11)…رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّنےحَلالَہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائےاس پر لعنت فرمائی ہے([62])۔ ([63])
یہ حدیْثِ پاک دو عمدہ سَنَدوں کے ساتھ منقول ہے۔
(12)…حُضور اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:جس شخص نےشوہر اور اس کی بیوی یاآقا اور اس کے غلام کے درمیان فساد کرایاوہ ہم میں سےنہیں ہے۔ ([64])اس حدیث کو امام ابوداؤد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(13)…رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:حیاء اورکم گوئی ایمان کی دوشاخیں ہیں اور فحش گوئی اور زیادہ بولنا نفاق کی دو شاخیں ہیں۔([65])
یہ حدیْثِ پاک صحیح ہے۔
(14)…رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:حیاء ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اورفحش گوئی نیکی کو ترک کرنے سے ہے اور نیکی کا ترک جہنم میں لے جانے والاکام ہے۔([66])
یہ روایت دواسناد سے مروی ہے اور دونوں سَنَدیں صحیح ہیں۔
(15)…رسولُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےفرمایا:جواس حال میں مراکہ اس پر کسی امام کی بیعت نہ تھی تووہ جاہلیت کی موت مرا([67])۔([68]) اس حدیث کی سَنَدصحیح ہے ۔
(16)…حضرتِ سیِّدُنامُسْتَوْرِدْ
بن شَدَّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں:رسولِ
پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان (کی اہانت) کے سبب ایک لُقمہ کھائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کھانے کے سبب قیامت کے دن اسے آگ کا کھانا کھلائے گا ([69])اور جو کسی شخص کی وجہ سے سنانے اور دکھانے کی جگہ کھڑا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے قیامت کے دن سنانے اور دکھانے کی جگہ کھڑا کرے گا([70])اور جو کسی مسلمان (کی اہانت )کے سبب لباس پہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اسے آگ کا لباس پہنائے گا۔ ([71])امام حاکم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے۔
(17)…حضرتِ سیِّدُناابوخِراش سُلَمِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی صحیح حدیث میں ہےکہ انہوں نےحُضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتےسنا: جس نے سال بھر تک اپنے مسلمان بھائی سے ترکِ تعلق کیا تو یہ اس کا خون بہانے کی طرح ہے([72])۔([73])
(18)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عُمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاارشاد فرماتے ہیں: حُضور اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :جس کی سفارش اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حُدود میں سے کسی حد کے لئے آڑ بن جائے تو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے اَمَر میں مقابلہ کیا ۔([74])
اس حدیْثِ پاک کی سَنَد عمدہ ہے۔
(19)…حُضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:آدمیاللہعَزَّ وَجَلَّ کی خوشنودی کی کوئی بات کرتا ہے اسے اس بات کی انتہا کےمتعلق کوئی وہم وگمان نہیں ہوتا([75]) مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت تک کے لئے اس بات کے سبب اپنی رِضا لکھ دیتاہے اور آدمی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کی کوئی بات کہہ دیتا ہے اسے اس بات کی انتہا کےمتعلق کوئی وہم وگمان نہیں ہوتا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت تک کے لئے اس بات کے سبب اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ ([76])اس حدیث کو امام تِرْمِذی نےصحیح قرار دیا ہے۔
(20)…حضرتِ سیِّدُنا بُریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:منافق کویاسَیِّدیعنی اےسردار!مت کہو،اگروہ تمہارا سردار ہوا تو تم نے اپنے ربّ تعالیٰ کو ناراض کردیا([77])۔([78])
یہ حدیث صحیح ہےاوراسےامام ابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(21)…منافق کی تین نشانیاں ہیں:(۱)بات کرےتوجھوٹ بولے(۲)وعدہ کرے توپورانہ کرےاور(۳)اس کے پاس امانت رکھوائی جائےتوخِیانت کرے۔([79])
یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں ہے۔
جھوٹ اورخِیانت کےبارےمیں گفتگوگزرچکی یہاں اس حدیث کوذکرکرنے سے مقصود وعدہ خلافی کو بیان کرنا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۷۵)فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۷۶)فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ(پ۱۰،التوبة:۷۵تا۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اوران میں کوئی وہ ہیں جنھوں نے اللہسے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سےدےگاتوہم ضرورخیرات کریں گےاورہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے تو جب اللہنے انھیں اپنےفضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منھ پھیر کر پلٹ گئے تو اس کے پیچھے اللہنےان کے دلوں میں نِفاق رکھ دیااُس دن تک کہ اسے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انھوں نے اللہسے وعدہ جھوٹا کیا۔
(22)…حضرتِ سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاً روایت ہے: رسولِ
پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جو اپنی مونچھیں نہ کاٹے وہ ہم میں سے نہیں ۔([80]) ([81]) امام تِرمِذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیوغیرہ نے اسےصحیح قرار دیا ہے۔
(23)…حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :آتش پرستوں کی مخالفت کرو ، داڑھیوں کو بڑھنے دو اور مونچھوں کوپست کرو۔ ([82])
(24)…حضرتِ سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:میں نےکچھ لوگوں کوشہروں کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیاتاکہ وہ ان لوگوں کودیکھیں جواِسْتِطاعت کےباوُجودحج نہیں کرتےاوران پرجِزیہ مقررکریں۔ایسےلوگ مسلمان نہیں ہیں،ایسےلوگ مسلمان نہیں ہیں۔([83])
اس حدیث کوحضرتِ
سیِّدُنا سعیدبن منصوررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاپنی سُنَن
میں روایت کیا۔
(25)…حضرتِ سیِّدُناابوایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں:میں نے رسولُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکوفرماتےسنا:جس نےبچےاوراس کی ماں کے درمیان جُدائی ڈالی تواللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت اس کےاوراس کےپیاروں کےدرمیان جُدائی ڈال دےگا۔([84])اس حدیث کوامام احمدوامام تِرمِذیعَلَیْہِمَا الرَّحْمَہنےروایت کیاہے۔
(26)…مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جوشخص اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کرے گا([85])اللہ عَزَّ وَجَلَّ جنت سے اس کی میراث کاٹ دے گا۔ ([86])اس حدیْثِ پاک کی سَنَد میں کلام ہے۔
(27)…حُضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :کوئی آدمی ساٹھ سال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے پھر اسے موت آتی ہے تو وہ وصیت میں کسی کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کےلیےجہنم واجب ہوجاتی ہے۔پھر(راویِ حدیث)حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
غَیْرَ مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ(۱۲) (پ۴،النساء:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو([87])یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔([88])
اس حدیْثِ پاک کو امام ابوداؤد و امام تِرمِذیعَلَیْہِمَا الرَّحْمَہ نے روایت کیا ہے۔
(28)…حضرتِ سیِّدُنا عَمَرْو بن خارِجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اونٹنی پر سوار ہوکر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے سنا: بلاشُبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے لہٰذا وارث کے لئے وصیت نہیں ۔ ([89]) ([90])اس حدیث کو امام ترمذی عَلَیْہِ الرَّحْمَہنےصحیح قرار دیا ہے۔
(29)…رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّبے حیااورفحش گو کونا پسند فر ماتاہے۔ ([91])
(30)…رسولِ مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک لوگوں میں بدترین مقام اس شخص کا ہوگا جو اپنی بیوی کے قریب جائے اور اس کی بیوی اس کےقریب آئےپھروہ اس عورت کے راز کو پھیلادے([92])۔([93]) اس حدیث کو امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روایت کیا ہے۔
(31)…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ عَنْہبیان کرتےہیں:رسولُاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :جوشخص اپنی بیوی کےپچھلےمقام میں صحبت کرےوہ ملعون ہے۔([94])اس حدیث کوامام احمدوامام ابوداودعَلَیْہِمَا الرَّحْمَہنے روایت کیا ہے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
(32)…اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس شخص پرنظَرِرحمت نہیں فرمائےگا جوعورت سےاس کے پچھلے مقام میں صحبت کرے۔([95])
(33)…رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جوحیض والی عورت سےیاعورت کےپچھلےمقام میں صحبت کرےیا کاہن کے پاس جا کر اس کی تصدیق کرےتوبلاشُبہ اس نےکفرکیایا ارشادفرمایا : وہ اس سے بَری ہوگیاجومحمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل کیا گیا ([96])۔ ([97])اس حدیْثِ پاک کو امام ابوداؤد اور امام تِرمِذی عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہ نے روایت کیا ہے اور ا س کی سَنَدپرکلام ہے۔
(34)…حُضورِاکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اگرکوئی شخص بغیر اجازت تمہارےگھرمیں جھانکےاورتم اس کی آنکھ میں کنکر ماردو جس کے نتیجے میں اس کی آنکھ پھوٹ جائے توتم پر کچھ گناہ نہیں۔([98])
یہ حدیْثِ پاک بخاری ومسلم دونوں میں ہے۔
(35)…رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد
فرمایا : جس نے لوگوں کے گھر میں بغیر اجازت جھانکا تو اُن لوگوں کے لئے حلال ہے
کہ وہ اس کی آنکھ
پھوڑ ڈالیں([99])۔([100]) اس حدیث کو امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(36)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتےہیں:حُضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:(دین میں)غلوسےبچوکیونکہ تم سے پہلے کے لوگ غلو ہی کے سبب ہلاک ہوئے تھے([101])۔([102])
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ (پ۶،المائدة:۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے کتاب والو اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو([103]) اور ایسے لوگوں کی خواہش پرنہ چلوجوپہلےگمراہ ہو چکے۔
شیخ ابنِ حَزْم نے غُلُو کو کبیرہ گناہ میں شمارکیاہے۔
(37)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں:حُضورِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جس کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھائی جائے تو وہ راضی ہوجائے (یعنی قسم کو قبول کر لے)اور جو راضی نہ ہو تو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے کوئی قرب نہیں۔ ([104])اس حدیث کو امام ابن ماجہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(38)…امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:فَریبی،احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں داخل نہ ہوگا ([105])۔([106])
اس حدیثِ پاک کو امام تِرمِذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےضعیف سَنَد سے روایت کیا۔
(39)…رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:انسان کےلئےیہی گناہ کافی ہے کہ اُسے ہلاک کردے جس کو روزی دیتا ہے۔([107]) ([108])
(40)…حُضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : آدمی کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سنائی بات آگے بیان کردے([109])۔ ([110])
(1)…
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۲۴) (پ۲۷،حدید:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جوآپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کو کہیں اور جو منھ پھیرلے تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا ۔
(2)…
سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ- (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان:عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن اُن کے گلے کا طوق ہوگا۔
(3)…
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ- (پ۲۶،محمد:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ہاں یہ جو تم ہوبلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ۔
(4)…
وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ(۸)وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ(۹)فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ(۱۰)وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ(۱۱)(پ۳۰،اللیل:۸تا۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ جس نےبخل کیا اوربےپرواہ بنا اور سب سے اچھی کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے اور اس کا مال اسے کام نہ آئے گا جب ہلاکت میں پڑے گا ۔
(5)…
اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸) (پ۲۹،الحاقة:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال ۔
(6)…
مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ(۴۸) (پ۸،الاعراف:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے۔
(7)…
وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ۲۸،الحشر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
(41)…نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ظلم سے بچو بلاشُبہ ظلم قیامت کےدن اندھیریاں ہوگااوربخل سے بچو کہ بخل نے اگلوں کو ہلاک کیا، اسی بخل نے انہیں خون بہانے اور حرام کو حلال ٹھہرانے پر آمادہ کیا([111])۔ ([112])
اس حدیْثِ پاک کو امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(42)…حُضورنبی اکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: بخل سےبڑھ کر کون سی بیناری ہوسکتی ہے؟ ([113])
(43)…حُضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:(۱)بخل جس کی پیروی کی جائے (۲)نفسانی خواہش([114]) جس کی اطاعت کی جائےاور (۳)انسان کا اپنے آپ کو اچھا جاننا۔([115])
(44)…امام ترمذیعَلَیْہِ الرَّحْمَہنے بطریْقِ صحیح روایت کیاکہرسولُاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحلقہ کےدرمیان میں بیٹھنےوالےشخص پرلعنت فرمائی([116])۔([117])
(45)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں :حُضورپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تم حسد([118]) سے بچو کہ بلاشُبہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔([119])
اس حدیْثِ پاک کو امام ابوداود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے۔
(46)…رسولِ اکرمصَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:نمازی
کےسامنے
سے گزرنے والا اگر یہ جانتا کہ اس میں کیا گناہ ہے تو چالیس تک کھڑے رہنے کو
نمازی کے آگے گزرنے سے بہتر جانتا ۔([120])
(47)…حبیبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی کسی ایسی چیز کی آڑ میں نماز پڑھتا ہو جو اسے لوگوں سے چھپالے([121]) پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تواسے چاہئے کہ وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکے([122]) پھر اگر وہ نہ مانے تو اس سےجنگ کرےکہ وہ شیطان ہے([123])۔([124])
اور مسلم شریف کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:
(48)…پھراگروہ نہ مانےتواس سےجنگ کرےکہ اس کےساتھ شیطان ہے۔([125])
(49)…حضرت سیِّدُناابوہریرہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:رسولِ
پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!تم اس وقت تک جنت میں
داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ
ہوجاؤ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک باہم محبت نہ کرو۔کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف رہنمائی نہ کروں کہ جب تم اسے کرلو تو تم باہم محبت کرنے لگو؟ تم آپس میں سلام کو عام کرو۔([126])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
تَمَّتْ وَبِالْخَیْرِ عَمَّتْ
ہذا اٰخِرُ کِتَابُ الْکَبَائِرِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنَ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًاکَثِیْرًاعَصِمَنَا اللہُ وَاِیّٰکُمْ مِنَ الْکَبَائِرِ بِمَنِّہٖ وَکَرَمِہٖ اٰمِیْن وَحَسْبُنَااللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
یہاں کتاب الکبائر(ترجمہ بنام76کبیرہ گناہ) کا اختتام ہوااورتمام تعریفیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کےلئےہیں جوتمام جہانوں کا رب ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور خوب سلام ہو ہمارےسردار،خاتم الانبیاحضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپراورآپ کی پاکیزہ آل واصحاب پر۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنےفضل وکرم سےہرایک کوکبیرہ گناہوں سےبچائے اٰمین۔ ہمیںاللہکافی ہےاوروہ کیااچھا کارساز ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
رحمَتِ الٰہی کوواجب کرنےوالاعمل٭…حضرتِ سیِّدُناجابربنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہاللہعَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائےغیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:مِنْ مُّوْجِبَاتِ الرَّحْمَۃِ اِطْعَامُ الْمُسْلِـمِ الْمِسْکِیْنیعنی رحمَتِ الٰہی کوواجب کرنےوالی چیزوں میں سےمسکین مسلمان کوکھانا کھلانابھی ہے۔(الترغیب والترھیب،کتاب الصدقات،الترغیب فی اطعام الطعام و…الخ،۱/ ۴۴۴،حدیث:۹) |
ماٰخِذ ومَراجع
|
قراٰن پاک |
کلام باری تعالی |
٭…٭ |
|
نام کتاب |
مصنف/ مؤلف |
مطبوعہ |
|
ترجمۂ کنزالایمان |
اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۴۰ھـ |
مکتبة المدینة ۱۴۳۲ھـ |
|
تفسیر عبد الرزاق |
امام حافظ ابوبکر عبدالرزاق بن ھمام رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۱۱ ھـ |
دارالکتب العلمیة ۱۴۱۹ھـ |
|
تفسیر البغوی |
ابومحمد حسین بن مسعود بغوی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۵۱۶ ھـ |
دارا لکتب العلمیة ۱۴۱۴ھـ |
|
تفسیر القرطبی |
ابوعبداللہ بن احمد انصاري قرطبیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۶۷۱ھـ |
دارالفکر ۱۴۲۰ ھـ |
|
تفسیر الطبری |
امام ابوجعفر محمد بن جریر طبریرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۱۰ھـ |
دارالکتب العلمیة ۱۴۲۰ھـ |
|
خزائن العرفان |
مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۶۷ھـ |
مکتبة المدینة ۱۴۳۲ھـ |
|
صحیح البخاری |
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۵۶ھـ |
دارالکتب العلمیة۱۴۱۹ھـ |
|
صحیح مسلم |
امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۶۱ھـ |
دارابن حزم۱۴۱۹ھـ |
|
سنن الترمذی |
امام محمد بن عیسٰی ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۷۹ھـ |
دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ |
|
سنن ابی داود |
امام ابوداود سلیمان بن اشعثرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۷۵ھـ |
داراحیاء التراث العربی۱۴۲۱ھـ |
|
سنن نسائی |
امام احمد بن شعیب نسائی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۰۳ھـ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۶ھـ |
|
سنن ابن ماجہ |
امام محمدبن یز یدقزوینیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۷۳ھـ |
دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھـ |
|
ابن خزیمۃ |
امام محمد بن اسحاق بن خزيمةرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۱۱ھـ |
المکتب الاسلامی ۱۴۱۲ھـ |
|
ابن حبان |
امام حافظ ابوحاتم محمد بن حبان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۵۴ ھـ |
دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۷ھـ |
|
المصنف |
حافظ عبداللّٰہ بن محمد بن ابی شیبةرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۳۵ھـ |
دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ |
|
المسند |
امام احمد بن محمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۴۱ھـ |
دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ |
|
المسند |
امام ابوبکر احمد بن عمرو بزار رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۹۲ھـ |
مکتبۃ العلوم والحکم۱۴۲۴ھـ |
|
المسند |
امام ابویعلی احمد بن علی موصلی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۰۷ھـ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۸ھـ |
|
دار قطنی |
امام ابوالحسن علی بن عمر رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۸۵ھـ |
ملتان پاکستان |
|
مستدرک |
امام محمدبن عبداللّٰہ حاکم رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۴۰۵ھـ |
دارالمعرفۃ بیروت۱۴۱۸ھـ |
|
شعب الایمان |
امام ابوبکر احمد بن حسین بیھقیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۴۵۸ھـ |
دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۱ھـ |
|
الموسوعۃ |
عبداللّٰہ بن محمد ابن ابی الدنیارحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۸۱ھـ |
المکتبۃ العصریۃ۱۴۲۶ھـ |
|
الادب المفرد |
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۵۶ھـ |
ملتان پاکستان |
|
سنن الکبرٰی |
امام ابوبکر احمد بن حسین بیھقیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۴۵۸ھـ |
دارا لکتب العلمیۃ ۱۴۲۴ھـ |
|
فضائل الصحابۃ |
امام احمد بن محمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۴۱ھـ |
دار ابن الجوزی ۱۴۲۰ھـ |
|
غایۃ المقصدفی زوائد المسند |
نورالدين علي بن ابي بكر هيثميرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۸۰۷ھـ |
دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۱ھـ |
|
دستور العلماء |
علامہ قاضی عبد النبی بن عبد الرسول احمد نگریرحمۃ اللّٰہ علیہ |
کراچی پاکستان |
|
المعجم الکبیر |
حافظ سلیمان بن احمد طبرانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۶۰ھـ |
داراحیاء التراث ۱۴۲۲ھـ |
|
المعجم الاوسط |
حافظ سلیمان بن احمد طبرانیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۶۰ھـ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۰ھـ |
|
السنۃ |
امام احمد بن عمرو بن ابي عاصم رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۲۸۷ھـ |
دار ابن حزم۱۴۲۴ھـ |
|
حلیۃ الاولیاء |
ابونعیم احمد بن عبداللّٰہ اصبھانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۴۳۰ھـ |
دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۸ ھـ |
|
معالم السنن |
امام ابو سلیمان احمد بن محمد خطابیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۳۸۸ھـ |
العلمیۃ حلب |
|
شر ح المسلم |
ابو زكريا يحيى بن شرف نووی شافعیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۶۷۶ھـ |
دارالکتب العلمیة ۱۴۰۱ھـ |
|
عمدۃ القاری |
بدر الدین محمودبن احمدعینیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۸۵۵ھـ |
دارالفکر بیروت۱۴۱۸ھـ |
|
مرقاۃ المفاتیح |
علامہ ملاعلی بن سلطان قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۰۱۴ھـ |
دارالفکربیروت |
|
فيض القدير |
علامہ محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۰۳۱ھـ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ |
|
شرح اصول اعتقاد اہل سنۃ |
ھبة اللّٰہ بن الحسن البصری لالکائی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۴۱۸ھـ |
دارالبصیرۃ الاسکندریۃ مصر |
|
الزواجرعن اقتراف الکبائر |
امام احمد بن محمد ابن حجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۷۴ ھـ |
دارالمعرفة بیروت۱۴۱۹ھ |
|
الحدیقة الندیة |
عبد الغنی بن اسماعيل نابلسی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۱۴۳ھـ |
پشاور پاکستان |
|
ذیل طبقات الحفاظ |
امام جلال الدین سیوطی شافعیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۹۱۱ھـ |
دارالکتب العلمیة۱۴۱۹ھـ |
|
نصاب اصول حدیث |
مدنی علماالمدینۃ العلمیہ |
مکتبۃ المدینہ ۱۴۳۰ھـ |
|
رد المحتار |
سیدمحمدامین ابن عابدینرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۲۵۲ھـ |
دار المعرفۃ بیروت۱۴۲۲ھـ |
|
اطیب البیان فی رد تقوية الايمان |
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۶۷ھـ |
مكتبه اسلاميه لاهور |
|
فتاوی رضویہ |
اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۴۰ھـ |
رضا فاؤنڈیشن لاہور |
|
بہار شریعت |
مفتی محمد امجد علی اعظمیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۶۷ھـ |
مکتبۃ المدینہ |
|
مراٰة المناجيح |
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۹۱ھـ |
مكتبه اسلاميه لاهور |
|
غیبت کی تباہ کاریاں |
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ |
مکتبۃ المدینہ |
|
نیکی کی دعوت |
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادری رضوی مدظلہ |
مکتبۃ المدینہ |
٭…٭…٭…٭…٭…٭
سرکارصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے شہزادے اور شہزادیاں٭…شہزادے:پیارےمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےتین شہزادےتھےجن کےاسمائےمُبارَکہ یہ ہیں:(۱)حضرت سیِّدُنا قاسِم(۲)حضرت سیِّدُناابراہیم(۳)طَیِّب و طاہِرحضرت سیِّدُنا عبدُاللہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان۔ ٭…شہزادیاں:مصطفٰےجانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چار شہزادیاں تھیں جن کے اسمائےمبارکہ یہ ہیں:(۱)حضرت سیِّدَتُنازَیْنَب(۲)حضرت سیِّدَتُنارُقَـیَّہ(۳)حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ کُلْثوم(۴)حضرت سیِّدَتُنا فاطِمَةُ الزَّہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ۔(الموھب اللدنیة،الفصل الثانی فی ذکراولادالکرام،۴/ ۳۱۳) |
(شعبہ کُتب اعلیٰ حضرت)
اُردو کُتُب:
01…راہِ خدامیں خرچ کرنے کے فضائل(رَادُّ الْقَحْطِ وَالْوَبَآء بِدَعْوَۃِ الْجِیْرَانِ وَمُوَاسَاۃِ الْفُقَرَآء)(کل صفحات:40)
02…کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات(کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِم فِيْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاہِم)(کل صفحات:199)
03…فضائل دعا(اَحْسَنُ الْوِعَآء لِادَابِ الدُّعَآء مَعَہٗ ذَیْلُ الْمُدَّعَآء لِاَحْسَنِ الْوِعَآء)(کل صفحات:326)
04…والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق(اَلْحُقُوْق لِطَرْحِ الْعُقُوْق)(کل صفحات:125)
05…عیدین میں گلے ملنا کیسا؟(وِشَاحُ الْجِیْدفِيْ تَحْلِیْلِ مُعَانَــقَۃِ الْعِیْد)(کل صفحات:55)
06…الملفوظ المعروف بہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت(مکمل چار حصے)(کل صفحات:561)
07…معاشی ترقی کا راز(حاشیہ و تشریح تدبیر فلاح ونجات واصلاح)(کل صفحات:41)
08…اعلیٰ حضرت سے سوال جواب( اِظْہَارُ الْحَقِّ الْجَلِي)(کل صفحات:100)
09…شریعت وطریقت(مَقَالِ عُرَفَابَاِعْزَازِشَرْعُ وَعُلَمَا)(کل صفحات:57)
10…ولایت کا آسان راستہ(تصورِ شیخ)(اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃ)(کل صفحات:60)
11…حقوقُ العباد کیسے معاف ہوں(اَعْجَبُ الْاِمْدَاد)(کل صفحات:47)
12…ثبوتِ ہلال کے طریقے(طُرُقُ اِثْبَاتِ ہِلَال)(کل صفحات:63)
13…کنزالایمان مع خزائن العرفان(کل صفحات:1185)
14…ایمان کی پہچان(حاشیہ تمہید ِ ایمان)(کل صفحات:74)
15…اولاد کے حقوق(مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد)(کل صفحات:31)
16…تفسیرصراط الجنان جلداول(کل صفحات:524) 17…تفسیرصراط الجنان جلددوم(کل صفحات:495)
18…تفسیرصراط الجنان جلدسوم(کل صفحات:573) 19…تفسیرصراط الجنان جلدچہارم(کل صفحات:592)
20… بیاض پاک حُجَّۃُالْاِسْلَام(کل صفحات:37) 21… اَلْوَظِیْفَۃُالْکَرِیْمَۃ(کل صفحات:46)
22…حدائق بخشش(کل صفحات:446)...23 فیضان علم وعلما(فَضْلُ الْعِلْمِ وَالْعُلَمَاء)(کل صفحات:38)
عربی کُتُب:
24…جَدُّالْمُمْتَار عَلٰی رَدِّالْمُحْتَار(سات جلدیں)(کل صفحات:4000)
25…اَلتَّعْلِیْقُ الرَّضَوِی عَلٰی صَحِیْحِ الْبُخَارِی(کل صفحات:458)
26…کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِم(کل صفحات:74) 27…اَلاِْجَازَاتُ الْمَتِیْنَۃ(کل صفحات:62)
28…اَلزَّمْزَمَۃُ الْقُمْرِیَّۃ(کل صفحات:93) 29…اَلْفَضْلُ الْمَوْھَبِی(کل صفحات:46)
30…اِقَامَۃُ الْقِیَامَۃ(کل صفحات:60) 31…تَمْہِیْدُالْاِیْمَان(کل صفحات:77)
32…اَجْلَی الْاِعْلَام(کل صفحات:70)
(شعبہ تراجم کُتب)
01…سایَۂ عرش کس کس کوملے گا۔۔۔؟(تَمْہِیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش)(کل صفحات:88)
02…نصیحتوں کے مدنی پھول بوسیلَۂ احادیْثِ رسول(اَلْمَوَاعِظ فِی الْاَحَادِیْثِ الْقُدْسِیَّۃ)(کل صفحات:54)
03…مدنی آقا کے روشن فیصلے(اَلْبَاھِر فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِر)(کل صفحات:112)
04…نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں(قُرَّۃُالْعُیُوْن وَمُفَرِّحُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن)(کل صفحات:142)
05…جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلددوم)(اَلزَّوَاجِرعَنِ اقْـتِـرَافِ الْکَبَآئِر)(کل صفحات:1012)
06…جنت میں لے جانے والے اعمال(اَلْمَتْجَرُ الرَّابِح فِیْ ثَـوَابِ الْعَمَلِ الصَّالِح)(کل صفحات:743)
07…جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلداول)(اَلزَّوَاجِرعَنِ اقْـتِـرَافِ الْکَبَآئِر)(کل صفحات:853)
08…امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی وصیتیں(وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم عَلَیْہِ الرَّحْمَہ)(کل صفحات:46)
09…اصلاحِ اعمال(جلد اول)(اَ لْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ طَرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ)(کل صفحات:866)
10…اللہ والوں کی باتیں(جلد:1)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَآء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَآء)(کل صفحات:896)
11…اللہ والوں کی باتیں(جلد:2)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَآء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَآء)(کل صفحات:625)
12…اللہ والوں کی باتیں(جلد:3)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَآء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَآء)(کل صفحات:580)
13…اللہ والوں کی باتیں(جلد:4)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَآء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَآء)(کل صفحات:510)
14…نیکی کی دعوت کے فضائل(اَلْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْف وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَر)(کل صفحات:98)
15…دنیاسے بے رغبتی اورامیدوں کی کمی(اَلزُّھْدوَقَصْرُالْاَمَل)(کل صفحات:85)
16…فیضانِ مزارات ِ اولیاء(کَشْفُ النُّوْر عَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر)(کل صفحات:144)
17…عاشقانِ حدیث کی حکایات(اَ لرِّحْلَۃ فِیْ طَلَبِ الْحَدِیْث)(کل صفحات:105)
18…احیاء العلوم(جلداول)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1124)
19…احیاء العلوم(جلددوم)(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1393)
20…احیاء العلوم(جلدسوم)(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1290)
21… احیاء العلوم(جلد چہارم)(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات:911)
22… احیاء العلوم(جلد پنجم)(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات:814)
23…حکایتیں اورنصیحتیں(اَلرَّوْضُ الْفَآئِق)(کل صفحات:649)
24…راہِ علم(تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّم طَرِیقَ التَّعَلُّم)(کل صفحات :102)
25…احیاء العلوم کا خلاصہ(لُبَابُ الْاِحْیَآء)(کل صفحات:641)
26…اچھے برے عمل(رِسَالَۃُ الْمُذَاکَرَۃ)(کل صفحات:122)
27…عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ اول)(کل صفحات:412)
28…عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ دوم)(کل صفحات:413)
29…شکرکے فضائل(اَلشُّکْرُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ)(کل صفحات:122)
30…76کبیرہ گناہ(الکبائرللذہبی)(کل صفحات:264)
31…قوتُ القلوب(مترجم جلد اول)(کل صفحات:826) 32…حُسنِ اَخلاق(مَکَارِمُ الْاَخْلَا ق)(کل صفحات:102)
33…شاہراہِ اولیاء(مِنْہَاجُ الْعَارِفِیْن)(کل صفحات:36) 34…آنسوؤں کا دریا(بَحْرُالدُّمُوْع)(کل صفحات:300)
35…آدابِ دین(اَلْاَدَبُ فِی الدِّیْن)(کل صفحات:63) 36…بیٹے کو نصیحت(اَیُّھَاالْوَلَد)(کل صفحات:64)
(شعبہ درسی کُتب)
01…تفسیرالجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمین(کل صفحات:364)
02…منتخب الابواب من احیاء علوم الدین(عربی)(کل صفحات:173)
03…مراح الارواح مع حاشیۃ ضیاء الاصباح(کل صفحات:241)
04…شرح العقائد مع حاشیۃ جمع الفرائد(کل صفحات:384)
05…الاربعین النوویۃ فی الأحادیث النبویۃ(کل صفحات:155)
06…نورالایضاح مع حاشیۃ النور والضیاء(کل صفحات:392)
07…شرح الجامی مع حاشیۃ الفرح النامی(کل صفحات:419)
08…اتقان الفراسۃ شرح دیوان الحماسۃ(کل صفحات:325)
09…مقدمۃ الشیخ مع التحفۃ المرضیۃ(کل صفحات:119)
10…الفرح الکامل علی شرح مئۃ عامل(کل صفحات:158)
11…عصیدۃ الشہدۃ شرح قصیدۃ البردۃ (کل صفحات:317)
12…دروس البلاغۃ مع شموس البراعۃ(کل صفحات:241)
13…اصول الشاشی مع احسن الحواشی(کل صفحات:299)
14…عنایۃ النحو فی شرح ھدایۃ النحو(کل صفحات:280)
15…فیض الادب (مکمل حصہ اوّل ،دوم)(کل صفحات:228)
16…صرف بہائی مع حاشیہ صرف بنائی(کل صفحات:55)
17…نحو میر مع حاشیۃ نحو منیر(کل صفحات:203)
18…نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر(کل صفحات:175) 19…تلخیص اصول الشاشی(کل صفحات:144)
20…تیسیرمصطلح الحدیث(کل صفحات:188) 21…کافیہ مع شرح ناجیہ(کل صفحات:252)
22…خلاصۃ النحو(حصہ اول)(کل صفحات:107) 23…خلاصۃ النحو(حصہ دوم)(کل صفحات:114)
24…نصاب اصولِ حدیث(کل صفحات:95) 25…شرح الفقہ الاکبر(کل صفحات:213)
26…المحادثۃ العربیۃ(کل صفحات:101) 27…شرح مئۃ عامل(کل صفحات:44)
28…خاصیات ابواب(کل صفحات:141) 29…خلفائے راشدین(کل صفحات:341)
30…نصاب الصرف(کل صفحات:343) 31…تعریفاتِ نحویۃ(کل صفحات:45)
32…نصاب التجوید(کل صفحات:79) 33…انوارالحدیث(کل صفحات:466)
34…نصاب المنطق(کل صفحات:168) 35…نصاب الادب(کل صفحات:184)
36…الحق المبین(کل صفحات:128) 37…نصاب النحو(کل صفحات:288)
(شعبہ تخریج)
01…صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا عشق رسول(کل صفحات:274)
02…فیضان یٰسٓ شریف مع دعائے نصف شعبانُ المعظم(کل صفحات:20)
03…جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ(کل صفحات:470)
04…بہارشریعت جلد اول(حصہ 1تا6)(کل صفحات:1360)
05…بہارشریعت جلد دوم(حصہ7تا13)(کل صفحات:1304)
06…بہارشریعت جلدسوم (حصہ14تا20)(کل صفحات:1332)
07…اُمہاتُ المؤٔمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُن(کل صفحات:59)
08…عجائب القراٰن مع غرائب القراٰن(کل صفحات:422)
09…بہارشریعت(سولہواں حصہ)(کل صفحات:312) 10…گلدستہ عقائد واعمال(کل صفحات:244)
11…اچھے ماحول کی برکتیں(کل صفحات:56) 12…جہنم کے خطرات(کل صفحات:207)
13…حق وباطل کا فرق(کل صفحات:50) 14…بہشت کی کنجیاں(کل صفحات:249)
15تا21…فتاویٰ اہل سنت(سات حصے) 22…سیرتِ مصطفٰی(کل صفحات:875)
23…منتخب حدیثیں(کل صفحات:246) 24…کراماتِ صحابہ(کل صفحات:346)
25…19دُرُودوسلام(کل صفحات:16) 26…اسلامی زندگی(کل صفحات:170)
27…اخلاقُ الصالحین(کل صفحات:78) 28…عِلمُ القرآن(کل صفحات:244)
29…آئینَۂ قیامت(کل صفحات:108) 30…کتاب العقائد(کل صفحات:64)
31…آئینَۂ عبرت(کل صفحات:133) 32…اربعین حنفیہ(کل صفحات:112)
33…سوانح کربلا(کل صفحات:192) 34…جنتی زیور(کل صفحات:679)
35…فیضانِ نماز(کل صفحات:49) 36…تحقیقات(کل صفحات:142)
(شعبہ فیضانِ صحابہ)
01…فیضانِ فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جلداول)(کل صفحات:864)
02…فیضانِ فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جلددوم)(کل صفحات:856)
03…حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:132)
04…حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:89)
05…حضرت طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:56)
06…حضرت زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:72)
07…فیضانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:720)
08…فیضانِ سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:32)
09…حضرت ابوعبیدہ بن جرح رَضِیَ اللہُ عَنْہ(کل صفحات:60)
(شعبہ فیضانِ صحابیات)
01…فیضانِ عائشہ صدیقہ(کل صفحات:608) 02…فیضانِ خدیجۃُ الکبریٰ (کل صفحات:84)
03…شانِ خاتونِ جنت(کل صفحات:501)
(شعبہ اصلاحی کُتب)
01…حضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیزکی 425حکایات(کل صفحات:590)
02…غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حالات(کل صفحات :106)
03…40فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کل صفحات :87)
04…اسلامی کی بنیادی باتیں(حصہ اول)(کل صفحات:60)
05…اسلامی کی بنیادی باتیں(حصہ دوم)(کل صفحات:104)
06…اسلامی کی بنیادی باتیں(حصہ سوم)(کل صفحات:352)
07…اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوششیں(کل صفحات :49)
08…نیک بننے اوربنانے کے طریقے(کل صفحات:696)
09…فیضانِ اسلام کورس(حصہ دوم)(کل صفحات:102) 10…نماز میں لقمہ دینے کے مسائل(کل صفحات:39)
11…محبوبِ عطار کی 122حکایات(کل صفحات:208) 12…فیضانِ اسلام کورس(حصہ اول)(کل صفحات:79)
13…امتحان کی تیاری کیسے کریں؟(کل صفحات:32) 14…قوم جِنّات اورامیراہلسنّت(کل صفحات :262)
15…قصیدہ بردہ سے روحانی علاج(کل صفحات:22) 16…توبہ کی روایات وحکایات(کل صفحات:124)
17…مزاراتِ اولیاء کی حکایات(کل صفحات:48) 18…احادیْثِ مبارکہ کے انوار(کل صفحات :66)
19…کامیاب طالب علم کون؟(کل صفحات :63) 20…قبرمیں آنے والادوست(کل صفحات:115)
21…جلدبازی کے نقصانات(کل صفحات:168) 22…طلاق کے آسان مسائل(کل صفحات:30)
23…تذکرہ صدرالافاضل(کل صفحات:25) 24…فیضانِ چہل احادیث(کل صفحات :120)
25…آیاتِ قراٰنی کے انوار(کل صفحات:62) 26…حج وعمرہ کامختصرطریقہ(کل صفحات:48)
27…تعارفِ امیر اہلسنّت(کل صفحات:100) 28…تنگ دستی کے اسباب(کل صفحات:33)
29…نام رکھنےکےاحکام(کل صفحات:180) 30…فیضانِ احیاء العلوم(کل صفحات:325)
31…جنت کی دوچابیاں(کل صفحات:152) 32…شرح شجرہ قادریہ(کل صفحات:215)
33…مفتی دعوتِ اسلامی(کل صفحات:96) 34…کامیاب استاذ کون؟(کل صفحات:43)
35…ضیائے صدقات(کل صفحات:408) 36…انفرادی کوشش(کل صفحات:200)
37…خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ (کل صفحات:160) 38…سنتیں اورآداب(کل صفحات:125)
39…ٹی وی اورمُووی(کل صفحات:32) 40…فیضانِ معراج(کل صفحات:134)
41…عشر کے احکام(کل صفحات:48) 42…فیضانِ زکوٰۃ(کل صفحات:150)
43…تربیت ِ اولاد(کل صفحات:187) 44…فکرِ مدینہ(کل صفحات:164)
45…بغض وکینہ(کل صفحات:83) 46…ریاکاری(کل صفحات:170)
47…نورکاکھلونا(کل صفحات:32) 48…بدشگونی(کل صفحات:128)
49…بدگُمانی(کل صفحات:57) 50…تکبر(کل صفحات:97)
(شعبہ امیراہلسنت)
01…علم وحکمت کے 125مدنی پھول(تذکرہ امیراہلسنت قسط5)(کل صفحات:102)
02…مقدس تحریرات کے ادب کے بارے میں سوال جواب(کل صفحات:48)
03…سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیغام عطار کے نام(کل صفحات :49)
04…گونگے بہروں کے بارے میں سوال جواب قسط پنجم(کل صفحات:23)
05…حقوق العبادکی احتیاطیں(تذکرہ امیراہلسنت قسط 6)(کل صفحات:47)
06…دعوتِ اسلامی کی جیل خانہ جات میں خدمات(کل صفحات :24)
07...25کرسچین قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام(کل صفحات :33)
08…وضوکے بار ے میں وسوسے اوران کاعلاج(کل صفحات:48)
09…شادی خانہ بربادی کے اسباب اوران کا حل(کل صفحات :16)
10…پانچ روپےکی برکت سےسات شادیاں(کل صفحات:32)
11…اصلاح کاراز(مدنی چینل کی بہاریں حصہ دوم)(کل صفحات :32)
12…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط3)(سنّتِ نکاح)(کل صفحات :86)
13…بُلندآوازسے ذکرکرنے میں حکمت(کل صفحات:48)
14…آداب مرشدِ کامل(مکمل پانچ حصے)(کل صفحات:275)
15…پانی کے بارے میں اہم معلومات(کل صفحات:48)
16…میں نے ویڈیوسینٹر کیوں بند کیا؟(کل صفحات:32)
17…دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں(کل صفحات :220) 18…مخالفت محبت میں کیسے بدلی؟(کل صفحات:33)
19…میں نے مدنی برقع کیوں پہنا؟(کل صفحات :33) 20…چمکتی آنکھوںوالے بزرگ(کل صفحات:32)
21…چل مدینہ کی سعادت مل گئی(کل صفحات :32) 22…نومسلم کی دردبھری داستان(کل صفحات :32)
23…نورانی چہرے والے بزرگ(کل صفحات :32) 24…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط2)(کل صفحات:48)
25…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط1)(کل صفحات:49) 26…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط4)(کل صفحات :49)
27…بریک ڈانسرکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32) 28…معذور بچی مبلغہ کیسے بنی؟(کل صفحات :32)
29…قاتل امامت کے مصلے پر(کل صفحات :32) 30…عطاری جن کا غُسْلِ میِّت(کل صفحات:24)
31…ولی سے نسبت کی برکت(کل صفحات :32) 32…ڈانسرنعت خوان بن گیا(کل صفحات:32)
33…اغواشدہ بچوں کی واپسی(کل صفحات :32) 34…ساس بہو میں صلح کا راز(کل صفحات :32)
35…خوفناک دانتوں والا بچہ(کل صفحات :32) 36…نشے بازکی اصلاح کاراز(کل صفحات:32)
37…کرسچین مسلمان ہوگیا(کل صفحات :32) 38…جرائم کی دنیاسے واپسی(کل صفحات :32)
39…کرسچین کاقبولِ اسلام(کل صفحات :32) 40…بھنگڑے بازسدھرگیا(کل صفحات :32)
41…ڈانسربن گیاسنتوں کاپیکر(کل صفحات:32) 42…بدچلن کیسےتائب ہوا؟(کل صفحات:32)
43…ڈانسربن گیانعت خواں(کل صفحات:32) 44…مفلوج کی شفایابی کاراز(کل صفحات:32)
45…ماڈرن نوجوان کی توبہ(کل صفحات :32) 46…شرابی،مؤذن کیسے بنا؟(کل صفحات :32)
47…صلوٰۃوسلام کی عاشقہ(کل صفحات :33) 48…خوش نصیبی کی کرنیں(کل صفحات :32)
49…فیضانِ امیراہلسنّت(کل صفحات :101) 50…میں حیادار کیسے بنی؟(کل صفحات:32)
51…گلوکارکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32) 52…میوزکل شوکامتوالا(کل صفحات :32)
53…رسائل مدنی بہار(کل صفحات :368) 54…چندگھڑیوں کا سودا(کل صفحات :32)
55…بری سنگت کاوبال(کل صفحات :32) 56…کالے بچھوکاخوف(کل صفحات:32)
57…میں نیک کیسے بنا؟(کل صفحات :32) 58…سینگوں والی دلہن(کل صفحات :32)
59…سینما گھر کا شیدائی(کل صفحات:32) 60…حیرت انگیزحادثہ(کل صفحات:32)
61…فلمی اداکارکی توبہ(کل صفحات :32) 62…عجیب الخلقت بچی(کل صفحات:32)
63…قبرستان کی چڑیل(کل صفحات :24) 64…ہیروئنچی کی توبہ(کل صفحات :32)
65…جھگڑالوکیسےسدھرا؟(کل صفحات:32) 66…عمامہ کےفضائل(کل صفحات:517)
67…بے قصورکی مدد(کل صفحات :32) 68…باکردارعطاری(کل صفحات:32)
69…اسلحے کا سوداگر(کل صفحات :32) 70…شرابی کی توبہ(کل صفحات :33)
71…بھیانک حادثہ(کل صفحات :30) 72…خوشبودارقبر(کل صفحات:32)
73…پراسرارکتا(کل صفحات :27) 74…کینسرکاعلاج(کل صفحات :32)
75…اجنبی کا تحفہ(کل صفحات :32) 76…انوکھی کمائی(کل صفحات :32)
77…چمکدارکفن(کل صفحات :32) 78…خوفناک بلا(کل صفحات :33)
79…سنگرکی توبہ(کل صفحات:32) 80…گونگا مبلغ(کل صفحات :55)
81…قبر کھل گئی(کل صفحات :48) 82…گمشدہ دولہا(کل صفحات:33)
83…ناکام عاشق(کل صفحات :32) 84…جنوں کی دنیا(کل صفحات :32)
85…غافل درزی(کل صفحات :36) 86…نادان عاشق(کل صفحات:32)
87…آنکھوں کاتارا(کل صفحات :32) 88…مردہ بول اٹھا(کل صفحات:32)
89…بابرکت روٹی(کل صفحات :32) 90…مدینے کامسافر(کل صفحات :32)
91…بدکردارکی توبہ(کل صفحات :32) 92…بدنصیب دولہا(کل صفحات :32)
93…کفن کی سلامتی(کل صفحات:32)
(شعبہ اولیاوعلما)
01…فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان(کل صفحات:62) 02…فیضانِ سیداحمدکبیررفاعی (کل صفحات:33)
03…فیضانِ خواجہ غریب نواز(کل صفحات:32) 04…فیضانِ عثمان مروندی(کل صفحات:43)
05…فیضانِ پیرمہرعلی شاہ(کل صفحات:33) 06…فیضانِ علامہ کاظمی(کل صفحات:70)
07…فیضانِ داتاگنج بخش(کل صفحات:20) 08…فیضانِ سلطان باہو(کل صفحات:32)
09…فیضانِ حافظِ ملت(کل صفحات:32)
(شعبہ بیانات دعوتِ اسلامی)
01…باطنی بیماریوں کی معلومات(کل صفحات:352)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حرص کی تعریف٭…خواہشات کی زیادتی کےارادےکانام حرص ہےاوربُری حرص یہ ہے کہ اپناحصہ حاصل کرلینےکےباوجوددوسرےکےحصےکی لالچ رکھے۔یاکسی چیزسےجی نہ بھرنےاورہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنےکوحرص اورحرص رکھنےوالےکوحریص کہتےہیں۔(مرقاة المفاتیح،۹/ ۱۱۹) |
[1]…مسلم،کتاب العلم،باب فی الدالخصم،ص۱۴۳۳،حدیث:۲۶۶۸
[2]… موسوعة ابن ابی الدنیا،ذم الغیبة والنمیمة،۴/ ۳۲۲،حدیث:۱۴
[3]…اس جھگڑے سے مراد قوم کا اپنے انبیا کے ساتھ باطل جھگڑنا اور بطورِ سرکشی اور انکار ان سے نت نئے معجزات طلب کرنا تھا۔ ( مرقاة المفاتیح ،۱/ ۴۲۶،تحت الحدیث:۱۸۰)
[4]…بخاری،کتاب التفسیر،باب:و ھو الدالخصام ،۳/ ۱۸۱،حدیث:۴۵۲۳
[5]…معجم الکبیر،۲۰/ ۱۳۸،حدیث :۲۸۲
[6]…آیاتِ قرآنیہ کےمعانی میں ایساجھگڑاکرنا جس سےلوگ شک میں مبتلاہوجائیں قریباً کفر ہےکیونکہ لوگوں کےکفرکاذریعہ ہےیامتشابہات کی تاویلوں میں جھگڑناکفرانِ نعمت ہےیا قرآنی آیات اورآیات کی متواترقراتوں میں یہ جھگڑا کرنا کہ یہ کلامِ الٰہی ہیں یا نہیں کفر ہے یاقرآن کو اپنی رائے کےمطابق بنانے میں جھگڑنا کہ ہر ایک اپنی رائے اور ایجاد کردہ مذہب کے مطابق اس کا ترجمہ یاتفسیر کرے یہ کفرہے۔بہرحال حدیث بالکل واضح ہے اور اسےمفسرین اور مجتہدین کےاختلاف سےکوئی تعلق نہیں وہ جھگڑانہیں ہےبلکہ تحقیق ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۱/ ۱۹۵)
[7]…ابوداود،کتاب السنة،باب النھی عن الجدال فی القرآن،۴/ ۲۶۵،حدیث:۴۶۰۳
[8]…ابوداود،کتاب الاقضية،باب فیمن یعین علی خصومة...الخ ،۳/ ۴۲۷،حدیث :۳۵۹۷
[9]…ابوداود،کتاب الاقضية،باب فیمن یعین علی خصومة...الخ ،۳/ ۴۲۷،حدیث :۳۵۹۸
[10]…یعنی وہ بندہ عالِم ہوگا اور زبان سے علمی باتیں کرتا ہوگا لیکن دل سے جاہل اور عقیدے کا فاسد ہوگا ۔ لوگ اس کی چرب زبانی سے دھوکہ میں آجائیں گے اور عمل میں اس کی اتباع کرنے کے سبب کثیر مخلوق لغزشوں میں پڑ جائے گی۔( فیض القدیر ،۱/ ۲۸۶،تحت الحدیث:۳۰۵)
[11]…مسند احمد ، مسندعمر بن الخطاب ،۱/ ۵۷،حدیث :۱۴۳
[12]…ترمذی،کتاب البروالصلة،باب ماجاء فی العی،۳/ ۴۱۴،حدیث :۲۰۳۴
[13]…ابو داود،کتاب الدیات،باب من قتل عبدہ او مثل بہ ...الخ ،۴/ ۲۳۲،حديث :۴۵۱۵
[14]…یہ حدیْثِ پاک یاتوزجرپرمبنی ہےیاپھرمنسوخ ہے۔(ماخوذازمراٰۃ المناجیح ،۵/۲۶۲)
[15]…ابو داود،کتاب الدیات،باب من قتل عبدہ او مثل بہ ...الخ ،۴/ ۲۳۲،حديث :۴۵۱۶
[16]…مستدرک حاكم،کتاب الحدود،باب لایقاد مملوک من مالکہ ...الخ،۵/ ۴۰۹ ،حدیث:۸۱۶۵
[17]…مسلم،کتاب الایمان،باب التغلیظ علی من قذف مملوکہ بالزنا،ص۹۰۵،حدیث :۱۶۶۰
[18]…ابوداود،کتاب الا دب،باب فی حق المملوک ،۴/ ۴۳۷،حدیث :۵۱۵۶
[19]…جانوروں کو خصی کرنے میں اگر فائدہ ہو مثلاً اس کا گوشت اچھا ہوگا یا خصی نہ کرنے میں شرارت کرے گا ، لوگوں کو ایذا پہنچائے گا، ان ہی مصالح کی بناء پر بکرے اور بیل وغیرہ کو خصی کیا جاتاہے، یہ جائز ہے اور اگر منفعت یا دفْعِ ضرر دونوں باتیں نہ ہوں تو خصی کرنا حرام ہے۔( بہار شریعت،حصہ ۳ ، ۱۶/۵۹۱،۵۹۰)
[20]…مسند احمد،مسندعبدالله بن عمر ،۲/ ۲۵۱،حدیث :۴۷۶۹
[21]…اس کامعنیٰ یہ ہےکہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکےاُخروی عذاب اورغیظ و غضب سےبےخوف ہو جائے ۔(ماخوذ من الحدیقة الندية،۲/ ۱۱۶)
[22]…مسلم،کتاب الجنة،باب الامربحسن الظن باللّٰہ تعالی عندالموت،ص۱۵۳۸،حدیث:۲۸۷۷
[23]…امام ابنِ حجر مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت کا انکار مراد لینا متعین ہے کیونکہ وہی حقیقی محسن ہے اور اسے ایسےمحسن کے احسان جھٹلانے پر محمول کرنا بھی ممکن ہے جس کے حقوق کی رعایت کرنا واجب ہو جیسے شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا۔
(الزواجر عن اقتراف الکبائر،الكبيرة التاسعة والخمسون ،۱/ ۲۴۴)
[24]…ابو داود،کتاب الادب،باب فی شکرالمعروف،۴/ ۳۳۵،حدیث:۴۸۱۱
[25]… مسلم،کتاب المسا قاة، باب تحریم فضل بیع الماء الذی...الخ ،ص۸۴۶،حدیث :۱۵۶۶
[26]…مُفَسِّرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد4، صفحہ 315پراس کےتحت فرماتےہیں:کسی شخص نےبنجرزمین جسےعربی میں مَوات کہتےہیں آباد کی وہاں کنواں لگوالیالوگ اس زمین کے اردگرد اپنے جانور چراتے ہیں وہ زمین موات جو ہوئی یہ شخص جانوروں کو چرنے سے روک نہیں سکتا،وہ بہانہ یہ کرے کہ کسی جانور کو بلامعاوضہ پانی نہ پینے دے جو اس کے اپنے کنوئیں کا ہے،نیت یہ ہو کہ اس پانی کی روک سے جانور یہاں کی گھاس چرنا چھوڑ دیں گے پھر یہ گھاس میری اپنی ہوگی کہ اس سے پیسہ کماؤں گا،یہ جرم ہے کہ کنواں تو اس کا ہے مگر زمین سرکاری چھوٹی ہوئی ہے،یہ پانی کے بہانہ چراگاہ کی گھاس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ورنہ اپنی زمین کی کھڑی گھاس اور کاٹی ہوئی گھاس کی بیع جائزہے۔(مرقات)
[27]…بخاری،کتاب المساقاة،باب من قال ان صاحب الماء...الخ،۲/ ۹۶،حدیث:۲۳۵۳ بتغیرقلیل
[28]…مسند احمد،مسند عبدالله بن عمروبن العاص ،۲/ ۵۹۵،حدیث:۶۶۸۴
[29]…بخاری ،کتاب المساقاة،باب اثم من منع ابن السبیل ...الخ ،۲/ ۹۷،حدیث:۲۳۵۸
[30]…بخاری ،کتاب المساقاة،باب من راٰی ان صاحب الحوض...الخ ،۲/ ۱۰۰،حدیث:۲۳۶۹
[31]…(لوہا وغیرہ گرم کرکے)آگ کے ذریعے بطور علامت چہرے کو داغنا یہ مطلقاً حرام ہے خوا ہ جانور کے ساتھ ایسا کیا جائے یاانسان کے ساتھ ۔ البتہ چہرے کے علاوہ جانور کے کسی اور حصہ کو بطور علامت داغا جاسکتا ہے مگر انسان کے ساتھ اس کی بھی اجازت نہیں۔ ( فیض القدیر،۵/۳۵۰،تحت الحدیث:۷۲۸۰)
[32]…مسلم،کتاب اللباس والزینة،باب النھی عن ضرب الحیوان فی وجهہ...الخ،ص۱۱۷۲، حدیث:۲۱۱۷
[33]…چہرے پر مارنے کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ یہ جسم کا نازک و حساس حصہ ہے تو چہرے پر لگنے والی اس چوٹ سے جانوربدنما ہوسکتا ہے اور بسا اوقات یہ مار اس کے حواس میں خَلَل کا باعث بن جاتی ہے تو ہرچوپائے کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس کے چہرے پر مارنا حرام ہے اور انسان کے چہرے پر مارنے کی حُرمت تو زیادہ سخت ہےکہ نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا ہے۔( فیض القدیر ۲/ ۲۰۷،تحت الحدیث:۱۵۹۰)
[34]…ابو داود،کتاب الجھاد،باب النھی عن الوسم فی الوجہ... الخ،۳/ ۳۷ ،حدیث:۲۵۶۴
[35]…شیخ طریقت، امیراہلسنّت، بانِیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّاؔر قادریدَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تصنیف ”غیبت کی تباہ کاریاں“میں فرماتے ہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل دنیا میں جوئے کے نت نئے طریقے رائج ہیں ، ان میں سے6یہ ہیں:
(1)…لاٹری:اس طریقَۂ کار میں لاکھوں کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے کامیاب ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپےتقسیم کردئیے جاتے ہیں جبکہ بَقِیَّہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہےیہ بھی جُوا ہی کی ایک صورت ہے جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(2)…پرائز باونڈکی پرچی:حکومتِ پاکستان(200، 750، 1500، 7,500، 15,000، 40,000) روپےکی قیمت کے انعامی بانڈزبینک کے ذَرِیعے جاری کرتی ہے اورجَدوَل کے مطابِق ہر ماہ قُرعہ اندازی کے ذَرِیعے کروڑوں روپے کے اِنعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہےجس کا انعام نہیں نکلتااُس کی بھی رقم محفوظ رہتی ہےوہ اسےجب چاہےبُھنا(یعنی کیش کروا)سکتا ہے۔ یہ جَواز(یعنی جائز ہونے) کی صورت ہے اور جُوئے میں داخِل نہیں لیکن اس کے مُتَوازی بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں ان پرچیوں کی خریدو فروخت،غیرقانونی ناجائز و حرام ہے کیونکہ بیچنےوالاحکومت کی طرف سےجاری کردہ پرائزبانڈزاپنےہی پاس رکھتاہے(بلکہ بعض …٭ ……اوقات توپرائزبانڈزبھی بیچنےوالےکےپاس نہیں ہوتے)پرچی بیچنےوالاخریدارکوقلیل رقم کے بدلے پرچی پرمحض ایک نمبرلکھ کردےدیتاہےکہ اگراس نمبرپرانعام نکل آیاتومیں تمہیں اتنی رقم دوں گا۔انعامی پرچی کایہ کام بھی جُواہےکیونکہ اس میں انعام نہ نکلنے کی صورت میں خریدار کی رقم ڈوب جاتی ہے۔
(3)…موبائل میسجزا ورجوا:موبائل پرمختلف سُوالات پرمبنی میسجز(MESSAGES)بھیجےجاتے ہیں جس میں مثلاً کونسی ٹیم میچ جیتے گی؟یا پاکستان کس دن بنا تھا؟دُرُست جوابات دینے والوں کیلئے مختلف اِنعامات رکھے جاتے ہیں، شرکت کرنے والے کے ’’موبائل بیلنس‘‘ سے قلیل رقم مَثَلاً دس روپے کٹ جاتی ہے ، جن کا انعام نہیں نکلتا ان کی رقم ضائع ہوجاتی ہے ،یہ بھی جُوا ہے جو کہ حرام اورجہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
(4)…معمہ:اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سُوالات حل کرنے کے لئے دئیے جاتے ہیں جس کا حل مُنْتَظِمِیْن کی مرضی کےمطابِق نکل آئے اُسے انعام دیا جاتا ہے ، انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے زائد بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا دُرُست حل زیادہ تعداد میں نکلیں توقُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے فیصلہ ہوتا ہے ۔اس کھیل میں بَہُت سارے افراد شریک ہوتے ہیں ،ان کی شرکت دوطرح سے ہوتی ہے :(۱)مفت (۲)معمولی فیس دے کر،اگر شرکا سے کسی قسم کی فیس نہ لی جائے تو اورکوئی مانِع شَرعی نہ ہونے کی صورت میں اس انعام کا لینا جائز ہے۔جس میں شرکاء سے فیس لی جاتی ہے اُس میں انعام ملے یا نہ ملے رقم ڈوب جاتی ہے ،یہ صورت جُوا کی ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
(5)…پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا :بعض افراد یا دوست آپس میں تھوڑی تھوڑی رقم جمع کر کے قُرعہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا ساری رقم اس کو ملے گی ،یہ بھی جُوا ہے کیونکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے ۔ اِسی طرح بعض اوقات پیسے جمع کرکے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا اسے یہ کتاب دے دی جائے گی یہ بھی جُوا ہی ہے ۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مَصنوعات خریدنے والوں کو قُرعہ اندازی کر کے اِنعامات دیتی ہیں یہ جائز ہے کیوں کہ اس میں کسی کی بھی رقم نہیں ڈوبتی۔
(6)…مختلف کھیلوں میں شرط لگانا:ہمارے یہاں مختلف کھیل مَثَلاًگُھڑ دَوڑ،کرکٹ،کَیرم، …٭ …… بِلیرڈ ،تاش ، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کواتنی رقم یا فُلاں چیز دے گا یہ بھی جوا ہے اور ناجائز وحرام ۔کیرم اوربِلیرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وَقت عُمُوماً یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کرے گا ،یہ بھی جُوا ہے ۔ بعض ’’نادان‘‘ گھروں میں مختلف کھیلوں مَثَلاً تاش یالوڈو پردوطرفہ شرط لگاکر کھیلتے ہیں اورکم علمی کےباعِث اِس میں کوئی حرج نہیں سمجھتےوہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جُواہے اور جُوا حرام ا ور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔(غیبت کی تباہ کاریاں،ص۱۸۸تا۱۹۰)
جواسے توبہ کا طریقہ: جُوا کھیلنے والا اگر نادم ہوا تو اُس کو چاہئے کہ بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّمیں سچّی توبہ کرے مگر جو کچھ مال جیتا ہے وہ بدستور حرام ہی رہے گا اس ضِمْن میں رہنمائی کرتے ہوئےمیرےآقااعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:جس قدرمال جوئےمیں کمایامحض حرام ہےاوراس سےبَراءَ ت(یعنی نَجات)کی یِہی صورت ہے کہ جس جس سے جتناجتنا مال جِیتاہے اُسے واپَس دے یا جیسے بنے اُسے راضی کر کے مُعاف کرالے وہ نہ ہو تو اُس کے وارِثوں کو واپَس دے یا اُن میں جو عاقِل بالِغ ہوں ان کا حصّہ اُن کی رِضامندی سے مُعاف کرالے باقیوں کا حصہ ضَرور انہیں دے کہ اِس کی مُعافی ممکن نہیں اورجن لوگوں کا پتاکسی طرح نہ چلے، نہ اُن کا، نہ اُن کے وَرَثہ کا ، اُن سے جس قَدَر جیتا تھا اُن کی نیت سے خیرات کردے، اگرچِہ (خود) اپنے(ہی) محتاج بہن بھائیوں،بھتیجوں، بھانجوں کو دےدے۔آگےچل کر مزید فرماتے ہیں:غَرَض جہاں جہاں جس قَدَر یاد ہو سکے کہ اِتنامال فُلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑاتھا اُتنا تو انہیں یا اُن کے وارِثوں کو دے، یہ نہ ہوں تواُن کی نیّت سے تصدُّق (یعنی صدقہ )کرے اورزیادہ پڑنے کے یہ معنیٰ کہ مَثَلًا ایک شخص سے دس بار جُوا کھیلاکبھی یہ جیتاکبھی یہ، اُس(یعنی سامنے والے جواری)کےجیتنےکی(رقم کی)مقدارمَثَلًاسو روپے کوپہنچی اور یہ(خود) سب دَفعَہ کے مِلا کر سوا سو جیتا تو سو سو برابر ہوگئے پچیس اُس (یعنی سامنے والے جواری) کے دینے رہے۔ اِتنے ہی اسے واپس دے۔ وَعَلیٰ ہَذَا القِیاس (یعنی اور اسی پر قیاس کر لیجئے ) اورجہاں یاد نہ آئے کہ(جُوا کھیلنے والے) کون کون لوگ تھے اور کتنا(مال جُوے میں جیت) لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ(مِقدار کا) تخمینہ (تَخ۔مِی ۔ نَہ ۔ یعنی اندازہ)لگائے کہ اِس تمام مدت…٭ ……میں کس قَدَر مال جوئے سے کمایا ہوگا اُتنا مالِکوں(یعنی اُن نامعلوم جواریوں) کی نیّت سے خیرات کردے، عاقِبت یونہی پاک ہوگی۔ وَاللّٰہ تعالٰی اَعلم(فتاوٰی رضویہ،۱۹/ ۶۵۱)
[36]…مسلم،کتاب الایمان،باب من حلف باللات والعزی فلیقل لا الہ الا الله ،ص۸۹۴، حدیث:۱۶۴۷
[37]…امام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس حدیْثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:عُلَمافرماتے ہیں کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صدقہ کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ اس شخص نے گناہ …٭ ……
کی دعوت دی تھی۔حضرتِ سیِّدُنا علامہ خَطَّابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: جتنے پیسوں کا جوا کھیلنےکاکہاتھا،اتنےپیسوں کاصدقہ کرے۔مگرصحیح وہ ہےجومُحَقِّقِیْننےکہاہےاوریہی حدیْثِ پاک کا ظاہر ہے کہ صدقہ کی کوئی مقدارمعین نہیں آسانی سے جتنا صدقہ کرسکے ، کردے۔(شرح المسلم للنووی،کتاب الایمان،باب النھی عن الحلف بغیر الله...الخ،۱۱/ ۱۰۷)
[38]…امام ابنِ حجر مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہر ایک نافرمانی شامل ہے جو ارادے سے ہو۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر،الكبيرة الحادی والخمسون بعد المائة،۱/ ۴۴۴)
[39]…”الکبائر“للذہبیکےتمام نسخوں میں مذکورہ روایت میں کبیرہ گناہوں کی تعداد9ہی بیان کی گئی ہےلیکن مذکورآٹھ ہیں نواں کبیرہ جو جادو ہے اس کا ذکرنہیں۔ یہ روایت”ابو داود شریف “میں بھی ہےاوروہاں 9کبائرکےضمن میں جادو کا ذکر بھی ہے۔امام ابو بکر بیہقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی”سُنَنُ الْکُبْرٰی“میں آٹھ کبائر ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:میری یا میرے شیخ کی کتاب میں جادوکاذکرلکھنےسےرہ گیاہے۔(سنن الکبری للبیھقی،۳/ ۵۷۳،تحت الحدیث:۶۷۲۳)
[40]…ابو داود، کتاب الوصایا ،باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال الیتیم ،۳/ ۱۵۹،حدیث:۲۸۷۵
سنن کبری للبیھقی،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی استقبال القبلة بالموتی،۳/ ۵۷۳،حدیث:۶۷۲۳
[41]…مسند احمد،مسند عبدالله بن عمرو بن العاص ،۲/ ۵۹۷،حدیث :۶۶۹۳
[42]…مسلم،کتاب المساجد ومواضع الصلاة،باب فضل صلاة الجماعة...الخ،ص۳۲۷، حدیث:۶۵۲
[43]…مسلم،کتاب الجمعة،باب التغلیظ فی ترک الجمعة،ص۴۳۰،حدیث:۸۶۵
[44]…مُہرسےمرادغفلت کی مہرہے نہ کہ کفر کی کیونکہ جمعہ چھوڑنا فسق ہے، کفر نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض گناہ دل کی سختی کا باعث ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۳۱۵)
[45]…ابوداود، کتاب الصلاة،باب التشدید فی ترک الجمعة ،۱/ ۳۹۳،حدیث:۱۰۵۲
[46]…نسائی ، کتاب الجمعة ،باب التشدید فی التخلف عن الجمعة ،ص ۲۳۶،حدیث:۱۳۶۸
[47]…مسلم،کتاب فضائل الصحابة ،باب من فضائل اھل بدر ،ص۱۳۵۵،حدیث:۲۴۹۴
[48]…صدرالافاضل حضرت علامہ مولاناسیِّدمحمدنعیم الدین مرادآبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سَارہ مدینہ طیبہ میں سیّدِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے حُضور میں حاضر ہوئی ، جب کہ حضورفتح مکہ کا سامان فرمارہے تھے ۔ حُضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)نے اس سے فرمایا :کیا تو مسلمان ہو کر آئی ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ فرمایا : کیا ہجرت کرکے آئی ؟ عرض کیا : نہیں ، فرمایا : پھر کیوں آئی ؟ اس نے کہا : محتاجی سے تنگ ہو کر ۔ بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے ، سامان دیا۔ حاطب بن ابی بَلْتَعَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس سے ملے ، انہوں نے اُس کو دس دینار دیئے ، ایک چادر دی اور ایک خط اہْلِ مکّہ کے پاس اس کی معرِفَت بھیجا ، جس کا مضمون یہ تھا کہ سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تم(اہْلِ مکہ) پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں تم سے اپنے بچاؤ کی جو تدبیر ہوسکے کرو، سارہ یہ خط لے کر روانہ ہوگئی ۔ اللہتعالیٰ نے اپنے حبیب کو اس کی خبر دی،حُضور نے اپنے چند اصحاب کو جن میں حضرتِ علی مرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے گھوڑوں پر روانہ کیا اور فرمایا :مقامِ رَوْضَہ خاخ پرتمہیں ایک مسافر عورت ملے گی ، اس کے پاس حاطِب بن ابی بلتعہ کا خط ہے جو اہْلِ مکّہ کے نام لکھا گیا ہے ، وہ خط اس سے لے لو اور اس کو چھوڑ دو ۔ اگر انکارکرے تو اس کی گردن ماردو۔یہ حضرات روانہ ہوئے اور عورت کو ٹھیک اسی مقام پر پایا جہاں حضور سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا تھا ۔ اس سے خط مانگا ، وہ انکار کر گئی اور قَسم کھا گئی صحابہ نے واپسی کا قصد کیا حضرتِ علی مرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بَقَسم فرمایا کہ سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خبر خلاف ہوہی نہیں سکتی اور تلوار کھینچ کر عورت سے فرمایا : یا خط نکال یا گردن رکھ ۔ جب اس نے دیکھا کہ حضرت بالکل آمادۂ قتل ہیں تو اپنے جوڑے میں سے خط نکالا ۔ حضور سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرتِ حاطِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بُلا کر فرمایا کہ اے حاطب! اس کا کیا باعث ؟ انہوں نے عرض کیا یارسولَ اللہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم میں جب سے اسلام لایا ، کبھی میں نے کفر نہیں کیا اور جب سے حضور کی نیاز مندی مُیَسَّر آئی کبھی حُضور کی خیانت نہ …٭…… کی اور جب سے اہْلِ مکّہ کو چھوڑا کبھی ان کی محبت نہ آئی ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں قریش میں رہتا تھا اور انکی قوم سے نہ تھا ، میرے سوائے اور جو مہاجرین ہیں ، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار ہیں ، جو ان کے گھر بار کی نگرانی کرتے ہیں ۔ مجھے اپنے گھر والوں کا اندیشہ تھا ، اسلئے میں نے یہ چاہا کہ میں اہْلِ مکہ پر کچھ احسان رکھ دوں تاکہ وہ میرے گھر والوں کو نہ ستائیں اور یہ میں یقین سے جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اہْلِ مکہ پر عذاب نازل فرمانے والا ہے میرا خط انہیں بچا نہ سکے گا۔سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کا یہ عذر قبول فرمایا اور ان کی تصدیق کی۔ حضرت عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کیا:یارسولَاللہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّممجھےاجازت دیجئے اس منافق کی گردن ماردوں،حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنےفرمایا:اےعُمَر!(رَضِیَ اللہُ عَنْہ) اللہتعالیٰ خبردارہے۔جب ہی اس نےاہْلِ بدرکےحق میں فرمایاکہ جوچاہوکرو،میں نےتمہیں بخش دیا، یہ سُن کر حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آنسو جاری ہوگئے اور یہ آیات نازل ہوئیں۔(خزائن العرفان ،پ۲۸،الممتحنہ،تحت الآیہ:۱)
[49]…مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی ان من خصال الایمان...الخ ،ص۴۲ ،حدیث :۴۵
[50]…مسلم،کتاب الایمان،باب وجوب محبة رسول الله... الخ ،ص۴۲،حدیث:۴۴
[51]…السنة لابن ابى عاصم،باب مايجب ان يكون هوى المرء...الخ ،ص۱۱،حديث:۵
[52]… بخاری، کتاب الادب،باب اثم من لا یامن جارہ...الخ ،۴/ ۱۱۶،حدیث:۶۰۱۶
[53]…مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان ...الخ ،ص۴۴،حدیث:۴۹
[54]…یعنی ایسےبدعقیدہ اوربدعمل لوگوں کی اصلاح تین جماعتیں تین طرح کریں:حکام طاقت سےکہ مجرموں کوسزائیں دیں،اہْلِ علم زبان سےکہ انہیں وعظ کریں،عوام مومن دل سے کہ ان سے نفرت کریں اور دور رہیں تا قیامت یہ احکام جاری رہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۱/ ۱۵۱)
[55]…مسلم،کتاب الایمان،باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان... الخ ،ص۴۴،حدیث :۵۰
[56]…اس حدیْثِ پاک میں نمازی رہنےسےمرادمسلمان رہناہےکیونکہ نمازہی کفرواسلام میں فارِق(فرق کرنےوالی)ہےلہٰذایہ مطلب نہیں کہ بےنمازی بادشاہ حکام کی بغاوت درست ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۳۸۸)
[57]…مسلم،کتاب الامارة،باب وجوب الانکار علی الامراء...الخ ،ص۱۰۳۱، حدیث:۱۸۵۴
[58]… مسلم،کتاب الطھارة،باب الدلیل علی نجاسة البول ...الخ ،ص۱۶۷،حدیث :۲۹۲
[59]…ابن ماجہ،کتاب الاحکام،باب من ادعی ما لیس لہ... الخ ، ۲/ ۹۶،حدیث:۲۳۲۰
[60]…وہ فعل جس میں اس کےکرنےوالےکاباطنی ارادہ اس کےظاہرکےخلاف ہومکرکہلاتاہے۔(فیض القدیر،۶/ ۳۵۸)
[61]…شعب الایمان،باب فی الامانات... الخ ،۵/ ۳۶۷،حديث:۶۹۷۸
[62]…اس کے متعلق حاشیہ کبیرہ نمبر :29کے تحت گزر چکا ہے۔
[63]… ترمذی،کتاب النکاح،باب ماجاء فی المحلل...الخ ،۲/ ۳۶۴،حدیث:۱۱۲۲
[64]…ابو داود،کتاب الادب،باب فیمن خبب مملوکا... الخ ،۴/ ۴۴۱ ،حدیث:۵۱۷۰
[65]…ترمذی،کتاب البروالصلة،باب ماجاء فی العی،۳/ ۴۱۴،حدیث :۲۰۳۴
[66]…ترمذی،کتاب البر والصلة،باب ماجاء فی الحیاء ،۳/ ۴۰۶،حدیث :۲۰۱۶
[67]…بیعت سے اگر خلیفہ و سلطان اسلام کی بیعت مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب خلیفہ رسول یاسلطان اسلام موجود ہو پھر یہ اس کی بیعتِ خلافت نہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۳۸۹)
[68]…السنة لابن ابی عاصم ،باب فی ذکر السمع والطاعة ،ص۲۴۸، حدیث:۱۰۹۱
[69]…مُفَسِّرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد6، صفحہ 457پر اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:اس طرح کہ دو لڑے ہوئے مسلمانوں میں سے ایک کے پاس جاوے اور اسے خوش کرنے کے لئے دوسرے کی غیبت کرے۔اسے بُرا کہے،اسے نقصان پہنچانے کی تدبیریں بتائے تاکہ اس ذریعہ یہ شخص اسے کچھ دیدےیا کھلاوے ایسے خوشامدی لوگ آج کل بہت ہیں۔
[70]…مُفَسِّرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد6، صفحہ 457پراس حدیث کےتحت فرماتےہیں:اس فرمان عالی کےبہت معنیٰ ہیں:ایک یہ کہ جو شخص کسی مشہور شریف آدمی کی پگڑی اُچھالے اس کا مقابلہ کرے تاکہ اس مقابلہ سے میری شُہرت ہودوسرےیہ کہ جوکسی شخص کودنیامیں جھوٹےطریقہ سےاچھالےتاکہ اس کے ذریعہ مجھے عزت و روزی ملے جیسے آج کل بعض جھوٹے پیروں کے مرید اس کی جھوٹی کرامتیں بیان کرتےپھرتےہیں تاکہ ہم کوبھی اس کےذریعہ عزت ملےکہ ہم اس کےبالکے(چیلے) ہیں۔ (اشعہ) تیسرے یہ کہ جو شخص دنیا میں نام و نمود چاہے نیکیاں کرے مگر ناموری کے لیے یا جو شخص کسی کے ذریعہ سے اپنے کو مشہور و ناموَر کرے۔ قیامت میں ایسے شخصوں کو عام رُسوا کیا جاوے گا کہ فرشتہ اسے اونچی جگہ کھڑا کرکے اعلان کرے گا کہ لوگو یہ بڑا جھوٹا مَکاَّر فریبی تھا۔
[71]…مستدرک حاکم،کتاب الاطعمة،باب لايدخل الجنة لحم نبت من سحت، ۵/ ۱۷۶، حدیث:۷۲۴۸
[72]…مرادِ حدیث یہ ہے کہ جس طرح مسلمان بھائی کو قتل کرنا سزا کا موجب ہے یونہی ایک سال تک اس سے قطع تعلقی رکھنا بھی عقوبت کا موجب ہے اور حُضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان :’’کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن تک چھوڑ رکھے۔“ یہ فرمان تین دن سے زیادہ قطع تعلق کی حُرمت کو بیان کررہا ہے۔(مرقاة المفاتیح ،۸/۷۶۹،۷۶۸) یہاں چھوڑنے سے مراد دنیاوی رنجشوں کی وجہ سے تعلق ترک کرنا ہے۔ بد مذہب ،بے دین سے دائمی بائیکاٹ کرنا ، تعلیم و تربیت کے لیے ترکِ تعلق کرنا(تین دن سے ) زیادہ کا بھی جائز ہے۔
(مراٰۃ المناجیح ،۶/۴۴۸ملتقطاً)
[73]…ابوداود،کتاب الادب،باب فیمن یھجراخاہ ،۴/ ۳۶۴،حدیث:۴۹۱۵
[74]…ابو داود،کتاب الاقضية،باب فیمن یعین علیٰ خصومة...الخ ،۳/ ۴۲۷،حدیث:۳۵۹۷
[75]…یعنی اسے خبر نہیں ہوتی کہ یہ بات جو میں بول رہا ہوں اللہکے نزدیک کیسی عظیم الشان ہے یوں ہی بول دیتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/ ۳۴۹)
[76]…ترمذی،کتاب الزھد،باب فی قلة الکلام...الخ ،۴/ ۱۴۳،حدیث:۲۳۲۶
[77]…اس حکم میں کافر،فاسق،منافق سب ہی داخل ہیں بلا ضرورت خوشامد کے لئے ان لوگوں کو ایسے الفاظ کہنے سخت جرم ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بے دین کو نہ تو صرف سیّد کہو نہ سَیِّدُ القوم کہو بے دین تو ذلیل ہے ،سید عزت والا ہوتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۳۲۳ملتقطاً)
[78]…ابو داود،کتاب الادب ،باب لا یقول المملوک ربی وربتی،۴/ ۳۸۳،حدیث:۴۹۷۷
[79]… مسلم، کتاب الایمان،باب بیان خصال المنافق ،ص۵۰،حدیث:۵۹
[80]…ترمذی،کتاب الادب،باب ماجاء فی قص الشارب،۴/ ۳۴۹،حدیث:۲۷۷۰
[81]…اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولاناشاہ امام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:مونچھیں اتنی بڑھاناکہ منہ میں آئیں حرام وگناہ وسُنَّتِ مشرکین ومجوس و یہودو نصاریٰ ہے۔رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماعلیٰ درجہ کی حدیْثِ صحیح میں فرماتےہیں:مونچھیں کُتَرکرخوب پَسْت کرو اورداڑھیاں بڑھاؤیہودیوں اورمجوسیوں کی صورت نہ بنو۔(سنن کبری للبیھقی،کتاب الطھارة، باب السنة فی الاخذ من الاظفار،۱/ ۲۳۲ ،حدیث:۶۸۹)۔(فتاوی رضویہ،۲۲/۶۸۴)
[82]…مسلم،کتاب الطھارة،باب خصال الفطرة ،ص۱۵۴،حدیث:۲۶۰،۲۵۹
[83]…شرح اصول اعتقاداهل السنة والجماعة،باب جماع الکلام من الایمان،۱/ ۷۴۱،حدیث:۱۵۶۷
[84]…ترمذی،کتاب البیوع،باب ماجاء فی کراھية الفرق بین الاخوین...الخ ،۳/ ۴۲، حدیث:۱۲۸۷
[85]…اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنے کی بہت صورتیں ہیں کسی کو وصیت کرنا تاکہ وَرثہ کا حصہ کم ہوجائے،کسی کے لئے قرض کا جھوٹا اقرار کرلینا تاکہ وارث کے حصے کم ہوں بیوی کو طلاق دے دینا تاکہ وہ وارث نہ ہوسکے،اپنا کُل مال کسی کو دے جانا تاکہ وارثوں کو کچھ نہ ملے، کسی وارث کو قتل کرا دینا تاکہ میراث نہ پاسکے یا اپنے بچہ کا انکار کردینا کہ یہ بچہ میرا ہے ہی نہیں تاکہ میراث نہ پاسکے،اپنی زندگی میں سارا مال برباد کردینا تاکہ وارثوں کے لئے کچھ نہ بچے وغیرہ،بعض کسی بیٹے کو عاق کر دیتے ہیں یا کہہ دیتے ہیں کہ ہماری میراث سے اسے کچھ نہ دیا جائے یہ محض بیکار ہے اس سے وہ وارث محروم نہ ہوگا،میراث سےمحروم کرنے والی چیز مسلمان کےلئے صرف تین ہیں غلام ہونا،قتل،اختلاف ِدین،ان کے سوا کسی اور وجہ سے محرومی نہیں ہو سکتی۔(مراٰۃ المناجیح،۴/ ۴۴۱)
[86]…ابن ماجہ،کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصية...الخ ،۳/ ۳۰۴،حدیث:۲۷۰۳
[87]…اپنے وارثوں کو تہائی سے زیادہ وصیت کرکے یاکسی وارث کے حق میں وصیت کرکے۔ (خزائن العرفان ،پ۴،سورة النساء،تحت الآیہ:۱۲)
[88]…ابو داود،کتاب الوصایا،باب ماجاء فی کراھية الاضرار... الخ ،۳/ ۱۵۶،حدیث : ۲۸۶۷
[89]…ترمذی،کتاب الوصایا،باب ماجاء لا وصية لوارث ،۴/ ۴۲،حدیث:۲۱۲۷
[90]…احناف کے نزدیک: وارث کے لئے وصیّت جائز نہیں مگر اس صورت میں جائز ہے کہ (دیگر)وارث اس کی اجازت دیدیں۔(بہارشریعت،حصہ ۱۹، ۳/ ۹۳۸)
[91]…الادب المفرد،باب الرفق ،ص۱۳۵،حدیث:۴۷۰
[92]…یعنی یا تو اپنی بیوی کے خفیہ عُیُوب لوگوں کو بتائے یا اس کا حسن اس کی خوبیاں لوگوں کو بتائے یا صحبت کے وقت کی گفتگو اس وقت کے حالات لوگوں سے کہتا پھرے جیسا کہ عام آزاد نوجوانوں کا دستور ہے کہ شبِ اوّل کی باتیں اپنے دوستوں کو بے تکلف بتاتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۸۱)
[93]…مسلم،کتاب النکاح،باب تحریم افشاء سرالمراة ،ص۷۵۳،حدیث:۱۴۳۷
[94]…ابوداود،کتاب النکاح،باب فی جامع النکاح،۳/ ۳۶۲،حدیث:۲۱۶۲
[95]…ابن ماجہ ،کتاب النکاح،باب النّھی عن اتیان النساء... الخ ،۲/ ۴۵۰،حدیث :۱۹۲۳
[96]…یہ تینوں شخص قرآن وحدیث کےمنکرہوکرکافرہوگئےخیال رہےکہ یہاں سے شرعی کفر ہی مرادہےاسلام کامقابل اوران سےوہ لوگ مرادہےجوعورت سےدُبَرمیں یابحالَتِ حیض صحبت کوجائزسمجھ کرصحبت کریں اورکاہن نجومی کوعالِمُ الغیب جان کراس سے فال کھلوائیں یاغیبی خبریں پوچھیں اوراگرگناہ سمجھ کریہ کام کریں توفسق ہےکفرنہیں۔ (مراٰۃ المناجیح،۱/ ۳۳)
[97]…ابوداود،کتاب الطب ،باب فی الکاھن ،۴/ ۲۰،حدیث:۳۹۰۴
[98]…مسلم، کتاب الآداب،باب تحریم النظر فی بیت غیرہ،ص ۱۱۹۰ ،حدیث :۲۱۵۸
[99]…امام اعظم ابوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےنزدیک:اس شخص کی آنکھ کونہیں پھوڑاجائے گا اور یہ فرمانِ عالی زَجْروتَوبیخ(ڈانٹ ڈپٹ)یعنی دوسرےکےگھرمیں جھانکنےسےسخت ممانعت کےلئے ہے۔(مرقاة المفاتیح ،۷/ ۷۶ ،تحت الحدیث:۳۵۱۵)
[100]…مسلم، کتاب الآداب،باب تحریم النظر فی بیت غیرہ،ص ۱۱۸۹ ،حدیث :۲۱۵۸
[101]…دینی غُلُو سے مراد اُمورِ دینیہ میں حد سے تجاوز کرنا اور پیچیدہ اشیاء سےمتعلق بحث کرنا اور ان اُمور کی علتوں کو ظاہر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔( فیض القدیر ،۳/ ۱۶۲،تحت الحدیث: ۲۹۰۹)
[102]…ابن ماجہ،کتاب المناسک،باب قدر حصی الرمی،۳/ ۴۷۶،حدیث:۳۰۲۹
[103]…یہود کی زیادتی تو یہ کہ حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت ہی نہیں مانتے اور نَصارٰی کی زیادتی یہ کہ انہیں معبود ٹھہراتے ہیں۔(خزائن العرفان،پ۶، سورۃ المائدة،تحت الآیہ:۷۷)
[104]…ابن ماجہ،کتاب الکفارات،باب من حلف لہ باللّٰه فلیرض،۲/ ۵۴۲،حدیث:۲۱۰۱
[105]…یعنی جو ان عیبوں پر مر جائے وہ جنتی نہیں کیونکہ وہ منافق ہے،مؤمن میں اولًا تو یہ عیب ہوتے نہیں اور اگر ہوں تو رب تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے توبہ نصیب کردیتا ہے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا آدمی جنت میں پہلے نہ جائے گا،احسان جتانے سے طعنہ دینا مراد ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/ ۸۷)
[106]…ترمذی،کتاب البر والصلة،باب ماجاء فی البخل ،۳/ ۳۸۸،حدیث:۱۹۷۰
[107]…ابو داود،کتاب الزکاة،باب فی صلة الرحم،۲/ ۱۸۴،حدیث:۱۶۹۲
[108]…اس طرح کہ انہیں کھانا نہ دے حتّٰی کہ وہ ہلاک ہوجائیں یہ تو سخت ظلم ہے بلکہ قتل ہے یا اس طرح کہ انہیں بہت کم روزی دے جس سے وہ دُبلے کمزور ہوجائیں دو چار فاقے کرا کر ……٭…… ایک وقت دیدے یا پیٹ بھر کر نہ دے یہ بھی ظلم ہے،اس حکم میں لونڈی،غلام پالے ہوئے جانور سب شامل ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۱۸۸)
[109]…ہرایرےغیرےکی ہربات بغیرتحقیق کئے بیان کردے۔خصوصاًاحادیث شریفہ ورنہ مُحَدِّثِین،فقہاء،علماء ان کی ہر بات پر عوام کو اعتماد کرنا پڑے گا۔ لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس قول کےخلا ف نہیں کہ دینی باتوں میں ایک کی خبرمُعْتَبرہے،محدثین خبرواحدکااعتبارکرتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۱/ ۱۵۱ملتقطاً)
[110]…مسلم،المقدمة ،باب النھی عن الحدیث بکل ماسمع ،ص۸،حدیث:۵
[111]…بخل کے لغوی معنیٰ کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً،عادتاً یا مروتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس جگہ مال و اسباب خرچ کرنا ضروری ہو وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل ہے۔ (الحدیقة الندیة،۲/ ۲۷، مفردات الفاظ القران،ص۱۰۹)
[112]…مسلم،کتاب البر والصلة و الآداب،باب تحریم الظلم ،ص۱۳۹۴،حدیث:۲۵۷۸
[113]…الادب المفرد،باب البخل ،ص۹۶،حدیث : ۲۹۹
[114]…اس سے مراد وہ نفسانی خواہش ہے جس میں حکْمِ شریعت کو ملحوظ نہ رکھاجائے۔ (الحدیقة الندية،۱/ ۴۵۴)
[115]…حلية الاولياء،الحسن البصری، ۲/ ۱۸۳،حدیث :۱۸۶۵
[116]…اس فرمانِ عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جو کوئی کسی جلسہ میں آخر میں آوے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتاہوا بیچ میں پہنچے وہ لعنتی ہے چاہیے کہ اگر کنارہ پر جگہ ملے تو وہاں ہی بیٹھ جاوے۔دوسرے یہ کہ یہ شخص درمیان میں بیٹھا ہو اور لوگ اس کے اردگرد دَسْت بَستہ کھڑے ہوں یہ عمل متکبرین کا ہے بڑا آدمی بھی لوگوں کے ساتھ حلقہ میں بیٹھے۔(مرقات و اشعہ)بعض لوگ مذاق دل لگی کرنے کے لئے کسی کو درمیان حلقہ میں بٹھاکر اسے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں وہ ہر طرف کے لوگوں سے مذاق کرتا ہے وہ بھی لعنتی ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/ ۲۹۸)
[117]…ترمذی،کتاب الادب،باب ما جاء فی کراھية القعود وسط الحلقة ،۴/ ۳۴۶،حديث:۲۷۶۲
[118]…کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کےزوال(یعنی اس کے چھن جانے)کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے،اس کا نام حسد ہے۔(الحدیقة الندیة،۱/ ۶۰۰)
[119]…ابو داود،کتاب الادب،باب فی الحسد،۴/۳۶۰ ،حدیث:۴۹۰۳
[120]…مسلم،کتاب الصلوة،باب منع المار ببین یدی المصلی،ص۲۶۰،حدیث :۵۰۷
[121]…یہ چھپانے والی چیز دیوار ہو یا ستون یا لکڑی وغیرہ یا کوئی سامنے بیٹھا ہو ا آدمی یا اونٹ وغیرہ جانور کہ سب سُترہ میں داخل ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۱۶)
[122]…یعنی سختی سے اسے روکے یہاں لڑنا بھڑنا اور قتل کرنا مراد نہیں ۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۱۵)
[123]… شیطان سے مراد یا تو جِنَّات کا مُورثِ اعلیٰ ہے تب تو یہ مطلب ہوگا کہ اسے شیطان بہکا کر ادھر لارہا ہے یا شیطان سے انسان کا شیطان مراد ہے جو شیطانوں کا سا کام کرے وہ شیطان ہی ہوتا ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح ،۲/۱۵ ملتقطاً)
[124]…مسلم،کتاب الصلوة،باب منع المار بین یدی المصلی،ص۲۵۹،حدیث :۵۰۵
[125]…مسلم،کتاب الصلوة،باب منع المار ببین یدی المصلی،ص۲۵۹،حدیث :۵۰۵
[126]…مسلم،کتاب الایمان،باب بیان انہ لا ید خل الجنة الا المؤ منون ...الخ ،ص۴۷،حدیث :۵۴