اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جدول

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:مجھ پر کَثْرَت سے دُرُودِ پاک پڑھو، بے شک تمہارا مجھ پردُرُودِ پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مَغْفِرَت ہے۔[1]

حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عَبْدُالْحَق مُحَدِّثِ دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی فرماتے ہیں: اُس مومن پر نہایت تَعَجُّب ہے کہ وہ دن اور رات کی ساعات یعنی گھڑیوں میں سے ایک گھڑی بھی اُس عِبَادَت (یعنی دُرُودِ پاک)پر صَرف نہ کرے جو مَنْبَعِ اَنْوَار و برکات اور تمام بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھولنے والی ہے۔[2]

عَبَث گناہوں کی شامَت میں مارے پھرتے ہو     خدا کی تم پہ ہو رَحْمَت اگر دُرُود پڑھو

ہزار دَرْد کو یہ ایک دوا كِفَایَت ہے              جو پیش آئے ذرا بھی خَطَر دُرُود پڑھو

خدا وہ دن کرے بیدلؔ کہ تم کھڑے ہو کر

حُضور رَوضۂ خَـیْـرُ الْـبَـشَـر دُرُود پڑھو[3]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!        صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

آقاکا جدول

کاشانۂ اقدس کا جدول

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ طیبہ کے حالات و واقعات پر مُشْتَمِل حضرت سَیِّدُنا اِمام حُسَین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والِد ماجِد حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے پوچھا کہ آقائے دو۲ جہاں، مکینِ لامکاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جو وَقْت اپنے دولت خانہ میں گزرتا تھا آپ اس میں کیا کیا کر تے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں داخِل ہوتے تو اس میں قِیام کے وَقْت کے تین۳ حصّے کر لیتے تھے:٭…ایک حِصّہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  (کی عِبَادَت) کے لئے٭دوسرا اپنے اَہْل (یعنی گھر والوں) کے لئے اور ٭…تیسرا اپنی ذاتِ اَقْدَس کے لئے۔

پھر اپنے ذاتی حِصّہ کو اپنے اور عام لوگوں کے درمیان تقسیم کر لیتے:

٭…قریبی  صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو دولت خانہ میں حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتے،آپ ان کے وسیلے سے عوام کو جو دولت خانہ میں حاضِر نہ ہوا کرتے تبلیغِ اَحْکام فرماتے اور نصیحت و ہِدَایَت کی کوئی بات عام وخاص سے پوشیدہ  نہ رکھتے۔

٭…حِصّۂ اُمَّت  میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طریقہ یوں تھا کہ اَہل فَضْل[4]


 

 کو ترجیح دیتے تاکہ حاضِرِ خِدْمَت ہو کر دوسرے لوگوں کو زیادہ  نَفْع پہنچا سکیں اور اس حِصّۂ اُمَّت  کو دینی ضَرورتوں کے مُطابِق تقسیم فرماتے۔

٭…اَہْلِ فَضْل میں سے کسی کو ایک دینی مسئلہ دَرْیَافْت کرنا ہوتا،کسی کو دو۲ اور بعض کو بَہُت سے مَسَائِل کی ضَرورت ہوتی،تو حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان اَصْحَابِ حاجات کی طرف تَوَجُّہ فرماتے اور ان کو وُہی اُمُور دَرْیَافْت کرنے دیتے جن میں اُمَّت  کی بہتری ہوتی،پھر ان کے مُناسِبِ حال اَحْکام بیان فرماتے۔

٭…اسکے بعد آپ حاضِرِینِ مَـجْلِس سے اِرشَاد فرماتے کہ تمہیں چاہئے کہ بقیہ اُمَّت کو جو حاضِر نہیں یہ اَحْکام پہنچا دو اور جو لوگ (مثلاً عورتیں،بیمار، غائب وغیرہ) اپنی حاجتیں مجھ تک پہنچا نہیں سکتے، تم ان کی حاجتوں کو مجھ پر پیش کرو کیونکہ جو شخص ایسےآدمی کی حاجَت بادشاہ تک پہنچاتا ہے جسے وہ خود نہیں پہنچا سکتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قِیامَت کے دن اس کے قَدَم (پُل صِراط پر)ثابِت رکھے گا۔

٭…اسی طرح کے ضَروری اُمُور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں پیش ہوا کرتے کہ جن میں کچھ فائدہ ہوتا اور ایسے اُمُور کی سَماعَت نہ ہوتی جن میں کچھ فائدہ نہ ہوتا۔

٭…طالِب اور سائِل دولت خانہ میں خِدْمَتِ اَقْدَس میں حاضِر ہوتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عِلْم سیکھتے اور لوگوں کے رہبر بن کر نکلتے۔


 

کاشانۂ اقدس سے باہر کا جدول

 حضرت امام حُسَین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے اپنے والِد بزرگوار سے پوچھا کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جو وَقْت گھر سے باہَر گزرتا تھا آپ اس میں کیا کیا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا:

٭…آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَکْثَر خاموش رہتے اور بجز مُفِید و ضَروری اَمْر کے لَب کُشائی نہ فرماتے۔

٭…آپ لوگوں کو (حُسْنِ خُلْق سے)اپنا گرویدہ بناتے اور ایسی بات نہ کرتے جس سے وہ آپ سے نَفْرَت کرنے لگیں۔

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر قوم کے بُزُرْگ کی عِزّت کر تے اور اسی کو ان کا سردار بناتے۔

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو (نیکیاں کرنے پر اُبھارتے اور عَذابِ اِلٰہی سے) ڈراتے،خود کو ان (جیسے کاموں میں مُبْتَلا ہونے)سے بچاتے اور ہمیشہ حُسْنِ اَخلاق سے کام لیتے۔

٭…اپنے اَصْحَاب کی خَبَر گیری فرماتے (مثلاً مریض کی عِیادَت،مُسَافِر کے لئے دُعا اور میّت کے لئے اِسْتِغْفار فرماتے)۔

٭…اپنے خاص اَصْحَاب سے لوگوں کے حالات دَرْیَافْت فرماتے (تاکہ ظالِم سے مظلوم کا بَدْلَہ لیں)۔


 

٭…جب آپ کسی مَـجْلِس میں رونق اَفروز ہوتے تو جو جگہ خالی پاتے وہیں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی یہی حکْم دیتے۔

٭…جو لوگ آپ کے پاس بیٹھتے آپ ان میں سے ہر ایک کو (اس کی حَالَت و حاجَت کے مُطابِق تعلیم و تفہیم سے) فیض یاب فرماتے۔

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہر ایک جَلِـیْس (یعنی صُحْبَت سے فیضیاب ہونے والا) یہ سمجھتا کہ آپ کے نزدیک مجھ سے زیادہ کوئی بُزُرْگ نہیں۔

٭…جو شخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھتا یا کسی حاجَت کےلئے آپ سے کلام کر تا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے ساتھ اسی حَالَت میں ٹھہرے رہتے یہاں تک کہ وہ خود واپس ہوجاتا۔

٭…جو شخص آپ سے کسی حاجَت کا سوال کرتا آپ اس کی حاجَت کو پورا کرتے یا اس سے کوئی نَرْم بات فرماتے (یعنی وعدہ فرماتے یا فرماتے کہ فلاں سے ہمارے ذِمَّہ قَرْض لے لو) ۔

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوش مِزاجی اور حُسْنِ اَخلاق تمام لوگوں کے لئے عام تھا۔

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (بَلِـحَاظِ شَفْقَت) سب کے باپ ہو گئے تھے اور وہ آپ کے نزدیک حَق میں برابر تھے (حَسْبِ حَال و اِسْتِحْقَاق ہر ایک کی حَق رسانی ہوتی)۔


 

٭…آپ کی مَـجْلِس حِلْم و حَیا و اَمَانَت و صَبْر کی مَـجْلِس ہوا کرتی تھی، اس میں آوازیں بُلَند نہ ہوا کرتیں اور نہ اس میں کسی کی آبروریزی ہوتی اور نہ اِشاعَتِ  ہَفْوات (یعنی بُری باتوں کی اِشاعَت) ہوتی۔  

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَـجْلِس میں سب برابر تھے، ہاں بَلِـحَاظِ تقویٰ بعض کو بعض پر فضیلت تھی۔ وہ سب عاجزی کرنے والے تھے جو مَـجْلِس مُبارَک میں بڑوں کی توقیر چھوٹوں پر رحم کرتے اور صَاحِبِ حاجَت ( ضَرورت مند) کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے اور مُسَافِر و اجنبی کے حَق کی طرف داری کرتے۔ [5]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرورِ ذیشان، مالِکِ کون ومکان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عَظَمَت نِشان پر قُربان!جس کے مُتَعَلِّق خدائے رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ اپنے پاک قرآن میں اِرشَاد فرماتا ہے:

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ ۲۹، القلم: ۴)

ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک تمہاری خُو بُو (یعنی عادَت ، خَصْلَت )بڑی شان کی ہے۔

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  مَـحْبُوبِ ربِّ دَاوَر،شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسی خُلقِ عظیم کو کچھ یوں خراجِ عقیدت


 

 پیش کرتے ہیں:

تیرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا تیری خِلْق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا تیرے خَالِقِ حُسن و ادا کی قسم[6]

مشکل الفاظ کے معانی: خِلْق: پیدائش، فِطْرَت۔ شہا: بادشاہ ، سلطان، آقا۔ حُسْن و اَدا: حُسْن و جَمال اور عاداتِ مُبارَکہ ۔

شَرْحِ کلامِ رضا:یَارَسُولَاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے اَخلاقِ حسنہ کو بَہُت بڑا قرار دیا ہےاور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وِلادَتِ باسَعَادَت کی تکمیل بھی بَہُت خُوبْصُورَت فرمائی۔ اے میرے کریم آقا! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خُوبْصُورَتی اور عَادَاتِ مُبارَکہ کو پیدا کرنے والے کی قسم! آپ جیسا نہ کوئی ہوا اور نہ ہی کبھی کوئی ہوگا۔

اے کاش!ہمیں بھی کچھ مل جاتا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم اس دنیا میں جس قَدْر نِعْمتوں سے سرفراز ہیں، وہ سب درِ مصطفےٰ کا صَدْقَہ ہیں جیسا کہ بخاری شریف میں فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:بے شک میں تقسیم کرنے والا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ عطا کرنے والا  ہے۔[7]چُنَانْچِہ عاشِقِ اعلیٰ حضرت، شَیْخِ طَرِیْقَت،اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بارگاہِ رِسَالَت


 

میں خُلقِ عظیم کے حُصُول کے لیے کچھ یوں عَرْض کرتے ہیں:

خُلقِ عظیم سے مجھے حِصّہ عَطا کرو!

بےجا ہنسی کی خَصْلَتِ بد کو نکال دو[8]

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

٭…کاش! خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا  اور ہماری بے جا ہنسی کی عادَت نِکَل جاتی اور اس کی جگہ خوفِ خُدا و عِشْقِ مصطفےٰاور گناہوں پر نَدامَت سے رونے والی آنکھیں نصیب ہو جاتیں۔

٭…کاش! خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم فُضُول اور لا یعنی کلام کرنے کے بجائے اَکْثَر وَقْت تِلَاوَتِ قرآن،کَثْرَتِ دُرُود، اورادووَظائف اور نیکی کی دَعْوَت میں مَشْغُول رہتے۔

٭…کاش! خُلْقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم اپنی بد اخلاقی سے لوگوں کو دُور کرنے کے بجائے اچھی اچھی نیّتوں سے اچھا اَخلاق پیش کرتے اور انہیں دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَاحَول سے وَابَسْتہ کر کے مَدَنی  کاموں میں لگاتے اور صَدَقَۂ جاریہ کا ثواب کماتے۔

٭…کاش! خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم اپنے تنظیمی نِگران وماتحت اِسْلَامی بھائیوں کی خَبَر گیری کرتے، بیماروں کی عِیادَت کرتے، مَدَنی قافلوں میں سَفَر


 

 کرنے والوں کی حَوْصَلہ افزائی کرتے، واپسی پر دل جُوئی کرتے، ڈھیروں ثواب پانے کےلئے،اِنْتِقَال کرنے والے کے جنازے، تدفین، تیجے،چہلم و برسی میں شِرْکَت کرنے کی کوشِش کرتے۔

٭…کاش!خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم مَدَنی کاموں کی اچھی کارکردگی پر اپنے اسلامی بھائیوں کی حَوْصَلہ افزائی کرکے مسلمان کے دل میں خوشی داخِل  کرنے کی سَعَادَت پاتے۔شَیْخِ طَرِیْقَت،اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:حَوْصَلہ افزائی کی حاجَت ایک دن کے بچے اور 100 سالہ بوڑھے کوبھی ہے۔

٭…کاش!خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اور ہم کبھی سُستی کبھی چُستی، کبھی دَرْس دیا کبھی ناغہ،کبھی اجتماع میں اوّل تا آخر شرکت اور کبھی چھٹی، کبھی مَدَنی  قافلے میں سفر کیا اور کبھی یونہی مہینوں گزار دیئے، جوش چڑھا تو روز فِکْرِ مدینہ ورنہ مَدَنی انعامات کا رسالہ تک جیب میں نہیں، کبھی روزوں کی بہار کبھی غَفْلَت کے ڈیرے،کبھی پیٹ کے قُفْلِ مدینہ کا عَزْم اور پھر شکم سیری، کاش ! اس نشیب و فراز کے بجائے ہم مَدَنی  کاموں میں اِعْتِدَال یعنی میانہ روی پاتے۔

٭…کاش! خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم مَدَنی  مشوروں،اِنْفِرَادِی کوششوں، ایس ایم ایس SMS،ای میل(E mail)، واٹس ایپ (Whats app)، فون (Phone)اور مَکْتُوب وغیرہ کے ذریعے اپنے اسلامی بھائیوں کو غَفْلَت و سُستی سے جگانے کی کوشِش کرتے رہتے۔


 

٭…کاش! خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم اِجْتِمَاع و مَدَنی  مشورے وغیرہ میں نمایاں ہونے کی خواہش نہ کرتے۔

٭…کاش!خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم مَخْصُوص گروپ اور جوڑی بنانے کے بجائے ہر اسلامی بھائی کے ساتھ یکساں سُلُوک کرتے اور اِس انداز سے رہتے کہ ہم ہر دِلعزیز بن کر سنّتوں کی وسیع پیمانے پر خِدْمَت کر جاتے۔

٭…کاش! خُلقِ عظیم سے ہمیں حِصّہ عَطا ہو جاتا اورہم حلِم و بُردباری، شرم و حَیا، صَبْر ورضا، دھیما لہجہ اور اِحْتِرامِ مسلم کی سعادتیں پاتے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!           صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیْثِ پاک سے ماخوذ مدنی پھول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جوحدیثِ پاک اَوّلاً مَذْکُور ہوئی ہے، اس میں ہمارے لیے مَدَنی تَرْبِیَت کے بے شُمار مشکبار مَدَنی پھولوں میں سے ایک مَدَنی پھول یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اُمُور کو انجام دینے کے لئے اَوقات مُقَرَّر کر لیں یعنی ایک مَخْصُوص جَدْوَل بنا کر اس کے مُطابِق ہی کام کریں۔جیسا کہ ہمارے سرکار، دو۲ عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اوقات کو تقسیم فرما رکھا تھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے روزانہ کے معمولات ایک مَخْصُوص جَدْوَل کے تحت سراَنْجَام دیا کرتے تھے۔

جدول کیا ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جَدْوَل تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک


 

 دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مہکے مہکے مَدَنی مَاحَول میں کَثْرَت سے بولی جانے والی ایک خاص اِصْطِلَاح ہے جس کا مَطْلَب یہ ہے کہ ہر ایک اسلامی بھائی اور اسلامی بہن اپنے روز مرّہ کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے دن رات کے اَوقات کو اس طرح ترتیب دے کہ اسے بَخُوبی یہ بات مَعْلُوم ہو کہ اس نے  فلاں کام فلاں وَقْت میں سر اَنْجَام دینا ہے۔ یہ لفظ نیا  ہے نہ یہ اِصْطِلَاح نئی ہے، بلکہ اسے ہر کوئی جانتا ہے اور یہ انگریزی زبان کے لَـفْظ شیڈول (Schedule) کا ترجمہ ہے۔[9]

جَدْوَل کی اَہَمِیَّت و ضَرورت

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!نِظامِ کائنات میں غور کریں تو ہر جگہ قُدْرَتِ خُداوندی کے جلوے دکھائی دیتے ہیں اور ہر شے ایک خاص نِظام و جَدْوَل (Schedule) کے تَحْت نَظَر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کائناتِ ہستی میں ہر شے کا ایک مَخْصُوص نِظام و جَدْوَل کے تَحْت  ہونا جہاں وُجُودِ باری تعالیٰ کی واضح دلیل ہے، وہیں وہ خالِق و مالِک عَزَّ  وَجَلَّ کے قادِر و حکیم ہونے کی بھی ایک واضح دلیل ہے کیونکہ اس نِظامِ ہستی میں وُہی زِنْدَگی و موت کا مالِک ہے، یہاں کوئی اس کی مرضی کے بغیر جی سکتا ہے نہ مر سکتا ہے، اس نے اپنی حِکْمَت سے ہر شے کا ایک مَربُوط نِظام وَضْع فرما رکھا ہے،جو اس کی مرضی کے مُطابِق جب تک وہ چاہے گا یونہی قائم و دائم رہے گا۔قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر اس نے اپنے اس نِظامِ حِکْمَت کو بیان بھی کیا ہے،جیسا کہ اِرشَاد ہوتا ہے: لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ٘-(پ۷، الانعام:۶۷)


 

 ترجمۂ کنز الایمان: ہر خَبَر کا ایک وَقْت مُقَرَّر ہے۔صَدْرُ الاَفاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْہَادِی اس آیتِ مُبارَکہ کے تَحْت فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے جو خبریں دیں ان کے لئے وَقْت مُعَیَّن ہیں، ان کا وُقُوع ٹھیک اسی وَقْت ہو گا۔[10] مثلاً اس نے موت کا وَقْت مُتَعَیَّن کیا تو اس کے مُتَعَلِّق کچھ یوں اِرشَاد فرمایا:

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ (پ۲۴، اَلزُّمَر:۴۲)

ترجمۂ کنز الایمان:اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وَقْت۔

ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

وَ  مَا  كَانَ  لِنَفْسٍ  اَنْ  تَمُوْتَ  اِلَّا  بِاِذْنِ  اللّٰهِ  كِتٰبًا  مُّؤَجَّلًاؕ- (پ۴، اٰلِ عِمْرٰن:۱۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان:اور کوئی جان بے حکْمِ خُدا مَرنہیں سکتی سب کا وَقْت لکھا رکھا ہے۔

اسی طرح چاند اور سورج کے طُلُوع و غُرُوْب کا ایک مَخْصُوص جَدْوَل ترتیب دیا کہ ہزاروں سال سے اسی پر عَمَل کر رہے ہیں اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب تک وہ چاہے گا، اسی طرح اپنے مَخْصُوص وَقْت پر طُلُوع و غُرُوْب ہوتے رہیں گے، جیسا کہ اِرشَاد ہوتا ہے:

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىٕبَیْنِۚ- (پ۱۳، ابراهیم:۳۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے لیے سورج اور چاند مُسَخّر کیے جو برابر چل رہے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے اس کارخانۂ قُدْرَت میں مَوجُود ہر قسم کے نِظام کو اپنی حِکْمَت سے چلا رہا ہے اور اس نے اَشْرَفُ الْـمَخْلُوْقَات کا تاج ہمارے سر پر سجا


 

کر ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے، چُنَانْچِہ ہم پر لازِم ہے کہ ہم اس کی عَطا کردہ حِکْمَت و دانائی سے کام لیں  اور اپنے ہر قسم کے اُمُور کو سر انجام دینے کے لئے مَخْصُوص قَوَاعِد و ضَوَابِط بنائیں،تاکہ ہمارا ہر کام دُرُسْت و مُنَظَّم ہو، ورنہ یاد رکھئے! دیگر مَـخْلُوقات مَثَلًا حیوانات بھی تو ہماری طرح کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے  ہیں،ان کے بھی ہماری طرح ہاتھ پاؤں، ناک، کان اور دل و دماغ ہیں، اگر ہمارے کاموں میں بے ڈھنگا پن ہو گا تو ہم میں اور دیگر حیوانات وغیرہ میں کیا فرق باقی رہے گا۔ لِہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اَوقات کا جَدْوَل بنائیں اور پھر اس پر حَتَّی الْاِمْکَان کاربند ہو جائیں۔ جیسا کہ اَوّلاً بیان ہو چکا ہے کہ شاہِ خَیرُ الاَنام،محبوبِ ربِّ سلام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا ہر کام مَخْصُوص جَدْوَل کے مُطابِق سر اَنْجَام دیا کرتے تھے اور عِبَادَت و رِیَاضَت ہو یا گھر کے کام کاج، ہر ایک کام کو مُناسِب وَقْت عَطا فرماتے۔

جَدْوَل کا فائدہ

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے: بندے کا غير مُفِید کاموں میں مَشْغُول ہونا، اس بات کی عَلامَت ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس سے اپنی نَظَرِ عِنَایَت پھیر لی ہے اور جس مَقْصَد کے ليے انسان کو پيدا کيا گيا ہے، اگر اس کی زِنْدَگی کا ايک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گيا تو وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس پر عرصۂ حَسْرَت دراز کر ديا جائے۔[11]اور جس کی عمر 40 سال سے زيادہ ہو جائے اور اس


 

کے باوُجُود اُس کی بُرائيوں پر اس کی اَچھائياں غالِب نہ ہوں تو اسے جہنّم کی آگ میں جانے کے ليے تیّار رہنا چاہيے۔[12]

نارِ دوزخ سے مجھ کو اَماں دے            مغفرت کرکے باغِ جِناں دے[13]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سے پہلے کہ موت ہمیں دنیا سے کوچ کا پروانہ تھما دے، ہمیں چاہئے کہ جلد از جلد اپنے اَوقات کو نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے میں صَرف کرنے لگیں، کیونکہ بروزِ قیامت ہم سے ہمارے اَوقات، اَعمال، وَسَائِل اور مُعَامَلات سبھی کا حِساب لیا جائے گا۔ جیسا کہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: انسان بروزِ قِیامَت اپنے رب کی بارگاہ سے اس وَقْت تک قَدَم نہ ہٹا سکے گا جب تک پانچ۵ سُوالات کے جوابات نہ دے لے:(۱)تم نے زِنْدَگی کیسے بَسَر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری ؟ (۳)مال کہاں سے کمایا ؟ (۴)اور کہاں کہاں خرچ کیا؟(۵)اپنے علم کے مُطابِق کہاں تک عَمَل کیا ؟ [14]

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شُمار جُرْم     دیتا ہوں واسِطہ تجھے شاہِ حجاز کا[15]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہم آخِرَت میں سرخروئی چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضَروری ہے کہ اپنے اَوقات کو ایک مَخْصُوص جَدْوَل کے مُطابِق تقسیم کر کے اسی کے مُطابِق زِنْدَگی بَسَر کریں، کیونکہ جَدْوَل کے مُطابِق زِنْدَگی بَسَر کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہماری تمام تر تَوَجُّہ اس کام کو سر اَنْجَام دینے میں صَرف ہو گی کہ جس کا جَدْوَل کے مُطابِق وَقْت ہو گا اور یوں روزانہ کے کام اپنے اپنے وَقْت پر پایۂتکمیل کو پہنچنے سے ہماری سُستی خَتْم ہو گی، چُستی پیدا ہو گی، کام میں لگن اور تَوَجُّہ  سے نِکھار آئے گا، ہر کام کو اس کے وَقْت میں خَتْم کرنے اور اپنے اَہْدَاف کو حاصِل کرنے سے مُعَاشَرْتی و مَعَاشِی فوائد بھی حاصِل ہوں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

ہمارا جدول کیسا ہونا چاہیے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جَدْوَل کی پابندی نہ کی جائے تو جہاں بَہُت سا وَقْت ضائع ہوتا ہے، وہیں بسا اَوقات کام میں یکسوئی بھی حاصِل نہیں ہوتی، کیونکہ ایک کام کرتے وَقْت ذِہْن دوسرے کام میں لگا رہتا ہے۔ یوں کوئی بھی کام وَقْت پر نہیں ہو پاتا۔اسی طرح کاموں کی کَثْرَت میں بسا اَوقات اَہَم کام بھولنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔ لِہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے اَوقات کا مَخْصُوص جَدْوَل بنا لیں تاکہ ہم ہر کام کو وَقْت پر اور اِسْتِقَامَت سے ادا کر سکیں۔چُنَانْچِہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ادا پر عَمَل کرتے ہوئے ہمیں اپنا جَدْوَل کچھ یوں ترتیب دینا چاہئے کہ اس میں کچھ


 

وَقْت فرائض کے عِلاوہ نَفْل عِبَادَت و رِیَاضَت کے لیے مَخْصُوص ہو، کچھ وَقْت گھر والوں کے لیے خاص ہو، کچھ وَقْت عِلْمِ دین سیکھنے سکھانے میں صَرف ہو، کھانے پینے اور سونے جاگنے کے اَوقات بھی مَخْصُوص ہوں۔آئیے ذرا ایک مُـخْتَصَر جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارا روز مَرّہ کا جَدْوَل کیسا ہونا چاہئے؟

عِبادت و ریاضت کا جَدْوَل

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرورِ اَنۢبِیَا، حبیبِ کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عِبَادَت  کا یہ عالَم تھا کہ کَثْرَتِ قِیام کے سَبَب پاؤں مُبارَک پر ورم آ جاتا۔ عَرْض کی جاتی:آپ یہ مَشَقَّت و تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں؟اِرشَاد فرماتے:کیا میں ربّ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔[16] اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیّدَ تُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام رات نماز میں کھڑے رہے اور قرآن کی ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے۔[17] حضرت سَیِّدُنا مُلَّا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ وہ آیَتِ مُبارَکہ یہ تھی:

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸) (پ۷،المائدة:۱۱۸)

 ترجمۂ کنز الایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بےشک تو ہی ہے غالِب حِکْمَت والا۔[18]


 

سویا کئے نابکار بندے                رویا کئے زار زار آقا[19]

مشکل الفاظ کے معانی: نابکار: نالائق، زار زار: بہت زیادہ رونا۔

شرح کلام رضا:نالائق اور نکمے بندے ساری ساری رات غَفْلَت میں سوئے رہتے ہیں مگر ہمارے پیارے آقا، دو۲ عالَم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس قَدْر شفیق ہیں کہ  اُمَّت کی مَغْفِرَت  کے لیے رو رو کر دُعا  کرتے رہتے ہیں۔ 

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی کوئی نیکی کا کام کرتے تو اس کو ہمیشہ بجا لاتے۔چُنَانْچِہ ،

اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مَرْوِی  ہے  کہ رسولِ پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عَرْض کی گئی:اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کا پسندیدہ  عَمَل کون سا ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد  فرمایا: وہ عَمَل جو اگرچہ تھوڑا ہو مگر دائمی ہو۔ [20] یہ تو عام دِنوں میں ہمارے آقا،حبیْبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عِبَادَت کا حال تھا، مگر خاص مَوَاقِع پر عِبادات کا عالَم ہی جُدا ہوتا، مَثَلًا جب رمضان شریف آتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز کی کَثْرَت فرماتے اور خوب عاجزی و انکساری سے دُعائیں مانگتے۔[21] یہی نہیں بلکہ ایک رِوایَت میں ہے کہ رمضان المبارک


 

 کی آمدکے مَوْقَع پر عِبَادَت کے لئے اس طرح کَمربَستہ ہو جاتے کہ پورا مہینہ بِسترِ مُنَوَّر پر تشریف ہی نہ لاتے۔[22] حضرت سَیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام رمضان المبارک کی ہر رات حاضِرِ خِدْمَت ہوتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ساتھ قرآنِ عظیم کا دَور[23] فرماتے۔[24] چُنَانْچِہ ہمیں بھی ہر وَقْت بِالْخُصُوص رمضان المبارک وغیرہ کے مَوَاقِع پر عِبَادَت کے لیے کمر بستہ رہنا چاہئے۔

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!عِبَادَت و رِیَاضَت پر اِسْتِقَامَت پانے کا سب سے آسان ذریعہ یہ ہے کہ روزانہ فِکْرِ مدینہ کے ذَرِیعے شَیْخِ طَرِیْقَت،اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی اِنْعَامَات پر عَمَل کرنے کا مَعْمُول بنالیں، اس طرح جہاں ہمارا گناہوں سے بچنے کا ذِہْن بنے گا، وہیں ہمیں اَوراد و وَظَائِف،کَثْرَتِ دُرُود،اِشْرَاق و چاشت، اَوّابین،تَـھَجُّد،نمازِ توبہ،تَحِـیَّةُ الْـمَسْجِد، تَحِـیَّةُ الْوُضُو،تین۳ آیات مع ترجمۂ کَنْزُ الْاِیمَان، تفسیر خَزَائِنُ الْعِرْفَان یا نُورُ الْعِرْفَان یا صِرَاطُ الْجِنَان کے ساتھ تِلاوَت کی سَعَادَت بھی نصیب ہو گی اور اس کے عِلاوہ بھی بے شُمار فوائد و بَرَکَات حاصِل ہوں گی۔ 

عَمَل کا ہو جذبہ عطا یا الٰہی                  گناہوں سے مجھ کو بچا یا الٰہی

میں پڑھتا رہوں سنّتیں، وَقْت ہی پر       ہوں سارے نوافِل ادا یا الٰہی


 

دے شوقِ تِلاوَت دے ذوقِ عِبَادَت      رہوں باوضُو میں سدا  یا الٰہی[25]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت،مُجَدّدِ دىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 538 پر حضرتِ سَیِّدُنا جنیدِ بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالوَالِی کا ایک قول نقل کرتے ہیں:میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض اور واجبات تو بڑی چیز ہیں،جو نَوَافِل و مستحبات مُقَرَّر کر لئے ہیں، بے عُذرِ شَرْعِی اُن میں سے کچھ کم نہ کروں۔قربان جایئے!شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر کہ اپنی بے حد تحریری اور تنظیمی مَصْرُوفِیات کے باوُجُود اوراد و وَظائف،نَمازِ اِشْرَاق و چاشت وغیرہ تَرْک نہیں فرماتے۔ آپ روزانہ مَغْرِب کے فَرْض و سنّتوں سے فارِغ ہو کر اَوَّابِین کے نَوَافِل میں یا یونہی سورۂ یسٰین اور سورۂ ملک کی تِلاوَت اِسْتِقَامَت سے فرماتے ہیں۔ کاش! ہمیں بھی روزانہ ان سورتوں کی تِلاوَت پر مُدَاوَمَت (ہمیشگی)نصیب ہو جائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

گھریلو کام کاج کا جدول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!گھر کے کام کاج کرنا سنّت ہے، جیسا کہ شِفا شریف میں ہے کہ ہمارے سرکار،دو۲عالَم کے مالِک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گھر میں اَہْلِ خانہ کا ہاتھ بٹایا کرتے، اپنے کپڑوں کو صاف کرتے،بکری کا دودھ دوہتے، کپڑوں میں پیوند


 

لگا لیتے، نعلین گانٹھ لیتے، اپنے کام خود کرتے، (بعض اَوقات) گھر کی صفائی بھی کر لیتے، اُونْٹ کو باندھنے کے علاوہ اس کے چارہ کی بھی ترکیب بنا دیتے، آٹا بھی (بسا اَوقات) گوندھ دیتے اور بازار سے سودا سلف بھی خود لاتے۔ [26]

تِری سَادَگی پہ لاکھوں تِری عاجِزی پہ لاکھوں ہوں سلام عاجِزانہ مَدنی مدینے والے

تِراخُلق سب سے بالا تِرا حُسن سب سے اعلیٰ       فِدا تجھ پہ سب زمانہ مَدنی مدینے والے

یہ کرم بڑا کرم ہے تِرے ہاتھ میں بھرم ہے      سرِ حشر بخشوانا مَدنی مدینے والے[27]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

لِہٰذا ہمیں تنظیمی و کاروباری مصروفیات کے عِلاوہ گھر کے کاموں کو بھی روز مَرّہ کے جَدْوَل میں شامِل کرنا چاہیے اور ماں باپ،بہن بھائیوں،بال بچوں کے لئے بھی وَقْت نکالنا چاہئے اور ہمیں اپنے گھر میں مَدَنی  مَاحَول بنانے کے لئے شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ 19مَدَنی پھولوں کے مُطابِق عَمَل کرنا چاہئے۔یہ 19مَدَنی پھول مَدَنی اِنْعَامَات کے رسالے میں مَوجُود ہیں۔ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصْلَاح کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر والوں کی اِصْلَاح کی کوشش بھی کرتے رہنا چاہئے، چُنَانْچِہ پارہ28، سُوْرَةُ التَّحْرِیْم،آیت نمبر6 میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِرشَاد  فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو ! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے


 

الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)

ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سخت کرّے (طاقتور) فرشتے مُقَرَّر ہیں،جواللہ کا حکْم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکْم ہو وہی کرتے ہیں۔

رَسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ مُبارَکہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے تِلاوَت کی تو وہ عَرْض گزار ہوئے: یا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم اپنے اَہْل و عَیال کو آتشِ جہنّم سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟اِرشَاد فرمایا: تم اپنے اَہْل و عَیال کو ان چیزوں کا حکْم دوجو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو مَـحْبُوب یعنی پسند ہیں اور اُن کاموں سے روکو جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔[28]

ایک اسلامی بھائی کا واقعہ

جواسلامی بھائی گھر کا کام کاج کرتے ہیں، سودا سلف لاتے ہیں، بوڑھے ماں باپ کی خِدْمَت کرتے ہیں، ضرورتاً اِن کو دوا وغیرہ دِلاتے ہیں، بہن بھائیوں، بال بچوں کا خَیال کرتے ہیں، اِنہیں وَقْت دیتے ہیں تو اِن کی نیکی کی دَعْوَت گھر میں بھی مُؤثِّر  ہو جاتی ہے، ورنہ گھر والے مَدَنی  کاموں میں حائل ہو سکتے ہیں۔

ایک مُبَلِّغِ دَعْوَتِ اِسْلَامی کا بیان ہے کہ ایک اِسْلَامی بھائی میرے پاس تشریف لائے،جب اُنہیں مَدَنی قافلے وغیرہ میں سَفَر کی دَعْوَت دی گئی تو وہ کہنے لگے: مجھے گھر سے اِجازَت نہیں ملتی، میرے بڑے بھائی مجھے مَدَنی  قافلے میں جانے دیتے ہیں نہ


 

اِجْتِمَاع میں۔ وہ مُبَلِّغِ دَعْوَتِ اِسْلَامی چونکہ تجربے کار تھے، جھٹ بولے:میں آپ کو بتاؤں کہ گھر والے آپ کو مَدَنی قافلے اور ہفتہ وار اِجْتِمَاع کی کیوں اِجازَت نہیں دیتے۔ آپ گھر کا کام نہیں کرتے ہوں گے، بڑوں کا کہنا نہیں مانتے ہوں گے۔ اُس اسلامی بھائی نے فوراً اقرار کیا،ہاں واقعی بات یہی ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہم اپنے گھر میں مَدَنی مَاحَول بنانا چاہتے ہیں تو گھر والوں کا جائز کہنا بجا لائیں، گھر کے کام کاج کریں،  بر وَقْت گھر پہنچیں،  اپنے اَخلاق گھر میں بھی دُرُسْت رکھیں، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کے گھر میں بھی مَدَنی مَاحَول بنتا چلا جائے گا۔

بہار آئے محلے میں مِرے بھی یا رسولَ اللہ

ادھر بھی تو جھڑی برسے کوئی رحمت کے بادل سے[29]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

علمِ دین سیکھنے سکھانے کا جدول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے جَدْوَل میں عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کو بھی شامِل ہونا چاہئے ، دینی کتابوں کا مُطَالَعَہ اس کے لیے از حد مُفِید ہے،مُفِیدکُتُب کے مُطَالَعَہ سے ہم بیان، انفرادی کوشش، مَدَنی  مشوروں وغیرہ میں بہتر انداز سے اپنی ذِمَّہ  داری پوری کر سکتے ہیں۔شَیْخِ طَرِیْقَت،اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بِالْخُصُوص تین۳ کتابوں کا مُطَالَعَہ  کرتے رہنے کا فرماتے رہتے ہیں:(1)بہارِ شریعت(2)اِحیاءُ العلوم (3) فتاویٰ رضویہ۔


 

     دَعْوَتِ اِسْلَامی میں ایسے اسلامی بھائیوں کی ایک تعداد ہے جو کہ کنزُ الایمان مع تفسیر خزائن العرفان/ نور العرفان اور فتاویٰ رضویہ مکمل پڑھ چکے ہیں۔فیضانِ سنّت تو ہمیں بار بار پڑھنی چاہئے بِالْخُصُوص غیبت کی تباہ کاریاں اور نیکی کی دعوت کا مُطَالَعَہ تو جاری ہی رہنا چاہئے،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!اِس میں سے سینکڑوں بیانات تیّار کئے جاسکتے ہیں۔ کاش! شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتب و رسائل کا مُطَالَعَہ  ہمیں نصیب ہو جائے۔کفریہ کلمات کے بارےمیں سوال جواب،نماز کے احکام،پردے کے بارے میں سوال جواب، چندے کے بارے میں سوال جواب‘‘ کا مُطَالَعَہ  کاش! نصیب ہو جائے، مَاشَاءَاللہعَزَّ وَجَلَّ جنہیں ذوق نصیب ہوا ہے، وہ روزانہ ایک رسالہ بھی پڑھ لیتے ہیں۔ اَذان ہوتے ہی نَماز کی تیاری شروع کر دینے والے خوش نصیب اسلامی بھائی بھی سنّتِ قبلیہ ادا کرنے کے بعد رسائل پڑھتے دیکھے گئے ہیں،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی ذوق نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

دعوتِ اسلامی کے103شعبوں  میں سے مَدَنی عُلَما پر مُشْتَمِل شعبے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہ کی جاری کردہ کتابیں بھی ہمارے زیرِ مُطَالَعَہ  رہنی چاہئیں۔ مثلاً تفسیر صِرَاطُ الْجِنان،جنّت میں لے جانے والے اَعمال،جہنّم میں لے جانے والے اَعمال (جلد اوّل و دوم)۔ اِن میں بے شُمار بیانات ہیں،اِسی طرح کتاب باطنی بیماریوں کی معلومات، حکایتیں اور نصیحتیں، حضرتِ عمر بن عبد العزیز رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی 425 حکایات، 152 رحمت بھری حکایات،


 

آسان نیکیاں،گلدستۂ دُرُود و سلام، سیرتِ مصطفےٰ،سیرتِ رسولِ عربی،نیک بننے اور بنانے کے طریقے،جنّت کے طلب گاروں کیلئے مدنی گلدستہ، خوفِ خدا،توبہ کی روایات و حکایات وغیرہ کتابوں کا بھی ہمیں مُطَالَعَہ  کرتے رہنا چاہئے۔ رسائلِ دَعْوَتِ اِسْلَامی کا مُطَالَعَہ بھی تنظیمی ذِمَّہ داران کے لئے بے حد ضَروری ہے، اس کتاب میں تنظیمی مَدَنی تَرْبِیَت کے رسائل ہیں مثلاً اِحْسَاسِ ذِمَّہ داری، مَدَنی کاموں کی تقسیم،مَدَنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے، وَقْفِ مدینہ،مَدَنی مشورے کی اَہَمِیَّت اور تَعارُفِ دَعْوَتِ اِسلامی۔

سدا سُنّتیں عَام کرتا رہوں میں

اِسی حال میں موت سرکار آئے[30]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کھانے اور سونے کا جدول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سلامتی کے تین۳ اُصول ہیں:(1) کم کھانا (2) کم بولنا (3) کم سونا۔اگر اِن پر عَمَل کرنا یعنی کم کھانا،کم بولنا اور کم سونا نصیب ہو جائے تو اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش کے لئے ہمیں وافِر وَقْت  مل جائے گا۔مثلاً پیٹ کا قُفْلِ مدینہ ہی نصیب ہو گیا تو کم بولنا اور کم سونا آسان ہو جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کتاب پیٹ کا قُفْلِ مدینہ لکھی تو ایسا قُفْلِ مدینہ لگایا کہ آپ کا وَزْن تقریباً ساڑھے بائیس کلو (22.5 kg)کم ہو گیا۔


 

خدایا میں عمدہ غذائیں نہ کھاؤں        غَمِ مصطفےٰ میں بس آنسو بہاؤں[31]

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نیند کتنی اور کب کی جائے؟

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!جَدْوَل میں جہاں تک نیند کا تَعَلّق ہے تو ہمیں مَدَنی اِنْعَامَات پر عَمَل کرتے ہوئے رات کو بعدِ عشا 2 گھنٹے کے اندر اندر سو جانا چاہئے، یقیناً رات کا آرام دن کے مقابلے میں زیادہ صِحَّت بخش اور عَیْنِ فِطرَت کا تقاضا بھی ہے۔ چُنانچہ پارہ20، سورۃ القصص کی آیت 73 میں اِرشَاد ہوتا ہے:

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مِہْر (رحمت)  سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اُس کا فَضْل ڈھونڈو اور اِس لئے کہ تم حَق مانو۔

رات کا آرام دن کے مقابلے میں زیادہ بہترہے، بہرحال دن اور رات میں کم از کم چھ۶ سے آٹھ۸ گھنٹے نیند کریں تاکہ بہتر انداز سے دین و دنیا کے کام کر سکیں۔ نیند پر کنٹرول (Control)سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تَـھَجُّد اور صدائے مدینہ کے عِلاوہ با جَمَاعَت نَمازِ فَجْر کی سَعَادَت بھی نصیب ہو گی۔


 

چند بزرگانِ دین کی حیاتِ طیبہ کے جَدْوَل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے !دیکھتے ہیں کہ ہمارے بزرگانِ دین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْمُبِین نے کس طرح اپنے روز مرّہ کے معمولات کو سر اَنْجَام دینے کے لیے کیا جَدْوَل بنا رکھا تھا؟

امامِ اعظم ابو حنیفہ کا جَدْوَل

حضرت سَیِّدُنا مِسْعَر بِن کِدام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں اِمامِ اَعْظَم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ (مُتَـوَفّٰی ۲ شعبان المعظم ۱۵۰ ھ) کی مَسْجِد میں حاضِر ہوا، دیکھا کہ نمازِ فَجْر ادا کرنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کو سارا دِن عِلْمِ دین پڑھاتے رہتے، اِس دوران صِرف نَمازوں کے وَقفے ہوئے۔ بعد نَمازِ عشا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنی دولت سَرا (یعنی مکانِ عالیشان) پر تشریف لے گئے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد سادہ لِباس میں مَلْبُوس خوب عِطْر لگا کر فَضائیں مہکاتے، اپنا نورانی چہرہ چمکاتے ہوئے پھر آکر مَسْجِد کے کونے میں نَوَافِل میں مَشْغُول ہو گئے یہاں تک کہ صُبْحِ صادِق ہو گئی،اب درِ دولت(یعنی مکانِ عالیشان) پر تشریف لے گئے اور لِباس تبدیل کرکے واپس آئے اور نَمازِ فَجْر با جَمَاعَت ادا کرنے کے بعد گزَشْتَہ کل کی طرح عشا تک سلسلۂ دَرْس و تدریس جاری رہا۔میں نے سوچا آپ بَہُت تھک گئے ہوں گے، آج رات تو ضَرور آرام فرمائیں گے، مگر دوسری رات بھی وُہی مَعْمُول رہا۔ پھر تیسرا دن اور رات بھی اِسی طرح گزرا۔ میں بے حد مُتَاَثِّر ہوا اور فیصلہ کرلیا کہ عمر بھر ان کی خِدْمَت میں رہوں گا۔ چُنانچِہ میں نے ان کی مَسْجِد ہی میں مُسْتَقِل قِیام اِخْتِیار کر لیا اور اس مدّتِ قِیام میں امامِ اَعْظَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو دن میں کبھی بے روزہ


 

اور رات کو کبھی عِبَادَت و نَوَافِل سے غافِل نہ دیکھا۔ البتہ!ظہر سے قَبْل آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھوڑا سا آرام فرما لیا کرتے تھے۔ [32]اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔

جو بے مثال آپ کا ہے تقویٰ             تو بے مثال آپ کا ہے فتویٰ

ہیں علم و تقویٰ کے آپ سنگم         امامِ اعظم ابو حنیفہ[33]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت رابعہ بصریہ کا جَدْوَل

حضرت سَیِّدَتُنا رابِعہ بَصَریہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہا (مُتَـوَفّٰی ۱۸۵ ھ بمطابق 801ء) کا مَعْمُول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے کہتیں:اے رابعہ!(ہوسکتا ہے کہ)یہ تیری زِنْدَگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو۔ چُنَانْچِہ اٹھ اور اپنے ربّ تعالیٰ کی عِبَادَت کر لے تاکہ کل قِیامَت میں تجھے نَدامَت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہِمَّت کر ، سونا مَت ، جاگ کر اپنے ربّ کی عِبَادَت کر۔یہ کہنے کے بعد آپ اُٹھ کھڑی ہوتیں اور صُبْح تک نَوَافِل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فَجْر کی نَماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مُخاطِب کر کے فرماتیں:اے میرے نَفْس!تمہیں مُبارَک ہو کہ گُزَشْتَہ رات تونے بڑی مَشَقَّت اُٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زِنْدَگی کا آخری دن


 

ہو سکتا ہے۔یہ کہہ کر پھر عِبَادَت میں مَشْغُول ہو جاتیں اور جب نیند کا غَلَبہ ہوتا تو اٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں:رابعہ! یہ بھی کوئی نیند ہے،اس کا کیا لُطْف؟ اسے چھوڑ دو اور قَبْر میں مزے سے لمبی مُدَّت کے لئے سوتی رہنا، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ،ہِمَّت  کرو اور اپنے ربّ کو راضِی کر لو۔    اس طرح کرتے کرتے آپ نے 50 سال گزار دئیے کہ آپ کبھی بِسْتَر پر دراز ہوئیں نہ کبھی تکیہ پر سر رکھا یہاں تک کہ آپ اِنْتِقَال کر گئیں۔[34]

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت  ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضور غوث اعظم کا جدول

     شیخ ابو عبداللہ محمد بن ابُو الْفَتْح ہَرَوِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ مُـحْـیُ الدِّین سَیِّد عبدُ القادِر جیلانی،قُطبِ رَبّانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی (مُتَـوَفّٰی ۱۱ ربیع الثانی ۵۶۱ ھ) کی 40 سال تک خِدْمَت کی، اس مُدَّت میں آپ عشاکے وضو سے صُبْح کی نَماز پڑھتے تھے اور آپ کا مَعْمُول تھا کہ جب بے وضو ہوتے تھے تو اسی وَقْت وضو فرما کر دو۲ رَکْعَت نَمازِ نَفْل پڑھ لیتے تھے۔[35]آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ 15 سال تک رات بھر میں ایک


 

 قرآنِ پاک خَتْم کرتے رہے[36]اور ہر روز ایک ہزار رَکْعَت نَفْل ادا فرماتے تھے۔[37]

حضرت بَہَاءُ الدِّیْن زکریا ملتانی کا جَدْوَل

حضرت سَیِّدُنا بہاءُ الدِّین زکریا ملتانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی (مُتَـوَفّٰی ۷ صفر المظفر ۶۶۱ ھ بمطابق 21 دسمبر 1262ء) عَصْر کی اذان سنتے ہی مَسْجِد میں تشریف لا کر عَصْر کی نماز باجَمَاعَت ادا فرماتے۔ اس کے بعد مِنْبَر پر جَلْوَہ اَفروز ہوتے۔ قرآن و حدیث کا وَعْظ فرماتے۔ اس مَوْقَع پر دُور و نزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور بیان  سنتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی زبان میں ایسی تاثیر تھی کہ جو مسلمان سنتا ضَرور مُتَاَثِّر ہوتا اور بُرے کام چھوڑ کر زُہد و تقویٰ اور نیک اَعمال اِخْتِیار کر لیتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کوشِشوں سے دیگر مَذاہِب کے ہزاروں  لوگ دِیْنِ اِسْلَام سے مُشَرَّف ہوئے۔[38]صاحِب ِ شَوَاھِدُ النبُوَّة حضرت علّامہ  عبد الرحمٰن جامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں:آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  سے ہر روز 70 عالِم و فاضِل اِسْتِفَادَہ کرتے تھے۔[39]

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ہر رات مُکَمَّل قرآن شرىف کی تِلاوَت فرماتے، تاحَیات نَمازِ باجَمَاعَت کا اِلْتِزَام (یعنی ضَروری قرار دئیے)رکھا، روزانہ فَجْر، اِشْرَاق اور چاشْت کى نَمازوں کے بعد دىوان خانہ (نشست گاہ، ڈرائنگ روم)مىں مَسْنَدِ اِرشَاد پر جَلْوَہ فرما ہوتے، اس وَقْت


 

تمام عُلَما اور مَشائخ بِالْاِلْتِزَام  (ضَرور)حاضِر ہوتے اور سُلُوک و مَعْرِفَت کے دَقائق (یعنی باریکیاں)حَل کرواتے، خُدَّام تِجَارَت، زَرَاعَت اور لنگر خانہ کے حِسابات پىش کرتے اور آئندہ کی ہِدَایات پاتے، اسی دوران شہر اور مُضافات (آس پاس کے قصبوں اور گاؤں)کے غُرَبا اور مَسَاکِين پىش ہوتے اور ولی کی بارگاہ سے دِرْہَم و دىنار، اَجناس اور خِلْعتوں (قیمتی کپڑوں)سے دامَن بھرتے، دوپہر کو دولت خانے پر تشرىف لے جا کر کھانا تَناوُل فرماتے اور جب روزے رکھتے تو لگاتار رکھتے۔خانگى (گھریلو)اُمُور بھى دوپہر کے وَقْت پىش ہوتے تھے، اس کے بعد تھوڑى دىر سُنّتِقىلولہ ادا فرماتے، نَمازِ  ظہر مَسْجِد میں باجَمَاعَت ادا فرماتے، اس کے بعد حُجرے مىں چلے جاتے اور کافى د ىر تک  اَوراد و  اَذکار مىں مَصْرُوف  رہتے،  پھر نشست کا آغاز ہوتا اور اس مىں مَدَنی قافلوں کے ذِمَّہ داران سے مُلَاقَات ہوتی اور ان کى کارکردگی پیش ہوتی نیز تبلیغ میں درپیش مَسَائِل حل کیے جاتے، طلبا بھی اپنے سوالات پیش کرتے اور مَلْفُوظات کا خزانہ سمیٹتے،  اَذانِ عَصْر ہوتی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مَسْجِد مىں تشرىف لے جاتے اور نَمازِ با جَمَاعَت ادا فرماتے، نَماز کے بعد مَسْجِد ہی میں مِنْبَر پر جَلْوَہ افروز ہوتے،دَرْسِ قرآن اور دَرْسِ حدیث فرماتے، سامعىن کى تعداد بعض اَوقات 40 ہزار تک پہنچ جاتى، غُرُوبِ آفتاب سے پہلے مُضافات مىں چہل قَدَمی کے لىے تشرىف لے جاتے،نَمازِ مَغْرِب با جَمَاعَت ادا کرنے کے بعد خَلْوَت میں اَوراد و اَذکار مىں مَصْرُوف  ہو جاتے، نَمازِ عشا با جَمَاعَت ادا فرمانے کے بعد رات ڈىڑھ پہر تک عِبَادَت مىں مَصْرُوف  رہتے، اسکے بعد دولت خانہ مىں تشرىف لاتے اور کھانا تَناوُل فرما کر تھوڑی


 

 دیر اِسْتِراحَت فرماتے، بىدار ہو کر تَـھَجُّد کی سَعَادَت پاتے،نَمازِ فَجْر تک تِلاوَتِ قرآنِ مجید سے لُطْف اٹھاتے۔[40]

بابا فرید گنج شکر کا جَدْوَل

حضرت سَیِّدُنا بابا فرید گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (مُتَـوَفّٰی ۵محرم۶۶۴ھ بمطابق 17 اکتوبر 1265ء) عشا کى نَماز پڑھ کر تمام رات عِبَادَت اور اِسْتِغْرَاق مىں مَشْغُول رہتے تھے،رمضان المبارک میں روزانہ رات کو دو۲ قرآن مجىد خَتْم  کیا کرتے تھے۔[41]اس سلسلے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود اِرشَاد  فرماتے ہیں کہ مىں 30 سال تک اس قَدْر مُجاہدات مىں مَشْغُول رہا کہ دن کودن سمجھا نہ رات کو رات،دن بھر تِلاوَتِ قرآن سے اپنی زبان تَر رکھتا  اور رات بَھر بارگاہِ الٰہی  میں مُنَاجَات کرتا اور نَوَافِل و عِبَادَت میں مَصْرُوف  رہتاتھا۔[42] اِبْتِدَا میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صومِ داؤدی(یعنی اىک دن چھوڑ کر روزہ )رکھا کرتے تھے، اىک دن حضرت شىخ على مىرٹھى بابا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتشریف لائے، کھانا کھاتے وَقْت دل میں خَیال آیا اگر حضرت بابا فرید گنج شکر (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) روزانہ روزہ رکھتے تو کتنا اَچھّا ہوتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نُورِ باطنی سے یہ بات جان لی اور فرماىا: آج سے عہد کرتا ہوں کہ ہمىشہ روزہ رکھا کروں گا۔پھر اپنے اس عہد پر آخری عمر تک قائم  بھی رہے۔[43] آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ


 

فَجْر اور مَغْرِب کے بعد خاص وظائف پڑھا کرتے جبکہ بعد نَمازِ عَصْر  سیَّاحوں اور مسافروں سے مُلَاقَات فرمایا کرتے تھے۔کسی جگہ تشریف لے جاتے تو مُرید یا اَہْلِ مَحبَّت کے گھر ٹھہرنے کے بجائے مَسْجِد میں قِیام فرماتے۔ خود بھی نہایت سختی سے جَمَاعَت کی پابندی  کرتے اور اپنے مُریدوں  کو بھی باجَمَاعَت نَماز ادا کرنے کی تلقین و نصیحت فرمایا کرتے۔[44]

اعلٰی حضرت کا جَدْوَل

اعلیٰ حضرت، امامِ اَھْلِسُنّت،مُجَدّدِ دىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن (مُتَـوَفّٰی ۲۵ صفر المظفر  ۱۳۴۰ ھ بمطابق 1921ء) کا ہمیشہ کا مَعْمُول تھا کہ ڈبل بارہ گھنٹوں میں صِرف دو۲ گھنٹے آرام فرماتے۔[45] تصنیف و تالیف، کُتُب بینی اور اَوراد و اشغال کے خَیال سے خَلْوَتْ (گھر) میں تشریف رکھتے، صِرف پانچوں نَمازوں کے وَقْت مَسْجِد میں تشریف لاتے اور ہمیشہ باجَماعَت نماز ادا فرمایا کرتے۔ اَکْثَر گھر سے وُضُو کر کے تشریف لاتے، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مَسْجِد میں آ کر وُضُو فرماتے۔ عَصْر کی نَماز پڑھ کر مکان کے پھاٹک میں چارپائی پر تشریف رکھتے اور چاروں طرف کرسیاں رکھ دی جاتیں، زائرین تشریف لاتے اور کرسیوں پر بیٹھتے جاتے، جب کرسیاں باوُجُود کَثْرَتِ تعداد ناکافی ہو جاتیں تو چند بینچ اور تخت بھی وہاں رکھ لئے جاتے، بقیہ لوگ ان پر بیٹھ جاتے، زائرین حاجتیں پیش کرتے، ان کی حاجتیں پوری کی جاتیں اور ہر ایک کی


 

 تواضُع کی جاتی۔ عُلُوم و فیوض و بَرَکَات کے دریا جاری ہوتے اور عوامِ اَھْلِسُنّت  و عُلَمائے اَھْلِسُنّت مُسْتَفِیْض ہوا کرتے۔ مَوسَمِ سرما میں عَصْر تا مَغْرِب مَسْجِد ہی میں رہتے، تمام حاضِرین بھی اِعْتِکَاف کی نِیَّت کے ساتھ مَسْجِد شریف ہی میں حاضِر رہتے اور وہیں تعلیم و تلقین کا سلسلہ جاری رہتا۔ مَغْرِب کی نَماز پڑھ کر زنانہ مکان میں تشریف لے جاتے، یہ آپ کا روزانہ کا مَعْمُول تھا۔[46]

پیر مِہر علی شاہ کا جدول

حضرت سَیِّدُنا پیر سیِّد مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ (مُتَـوَفّٰی ۲۹ صفر المظفر ۱۳۵۶ھ بمطابق 11 مئی 1937ء) ہمىشہ ذِکْر و شَغْل اور اِرْشَادِ مَـخْلُوق (لوگوں کو نیکی کی دَعْوَت دینے)مىں وَقْت صَرف فرماتے تھے ،فَجْر کى نَماز کى سنتىں پڑھ کر حجرہ شرىف سے مَسْجِد مىں تشرىف لاتے، اِمام کا اِنتِظار فرماتے، جب کبھى اِمام صاحِب بوجہ بارِش ىا بىمارى کے نہ آسکتے تو کسى دوسرے قابِلِ اِمَامَت مُخْلِص کو اِمام بنا لىتے، فَرْض نَماز کی ادائیگی کے بعد آیةُ الکرسى، سُبْحٰنَ الله،اَلْحَمْدُ لِلّٰه اور اَلله اَکۡبَر پڑھ کر دُعا مانگا کرتے تھے، پھر ذِکْرِ جَھْر فرماتے اور تىن۳ چار۴ بار کلمہ شرىف پڑھ کر دوبارہ دُعا فرماتے ، پھر مکرّر ذِکْر کلمہ شرىف بِالْجَھْر فرما کر تىسرى دَفْعَہ دُعا مانگا کرتے ، اس کے بعد عادَت مُبارَک تھى کہ دس بجے تک اوراد و وظائف مىں مَشْغُول رہتے، کبھى ىہ شَغْل مَسْجِد مىں ہى ادا  ہوتا اور کبھى حجرہ شرىف مىں،اس شَغْل کے دوران کسى کے ساتھ کلام نہىں فرماتے تھے،و ىسے بھى آپ کا قدرتى رُعب اىسا تھا کہ کسى کو بے


 

 تَـکَلُّف ہو کر گفتگو کرنے کى جُرْأَت نہ ہوتى ،تقریباً دن کے گىاره بجے حجرے سے باہَر دىوان خانے مىں تشرىف لاتے، اُس وَقْت ہر شخص کو اپنے معروضات پىش کرنے کى اِجازَت ہوتى تھى،ا س دوران اِرشَاد و تلقىن (نیکی کی دَعْوَت) کا سلسلہ بھى جارى رہتا اور مخلصىن سے گفتگو کا سلسلہ بھى جاری رہتا،تعوىذ اور دم بھى جارى رہتے۔ بعض اَوقات اَسباق کا شَغْل بھى شروع ہو جاتا،مثنوى شرىف مولانا روم ، فُتوحاتِ مَکِّيَہ، فُصُولُ الْحِکَمْ، بخارى شرىف، شرح چَغْمِیْنِى وغیرہ مُـخْتَلِف کتابىں آپ کواس مَـجْلِس مىں پڑھاتے دىکھا گیا ہے، تقریباً ساڑھے بارہ بجے حجرہ مىں تشرىف لے جاتے ، کھانا کھا کر قىلولہ فرماتے،تقرىباً اىک گھنٹے بعد اُٹھ کروضو کرتے اور اوّل وَقْت میں نَمازِ ظہر پڑھنے کے لىے مَسْجِد تشرىف لے جاتے، ظہر کے بعد  حجرہ شرىف مىں جا کر ذِکْرِ اِلٰہى مىں مَشْغُول رہتے مگر اس وَقْت اگر کوئى آدمى کچھ عَرْض کرنا چاہتا تو اسے اِجازَت ہوتى تھى بلکہ بعض دَفْعَہ مَخْصُوص لوگوں کى مُـخْتَصَر سى خاص مَـجْلِس بھی مُنْعَقِد ہوتى، پھر اسى وضو سے نمازِ عَصْر ادا فرماتے،عَصْر کے بعد اپنے سامنے خَتْم شرىف خواجگان چشتىہ و قادرىہ پڑھواتے اور اِىْصَالِ ثواب کے بعد مَسْجِد سے نکل کر کبھى حجرہ مىں چلے جاتے اور کبھى گھوڑے پر سوار ہو کر تىن۳ چار۴ مىل  دُور بستى مىر آبادىہ تشرىف لے جاتے کبھی تو اس سے بھى آگے، نَمازِ مَغْرِب اور نَمازِ عشا باہَر ہى ادا کرتے اور وہىں ذِکْر و شَغْل جارى رہتا، کافى رات گئے واپَس آکر کھانا تَناوُل فرما تے اور سو جاتے، تِہائى رات باقى رہے پھر بىدار ہو کر تَـھَجُّد کى تیّارى فرماتے اور وضو کے بعد سبز چائے نوش فرماتے۔[47]


 

صدرُ الشَّریعہ کا جَدْوَل

صَدْرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْغَنِی (مُتَـوَفّٰی ۲ ذو القعدۃ الحرام ۱۳۶۷ ھ) کا روزانہ کا جَدْوَل کچھ اِس طرح تھا کہ بعد نَمازِ فَجْر ضَروری وظائف و تِلَاوَتِ قرآن کے بعد گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پریس کا کام اَنْجَام دیتے۔پھر فوراً مدرَسہ جا کر تدریس فرماتے۔ دوپَہَر کے کھانے کے بعد مُستَقِلًا کچھ دیر تک پھر پریس کا کام اَنْجَام دیتے۔ نَماز ِظہر کے بعد عَصْر تک پھر مدرَسہ میں تعلیم دیتے۔بعد نَمازِ عَصْر مَغْرِب تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خِدْمَت میں نشست فرماتے۔ بعدِ مَغْرِب عشا تک اور عشا کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خِدْمَت میں فتویٰ نَویسی کا کام اَنْجَام دیتے۔اسکے بعد گھر واپَسی ہوتی اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً دو۲ بجے شب میں آرام فرماتے۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَةُ ربِّ الْعِزَّت کے اخیر زمانۂ حیَات تک یعنی کم وبیش 10 برس تک روز مرَّہ کا یہی مَعْمُول رہا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی اس محنتِ شاقّہ و عَزْم و اِسْتِقْلَال سے اُس دَور کے اکابِر عُلَما حیران تھے۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے بھائی حضرت ننھے میاں مولانا محمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے تھے کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔

مُصَنِّف بھی، مقرِّر بھی، فَقِیْہِ عَصْرِ حاضِر بھی           وہ اپنے آپ میں تھا اِک اِدارہ عِلْم و حِکْمَت کا[48]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

صَدْرُ الْاَفَاضِل کا جَدْوَل

     حضرت مولانا منظور احمد صاحِب گَھوسوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی اپنا مُشاہَدَہ بیان فرماتے ہیں کہ صاحِبِ خَزائنُ العِرفان صدرُ الافاضِل علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْہَادِی (مُتَـوَفّٰی ۱۹ ذو الحجۃ الحرام ۱۳۶۷ھ) کا روزانہ کا مَعْمُول تھا کہ نَمازِ صُبْح مَحَلّہ کی مَسْجِد میں باجَمَاعَت ادا فرماتے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مَسْجِد جانے سے قَبْل ہی ایک چار۴ فُٹ کے سماوَر (سماوَر تانبے یا پیتل کے اس دہرے برتن کو بولتے ہیں جس کے اندر آگ جلتی ہے اور باہر پانی گرم ہوتا یا چائے پکتی ہے)میں چائے کا سامان ڈال دیا جاتا اور آگ جلا دی جاتی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جب نَماز پڑھ کر واپس تشریف لاتے، چائے تیّار ہو جاتی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بیٹھک میں تشریف فرما ہو جاتے اور دیکھتے ہی دیکھتے عقیدت مندوں کی اچّھی خاصی بِھیڑ جَمْع ہو جاتی۔ عام طور سے 50 سے 200 آدمیوں تک کا ہجوم ہوتا اور کبھی کبھی تو آنے والوں کی اتنی کَثْرَت ہوتی کہ بیٹھک اور باہَری دالان دونوں میں بِالکل جگہ نہ رہتی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے تشریف رکھتے ہی خُدّام چائے سے بھرا ہوا ایک کپ، پِرَچ(یعنی چھوٹی طشتری،پلیٹ)میں لگا کر چائے کی پیالی پر ایک پاؤ(یعنی بسکُٹ)رکھ کر آپ کی خِدْمَت میں پیش کرتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  وہ پیالی اپنے دَسْتِ مُبارَک سے اُٹھا کر اپنے دائیں بیٹھنے والے کو دیدیتے، اِسی طرح چار۴ چھ۶ پیالیاں خود تقسیم فرماتے، بَقِیَّہ پورے مَجْمَع کو خُدّام اِسی طرح ایک ایک پاؤ (یعنی بسکُٹ)اور ایک ایک پیالی چائے تقسیم


 

کرتے،ایک پیالی چائے اور ایک پاؤ (یعنی بسکُٹ)کے ساتھ آپ بھی تَناوُل فرماتے۔ گویا یہ صُبْح کا ناشتہ ہوتا تھا۔

حضرت مولانا سیِّد منظور احمد صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ وُثُوق کے ساتھ فرماتے ہیں کہ حاضِرین کم ہوں یا زِیادہ میں نے یہ بات خاص طور سے نوٹ کی وُہی ایک سَماوَر کی چائے روزانہ آنے والے تمام آدَمیوں کے لئے کافی ہوتی،کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حاضِرین کی تعداد زیادہ ہو گئی تو مزید اِنْتِظام کرنے کی ضَرورت مَحْسُوس کی ہو۔

حضرت مولانا سیِّدمنظور احمد صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا مذکورہ بالا بیان اِس بات کی طرف واضِح اشارہ دے رہا ہے کہ یہ حضرت صدرُ الاْفاضِل رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے معمولاتِ یومِیّہ کی کرامتوں میں سے ایک انتِہائی کریمانہ کَرَامَت ہے۔[49]

حُضُور مُحَدِّثِ اَعْظَم  کا جَدْوَل

حُضُور مُحَدِّثِ اَعْظَم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان (مُتَـوَفّٰی یکم شعبان المعظم۱۳۸۲ھ بمطابق 1962ء)فَجْر کا وَقْت شروع ہونے سے پہلے بىدار ہوتے اور ضَرورىات سے فارِغ ہو کر ذِکْر و مُنَاجَات میں مَصْرُوف  ہو جاتے، شاہى مَسْجِد مىں نَماز با جَمَاعَت  تکبىرِ اولىٰ کے ساتھ ادا کرتے اور صُبْح سے دوپہر تک پھر ظہر سے عَصْر تک پڑھاتے رہتے ،عَصْر و مَغْرِب کے درمیان اِسْتِفْتا اور خطوط کے جوابات عَطا فرماتے، پھر مہمانوں سے ملاقات، آنے والوں کى


 

پذىرائى،بعد عشا اہم معاملات پر غور، خُدّامِ دىن ، خُدّامِ رضا کو دىنى مشورے، مَسْجِد و مدرسہ کے تعمىرى منصوبے، ىہاں تک کہ چادرِ شب ہر کس و ناکس پر تَن جاتى(یعنی رات ہو جاتی)،  دن بھر کے تھکے ہارے طلبہ مُطَالَعَہ کَر کَر کے  سو جاتے، مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کام خَتْم ہونے کا نام ہی نہ لیتے، مُطَالَعَہ کرنے بیٹھتے تو رات گئے  تک مُطَالَعَہ جاری رہتا۔[50]

مُفَسِّرِ شَہِیر،حَکِیمُ الْاُمَّت کا جَدْوَل

مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان (مُتَـوَفّٰی ۳ رمضان المبارک ۱۳۹۱ ھ) کی شَخْصِیَّت کا ایک اَہَم اور مُمتاز پہلو یہ تھا کہ وہ وَقْت کے انتہائی قَدْر دان اور اپنے معمولات و مَشاغل کے سلسلے میں حیرت انگیز حد تک تَعَیُّنِ وَقْت کے پابند تھے، انہوں نے روز وشب کے اَوقات کو بڑے سلیقے سے تقسیم کر رکھاتھا، پھر جو انہوں نے روز و شب کے لئے مُقَرَّر کر دیا، ہمیشہ اُس کام کو اُسی وَقْت پر کیا جو معمولات اِن کی زِنْدَگی میں داخِل ہوئے، وہ آخِرِ زِیْسْت یعنی آخر تک اپنے اپنے مُقَرَّرہ اَوقات پر ہی اَنْجَام پاتے رہے۔ سحری کے وَقْت تَـھَجُّد کے لئے فجر سے تقریباً ڈیڑھ دو۲ گھنٹے پہلے بیدار ہو جاتے، تَـھَجُّد سے فارِغ ہو کر ذرا اِسْتِرَاحَت فرماتے، فجر کا وَقْت ہو جاتا تو سُنّتِ فجر گھر پر ادا کر کے نَماز کے لئے مَسْجِدتشریف لے جاتے۔ نَمازِ فجر سے فارِغ ہو کر قرآنِ حکیم کا (اور آخری دور میں حدیث شریف کا بھی) دَرْس دیتے، دَرْس سے فارِغ ہو کر گھر میں ناشتہ کرتے۔ ناشتے کے بعد اَسباق پڑھانے کے لئے بیٹھ جاتے، اَسباق سے فارِغ ہو تے تو تصنیف وتالیف کے کام


 

 کا ایک حِصّہ اَنْجَام دیتے، دوپہر کا کھانا کھا کر قیلولہ فرماتے اور نَمازِ ظہر کے بعد تصنیفات کا باقی کام لے کر بیٹھتے۔ فتویٰ نویسی اور خطوط کے جوابات بھی بالعموم اسی وَقْت تحریر فرماتے۔ عَصْر کی نَماز پڑھ کر پیدل چلتے، سیر سے واپَس آکر مَسْجِد میں نَمازِ مَغْرِب پڑھتے اور پھر گھر تشریف لا کر کھانا کھاتے، عشا کی نَماز کے بعد جَلْد بِسْتَر میں چلے جاتے۔

مَذْکُورہ مَعْمُولات میں سے ہر مَعْمُول ہمیشہ کا مَعْمُول تھا  اور ہمیشہ اُسی وَقْت پر ادا کیا جاتا تھا، جو ایک دَفْعَہ اس کے لئے مُقَرَّر کر دیا گیا تھا۔ حتّٰی کہ تقریباً ہر کام کے آغاز کا وَقْت مُعَیَّن تھا تو اُس کا وَقْتِ اَنْجَام بھی مُقَرَّر تھا۔ اِسی طرح انہیں ایک ایک منٹ کا حِساب اور صحیح اندازہ رکھنا پڑتا تھا اور اَب یہ سب کچھ ان کی عادَت میں داخِل ہو کر طبیعت ِثانیہ بن چکا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ قرآنِ پاک کی روزانہ تلاوت بھی فرماتے اور ایسی پابندی سے فرماتے جیسی پابندی فرائض کی کی جاتی ہے۔ اُٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے ہر حَالَت میں دُرُود پڑھتے رہتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حَالَتِ بیداری میں ہمیشہ دَرْسِ قرآن میں یا فقہ و حدیث کے اَسباق پڑھانے یا کسی تالیف کی عِبَارَت اِملا کرانے یا کسی سائل کو مسئلہ بتانے یا دُرُودِ پاک پڑھنے میں مَصْرُوف ہوتے۔[51]

کیا مزے کی زِنْدَگی ہے، زِنْدَگی عُشّاق کی

آنکھیں اُن کی جُستجو میں،  دل میں اَرمانِ جَمال[52]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

حُضُور حافِظِ ملّت کا جَدْوَل

حُضُور حافِظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (مُتَـوَفّٰی یکم جمادی الاخریٰ ۱۳۹۶ھ بمطابق 31 مئی 1976ء) وَقْت کے اِنتہائی پابند اور قَدْر دان تھے، ہر کام اپنے وَقْت پر کیا کرتے مثلاً  مَسْجِدِ محلّہ میں پابندىِ وَقْت کے ساتھ با جَمَاعَت نَماز ادا فرماتے، تدریس کے اَوقات میں اپنى ذِمّہ دارى کو بحسن و خُوبى اَنْجَام دیتے، چُھٹّى کے بعد قِىام گاہ پر لوٹتے اور  کھانا کھا کر کچھ دىر قَىْلُولہ(یعنی دوپہر کے وَقْت کچھ دیر کے لیے آرام ) ضَرور فرماتے۔ قَىْلُولہکا وَقْت ہمىشہ ىکساں رہتا، چاہے اىک وَقْت کا مدرسہ ہو ىا دونوں وَقْت کا،ظُہر کے مُقَرَّرہ وَقْت پر بَہَرحَال اُٹھ جاتے اور باجَمَاعَت نَماز ادا کرنے کے بعد اگر دوسرے وَقْت کا مدرسہ ہوتا تو مدرسے تشریف لے  جاتے ورنہ کتابوں کا مُطَالَعَہ فرماتے یا کسى کِتاب سے  دَرْس دىتے یا پھر حاجَت مندوں کو تعوىذ عَطا فرماتے ، شروع شروع مىں عَصْر کى نماز کے بعد سیر وتفرىح کے لىے آبادى سے باہَر تشرىف لے جاتے مگر اس وَقْت بھی  طلبہ آپ کے ہمراہ ہوتے جو علمى سُوالات کرتے اور تَشَفّی بھر جوابات  پاتے ، اگر کسى کى عِیادَت کے لىے جانا ہوتا تو اَکْثَر عَصْر کے بعد ہى جایا کرتے، قبرستان سے گزرتے ہوئے اَکْثَر سڑک پر کھڑے ہو کر قبروں پر فاتحہ اور اِىْصَالِ ثواب کرتے۔مَغْرِب کى نَماز کے بعد کھانا کھاتے اور پھر اپنے آنگن(صَحْن) مىں چہل قدمى فرماتے، عشا کى نَماز کے بعد کِتابوں کا مُطالَعہ کرتے اور ساتھ ساتھ مُقىم طلبہ کى دىکھ بھال بھی  کرتے رہتے کہ وہ مُطَالَعَہ مىں مَصْرُوف  ہىں ىا نہىں۔ عُموماً  گىارہ بجے


 

تک سو جاتے اور تَـھَجُّد کے لىے آخرِ شب مىں ا ُٹھتے، تَـھَجُّد پڑھنے کے بعد بھى کچھ دىر کے لئے سو جاتے ، رات مىں چاہے کتنی  ہى دیر جاگنا پڑتا فَجْر کبھى قَضا  نہ ہوتی ۔[53]

شارح بخاری کا جَدْوَل

حضرت سَیِّدُنا محمد شریف الحق امجدی شارح بخاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْبَارِی (مُتَـوَفّٰی ۶ صفر المظفر ۱۴۲۱ھ بمطابق 11 مئی 2000ء) شروع ہی سے اَوقات کی حد دَرْجَہ قَدْر فرماتے اور ان کی بھر پور نگہداشت اور پابندی فرماتے تھے۔ ایک لمحہ بھی بیکار ضائع نہیں ہونے دیتے تھے۔[54]فَجْر کی نَماز کے بعد شرح بخاری میں مَصْرُوف  رہتے، آٹھ بجے دارُ الافتا میں تشریف رکھتے اور 12 بجے دن تک چار۴ گھنٹے مسلسل فتاویٰ اِملا کراتے۔ نائبین کے فتاویٰ سَماعَت فرماتے، اِصلاح کرتے، تَخَصُّصْ فِی الْفِقْہ کے طلبہ کی فقہی تَرْبِیَت فرماتے۔ نَمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد پھر دارُ الافتا تشریف لاتے اور دو۲ گھنٹے مسلسل کام کرتے، عَصْر کے بعد عمومی نشست ہوتی جس میں اساتذۂ جامعہ کے ہجوم میں آپ صَدْر نشیں ہوتے ، اس مَـحْفِل میں مُـخْتَلِف موضوعات پر گفتگو ہوتی، پھر نَمازِ عشا کے بعد سے لے کر 11 بجے شب تک شرح بخاری کا سلسلہ جاری رہتا۔ یہ روز کا مَعْمُول تھا، جمعرات و جُمُعَہ کو کام کی شرح میں اور اِضافہ ہوجاتا تھا۔ [55]


 

شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت کا جَدْوَل

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی کے بانی و اَمِیْـر حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ جنہوں نے 1981؁ء میں دَعْوَتِ اِسْلَامی کو بابُ المدینہ (کراچی)سے شروع کر کے دنیا کے کم و بیش 200 ممالک میں پہنچا دیا، جنہوں نے کئی کتابوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں رسائل لکھے۔جنہوں نے ہزاروں بیانات اور مدنی مذاکرے کئے۔جنہوں نے لاکھوں اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنْقِلاب برپاکیا،آئیے!مُلَاحَظہ فرمائیے کہ ان کے شب وروز کا جَدْوَل کیا ہے؟

شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ممنوعہ روزوں کے عِلاوہ ہمیشہ روزے سے رہتے ہیں یعنی آپ روزانہ روزہ رکھتے ہیں۔ بعدِ مَغْرِب نَوَافِل میں یا دیکھ کر روزانہ بلا ناغہ سورۂ یسٰین اور سورۂ ملک کی تِلاوَت فرماتے ہیں۔ روز گھنٹوں تحریری کام کرتے ہیں۔ مُطَالَعَہ اِس قَدْر فرماتے ہیں کہ اِس بات سے اندازہ لگائیے:آپ کے آڈیو بیانات 900 سے زائد،مُـخْتَلِف عنوانات پر جاری ہو چکے ہیں،مَدَنی مُذاکرے 1000 سے زائد ہو چکے ہیں۔ کفریہ کلمات کی نشاندہی پر مَبْنِی عظیم کتاب کفریہ کلمات کے  بارے میں سوال جواب بےشُمار سنتّوں کا عظیم الشان مجموعہ فیضانِ سنّت، نَماز کے مُتَعَلِّق  اَحکامات کو آسان انداز میں نماز کے احکام، حج و عمرہ کے مُتَعَلِّق سلیس زبان میں رفیق


 

الحرمین،عمرہ کے مُتَعَلِّق رفیق المعتمرین،پردے کے بارے میں سوال جواب اور مُـخْتَلِف موضوعات پر سینکڑوں رسائل سے آپ اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے وسیع ترین مُطَالَعَہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!آپ بیک وَقْت  عالِمِ شَریعَت، شَیْخِ طَرِیْقَت اور تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی اور اَھْلِسُنّت کے امیر بھی ہیں۔ یعنی آپ شَریعَتِ مُطَھَّرَہ کی پابندی بھی فرماتے ہیں، طَرِیْقَتِ مُنَوَّرہ  کی پاسداری بھی رکھتے ہیں اور دَعْوَتِ اِسْلَامی جیسی سنّتوں بھری عالمگیر غیر سیاسی تحریک کی نگرانی بھی فرماتے ہیں۔

مسلک کا تُو اِمام ہے اِلیاس قادِرِی    تَدبِیر تیری تام ہے اِلیاس قادِرِی

فِکرِ رَضا کو کر دِیا عالَم پہ آشکار   یہ تیرا اُونچا کام ہے اِلیاس قادِرِی

سُنَّت کی خوشبؤوں سے زَمانہ مہک اُٹھا فیضان تیرا عام ہے اِلیاس قادِرِی

ہے بدرِ ؔرَضوِی بھی تِرے کِردار کا اَسِیر     اِس کا تجھے سَلام ہے اِلیاس قادِرِی

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جدول کی اہمیت امیرِ اہلسنّت کی نظر میں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے جگمگاتے مُنْفَرِد رسالے ’’انمول ہیرے‘‘ میں فرماتے ہیں:ہو سکے تو اپنا یومیہ نظامُ الاوقات ترتیب دے لینا چاہیے۔ اَوّلاً عشا کی نَماز پڑھ کر حَتَّی الْاِمْکَان دو۲ گھنٹے کے اندر


 

اندر جلد سو جائیے۔ رات کو فُضُول چوپال لگانا، ہوٹلوں کی رونق بڑھانا اور دوستوں کی مجلِسوں میں وَقْت گنوانا (جبکہ کوئی دینی مَصْلَحَت نہ ہو) بَہُت بڑا نقصان ہے۔تفسیر رُوحُ البیان جلد 6 صفحہ نمبر 495 پر ہے:قومِ لُوط کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ چوراہوں پر بیٹھ کر لوگوں سے ٹھٹھا مسخری کرتے تھے۔[56]

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!خوفِ خُداوندی سے لرز اُٹھیے!دوست بظاہِر کیسے ہی نیک صُورَت ہوں اُن کی دِل آزار اور خدائے غفار عَزَّ  وَجَلَّ سے غافِل کر دینے والی مَـحْفِلوں سے توبہ کر لیجئے۔ رات کو دینی مَشَاغِل سے فارِغ ہوکر جلد سو جائیے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں صِحَّت بخش ہے اور عَیْنِ فِطرَت کا تقاضا بھی۔ چُنانچہ پارہ 20، سورةُ القصص کی آیت 73 میں اِرشَاد ہوتا ہے:

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر (رحمت)  سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اُس کا فَضْل ڈھونڈو اور اِس لئے کہ تم حَق مانو۔

     مزیدفرماتے ہیں:نظام ُالاوقات مُتَعَیَّن کرتے ہوئے کام کی نَوعِـیَّت اور کَیْفِیَّت کو پیشِ نَظَر رکھنا مُناسِب ہے۔ مَثَلًا جو اِسْلَامی بھائی رات کو جَلْدی سو جاتے ہیں، صُبْح کے وَقْت وہ تَر وتازہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا عِلْمی مَشَاغِل کے لئے صُبْح کا وَقْت بَہُت مُناسِب ہے۔


 

سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ دعا امام تِرمذی نے نَقْل کی ہے:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری اُمَّت  کے لئے صُبْح کے اَوقات میں بَرَکَت عَطا  فرما۔[57]چُنَانْچِہ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تَحْت فرماتے ہیں: یعنی (یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ !) میری اُمَّت  کے تمام ان دینی و دُنْیَاوِی کاموں میں بَرَکَت دے جو وہ صُبْح سویرے کیا کریں، جیسے سَفَر ِ طَلَبِ عِلْم، تِجَارَت وغیرہ۔[58]

کوشِش کیجئے کہ صُبْح اٹھنے کے بعد سے لے کر رات سونے تک سارے کاموں کے اَوقات مُقَرَّر ہوںمثلاً اتنے بجے تَـھَجُّد،عِلْمی مَشَاغِل،مَسْجِد میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ باجَمَاعَت نَمازِ فجر (اسی طرح دیگر نَمازیں بھی) اِشْرَاق،چاشت، ناشتہ، کَسْبِِ مَعاش، دوپہر کا کھانا، گھریلو مُعاملات، شام کے مَشَاغِل، اَچھّی صُحْبَت، (اگر یہ مُیَسَّر نہ ہو تو تنہائی بدرجہا بہتر ہے)، اسلامی بھائیوں سے دینی ضَروریات کے تَحْت مُلَاقَات وغیرہ کے اَوقات مُتَعیَّن کر لیے جائیں ۔ جو اس کے عادی نہیں ہیں ان کے لیے ہو سکتا ہے شروع میں کچھ دُشواری ہو۔ پھر جب عادَت پڑ جائے گی تواس کی برکتیں بھی خود ہی ظاہِر ہو جائیں گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ [59]

تنظیمی جدول بنانے کی نیّت فرما لیجئے

اے عاشِقانِ رسول!اے عاشقانِ صحابہ و آلِ بتول! اے عاشقانِ اولیا! اے


 

عاشقانِ غوث و رضا!اے عاشقانِ عطاؔر!اے عاشقانِ دعوتِ اسلامی! اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کے جذبے کے ساتھ اَچھّی اَچھّی نیتیں کرتے ہوئے، ربِّ کائنات عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے،حُصُولِ ثواب کے لئے، اسلام کی اشاعت کے لئے، اُمَّتِ مصطفےٰکو سنّتوں کا پیغام دینے کے لئے ذِہْن بنا لیجئے اور پکّا عَزْم کیجئے کہ اپنا ماہانہ جَدْوَل پیشگی بنا کر نگران کو جَمْع کروایا کریں گے، منظوری کے بعد اس پر عَمَل کریں گے اور پھر جَدْوَل کی کارکردگی بھی اپنے نگران کو بر وَقْت بغیر طَلَب کئے جَمْع کروائیں گے۔ جیسا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کے مدنی مشوروں میں ہے کہ پیشگی جَدْوَل بنانے کی بَرَکَات سے ہے کہ بعض اَوقات مَدَنی مَشْوَرَہ کی اِطِّلَاع سے ہی مَسَائِل حل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔جب اِطِّلَاع سے مَسَائِل حل ہوتے ہیں تو مَدَنی مشورے سے کتنے تنظیمی فوائد حاصِل ہوں گے۔

تبلیغ سُنّتوں کی کرتا رہوں ہمیشہ

مرنا بھی سُنّتوں میں ہو سُنّتوں میں جینا[60]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جدول بنانے کی اچھی اچھی نیّتیں

٭… فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:نِیَّةُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِهٖ۔ مسلمان کی نِیَّت اس کے عَمَل سے بہتر ہے۔[61]

٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا اور حُصُولِ ثواب کی خاطِر جَدْوَل بناؤں گا۔


 

٭… مدنی مشوروں کا جَدْوَل بنا کر مَدَنی کاموں کی پوچھ گچھ، کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ کے اَہْدَاف پیش کروں گا۔

٭… پیشگی ماہانہ جَدْوَل بناؤں گا تا کہ ہاتھوں ہاتھ مَدَنی کاموں کی نِیَّت کی بَرَکَت سے ڈھیروں ڈھیر ثواب حاصِل کروں۔

٭… مُتَعَلِّقہ ذِمَّہ دار کو جَدْوَل کی پیشگی اِطِّلَاع دوں گا تا کہ مَدَنی  مشورے یا مَدَنی قافلے یا اِجْتِمَاع وغیرہ کی بھرپور تیّاری ہو سکے۔

٭… مَدَنی مشورے سے کم و بیش 3 دن پہلے خود مُتَعَلِّقہ ذِمَّہ دار کو یاد دِہانی کراؤں گا تاکہ مَدَنی مشورے یا اِجْتِمَاع وغیرہ کی بھرپور تیّاری ہو سکے۔

٭… جَدْوَل اور اس کی کارکردگی، اپنے نگران کے طَلَب کرنے سے پہلے ہی واٹس ایپ (Whats App)/ ای میل (E mail)/ پوسٹ (Post) کروں گا۔

٭… کمزور اور نئے حلقوں/ علاقوں/ ڈویژنوں کا بھی جَدْوَل بناؤں گا۔[62] اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

کاش! رسولِ خدا، مَـحْبُوبِ کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صَدْقے ہمیں اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ پیشگی جَدْوَل بنانا اور پھر اس کی کارکردگی نگران کو جَمْع کروانا نصیب ہو جائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  


 

مجھے تم ایسی دو ہمّت آقا                         دوں سب کو نیکی کی دعوت آقا

بنا دو مجھ کو بھی نیک خصلت               نبیّ رحمت شفیعِ اُمّت[63]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مرکزی مجلسِ شوری کے مدنی مشوروں سے ماخوذ جَدْوَل کے متعلق مدنی پھول

٭… ذِمَّہ دارانِ دعوتِ اسلامی (اسلامی بھائی و اسلامی بہنیں) تنظیمی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ ہر ماہ اپنا پیشگی جَدْوَل بنا کر اپنے نگران کو ای میل (E mail) کریں اور مہینہ خَتْم ہونے پر جَدْوَل کارکردگی روانہ کریں۔ [64]

٭… جَدْوَل با مَقْصَد اور مَدَنی کام کو مَضْبُوط کرنے اور بڑھانے والا ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ بیکار کوشِش اور وَقْت کا ضِیاع ہو، جیسا کہ کہا جاتا ہے:  (Look Busy Do Nothig) یعنی مَصْرُوف نَظَر آتے ہیں کرتے کچھ نہیں۔[65]

٭… کسی کام کی کامیابی کے لیےمَقْصَد کا تعیُّن ،جَدْوَل اور پھرا س کام کے تقاضوں کے مُطابِق کوشِش ضَروری ہے۔[66]

٭… پیشگی جَدْوَل اپنے نگران کو ضَروربھیجیں ،یہ ہمیں مدنی کاموں کا پابند کرے گا۔[67]


 

٭… نگرانِ کابینہ، اپنی کابینہ میں 12 مدنی کاموں پر مُکَمَّل تَوَجُّہ دیں ،مدنی کاموں کو مَضْبُوط کرنے کے لیے جَدْوَل بنا کر ڈویژن سَطْح پر مَدَنی مشورے کریں اور عملی طور پر مَدَنی کاموں میں حِصّہ لیں۔[68]

٭… مَدَنی مشورہ شروع ہونے سے حَتَّی الْاِمْکَان کم از کم 12 گھنٹے قَبْل پہنچنے کی ترکیب بنائی جائے تا کہ طعام و آرام اور مَدَنی مشورے سے مُتَعَلِّق کام اطمینان کے ساتھ کئے جا سکیں۔

٭… پاکستان سَطْح کا شُعبہ ذِمَّہ دار ملک بھر کا جَدْوَل بنا کراپنے شعبے کی ترقی کی بھرپور کوشِش کرے۔

٭… جو مَدَنی کام کرے گا اس کا کام نَظَر آئے گا۔

٭… اپنے جَدْوَل کو مُنَظَّم کریں ،تمام کاموں کو لکھ کر غور کریں کہ سب سے پہلے زیادہ اَہَم کام کیاہے، پھر کون سا؟ وغیرہ۔جو مَدَنی کام زیادہ اَہَم ہو، اُسے سب سے پہلے کیجئے ۔ہفتے میں ایک دن (ممکن ہو تو منگل) غور و فکر کے لیے اور گزَشْتَہ و آئندہ ہفتے کے مَدَنی  کاموں کا جائزہ لینے کے لیے  رکھیں۔

٭… ہر کام کے لیے وَقْت اور ہر وَقْت کے لیے کام ہونا چاہیے۔

اے رضاؔ ہر کام کا اک وَقْت ہے           دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا[69]

 


 

٭… اِیزی (Easy) اور بِزی (Busy) رہیں۔

٭…تنظیم جس طرح نتیجہ چاہتی ہے وہ کر کے دیں، صِرف زبان سے کارکردگی بیان کرنا کافی نہیں۔

٭…نِصاب (Syllabus) کتنا ہی اچھا ہو،اگر پڑھانے والے اچھے اور تَرْبِیَت یافتہ نہ ہوں تو مطلوبہ نتائج کیسے حاصل ہوں گے اسی طرح اگر جَدْوَل مَضْبُوط نہ ہو، اِنْتِظامی اُمُور میں کمزوری ہو تو کامیابی اور مطلوبہ مَقاصِد حاصِل نہیں ہو سکتے۔[70]

٭…لوگوں کی مصروفیات کا لِـحَاظ رکھ کر جَدْوَل بنایا جائے۔فِطرَت (Nature) سے ہٹ کر کام کریں گے تولوگ قریب آنے کے بجائے دُور ہوں گے۔[71]

٭…ذِمَّہ داران اپنا جَدْوَل مَدَنی کاموں کی کَیْفِیَّت کے مُطابِق ترتیب دیں، جہاں جس کام میں کمی ہے، وہاں اس پر تَوَجُّہ دیں۔

٭…تمام نگران و ذِمَّہ داران اس طرح جَدْوَل ترتیب دیں کہ ایک ہی سَفَر میں کئی کام ہو جائیں، بار بار اپنے شہر میں واپس آنا اور پھر جانا صِحَّت اور اَخراجات کے حوالے سے نا موزوں رہے گا،اپنا جَدْوَل ترتیب دیتے وَقْت اپنے نگران سے بھی مَشْوَرَہ کر لیں یا جَدْوَل مُرَتَّب کرکے پیش کر دیں۔

٭…اَرَاکِینِ کابینہ اپنا جَدْوَل نِگرانِ کابینہ کو پیشگی پیش کریں، اگر نِگرانِ کابینہ تبدیلی


 

 کریں تو رَہْنُمائی کیے جانے کا شکریہ بھی ادا کریں۔

٭…اگر ضرورتاً جَدْوَل میں تبدیلی کی ضَرورت مَحْسُوس کریں تو اس پر بھی نگرانِ کابینہ سے مَشْوَرَہ ضَرور کریں ۔

٭…جب ایک ماہ کا جَدْوَل مُکَمَّل ہو جائے تو جَدْوَل کارکردگی فارم پُر کر کے نگرانِ کابینہ کو ای میل (E mail) کریں۔کہیں ہفتہ وار اِجْتِمَاع میں حاضِری ہو تو اِجْتِمَاع کا جَدْوَل ،شُرَکا،مَدَنی قافلے ،انتظامات وغیرہ کی کارکردگی مُـخْتَصَرًا لکھیں ۔مَدَنی مَشْوَرَہ ہو تو مَدَنی   پھول، شُرَکا کی تعداد اور ٹائمنگ (Timing) وغیرہ لکھیں ۔ اَلْغَرَضْ اپنے کابینہ کے نگران کو جملہ اُمُور کی آگاہی فراہم کرتے رہیں۔

٭…اَرَاکینِ شوریٰ و اراکینِ کابینہ بِالْخُصُوص عُلَما و مَشائخ سے مُلَاقَات،مَدَنی تَرْبِیَت گاہیں، شخصیات سے ان کے دَفاتر میں مُلَاقَات جَامِعَةُ الْـمَدِیْنَه و مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه و مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کو اپنے جَدْوَل میں شامِل کریں۔ بِالْخُصُوص چھٹی کا دن مَجَالِس کے لیے مَخْصُوص رکھیں تا کہ شُرَکائے مَدَنی مَشْوَرَہ کو چھٹی نہ کرنی پڑے۔

٭…اپنا جَدْوَل بنا کر مَکْتَب ذِمَّہ دار کے ذریعے کارکردگی نیٹ پر اِنسرٹ (Insert) کر دیں تا کہ دیکھنا (View) آسان رہے۔

٭…جمعرات کا جَدْوَل صِرف ہفتہ وار اِجْتِمَاع کا ہی نہ ہو بلکہ دن کے وَقْت بھی تنظیمی مصروفیات رکھیں۔

٭…اپنی ڈائری میں اِنفرادی اور اِجتماعی مَدَنی کام الگ الگ کریں۔میل/ Sms،


 

فون/ مدنی مشورے الگ الگ لکھیں۔اوّل:Important Urgent، دُوم: Urgent، سوم: Important۔

٭…اگرکوئی مَدَنی کام مُقَرَّرہ وَقْت میں نہیں ہو پا رہا تو ایک دن پہلے مزید وَقْت لے لیں۔

٭…مُعَاوِن کی ذِمَّہ داری ہے کہ وہ آپ کے دئیے ہوئے کام کی کارکردگی روزانہ دے کہ آپ نے یہ کام دئیے،یہ ہو ئے،یہ نہیں ہوئے ۔[72]

٭…جَدْوَل بناکر دینے،اِسے نافِذ کرنے اور اس کی بر وَقْت کارکردگی اپنے نگران کو جَمْع کروانے سے مَدَنی کام سے مُتَعَلِّق مَسَائِل حل ہو جائیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

٭…ہمیں جو مَدَنی کام سونپے جاتے ہیں اِن پر باقاعدہ مُشَاوَرَت ہو چکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اپنے نگران سے ملنے والی ہِدایات و جَدْوَل کے مُطابِق عَمَل کر کے اِنہیں پورا کرنے کی بھرپور کوشِش کیجئے۔

٭…طے شُدہ جَدْوَل پر عَمَل ہو تو دَعْوَتِ اِسْلَامی کا مَدَنی کام مزید اُڑنے لگے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

٭…دَعْوَتِ اِسْلَامی کے تمام اجتماعات بشمول ہفتہ وار اجتماعات ،بر وَقْت شروع اور خَتْم ہوں۔

٭…دورانِ جَدْوَل پیش آنے والے مَسَائِل پر نگران سے ہاتھوں ہاتھ مَشْوَرَہ کر کے اِنہیں حل کیا کریں۔


 

٭…ہر شعبہ کے ذِمَّہ دار کو اپنے شعبہ کے نگران سے مَربُوط رہنا چاہئے کیونکہ جو جتنا مَربُوط ہو گا وہ اُتنا ہی مَضْبُوط ہو گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

٭…جوش کے ساتھ ساتھ شوق بھی ہونا چاہئے،شوق سے مَدَنی کام کرنے والے کو اِسْتِقَامَت مل جاتی ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

٭…اپنے ذِمّے لگنے والے مَدَنی کاموں کو کرنے کے دوران یہ بھی مدِّنظر رکھئے کہ پیر اپنے مُرید کے حال پر با خَبَر ہوتے ہیں۔[73]

نگرانِ حلقہ مشاورت کا جدول

روزانہ کا جدول

٭… نگرانِ حلقہ مُشَاوَرَت روزانہ ایک ذیلی حلقے (مَسْجِد) میں صدائے مدینہ بعد ِ فَجْر مَدَنی حلقہ،مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه برائے بالِغان میں شِرْکَت کرے اور مَدَنی کاموں میں اِسْلَامی بھائیوں کی مُعَاوَنَت کرے۔ اس طرح ہر ہفتے پانچوں ذیلی حلقوں میں ترکیب بنائے۔

٭… فَجْر کے اَوقات ہفتہ،اتوار،پیر،منگل،بدھ اپنے پانچ۵ ذیلی حلقوں کے لئے مَخْصُوص کر لیں، جمعرات کو ہفتہ وار اِجْتِمَاع میں ذیلی حلقہ بدل بدل کر قَافِلہ بنا کر شِرْکَت کرے۔ جُمُعَہ/ اتوار کے دن یومِ تعطیل اِعْتِکَاف بھی مُـخْتَلِف ذیلی


 

حلقوں میں بدل بدل کے کرے اور ہفتے کو اِجْتِمَاعیطور پر دیکھے جانے والے مَدَنی مذاکرے میں اوّل تا آخر شِرْکَت کرے۔

٭… روزانہ چوک درس (بازار، سکول، کالج وغیرہ میں) دے یا شِرْکَت کرے۔

ہفتہ وار جدول

٭… ہفتہ وار مَدَنی کاموں میں(ذیلی حلقہ بدل بدل کر) وی سی ڈی/کیسٹ اِجْتِمَاع، عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دَعْوَت، یومِ تعطیل اِعْتِکَاف کی ترکیب بنائے۔

٭… شام کے اَوقات میں ہر ہفتے ایسے اِسْلَامی بھائی جو پہلے آتے تھے، اب نہیں آتے اُن سے مُلَاقَات اور مریضوں کی عِیادَت (تَعْزِیَت، فاتحہ خوانی وغیرہ) کی ترکیب بنائے اور مَدَنی انعام نمبر 55 پر عمل کرے۔

ماہانہ جدول

٭… ہر ماہ مُقَرَّرہ تاریخ پر مَدَنی  قافلے میں سَفَر کرے اور ہر مَدَنی  ماہ کے پہلے ہفتہ وار اِجْتِمَاع (فکرِمدینہ کے حلقے) میں اِسلامی بھائیوں سے گزَشْتَہ ماہ کے مَدَنی اِنْعَامَات کے رسائل وُصُول کرے۔

٭… ایک دن ماہانہ شہر/علاقائی مُشَاوَرَت نگران کے مَدَنی مشورے میں شِرْکَت کرے اور جب نگرانِ علاقہ مُشَاوَرَت یا نگرانِ ڈویژن مُشَاوَرَت اُس کے حلقے میں آئیں تو تمام ذیلی مُشَاوَرَت کے اِسلامی بھائیوں مُبَلِّغِین، مُعَلِّمِیْن اور مُنْسَلِک


 

      اِسلامی بھائیوں کی مَدَنی  مشورے میں شِرْکَت کو یقینی بنائے۔

٭… نگرانِ عَلاقہ/ ڈویژن مُشَاوَرَت کی طرف سے دئیے گئے ہدف کو پورا کرنے کے لئے اَقدامات کرے۔

٭… اسی انداز پر حلقہ مُشَاوَرَت کا نگران اپنے اراکینِ حلقہ مُشَاوَرَت کو جَدْوَل دے سکتا ہے۔

کامِل جَدْوَل؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً وُہی جَدْوَل کامِل جَدْوَل ہو گا، جس میں نمازِ پنجگانہ باجَمَاعَت مَسْجِد میں ادا ہوتی ہوں، جبکہ کوئی عُذْرِ شَرْعِی نہ ہو، جس میں فرائض و واجبات کی ادائیگی، انفرادی عِبَادَت، ماں باپ کی خِدْمَت، بہن بھائیوں کی دل جوئی، بال بچوں کی مَدَنی  تَرْبِیَت، رِزْقِ حَلال کا حُصُول، بر وَقْت سونا جاگنا، روز وَقْتِ مُقَرَّرہ پر فِکْرِ مدینہ، روزانہ کے مَدَنی  کاموں میں شِرْکَت و مُعَاوَنَت، ہفتہ وار علاقائی دورہ برائے نیکی کی دَعْوَت اور اِجْتِمَاع میں اوّل تا آخر شِرْکَت،ہفتے کو اجتماعی طور پر دیکھے جانے والے مَدَنی  مذاکرے میں اوّل تا آخر شِرْکَت، ہر ماہ تین۳  دن ہر 12 ماہ میں یکمشت ایک ماہ، عمر بھر میں کم از کم ایک بار یکمشت 12 ماہ،  سب کچھ ہو۔

دُعا ہے زِندگانی یوں بَسَر ہو             ثنا خوانی نبی کی عمر بھر ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

اللہ تَبَارَک َوَتَعَالٰی ہمیں اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی اور دَعْوَتِ اِسْلَامی میں اِخْلَاص کے ساتھ اِسْتِقَامَت نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَدَنی قافلے کا مختصر جدول

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!مدنی قَافِلہ کا مُـخْتَصَر جَدْوَل پیشِ خِدْمَت ہے:

نمبر شمار

کام

وضاحت

1.        

جَدْوَل اوراِعلانات کی دُہرائی اور مشورے کا حلقہ

(9:30 تا 9:56)

اس حلقے میں5 منٹ تلاوت و نعت اور باقی 26 منٹ میں جَدْوَل اور اِعلانات کی دُہرائی اور مشورے کا حلقہ لگایا جائے، تین۳ دن کے مدنی قافلے میں جدول کی دُہرائی امیرِ قافلہ خود ہی کرے،شرکا سے صرف ایک ایک کام پر مشورہ کیا جائے ، مشورہ مشورے کے طور پر ہی لیا جائے۔

2.        

مدنی مقصد کا بیان

(9:56 تا 10:37)

(41منٹ) اس حلقے میں ابتدائی 26 منٹ امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسائل سے بیان اور آخری 15 منٹ میں ذیلی حلقے کے مدنی کاموں میں سے کسی ایک مدنی کام پر ذہن بنایا جائے ۔

3.        

انفرادی عبادت کا حلقہ

(10:37 تا 10:56)

(19منٹ)اس حلقے میں تلاوتِ قرآن، ذِکْرُ اللہ، دُرُود شریف، رسالہ 40 روحانی عِلاج سے وظائف کی ترکیب بنائی جائے، اس میں مُطَالَعَہ بھی کرسکتے ہیں ۔

4.        

مختصر نیکی کی دعوت

(10:56 تا 11:08)

(12منٹ) اس میں مُـخْتَصَر نیکی کی دَعْوَت یاد کروائی جائے،اگر یہ کسی کو یاد ہو تو اسے انفرادی کوشش کےلئے ترغیبات یاد کروائی جائیں۔


 

5.        

انفرادی کوشش کا طریقہ

(11:08 تا 11:20)

(12منٹ) امیر قافلہ انفرادی کوشش کا طریقہ کار سکھائے اور عملی طریقہ کر کے دِکھائے اور جن اسلامی بھائیوں کو ترغیبات پچھلے حلقے میں یاد نہ ہوئی ہوں تو اُن کو اِس حلقے میں بھی یاد کروائی جائیں۔

6.        

انفرادی کوشش کا حلقہ

(11:20 تا 12:00)

(40منٹ)ا س میں اسلامی بھائی باہَر جاکر مُـخْتَلِف جگہوں پر انفرادی کوشش فرمائیں اور اسلامی بھائیوں کوہاتھوں ہاتھ مَسْجِد میں لانے کی ترکیب بنائیں، اِسی دوران کچھ اسلامی بھائی مَسْجِد میں ذیلی حلقے کے مدنی کاموں پر ایک دوسرے کا ذِہْن بنائیں۔اسی وَقْت میں با اَثَر شخصیات مثلاً عُلَما ، مَشائخ، چودھری،وڈیروں وغیرہ سے ملاقات کرکے دعوت اسلامی اور اس کے شعبہ جات کا تَعارُف کروائیں اورمدنی قافلے میں سفر کی دعوت پیش کریں۔

7.        

سنّتیں سیکھنے کا حلقہ

(12:00 تا 12:30)

(30منٹ)اس حلقے میں امیر قافلہ شرکا کو سنتیں سکھانے کی ترکیب بنائے 3 دن، 12 دن اور 30 دن کے مدنی قافلوں میں سنتیں سیکھنے کی ترتیب الگ الگ ہوگی۔[74]

8.        

وقفۂ طعام وچوک درس

(12:30)

کھانا کھائیں اور اَذانِ ظہر سے 12منٹ قبل(7 منٹ) فیضانِ سنّت سے چوک درس دیں۔ بعدِ دَرْس نَمازِ ظہر کی دَعْوَت دے کر شُرَکا کو اپنے ساتھ مَسْجِد میں لانے کی کوشش کریں۔جواسلامی بھائی قریب کی مسجدوں میں دَرْس کیلئے جائیں گے وہ چوک دَرْس کے بعد روانہ ہو جائیں۔

9.        

بعد ظہر درس

(7منٹ) فیضانِ سُنّت سے دَرْس دیا جائے۔

10.  

نماز کے احکام

(30منٹ)

اس حلقے میں 3دن،12دن اور 30دن کے مدنی قافلوں میں سیکھنے کی ترتیب الگ الگ ہوگی۔[75]


 

11.  

درس و بیان سیکھنے کا حلقہ

(19 منٹ)

اِس حلقے میں امیر قافلہ شرکا میں سے جو دَرْس نہیں دے سکتے اُن کو دَرْس اور جن کو بیان کرنا نہیں آتا اُن کو بیان کرنا سکھائے۔

12.  

دُعاؤں کا حلقہ

(19 منٹ)

 گرمیوں میں یہ حلقہ اسی وَقْت اور سردیوں میں عشا کے بعد ہو گا۔

13.  

وقفۂ آرام

حلقوں کے بعد عَصْر تک وقفۂ آرام۔

14.  

بعد عصر اعلان و بیان

(12منٹ) نیکی کی دَعْوَت کے فضائل پر بیان ہو۔[76]

15.  

علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت

علاقائی دورہ برائے نیکی کی دَعْوَت عَصْر کے بعد ہی کیا جائے۔

16.  

عصر تا مغرب کا درس

اِس دوران فیضانِ سنّت (جلد اوّل)اور بیاناتِ عطاریہ وغیرہ سے دَرْس دیاجائے۔ آخرمیں چند منٹ سنتیں سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا جائے۔

17.  

بعد مغرب اعلان و بیان

مَغْرِب کے بعد بیان کسی اَچّھے مُبَلِّغ سے کروایا جائے، اس کے بعد انفرادی کوشش (12منٹ) کی جائے۔پہلے دن مدنی قافلوں کی نِیَّت، اور راہِ خدا میں سَفَر کی اَہَمِیَّت  اور نِیَّت  کے فضائل پر بیان ہو۔دوسرے دن نام لکھوانے کی ترغیب دلائیں اور نام لکھے جائیں اور تیسرے دن بُزُرْگانِ دِیْن رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین  کی دین کی خاطِر قُربانیاں بتا کر سَفَر  کی ترغیب دلائیں اور ہاتھوں ہاتھ سَفَر کی ترکیب بنائیں۔[77]

18.  

وقفۂ طعام

مَغْرِب تا عشا کھاناکھائیں۔

19.  

بعدعشا درس

7منٹ  فیضانِ سنّت (تخریج شدہ) سے درس دیا جائے۔


 

20.  

کیسٹ بیان

 کیسٹ بیان شروع کر نے سے پہلے (7منٹ) باہر جا کر انفرادی کوشش کریں اور پھر کیسٹ بیان کی ترکیب بنائیں، اگر کیسٹ بیان مُیَسَّر نہ ہو تو 26  منٹ امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل میں سے کوئی رسالہ سنایا جائے۔

21.  

دُہرائی کا حلقہ

پورے دن میں جو کچھ سیکھا ہو امیرِقافلہ خود ہی اِسکی دہرائی کرے اور اگر کوئی بخوشی سنانا چاہے تو سُنے اور حَوْصَلہ افزائی بھی کرے۔

22.  

سونے سے قبل اور بیدار ہونے کے بعدکے معمولات

اجتماعی فکرِ مدینہ کرنے، صلوٰۃ التوبہ پڑھنے، سورۂ  ملک سننے کے بعد وقفۂ آرام ہو اور صبح صادق سے(19منٹ )قبل بیدارہو کر نماز ِتہجد اداکی جائے۔ جواسلامی بھائی قریب کی مسجدوں میں درس کیلئے جائیں گے اَذانِ فَجْر سے قبل روانہ ہوجائیں۔اَذانِ فَجْر کے بعد صدائے مدینہ لگائی جائے۔

23.  

بعد ِ فجر اعلان و بیان

7منٹ سے 12 منٹ تک ، ان موضوعات ذِکْرُاللہ، بِسْمِ  اللہ شریف، تِلاوَتِ قرآن اور دُرُود شریف کے فضائل میں سے کسی ایک پر بیان کیا جائے۔

24.  

مدنی حلقہ

امیرِ قافلہ فَجْر کے بیان کے بعد شرکا کو حلقے کی صُورَت میں بٹھا کر کنزُ الایمان سے 3آیات تِلاوَت مع ترجمہ و تفسیر اور فیضانِ سنّت سے چار۴صفحات سنانے کے بعد شُرَکا کے ساتھ مل کر شجرہ پڑھے۔

25.  

آخری دس سورتیں سیکھنے یا مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه کا حلقہ

تین۳دن کے مدنی قافلے میں شُرَکا کو آخری دس سورتوں میں سے سیکھنے سکھانے کی ترکیب بنائے، 12 دن اور 30 دن کے مدنی قافلے میں مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان کی ترکیب بنائی جائے جس میں مدنی قاعدہ مُکَمَّل پڑھایا جائے ۔

26.  

بعداشراق و چاشت وقفۂ آرام،ناشتہ

9:00بجے ناشتہ  9:30 دوبارہ مدنی حلقے کا آغاز کیاجائے۔

 


 

ماخذ و مراجع

کتاب

مطبوعہ

کتاب

مطبوعہ

قرآن مجید

 

اخبار ابی حنیفه

عالم الکتب

 بیروت ۱۴۰۵ھ

کنز الایمان

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۲ھ

بہجة الاسرار

و معدن الانوار

مؤسسة الشرف

لاهور باكستان

الدر المنثور

دار الفکر بیروت۱۴۳۲ھ

غوث پاک کے حالات

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۲۷ھ

روح البیان

دار الکتب العلمیة بیروت۱۴۳۰ھ

فیضان بہاء الدین زکریا

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی

خزائن العرفان

مکتبة المدینه باب المدینه کراچی۱۴۳۲ھ

فیضان بابا فرید گنج شکر

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۶ھ

صحیح البخاری

دار المعرفة بیروت

۱۴۲۸ھ

انوار رضا

ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاھور ۱۴۰۶ھ

سنن الترمذی

دار الکتب العلمیة بیروت2008ء

فیضان پیر مہر علی شاه

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۶ھ

المعجم الکبیر

دار الکتب العلمیة بیروت2007ء

حیات اعلٰی حضرت

مکتبه نبویه گنج بخش

لاھور2003ء

شعب الایمان

دار الکتب العلمية بيروت۱۴۲۹ھ

حالاتِ زندگی حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی بدایونی

نعیمی کتب خانه گجرات2004ء


 

الفردوس بماثور الخطاب

دار الکتب العلمیة بیروت

۱۴۰۶ھ

تذکره صدر الشریعه

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی

مراٰة المناجیح

نعیمی کتب خانه گجرات

فیضانِ محدث اعظم

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی

فتاوی رضویه

رضا فاؤنڈیشن لاهور

فیضان حافظ ملت

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی

مجموعة رسائل امام غزالی

المکتبة التوفيقية القاهره مصر

احترام مسلم

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۶ھ

نفحات الانس مترجم

شبیر برادرز لاھور 2002ء

فیضان سنت

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۲۸ھ

ہشت بہشت مترجم

شبیر برادرز لاھور 2006ء

فکر مدینه

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۵ھ

انمول ہیرے

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی

مقالات شارح بخاری

مکتبه بركات المدينه ۱۴۲۸ھ

الشمائل المحمديه

دار الیسر السعودیه ۱۴۲۸ھ

نیک بننے اور بنانے کے طریقے

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی۱۴۳۲ھ

المواھب اللدنیة علی الشمائل المحمديه

دار الیسر السعودیه ۱۴۲۸ھ

حدائق بخشش

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۳ھ

تاریخ مدینه دمشق

دارالفکر بیروت ۱۴۱۵ھ

ذوق نعت

شبیر برادرز لاھور۱۴۲۸ ھ

جذبُ القلوب الی دیار المحبوب

مکتبه نوريه رضويه لاهور۱۴۳۱ھ

وسائل بخشش(مرمّم)

مکتبة المدینه، باب المدینه کراچی ۱۴۳۶ھ


 

کتاب الشفا

دار الفکربیروت ۱۴۳۲ھ

نور ایمان

دار الاسلام لاهور ۱۴۳۳ھ

شرح الشفا

دار الکتب العلمیة بیروت۱۴۲۸ ھ

آکسفرڈ انگلش اردو ڈکشنری

آکسفرڈ یونیورسٹی  پریس2007ء

فہرست

عنوان

صفحہ نمبر

عنوان

صفحہ نمبر

دُرُود شریف کی فضیلت

1

گھریلو کام کاج کا جَدْوَل

20

آقاکاجَدْوَل

2

ایک اسلامی بھائی کا واقعہ

22

کاشانۂ اَقْدَس کا جَدْوَل

2

عِلْمِ دین سیکھنے سکھانے کا جَدْوَل

23

کاشانۂ اَقْدَس سے باہَر کا جَدْوَل

4

کھانے اور سونے کا جَدْوَل

25

مجلس کا حال و جَدْوَل

5

نیند کتنی اور کب کی جائے؟

26

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا

7

چند بزرگانِ دین کی حیاتِ طیبہ کے جَدْوَل

27

اے کاش! ہمیں بھی کچھ مل جاتا

8

حدیْثِ پاک سے مَاخُوذ مَدَنی پھول

11

امامِ اَعْظَم ابو حنیفہ کا جَدْوَل

27

جَدْوَل کیا ہے؟

11

حضرت رابعہ بصریہ کا جَدْوَل

28

جَدْوَل کی اَہَمِیَّت و ضَرورت

12

حضور غوث اعظم کا جَدْوَل

29

جَدْوَل کا فائدہ

14

حضرت بَہَاءُ الدِّیْن زکریا ملتانی کا جَدْوَل

30

ہمارا جَدْوَل کیسا ہونا چاہیے؟

16

عِبَادَت و ریاضت کا جَدْوَل

17

بابا فرید گنج شکر کا جَدْوَل

32


 

اعلیٰ حضرت کا جَدْوَل

33

جَدْوَل بنانے کی اچھی اچھی نیّتیں

48

پیر مِہر علی شاہ کا جَدْوَل

34

مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مدنی مشوروں سے ماخوذ جَدْوَل کے مُتَعَلِّق مدنی پھول

49

صدرُ الشَّریعہ کا جَدْوَل

36

صَدْرُ الاَفَاضِل کا جَدْوَل

37

نگرانِ حلقہ مشاورت کا جَدْوَل

55

حُضُور مُحَدِّثِ اَعْظَم کا جَدْوَل

38

روزانہ کا جَدْوَل

55

مُفَسِّرِ شَہِیر،حَکِیمُ الاُمَّت کا جَدْوَل

39

ہفتہ وار جَدْوَل

55

حُضُور حافِظِ ملّت کا جَدْوَل

41

ماہانہ جَدْوَل

56

شارح بخاری کا جَدْوَل

42

کامِل جَدْوَل؟

57

شیخِ طَرِیْقَت،اَمِیرِاھلسنّت کا جَدْوَل

43

مَدَنی قافلے کا مُـخْتَصَرجَدْوَل

57

جَدْوَل کی اَہَمِیَّت اَمِیرِاھلسنّت کی نَظَر میں

45

ماخذ و مراجع

61

فہرست

64

تنظیمی جَدْوَل بنانے کی نیّت فرما لیجئے

47

 

 

 



[1]  ……… تاریخ مدینه دمشق، ۷۸۱۲-ناشب بن عمرو ...الخ، ۶۰/۳۸۱، حدیث:۱۲۶۶۱

[2]  ……… جذبُ القلوب،ص۲۳۲

[3]  ……… نورِ ایمان،ص۵۷

[4]  ………یہاں اَہْلِ فَضْل سے  تین۳ قسم کے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  مُراد ہو سکتے ہیں: (1)خاندانی شرافت کے اِعْتِبَار سے اَرْفَع و اَعلیٰ(۲)اسلام لانے میں سَبْقَت لے جانے والے یا(3)زیادہ متقی و پرہیزگار۔ (المواھب اللَّدُنِیَّه عَلَی الشَّمَائِلِ الْمُحَمَّدِیَّه، باب ما جاء فی تَواضُعِ رَسولِ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ص ۵۳۱)

[5]  ……… شَمائلِ مُحمدِيه،۴۷-باب ماجاء فی تواضع رسول الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،ص۵۳۰، حدیث:۳۳۶

[6]  ……… حدائقِ بخشش،ص۸۰

[7]  ……… بخاری، کتاب العلم، باب من یرد  الله به خیرا الخ، ص ۹۲، حدیث: ۷۱

[8]  ……… وسائلِ بخشش(مُرمّم)، ص۳۰۵

[9]  ………آکسفرڈ انگلش اردو ڈکشنری، ص ۱۵۱۹

[10]  ………خزائنُ العرفان، پ۷، انعام، تحت الآیۃ:۶۷،ص۲۵۹

[11]  ……… مجموعةُ رسائلِ امام غزالی،ايها الولد، ص۲۷۵

[12]  ……… الفِردوس بماثورِ الخطاب ،باب الميم،۳/۴۹۸، حديث: ۵۵۴۴

[13]  ……… وسائلِ بخشش (مُرمّم) ص ۱۳۶

[14]  ………تِرمذی، ابوابُ صِفَةِ القيامة … الخ، باب فی القیامة، ص۵۷۴، حدیث:۲۴۱۶

[15]  ……… ذوقِ نعت، ص۱۰

[16]  ……… تِرمذی، ابواب السھو، باب ماجاء فی الاجتھاد فی الصلاة، ص۱۲۵، حدیث:۴۱۲مفھومًا

[17]  ……… شَمائلِ مُحمّدِيَّه،۴۰-باب ما جاء فی عبادة رسول الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،ص۴۶۱،حدیث:۲۷۶

[18]  ………شرحُ الشِّفا،الباب الثانی فی تکمیل الله...الخ،فصل: واما خوفهصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم...الخ، ۱/۳۲۴

[19]  ………حدائقِ بخشش، ص ۳۵

[20]  ……… بخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة علی العمل، ص۱۵۸۹، حدیث:۶۴۶۵

[21]  ……… شُعَبُ الایمان، ۲۳-باب فی الصیام، فضائل شھر رمضان، ۳/۳۱۰، حدیث:۳۶۲۵

[22]  ……… شُعَبُ الایمان، ۲۳-باب فی الصیام، فضائل شھر رمضان، ۳/۳۱۰، حدیث:۳۶۲۴

[23]  ………قرآن کے دور سےمراد یہ ہے کہ ایک پڑھے دوسرا سنےپھر وہ پڑھے یہ سنے۔(مِراٰۃُ المناجیح، اہل بیت کے فضائل، پہلی فصل، ۸/۴۵۴)

[24]  ……… بخاری، کتاب بدء الوحی، 5/000-باب، ص۶۷، حدیث:۶ مفھومًا

[25]  ……… وسائلِ بخشش (مُرمَّم)، ص۱۰۲

[26]  ……… کتابُ الشِّفا ، الباب الثانی، فصل فی تواضعه، الجزء الاول، ص ۱۰۷

[27]  ……… وسائلِ بخشش(مُرمّم)،ص۲۲۵-۲۲۶ ملتقطاً

[28]  ……… دُرِّ مَنْثُور،پ۲۸،التحریم،تحت الآیة:۶،۸/۲۲۵

[29]  ……… احترام مسلم، ص۱۸

[30]  ……… وسائلِ بخشش(مُرمّم)، ص۴۹۸

[31]  ………فیضانِ سنت،پیٹ کا قفل مدینہ،ص۷۷۶

[32]  ……… اَخْبارُ ابی حَنیفه،ذكر ماروی فی تھجد بالیل ...الخ، ص۵۳ مفھومًا

[33]  ……… وسائلِ بخشش(مُرمّم)،ص۵۷۳

[34]  ……… فکرِ مدینہ،ص ۵۶بحوالہ حِکایاتُ الصالحین،ص ۳۹

[35]  ……… بھجةالاسرار،ذکرطريقه رضی الله عنه،ص۱۶۴

[36]  ……… بھجةالاسرار،ذکرفصول من کلامه...الخ،ص۱۱۸

[37]  ……… غوث پاک کے حالات،ص۳۲بحوالہ تفریح الخاطر، ص۳۶

[38]  ……… فیضان بہاء الدین زکریا ،ص۲۲بحوالہ احوال و آثار حضرت بہاء الدین زکریاملتانی، ص ۸۹

[39]  ……… نَفْحاتُ الانس مترجم،ص۵۲۸

[40]  ……… فیضان بہاء الدین زکریا ،ص۲۲،۳۱بحوالہ تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی،  ص۷۶ ملخصاً

[41]  ……… ہَشْت بِہِشت مترجم، افضل الفواد، ص ۱۵۳بتصرف

[42]  ……… فیضانِ بابا فرید گنج شکر،ص۸۴بحوالہ سوانح بابا فرید گنج شکر، ص ۳۸ملخصاً

[43]  ………  فیضانِ بابا فرید گنج شکر،ص۸۴بحوالہ سوانح بابا فرید گنج شکر، ص ۳۹ملخصاً

[44]  ……… فیضانِ بابا فرید گنج شکر،ص۷۲بحوالہ انوار الفرید  ،ص۳۴۹ تا ۳۵۱ ملخصاً

[45]  ……… انوار رضا،ص۳۰۶ بتصرف

[46]  ……… حیات اعلیٰ حضرت،  ص ۸۸، ۱۴۰ ملتقطاً بتصرف

[47]  ……… فیضانِ پیر مہر علی شاہ،ص۱۶بحوالہ مہر منیر،ص۳۱۱،ملخصاً

[48]  ……… تذکرہ صدر الشریعہ،ص۱۶ بتصرف قلیل

[49]  ……… فیضانِ سنت،آداب طعام،ص۳۹۷ بحوالہ تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیت صدر الافاضل، ص۳۳۳ تا ۳۳۴

[50]  ……… فیضانِ محدث اعظم،ص۲۲بحوالہ حیات محدث اعظم ،ص ۱۹۷ملخصاًوغیرہ

[51]  ……… حالاتِ زندگی حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی بدایونی،ص۱۷۹، مفہوماً

[52]  ……… ذوق ِنعت، ص۱۱۶

[53]  ……… فیضانِ حافظ ملت،ص۱۲بحوالہ حیات حافظ ملت، ص۷۹تا ۸۰ملخصاً

[54]  ………  مَقالاتِ شارحِ بخاری،۱/۴۸

[55]  ………  مَقالاتِ شارحِ بخاری،۱/۴۹

[56]  ……… روحُ البیان،پ۲۰،العنکبوت، تحت الآیة: ۲۹ ،۶/۴۹۵مفھومًا

[57]  ……… تِرمذی،کتاب البیوع،باب ما جاء فی التبکیر بالتجارة،ص۳۱۶،حدیث:۱۲۱۲

[58]  ……… مِرْاٰۃ المَناجیح،سفر کے طریقے، دوسری فصل،  ۵/۴۹۱

[59]  ……… انمول ہیرے،ص۱۹تا۲۲ ملتقطاً

[60]  ……… وسائلِ بخشش(مُرمّم)، ص۱۹۱

 [61]  ……… مَعْجَمِ کَبِیر،یحیی بن قیس الکندی عن ابی حازم،۳/۵۲۵،حدیث:۵۸۰۹

[62]  ……… کمزور اور نئے علاقوں وغیرہ کا جدول بنانےمیں نفس  شاید اس لئے ساتھ  نہیں دیتا کہ وہاں رسپانس (response یعنی عملاًیا لفظاً جواب)نہیں ملتا یا اتنا تعاون نہیں ہوتا۔ 

[63]  ……… و سائلِ بخشش(مُرمَّم)،ص۲۰۸

[64]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، شوال المکرم ۱۴۳۴؁ھ  بمطابق اگست 2013

[65]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، شوال المکرم ۱۴۳۴؁ھ  بمطابق اگست 2013

[66]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، رجب المرجب ۱۴۳۶؁ھ بمطابق اپریل2015

[67]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، ذو القعدۃ الحرام  ۱۴۳۶؁ھ بمطابق اگست2015

[68]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، ذو القعدۃ الحرام ۱۴۳۶؁ھ بمطابق اگست 2015

[69]  ……… حدائقِ بخشش،ص۴۲

[70]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، ربیع الاوّل ۱۴۳۵؁ھ بمطابق جنوری 2014

[71]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، ذو الحجۃ الحرام۱۴۲۶؁ھ بمطابق جنوری 2006

[72]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، جمادی اولیٰ ۱۴۲۸؁ھ بمطابق جون 2007

[73]  ……… مَدَنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ، ذو القعدۃ الحرام  ۱۴۲۸؁ھ بمطابق نومبر دسمبر  2007

[74]  ………اس کی تفصیلات کتاب نیک بننے اور بنانے کے طریقے صفحہ 154تا157پر مُلَاحَظہ فرمائیے۔

[75]  ………اس کی تفصیلات کتاب نیک بننے اور بنانے کے طریقے صفحہ 160تا171  پر مُلَاحَظہ فرمائیے۔

[76]  ……… عَصْر کے بیانات کتاب نیک بننے اور بنانے کے طریقے صفحہ 328 پر مُلَاحَظہ کیجئے۔

[77]  ……… مَغْرِب کے بیانات کتاب نیک بننے اور بنانے کے طریقے صفحہ 379 پر مُلَاحَظہ کیجئے۔