سیِّدُناابو موسٰیرَضِیَ اللہُ عَنْہکی حیا :

       حضرت سیِّدُناابوموسٰی اشعریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں کہ جب میں غسْلِ جنابت کےلئےاندھیرے کمرے میں جاتا ہوں تو اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ سے حیاکے سبب  اپنی پیٹھ جُھکا لیتا ہوں ۔کسی کا قول ہے:حیا کے سبب چھپا ہوا چہرہ سیپی میں چُھپےموتی کی طرح ہے۔

       حضرت سیِّدُناخواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ بندوں کا عمل چار منزلوں پر ہوتا ہے: (۱)خوف(۲)رجا (۳)تعظیم اور (۴)حیا، ان میں سب سےاونچی منزل حیا ہے۔ جب بندے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہےتو کہتے ہیں : ہمارے لئے  برابر ہے کہ ہم اسے دیکھیں یا وہ ہمیں دیکھے  اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حیاان کے لئے ان کے گناہوں سے آڑ بن جاتی ہے۔

       کہا جاتا ہے کہ قناعت امانت کی، امانت شکر کی، شکر نعمت میں اضافے کی اور اضافہ نعمت کے باقی رہنے کی دلیل ہے جبکہ حیا خیرِ کُل کی دلیل  ہے۔

دوسری فصل:                                                                                     عاجزی و انکساری کا بیان

               اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) (پ۱۴،الحجر:۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان:اورمسلمانوں کواپنےرحمت کےپَروں میں لے لو۔

       اور ارشاد فرماتا ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) (پ۲۰،القصص:۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر  ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔

       حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ التَّوَاضُع یعنی افضل عبادت تواضع ہے۔“([1])

پیارے آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عاجزی:

       رسولِ اکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:”مجھے میرے مرتبے سے نہ بڑھاؤ کہ تم میرے بارے میں بھی وہی کہنے لگو جو نصاریٰ نےحضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں کہا  کیونکہ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے مجھے رسول بنانے سے پہلے بندہ بنایا ہے (عبدیت کے دائرے میں جتنی چاہو تعریف کرو)۔“([2])


 

       ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں آیا جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی، اس کی حالت دیکھ کر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا: ”تسلّی رکھو! میں فرشتہ نہیں ہوں ، میں تو دھوپ میں خشک کیا گیا گوشت کھانے والی ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں ۔“([3])

       آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنےکپڑوں پرپیوندلگاتے،اپنےجوتےخودسیتے،اپنےگھرکےکام کاج کیا کرتے تھے، آپ متکبِّر تھے نہ سخت مزاج، لوگوں میں سب سے زیادہ حیا اور تواضع والے تھے اور جب بھی اپنے اوپر ہونے والی خصوصی عنایتِ خداوندی کا ذکر کرتے تو فرماتے: میں اس پر فخر نہیں کرتا ۔

تین اہم چیزیں :

       حضور نبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں : ”معاف کرنے سے بندے کی عزت بڑھتی ہے لہٰذا تم معاف کیا کر و اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں عزت عطا فرمائے گا اور عاجزی بندے کو بلند کرتی ہے لہٰذا تم عاجزی کیا کرو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں بلندی عطا فرمائے گا اور صدقہ مال میں اضافہ کرتا ہے لہٰذا تم صدقہ کیا کرو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے مال کوبڑھا دے گا۔“([4])

       حضرت سیِّدُنا عدی بن ارطاۃرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنےحضرت سیِّدُناایاس بن معاویہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے کہا: ”آپ بہت تیز چلتے ہیں ۔“انہوں نے کہا: ”اس لئے کہ تیز چلناتکبر سے بچاتا اور حاجت کو جلد پورا کرتا ہے۔“

جہنم ٹھکانا:

       حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیراورحضرت سیِّدُنا ابنِ عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کےپاس آئےتوحضرت سیِّدُناابنِ عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکھڑےہوگئےلیکن حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (بھاری جسم ہونےکی وجہ سے)بدستوربیٹھےرہے۔حضرت امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سےکہا:بیٹھ جاؤکیونکہ میں نے رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا ہے: جو اس بات کو پسند کرے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے رہیں تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔([5])


 

      کہاگیا ہے کہ تواضع بُزرگی کو سلامت رکھتی ہے۔

      حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُون کا لباس پہنا اور مسکینوں میں جا بیٹھے۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میرے والد سخت مزاج تھے تو میں نے چاہا کہ اپنے ربّ تعالیٰ کے حضور عاجزی کروں تاکہ وہ گرفت کرنے میں میرے والد پر تخفیف فرمائے۔

جودی پہاڑ کو بلند ی کیسے ملی؟

      امام مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے قوم نوح کو ڈبویا تو دیگر پہاڑ تو اونچے ہوگئے جبکہ جودی پہاڑ جُھک گیاتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے باقی پہاڑوں پر بلندی عطا کی اور کشتی نوح کے ٹھہرنے کے لئے اُسے منتخب کیا ۔

تواضع نےکَلِیْمُاللہ بنا دیا:

      اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا:”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے کلام کے لئے تمام لوگوں میں سے تمہیں خاص کیوں کیا؟“انہوں نے عرض کی:”اے میرے رب!مجھے نہیں معلوم۔“ارشاد فرمایا: ”اس لئے کہ میں نے تمہیں اپنے سامنے  عاجزی کرتے ہوئے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوتے دیکھا ہے۔“

      کہا گیا ہے کہ جو اپنی شان اوقات سے زیادہ بلند کرتا ہے وہ لوگوں کی نفرت کا طلب گار بن جاتا ہے۔

                             فَسُبْحَانَ مَنْ تَوَاضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِعِزِّ جَبَرُوْتِ عَظَمَتِهٖ وَصَلَّى اللهُ عَلٰى سِيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّم یعنی پاک ہےوہ ذات جس کی  شان وعظمت کے آگے ہر شے تواضع کرتی ہے اور درود وسلام ہو ہمارے سردار حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپراور آپ کی آل واصحاب پر۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

نیک پڑوسی کی برکت

حضورنبی پاک،صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہعَزَّ  وَجَلَّنیک مسلمان کی وجہ سےاس کےپڑوس کے100گھروں سےمصیبت دورفرمادیتاہے۔(معجم اوسط،۳/ ۴۰۸،حدیث:۱۲۹)


 

باب نمبر27:                  خود پسندی اور غرور و تکبر کا بیان

      جان لو! تکبر اور خود پسندی اچھائیوں کو سلب اور   بُرائیوں کو پیدا کرتے ہیں ۔تمہارے لئے یہی بُرائی بہت ہے جو تمہیں نصیحت سننے اور ادب و اخلاق کی تعلیم قبول کرنے سے روکے،تکبر بغض و عناد پیدا کرتا اور دلجوئی سے روکتا ہے۔

متکبر جنت میں نہیں جائے گا:

      سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهٖ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِّنْ كِبَرٍیعنی جس کے دل میں ذرہ  برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“([6])

رحمتِ خداوندی سے محروم:

      محبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ اِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی جس نے تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹا اللہ عَزَّ   وَجَلَّ بروزِ قیامت اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔“([7])

      حضرت سیِّدُنا اَحْنَف بن قَیْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : انسان اپنے اندر پائی جانے والی کسی ذلت کے سبب ہی تکبر کرتا ہے ۔

      عقلمند لوگ تکبر سے ہمیشہ کنارہ کش رہتے اور اس سے نفرت کرتے ہیں ۔

      خود پسندی کےشکار ایک جاہل شخص کو دیکھ کر افلاطون نے کہا: کاش! میں ایسا ہو جاؤں جو تو خود کو  گمان کرتا ہے اور میرے دشمن ایسے ہوجائیں جو تیری اصل حقیقت ہے۔

          حضرت سیِّدُناا حنفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :اس شخص پرتعجُّب ہےجوتکبُّرکرتاہے حالانکہ وہ دو مرتبہ پیشاب گاہ سے نکلا ہے۔

مُتکَبِّرانہ چال چلنے والے کو نصیحت:

      مُہلَب بن ابو صُفرہ کا بیٹا متکبرانہ چال چلتے ہوئے حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے سے گزرا۔ آپ نے اس سے فرمایا: ”اگر تم اس تکبر کو چھوڑ دو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہو گا۔“ وہ کہنے لگا: کیا  آپ مجھے نہیں جانتے؟


 

 آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں ،تمہاری ابتدامُتَغَیِّر نطفہ سے ہوئی  اور انتہا بدبودار مردار کی صورت میں ہوگی اور ان دونوں حالتوں کے درمیان تم پیٹ میں پاخانہ اٹھائے پھرر ہے ہو۔“ یہ سن کر اس نوجوان نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے اس عمل کو ترک کر دیا۔

       حکما کا قول ہے کہ تکبر کے ساتھ بادشاہت سلامت نہیں رہتی متکبر کو یہی بُرائی کافی ہے جو ریاست اور سرداری کو ختم کر دے اور سب سے بڑی بُرائی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے متکبرین پر جنت حرام فرمادی ہے، ارشاد رَبّانی ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)(پ۲۰،القصص:۸۳)

ترجمۂ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد۔

        اس آیت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تکبر کو فساد کے ساتھ ملایا ہے۔

               اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ- (پ۹،الاعراف:۱۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور میں اپنی آیتوں سے انھیں پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں ۔

            کسی دانا کا قول ہے کہ  میں نے جب بھی کسی تکبر کرنے والے کو دیکھا تو اس پر تکبر کیا([8])۔

       جان لو!تکبُّر بغض و عناد کو لازم کرتا ہے اور بغض و عناد والا شخص کبھی ایک  حال پر قائم نہیں رہ سکتا۔

جذیمَۃُ الْابرش:

       عرب والے بہت زیادہ تکبُّر کرنے والے کو ”جَذِیْمَۃ ُالْاَبْرَش“کہتے تھے۔ کہا جاتا ہے  کہ یہ بادشاہ تکبُّر کے سبب کسی کو اپنا ہم نشیں نہیں بناتا تھا اور کہتا تھا :میرے ہم نشیں ”فَرْقَدَان“ستارے ہیں ۔([9])

ابن عَوانہ کا تکبُّر:

       ابنِ عَوانَہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ تکبر کرنے والا تھا۔منقول ہے کہ ایک دن ابن


 

عَوانَہ نے اپنے غلام سے کہا: مجھے پانی پلا۔ غلام نے کہا:” جی اچھا۔“ابن عوانہ نے کہا: اس نے ”جی“کہا ہے حالانکہ یہ ”نہیں “

کہنے پر بھی قادر تھا تو ابن عوانہ نے کسی سے غلام کو تھپڑ مارنے کا کہا تو اس نے غلام کو تھپڑ مار دیا، پھر اس نے ایک کھیتی باڑی کرنے والے شخص کو بلایا اور اس سے بات کرنے لگا جب فارغ ہوا تو پانی منگوا کر اپنے مخاطب کو کمتر سمجھتے ہوئے کلی کی۔

تکبرکےحوالےسےمشہور قبیلے:

      جاحظ کہتاہے:قریش میں بنومَخْزوم اوربنو اُمَیَّہ جبکہ عرب میں بنو جَعْفَر بن کِلاب اور بنو زُرَارَہ  بن عدی تکبر کے حوالے سے مشہور تھے، کم درجے والوں کو یہ لوگ غلام شمار کرتے تھے اور خود کو اہل ارباب میں شمار کرتے تھے۔

      بنو عبد دار کے ایک شخص سے پوچھا گیا: تم خلیفہ کے پاس کیوں نہیں جاتے؟ تو اس شخص نے جواب دیا: مجھے خوف ہے کہ خلیفہ میرے شرف کو اپنی عزت کا ذریعہ نہ بنالے۔

      حجاج بن ارطاۃ سے پوچھا گیا:تم جماعت میں کیوں نہیں آتے؟ تو حجاج نے جواب دیا: مجھے سبزی فروشوں سے جھگڑے کا خوف ہے۔

حلم ہوتوایسا:

      حضرت سیِّدُنا وائل بن حجر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں زمین کا ایک ٹکڑا عنایت فرمایا اور حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اسے اس کی زمین لکھ کر دے دو۔([10])حضرت سیِّدُنا وائل بن حجر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شدید گرمی میں دوپہر کے وقت حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ نکلے، حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اونٹنی کے پیچھے چل رہے تھے  جب اِنہیں سورج کی تپش پہنچی تو اِنہوں نے حضرت سیِّدُنا وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا: مجھے بھی اپنے ساتھ اونٹنی پر بیٹھا لو۔ حضرت سیِّدُنا وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا: تم ان میں سے نہیں ہو جو بادشاہوں کے پیچھے بیٹھیں ۔ حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: اچھا اپنے جوتے مجھے دے دو؟  حضرت سیِّدُنا وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا: اے ابنِ ابو سفیان! میں بخل کی وجہ سے تجھے منع نہیں کرتا لیکن مجھے ناپسند ہے کہ یمن کے سرداروں کو یہ بات پہنچے کہ تم نے میرے جوتے پہنے ہیں ، ہاں تم میری اونٹنی کے سائے میں چل سکتے ہو اور یہ تمہارے مرتبہ کے موافق بھی ہے۔


 

منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے تک حیات رہےاور جب بھی حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جاتے تو آپ اِنہیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھاتے اور ان کے ساتھ گفتگو فرماتے([11])۔

کیا تم مجھے جانتے ہو؟

          مسرور بن ہند نے ایک شخص سے کہا: کیا تم مجھے جانتے ہو؟اس شخص نے کہا: نہیں ۔ مسرور نے کہا: میں مسرور بن ہند ہوں ۔ اس شخص نے کہا: میں تو آپ کو نہیں جانتا۔ مسرور بن ہند نے کہا: تُو ہلاک و ذلیل ہو اگر چاند سے واقف نہیں ۔


       کہا گیا ہے کہ  ہر گھٹیا شخص تکبر کرتا ہے اور ہر بلند مرتبہ شخص عاجزی کرتا ہے۔

                             وَاللهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ وَصَلَّى اللهُ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمیعنی اللہ عَزَّ    وَجَلَّ بہتر جانتا ہے اوردرود و سلام ہو حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اور آپ کی آل واصحاب پر۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب نمبر 28:                                                                     آپس میں فخر کرنے اور درجات کے درمیان

تفاوت کابیان

       آپس میں فخر کرنے کے متعلق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان ہے:

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ﳳ-لَا یَسْتَوٗنَؐ(۱۸) (پ۲۱،السجدة:۱۸)

ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہو جائے گا جو بے حکم ہے یہ برابر نہیں ۔

       یہ آیت کریمہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی بن ابو طالبکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور عقبہ بن ابو معیط کے بارے میں نازل ہوئی  جب یہ دونوں باہم فخر کر رہے تھے([12])۔

          اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ- (پ۲۴،حم السجدة:۴۰)

ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا جو آگ میں ڈالا جائے گا وہ بھلا یا جو قیامت میں امان سے آئے گا۔

       یہ آیت مبارکہ حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔


 

اولاد ِآدم کے سردار:

      حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نسب سب سے زیادہ بزرگی والا ہےلیکن پھر بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اَنَاسَيِّدُوَلَدِاٰدَمَ وَلَافَخَریعنی میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا۔“([13])

      نسب پر فخر کرنے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ کہہ کر منع فرمایا ہے:

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پ۲۶،الحجرات:۱۳)            ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔

فخر تو تقوٰی کے سبب ہے:

      اسلام میں فخر تقوٰی کےسبب ہے اور حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک تمہارا نبی ایک ہے، تمہارے والد (یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ) ایک ہیں لہٰذا کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوی کے سبب ۔([14])

امام زین العابدین عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کا گریہ:

      حضرت سیِّدُناامام اصمعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں :میں ایک رات خانہ کعبہ کاطواف کررہاتھاکہ اچانک میں نےایک شخص کوغلافِ کعبہ تھامےاشعارکی صورت آہ وزاری کرتےسنا،وہ کہہ رہاتھا:

يَا مَنْ يُّجِيْبُ دَعَا الْمُضْطَرِّ فِي الظُّلْمِ                                                                               يَا كَاشِفَ الضُّرِّ وَالْبَلْوٰى مَعَ السَّقَمِ

قَدْ نَامَ وَفْدُكَ حَوْلَ الْبَيْتِ وَانْتَبَهُوْا                                                                        وَانْتَ يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ لَمْ تَنَمِ

اَدْعُوْكَ رَبِّي حَزِيْنًا هَائِمًا قَلَقًا                                                                                                    فَارْحَمْ بُكَائِیْ بِحَقِّ الْبَيْتِ وَالْحَرَمِ

اِنْ كَانَ جُوْدُكَ لَا يَرْجُوْهُ ذُوْ سَفَهٍ                                                                                           فَمَنْ يَّجُوْدُ عَلَی الْعَاصِيْنِ بِالْكَرَمِ

      ترجمہ:(۱)…اے اندھیرے میں پریشان حال کی دعا سننے والے اور اے بیمار کے دکھ درد دور کرنے والے۔ (۲)…کعبہ کے ارد


 

گرد تیرے بندے سوگئے اورکچھ بیدار ہوگئے اور اے حی قیوم تو نہیں سوتا۔(۳)…اے میرے رب! میں تجھے دکھ درد اورغم میں پکارتا ہوں ، کعبہ و حرم کےصدقےمیرے رونے پر رحم فرما۔(۴)…اگر مجرم تیرے  کرم کی امید نہ رکھے، تو عاصیوں پر کرم کون کرے گا۔

      پھر بہت زیادہ رونے لگے اور یہ اشعار پڑھے:

اَلَا اَيُّهَا الْمَقْصُوْدُ فِيْ كُلِّ حَاجَتِي                                                                                              شَكَوْتُ اِلَيْكَ الضُّرُّ فَارْحَمْ شَكَايَتِيْ

اَلَا يَارَجَائِيْ اَنْتَ تَكْشِفُ كُرْبَتِي                                                                                     فَهَبْ لِيْ ذُنُوْبِيْ كُلّهَا وَاقْضِ حَاجَتِيْ

اَتَيْتُ بِاَعْمَالٍ قِبَاحٍ رَدِيْئَةٍ                                                                                                         وَمَا فِي الْوَرٰى عَبْدٌ جَنٰى كَجَنَايَتِي

اَتُحَرِّقُنِيْ بِالنَّارِ يَا غَايَةَ الْمُنَى                                                                                           فَاَيْنَ رَجَائِي ثُمَّ اَيْنَ مَخَافَتِيْ

      ترجمہ:(۱)…اے وہ ذات! جو میری ہر حاجت میں مقصود و مطلوب ہے، میں نے اپنے غم کی عرضی تیری بارگاہ میں پیش کی  پس تو میری عرضی  پرنظر  رحمت فرما۔(۲)…اے میری امید گاہ! تو ہی میری مشکل کو ٹالنے والا ہے، پس میرے تمام گناہ معاف فرما اور میری حاجت پوری فرما۔(۳)…میں تیری بارگاہ میں بُرے اوربے کار اعمال لے کر حاضر ہواہوں  اور دنیا میں ایسا کوئی بندہ نہیں جس کے گناہ مجھ جیسے ہوں ۔(۴)…اے آخری امید! کیا تو مجھے جہنم میں جلائے گا؟ تو پھر میری امیدکہاں جائے گی  اور میرے خوف کاکیا بنے گا؟

      یہ کہتے ہوئے  بے ہوش ہو کر زمین پرتشریف لے آئے ۔ میں ان کے قریب ہوا تو دیکھا وہ امام زین العابدین علی بن حسین بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْتھے، میں نے ان کا سر اپنی جھولی میں رکھ لیا اور رونے لگا، میرے آنسوؤں میں سے ایک آنسو اُن کے رخسار پر گرا تو اُنہوں نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا: یہ کون ہے جو ہم پر آنسو بہا رہا ہے؟  میں نے کہا: میں آپ کا غلام اصمعی ہوں ، حضور یہ رونا دھونا کس سبب سے ہے؟ حالانکہ آپ خاندان نبوت سے ہیں ، کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ لوگوں کے بارے میں نہیں فرمایا:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) (پ۲۲،الاحزاب:۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اللہتویہی چاہتاہےاےنبی کےگھروالوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا  کردے۔

      حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے اصمعی! تجھ پر افسوس ہے، بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جنت اطاعت گزاروں کے لئے بنائی ہے اگرچہ وہ حبشی غلام ہو اور جہنم نافرمانوں کے لئے بنائی ہے اگرچہ وہ قریشی آزاد ہو، کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے نہیں فرمایا:


 

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۱۰۱)فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۲)

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۳) (پ۱۸،المؤمنون:۱۰۱ تا ۱۰۳)

ترجمۂ کنز الایمان: تو جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھےتو جن کی تولیں بھاری ہوئیں وہی مراد کو پہونچےاور جن کی تولیں ہلکی پڑیں وہی ہیں جنھوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

بغیر ایمان عمل قبول نہیں :

       حضرت سیِّدُناعباس بن عبْدُالمطلبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جب یہ ایمان نہیں لائےتھے)اورطلحہ بن شیبہ حضرت سیِّدُناعلی بن ابو طالبکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سےفخرکررہےتھے،حضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا: میں حاجیوں کو پانی پلانے والا ہوں اور اب بھی اسی منصب پر فائز ہوں ۔ طلحہ  نے کہا: میں خانہ کعبہ کا خادم ہوں اور اس کی چابیاں میرے پاس ہیں ۔ تو حضرت سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تم کیا بول رہے ہو لیکن میں تم دونوں سے چھ سال پہلے سے اس قبلے کی طرف منہ کر کہ نماز پڑھ رہا ہوں ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ(۱۹) (پ۱۰،التوبة:۱۹)

 ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا تم نے حاجیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرالی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔

اہمیت تو صرف ایمان کی ہے:

       حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں دو شخص آپس میں فخر کر رہے تھے، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں حتّٰی کہ اس نے اپنی نو پشتیں گنوائیں جو سب کے سب مشرک تھے۔ دوسرے نے کہا: میں فلاں کا بیٹا ہوں اوراگر وہ مسلمان نہ ہوتے تو میں ان کا ذکر نہ کرتا۔ اللہ عَزَّ    وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی: وہ جس نے اپنی نو مشرک پشتیں گنوائی ہیں مجھے پر لازم ہے کہ اس سمیت دسوں کو جہنم میں ڈال دوں اور جس نے صرف اپنے مسلمان باپ کو شمار کیا ہے میں اسے اُس سمیت جنت میں داخل کروں ۔


 

باہمی فخر پر دلچسپ مکالمہ:

      خلیفہ  ابو عباس سفاح کو قصے کہانیاں سننا اور لوگوں کا آپس میں بحث و مباحثہ کرنا بڑا پسند تھا۔ ایک رات اس کے پاس ابراہیم بن مخرمہ کندی اور خالد بن صفوان آئے اور ان کے درمیان مصر اور یمن کے حوالے سے بحث و مباحثہ ہونے لگا۔ ابراہیم نے کہا: اے امیرالمؤمنین! اہل یمن عرب کے وہ لوگ ہیں دنیا جن کے زیادہ قریب ہے ، ان میں ایک سے ایک بادشاہ اور بڑے بڑے بہادر ہیں جن میں سے نعمان، منذر اور  صاحبِ بحرین عیاض ہیں اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے پورے پورے سفینے غصب کر لئے اور خطرناک سے خطرناک کام ان کی طرف منسوب ہیں ، ان سے مانگا جائے تو دیتے ہیں ، ان کے پاس مہمان آجائے تو مہمان نوازی کرتے ہیں ، وہ خالص عرب ہیں اور جو ان کے علاوہ ہیں وہ ان جیسی عادات اپناتے ہیں ۔ابو عباس نے کہا: میرا خیال ہے کہ تمیمی تمہاری بات سے راضی نہیں ہوگا، پھر خلیفہ نے خالد سے کہا: اے خالد! تم کیا کہتے ہو؟ خالد نے کہا: اگر امیرالمؤمنین اجازت دیں تو میں کلام کروں ؟ خلیفہ نے کہا: بے خوف بات کرو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔  خالد نے کہا: بغیر علم کے دھاوا بولنے والے نے غلطی کی اور جو بھی کہا غلط کہا اور وہ قوم کیسے صحیح بول سکتی ہے جس کی نہ زبان فصیح ہے نہ لغت صحیح ہےاور نہ قرآن وسنت ان کی زبان میں ہے، وہ ہم پر نعمان اور منذر کے ذریعے فخر کرتے ہیں تو ہم ان پر مخلوق میں سب سے بہتر اور بزرگ ہستی حضرت سیِّدُنامحمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سبب فخر کرتے ہیں جن کا ہم پر اور اِن پر احسان ہے۔چنانچہ

       مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم میں سے ہیں اور پسندیدہ خلیفہ ہیں ، ہمارے پاس کعبہ ہے، زمزم ہے، حطیم ہے، مقام ہے، حجابہ ہے، بطحاء ہے اور ایسی چیزیں جن کا شمارنہیں ۔ہمارےپاس صدیق وفاروق ہیں ،ذُوالنُّورَین ہیں ،اَسَدُاللہہیں اورسیِّدُالشُّہداہیں عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہیں ،ان کے سبب ہم نے دین کو جانا اور ہمیں یقین حاصل ہوا، جو ہم سے ٹکرایا ہم اس سے لڑے  اور جس نے ہم سے دشمنی کی ہم نے ان کا صفایا کردیا۔ پھر خالد ابراہیم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:  کیا تمہارے پاس تمہاری قوم کی لغت کا علم ہے؟ ابراہیم نے کہا: ہاں ہے۔ خالد نے پوچھا:  تمہارے ہاں آنکھ کو کیا کہتے ہیں ؟ ابراہیم نے جواب دیا: جُمْجُمَة۔ خالد نے پوچھا: دانت کو کیا کہتے ہیں ؟ ابراہیم نے جواب دیا:مَیْدان۔ خالد نے پوچھا: کان کو کیا کہتے ہیں ؟ ابراہیم نے جواب دیا:صِنّارَة۔ خالد نے پوچھا: انگلی کو کیا کہتے ہیں ؟ ابراہیم نے جواب دیا: شَناتِیر۔ خالد نے پوچھا: بھیڑیئے کو کیا کہتے ہیں ؟ ابراہیم نے جواب دیا: کُنَع۔ خالد نے پوچھا: کیا تم کتاب اللہ کا علم رکھتے


 

 ہو؟ ابراہیم نے جواب دیا: جی ہاں ۔ خالد نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا (پ۱۲،یوسف:۲)                                                                                                 ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا۔

       اورارشاد فرماتاہے :

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ(۱۹۵) (پ۱۹،الشعرآء:۱۹۵)                                                                                                         ترجمۂ کنز الایمان: روشن عربی زبان میں ۔

       مزید فرماتاہے:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ (پ۱۳،ابراھیم:۴)                                   ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا۔

       توہم عرب ہیں اورقرآن ہماری ہی زبان میں نازل ہوا۔ کیاتم دیکھتےنہیں کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّنےارشاد فرمایا:’’ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ یعنی اورآنکھ کےبدلےآنکھ([15])یہ نہیں فرمایا:”وَالْجُمْجُمَۃ بِالْجُمْجُمَۃ“اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّنےارشادفرمایا:” وَ السِّنَّ بِالسِّنِّۙ-یعنی اوردانت کےبدلےدانت([16])یہ نہیں فرمایا:”وَالْمَیْدان بِالْمَیْدان“اوراللہعَزَّ  وَجَلَّنےارشادفرمایا:” وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ یعنی اورکان کےبدلے کان([17])یہ نہیں فرمایا:”وَالصِّنّارَۃ بِالصِّنّارَۃ“اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشادفرمایا:” یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ یعنی اپنےکانوں میں انگلیاں ٹھونس رہےہیں ([18])یہ نہیں فرمایا: شَناتِیْرَھُمْ فِیْ صِنّارَتِھِم“اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّنےارشادفرمایا:” فَاَكَلَهُ الذِّئْبُۚ-یعنی اسےبھیڑیاکھا گیا([19]) یہ نہیں فرمایا:”اَلْکُنَع“پھرخالدنےکہا:میں تجھ سےچارباتیں پوچھتاہوں اگرتو اس کا اقرار کرے گا تو بہادری کا کام کرے گااوراگرانکارکرےگاتوکفرکرےگا۔ابراہیم نےکہا:وہ کون سی باتیں ہیں ؟خالدنے پوچھا:رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم میں آئےیاتم میں ؟ابراہیم نےجواب دیا:تم میں آئے۔ خالدنےپوچھا: قرآن ہم پرنازل ہوایاتم پر؟ابراہیم نے جواب دیا:تم پر۔خالدنےپوچھا:منبرہمارےدرمیان تھایا تمہارے؟  ابراہیم نےجواب دیا:تمہارے۔خالدنےپوچھا:خانہ کعبہ ہمارےہاں ہےیاتمہارے؟ابراہیم نےجواب دیا: تمہارے۔ خالدنےکہا:تم جاسکتےہوان سب باتوں کےبعداب


 

 تمہارےپاس کیاہےسوائےبندرسدھانےوالوں ،کھالوں کی دباغت کرنے والوں اور چادریں بنانے والوں کے۔ یہ سن کر ابو عباس ہنسنے لگا اور خالد کی بات کو تسلیم کیا([20])۔

درجات میں کمی بیشی کا بیان

       مروی ہے کہ  جب مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیِّدُناخالدبن ولید اورحضرت سیِّدُناعکرمہ بن ابوجہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی طرف دیکھتے تو ارشاد فرماتے:”يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّیعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔“اس لئے کہ یہ دونوں حضرات نیک صحابہ میں تھے اور ان دونوں کے باپ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےبہت بڑے دشمن تھے۔

تین طرح کے لوگ:

       احمد بن سہل کہتے ہیں لوگ تین طرح کے ہیں :(۱) سابق: وہ جو فضیلت میں سبقت لے گئے (۲) لاحق: وہ جو اپنے آبا کی فضیلت میں شامل ہوئےاور(۳)ماحق: وہ جو اپنے آبا کا شرف بھی ختم کرنے  والے ہیں ۔

                             وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَصَلَى اللهُ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمیعنی درستی کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے اوردرود وسلام ہو ہمارے سردار حضر ت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کی آل واصحاب پر۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب نمبر 29:                                                                         شرف وبزرگی، سرداری اور بلند ہمتی کا بیان

سردار کون ہے؟

       قاسم نعمت،مالک جنتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”مَنْ رَزَقَهُ اللهُ مَالًافَبَذَلَ مَعْرُوْفَهٗ وَكَفَّ اَذَاهُ فَذٰلِكَ السَّيِّدیعنی جسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّنےمال دیاپھر اس نے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی  اورانہیں اذیت سے بچایا  تووہ سردار ہے۔“([21])

       حضرت سیِّدُنا قیس بن عاصمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا گیا: آپ قوم کے سردار کیسے بنے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں نے کسی سے بھی جھگڑا کیا تو اُس سے صلح کی راہ بھی رکھی۔


 

کبھی کسی کو بُرا بھلا نہ کہا:

      حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کبھی کسی کو بُرا بھلا نہیں کہا کیونکہ اگر میں بُرا بھلا کہتا تو دو طرح کے لوگوں میں سے کسی ایک کو کہتا یا تو وہ شریف آدمی ہوتایا بُرا ہوتا۔ اگر شریف ہوتا تو مجھ پر لازم تھا کہ میں اسے بُرا بھلا کہنے سے بچتا اور اگر بُرا ہوتا تو مجھ پر لازم تھا کہ اپنی عزت اس سے بچاتا۔

      بزرگوں کاقول ہے: سردار کی تعریف کرنے کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ اس کی طرف محبت سے دیکھے اور اس کی بات دھیان سے سنے۔

سیِّدُناامیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور ایک وفد:

      منقول ہے کہ عرب کا ایک وفد حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وفد میں حضرت سیِّدُنا احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تھے۔ دربان نے کہا: امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر کوئی اپنے متعلق ہی بات کرے۔ جب سب لوگ امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے حاضر ہوئے تو حضرت سیِّدُنا احنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: اگر امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں خبر دیتا کہ سب کا حال ایک جیسا ہی ہے اگرچہ ان پر نازل ہونے والے مصائب مختلف ہیں اور سب کو امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھلائی کی حاجت ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اے ابو بحر! بس کرو، میں حاضر و غائب سب کے لئے کافی ہوں ۔

سردار کیسے بنے؟

      حضرت سیِّدُنا احنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی شخص نے پوچھا: آپ قوم کے سردار کیسے بن گئے؟ حالانکہ آپ گھربار، چہرے اور اخلاق کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بڑھ کر نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اُس سبب سے جو تم میں نہیں ۔ اس شخص نے کہا: وہ کیا ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں نے تمہارے ان معاملات کو چھوڑ دیا جو میرے لئے فضول تھے جیسا کہ تم لوگوں نے میرے ان کاموں کو چھوڑ دیا جو تمہارے لئےبے فائدہ  تھے۔

      منقول ہے کہ سردار وہ ہے جو دوستوں کے لئے صبح کے وقت برسنے والے بادل کی مثل ہو اور دشمنوں کے لئے خطرناک شیر کی مثل ہو۔


 

ریاست کی اصل بلند ہمتی کا بیان 

عمارہ بن حمزہ کی بلند ہمتی:

      بلند ہمت اور شریف النفس شخصیات میں سے ایک نام عمارہ بن حمزہ کا ہے۔  منقول ہے کہ یہ ایک مرتبہ خلیفہ منصور کے دربار میں گیا اور اس کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ ایک شخص  نے کھڑے ہو کر عرض کی: اے امیرالمؤمنین! مجھ پر ظلم ہوا ہے۔ منصور نے کہا:تجھ پر کس نے ظلم کیا؟ اس شخص نے کہا: عمارہ بن حمزہ نے میری زمین غصب کی ہے۔ منصور نے کہا: اے عمارہ! کھڑے ہوجاؤ اور اپنے خصم کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ عمارہ نے کہا: کس بارے میں یہ میرا خصم ہے؟ اگر زمین اِس کی ہے تو میں اِس سے جھگڑا نہیں کروں گا اور اگر زمین میری ہے تو میں نے اِسے ہبہ کی لیکن جس جگہ مجھے امیرالمؤمنین کے سبب شرف و بلندی ملی میں اُسے چھوڑ کر زمین کی وجہ سے ادنیٰ جگہ نہیں بیٹھ سکتا ۔

      سفاح اور اُمِّ سلمہ ایک دن عمارہ کے بارے میں بات کر رہے تھے کہ وہ متکبر ہے یا نہیں ۔ام سلمہ نے کہا: تم اُسے بلاؤ میں اُسے اپنی تسبیح ہبہ کروں گی جس کی قیمت 50 ہزاردینار ہے اگر اُس نے قبول کرلی تو ہم سمجھ لیں گے کہ وہ متکبر نہیں ہے۔ سفاح نے عمارہ کو بلایا اور ام سلمہ نے اس سے کچھ دیر گفتگو کی اور پھر اسے تسبیح دیتے ہوئے کہا: یہ میری طرف سے تمہارے لئے ہے۔ عمارہ نے تسبیح لے کر  اپنے سامنے رکھ لی، پھر تسبیح وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ ام سلمہ نے کہا: شاید وہ تسبیح لے جانا بھول گیا ہے اور وہ تسبیح خادم کے ہاتھ عمارہ کو بھیجو ادی۔ عمارہ نے خادم کو کہا: یہ تم رکھ لو۔ خادم واپس آیا اور کہا: انہوں نے یہ مجھے ہبہ کردی ہے۔ تو ام سلمہ نے خادم کو ایک ہزار دینار عطا کئےاورتسبیح واپس لے لی۔

تحفہ قبول نہ کیا:

      عبْدُاللہبن طاہرجب مصرکاحاکم بناتوعُبَـیْدُاللہ بن سری نےاسے100غلام اورایک لاکھ دینارہدیہ بھیجااور یہ ہدیہ رات کے وقت میں بھیجا۔ عبداللہ بن طاہر نے اسے قبول نہ کیا اور لکھ بھیجا: اگر میں رات میں تمہارا ہدیہ قبول کرتا تو دن میں بھی قبول کرنا پڑتا اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے اور وہ تم ہی  ہو جو اپنے ہدیہ پر خوش ہوتےہو۔

      خلیفہمُعْتَصِم کے عَمُّورِیہ فتح کرنے کا سبب یہ بنا تھا کہ ثَغْر کی ایک عورت کو قید کرلیا گیا تو اس نے پکارنا شروع کیا: ”وَا مُحَمَّدَاہ، وَا مُعْتَصِمَاہیعنی اےمحمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فریادہے،اےخلیفہ!معتصم فریاد ہے۔“یہ خبر معتصم کو پہنچی تو وہ اسی وقت سوار ہو کر چل پڑا اور


 

 اس کا لشکر بھی اس کے ساتھ تھا، جب عموریہ فتح کر لیا تو معتصم نے اس عورت سے کہا:”لَبَیَّک اَیُّتُہَاالْمُنَادِیَۃُ یعنی اے ندا دینے والی! میں حاضر ہوں ۔“

سیِّدُنا سعید بن عمرو عَلَیْہ الرَّحْمَہ کی بلندہمتی:

      حضرت سیِّدُنا سعید بن عمرو بن عاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بلند مرتبہ اور حوصلہ مند شخص تھے۔منقول ہے کہ مرض موت میں ان سے کہا گیا: مریض آہ وزاری اور طبیب کے مشورے پر عمل کرنے سے راحت محسوس کرتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ”آہ وزاری  کرنا یہ توبے صبری ہے اور عار کا باعث ہے اور خدا کی قسم! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھ سے ایسا نہ سنے گا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو میں اس کے ہاں بے صبری کرنے والا لکھ دیا جاؤں گااور رہا طبیب کا معاملہ تو خدا کی قسم! میری جان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم کے بغیر نہیں بچ سکتی، اگر وہ چاہے تو زندہ رکھے اور چاہے تو موت دے۔“

      قیس بن زہیر جوکہ بہت بلند ہمت تھا اُسے جب فقروفاقہ نے گھیرا تو وہ  حَنْظَل نامی  شدید کڑوی بوٹی کھانے لگا حتّٰی کہ اس کی وجہ سے مر گیا(مگر کسی سے سوال نہ کیا)۔

پڑوسیوں کے ساتھ ایسے رہو:

      حضرت سیِّدُناابوسُفیان بن حربرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بلند مرتبہ، قوم کے سردار، پڑوسیوں کی حفاظت کرنے  والے اور اپنی عزت کی حفاظت کرنے والے تھے، جب اِن کا کوئی پڑوسی بنتا تو اس سے فرماتے: میرا پڑوسی ہونا اختیار کرلے یا میرے گھر کو گھر بنا لے، اب اگر کبھی تجھ سے میرا نقصان ہوا یا مجھ سے تیرا نقصان ہوا تو معاملہ وہی کریں گے جو گھر والے بچے کے ساتھ کرتے ہیں ۔

حکایت: یزید بن مہلب اورولیدبن عبدالملک

      منقول ہے کہ حجاج نے یزید بن مُہلَب بن ابو صُفرہ کو گرفتار کیا اور اسے سزا دی، اس کا مال و اسباب چھین لیا اور قید میں ڈال دیا۔ یزید  نے حُسن اخلاق کے ذریعے جیلر کو آمادہ کیا اور اسے استعمال کر کے وہ  اور جیلر جیل سے فرار ہو گئے، یزید نے  ملک شام میں سلیمان بن عبدالملک بن مروان کے پاس جانے کا قصد کیا، اس وقت خلیفہ ولید بن عبدالملک تھا، جب یزید بن مہلب سلیمان کے پاس پہنچا تواُس نے اس کی عزت افزائی کی اورحُسن سلوک سے پیش آیا نیز اسے اپنے پاس ٹھہرایا۔  حجاج نے ولید بن عبدالملک کو خط لکھا: یزید جیل سے بھاگ کر آیا ہے اور وہ امیرالمؤمنین کے بھائی سلیمان بن


 

عبدالملک کے پاس ہےجو مسلمانوں کے ولی عہد ہیں اور امیرالمؤمنین کی رائے اعلیٰ ہے۔ ولید نے اپنے بھائی سلیمان کو اس بارے میں خط لکھا۔ سلیمان نے جواب دیا: اے امیرالمؤمنین!میں نے یزید بن مہلب کوصرف اس وجہ سے پناہ دی ہے کہ اس کی ،اس کے باپ کی اور اس کے بھائیوں کی ہمارے لئے نئی اور پرانی بہت سی خدمات ہیں اور میں نے امیر المؤمنین کے دشمن کو پناہ نہیں دی ۔ حجاج نے یزید کو پکڑ کر اسے سزا دی اور اس پر ظلماً 40 لاکھ درہم کا جرمانہ کیا پھر اس نے 30 لاکھ درہم کا مطالبہ کیا اور یزید میرے پاس مدد مانگنے آیا ہے تو میں اس کی مدد کررہا ہوں اور 30 لاکھ درہم میں اس کی طرف سے خود ادا کررہا ہوں ،اگر امیرالمؤمنین مجھے میرے مہمان کے بارے میں رسوا نہ کرنا چاہیں  تو ایسا ہی کر یں کیونکہ امیرالمؤمنین اہل فضل و کرم سے ہیں ۔ ولید نے سلیمان کو خط لکھا کہ لازمی طور پر یزید کوبیڑیوں میں قید کرکے میرے پاس بھیج دو۔ سلیمان نے جب خط پڑھا تو اپنے بیٹے ایوب کو بلایااور اسے بیڑیوں میں جکڑ دیا پھر یزید کو بلایا اور اسے بھی بیڑیوں میں قید کر دیا پھر دونوں کو ایک ساتھ باندھ کر اپنے بھائی کی طرف بھیج دیا اور اپنے بھائی کو ایک خط لکھا: اے امیرالمؤمنین! میں نے یزید کو اور آپ کے بھتیجے ایوب بن سلیمان کوآپ کی طرف بھیج دیا ہےاور تیسرا میں خود ہوں ، اگر امیرالمؤمنین کا ارادہ یزید کو قتل کرنے کا ہو تو میں امیرالمؤمنین کو قسم دیتا ہوں کہ پہلے ایوب کو قتل کریں پھر یزید کو قتل کریں اور اگر چاہیں تو تیسرا میں بھی حاضر ہوں ۔والسلام۔

      جب یزید بن مُہلَب اور ایوب بن سلیمان بندھے ہوئے ولید کے سامنے پہنچے تو ولید نے شرم کے مارے سر جھکا لیا اور کہا: میں نے ابو ایوب  کو یہ پیغام دے کر بہت بُرا کیا۔ یزید نے چاہا کہ اپنی صفائی پیش کرے  لیکن ولید نے کہا: کوئی صفائی پیش کرنے کی حاجت نہیں ہے میں نے تیرا عذر قبول کرلیا اور میں نے جان لیا کہ حَجاج نے ظلم کیا ہے پھر ولید نے لوہار کو بلوایااور انہیں زنجیروں سے آزاد کروایا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیااور ایوب کو 30 ہزار درہم دیئے اور یزید بن مہلب کو 20 ہزار درہم دیئے اور 20 ہزار درہم سلیمان کو بھیجے اور حجاج کو خط لکھا: یزید بن مہلب پر تیرے لئے کوئی راہ نہیں اور آج کے بعد اس معاملے میں تو ہماری دشمنی سے بچ۔ یزید سلیمان کے پاس چلا گیا اور اس کے پاس ہی بلند مرتبے پر فائز رہا۔

مَعْن بن زائدہ کی بلند ہمتی:

      منقول ہے کہ ایک شیعہ شخص حکومتی معاملات میں فساد ڈالنے کی کوشش میں رہتا تھا، خلیفہ مہدی نے اس کے بارے میں اعلان کروایا: جو اس کے بارے میں بتائے گا یا اسے پکڑ کر لائے گا تو اسے ایک لاکھ درہم انعام ملے گا۔ بغداد


 

کے ایک شخص نے اسے پکڑ لیا تو وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا، اتنے میں وہاں سے معن بن زائدہ گزرے تو اس شخص نے کہا: اے ابو ولید! مجھے اپنی پناہ میں لیجئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کو اپنی پناہ میں رکھے۔ معن نے اس شخص سے کہا: تیرا اور اس کا کیامعاملہ ہے؟ پکڑنے والے شخص نے کہا: یہ شخص امیرالمؤمنین کو مطلوب ہے۔ معن نے کہا: اس کا راستہ چھوڑ دے۔ اس شخص نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا۔ معن نے اپنے غلاموں کو حکم دیا تو انہوں نے زبردستی اُس شخص سے اُسے چُھڑا لیا اور اُن میں سے ایک نے اُسے اپنے پیچھے سوار کرلیا ۔ اس شخص نے امیرالمؤمنین مہدی کو اس قصے کی خبر دی۔خلیفہ نے معن کو پکڑنے کے لئے کہا اور جب معن خلیفہ کے سامنے آیا تو خلیفہ نے کہا: اے معن! کیا تم میرے مخالف کو پناہ دو گے؟ معن نے کہا: جی ہاں ،  اے امیرالمؤمنین!میں نے ایک دن میں آپ کی اطاعت میں پانچ ہزار لوگوں کو قتل کیا اور میں نے اُن میں سے کسی کو پناہ نہیں دی۔ خلیفہ مہدی نے شرم سے سر جھکا لیا اور کافی دیر تک سر جھکائے رکھا اور پھر سر اٹھا کر کہا: اے ابو ولید! ہم نے بھی اسے پناہ دی جسے تو نے پناہ دی۔  معن نے کہا: امیرالمؤمنین اگر بہتر سمجھیں تو جسے میں نے پناہ دی اُسے اگرصلہ سے نوازیں تویہ پناہ دینے کے ساتھ اُس پر فضل بھی ہوگا۔ خلیفہ نے کہا: میں اس کے لئے 50 ہزار درہم دیتا ہوں ۔ معن نے کہا: اے امیرالمؤمنین!خلفا کو چاہئے کہ جنایت کے مطابق ہی صلہ دیں اور اس کا گناہ تو بڑا ہے اب امیرالمؤمنین چاہیں تو اس کا صلہ بھی بڑھا  دیں ۔ خلیفہ نے کہا:میں اسے ایک لاکھ درہم دیتا ہوں ۔ معن اپنے گھر آیا اور اس شخص کو بلا کر سارا مال اسے دیا اور نصیحت کرتے ہوئے کہا: خلفا کو ناراض کرنے والے کام نہ کیا کر۔

پڑوسی کی بھوک کا خیال:

      حضرت سیِّدُنا جعفر بن ابوطالبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے والد سے کہا: اے ابا جان! مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میں کھانا کھاؤں اور میرا پڑوسی اس پر قادر نہ ہو۔ ابو طالب نے کہا: مجھے امید ہے کہ تو حضرت سیِّدُنا عبدالمطلب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نقش قدم پر چلے گا۔

                             وَاللهُ سُبْحٰنَہُ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَصَلَّى اللهُ عَلٰی سَيِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمیعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے اوردرود وسلام ہو ہمارے سردار حضر ت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کی آل واصحاب پر۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭


 

باب نمبر30:                   خیر وبھلائی کا بیان ، بزرگ صحابۂ کرام اور

اولیا وصالحین کا ذکرِ خیر

       جان لوکہ مخلوق میں رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور(انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام)کےبعد سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق،پھر حضرت سیِّدُناعمر فاروق،پھرحضرت سیِّدُناعثمان غنی اورپھرحضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں ۔ان نفوسِ قدسیہ کے فضائل وکمالات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا اور اس قدر مشہور ہیں کہ ان کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!میں ان سب سے  اور انہیں محبوب رکھنے والوں سے محبت کرتا ہوں  نیز اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےاس بات کاسوال کرتاہوں کہ مجھےسرکارِمدینہ،قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت اوران تمام حضرات کی محبت پر موت عطا فرمائے اور ان مقدس ہستیوں کے گروہ میں اور ان کے جھنڈے تلے ہمارا حشر فرمائے۔ بےشکاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ دعا ؤں کو قبول فرمانے والا ہے۔

اِنِّيْ اُحِبُّ اَبا حَفْصٍ وَشِيْعَتِهٖ

 

كَمَا اُحِبُّ عَتِيْقًا صَاحِبَ الْغَارِ

وَقَدْ رَضِيْتُ عَلِيًّا قُدْوَةً عِلْمًا

 

وَمَا رَضِيْتُ بِقَتْلِ الشَّيْخِ فِي الدَّارِ

كُلُّ الصَّحَابَةِ سَادَاتِىْ وَمُعْتَقَدِيْ

 

فَهَلْ عَلَيَّ بِهٰذَا الْقَوْلِ مِنْ عَارِ

       ترجمہ:(۱)بے شک میں ابوحفص(حضرت سیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)سے اور ان کے گروہ سے محبت کرتا ہوں جیسا کہ یارِ غارعتیق (حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)سے محبت کرتا ہوں ۔(۲)میں حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سرداری اور علم سے راضی ہوں اور میں حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گھر میں ظلماً شہید کیے جانے سے ہرگز راضی نہیں ہوں ۔(۳)تمام صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میرے سردار اور مرکزِ عقیدت ہیں ،کیا اس قول کے سبب  مجھ پر کچھ الزام ہے۔

سیِّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےروایت ہےکہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاستفسار فرمایا:آج تم میں سےکون روزہ دارہے؟حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم!میں ۔پھردریافت فرمایا:آ ج تم میں سےکس نےمسکین کوکھانا کھلایا ہے؟حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض گزارہوئے:میں نے۔تیسری مرتبہ پوچھا: آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی؟حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق


 

رَضِیَ اللہُ عَنْہنےعرض کی:میں نے۔پھرارشادفرمایا:یہ تینوں صفات جس شخص میں جمع ہوجائیں وہ ضرور داخِلِ جنت ہوگا۔([22])

سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضورنبی پاک،صاحبِ لَوْلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَّکَانَ عُمَرُیعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔([23])

       ایک اورموقع پرمیٹھےمیٹھےآقا، مکی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ خوش خبری سنانے والا بنا کر بھیجا: (اے عمر!)تم جس راستے سے بھی گزرتے ہو شیطان  اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر ہوجاتا ہے۔([24])

اب ہم چھپ کر عبادت نہیں کریں گے:

       حضرت سیِّدُناعمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجب دائرۂ اسلام میں داخل ہوئےتوبارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیاہم حق پرنہیں ہیں ؟محبوب ربِّ داورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:کیوں نہیں ۔حضرت سیِّدُناعمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعرض گزار ہوئے:اس ذاتِ پاک کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا!آج کے بعد ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت چھپ کر نہیں کریں گے۔([25])

       حضرت سیِّدُناعمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب شام تشریف لائے تو طور پہاڑ پر  ٹھہرے۔شامیوں کے پیشوا نے اپنے ایک سردار کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سےکہا کہ جاکر عرب کے بادشاہ کو دیکھو۔جب وہ سردار وہاں آیا تو دیکھا کہ حضرت سیِّدُناعمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپیوندلگاہوااونی جبہ پہنےگھوڑےپرسوارسورج کی طرف منہ کئےہوئےموجود ہیں ، گھوڑے کی زین کے کنارے پر ایک تھیلی لٹکی ہوئی ہےحضرت سیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس میں ہاتھ ڈال کر سوکھی روٹی کا ٹکڑ ا نکالتے ہیں اور  پیالے میں موجود پانی میں بھگو کر تناول فرماتے ہیں ۔اس سردار نے واپس جاکر اپنے پیشوا کے سامنے یہ سارا ماجرا بیان کیا تو اس نے کہا: ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہم میں نہیں ہے،یہ جو چاہتے ہیں انہیں دے دو۔


 

سیِّدُنا عثمان غنیرَضِیَ اللہُ عَنْہ:

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضائل ومناقب کثیر اورمشہور ہیں ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآنِ مجید کو جمع فرمایا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرشتے آپ سے حیا کرتے ہیں ۔

سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم:

      حضرت سیِّدُنا جمیع بن عمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیا ن ہے کہ میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:مجھے خبر دیجیے کہ حضورسیِّدعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سب لوگوں سے زیادہ محبوب کون تھا؟انہوں نے جواب دیا:فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، میں نے عرض کی:میں مردوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں ۔ارشاد فرمایا:ان کے شوہر (یعنی حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور قیام کرنے والے ہیں ۔

اوصاف مرتضوی:

      حضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےحضرت سیِّدُناضَراربن حمزہ کنانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسےفرمایا:میرے سامنے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان کرو۔حضرت سیِّدُنا ضرار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے معذرت طلب کی لیکن حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اصرار کیا تو انہوں نے کہا:جب ان کے اوصاف بیان کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تو پھر سنیئے:

               خدا کی قسم !آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بے انتہا علوم ومعارف کےحامل اور(دین کی حمایت میں )مضبوط ارادے والے تھے۔ ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے جبکہ دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دنیااوراس کی رنگینیوں سےوحشت کھاتےجبکہ رات اوراس کےاندھیروں سےاُنسیت پاتےتھے۔اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت زیادہ عبرت حاصل کرنے والے اور طویل غور وفکر کرنے والے تھے، افسوس سے ہاتھوں کو الٹتے پلٹتےاوراپنےنفس کوملامت کرتےتھے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوسادہ لباس اورمعمولی کھاناپسندتھا۔بخدا!جب ہم آپ سے کچھ پوچھتے تو ہمیں جواب عطا فرماتے اور جب ہم انہیں دعوت دیتے تو ہمارے پاس تشریف لاتے تھے ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہم سے اس قدر قریب ہونے اور گھل مل کر رہنے کے باوجود آپ کی ہیبت کے سبب ہم آپ سے کلام نہیں کرپاتے


 

تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دین داروں کی عزت کرتے اور غریبوں سے محبت فرماتے تھے۔ کوئی طاقتور ان سے باطل کی امیدلگاتا  نہ ہی کوئی کمزور ان کے عدل وانصاف سے مایوس ہوتا۔میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ ایک دفعہ جب کہ رات نے اپنے پردے گرادیئے تھے اور ستارے چُھپ چکے تھے تو میں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ اپنی داڑھی مبارک کو پکڑ ے ہوئے محراب میں کھڑے ہوکر  خوفزدہ شخص کی طرح کانپ رہے ہیں اور غمزدہ شخص کی مانند رو رہے ہیں ۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ آج بھی میں ان کی آواز سن رہا ہوں جبکہ وہ فرمارہے تھے:اے دنیا!کیا تو میرے پاس آتی ہے اور مجھے بہکانا چاہتی ہے۔ہائے افسوس! ہائے افسوس!میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا دینا،میں تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں اوراب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔تیری عمرقلیل ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔

          یہ سن کر حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی یہاں تک کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ اپنے آنسو پونچھنے لگے جبکہ روتے روتے لوگوں کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ حضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّابوالحسن(یعنی حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)پر رحم فرمائے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! آپ ایسے ہی تھے۔ اے ضرار! ان پر تمہارا غم کیسا ہے ؟حضرت سیِّدُنا ضرار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے عرض کی:ان پر میرا غم اس عورت جیسا ہے جس کے پہلو میں اس کے بیٹے کو ذبح کردیا گیا ہوتو نہ اس کے آنسو خشک ہوتے ہیں اور نہ ہی غم میں کمی آتی ہے۔ اتنا کہہ کرحضرت سیِّدُنا ضرار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار اٹھے اور وہاں سے چلے گئے۔

سیِّدُنا زبیر بن عوامرَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       منقول ہے کہ سب سے پہلے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں تلوار اٹھانے والے حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔ اس کاواقعہ یہ ہےکہ  ایک رات کسی پکارنےوالےنےمکّہ والوں کوپکارکرکہا:محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوشہیدکردیاگیا ہے(نَعُوْذُبِاللہ)۔یہ سن کرآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفوراًاضافی لباس پہنےبغیربرہنہ تلوارلئے گھر سے نکل پڑے۔ راستے میں سرکارِمدینہ،قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےملاقات ہوئی توحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاستفسارفرمایا: اےزبیر!کیاہوا؟عرض گزارہوئے:میں نےیہ سناتھاکہ آپ کوشہیدکردیاگیاہے۔استفسارفرمایا:اس صورت میں تمہارا کیاکرنےکاارادہ تھا؟عرض کی:اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم!میرایہ ارادہ تھا  کہ اہْلِ مکہ سے قتال کروں ۔ایک روایت میں ہے کہ


 

آپ نے عرض کی:میرا ارادہ تھا کہ جس پر قدرت پاؤں اس کی گردن اڑادوں ۔یہ سن کر تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انہیں سینے سے لگالیا، پھر انہیں اپنا مبارک تہبند عنایت فرمایا جسے انہوں نے پہن لیا۔پھران سےارشادفرمایا: تم میرےحواری(خاص صحابی)ہو ،اور ان کے لئے دعا فرمائی۔([26])

       حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک ہزار غلام تھے جو جزیہ(اپنی آمدنی کا مخصوص حصہ)ادا کیا کرتے تھے لیکن اس میں سے ایک درہم بھی آپ کےخزانے  میں نہیں جاتا تھا بلکہ آپ وہ ساری رقم صدقہ فرمادیا کرتے تھے۔

       آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا ایک گھر چھ لاکھ درہم میں فروخت فرمایا تو آپ سے عرض کی گی:اے ابو عبْدُاللہ!آپ کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔ارشاد فرمایا:ہر گز نہیں ،خدا کی قسم مجھے دھوکانہیں دیا گیا، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ ساری رقم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں خیرات ہے۔

تین صحابہ کے فضائل:

       غزوۂ اُحدکےدن حضرت سیِّدُناطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواپنی پیٹھ پراٹھاکرایک چٹان تک پہنچایاتھا،اس دوران حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامنےبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرعرض کی:یہ کون ہیں جنہوں نےآپ کواپنی پیٹھ پر اٹھارکھاہے؟شہنشاہِ نَبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:یہ طلحہ ہیں ۔حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام عرض گزار ہوئے:انہیں میرا سلام پہنچادیں اور یہ بتادیں کہ قیامت کےدن میں انہیں جس بھی مصیبت میں گرفتاردیکھوں گااُس سےانہیں بچالوں گا۔پھرعرض کی:یہ آپ کے دائیں جانب کون ہیں ؟آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:یہ مِقْدادبن اَسْوَد ہیں ۔عرض کی:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان سے محبت فرماتاہےاورآپ کوحکم ارشادفرماتا ہےکہ آپ بھی ان سے محبت فرمائیں ۔پھرعرض کی:یہ آپ کےآگےکون ہیں جوآپ کا دفاع کر رہے ہیں ؟ارشاد فرمایا: یہ عمار بن یاسرہیں ۔حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامعرض گزار ہوئے:انہیں جنت کی خوش خبری سنادیں اوربتادیں کہ جہنم ان پر حرام کردی گئی ہے۔([27])


 

زمین سے زیادہ آسمانوں میں شہرت:

      حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام حضرت سیِّدُنا دِحْیَہ کَلْبیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صورت میں سیِّدعالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ ایک جگہ موجود تھے کہ حضرت سیِّدُناابوذرغفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں سے گزرے لیکن سلام نہ کیا۔حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئے: یہ ابوذر ہیں ،اگر یہ سلام کرتے تو ہم ضرور اس کا جواب دیتے۔آپ نےاستفسار فرمایا:اے جبریل!کیا تم انہیں جانتے ہو؟عرض کی:اس ذاتِ مقدسہ کی قسم جس نےآپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کربھیجا!یہ زمین سےزیادہ ساتوں آسمانوں میں مشہور ہیں ۔ پوچھا:کس عمل کے سبب انہوں نےاس مرتبےکوپایا؟عرض کی:اس فانی دنیا سے بے رغبتی کے باعث یہ اس مقام پر فائز ہوئے ہیں ۔

نیک مسلمان کی برکت :

      حضرت سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کا بیان ہے کہ میں نے سَیِّدِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا:بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نیک مسلمان کی برکت سے اس کے پڑوس کے ایک ہزار گھروں سے مصیبت وپریشانی کو دور فرماتا ہے،پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس آیتِ مقدسہ کی تلاوت فرمائی:

وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍۙ-لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۲۵۱) (پ۲،البقرة:۲۵۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر اللہ لوگوں  میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔ ([28])

اولیا وصالحین کا تذکرہ

سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      ابوبکر سفاح نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر ہذلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے پوچھا: حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کون سے عمل کے سبب اس مقام ومرتبے تک پہنچے؟حضرت سیِّدُنا  ابوبکر ہذلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے جواب دیا:آپ نے بارہ سال کی عمر میں قرآنِ پاک کو اس شان سے حفظ فرما لیا کہ جب تک ایک سورت کی تفسیر  نہ جان لیتے دوسری سورت کی


 

طرف نہ بڑھتے۔آپ نے تجارت میں کبھی درہم کی چھان بین نہ کی اور نہ ہی کبھی بادشاہ کے لئے کام کیا،کسی کام کو خود کرنے سے پہلے اس کا حکم نہ دیا اورکسی چیزسےدوسروں کواس وقت تک منع نہ کیاجب تک خوداس سےنہ رک گئے۔ ابوبکر سفاح نےیہ سن کرفرمایا:واقعی آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہانہی اعمال کی بدولت اس مقام ومرتبےپرفائزہوئے تھے۔

      جاحظ کا بیان ہے کہ جب کسی شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے اس کے فضائل بیان کیے جاتے تو اس میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کااستثناکرنا پڑتا،مثلاً:وہ شخص حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے علاوہ دیگر تمام لوگوں سے زیادہ زاہد ہے،ان کے علاوہ سب لوگوں سے بڑا فقیہ ہے،ان کے علاوہ تمام لوگوں سے زیادہ فصیح وبلیغ ہے اور انہیں  چھوڑ کر سب لوگوں سے بڑا خطیب ہے۔

سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      ایک بزرگ نے ارشاد فرمایا:حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی سے بڑے زاہد تھے کیونکہ آپ دنیا کے مالک ہوئے پھر بھی اس سے بے رغبتی فرمائی جبکہ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کی ملک میں دنیا نہیں آئی۔یہ سن کر کسی نے کہا: اگرحضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکی ملکیت میں دنیاآتی توآپ بھی ایساہی کرتےجیساحضرت سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے کیا۔بزرگ نے  ارشادفرمایا:جس نے تجربہ نہیں کیا وہ اس کی طرح نہیں ہوسکتا جس نے تجربہ کیا ہے۔

سیِّدُنا ثابت بنانی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے متعلق ارشاد فرمایا: بے شک خیر وبھلائی کے لئے کنجیاں ہوتی ہیں اور حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بھلائی کی چابیوں میں سے ایک ہیں ۔

سیِّدُنا حبیب عجمی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا حبیب عجمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبہترین لوگوں میں سے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چار مرتبہ40ہزار کے عوض اپنی جان کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے خریدا۔آپ10ہزار درہم لے کر گھر سے باہر نکلتے اور بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے: اےمیرے رب!میں اس کے عوض تجھ سے اپنی جان خریدتا ہوں ،پھر وہ رقم صدقہ فرمادیتے۔


 

سیِّدُناابوایوب سختیانی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُناابوایوب سختیانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسب لوگوں سےزیادہ دنیاسےبےرغبت اورپرہیزگارتھے۔حضرت سیِّدُنا امام اعظمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس آپ کا ذکرہواتوانہوں نےفرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان پر رحم فرمائے!میں نے منبرِ نبوی کے قریب ان کا ایک ایسا مقام دیکھا ہے کہ جب بھی میں اسے یاد کرتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

سیِّدُناعبداللہ بن مبارک عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے:میں نے پوری کوشش کی  کہ سال کے تین دن اس طرح گزاروں جس طرح حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گزارتے ہیں لیکن میں اس پر قادر نہ ہوسکا۔

سیِّدُناخلیل بن احمد نحوی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُناخلیل بن احمدنحویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سب لوگوں سےزیادہ دنیاسےبےرغبت اوربلند ہمت تھے۔ بادشاہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور مال ودولت نذر کرتے لیکن آپ ان سے کوئی چیز قبول نہ کرتے۔ مرتے دم تک آپ کا یہ معمول رہا کہ ایک سال حج کرتے اور ایک سال جہاد میں شریک ہوتے۔

سیِّدُناا بن عون عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُنا ابن خارجہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں ایک سال تک  حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رہا لیکن میرا گمان ہے کہ اس عرصے میں کراماً کاتبین نے ان کا کوئی گناہ نہیں لکھا ہوگا۔

       منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا کُرْز بن وَبَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو غسلِ میت دیا گیا تو آپ کے جسمِ مبارک پر ایک مثقال گوشت بھی نہیں تھا۔

سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُناامام محمد بن حسن شیبانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یکتائے زمانہ تھے۔اگر آج زمین آپ پر سےہٹےتو علم و کرم  اورزہد وپرہیزگاری کے ایک پہاڑ پر سےہٹےگی۔


 

سیِّدُناوکیع بن جراح عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُنا وکیع بن جراح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے40حج فرمائے،عَبّادان کی سرحد پر40راتیں پہرہ داری فرمائی اور اس مقام پر40ختمِ قرآن فرمائے۔40 ہزاردرہم صدقہ فرمائے،نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چارہزار احادیثِ مبارکہ روایت فرمائیں اور کبھی آپ کو پیٹھ کے بل سوتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

سیِّدُنا محمد بن اسماعیل مغربی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       مشائخ کرام میں سے ایک حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن شیبان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے استاذِمحترم ابو عبداللہ حضرت سیِّدُنا محمد بن اسماعیل مغربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عجیب شان ہے کہ آپ نے کئی سال تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی جس تک انسانوں کا ہاتھ پہنچتا ہو بلکہ آپ خود رو سبز گھاس کھاکر گزارہ کرلیتے تھے۔

سیِّدُنا فتح بن شخرف عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       ابونصرحضرت سیِّدُنا فَتْح بن شَخْرف بن داؤد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی اِن بزرگانِ دین میں شامل ہیں ۔آپ انتہائی درجےکے زاہد اور پرہیز گار تھے،30سال تک آپ نے روٹی نہیں کھائی۔حضرت سیِّدُنا احمد بن عبدالجبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا:میں 30سال تک حضرت سیِّدُنا فتح بن شخرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کبھی انہیں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتےنہیں دیکھا،ایک دن آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے: تیری ملاقات کے لئے میرا شوق طویل ہوچکا ہے،مجھے  جلد اپنے پاس بلالے۔

       حضرت سیِّدُنا محمد بن جعفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہم نے حضرت سیِّدُنا فتح بن شخرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو غسل دیا تو  ہمیں ان کی ران پر لَا اِلٰهَ اِلَّا الله لکھا نظر آیا۔ ہم نے گمان کیا کہ یہ کسی کا لکھا ہوا ہے لیکن جب غور سے دیکھا تو وہ ان کی کھال کے اندر موجود ایک رگ تھی۔

        آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےبغدادمیں وصال فرمایااور33مرتبہ آپ کی نمازِجنازہ اداکی گئی۔([29])سب سے چھوٹی جماعت


جس نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھی اس کی تعداد25سے30ہزار تھی۔

سیِّدُنا فتح بن سعید مَوْصِلی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُنابشرحافی اورحضرت سیِّدُناسَری سَقَطِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکےہم عصر تھے،بڑے پرہیزگار اوربہت زیادہ عبادت وریاضت فرمانے والے تھے۔

فقر پر خوشی:

      حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن نوح مَوْصِلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا فتح مَوْصِلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ایک دن روزے سے تھے۔نمازِ عشاکے بعد گھر تشریف لائے اور کھانا طلب فرمایا۔گھر والوں نے عرض کی کہ گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔آپ نے دریافت فرمایا:کیا وجہ ہے کہ تم لوگ اندھیرے میں بیٹھے ہو؟جواب ملا کہ گھر میں چراغ جلانے کے لئے کچھ موجود نہیں ہے۔یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوشی ومسرت کے باعث رونے لگے اور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے:الٰہی!میرے جیسے شخص کا یہ مقدر کہاں کہ اسے کھانے اور چراغ کے بغیر چھوڑ دیا جائے،میرے کون سے عمل کے سبب مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی ہےاورصبح تک آپ اسی طرح روتے رہے۔

کمسن مُتَوَکِّل:

      حضرت سیِّدُنا فتح موصلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ میں نے جنگل میں ایک نابالغ لڑکے کو دیکھا جو اکیلا سفر کررہا تھا اور اس کے ہونٹ حرکت کررہے تھے۔میں نے اسے سلام کیا تو اس نے سلام کا جواب دیا۔ میں نے پوچھا:کہاں کا ارادہ ہے؟اس نے کہا:بیتُ اللہ شریف کا۔میں نے سوال کیا:تم کیا پڑھ رہے ہو؟ بولا: میں اپنے رب کے کلام کی تلاوت کررہا ہوں ۔میں نے کہا کہ ابھی تو تم احکامِ شریعت کے مکلّف نہیں ہو۔اس نے  جواب دیا:میں نے دیکھاہے کہ موت مجھ سے چھوٹی عمر والوں کو بھی پکڑ لیتی ہے۔میں نے کہا:تمہارے قدم چھوٹے ہیں جبکہ راستہ طویل ہے۔لڑکے نے جواباًکہا:میرا کام صرف قدم بڑھانا ہے،منزل تک پہنچانا اُس کے ذِمَّۂ کرم پر ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا زادِ راہ اور سواری کہاں ہے؟اس نے جواب دیا:


 

 یقین میرا زادِ سفر جبکہ میری ٹانگیں میری سواری ہیں ۔میں نے کہا کہ میں روٹی اور پانی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں ۔ لڑکے نے کہا:چچاجان!آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دےتو کیا وہ آپ سے کہے گا کہ کھانے کا سامان لے کر میرے گھر آنا؟میں نے کہا:نہیں ۔لڑکا بولا:میرے رب نے اپنے بندوں کو اپنے گھر کی طرف بلایا اور انہیں اس کی زیارت کی اجازت دی لیکن بندوں کے یقین کی کمزوری نے انہیں سامان کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کردیا۔میں اس بات کو بُرا جانتا ہوں اس لئے اس کی بارگاہ کا ادب کرتے ہوئے ایسا نہیں کرتا،کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ مجھے ضائع کردے گا؟میں نے کہا:وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گا۔اس کے بعد وہ میری نظروں سے غائب ہوگیا اور میں نے اسے صرف مکۂ مکرمہ میں دیکھا۔ جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ بولا:اے شیخ!آپ کی دوری اسی یقین کی کمزوری کے باعث ہے۔

سیِّدُنا سعيدبن اسماعيل حيری عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُناابوعثمان سعید بن اسماعیل حِیْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبھی انہی بزرگان دین میں سےایک ہیں ۔آپ نے حضرت سیِّدُنا شاہ کِرمانی اور حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی صحبت پائی۔منقول ہے کہ دنیا میں تین بزرگ ہوئے ہیں ،ان کا چوتھا کوئی نہیں :(ا)حضرت سیِّدُناابوعثمان حیری نیشاپور میں (۲)حضرت سیِّدُناجنید بغدادی بغداد شریف میں اور (۳)حضرت سیِّدُناابو عبداللہ حلّاج شام میں رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی ۔

سیِّدُنا سعيدبن اسماعيلعَلَیْہِ الرَّحمَہکےفرامین:

       کوئی شخص اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک اس کے دل میں چار چیزیں برابر نہ ہو جائیں : عطا اورمنع کرنا، عزت اور ذلت۔گزشتہ 40سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے کسی مقام پر کھڑا کیا اور میں نے اسے ناپسند کیا یا مجھے کسی حالت میں منتقل کیااور میں اس پر ناراض ہوا۔

سیِّدُنا سلیمان خواص عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ معروف ومشہور زاہدین اور عبادت گزاروں میں سے ایک ہیں ۔شام میں بھی رہے اور  بیروت بھی تشریف لے گئے لیکن اکثر وبیشتر بیت المقدس میں قیام فرمایا۔

غناکی وضاحت:

       حضرت سیِّدُنا حذیفہ مرعشی،حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم اورحضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم


 

 حضرت سیِّدُنا سلیمان خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ جمع ہوئے تو فقر وغنا  کا تذکرہ چل پڑا لیکن آپ خاموش رہے۔ان بزرگوں میں سے ایک نے کہا:”غنی وہ ہے جس کے پاس رہائش کا مکان،ستر پوشی کے لئے لباس اور ضروریاتِ زندگی کا سامان موجود ہو جو اسے دنیا كے فضول سامان سے بچالے۔“ایک بزرگ نے کہا:”غنی وہ ہے جو لوگوں کا محتاج نہ ہو۔“اس کے بعد آپ سے پوچھا گیا کہ اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟اس سوال پر آپ روتےہوئےفرمانےلگے:”میں یہ سمجھتا ہوں کہ تمام غنا توکل میں جبکہ فقر تمام کا تمام مایوسی میں ہے۔درحقیقت غنی وہ ہے جس کے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے غناسے یقین پیدا فرمادے،اپنی معرفت سے توکل بسادے اور اپنی تقسیم سے رضا کی دولت عنایت فرما دے، ایسا شخص حقیقت میں غنی ہے  اگرچہ شام کو بھوکا اور صبح کو محتاج ہی کیوں نہ ہو۔“آپ کی یہ بات سن کر تینوں بزرگ رونے لگے۔

سیِّدُناابوسليمان دارانی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی راہِ طریقت کے شہسواروں میں سے ایک ہیں ۔آپ کا شمار اکابر بزرگانِ دین اور مجاہدات وریاضات کرنے والوں میں ہوتا ہے۔

سیِّدُناابوسليمان عَلَیْہِ الرَّحمَہکے فرمودات:

       جو دن میں اچھا عمل کرے اس کی رات میں کفایت کی جاتی ہے جبکہ رات میں اچھا عمل کرنے والے کی دن میں کفایت کی جاتی ہے۔جو شخص سچے دل سے کسی خواہش کو ترک کرنے کی کوشش کرے اللہ عَزَّ   وَجَلَّ  اس خواہش کو اس کے دل سے دور فرمادیتا ہے  اور یہ بات اس کے شایانِ شان نہیں کہ کسی کے دل کو ایسی خواہش پر عذاب فرمائے جو اس کی خاطر  ترک کردی گئی ہو۔ہر چیز کی ایک علامت ہوتی ہے اور آدمی کو بے یارومدگار چھوڑدیے جانے کی علامت یہ ہے کہ اسے رونا نہ آئے۔ہر چیز کا ایک زنگ ہوتا ہے اور دل کے نور کے لئے زنگ پیٹ بھر کر کھانا ہے۔

وسوسوں کا علاج:

       حضرت سیِّدُنا احمد بن حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمت میں وسوسوں کی شکایت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا:جس وقت  تمہیں وسوسے آئیں تو خوش ہوجاؤ کیونکہ جب تم اس پر خوش ہوگے تو وسوسے تم سے منقطع ہوجائیں گے اس لئے کہ مسلمان کی خوشی سے بڑھ کر کوئی چیز شیطان کو ناپسند نہیں ہےاور اگر تم وسوسوں پر غمگین ہوگے تو ان میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔


 

نرالی مناجات:

       حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ایک رات کچھ لوگ حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پاس آئے تو سنا کہ آپ بارگاہِ خداوندی میں عرض کر رہے ہیں :اے میرے مالک!اگر تو نے میری تنہائی پر پکڑ فرمائی تو میں تیری یکتائی کا سہارا پکڑوں گا ،اگر تونے گناہوں پر میری پکڑفرمائی تو میں تیرے کرم کا سہارا لوں گااور اگر تونے مجھے دوزخیوں میں  شامل کیاتومیں دوزخ والوں کو بتادوں گا کہ میں تجھ ہی سے محبت کرتا ہوں ۔

نیک لوگوں کی پہچان:

       حضرت سیِّدُنا علی بن حسین حَدّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کا بیان ہے کہ میں نےحضرت سیِّدُنا ابوسلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن سے پوچھا:نیک لوگوں کی پہچان کس چیز سے ہوتی ہے؟ ارشاد فرمایا:مصیبتوں کو چھپانے اور کرامتوں کی حفاظت کرنے سے۔

       آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ایک رات میں اپنے اَوْراد پڑھے بغیر سوگیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک حورمجھ سے کہہ رہی ہے:تم سورہےہوجبکہ میں 500سالوں سے تمہارے لئے اپنے رخسارسنوار رہی ہوں ۔

سیِّدُناابومحمد عبداللہ بن حنیف عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُنا ابو محمد عبداللہ بن حنیف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مشہور زاہد اور صوفی بزرگ ہیں ،کوفہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انطاکیہ میں سکونت اختیار فرمائی۔آپ ارشادفرمایاکرتےتھے:’’صرف اس چیز کا غم کرو جو تمہیں کل نقصان دے سکتی ہے اور صرف اس بات پر خوشی مناؤ جوتمہیں مستقبل میں نفع پہنچاسکتی ہے۔ “آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کرامات ظاہر اور فیوض وبرکات بے شمار ہیں ۔

سیِّدُنامحمد بن یوسف بناء عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ محمدبن یوسف بناء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا تعلق اصفہان سے ہے۔چھ سو محدثین سے حدیث کی روایت فرمائی،اس کے بعد آپ پر خلوت وگوشہ نشینی کا غلبہ ہوا تو تصوف  کا لبادہ اوڑھ کر مَکۂ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے اور تن تنہا جنگل کو عبور کیا۔ابتداءً آپ روزانہ تین اور ایک تہائی درہم کماتے تھے جس میں سے اپنے لئے ایک دانق رکھ کرباقی رقم صدقہ فرمادیاکرتےنیز کام کے ساتھ ساتھ روزانہ ایک ختْمِ قرآن بھی فرماتے۔مسجدمیں نمازِعشاادا کرنےکے بعدآپ پہاڑپرتشریف لےجاتے،صبح تک وہیں رہتےاورپھردوبارہ اپنے کام پر واپس  آجاتے۔آپ پہاڑ پر بارگاہِ خداوندی


 

 میں عرض کرتے:اے میرے رب!یا تو مجھے اپنی معرفت عطا فرما یاپھر پہاڑ کو حکم فرما      کہ مجھ پر گِر جائےکیونکہ میں تیری معرفت کے بغیر زندگی نہیں چاہتا۔

سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُناابوزکریا یحییٰ بن معاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی راہِ طریقت کے مَردوں میں سے ایک عظیم ہستی اور اپنے زمانے کی نادرِ روزگار شخصیت تھے۔

سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ عَلَیْہِ الرَّحمَہکےملفوظات:

      ان لوگوں میں سے مت ہونا جنہیں موت کے دن ان کا ترکہ اور قیامت کے دن ان کا میزانِ عمل رسوا کرے۔ تمہاری ذات سے مومن کا حصہ تین باتوں میں ہونا چاہیے: (۱)…اگر تم اسے فائدہ نہیں پہنچاسکتے تو نقصان بھی مت پہنچاؤ (۲)…اگر اسے خوش نہیں کرسکتے تو غمگین بھی نہ کرواور (۳)…اگر اس کی تعریف نہیں کرسکتے تو مذمت بھی مت کرو۔ گوشہ نشینی پر صبر کرنا اخلاص کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔وہ دوست بہت بُرا دوست ہے جسے یہ کہنا پڑے کہ مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے جس قدر محبت کروگے مخلوق بھی تم سے اسی قدر محبت کرے گی،تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاجتنا خوف رکھو گے مخلوق بھی تم سے اسی قدر خوفزدہ رہے گی اور تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ (کے احکامات کی پیروی)میں جتنے مصروف رہو گے مخلوق بھی تمہارے کاموں میں اسی قدر مصروف رہے گی۔جس کی مال داری اس کے کسب میں ہو وہ ہمیشہ فقیر رہے گا، جس کی مال داری اس کے دل میں ہو وہ ہمیشہ مالدار رہے گااور جو اپنی حاجتوں سے مخلوق کا ارادہ کرے وہ ہمیشہ محروم رہے گا۔

      منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشیراز تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے اسرارِ معرفت بیان کرنے لگے۔شہر کی ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی:آپ اس شہر سے کتنی رقم جمع کرنا چاہتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا:30 ہزارجن کے ذریعے میں خراسان میں اپنا قرض ادا کروں گا۔عورت نے کہا:آپ کو اس قدر رقم دینا میرے ذمے ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ وہ رقم لے کر فوراً شہر سے تشریف لے جائیے۔ آپ نے اس بات کی حامی بھرلی ،عورت نے مال لاکر آپ کے حوالے کیا اور آپ اگلے دن شہر سے تشریف لے گئے۔جب عورت کو اس بات پر ملامت کی گئی تو اس نے کہا: حضرت سیِّدُناابوزکریا یحییٰ بن معاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اولیائے  کرام کے راز بازاری اور عام لوگوں کے سامنے ظاہر فرمارہے تھے،اس بات پر  مجھے غیرت آئی اور میں نے ایسا کیا۔


 

سیِّدُنا یوسف بن حسین رازیعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُناابویعقوب یوسف بن حسین رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتَصَنُّع اوربناوٹ کو ترک کرنےمیں اپنے دورکی بےمثال شخصیت تھے۔حضرت سیِّدُناذُوالنُّون مصری اورحضرت سیِّدُناابوتراب نَخْشَبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی صحبت میں رہے۔

سیِّدُنا یوسف بن حسین  عَلَیْہِ الرَّحمَہکے ارشادات:

       اگر تم کسی شخص کے بارے میں جاننا چاہو کہ وہ عقلمند ہے یا بے وقوف تو اس سے کسی ناممکن چیز کے بارے میں گفتگو کرو، اگر وہ اس بات کو قبول کرلے تو جان لو کہ وہ احمق ہے۔جب تم کسی مرید (راہِ طریقت کے مسافر)کو دیکھو کہ وہ رخصتوں (شرعی آسانیوں ) میں مشغول ہےتو جان لو کہ اس سے کوئی بھلا ئی ظاہر نہیں ہوگی۔میں تمام گناہوں کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات کروں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ ذرہ برابر تَصَنُّع اور بناوٹ کے ساتھ اس سے ملاقات کروں ۔

شہروالوں کی مذمت اور آپ کا کردار:

      حضرت سیِّدُنا ابوالحسن دَرّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا یوسف بن حسین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کی زیارت کا ارادہ لے کر  بغداد سے روانہ ہوا،جب میں ان کے شہر پہنچا  تو لوگوں سے ان کے گھر کا پتا پوچھا۔میں جس شخص سے بھی ان کا پتا پوچھتا وہ مجھے جواب دیتا:تم اس زندیق سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟لوگوں کے اس جواب سے میرا دل تنگ ہوا حتّٰی کہ میں نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔وہ رات میں نے ایک مسجد میں گزاری،پھر میرےدل میں خیال آیا کہ اب میں اس شہر تک آہی گیا ہوں تو کم ازکم ان کی زیارت تو کرہی لینی چاہیے،چنانچہ میں پوچھتا پوچھتا ان کی مسجد تک پہنچ گیا ۔میں نے دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ محراب میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے سامنے قرآنِ مجید موجود ہے جس میں دیکھ کر تلاوت فرمارہے ہیں ۔ میں نے قریب جاکر سلام کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میرے سلام کا جواب دیا اور استفسار فرمایا: کہاں سے آئے ہو؟میں نے عرض کی:بغداد سے۔ارشاد فرمایا: کیا ان کے کلام میں سے کچھ سنا سکتے  ہو؟میں نے کہا:جی ہاں اور یہ شعر پڑھا:

رَاَيْتُكَ تَبْنِي دَائِمًا فِي قَطِيْعَتِي                                                                                               وَلَوْ كُنْتَ ذَا حَزْمٍ لَهَدَّمْتَ مَا تَبْنِي

كَاَنِّي بِكُمْ وَاللَّيْتُ اَفْضَلُ قَوْلُكُمْ                                                                                             اَلَا لَيْتَنَا كُنَّا اِذَا اللَّيْتُ لَا يُغْنِي

                             ترجمہ:میں تجھے ہمیشہ اپنی زمین پر عمارت بناتے دیکھتا ہوں ،تو اگر عقل مند ہوتا تو اپنی بنائی ہوئی عمارت گرادیتا گویا میں تمہارے


 

 سامنے ہوں اور تمہاری سب سے بہتر بات تمنا کرنا ہے کہ ”سنو!کاش ہم ایسے ہوتے“حالانکہ اب تمنا کرنا کچھ فائدہ نہ دے گی۔

      یہ شعر سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قرآنِ پاک بند کردیا اور اس قدر گریہ وزاری فرمائی کہ آپ کی داڑھی اور کپڑے گیلے ہوگئے اور کثرتِ گریہ کے باعث مجھے آپ پر رحم آنے لگا۔پھر آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:بیٹا!کیا تم شہر کے لوگوں کو ان کے یہ کہنے پر ملامت کرتے ہو کہ یوسف بن حسین گمراہ شخص ہے جبکہ میری یہ حالت ہے کہ نمازِ فجر کے وقت سے تلاوتِ قرآن کررہا ہوں اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک قطرہ تک نہیں نکلا لیکن یہ شعر سن کر مجھ پر قیامت برپا ہوگئی ہے۔

سیِّدُناابوعبْدُالرحمٰن حاتم بن علوان اصم عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا ابوعبْدُالرحمٰن حاتم بن علوان اصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم خراسان کے اکابر بزرگوں میں سے ایک اور حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ہم نشین تھے۔

سیِّدُنا حاتم اصم عَلَیْہِ الرَّحمَہکے ملفوظات:

       اپنے مولیٰ کی خدمت (اطاعت)کو لازم پکڑلودنیاتمہارے پاس ذلیل و رسوا ہوکر جبکہ آخرت تمہاری طرف رغبت کرتی ہوئی آئے گی۔جو شخص تین کے بغیر تین کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے:(۱)…جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں سے بچے بغیر اس کی محبت کا دعویٰ کرے(۲)…جو فقر وغربت سے محبت کے بغیر سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا دعویٰ کرے(۳)…جو اپنا مال خرچ کئے بغیر جنت سے محبت کا دعوی کرے۔

چار مدنی پھول:

      ایک شخص نےحضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے سوال کیا :آپ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کے معاملے کی بنیاد کس چیز پر رکھی؟ارشاد فرمایا:چار خصلتوں پر:(۱)…میں نے جان لیا کہ میرے رزق کو کوئی اور نہیں کھاسکتا لہٰذا میرا دل اس بارے میں مطمئن ہوگیا(۲)…مجھے یقین ہوگیا کہ میرے حصے کا عمل کوئی اور نہیں کرے گا اس لئے میں اس میں مشغول ہوگیا(۳)…مجھے علم ہوگیا کہ موت اچانک آسکتی ہے اس لئے میں اس کی تیاری میں جلدی کررہا ہوں اور (۴)…میں نے جان لیا کہ میں جہاں کہیں بھی ہوں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے دیکھتا ہے لہٰذا میں اس سے حیا کرتا ہوں ۔


 

”اَصَم“کہلانے کی وجہ:

       آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکواصم(بہرہ)کہنےکےبارےمیں حضرت سیِّدُناابوعلی دَقّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق سے منقول ہے کہ ایک عورت آپ کے پاس مسئلہ پوچھنے کےلئے حاضر ہوئی تو اتفاق سے اس کی ریح خارج ہوگئی جس پر وہ عورت بہت شرمندہ ہوئی۔حضرت سیِّدُناحاتم اصمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنےاس کی شرمندگی دورکرنےکے لئے فرمایا:”ذرا اونچا بولو۔“ اور اس کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ آپ اونچا سنتے ہیں ۔یہ دیکھ کر وہ عورت خوش ہوگئی اوردل میں کہنے لگی کہ انہوں نے میری ریح کی آواز نہیں سنی ہوگی۔اس وجہ سے آپ حاتم اصم کے نام سے مشہور ہوگئے۔

سیِّدُنا حسن بن احمد کاتبعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُنا حسن بن احمد کاتبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مصر کے اکابر مشائخ میں شامل ہیں ،حضرت سیِّدُنا ابوبکر مصری اور حضرت سیِّدُنا ابوعلی روذباری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے صحبت یافتہ اور اپنے دور کی یگانَۂ روزگار شخصیت ہیں ۔

سیِّدُنا حسن بن احمد عَلَیْہِ الرَّحمَہکے ارشادات:

       اہْلِ محبت سے محبت الٰہی کی ہوا کے جھونکے پھیل جاتے ہیں اگرچہ وہ اسے چھپانے کی کوشش کریں ،اس محبت کے آثاران پر ظاہر ہوجاتے ہیں اگرچہ وہ اسے مخفی رکھیں اور یہ محبت ان کی نشان دہی کردیتی ہے اگرچہ وہ اس پر پردہ ڈالیں ۔ جب بندہ مکمل طور پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ہوجاتا ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سب سے پہلے اسے لوگوں سے بےنیازی کا تحفہ عطا فرماتا ہے۔ فاسق وفاجر لوگوں کی صحبت ایک بیماری ہے اور اِس کی دوا اُن سے دوری اختیار کرنا ہے۔جب دل میں خوف قرار پکڑلے تو پھر زبان بے فائدہ گفتگو نہیں کرتی۔

سیِّدُنا جعفر بن نصر خلدی بغدادیعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       ابومحمدحضرت سیِّدُنا جعفر بن نصر خُلْدِی بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کی ولادت  بغداد میں ہوئی،حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کی صحبت میں رہے اور انہیں کی طر ف منسوب ہوئے،تقریباً ساٹھ حج کرنے کی سعادت پائی۔

       منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شونیزیہ کے قبرستان کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ ایک عورت کسی قبر کے پاس  رورہی ہے۔آپ نے اس سے رونے کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیاکہ میرا بیٹا فوت ہوگیا ہے۔یہ سن کر آپ نے درج ذیل اشعار ارشاد فرمائے:


 

يَقُوْلُوْنَ ثَكْلٰی وَمَنْ لَمْ يَذُقْ                                                                                                         فِرَاقَ الْاَحِبَّةِ لَمْ يَثْكَل

لَقَدْ جَرْعَتْنِيْ لَيَالِيُ الْفِرَاقِ                                                                                                              شَرَابًا اَمرَّ مِنَ الْحَنْظَل

       ترجمہ:لوگ کہتے ہیں کہ یہ عورت اپنے بیٹے کی موت پر روتی ہے،جس نے اپنے پیاروں سے جدائی کا مزہ نہیں چکھا وہ نہیں روتا۔ فراق کی راتوں نے مجھے ایسا مشروب پلایا ہے جو    اندرائن سےبھی زیادہ کڑوا ہے۔

گمشدہ چیز کی تلاش کے لئے وظیفہ:

       منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک نگینہ تھاجو ایک دن دریائے دجلہ میں گر گیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گمشدہ چیز کی تلاش کے لئے ایک آزمودہ دعا جانتے تھے کہ جب وہ دعا پڑھی جائے تو گمی ہوئی چیز مل جاتی تھی۔آپ نے وہ دعا پڑھی تو  کاغذات کو تلاش کرتے ہوئے وہ نگینہ اس میں سے مل گیا۔ وہ دعا یہ ہے:”يَاجَامِعَ النَّاسِ لِيَومٍ لَّارَيبَ فِيْهِ اِجْمَعْ عَلَيَّ ضَالَّتِي([30])یعنی اے لوگوں کو جمع کرنے والے اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں !میری گمشدہ چیز مجھے لوٹادے۔“

       منقول ہے  کہ اس دعا سے قبل آپ  تین مرتبہ سورۂ ضُحٰی بھی پڑھا کرتے تھے۔

       حضرت سیِّدُناحافظ ابوبکرخطیب بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتاریْخِ بغدادمیں نقل فرماتےہیں کہ حضرت سیِّدُناجعفر بن محمدخُلدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا:ایک دفعہ میں حضرت سیِّدُنامُزَیِّن کبیرصوفیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے رُخصت ہونے لگا توان سے عرض کی کہ مجھے کچھ عنایت فرمائیے۔ارشاد فرمایا:اگر تم سے کچھ گم جائےیاتم چاہوکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّتمہیں مجھ سے یاکسی اورشخص سےملادےتویہ کلمات کہو:يَاجَامِعَ النَّاسِ لِيَومٍ لَّارَيْبَ فِيْهِ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ اِجْمَعْ بَيْنِيْ وَبَينَ كَذَاوَکَذَا([31])یعنی اے لوگوں کو جمع کرنےوالے اس دن کےلئےجس میں کوئی شبہ نہیں !مجھےاورفلاں چیزکویافلاں کوجمع فرمادے۔“

(اس کی برکت سے)اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس چیز سے یا اس شخص سے جسے تم چاہ رہےہوملادےگا۔

سیِّدُنا معروف بن فیروز کرخیعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

حضرت سیِّدُنا ابومعروف بن فیروز کرخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اکابر اولیائے کِرام میں سے ایک مقبول الدعا  شخصیت


 

اور حضرت سیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے استاذ  محترم ہیں ۔

       آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے والدین عیسائی تھے،انہوں نے آپ کو بچپن میں ایک مُعلّم کے حوالے کیا، معلم آ پ سے کہتا:کہو کہ وہ(یعنیاللہعَزَّ  وَجَلَّ)تین میں سے تیسرا ہے۔آپ فرماتے:وہ اکیلا اور بے نیاز ہے۔ اس پر مُعلّم نے آپ کو بہت بُری طرح مارا اورآپ فرار ہوگئے۔آپ کے والدین کہا کرتے تھے:کاش!ہمارا بیٹا واپس آجائے،چاہے وہ کسی بھی دین پر ہو ہم بھی اس کی موافقت کریں گے۔چنانچہ آپ گھر واپس تشریف لائے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے پوچھا گیا:کون؟ فرمایا: معروف۔دوبارہ سوال ہوا:کس دین پر؟ارشاد فرمایا:دینِ اسلام پر۔چنانچہ آپ کے والدین بھی مسلمان ہوگئے۔ 

       آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدعا کی قبولیت کے حوالے سے مشہور تھے۔

سیِّدُنا معروف  کرخی عَلَیْہِ الرَّحمَہکے ارشادات:

       اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے کے ساتھ خیروبھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے اور سستی وکاہلی کا دروازہ بند کردیتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے فرماتے تھے:اے مسکین!تو کب تک روتا دھوتا رہے گا،اخلاص اختیار کر نجات پاجائے گا۔

محبت دنیا سے چھٹکارے کا پھل:

       حضرت سیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے سوال کیا: ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے اطاعت گزار  بندےکس سبب سے اس کی اطاعت وفرمانبرداری پر قادر ہوتے ہیں ؟“ارشاد فرمایا:”ان کے دلوں سے دنیا کی محبت نکل جانے کے باعث وہ اس پر قدرت پاتے ہیں ،اگر ان کے دلوں میں دنیا کی محبت ہوتی تو وہ ایک سجدہ بھی صحیح طرح نہ کرپاتے۔“

       آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اشعار میں سے ایک شعر درج ذیل ہے:

اَلْمَاءُ يَغْسِلُ مَا بِالثَّوْبِ مِنْ دَرِنٍ

 

وَلَيْسَ يَغْسِلُ قَلْبَ الْمُذْنِبِ الْمَاءُ

       ترجمہ:پانی کپڑے کا میل کچیل دھودیتا ہے،لیکن گناہ گار کے دل کو پانی صاف  نہیں کرتا۔

بددعا کے بجائے دعا فرمائی:

       حضرت سیِّدُناابراہیم اَطْرُوشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ حضرت سیِّدُنامعروف کرخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیایک دن بغداد


 

شریف میں دریائےدجلہ کےکنارےتشریف فرماتھےکہ ایک کشتی میں سوارچندنوجوان ہمارے پاس سےگزرےجوگانے بجانےاورشراب نوشی میں مصرو ف تھے۔آپ کےساتھ والوں نےعرض کی:کیا آپ نہیں دیکھتےکہ یہ لوگ پانی پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نافرمانی میں مشغول ہیں ،ان کے لئے بددعا فرمائیے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےآسمان کی طرف ہاتھ بلندفرمائےاور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے:’’ اے میرے مالک ومولی!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے انہیں دنیا میں خوش رکھا ہے اسی طرح انہیں آخرت میں بھی خوش وخرم رکھنا۔“ساتھیوں نے عرض کی:ہم نے تو آپ سے ان کے لئے بددعا کرنے کی گزارش کی تھی نہ کہ دعا کرنے کی۔ارشاد فرمایا: ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّاگر انہیں آخرت میں خوش رکھنا چاہے گا تو دنیا میں توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے گا اور اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔“

رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں :

       حضرت سیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو خواب میں دیکھا گویا کہ آپ عرش کے نیچے موجود ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے: یہ کون ہے؟فرشتے عرض کرتے ہیں :اے ہمارے رب!تو بہتر جانتا ہے۔اللہعَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:یہ معروف کرخی ہے جو میری محبت (کے نشے)میں مدہوش ہے،اسے صرف میری ملاقات سے ہی افاقہ ہوگا۔

مرنے کے بعد میری قمیض صدقہ کردینا:

       مرضِ وفات میں آپ سے کسی نے کہا کہ کوئی وصیت فرمائیے تو ارشاد فرمایا:”جب میں مرجاؤں تو میری یہ قمیض  صدقہ کردینا۔میں چاہتا ہوں کہ جس طرح بغیر لباس کے دنیا میں آیا تھا اسی طرح دنیا سے رخصت ہوجاؤں ۔ “

مرنے کے بعد بھی زندہ :

       حضرت سیِّدُنا ابوبکر خَیّاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے: میں نے خواب دیکھا کہ میں قبرستان میں داخل ہوا توقبرستان کے مردے اپنی قبروں پر بیٹھے ہوئے ہیں ،ان کے سامنے پھول موجود ہیں اورحضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیان کے درمیان یہاں وہاں آجا رہے ہیں ۔میں نے عرض کیا:اے ابومحفوظ! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟کیا آپ وفات نہیں پاچکے؟ارشاد فرمایا:بے شک(میں وفات پاچکا ہوں )پھر یہ شعر پڑھا:

مَوْتُ التَّقِيِّ حَيَاةٌ لَا نَفَادَ لَهَا                                                                                                      قَدْ مَاتَ قَوْمٌ وَهُمْ فِي النَّاسِ اَحْيَاء


 

ترجمہ:متقی شخص کی موت اصل میں زندگی ہوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی،کچھ لوگ ایسے ہیں جو اگرچہ مرچکے ہیں لیکن لوگوں کے درمیان زندہ ہیں ۔

سیِّدُنا قاسم بن عثمان کرخیعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا ابوعبدالملک قاسم بن عثمان کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اکابر مشائخ میں سے ایک ہیں ۔آپ حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارنی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اور دیگر بزرگوں کے صحبت یافتہ ،حضرت سیِّدُنا سری سقطی اورحضرت سیِّدُنا حارث محاسبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے ہم عصر ہیں جبکہ حضرت سیِّدُنا ابوتراب نخشبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجیسے عظیم بزرگ بھی آپ کی صحبت سے فیض پایا کرتے تھے۔

سیِّدُناقاسم کرخی عَلَیْہِ الرَّحمَہکے ملفوظات:

       جو اپنی بقیہ زندگی میں نیک عمل کرنے پر کمر بستہ ہوجائے اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور جو اپنی آئندہ زندگی میں نافرمانیاں کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔سلامتی تمام کی تمام لوگوں سے کنارہ کشی میں جبکہ خوشی ومسرت پوری کی پوری اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ خلوت  اختیار کرنے میں ہے۔

توبہ کی تعریف:

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:حق والوں کے حقوق واپس کرنے،گناہوں کو چھوڑدینے،رزقِ حلال طلب کرنے اور فرائض کی ادائیگی   کا نام توبہ ہے۔

پانچ مدنی پھول:

      آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاپنےاصحاب سےارشادفرمایاکہ میں تمہیں پانچ باتوں کی نصیحت کرتاہوں :(۱)…اگرتم پر ظلم کیاجائےتوجواباً  تم ظلم نہ کرو(۲)…اگر تمہاری تعریف کی جائی تو خوش نہ ہو(۳)…مذمت کی جائے تو غم نہ کرو (۴)…اگر تم سے جھوٹ بولا جائے تو غصے میں مت آؤ(۵)… اور اگر کوئی تمہیں دھوکا دے تو تم دھوکا مت دو۔

      حضرت سیِّدُنا محمد بن فرج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا قاسم بن عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کو ارشاد فرماتے سنا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے کچھ بندے ایسے ہیں جو اپنی پوری ہمت صرف کرکے اس کا قرب پانے کی کوشش کرتے


 

 ہیں ،اس کی طاعت وبندگی بجالاتے ،صرف اسی پر بھروساکرتے اور ان کے دلوں پر جو بھی دنیوی خیالات گزرتے ہیں اس کے بدلے صرف اس کی یاد پر راضی ہوجاتے ہیں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا ان کا کوئی محبوب نہیں اور اس کا قرب دلانے  والے اعمال کے علاوہ کوئی چیز ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے۔

معرفَتِ باری تعالٰی کی اہمیت:

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ معرفت کے ساتھ تھوڑا عمل بغیر معرفت کثیر عمل سے بہتر ہے۔ پھر فرماتے: معرفت حاصل کرو اور سر رکھ کر سوجاؤ کیونکہ مخلوق نے معرفت سے افضل کسی چیز سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت نہیں کی۔

سات دروازے،سات حوریں اورسات مجاہد:

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے بیتُ اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، جب میں اس کے قریب گیا تو وہ صرف یہ کلمات کہہ رہا تھا:اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!تو نے حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا فرمادیا لیکن میری حاجت پوری نہیں ہوئی۔میں نے اس سے پوچھا:کیا وجہ ہے کہ تم اس کے علاوہ کوئی دعا نہیں پڑھتے؟اس نے کہا:میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں ،ہم سات رفقا تھے جو مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھے اور دشمن کی سرزمین پر جہاد میں مصروف تھے کہ دشمنوں نے ہم ساتوں کو قید کرلیا اور ہماری گردنیں اڑانے کے لئے ہمیں الگ لے جایا گیا۔میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ سات دروازے کھلے ہوئے ہیں اور ہر دروازے  پر بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک حور موجود ہے۔ ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا تو ان لوگوں نےاس کی گردن اڑادی،میں نے دیکھا کہ ایک حور جس کے ہاتھ میں رومال ہے وہ زمین کی طرف اتر رہی ہے ۔ایک ایک کرکے چھ افراد کو شہید کردیا گیا،اب میں اکیلا رہ گیا تھا جبکہ ان سات دروازوں اور حوروں میں سے بھی ایک ایک باقی تھے۔جب میں آگے بڑھا تو بادشاہ کے خاص مصاحبین میں سے ایک شخص نے مجھے اس سے طلب کرلیا اور بادشاہ نے مجھے اس کے حوالے کردیا۔میں نے سنا کہ وہ حور کہہ رہی ہے:اے محروم شخص!کس وجہ سے تو اس سعادت سے پیچھے رہ گیا، پھر وہ دروازہ بند کردیا گیا۔اے میرے بھائی!جو دولت میرے ہاتھ سے نکل گئی میں اس پر افسردہ ہوں ۔حضرت سیِّدُنا قاسم بن عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے ارشاد فرمایا:میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص بقیہ چھ سے افضل ہے کیونکہ اس نے وہ دیکھا جو انہیں نہ دکھائی دیا اور پھر اِسے چھوڑ دیا گیا کہ شوق کے ساتھ عمل کرے۔


 

سیِّدُناابو بکردُلَف بن جحدر شبلیعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       حضرت سیِّدُناابوبکر دُلَف بن جَحْدر شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مالکی مذہب کے مُقلّد اور جلیل القدر وعظیم الشان بزرگ تھے۔ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اور اپنے دور کے دیگر بزرگوں کی صحبت سے فیض یافتہ ہوئے۔شریعتِ مطہرہ کی تعظیم میں بہت مبالغہ کرتے تھے۔جب رمضان کا مبارک مہینہ تشریف لاتا تو عبادت وریاضت میں خوب کوشش کرتے اور فرماتے:یہ ایسا مہینہ ہے جسے میرے رب نے عظمت عطا فرمائی تو میں اس کا احترام کرنے کا زیادہ حقدار ہوں ۔

ہاتھ کی کمائی:

       آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان”آدمی کا بہترین عمل اس کے ہاتھ کی کمائی ہے۔“سے متعلق سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا:جب رات کا وقت ہو تو پانی لے کر نماز کی تیاری کرو اور جس قدر ہوسکے نماز ادا کرو،پھر دستِ سوال دراز کرکے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا مانگو،یہ تمہارے ہاتھ کی کمائی ہے۔

       جب آپ حج کے لئے روانہ ہوئے اور مَکۂ مکرمہ پر نظر پڑی تو بے ہوش ہوکر گر پڑے، جب ہوش آیا تو یہ شعر پڑھا:

هٰذِهٖ دَرَاهِمُ وَاَنْتَ مُحِبٌّ

 

مَا بَقَاءُ الدُّمُوْعِ فِي الْاٰمَاقِ

       ترجمہ:یہ دراہم ہیں جس سے تم ایسی محبت کرتےہو کہ آنکھوں کے گوشوں میں آنسو بھی نہ رہے۔

مال کی آفت:

       آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ایک دن میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں بخیل ہوں ۔اس پر میں نے کہا:آج کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے جو بھی دولت عطا فرمائے گا میں اسے سب سے پہلے ملنے والے فقیر کو دے دوں گا۔ابھی میں اسی سوچ میں مگن تھا کہ ایک شخص میرے پاس پچاس دینار لے کر آیا اور مجھے دے کر کہنے لگا کہ انہیں اپنی ضروریات میں خرچ فرمائیں ۔میں نے وہ دینار لئے اور گھر سے نکل پڑا۔ مجھے ایک نابینا فقیر نظر آیا جو حجام کے سامنے بیٹھا ہوا تھااورحجام اس کاسرمونڈرہا تھا۔میں اس فقیر کےپاس گیااوردیناروں کی تھیلی اسے دینے لگا۔فقیر نے کہا کہ یہ حجام کو دے دو۔میں نے کہا:اس میں دینار ہیں ۔یہ سن کر فقیر نے کہا:بے شک تم بخیل ہو۔ میں نے وہ تھیلی حجام کو دینا چاہی تو اس نے کہا:ہمارا یہ معمول ہے کہ اگر کوئی فقیر ہمارے پاس حجامت کے لئے آئے تو ہم اس کی حجامت کی اُجرت نہیں لیتے۔میں


 

 نے اس تھیلی کو دریائے دجلہ میں پھینک دیا اور کہا:”جو بھی شخص تمہیں عزت دیتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے ذلیل ورسوا فرمادیتا ہے۔“

سیِّدُنا زُرْقان بن محمد عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے بھائی تھے۔سیر وسیاحت آپ  کا معمول تھا جبکہ لبنان کے پہاڑ پر سکونت پذیر تھے۔

       حضرت سیِّدُنا یوسف بن حسین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کا بیان ہے:ایک دن میں لبنان کے پہاڑ پر گھوم رہا تھا کہ میں نے نمازِ عصر کے وقت حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے بھائی حضرت سیِّدُنا زرقان بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد کو دیکھاکہ وہ پانی کے ایک چشمے کے پاس بیٹھے ہیں ۔میں انہیں سلام کرکے ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:کیا چاہتے ہو؟میں نے عرض کی:آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے میں نے دو اشعار سنے تھے وہ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ارشاد فرمایا:سناؤ۔میں عرض گزار ہوا کہ میں نے انہیں کہتے سنا تھا:

قَدْ بَقَيْنَا مِنَ الذُّنُوْبِ حَيَارٰى                                                                                              نَطْلُبُ الصِّدْقَ مَا اِلَيْهِ سَبِيْل

فَدَعَاوِی الْهَوٰى تَخِفُّ عَلَيْنَا                                                                                                    وَخِلَافُ الْهَوٰى عَلَيْنَا ثَقِيْل

       ترجمہ:ہم گناہوں کے سبب حیران رہے،ہم صدق چاہتے ہیں لیکن اس کی طرف کوئی راہ نہیں ۔مرضی کی باتیں  کرنا تو ہم پر آسان ہے لیکن نفس کی مخالفت ہمارے لئےمشکل ہے۔

       یہ اشعار سن کر حضرت سیِّدُنازرقان بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد نے ارشاد فرمایا:لیکن میں یہ کہتا ہوں :

قَدْ بَقَيْنَا مُذْهِلِيْنَ حَيَارٰى                                                                                                          حَسْبُنَا رَبُّنَا وَنِعْمَ الْوَكِيْل

حَيْثُمَا الْفَوْزُ كَانَ ذَاكَ مَنَّانَا                                                                                                        وَاِلَيْهِ فِیْ كُلِّ اَمْرٍ نَمِيْل

       ترجمہ:ہم حواس باختہ اور حیران رہے اور  ہمارا رب ہمارے لئے کافی اور اچھا کارساز ررہا۔جہاں بھی کامیابی ملی اُس محسن سے ملی  اور ہم ہر معاملے میں اسی کی طرف مائل ہیں ۔

       میں نے دونوں حضرات کے اشعار حضرت سیِّدُنا طاہر مقدسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو سنائے تو انہوں نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی پر رحم فرمائے!ان کی توجہ اپنی طرف تھی تو انہوں نے یہ اشعار کہے جبکہ حضرت سیِّدُنازرقان بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد کی توجہ اپنے رب کی طرف تھی جس کے سبب انہوں نے یہ اشعار کہے۔


 

حضرت سیِّدُناابوعبْدُالرحمٰن سلمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں :حضرت زرقان بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد حضرت ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے بھائی تھے اور میرا گمان ہے کہ وہ اُن کے اسلامی بھائی تھے نہ کہ نسبی بھائی ،آپ حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ہم عصر اور رفقا میں سے تھے۔

سیِّدُناابو عبداللہسعید بن بَرِید نُباجیعَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہسعید بن بَرِیْدنُباجی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاور حضرت سیِّدُنااحمدبن ابوحواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے ہم عصر تھے۔عِلْمِ معرفت کےبارےمیں آپ کے نہایت عمدہ اقوال ہیں ۔

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مجھے تنگی اور شدت پہنچی تو میں نے اس ارادے سے رات گزاری کہ اپنے ایک دوست کے پاس جاؤں گا۔میں نے نیند کے عالَم میں سنا کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے: کیا کسی آزاد مرید کے لئے یہ بات مناسب ہے کہ جس چیز کی اسے ضرورت ہے اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس پائے پھر بھی اس کا دل بندوں کی طرف مائل ہو۔اتنے میں میری آنکھ کھلی اور میں سب لوگوں سے زیادہ غنی وبےنیاز ہوچکا تھا۔

سیِّدُناابو نصربشر بن حارث حافی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیراہِ طریقت کے مسافروں میں سے ایک ہیں ۔آپ کا تعلق”مَرْوَ“

 سے تھا لیکن بغداد میں سکونت اختیار فرمائی ،اکابر صالحین ،متقین اور زاہدین کے گروہ میں شامل ہیں ۔حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض اور حضرت سیِّدُنا سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا وغیرہ بزرگوں کی صحبت سے مستفید ہوئے۔

سیِّدُنابشر حافیعَلَیْہِ الرَّحمَہکے ارشادات:

       تم اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتے جب تک تمہارا دشمن بھی تم سے امن میں نہ ہو،تو بھلا تم میں کون سی بھلائی ہے جب کہ تمہارا دوست بھی تمہاری طرف سے امن میں نہ ہو۔انسان کو دنیا میں جو پہلی سزا ملتی ہے وہ اس کے پیاروں سے جُدائی ہے۔مومن کے لئے یہ بات غنیمت ہے کہ لوگ اس سے غافل ہوں اور اس کا مقام ومرتبہ ان سے پوشیدہ رہے۔ متکبر کے ساتھ تکبر سے پیش آنا بھی تواضع کی ایک قسم ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے صبرِ جمیل کے متعلق پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:صبرِ جمیل وہ ہے جس میں لوگوں سے شکوہ شکایت نہ ہو۔


 

عبرت ہی عبرت:

      منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیایک شخص سے ملے جو نشے میں دُھت تھا۔ وہ شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاتھ چومنے لگا اور کہنے لگا:اے میرے سردار!اے ابونصر!آپ نے اسےایسا کرنے سے نہ روکا۔جب وہ چلا گیا تو آپ کی آنکھیں بھرآئیں اور فرمانے لگے:ایک شخص دوسرے شخص کو نیک گمان کرکے اس سے محبت کرتا ہے،ہوسکتا ہے کہ محبت کرنے والا نجات پاجائے لیکن اس کے محبوب کا نہ جانے کیا انجام ہو۔

گھر والوں کے تقوٰی کا عالم:

      منقول ہے کہ ایک عورت حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوئی اور عرض کی:میں دن رات سوت کات کر اسے بیچتی ہوں لیکن  خریدنے والے کو یہ نہیں بتاتی کہ یہ سوت رات میں کاتا گیا ہے یا دن میں ،اس بات میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:تم پر لازم ہے کہ اس بات کو بیان کیا کرو۔جب وہ عورت واپس جانے لگی تو امام صاحب نے اپنے بیٹے سے فرمایا:اس عورت کے پیچھے جاؤ اور دیکھو کہ یہ کس گھر میں داخل ہوتی ہے۔بیٹے نے واپس آکر بتایا کہ وہ عورت حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے گھر میں داخل ہوئی۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:اگر یہ عورت ان کے علاوہ کسی اور گھر سے ہوتی تو مجھے تعجب ہوتا(یعنی اس قدر احتیاط پر مبنی سوال ان کے گھر والے ہی کرسکتے ہیں )۔

عیسائی طبیب کا قبولِ اسلام:

      حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی  جب مرضِ وفات میں مبتلا ہوئے تو اہلِ خانہ نے عرض کی کہ ہم آپ کا پیشاب طبیب کو دکھاتے ہیں (تاکہ وہ علاج تجویز کرے)۔ارشاد فرمایا:میں طبیب کی نظروں میں ہوں ،وہ میرے ساتھ جو چاہے گا کرے گا۔جب زیادہ اصرارکیاگیاتب آپ دینےپرراضی ہوئے۔

    قریب ہی  ایک عیسائی طبیب تھا،لوگوں نےشیشی اسے لے جاکر دی تو اس نے کہا:اسے ہلاؤ،لوگوں نے اسے ہلایا،پھر اس نے کہا:اسے رکھ دو تو رکھ دیا گیا۔لوگوں نے کہا کہ آپ کے بارے میں ہمیں یہ نہیں بتایا گیا تھا۔طبیب نے پوچھا:میرے بارے میں تمہیں کیا بتایا گیا تھا؟لوگوں نے کہا:ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ تم اس زمانے میں عِلمِ طب میں سب سے زیادہ ماہر ہو۔طبیب نے جواب دیا:میں ویسا ہی ہوں جیسا کہ تم سے کہا گیا ہے،اگر یہ پیشاب کسی عیسائی کا ہے تو وہ کوئی


 

 راہب  ہے جس کے کلیجے کو خوف نےٹکڑے ٹکرے کردیا ہے اور اگر کسی مسلمان کا ہے تو حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کا  ہے کیونکہ اس دور میں ان سے زیادہ خوف ِ خدا والا کوئی نہیں ہے۔لوگوں نے جواب دیا:یہ پیشاب حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَا فِی کا ہی ہے۔یہ سن کر عیسائی طبیب نے کہا:میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول ہیں ۔لوگ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں واپس حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے استفسار فرمایا:کیا طبیب مسلمان ہوگیا؟ لوگوں نے پوچھا:آپ کو یہ بات کس نے بتائی:ارشاد فرمایا:جب تم لوگ میرے پاس سے گئے تو مجھے یہ نداکی گئی: اے بشر!تمہارےپیشاب کی برکت سےطبیب مسلمان ہوگیا ہے۔

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصالِ مبارک ۲۲۷ھ میں ہوا۔

سیِّدُنا طیفور بن عیسٰی بِسطامی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      سلطان العارفین حضرت سیِّدُنا ابویزیدطَیْفُور بن عیسٰی بِسطامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیبہت شان وعظمت کے مالک اور اکابر مشائخ میں سے ایک ہیں ۔

سیِّدُنا ابویزیدبِسطامی عَلَیْہِ الرَّحمَہکے فرمودات:

       میں اپنے نفس کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف ہانکتا رہا اور یہ روتارہا لیکن جب میں اس میں کامیاب ہوگیا تو میرے نفس نے ہنسنا شروع کردیا۔پوچھاگیا:آپ نےاس معرفت کوکیسےپایا؟فرمایا:”بھوکے پیٹ اور(عمدہ)لباس سےعاری بدن کے ساتھ۔“

ایک سال تک پانی نہ پیا:

      کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں آپ نے سب سے مشکل چیز کیا پائی؟ارشاد فرمایا: اسے بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔دوبارہ پوچھا گیا کہ اس راہ میں آپ کے نفس کے لئے سب سے آسان چیز کیاتھی؟ارشاد فرمایا:یہ بات میں بتاسکتا ہوں ،میں نے اپنے نفس کو ایک نیک عمل کی طرف بلایا تو اس نے قبول نہ کیا،اس پر میں نے اپنے نفس کو ایک سال تک پانی سےمحروم کردیا۔

میں حساب کی دعا کیوں کرتا ہوں ؟

      ایک موقع پرفرمایا:تمام لوگ حساب سے بھاگتے اور اس سے پہلو تہی کرتے ہیں جبکہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا کرتا


 

وں کہ میرا حساب فرمائے۔جب اس کا سبب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:اس امید پر کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میرا حساب کرتے ہوئے فرمائے:یا عبدی(یعنی اے میرے بندے)! اور میں اس کے جواب میں لَبَّیْک کہوں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مجھےاپنا بندہ کہنا میرے نزدیک دنیا اور اس میں موجود تمام اشیا سے زیادہ پسندیدہ ہے، اس کے بعد وہ میرے ساتھ جو چاہے سلوک فرمائے۔

محبت اولیا بخشش کا بہانہ:

       ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس کی بدولت مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب حاصل ہو جائے۔ ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ولیوں سے محبت کرو تاکہ وہ بھی تم سے محبت کریں کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے اولیا کے دلوں پر نظر فرماتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے کسی ولی کے دل پر تمہارا نام دیکھے تو تمہاری مغفرت فرمادے۔

محبت کسے کہتے ہیں ؟

       آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے محبت کے بارے میں پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:محبت یہ ہے کہ اپنی طرف سے زیادہ کو بھی تھوڑا سمجھا جائے جبکہ محبوب کی جانب سے قلیل کو بھی کثیر جانا جائے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ۲۶۱ھ میں وصال فرمایا۔

سیِّدُناابو القاسم جنید بغدادی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

       گروہِ اولیا کے سردار حضرت سیِّدُنا ابوالقاسم جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاپنے زمانے کے عظیم بزرگ اور نادر ویگانہ شخصیت تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آباء واجداد نہاوند سے تھے جبکہ آپ کی ولادت و پرورش بغداد میں ہوئی۔اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت کی صحبت سے فیض یاب ہوئے، اپنےماموں حضرت سیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینیز حضرت سیِّدُنا حارث محاسبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے فیضانِ صحبت سے بھی مستفید ہوئے ۔حضرت سیِّدُنا ابوثور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عِلمِ فقہ حاصل کیا اور 20سال کی عمر میں ان کی مجلس میں ان کی موجود گی میں فتویٰ دینے لگے۔

سیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ الرَّحمَہکے ملفوظات:

       اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندے کو چھوڑدینے کی نشانی یہ ہے کہ اسے بے فائدہ چیزوں میں مشغول کردے۔ادب کی دو اقسام ہیں :پوشیدہ ادب اوراعلانیہ ادب،پوشیدہ ادب دلوں کی طہارت ہے جبکہ اعلانیہ ادب اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانا ہے۔


 

ہاتھ میں تسبیح رکھنے کی وجہ:

      ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر کسی نے عرض کی کہ آپ اس قدر فضیلت وبزرگی کے باوجود اپنے ہاتھ میں تسبیح رکھتے ہیں ؟ارشاد فرمایا:ایک ایسا سبب جس کے باعث ہمیں ایک مقام حاصل ہوا ہم اس سبب کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

شیطان کو جلانے والے:

      حضرت سیِّدُنا حسن بن محمد سراج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کو فرماتے سنا:میں نے شیطان کو خواب میں برہنہ دیکھاتو کہا:کیا تمہیں انسانوں سے شرم نہیں آتی؟اس نے کہا:کیا یہ لوگ آپ کے نزدیک انسان ہیں ؟اگر یہ انسان ہوتے تو میں ان کے ساتھ اس طرح نہ کھیلتا جیسے بچے گیند کےساتھ کھیلتے ہیں ،میرے نزدیک تو صرف تین افراد انسان ہیں ۔میں نے پوچھا:وہ کون؟شیطان نے جواب دیا:وہ مسجدِ شونیزیہ میں موجود ہیں ،انہوں نے میرے دل  کو بیمار جبکہ جسم کو کمزور کردیا ہے۔جب بھی میں انہیں بہکانے کا ارادہ کرتا ہوں تو وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور میں جلنے لگتا ہوں ۔

      حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کا بیان ہے کہ میں نیند سے بیدار ہوا،لباس پہنا اور راتوں رات مسجدِ شونیزیہ پہنچ گیا۔جب میں وہاں پہنچا تو ان تین میں سے ایک نے اپنا سر باہر نکالا اور کہا:اے ابوالقاسم!تم سے جو بھی بات کہی جاتی ہے تم اس پر بھروسا کرلیتے ہو؟

      منقول ہے کہ  مسجدِ شونیزیہ میں موجود وہ تین  افراد حضرت سیِّدُنا ابوحمزہ،حضرت سیِّدُنا ابوالحسن ثوری اور حضرت سیِّدُنا ابوبکر دقاق رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  تھے۔

      حضرت سیِّدُنا محمد بن قاسم فارسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیا ن ہے کہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے عید کی رات جنگل میں اس مقام پر گزاری جہاں آپ کا رات گزارنے کا معمول تھا۔جب سحر کا وقت ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جبے میں لپٹے ہوئے ایک نوجوان کو ملاحظہ فرمایا جو روتے ہوئے اشعار پڑھ رہا تھا(جن میں ایک شعر یہ تھا):

سُرُوْرُ الْعِيْدِ قَدْ عَمَّ النَّوَاحِي                                                                                    وَحُزْنِي فِي اِزْدِيَادِ لَا يَبِيْد

      ترجمہ:ہر طرف عید کی خوشی منائی جارہی ہے لیکن میرا غم ختم نہیں ہورہا بلکہ بڑھتا جارہا ہے۔


 

      حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کا انتقال۲۹۷ھ بغداد میں ہوا اورتقریباً60ہزار افراد نے آپ  کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

سیِّدُنا ابوبکر بن عمر مالکی عَلَیْہِ الرَّحمَہ:

      (مؤلف کہتے ہیں :)میں جن بزرگانِ دین کی صحبت میں رہا،ان کے قُرب سے نفع اٹھایا اور ان کی برکت سے مجھے خیر وبھلائی حاصل ہوئی ان میں سے ایک عالمِ باعمل،ابوالمعالی ابوالصداق حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عمر طرینی مالکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیہیں ۔آپ زہد وتقوی میں اپنے زمانے کی بے مثال شخصیت اور گمراہوں کا قلع قمع فرمانے والے  تھے۔عرب وعجم کے لوگوں نے آپ کے حکم کی اطاعت کی اور مشرق ومغرب میں آپ کا ذکرِ خیر عام ہوگیا، بادشاہ آپ کے دولتِ خانے پر حاضر ہوکر خوشہ چینوں کی فہرست میں شامل ہوا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں کوئی مصیبت زدہ حاضری دیتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی پریشانی کو دور فرمادیتا جبکہ حاجت مندوں کی حاجت روائی ہوتی تھی۔

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نوافل کی پابندی کرتے اور فرائض وواجبات کو لازم پکڑتے تھے،اکثر آپ کا کھانا زمین پر اُگنے والی مباح گھاس پھونس ہوتی تھی،اپنے نفس کو دنیا کے لذیذ کھانے پینے سے مستفید ہونے کا موقع نہ دیتے تھے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ اپنے نفس پر غضب ناک ہوئے تو کئی مہینے تک نفس کو سزاد ینے کے لئے پانی نوش نہ فرمایا۔

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ہم نشینوں پر بہت زیادہ شفقت و مہربانی فرماتے جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تمام مخلوق کی خیر خواہی فرمانے والے تھے چاہے وہ آپ کے احباب میں سے ہوں یا دشمنوں میں سے ۔بڑے سے بڑا دشمن بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا توانتہائی خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے ملاقات فرماتےاور جب وہاں سے نکلتا  تو آپ اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوتے۔

      حلم وبردباری اور پردہ پوشی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شیوہ تھا،نہ تو کسی مسلمان کی پردہ دری فرماتے اور نہ ہی اُسے ذلیل ورسوا کرتے،کوئی آپ سے مشورہ طلب کرتا تو بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی فرماتے۔

      میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبتِ بابرکت سے 15سال تک مستفیض ہوا اور یہ میری زندگی کے بہترین سال تھے۔اس عرصے میں آپ نے ایک دن کے لئے بھی اپنے فیوض وبرکات کو مجھ سے منقطع نہ فرمایا یہاں تک کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ آپ کے یہاں مجھ سے زیادہ خاص مرتبہ کسی کا نہیں ہے ،اپنے تمام ہم نشینوں کے ساتھ آپ کا یہی رویہ ہوتا


 

 تھا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قیامت کے دن ان کے چہرے کو روشن فرمائے اور اپنے فضل وکرم سے انہیں ان کی منزل تک پہنچائے۔

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مالکی مذہب کے فقیہ اور بہت بڑے امام تھے،آپ کے زمانے میں آپ کی کوئی نظیر اور مثال نہیں تھی۔علمِ حقیقت سےمتعلق بھی آپ کے کئی اقوال ہیں ،ہم نے آپ کے متعددمکاشفات اور احوال کا مشاہدہ کیا ہے، اگر میں آپ کے تمام فضائل ومناقب ذکر کرنا چاہوں تو اس  کتاب میں اس کی گنجائش نہیں ہے لیکن میں صرف اتنا  کہوں گا کہ آپ اپنے زمانے کی یگانہ شخصیت تھے۔ آپ پر سلامتی ہو۔

      آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے60سال سے کچھ زائد عمر پائی،آپ کے زمانے میں لوگ اچھے حال میں عمدہ زندگی گزارتے تھے۔آپ کو بہت سے امراض اور بیماریاں لاحق تھیں ، حیاتِ ظاہری کے آخری دنوں میں آپ شدید کمزوری میں گرفتار ہوئے  جو تقریباً ایک سال تک رہی ،پھر ماہِ ذوالحجۃ الحرام کے پہلے عشرے میں مرض نے شدت اختیار کی،جب گیارہویں رات آئی تو بیماری کی شدت میں مزید اضافہ ہوا اور آپ قریب المرگ ہوگئے،اس رات  کے تہائی حصے تک حالتِ نزع طاری رہی اور پھر آپ نے شبِ جمعہ 11ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرَام ۸۲۷ھ کو مبارک حالت میں انتقال فرمایا۔

      جب لوگوں کو آپ کے انتقال کی خبر پہنچی تو یہ مصیبت ان پر بہت گراں گزری اور تمام شہروں یہاں تک کہ دشمنانِ اسلام عیسائیوں وغیرہ کے یہاں بھی رونے دھونے اور افسوس کا سلسلہ ہوا ،لوگ آپ کے فراق پر روتے اور افسوس کا اظہار کرتے تھے،بھلا ایسا کیوں نہ ہو کہ آپ اپنے زمانے کے امام اور بہت بڑے عالِم تھے۔شاعر کا یہ قول آپ پر صادق آتا ہے:

حَلَفَ الزَّمَانُ لَیَاْتِیَنَّ بِمِثْلِہٖ

 

حَنَثَتْ یَمِیْنُکَ یَا زَمَانُ فَکَفِّر

      ترجمہ:زمانے نے قسم کھائی کہ وہ ان کی مثل ضرور لائے گا۔اے زمانے!تیری قسم ٹوٹ چکی ہے،اس کا کفارہ ادا کر۔

       اللہ عَزَّ  وَجَلَّان پر رحمت ورضوان کی بارش برسائے اور ہمیں دین اور دنیا وآخرت میں ان کی برکات سے مالا مال فرمائے۔

      اب لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے غسل وکفن کے معاملات میں مشغول ہوئے،میں بھی غسل دینے والوں میں شامل تھا لیکن آپ کے انتقال کی پریشانی کے باعث میرا دماغ میرے ساتھ نہیں تھا،بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے لئے شفیق والد ،نیکوکار محسن اور میرے محبوب  تھے۔جب غسل کا مرحلہ مکمل ہوا تو بڑے بڑے قاضی، وزیرمشیر اور حاکم آئے اور آپ کے مبارک جنازے کو اپنے کندھوں پر اُٹھاکر جامع مسجد کی طرف جانے لگے۔ لوگوں کی کثیر تعداد کے باعث گلیاں اور راستے تنگ پڑگئے اور جامع مسجد اپنی وسعت کے باوجود چھوٹی پڑگئی۔اس  دن سے زیادہ


 

 نہ تو کسی جنازے میں شرکا کی کثرت نظر آئی اور نہ ہی لوگوں کو کسی کے لئے اتنا زیادہ روتا ہوا دیکھا گیا،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے زمانے کے قطب تھے۔

      حضرت سیِّدُنا امام احمدبن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:ہمارے اور ان کے (یعنی بادشاہوں ، مالداروں کے) درمیان جنازے کا فرق ہے ۔اس سے آپ کی مراد لوگوں کا جمع ہونا ہے(کہ بادشاہوں اور دنیا داروں کے جنازے میں اتنے لوگ جمع نہیں ہوتے جتنے اللہ والوں کے لئے  جمع ہوتے ہیں )۔

      جامع مسجد پہنچ کر آپ کے مبارک جنازے کو کندھوں سے نیچے رکھا گیا اور آپ کے شیخ،عارف باللہ حضرت سیِّدُنا سلیمان دواخلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے آگے بڑھ کر نمازِ جنازہ پڑھائی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سَنْدَفا کے مقام پر جو خانقاہ تعمیرکروائی تھی اس میں جمعۃ المبارک کے دن آپ کو آپ کے والدِ ماجد مفتیٔ مسلمین سراج الدین حضرت علامہ امام ابوحفص عمر طرینی مالکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پہلو میں  دفنایا گیا۔

               اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں ان کی برکات سے نفع پہنچائے،جنت کو ان کا ٹھکانابنائے،ہمارا اور ان کا حشر اگلوں اور پچھلوں کے سردار، سِلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے اور سب مسلمانوں سے افضل حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گروہ میں فرمائے۔ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اپنے لئے توفیق وامداد کا سوال کرتے ہیں اور یہ التجاکرتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے بھائی حضرت سیِّدُنا شیخ شمس الدین محمد طرینی کی طویل عمر سے فائدہ پہنچائے۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب نمبر31:                                           فضائلِ صالحین اورکراماتِ اولیا

      اس بات كو جان لو کہ اوليائے کرام کی کرامتوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور ان کے فضائل ومناقب اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کرتے ہیں کہ روزِ قیامت ہمارا حشر رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گروہ میں ان اولیائے کرام کے ساتھ فرمائے،بے شک وہ اس بات پر قادر ہےاوروہی دعاؤں کو قبول کرنے والا  ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے۔

گُدڑی کا لعل:

      حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کا بیان ہے:ایک دفعہ کافی عرصے تک بصرہ میں بارش نہ ہوئی،ہم


 

لوگ کئی مرتبہ بارش کی دعا کرنے کے لئے نکلے لیکن بارش کے آثار ظاہر نہ ہوئے۔پھر میں ، حضرت عطاء سُلمی،حضرت ثابت بنانی،حضرت یحییٰ بکاء،حضرت محمد بن واسع،حضرت ابومحمد سختیانی،حضرت حبیب فارسی،حضرت حسان بن ثابت بن ابی سنان،حضرت عتبہ غلام اورحضرت صالح مُزنیرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی بارش کی دعا کرنے نکلے ، جب ہم بصرہ کی عید گاہ میں پہنچے تو مدرسے کے بچے بھی ہمارے ساتھ دعا میں شرکت کے لئے آگئے ۔ ہم سب نے نمازِ استسقاء ادا کرکے دعا مانگی لیکن قبولیتِ دعا کے اثرات ظاہر نہ ہوئے یہاں کہ نصف النہار کا وقت ہوگیا، لوگ واپس چلے گئے، صرف میں اور حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی عید گاہ میں باقی رہ گئے۔ جب رات کا وقت ہوا تو میں نے ایک پتلی پنڈلیوں والے خوبروسیاہ فام غلام کو دیکھا جس نے اونی جبہ پہن رکھا تھا،میں نے اندازہ لگایا تو  اس کا لباس دو درہم کا تھا۔وہ پانی لے کر آیا ،وضو کیا، محراب کے پاس آکر مختصردو رکعتیں ادا کیں ،پھرآسمان کی طرف نظر اٹھائی اور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوا:اے میرے معبود!اے میرے آقا ومولیٰ!جس میں تیرا کوئی نقصان نہیں اُس معاملے میں تو کب تک اپنے بندوں کو خالی لوٹاتا رہے گا؟کیا تیرے پاس  نعمتیں ختم ہوگئیں یا تیرے خزانے خالی ہوگئے ؟میں تجھے اُس محبت کی قسم دیتا ہوں جو تو مجھ سے فرماتا ہے !ابھی ہم پر بارش برسا۔

      حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں :ابھی اس کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ آسمان پر بادل چھا گئے اور ایسی بارش شروع ہوگئی جیسےمَشکوں کا منہ کھل گیا ہو۔میں اس غلام کے سامنے گیا اور اس سے کہا:اے سیاہ فام شخص!کیا تمہیں ایسی بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟اس نے پوچھا:میں نے کیا کہا ہے؟میں نے کہا:تم کہہ رہے تھے کہ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تجھے مجھ سے جو محبت ہے اس کے طفیل بارش نازل فرما، تمہیں کیا پتا کہ وہ تم سے محبت فرماتا ہے؟یہ سن کر اس نے کہا:اے وہ شخص جو اپنے نفس  کی وجہ سے غفلت کا شکار ہے!مجھ سے الگ ہوجاؤ،كيا تم ديكھتے نہیں کہ اس نے صرف مجھ سے اپنی محبت کے باعث یہ معاملہ ظاہر فرمایا ہے۔ اس کی مجھ سے محبت میری قدر ومنزلت کے مطابق جبکہ میری اُس سے محبت اس کی قدر ومنزلت کے مطابق ہے ۔میں نے اس سے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے!کچھ دیر ٹھہر جائیے۔اس نے جواب دیا:میں ایک غلام ہوں اور مجھ پر میرے مجازی مالک کی اطاعت فرض ہے۔اس کے بعد وہ واپس چلا گیا اور ہم دور سے اس کا پیچھا کرتے رہے  یہاں تک کہ وہ ایک غلام بیچنے والے کے گھر میں داخل  ہوگیا۔

     صبح ہوئی تو ہم اس غلام فروش کے پاس گئے اور اس سے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے!کیا تمہارے پاس کوئی ایسا


 

غلام ہے جسےہماری خدمت کےلئے ہمیں بیچ دو۔اس نے جواب دیا:جی ہاں !میرے پاس بیچنے کےلئے100غلام ہیں ۔ اس کے بعد اس نے ایک ایک  کرکےمختلف غلاموں کو ہمارے سامنے پیش کرنا شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں 70غلام دکھادیئے لیکن ہمارا مطلوب ان میں شامل نہیں تھا۔اس نے کہا:تم لوگ میرے پاس کسی اوروقت آنا۔جب ہم اس کے گھر سے لوٹنےلگےتودیکھا کہ  گھر کے پچھلے حصے میں ایک  شکستہ حجرے میں وہ سیاہ فام غلام کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔اسے دیکھ کر میں نے کہا:ربِ کعبہ کی قسم! یہی میرا محبوب ہے۔میں دوبارہ اس غلام فروش کے پاس آیااوراس سے کہا:مجھے یہ غلام چاہیے۔اس نے کہا:اے ابویحییٰ!اس غلام کادن میں خلوت وتنہائی کےسواجبکہ رات میں رونےدھونےکےعلاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا:میں نے تم سے یہی غلام لینا ہے،تمہیں اس کی قیمت  بھی ملے گی اور اس کی طرف سے جو کچھ لازم ہے وہ بھی۔غلام فروش نے اسے بلایا تو وہ اونگھتا ہواآیا۔اس نے کہا:جتنی رقم کے بدلے چاہو اِسے لے لو لیکن میں اس کے تمام عیوب سے بری الذمہ ہوں گا۔میں نے اس غلام کو20 دینار کےعوض خریدلیا اوراس سے پوچھا:تمہارا نام کیا ہے؟اس نے جواب دیا:میمون۔میں نے گھر جانے کے لئے اس کا ہاتھ پکڑا تو اس نے میری طرف متوجہ ہوکر پوچھا :اے میرے مجازی مالک!آپ نے مجھے کیوں خریدا ہے؟ میں مخلوق کی خدمت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔میں نےکہا:اے میرےآقا!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم !میں نے آپ کو اس لئے خریدا ہے تاکہ میں خود آپ کی خدمت کروں ۔اس  نے پوچھا: وہ کیوں ؟میں نے کہا:کیا آپ آج صبح عید گاہ میں موجودنہیں تھے؟اس نے کہا :جی ہاں !کیا آپ اس بات پر مطلع ہوگئے؟میں نے جواب دیا:ہاں !میں وہی ہوں جس نے صبح عید گاہ میں آپ سے کلام کیاتھا۔

      حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں :پھر وہ میرے ساتھ چلنےلگایہاں تک کہ جب مسجد کے پاس پہنچے تووہ مجھ سے اجازت لے کر مسجد میں داخل ہوا،مختصردو رکعت نمازاداکی اورپھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوا:میرےآقاومولیٰ اورمیرےمعبود!میرےاورتیرے درمیان جو راز تھا اس پر تیرے علاوہ کوئی اور بھی مطلع ہوچکا ہے،بھلا اب میری زندگی پُرسکون کیسے ہوسکتی ہے۔میں تجھے تیری قسم دیتا ہوں کہ اسی وقت میری روح قبض فرمالے۔اتنا کہہ کر وہ سجدے میں چلاگیا۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا،جب اس نےسجدے سے سر نہ اٹھایا تو میں اس کے پاس گیا اوراسےہلاکر دیکھا تو اس کی روح قفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرچکی تھی۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس پر رحمت ہو۔میں نےاس کے ہاتھ پاؤں  سیدھےکئےتو وہ مسکرارہاتھا،اس کی سیاہ رنگت پر سفیدی غالب آچکی تھی اوراس کا


 

چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح جگ مگ کررہا تھا۔اتنے میں ایک نوجوان مسجد کے دروازے سے داخل ہوا اور اس نے کہا:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمارے بھائی میمون کے معاملے میں ہمارے اور تمہارے اجروثواب کوزیادہ فرمائے،یہ کفن لے لو۔اس نے مجھے کفن کےلئے دو ایسے کپڑے دیئے کہ میں نے کبھی ایسا کپڑا نہ دیکھا تھا۔پھر ہم نے اسےغسل دیا ،ان کپڑوں کا کفن دیا اورتدفین کردی۔

      حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکابیان ہےکہ آج تک ہم ان کی قبرپرجاکربارش کی دعائیں کرتے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اپنی حاجات کا سوال کرتے ہیں ۔

ولی کی تحریر کی برکت:

      حضرت سيدناحُذَیْفَہ مَرعَشِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی كافی عرصے تک حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رہ کر ان کی خدمت کرتے رہے۔کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ان کی صحبت میں رہتے ہوئے جو سب سے عجیب بات دیکھی ہو وہ بیان فرمائیے۔ارشادفرمایا:ہم سفرِ مکہ میں کئی دن تک بھوکے رہے، جب کوفہ پہنچے  توایک ویران مسجد میں ٹھہر گئے۔حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا:اے حذیفہ!میں تم پر بھوک کا اثر دیکھ رہا ہوں ۔میں نے عرض کیا:جی ہاں !ایسا ہی ہے۔ ارشاد فرمایا:مجھے دوات اور کاغذ لا کر دو۔میں نے دونوں چیزیں حاضر کیں تو آپ نے کاغذ پر تحریر فرمایا:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا،ہر حال میں تو ہی مقصود ہے اور ہر بات میں تیری ہی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔پھر درج ذیل اشعار تحریر فرمائے:

اَنَا حَامِدٌ اَنَا شاكرٌ اَنَا ذاكرٌ

 

اَنَا جائعٌ اَنَا ضَائِعٌ اَنَا عَارِى

هِيَ سِتةٌ واَنَا الضَّمِيْنُ لِنِصْفِہَا

 

فَكُنِ الضَّمِيْنَ لِنِصْفِهَا يَا بَارِى

مَدْحِيْ لِغَيْرِكَ لَهَبُ نَارٍ خُضْتُهَا

 

فَاَجِرْ عُبَيْدَكَ مِنْ لَهِيْبِ النَّار

      ترجمہ:(۱)میں تیری حمد کرنے والا،شکر بجالانے والا اور ذکر کرنے والا ہوں ،میں بھوکا،پیاسااور بے لباس ہوں ۔ (۲)اے اللہ!یہ چھ چیزیں ہیں جن میں سےتین  کامیں ضامن ہوں ،باقی تین کو تو اپنے ذمۂ کرم پر لے لے۔ (۳)میرا تیرے غیر کی تعریف کرنا آگ کی لپٹ میں داخل ہونے کی طرح ہے ۔ اے اللہ !اپنے حقیر بندے کو آگ کی لپٹ سے محفوظ فرما۔

      پھر مجھے وہ کاغذ دیتے ہوئے فرمایا:باہر جاؤ، تمہارے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے سوا کسی کا خیال نہ آئے اور جو شخص سب


 

 سے پہلے ملے اسے یہ کاغذ دے دینا۔میں باہر نکلا تو سب سے پہلے مجھے ایک خچر سوا رملا،میں نے وہ کاغذ اسے پکڑا دیا۔اس نے وہ کاغذ لے کر پڑھا تو رونے لگااور پوچھا:یہ رُقعہ لکھنے والےکا کیا حال ہے؟میں نے جواب دیا:وہ فلاں مسجد میں ہیں ۔اس شخص نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چھ سو درہم تھے۔میں وہ تھیلی لے کر جانے لگا اور ایک شخص سے اس خچر سوار کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتا یا:یہ ایک عیسائی ہے۔ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا ماجرا عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:ان دراہم کو ہاتھ نہ لگانا،ان کا دینے والا ابھی آئے گا۔کچھ دیر بعد وہ عیسائی شخص اپنے خچر پر سوار وہاں پہنچا،مسجد کے دروازے پر خچر سے اتر کر مسجد میں داخل ہوا،حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر جھک کر ان کے سر اور ہاتھوں کو چومنے لگا اور اَشْهَدُ اَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهپڑھ کر مسلمان ہوگیا۔حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوشی ومسرت کے باعث رونے لگے اور ارشاد فرمایا:تمام تعریفیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے تمہیں اسلام  اور سیِّدعالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت کی طرف ہدایت عطا فرمائی۔

گویّے کو ولایت کی دولت مل گئی :

      ایک شخص جو کہ مصر میں موجود دریائے نیل میں کشتی چلاتا تھا اس کا بیان ہے کہ میں دریائے نیل کے مغربی کنارے سے مشرقی کنارے اور مشرقی کنارےسے مغربی کنارے کی طرف سفر کرتا رہتا تھا۔ایک دن میں اپنی کشتی میں موجود تھاکہ ایک روشن چہرے والے پُرہیبت بزرگ نے میرے پاس آکر مجھے سلام کیا: میں نے سلام کا جواب دیا تو انہوں نے ارشادفرمایا:کیا تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے مجھے دریا کے مغربی کنارے تک لے جاؤ گے؟میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ کشتی میں سوار ہوگئے اور میں انہیں لے کر جانبِ مغرب روانہ ہوگیا۔ان بزرگ نے صوفیوں والا لباس پہن رکھا تھا جبکہ ان کے ہاتھوں میں ایک پیالہ اور لاٹھی تھی۔ جب وہ کشتی سے نکلنے لگے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا:میں ایک امانت تمہارے حوالے کرنا چاہتا ہوں ۔میں نے پوچھا:وہ کیا؟ارشاد فرمایا:کل جب ظہر کا وقت ہوتو تم مجھے اس درخت کے پاس مردہ پاؤ گے،عنقریب تم اس بات کو بھول جاؤ گے،جب تمہیں یاد آئے تو میرے پاس آکر مجھے غسل دینا اور وہ کفن پہنانا جو میرے سر کے پاس موجود ہوگا،پھر نمازِ جنازہ پڑھ کر مجھے اس درخت کے پاس دفنادینا۔میرا یہ لباس ،پیالہ اور لاٹھی اپنے پاس رکھ لینا ،ایک شخص تمہارے پاس آکر تم سے یہ چیزیں مانگے گا ۔اِنہیں اُس کے حوالے کردینا اور اسے حقیر نہ سمجھنا۔


 

ملاح کا بیان ہے کہ اس کے بعد وہ بزرگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور میں ان کی باتوں پر حیران ہوگیا۔وہ رات گزارنے کے بعد جب صبح ہوئی تو میں اس وقت کا انتظار کرنے لگا جس کا ان بزرگ نے فرمایا تھا۔جب ظہر کا وقت آیا تو میں اس بات کو بھول گیا اور پھر مجھے عصر کے قریب یاد آیا۔میں جلدی جلدی وہاں پہنچا تو ان بزرگ کو درخت کے پاس مردہ حالت میں پایا ،ان کے پاس ایک نیا کفن موجود تھا جس میں سے مشک کی خوشبو آرہی تھی۔میں نے انہیں غسل دے کر وہ کفن پہنادیا،جب میں غسل دےکر فارغ ہوا تو کافی تعداد میں لوگ وہاں آپہنچے جن میں سے میں کسی ایک کو بھی نہیں جانتا تھا۔ہم سب نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں اس درخت کے پاس دفن کردیا جیسا کہ انہوں نے مجھے ہدایت کی تھی۔اس کے بعد میں دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر واپس آگیا اور رات کو سوگیا۔جب صبح ہوئی تو ایک نوجوان میرے پاس آیا۔میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تو وہ گانے بجانے والوں  سے تعلق رکھتا تھا اور ان کی خدمت کرتا تھا۔اس نے باریک لباس پہن رکھا تھا،دونوں ہتھیلیوں پر مہندی لگی ہوئی تھی اور موسیقی کا آلہ اس کی بغل میں موجود تھا۔اس نے مجھے سلام کیا،میں نے سلام کا جواب دیا تو اس نے کہا:اے ملاح !تم فلاں بن فلاں ہو؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو اس نے کہا:تمہارے پا س جو امانت ہے وہ میرے حوالے کردو۔میں نے کہا: تمہیں اس کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟اس نے کہا :اس کے بارے میں مت پوچھو۔لیکن میں نے  اصرار کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں اس بارے میں بتانا ہی پڑے گا۔نوجوان نے کہا:میں اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ گزشتہ رات میں فلاں تاجر کی شادی میں موجود تھا جہاں ہم ساری رات ناچتے گاتے رہے یہاں تک کہ اذانِ فجر ہوئی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے اس کے ذکر میں مشغول ہوگئے۔میں آرام کرنے کے لئے سویا تو ایک شخص نے آکر مجھے جگادیا اور کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے فلاں ولی کی روح قبض فرمالی ہے اور اس کی جگہ پر تمہیں مقرر فرمادیا ہے۔تم فلاں بن فلاں کشتی بان کے پاس جاؤ کیونکہ اس مرحوم ولیُاللہ نے اس کے پاس تمہارے لئے فلاں فلاں امانت رکھوائی ہے۔

      ملاح کا بیان ہے کہ میں نے وہ چیزیں اس نوجوان کے حوالے کیں تو اس نے اپنے باریک کپڑے اُتار کر میری کشتی میں پھینک دیے اور مجھ سے کہا:یہ کپڑے جس پر چاہو صدقہ کردینا۔پھر اس نے مجھ سے  بزرگ کا دیا ہوا پیالہ اور لاٹھی لی،ان کا لباس پہنا اور مجھے اس حال میں چھوڑ کر چلا گیا کہ میں اس سعادت سے محرومی پر رو رہا تھا۔رات تک میں روتا رہا، جب رات کوسویاتوخواب میں دیدارِباری تعالیٰ سےمشرف ہواتوخداوندِکریم نےارشادفرمایا:اےمیرےبندے!کیاتجھ پریہ بات


 

گراں گزری ہے کہ میں نے اپنے ایک گناہ گار بندے پر فضل وکرم کرتے ہوئے اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ تو میرا فضل ہے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہوں عطا فرماتا ہوں اور میں بہت زیادہ فضل فرمانے والا ہوں ۔

آخری خواہش:

      حضرت سیِّدُناابواسحاق صَعْلُوکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ایک سال میں حج کے لئے روانہ ہوا۔ ایک روز میں جنگل میں بھٹک رہا تھا،رات کا وقت ہوچکا تھا اور چاندنی رات تھی کہ میں نے ایک کمزور شخص کی آواز سنی:اے ابواسحاق!میں صبح سے آپ کا انتظار کررہا ہوں ۔میں نے قریب جاکر دیکھا تو وہ ایک کمزور جسم والا نوجوان تھا جو موت کے قریب تھا اور اس کے پاس بہت سے پھول رکھے ہوئے تھے،ان میں سے کچھ پھولوں کو میں پہچانتا تھا اور کچھ کو نہیں ۔میں نے پوچھا:تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟اس نے جواب دیا:میں شمشاط نامی شہر سے آیا ہوں ،وہاں میں عیش وعزت کی زندگی گزار رہا تھا کہ میرے نفس نے گوشہ نشینی اور غریب الوطنی کا مطالبہ کیا اس لئے میں وہاں سے یہاں آگیا اور اب میں موت کے قریب ہوں ،میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کی تھی کہ اپنے اولیا میں سے کسی ولی کو میرے پاس بھیج دے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ آپ ہیں ۔میں نے پوچھا:کیا آپ کی کوئی حاجت ہے؟نوجوان نے جواب دیا:ہاں ،میری ایک والدہ اور بہن بھائی ہیں ۔میں نے سوال کیا:کیا کبھی آپ کو ان سے ملنے کا اشتیاق ہوا؟اس نے کہا: پہلے کبھی نہیں ہوا لیکن آج مجھےان کی خوشبو سونگھنے کاشوق ہوا،میں نے ان کے پا س جانے کا ارادہ کیا تو جنگل کے درندے اور پرندے میری وحشت وغربت دور کرنے میرے پاس آپہنچے ،آکر میرے ساتھ رونے لگےاور میرے پاس یہ پھول لے آئے جو آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔

      حضرت سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق کا بیان ہے کہ میں اس نوجوان کے ساتھ موجود تھا اور میرا دل اس کے لئے کُڑ ھ رہا تھا کہ اتنے میں ایک بہت بڑا سانپ  اپنے منہ میں نرگس کا بڑا پھول لئے وہاں پہنچا اور بولا: اللہکے ولی کو چھوڑ دو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے اولیا کے لئے غیرت فرماتا ہے۔یہ سن کر مجھ پر اور اس نوجوان پر غشی طاری ہوگئی،جب میری آنکھ کھلی تو اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔

      جب میں حج کرنے کے بعد شمشاط شہر میں داخل ہوا تو ایک عورت جس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک برتن تھاوہ میرے پاس آئی،میں نے اس عورت سے زیادہ جنگل والے نوجوان سے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ جب اس عورت نے مجھے دیکھا تو آواز دی:اے ابواسحاق!اس غریب الوطن نوجوان کا کیا ہوا جو وطن سے دور مرگیا؟میں اتنے عرصے سے تمہاری منتظر ہوں ۔


 

      میں نے نوجوان کا حال اس کے سامنے بیان کرنا شروع کیا،جب میں نے نوجوان کا یہ قول بیان کیا کہ آج مجھے اپنے گھر والوں کی خوشبو سونگھنے کا اشتیاق ہوا ہے تو یہ سن کر اس عورت نے ایک چیخ مارکر کہا: بخدا! اسے خوشبو پہنچی ہے۔اس کے بعد اس نے ایک گھٹی ہوئی سانس لی اور اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔عورت کے انتقال کے بعد کئی  ہم عمر لڑکیاں جنہوں نے اپنے جسموں کو چادروں سے لپیٹ رکھا تھا وہاں آگئیں اور انہوں نے پردے میں رہتے ہوئے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا۔

يَا نَسِيْمًا هَبَّ مِنْ وَادِيِ قُبَا                                                                                       خَبِّرِيْنِيْ كَيْفَ حَالُ الْغُرَبَا

كَمْ سَاَلْتُ الدَّهْرَ اَنْ يَّجْمَعَنَا                                                                                     مِثْلُ مَا كُنَّا عَلَيْهِ فَاَبٰی

      ترجمہ:اےہوا!وادیٔ قبا سے آکر مجھے خبر دو کہ غریب الوطنوں کا کیا حال ہے۔میں نے زمانے سے بہت کہا کہ ہمیں پہلے کی طرح جمع کردے لیکن اس نے انکار کردیا۔

سچی توبہ کی برکت:

      منقول ہے کہ دینار عیار نام کا ایک شخص بہت گناہ گار تھا،اس کی ماں ایک نیک عورت تھی جو اسے نصیحت کرتی رہتی تھی لیکن وہ باز نہ آتا تھا۔ایک دن وہ قبروں کے پاس سے گزرا تو وہاں سے ایک ہڈی اٹھائی جو اس کے ہاتھ میں چبھ گئی۔اس نے دل میں سوچا اور اپنے آپ سے کہا:اے دینار!تیری خرابی ہو!ذرا تصور کر کہ اس مردے کی  جگہ تو ہے ،تیری ہڈیاں اسی طرح  ریزہ ریزہ ہوچکیں جبکہ جسم مٹی میں مل چکا ہے۔یہ سوچ کر اسے اپنے گناہوں پر ندامت ہوئی،توبہ کا پختہ ارادہ کیا اور آسمان کی طرف سر اٹھا کر عرض گزار ہوا: اے میرے مالک ومولیٰ!میں نے اپنے معاملات تیرے سپر د کردیے ہیں ،تو مجھے قبول فرمالے اور مجھ پر رحم فرما۔ پھر وہ ٹوٹے ہوئے دل اور چہرے کے بدلے ہوئے رنگ کے ساتھ اپنی ماں کے پاس پہنچا اور اس سے کہنے لگا: اے میری ماں !جب کسی بھاگے ہوئے غلام کو اس کا مالک پکڑلے تو پھر اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ ماں نے جواب دیا:اسے کُھردرا لبا س پہنایا جاتا ، معمولی کھاناکھلایا جاتا اور ہاتھ پیر باندھ دیے جاتے ہیں ۔ یہ سن کر اس نے ماں سے کہا:میں اون کا ایک جبہ ،تھوڑے سے جو اور بیڑیاں چاہتا ہوں ،میرے ساتھ وہ معاملہ کرو جو بھاگے ہوئے غلام کے ساتھ کیا جاتا ہے ،شاید میرا مالک ومولیٰ میری ذلت ورسوائی کو دیکھ کر مجھ پر رحم فرمائے۔ماں نے اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو وہ چاہتا تھا۔

      جب رات کا وقت ہوتا تو وہ گریہ وزاری اور آہ وبکا شروع کردیتا اور اپنے آپ سے کہتا:اے دینار!تیری خرابی ہو!کیا


 

تجھ میں دوزخ کی آگ کو برداشت کرنے کی طاقت ہے؟تو نے اپنے آپ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غضب کے لئے کیسے پیش کردیا؟گریہ وزاری کا یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا ۔اس کی ماں نے کہا:اے میرے بیٹے! اپنی جان پر نرمی کرو۔دینار نے کہا:مجھے تھوڑی مدت تک تھکاوٹ برداشت کرنے دو تاکہ میں طویل عرصے تک آرام پاسکوں ۔اے میری ماں !مجھے کل قیامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سامنے طویل عرصے تک کھڑا ہونا ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد جنت ٹھکانہ ہوگا یا دوزخ میں جانا ہوگا۔ماں نے دوبارہ کہا:اے میرے بیٹے!اپنی جان کو تھوڑی راحت دو۔دینار نے جواب دیا:میں راحت کا طلب گار نہیں ہوں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ روزِ قیامت آپ کو دیگر لوگوں کے ساتھ سوئے جنت لے جایا جارہا ہو اور مجھے جہنمیوں کے ساتھ دوزخ کی طرف گھسیٹا جارہا ہو۔یہ سن کر ماں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا  اور وہ گریہ وزاری،عبادت اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتا۔ایک رات اس نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:

فَوَرَبِّكَ لَنَسْــٴَـلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۹۲)عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۳) (پ۱۴،الحجر:۹۲، ۹۳)

ترجمۂ کنز الایمان: تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے جو کچھ وہ کرتے تھے۔

      یہ آیت پڑھ کر اُس نے اِس میں غور وتفکر کیا اور رونے لگا یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہوگئی۔جب دینار کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے آواز دی تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ماں نے کہا:اے میرے پیارے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک!اب ہماری ملاقات کہاں ہوگی؟دینار نے کمزور آواز سے جواب دیا:اے میری ماں !اگر آپ مجھے میدانِ قیامت میں نہ پائیں تو داروغَۂ جہنم حضرت سیِّدُنا مالک عَلَیْہِ السَّلَام سے میرے بارے میں پوچھ لینا،اس کے بعد اس نے ایک چیخ ماری اور انتقا ل کرگیا(اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت ہو)۔اس  کی ماں نے اسے غسل وکفن دیا اور گھر سے باہر نکل کر آواز دی:اے لوگو! اس شخص کا جنازہ پڑھنے کے لئے آؤ جو دوزخ کے خوف سے ہلاک ہوگیا۔ یہ سن کر ہر طرف سے لوگوں کا تانتا بندھ گیا اور اس دن سے بڑھ کر کسی کے جنازے میں لوگوں کی کثرت اور گریہ وزاری نہیں دیکھی گئی۔

      جب لوگوں نے دینار کو دفن کردیا تو اس کے ایک دوست نے اسی رات خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں سبز حُلّہ پہنے ہوئے اِترا کر چل رہا ہے اور یہ آیتِ مبارکہ پڑھ رہا ہے:

فَوَرَبِّكَ لَنَسْــٴَـلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۹۲)عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۳) (پ۱۴،الحجر:۹۲، ۹۳)

ترجمۂ کنز الایمان: تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے جو کچھ وہ کرتے تھے۔


 

نیزکہہ رہاہےکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عزت وجلال کی قسم!اس نےمجھ سےسوال کیا،رحم وکرم فرمایا،میری مغفرت فرمادی اور خطاؤں سے درگزر فرمایا۔میری والدہ کو اس بات کی خبر دے دو۔

کفن کی واپسی:

      حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ایک سائل مسجد میں آیا اور لوگوں سے سوال کیا کہ اسے روٹی کا ایک ٹکڑا کھلادیں لیکن انہوں نے نہ کھلایا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  موت کے فرشتے کو حکم دیا کہ اس کی روح قبض کرلو کیونکہ یہ بھوکا ہے،چنانچہ فرشتے نےاس فقیر کی روح قبض کرلی۔جب مؤذن مسجد میں آیا تو اس فقیر کو مردہ حالت میں پایا،اس نے لوگوں کو خبر دی اور لوگوں نے چندہ کرکے اس کی تدفین کا انتظام کیا۔ مؤذن تدفین کے بعدمسجد میں آیا تو اس نے دیکھا کہ فقیر کو دیا گیا کفن محراب میں موجود ہے اور اس پر لکھا ہوا ہے کہ یہ کفن تم لوگوں کو واپس کیا جاتا ہے،تم لوگ بہت بُری قوم ہو۔ایک فقیر نے تم سے کھانا مانگا، تم لوگوں نے نہ کھلایا یہاں تک کہ وہ بھوکا مرگیا۔جو شخص ہمارے احباب میں شامل ہو ہم اسے غیروں کے حوالے نہیں کیا کرتے۔

اولیا کا گھرانہ:

      حضرت سیِّدُنا ابوعلی مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  کابیان ہے کہ میرے ایک بوڑھے پڑوسی مردوں کو غسل دیا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ آپ نے مردوں کے حوالے سے جو سب سے عجیب بات دیکھی ہو وہ بیان فرمائیے۔انہوں نے بتایا:ایک دن میرے پاس ایک خوبصورت چہرے والا اور عمدہ لباس میں ملبوس نوجوان آیا اور کہنے لگا:کیا آپ ہماری ایک میت کو غسل دیں گے۔میں نےحامی بھر لی اور اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا یہاں تک کہ اس نے مجھے ایک گھر کے دروازے پر کھڑا کیا اور خود اندر داخل ہوگیا ۔کچھ دیر بعد ایک لڑکی جس کی شکل اس لڑکے سے بہت ملتی جلتی تھی وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر نکلی اور مجھ سے پوچھا: کیا آپ غسل دینے والے ہیں ؟میں نے کہا :ہاں ۔اس نے کہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نام لے کر داخل ہو جائیے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیوں کی توفیق صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ہے جو بہت بلند وبالا اور عظمت والا ہے۔

      جب میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ جو نوجوان مجھے بلاکر لایا تھا اس پر موت کی سختیاں طاری ہیں ،اس کی روح گلے تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں ۔اس کا کفن اور خوشبو سر کے پاس رکھی ہوئی تھی،ابھی میں اس کے پاس بیٹھا بھی نہ تھا کہ اس کی روح قبض ہوگئی۔میں نے کہا:سُبْحٰنَ اللہ!یہ نوجوان تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اولیا میں


 

سے ایک ولی ہے کہ اس نے اپنی وفات کا وقت جان لیا،پھر میں نے لرزتے کانپتے ہاتھوں سے اسے غسل دیا۔

      جب میں نے اسے کفن پہنادیا تو اس کی بہن نے آکر اسے بوسہ دیا اور کہنے لگی:عنقریب  میں بھی تمہارے پاس آنے والی ہوں ۔جب میں واپس آنے لگا تو اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگی:اگرآپ کی بیوی بھی اچھی طرح غسلِ میت دینا جانتی ہے تو اسے میرے پاس بھیج دیں ۔اس کی یہ بات سن کر میں کانپ اُٹھا اور میں نے جان لیا کہ یہ بھی اپنے بھائی کی طرح وفات پانے والی ہے۔اس نوجوان کی تدفین سے فارغ ہوکر میں نے اپنی زوجہ کے پاس آکر اسے سارا واقعہ بتایا  اور اسے ساتھ لے کر لڑکی کے گھر پہنچ گیا۔اپنی زوجہ کو دروازے پر کھڑا کرکے میں نے اجازت طلب کی تو اس لڑکی نے اندر سے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نام لے کر اپنی زوجہ کو گھر کے اندر بھیج دیں ۔میری زوجہ گھر کے اندر گئی تو وہ لڑکی قبلہ رو لیٹی ہوئی تھی ،چند لمحوں کے بعد و ہ فوت ہوگئی۔میری زوجہ نے اسے غسل دیا اور میں نے اسے اس کے بھائی کے پاس دفن کردیا۔ ان دونوں پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت ہو۔

خوفِ خدا رکھنے والی  باندی:

      حضرت سیِّدُناسری سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :ایک رات میں جاگتا رہا اور مجھے رات بھر نیند نہ آئی۔ صبح ہوئی تو میں نے فجر کی نماز ادا کی اور پاگل خانے میں داخل ہوا جہاں میں نے ایک لونڈی کو دیکھا جس کے پاؤں میں بیڑی  اورگلے میں طوق تھا اور وہ یہ کہہ رہی تھی:

تَغُلُّ يَدَيَّ اِلٰی عُنُقِيْ                                                                                                         وَمَا خَانَتْ وَمَا سَرَقَتْ

وَبَيْنَ جَوَانِيْ كَبِدٌ                                                                                                                     اُحِسُّ بِهَا قَد احْتَرَقَتْ

      ترجمہ:میرے  ہاتھ گردن سے باندھے ہوئے ہیں حالانکہ ان ہاتھوں نے کوئی خیانت اور چوی نہیں کی۔میرے پہلو میں جو جگر ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ جل گیا ہے۔

       میں نےمنتظم سےکہا:اس لونڈی کوکیاہے؟کہا:دیوانی ہےہم نےاسےیہاں رکھاہواہےتاکہ ٹھیک ہوجائے۔ لونڈی نے جب منتظم کی بات سنی تو مسکرا کر  کہا:

مَعْشَرَ النَّاسِ مَا جَنَنْتُ وَلٰكِنْ                                                                    اَنَا سَكْرَانَةٌ وَقَلْبِيْ صَاحِي

لِمَ غَلَلْتُمْ يَدَيَّ وَلَمْ اٰتِ ذَنْبًا                                                                             غَيْرَ هَتْكِيْ فِيْ حُبِّهِ وَافْتِضَاحِي

اَنَا مَفْتُوْنَةٌ بِحُبِّ حَبِيْبٍ                                                                                          لَسْتُ اَبْغِيْ عَنْ بَابِهِ مِنْ بَرَاحِ

مَا عَلٰی مَنْ اَحَبَّ مَوْلَى الْمَوَاِلىْ                                                                        وَارْتَضَاهُ لِنَفْسِهِ مِنْ جُنَاحِ


 

      ترجمہ:(۱)…اےلوگو! میں نے کوئی جرم نہیں کیاہاں میں اس کے نشے میں مدہوش ہوں اور میرا دل چیخ رہا ہے۔(۲)کیوں تم لوگوں نے میرے ہاتھوں کو بے قصورباندھاہوا ہے ہاں میرا قصور یہی ہے کہ میں اس کی محبت میں خودرفتہ ہوں ۔(۳)میں اپنے محبوب کی محبت میں دیوانی ہوں اور میں اُس کے در سے بغاوت کرکے دور ہٹنے والی نہیں ۔(۴) جو آقاؤں کے آقا سے محبت کرتا ہےاوراسے اپنے لئے اختیا رکرتا ہے اُس پر کوئی گناہ نہیں ۔

      حضرت سیِّدُناسری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے جب اس کا کلام سنا تو خوب رویا۔لونڈی نے مجھے روتا دیکھا تو کہا:اے سری!یہ تمہارا رونا اس کی صفت سن کر ہے اس وقت کیا حال ہو اگر تم اس کو پہچان لو۔ابھی وہ مجھ سے گفتگو کررہی تھی کہ اس کا مالک آگیا جیسے ہی اُس نے مجھے دیکھا تو میری تعظیم کی۔میں نے اُس سےکہا:مجھ سے زیادہ یہ تعظیم کی مستحق ہےاورتم نے اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟مالک نے کہا:یہ خدمت نہیں کرتی،آہ وزاری کرتی اور ہمیشہ روتی رہتی ہے گویا اس کا بچہ گم ہوگیا ہو،نہ خود سوتی ہے اور نہ ہمیں سونے دیتی ہےجبکہ میں نےاسے گلوکارہ ہونے کی وجہ سے 20ہزار درہم میں خریدا تھا۔میں نے کہا: اس کی دیوانگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟کہا:ایک دن یہ عودلئے گانا گا رہی تھی دفعۃً عود توڑ کر کھڑی ہوگئی اور رونے چِلّانے لگی۔میں نے اس کو کسی سےمحبت کی تہمت لگائی لیکن جب میں نے تفتیش کی تو اس کی کوئی علامت ونشانی نہ پائی۔میں نے لونڈی سے پوچھا کیا ایسا ہی معاملہ ہے تو اس نے کچھ اشعار کہے:

خَاطَبَنِيَ الْوَعْظُ مِنْ جَنَانِيْ                                                                                          وَكَانَ وَعْظِيْ عَلٰی لِسَانِيْ

قَرَّبَنِيْ مِنْهُ بَعْدَ بُعْدٍ                                                                                                         وَخَصَّنِيَ اللهُ وَاصْطَفَانِيْ

اَجِبْتُ لَمَّا دُعِيْتُ طَوْعًا                                                                                                      مُلَبِّيًا لِلَّذِيْ دَعَانِيْ

وَخِفْتُ مِمَّا جَنَيْتُ قِدَمًا                                                                                               فَوَقَعَ الْحُبُّ بِالْاَمَانِیْ

      ترجمہ:(۱)… مجھے میرے دل کی نصیحت نے مخاطب کیا جبکہ میری نصیحت میری زبان پر تھی (۲)…اس قلبی نصیحت نے مجھے میرے ربّ سے قریب کیا اور میرے ربّ نے مجھے خاص کیا اور چن لیا۔(۳)…جب میں بلائی گئی تو میں بلانے والے کولَبَّیْککہتے ہوئے بخوشی حاضر ہوگئی۔(۴)…اور مجھے گزشتہ گناہوں پر خوف تھا مگر محبت نے خوف دفع کرکے آرزؤں میں ڈال دیا۔

      حضرت سیِّدُناسری سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :میں نےلونڈی کے مالک سے کہا:تم اس لونڈی کو چھوڑ دو میں


 

  اس کی قیمت دوں گا۔اُس نے ایک چیخ ماری اور کہا:اے سری! تم کہاں سے 20 ہزار درہم لاؤگے۔ میں نے اُس سے کہا:جلدی نہ کروتم یہیں ٹھہرو میں اس کی قیمت لاتا ہوں ۔میں وہاں سے لوٹا تو آنکھوں سے آنسو جاری اور دل غمگین تھااور بخدا!میرے پاس لونڈی کی قیمت کا ایک درہم بھی نہ تھا۔میں رات دیر تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں گِڑگِڑاکر دعا مانگتا رہا،ابھی میں دعا میں مصروف تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی، میں نے دروازہ کھولا توایک شخص چھ غلاموں کے ہمراہ اندر داخل ہوگیا جن کے ہاتھ میں 50ہزار درہم کے پانچ توڑے تھے۔اُس نے مجھ سے کہا:اے سری!کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟میں نے کہا: نہیں ۔ اُس نے کہا:میں احمد بن مثنی ہوں ۔میں سویا ہوا تھا کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی :اے احمد! درہموں سے بھری پانچ تھیلیاں سری کو دے آؤ۔میں یہ سن کر سجدہ شکر بجالایااور فجر طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگا اور نماز فجر کے بعدمیں احمدبن مثنی کاہاتھ پکڑکرپاگل خانےچلاگیاوہاں جیسےہی میری لونڈی کےمالک سےملاقات ہوئی تو وہ رونے لگا۔میں نے اُس سے کہا:گھبرانے کی ضرورت نہیں میں لونڈی کی قیمت لے آیا ہوں اور 10ہزار درہم تمہیں مزید دوں گا۔اُس نے کہا:بخدا!میں لونڈی کوفروخت نہیں کروں گا۔ میں نے کہا:میں مزید قیمت دینے کوبھی تیار ہوں ۔اُس نے کہا:اگرتم تمام دنیا بھی اس کے عوض دوگے تو بھی میں قبول نہیں کروں گااورمیں اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد کرتا ہوں ۔

      یہ دیکھ کر میں نے تعجب کیا اور اُس سے کہا:کل تو تم ایسی باتیں نہیں کررہے تھے؟اُس نے کہا:اے میرےسردار! مجھے عار نہ دلاؤ میرے لیے وہ تنبیہ وجھڑک ہی کافی ہے جو مجھے کی گئی ہے۔میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرا تمام مال اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں صدقہ ہےاورمیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔آپ مجھے اپنی صحبت سے دور نہ کیجئے گا۔میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر میں نے احمد بن مثنی کو دیکھا کہ وہ رو رہا ہے۔میں نے اُس سے پوچھا:تم کیوں رو رہے ہو؟کہا:اے میرے شیخ!میرے مولیٰ نے جس کام کے لئے مجھے مامور کیا اُسے قبول نہ کیا اور میرا مال مجھے واپس کردیا آپ گواہ ہوجائیں میں اپنا تمام مال راہِ خدا میں صدقہ کرتا ہوں اور میں اپنے تمام غلام اور باندیوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد کرتاہوں ۔میں نے کہا:یہ لونڈی بڑی بابرکت ہے۔پھر ہم نے اُس کے گلے سے طوق اور پاؤں سے بیڑیاں نکالیں اور اسےپاگل خانے سے باہرنکالا۔اُس نے پردے میں جاکر پہنے ہوئے کپڑے اتارے،اونی کرتا اور بالوں کی اوڑھنی پہنی اور وہاں سے چلی گئی۔ میں ، لونڈی کا مالک اور ابن مثنی بیتُ اللہ کے ارادے سے چل پڑے۔ راستے میں ابن مثنی کا انتقال ہوگیا جبکہ میں اور لونڈی کا مالک مَکۂ مکرمہ پہنچ گئے۔ایک دن ہم وہاں طواف کعبہ میں مشغول تھے کہ کسی کی آواز سنی دیکھاتو وہ ایک کمزور عورت


 

 تھی۔اُس نے مجھے دیکھا تو سلام کیا میں نے سلام کا جواب دیااور اس سے پوچھا:تم کون ہو؟اُس نے کہا:جاننے کے بعد اب انجان ہوگئے ہیں ۔میں نےغورکیاتومعلوم ہوا کہ یہ تو وہی خدا سے ڈرنے والی بابرکت لونڈی ہے۔میں نے اُس سے پوچھا:خلق خدا سے جُدا ہونے کے بعد تمہیں حق تعالیٰ سے کیا فائدہ پہنچا۔ کہا:اُ س نےمجھے اپنے قرب سے اُنسیت اور اپنے غیر سے وحشت دی۔پھر وہ خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا:اے میرےمعبود!کب تک تو مجھے ایسے گھر میں رکھے گا جہاں میراکوئی اَنیس نہیں ، میرا شوق تیری طرف بڑھ گیا ہے،اب تو مجھے اپنی طرف بلالے۔پھراس نے ایک سسکی لی اور گِرپڑی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔اس کے آقا نے جب اسے مردہ دیکھا تو رونے لگا اور بارباروہی  دعا مانگنے لگا یہاں تک کہ وہ بھی گرپڑا اور اس کی روح بھی قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرگئی۔

اسرائیلی عابد اور بادل:

      منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عبادت گزار شخص زُہد وتقویٰ سے مشہورتھا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اُس کے لئے بادل مُسَخّر کیا ہوا تھا جو اُس کے ساتھ چلتا تھا۔ایک دن اُس نے عبادت میں سستی وکاہلی کی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بادل کو اس سے دور اور اسے مقبولیت سے محروم کردیا۔یہ دیکھ کر وہ بہت غمگین اور دکھی ہوا اور اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے خوب گریہ وزاری کرنے لگا۔جب اس کا رنج وغم طویل ہوگیا تو ایک رات وہ اُٹھا نماز پڑھی اور روتے ہوئے گڑگڑا کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کی اور پھر سوگیا۔ خواب میں اسے کہاگیا کہ اگر تم یہ چاہتے ہوکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بادل کو تم پر لوٹا دےتو فلاں شہر میں جاؤ اور وہاں کے بادشاہ سے اپنے لئےدعا کا کہو۔وہ اسرائیلی عابد طویل مسافت طے کرتےہوئےخواب میں بتائے گئے شہر تک پہنچتا ہے اور وہاں کسی سے بادشاہ کےمحل کا راستہ پوچھ کر بادشاہ کے محل کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے۔وہاں پہنچ کر دیکھتا ہے کہ ایک غلام سونے کی ایک بڑی کرسی پر جو موتیوں اور جواہرات سے آراستہ ہے بیٹھا ہواہے اور لوگ اُس سے اپنی حاجتوں کاسوال کررہے ہیں اور وہ لوگوں کو واپس کررہاہے۔وہ اسرائیلی عابد اُس کے پاس جاتا ہے اور اسے سلام کرتا ہے۔غلام اس سے کہتا ہے:تم کہاں سے آئے ہو اور تمہیں کیا کام ہے؟اسرائیلی عابد کہتا ہے:میں ایک دوردراز  شہر سے آیا ہوں اور مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔غلام کہتا ہے:تم بادشاہ سے آج نہیں مل سکتےاورتمہیں جوکام ہے مجھے بتاؤ مجھ سے ہوسکا تو میں کردیتاہوں ۔ اسرائیلی عابد نے کہا:میراکام صرف بادشاہ ہی کرسکتا ہے۔غلام نے کہا:بادشاہ صرف جمعہ کے دن ہی لوگوں سے ملتا ہےلہٰذا تم ابھی جاؤ اور جمعہ کے دن آنا۔اسرائیلی عابد وہاں


 

سے لوٹ کر مسجد آجاتا ہےاور وہیں  ٹھہر کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو دور رکھنے کے سبب بادشاہ کو معیوب جانتا ہے۔ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو وہ اسرائیلی عابد محل کے پاس آجاتا ہےجہاں وہ دروازے پر بہت سارے لوگوں کو  دیکھتا ہے جو دربار میں داخل ہونے کی اجازت کے منتظر ہوتے ہیں ۔جیسے ہی وزیر محل سے باہر نکلتا ہے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت مل جاتی ہےاور وہ اسرائیلی عابد بھی دیگر لوگوں کے ساتھ محل میں داخل ہوجاتا ہے۔محل میں داخل ہوکر وہ دیکھتا ہے کہ بادشاہ اور اس کے سامنے اس کے اراکین سلطنت اپنے اپنے مراتب کے مطابق بیٹھے ہوئے ہیں ۔ایک شخص باری باری لوگوں کوبادشاہ کے پاس  بلاتا ہےاورجب اس اسرائیلی عابد کا نمبر آتا ہےتو بادشاہ اسے دیکھ کر کہتا ہے :اے بادل والے!خوش آمدیدتم ابھی بیٹھ جاؤ،  لوگوں کی حاجات پوری کرکے میں تم سے ملتا ہوں ۔

      اسرائیلی عابد یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہےچنانچہ جب بادشاہ لوگوں کی حاجتوں سے فارغ ہوجاتا ہے تو وہ اپنی مجلس سے اُٹھ کھڑا ہوتا ہےاور اسرائیلی عابد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ محل میں لے آتا ہےاور چلتے ہوئے محل کی ایک دہلیزتک آ جاتا ہےجہاں صرف ایک غلام ہی اس کے ہمرا ہوتا  ہے۔دہلیز عبور کرکے جب بادشاہ دروازے تک پہنچتا ہے تو اسرائیلی عابدیہ دیکھتا ہے کہ دروازہ کھجور کی ٹہنی کا ہے،اندرعمارت خستہ حال اور دیواریں جھکی ہوئی ہیں اور کھجور کی ایک بوسیدہ چٹائی بچھی ہوئی ہے۔بادشاہ جب وہاں پہنچتا ہے تو اپنا شاہانہ لباس اتار کر پیوند لگا اونی لباس پہن لیتا ہےاور سر پر بالوں کی ٹوپی رکھ لیتا ہے اور اپنے ساتھ اسرائیلی عابد کو بھی بٹھالیتا ہے۔پھر وہ اپنی زوجہ کو پکار کر کہتا ہے :اے فلانی! کیا تم جانتی ہو آج ہمارا مہمان کون ہے؟وہ کہتی ہے:جی ہاں آپ کا مہمان بادل والا عابد ہے۔پھر بادشاہ اسے کسی کام کے لئےبلاتا ہےجیسے ہی وہ سامنے آتی ہے اسرائیلی عابد دیکھتا ہے کہ وہ ایک خشک مشکیزے کی طرح کمزور نوعمر دوشیزہ ہے جس نے بالوں کا بنا صوفیانہ لباس پہنا ہوا ہے۔بادشاہ اسرائیلی عابد کی طرف متوجہ ہوکر کہتا ہے:اے میرے بھائی!ہم تجھے اپنا حال بتائیں یا تیری حاجت پوری کر کے تجھے لوٹا دیں ۔اسرائیلی عابد نے کہا: آپ  دونوں کی حالت نے مجھے اُس چیز سے غافل کردیا ہےجس کے سبب میں یہاں آیا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  بخوبی جانتا ہے کہ یہ بادشاہت میرے خاندان میں نسل در نسل چلی آرہی ہے اور جب میں بادشاہ بننے لگاتواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے میرے دل میں دنیا اور اہل دنیا سے نفرت ڈال دی لہٰذا  میں نے یہ چاہا کہ سیاحت اختیار کر لوں اور لوگوں کو چھوڑ دوں کہ وہ خود ہی اپنے لئے کسی ایسے شخص کو مقرر کردیں جو ان پر حکمرانی کرےپھر مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ فتنہ میں نہ پڑجائیں ،دین کو ضائع نہ کردیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہ لے آئیں ۔چنانچہ


 

 میں نے لوگوں کی بیعت کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کیااور ان کے معاملات کو ایسے ہی رکھا جس طرح پہلے تھےاور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔میں نے دروازوں پر مسلح غلام اس لئے بٹھائے تاکہ شریر لوگ مرعوب رہیں اور میں نے محل کی زیب وزینت کو اس کے حال پر باقی رکھا اور اس میں ایک دروازہ نکالا جس سے ہوکر تم اس خستہ حال مکان تک  پہنچے ہو اور میں یہاں آکر شاہی لباس اتار دیتاہوں اور جو لباس پہنا ہوا ہے اسے پہن لیتا ہوں ۔کھجور کے پتوں کی ٹوکریاں بنا کراوراسےفروخت کرکےمیں اورمیری بیوی گزربسرکرتےہیں ۔میری یہ بیوی جسےتم نےدیکھاہےیہ میرےچچاکی بیٹی ہےاوراس نے بھی میری طرح دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی ہےاورمجاہدہ کرتےکرتےیہ سوکھے ہوئے مشکیزے کی طرح کمزور ہوگئی ہے۔لوگ ہمارے بارے میں نہیں جانتے اورمیں نے اپنا ایک نائب بھی مقرر کر رکھا ہے جو جمعہ کے علاوہ میری نیابت کرتا ہےاور میں یہ جانتا ہوں کہ مجھ سے رعایا کےمعاملے کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا لہٰذا میں نے لوگوں کے لئے جمعہ کا دن مقرر کیا ہے جس میں ، میں ان کےمقدمات کا تصفیہ کرتاہوں اور ایک عرصے سے میں ایسا کرتا آرہا ہوں ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے تم یہیں ٹھہرو ہم ٹوکریاں بیچ کر اس کی قیمت سے کھانے کا بندوبست کرتے ہیں ،تم افطار ہمارے ساتھ کرنا اور رات ہمارے پاس ٹھہر کر صبح چلے جانا۔دن ختم ہونے لگا تو ایک ادھیڑ عمر غلام آیا بادشاہ اور اس کی بیوی نے جو ٹوکریاں بنائی تھیں انہیں لے جاکر بازار میں فروخت کردیا اور اس کی قیمت سے روٹی اور لوبیا خرید لیااور جو پیسے باقی بچ گئے اس سے ٹوکری بنانے کے لئے کھجور کے پتے خرید لایا۔مغرب ہوئی اسرائیلی عابد نے ان کے ساتھ افطار کیااور رات ان کے پاس گزاری۔جب نصف رات گزرگئی تو بادشاہ اور اس کی بیوی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور سحری کے وقت تک گریہ وزاری کرتے رہے پھر جب سحر کا وقت ہوا تو بادشاہ نے یہ دعا کی:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تیرا یہ بندہ تجھ سے بادل کو لوٹانے کا کہتا ہے اور تونے ہی اسے ہمارے پاس بھیجا ہے۔اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اس پر بادل کو لوٹا دے،بے شک تو ہر شےپرقادرہے۔بادشاہ کی دعاپراس کی بیوی نےآمین کہاتواسی وقت آسمان پرایک بادل ظاہرہوگیا۔بادشاہ نےاسرائیلی عابد سےکہا:تمہیں مبارک ہوتمہاری حاجت جلدپوری ہوگئی۔اسرائیلی عابدنےانہیں الوداع کہااوربادل کےساتھ وہاں سے لوٹ آیا ۔اسرائیلی عابد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد میں نے جب بھی ان کے وسیلے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے کچھ مانگا اس نے  مجھے عطا کیا۔ 

جان کا نذرانہ پیش کرنے والا حاجی:

      حضرت سیِّدُنامالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں :میں حج کے ارادے سے مکہ معظمہ کی جانب نکلا ۔راستے


 

 میں ایک نوجوان دیکھا جو بالکل خاموش تھا اور زبان سے اُسے میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ذکر کرتے نہیں سنا۔ رات ہوئی تو اُس نوجوان نے آسمان کی طرف اپنا منہ اٹھایا اور کہا:اے وہ پاک ذات جس کو بندوں کی اطاعت سے خوشی ہوتی ہے اور بندوں کےگناہوں سے کچھ نقصان نہیں ہوتا!مجھے وہ چیز عطا فرما جس سے تجھے خوشی ہو اور میرے گناہ جو تجھے نقصان نہیں پہنچاتے بخش دے۔پھر میں نے اُس نوجوان کو ذُوالْحُلَیْفَہ میں دیکھا کہ اُس نے احرام پہنا ہوا ہے لوگ تلبیہ کہہ رہے ہیں لیکن وہ تلبیہ نہیں کہہ رہا ۔میں نے یہ خیال کیا کہ یہ شخص علم سے ناواقف ہے لہٰذا میں اس سے قریب ہوا اور اس سے کہا : اے نوجوان تم تلبیہ کیوں نہیں کہتے؟اس نےکہا:اےشیخ میراتلبیہ مجھےمیرےسابقہ گناہوں اورلکھےہوئےجرائم سےنہیں بچا سکتا۔ مجھے ڈر ہے کہ میں کہوں ”لَبَّیْک“اور وہ فرمادے”تیری لَبَّیْک قبول ہے  نہ سَعْدَیْک اور نہ ہی میں تیرا کلام سنوں اور نہ تیری طرف دیکھوں ۔“میں نے اُس سے کہا:ایسا نہ کہو اللہعَزَّ  وَجَلَّحلیم ہے،جب وہ ناراض ہوتاہےتو راضی بھی ہوجاتاہےاور جب راضی ہوتاہےتو ناراض نہیں  ہوتا۔یہ سُن کر نوجوان نے کہا:اے شیخ!کیا آپ ہی نے مجھے”تَلْبِیَہ“  کا کہا تھا؟میں نے کہا:ہاں ۔وہ نوجوان جلدی سے زمین پر لیٹ گیا اور اپنا ایک گال مٹی پر رکھا اور دوسرے گال پر پتھر رکھ دیا اور روتے ہوئے کہا:لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَیَّکْیعنی میں حاضر ہوں ،اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میں تیرے لئے حاضر ہوں ۔اور کہا: میں تیرے لئے عاجزی وانکساری کرتا ہوں ۔تھوڑی دیر وہ اسی طرح رہا پھر چلا گیااس کے بعد میں نے اُسے منٰی میں دیکھا کہ وہ کہہ رہا تھا:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!لوگوں نےقربانیاں کیں اورتجھ سےتقرب حاصل کیا اور میرے پاس اپنی جان کے علاوہ کچھ نہیں جس سے میں تیرا تقرب حاصل کروں ۔میں اس جان ہی کو تیری بارگاہ میں نظر کرتا ہوں تو اس کو قبول فرما پھر اُس نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گرا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر:

      منقول ہے کہ شہرِ بغداد میں ابو عبداللہ اُندلسی نامی ایک بزرگ تھے جو تمام اہلِ عراق کے شیخ تھے۔ انہیں تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی30ہزار احادیثِ مبارکہ حفظ تھیں اور وہ تمام روایتوں سے قراء ت کرنا جانتے تھے۔

      ابو عبداللہ اُندلسی ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ساتھ سیر وسیاحت کے لئے روانہ ہوئے جن میں حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی اورحضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا وغیرہ مشائخِ عراق بھی شامل تھے۔حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ہم ابوعبداللہ اُندلسی کی صحبت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عنایت سے سفر کرتے رہے یہاں تک کہ


 

 کفار کے شہروں میں سے ایک شہر میں پہنچے۔وہاں پہنچ کر ہم نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن نہ مل سکا۔پانی کی تلاش میں ہم اس شہر میں گھومنے لگے تو اس میں ہم نے گرجے دیکھے  جن میں گرجا کے خادم،پادری اورتارک الدنیا نصرانی موجود تھےجو کہ بتوں اور صلیبوں کی عبادت کر رہے تھے،یہ دیکھ کر ہمیں ان لوگوں اور ان کی عقلوں پر تعجب ہوا۔

      آخر کار ہم شہر کے کنارے پر موجود ایک کنویں پر پہنچے،اس کنویں پر کئی لڑکیاں موجود تھیں جو پانی نکال رہی تھیں اوران کے درمیان ایک خوبصورت چہرے والی لڑکی تھی جس کے گلے میں سونے کے ہار تھے اور ان لڑکیوں میں اس سے زیادہ حسن وجمال والی کوئی نہ تھی۔اس لڑکی کو دیکھ کر شیخ ابو عبداللہ اندلسی کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا اور انہوں نے پوچھا:یہ کس کی بیٹی ہے؟جواب دیا گیا کہ اس شہر کے بادشاہ کی بیٹی ہے۔ شیخ نے کہا:اس کا باپ اس کا خیال کیوں نہیں رکھتااوراسےپانی بھرنےکی تکلیف کیوں دیتاہے؟لوگوں نےبتایاکہ اس کاباپ ایسااس لئےکرتاہےتاکہ جب ا س کی شادی ہو تو یہ اپنے شوہر کی عزت وخدمت کرے اور بادشاہ کی بیٹی ہونے پر فخر نہ کرے۔

      اس کے بعد شیخ ابو عبداللہاُندلسی سر جھکا کر وہیں بیٹھ گئے اور تین دن اس طرح گزارے کہ نہ تو کچھ کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی کسی سے بات چیت کرتے تھے البتہ فرض نماز ادا کرتے تھے۔تمام مشائخ ان کے سامنے کھڑے تھے اور کسی کو سمجھ نہ پڑتی تھی کہ کیا کیا جائے۔حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ آخر میں نے آگے بڑھ کر عرض کی:یاسیِّدی!آپ کے اصحاب اور مریدین تین دن سے آپ کی خاموشی پر متعجب ہیں جبکہ آپ کسی سے بھی کلام نہیں کررہے۔میری بات سن کر شیخ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا:اےلوگو!جان لو کہ میں نے کل جو لڑکی دیکھی تھی میں اس کی محبت میں گرفتار ہوچکا ہوں اور اب میں اس شہر سے نہیں جاسکتا۔

      حضرت سیِّدُناابوبکرشبلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکابیان ہےکہ میں نےعرض کی:یا سیِّدی!آپ اہْلِ عراق کے شیخ ہیں ، تمام شہروں میں زُہد وتقویٰ کے حوالے سے مشہور ہیں اور آپ کے مریدوں کی تعداد بارہ ہزار ہے۔ آپ کو قرآنِ پاک کی حرمت کا واسطہ ہے کہ ہمیں اور انہیں رُسوا نہ فرمائیں ۔شیخ نے جواب دیا:اے لوگو! اس بات کا فیصلہ ہوچکا ہے اورمیں عدم کے سمندر میں گرچکا ہوں ،ولایت کا لباس مجھ سے چھین لیا گیا ہے اور ہدایت کے نشانات مجھ سے اُٹھا لئے گئے ہیں ۔اس کے بعد شیخ  نے بہت گریہ وزاری کی اور کہا:اے لوگو!واپس چلے جاؤ کیونکہ قضا وقدر نافذ ہوچکی ہے۔شیخ کے معاملے پر ہمیں بہت تعجب ہوا اور ہم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کی کہ ہمیں  اپنی خفیہ تدبیر سے پناہ عطا فرمائے۔اس کے بعد


 

 ہم بھی روئے اور شیخ بھی روئے یہاں تک کہ مٹی تر ہوگئی۔

      اب ہم شیخ کووہیں چھوڑکربغدادکی طرف واپس آئےتوعام لوگ اور شیخ کے مریدین ان کی زیارت کے لئے جمع ہوگئے،جب لوگوں نے شیخ کو نہ دیکھا تو ان کے بارے میں سوال کیا۔ہم نے لوگوں کے سامنے تمام واقعہ بیان کیا تو ان کے مریدین میں سے کافی لوگ غم وافسوس کے باعث مرگئے جبکہ دیگر لوگ رونے لگے اور گڑگڑا کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کرنے لگے کہ شیخ کو ان کے پاس واپس پہنچادے۔بغداد میں موجود مدارس، خانقاہیں اور آستانے بند کردیے گئے اور شیخ کے واقعے سے لوگوں کو بہت زیادہ غم پہنچا۔

      حضرت سیِّدُنا ابوبکرشِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ پورا ایک سال گزرنے کے بعد میں اپنے چند اصحاب کے ہمراہ شیخ کی خبر لینے کے لئے روانہ ہو اور اس شہر میں  پہنچ کر لوگوں سے شیخ کے بارے میں دریافت کیا۔ہمیں بتایا گیا کہ وہ جنگل میں خنزیر چرارہے ہیں ۔ہم نے اس کا سبب پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ شیخ نے اس لڑکی کے باپ کو شادی کا پیغام دیا تو اس نے کہا کہ وہ صرف اس کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کرے گا جو اس کے دین(یعنی عیسائیت )پرہو،چوغہ پہنے،زنار باندھے،گرجا گھر کی صفائی کرے اور خنزیر چرائے۔شیخ نے یہ سب کچھ کیا اور ابھی وہ جنگل میں خنزیر چرارہے ہیں ۔

      حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ یہ سن کر ہمارے دل پھٹنے لگے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ہم شیخ کو دیکھنے کے لئے گئے تو وہ خنزیروں کے سامنے کھڑے تھے  ۔جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو سر جھکالیا،ان کے سر پر عیسائیوں کی مخصوص ٹوپی تھی،سینے پر زنار بندھا ہوا تھا اور وہ اس عصا پر ٹیک لگاکر کھڑے تھے جس کے سہارے وہ محراب میں کھڑے ہوتے تھے۔ہم نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیاہم نے کہا:اے شیخ!وہ کیا تھا اور یہ کیا ہے؟ان احادیث اور علوم کے بعد یہ غم اور پریشانیاں کیا ہیں ؟

    شیخ نے کہا:اے میرے بھائیو اور پیارو!میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ہے،میرے آقا نے جس طرح چاہا مجھ میں تصرف فرمایااور جب چاہا مجھے اپنے دروازے سے دور کردیا حالانکہ اس سے پہلے میں اس کے احباب میں شامل تھا۔اے اللہ سے محبت کرنے والو!اس کے روکنے اور دو ر کرنے سے ڈرتے رہو  اور اے اہلِ محبت وصفا !قطع تعلقی اور بے وفائی سے بچتے رہو۔اس کے بعدشیخ نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا:اے میرے مالک و مولا!تیرے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا۔پھر وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے فریاد کرنے اور رونے لگے اور کہا:اے شبلی!دوسروں سے نصیحت حاصل کرو۔


 

       حضرت سیِّدُناابوبکرشبلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےبلندآوازسےندافرمائی!اےاللہ!تجھی سےمددطلب کی جاتی ہے، تیری ہی بارگاہ میں فریاد کی جاتی ہے اور تجھ پر ہی ہمارا بھروساہے،اپنے حلم سے اس مصیبت کو ہم سے دور فرمادے  کیونکہ ہم ایسی مصیبت میں گرفتار ہیں جسے تیرے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا۔جب خنزیروں نے ان کا رونا دھونا اور چیخ وپکارسنی  تو وہ ان کےپاس آکرمٹی پر لوٹنے لگے اور انہوں نے  ایک ایسی چیخ ماری جس سے پہاڑ گونج اٹھے۔حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ اس وقت مجھے ایسا لگا جیسے قیامت قائم ہوچکی ہے،اس کے بعد  شیخ  زاروقطار رونے لگے۔حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان سے فرمایا:کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ بغداد واپس چلیں ۔شیخ نے جواب دیا:بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ دلوں پر حکومت کرنے کے بعد میں نے خنزیر چرائے ہیں ۔

       میں نے کہا:اے شیخ!آپ قرآنِ پاک کے حافظ تھے اور اسے سات قسم کی قرأتوں سے پڑھتے تھے، کیا اب بھی آپ کوقرآنِ پاک کا کچھ حصہ یاد ہے؟شیخ نے جواب دیا:میں قرآنِ پاک کو مکمل طور پر بھول چکا ہوں البتہ مجھے دو آیات یاد ہیں ۔میرے پوچھنے پر شیخ نے بتایا:ایک تو یہ آیت:

وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩(۱۸) (پ۱۷،الحج:۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان:اورجسےاللہذلیل کرےاُسےکوئی عزت دینے والا نہیں بے شک اللہ جو چاہے کرے۔

       اوردوسری:

وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱۰۸) (پ۱،البقرة:۱۰۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اورجوایمان کےبدلےکفرلےوہ ٹھیک راستہ (سے) بہک گیا۔

       میں نےکہا:اے شیخ!آپ کوسرکارِ نامدار،مدینےکےتاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی30ہزاراحادیث یادتھیں ،کیا اب بھی ان میں سے کوئی  حدیث یا د ہے؟شیخ نے کہا:صرف ایک حدیث یا د ہے:مَنْ بَدَّلَ دِينَہ ٗ فَاقْتُلُوْه یعنی جو اپنا دین تبدیل کرے(یعنی مرتد ہوجائے)تو اسے قتل کردو۔([32])

       حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ہم شیخ کو وہیں چھوڑ کر واپس آگئے اور ہم ان کی حالت پر حیران تھے۔تین دن تک سفرکرنےکےبعدہم ایک نہرپرپہنچےتو دیکھا کہ شیخ اس نہر سے غسل کرکے ہمارے سامنے ظاہر


 

ہوئے،کلمۂ شہادت پڑھا اور پھر سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔جب ہم نے شیخ کو اس حالت میں دیکھا تو خوشی ومسرت کے باعث ہمیں اپنے اوپر قابو نہ رہا،شیخ نے ہمیں دیکھ کر کہا:اے لوگو!مجھے پاک کپڑے دو۔ہم نے شیخ کو کپڑے دیئے تو انہیں پہن کر انہوں نے نماز ادا فرمائی اور بیٹھ گئے۔

      ہم نے شیخ سے کہا:تمام تعریفیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے لئے ہیں جس نے آپ کو ہمارے پاس واپس پہنچا دیا اور ہمیں جمع فرمادیا،آپ پرجوگزری وہ ہمیں بیان فرمادیں ۔شیخ نےکہا:جب تم لوگ میرے پاس سے واپس گئے تو میں نے پرانی محبت کے طفیل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کی اور عرض گزار ہوا:اے میرے  مولا!میں گناہ گار اور خطا کار ہوں ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے فضل وکرم سے مجھے معاف فرمادیا اوراپنے پردے سے مجھے ڈھانپ دیا۔

    ہم نے شیخ سے کہا:ہم آپ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا واسطہ دے کر پوچھتے ہیں ،کیا آپ کی اس مصیبت کا کوئی سبب تھا؟شیخ نے کہا:ہاں ،جب ہم اس شہر میں پہنچے تھے اور تم لوگ گرجا گھروں کا دورہ کررہے تھے تو میں نے اپنے دل میں کہا تھا کہ میرے مقابلے میں ان لوگوں کا کیا مقام ہے،میں تو مومن اور مُوَحِّد ہوں ۔اسی وقت میرے باطن میں یہ بات ڈالی گئی کہ ’’یہ سب کچھ تیری طرف سے نہیں ہے،اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اس کی پہچان کروادیں ۔‘‘پھر مجھے محسوس ہوا کہ میرے دل میں سے ایک پرندہ اڑ کر نکل گیا اور  وہ پرندہ ایمان تھا۔

      حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ شیخ کی واپسی پر ہم بہت زیادہ خوش ہوئے اور جس دن ہم بغداد واپس پہنچےاس دن لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد  جمع ہوئی ۔مدارس،خانقاہیں اور آستانے کھول دیے گئے ،شیخ سے ملاقات کے لئے خلیفہ بھی حاضر ہوااوران کی خدمت میں تحائف پیش کئے ،چالیس ہزار افراد علم کی باتیں سننے کے لئے شیخ کے پاس جمع ہوتے اور ایک مدت تک یہی حال رہا ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بھولا ہوا قرآن اور احادیثِ مبارکہ بھی شیخ کو واپس عنایت فرمادیں اور اس میں مزید اضافہ فرمادیا۔

      ایک دن نمازِ فجر کے بعد ہم شیخ کی خدمت میں حاضر تھے کہ کسی نے خانقاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے دیکھا تو ایک شخص سیاہ لباس میں لپٹا ہوا کھڑا تھا۔میں نے پوچھا:تمہیں کس سے ملنا ہے؟ اس نے  کہا:اپنے شیخ سے کہو کہ آپ جس رومی لڑکی کو فلاں شہر میں چھوڑ کر آئے تھے وہ آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہوئی ہے۔ میں نے جاکر شیخ کو یہ پیغام دیا  تو ان کے چہرے کا رنگ   زرد ہوگیا اور وہ بے چین ہوگئے،پھر حکم دیا کہ اسے اندر لایا جائے۔جب وہ شیخ کی خدمت میں حاضر


 

 ہوئی تو زاروقطار رونے لگی،شیخ نےدریافت فرمایا:کیسے آنا  ہوا اور تمہیں یہاں تک کس نے پہنچایا؟

      لڑکی نے جواب دیا:یا سیِّدی!جب آپ ہمارے شہر سے واپس چلے گئے  اور مجھے اس کی خبر ملی تو اس رات  مجھےسکون حاصل  نہ ہوا۔میں نے خواب میں دیکھاکہ ایک شخص مجھ سےکہہ رہا ہے:اگر  تم مومن بننا چاہتی ہو تو بتوں کی عبادت چھوڑ کر اس شیخ کی پیروی کرو اور اس کے دین میں داخل ہوجاؤ۔میں نے پوچھا:ان کا دین کیا ہے؟جواب ملا:دینِ اسلام۔میں نے پوچھا:وہ کیا ہے؟تو خواب میں آنے والے نے بتایا:اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ    وَجَلَّ کے رسول ہیں ۔

      میں نےپھر سوال کیا کہ میں شیخ تک کیسے پہنچ سکتی ہوں ؟اس شخص نے کہا:اپنی آنکھیں بند کرلو اور اپنا ہاتھ مجھے پکڑادو۔میں نے ایسا ہی کیا،وہ شخص مجھے لے کر تھوڑا سا چلا اور پھر کہا:اپنی آنکھیں کھول دو،میں نے آنکھیں کھولیں تو میں دریائے دجلہ کے کنارے موجود تھی ۔اس شخص نے کہا:فلاں خانقاہ میں جاؤ،شیخ کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ آپ کا بھائی خضر آپ کو سلام کہتا ہے۔

      شیخ نے اس لڑکی کو اپنے پڑوس میں جگہ دی اور فرمایا:یہاں رہ کر عبادت کرو۔وہ لڑکی اپنے زمانے کی بہت بڑی عبادت گزار تھی،دن کو روزہ رکھتی اور رات کو قیام کرتی یہاں تک کہ اس کا جسم کمزور  اور چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا،پھر وہ مرض الموت میں مبتلا ہوکر مرنے کے قریب ہوگئی لیکن شیخ نے اسے نہ دیکھا تھا۔ اس لڑکی نے لوگوں سے کہا:شیخ سے کہو کہ میری موت سے پہلے میرے پاس  تشریف لائیں ۔جب شیخ تک یہ پیغام پہنچا تو وہ اس کے پاس تشریف لائے،لڑکی انہیں دیکھ کر رونے لگی تو شیخ نے ارشاد فرمایا:روؤ مت،کل قیامت کے دن جنت میں ہم اکٹھے ہوں گے۔اس کے بعد اس لڑکی کا انتقال ہوگیا اور اس کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد شیخ بھی اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔

      حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ میں نے شیخ کو خواب میں دیکھا کہ70حوروں کے ساتھ ان کا نکاح ہوا ہے اور سب سے پہلے ان کا نکاح اسی لڑکی کے ساتھ ہوااور وہ دونوں ان حضرات کے ساتھ ہیں  جن پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فضل کیا یعنی انبیا ، صدیق، شہدا اور نیک لوگ،یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فضل ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کافی ہے جاننے والا۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭


 

باب نمبر32:                                                                             فساق وفجارکی  بے حیائیاں اور برائیاں

      حضرت سیِّدُنا نَواس بن سَمْعان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:قیامت سے پہلے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایک خوشبودار  ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جو تمام  اہلِ ایمان کی روح قبض کرلے گی اور زمین پر صرف مخلوق میں سے بدترین افراد باقی رہیں گے جو گدھوں کی طرح کھلے عام جفتی کریں گے اور انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔([33])

بُرا آدمی کون؟

      حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  نے فرمایا:کسی شخص کے برا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ خود نیک نہ ہو اور پھر بھی نیک لوگوں کی برائیاں کرتا پھرے۔

برائی کو بھلائی ختم کرتی ہے:

      حضرت سیِّدُنا حکیم لقمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:اے میرے بیٹے!جو شخص یہ کہتا ہے کہ بُرائی کو بُرائی دور کرتی ہے وہ جھوٹ بولتا ہے۔اگر وہ سچا ہے تو دوآگ روشن کرے اور تجربہ کر لے کہ کیا ایک آگ دوسری کو بجھاتی ہے ۔برائی کو تو بھلائی دور کرتی ہے جیسا کہ آگ کو پانی بجھاتا ہے۔

شیطان کی دعوت پر لَبَّیْک کہنے والا:

      کسی شخص نے ایک بُرے آدمی کے اوصاف بیا ن کرتے ہوئے کہا:وہ تقویٰ کے لباس سے خالی ہے، ہدایت کے نشانات کو اس سے مٹادیا گیا ہے،نہ تو غور و تفکر اسے کسی بُرائی سے روکتا ہے اور نہ ہی وہ محاسبے کے خوف کے باعث ان کاموں سے باز آتا ہےاور وہ دین کے بنیادی اصولوں کو ضائع کرنے والا اور شیطان کی دعوت پر لَبَّیْک کہنے والا ہے۔

      منقول ہے کہ جو شخص دل میں آنے والی ہر بات پر عمل  کرگزرتا ہو وہ ایسے انجام کو پہنچے گا جو اسے ناپسند ہے۔

مکروہ  چھوڑ کر حرام کرنے والا:

      منقول ہے کہ ایک شخص نے کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرکے اسے حاملہ کردیا۔لوگوں نے اس سے کہا: اے دُشْمنِ خدا!


 

اگر تم اس بُرائی میں مبتلا ہوہی گئے تھے تو پھر عزل کرلیتے۔اس شخص نے جواب دیا:میں نے سنا تھا کہ عزل کرنا مکروہ ہے۔ لوگوں نے کہا:کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ زنا کرنا حرام ہے۔

       ایک اعرابی جو کسی گانے والی کے عشق میں مبتلا تھا اس سے کہا گیا:تم اس پر جتنا خرچ کرتے ہو اس کے کچھ حصے سے اسےخریدلوتواس میں تمہاراکیانقصان ہے؟اعرابی نے جواب دیا:اس صورت میں مجھے  چھپ چھپ کرملنے اور وقتِ مقررہ کا انتظار کرنے کی لذت حاصل نہیں ہوگی۔

فرائض چھوڑ  کرنوافل بجالانے والا:

       ابوعَیْناء کا بیان ہے کہ میں نے غلام بیچنے والے کے پاس ایک لونڈی دیکھی جو قسم کھا رہی تھی کہ اپنے آقا کے پاس واپس نہیں جائے گی۔میں نے اُس سے اِس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا:یا سیِّدی!وہ کھڑے ہوکر مجھ سے جماع کرتا ہے لیکن نماز بیٹھ کر پڑھتا ہے،مجھےگالیاں دیتے ہوئےلَحْن نہیں کرتا لیکن قرآنِ پاک پڑھتے ہوئےلَحْن کرتا ہے،پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتا ہے لیکن رمضان کے روزے نہیں رکھتا، چاشت کی نماز پڑھتا ہے لیکن فرض نماز ترک کردیتا ہے۔ یہ سن کر میں نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کثرت نہ فرمائے۔

غیرت مند بادشاہ:

     اَلْمَسَالِک وَالْمَمَالِک“ میں ہے کہ قمارنامی علاقے کے بادشاہ کے علاوہ بالعموم ہندوستان کے بادشاہ زنا کو مباح سمجھتے ہیں ۔

       زمخشری کابیان ہے کہ میں قمارمیں کئی سال رہا اور میں نے اس سے زیادہ غیرت مند بادشاہ کوئی نہیں دیکھا،وہ زنا اور شراب نوشی کی سزا قتل کی صورت میں دیتا تھا۔

       حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےفرمایا:میں نےایسےلوگوں کوپایاتھاجن کی خواہشات ان کے دین کے تابع ہوتی تھیں لیکن آج لوگوں کے دین ان کی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں ۔

       رسول اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاارشاد ہے:کسی شخص کی برائی کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔([34])


 

بے حیائی و بے وقوفی کا بیان اور بازاری

 لوگوں کا تذکرہ

حیاء نہ رہے تو جو چاہو کرو:

       تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:لوگوں نے گزشتہ انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کے کلام سے جو کچھ پایا ہے اس میں سے یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔([35])

       ابن سلام کا قول ہے کہ عقلمند شخص کا دل بہادر ہوتا ہے جبکہ احمق کا چہرہ بہادر ہوتا ہے۔

       ایک شخص نے کسی قوم کی مذمت کرتے ہوئے کہا:ان کے منہ اور ہاتھ لوہے کے ہیں یعنی وہ لوگ بے حیا اور بخیل ہیں ۔

       ایک شخص نے کسی بے حیا آدمی کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا:اگر وہ اپنے چہرے کو پتھر پر مارے تو اُسے  بھی ریزہ ریزہ کردے اور اگر موقع ملے تو غلافِ کعبہ کو بھی چوری کرلے۔

چار برائیاں چار لوگ:

       نوشیرواں  کا قول ہے کہ چار بُرائیاں چار قسم کے افراد میں بہت زیادہ بُری ہوتی ہیں : (۱)…بخل بادشاہوں میں (۲)…جھوٹ قاضیوں میں (۳)…حسد علمامیں اور (۴)…بے حیائی عورتوں میں ۔

       منقول ہے کہ جو بہادر ہوتا ہے اس کے کام آسان ہوتے ہیں اور جو ڈر جاتا ہے وہ ناکام رہتا ہے۔

       حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا:جب تمہیں کسی کام سے خوف آئے تو اسے کرگزرو کیونکہ اس سے بچنے کی بُرائی اس بُرائی سے بڑی ہے جس سے تم خوف کرتے ہو۔

بازاری لوگوں کے فوائد :

       ایک اور موقع پرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے  ارشاد فرمایا:بازاری لوگ اگر جمع ہوجائیں تو نقصان پہنچاتے ہیں اور منتشر ہوجائیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔عرض کی گئی:ان کے جمع ہونے کا نقصان تو ہم نے جان لیا،ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:محنت مشقت کے کام کرنے والے اپنے کاموں پر واپس جاتے ہیں اور یوں لوگ ان سے فائدہ


 

حاصل کرتے ہیں مثلاً  معمار کا عمارت کی طرف،پارچہ باف(کپڑا بُننے والے) کا بنائی کے کارخانے کی طرف اور نانبائی کا تنور کی طرف واپس جانا۔

      ایک بزرگ فرماتے ہیں :بازاری لوگوں کو بُرا نہ کہو کیونکہ یہ جلتے ہوؤں کو بچاتے اور ڈوبتے ہوؤں کو نکالتے ہیں ۔

      حضرت سیِّدُنا احنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا:جب کسی قوم میں نادان لوگ کم ہوجاتے ہیں تو وہ قوم ذِلّت اٹھاتی ہے۔

      ایک دانا کا قول ہے کہ جو شخص اپنے گھر سےنکلے تو  وہ اپنی جھولی میں جہالت کے دو قیراط لے کر نکلے کیونکہ نادان کا مقابلہ صرف نادانی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

      کہا گیا ہے کہ جاہل وہ ہے جس کے لئے کوئی جاہل نہ ہو یعنی جس کے سامنے کوئی ایسا بے وقوف نہ ہو جس سے وہ اپنا دفاع کرتا ہو۔

      منقول ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی نے آکر آپ کو تھپڑ رسید کردیا۔حضرت سیِّدُنا واقد بن عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھڑے ہوئے اور اسے زمین پر گرادیا۔حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:جس شخص کی قوم میں کوئی بے وقوف نہ ہو وہ معزز نہیں ہوسکتا۔

      حکیم وشاعر حضر ت صالح بن جناح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں :

اِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْجَهْلِ وَالْحِلْمِ قَاعِدًا

 

وَخُيِّرْتَ اَنّٰي شِئْتَ فَالْحِلْمُ اَفْضَلُ

وَلَكِنْ اِذَا اَنْصَفْتَ مَنْ لَيْسَ مُنْصِفًا

 

وَلَمْ يَرْضِ مِنْكَ الْحِلْمَ فَالْجَهْلُ اَمْثَلُ

          ترجمہ:اگر تم جہالت اور حلم کے درمیان موجود ہو اور تمہیں  ان میں سے ایک کا اختیار دیا جائے تو حلم افضل ہے۔لیکن جب تم ایسے شخص کے ساتھ انصاف کرو جو انصاف  نہیں کرتا ہو اور نہ ہی تمہارے حلم پر راضی ہو تو پھر جہالت بہتر ہے۔

      اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ ہم جہالت کا مظاہرہ کریں یا ہمارے ساتھ جاہلانہ سلوک کیا جائے،تجھے تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے بڑھ کررحم  فرمانے والےاور درودوسلام ہو ہمارے سردار حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کی آل واصحاب پر۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭


 

باب نمبر33:                                                                                           سخاوت،اچھے اخلاق ، نیکی کے کام اور

اہل سخاوت  کا تذکرہ

      جان لو کہ جُود کے معنیٰ مال خرچ کرنے کے ہیں اور سب سے نفع بخش مال وہ ہے جو درست مقام پر خرچ کیا جائے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  (پ۴،اٰل عمران:۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان:تم ہرگزبھلائی کونہ پہنچوگےجب تک راہِ خدامیں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔

جود وسخاوت اور ایثار کا معنیٰ:

      ایک قول کے مطابق جُود،سخاوت اور ایثار کے ایک ہی معنی ہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ جو شخص بعض مال دے دے اور بعض رکھ لے وہ سخی ہے،جو اکثر مال خرچ کردے وہ جَوّاد(فیاض) ہے اور جو اپنے پاس موجودچیز دوسرے کو دے کر خود تکلیف برداشت کرے وہ ایثار کرنے والا ہے۔اصل سخاوت دل کا فیا ض ہونا ہے، بعض اوقات دینے والا بھی بخیل ہوتا ہے جبکہ یہ خرچ کرنا اس پر گراں ہو جبکہ نہ  دینے والا سخی ہوتا ہے جبکہ دینا اس کے دل پر بھاری نہ ہو۔

مرتے دم بھی ایثار:

      حضرت سیِّدُناابوجَہْم بن حُذیفہ عَدَوِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا بیان ہے کہ جنگِ یرموک کے دن میں نے اپنے چچازاد کو مقتولین میں تلاش کیا ۔اس وقت میرے پاس پانی موجود تھا اور میرا یہ ارادہ تھا کہ اگر ان میں زندگی کی رَمَق باقی ہوئی تو یہ پانی انہیں پلاؤں گا۔آخر میں نے مقتول افراد کے درمیان انہیں زخمی حالت میں پالیا اور پوچھا:کیا میں آپ کو پانی پلاؤں ؟ انہوں نے اشارے سے اثبات میں جواب دیا،اچانک قریب سے کسی شخص کی آہ کی آواز آئی، میرے چچازاد نے اشارے سے مجھے کہا کہ اس شخص کے پاس جاکر پہلے اسے پانی پلاؤ۔میں اس شخص کے پاس گیا تو دیکھا کہ وہ حضرت سیِّدُنا ہشام بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو پانی پلاؤں ،انہوں نے اشارے سے ہاں میں جواب دیا۔اتنے میں ایک اور شخص کی کراہنے  کی آواز سنائی دی تو انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ پہلے اس کے پاس جاؤ۔میں اس شخص کے پاس پہنچاتو اس کی روح قفَسِ عنصری سے پروا ز کرچکی تھی ،میں حضرت سیِّدُنا ہشام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لوٹا تو وہ بھی خالِقِ حقیقی سے جاملے تھے،وہاں سے میں اپنے چچا زاد کے پاس واپس آیا تو وہ بھی مرتبَۂ شہادت پر فائز ہوچکے تھے۔


 

ایثار کی عجیب حکایت:

      حضرت سیِّدُناابومحمداَزْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ مَرْوَ میں ایک مسجد جل گئی تو مسلمانوں نے یہ گمان کیا کہ اسے عیسائیوں نے جلایا ہے اور اس کے ردعمل میں انہوں نے عیسائیوں کے کئی گرجاگھر جلا دیئے۔ بادشاہ نے گرجا جلانے والے کئی مسلمانوں کو گرفتار کرلیا اور پرچیا ں لکھیں جن میں سے کسی پر ہاتھ کاٹنے،کسی پر کوڑے لگانے اور کسی پر قتل کرنے کی سزا تحریر تھی،پھر یہ پرچیاں ان قیدیو ں پر بکھیر دیں ۔ جس شخص پر جو پرچی گری اس کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا۔ایک شخص کے ہاتھ میں وہ پرچی آئی جس میں قتل کا لکھا ہوا تھا،اس شخص نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!اگر میری ماں نہ ہوتی تو مجھے اپنے قتل کی کوئی پرواہ نہ ہوتی۔ اس شخص کے برابر میں موجود ایک نوجوا ن کہا:میری پرچی میں کوڑوں کی سزا درج ہے اور میری ماں زندہ نہیں ہے،تم میری پرچی لے لو اور اپنی پرچی مجھے دے دو،چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا،اس طرح وہ نوجوان قتل کردیا گیا اور اس شخص کی جان بچ گئی۔

ہم مہمان کو باسی کھانا نہیں کھلاتے:

      حضرت سیِّدُناقیس بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےپوچھاگیا:کیاآپ نےکبھی اپنےسےبھی زیادہ سخی شخص دیکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا:ہاں !ہم جنگل میں ایک عورت کے گھر پہنچے،جب اس کا شوہر آیا تو اس نے کہا:ہمارے گھرمہمان آئے ہیں ۔ اس شخص نے ایک اونٹ لاکر نحر کیا اور کہا :یہ آپ حضرات کے لئے ہے۔ اگلا دن آیا تو اس نے ایک اور اونٹ لاکر نحر کیا اور کہا:یہ آپ لوگوں کے لئے ہے۔ہم نے کہا کہ جو اونٹ آپ نے کل نحر کیا تھا اس میں سے بھی ہم نے تھوڑا سا ہی کھایا ہے۔اس شخص نے جواب دیا کہ میں اپنےمہمانوں کوباسی کھانانہیں کھلاتا۔بارش کےسبب ہم چنددن اس شخص کےپاس ٹھہرےاوروہ روزانہ ایساہی کرتا رہا۔ جب ہم نے وہاں سے جانے کا ارادہ کیا تو گھر میں سو دینار رکھ دیے اور عورت سے کہا کہ ہماری طرف سے اپنے شوہرسے معذرت کرلینا،یہ کہہ کر ہم وہاں سے روانہ ہوگئے۔جب دن کا وقت ہوا تو اچانک ایک شخص ہمارے پیچھے سے یہ آواز لگاتا ہوا آیا:اے ذلیل سوارو!ٹھہر جاؤ!تم ہمیں ہماری مہمان نوازی کی اجرت دیتے ہو۔پھر وہ ہمارے پاس پہنچا اور وہ دینار لوٹاتے ہوئے کہنے لگا:انہیں واپس لے لو ورنہ میں اپنے اس نیزے سے تمہیں زخمی کردوں گا،ہم نے وہ دینار لئے تو وہ واپس چلا گیا۔


 

سخاوت اچھائیوں کی بنیاد ہے:

       ایک داناکا قول ہے:تمام اچھی صفات کی بنیاد سخاوت ہے جبکہ سخاوت کی بنیاد دل کا حرام سے پاک ہونا اور اپنی مملوکہ چیزوں کا خاص وعام کو دینا ہے ،دیگر تمام اچھی صفات اس کی فرع ہیں ۔

سخی کی خطاؤں سے درگزر کرو:

       سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:سخی کی خطاؤں سے درگزر کرو کیونکہ وہ جب بھی ٹھوکر کھاتا ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے([36]) اور وہ جب بھی محتاج ہوتا ہے تواس کے لئے کشادگی فرمادیتا ہے۔

”نہیں “ سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا:

       حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے :کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے انکار فرمایا ہو۔

       حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:سخی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے،لوگوں سے اور جنت سے قریب جبکہ جہنم سے دور ہے اور بخیل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے،لوگوں سے اور جنت سے دورجبکہ دوزخ سے قریب ہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو جاہل سخی  بخیل عابد سے زیادہ محبوب ہے۔ ([37])

       ایک بزرگ کا قول ہے کہ موجود چیز کو دینے سےمنع کردینا معبودِ حقیقی سے بدگمانی ہے،پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹) (پ۲۲،سبا:۳۹)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔

       حضرت سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا فرمان ہے کہ پہلے کے لوگ قرض کو بھلائی نہیں سمجھتے تھے([38])۔

       اہل عرب کے حکیم اکثم بن صیفی کا قول ہے کہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے والا گرتا نہیں ہے اور اگر گر بھی جائے تو اسے کوئی نہ کوئی سہارا مل جاتا ہے۔


 

بھلائی میں کوئی اسراف نہیں :

      مامون کے وزیر حسن بن سہل سے کہا گیا:”لَا خَیْرَ فِی السَّرَفِ یعنی اسراف میں کوئی بھلائی نہیں ۔“یہ سن کر اس نے کہا :” لَا سَرَفَ فِی الْخَیْرِیعنی بھلائی کے کاموں میں کوئی اسراف نہیں ۔“ایک  لفظ کو بدل کر اس نے ایک جامع بات کردی۔

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا:تم اپنی خوراک سے زیادہ جو مال جمع کرو اس میں تم دوسروں کے خزانچی ہو۔

      حضرت سیِّدُنا اسماء بن خارجہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے:مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ کسی حاجت مند کو اس کی حاجت پوری کئے بغیر واپس لوٹادوں ،اگر وہ عزت دار ہو تو میں اس کی عزت بچاتا ہوں اور اگر ذلیل ہو تو اپنی عزت کو اس سے بچاتا ہوں ۔

دوستوں کی مدد کرنے کا احسن انداز:

      حضرت سیِّدُنا مُوَرِّق عِجْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی انتہائی احسن انداز میں اپنے دوستوں کے دل میں خوشی داخل کیا کرتے تھے،اپنے کسی دوست کے پاس مال کی تھیلی رکھ کر اس سے فرماتے:میرے واپس آنے تک اسے اپنے پاس رکھو،پھر اسے پیغام بھیج دیتے کہ یہ تمہارے لئے حلال ہے۔

      حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنی ایک زمین سات لاکھ درہم کے عوض فروخت فرمائی۔جب رقم پہنچی تو آپ نے ارشاد فرمایا:ایک شخص اس حالت میں رات گزارتا ہے کہ یہ مال اس کے پاس ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والاہے،ایسا شخص ضرور دھوکے کا شکار ہے،پھرآپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے وہ مال مسلمانوں میں تقسیم فرمادیا۔

      حضرت سیِّدُنامُنکَدِررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض گزارہوئے:اے اُمُّ المؤمنین!میں فاقہ کشی کا شکار ہوں ۔اُمُّ المؤمنین نے ارشاد فرمایا:میرے پاس کوئی چیز موجود نہیں ہے،اگر میرے پاس 10ہزار درہم بھی ہوتے تو میں وہ تمہارے پاس بھیج دیتی۔حضرت سیِّدُنا منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب اُمُّ المؤمنین کے پاس سے واپس چلے گئے  تو اُمُّ المؤمنین کے پاس حضرت سیِّدُنا خالد بن اُسید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف سے 10ہزار درہم آئے جو آپ نے ان کی طرف بھیج دیئے۔حضرت سیِّدُنا منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  وہ رقم


 

لے کر بازار گئے اور ایک ہزار درہم کے عوض ایک لونڈی خریدی جس سے آپ کے تین بیٹے پیدا ہوئے اور وہ تینوں مدینۂ منورہ کے بہت بڑے عبادت گزار تھے۔ان تینوں کے نام محمد ،ابوبکر اور عمر ہیں رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی۔

اہل ایمان عربوں میں سب سے بڑے سخی:

      اسلام کی حالت میں عرب میں سب سے زیادہ سخی حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَـیْدُاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  تھے۔ ایک شخص نے ان کی خدمت میں حاضرہوکراپنی رشتہ داری کےواسطےسےسوال کیاتوآپ نےفرمایا:فلاں مقام پر میرا ایک باغ ہے اور مجھے اس کے عوض ایک لاکھ درہم دیئے گئے ہیں جو آج رات کو ملیں گے،اگر تم چاہو تو مال لے لو اور چاہو تو وہ باغ حاصل کرلو۔

      حضرت سیِّدُنازیادبن جریرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَبِیْرکابیان ہے:میں نےحضرت سیِّدُناطلحہ بنعُبَـیْدُاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھاکہ آپ نےایک مجلس میں ایک لاکھ درہم تقسیم فرمادیئےاوراپناازار ہاتھ سے سینے لگے۔

رشتہ اخوت کے سبب حاجت پوری کرنا:

      حضرت سیِّدُناامام ابوعلی قالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیاپنی کتاب’’الامالی‘‘ میں ذکرکرتےہیں کہ ایک شخص نےحضرت سیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی:میرے اور آپ کے درمیان جو رشتہ ہے میں اس کا واسطہ دے کرپوچھتاہوں کہ آپ میری حاجت کب پوری کریں گے؟حضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاستفسار فرمایا:کیا تم قریش سےتعلق رکھتےہو؟اس نےکہا:نہیں ۔پوچھا:پھرمیرےاورتمہارےدرمیان کون سارشتہ ہے؟اس نے کہا:حضرت سیِّدُنا آدم صَفِیُّاللہعَلَیْہِ السَّلَام (کی اولاد ہونے)کا رشتہ۔یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:یہ ایک ایسا رشتہ ہے جسے منقطع کردیا گیا ہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم !میں اسے ملانے والا پہلا شخص بنوں گا،پھر آپ نے اس کی حاجت پوری فرمادی۔

ہم ہانڈیاں  خالی نہیں دیا کرتے:

      منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا اشعث بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے ان کے والد حاتم طائی کی چند ہانڈیاں عاریۃً مانگیں تو آپ نے انہیں مال سے بھر کر ان کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا:ہم انہیں خالی حالت میں نہیں دیا کرتے۔

دینے کا عجیب انداز:

      حضرت سیِّدُنااستاذابوسہل صعلوکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سخی لوگوں میں تھے،آپ کوئی چیز کسی کے ہاتھ میں نہیں دیتے


 

تھے بلکہ اسے زمین پر رکھ دیتے تھے اور لینے والا اسے زمین سے لے لیتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ارشاد فرماتے تھے کہ دنیا کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر نظر آئے۔

      فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہے:”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“([39])

سخاوت کیا ہے؟

      حضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےحضرت سیِّدُناامام حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےپوچھاکہ کرم(سخاوت)کیا ہے؟ ارشاد فرمایا:اچھائی کے ساتھ سوال سے پہلے بِن مانگے عطا کرنااور سائل پرشفقت و مہربانی کرتے ہوئے خوش دلی کے ساتھ خرچ کرنا۔

سائل کو چار ہزار درہم دے دیئے:

      ایک قریشی سفر سے واپس لوٹ رہا تھا کہ راستے میں اس کا گزر ایک مفلس وبیمار دیہاتی کے پاس سے ہوا۔ دیہاتی نے اسے مدد کے لئے پکارا تو اس نے اپنے غلام سے کہا:جو کچھ ہمارے خرچ سے بچا ہوا ہے وہ اس شخص کو دے دو۔غلام نے اُس شخص کی گود میں چار ہزار درہم ڈال دیئے۔وہ اٹھنے لگا لیکن کمزوری کے باعث اٹھ نہ سکااور روپڑا۔قریشی نے پوچھا:تم کیوں روتے ہو؟شاید تم نے ہمارے عطیہ کو کم سمجھا ہے۔اس دیہاتی نے کہا:یہ بات نہیں ہے بلکہ میں اس وجہ سے رورہا ہوں کہ زمین تیرے کرم کو بھی کھا جائے گی۔

دوست کی خبرگیری نہ کرنے پر افسوس:

      ایک شخص اپنے دوست کے گھر گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔دوست نے باہر نکل کر حاجت دریافت کی تو اس نے کہا کہ مجھ پر اتنا اتنا قرض ہے۔دوست نے گھر کے اندر جاکر اسے اتنی رقم لادی جو اس پر قرض تھی اور پھر گھر کے اندر جاکر رونے لگا۔اس کی زوجہ نے کہا کہ اگر اس کی ضرورت کو پورا کرنا آپ پر گِراں تھا تو پھر کوئی عذر کیوں نہیں کردیا؟جواب دیا:میں اس لئے رورہا ہوں کہ میں نے اپنے دوست کی خبر گیری نہیں کی یہاں تک کہ اسے میرے دروازے پر آکر مانگنا پڑا ۔

سیِّدُنا عبداللہبن ابوبکررَضِیَ اللہُ عَنْہ کی سخاوت:

      منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جو کہ بہت بڑے سخی تھے ایک مرتبہ راستے میں


 

انہیں پیاس لگی تو انہوں نے ایک عورت کے گھر سے پانی مانگا۔عورت نے پانی کا برتن نکالا اور دروازے کے پیچھے سے کہا:دروازے کے سامنے سےہٹ جاؤ اور تم میں سے کوئی بچہ یہ برتن لے لے کیونکہ میں اکیلی عورت ہوں ،کچھ عرصہ قبل میرے شوہرکاانتقال ہوا ہے۔حضرت سیِّدُناعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےپانی نوش فرماکرغلام سےفرمایا:اس عورت کو 10ہزاردرہم دےدو۔عورت نےکہا: سُبْحٰنَ اللہ! کیاآپ مجھ سےمذاق کرتےہیں ۔آپ نےفرمایا:اےغلام!اسے20 ہزاردرہم دےدو۔یہ سن کر عورت نے کہا:میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے عافیت کا سوال کرتی ہوں ۔اس پر آپ نے غلام سے فرمایا کہ اسے 30ہزار درہم دے دو۔شام ہونے سے پہلے پہلے اس عورت کے لئے کئی افراد کی طرف سے نکاح کا پیغام آگیا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنےپڑوس کےگھروں میں سےدائیں بائیں اورآگے پیچھے کے40،40 گھروں کے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے،عید کے موقع پر انہیں قربانی کا گوشت اور کپڑے بھیجتے اور ہر عید پر100غلام آزاد کیا کرتے تھے۔

مقروضوں پر سخاوت:

       حضرت سیِّدُنا قیس بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بیمار ہوئے تو ان کے دوستوں نے ان کی عیادت کے لئےآنےمیں تاخیرکردی۔آپ نےان کےبارےمیں دریافت کیاتوبتایاگیاکہ ان پرآپ کا جو اُدھار ہے اس کےسبب وہ آپ کےپاس آنےسےشرمارہےہیں ۔یہ سن کرآپ نےفرمایا:اللہعَزَّ  وَجَلَّ اس مال کا بُرا کرے جو میرے بھائیوں کو میری ملاقات سے روکتاہے،پھر آپ نے ایک شخص کوحکم دیاکہ وہ یہ اعلان کردے:”جس شخص کے پاس قیس کا کچھ مال ہوتووہ اس کےلئے حلال ہے۔“پھرتوعیادت کےلئےآنےوالےلوگوں کی کثرت کےباعث آپ کےگھرکےدروازے کی دہلیز ٹوٹ گئی۔

سخیوں کے بادشاہ:

       حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سخاوت میں بہت بڑا مرتبہ تھا اور اس حوالے سے آپ کے ایسے ایسے عجیب وغریب واقعات ہیں کہ سننے والے کے لئے ان پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہرسال آپ کو10لاکھ درہم دیاکرتےتھےلیکن آپ وہ ساری رقم لوگوں میں تقسیم فرمادیتےاورہمیشہ مقروض رہتے تھے۔

       ایک شخص نے اپنے ایک جانور کو خوب پال کر موٹا تازہ کیا اور پھر اسے بیچنے کے لئے نکلا۔راستے میں اس کا گزر حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا:اے جانور والے!کیا اسے بیچو گے؟اس نے عرض کی:میں اسے بیچوں گا نہیں بلکہ یہ آپ کے لئے تحفہ ہے۔وہ شخص جانور کو آپ کے پاس چھوڑ کر اپنے


 

 گھرواپس آگیا،ابھی کچھ ہی دیرہوئی تھی  کہ20باربردارافراداس کے گھرآپہنچےجن میں سے10نے گندم،پانچ نے گوشت اورکپڑے ،چار نے پھل اورخشک میوہ جات جبکہ ایک نے نقدی اٹھا رکھی تھی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس جانور والے کو یہ تمام اسباب و مال بھی عطا فرمائے اور اس سے معذرت بھی فرمائی۔

       حضرت سیِّدُناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا جب انتقال ہوا توحضرت سیِّدُنا عبداللہبن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوفد کی صورت میں یزید کے پاس آئے۔یزید نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا:میرے والد آپ کو کتنا مال دیا کرے۔حضرت سیِّدُنا عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:سالانہ 10لاکھ درہم۔ یزید نے کہا :میں اس عطیہ سے آپ کو دُگنا دیتا ہوں ۔کسی نے یزید سے کہا:تم نے اتنا سارا  مال ایک شخص کو دے دیا؟یزید نے کہا:بخدا!میں نے ان کے ذریعے تمام اہل مدینہ کو مال دیا ہے۔پھر یزید نے ان کی صحبت میں ایک شخص  کو مقرر کیا جس نے دیکھا کہ مدینہ پہنچ کر حضرت سیِّدُناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سارا مال اہل مدینہ میں تقسیم کردیاحتّٰی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک مہینہ کے بعد مقروض ہوگئے۔ 

مہمان نوازی کا عظیم بدلہ:

       ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر ،حضرات حسنین کریمین اور حضرت سیِّدُنا ابودِحْیہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ مَکۂ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں ان حضرات کو بارش نے آلیا، انہوں نےایک اعرابی کے خیمے میں پناہ لی اور اس کے پاس تین دن قیام فرمایا یہاں تک کہ بارش کا سلسلہ رُک گیا۔اعرابی نے ایک بکری ذبح کرکے ان کی مہمان نوازی کی،جب یہ حضرات وہاں سے رُخصت ہونے لگے تو حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اعرابی سے فرمایا:اگر تم مدینہ منورہ حاضری دو تو  ہمارے پاس بھی آنا۔

       چند سال کے بعد وہ اعرابی محتاج ہوگیا تو اس کی بیوی نے مشورہ دیا کہ مدینہ منورہ حاضر ہوکر ان نوجوانوں سے ملاقات کرو۔اعرابی نے کہا:میں تو ان کے نام بھی بھول چکا ہوں ۔بیوی نے کہا:ابن طیار (حضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن جعفر طیّار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کے بارے میں پوچھ لینا۔اعرابی مدینے پہنچ کر حضرت سیِّدُنا امامِ حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے100اونٹنیاں ،100اونٹ اور100غلام چرواہےدےدیئےجائیں ۔پھر وہ حضرت سیِّدُنا امام حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضرہوکرعرض گزارہوا:ابومحمد(یعنی امام حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نےمیری اونٹوں کی ضرورت پوری فرمادی ہے،آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاسےایک ہزاربکریاں دینےکاحکم فرمایا۔اس کےبعدوہ حضرت


 

سیِّدُناعبْدُاللہ بن جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:آپ کے  بھائیوں نے اونٹ اور بکریوں کے معاملے میں مجھے کفایت فرمادی ہے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاسے ایک لاکھ درہم دینے کا حکم فرمایا۔یہاں سے ہونے کے بعد وہ حضرت سیِّدُنا ابودحیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی قسم!ان تینوں نے تمہیں جو کچھ دیا ہے میرے پاس اتنا نہیں ہے لیکن تم اپنے اونٹ میرے پاس لے آؤ تو میں انہیں کھجوروں سے لاد دوں گا۔اس دن کے بعد سے اعرابی خوش حالی کی زندگی گزارنے لگا۔

      ایک دن حضرات حسنین کریمین نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ارشاد فرمایا:آپ مال خرچ کرنے میں اسراف کرتے ہیں ۔انہوں نے فرمایا:آپ دونوں پر میرے والد قربان ہوں !اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے اس بات کا عادی بنادیا ہے کہ وہ مجھ پر فضل وکرم فرماتا ہے جبکہ میرا یہ معمول ہے کہ میں اس کے بندوں پر فضل کرتا ہوں ۔میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میں اپنی عادت کو ختم کروں تو کہیں وہ بھی مجھ سے اپنے فضل وکرم کو منقطع نہ فرمادے۔

ایک شاعر پر انعام و اکرام:

      نصیب نامی شاعر نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تعریف کی تو آپ نے اسے گھوڑے،مال واسباب اور درہم ودینار دینے کا حکم دیا۔ایک شخص نے کہا:آپ ایک سیاہ فام شخص کو اتنا مال دے رہے ہیں ۔ارشاد فرمایا:اگر اس کا رنگ سیاہ ہے تو اس کی تعریف سفید ہے اور اس نے جو کچھ کہا ہے اس کے سبب وہ اس سے زیادہ کا مستحق ہے جو اس نے پایا ہے۔ہم نے تو اسے صرف پُرانے ہوجانے والے کپڑے اور فنا ہونے والا مال دیا ہے جبکہ اس نے ہمیں ایسی تعریف عطا کی ہے جسے روایت کیا جائے گا اور ایسی توصیف ہے جو باقی رہے گی۔

ایک غلام کی سخاوت:

      حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک دن اپنی زمین کی طرف روانہ ہوئے،راستے میں آپ ایک دیوار کےپاس ٹھہرےجس کےساتھ ایک شخص کاباغ تھااورایک سیاہ فام غلام اس باغ کی دیکھ بھال کرتاتھا۔اس غلام کو کھانے کے لئے تین روٹیاں دی گئیں ،اتنے میں ایک کتا وہاں آپہنچا،غلام نے ایک روٹی اس کے آگے ڈالی تو وہ کھاگیا،پھر دوسری اورتیسری روٹی بھی اس کے آگے ڈالیں جنہیں کتے نے کھالیا۔حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ منظر ملاحظہ فرمارہے تھے،آپ نے دریافت فرمایا: اے غلام!پورے دن میں تمہیں کتنا کھانا ملتا ہے؟اس نے کہا:وہی جو آپ


 

 نے ملاحظہ فرمایا۔ پوچھا:تم نے یہ روٹیاں کتے کو کیوں دے دیں ؟اس نے عرض کی:ہمارے اس علاقے میں کتے نہیں ہوتے، یہ کتا کہیں دور سے بھوکا آیا ہے تو میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اسے واپس لوٹادوں ۔دریافت فرمایا: اب تم پورا دن کیسے گزاروگے؟غلام بولا:آج کے دن میں بھوکا رہوں گا۔یہ سن کرحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:بہت زیادہ سخاوت کرنے پر مجھے ملامت کی جاتی ہے لیکن یہ غلام تو مجھ سے بھی زیادہ سخی ہے۔پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ باغ،اس میں موجود کھجور کے درخت، مال واسباب اور اس غلام کو خریدا اور پھر اسے آزاد کرکے باغ اور اس میں موجود درخت ومال واسباب اس کی ملک کردیئے۔ غلام نے کہا:اگر یہ سب میرا ہے تو میں اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں ۔ اس کےاس عمل سے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبہت متاثر ہوئے اور ارشاد فرمایا:یہ شخص تو سخاوت کرے اور میں بخل کروں !ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

دھوپ سے بچانے پرانعام و اکرام:

      حضرت سیِّدُنا عُبَـیْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بہت بڑے سخی تھا۔ایک دن آپ اپنے گھر کے صحن میں موجود تھے کہ ایک شخص آکر آپ کے سامنے کھڑا ہوا اور عرض کی:اے ابن عباس!میرا آپ پر ایک احسان ہے اور مجھے اس کے بدلے کی حاجت ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے غور سے دیکھا لیکن پہچان نہ سکے،دریافت فرمایا:تمہارا مجھ پر کیا احسان ہے؟اس نے عرض کی:ایک دفعہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زم زم شریف کے کنویں کے پاس موجودتھے،آپ کا غلام آپ کے لئے کنویں سے آبِ زم زم نکال رہا تھا اور سورج کی تپش آپ کوپہنچ رہی تھی،یہ دیکھ کر میں نے اپنی چادر سے آپ پر سایہ کردیا یہاں تک کہ آپ آبِ زم زم نوش فرماکر فارغ ہوگئے۔حضرت سیِّدُنا عُبَـیْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نےفرمایا: ہاں ،مجھے یہ بات یاد آگئی،پھر آپ نے غلام سےفرمایا:تمہارےپاس کتنامال موجودہے؟اس نےعرض کی:200دیناراور10ہزار درہم۔ ارشاد فرمایا:یہ سب اسے دے دو اور میں نہیں سمجھتا کہ ان سے اس کے احسان کا بدلہ پورا ہوگیا ہو۔

سخاوت کا حیلہ:

     حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا حضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آئے تو آپ نے انہیں نوروز کے ہدایا میں سے بہت ساری عمدہ پوشاکیں ،مشک اور سونے چاندی کے ظروف دیئے اور اپنے دربان کے ساتھ ان چیزوں کو آپ کے پاس بھیجا۔دربان نے جب یہ چیزیں حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے


 

 پاس رکھیں تو انہوں نے دیکھا کہ دربان ان چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُس سے کہا:کیا تمہارے دل میں ان چیزوں کی چاہت ہے؟دربان نے کہا: ہاں بخدا!میرے دل میں ان چیزوں کی ایسی چاہت ہے جیسی حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کے دل میں حضرت سیِّدُنایوسف عَلَیْہِ السَّلَامکی چاہت تھی۔یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مسکرا پڑے اور کہا:اسے لے لو یہ سب تمہارا ہوا۔دربان نے کہا:میری جان آپ پر قربان!مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر حضرت سیِّدُناامیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ معلوم ہوا تو وہ مجھ سے  ناراض ہوں گے۔حضرت سیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا:تم اس مال پر اپنی مہر لگاکر خزانچی کے پاس جمع کرادو،جب میرا یہاں سے نکلنے کا ارادہ ہوگا تو میں یہ مال رات کو تمہارے پاس بھجوادوں گا۔دربان نے کہا:بخدا!سخاوت کے لئے یہ حیلہ تو سخاوت سے بھی بڑھ کر ہے۔

حاتم طائی کو بھول جاتے:

       ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: اےمحمدِ مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےچچازاد!رات میرےیہاں بچےکی ولادت ہوئی ہےاورمیں نےآپ سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام آپ کے نام پر رکھا ہے مگر اس بچے کی ماں فوت ہوگئی ہے۔حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےفرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّتمہارے اس تحفے(یعنی بیٹے)میں تمہیں برکت عطا فرمائے اور تمہاری مصیبت(یعنی بیوی کی موت)پرتمہیں اجر عطا فرمائے، پھر اپنے وکیل کو بُلاکرفرمایا:اسی وقت جاکربچےکےلئےایک لونڈی خریدوجواس کی پرورش کرے اور بچے کے باپ کو200دینار دے دو تاکہ انہیں بچے کی تربیت پر خرچ کرسکے۔اس کے بعدآپ نےانصاری سےفرمایا:چنددنوں کےبعددوبارہ ہمارےپاس آناکیونکہ فی الحال ہماری حالت تنگ اورمال میں کمی ہے۔انصاری نے عرض کی:میں آپ پر قربان ہوجاؤں !اگر آپ حاتم طائی سے ایک دن بھی پہلے ہوتے تو عرب اس کا تذکرہ نہ کرتے۔

معن بن زائدہ کی سخاوت:

       معن بن زائدہ جن دنوں عراق پر حاکم ہونے کی وجہ سے بصرہ میں تھا تو اس کے دروازے پر ایک شاعر آیا وہ معن بن زائدہ  کے پاس جانے کے لیے ایک عرصہ تک وہاں مقیم رہا لیکن اسے کامیابی نہ ہوسکی، ایک دن اس نے معن بن زائدہ کے خادم سے کہا:جب امیر باغ میں داخل ہو تو مجھے بتادینا جب امیر باغ میں داخل ہوا  تو خادم نے اسے اطلاع دے دی۔ شاعر نے لکڑی پرایک شعر لکھا اور باغ میں داخل ہونے والے پانی میں ڈال دیا،امیرمعن بن زائدہ پانی کے کنارے ہی


 

بیٹھا تھا جب لکڑی کودیکھا تواٹھا کر اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگاکہ’’اے معن کی سخاوت تو ہی اس سے میری حاجت کہہ دے، معن کے پاس تیرے سوا میرا کوئی سفارشی نہیں ۔“ معن بن زائدہ نے پوچھا یہ کس نے لکھا ہے؟چنانچہ اس شخص کو بُلایاگیااوراس سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ شعر کیوں کہا؟ اس نے وجہ بتائی تو امیرنے اسے10ہزار درہم کی دس تھیلیاں دینے کا حکم دیا اس نے وہ تھلیاں لے لیں  اورامیر نے لکڑی اپنے بچھونے کے نیچے رکھ لی۔ جب دوسرا دن آیاتو اس نے اسے بچھونے کے نیچے سے نکال کر پڑھا اور اس شاعر کو بلاکر اسے ایک لاکھ درہم دیئے اس نے لے لئےلیکن سوچنے لگا کہ کہیں امیراس سے یہ درہم  واپس نہ لے لے یہ سوچ کر وہ وہاں سےکہیں چلا گیا جب تیسرا دن ہوا تو امیر معن بن زائدہ نے پھر وہ شعر پڑھا اور اس شاعر کو بلایا اسے ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہ ملا۔ معن بن زائدہ  نے کہا :مجھ پر لازم ہے کہ میں اسے اتنا دوں  کہ میرے گھر میں ایک درہم اور ایک دینار بھی باقی نہ رہے۔

حجام کو مالا مال کردیا:

      ابویَقْظان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یزید بن مُہَلَّب نے جب حج کیا تو سر منڈانے کے لئے کسی حَجّام کو طلب کیا۔ایک حجام کو لایا گیا جس نےاس  کا سر مونڈا تواس   نے اسے پانچ ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔یہ سن کر حجام ہکا بکا رہ گیا اور کہنےلگا:یہ پانچ ہزار لے کر میں اپنی بیوی کے پاس جاکر اسے بتاؤں گا کہ میں غنی ہوگیا ہوں ۔یزید نے کہا:اسےپانچ ہزار درہم مزید دے دو۔حجام نے کہا:اگر میں آپ کے بعد کسی اور کی حجامت کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے([40])۔

قید کی حالت میں بھی سخاوت:

      منقول ہے کہ یزید بن مُہَلَّب پر لازم ہونے والے ایک لاکھ درہم خراج (ٹیکس) کی وجہ سے حجاج بن یوسف نے اسے قید کروادیا۔یزید جیل خانے میں تھا  کہ اتنی رقم جمع ہوگئی۔ فرزدق شاعر اس سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا اور داروغہ سے کہا کہ میرے لئے ان سے اجازت طلب کرو۔داروغہ نے جواب دیا:وہ ایسی جگہ موجود ہیں جہاں ان سے ملاقات ممکن نہیں ہے۔فرزدق نے کہا: میں ان کی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرنے آیا ہوں نہ کہ ان کی تعریف کرنے۔داروغہ نےیزید  سے اجازت لے لی،جب فرزدق نے یزید کو دیکھا تو یہ اشعار کہے:

اَبَا خَالِدٍ ضَاقَتْ خُرَاسَانَ بَعْدَكُمْ                                                             وَقَالَ ذَوُو الْحَاجَاتِ اَيْنَ يَزِيْدُ


 

فَمَا قَطَرَتْ بِالشَّرْقِ بَعْدَكَ قَطْرَةٌ                                                                                   وَلَا اخْضَرَّ بِالْمَرْوِيْنَ بَعْدَكَ عُوْدُ

وَمَا لِسُرُوْرٍ بَعْدَ عِزِّكَ بَهْجَةٌ                                                                                 وَمَا لِجَوَادٍ بَعْدَ جُوْدِكَ جُوْدُ

          ترجمہ:(ا)…اےابوخالد!آپ کے بعد خراسان تنگ ہوگیا ہے اور حاجت مند لوگ پوچھتے ہیں کہ یزید کہاں ہیں ؟ (۲)…تمہارے بعد مشرق میں ایک قطرہ بھی نہیں برسا  اور نہ ہی آپ کے بعد مروین کے کسی درخت میں سبزہ اگاہے۔ (۳)…تمہاری غیرموجودگی میں کسی خوشی میں مزہ نہیں اور نہ ہی تمہاری سخاوت کے بعد کسی کی سخاوت ہے ۔

      یزید بن مہلب نے داروغہ سے کہا:میرے جو ایک لاکھ درہم جمع ہوئے ہیں وہ اسے دے دو اور حجاج میرے ساتھ جو کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دو۔داروغہ نے فرزدق سے کہا:اسی بات کے خوف سے میں نے تمہیں ان سے ملاقات کرنے سے منع کیا تھا،پھر داروغہ نے وہ ایک لاکھ درہم اسے دیئے  اور وہ انہیں لے کر واپس چلا گیا۔

میں تو خود کو جانتا ہوں :

      یزیدبن مہلب حضرت سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی جیل سےنکل کر ایک اعرابی بڑھیا کے پاس سے گزرا  تو اس نے اس  کے لئے ایک بکری ذبح کی۔یزید نے اپنے بیٹے سے کہا: تمہارے پاس کتنی رقم ہے؟اس نے جواب دیا: ایک سو دینار۔کہا:وہ سب اسے دے دو۔بیٹے نےکہا :اس بڑھیا کو تو تھوڑی سی رقم بھی راضی کردے گی اور یہ آپ کو جانتی بھی نہیں ہے۔کہا : اگرچہ اسے تھوڑی رقم بھی راضی کردے گی لیکن میں اسے کثیر رقم دیئے  بغیر راضی نہیں ہوں گا اور اگرچہ یہ مجھے نہیں جانتی لیکن میں تو اپنے آپ کو جانتا ہوں ۔

      مروان بن ابوحبوب شاعر نے کہا:ایک مرتبہ متوکل نے مجھےایک  لاکھ 20 ہزار درہم،50جوڑے اور کثیر سواریاں دیں ، میں نے اس کے شکرانے میں کچھ اشعار کہے پھر جب میں اس بات پر پہنچا کہ ’’اب بس بھی کریں کہیں مجھے آپ کی سخاوت باغی وسرکش نہ بنادے۔‘‘تو متوکل نے کہا:میں اس وقت تک بس نہیں کروں  گا جب تک تمہیں اپنی سخاوت کے سمندر میں ڈبو نہ دوں ۔پھر متوکل نے اُسے جاگیریں دینے کا حکم دیا جس کی قیمت دس لاکھ درہم تھی۔

      ابو العیناء نے کہا:ایک مرتبہ لوگوں نے سخاوت کا تذکرہ کیاتوسب نے اس بات پر اتفاق کیاکہ بنوامیہ میں آل مُہَلَّب اور بنوعباس میں بَرَامِکَہ سب سے بڑھ کر سخی تھے اور ان دونوں گروہ میں سب سے بڑھ کر احمد بن ابو داؤدسخی  تھا۔

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےفرمایا:جسے مجھ سے کوئی حاجت ہو تو وہ مجھے لکھ کر


 

 دے دیا کرے تاکہ اسے سوال کی ذلت نہ اٹھانی پڑے۔

سیِّدُناعَلی المرتضٰی کی رَضِیَ اللہُ عَنْہسخاوت:

      ایک اعرابی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: مجھے آپ سے ایک حاجت ہے لیکن بیان کرنے سےشرم آتی ہے۔ارشاد فرمایا:اسے زمین پر لکھ دو۔اعرابی نے لکھا:میں فقیر ہوں ۔آپ نے(اپنے غلام سے) فرمایا:اے قنبر!اسے میرا حُلّہ پہنادو۔اس پر اعرابی نے یہ اشعار کہے:

كَسَوْتَنِىْ حُلَّةً تَبْلِىْ مَحَاسِنُهَا                                                                           فَسَوْفَ اَكْسُوْكَ مِنْ حُسْنِ الثَّنَا حُلَلَا

اِنْ نِلْتَ حُسْنَ الثَّنَا قَدْ نِلْتَ مُكَرَّمَةً                                                 وَّلَيْسَ تَبْغِي بِمَا قَدَّمْتَهٗ بَدَلَا

اِنَّ الثَّنَاءَ لَيُحِيْ ذِكْرَ صَاحِبِهٖ                                                                                 كَالْغَيْثِ يُحِيْ نَدَاهُ السَّهْلَ وَالْجَبَلَا

لَا تَزْهَدِ الدَّهْرُ فِيْ عُرْفٍ بَدَاْتَ بِهٖ                                                                كُلُّ امْرَیءٍ  سَوْفَ يُجْزَي بِالَّذِيْ فَعَلَا

          ترجمہ:(۱)… آپ نے مجھے حُلّہ پہنایا ہے جس کی خوبیاں پرانی  ہوجائیں گی،لیکن میں آپ کو تعریف کےحُلّے  پہناؤں گا۔ (۲)…اگر آپ نے تعریف کو پایا تو گویا آپ نے عزت کو پایا اور آپ اپنے عمل کا کوئی بدلا نہیں چاہیں گے۔ (۳)…تعریف اپنے صاحب کا تذکرہ زندہ رکھتی ہے جیسے بارش زمین اور پہاڑ کو زندہ کرتی ہے۔(۴)…جس کام کا آپ نے آغاز کیا ہے لوگ اس سے بے رغبت نہیں ہوں گےعنقریب ہرشخص کواس کےکئےکابدلہ دیاجائےگا۔

      آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:اےقنبر!اسے100دینار دے دو۔قنبر نے عرض کی: اے امیر المؤمنین!اگر آپ یہ رقم دیگرمسلمانوں میں تقسیم فرمائیں تو اس سے اُن کا بَھلا ہوجائے گا۔فرمایا:اے قنبر!خاموش ہوجاؤ،میں نے سرکارِ مدینہ،قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشادفرماتےسناکہ جو تمہاری تعریف کرےاس کا شکر یہ ادا کرو اور جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو۔([41])

      کسی عربی نے اپنے بیٹے سے کہا:اے میرے بیٹے !نیکی سے منہ نہ موڑنا کیونکہ زمانہ بدلتا رہتا  ہے کتنے ہی رغبت رکھنے والے ایسے ہیں جو  پہلےمرغوب تھےاور کتنےہی طالب ایسے ہیں جو پہلے مطلوب تھے۔

      یحییٰ بن خالد بَرْمَکی نے کہا:دنیا جب تمہاری جانب آرہی ہو تو خرچ کرو کیونکہ خرچ کرنے سے وہ کم نہیں ہوگی اور جب وہ


 

منہ موڑ کر جارہی ہو تو بھی خرچ کرو کہ خرچ نہ کرنے سے کچھ بچ نہ جائے گا۔یحییٰ کے اس قول کو شعر میں یوں بیان کیا گیا ہے:

لَا تَبْخَلَنَّ بِدُنْیَا وَھِیَ مُقْبِلَةٌ

فَلَیْسَ یَنْقُصُھَا التَبْذِیْرُ وَالسَّرَفُ

وَاِنْ تَوَلَّتْ فَاَحْرٰی اَنْ تَـجُوْدَ بِھَا

فَالْحَمْدُ مِنْھَا اِذَا مَا اَدْبَرَتْ خَلَفُ

                             ترجمہ: جب دنیا آرہی ہو تو بخل ہر گز نہ کرو کیونکہ خرچ کرنے اور لٹانے سے وہ کم نہیں ہوگی  اور اگر وہ تجھ سے پیٹھ پھیرکر جارہی ہوتوبھی سخاوت زیادہ مناسب ہے کیونکہ جب وہ چلی جائے گی تو تعریف تو باقی رہے گی ۔

      ایک مرتبہ یحییٰ بن خالد بَرْمَکی نے اپنے بیٹے وزیر جعفر بَرْمَکی سے کہا:اے میرے بیٹے!جب تک تمہارا قلم حرکت کرتا رہے تم کرم کی بارش برساتے رہو۔

      حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےفرمایا:قلیل چیز دینے سے شرم نہ کرو کیونکہ دینے سے محروم رہنا اس سے بھی قلیل ہے۔

      مشہورادیب وشاعراسحاق موصلی سے مخلوع کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا:اس کا معاملہ بہت عجیب وغریب تھا۔وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کہاں بیٹھا ہے اور اس کی عطا اس شخص جیسی تھی جسے فقر وتنگ دستی کا کوئی خوف نہ ہو۔ایک دن اس کے پاس سلیمان بن ابو جعفر موجود تھا،اس نے اپنے اہلِ خانہ کے پاس واپس جانے کا ارادہ کیا تومخلوع نے اس سے پوچھا: تمہیں بَری سفر پسند ہے یا بحری سفر؟اس نے کہا:بحری سفر میرے لئے زیادہ آسان ہے۔مخلوع نے اپنے غلاموں سے کہا:اس کی کشتی کو سونے سے بھردو اور اس کے علاوہ دس لاکھ درہم دے دو۔

      حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 80 ہزار درہم میں ایک زمین بیچی توان سے کہا گیا:کتنا اچھا ہو کہ آپ اس رقم کو اپنی اولاد کے لئے جمع کرلیں ۔ارشاد فرمایا:میں تو اس رقم کو اپنے لئےجمع کروں گا اور اپنی اولاد کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کوچھوڑوں گا،پھر اس رقم کو حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیا۔

      مُہَلَّب کا قول ہے:اپنے مال سے غلام خریدنے والے پر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ سخاوت کے ذریعے آزاد لوگوں کو کیوں نہیں خریدتا۔

ہم مہمان کے جانےمیں مدد نہیں کرتے:

      قاضی ابو الْبَخْتَرِی وَہب بن وہب قرشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے پاس ایک مہمان آیا تو اس کے غلاموں نے جلدی


 

 جلدی اسے ٹھہرایا،اس کی خوب خدمت کی اور ہر طرح سے اس کا خیال رکھا لیکن جب اس نے وہاں سے روانگی کا ارادہ کیا تو کوئی اس کے پاس تک نہ آیا اور سب اس سے دور رہے۔اسے یہ بات ناگوار گزری  تو انہوں نے بتایا کہ ہم مہمان کے آنے اور ہمارے یہاں قیام کرنے میں تو اس کی مدد کرتے ہیں لیکن یہاں سے جانے میں مدد نہیں کرتے۔

مستعین کی سخاوت:

      احمد بن حَمْدُون ندیم نے کہا:عباسی حکمران مُسْتَعِیْن بِاللہ کی والدہ نے ایک بچھونا بنایا جس میں ہر طرح کے جانوروں کی تصاویر بنائیں اور ہرپرندے کی تصویر سونے سے اور اس کی آنکھیں یواقیت وجواہر سے آراستہ کیں ۔اُمِّ مستعین نے اس پرایک لاکھ 30 ہزار دینار خرچ کئےاور اپنے بیٹے مستعین کو کہا کہ وہ اسے دیکھ لے۔ مستعین نے اسے دیکھنے میں سستی کی تو مجھے اور اُتْرُجَہ ہاشمی کو کہا :تم دونوں جاؤ اورجاکر اُس بچھونے کو دیکھ آؤ۔ ہمارے ساتھ دربان بھی تھا ہم وہاں گئے، دیکھا تو وہ بچھونا بہت خوبصورت تھا اور ہم نے دنیا میں اس سے زیادہ خوبصورت بچھونا کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے سونے سے بنی ایک ہرنی کی طرف ہاتھ بڑھایا جس کی آنکھوں میں دویاقوت تھے میں نے اسے اٹھاکر اپنی آستین میں چھپالیا۔پھر جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو مستعین کےپاس آکر ہم نے اس کی خوبصورتی کی بہت تعریف کی۔اترجہ نے کہا:اے امیرالمؤمنین! احمد نے وہاں سے کچھ چرایا ہے۔پھر اُس نے میری آستین سے سونے کی بنی ہرنی نکال کر دکھائی۔مستعین نے کہا:تم دونوں واپس جاؤ جتنا کچھ وہاں سے اُٹھا سکتے ہو اُٹھالو۔ہم واپس گئے اور جاکر سونے کی چیزوں اور جواہرات سے اپنی آستینیں اور گریبان بھر لئے پھر لوٹے تو ہم یوں چل رہے تھے جیسے کوئی حاملہ عورت چلتی ہے۔مُسْتَعِیْن نے ہمیں دیکھاتو ہنسنے لگا اور اس کے پاس بیٹھے ہم نشینوں نے کہا:اے امیرالمؤمنین!ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم اس سے محروم رہیں ؟مستعین نے کہا:اٹھو اور جاکر جتنا چاہتے ہو اٹھالو ۔ پھر مستعین ان کے راستے میں بیٹھ گیا اور یہ دیکھنے لگا کہ وہ کیسے اٹھاکر لے جاتے ہیں اور انہیں دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگا۔

مشک سےبھری سونے کی بالٹی:

      یزید مہلبی نےشاہی دربار میں ایک سونے کی بالٹی دیکھی جو مشک سے بھری ہوئی تھی اسے لیا اور چل پڑا۔مستعین نے اسے دیکھا تو کہا:کہاں کاارادہ ہے؟یزید نے کہا:اے امیرالمؤمنین!حمام جارہا ہوں ۔ مُسْتَعِیْن یہ سن کر ہنس پڑا اور خدام سےکہا:جو بچ جائے اسے تم لوگ لوٹ لو۔خدام نے جو باقی بچ گیا اسے لوٹ لیا تو مستعین کی والدہ آئیں اور کہا:خدا!


 

امیرالمؤمنین کو خوش رکھے میں یہ چارہی تھی کہ آپ اسے تقسیم سے پہلے دیکھ لیتےکیونکہ میں نے اس پرایک لاکھ 30 ہزار دینار خرچ کئے ہیں ۔مُسْتَعِیْن نے کہا:آپ  اس سونے کی بالٹی میں دوبارہ اتنا مشک جمع کردیں تاکہ میں پھر اسے تقسیم کردوں ۔مستعین کی والدہ نے دوبارہ وہ بالٹی مشک سے بھر دی تو مستعین نے  پھر پہلے کی طرح اسے تقسیم کردیا۔

سیِّدُناطلحہ بن عبداللہ عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی سخاوت:

      ایک روز مشہور سخی حضرت سیِّدُناقاضی طلحہ بن عبداللہبن عوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبازار میں داخل ہوئے تو ان کی ملاقات فرزدق شاعر سے ہوئی۔انہوں نے فرزدق سے کہا:ابوفراس!ریوڑ سے دس اونٹ منتخب کر لو ۔فرزدق نےمنتخب کر لئے ۔پھر کہا:دس اورمنتخب کر لو۔ کرتے کرتے جب تعداد سو تک پہنچ گئی تو کہا: یہ سب تمہارے ہوئے۔فرزدق شاعر نے یہ سخاوت دیکھ کر کہا:

يَا طَلْحَ اَنْتَ اَخُوْ النَّدٰى وَعَقِيْدُهٗ

 

اِنَّ النَّدٰى اِنْ مَاتَ طَلْحَةُ مَاتَا

اِنَّ النَّدٰى اَلْقٰي اِلَيْكَ رِحَالَهٗ

 

فَبِحَيْثُ بِتَّ مِنَ الْمَنَازِلِ بَاتَا

      ترجمہ:اے  طلحہ!تم سخاوت کے پیکر ہو اگر تم مرگئے تو سخاوت مرجائے گی۔بے شک سخاوت نے اپنی سواریاں تمہیں دے دی ہیں لہٰذا جن جگہوں پر تم رات گزاروگے یہ بھی تمہارے ساتھ ہوں گی۔

      حاکم عبداللہبن حَشْرَج کے پاس  شاعر زیادبن سُلَیْم عَبْدِی  آیا تو اس نے اس کا اکرام کیا اوراس کےجانے کے بعد اس کی طرف ایک ہزار دینار بھیجے۔یہ دیکھ کر زیاد نے کہا:

اِنَّ السَّمَاحَةَ وَالْمُرُوءَةَ وَالنَّدٰى

 

فِيْ قُبَّةٍ ضُرِبَتْ عَلَی ابْنِ الْحَشْرَجِ

      ترجمہ:بےشک کرم،مروت اور سخاوت تو ابنِ حَشْرَج کے خیمے میں ہیں ۔

حاکم خراسان کی سخاوت:

      ابو عطا سُدِّی اپنے دو رفیقوں کے ہمراہ حاکم خُراسان نصر بن سیّار کے پاس آیا ۔نصر نے اسےاپنے پاس ٹھہرایا اوراس کے ساتھ حُسنِ سلوک کیا پھر کہا:اے ابو عطا!تمہارے پاس ہمیں دینے کو کیا ہے؟ابو عطا نے کہا: میری کیا مجال کہ میں آپ کے سامنے کچھ کہوں آپ تو خود عرب کے بہت بڑے شاعر ہیں ہاں اگر اجازت ہوتو دو شعر نظر کئے دیتا ہوں ۔نصر نے کہا:کہو۔ابو عطا نے کہا:


 

يَا طَالِبَ الْجُوْدِ اِمَّا كُنْتَ تَطْلُبُهٗ                                                                         فَاطْلُبْ عَلٰی بَابِہٖ نَصْرَ بْنَ سَيَّار

اَلْوَاهِبُ الْخَيْلَ تَغْدُوْ فِيْ اَعِنَّتِهَا                                                                         مَعَ الْقَيَانِ وَفِيْهَا اَلْفَ دِيْنَارِ

       ترجمہ:اےسخاوت کےطلب گاراگرتوسخاوت کوطلب کرناچاہتاہےتواسےنصربن سیارکےدروازےپرطلب کر۔وہ صبح گھوڑے لگام سمیت باندیوں اور ایک ہزار دینار کے ساتھ دیتا ہے۔

       یہ سن کر نصر نے ابو عطا سُدِّی کو ایک ہزار دیناراور خدام عطا کئے اور اسے ایک عمدہ پوشاک پہنائی۔ابو عطا نے یہ سب چیزیں اپنے رفیقوں میں بانٹ دیں اور ان میں سے کچھ نہ لیا۔جب نصر کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ بڑا متعجب ہوا اور اس نے سابقہ تحفے کی مثل دوبارہ اسےدیا۔

عمر بن ہبیرہ کی سخاوت:

       عتبی نے کہا:ایک مرتبہ حاکم عمر بن ہبیرہ نے اپنے محل سے باہر جھانکا تو اسے ایک پریشان حال دیہاتی دکھائی دیا۔ عمر بن ہبیرہ نے اپنے دربان سے کہا:اگر یہ دیہاتی میرے پاس آنا چاہتا ہے تو اسے میرے پاس لے آؤ۔دربان نے جاکر دیہاتی سے پوچھا تو اُ س نے کہا:میں امیر سے ملنا چاہتا ہوں ۔چنانچہ دربان اسے عمربن ہبیرہ تک لے آیا۔ ابنِ ہبیرہ نے اُس سے کہا:تمہاری حاجت کیا ہے؟دیہاتی نے کہا:میں غریب آدمی ہوں کثیر عیال کا خرچ مجھ سے اٹھایا نہیں جاتا اورزمانے کے مصائب سے تنگ آکر میرے اہل وعیال نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور وہ میرے لوٹنے کے منتظر ہیں ۔ابنِ ہبیرہ نے کہا:تمہیں گھر والوں نے میری طرف بھیجا ہے اور وہ اب تک منتظر ہیں بخدا !اب تم بیٹھ نہیں سکتے جب تک لوٹ کر ان کی طرف چلے نہ جاؤ۔ پھر ابن ہبیرہ نے اُسے ایک ہزار دینار دینے کا حکم دیا۔

سیِّدُناابن ِعامررَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت:

       منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کسی کے لئے 50 ہزار درہم لکھ کر  دینے کا ارادہ کیا لیکن قلم سے پا نچ لاکھ درہم لکھے گئے۔خزانچی نے اس کی طرف توجہ دلائی تو حضرت سیِّدُناعبداللہبن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے کہا:اس کو نافذ رکھو اگرچہ کچھ بھی باقی نہ بچے اورمجھے عذر خواہی کے مقابلے میں مال کا چلےجانا زیادہ محبوب ہے۔یہ دیکھ کر خزانچی نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے کےساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو قلم کو کاتب کے ارادے سے اپنے ارادے کی طرف پھیر دیتا ہے۔میں نےکسی چیزکا ارادہ کیا تھا  جبکہ جوادوکریم  ذات نےاپنے بندے کو10گنادینے کا ارادہ کیااور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ارادہ


 

 ہی غالب اور اس کا حکم نافذ ہے۔

سائل کو دو لاکھ درہم دے دیئے:

      ایک دیہاتی حضرت سیِّدُناابنِ عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے کھڑا ہوا اور کہا:اے بصرہ کے چاند، حجاز کے سورج، اعلیٰ نسل عرب کے بیٹےاوربطحہ مکہ کے صاحبزادےمجھے ایک حاجت درپیش آئی ہے اور میری امیدیں آپ سے وابستہ ہیں ۔ آپ مجھ پر اپنی بزرگی وشرف کے مطابق نہیں بلکہ اپنی طاقت کے مطابق سخاوت کیجئے۔حضرت سیِّدُناابن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے دولاکھ درہم دینے کا حکم دیا۔

      ایک مرتبہ مامون رشید نے شاعر عمارہ بن عقیل کا یہ شعر سنا:

اَاَتْرُكُ اِنْ قَلَّتْ دَرَاهِمُ خَالِدٍ

 

زِيَارَتَهُ اِنِّیْ اِذَا لَلَئِيْمُ

      ترجمہ:کیا میں مال کم ہونے کی وجہ سے خالد کی زیارت چھوڑ دوں جب تو میں ضرورگھٹیا انسان  ہوں گا۔

      تو کہا:کیا خالد کے پاس دراہم کم ہوگئے ہیں ؟اُس کے پاس ایک لاکھ درہم بھیج دو۔خالد کے پاس جب یہ دراہم پہنچے تو اس نے یہ سب عمارہ بن عقیل کے پاس بھیج دیئے۔

      عبد الرحمٰن بن ضحاک جب مدینہ منورہ کی امارت سے معزول ہوا تو رونے لگا اور کہا:میں معزول ہونے پر نہیں رو رہا اور نہ امارت کے چلے جانے پر افسوس کررہاہوں بلکہ میں اس اندیشے سے رو رہا ہوں کہ کہیں مدینہ منورہ کا والی ایسا شخص نہ بن جائے جو حکمرانی کا حق (یعنی سخاوت کرنا)نہ جانتا ہو۔

یحییٰ بن خالد برمکی کی سخاوت:

      ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید نے کسی تفریح گاہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔وزیر یحیی بن خالد بَرْمَکی نے اپنے خزانچی رجاء بن عبد العزیز سے پوچھا:ہمارے اموال کے منتظمین کےپاس کتنا مال ہے۔کہا:سات لاکھ درہم۔ یحییٰ نےکہا:اسے اپنے قبضہ میں لےلو۔اگلے دن یحییٰ بن خالد کے پاس رجاء آیا تواُس نے  آکر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا پھر جب وہ چلا گیا تو یحییٰ نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے منصور بن زیاد سے کہا:میراخیال ہے کہ رجاء  کو یہ وہم ہوگیا کہ میں نے اُسے مال ہبہ کیا ہے حالانکہ میں نے تو اسے منتظمین سے مال لے کر قبضہ کرنے  کا کہا ہے تاکہ مال ہمارے پاس محفوظ ہو اور ہارون رشید کے ساتھ سفر میں ہم اسے اپنی ضروریات میں خرچ کرسکیں ۔ منصور نے کہا:میں اسے اس بات کی خبر کئے دیتا ہوں ۔یحییٰ نے کہا:اُسے کچھ نہ کہنا میں نے


 

یہ مال اسے چھوڑ دیا۔

      خلیفہ ہارون رشید ایک دن میں ایک کروڑ30لاکھ50 ہزار تک انعام میں دے دیا کرتا تھاجبکہ خلیفہ منصور بنو ہاشم اور سرداروں کو 10لاکھ دینار تک دے دیتا تھا۔

عمیلہ فزاری کی سخاوت:

      امامُ النحواَخْفَش صغیر سے منقول ہے کہ اُسید بن عنقاء فزاری اپنے زمانے کا بڑا معزز ،عظیم ادیب ،انتہائی فصیح وبلیغ اور مضبوط جسم کا مالک اور لمبی عمر پانے والاتھا۔ایک مرتبہ اسے تنگ دستی وپریشانی  کاسامنا ہوا تو شام کو اپنے گھر والوں کی ضروریات کا بندوبست کرنے نکلا۔راستے میں عمیلہ فزاری ملا تو کہا:اے چچا! آپ کو کیا ہوا میں آپ کی پہلی جیسی حالت نہیں دیکھ رہا۔اُسید بن عنقاء نے کہا:اس کا سبب تم جیسے لوگوں کا بخل اور میرا لوگوں کے سامنےہاتھ نہ پھیلانا ہے۔عمیلہ نے کہا: بخدا!میں کل تک ضرور آپ کی حالت بدل کر رہوں گا۔ یہ سن کر اُسید فزاری وہاں سےواپس آگیااور آکر گھروالوں کو عمیلہ کی بات بتائی۔گھروالوں نے کہا:تمہیں عمیلہ کے کلام سے دھوکا ہوا ہے وہ ایسا نہیں کرے گا۔اُسید فزاری نے رات اُمیداور ناامیدی کے درمیان گزاری پھر جب سحر کا وقت ہوا تو اس نے اونٹوں کے بلبلانے اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سنی۔ باہر نکل کر پوچھا :یہ کیا ہے؟لوگوں نے کہا:عمیلہ نے اپنا مال دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ آپ کی طرف بھیجا ہے۔

      عمر بن عُبَـیْدُاللہ بن معمر تمیمی بہت سخی شخص تھا۔اسے ایک شخص کی لونڈی بہت پسندتھی،اس شخص کو لونڈی بیچنے کی ضرورت ہوئی تو ابن معمر نے کثیر مال کے عوض اسے خرید لیا۔جب اس شخص نے قیمت وصول کرلی تو لونڈی نے یہ اشعار پڑھے:

هَنِيْئًا لَّكَ الْمَالُ قَدْ قَبَضْتَهٗ                                                                                                       وَلَمْ يَبْقَ فِيْ كَفِّيْ غَيْرُ التَّحَسُّر

اَبُوْ ءُ بِحُزْنِ مِنْ فِرَاقِكَ مُوْجِعِ                                                                                              اُنَاجِي بِهٖ صَدْرًا طَوِيْلَ الْفِكْر

      ترجمہ:تمہیں اس مال کی مبارک ہو جس پر تم نے قبضہ کرلیا ہے لیکن میرے ہاتھ حسرت وافسوس کے سوا کچھ نہیں آیا،میں تمہارے فراق کے غم کے ساتھ لوٹ رہی ہو جو مجھے تکلیف دے رہا ہے اورمیں اپنے غم کے سبب دل کے ساتھ طویل فکر کی سرگوشی کررہی ہوں ۔

      لونڈی کے یہ اشعار سن کر اس شخص نے جواب میں یہ اشعار کہے:

وَلَوْلَا قُعُوْدُ الدَّهْرِ بِيْ عَنْكِ لَمْ يَكُنْ                                                                                     يُفَرِّقُنَا شَيْءٌ سِوَى الْمَوْتِ فَاَعْذِرِي


 

عَلَيْكِ سَلَامٌ لَا زِيَارَةَ بَيْنَنَا                                                                                                   وَلَا وَصَلَ إلَّا اَنْ يَّشَاءَ ابْنِ مَعْمَر

      ترجمہ:اگر زمانہ مجھے تم سے دوری پر مجبور نہ کردیتا تو موت کے سوا کوئی چیز ہمیں جدا نہ کرپاتی،تم میرے معذرت قبول کرلو۔تم پر سلام ہو،اب ابن معمر کی مرضی کے بغیر نہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور نہ ہی مل سکیں گے۔

      یہ سن کر ابن مَعمر نے کہا:میری مرضی یہ ہے کہ یہ لونڈی اور اس کی قیمت میں تمہیں تحفے میں دیتا ہوں ، اسے لے کر واپس چلے جاؤ۔

      ابوعَیْناء کا بیان ہے کہ میں شدید تنگی کا شکار ہوا لیکن اس بات کو اپنے دوستوں سے پوشیدہ رکھا۔ایک دن میں قاضی یحییٰ بن اکثم کے پاس گیا تو انہوں نے کہا:امیرالمؤمنین مقادمات کے فیصلے کرنے اور حالات سننے کے لئے تشریف فرماہیں ، کیا تم حاضر ہونا چاہتے ہو۔میں نے حامی بھرلی اور ان کے ہمراہ امیرالمؤمنین کے دربار میں حاضر ہوگیا۔ امیرالمؤمنین نے ہم دونوں کو بٹھایا اور پھر مجھ سے نرمی کے ساتھ فرمایا:اے ابوالعیناء!کون سی ضرورت نے اس وقت تمہیں ہمارے پاس آنے پر مجبور کردیا۔میں نے جواب میں یہ اشعار پڑھے:

لَقَدْ رَجَوْتُكَ دُوْنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ                                                                                            وَلِلرَّجَاءِ حُقُوْقٌ كُلُّهَا تَجِب

اِنْ لَمْ يَكُنْ لِیْ اَسْبَابٌ اَعِيْشُ بِهَا                                                                                       فَفِی الْعُلَا لَكَ اَخْلَاقٌ هِیَ السَّبَب

      ترجمہ:مجھےتمام لوگوں کےعلاوہ آپ سے امید ہے اورامید کے سارے ہی حقوق لازم ہیں ۔اگر چہ میرے پاس زندگی گزارنے کے اسباب موجود نہیں مگر بلند کرداری میں آپ کے اخلاق ہی میرے لئے سبب ہیں ۔

      مامون الرشید نے کہا:اے سلامہ!ذرا دیکھو کہ ہمارے بیت المال میں مسلمانوں کے اموال کے علاوہ کیا موجود ہے؟اس نے جواب دیا کہ تھوڑا سا مال ہے۔خلیفہ نے کہا:اس میں سے اسے ایک لاکھ درہم دے دو اور ہر مہینے اتنی ہی رقم اسے بھیج دیا کرو۔

      اس واقعے کے گیارہ ماہ بعد مامون رشید کا انتقال ہوگیا۔اس پر ابوالعیناء اتنا روئے کہ ان کی پلکیں زخمی ہوگئیں ، ان کے ایک بیٹے نے یہ معاملہ دیکھ کر کہا:ابا جان!آنکھوں کے چلے جانے کے بعد رونے کیا فائدہ؟ اس پر ابوالعیناء نے یہ اشعار کہے:

شَيْئانِ لَوْ بَكَتِ الدِّمَاءَ عَلَيْہِمَا                                                                                         عَيْنَایَ حَتّٰى یُؤْذِنَ بِذِهَاب

لَمْ یَبْلُغَا الْمِعْشَارَ مِنْ حَقَّيْهِمَا                                                                                             فَقْدُ الشَّبَابِ وَفُرْقَةُ الْاَحْبَاب


 

ترجمہ:دو چیزیں ایسی ہیں کہ اگر میری آنکھیں ان پر خون کےآنسوروئیں حتی کہ ان کےضائع ہونےکی وجہ سے تکلیف ہوتوبھی ان کے حق کا دسواں حصہ بھی ادا نہیں کرسکتیں :جوانی کا ختم ہوجانا اور دوستوں کا  جداہوجانا۔

کسی کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ:

      احمد بن طولون بہت زیادہ صدقہ خیرات کیا کرتا تھا،مختلف مواقع پر وہ لوگوں کو جو اموال دیتا تھا  نیز جو کھانا پکا کر کھلایا جاتا تھا ان کے علاوہ اس کا معمول تھا کہ ہر مہینے ایک ہزار دینار صدقہ کرتا تھا۔سلیم نامی ایک خادم اس کے صدقات کی تقسیم پر مامور تھا۔ایک دن سلیم نے اس سے کہا :اے امیر!میں مختلف قبائل میں جاکر صدقات دینے کے لئے دروازے کھٹکھٹاتا ہوں اور لوگ صدقہ لینے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں ۔ بعض ہاتھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں مہندی لگی ہوتی ہے جبکہ کچھ ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کنگن ہوتے ہیں ،میں ان لوگوں کو بھی صدقات دوں یا منع کردوں ۔احمد بن طولون کافی دیر تک سوچتا رہا اور پھر جواب دیا:جو بھی ہاتھ تمہاری طرف بڑھے اسے خالی نہ لوٹاؤ۔

      عبدالعزیز بن عبداللہ بہت سخی اور مہمان نواز تھا، ایک دفعہ ایک اعرابی نے اس کے یہاں دوپہر کا کھانا کھایا،اگلے دن وہ دوبارہ اس کے دروازے کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ گزشتہ کل کی طرح آج بھی لوگ اس کے گھر میں کھانا کھانے جارہے ہیں ۔اس نے پوچھا:کیا یہ روزانہ اسی طرح لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا:ہاں ۔

ذلت سے بچانے کے لئے سخاوت:

      ایک رات کچھ لوگوں نے حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے یہاں کھانا کھایا،کھانا کھاکر تمام لوگ چلے گئے لیکن ایک نوجوان بیٹھا رہا۔حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا:کیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟ساتھ ہی شمع بجھادی تاکہ اسے اپنی حاجت بیان کرتے ہوئے شرم نہ آئے۔ نوجوان نے بتایا کہ اس کا باپ مرچکا ہے جس نے قرض اور اہل وعیال چھوڑے ہیں ،نوجوان نے درخواست کی کہ آپ اہلِ دمشق کے نام ایک خط لکھ دیں تاکہ وہ میری حاجت روائی کردیں ۔حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اسے10ہزار دینار عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا:میں تمہیں ان کے دروازوں پر ذلت اٹھانے کے لئے نہیں چھوڑوں گا۔

انوکھا دشمن اور نرالی سخاوت:

      ایک شخص وزیر علی بن سلیمان کے پاس آیا اور کہا:میں آپ سے عظمت والے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے کرم والے نبی صَلَّی


 

 اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طُفیل سوال کرتا ہوں کہ مجھے میرے دشمن سے پناہ عطا فرمائیں ۔ وزیر نے پوچھا:تمہارا دشمن کون ہے؟اس شخص نے جواب دیا:میرا دشمن فقر ہے۔علی بن سلیمان نے چند لمحے اپنا سر جھکائے رکھا اور پھر کہا:میں تمہیں ایک لاکھ درہم دینے کا حکم دیتا ہوں ۔وہ شخص دراہم لے کر واپس چلا گیاابھی وہ راستے میں تھا کہ وزیر نے اسے واپس بلانے کا حکم دیا، جب وہ واپس آیا توعلی بن سلیمان نے اس سے کہا: میں عظمت والے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے کرم والے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے طُفیل تم سے درخواست کرتا ہوں کہ جب بھی تمہارا دشمن تم پر سختی کرے تو اس کے ظلم کی شکایت ہم سے ضرور کرنا۔

بکری کا کیا حال ہے؟

       حضرت سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک بکری تھی جو بیمار ہوگئی اور میرے بچے اس کے دودھ سےمحروم ہوگئے۔حضرت سیِّدُنا خیثمہ بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن صبح شام بکری کی خیریت معلوم کرنے تشریف لاتے اور مجھ سے پوچھتے کہ کیا بکری نے چارہ کھایا ہے؟جب سے بچے بکری کے دودھ سے محروم ہوئے ہیں ان کا کیا حال ہے؟میں ایک کپڑا بچھا کر اس  پر بیٹھا کرتا تھا،جب آپ جانے لگتے تو فرماتے کہ اس کپڑے کے نیچے جو ہے وہ لے لینا۔اس طرح بکری کی بیماری کے دوران آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے تین سو سے زائد دینار عطا فرمائے یہاں تک کہ میں یہ تمنا کرنے لگا کہ میری بکری ٹھیک ہی نہ ہو۔

       ابوقُدامہ قُشَیْری کا بیان ہے:ایک دن ہم لوگ یزید بن مزید کے ساتھ تھے کہ انہوں نے ایک چیخنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا:اے یزید بن مزید!یزید نے اس شخص کو طلب کیا،جب اسے حاضر کیاگیا تو پوچھا: کس بات نے تمہیں اس چیخ پر اُبھارا؟اس شخص نے جواب دیا:میری سواری گم ہوچکی ہے،زادِ راہ ختم ہوچکا ہے اور میں نے شاعر کا یہ قول سنا ہے:

اِذَا قِيْلَ مَنْ لِلْجُوْدِ وَالْمَجْدِ وَالنَّدٰى

 

فَنَادِىْ بِصَوْتٍ يَا يَزِيْدَ بْنَ مَزِيْدِ

       ترجمہ:جب پوچھا جائے کہ جود وسخا اور عطا کے لئے کون ہے تو یہ صدا لگاؤ:اے یزید بن مزید۔

       یزید نے اس شخص کو اپنا ایک  پسندیدہ چتکبرا گھوڑا،سو دینار اور عمدہ لباس دینے کا حکم دیا ،اس شخص نے یہ چیزیں لیں اور وہاں سے چلا گیا۔

مرنے کے بعد بھی سخاوت:

       منقول ہے کہ عرب کے کچھ لوگ اپنے ایک سخی شخص کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور رات وہیں قبر


 

 کے پاس گزاری۔ان میں سے ایک شخص نے قبر والے کو خواب میں دیکھا کہ وہ اس سے کہہ رہا ہے:کیا تم اپنا اونٹ میرے عمدہ اونٹ کے بدلے بیچو گے؟مرنے والے نے ایک عمدہ اونٹ چھوڑا تھا جبکہ خواب دیکھنے والے کا ایک موٹا تازہ اونٹ تھا۔خواب دیکھنے والے نے حامی بھرلی اور اپنا اونٹ اس کے عمدہ اونٹ کے عوض بیچ دیا۔یہ خرید وفروخت ہونے کے بعد خواب میں ہی قبر والا اونٹ کی طرف بڑھا اور اسے نحر کردیا۔اتنے میں خواب دیکھنے والے کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس کے اونٹ کے گلے سے خون بہہ رہا ہے ،اس نے آگے بڑھ کر نحر کو مکمل کیا ،گوشت بنایا،پھر ان لوگوں نے اس گوشت کو پکا کر کھایا اور واپس روانہ ہوگئے۔

      دوسرے دن یہ لوگ راستے میں ہی تھے کہ کچھ سوار ان تک پہنچے اور ان میں سے ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر اس اونٹ والے کا نام لے کر پوچھا:کیا تم لوگوں میں فلاں بن فلاں موجود ہے؟اس شخص نے کہا: وہ میں ہوں ۔نوجوان نے پوچھا:کیا تم نے فلاں میت کو کوئی چیز بیچی ہے؟اس نے جواب دیا:ہاں ،میں نے خواب میں اپنا اونٹ اس کے عمدہ اونٹ کے بدلے بیچا ہے۔نوجوان نے کہا:اس کا عمدہ اونٹ یہ رہا ،اسے لے لو۔ میں اس میت کا بیٹا ہوں ،میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ کہہ رہا ہے:اگر تم میرے بیٹے ہو تو میرا عمدہ اونٹ فلاں شخص کو دے دو۔

      ذرا اس کریم شخص کی حالت پر غور کرو کہ مرنے کے بعد بھی اپنے مہمانوں کی ضیافت کررہا ہے۔



[1]شعب الایمان،باب فی حسن الخلق، فصل فی التوضعالخ، ۶/ ۲۷۸، حدیث: ۸۱۴۸

[2]مستدرک حاکم، کتاب معرفة الصحابة، باب استشھد الحسینالخ، ۴/ ۱۷۴، حدیث: ۴۸۷۸دون ذکر عیسٰی

[3]ابن ماجہ، کتاب الاطعمة، باب القدید، ۴/ ۳۱، حدیث: ۳۳۱۲

[4]کنزالعمال،کتاب الاخلاق من قسم الاقوال، الباب الاول فی الاخلاقالخ، ۳/ ۴۸، حدیث: ۵۷۱۶

[5]ترمذی،کتاب الادب، باب ماجاء فی کراھیة قیامالخ، ۴/ ۳۴۷، حدیث: ۲۷۶۴

[6]معجم کبیر، ۷/ ۱۵۳، حدیث: ۶۶۶۸

[7]بخاری، کتاب اللباس، باب من جر ازارہ من غیر خیلاء، ۴/ ۴۵، حدیث: ۵۷۸۴

[8]…مروی ہے کہ’’جب تکبرکرنےوالوں کودیکھوتوان کےسامنے(بظاہر)تکبرکروکیونکہ یہ ان کےلئےذلت ورسوائی ہے‘‘علامہ سیِّد محمد مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیاس کےتحت فرماتےہیں :متکبرکےسامنےعاجزی کی جائےتواس تکبرمزیدبڑھ جاتاہےاوراگراس پر تکبُّرکیا جائےتووہ مُتَنَبِّہ ہوجاتاہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۰/ ۲۵۸)

[9]فَرْقَدان:دوقطبی  ستاروں کوکہاجاتاہےجن سےمسافرراہ نمائی حاصل کرتےہیں ۔(الصحاح فی اللغة،باب الدال،فصل الفاء،۲/ ۴۵۲)

[10]نھایة الارب،ذکر وفد حضر موت، ۱۸/ ۷۲

[11]یہ روایت تفصیلاًیوں ہے:حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگا ہ میں قبولِ اسلا م کےلیے لوگ  جوق درجوق  حاضرہوا کرتے۔ ایک دن  یمنی بادشاہوں کی اولادسےحضرت سیّدناوائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وفد کی صورت میں قبولِ اسلام کےلیے حاضرہوئےتوصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےانہیں بتایاکہ حضورنبی غیب دانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین دن پہلے ہی تمہارے آنے کی بشارت دی تھی۔ حضورنبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےان پربےحد شفقت فرمائی،ان کےلیےاپنی چادرمبارک بچھادی،اپنےقریب بٹھایا،منبرِاقدس پران کےلیےتعریفی کلمات ارشادفرمائے،برکت کی دُعافرمائی اوران کےقیام کےلیےمکان کی نشاندہی کاکام ایک قریشی نوجوان کے سپرد فرمایا۔(اِتِّفاق سے یہ قریشی نوجوا ن بھی ایک سردار ِمکہ  کافرزندتھا لیکن درسگاہِ نبوت سے فیض یاب ہونے اور صحبتِ مصطفےٰ سے اَخلاق و آداب سیکھنے کی برکت سے اس کے مزاج میں ذرہ برابربھی سرداروں والی بات نہ تھی)چنانچہ حکم پاتےہی وہ نوجوان فوراً حضرت سیِّدُناوائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےہمرا ہ چل دیا۔حضرت سیِّدُناوائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاونٹنی پرسوارتھےجبکہ قریشی نوجوان ساتھ ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ چونکہ گرمی  شدیدتھی اس لیے کچھ دیر پیدل چلنےکےبعداس قریشی نوجوان نےکہا:”گرمی بہت شدیدہے،اب تومیرےپاؤں اندرسےبھی جلنے لگےہیں ۔ آپ مجھے اپنےپیچھےسوارکرلیجیے۔“حضرت سیّدناوائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےصاف انکار کردیا۔اس قریشی نوجوان نے  کہا :کم از کم اپنے جوتےہی پہننےکےلیےدے دیجیےتاکہ میں گرمی سے بچ سکوں ۔“ کہا:تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجو بادشاہوں کا لباس پہن سکیں ۔ تمہارے لیےاتناہی کافی ہےکہ میری اونٹنی کےسائےمیں چلتےرہو۔“یہ سن کراس قریشی نوجوان نے نہایت تَحَمُّلکامظاہرہ کیااورزبان سےبھی  جوابی کاروائی  نہ کی۔وقت گزرتا گیااور وہ قریشی نوجوان ملْکِ شام کا گورنربن گیا۔ایک بارحضرت سیِّدُنا وائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسی قریشی نوجوان کے پاس آئے جو کہ اب  گورنر بن چکا تھا۔ تووہ قریشی نوجوان آپ کے ساتھ نہایت احترام سے پیش آیا اور ماضی کے اس واقعے کا بدلہ لینے کےبجائے حضرت سیِّدُنا وائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکواپنے ساتھ تخت پر بٹھایااورفرمایا:میراتخت بہترہےیاآپ کی اونٹنی کی کوہان؟حضرت  سیِّدُنا وائل بن حجررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےکہا:اےامیرالمؤمنین!اس وقت میں نیا نیا مسلمان ہواتھااورجاہلیت کا رواج وہی تھا جومیں نےکیا۔اباللہعَزَّ  وَجَلَّنےہمیں اسلام سےسرفرازفرمایاہےاورآپ نےجوکچھ کیاوہی اسلام کاطریقہ ہے۔حضرت سیّدنا وائل بن حجر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس قریشی نوجوان کےرَوَیّےسےاس قدرمتأثرہوئےکہ آپ نےفرمایا:” کاش!میں نےانہیں اپنےآگےسوارکیا ہوتا۔“

(معجم صغیر،من اسمہ یحیی،۲/ ۱۴۳۔مسندبزار،مسندوائل بن حجر،۱۰/ ۳۴۵،حدیث: ۴۴۷۵۔تاریخ المدینة المنورة،وفاة وائل بن حجرالحضرمی، ۲/ ۵۷۹۔ الاصابة،وائل بن حجر،۶/ ۴۶۶،رقم:۹۱۲۰،ملخصًا)یہ قریشی نوجوان جَلِیْلُ الْقَدرصحابی اورکاتِبِ وحی حضرت سیِّدُنااَمِیْرِمُعاوِیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ 

[12]…تفصیلی واقعہ یوں ہے:حضرت علی مرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کسی بات میں جھگڑ رہا تھا ، دورانِ گفتگو میں کہنے لگا خاموش ہو جاؤ تم لڑکے ہو میں بوڑھا ہوں ، میں بہت زبان دراز ہوں ، میری نوکِ سنان تم سے زیادہ تیز ہے ، میں تم سے زیادہ بہادر ہوں ، میں بڑا جتھے دار ہوں ، حضرت علی مرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا چپ تو فاسق ہے ، مراد یہ تھی کہ جن باتوں پر تو ناز کرتا ہے انسان کے لئے ان میں سے کوئی قابلِ مدح نہیں ، انسان کا فضل و شرف ایمان و تقوٰی میں ہے جسے یہ دولت نصیب نہیں وہ انتہا کا رذیل ہے ، کافِر مومن کے برابر نہیں ہو سکتا ،اللہتبارک و تعالیٰ نے حضرت علی مرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی۔

(خزائن العرفان،پ۲۱،السجدۃ،تحت الآیہ:۱۸)

[13]ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعة، ۴/ ۵۲۲، حدیث: ۴۳۰۸

[14]مسندامام احمد، حدیث رجل من اصحاب النبی، ۹/ ۱۲۷، حدیث: ۲۳۵۴۸، بتغیر قلیل

[15]پ۶،المائدة:۴۵

[16]پ۶،المائدة:۴۵

[17]پ۶،المائدة:۴۵

[18]پ۱،البقرة:۱۹

[19]پ۱۲،یوسف:۱۷

[20]…یہ ایسی باتیں ہیں جوفضیلت کےاعتبارسےہوسکتی ہیں لیکن فضیلت کااصل معیارتقوٰی ہے۔(علمیہ)

[21]عیون الاخبار ،کتاب السؤدد،۱/۳۲۹

[22]مسلم، کتاب الزکاة، باب  من جمع الصدقة واعمال البر،ص ۵۱۳، حدیث: ۱۰۲۸

[23]ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص عمر بن خطاب، ۵/ ۳۸۵، حدیث: ۳۷۰۶

[24] بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن خطاب، ۲/ ۵۲۶، حدیث: ۳۶۸۳

[25] حلیة الاولياء،عمر بن الخطاب، ۱/ ۷۵، رقم:۹۳

[26]سنن کبری للبیھقی، کتاب قسم الفئی والغنی، باب اعطاء الفئیالخ ، ۶/ ۵۹۷، حدیث: ۱۳۰۸۴،۱۳۸۵ بتغیر

[27]تاریخ ابن عساکر،۶۰/ ۱۶۸،حدیث:۱۲۴۱۷

[28]مجمع الزوائد، کتاب البر و الصلة، باب ما جاء فی الجار، ۸/ ۲۹۹، حدیث: ۱۳۵۳۳، الف بدلہ مائة

[29]احناف کے نزدیک :نمازجنازہ کی تکرارجائزنہیں ۔(البتہ)ولی کے سوا کسی ایسےنےنمازپڑھائی جوولی پرمقدم نہ ہواورولی نےاُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہےاوراگر وہ ولی پرمقدم ہے جیسے بادشاہ وقاضی وامام محلہ کہ ولی سےافضل ہوتواب ولی نمازکااعادہ نہیں کرسکتااوراگرایک ولی نےنمازپڑھادی

……تو دوسرے اولیا اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھاوہ ولی کےساتھ نہیں پڑھ سکتاہےکہ جنازہ کی دومرتبہ نمازناجائزہےسوااس صورت کےکہ غیرولی نےبغیراذن ولی پڑھائی۔(بہارشریعت،حصہ۴، ۱/۸۲۶، ۸۳۸)

[30]ضَالَّتِی کی جگہ پر اُس چیز کا نام ذکر کرے وہ چیز مل جائے گی۔ امام نوویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰیفرماتے ہیں اس کومیں  نےآزمایا ہے گمی ہوئی چیز جلد مل جاتی ہے۔(بہارشریعت،حصہ۱۰، ۲/۴۸۴)

[31]یہا ں اس چیز یا اُس شخص کا نام ذکرکرے۔

[32]بخاری، کتاب الجھاد، باب لا یعذب بعذاب اللّٰہ، ۲/ ۳۱۵، حدیث: ۳۰۱۷

[33] مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجالالخ ، ص ۱۵۷۰، حدیث: ۲۹۳۷

[34] ابو داود، کتاب الادب، باب فی الغیبة، ۴/ ۳۵۴، حدیث: ۴۸۸۲

[35]بخاری، کتاب الادب، باب اذا لم تستح فاصنع ما شئت، ۴/ ۱۳۱، حدیث: ۶۱۲۰

[36]معجم اوسط،۴/ ۲۰۰، حدیث: ۵۷۱۰

[37]ترمذی،کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی السخاء، ۳/ ۳۸۷، حدیث: ۱۹۶۸عن ابی ھریرة

[38]…آزمائش کےسبب قرض لیناکہ اتارسکیں یانہ اتارسکیں ۔

[39]بخاری، کتاب الزکاة، باب لا صدقة الا عن ظھر غنی، ۱/ ۴۸۲، حدیث: ۱۴۲۷

[40]…اس طرح تعلیق(یعنی طلاق کومعلق) کرنامناسب نہیں ۔(علمیہ)

[41]ابن ماجہ،کتاب الادب،باب اذا اتاکم کریمالخ ، ۴/ ۲۰۸، حدیث: ۳۷۱۲، بتغیر عن ابن عمر