بہادروں میں ایک نام حضرت سیِّدُنا طلحہ اسدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بھی ہےجو زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں بہت بڑے بہادر تھے۔درمیان میں یہ مرتد ہوگئے اور نبوّت کا دعویٰ کیااور کہاکہ مجھ پر وحی آتی ہے اور ایک بہت بڑا لشکر جمع کیاجسےحضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شکست دی ۔یہ کہانت بھی کرتے تھے پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے تھے اور جنگ قادسیہ اور اس کے علاوہ دیگر فتوحات میں شریک رہے۔
حضرت سیِّدُنامِقْدادبن اَسْوَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شہسواروں میں سب سے بہادر، شدت سے لڑنے والے، بہت طاقتور اورثابت قدم رہنے والےتھے۔ بہادری میں ان کا نام اور صفات بڑی مشہور تھیں ، تعریف کرنے والاآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تعریف بیان کرنے سے عاجز ہوجاتا۔
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص زہری انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہادرشہسوار اور بہترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے ہی سب سے پہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں تیرچلایا، جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت ہوئی تو آپ نے جنگ وجدل سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور پھر کسی جنگ میں شریک نہ ہوئے اور اپنی زندگی پوری کر کے دنیا سے تشریف لے گئے۔
حضرت سیِّدُنا ابو دُجانہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجنگ میں صفوں کے درمیان اکڑ کرچلتے تھے۔ حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا:اس طرح کی چال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ناپسند ہے سوائے اس مقام کے۔([1])
حضرت سیِّدُنا مثنی بن حارثہ شیبائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اہل فارس کو جنگ میں شکست دی۔
انہوں نے جنگ قادسیہ میں اہل فارس سے خوب مقابلہ کیا ۔
حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ صحابی ہیں جن کے بارے میں مروی ہےکہ حق عمار کے ساتھ ہوتا ہے جہاں وہ جاتےہیں ۔([2])
آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُناعماررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےبارےمیں یہ خبربھی دی کہ انہیں باغیوں کا گروہ شہید کرے گا۔([3])آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے اور اسی میں شہید ہوئے۔
حضرت سیِّدُنا ہاشم بن عتبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بڑے بہادر تھےاور جنگ صفین میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے تھے۔
حضرت سیِّدُنا قعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جنگ قادسیہ کی شام ہاتھیوں پرنیزے سے وار کیا ۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے افریقہ کے بادشاہ جرجیر کو قتل کیا جس کا گمان یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا بہادر ہے۔
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے حضرت سیِّدُناابنِ ابو ملیکہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: مجھے حضرت سیِّدُناابن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اوصاف سناؤ۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ ابو ملیکہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”خداکی قسم! میں نے ایساکوئی جسم نہیں دیکھاجیساحضرت سیِّدُناعبداللہبن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکاجسم تھا،ایک دن وہ نمازکےلئے کھڑے ہوئے کہ منجنیق سے چلا ہوا ایک پتھر ان کی داڑھی اور سینے کے درمیان سے گزرا، خدا کی قسم! ان کی آنکھوں میں کوئی
خوف نہیں تھا، ان کی قراءت میں بھی کوئی فرق نہ آیا اور نہ ہی رکوع میں کوئی فرق آیا جس طرح وہ رکوع کرتے تھے۔“
حجاج نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو مکہ میں محاصرہ کر کے شہید کیاجبکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھی اور خاندان والے حجاج کے شرسے محفوظ رہے۔شہادت کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی لاش مبارک کو حجاج نے سولی پر لٹکا دیا۔
بہادروں میں ایک حضرت سیِّدُنا ابو ہاشم محمد بن علی بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی ہیں جوابنِ حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں ۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد آپ کو بڑےمعرکوں میں آگے رکھتے تھے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑی شدت سے لڑنے والے اور ثابت قدم رہنے والے تھے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا: کیا وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آپ کو تو جنگ میں بھیجتے ہیں لیکن حضرت سیِّدُناحسن وحسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کونہیں بھیجتے؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: اس لئےکہ وہ دونوں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا ہاتھ ہوں تو وہ اپنی آنکھوں کو اپنے ہاتھ سے بچاتے ہیں ۔
منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک زرہ خریدی وہ لمبی تھی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس میں سے کچھ کاٹنے کا ارادہ کیاتو حضرت سیِّدُنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: اے ابا جان! آپ مجھے بتا دیں کہاں سے کاٹنا ہے اور اس جگہ نشان لگا دیں ، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک ہاتھ سے زرہ کے نچلے حصے کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے نشان والی جگہ سے پکڑااور اسے دو ٹکڑے کردیا ۔
حضرت سیِّدُناابنِ حنفیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال شعب رضوی(مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی) میں ہوا۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حازم سلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خراسان کے حاکم رہے، آپ قبیلہ مضر کے بہادر اور اپنے زمانے کے بڑے شہسوار تھے، انہیں وکیع بن ابو سوید نے خراسان میں فتنے کے وقت شہید کیا۔
وکیع بن ابو سوید نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حازم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کیا، یہ بھی بڑا بہادرمشہور تھا، جب اس نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن حازم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا تو یہ خراسان کا حاکم بنا اور ابھی حکومت کو مضبوط بھی نہ کرسکا تھا کہ مر گیا۔
حضرت سیِّدُنا مصعب بن زبیر بن عوام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑے بہادراور سخی تھے، آپ اپنی جان اور مال میں سخاوت کرتے تھے، آپ کو عُبَـیْدُاللہ بن زیادبَکْری نے اس جنگ میں شہید کیا جو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور عبدالملک بن مروان کے درمیان ہوئی تھی۔
عمیر بن حباب سُلَمی مسلمانوں کے شہسوار ہیں ۔ انہیں بَنُوتَغْلِب نے اس جنگ میں قتل کیا جو بنوتغلب اور قیس کے درمیان ہوئی تھی۔
مسلمہ بن عبدالملک بن مروان بنو امیہ کا طاقتور ،شہسوار اور ان کی جنگوں کا سپاہ سالارتھا۔منقول ہے کہ ایک دن مسلمہ مصر کے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے بیٹھا، ایک عورت نےکوئی بات کی تو مسلمہ نے اس کی بات نہ سنی۔ اس عورت نے کہا: میں نے اس سے زیادہ بے حیا کوئی نہ دیکھا ۔ مسلمہ نے اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹایا تو اس پر نیزے کے نو زخم تھے۔مسلمہ نے اس عورت سے کہا: کیا تمہیں نیزے کے یہ زخم نظر آرہے ہیں ؟ خدا کی قسم! اگر میں اپنے پاؤں میں بیڑی ڈال لیتا تو مجھے ان میں سے ایک بھی زخم نہ پہنچتالیکن مجھے رکنے سے حیا نے باز رکھا اور تم مجھے بے حیائی کی تہمت لگاتی ہو۔
خلیفہ بغداد مُعْتَصِم بِاللہ بڑا شہسوار اور بہادر تھا۔ابن ابو داؤدکہتا ہے کہ معتصم نے مجھ سے کہا: میری کلائی پر اپنی پوری طاقت سے کاٹو۔ میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین خدا کی قسم! میرا دل یہ کرنے کو نہیں چاہتا ۔ معتصم نے کہا: مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور میں تمہیں برضا ورغبت کہہ رہا ہوں ۔ ابن ابو داؤد کہتا ہے : میں نے کاٹا تو اُسے دانتوں کے کاٹنے کا کچھ اثر نہ ہوا اور کیسے اثر ہوتا جبکہ اسے نیزے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔
منقول ہے کہ ایک خارجی نے معتصم پر نیزے سے وار کیا تو معتصم نے اس کا نیزہ لے کر ہاتھوں سے دو ٹکڑے کردیا۔
معتصم اپنے ہاتھوں سے دینار پر نقش تحریر کو مٹادیتا تھا اور لوہے کو اپنے ہاتھوں سے موڑ کر طوق کی شکل میں بنادیتا تھا۔
ابراہیم بن اشتر نخعی کا شمار بھی مشہور بہادروں میں ہوتا ہے ۔اس نے چار ہزار کے لشکر کے ساتھ ابنِ زیاد کے 70 ہزار کے لشکرکا مقابلہ کیااور ابنِ زیاد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا اوراس کے لشکر کو شکست دی ۔
عُبَـیْدُاللہ بن حرجعفی بہادر، شاعر اوربے دھڑک حملہ کرنے والا تھا ،اس نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے اور اس کی بہادری کے قصے مشہور ہیں ۔
جحدر بن ربیعہ عُکْلی بہت بہادر،بے دھڑک حملہ کرنے والا اور شاعر تھا۔ اس نے اہل یمامہ کو مغلوب کیا اور اُن پر اپنا تسلط جمایا۔ حجاج کو جب اس بارے میں خبر ہوئی تو اس نے اپنے عامل کو خط کے ذریعے جحدر کے غالب ہونے پر ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے حکم دیا کہ جحدر سے علاقہ خالی کراؤخواہ اسے قتل کردو یا اسے قید کر کے میرے پاس لاؤ۔ عامل بنو حنظلہ کے کچھ نوجوانوں کے پاس گیا اور انہیں جحدر کو قتل کرنے یا قید کر کے اس کے پاس لانے پر بہت سارا مال دینے کا کہا۔ وہ نوجوان جحدر کی تلاش میں نکلے اورجب وہ ملا تو انہوں نے اُس سے کہا: ہم تمہارے ساتھ رہنا اور دوستی کرنا چاہتے ہیں ۔ جحدر نے ان کی بات پر اعتماد کرلیا اور ان کے کہنے کے مطابق ان کے ساتھ رہنے لگا۔ ایک دن ان نوجوانوں نے جحدر پر حملہ کیا اور اسے مضبوطی سے باندھ دیا اور عامل کے پاس لے آئے اور عامل ان نوجوانوں کے ساتھ مل کر جحدر کو حجاج کے پاس لے گیا، جب جحدر کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا تو حجاج نے کہا: تم جحدر ہو؟ جحدر نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے ! جی میں جحدر ہوں ۔ حجاج نے کہا:تیرے جو معاملات مجھ تک پہنچے ہیں تو نے ان پر کیوں جرأت کی؟ جحدر نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے! تنگ دستی، سلطان کی بے مروتی اور دل کی بہادری کی وجہ سے۔ حجاج نے کہا: تمہارے ساتھ کیا کریں ؟ جحدر نے کہا: اگر امیر میری آزمائش کرنا چاہتے ہیں اور مجھے اپنا شہسوار بنالیتے ہیں تو وہ مجھ سے وہ دیکھیں گے جو ان کو خوش کردے گا۔ حجاج اس کی عقل اور گفتگو سے بڑا متعجب ہوا پھر کہا: اے جحدر! میں تجھے ایک ایسے گڑھے میں ڈالوں گا جہاں
تیرا مقابلہ ایک بڑے شیر سے ہوگا، اگر شیر نے تجھے قتل کردیا تو تجھ سے ہماری جان چھوٹ جائے گی اور اگر تو نے شیر کو قتل کردیا تو ہم تجھ سے درگزر کریں گے۔جحدر نے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے! اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا۔ حجاج نے جحدر کو لوہے سے باندہنے کا حکم دیا، پھر حجاج نے اپنے عامل کو خط لکھا کہ ایک شیر پکڑ کر میرے پاس بھیجو۔ عامل نے ایک ایسے شیر کو پکڑنے کا حیلہ کیا جو بہت زیادہ حملہ کرنے والا تھا اور اس نے کافی سارے جانوروں کو مارا تھا، انہوں نے حیلے سے اس شیر کو پکڑا اور ایک تابوت میں بند کرکے جلدی سے اُسے حجاج کے پاس پہنچا دیااور حجاج نے اس شیر کو ایک گڑھے میں ڈلوا دیا اور تین دن تک اسے کھانے کے لئے کچھ نہ دیا حتّٰی کہ بھوک کی وجہ سے شیر کی زبان کتے کی طرح لٹک گئی۔ پھر حجاج نے حکم دیا کہ جحدر کو اس گڑھے میں اُتارو۔ جحدر کو تلوار دی گئی اور اس کے پاؤں میں بیڑی ڈال کر گڑھے میں اتار دیا گیا ۔حجاج اور گڑھے کے گرد کھڑے لوگ یہ دیکھنے لگے کہ شیر جحدر کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ جب شیر کی نظر جحدر پر پڑی تو وہ تیزی سے اچھل کر آگے بڑھا اور چنگھاڑنے لگا اور اس کی چنگھاڑ سے پہاڑ گوج اٹھےاور لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ جحدر نے رجزیہ شعر کہتے ہوئے شیر پر حملہ کیا اورتلوار کی ضرب سے اس کا سر کاٹ دیا۔ لوگوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور حجاج یہ دیکھ کر بڑا متعجب ہوا اوراس کی تعریف کی پھر جحدر کو گڑھے سے باہر نکالنےاور بیڑیاں کھولنے کا حکم دیا اور جحدر سے کہا: تمہیں اختیار ہے چاہو تو ہمارے ساتھ رہو تو ہم تمہاری عزت کریں گے اور تمہیں اپنے قرب سے نوازیں گے اور چاہو تو ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ تم اپنے شہر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہو اس طرح کہ ہم ضمانت دیتے ہیں تمہیں کوئی کچھ کہے گا نہ کوئی تمہیں تکلیف دے گا۔ جحدر نے کہا: اے امیر! میں آپ کی صحبت کو اختیار کرتا ہوں ۔حجاج نے اسے اپنے رازدار اور خاص لوگوں میں شمار کرلیااور پھر اسے یمامہ کا حاکم بنا دیا۔
مُہَلَّب بن ابو صُفْرہ کا شمار بڑے بہادر لوگوں میں ہوتا ہے اور اس کی تمام کی تمام اولاد بڑی بہادر تھی لیکن مغیرہ ان میں سب سے زیادہ بہادر تھا۔ مہلب خود کہا کرتا تھا: میرے ساتھ جس جنگ میں بھی مغیرہ شریک ہو ا میں نے اس کے چہرے پر خوشی ہی دیکھی ہے۔
مہلب یہ کہا کرتا تھا کہ لوگوں میں سب سے بہادر تین شخص ہیں : (۱)… ابنِ کُلَیْبَہ یعنی حضرت سیِّدُنامُصْعَب بن
زُبَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(۲)… اَحمرِ قریش یعنی عمر بن عُبَـیْدُاللہ بن معمر جو بھی شہسوار اس کے مقابل آیا اس نے اُسے مار ڈلا(۳)… راکبُ الْبغلہ یعنی عباد بن حصین اس پر جو بھی مصیبت آئی وہ دور ہوگئی اور یہ اسلام کے شہسوار تھے۔
جنگوں میں مہلب جنگی چالوں کے حوالے سے بڑ امشہور تھا اوراس کے بڑے بڑے کارنامے ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خوارج کو اس وقت شکست دی جب خوارج مسلمانوں پر غالب ہوچکے تھے۔ یہ بڑا عزت دار حکمران تھا اور بستر پر اس کا انتقال ہوااور اس کے بیٹے کا بھی یوں ہی انتقال ہوا۔
خوارج([4]) میں بھی مشہور شہسوار گزرے ہیں جن کے مقابلے میں لوگ ثابت قدم نہ رہ سکے اور ان کا ذکر بھی بڑا طویل ہے ہم ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں ۔
یہ 40 لوگوں کے ساتھ نکلا اور اس نےدو ہزارکے لشکر کو شکست دی۔
شبیب خارجی یہ وہ ہے جو دریائے فرات میں غرق ہوا تھا، اس کی بیوی غزالہ نے نذر مانی تھی کہ وہ کوفہ کی جامع مسجد میں دورکعت نماز پڑھے گی جس کی پہلی رکعت میں سورۃ البقرہ اور دوسری میں اٰل عمران پڑھے گی۔ اس نےاپنی بیوی کے ساتھ دریائے فرات کا پل پار کیا اوراسے جامع مسجد میں داخل کردیا اور خود مسجد کے دروازے پر اس کی حفاظت کے لئے کھڑا ہوگیا حتّٰی کہ اس نے اپنی منت پوری کرلی۔ حجاج اس وقت کوفہ میں پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ موجود تھا۔
قَطَری بن فُجَاءہ یہ اپنے زمانے میں خارجیوں کا سردار تھاجسے خارجی امیر المؤمنین کہتے تھے اور اس کی بڑی تعظیم و توقیر کرتے تھے۔ قطری کی شجاعت کے حوالے سے جو اشعار ہیں وہ اس کے بہادر ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور خارجیوں کی کسی لڑائی میں یہ قتل ہوا۔
تیسرا طبقہ(زمانَۂ صحابہ کےبعدکےبہادروں کاتذکرہ)
معن بن زائدہ شیبانی کو مہدی کے دور حکومت میں سجستان کے خوارج نے قتل کیا۔
ولید بن طریف شیبانی کو یزید بن مزید نے قتل کیا۔
عمرو بن حنیف مشہور شہسواروں میں سے ایک ہے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ یہ شکار کے لئے نکلا اور ایک نیل گائے کے پیچھے اپنا گھوڑا دوڑایا اور اس کے برابر آکر نیل گائے پر کود گیا اور ہاتھ میں پکڑی تلوار یا چھری سے اس کی گردن کاٹ کر اسے مار ڈالا۔
ابودُلَف قاسم بن عیسٰی عجلی شہسوار،بہادر،شاعراور مختلف فنون کا جامع تھا۔یہ سواری پرموجوددو شہسواروں میں نیزہ گھونپ کر اسے ان کی پیٹھوں سے آرپار کردیتا اوراپنے نیزے پر یہ چار لوگوں کو اٹھا لیتا تھا۔
بکر بن نطاح بھی بہادر شہسوار تھا اور بے دھڑک حملہ کرنے والا تھا۔ اس کے اشعار مشہور ہیں اور اس کے قصے کتابوں میں مذکور ہیں ۔
حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” اَلْخَيْرُ فِي السَّيْفِ وَالْخَيْرُ مَعَ السَّيْفِ وَالْخَيْرُ بِالسَّيْفِیعنی تلوار میں بھلائی ہے، تلوار کے ساتھ بھلائی ہے اور تلوار کے سبب بھلائی ہے۔“([5])
حضرت سیِّدُناعَمْروبن مَعْدِیْکَرِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تلوارعرب کی تلواروں میں مشہور تھی ۔نہشل شاعر اس کے
بارے میں کہتا ہے:
اَخٌ مَاجِدٌ مَا خَانَنِي يَوْمَ مَشْهَدٍ كَمَا سَيْفُ عَمْرٍو لَمْ تَخْنُهٗ مَضَارِبُہ
ترجمہ: میرے کریم بھائی نےجنگ کے دن مجھ سے خیانت نہیں کی جیساکہ عَمْروکی تلوارنے لڑائی میں اس سے خیانت نہیں کی۔
حضرت سیِّدُنا عَمْروبن مَعْدِیْکَرِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی یہ تلوارحضورنبی اکرم،نُورِمُجَسّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقرر کردہ حاکمِ یمن حضرت سیِّدُنا خالد بن سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ہبہ کی پھر یہ تلوار اُن کے خاندان میں رہی حتّٰی کہ خالد بن عبداللہ قسری نے خطیر رقم دے کر ہشام بن عبد الملک کے کہنے پر وہ تلوار اُس کے لئے خرید لی۔پھر یہ تلوار بنو مروان کے پاس رہی پھر اسےعباسی خلیفہ سفاح نے اور سفاح کے بعد خلیفہ ابوجعفر منصور اور مہدی نے طلب کیا مگر انہیں نہیں ملی بعد میں خلیفہ ہادی نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ کامیاب ہوگیا۔
حضرت سیِّدُناعروہ بن زبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےبھائی حضرت سیِّدُناعبداللہبن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شہادت کے بعدعبدالملک بن مروان کے پاس حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تلوار کا مطالبہ کرنے گئے اور عبدالملک سے کہا: وہ تلوار مجھے لوٹا دو کیونکہ وہ تلوار حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنگ حُنین میں میرے والد کو عطا فرمائی تھی۔ عبدالملک نے کہا: آپ اس تلوار کو پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ۔ عبدالملک نے کہا: کس طرح پہچانو گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جتنا تم اپنے باپ کی تلوار کی پہچان نہیں رکھتے اس سے زیادہ میں اس کی پہچان رکھتا ہوں ۔
کمزور دل اور بزدل لوگوں کا بیان
سرورِ انبیا،محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بزدلی سے پناہ مانگتے ہوئے یوں دعا فرمائی:اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلْبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالَ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں فکراورغم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں کمزوری اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں بزدلی اور کنجوسی سےتیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں قرض کے غلبے اور لوگوں کے دبانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔([6])
ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اس بات سے جس سے حضور نبی رحمت، شفیع اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پناہ مانگی۔ تمہارے لئے بزدلوں کی اتنی ہی نشانیاں کافی ہیں کہ چھوٹے پرندے سے ڈر جائیں ، مچھر کی آواز سے نیند اڑ جائے، دروازے کی آواز سے خوفزدہ ہوجائیں ، مکھی کی بھنبھناہٹ سے بے چین ہوجائیں ، اگر کوئی گھور کر دیکھ لے تو ایک ماہ تک بے ہوش رہیں اور ہوا کی آواز کو نیزوں کی جھنکار گمان کریں ۔
ابوحَیّہ نُمَیْری کے پڑوسی نے بیان کیا کہ ابو حیہ نمیری کے پاس ایک تلوار تھی اس تلوار میں اور لکڑی میں کوئی فرق نہیں تھا اور اس تلوار کا نام اُس نے ”لُعَابُ الْمَنِیَّہ“رکھا تھا۔ ایک رات میں نے اُ سے دیکھا کہ وہ تلوار نکالے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑاہےاور اُس نے اپنے گھر میں کسی کی موجودگی محسوس کی تو کہنے لگا: اے ہم کو دھوکا دینے والے، ہم پر جرأت کرنے والے! تو نے بُرا کیا خدا کی قسم! تجھے اپنی جان پیاری نہیں ہے، بھلائی کم ہے اور تلوار چمکدار ہے جس کا نام”لُعَابُ الْمَنِیَّہ“ہے اور تو اس کے بارے میں جانتا ہے، باہر نکل آ تو میں تجھے معاف کردوں گا اس سے پہلے کہ میں اندر آکر تجھے سزا دوں ۔ پھر اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا، اندر سے کُتّا نکلا تو کہنے لگے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ اس نے تجھے کُتّا بنا دیا اور ہم لڑنے سے بچ گئے۔
مُعْتَصِم بِاللہایک دن شکار کے لئے نکلا تو اسے شیر دکھائی دیا ،اُس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے جو اُن میں سب سے زیادہ طاقتور اور اسلحہ سے لیس تھا ،کہا: کیا تم اس کے لئے تیار ہو؟ اس شخص نے جواب دیا: نہیں ۔ معتصم ہنسنے لگا اور کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ بزدل کا بُرا کرے ۔
سکندر نے اپنے ہم نام ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جنگ میں شکست کھارہا ہے تو اس سے کہا: اے شخص! یاتو جنگ سے دور ہوجا یا اپنا نام بدل دے۔
کسی لشکر میں لڑائی کا شور و غل بڑھا تو ایک خراسانی شخص اپنی سواری کی طرف بڑھا تاکہ اس کو لگام ڈال سکے
، دہشت کے مارے اس نے لگام گھوڑے کی دم میں ڈال دی اور گھوڑے سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: تیری پیشانی تو چوڑی ہوتی ہے تو یہ لمبی کیسے ہوگئی؟
اسلم بن زرعہ کِلابی دو ہزار کے لشکر کے ساتھ ابو بلال مِرداس خارجی سے جنگ کرنے نکلاجس کےساتھ 40افراد تھے۔ اسلم کو اس جنگ میں شکست ہوئی تو حاکم بصرہ ابنِ زیاد نے اسے اس بات پر ملامت اور اس کی مذمت کی۔اسلم نے کہا:ابنِ زیاد کا میری زندگی میں مذمت کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ وہ میرے مرنے کے بعد میری مدح کرے۔ اس عبرت ناک شکست کے بعد اسلم جب بازار کی طرف نکلتا اور بچوں کے پاس سے گزرتا تو بچے اسے چڑاتے ہوئے چیخ کر کہتے:”اسلم!ابوبلال تمہارے پیچھےہے۔“ یہ بات اُس پر گراں گزری تو اُس نےبچوں کی شکایت ابن زیاد کوکردی ۔ابن زیاد نےپولیس افسر کو کہا کہ وہ اسلم کو بچوں سے بچائے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(اس باب میں تین فصلیں ہیں )
ممدوح کی وہ تعریف جو ایسے اخلاق پر کی جائے جس پر تعریف کی جاتی ہواور اسے اچھی تعریف بھی کہتے ہیں اور یہ تعریف مولیٰ کی طرف سے بندے کے حق میں بھی درست ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نبی حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں فرماتا ہے:
اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) (پ۲۳،ص:۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک ہم نےاسےصابرپایاکیااچھابندہ بے شک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔
اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نبی حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں فرماتاہے:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ۲۹،القلم:۴) ترجمۂ کنزالایمان:اوربےشک تمہاری خوبوبڑی شان کی ہے۔
اورفرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ۱۸،المؤمنون:۱، ۲)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک مرادکوپہنچےایمان والےجواپنی نماز میں گڑگڑاتےہیں ۔
ان آیتوں سے پتا چلا کہ انسان کے اچھے اخلاق پر تعریف کرنا جائز ہے۔
جہاں تک سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد ہے:”اِذَا رَاَيْتُمُ الْمَادِحِيْنَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ یعنی جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھوتو ان کے منہ پر خاک ڈال دو۔“([7])تو اس کی شرح میں حضرت سیِّدُنا عتبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس حدیث میں مدح سے مراد باطل اور جھوٹی تعریف کرنا ہے جبکہ اُس بات پر تعریف کرنا جو بندے میں موجود ہو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوطالب، حضرت سیِّدُنا عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیِّدُنا حسان اور حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نےحُضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف کی لیکن ہم تک ایسی کوئی بات نہیں پہنچی کہ آپ نے ان کے منہ پر مٹی ڈالی ہو،یونہی آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے مہاجرین و انصار صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تعریف فرمائی۔
منہ پر خاک ڈالنے کےدومعنیٰ ہیں :(۱)… باطل تعریف کرنے والے کا شدید رد کرےیا (۲)… تعریف کرنے والے کو کہے: ”تیرے منہ میں خاک۔“
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جب کوئی تعریف کرتا تو فرماتے: اے اللہ! تو مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور میں خود کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ، اے اللہ! میرے لئے بھلائی لکھ دے جیسا یہ لوگ گمان کرتے ہیں اور میری مغفرت فرما ان باتوں سے جو یہ لوگ نہیں جانتے اور میری پکڑ نہ فرماناان باتوں پر جو یہ کہتے ہیں ۔
حضرت سیِّدُنا ساریہ دیلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےبھی حُضورنبی کریم،رءوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح بیان فرمائی، حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہی ہیں جنہیں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دوران خطبہ
ان الفاظ سے ندا دی تھی:”یَا سَارِیَۃُ الْجَبَل“انہوں نے حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح ان الفاظ میں بیان کی:
فَمَا حَمَلَتْ مِنْ نَاقَةٍ فَوْقَ ظَهْرِهَا اَبَرَّ وَاَوْفٰی ذِمَّةً مِّنْ مُحَمَّدٍ
ترجمہ:اونٹنی اپنی پیٹھ پر اس قدر بوجھ نہیں اٹھا سکتی جس قدر حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے۔
سیِّدُنا حسان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی ثنا خوانی:
حضرت سیِّدُنا حسان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑے پیارے انداز میں ان الفاظ کے ساتھ تاجدارِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح بیان کی:
وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ وَاَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِّنْ كُلِّ عَيْبٍ كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ
ترجمہ: آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ خوبصورت میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور آپ سےزیادہ حسن وجمال کا پیکر کسی ماں نے جنا ہی نہیں ۔آپ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا گویاکہ آپ کو ایسا پیدا کیا گیا جیسا آپ چاہتے تھے۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی کیا خوب حضور نبی رحمت، شفیع اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح سرائی کی ہے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
|
لَوْ لَمْ تَكُنْ فِيْهِ اٰيَاتٌ مُّبَيِّنَةٌ |
|
كَانَتْ بَدِيْهَتُهٗ تُنْبِيْكَ بِالْخَبْرِ |
ترجمہ: اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس واضح دلائل نہ بھی ہوتے تو آپ کا مبارک چہرہ آپ کی صداقت کی خبر دینے کے لئے کافی تھا۔
(مصنفعَلَیْہِ الرَّحْمَہفرماتے ہیں :)جب میں نے حج کیا اور روضَۂ انور کی زیارت سے مستفیض ہواتو بارگاہِ رسالت میں ایک بچے کی طرح حاضر ہوا اور حجرۂ شریف وقبر انور کے سامنے روتے ہوئے ننگے سررسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مدح میں طویل اشعار کہے۔
حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَنَا سَيِّدُ وَلَدِ اٰدَمَ وَلَا فَخَرَ یعنی میں اولاد آدم کا سردار ہوں اوریہ بات میں فخریہ نہیں کہتا۔“([8])
خدا کی قسم! اگر تمام سمندر سیاہی ہوجائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام مخلوق لکھنے والی بن جائے تب بھی حضور نبی کریم،رءوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صفات کا کچھ حصہ بھی جمع نہیں کرسکتے اورآپ کے معجزات کی قلیل مقدار بیان کرنے سے بھی عاجز رہیں ۔
کسی نے ہشام بن عبد الملک کی تعریف کی توہِشام نے اُس سےکہا:اے فلاں !کیا آدمی کے منہ پر اس کی تعریف کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔اُس شخص نے کہا :میں نے آپ کی مدح نہیں کی ہے بلکہ آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں یاد دلائی ہیں تاکہ آپ ان پر نئے سرے سے شکر ادا کریں ۔ہشام نے یہ سن کر کہا :ایسی مدح بہت خوب ہے اور اُسے انعام واکرام سے نوازا۔
تمام مخلوق پر شکر الٰہی بجا لانا واجب ہے ۔
دل کا شکر یہ ہے کہ بندہ جان لے کہ نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہے اور زمین و آسمان میں رہنے والوں پر جو بھی نعمت ہے اس کی ابتدا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہےحتّٰی کہ اپنے اور غیر کی طرف سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرے ۔
شکر کا محل دل ہے اور وہ معرفت ہے،اس پر دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان ہے:
وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ (پ۱۴،النحل:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے۔
اور لوگوں کو یقین ہے کہ نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے۔
کہا گیا ہے: شکر یہ ہے کہ خود کو شکر ادا کرنے سے عاجز سمجھے۔
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: اے اللہعَزَّ وَجَلَّ! میں کیسے تیرا شکر ادا کروں جبکہ میرا شکر ادا کرنا بھی تیری طرف سے نعمت ہے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی: اب تو نے میرا شکر ادا کیا ہے۔
اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ شکر ِنعمت پر شکر ادا کرنا شکر کو مکمل کرتا ہے۔
حضرت سیِّدُنامحمود وراق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقشکر کے متعلق یہ فرماتے ہیں :
اِذَا كَانَ شُكْرِيْ نِعْمَةَ اللهِ نِعْمَةً عَلَيَّ لَهٗ فِيْ مِثْلِهَا يَجِبُ الشُّكْر
فَكَيْفَ بُلُوْغُ الشُّكْرِ اِلَّا بِفَضْلِهٖ وَاِنْ طَاَلتِ الْاَيَّامُ وَاتَّصَلَ الْعُمْر
اِذَا مَسَّ بِالسَّرَاءِ عَمَّ سُرُوْرُهَا وَاِنْ مَّسَّ بِالضَّرَاءِ اَعْقَبَهَا الْاَجْر
فَمَا مِنْهُمَا اِلَّا لَهٗ فِيْهِ نِعْمَةٌ تَضِيْقُ بِهَا الْاَوْهَامُ وَالْبَرُّ والْبَحْر
ترجمہ:(۱)جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا شکر ادا کرنا بھی ایک نعمت ہے تو اب اس نعمت پر بھی مجھ پر شکر ادا کرنا واجب ہے۔ (۲)اور اس کے فضل کے بغیرشکر تک نہیں پہنچا جاسکتا اگرچہ کتناہی عرصہ اورعمرگزر جائے۔(۳)خوشحالی میں شکر کرنے سے شادمانی بڑھتی ہےاور مصیبت میں شکر اجر و ثواب کا باعث ہے۔(۴)لہٰذاخوشحالی اور مصیبت، دونوں ہی میں شکر نعمت ہے جس کے ادراک سے خیالات، خشکی اور سمندر کی وسعتیں قاصر ہیں ۔
حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی مناجات میں عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو نے آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، فلاں فلاں کام تو نے ہی کیاتو تیرے شکر کی کیا صورت ہے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا: جان لو! ہر شے کا خالق میں ہی ہوں اور اس بات کا یقین ہی شکر ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) (پ۳۰،الضحٰی:۱۱) ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
حضرت سیِّدُنانعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو تھوڑے پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرتا، جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور نعمت کا چرچا کرنا بھی شکر ہے۔ ([9])
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا: نعمتوں کو یاد کرو کہ نعمت کو یاد کرنا بھی شکر ادا کرنا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ-وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ(۱۳) (پ۲۲،سبا:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اے داود والو شکر کرو اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے۔
اس آیت میں عمل کو شکر فرمایا گیا ہے۔
منقول ہے کہ حضور نبی رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس قدرطویل قیام فرماتےکہ آپ کے قدم مبارک پرورم آجاتاتھا۔عرض کی گئی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ایساکیوں کرتےہیں حالانکہ آپ کےسبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دیئے۔ارشاد فرمایا: کیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔([10])
حضرت سیِّدُناابو ہارونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :حضرت سیِّدُنا ابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آنکھوں کا شکر کیا ہے؟ارشاد فرمایا: ان کے ذریعے کوئی اچھی بات دیکھو تو اسے عام کرو اور اگر کوئی بُری بات دیکھو تو اسے چھپالو۔ میں نے پوچھا: کانوں کا شکر کیا ہے؟ فرمایا: جب ان کے ذریعے اچھی بات سنو تو اسے یاد کرلو اور اگر بُری بات سنو تو اسے بھلا دو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شکر کرنے پر نعمت کے زیادہ ہونے کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ۱۳،ابراھیم:۷) ترجمۂ کنز الایمان: اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان اس کے بندوں کے لئے علامت ہےتا کہ شکر کرنے والے کو پہچان لیا جائے، کسی کا رزق نہ بڑھتا ہوتو ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ شکر نہیں کرتا اور جب ہم کسی مالدار کو دیکھیں کہ وہ زبان سے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بہت شکر ادا کرتا ہے لیکن اس کا مال نقصان میں ہےتو ہم جان جائیں گے کہ وہ شکر ادا کرنے سے خالی ہے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا، اگر دیتا ہے تو مستحق کو نہیں دیتا یا اپنے اوپر لازم حقوق پورے نہیں کرتا جیسے برہنہ کو کپڑے پہنانا، بھوکے کو کھانا کھلانا اور اسی طرح کے دوسرے کام تو ایسا شخص اس فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تحت داخل ہے:” لَوْ صَدَقَ السَّائِلُ مَااَفْلَحَ مَنْ رَّدَّهٗ یعنی اگر مانگنے والا سچا ہو تو اسے(خالی ہاتھ) لوٹانے والا فلاح نہیں پاسکتا۔“([11])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ- (پ۱۳،الرعد:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشکاللہکسی قوم سےاپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں ۔
جب بندے اطاعت کے کاموں میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر کئے احسان کو بدل دیتا ہے۔
بعض حکما فرماتے ہیں :”جسے چار چیزیں عطا کی گئیں اس سے چار چیزیں نہ روکی جائیں گی:(۱) جسے شکر کی نعمت عطا کی گئی اس سے مزید نعمت نہ روکی جائے گی۔(۲) جسے توبہ کی توفیق دی گئی اس سے قبولیت نہ روکی جائے گی۔ (۳) جسےاستخارہ کی توفیق دی گئی اس سے بھلائی نہ روکی جائے گی اور(۴)جسے مشورہ کی توفیق دی گئی اسے سیدھی راہ سے نہ روکا جائے گا۔“
حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :”جو تجھے نعمت عطا کرے تو اس کا شکر ادا کر اور جو تیرا شکریہ ادا کرے تو اُسے نعمت سے نواز کیونکہ ناشکری سے نعمت باقی نہیں رہتی اور شکر سے نعمت کبھی زائل نہیں ہوتی۔“
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اے ابنِ آدم! تو نعمت کے شکر سے کیسے دور ہوسکتا ہے حالانکہ تو شکرِنعمت میں گروی ہے، تُو جب شکر ادا کرتا ہے تجھے اس شکر کے سبب پہلے سے بڑی نعمت مل جاتی ہےلہٰذا تُو شکرانِ نعمت سے دور نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے سبب تجھے پہلے سے بڑی نعمت مل جاتی ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کسی قوم کی طرف بلایا گیاجنہیں شک کی بنا پر پکڑا گیا تھا لیکن آپ کے آنے سے پہلے وہ اِدھر اُدھر ہوگئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک غلام آزاد کیاکہ آپ کے ہاتھوں کسی مسلمان کی رسوائی نہیں ہوئی۔
منقول ہے کہ ایک چیونٹی نے حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنبی!میں آپ سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرنے پر قادر ہوں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام گھوڑے پر سوار تھے،یہ سن کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئےپھر چیونٹی سے کہا:اگر مجھے تجھ پر بزرگی حاصل نہ ہوتی تو میں تجھ سے یہ کہتا کہ جو کچھ مجھے دیا گیا ہے وہ سب تُو مجھ سے لے لے۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:نعمتوں کے زوال سے بچو کہ جو زائل ہوجائے وہ پھر سے نہیں ملتی۔مزیدفرماتےہیں :جب تمہیں یہاں وہاں سے نعمتیں ملنے لگیں تو نا شکرے بن کر ان کے تسلسل کو خود سے دور نہ کرو۔
کہا گیا ہے کہ جب تمہارا ہاتھ بدلہ دینے میں کمی کرے تو شکر سے اپنی زبان کو تر رکھو۔
ایک دانا کا قول ہے: شکر کے تین درجے ہیں : (۱)… دل سے شکر ادا کرنا۔ (۲)… زبان سے شکر ادا کرنا اور (۳)…اعضاء سے شکر ادا کرنا۔
حضرت سیِّدُناابنِ عائشہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں : منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے پھر وہ اس نعمت کے متعلق ظلم وزیادتی سے کام لے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس نعمت کو ضرور اس سے زائل کردیتا ہے۔
حضرت سیِّدُنامحمد بن حبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں : جب شکر کم ہوجائے تو بھلائی ختم ہوجاتی ہے۔
کہا گیا ہے کہ جب بھلائی کے متعلق ناشکری کی جائے تو بھلائی ختم ہوجاتی ہے۔
حکما سے سوال کیا گیا: سب سے بڑھ کر بے فائدہ کام کون سے ہیں ؟ جواب دیا: بنجر زمین کا سیراب کرنا جس سے نہ اس کا اثر زائل ہو اور نہ ہی کوئی فائدہ ہو، سورج کی روشنی میں چراغ جلانااور ناشکرے کے ساتھ احسان کرنا۔
حضرت سیِّدُنا عبدالاعلیٰ بن حماد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : میں خلیفہ متوکل کے پاس گیا تو اس نے کہا: اے ابو یحییٰ! ہم نے یہ پختہ ارادہ کرلیا تھاکہ تمہیں اچھے عطیہ سے نوازیں گے مگر کچھ پریشانیوں نے ہمیں گھیر لیا۔میں نے کہا:اے امیرالمؤمنین! مجھے حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ”جو غم میں شکر ادا نہیں کرتا وہ نعمت ملنے پر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جو شکر کو اپنی سواری بنا تا ہے اسے اس کی بدولت مزید ملتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ جو نعمت کےآخر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے نعمت کو بڑھا دیتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا ابنِ سماک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب نے فرمایا: بندے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت نامعلوم ہوتی ہے وہ جب چلی جاتی ہے تب پتا چلتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ جو نعمت پر شکر ادا نہیں کرتا گویا وہ اس نعمت کے زائل ہونے کا طلب گار ہے۔
ایک دانا کا قول ہے: تین لوگوں سے بھلائی نہ کرو([12]):(۱) کمینے سے کیونکہ وہ بنجر زمین کی مثل ہے۔ (۲) بے حیا سے
کیونکہ وہ یہی گمان کرتا ہے کہ مجھے سے جو بھی بھلائی کرتا ہے میری فحش گوئی کے خوف سے کرتا ہےاور(۳)بے وقوف سے کیونکہ تم اس سے جوبھی بھلائی کرو گے وہ اس کی قدر نہیں جانے گا۔
بھلا شخص بھلائی کا بیج بوتا ہے اور شکرکی فصل کاٹتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور جانِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب کوئی بندہ کسی کے ساتھ بھلائی کرے اور دوسرا شخص اس کا شکریہ ادا نہ کرےپھر بھلائی کرنے والا دوسرے شخص کے خلاف دعا کر دے تو وہ بددعا قبول ہوجاتی ہے۔“ ([13])
حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب بندۂ مومن کھانا کھا کر سیر ہوجاتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے وہ اجر دیتا ہے جو عبادت گزار روزہ دار کو دیتا ہے، بے شک اللہ شکر کی توفیق دینے والا ہے اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔([14])
حضرت سیِّدُنا محمدبن علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبیان کرتے ہیں :”اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے اور وہ یقین رکھے کہ یہ نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے شکر ادا کرنے سے پہلے ہی اس کے لئے شکر لکھ دیتا ہےاور جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس بارے میں باخبر ہے کہ چاہے تو توبہ کرنے سے پہلے ہی اُسے معاف کر دے یا سزا دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے توبہ کرنے سے پہلے ہی اُسے بخش دیتا ہے۔
ایک شخص نے کسی سے کیا خوب کہاہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے کسی ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کرے کہ تو صبر سے عاجز آجائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے ایسی نعمت عطا کرے کہ تو شکر ادا کرنے سے عاجز آجائے۔
حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو اگر بدلہ نہیں دے سکتے تو اس کے لئے دعا کرو۔ ([15])
نجاشی بادشاہ کا وفد جب حضور نبی رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ نے خود ان کی خیرخواہی فرمائی۔عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ رہنے دیجئے ہم اس کام کے لئے کافی ہیں ۔ ارشاد فرمایا: نہیں ، انہوں نے میرے صحابہ کا اکرام کیا تھا۔ ([16])
گورنر کوفہ حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کسی نے عرض کی:میری طرف سے آپ پر ایک بھلائی ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ اس شخص نے عرض کی: آپ جب اپنے گھوڑے سے نیچے گرے تھے تو آپ کے غلاموں سے پہلےمیں آپ کے پاس آیا تھا، آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر گھوڑے پر سوار کیا اور آپ کو پانی پلایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اب تو کیا چاہتا ہے؟ اس شخص نے عرض کی: مجھے آپ سے ملنے سے روکا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہیں ہم سےروکا گیا ہے اس لئے ہم تمہیں ایک لاکھ درہم دیتے ہیں ۔
حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک مرتبہ لوہاروں کے بازار سے سواری پر گزرے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاچابک گر گیا۔ ایک شخص نے کوڑا اٹھا کر صاف کر کے آپ کو پکڑا دیا۔ آپ نے اپنے غلام سے پوچھا: تمہارے پاس کتنا مال ہے؟ غلام نے عرض کی:10دینار ہیں ۔ فرمایا: یہ دینار اس شخص کو دے دو اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس شخص سے دینار کم ہونے کی بنا پر معذرت بھی کی۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
|
مضامین |
صفحہ نمبر |
مضامین |
صفحہ نمبر |
|
بخل کاانجام |
30 |
ایک متوکل شخص کی حکایت |
127 |
|
بیٹےکی بھڑیےسےحفاظت |
30 |
بادشاہ اوروزیر |
208 |
|
صدقےکی برکت سےجان بچ گئی |
30 |
حاکم مصراورمردِصالح |
226 |
|
روٹی صدقہ کرنےکی برکت |
34 |
گائےکادودھ کم ہوگیا |
230 |
|
صدقہ بخشش کاذریعہ بن گیا |
34 |
حمص کےعامل عمیربن سعد |
251 |
|
بدلتاہےرنگ آسمان کیسےکیسے |
36 |
بادشاہ بہرام اورچرواہا |
270 |
|
صدقہ کےدرہم سےجان بچ گئی |
36 |
خلیفہ مامون اورغلام |
272 |
|
تاریخی حج کرنےوالی خاتون |
43 |
یزیدبن مہلب اورولیدبن عبدالملک |
315 |
|
مسلمان آپس کی دشمنی بھول جاتےہیں |
55 |
ایثارکی عجیب حکایت |
376 |
|
دواحمق |
57 |
غصہ بھگانےکی انوکھی ترکیب |
451 |
|
فرزدق شاعراورحفظِ قرآن |
60 |
ایفائےعہدکےلئےجان کی پروانہ کی |
459 |
|
حجاج اورغضبان بن قبعثری |
100 |
ایک بہادرمجاہد |
486 |
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں :پیٹ بھرکرکھانےمیں چھ آفتیں ہیں : (۱)…مناجاتِ خداوندی سےمحرومی۔(۲)…علم وحکمت کی حفاظت میں مشکلات۔(۳)…مخلوق پرشفقت سےدوری۔کیونکہ شکم سیرسمجھتاہےسبھی کاپیٹ بھراہواہےیوں مسکینوں اوربھوکوں کی ہمدردی کم ہوجاتی ہے۔(۴)…عبادت بوجھ محسوس ہونےلگتی ہے۔(۵)…خواہشات کاہجوم ہوتاہےاور(۶)…نمازی مساجدکی طرف جارہےہوتےہیں اورزیادہ کھانے والےبیْتُ الخلاکےچکرلگارہےہوتےہیں ۔(احیاء علوم الدین،۳/ ۹۲)
|
مضامین |
صفحہ نمبر |
مضامین |
صفحہ نمبر |
|
اجمالی فہرست |
05 |
ایک رکعت میں ختم قرآن |
22 |
|
کتاب پڑھنے کی نیتیں |
08 |
نمازکانرالاادب |
23 |
|
اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کا تعارُف(ازامیراہلسنتمُدَّظِلُّہُ الْعَالِی) |
09 |
خوبصورت منظر |
23 |
|
مُصنِّف کامختصرتعارُف |
10 |
خاتونِ جنت کی نماز |
23 |
|
کچھ کتاب کے بارےمیں |
11 |
جنت میں آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی رفاقت |
24 |
|
مقدمہ |
14 |
جماعت فوت ہوجانےپرتعزیت |
24 |
|
باب نمبر1:اسلام کی بنیادی باتوں کابیان |
15 |
ساری رات کی عبادت سےافضل |
24 |
|
پہلی فصل:توحیدِباری تعالیٰ اورحمدوثناکابیان |
15 |
دعا |
24 |
|
اکیلامعبود |
16 |
مسواک اوراذان کابیان |
25 |
|
اشعارِعرب میں سےبہترین مصرعہ |
17 |
مسواک کی فضیلت |
25 |
|
ایمانیات |
17 |
مسواک کےآداب |
25 |
|
دوسری فصل:نمازاوراس کی فضیلت |
18 |
مسواک کی بدولت ایمان پرخاتمہ |
26 |
|
نمازکوصلوٰۃ کہنےکی وجہ |
18 |
اذان کی فضیلت |
26 |
|
باعتبارِنسبت لفظِ صلوٰۃ کامعنیٰ |
19 |
تیسری فصل:زکوٰۃ اوراس کی فضیلت کابیان |
27 |
|
ایمان کی نشانی |
19 |
بارش نہ برسنےکاسبب |
28 |
|
نمازکاوقت آتےہی کیفیت بدل جاتی |
20 |
صدقہ وخیرات کی فضیلت |
29 |
|
تہجدگزاروں کےچہرےخوبصورت کیوں ہوتےہیں ؟ |
20 |
دوآیاتِ مبارکہ |
29 |
|
دواحادیثِ مقدسہ |
29 |
||
|
رضائےمصطفٰےکی خواہش |
20 |
حکایت:بخل کاانجام |
30 |
|
تکبیرکی ہیبت |
20 |
حکایت:بیٹےکی بھڑیےسےحفاظت |
30 |
|
اصل سرمایہ |
21 |
حکایت:صدقےکی برکت سےجان بچ گئی |
30 |
|
گناہوں کاکفارہ |
21 |
صدقہ دینےکاانداز |
31 |
|
عبادت کےلئےرات کی تقسیم |
22 |
صدقےکی فضیلت پرچارفرامین مصطفٰے |
31 |
|
نمازہوتوایسی |
22 |
سائل کوخالی ہاتھ نہ لوٹاؤ |
32 |
|
نماز،روزہ اورصدقہ |
32 |
حجراسودگواہی دےگا |
42 |
|
بُری موت سےحفاظت |
33 |
فرشتوں کاحج |
42 |
|
قیامت کی بھوک پیاس سےنجات |
33 |
حاجیوں سےدعاکروانا |
42 |
|
سائل کوکچھ نہ کچھ ضروردیتے |
34 |
خانہ کعبہ کےساتھ دخولِ جنت |
42 |
|
حکایت:روٹی صدقہ کرنےکی برکت |
34 |
حکایت:تاریخی حج کرنےوالی خاتون |
43 |
|
حکایت:صدقہ بخشش کاذریعہ بن گیا |
34 |
ربّ کی عطائیں |
43 |
|
حکایت:بدلتاہےرنگ آسمان کیسےکیسے |
36 |
حج مبرورکی جزا |
43 |
|
حکایت:صدقہ کےدرہم سےجان بچ گئی |
36 |
حج مبرورکسےکہتےہیں ؟ |
44 |
|
چوتھی فصل:روزے کی فضیلت اورروزہ دارکے اجروثواب کابیان |
37 |
100اونٹوں کی قربانی |
44 |
|
مساکین سےمحبت |
44 |
||
|
روزےکےدرجات |
37 |
غلاموں کی انوکھی آزادی |
45 |
|
روزہ دارکےلئےدوخوشیاں |
37 |
20مرتبہ پیدل حاضری |
45 |
|
رمضان کاایک روزہ چھوڑنےکانقصان |
38 |
باب نمبر2:عقل ودانائی کی فضیلت اورحماقت کی مذمت |
46 |
|
جنت کےدروازےکھل جاتےہیں |
38 |
عقل کی پیدائش |
46 |
|
رمضان میں ایک تسبیح کی فضیلت |
38 |
عقل کی اقسام |
46 |
|
پوراسال رمضان ہونےکی تمنا |
38 |
کم عُمْری میں دانش مندانہ فیصلہ |
47 |
|
رمضان میں نمازکاثواب |
39 |
دانش مندی کی علامت |
48 |
|
رمضان میں دعاکی قبولیت |
39 |
عقل مندکی پہچان |
49 |
|
روزۂ رمضان کی بدولت گناہوں کی معافی |
39 |
توفیق سےمحروم شخص |
49 |
|
ایامِ بیض کےروزوں کی فضیلت |
40 |
عقل مندوں کےلئے99درجات |
49 |
|
گزشتہ گناہوں کی معافی |
40 |
عقل کی رعایا |
49 |
|
پانچویں فصل:حج اوراس کی فضیلت کابیان |
41 |
نفس کی لگام عقل کےہاتھ |
50 |
|
قیامت تک حج وعمرے کاثواب |
41 |
عقل کی حقیقت |
50 |
|
بلاعذرحج نہ کرنےپروعید |
41 |
عقل کاآئینہ |
51 |
|
وقوفِ عرفہ کی فضیلت |
41 |
عقل منداتراتانہیں ہے |
51 |
|
دنیاکاسب سےافضل دن |
41 |
عاقل اورجاہل کی پہچان |
51 |
|
چارچیزیں چارکی محتاج ہیں |
52 |
رونےجیسی صورت ہی بنالو |
62 |
|
چارچیزیں چارتک پہنچادیتی ہیں |
52 |
ذُوالنُّورَین رَضِیَ اللہُ عَنْہاورتلاوتِ قرآن |
63 |
|
عقل سےمتعلق متفرق اقوال |
52 |
خیرسےخالی عبادت اورتلاوت |
63 |
|
عقل میں اضافےکانسخہ |
53 |
میں کس کی قراءت اختیارکروں |
63 |
|
عقل منداورجاہل |
53 |
بزرگانِ دین اورتلاوتِ قرآن |
64 |
|
بزرگی کاپول کھل گیا |
54 |
ایک رکعت میں پوراقرآن |
64 |
|
قاضی ایاس کی عقل مندی |
54 |
فرشتوں کی دعائےمغفرت کس کےلئے؟ |
64 |
|
حکایت:مسلمان آپس کی دشمنی بھول جاتےہیں |
55 |
تلاوت کےافضل اوقات |
65 |
|
حماقت ونادانی کی مذمت |
56 |
ختم قرآن کےلئےجمع ہونامستحب ہے |
65 |
|
ناپسندیدہ ترین مخلوق |
56 |
تلاوت کےآداب |
65 |
|
صورت کےاعتبارسےاحمق کی پہچان |
56 |
دل کی پانچ دوائیں |
66 |
|
افعال کےاعتبارسےاحمق کی پہچان |
57 |
آہستہ یابلندآوازسےتلاوت کرنےکاحکم |
66 |
|
احمق کاعلاج نہ ہوسکا |
57 |
مختلف سورتوں کےفضائل |
66 |
|
حکایت:دواحمق |
57 |
یٰس شریف کی فضیلت |
67 |
|
بندوں کوعقل کےمطابق بدلہ دیاجاتاہے |
58 |
روزِجمعہ سورۂ دخان پڑھنےکی فضیلت |
67 |
|
جنت اوردوزخ کی گائے |
58 |
فقروفاقہ سےحفاظت |
67 |
|
باب نمبر3:قرآنِ پاک کی فضیلت وحرمت اور قاری کےلئےتیارکئےگئےاجروثواب کابیان |
59 |
نصف،چوتھائی اورتہائی قرآن کےبرابرثواب |
67 |
|
باب نمبر4:علم،ادب،عالم اورطالب علم کی فضیلت کابیان |
68 |
||
|
حکایت:فرزدق شاعراورحفظِ قرآن |
60 |
علم کےفضائل |
68 |
|
مردہ دل کی زندگی |
60 |
دنیاوآخرت کی بھلائی اوربُرائی |
69 |
|
قرآن مخلوق نہیں ہے |
61 |
علم ایک نہراورحکمت ایک دریاہے |
69 |
|
رمضان اورتلاوت کاجذبہ |
61 |
چارطرح کےعلوم |
69 |
|
رمضانُ المبارک میں 60قرآنِ پاک کاختم |
61 |
اپنےکردارسےتربیت کرو |
70 |
|
دلوں کازنگ کیسےدورہو |
62 |
علم کےذریعےخودکوطلاق سےبچالیا |
70 |
|
تمام دنیاوالوں کےعمل کےبرابرثواب |
62 |
علم کےساتھ قلیل عمل بھی مفیدہے |
71 |
|
ہرحرف کےبدلے100نیکیاں |
62 |
علم کےبغیرعمل نقصان دہ ہے |
71 |
|
سب سےبڑاکریم |
72 |
ادب کی برکات اوراس سےمتعلق اقوال |
82 |
|
علم کی حفاظت نہ کرنےکی نحوست |
72 |
ادب غلاموں کوتخت نشین بنادیتاہے |
82 |
|
بدترین عالم اوربہترین امیر |
72 |
غریب کون؟ |
83 |
|
علم کاشرف |
73 |
باب نمبر5:حکمت وادب سےبھرپوراقوال |
83 |
|
علم کوتجارت بنانےوالے |
73 |
باب نمبر7:فصاحت وبلاغت کابیان |
91 |
|
مختلف علوم کےحامل |
73 |
سب سےبڑےفصیح وبلیغ |
91 |
|
میں نہیں جانتا |
74 |
فصاحت وبلاغت کیاہے؟ |
92 |
|
آسمان وزمین کےفرشتوں کی لعنت |
74 |
خوددرست رہتےتوزبان بھی درست رہتی |
92 |
|
ہرفن مولیٰ |
74 |
امُّ المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ عَنْہَاکی فصاحت |
92 |
|
حصولِ علم پرصبرکی برکت |
75 |
دعایابدعا؟ |
93 |
|
حافظےکی کمزوری کاعلاج |
75 |
فصاحت کےمتعلق ایک عجیب واقعہ |
93 |
|
قوتِ حافظہ کےلئےوظائف |
75 |
سرکارصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی حکمَتِ عملی |
95 |
|
بیٹےکےانتقال پربھی حصولِ علم کاناغہ نہ کیا |
76 |
صدیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکاتوریہ کرنا |
96 |
|
سیّدناامام بخاریعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی حدیث دانی |
76 |
میں ہدہدسےچھوٹانہیں |
96 |
|
سیّدنالیث بن سعدعَلَیْہِ الرَّحْمَہکامقام ومرتبہ |
77 |
سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہاورایک بچہ |
96 |
|
چارنامورعلما |
77 |
ہشام بن عبدالملک اورایک نوعمرلڑکا |
97 |
|
علم باری تعالیٰ اورعلم مخلوق کی مثال |
78 |
شاہِ روم کےسوالات اورحِبْرُالاُمَّہ کےجوابات |
98 |
|
40ہزارمخلوقات |
78 |
حکایت:حجاج اورغضبان بن قبعثری |
100 |
|
زمین وآسمان کونگلنےوالاچوپایا |
78 |
بلحاظِ حروفِ تہجی اعضائےبدن کےنام |
103 |
|
کبھی نافرمانی نہ کرنےوالی مخلوق |
79 |
ایک ہزاردسترخوان |
104 |
|
اپنےعلم پراکتفانہیں کرناچاہئے |
79 |
حجاج بن یوسف کی عراق پرتقرری |
105 |
|
علم سےمتعلق متفرق اقوال |
80 |
گستاخِ عثمان کاقتل |
107 |
|
چارچیزیں سرداربنادیتی ہیں |
80 |
حجاج کےخونخوارہونےکی وجہ |
107 |
|
علم نحوکی اہمیت |
80 |
ایک لاکھ20ہزارافرادکاقاتل |
108 |
|
ادب کابیان |
81 |
حجاج کی شرمندگی |
108 |
|
ادب کابیٹا |
81 |
فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہکی حق پسندی |
110 |
|
فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہکی مردم شناسی |
110 |
توکل کی برکت |
123 |
|
قرآنِ پاک کےذریعےگفتگوکرنےوالےعورت |
111 |
غلام کااپنےآقاپربھروسا |
124 |
|
باب نمبر8: بہترین اورمدمقابل کوخاموش کرانے والےجوابات اورزبان کی تیزی وغیرہ کےواقعات |
115 |
بچی کاتوکل |
124 |
|
تقدیرکالکھاہوکررہےگا |
127 |
||
|
حجاج کےظلم میں شریک |
115 |
ایک متوکل شخص کی حکایت |
127 |
|
یہودی کوخاموش کرادیا |
115 |
توکل کےمتعلق ناصحانہ کلمات |
131 |
|
آیت کاآیت سےجواب |
116 |
ہرحال میں حامی وناصر |
132 |
|
بنوہاشم اورسیّدنامعاویہرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
116 |
دوسری فصل:قناعت اورتقسیم خداوندی پرراضی رہنےکابیان |
132 |
|
سیّدنامعاویہرَضِیَ اللہُ عَنْہاورایک انصاری کامکالمہ |
117 |
||
|
سیّدناامام اعظمعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کامجنون طاق کوجواب |
118 |
ایک سال تک خواہش کوٹالنےوالے |
133 |
|
ایک عجلی بوڑھااورحجاج |
118 |
تین اشعاراورتوکل کی نعمت |
133 |
|
صدقہ باقی رہتاہے |
118 |
طبیعتوں اورپیشوں کےاختلاف کی حکمت |
134 |
|
ایک بچےکامعتصم کوخوبصورت جواب |
119 |
بیٹےکونصیحت |
134 |
|
سیّدناعباسرَضِیَ اللہُ عَنْہکاادب رسول |
119 |
قناعت والی زندگی کی خواہش |
135 |
|
باب نمبر9:خطباء اورشعراء کاذکر |
119 |
مصیبت پرخوشی |
135 |
|
سیّدناعلیرَضِیَ اللہُ عَنْہکاخطبہ |
119 |
آخرت کی آگ کیسےبرداشت ہوگی؟ |
135 |
|
سیّدناابراہیم بن عبْدُاللہ عَلَیْہِ الرَّحْمَہکاخطبہ |
120 |
سیّدناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کازُہد |
136 |
|
اشعاریادکرو |
121 |
سیّدناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کادرسِ توکل |
136 |
|
سیّدتُناعائشہرَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی شعردانی |
121 |
قسمت میں لکھی روزی |
136 |
|
رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمشاعرنہ تھے |
121 |
لالچ نےفائدہ نہ پہنچایا |
137 |
|
سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہاورشعراء |
122 |
احمق کورزق کیوں دیاجاتاہے؟ |
138 |
|
باب نمبر10: اللہتعالیٰ پرتوکل،اس کی تقسیم پررضا مندی اورقناعت کابیان نیزحرص ولالچ کی مذمت |
123 |
بےصبری حلال سےمحروم کرتی ہے |
139 |
|
چکی بنانےوالاآٹابھی دیتاہے |
139 |
||
|
پہلی فصل:توکل کابیان |
123 |
لوگوں کےپاس موجودچیزسےمایوس ہوجاؤ |
140 |
|
توکل کےمتعلق تین فرامین باری تعالیٰ |
123 |
سب سےاچھی حالت |
140 |
|
جنت میں داخلہ |
123 |
مل جائےتوایثار،نہ ملےتوشکر |
140 |
|
تیسری فصل:حرص ولالچ اورلمبی امیدوں کی مذمت |
141 |
اللہعَزَّ وَجَلَّکی خیرخواہی |
154 |
|
امت کےآخری لوگوں کی ہلاکت کاباعث |
141 |
قرآن مجیدکی خیرخواہی |
154 |
|
بوڑھےکی حرص زیادہ کیوں ؟ |
142 |
رسولِ پاکصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خیرخواہی |
154 |
|
دنیاکی خوشی اورغم |
142 |
حکمرانوں کی خیرخواہی |
155 |
|
ایک مہینےکاادھارکرنالمبی امیدہے |
142 |
عام مسلمانوں کی خیرخواہی |
155 |
|
بوڑھادوباتوں میں جوان رہتاہے |
143 |
نصیحت کاکڑواگھونٹ |
155 |
|
لمبی امیدوں کےبارےمیں اقوال |
143 |
پسندیدہ بندے |
155 |
|
لالچ کی مذمت |
143 |
مشورہ قبول نہ کرنےکانقصان |
156 |
|
غلاموں کی تین اقسام |
144 |
باب نمبر12:اچھی اورعمدہ نصیحتوں کابیان |
156 |
|
علم کوسینوں سےنکالنےوالی چیز |
144 |
پانچ فرامین باری تعالیٰ |
156 |
|
سب سےافضل عمل |
144 |
کمزورترین ایمان |
157 |
|
باب نمبر11:مشورہ،نصیحت،تجربہ اورانجام میں نظر کرنےکابیان |
145 |
مختصرنصیحت |
158 |
|
دنیاسےبےرغبت کرنےوالی باتیں |
159 |
||
|
مشورےکابیان |
145 |
عمدہ نصیحت |
159 |
|
مشاورت کےفوائد |
146 |
شیرخداکی شہزادوں کوآخری نصیحت |
160 |
|
لوگوں کی تین اقسام |
146 |
اہْلِ خانہ سےآخری کلام |
161 |
|
کسی کےمشورےکوحقیرنہ جانو |
147 |
بادشاہ کونصیحت |
161 |
|
مشورہ دینےوالوں کواکٹھانہ کرنےکی حکمتیں |
147 |
حاکم کےسامنےحق گوئی |
162 |
|
کسی کواس کےمشورےپرملامت نہ کرو |
148 |
ہمیں ڈروالی باتیں سنائیں |
163 |
|
مشورہ مانگنےوالادشمن دوست بن جاتاہے |
148 |
فضیل بن عیاضعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی خلیفہ کونصیحتیں |
165 |
|
بیٹی کی شادی کس سےکروں ؟ |
148 |
نیکی کی دعوت دینےکےآداب |
169 |
|
چارچیزوں کےسبب مزیدچارکاحصول |
148 |
باب نمبر13:خاموشی،زبان کی حفاظت،غیبت وچغلی کی ممانعت،گوشہ نشینی کےفوائداورشہرت کی مذمت کابیان |
170 |
|
کن لوگوں سےمشورہ نہیں کرناچاہئے؟ |
149 |
||
|
اچھےمشورےکی بدولت مالامال ہوگیا |
149 |
||
|
مشورےکی برکت سےجان بچ گئی |
150 |
پہلی فصل:خاموشی اورزبان کی حفاظت کابیان |
170 |
|
نصیحت وخیرخواہی کابیان |
153 |
دوفرامین باری تعالیٰ |
170 |
|
افضل مسلمان |
171 |
چغلی کی تعریف |
180 |
|
نجات کیاہے؟ |
171 |
چغل خورکی سخت مذمت |
181 |
|
اسلام کی خوبی |
171 |
امت کےبدترین افراد |
181 |
|
عیبوں کوچھپانےوالی خصلت |
172 |
ملعون افراد |
181 |
|
زبان درندےکی طرح ہے |
172 |
کئی بُری خصلتوں کامجموعہ |
182 |
|
حکمت کےنوحصےخاموشی میں ہیں |
172 |
محبتوں کےچورچغل خور |
182 |
|
شیطان کوبھگانےکانسخہ |
173 |
چغل خورقابل اعتمادنہیں ہوتا |
183 |
|
زبان قابومیں رکھنےکی برکت |
173 |
چغل خوری کےنقصانات |
183 |
|
چاربادشاہوں کامکالمہ |
173 |
لعنت سےممانعت کےبارےمیں روایات |
184 |
|
بولنادواکی طرح ہے |
174 |
لعنت کرنےکی جوازی صورتیں |
184 |
|
دوسری فصل:غیبت کی حرمت کابیان |
174 |
احادیث میں ملعون افراد |
185 |
|
غیبت کیاہے؟ |
174 |
گوشہ نشینی وگمنامی کی فضیلت اورشہرت کی مذمت |
185 |
|
دین سےمتعلق غیبت کی مثالیں |
175 |
بینائی کی واپسی سےزیادہ پسندیدہ چیز |
186 |
|
بدن وغیرہ سےمتعلق غیبت کی مثالیں |
175 |
گوشہ نشینی کی وجہ |
186 |
|
غیبت کی بدبو |
175 |
گھرمیں رہنےوالےکےلئےخوشخبری |
187 |
|
تانبےکےناخن |
176 |
باب نمبر14:اسلامی حکمرانوں کی اطاعت،رعایاکے لئےحاکم اورحاکم کےلئےرعایاکی ذمہ داریوں کابیان |
187 |
|
غیبت زناسےبھی سخت ہے |
176 |
||
|
دواچھی خصلتیں |
177 |
||
|
سب سےپہلے غیبت کرنےوالا |
177 |
عادل سلاطین کی عزت کرنا |
187 |
|
آخری جنتی اورپہلاجہنمی |
177 |
سلطان کی اچھائی پرشکراوربُرائی پرصبر |
188 |
|
غیبت کرنےوالےکےلئےتحفہ |
178 |
رحمَتِ الٰہی سےدوری |
188 |
|
اشاروں کنایوں میں غیبت کرنا |
178 |
بادشاہوں کوگالیاں نہ دو |
188 |
|
غیبت سننابھی حرام ہے |
178 |
بادشاہ کےعمل کاکفارہ |
188 |
|
تیسری فصل:چغلی کی حرمت کابیان |
179 |
بادشاہت اوردین |
189 |
|
چغل خورجنت میں نہیں جائےگا |
180 |
’’ذُوالاَکتاف‘‘لقب کی وجہ تسمیہ |
189 |
|
عذاب قبرکاسبب |
180 |
بادشاہوں کامنفردرہنےکوپسندکرنا |
189 |
|
رعایاکےاحوال کی خبرگیری |
190 |
باب نمبر17:حکمرانوں تک پہنچنےمیں رکاوٹ،گورنری اوراس کےخطرات کابیان |
200 |
|
مسلمان حکمرانوں کی اطاعت کابیان |
190 |
||
|
سلطان اسلام کوبُرابھلانہ کہو |
191 |
حکمرانوں تک پہنچنےمیں رکاوٹ کابیان |
200 |
|
اطاعَتِ رسول اطاعَتِ الٰہی ہے |
191 |
دربان کوفارغ کردیا |
200 |
|
باب نمبر15:سلطان کی صحبت کےاحکام اوراس کی صحبت سےبچنےکابیان |
192 |
رعایاسےدوری کی تین وجوہات |
201 |
|
کون سازخم نہیں بھرتا |
201 |
||
|
سلطان کی صحبت |
192 |
ایک شاعرکاقول |
202 |
|
غلام کی طرح ہوجاؤ |
192 |
فرعون کومہلت کیوں ملی؟ |
203 |
|
دوست ہوتوایسا |
192 |
آسمان کےدروازےبندہونا |
203 |
|
سلطان کوعلم سکھاناگویااس سےعلم سیکھناہے |
193 |
جنت میں سونےکامحل |
203 |
|
سلطان کی صحبت سےبچنا |
193 |
بُرادربان |
204 |
|
دھوکےکالباس |
193 |
حکمرانی اوراس میں موجودبڑےخطروں کاذکر |
204 |
|
بلاوجہ انعام وسزا |
194 |
حکمرانی نہ مانگو |
204 |
|
یادرکھنےکی چارباتیں |
194 |
حکومتی عہدہ قبول کرنےسےانکار |
205 |
|
بادشاہوں کی صحبت کی مذمت |
194 |
بروزِقیامت سب سےسخت عذاب |
206 |
|
دوستی بھی بُری اوردشمنی بھی |
195 |
سلیمان بن عبدالملک کاگریہ |
207 |
|
تین پراعتمادنہ کرو |
195 |
33مرتبہ قسم |
207 |
|
رحمت سےدور |
195 |
کبھی والی نہ بننا |
208 |
|
بادشاہ کی نوکری |
196 |
حکایت:بادشاہ اوروزیر |
208 |
|
باب نمبر16:وزیروں کی صفات اوراحوال وغیرہ کابیان |
196 |
باب نمبر18:قضا،قاضیوں ،فیصلےپررشوت وتحفہ لینے، قرض،قصہ گولوگوں اوربناوٹی صوفیاکابیان |
212 |
|
ہرنبی اورخلیفہ کےساتھ دومشیر |
197 |
||
|
بُراوزیر |
197 |
پہلی فصل:قضا،قاضیوں کےاحوال اوران پرواجب اُمُورکابیان |
212 |
|
اچھےبادشاہ اوربُرےوزیرکی مثال |
198 |
||
|
وزیرمثل سفیرہے |
198 |
قضاکےمتعلق تین فرامین باری تعالیٰ |
212 |
|
بادشاہ کےتین خط |
199 |
بوقْتِ فیصلہ صدیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکی بھرپورتوجہ |
213 |
|
وزیرکامقام |
199 |
علی کیوں نہ کہا؟ |
213 |
|
کوڑوں کی ضرب آسان ہے |
214 |
باب نمبر19:عدل،احسان اورانصاف وغیرہ کابیان |
223 |
|
عادبن ارم کی تلوار |
214 |
عادل حکمران کاایک دن |
224 |
|
اللہعَزَّ وَجَلَّکاساتھ |
215 |
تین کی دعاردنہیں ہوتی |
224 |
|
لوگوں کےلئےپُل |
215 |
جنَّتِ عدن میں جانےوالے |
224 |
|
پہلاظالم قاضی |
215 |
عدل سےشہرکی تعمیر |
225 |
|
قاضی یحییٰ بن اکثمعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی انصاف پسندی |
215 |
13کروڑ70لاکھ خراج |
225 |
|
اس غلام کوبیچ دو |
216 |
زمین کوعدل سےبھردیا |
225 |
|
امام شعبیعَلَیْہِ الرَّحْمَہاوراشجعی شاعر |
216 |
حکایت:حاکم مصراورمردِصالح |
226 |
|
دوسری فصل:فیصلےپررشوت وتحفہ لینےاورقرض کابیان |
217 |
ظلم میں شریک حاکم |
226 |
|
رشوت کی مذمت |
217 |
ہم انصاف کریں گے |
227 |
|
قرض کابیان |
218 |
ملک بربادہونےکی وجہ |
227 |
|
میت کی طرف سےقرض اداکرنےکی فضیلت |
218 |
کھجورکی گٹھلی کی مثل انارکادانہ |
228 |
|
دنیاکاطوق |
219 |
سب کوعدل ملناچاہئے |
228 |
|
جنت میں داخل نہیں ہوگا |
219 |
عدل کادن دیکھنےکی خواہش |
228 |
|
مؤمنوں کےوالی |
219 |
حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےراستےپرچلوں گا |
229 |
|
قرض ادانہ کرنےوالاچورہے |
219 |
ظلم کےسبب بےبرکتی |
229 |
|
دل کاسکون |
220 |
حکایت:گائےکادودھ کم ہوگیا |
230 |
|
تیسری فصل:قصہ گولوگوں ،بناوٹی صوفیااورریاکاری وغیرکابیان |
220 |
سچی توبہ سےبرکت لوٹ آئی |
230 |
|
غصب سےبرکت ختم ہوگئی |
231 |
||
|
بنی اسرائیل کی ہلاکت کاسبب |
220 |
مچھلیاں ختم ہوگئیں |
231 |
|
چیخ وپکارکرنےوالےلوگ |
221 |
جیسےحکمران ویسی رعایا |
231 |
|
قرآن سن کربےہوش ہونا |
221 |
باب نمبر20:نحوست،بُرےانجام اورمظالم کابیان |
233 |
|
کپڑوں کاکیاگناہ؟ |
222 |
چارفرامین باری تعالیٰ |
233 |
|
ریاکاری کابیان |
222 |
ظالم کی معاونت پروعید |
233 |
|
شرکِ اصغر |
222 |
جہنم واجب اورجنت حرام |
234 |
|
ریاکارعابد |
223 |
مظلوم کی بددعاسےبچو |
234 |
|
ظلم تین طرح کاہے |
235 |
مسلمان کوکیساہوناچاہئے؟ |
248 |
|
مظلوم اعلیٰ علیین میں |
235 |
سیّدنایوسُفعَلَیْہِ السَّلَامکاقصہ |
249 |
|
ظالم کوظلم کےحوالےکردو |
235 |
مدنی پھول |
250 |
|
مظلوم کادن |
236 |
رعایاکی بھوک کی فکر |
251 |
|
ظلم کی شکایت |
236 |
گورنروں کی سیرت کابیان |
251 |
|
فرشتےلعنت کرتےہیں |
236 |
حکایت:حمص کےعامل عمیربن سعد |
251 |
|
مؤمنوں کوتکلیف دینےکاانجام |
237 |
دینارصدقہ کردیئے |
253 |
|
اللہعَزَّ وَجَلَّکےعدل کویادکرو |
237 |
دوسری فصل:ذمیوں کےاحکام کابیان |
253 |
|
بےیارومددگارپرظلم کرنا |
237 |
سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاطرزِعمل |
253 |
|
منادی کی پکاروالادن |
238 |
خلیفہ جعفرمتوکل کاطرزِعمل |
254 |
|
ظلم کامزہ |
238 |
یہودونصارٰی سےکام نہ لو |
254 |
|
تین فضل |
239 |
جومرتبہ ہےاسی میں رکھو |
254 |
|
ظالموں کی مددبھی بری ہے |
239 |
مشرک سےمددنہ لی |
255 |
|
ایک مظلوم کی دادرسی |
240 |
شوافع کےنزدیک ذمیوں کےاحکام |
255 |
|
ظالم کی دنیامیں گرفت |
241 |
جزیہ کی مقدار |
256 |
|
ظلم کےخلاف فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہکاطرزِعمل |
242 |
نصارٰی کےعبادت خانوں کاحکم |
257 |
|
احمدبن طولون انصاف پسندکیسےبنا؟ |
243 |
باب نمبر22:لوگوں کےساتھ بھلائی،مظلوموں کی مدد، مسلمانوں کی حاجت روائی اوران کےدلوں میں خوشی داخل کرنےکابیان |
257 |
|
بُرےدن گزرگئے |
244 |
||
|
خواب کےذریعےقاتل کاپتاچلا |
244 |
||
|
عدل کےفائدے |
245 |
بھلائی اورمددکےمتعلق دوفرامین باری تعالیٰ |
257 |
|
باب نمبر21:گورنررکھنےکی شرائط،خراج کی وصولی میں سلطان کاطریقہ اورذمیوں کےاحکام |
246 |
جہادکاثواب |
258 |
|
اللہعَزَّ وَجَلَّکامحبوب |
258 |
||
|
پہلی فصل:خراج وصول کرنےمیں سلطان کاطریقہ بیْتُ المال سےخرچ کرنےاورگورنروں کے کردارکابیان |
246 |
نورکےمنبر |
258 |
|
جہنم اورنفاق سےآزادی |
258 |
||
|
بلاحساب جنت میں داخلہ |
259 |
||
|
اُلّوکی کہانی سےنصیحت |
247 |
نعمتوں سےمحرومی کاایک سبب |
259 |
|
مصرکی بادشاہت |
247 |
نعمت کازوال |
260 |
|
غمگین کی مددپر73نیکیاں |
260 |
تین خصلتوں کے تین فائدے |
269 |
|
افضل عمل |
260 |
بڑےبھائی کاادب |
269 |
|
مسلمان کوخوش کرنےکی فضیلت |
261 |
چورسےحسن اخلاق |
270 |
|
خوشی کافرشتہ |
261 |
محمدبن عباداورخلیفہ مامون |
270 |
|
حاجت پوری ہوگئی |
262 |
حکایت:بادشاہ بہرام اورچرواہا |
270 |
|
نااہل سےحاجت بیان نہ کرو |
262 |
نوشیرواں اورسونےکےگلاس کی چوری |
271 |
|
دلاللہعَزَّ وَجَلَّکےدست قدرت میں ہیں |
263 |
حکایت:خلیفہ مامون اورغلام |
272 |
|
اللہعَزَّ وَجَلَّسےحیا |
263 |
سیّدناولیدبن عتبہعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاحسن اخلاق |
272 |
|
اللہعَزَّ وَجَلَّمصیبت دورکردیتاہے |
263 |
سیّدناقیس بن عاصمرَضِیَ اللہُ عَنْہ کی بردباری |
273 |
|
نعمتوں کےدوام وبقاکاسبب |
264 |
سیّدناابن عمررَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کاانداز |
273 |
|
باب نمبر23:اچھےاوربُرےاخلاق کابیان |
264 |
راکھ پھینکی جائےتوناراض نہ ہو |
273 |
|
حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکاخلق |
264 |
سیّدناعلیرَضِیَ اللہُ عَنْہکااخلاق |
273 |
|
تمام مخلوق میں سب سےافضل |
265 |
حسن اخلاق کابہترین مظاہرہ |
274 |
|
نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکاکھانا |
265 |
اچھےاخلاق کابیان |
274 |
|
اثمدسرمہ لگانا |
265 |
مامون کااخلاق |
274 |
|
دوڑکامقابلہ |
266 |
سونےوالوں کاخیال |
275 |
|
کھانےاورپہننےمیں برتری اختیارنہ فرمانا |
266 |
بےانصاف شخص میں کوئی بھلائی نہیں |
275 |
|
پیارےآقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی فصاحت |
266 |
باب نمبر24:حسن معاشرت،دوستی،بھائی چارہ اور دوستوں سےملاقات وغیرہ کابیان |
276 |
|
نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی شفقت |
266 |
||
|
نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکامرتبہ |
267 |
بھائی چارےکی فضیلت |
276 |
|
نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےمبارک معمولات |
267 |
کفارکی بےبسی |
277 |
|
کبھی کسی کونہ مارا |
267 |
دنیاکاخزانہ |
277 |
|
حسن اخلاق کادرس |
268 |
باقی رہنےوالی لذت |
278 |
|
اچھےاوربُرےاخلاق کاانجام |
268 |
دوست کیساہو؟ |
278 |
|
بُرےاخلاق والاعابد |
268 |
پسندیدہ دوست |
278 |
|
اصلاح کابہترین انداز |
269 |
قطع تعلق نہ کرو |
279 |
|
سب سےوزنی نیکی |
269 |
روحیں ایک جمع شدہ لشکرہیں |
279 |
|
دوستی صرفاللہعَزَّ وَجَلَّکےلئے |
279 |
صحبت اختیارکرنےکےمتعلق مدنی پھول |
288 |
|
آداب دوستی |
280 |
چیتےوالامزاج |
288 |
|
آداب معاشرت کابیان |
280 |
کتوں والامزاج |
289 |
|
ہم نشیں کےتین حقوق |
280 |
گدھوں والامزاج |
289 |
|
اچھی اوربُری صحبت کی مثال |
281 |
برےلوگوں میں شمار |
289 |
|
عرب کاسلام تحیت |
281 |
لومڑی والامزاج |
289 |
|
ہرشخص کواس کےمرتبےمیں رکھو |
281 |
خنافس والامزاج |
289 |
|
بہترگفتگو |
281 |
موروں والامزاج |
290 |
|
بےعزتی کاسبب بننےوالےآٹھ کام |
282 |
اونٹوں والامزاج |
290 |
|
سفاح اورابوبکرہذلی |
282 |
دوست سےملاقات کرنااوراسےبلانا |
290 |
|
بادشاہ کےحقوق |
283 |
سایہ عرش کس کوملےگا؟ |
290 |
|
کبھی ایک بات دوبارنہ کہی |
283 |
دوست سےملاقات کی فضیلت |
290 |
|
مسکراکرہاتھ ملانےکی فضیلت |
283 |
محبت کیسےبڑھے؟ |
291 |
|
بیان کاسنت طریقہ |
284 |
قاصدکیساہو؟ |
291 |
|
زندگی اچھی گزارنےکےآداب |
284 |
باب نمبر25:خلق خداپرشفقت ورحمت،سفارش کی فضیلت اورلوگوں کی اصلاح کابیان |
291 |
|
بادشاہ کی مجلس کےآداب |
284 |
||
|
عام لوگوں کی مجلس کےآداب |
285 |
پہلی فصل:خلق خداپرشفقت ورحمت کابیان |
291 |
|
مذاق مسخری کےنقصانات |
285 |
’’اَلرَّحْمٰن‘‘اور’’اَلرَّحِیْم‘‘کی وضاحت |
292 |
|
مجلس کےاختتام کی دعا |
285 |
رحم کرنےوالےپررحمَتِ الٰہی کانزول |
292 |
|
سفرکےآداب |
286 |
رحم نہ کرنےوالارحم سےمحروم |
292 |
|
بوڑھوں سےآگےہونےکےتین مواقع |
286 |
مؤمنین کی مثال |
293 |
|
دوست کون ہے؟ |
286 |
یتیم کےسرپرہاتھ پھیرنےکاانعام |
293 |
|
دوست کےنہ ہونےاورکم ہونےکابیان |
286 |
امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ عَنْہکی بچوں پرشفقت |
293 |
|
دھوکےبازکسی پراعتمادنہیں کرتا |
286 |
دوسری فصل:سفارش اورلوگوں کی اصلاح کابیان |
294 |
|
دوست کیاہے؟ |
287 |
منصب کےبارےمیں سوال ہوگا |
294 |
|
لوگ دنیاکےلئےمحبت رکھتےہیں |
287 |
اچھی سفارش کی فضیلت |
294 |
|
وزیرابن مقلہ اوربادشاہ |
287 |
سب سےافضل صدقہ |
295 |
|
سیّدنامحمدبن جعفرعَلَیْہِ الرَّحْمَہاورابوجعفرمنصور |
295 |
باہمی فخرپردلچسپ مکالمہ |
310 |
|
باب نمبر26:حیاعاجزی وانکساری کابیان |
298 |
درجات میں کمی بیشی کابیان |
312 |
|
پہلی فصل:حیاکابیان |
298 |
تین طرح کےلوگ |
312 |
|
حیاکےبارےمیں دوفرامین مصطفٰے |
298 |
باب نمبر29:شرف وبزرگی،سرداری اوربلند ہمتی کابیان |
312 |
|
سیّدناابوموسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہکی حیا |
298 |
||
|
دوسری فصل:عاجزی وانکساری کابیان |
299 |
سردارکون؟ |
312 |
|
پیارےآقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی عاجزی |
299 |
کبھی کسی کوبُرابھلانہ کہا |
313 |
|
تین اہم چیزیں |
300 |
سیّدناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہاورایک وفد |
313 |
|
جہنم ٹھکانا |
300 |
سردارکیسےبنے؟ |
313 |
|
جودی پہاڑکوبلندی کیسےملی؟ |
301 |
ریاست کی اصل بلندہمتی کابیان |
314 |
|
تواضع نےکَلِیْمُاللہبنادیا |
301 |
عمارہ بن حمزہ کی بلندہمتی |
314 |
|
باب نمبر27:خودپسندی اورغروروتکبُّرکابیان |
302 |
تحفہ قبول نہ کیا |
314 |
|
مُتکبِّرجنّت میں نہیں جائےگا |
302 |
سیّدناسعیدبن عمروعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی بلندہمتی |
315 |
|
رحمت خداوندی سےمحروم |
302 |
پڑوسیوں کےساتھ ایسےرہو |
315 |
|
متکبِّرانہ چال چلنےوالےکونصیحت |
302 |
حکایت:یزیدبن مہلب اورولیدبن عبدالملک |
315 |
|
جَذِیْمَۃُ الْاَبْرَش |
303 |
معن بن زائدہ کی بلندہمتی |
316 |
|
ابن عوانہ کاتکبُّر |
303 |
پڑوسی کی بھوک کاخیال |
317 |
|
تکبُّرکےحوالےسےمشہورقبیلے |
304 |
باب نمبر30:خیروبھلائی کابیان،بزرگ صحابَۂ کرام اوراولیاوصالحین کاذکرخیر |
318 |
|
حلم ہوتوایسا |
304 |
||
|
کیاتم مجھےجانتےہو؟ |
305 |
سیّدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
318 |
|
باب نمبر28:آپس میں فخرکرنےاوردرجات کے درمیان تفاوُت کابیان |
306 |
سیّدناعمرفاروقرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
319 |
|
اب ہم چھپ کرعبادت نہیں کریں گے |
319 |
||
|
اولادِآدم کےسردار |
307 |
سیّدناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
320 |
|
فخرتوتقوٰی کےسبب ہے |
307 |
سیّدناعلی المرتضیٰرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
320 |
|
امام زین العابدینعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاگریہ |
307 |
اوصاف مرتضوی |
320 |
|
بغیرایمان عمل قبول نہیں |
309 |
سیّدنازبیربن عوام رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
321 |
|
اہمیت توصرف ایمان کی ہے |
309 |
تین صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےفضائل |
322 |
|
زمین سےزیادہ آسمانوں میں شہرت |
323 |
نیک لوگوں کی پہچان |
330 |
|
نیک مسلمان کی برکت |
323 |
سیّدناابومحمدعبْدُاللہبن حُنَیْفعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
330 |
|
اولیاوصالحین کاتذکرہ |
323 |
سیّدنامحمدبن یوسف بناءعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
330 |
|
سیّدناحسن بصریعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
323 |
سیّدنایحییٰ بن معاذرازیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
331 |
|
سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
324 |
سیّدنایحییٰ بن معاذرازیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات |
331 |
|
سیّدناثابت بنانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
324 |
سیّدنایوسف بن حسین رازیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
332 |
|
سیّدناحبیب عجمیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
324 |
سیّدنایوسف بن حسینعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات |
332 |
|
سیّدناابوایُّوب سختیانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
325 |
شہروالوں کی مذمت اورآپ کاکردار |
332 |
|
سیّدناعبْدُاللہبن مبارکعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
325 |
سیّدناابوعبدالرحمٰن حاتم بن علوان اصمعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
333 |
|
سیّدناخلیل بن احمدنحویعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
325 |
سیّدناحاتم اصمعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات |
333 |
|
سیّدناابن عونعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
325 |
چارمدنی پھول |
333 |
|
سیّدناامام اعظم ابوحنیفہعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
325 |
’’اصم‘‘کہلانےکی وجہ |
334 |
|
سیّدناوکیع بن جراحعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
326 |
سیّدناحسن بن احمدکاتبعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
334 |
|
سیّدنامحمدبن اسماعیل مغر بیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
326 |
سیّدناحسن بن احمدعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات |
334 |
|
سیّدنافتح بن شخرفعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
326 |
سیّدناجعفربن نصرخلدی بغدادیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
334 |
|
سیّدنافتح بن سعیدموصلیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
327 |
گمشدہ چیزکی تلاش کےلئےوظیفہ |
335 |
|
فقرپرخوشی |
327 |
سیّدنامعروف بن فیروزکرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
335 |
|
کمسن متوکل |
327 |
سیّدنامعروف کرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات |
336 |
|
سیّدناسعیدبن اسماعیل حیریعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
328 |
محبَّتِ دنیاسےچھٹکارےکاپھل |
336 |
|
سیّدناسعیدبن اسماعیل حیریعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کےفرامین |
328 |
بددعاکےبجائےدعافرمائی |
336 |
|
رہوں مست وبےخودمیں تیری وِلامیں |
337 |
||
|
سیّدناسلیمان خواصعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
328 |
مرنےکےبعدمیری قمیض صدقہ کردینا |
337 |
|
غناکی وضاحت |
328 |
مرنےکےبعدبھی زندہ |
337 |
|
سیّدناابوسلیمان دارانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
329 |
سیّدناقاسم بن عثمان کرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
338 |
|
سیّدناابوسلیمانعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےفرمودات |
329 |
سیّدناقاسم کرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات |
338 |
|
وسوسوں کاعلاج |
329 |
توبہ کی تعریف |
338 |
|
نرالی مناجات |
330 |
پانچ مدنی پھول |
338 |
|
معرفَتِ باری تعالیٰ کی اہمیت |
339 |
آخری خواہش |
355 |
|
سات دروازے،سات حوریں اورسات مجاہد |
339 |
سچی توبہ کی برکت |
356 |
|
سیّدناابوبکردُلَف بن حجدرشبلیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
340 |
کفن کی واپسی |
358 |
|
ہاتھ کی کمائی |
340 |
اولیاکاگھرانہ |
358 |
|
مال کی آفت |
340 |
خوف خدارکھنےوالی باندی |
359 |
|
سیّدنازرقان بن محمدعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
341 |
اسرئیلی عابداوربادل |
362 |
|
سیّدناابو عبْدُاللہسعیدبن بریدنباجیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
342 |
جان کانذرانہ پیش کرنےوالاحاجی |
364 |
|
سیّدناابونصربشربن حارث حافیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
342 |
اللہعَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر |
365 |
|
سیّدنابشرحافیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات |
342 |
باب نمبر32:فساق وفجار کی بےحیائیاں اوربرائیاں |
371 |
|
عبرت ہی عبرت |
343 |
بُراآدمی کون؟ |
371 |
|
گھروالوں کےتقوٰی کاعالَم |
343 |
بُرائی کوبھلائی ختم کرتی ہے |
371 |
|
عیسائی طبیب کاقبول اسلام |
343 |
شیطان کی دعوت پرلبیک کہنےوالا |
371 |
|
سیّدناطیفوربن عیسٰی بسطامیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
344 |
مکروہ چھوڑکرحرام کرنےوالا |
371 |
|
سیّدناابویزیدبسطامیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےفرمودات |
344 |
فرائض چھوڑکرنوافل بجالانےوالا |
372 |
|
ایک سال تک پانی نہ پیا |
344 |
غیرت مندبادشاہ |
372 |
|
میں حساب کی دعاکیوں کرتاہوں ؟ |
344 |
بےحیائی وبےوقوفی کابیان اوربازاری لوگوں کاتذکرہ |
373 |
|
محبت اولیابخشش کابہانہ |
345 |
حیانہ رہےتوجوچاہوکرو |
373 |
|
محبت کسےکہتےہیں ؟ |
345 |
چاربرائیاں چارلوگ |
373 |
|
سیّدناابوالقاسم جنیدبغدادیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
345 |
بازاری لوگوں کےفوائد |
373 |
|
سیّدناجنیدبغدادیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات |
345 |
باب نمبر33:سخاوت،اچھےاخلاق،نیکی کےکام اور اہل سخاوت کاتذکرہ |
375 |
|
ہاتھ میں تسبیح رکھنےکی وجہ |
346 |
||
|
شیطان کوجلانےوالے |
346 |
جودوسخاوت اورایثارکامعنیٰ |
375 |
|
سیّدناابوبکربن عمرمالکیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
347 |
مرتےدم بھی ایثار |
375 |
|
باب نمبر31:فضائل صالحین اورکرامات اولیا |
349 |
ایثارکی عجیب حکایت |
376 |
|
گدڑی کالعل |
349 |
ہم مہمان کوباسی کھانانہیں کھلاتے |
376 |
|
ولی کی تحریرکی برکت |
352 |
سخاوت اچھائیوں کی بنیادہے |
377 |
|
گویّےکوولایت کی دولت مل گئی |
353 |
سخی کی خطاؤں سےدرگزرکرو |
377 |
|
’’نہیں ‘‘سنتاہی نہیں مانگنےوالاتیرا |
377 |
سیّدناطلحہ بن عبْدُاللہعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی سخاوت |
391 |
|
بھلائی میں کوئی اسراف نہیں |
378 |
حاکم خراسان کی سخاوت |
391 |
|
دوستوں کی مددکرنےکااحسن انداز |
378 |
عمربن ہبیرہ کی سخاوت |
392 |
|
اہل ایمان عربوں میں سب سےبڑےسخی |
379 |
سیّدناابن عامررَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت |
392 |
|
رشتہ اخوت کےسبب حاجت پوری کرنا |
379 |
سائل کودولاکھ درہم دےدیئے |
393 |
|
ہم ہانڈیاں خالی نہیں دیاکرتے |
379 |
یحییٰ بن خالدبرمکی کی سخاوت |
393 |
|
دینےکاعجیب انداز |
379 |
عمیلہ فزاری کی سخاوت |
394 |
|
سخاوت کیاہے؟ |
380 |
کسی کوخالی ہاتھ نہ لوٹاؤ |
396 |
|
سائل کوچارہزاردرہم دےدیئے |
380 |
ذلت سےبچانےکےلئےسخاوت |
396 |
|
دوست کی خبرگیری نہ کرنےپرافسوس |
380 |
انوکھادشمن اورنرالی سخاوت |
396 |
|
سیّدناعبْدُاللہبن ابوبکررَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت |
380 |
بکری کاکیاحال ہے؟ |
397 |
|
مقروضوں پرسخاوت |
381 |
مرنےکےبعدبھی سخاوت |
397 |
|
سخیوں کےبادشاہ |
381 |
تین سخی صحابہ |
398 |
|
مہمان نوازی کاعظیم بدلہ |
382 |
زمانَۂ جاہلیت میں سخاوت میں مشہور لوگوں کاتذکرہ |
400 |
|
ایک شاعرپرانعام واکرام |
383 |
||
|
ایک غلام کی سخاوت |
383 |
حاتم طائی کاتذکرہ |
400 |
|
دھوپ سےبچانےپرانعام واکرام |
384 |
سخاوت کےباعث طلاق دےدی |
402 |
|
سخاوت کاحیلہ |
384 |
سواری کاجانوربھی بھوکوں کوکھلادیا |
403 |
|
حاتم طائی کوبھول جاتے |
385 |
دشمن کوبھی انکارنہ کیا |
404 |
|
معن بن زائدہ کی سخاوت |
385 |
باب نمبر34:بخل ولالچ،بخیلوں کاتذکرہ اورواقعات |
406 |
|
حجام کومالامال کردیا |
386 |
بُرائیوں کی طرف کھینچنےوالی لگام |
406 |
|
قیدکی حالت میں بھی سخاوت |
386 |
مہمانوں کوبھگانےکےلئےلاٹھی |
406 |
|
میں توخودکوجانتاہوں |
387 |
درہم کی قید |
406 |
|
سیّدناعلیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت |
388 |
بخل کی مدح میں کتاب |
407 |
|
ہم مہمان کےجانےمیں مددنہیں کرتے |
389 |
حقنہ کےتیل سےچراغ روشن کرنا |
407 |
|
مستعین کی سخاوت |
390 |
آتےجاتےبلاعوض حُدی خوانی |
407 |
|
مشک سےبھری سونےکی بالٹی |
390 |
ایک درہم کاگوشت |
408 |
|
دودانق کانقصان |
408 |
سیّدناامام ابویوسفعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کاانوکھافیصلہ |
416 |
|
اہل مروکابخل |
408 |
سب سےپہلےفالودہ تیارکرنےوالا |
417 |
|
ایک سوئی دینےسےبھی بخل |
409 |
گوشت کی فضیلت کےمتعلق تین روایات |
417 |
|
متنبی شاعراوربخل |
409 |
کدوشریف کےفضائل |
417 |
|
مرغےکےسرکی خوبیاں |
409 |
مسورکی دال کی فضیلت |
418 |
|
دوابھی اورغذابھی |
410 |
بعض پھلوں اوراشیاء کےفوائد |
418 |
|
چراغ کی بتی کےاستعمال میں کنجوسی |
410 |
اکیلےرہنےمیں سلامتی ہے |
418 |
|
مہمان نوازی کےخوف سےبھاگ نکلنا |
411 |
چاول کھانےکےسبب اچھےخواب |
419 |
|
سب بھکاریوں کوایک جواب |
411 |
مہینہ بھرگوشت تروتازہ رکھنےکانسخہ |
419 |
|
دیہاتی اورابوالاسود |
411 |
روٹی کااکرام |
419 |
|
مہمان کوجانےپرمجبورکرنا |
411 |
آسمانی دسترخوان کی اشیاء |
419 |
|
بخل کی خاطرمذمت کی خواہش |
412 |
کیلےکی خوبیاں |
420 |
|
اکتاہٹ کی نشانی |
412 |
دعوت ولیمہ میں ایک ہزارخدمت گار |
420 |
|
انوکھاجھگڑا |
412 |
خراب فالودہ |
420 |
|
ہڈی کھانےکابخل بھراطریقہ |
412 |
کھانےکےمتعلق زہد |
421 |
|
ایک دیہاتی اورابوالاسود |
413 |
بغیرچھناجوکاآٹا |
421 |
|
ایک بخیل حاکم اوردیہاتی |
413 |
سرکہ بہترین سالن ہے |
421 |
|
سخی اوربخیل بہن بھائی |
414 |
کبھی روٹی کبھی سالن |
421 |
|
باب نمبر35:کھانا،مہمان نوازی اورمیزبانی کےآداب اورزیادہ کھانےوالوں کےواقعات |
415 |
کمزوری کاعلاج |
421 |
|
کھانےکےآداب |
422 |
||
|
کھانےیاپینےمیں نقصان سےبچنےکانسخہ |
422 |
||
|
حلال کھانےکےمتعلق تین فرامین باری تعالیٰ |
415 |
کھانےسےپہلےکی دعا |
422 |
|
حلال کوحرام قراردینےوالا |
415 |
گزشتہ گناہوں کی معافی |
422 |
|
نعمت کااظہارربّ تعالیٰ کوپسندہے |
415 |
ابتدامیں بِسْمِ اللہپڑھنابھول جائےتو۔۔۔! |
422 |
|
حلوہ نہ کھانےکازہدسےکیاتعلق؟ |
416 |
بائیں ہاتھ سےشیطان کھاتاپیتاہے |
423 |
|
مختلف کھانوں کابیان |
416 |
بازارمیں کھانا |
423 |
|
فالودہ عمدہ ہےیالوزینہ؟ |
416 |
شاہی خادم کی بیٹےکونصیحتیں |
423 |
|
کھانےپینےکی چیزمیں پھونک مارنا |
423 |
کھاناکھلانافراخی کاباعث ہے |
431 |
|
گرم کھانےسےاجتناب |
424 |
سب سےپہلی مہمان نوازی |
431 |
|
کھانےمیں عیب نہ لگانا |
424 |
سب سےپہلےافطارکرانےوالے |
432 |
|
گرےہوئےٹکڑےکھانےکی برکت |
424 |
میزبان کےآداب |
432 |
|
سونےسےقبل40قدم چلنا |
424 |
کامل مہمان نوازی |
432 |
|
کسی کےلقمےپرنظریں نہ جماؤ |
425 |
مروت کی تکمیل |
432 |
|
دسترخوان پردیہاتی اوربادشاہ کامکالمہ |
425 |
بچےکی موت کی خبرمہمانوں کونہ دی |
433 |
|
زیادہ کھانا |
425 |
دربان نہ رکھنےکی وجہ |
434 |
|
دل کی صفائی اورسختی |
425 |
رات کاکچھ وقت مہمانوں کےساتھ گزارے |
434 |
|
سیّدناحسن بصری عَلَیْہِ الرَّحْمَہکامسکرانا |
426 |
کھانےکےارادےسےدوست کےگھرجانا |
434 |
|
غیرسنجیدہ لوگوں میں شمار |
426 |
دوست کی غیرموجودگی میں اس کےگھرکھانا |
435 |
|
زیادہ کھانےوالےغلام کونہ خریدا |
426 |
دوست سےاجازت لئےبغیرکھانا |
435 |
|
بھوک کےسبب جگرکوحرکت |
427 |
تکلف نہ کرےجوکچھ ہوپیش کردے |
435 |
|
زیادہ کھانےوالوں کےواقعات |
427 |
مہمان کی فرمائش پرخوشی کااظہار |
436 |
|
100روٹیاں کھانا |
427 |
مہمان نوازی کےمتعلق سلف کاطریقہ |
436 |
|
پورااونٹ کھالیا |
427 |
مہمان کی خدمت میزبان پرلازم ہے |
436 |
|
سلیمان بن عبدالملک اورکھانےکاشوق |
427 |
دل جلانےوالاشہد |
437 |
|
سلیمان بن عبدالملک کی کثرت خوراک |
428 |
قیمت کم کرنےکانرالاطریقہ |
437 |
|
ہلال مزنی کی بسیارخوری |
429 |
مہمان کےلئےآداب |
437 |
|
ابن زیادکی بسیارخوری |
429 |
مہمان نوازی کی بدولت راحت ملی |
438 |
|
میسرہ بن تراس کی بسیارخوری |
429 |
مہمانوں کابُرارویہ |
438 |
|
ایک بسیارخوراورراہب |
429 |
باب نمبر36:عفوودرگزر،بردباری،غصہ پینے،معذرت کرنےاورمعذرت قبول کرنےکابیان |
439 |
|
سیّدتُناعائشہرَضِیَ اللہُ عَنْہَاکی خوش طبعی |
430 |
||
|
مہمان نوازی اورکھاناکھلانےکی فضیلت |
430 |
عفوودرگزرکےمتعلق پانچ فرامین باری تعالیٰ |
439 |
|
ضرورت مندکونہ کھلانےپروعید |
430 |
اونچےجنتی محلات |
440 |
|
بھوکےمسلمان کوکھاناکھلانےکی برکت |
431 |
عفوودرگزروالوں کوندا |
441 |
|
خَلِیْلُاللہہونےکی وجہ |
431 |
حلم ودرگزرکےمتعلق چارفرامین شیرخدا |
441 |
|
سیّدنااحنف بن قیس عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی بردباری |
441 |
اونچےرتبےتک رسائی کانسخہ |
454 |
|
کریم کی عادت |
442 |
گالی دینےوالےسےحسن سلوک |
454 |
|
خلیفہ ابوجعفرمنصورکامعاف کرنا |
442 |
اچھےعذرنےجان بچالی |
454 |
|
خلیفَۂ بغدادمامون کامعاف کرنا |
442 |
باغی کومعاف کردیا |
455 |
|
حاکم مصرکی بردباری |
442 |
ظالم کوترس آگیا |
455 |
|
خلیفہ واثقباللہکی بردباری |
443 |
جاہل سےدرگزرکاحکم قرآن نےدیا |
456 |
|
سیّدناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکاحلم |
443 |
مسلمان کی پردہ پوشی |
456 |
|
سیّدناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکامعافی چاہنا |
444 |
باب نمبر37:ایفائےعہد،وعدےکی پاسداری اورپابندی |
457 |
|
سیّدناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ عَنْہاورزُرقاء بنْتِ عدی |
444 |
ایفائےعہدکےمتعلق پانچ فرامین باری تعالیٰ |
457 |
|
سیّدناامیرمعاویہ اورابن زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا |
446 |
منافق کی تین نشانیاں |
458 |
|
خلیفہ منصورکی بُردباری |
447 |
تاخیرکےبعدفوراًادائیگی |
458 |
|
ہارون رشیدکاحمیدطوسی کومعاف کرنا |
448 |
ایفائےعہدمیں تاخیرپرخلیفہ کی معذرت |
459 |
|
زیادکاایک شخص کومعاف کرنا |
448 |
حکایت:ایفائےعہدکےلئےجان کی پروانہ کی |
459 |
|
حجاج کامعاف کرنا |
448 |
عبْدُاللہبن طاہرکی مامون سےوفاداری |
460 |
|
ہارون رشیدکایزیدبن مزیدسےدرگزرکرنا |
449 |
وعدےکی انوکھی پاسداری |
461 |
|
مصعب بن زبیرکامعاف کرنا |
450 |
سموال کی وفاداری اوربیٹےکی قربانی |
462 |
|
عبدالملک کاایک شخص کومعاف کرنا |
450 |
عبدالملک بن مروان کاایفائےعہد |
463 |
|
عالم کی خاموشی شیطان پرگراں |
450 |
احسان کرنےوالےکےساتھ وفاداری |
464 |
|
غصہ کےوقت دعادیتے |
450 |
فوت شدہ بادشاہ سےوفاداری |
465 |
|
غضب الٰہی سےبچانےوالی شے |
451 |
قیمتی نگینہ توڑدیا |
465 |
|
غصہ کی حالت میں سزانہ دینا |
451 |
احمدیتیم کی وفاداری |
466 |
|
حکایت:غصہ بھگانےکی انوکھی ترکیب |
451 |
باب نمبر38:رازچھپانا،اس کی حفاظت کرنااورکسی کےرازکوظاہرکرنےکی مذمت |
468 |
|
بُردباری غصےمیں پتاچلتی ہے |
452 |
||
|
غصہ پینےکی فضیلت |
452 |
زبان رازکی کنجی ہے |
468 |
|
ربّ تعالیٰ کونرمی پسندہے |
452 |
رازچھپانےپردوفائدوں کاحصول |
469 |
|
قرآن کی آیات سےغصہ ٹھنڈاہوگیا |
453 |
رازکی حفاظت کاسامان |
469 |
|
فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہکی کمال بُردباری |
453 |
طالب رازکورازنہ بتایاجائے |
469 |
|
باب نمبر39:دھوکادہی،خیانت،چوری،دشمنی،بغض اورحسدکابیان |
470 |
سچی نیت سےشہادت کاسوال |
483 |
|
|
دوسری فصل:بہادری،اس کےثمرات،جنگ اور اس کی تدابیر |
484 |
|||
|
پہلی فصل:دھوکااورخیانت کابیان |
470 |
|||
|
ثعلبہ بن ابوحاطب کاعبرت ناک قصہ |
471 |
جنگی تدابیرکاقرآنی حکم |
484 |
|
|
بدعہدی کی نیت کاوبال |
474 |
تفسیرنبوی |
484 |
|
|
باپ سےبےوفائی کاانجام |
474 |
جہادکی بہترین تیاری |
484 |
|
|
دوسری فصل:چوری کابیان |
475 |
لشکرکےآگےکیساشخص ہو؟ |
485 |
|
|
تیسری فصل:بغض وعداوت کابیان |
475 |
سپہ سالارمیں کیسی صفات ہوں ؟ |
485 |
|
|
عقل منددشمن زیادہ پسند |
476 |
10سخت چیزیں |
485 |
|
|
سب سےلذیذشے |
476 |
جنگی چالیں |
486 |
|
|
چوتھی فصل:حسدکابیان |
477 |
حکایت:ایک بہادرمجاہد |
486 |
|
|
حاسدکےلئےپانچ سزائیں |
478 |
مشہورشہسوارابن فتحون |
487 |
|
|
حاسدوزیرکاعبرت ناک انجام |
478 |
سردارلشکرکےلئےاحتیاطیں |
488 |
|
|
طویل عمرکاراز |
480 |
چھ لاکھ کےلشکرسے12ہزارکامقابلہ |
489 |
|
|
اللہعَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں سےدشمنی |
480 |
باب نمبر41:بہادروں اورشہسواروں کےنام،طبقات و واقعات،بزدلوں کاذکر،ان کےقصےاوربزدلی کی مذمت |
491 |
|
|
باب نمبر40:بہادری اوراس کےثمرات،جنگ اور اس کی تدابیر،جہاداورشدت سےلڑنےکی فضیلت اورجنگ پرابھارنےکابیان |
481 |
|||
|
پہلاطبقہ |
491 |
|||
|
پہلی فصل:راہِ خدامیں جہادکرنےاورشدت سے لڑنےکابیان |
481 |
سیّدناحمزہرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
491 |
|
|
سیّدناعلیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
491 |
|||
|
اللہعَزَّ وَجَلَّکےنزدیک پسندیدہ قطرہ |
481 |
تلوارکےہزارزخم آسان ہیں |
492 |
|
|
جنت تلواروں کےسائےمیں ہے |
482 |
شیرخداکااندازمقابلہ |
492 |
|
|
شہیدکاخون قیامت کےدن نورہوگا |
482 |
سینےپروار |
492 |
|
|
دنیاومافیہاسےبہتر |
482 |
ابن ملجم نےشیرخداکوشہیدکیوں کیا؟ |
492 |
|
|
شہداکی ارواح کامسکن |
482 |
جان کےبدلےایک ہی جان |
493 |
|
|
سیّدناانس بن نضر رَضِیَ اللہُ عَنْہکی شہادت |
483 |
سیّدناامام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہکاخطبہ |
493 |
|
|
شہیدکاعمل بڑھتارہتاہے |
483 |
سیّدناخالدبن ولیدرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
495 |
|
سیّدنازبیربن عوام رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
496 |
تین بڑےبہادر |
503 |
|
سیّدناعمروبن معدیکربرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
496 |
ابوبلال مِرداس |
504 |
|
جنگ میں کون ساہتھیاربہترہے؟ |
496 |
شبیب خارجی |
504 |
|
حیرت انگیزبہادری |
497 |
قَطری بن فجاءہ |
504 |
|
رستم کاقتل |
497 |
تیسراطبقہ |
505 |
|
سیّدناطلحہ اسدیرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
497 |
معن بن زائدہ |
505 |
|
سیّدنامقدادبن اسود رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
498 |
عَمْروبن حُنَیْف |
505 |
|
سیّدناسعدبن ابی وقاصرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
498 |
ابودُلَف قاسم بن عیسٰی |
505 |
|
سیّدناابودُجانہ انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
498 |
بکربن نطاح |
505 |
|
سیّدنامثنی بن حارثہرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
498 |
تلوارکی تعریف کابیان |
505 |
|
سیّدناابوعبیدبن مسعودثقفیرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
498 |
عرب کی مشہورتلوار |
505 |
|
سیّدناعمّاربن یاسررَضِیَ اللہُ عَنْہ |
499 |
نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی عطاکردہ تلوار |
506 |
|
سیّدناہاشم بن عتبہرَضِیَ اللہُ عَنْہ |
499 |
کمزوردل اوربزدل لوگوں کابیان |
506 |
|
سیّدناقعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
499 |
بزدلی کی نشانیاں / ابوحیہ نمیری |
507 |
|
دوسراطبقہ |
499 |
معتصم اورایک بزدل |
507 |
|
سیّدناعبْدُاللہبن زبیررَضِیَ اللہُ عَنْہ |
499 |
اسلم بن زُرعہ |
508 |
|
سیّدناابوہاشم محمدبن علیرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا |
500 |
باب نمبر42:مدح وثنا،نعمت پرشکراوراحسان کابدلہ دینا |
508 |
|
ہاتھوں سےزرہ دوٹکڑےکرڈالی |
500 |
پہلی فصل:مدح وثناکابیان |
508 |
|
سیّدناعبْدُاللہبن حازم رَضِیَ اللہُ عَنْہ |
500 |
مدح |
508 |
|
سیّدنامصعب بن زبیرعَلَیْہِ الرَّحْمَہ |
501 |
تعریف پرسیّدناصدیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکاطریقہ |
509 |
|
عمیربن حباب |
501 |
سیّدناساریہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکی مدحت رسول |
509 |
|
مسلمہ بن عبدالملک |
501 |
سیّدناحسّانرَضِیَ اللہُ عَنْہکی ثناخوانی |
510 |
|
مُعْتَصِم باللہ |
501 |
سیّدناابن رواحہرَضِیَ اللہُ عَنْہکااندازمدح |
510 |
|
ابراہیم بن اشتر |
502 |
مصنف کی روضَۂ رسول پرحاضری |
510 |
|
عُبَـیْدُاللہبن حر |
502 |
اوصاف محمدیہ کاشمارممکن نہیں |
511 |
|
جحدربن ربیعہ |
502 |
دوسری فصل:نعمت پرشکرکرنا |
511 |
|
مُہَلَّب بن ابوصُفْرہ |
503 |
دل کاشکر |
511 |
|
شکرکیسےاداہو؟ |
512 |
سیّدناعبدالاعلیٰ عَلَیْہِ الرَّحْمَہاورخلیفہ متوکل |
516 |
|
شکرکی ایک صورت |
512 |
کن تین سےبھلائی نہ کرے؟ |
516 |
|
زبان کاشکر |
512 |
ناشکرےقتل ہوگئے |
517 |
|
اعضاء کاشکر |
513 |
شاکربندےاللہتعالیٰ کوپسندہیں |
517 |
|
کیامیں شکرگزاربندہ نہ بنوں ؟ |
513 |
شکراداکرنےسےپہلےشکرلکھ دیاجانا |
517 |
|
آنکھوں اورکانوں کاشکر |
513 |
تیسری فصل:احسان کابدلہ دینا |
518 |
|
ناشکرےکی پہچان |
514 |
بھلائی کےبدلےایک لاکھ درہم |
518 |
|
چارنعمتوں والاچارسےمحروم نہ ہوگا |
514 |
بھلائی کےبدلے10دینار |
518 |
|
شکرنعمت کےسبب پہلےسےبڑی نعمت کاملنا |
515 |
فہرست حکایات |
519 |
|
شکرانےمیں غلام آزادکردیا |
515 |
تفصیلی فہرست |
520 |
|
چیونٹی کی گفتگو |
515 |
ماٰخذ ومراجع |
542 |
|
شکرکےتین درجات |
515 |
اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہکی کُتُب کاتعارُف |
544 |
|
سب سےبڑھ کربےفائدہ کام |
516 |
…A … |
\…| |
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرت سیِّدُنابِکربنعبْدُاللہمُزنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتےہیں :اگرشیطان سےتمہاراآمناسامناہو اوروہ کہےکہ تجھےفلاں مسلمان پرفضیلت حاصل ہےتوغورکرواگروہ عمرمیں تم سےبڑاہوتوکہو:یہ ایمان لانےاورنیک اعمال کرنےمیں مجھ سےسبقت لےگیا،لہٰذایہ مجھ سےبہترہے۔اگرچھوٹاہوتوکہو:میرے گناہ اورخطائیں زیادہ ہیں اورمیں سزاکاحق دارہوں ،لہٰذایہ مجھ سےبہترہے۔پس مسلمانوں میں سےجسے بھی تم دیکھوگےخواہ بڑاہویاچھوٹااسےخودسےبہترسمجھوگے۔(حلیةالاولیا،۲/ ۲۵۷،رقم:۲۱۴۴)
|
قرآن پاک |
کلام باری تعالٰی |
نام کتاب |
مطبوعہ |
|
نام کتاب |
مطبوعہ |
معجم اوسط |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۰ھـ |
|
ترجمۂ کنزالایمان |
مکتبۃ المدینۃ۱۴۳۲ھـ |
معجم کبیر |
داراحیاء التراث العربی۱۴۲۲ھـ |
|
خزائن العرفان |
مکتبۃ المدینۃ۱۴۳۲ھـ |
حلیۃ الاولیاء |
دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۱۸ ھـ |
|
تفسیر ثعلبی |
دار احیاء التراث العربی۱۴۲۲ ھـ |
شعب الایمان |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۱ھـ |
|
در منثور |
دارالفکر بیروت۱۴۰۳ھـ |
الفوائد الشہیر بالغیلانیات لابی بکر الشافعی |
دار ابن الجوزی ۱۴۱۷ھـ |
|
البحر المدید |
المکتبۃ التوفیقیۃ قاہرہ |
شرح السنۃ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ |
|
روح البیان |
دار احیاء التراث العربی بیروت۱۴۰۵ھـ |
مکارم الاخلاق للطبرانی |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۱ھـ |
|
روح المعانی |
دار احیاء التراث العربی ۱۴۲۰ھـ |
مکارم الاخلاق للخرائطی |
مکتبۃ الرشد ۱۴۲۷ھـ |
|
بخاری |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۹ھـ |
المسند الفردوس |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۰۶ھـ |
|
مسلم |
دارابن حزم۱۴۱۹ھـ |
بغیۃ الباحث |
الجامعۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ |
|
ابن ماجہ |
دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھـ |
الزہد لابن المبارک |
دارالکتب العلمیۃ بیروت |
|
ابو داود |
داراحیاء التراث العربی۱۴۲۱ھـ |
الزہد الکبیر |
مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت ۱۴۱۷ھـ |
|
ترمذی |
دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ |
موسوعۃ ابن ابی الدنیا |
المکتبۃ العصریۃ۱۴۲۶ھـ |
|
نسائی |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۶ھـ |
تاریخ ابن عساکر |
دارالفکر بیروت۱۴۱۶ھـ |
|
دارمی |
دارالکتاب العربی۱۴۰۷ھـ |
تاریخ بغداد |
دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۷ ھـ |
|
مسند امام احمد |
دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ |
تاریخ المدینۃ المنورۃ |
دار الفکر قم ایران |
|
سنن کبری للنسائی |
دارا لکتب العلمیۃ۱۴۱۱ھـ |
اخلاق النبی وآدابہ |
دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۸ ھـ |
|
سنن کبری للبیہقی |
دارا لکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ |
کشف الخفاء |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ |
|
مستدرک حاکم |
دارالمعرفۃ بیروت۱۴۱۸ھـ |
فتح الباری لابن حجر |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۵ھـ |
|
مصنف ابن ابی شیبۃ |
دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ |
الکامل لابن عدی |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۹ھـ |
|
مسند ابی یعلٰی |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۸ھـ |
التیسیر |
دار الحدیث مصر |
|
مسند بزار |
مکتبۃ العلوم والحکم۱۴۲۴ھـ |
فیض القدیر |
دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۲۲ھـ |
|
مسند الشہاب |
مؤسسة الرسالة۱۴۰۷ھـ |
قوت القلوب |
دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۲۶ھـ |
|
مسند طیالسی |
دار المعرفۃ بیروت |
احیاء علوم الدین |
دار صادر بیروت |
|
عمل الیوم واللیلۃ لابن سنی |
الشرکۃ الجزائریۃ اللبنانیۃ |
فتوح الشام |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۶ھـ |
|
معجم صغیر |
دارا لکتب العلمیۃ۱۴۰۳ھـ |
نوادر الاصول |
مکتبۃ الامام بخاری |
|
العظمۃ لابی الشیخ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۴ھـ |
عیون الاخبار |
دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۱۸ھـ |
|
طبقات ابن سعد |
دارالکتب العلمیة ۱۴۱۸ھـ |
ربیع الابرار |
مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات |
|
کنز العمال |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۹ھـ |
التذکرۃ الحمدونیۃ |
دار صادر بیروت۱۹۹۶ء |
|
مجمع الزوائد |
دارالفکر۱۴۲۰ھـ |
المثل السائرفی الادب الکاتب والشاعر |
دار نہضۃ مصر للطبع والنشر |
|
المدخل الی السنن الکبری |
دار الخلفاء للکتاب الاسلامی |
السیرۃ الحلبیۃ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ |
|
اعلام النبوة |
دارالکتاب العربی بیروت |
الضو ء اللامع |
دار مکتبۃ الحیاۃ بیروت |
|
دلائل النبوۃ للبیہقی |
دارالکتب العلمیة ۱۴۲۳ھـ |
دیوان الاسلام |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۱ھـ |
|
الاحاد والمثانی |
دار الرایۃ ریاض ۱۴۱۱ھـ |
شرح العقائد النسفیۃ |
مکتبۃ المدینہ |
|
مشکاۃ المصابیح |
دارالکتب العلمیة ۱۴۲۴ھـ |
النبراس |
ملتان |
|
اتحاف الخیرۃ المہرۃ |
مکتبۃ الرشد ریاض۱۴۱۹ھـ |
نہایۃ الارب |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ |
|
الفوائد لتمام الرازی |
مکتبۃ الرشد ریاض۱۴۱۲ھـ |
نثر الدر |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ |
|
مساویٔ الاخلاق للخرائطی |
مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ۱۴۱۳ھـ |
الازمنۃ والامکنۃ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۷ھـ |
|
الزہد لہناد |
دار الخلفاء للکتاب الاسلامی۱۴۰۶ھـ |
الاعلام |
دار العلم للملایین بیروت |
|
الشفا |
مرکز اھلسنت برکات رضاھند |
القاموس المحیط |
دار احیاء التراث العربی |
|
سراج الملوک |
مخطوطہ |
الموسوعۃ الفقہیۃ |
وزارۃ الاوقاف والشؤن الاسلامیۃ کویت |
|
عقد الفرید |
دارالکتب العلمیة ۱۴۱۷ھـ |
الصحاح فی اللغۃ |
دار احیاء التراث العربی ۱۴۱۹ھـ |
|
اتحاف السادۃ المتقین |
دارالکتب العلمیة۲۰۰۹ء |
مجمع الزوائد |
دارالفکر بیروت۱۴۲۰ھـ |
|
معجم ابن عساکر |
دار البشائر دمشق ۱۴۲۱ھـ |
بہار شریعت |
مکتبۃ المدینۃ کراچی پاکستان |
|
معرفۃ الصحابۃ |
دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ |
فتاوی رضویہ |
رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان |
|
الاصابۃ |
دار الفکر بیروت۱۴۱۸ھـ |
مراٰۃ المناجیح |
ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور |
|
الاستیعاب |
دارالکتب العلمیة ۱۴۲۲ھـ |
فتاوی فیض الرسول |
شبیر برادرز لاہور۱۴۱۱ھـ |
|
مقاصد حسنہ |
دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۵ ھـ |
فیضان سنت |
مکتبۃ المدینہ |
|
فضیلۃ الشکر |
دار الفکر ۱۴۰۲ھـ |
امام حسین کی کرامات |
مکتبۃ المدینہ |
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(شعبہ فیضانِ قراٰن)
01…تفسیرصراط الجنان جلد:1(کل صفحات:524) 02…تفسیرصراط الجنان جلد:2(کل صفحات:495)
03…تفسیرصراط الجنان جلد:3(کل صفحات:573) 04…تفسیرصراط الجنان جلد:4(کل صفحات:592)
05…تفسیرصراط الجنان جلد:5(کل صفحات:617) 06…تفسیرصراط الجنان جلد:6(کل صفحات:717)
07…تفسیرصراط الجنان جلد:7(کل صفحات:619) 08…تفسیرصراط الجنان جلد:8(کل صفحات:674)
09…معرفۃ القراٰن جلد:1(پارہ 1تا5،کل صفحات:404) 10… معرفۃ القراٰن جلد:2(پارہ6تا10،کل صفحات:376)
11… معرفۃ القراٰن جلد:3(پارہ11تا15،کل صفحات:407)
(شعبہ فیضانِ حدیث)
01…فیضان ریاض الصالحین جلد:1(کل صفحات:656) 02…فیضان ریاض الصالحین جلد:2(کل صفحات:688)
(شعبہ کُتُب اعلیٰ حضرت)
اُردو کُتُب:
01…راہِ خدامیں خرچ کرنے کے فضائل(رَادُّ الْقَحْطِ وَالْوَبَاء بِدَعْوَۃِ الْجِیْرَانِ وَمُوَاسَاۃِ الْفُقَرَاء)l(کل صفحات:40)
02…کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات(کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِم فِيْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاہِم)(کل صفحات:199)
03…فضائل دعا(اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعَاء مَعَہٗ ذَیْلُ الْمُدَّعَاء لِاَحْسَنِ الْوِعَاء)(کل صفحات:326)
04…عیدین میں گلے ملنا کیسا؟(وِشَاحُ الْجِیْدفِيْ تَحْلِیْلِ مُعَانَــقَۃِ الْعِیْد)(کل صفحات:55)05…حدائق بخشش(کل صفحات:446)
06…والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق(اَلْحُقُوْق لِطَرْحِ الْعُقُوْق)(کل صفحات:125) 07… اَلْوَظِیْفَۃُالْکَرِیْمَۃ(کل صفحات:46)
08…معاشی ترقی کا راز(حاشیہ و تشریح تدبیر فلاح ونجات واصلاح)(کل صفحات:41) 09…بیاض پاک حُجَّۃُالْاِسْلَام(کل صفحات:37)
10…الملفوظ المعروف بہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت(مکمل چار حصے)(کل صفحات:561) 11…اعتقادالاحباب(دس عقیدے)(کل صفحات:200)
12…ولایت کا آسان راستہ(تصورِ شیخ)(اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃ)(کل صفحات:60) 13…کنزالایمان مع خزائن العرفان(کل صفحات:1185)
14…اعلیٰ حضرت سے سوال جواب( اِظْہَارُ الْحَقِّ الْجَلِي)(کل صفحات:100) 15…ایمان کی پہچان(حاشیہ تمہید ِ ایمان)(کل صفحات:74)
16…شریعت وطریقت(مَقَالِ عُرَفَابَاِعْزَازِشَرْعُ وَعُلَمَا)(کل صفحات:57) 17…اولاد کے حقوق(مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد)(کل صفحات:31)
18…حقوقُ العباد کیسے معاف ہوں (اَعْجَبُ الْاِمْدَاد)(کل صفحات:47) 19…ثبوتِ ہلال کے طریقے(طُرُقُ اِثْبَاتِ ہِلَال)(کل صفحات:63)
عربی کُتُب:
20…جَدُّالْمُمْتَار عَلٰی رَدِّالْمُحْتَار(سات جلدیں )(کل صفحات:4000) 21…اَلزَّمْزَمَۃُ الْقُمْر ِیَّۃ(کل صفحات:93)
22…اَلتَّعْلِیْقُ الرَّضَوِی عَلٰی صَحِیْحِ الْبُخَارِی(کل صفحات:458) 23…اَلْفَضْلُ الْمَوْھَبِی(کل صفحات:46)
24…کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِم(کل صفحات:74) 25…اِقَامَۃُ الْقِیَامَۃ(کل صفحات:60)
26…اَلاِْجَازَاتُ الْمَتِیْنَۃ(کل صفحات:62) 27…تَمْہِیْدُالْاِیْمَان(کل صفحات:77) 28…اَجْلَی الْاِعْلَام(کل صفحات:70)
﴿شعبہ تراجم کُتب﴾
01…سایَۂ عرش کس کس کوملے گا۔۔۔؟(تَمْہِیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش)(کل صفحات:88)
02…مدنی آقا کے روشن فیصلے(اَلْبَاھِر فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِر)(کل صفحات:112)
03…نصیحتوں کے مدنی پھول بوسیلَۂ احادیثِ رسول(اَلْمَوَاعِظ فِی الْاَحَادِیْثِ الْقُدْسِیَّۃ)(کل صفحات:54)
04…نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں (قُرَّۃُالْعُیُوْن وَمُفَرِّحُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن)(کل صفحات:142)
05…جنت میں لے جانے والے اعمال(اَلْمَتْجَرُ الرَّابِح فِیْ ثَـوَابِ الْعَمَلِ الصَّالِح)(کل صفحات:743)
06… جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلد:1)(اَلزَّ وَاجِرعَنِ اقْترَافِ الْکَبَائِر)(کل صفحات:853)
07… جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلد:2)(اَلزَّ وَاجِرعَنِ اقْترَافِ الْکَبَائِر)(کل صفحات:1012)
08…امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی وصیتیں (وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم عَلَیْہِ الرَّحْمَہ)(کل صفحات:46)
09…دین ودنیاکی انوکھی باتیں (اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف،جلد:1)(کل صفحات:552)
10…مختصرمنہاج العابدین(تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن)(کل صفحات:281)
11…نیکی کی دعوت کے فضائل(اَلْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْف وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَر)(کل صفحات:98)
12…اصلاحِ اعمال(جلد:1)(اَ لْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ طَرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ)(کل صفحات:866)
13…اللہ والوں کی باتیں (جلد:1)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:896)
14…اللہ والوں کی باتیں (جلد:2)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:625)
15…اللہ والوں کی باتیں (جلد:3)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:580)
16…اللہ والوں کی باتیں (جلد:4)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:510)
17…اللہ والوں کی باتیں (جلد:5)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:571)
18…فیضان مزارات ِ اولیاء(کَشْفُ النُّوْر عَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر)(کل صفحات:144) 19…شرحُ الصُّدُور(مترجَم) (کل صفحات:572)
20…دنیاسے بے رغبتی اورامیدوں کی کمی(اَلزُّھْدوَقَصْرُالْاَمَل)(کل صفحات:85) 21…76کبیرہ گناہ(الکبائر)(کل صفحات:264)
22…عاشقانِ حدیث کی حکایات(اَ لرِّحْلَۃ فِیْ طَلَبِ الْحَدِیْث)(کل صفحات:105) 23…بیٹے کو نصیحت(اَیُّھَاالْوَلَد)(کل صفحات:64)
24…احیاء العلوم(جلد:1)(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1124) 25…152رحمت بھری حکایات(کل صفحات:326)
26…احیاء العلوم(جلد:2)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1393) 27…آدابِ دین(اَلْاَدَبُ فِی الدِّیْن)(کل صفحات:63)
28…احیاء العلوم(جلد:3)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1290) 29…قوت القلوب(مترجم جلد:2)(کل صفحات:784)
30… احیاء العلوم(جلد:4)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات:911) 31…قوت القلوب(مترجم جلد:1)(کل صفحات:826)
32… احیاء العلوم(جلد:5)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات:814) 33…آنسوؤں کا دریا(بَحْرُالدُّمُوْع)(کل صفحات:300)
34…ایک چُپ سوسُکھ(حُسْنُ السَّمْت فِی الصَّمْت)(کل صفحات:37) 35…حُسنِ اَخلاق(مَکَارِمُ الْاَخْلَا ق)(کل صفحات:102)
36…راہِ علم(تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّم طَرِیقَ التَّعَلُّم)(کل صفحات :102) 37…شاہراہِ اولیاء(مِنْہَاجُ الْعَارِفِیْن)(کل صفحات:36)
38…حکایتیں اورنصیحتیں (اَلرَّ وْضُ الْفَائِق)(کل صفحات:649) 39…عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ دوم)(کل صفحات:413)
40…اچھے برے عمل(رِسَالَۃُ الْمُذَاکَرَۃ)(کل صفحات:122) 41…عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ اول)(کل صفحات:412)
42…شکرکے فضائل(اَلشُّکْرُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ)(کل صفحات:122) 43…احیاء العلوم کا خلاصہ(لُبَابُ الْاِحْیَاء)(کل صفحات:641)
﴿شعبہ درسی کُتب﴾
01…دیوان المتنبی مع الحاشیۃ المفیدہ اتقان الملتقی(کل صفحات:104) 02…کتاب العقائد(کل صفحات:64)
03…تلخیص المفتاح مع شرحہ الجدیدتنویرالمصباح(کل صفحات:229) 04…الحق المبین(کل صفحات:131)
05…الجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمینالمجلدالاول(کل صفحات:400) 06…فیضانِ سورۂ نور(کل صفحات:128)
07…الجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمینالمجلدالثانی(کل صفحات:374) 08…نصاب النحو(کل صفحات:285)
09…ریاض الصالحین مع حاشیۃ منہاج العارفین(کل صفحات:124) 10…فیضان تجو ید(کل صفحات:161)
11…شرح مئۃ عامل مع حاشیۃ الفرح الکامل(کل صفحات:147) 12…نصاب المنطق(کل صفحات:161)
13…منتخب الابواب من احیاء علوم الدین(عربی)(کل صفحات:178) 14…نصاب الادب(کل صفحات:200)
15…دیوان الحماسۃ مع شرح اتقان الفراسۃ(کل صفحات:325) 16…انوارالحدیث(کل صفحات:466)
17…قصیدۃ البردۃ مع شرح عصیدۃ الشھدۃ(کل صفحات:317) 18…نصاب التجو ید(کل صفحات:85)
19…التعلیق الرضوی علی صحیح البخاری(کل صفحات:458) 20…تعریفاتِ نحو یۃ(کل صفحات:53)
21…مراح الارواح مع حاشیۃ ضیاء الاصباح(کل صفحات:182) 22…شرح مائۃ عامل(کل صفحات:38)
23…شرح العقائد مع حاشیۃ جمع الفرائد(کل صفحات:385) 24…نصاب الصرف(کل صفحات:352)
25…الاربعین النوویۃ فی الأحادیث النبو یۃ(کل صفحات:155) 26…خلفائے راشدین(کل صفحات:352)
27…نورالایضاح مع حاشیۃ النور والضیاء(کل صفحات:392) 28…المحادثۃ العربیۃ(کل صفحات:104)
29…شرح الجامی مع حاشیۃ الفرح النامی(کل صفحات:429) 30…نصاب اصولِ حدیث(کل صفحات:95)
31…ھدایۃ النحومع حاشیۃ عنایۃ النحو(کل صفحات:288) 32…تلخیص اصول الشاشی(کل صفحات:144)
33…اصول الشاشی مع احسن الحواشی(کل صفحات:306) 34…الکافیہ مع شرح ناجیہ(کل صفحات:259)
35…مئۃ عامل منظوم(فارسی مع ترجمہ وتشریح)(کل صفحات:28) 36…خاصیات ابواب الصرف(کل صفحات:141)
37…مقدمۃ الشیخ مع التحفۃ المرضیۃ(کل صفحات:117) 38…تیسیرمصطلح الحدیث(کل صفحات:194)
39…فیض الادب (مکمل حصہ اوّل ،دوم)(کل صفحات:228) 40…خلاصۃ النحو(حصہ اول و دوم)(کل صفحات:214)
41…دروس البلاغۃ مع شموس البراعۃ(کل صفحات:242) 42…قصیدہ بردہ سےروحانی علاج(کل صفحات:22)
43… نخبۃ الفکرمع شرح نزھۃ النظر(کل صفحات:175) 44…شرح الفقہ الاکبر(للقاری)(کل صفحات:231)
45…صرف بہائی مع حاشیہ صرف بنائی(کل صفحات:64) 46…المرقاۃ مع حاشیۃ المشکاۃ(کل صفحات:106)
47…نحو میر مع حاشیۃ نحو منیر(کل صفحات:205)
(شعبہ فیضان مدنی مذاکرہ)
01… قسط2:مقدس تحریرات کےآداب کےبارےمیں سوال جواب(کل صفحات:48) 02…قسط6:جنتیوں کی زبان(کل صفحات:31)
03… قسط8:سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکااندازِتبلیغ دین(کل صفحات:32) 04…قسط10:وَلِیُّ اللہ کی پہچان(کل صفحات:36)
05…قسط5:گونگےبہروں کےبارےمیں سوال جواب(کل صفحات:25) 06…قسط12:مساجدکےآداب(کل صفحات:36)
07…قسط1:وضوکےبارےمیں وسوسےاوران کاعلاج(کل صفحات:48) 08…قسط9:یقین کامل کی برکتیں (کل صفحات:32)
09…قسط7:اصلاحِ امت میں دعوتِ اسلامی کاکردار(کل صفحات:28) 10…قسط14:تمام دنوں کاسردار(کل صفحات:32)
11…قسط4:بلندآوازسےذکرکرنےمیں حکمت(کل صفحات:48) 12…قسط11:نام کیسےرکھےجائیں ؟(کل صفحات:44)
13…قسط3:پانی کےبارےمیں اہم معلومات(کل صفحات:48) 14…قسط13:ساداتِ کرام کی تعظیم(کل صفحات:30)
15…قسط15:اپنےلئےکفن تیاررکھناکیسا؟(کل صفحات:32)
(شعبہ تخریج)
01…صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا عشق رسول(کل صفحات:274) 02…سیرتِ رسولِ عربی(کل صفحات:758)
03…فیضان یٰسٓ شریف مع دعائے نصف شعبان المعظم(کل صفحات:20) 04…مکاشفۃ القلوب(کل صفحات:692)
05…جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ(کل صفحات:470) 06…19دُرُودوسلام(کل صفحات:16)
07…بہارشریعت جلد دوم(حصہ7تا13)(کل صفحات:1304) 08…اسلامی زندگی(کل صفحات:170)
09…بہارشریعت جلد اول (حصہ 1تا6)(کل صفحات:1360) 10…منتخب حدیثیں (کل صفحات:246)
11…بہارشریعت جلدسوم (حصہ14تا20)(کل صفحات:1332) 12…اخلاق الصالحین(کل صفحات:78)
13…اُمہات المؤٔمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُن(کل صفحات:59) 14…کراماتِ صحابہ(کل صفحات:346)
15…عجائب القراٰن مع غرائب القراٰن(کل صفحات:422) 16…علم القرآن(کل صفحات:244)
17…بہارشریعت(سولہواں حصہ)(کل صفحات:312) 18…اربعین حنفیہ(کل صفحات:112)
19…گلدستہ عقائد واعمال(کل صفحات:244) 20…آئینَۂ قیامت(کل صفحات:108)
21…اچھے ماحول کی برکتیں (کل صفحات:56) 22…سوانح کربلا(کل صفحات:192)
23…جہنم کے خطرات(کل صفحات:207) 24…آئینَۂ عبرت(کل صفحات:133)
25…بہشت کی کنجیاں (کل صفحات:249) 26…جنتی زیور(کل صفحات:679)
27…حق وباطل کا فرق(کل صفحات:50) 28…فیضانِ نماز(کل صفحات:49)
29…سیرتِ مصطفٰی(کل صفحات:875) 30…تحقیقات(کل صفحات:142)
31…سرمایَۂ آخرت(کل صفحات:200)
(شعبہ فیضانِ صحابہ)
01…حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:132) 02…فیضانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:720)
03…فیضانِ فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جلداول)(کل صفحات:864) 04…فیضان امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:56)
05…فیضانِ فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جلددوم)(کل صفحات:856) 06…حضرت زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:72)
07…حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:89) 08…فیضانِ سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:32)
09…حضرت طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:56) 10…حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ عَنْہ(کل صفحات:60)
(شعبہ فیضانِ صحابیات)
01…بارگاہِ رسالت میں صحابیات کےنذرانے(کل صفحات:48) 02…صحابیات اورپردہ(کل صفحات:56)
03…فیضانِ حضرت آسیہ (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) (کل صفحات:36) 04…شانِ خاتونِ جنت(کل صفحات:501)
05…صحابیات اورنصیحتوں کےمدنی پھول(کل صفحات:144) 06…فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ (کل صفحات:84)
07…صحابیات اورعشق رسول(کل صفحات:64) 08…فیضانِ امہاتُ المؤمنین(کل صفحات:367)
09…فیضانِ عائشہ صدیقہ(کل صفحات:608)
(شعبہ اصلاحی کُتب)
01…اعرابی کےسوالات عربی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےجوابات(کل صفحات:118) 02…تکبر(کل صفحات:97)
03…حضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیزکی 425حکایات(کل صفحات:590) 04…بدگُمانی(کل صفحات:57)
05…غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حالات(کل صفحات :106) 06…بدشگونی(کل صفحات:128)
07…40فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کل صفحات :87) 08…ریاکاری(کل صفحات:170)
09…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ اول) (کل صفحات:60) 10…فکرِ مدینہ(کل صفحات:164)
11…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ دوم)(کل صفحات:104) 12…نورکاکھلونا(کل صفحات:32)
13…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ سوم)(کل صفحات:352) 14…بغض وکینہ(کل صفحات:83)
15…اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوششیں (کل صفحات :49) 16…بہترکون؟(کل صفحات:139)
17…نیک بننے اوربنانے کے طریقے(کل صفحات:696) 18…فیضانِ زکوٰۃ(کل صفحات:150)
19…فیضانِ اسلام کورس(حصہ دوم)(کل صفحات:102) 20…عشر کے احکام(کل صفحات:48)
21…فیضانِ اسلام کورس(حصہ اول)(کل صفحات:79) 22…تربیت ِ اولاد(کل صفحات:187)
23…محبوبِ عطار کی 122حکایات(کل صفحات:208) 24…آقاکاپیارکون؟(کل صفحات:63)
25…نماز میں لقمہ دینے کے مسائل(کل صفحات:39) 26…ٹی وی اورمُووی(کل صفحات:32)
27…چندہ کرنےکی شرعی احتیاطیں (کل صفحات:47) 28…تکلیف نہ دیجئے(کل صفحات:219)
29…امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟(کل صفحات:32) 30…فیضان معراج(کل صفحات:134)
31…قوم جِنّات اورامیراہلسنّت(کل صفحات :262) 32…سنتیں اورآداب(کل صفحات:125)
33…توبہ کی روایات وحکایات(کل صفحات:124) 34…خوف ِخدا عَزَّ وَجَلَّ (کل صفحات:160)
35…مزاراتِ اولیاء کی حکایات(کل صفحات:48) 36…انفرادی کوشش(کل صفحات:200)
37…قبرمیں آنے والادوست(کل صفحات:115) 38…ضیائے صدقات(کل صفحات:408)
39…کامیاب طالب علم کون؟(کل صفحات :63) 40…کامیاب استاذ کون؟(کل صفحات:43)
41…جلدبازی کے نقصانات(کل صفحات:168) 42…مفتی دعوتِ اسلامی(کل صفحات:96)
43…طلاق کے آسان مسائل(کل صفحات:30) 44…نام رکھنےکےاحکام(کل صفحات:180)
45…تذکرہ صدرالافاضل(کل صفحات:25) 46…جنت کی دوچابیاں (کل صفحات:152)
47…احادیثِ مبارکہ کے انوار(کل صفحات :66) 48…شرح شجرہ قادریہ(کل صفحات:215)
49…تجہیزوتکفین کاطریقہ(کل صفحات:358) 50…فیضانِ احیاء العلوم(کل صفحات:325)
51…جیسی کرنی ویسی بھرنی(کل صفحات:110) 52…وہ ہم میں سےنہیں (کل صفحات:112)
53…آیاتِ قراٰنی کے انوار(کل صفحات:62) 54…حج وعمرہ کامختصرطریقہ(کل صفحات:48)
55…فیضانِ چہل احادیث(کل صفحات :120) 56…تنگ دستی کے اسباب(کل صفحات:33)
57…تعارفِ امیر اہلسنّت(کل صفحات:100)
(شعبہ امیراہلسنت)
01…علم وحکمت کے 125مدنی پھول(تذکرہ امیراہلسنت قسط5)(کل صفحات:102) 02…گونگا مبلغ(کل صفحات :55)
03…سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیغام عطار کے نام(کل صفحات :49) 04…خوفناک بلا(کل صفحات :33)
05…حقوق العبادکی احتیاطیں (تذکرہ امیراہلسنت قسط 6)(کل صفحات:47) 06…ناکام عاشق(کل صفحات :32)
07…اصلاح کاراز(مدنی چینل کی بہاریں حصہ دوم)(کل صفحات :32) 08…گمشدہ دولہا(کل صفحات:33)
09… تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط7)(پیکرشرم وحیا)(کل صفحات :86) 10…انوکھی کمائی(کل صفحات :32)
11…25کرسچین قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام(کل صفحات :33) 12…قبر کھل گئی(کل صفحات :48)
13…دعوتِ اسلامی کی جیل خانہ جات میں خدمات(کل صفحات :24) 14…نورہدایت(کل صفحات :32)
15…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط3)(سنّتِ نکاح)(کل صفحات :86) 16…سنگرکی توبہ(کل صفحات:32)
17…شادی خانہ بربادی کے اسباب اوران کا حل(کل صفحات :16) 18…بیٹےکی رہائی(کل صفحات :32)
19…پانچ روپےکی برکت سےسات شادیاں (کل صفحات:32) 20…پراسرارکتا(کل صفحات :27)
21…آداب مرشدِ کامل(مکمل پانچ حصے)(کل صفحات:275) 22…نادان عاشق(کل صفحات:32)
23…اوباش دعوتِ اسلامی میں کیسےآیا؟(کل صفحات:32) 24…غافل درزی(کل صفحات :36)
25…غریب فائدےمیں ہے(بیان 1)(کل صفحات:30) 26…جنوں کی دنیا(کل صفحات :32)
27…میں نے ویڈیوسینٹر کیوں بند کیا؟(کل صفحات:32) 28…چمکدارکفن(کل صفحات :32)
29…دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں (کل صفحات :220) 30…اجنبی کا تحفہ(کل صفحات :32)
31…اداکاری کاشوق کیسےختم ہوا؟(کل صفحات:32) 32…روحانی منظر(کل صفحات:32)
33…جوانی کیسےگزاریں ؟(بیان2)(کل صفحات:32) 34…کینسرکاعلاج(کل صفحات :32)
35…میں نے مدنی برقع کیوں پہنا؟(کل صفحات :33) 36…مردہ بول اٹھا(کل صفحات:32)
37…مخالفت محبت میں کیسے بدلی؟(کل صفحات:33) 38…شرابی کی توبہ(کل صفحات :33)
39…چمکتی آنکھوں والے بزرگ(کل صفحات:32) 40…خوشبودارقبر(کل صفحات:32)
41…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط1)(کل صفحات:49) 42…دلوں کاچین(کل صفحات:32)
43…چل مدینہ کی سعادت مل گئی(کل صفحات :32) 44…بھیانک حادثہ(کل صفحات :30)
45…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط2)(کل صفحات:48) 46…بابرکت روٹی(کل صفحات :32)
47…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط4)(کل صفحات :49) 48…آنکھوں کاتارا(کل صفحات :32)
49…نومسلم کی دردبھری داستان(کل صفحات :32) 50…کفن کی سلامتی(کل صفحات:32)
51…والدہ کانافرمان امام کیسےبنا؟(کل صفحات :32) 52…مدینے کامسافر(کل صفحات :32)
53…نورانی چہرے والے بزرگ(کل صفحات :32) 54…بدنصیب دولہا(کل صفحات :32)
55…بداطوارشخص عالِم کیسےبنا؟(کل صفحات:32) 56…اسلحے کا سوداگر(کل صفحات :32)
57…والدین کےنافرمان کی توبہ(کل صفحات:32) 58…بدکردارکی توبہ(کل صفحات :32)
59…بریک ڈانسرکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32) 60…باکردارعطاری(کل صفحات:32)
61…قاتل امامت کے مصلے پر(کل صفحات :32) 62…بے قصورکی مدد(کل صفحات :32)
63…معذور بچی مبلغہ کیسے بنی؟(کل صفحات :32) 64…ہیروئنچی کی توبہ(کل صفحات :32)
65…عطاری جن کا غُسْلِ میِّت(کل صفحات:24) 66…راہِ سنّت کامسافر(کل صفحات :32)
67…ولی سے نسبت کی برکت(کل صفحات :32) 68…عجیب الخلقت بچی(کل صفحات:32)
69…ڈانسربن گیاسنتوں کاپیکر(کل صفحات:32) 70…قبرستان کی چڑیل(کل صفحات :24)
71…ڈانسرنعت خوان بن گیا(کل صفحات:32) 72…فلمی اداکارکی توبہ(کل صفحات :32)
73…اغواشدہ بچوں کی واپسی(کل صفحات :32) 74…سینما گھر کا شیدائی(کل صفحات:32)
75…ساس بہو میں صلح کا راز(کل صفحات :32) 75…سینگوں والی دلہن(کل صفحات :32)
77…خوفناک دانتوں والا بچہ(کل صفحات :32) 78…حیرت انگیزحادثہ(کل صفحات:32)
79…نشے بازکی اصلاح کاراز(کل صفحات:32) 80…میں نیک کیسے بنا؟(کل صفحات :32)
81…شرابی،مؤذن کیسے بنا؟(کل صفحات :32) 82…حیرت انگیزگلوکار(کل صفحات:32)
83…کرسچین مسلمان ہوگیا(کل صفحات :32) 84…کالے بچھوکاخوف(کل صفحات:32)
85…مفلوج کی شفایابی کاراز(کل صفحات:32) 86…بری سنگت کاوبال(کل صفحات :32)
87…بدچلن کیسےتائب ہوا؟(کل صفحات:32) 88…میوزکل شوکامتوالا(کل صفحات :32)
89…جھگڑالوکیسےسدھرا؟(کل صفحات:32) 90…چندگھڑیوں کا سودا(کل صفحات :32)
91…کرسچین کاقبولِ اسلام(کل صفحات :32) 92…رسائل مدنی بہار(کل صفحات :368)
93…جرائم کی دنیاسے واپسی(کل صفحات :32) 94…مجوسی کاقبول اسلام(کل صفحات:62)
95…بھنگڑے بازسدھرگیا(کل صفحات :32) 96…مدنی ماحول کیسےملا؟(کل صفحات:56)
97…ماڈرن نوجوان کی توبہ(کل صفحات :32) 98…عمامہ کےفضائل(کل صفحات:517)
99…خوش نصیبی کی کرنیں (کل صفحات :32) 100…ڈاکوؤں کی واپسی(کل صفحات:32)
101…ڈرامہ ڈائریکٹرکی توبہ(کل صفحات :32) 102…میٹھےبول کی برکتیں (کل صفحات:32)
103…جواری وشرابی کی توبہ(کل صفحات:32) 104…فیضانِ امیراہلسنّت(کل صفحات :101)
105…صلوٰۃوسلام کی عاشقہ(کل صفحات :33) 106…گلوکارکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32)
107…سنّت رسول کی محبت(کل صفحات :32) 108…میں حیادار کیسے بنی؟(کل صفحات:32)
(شعبہ اولیاوعلما)
01…فیضانِ بہاؤالدین ذکریاملتانی(کل صفحات:74) 02…عطارکاپیارا(کل صفحات:166) 04…فیضانِ حافظِ ملت(کل صفحات:32)
03…فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان(کل صفحات:62) 05…فیضانِ سلطان باہو(کل صفحات:32) 06…فیضانِ علامہ کاظمی(کل صفحات:70)
07…فیضانِ حضرت صابرپاک(کل صفحات:53) 08…فیضانِ پیرمہرعلی شاہ(کل صفحات:33) 09…فیضانِ عثمان مروندی(کل صفحات:43)
10…فیضانِ خواجہ غریب نواز(کل صفحات:32) 11…فیضانِ بابافریدگنج شکر(کل صفحات:115) 12…فیضانِ داتاعلی ہجویری(کل صفحات:84)
13…فیضانِ سیداحمدکبیررفاعی (کل صفحات:33)
(شعبہ بیانات دعوتِ اسلامی)
01…باطنی بیماریوں کی معلومات(کل صفحات:352) 02…گلدستَۂ درودوسلام(کل صفحات:660)
(مجلِسِ افتاء)
01…ویلنٹائن ڈے(قرآن وحدیث کی روشنی میں )(کل صفحات:34) 02تا09…فتاوٰی اہلسنّت(آٹھ حصے)
10…مالِ وراثت میں خیانت مت کیجئے(کل صفحات:42) 11…عقیدۂ آخرت(کل صفحات:41)
12…کرسی پرنمازپڑھنےکےاحکام(کل صفحات:34) 13…فتاوٰی اہلسنّت احکامِ زکوٰۃ(کل صفحات:612)
(مرکزی مجلِسِ شُورٰی)
01…مدنی کاموں کی تقسیم کےتقاضے(کل صفحات:73) 02…کامل مرید(کل صفحات:48)
03…گستاخِ رسول کاعملی بائیکاٹ(کل صفحات:52) 04…وقفِ مدینہ(کل صفحات:86)
05…اللہوالوں کااندازِتجارت(کل صفحات:68) 06…12مدنی کام(کل صفحات:72)
07…فیصلہ کرنےکےمدنی پھول(کل صفحات:56) 08…عشق رسول(کل صفحات:54)
09…صحابی کی انفرادی کوشش(کل صفحات:124) 10…مقصدِحیات(کل صفحات:60)
11…یہ وقت بھی گزرجائےگا(کل صفحات:39) 12…جنت کاراستہ(کل صفحات:56)
13…رسائل دعوت اسلامی(کل صفحات:422) 14…فیضانِ مرشد(کل صفحات:46)
15…شوہرکوکیساہوناچاہئے؟(کل صفحات:47) 16…بیٹی کی پرورش(کل صفحات:72)
17…پیرپراعتراض منع ہے(کل صفحات:59) 18…موت کاتصور(کل صفحات:44)
19…علماپراعتراض منع ہے(کل صفحات:34) 20…بیٹےکی وصیت(کل صفحات:36)
21…تنظیمی کاموں کی تقسیم(کل صفحات:50) 22…پیارےمرشد(کل صفحات:48)
23…ایک زمانہ ایساآئےگا(کل صفحات:51) 24…علم وعلماکی شان(کل صفحات:51)
25…ہمیں کیاہوگیاہے؟(کل صفحات:116) 26…جامع شرائط پیر(کل صفحات:87)
27…گناہوں کی نحوست(کل صفحات:112) 28…برائیوں کی ماں (کل صفحات:112)
29…ایک آنکھ والاآدمی(کل صفحات:48) 30…سیرتِ ابودرداء(کل صفحات:75)
31…سوداوراس کاعلاج(کل صفحات:92) 32…صدقےکاانعام(کل صفحات:60)
33…احساسِ ذمہ داری(کل صفحات:50) 34…غیرت مندشوہر(کل صفحات:47)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
[1]…دلائل النبوة للبیھقی، باب تحریض النبی اصحابہ علی القتال، ۳/ ۲۳۳
[2]…ربیع الابرار،الباب السادس، الطبقة الاولى الذين ادركوا الجاهلية والاسلام،۲/ ۴۸۳
[3]…بخاری،کتاب الصلاة،باب التعاون فی بناء المسجد،۱/ ۱۷۱،حدیث:۴۴۷
[4]…وہ گمراہ فرقہ جوجنگِ صفّین کےموقع پرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکااس وجہ سے مخالف ہوگیاتھاکہ انہوں نےحضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےجنگ بندی کےلئےثالثی قبول کرلی تھی۔خوارج کے نزدیک گناہِ کبیرہ کامرتکب کافرہے۔
(شرح العقائدالنسفیة،ص۲۵۳۔النبراس،ص۲۲۶)
[5]…الازمنة والامکنة،الباب الثامن والخمسون،فی معرفة ایام العرب فی الجاھلیة،ص۵۱۵
[6]…بخاری،کتاب الاطعمة، باب الحیس، ۳/ ۵۳۴، حدیث: ۵۴۲۵،” غلبة“ بدلہ ”ضلع“
[7]…مسلم، کتاب الزھد، باب النھی عن المدح…الخ، ص ۱۵۹۹، حدیث: ۳۰۰۲
[8]…ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعة، ۴/ ۵۲۲، حدیث: ۴۳۰۸
[9]…مسندامام احمد، حدیث نعمان بن بشیر، ۶/ ۳۹۴، حدیث: ۱۸۴۷۶
[10]…بخاری، کتاب التفسیر، باب لیغفر لک اللّٰہ…الخ، ۳/ ۳۲۹، حدیث: ۴۸۳۷
[11]…مقاصدالحسنة،حرف اللام، ص ۳۵۱، حدیث: ۸۹۲
[12]…یعنی ان سےبھلائی کرنےکی وجہ سےتمہیں برائی ہی پہنچےگی۔(علمیہ)
[13]…فضیلة الشکر، ماذکرہ من کفر الصنیعة، ۱/ ۷۰، حدیث: ۱۰۳
[14]… ابن ماجہ،کتاب الصیام،باب فیمن قال الطاعم الشاکر کالصائم الصابر،۲/۳۵۵،حدیث:۱۷۶۴،مفھومًا عن ابی ھریرة
معجم اوسط،۱/ ۱۸،حدیث:۲۹ مختصرًاعن ابن عمر
[15]…ابو داود، کتاب الزکاة، باب عطیة من سال اللّٰہ، ۲/ ۱۷۸، حدیث: ۱۶۷۲
[16]…شعب الایمان، باب فی ردالسلام، ۶/ ۵۱۸، حدیث: ۹۱۲۵