سیّدنا طلحہ اسدی رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

      بہادروں میں ایک نام حضرت سیِّدُنا طلحہ اسدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بھی ہےجو زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں بہت بڑے بہادر تھے۔درمیان میں یہ مرتد ہوگئے اور نبوّت کا دعویٰ کیااور کہاکہ  مجھ پر وحی آتی ہے اور ایک بہت بڑا لشکر جمع کیاجسےحضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شکست دی ۔یہ کہانت بھی کرتے تھے پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے تھے اور جنگ قادسیہ اور اس کے علاوہ دیگر فتوحات میں شریک رہے۔

سیّدنامِقْداد بن اَسْوَدرَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنامِقْدادبن اَسْوَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شہسواروں میں سب سے بہادر، شدت سے لڑنے والے، بہت طاقتور اورثابت قدم رہنے والےتھے۔ بہادری میں ان کا نام اور صفات بڑی مشہور تھیں ، تعریف کرنے والاآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تعریف بیان کرنے سے عاجز ہوجاتا۔

سیّدناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص زہری انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہادرشہسوار اور بہترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے ہی سب سے پہلےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی راہ میں تیرچلایا، جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت ہوئی تو آپ نے جنگ وجدل سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور پھر کسی جنگ میں شریک نہ ہوئے اور اپنی زندگی پوری کر کے دنیا سے تشریف لے گئے۔

سیّدنا ابو دُجانہ انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنا ابو دُجانہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجنگ میں صفوں کے درمیان اکڑ کرچلتے تھے۔ حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا:اس طرح کی چال اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کو ناپسند ہے سوائے اس مقام کے۔([1])

سیّدنا مثنی بن حارثہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنا مثنی بن حارثہ شیبائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اہل فارس کو جنگ میں شکست دی۔

سیّدنا ابو عبید بن مسعود ثقفیرَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       انہوں نے جنگ قادسیہ میں اہل فارس  سے خوب مقابلہ کیا ۔


 

سیّدنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ صحابی ہیں جن کے بارے میں مروی ہےکہ حق عمار کے ساتھ ہوتا  ہے جہاں وہ جاتےہیں ۔([2])

       آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُناعماررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےبارےمیں یہ خبربھی دی کہ انہیں باغیوں کا گروہ شہید کرے گا۔([3])آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے اور اسی میں شہید ہوئے۔

سیّدنا ہاشم بن عتبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنا ہاشم بن عتبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بڑے بہادر تھےاور جنگ صفین میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے تھے۔

سیّدنا قعقاع بن عَمْرورَضِیَ اللہُ  عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنا قعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جنگ قادسیہ کی شام ہاتھیوں پرنیزے سے وار کیا ۔

دوسرا طبقہ

سیّدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

       حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے افریقہ کے بادشاہ جرجیر کو قتل کیا جس کا گمان یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا بہادر ہے۔

       حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے حضرت سیِّدُناابنِ ابو ملیکہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: مجھے حضرت سیِّدُناابن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اوصاف سناؤ۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ ابو ملیکہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”خداکی قسم! میں نے ایساکوئی جسم نہیں دیکھاجیساحضرت سیِّدُناعبداللہبن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکاجسم تھا،ایک دن وہ نمازکےلئے کھڑے ہوئے کہ منجنیق سے چلا ہوا ایک پتھر ان کی داڑھی اور سینے کے درمیان سے گزرا، خدا کی قسم! ان کی آنکھوں میں کوئی


 

خوف نہیں تھا، ان کی قراءت میں بھی کوئی فرق نہ آیا اور نہ ہی رکوع میں کوئی فرق آیا جس طرح وہ رکوع کرتے تھے۔“

      حجاج نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو مکہ میں محاصرہ کر کے شہید کیاجبکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھی اور خاندان والے حجاج کے شرسے محفوظ رہے۔شہادت کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی لاش مبارک کو حجاج نے سولی پر لٹکا دیا۔

سیّدنا ابو ہاشم محمد بن علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا:

      بہادروں میں ایک حضرت سیِّدُنا ابو ہاشم محمد بن علی بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی ہیں جوابنِ حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں ۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد آپ کو بڑےمعرکوں میں آگے رکھتے تھے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑی شدت سے لڑنے والے اور ثابت قدم رہنے والے تھے۔     ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا: کیا وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آپ کو تو جنگ میں بھیجتے ہیں لیکن حضرت سیِّدُناحسن وحسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کونہیں بھیجتے؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: اس لئےکہ وہ دونوں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا ہاتھ ہوں تو وہ اپنی آنکھوں کو اپنے ہاتھ سے بچاتے ہیں ۔

ہاتھوں سے زرہ دوٹکڑے کر ڈالی:

      منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک زرہ خریدی وہ لمبی تھی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس میں سے کچھ کاٹنے کا ارادہ کیاتو حضرت سیِّدُنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: اے ابا جان! آپ مجھے بتا دیں کہاں سے کاٹنا ہے اور اس جگہ نشان لگا دیں ، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک ہاتھ سے زرہ کے نچلے حصے کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے نشان والی جگہ سے پکڑااور اسے دو ٹکڑے کردیا ۔

      حضرت سیِّدُناابنِ حنفیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال شعب رضوی(مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی) میں ہوا۔

سیّدنا عبداللہ بن حازم رَضِیَ اللہُ عَنْہ:

      حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حازم سلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خراسان کے حاکم رہے، آپ قبیلہ مضر کے بہادر اور اپنے زمانے کے بڑے شہسوار تھے، انہیں وکیع بن ابو سوید نے خراسان میں فتنے کے وقت شہید کیا۔


 

      وکیع بن ابو سوید نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حازم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کیا، یہ بھی بڑا بہادرمشہور تھا، جب اس نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن حازم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا تو یہ خراسان کا حاکم بنا اور ابھی حکومت کو مضبوط بھی نہ کرسکا تھا کہ مر گیا۔

سیّدنامُصْعَب بن زبیر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ:

      حضرت سیِّدُنا مصعب بن زبیر بن عوام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑے بہادراور سخی تھے، آپ اپنی جان اور مال میں سخاوت کرتے تھے، آپ کو عُبَـیْدُاللہ بن زیادبَکْری نے اس جنگ میں شہید کیا جو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور عبدالملک بن مروان کے درمیان ہوئی تھی۔

عُمَیْر بن حُباب:

      عمیر بن حباب سُلَمی مسلمانوں کے شہسوار ہیں ۔ انہیں بَنُوتَغْلِب نے اس جنگ میں قتل کیا جو بنوتغلب اور قیس کے درمیان ہوئی تھی۔

مسلمہ بن عبدالملک:

      مسلمہ بن عبدالملک بن مروان بنو امیہ کا طاقتور ،شہسوار اور ان کی جنگوں کا سپاہ سالارتھا۔منقول ہے کہ ایک دن مسلمہ مصر کے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے بیٹھا، ایک عورت نےکوئی بات کی تو مسلمہ نے اس کی بات نہ سنی۔ اس عورت نے کہا: میں نے اس سے زیادہ بے حیا کوئی نہ دیکھا ۔ مسلمہ نے اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹایا تو اس پر نیزے کے نو زخم تھے۔مسلمہ نے اس عورت سے کہا: کیا تمہیں نیزے کے یہ زخم نظر آرہے ہیں ؟  خدا کی قسم! اگر میں اپنے پاؤں میں بیڑی ڈال لیتا تو مجھے ان میں سے ایک بھی زخم نہ پہنچتالیکن مجھے رکنے سے حیا نے باز رکھا اور تم مجھے بے حیائی کی تہمت لگاتی ہو۔

مُعْتَصِم بِاللہ:

      خلیفہ بغداد مُعْتَصِم بِاللہ بڑا شہسوار اور بہادر تھا۔ابن ابو داؤدکہتا ہے کہ  معتصم نے مجھ سے کہا: میری کلائی پر اپنی پوری طاقت سے کاٹو۔ میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین خدا کی قسم! میرا دل یہ کرنے کو نہیں چاہتا ۔ معتصم نے کہا: مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور میں تمہیں برضا ورغبت کہہ رہا ہوں ۔ ابن ابو داؤد کہتا ہے : میں نے  کاٹا تو اُسے دانتوں کے کاٹنے کا کچھ اثر نہ ہوا اور کیسے اثر ہوتا جبکہ اسے نیزے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔


 

      منقول ہے کہ ایک خارجی نے معتصم پر نیزے سے وار کیا تو معتصم نے اس کا نیزہ لے کر ہاتھوں سے دو ٹکڑے کردیا۔

      معتصم اپنے ہاتھوں سے دینار پر نقش تحریر کو مٹادیتا تھا اور لوہے کو اپنے ہاتھوں سے موڑ کر طوق کی شکل میں بنادیتا تھا۔

ابراہیم بن اشتر:

      ابراہیم بن اشتر نخعی کا شمار بھی مشہور بہادروں میں ہوتا ہے ۔اس نے چار ہزار کے لشکر کے ساتھ ابنِ زیاد کے 70 ہزار کے لشکرکا مقابلہ کیااور ابنِ زیاد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا اوراس کے لشکر کو شکست دی ۔

عُبَـیْداللہ بن حر:

      عُبَـیْدُاللہ بن حرجعفی بہادر، شاعر اوربے دھڑک حملہ کرنے والا تھا ،اس نے  بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے  اور اس کی بہادری کے قصے مشہور ہیں ۔

جَحدر بن ربیعہ:

      جحدر بن ربیعہ عُکْلی بہت بہادر،بے دھڑک حملہ کرنے والا اور شاعر تھا۔ اس نے اہل یمامہ کو مغلوب کیا اور اُن پر اپنا تسلط جمایا۔ حجاج کو جب اس بارے میں خبر ہوئی تو اس نے اپنے عامل کو خط کے ذریعے جحدر کے غالب ہونے پر ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے حکم دیا کہ جحدر سے علاقہ خالی کراؤخواہ اسے قتل کردو یا اسے قید کر کے میرے پاس لاؤ۔ عامل بنو حنظلہ کے کچھ نوجوانوں کے پاس گیا اور انہیں جحدر کو قتل کرنے یا قید کر کے اس کے پاس لانے پر بہت سارا مال دینے کا کہا۔ وہ نوجوان جحدر کی تلاش میں نکلے اورجب وہ ملا تو انہوں نے اُس  سے کہا: ہم تمہارے ساتھ رہنا اور دوستی کرنا چاہتے ہیں ۔ جحدر نے ان کی بات پر اعتماد کرلیا اور ان کے کہنے کے مطابق ان کے ساتھ رہنے لگا۔ ایک دن ان نوجوانوں نے جحدر پر حملہ کیا اور اسے مضبوطی سے باندھ دیا اور عامل کے پاس لے آئے اور عامل ان نوجوانوں کے ساتھ مل کر جحدر کو حجاج کے پاس لے گیا، جب جحدر کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا تو حجاج نے کہا: تم جحدر ہو؟ جحدر نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے ! جی میں جحدر ہوں ۔ حجاج نے کہا:تیرے جو معاملات مجھ تک پہنچے ہیں تو نے ان پر کیوں جرأت کی؟ جحدر نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے! تنگ دستی، سلطان کی بے مروتی اور دل کی بہادری کی وجہ سے۔ حجاج نے کہا: تمہارے ساتھ کیا کریں ؟ جحدر نے کہا: اگر امیر میری آزمائش کرنا چاہتے ہیں اور مجھے اپنا شہسوار بنالیتے ہیں تو وہ مجھ سے وہ دیکھیں گے جو ان کو خوش کردے گا۔ حجاج اس کی عقل اور گفتگو سے بڑا متعجب ہوا پھر کہا: اے جحدر! میں تجھے ایک ایسے گڑھے میں ڈالوں گا جہاں


 

تیرا مقابلہ ایک بڑے شیر سے ہوگا،  اگر شیر نے تجھے قتل کردیا تو تجھ سے ہماری جان چھوٹ جائے گی اور اگر تو نے شیر کو قتل کردیا تو ہم تجھ سے درگزر کریں گے۔جحدر نے کہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے! اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا۔ حجاج نے جحدر کو لوہے سے باندہنے کا حکم دیا، پھر حجاج نے اپنے عامل کو خط لکھا کہ ایک شیر پکڑ کر میرے پاس بھیجو۔ عامل نے ایک ایسے شیر کو پکڑنے کا حیلہ کیا جو بہت زیادہ حملہ کرنے والا تھا اور اس نے کافی سارے جانوروں کو مارا تھا، انہوں نے حیلے سے اس شیر کو پکڑا اور ایک تابوت میں بند کرکے جلدی سے اُسے حجاج کے پاس پہنچا دیااور حجاج نے اس شیر کو ایک گڑھے میں ڈلوا دیا اور تین دن تک اسے کھانے کے لئے کچھ نہ دیا حتّٰی کہ بھوک کی وجہ سے شیر کی زبان کتے کی طرح لٹک گئی۔ پھر حجاج نے حکم دیا کہ جحدر کو اس گڑھے میں اُتارو۔ جحدر کو تلوار دی گئی اور اس کے پاؤں میں بیڑی ڈال کر گڑھے میں اتار دیا گیا ۔حجاج اور گڑھے کے گرد کھڑے لوگ یہ دیکھنے لگے کہ شیر جحدر کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ جب شیر کی نظر جحدر پر پڑی تو وہ تیزی سے اچھل کر آگے بڑھا اور چنگھاڑنے لگا اور اس کی چنگھاڑ سے پہاڑ گوج اٹھےاور لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ جحدر نے رجزیہ شعر کہتے ہوئے شیر پر حملہ کیا اورتلوار کی ضرب سے اس کا سر کاٹ دیا۔ لوگوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور حجاج یہ دیکھ کر بڑا متعجب ہوا اوراس کی تعریف کی پھر جحدر کو گڑھے سے باہر نکالنےاور بیڑیاں کھولنے کا حکم دیا اور جحدر سے کہا: تمہیں اختیار ہے چاہو تو ہمارے ساتھ رہو تو ہم تمہاری عزت کریں گے اور تمہیں اپنے قرب سے نوازیں گے اور چاہو تو ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ تم اپنے شہر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہو اس طرح کہ ہم ضمانت دیتے ہیں تمہیں کوئی کچھ کہے گا نہ کوئی تمہیں تکلیف دے گا۔ جحدر نے کہا: اے امیر! میں آپ کی صحبت کو اختیار کرتا ہوں ۔حجاج نے اسے اپنے رازدار اور خاص لوگوں میں شمار کرلیااور پھر اسے یمامہ کا حاکم بنا دیا۔

مُہَلَّب بن ابو صُفْرَہ:

      مُہَلَّب بن ابو صُفْرہ کا شمار بڑے بہادر لوگوں میں ہوتا ہے اور اس کی تمام کی تمام  اولاد بڑی بہادر تھی لیکن مغیرہ ان میں سب سے زیادہ بہادر تھا۔ مہلب خود کہا کرتا تھا: میرے ساتھ جس جنگ میں بھی مغیرہ شریک ہو ا میں نے اس کے چہرے پر خوشی ہی دیکھی ہے۔

تین بڑے بہادر:

      مہلب یہ کہا کرتا تھا کہ لوگوں میں سب سے بہادر تین شخص ہیں :  (۱) ابنِ کُلَیْبَہ یعنی حضرت سیِّدُنامُصْعَب بن


 

 زُبَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(۲) اَحمرِ قریش یعنی عمر بن عُبَـیْدُاللہ بن معمر جو بھی شہسوار اس کے مقابل آیا اس نے اُسے مار ڈلا(۳) راکبُ الْبغلہ یعنی عباد بن حصین  اس پر جو بھی مصیبت آئی وہ دور ہوگئی اور یہ اسلام کے شہسوار تھے۔

      جنگوں میں مہلب   جنگی چالوں کے حوالے سے بڑ امشہور تھا اوراس کے بڑے بڑے کارنامے ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خوارج کو اس وقت شکست دی جب خوارج مسلمانوں پر غالب ہوچکے تھے۔ یہ بڑا عزت دار حکمران تھا اور بستر پر اس کا انتقال ہوااور اس کے بیٹے کا بھی یوں ہی انتقال ہوا۔

      خوارج([4]) میں بھی مشہور شہسوار گزرے ہیں جن کے مقابلے میں لوگ ثابت قدم نہ رہ سکے اور ان کا ذکر بھی بڑا طویل ہے ہم ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں ۔

ابو بلال مِرداس:

      یہ 40 لوگوں کے ساتھ نکلا اور اس نےدو ہزارکے لشکر کو شکست دی۔

شبیب خارجی:

      شبیب خارجی یہ وہ ہے جو دریائے فرات میں غرق ہوا تھا، اس کی بیوی غزالہ نے نذر مانی تھی کہ وہ کوفہ کی جامع مسجد میں دورکعت نماز پڑھے گی جس کی پہلی رکعت میں سورۃ البقرہ اور دوسری میں اٰل عمران پڑھے گی۔ اس نےاپنی بیوی کے ساتھ  دریائے فرات کا پل پار کیا اوراسے  جامع مسجد میں داخل کردیا اور خود مسجد کے دروازے پر اس کی حفاظت کے لئے کھڑا ہوگیا حتّٰی کہ اس نے اپنی منت پوری کرلی۔ حجاج اس وقت کوفہ میں پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ موجود تھا۔

قَطَری بن فُجاءہ:

      قَطَری بن فُجَاءہ یہ اپنے زمانے میں خارجیوں کا سردار تھاجسے خارجی امیر المؤمنین کہتے تھے اور اس کی بڑی تعظیم و توقیر کرتے تھے۔ قطری کی شجاعت کے حوالے سے جو اشعار ہیں وہ اس کے بہادر ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور خارجیوں کی کسی لڑائی میں یہ قتل ہوا۔


 

تیسرا طبقہ(زمانَۂ صحابہ کےبعدکےبہادروں کاتذکرہ)

مَعن بن زائدہ:

      معن بن زائدہ شیبانی کو مہدی کے دور حکومت میں سجستان کے خوارج نے قتل کیا۔

      ولید بن طریف شیبانی کو یزید بن مزید نے قتل کیا۔

عَمْرو بن حُنَیْف:

      عمرو بن حنیف مشہور شہسواروں میں سے ایک ہے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ یہ شکار کے لئے نکلا اور ایک نیل گائے کے پیچھے اپنا گھوڑا دوڑایا اور اس کے برابر آکر نیل گائے پر کود گیا اور ہاتھ میں پکڑی تلوار یا چھری سے اس  کی گردن کاٹ کر اسے مار ڈالا۔

ابو دُلَف قاسم بن عیسٰی:

      ابودُلَف قاسم بن عیسٰی عجلی شہسوار،بہادر،شاعراور مختلف فنون کا جامع تھا۔یہ سواری پرموجوددو شہسواروں میں نیزہ  گھونپ کر اسے ان کی پیٹھوں سے آرپار کردیتا اوراپنے نیزے پر یہ چار لوگوں کو اٹھا لیتا تھا۔

بکر بن نطاح:

      بکر بن نطاح بھی بہادر شہسوار تھا اور بے دھڑک حملہ کرنے والا تھا۔ اس کے اشعار مشہور ہیں اور اس کے قصے کتابوں میں مذکور ہیں ۔

تلوار کی تعریف کا بیان

      حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” اَلْخَيْرُ فِي السَّيْفِ وَالْخَيْرُ مَعَ السَّيْفِ وَالْخَيْرُ بِالسَّيْفِیعنی تلوار میں بھلائی ہے، تلوار کے ساتھ بھلائی ہے اور تلوار کے سبب بھلائی ہے۔“([5])

عرب کی مشہور تلوار:

      حضرت سیِّدُناعَمْروبن مَعْدِیْکَرِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تلوارعرب کی تلواروں میں مشہور تھی ۔نہشل شاعر اس کے


 

 بارے میں کہتا ہے:

اَخٌ مَاجِدٌ مَا خَانَنِي يَوْمَ مَشْهَدٍ                                                                          كَمَا سَيْفُ عَمْرٍو لَمْ تَخْنُهٗ مَضَارِبُہ

       ترجمہ: میرے کریم بھائی نےجنگ کے دن مجھ سے خیانت نہیں کی جیساکہ عَمْروکی تلوارنے لڑائی میں اس سے خیانت نہیں کی۔

       حضرت سیِّدُنا عَمْروبن مَعْدِیْکَرِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی یہ تلوارحضورنبی اکرم،نُورِمُجَسّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقرر کردہ حاکمِ یمن حضرت سیِّدُنا خالد بن سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ہبہ کی پھر یہ تلوار اُن کے خاندان میں رہی حتّٰی کہ خالد بن عبداللہ قسری نے خطیر رقم دے کر ہشام بن عبد الملک کے  کہنے پر وہ تلوار اُس کے لئے خرید لی۔پھر یہ تلوار بنو مروان کے پاس رہی پھر اسےعباسی خلیفہ سفاح نے اور سفاح کے بعد  خلیفہ ابوجعفر منصور اور مہدی نے طلب کیا مگر انہیں نہیں ملی بعد میں خلیفہ ہادی نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ کامیاب ہوگیا۔

نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عطا کردہ تلوار:

       حضرت سیِّدُناعروہ بن زبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےبھائی حضرت سیِّدُناعبداللہبن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شہادت کے بعدعبدالملک بن مروان کے پاس حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تلوار کا مطالبہ کرنے گئے اور عبدالملک سے کہا: وہ تلوار مجھے لوٹا دو کیونکہ وہ تلوار حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنگ حُنین میں میرے والد کو عطا فرمائی تھی۔ عبدالملک نے کہا: آپ اس تلوار کو پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ۔ عبدالملک نے کہا: کس طرح پہچانو گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جتنا تم اپنے باپ  کی تلوار کی پہچان نہیں رکھتے اس سے زیادہ میں اس کی پہچان رکھتا ہوں ۔

کمزور دل اور بزدل لوگوں کا بیان

       سرورِ انبیا،محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بزدلی سے پناہ مانگتے ہوئے یوں دعا فرمائی:اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلْبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالَ یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں فکراورغم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں کمزوری اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں بزدلی اور کنجوسی سےتیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں قرض کے غلبے اور لوگوں کے دبانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔([6])


 

بزدلی کی نشانیاں :

       ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اس بات سے جس سے حضور نبی رحمت، شفیع اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پناہ مانگی۔ تمہارے لئے بزدلوں کی اتنی ہی نشانیاں کافی ہیں کہ چھوٹے پرندے سے ڈر جائیں ، مچھر کی آواز سے نیند اڑ جائے، دروازے کی آواز سے خوفزدہ ہوجائیں ، مکھی کی بھنبھناہٹ سے بے چین ہوجائیں ، اگر کوئی گھور کر دیکھ لے تو ایک ماہ تک بے ہوش  رہیں اور ہوا کی آواز کو نیزوں کی جھنکار گمان کریں ۔

ابوحیہ نُمَیْرِی:

       ابوحَیّہ نُمَیْری کے پڑوسی نے بیان کیا کہ  ابو حیہ نمیری کے پاس ایک تلوار تھی اس تلوار میں اور لکڑی میں کوئی فرق نہیں تھا اور اس تلوار کا نام اُس نے ”لُعَابُ الْمَنِیَّہ“رکھا تھا۔ ایک رات میں نے اُ سے دیکھا کہ وہ تلوار نکالے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑاہےاور اُس  نے اپنے گھر میں کسی کی موجودگی محسوس کی تو کہنے لگا: اے ہم کو دھوکا دینے والے، ہم پر جرأت کرنے والے! تو نے بُرا کیا خدا کی قسم! تجھے اپنی جان پیاری نہیں ہے، بھلائی کم ہے اور تلوار چمکدار ہے جس کا نام”لُعَابُ الْمَنِیَّہ“ہے اور تو اس کے بارے میں جانتا ہے، باہر نکل آ تو میں تجھے معاف کردوں گا اس سے پہلے کہ میں اندر آکر تجھے سزا دوں ۔  پھر اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا، اندر سے کُتّا نکلا تو کہنے لگے: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ہے کہ اس نے تجھے کُتّا بنا دیا اور ہم لڑنے سے بچ گئے۔

مُعْتَصِم اور ایک بزدل:

       مُعْتَصِم بِاللہایک دن شکار کے لئے نکلا تو اسے شیر دکھائی دیا ،اُس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے جو اُن میں سب سے زیادہ طاقتور اور اسلحہ سے لیس تھا ،کہا: کیا تم اس کے لئے تیار ہو؟ اس شخص نے جواب دیا: نہیں ۔ معتصم ہنسنے لگا اور کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بزدل کا بُرا کرے ۔

       سکندر نے اپنے ہم نام ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جنگ میں شکست کھارہا ہے تو اس سے کہا: اے شخص! یاتو جنگ سے دور ہوجا یا اپنا نام بدل دے۔

       کسی لشکر میں لڑائی کا شور و غل بڑھا تو ایک خراسانی شخص اپنی سواری کی طرف بڑھا تاکہ اس کو لگام ڈال سکے


 

، دہشت کے مارے اس نے لگام گھوڑے کی دم میں ڈال دی اور گھوڑے سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: تیری پیشانی تو چوڑی ہوتی ہے تو یہ لمبی کیسے ہوگئی؟

اسلم بن زُرْعہ:

      اسلم بن زرعہ کِلابی دو ہزار کے لشکر کے ساتھ ابو بلال مِرداس خارجی سے جنگ کرنے نکلاجس کےساتھ 40افراد  تھے۔ اسلم کو اس جنگ میں شکست ہوئی تو حاکم بصرہ ابنِ زیاد نے اسے اس بات پر ملامت اور اس کی مذمت کی۔اسلم نے کہا:ابنِ زیاد کا میری زندگی میں مذمت کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ وہ میرے مرنے کے بعد میری مدح کرے۔ اس عبرت ناک شکست کے بعد اسلم جب بازار کی طرف نکلتا اور بچوں کے پاس سے گزرتا تو بچے اسے چڑاتے ہوئے چیخ کر کہتے:”اسلم!ابوبلال تمہارے پیچھےہے۔“ یہ بات اُس پر گراں گزری تو اُس نےبچوں کی شکایت ابن زیاد کوکردی ۔ابن زیاد نےپولیس افسر کو کہا کہ وہ اسلم کو بچوں سے بچائے۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب نمبر 42:                                                  مدح وثنا ، نعمت پر شکر اوراحسان کا بدلہ دینا

(اس باب میں تین فصلیں ہیں )

پہلی فصل:                                                                                                                                               مدح وثنا کا بیان

مدح:

      ممدوح کی وہ تعریف جو ایسے اخلاق پر کی جائے جس پر تعریف کی جاتی ہواور  اسے اچھی تعریف بھی کہتے ہیں اور یہ تعریف مولیٰ کی طرف سے بندے کے حق میں بھی درست ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے نبی حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں فرماتا ہے:

اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) (پ۲۳،ص:۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان:بےشک ہم نےاسےصابرپایاکیااچھابندہ بے شک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔

      اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنے نبی حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں فرماتاہے:


 

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ۲۹،القلم:۴)                                                                                                 ترجمۂ کنزالایمان:اوربےشک تمہاری خوبوبڑی شان کی ہے۔

       اورفرماتا ہے:

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ۱۸،المؤمنون:۱، ۲)

ترجمۂ کنزالایمان:بےشک مرادکوپہنچےایمان والےجواپنی نماز میں گڑگڑاتےہیں ۔

       ان آیتوں سے پتا چلا کہ انسان کے اچھے اخلاق پر تعریف کرنا جائز ہے۔

       جہاں تک سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد ہے:”اِذَا رَاَيْتُمُ الْمَادِحِيْنَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ یعنی جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھوتو ان کے منہ پر خاک  ڈال دو۔“([7])تو اس کی شرح میں حضرت سیِّدُنا عتبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس حدیث میں مدح سے مراد باطل اور جھوٹی تعریف کرنا ہے جبکہ اُس بات پر تعریف کرنا جو بندے میں موجود ہو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوطالب، حضرت سیِّدُنا عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیِّدُنا حسان اور حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نےحُضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف کی لیکن ہم تک ایسی کوئی بات نہیں پہنچی کہ آپ نے ان کے منہ پر مٹی ڈالی ہو،یونہی آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے مہاجرین و انصار صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تعریف فرمائی۔

       منہ پر خاک  ڈالنے کےدومعنیٰ ہیں :(۱) باطل تعریف کرنے والے کا شدید رد کرےیا (۲) تعریف کرنے والے کو کہے: ”تیرے منہ میں خاک۔“

تعریف پر سیّدناصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کاطریقہ:

       امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جب کوئی تعریف کرتا تو فرماتے: اے اللہ! تو مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور میں خود کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ، اے اللہ! میرے لئے بھلائی لکھ دے جیسا یہ لوگ گمان کرتے ہیں اور میری مغفرت فرما ان باتوں سے جو یہ لوگ نہیں جانتے اور میری پکڑ نہ فرماناان باتوں پر جو یہ کہتے ہیں ۔

سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی مدحتِ رسول:

       حضرت سیِّدُنا ساریہ دیلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےبھی حُضورنبی کریم،رءوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح بیان فرمائی، حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہی ہیں جنہیں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دوران خطبہ


 

ان الفاظ سے ندا دی تھی:”یَا سَارِیَۃُ الْجَبَل“انہوں نے حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح ان الفاظ میں بیان کی:

فَمَا حَمَلَتْ مِنْ نَاقَةٍ فَوْقَ ظَهْرِهَا                                                                     اَبَرَّ وَاَوْفٰی ذِمَّةً مِّنْ مُحَمَّدٍ

      ترجمہ:اونٹنی اپنی پیٹھ پر اس قدر بوجھ نہیں اٹھا سکتی جس قدر حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے۔

سیِّدُنا حسان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی ثنا خوانی:

       حضرت سیِّدُنا حسان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑے پیارے انداز میں ان الفاظ کے ساتھ تاجدارِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح  بیان کی:

وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ                                                                               وَاَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِّنْ كُلِّ عَيْبٍ                                                                                           كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

      ترجمہ: آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ خوبصورت میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور آپ سےزیادہ حسن وجمال کا پیکر کسی ماں نے جنا ہی نہیں ۔آپ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا گویاکہ آپ کو ایسا پیدا کیا گیا جیسا آپ چاہتے تھے۔

سیِّدُناا بن رواحہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکا انداز مدح:

      حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی کیا خوب حضور نبی رحمت، شفیع اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح سرائی کی  ہے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں :

لَوْ لَمْ تَكُنْ فِيْهِ اٰيَاتٌ مُّبَيِّنَةٌ

 

كَانَتْ بَدِيْهَتُهٗ تُنْبِيْكَ بِالْخَبْرِ

      ترجمہ: اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس واضح دلائل نہ بھی ہوتے تو آپ کا مبارک چہرہ آپ کی صداقت کی خبر دینے کے لئے کافی تھا۔

مصنف کی روضَۂ رسول پر حاضری:

      (مصنفعَلَیْہِ الرَّحْمَہفرماتے ہیں :)جب میں نے حج کیا اور روضَۂ انور کی زیارت سے مستفیض ہواتو بارگاہِ رسالت میں ایک بچے کی طرح حاضر ہوا اور حجرۂ شریف وقبر انور کے سامنے روتے ہوئے ننگے سررسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مدح میں طویل اشعار کہے۔


 

حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَنَا سَيِّدُ وَلَدِ اٰدَمَ وَلَا فَخَرَ یعنی میں اولاد آدم کا سردار ہوں اوریہ بات میں  فخریہ نہیں کہتا۔“([8])

اوصافِ محمدیہ  کا شمار ممکن نہیں :

       خدا کی قسم! اگر تمام سمندر سیاہی ہوجائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام مخلوق لکھنے والی بن جائے  تب بھی حضور نبی کریم،رءوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صفات کا کچھ حصہ بھی جمع نہیں کرسکتے اورآپ کے معجزات کی قلیل مقدار بیان کرنے سے بھی عاجز رہیں ۔

       کسی نے ہشام بن عبد الملک کی تعریف کی توہِشام نے اُس سےکہا:اے فلاں !کیا آدمی کے منہ پر اس کی تعریف کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔اُس شخص نے کہا :میں نے آپ کی مدح نہیں کی ہے بلکہ آپ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نعمتیں یاد دلائی ہیں تاکہ آپ ان پر نئے سرے سے شکر ادا کریں ۔ہشام نے یہ سن کر کہا :ایسی مدح بہت خوب ہے اور اُسے انعام واکرام سے نوازا۔

دوسری فصل:                                                                                                                                                   نعمت پر شکر کرنا

       تمام مخلوق پر شکر الٰہی بجا لانا واجب ہے ۔

دل کا شکر:

       دل کا شکر یہ ہے کہ بندہ جان لے کہ نعمت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ہے اور زمین و آسمان میں رہنے والوں پر جو بھی نعمت ہے اس کی ابتدا اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف سے ہےحتّٰی کہ اپنے اور غیر کی طرف سے بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکا شکر ادا کرے ۔

       شکر کا محل دل ہے اور وہ معرفت ہے،اس پر دلیل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان ہے:

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ (پ۱۴،النحل:۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے۔

       اور لوگوں کو یقین ہے کہ نعمت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ہے۔

       کہا گیا ہے: شکر یہ ہے کہ خود کو شکر ادا کرنے سے عاجز سمجھے۔


 

شکر کیسے ادا ہو؟

       منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ! میں کیسے تیرا شکر ادا کروں جبکہ میرا شکر ادا کرنا بھی تیری طرف سے نعمت ہے؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی: اب تو نے میرا شکر ادا کیا ہے۔

       اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ شکر ِنعمت پر شکر ادا کرنا شکر کو مکمل کرتا ہے۔

       حضرت سیِّدُنامحمود وراق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقشکر کے متعلق یہ فرماتے ہیں :

اِذَا كَانَ شُكْرِيْ نِعْمَةَ اللهِ نِعْمَةً                                                                           عَلَيَّ لَهٗ فِيْ مِثْلِهَا يَجِبُ الشُّكْر

فَكَيْفَ بُلُوْغُ الشُّكْرِ اِلَّا بِفَضْلِهٖ                                                                              وَاِنْ طَاَلتِ الْاَيَّامُ وَاتَّصَلَ الْعُمْر

اِذَا مَسَّ بِالسَّرَاءِ عَمَّ سُرُوْرُهَا                                                                              وَاِنْ مَّسَّ بِالضَّرَاءِ اَعْقَبَهَا الْاَجْر

فَمَا مِنْهُمَا اِلَّا لَهٗ فِيْهِ نِعْمَةٌ                                                                                          تَضِيْقُ بِهَا الْاَوْهَامُ وَالْبَرُّ والْبَحْر

       ترجمہ:(۱)جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت کا شکر ادا کرنا بھی ایک نعمت ہے تو اب اس نعمت پر بھی مجھ پر شکر ادا کرنا واجب ہے۔ (۲)اور اس کے فضل کے بغیرشکر تک نہیں پہنچا جاسکتا اگرچہ کتناہی عرصہ اورعمرگزر جائے۔(۳)خوشحالی میں شکر کرنے سے شادمانی بڑھتی ہےاور مصیبت میں شکر اجر و ثواب کا باعث ہے۔(۴)لہٰذاخوشحالی اور مصیبت، دونوں ہی میں شکر نعمت ہے جس کے ادراک سے خیالات، خشکی اور سمندر کی وسعتیں قاصر ہیں ۔

شکر کی ایک صورت:

       حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی مناجات میں عرض کی: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! تو نے آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، فلاں فلاں کام تو نے ہی کیاتو تیرے شکر کی کیا صورت ہے؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فرمایا: جان لو! ہر شے کا خالق میں ہی ہوں اور  اس بات کا یقین ہی شکر ہے۔

زبان کا شکر:

        اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) (پ۳۰،الضحٰی:۱۱)                                                                                          ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔


 

      حضرت سیِّدُنانعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو تھوڑے پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرتا، جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور نعمت کا چرچا کرنا بھی شکر ہے۔ ([9])

       حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا: نعمتوں کو یاد کرو کہ نعمت کو یاد کرنا بھی شکر ادا کرنا ہے۔

اعضاء کا شکر:

       اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:

اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ-وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ(۱۳) (پ۲۲،سبا:۱۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اے داود والو شکر کرو اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے۔

       اس آیت میں عمل کو شکر فرمایا  گیا ہے۔

کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟

       منقول ہے کہ حضور نبی رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس قدرطویل قیام فرماتےکہ آپ کے قدم مبارک پرورم آجاتاتھا۔عرض کی گئی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ایساکیوں کرتےہیں حالانکہ آپ کےسبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دیئے۔ارشاد فرمایا: کیا میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔([10])

آنکھوں اور کانوں کا شکر:

       حضرت سیِّدُناابو ہارونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :حضرت سیِّدُنا ابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آنکھوں کا شکر کیا ہے؟ارشاد فرمایا: ان کے ذریعے کوئی اچھی بات دیکھو تو اسے عام کرو اور اگر کوئی بُری بات دیکھو تو اسے چھپالو۔ میں نے پوچھا: کانوں کا شکر کیا ہے؟ فرمایا: جب ان کے ذریعے اچھی بات سنو تو اسے یاد کرلو اور اگر بُری بات سنو تو اسے بھلا دو۔


 

       اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے شکر کرنے پر نعمت کے زیادہ ہونے کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرماتا ہے:

لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ۱۳،ابراھیم:۷)                                                                                         ترجمۂ کنز الایمان: اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔

نا شکرے کی پہچان:

       اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان اس کے بندوں کے لئے علامت ہےتا کہ شکر کرنے والے کو پہچان لیا جائے، کسی کا رزق نہ بڑھتا ہوتو ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ شکر نہیں کرتا اور جب ہم کسی مالدار کو دیکھیں کہ وہ زبان سے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا بہت شکر ادا کرتا ہے لیکن اس کا مال نقصان میں ہےتو ہم جان جائیں گے کہ وہ شکر ادا کرنے سے خالی ہے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا، اگر دیتا ہے تو مستحق کو نہیں دیتا یا اپنے اوپر لازم حقوق پورے نہیں کرتا جیسے برہنہ کو کپڑے پہنانا، بھوکے کو کھانا کھلانا اور اسی طرح کے دوسرے کام تو ایسا شخص اس فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تحت داخل ہے:” لَوْ صَدَقَ السَّائِلُ مَااَفْلَحَ مَنْ رَّدَّهٗ یعنی اگر مانگنے والا سچا ہو تو اسے(خالی ہاتھ) لوٹانے والا فلاح نہیں پاسکتا۔“([11])

               اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ- (پ۱۳،الرعد:۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان:بےشکاللہکسی قوم سےاپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں ۔

       جب بندے اطاعت کے کاموں میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان پر کئے احسان کو بدل دیتا ہے۔

چارنعمتوں والا  چار سے محروم نہ ہوگا:

       بعض حکما فرماتے ہیں :”جسے چار چیزیں عطا کی گئیں اس سے چار چیزیں نہ روکی جائیں گی:(۱) جسے شکر کی نعمت عطا کی گئی اس سے مزید نعمت نہ روکی جائے گی۔(۲) جسے توبہ کی توفیق دی گئی اس سے قبولیت نہ روکی جائے گی۔ (۳) جسےاستخارہ کی توفیق دی گئی اس سے بھلائی نہ روکی جائے گی اور(۴)جسے مشورہ کی توفیق  دی گئی اسے سیدھی راہ سے نہ روکا جائے گا۔“

       حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :”جو تجھے نعمت عطا کرے تو اس کا شکر ادا کر اور جو تیرا شکریہ ادا کرے تو اُسے نعمت سے نواز کیونکہ ناشکری سے نعمت باقی نہیں رہتی اور شکر سے نعمت کبھی زائل نہیں ہوتی۔“


 

شکر ِنعمت کےسبب پہلے سے بڑی نعمت کا ملنا:

      حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اے ابنِ آدم! تو نعمت کے شکر سے کیسے دور ہوسکتا ہے حالانکہ تو شکرِنعمت میں گروی ہے، تُو جب شکر ادا کرتا ہے تجھے اس شکر کے سبب پہلے سے بڑی نعمت مل جاتی ہےلہٰذا تُو شکرانِ نعمت سے دور نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے سبب تجھے پہلے سے بڑی نعمت مل جاتی ہے۔

شکرانے میں غلام آزاد کردیا:

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کسی قوم کی طرف بلایا گیاجنہیں شک کی بنا پر پکڑا گیا تھا لیکن آپ کے آنے سے پہلے وہ اِدھر اُدھر ہوگئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ  عَزَّ     وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک غلام آزاد کیاکہ آپ کے ہاتھوں کسی مسلمان کی رسوائی نہیں ہوئی۔

چیونٹی کی گفتگو:

      منقول ہے کہ ایک چیونٹی نے حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کی: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےنبی!میں آپ سے زیادہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرنے پر قادر ہوں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام گھوڑے پر سوار تھے،یہ سن کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئےپھر چیونٹی سے کہا:اگر مجھے تجھ پر بزرگی حاصل نہ ہوتی  تو میں تجھ سے یہ کہتا کہ جو کچھ مجھے دیا گیا ہے وہ سب تُو مجھ سے لے لے۔

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:نعمتوں کے زوال سے بچو کہ جو زائل ہوجائے وہ پھر سے نہیں ملتی۔مزیدفرماتےہیں :جب تمہیں یہاں وہاں سے نعمتیں ملنے لگیں تو نا شکرے بن کر ان کے تسلسل کو خود سے دور نہ کرو۔

      کہا گیا ہے کہ جب تمہارا ہاتھ بدلہ دینے میں کمی کرے تو شکر سے اپنی زبان کو تر رکھو۔

شکر کے تین درجات:

      ایک دانا  کا قول ہے: شکر کے تین درجے ہیں : (۱) دل سے شکر ادا کرنا۔ (۲) زبان سے شکر ادا کرنا اور (۳)اعضاء سے شکر ادا کرنا۔


 

      حضرت سیِّدُناابنِ عائشہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں : منقول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے پھر وہ اس نعمت کے متعلق ظلم وزیادتی سے کام لے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس نعمت کو ضرور اس سے زائل کردیتا ہے۔

      حضرت سیِّدُنامحمد بن حبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے  ہیں : جب شکر کم ہوجائے تو بھلائی ختم ہوجاتی ہے۔

      کہا گیا ہے کہ جب بھلائی کے متعلق ناشکری کی جائے تو بھلائی ختم ہوجاتی  ہے۔

سب سے بڑھ کر بے فائدہ کام:

      حکما سے سوال کیا گیا: سب سے بڑھ کر بے فائدہ کام کون سے ہیں ؟ جواب دیا: بنجر زمین کا سیراب کرنا جس سے  نہ اس کا اثر زائل ہو اور نہ ہی  کوئی فائدہ ہو، سورج کی روشنی میں چراغ جلانااور ناشکرے کے ساتھ احسان کرنا۔

سیِّدُنا عبدالاعلٰیعَلَیْہِ الرَّحْمَہاور خلیفہ متوکل:

      حضرت سیِّدُنا عبدالاعلیٰ بن حماد  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : میں خلیفہ متوکل کے پاس گیا تو اس نے کہا: اے ابو یحییٰ! ہم نے یہ پختہ ارادہ کرلیا تھاکہ تمہیں اچھے عطیہ سے نوازیں گے مگر کچھ پریشانیوں نے ہمیں گھیر لیا۔میں نے کہا:اے امیرالمؤمنین! مجھے حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ”جو غم میں شکر ادا نہیں کرتا وہ نعمت ملنے پر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جو شکر کو اپنی سواری بنا تا ہے اسے اس کی بدولت  مزید ملتا ہے۔

      کہا گیا ہے کہ جو نعمت کےآخر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کرے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے لئے نعمت کو بڑھا دیتا ہے۔

      حضرت سیِّدُنا ابنِ سماک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب نے فرمایا: بندے پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت نامعلوم ہوتی ہے وہ جب چلی جاتی ہے تب پتا چلتا ہے۔

      کہا گیا ہے کہ جو نعمت پر شکر ادا نہیں کرتا گویا وہ اس نعمت کے زائل ہونے کا طلب گار ہے۔

کن تین سے بھلائی نہ کرے؟

      ایک دانا کا قول ہے: تین لوگوں سے بھلائی نہ کرو([12]):(۱) کمینے سے کیونکہ وہ بنجر زمین کی مثل ہے۔ (۲) بے حیا سے


 

 کیونکہ وہ یہی گمان کرتا ہے کہ مجھے سے جو بھی بھلائی کرتا ہے میری فحش گوئی کے خوف سے کرتا ہےاور(۳)بے وقوف سے  کیونکہ تم اس سے جوبھی بھلائی کرو گے وہ اس کی قدر نہیں جانے گا۔

       بھلا شخص بھلائی کا بیج بوتا ہے اور شکرکی فصل  کاٹتا ہے۔

ناشکرے قتل ہوگئے:

       حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور جانِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب کوئی بندہ کسی کے ساتھ بھلائی  کرے اور دوسرا شخص اس کا شکریہ ادا نہ کرےپھر بھلائی کرنے والا دوسرے شخص کے خلاف دعا کر دے تو وہ بددعا قبول ہوجاتی ہے۔“ ([13])

شاکر بندےاللہتعالٰی کو پسندہیں :

       حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب بندۂ مومن کھانا کھا کر سیر ہوجاتا ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کرتا ہے تو  اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے وہ اجر دیتا ہے جو عبادت گزار روزہ دار کو دیتا ہے، بے شک اللہ شکر کی توفیق دینے والا ہے اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔([14])

شکر ادا کرنے سے پہلے شکر لکھ  دیا جانا:

       حضرت سیِّدُنا محمدبن علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبیان کرتے ہیں :”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے اور وہ یقین رکھے کہ یہ نعمت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے شکر ادا کرنے سے پہلے ہی اس کے لئے شکر لکھ دیتا ہےاور جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِس بارے میں باخبر ہے کہ چاہے تو توبہ کرنے سے پہلے ہی اُسے معاف کر دے یا سزا دے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کے توبہ کرنے سے پہلے ہی اُسے بخش دیتا ہے۔

       ایک شخص نے کسی سے کیا خوب کہاہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تجھے کسی ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کرے کہ تو صبر سے عاجز آجائے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تجھے ایسی نعمت عطا کرے کہ تو شکر ادا کرنے سے عاجز آجائے۔


 

تیسری فصل:                                                                                                                               احسان کا بدلہ دینا

      حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو اگر بدلہ نہیں دے سکتے تو اس کے لئے دعا کرو۔ ([15])

      نجاشی بادشاہ کا وفد جب حضور نبی رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ نے خود ان کی خیرخواہی فرمائی۔عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ رہنے دیجئے ہم اس کام کے لئے کافی ہیں ۔ ارشاد فرمایا: نہیں ، انہوں نے میرے صحابہ کا اکرام کیا تھا۔ ([16])

بھلائی کے بدلے ایک لاکھ درہم:

      گورنر کوفہ حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کسی نے عرض کی:میری طرف سے آپ پر ایک بھلائی ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ اس شخص نے عرض کی: آپ جب اپنے گھوڑے سے نیچے گرے تھے تو آپ کے غلاموں سے پہلےمیں آپ کے پاس آیا تھا، آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر گھوڑے پر سوار کیا اور آپ کو پانی پلایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اب تو کیا چاہتا ہے؟ اس شخص نے عرض کی: مجھے آپ سے ملنے سے روکا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہیں ہم سےروکا گیا ہے اس لئے ہم تمہیں ایک لاکھ درہم دیتے ہیں ۔

بھلائی کے بدلے10دینار:

      حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک مرتبہ لوہاروں کے بازار سے سواری پر گزرے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاچابک گر گیا۔ ایک شخص نے کوڑا اٹھا کر صاف کر کے آپ کو پکڑا دیا۔ آپ نے اپنے غلام سے پوچھا: تمہارے پاس کتنا مال ہے؟ غلام نے عرض کی:10دینار ہیں ۔ فرمایا: یہ دینار اس شخص کو دے دو اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس شخص سے دینار کم ہونے کی بنا پر معذرت بھی کی۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭


 

فہرست حکایات

مضامین

صفحہ نمبر

مضامین

صفحہ نمبر

بخل کاانجام

30

ایک متوکل شخص کی حکایت

127

بیٹےکی بھڑیےسےحفاظت

30

بادشاہ اوروزیر

208

صدقےکی برکت سےجان بچ گئی

30

حاکم مصراورمردِصالح

226

روٹی صدقہ کرنےکی برکت

34

گائےکادودھ کم ہوگیا

230

صدقہ بخشش کاذریعہ بن گیا

34

حمص کےعامل عمیربن سعد

251

بدلتاہےرنگ آسمان کیسےکیسے

36

بادشاہ بہرام اورچرواہا

270

صدقہ کےدرہم سےجان بچ گئی

36

خلیفہ مامون اورغلام

272

تاریخی حج کرنےوالی خاتون

43

یزیدبن مہلب اورولیدبن عبدالملک

315

مسلمان آپس کی دشمنی بھول جاتےہیں

55

ایثارکی عجیب حکایت

376

دواحمق

57

غصہ بھگانےکی انوکھی ترکیب

451

فرزدق شاعراورحفظِ قرآن

60

ایفائےعہدکےلئےجان کی پروانہ کی

459

حجاج اورغضبان بن قبعثری

100

ایک بہادرمجاہد

486

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

شکم سیری کی چھ آفتیں

حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں :پیٹ بھرکرکھانےمیں چھ آفتیں ہیں : (۱)…مناجاتِ خداوندی سےمحرومی۔(۲)…علم وحکمت کی حفاظت میں مشکلات۔(۳)…مخلوق پرشفقت سےدوری۔کیونکہ شکم سیرسمجھتاہےسبھی کاپیٹ بھراہواہےیوں مسکینوں اوربھوکوں کی ہمدردی کم ہوجاتی ہے۔(۴)…عبادت بوجھ محسوس ہونےلگتی ہے۔(۵)…خواہشات کاہجوم ہوتاہےاور(۶)…نمازی مساجدکی طرف جارہےہوتےہیں اورزیادہ کھانے والےبیْتُ الخلاکےچکرلگارہےہوتےہیں ۔(احیاء علوم الدین،۳/ ۹۲)


 

تفصیلی فہرست

مضامین

صفحہ نمبر

مضامین

صفحہ نمبر

اجمالی فہرست

05

ایک رکعت میں ختم قرآن

22

کتاب پڑھنے کی نیتیں

08

نمازکانرالاادب

23

اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کا تعارُف(ازامیراہلسنتمُدَّظِلُّہُ الْعَالِی)

09

خوبصورت منظر

23

مُصنِّف کامختصرتعارُف

10

خاتونِ جنت کی نماز

23

کچھ کتاب کے بارےمیں

11

جنت میں آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی رفاقت

24

مقدمہ

14

جماعت فوت ہوجانےپرتعزیت

24

باب نمبر1:اسلام کی بنیادی باتوں کابیان

15

ساری رات کی عبادت سےافضل

24

پہلی فصل:توحیدِباری تعالیٰ اورحمدوثناکابیان

15

دعا

24

اکیلامعبود

16

مسواک اوراذان کابیان

25

اشعارِعرب میں سےبہترین مصرعہ

17

مسواک کی فضیلت

25

ایمانیات

17

مسواک کےآداب

25

دوسری فصل:نمازاوراس کی فضیلت

18

مسواک کی بدولت ایمان پرخاتمہ

26

نمازکوصلوٰۃ کہنےکی وجہ

18

اذان کی فضیلت

26

باعتبارِنسبت لفظِ صلوٰۃ کامعنیٰ

19

تیسری فصل:زکوٰۃ اوراس کی فضیلت کابیان

27

ایمان کی نشانی

19

بارش نہ برسنےکاسبب

28

نمازکاوقت آتےہی کیفیت بدل جاتی

20

صدقہ وخیرات کی فضیلت

29

تہجدگزاروں کےچہرےخوبصورت کیوں

ہوتےہیں ؟

 

20

دوآیاتِ مبارکہ

29

دواحادیثِ مقدسہ

29

رضائےمصطفٰےکی خواہش

20

حکایت:بخل کاانجام

30

تکبیرکی ہیبت

20

حکایت:بیٹےکی بھڑیےسےحفاظت

30

اصل سرمایہ

21

حکایت:صدقےکی برکت سےجان بچ گئی

30

گناہوں کاکفارہ

21

صدقہ دینےکاانداز

31

عبادت کےلئےرات کی تقسیم

22

صدقےکی فضیلت پرچارفرامین مصطفٰے

31

نمازہوتوایسی

22

سائل کوخالی ہاتھ نہ لوٹاؤ

32


 

نماز،روزہ اورصدقہ

32

حجراسودگواہی دےگا

42

بُری موت سےحفاظت

33

فرشتوں کاحج

42

قیامت کی بھوک پیاس سےنجات

33

حاجیوں سےدعاکروانا

42

سائل کوکچھ نہ کچھ ضروردیتے

34

خانہ کعبہ کےساتھ دخولِ جنت

42

حکایت:روٹی صدقہ کرنےکی برکت

34

حکایت:تاریخی حج کرنےوالی خاتون

43

حکایت:صدقہ بخشش کاذریعہ بن گیا

34

ربّ کی عطائیں

43

حکایت:بدلتاہےرنگ آسمان کیسےکیسے

36

حج مبرورکی جزا

43

حکایت:صدقہ کےدرہم سےجان بچ گئی

36

حج مبرورکسےکہتےہیں ؟

44

چوتھی فصل:روزے کی فضیلت اورروزہ دارکے

اجروثواب کابیان

 

37

100اونٹوں کی قربانی

44

مساکین سےمحبت

44

روزےکےدرجات

37

غلاموں کی انوکھی آزادی

45

روزہ دارکےلئےدوخوشیاں

37

20مرتبہ پیدل حاضری

45

رمضان کاایک روزہ چھوڑنےکانقصان

38

باب نمبر2:عقل ودانائی کی فضیلت اورحماقت کی مذمت

46

جنت کےدروازےکھل جاتےہیں

38

عقل کی پیدائش

46

رمضان میں ایک تسبیح کی فضیلت

38

عقل کی اقسام

46

پوراسال رمضان ہونےکی تمنا

38

کم عُمْری میں دانش مندانہ فیصلہ

47

رمضان میں نمازکاثواب

39

دانش مندی کی علامت

48

رمضان میں دعاکی قبولیت

39

عقل مندکی پہچان

49

روزۂ رمضان کی بدولت گناہوں کی معافی

39

توفیق سےمحروم شخص

49

ایامِ بیض کےروزوں کی فضیلت

40

عقل مندوں کےلئے99درجات

49

گزشتہ گناہوں کی معافی

40

عقل کی رعایا

49

پانچویں فصل:حج اوراس کی فضیلت کابیان

41

نفس کی لگام عقل کےہاتھ

50

قیامت تک حج وعمرے کاثواب

41

عقل کی حقیقت

50

بلاعذرحج نہ کرنےپروعید

41

عقل کاآئینہ

51

وقوفِ عرفہ کی فضیلت

41

عقل منداتراتانہیں ہے

51

دنیاکاسب سےافضل دن

41

عاقل اورجاہل کی پہچان

51


 

چارچیزیں چارکی محتاج ہیں

52

رونےجیسی صورت ہی بنالو

62

چارچیزیں چارتک پہنچادیتی ہیں

52

ذُوالنُّورَین رَضِیَ اللہُ عَنْہاورتلاوتِ قرآن

63

عقل سےمتعلق متفرق اقوال

52

خیرسےخالی عبادت اورتلاوت

63

عقل میں اضافےکانسخہ

53

میں کس کی قراءت اختیارکروں

63

عقل منداورجاہل

53

بزرگانِ دین اورتلاوتِ قرآن

64

بزرگی کاپول کھل گیا

54

ایک رکعت میں پوراقرآن

64

قاضی ایاس کی عقل مندی

54

فرشتوں کی دعائےمغفرت کس کےلئے؟

64

حکایت:مسلمان آپس کی دشمنی بھول جاتےہیں

55

تلاوت کےافضل اوقات

65

حماقت ونادانی کی مذمت

56

ختم قرآن کےلئےجمع ہونامستحب ہے

65

ناپسندیدہ ترین مخلوق

56

تلاوت کےآداب

65

صورت کےاعتبارسےاحمق کی پہچان

56

دل کی پانچ دوائیں

66

افعال کےاعتبارسےاحمق کی پہچان

57

آہستہ یابلندآوازسےتلاوت کرنےکاحکم

66

احمق کاعلاج نہ ہوسکا

57

مختلف سورتوں کےفضائل

66

حکایت:دواحمق

57

یٰس شریف کی فضیلت

67

بندوں کوعقل کےمطابق بدلہ دیاجاتاہے

58

روزِجمعہ سورۂ دخان پڑھنےکی فضیلت

67

جنت اوردوزخ کی گائے

58

فقروفاقہ سےحفاظت

67

باب نمبر3:قرآنِ پاک کی فضیلت وحرمت اور

قاری کےلئےتیارکئےگئےاجروثواب کابیان

 

59

نصف،چوتھائی اورتہائی قرآن کےبرابرثواب

67

باب نمبر4:علم،ادب،عالم اورطالب علم کی فضیلت کابیان

68

حکایت:فرزدق شاعراورحفظِ قرآن

60

علم کےفضائل

68

مردہ دل کی زندگی

60

دنیاوآخرت کی بھلائی اوربُرائی

69

قرآن مخلوق نہیں ہے

61

علم ایک نہراورحکمت ایک دریاہے

69

رمضان اورتلاوت کاجذبہ

61

چارطرح کےعلوم

69

رمضانُ المبارک میں 60قرآنِ پاک کاختم

61

اپنےکردارسےتربیت کرو

70

دلوں کازنگ کیسےدورہو

62

علم کےذریعےخودکوطلاق سےبچالیا

70

تمام دنیاوالوں کےعمل کےبرابرثواب

62

علم کےساتھ قلیل عمل بھی مفیدہے

71

ہرحرف کےبدلے100نیکیاں

62

علم کےبغیرعمل نقصان دہ ہے

71


 

سب سےبڑاکریم

72

ادب کی برکات اوراس سےمتعلق اقوال

82

علم کی حفاظت نہ کرنےکی نحوست

72

ادب غلاموں کوتخت نشین بنادیتاہے

82

بدترین عالم اوربہترین امیر

72

غریب کون؟

83

علم کاشرف

73

باب نمبر5:حکمت وادب سےبھرپوراقوال

83

علم کوتجارت بنانےوالے

73

باب نمبر7:فصاحت وبلاغت کابیان

91

مختلف علوم کےحامل

73

سب سےبڑےفصیح وبلیغ

91

میں نہیں جانتا

74

فصاحت وبلاغت کیاہے؟

92

آسمان وزمین کےفرشتوں کی لعنت

74

خوددرست رہتےتوزبان بھی درست رہتی

92

ہرفن مولیٰ

74

امُّ المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ عَنْہَاکی فصاحت

92

حصولِ علم پرصبرکی برکت

75

دعایابدعا؟

93

حافظےکی کمزوری کاعلاج

75

فصاحت کےمتعلق ایک عجیب واقعہ

93

قوتِ حافظہ کےلئےوظائف

75

سرکارصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی حکمَتِ عملی

95

بیٹےکےانتقال پربھی حصولِ علم کاناغہ نہ کیا

76

صدیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکاتوریہ کرنا

96

سیّدناامام بخاریعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی حدیث دانی

76

میں ہدہدسےچھوٹانہیں

96

سیّدنالیث بن سعدعَلَیْہِ الرَّحْمَہکامقام ومرتبہ

77

سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہاورایک بچہ

96

چارنامورعلما

77

ہشام بن عبدالملک اورایک نوعمرلڑکا

97

علم باری تعالیٰ اورعلم مخلوق کی مثال

78

شاہِ روم کےسوالات اورحِبْرُالاُمَّہ کےجوابات

98

40ہزارمخلوقات

78

حکایت:حجاج اورغضبان بن قبعثری

100

زمین وآسمان کونگلنےوالاچوپایا

78

بلحاظِ حروفِ تہجی اعضائےبدن کےنام

103

کبھی نافرمانی نہ کرنےوالی مخلوق

79

ایک ہزاردسترخوان

104

اپنےعلم پراکتفانہیں کرناچاہئے

79

حجاج بن یوسف کی عراق پرتقرری

105

علم سےمتعلق متفرق اقوال

80

گستاخِ عثمان کاقتل

107

چارچیزیں سرداربنادیتی ہیں

80

حجاج کےخونخوارہونےکی وجہ

107

علم نحوکی اہمیت

80

ایک لاکھ20ہزارافرادکاقاتل

108

ادب کابیان

81

حجاج کی شرمندگی

108

ادب کابیٹا

81

فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ  عَنْہکی حق پسندی

110


 

فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ  عَنْہکی مردم شناسی

110

توکل کی برکت

123

قرآنِ پاک کےذریعےگفتگوکرنےوالےعورت

111

غلام کااپنےآقاپربھروسا

124

باب نمبر8:   بہترین اورمدمقابل کوخاموش کرانے

والےجوابات اورزبان کی تیزی وغیرہ کےواقعات

 

115

بچی کاتوکل

124

تقدیرکالکھاہوکررہےگا

127

حجاج کےظلم میں شریک

115

ایک متوکل شخص کی حکایت

127

یہودی کوخاموش کرادیا

115

توکل کےمتعلق ناصحانہ کلمات

131

آیت کاآیت سےجواب

116

ہرحال میں حامی وناصر

132

بنوہاشم اورسیّدنامعاویہرَضِیَ اللہُ عَنْہ

116

دوسری فصل:قناعت اورتقسیم خداوندی پرراضی

رہنےکابیان

 

132

سیّدنامعاویہرَضِیَ اللہُ عَنْہاورایک انصاری کامکالمہ

117

سیّدناامام اعظمعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کامجنون طاق کوجواب

118

ایک سال تک خواہش کوٹالنےوالے

133

ایک عجلی بوڑھااورحجاج

118

تین اشعاراورتوکل کی نعمت

133

صدقہ باقی رہتاہے

118

طبیعتوں اورپیشوں کےاختلاف کی حکمت

134

ایک بچےکامعتصم کوخوبصورت جواب

119

بیٹےکونصیحت

134

سیّدناعباسرَضِیَ اللہُ عَنْہکاادب رسول

119

قناعت والی زندگی کی خواہش

135

باب نمبر9:خطباء اورشعراء کاذکر

119

مصیبت پرخوشی

135

سیّدناعلیرَضِیَ اللہُ عَنْہکاخطبہ

119

آخرت کی آگ کیسےبرداشت ہوگی؟

135

سیّدناابراہیم بن عبْدُاللہ عَلَیْہِ الرَّحْمَہکاخطبہ

120

سیّدناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کازُہد

136

اشعاریادکرو

121

سیّدناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کادرسِ توکل

136

سیّدتُناعائشہرَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی شعردانی

121

قسمت میں لکھی روزی

136

رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمشاعرنہ تھے

121

لالچ نےفائدہ نہ پہنچایا

137

سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہاورشعراء

122

احمق کورزق کیوں دیاجاتاہے؟

138

باب نمبر10:   اللہتعالیٰ پرتوکل،اس کی تقسیم پررضا

مندی اورقناعت کابیان نیزحرص ولالچ کی مذمت

 

123

بےصبری حلال سےمحروم کرتی ہے

139

چکی بنانےوالاآٹابھی دیتاہے

139

پہلی فصل:توکل کابیان

123

لوگوں کےپاس موجودچیزسےمایوس ہوجاؤ

140

توکل کےمتعلق تین فرامین باری تعالیٰ

123

سب سےاچھی حالت

140

جنت میں داخلہ

123

مل جائےتوایثار،نہ ملےتوشکر

140


 

تیسری فصل:حرص ولالچ اورلمبی امیدوں کی مذمت

141

اللہعَزَّ  وَجَلَّکی خیرخواہی

154

امت کےآخری لوگوں کی ہلاکت کاباعث

141

قرآن مجیدکی خیرخواہی

154

بوڑھےکی حرص زیادہ کیوں ؟

142

رسولِ پاکصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خیرخواہی

154

دنیاکی خوشی اورغم

142

حکمرانوں کی خیرخواہی

155

ایک مہینےکاادھارکرنالمبی امیدہے

142

عام مسلمانوں کی خیرخواہی

155

بوڑھادوباتوں میں جوان رہتاہے

143

نصیحت کاکڑواگھونٹ

155

لمبی امیدوں کےبارےمیں اقوال

143

پسندیدہ بندے

155

لالچ کی مذمت

143

مشورہ قبول نہ کرنےکانقصان

156

غلاموں کی تین اقسام

144

باب نمبر12:اچھی اورعمدہ نصیحتوں کابیان

156

علم کوسینوں سےنکالنےوالی چیز

144

پانچ فرامین باری تعالیٰ

156

سب سےافضل عمل

144

کمزورترین ایمان

157

باب نمبر11:مشورہ،نصیحت،تجربہ اورانجام میں نظر

کرنےکابیان

 

145

مختصرنصیحت

158

دنیاسےبےرغبت کرنےوالی باتیں

159

مشورےکابیان

145

عمدہ نصیحت

159

مشاورت کےفوائد

146

شیرخداکی شہزادوں کوآخری نصیحت

160

لوگوں کی تین اقسام

146

اہْلِ خانہ سےآخری کلام

161

کسی کےمشورےکوحقیرنہ جانو

147

بادشاہ کونصیحت

161

مشورہ دینےوالوں کواکٹھانہ کرنےکی حکمتیں

147

حاکم کےسامنےحق گوئی

162

کسی کواس کےمشورےپرملامت نہ کرو

148

ہمیں ڈروالی باتیں سنائیں

163

مشورہ مانگنےوالادشمن دوست بن جاتاہے

148

فضیل بن عیاضعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی خلیفہ کونصیحتیں

165

بیٹی کی شادی کس سےکروں ؟

148

نیکی کی دعوت دینےکےآداب

169

چارچیزوں کےسبب مزیدچارکاحصول

148

باب نمبر13:خاموشی،زبان کی حفاظت،غیبت وچغلی

کی ممانعت،گوشہ نشینی کےفوائداورشہرت کی

مذمت کابیان

 

170

کن لوگوں سےمشورہ نہیں کرناچاہئے؟

149

اچھےمشورےکی بدولت مالامال ہوگیا

149

مشورےکی برکت سےجان بچ گئی

150

پہلی فصل:خاموشی اورزبان کی حفاظت کابیان

170

نصیحت وخیرخواہی کابیان

153

دوفرامین باری تعالیٰ

170


 

افضل مسلمان

171

چغلی کی تعریف

180

نجات کیاہے؟

171

چغل خورکی سخت مذمت

181

اسلام کی خوبی

171

امت کےبدترین افراد

181

عیبوں کوچھپانےوالی خصلت

172

ملعون افراد

181

زبان درندےکی طرح ہے

172

کئی بُری خصلتوں کامجموعہ

182

حکمت کےنوحصےخاموشی میں ہیں

172

محبتوں کےچورچغل خور

182

شیطان کوبھگانےکانسخہ

173

چغل خورقابل اعتمادنہیں ہوتا

183

زبان قابومیں رکھنےکی برکت

173

چغل خوری کےنقصانات

183

چاربادشاہوں کامکالمہ

173

لعنت سےممانعت کےبارےمیں روایات

184

بولنادواکی طرح ہے

174

لعنت کرنےکی جوازی صورتیں

184

دوسری فصل:غیبت کی حرمت کابیان

174

احادیث میں ملعون افراد

185

غیبت کیاہے؟

174

گوشہ نشینی وگمنامی کی فضیلت اورشہرت کی مذمت

185

دین سےمتعلق غیبت کی مثالیں

175

بینائی کی واپسی سےزیادہ پسندیدہ چیز

186

بدن وغیرہ سےمتعلق غیبت کی مثالیں

175

گوشہ نشینی کی وجہ

186

غیبت کی بدبو

175

گھرمیں رہنےوالےکےلئےخوشخبری

187

تانبےکےناخن

176

باب نمبر14:اسلامی حکمرانوں کی اطاعت،رعایاکے

لئےحاکم اورحاکم کےلئےرعایاکی ذمہ داریوں

کابیان

 

187

غیبت زناسےبھی سخت ہے

176

دواچھی خصلتیں

177

سب سےپہلے غیبت کرنےوالا

177

عادل سلاطین کی عزت کرنا

187

آخری جنتی اورپہلاجہنمی

177

سلطان کی اچھائی پرشکراوربُرائی پرصبر

188

غیبت کرنےوالےکےلئےتحفہ

178

رحمَتِ الٰہی سےدوری

188

اشاروں کنایوں میں غیبت کرنا

178

بادشاہوں کوگالیاں نہ دو

188

غیبت سننابھی حرام ہے

178

بادشاہ کےعمل کاکفارہ

188

تیسری فصل:چغلی کی حرمت کابیان

179

بادشاہت اوردین

189

چغل خورجنت میں نہیں جائےگا

180

’’ذُوالاَکتاف‘‘لقب کی وجہ تسمیہ

189

عذاب قبرکاسبب

180

بادشاہوں کامنفردرہنےکوپسندکرنا

189


 

رعایاکےاحوال کی خبرگیری

190

باب نمبر17:حکمرانوں تک پہنچنےمیں رکاوٹ،گورنری

اوراس کےخطرات کابیان

 

200

مسلمان حکمرانوں کی اطاعت کابیان

190

سلطان اسلام کوبُرابھلانہ کہو

191

حکمرانوں تک پہنچنےمیں رکاوٹ کابیان

200

اطاعَتِ رسول اطاعَتِ الٰہی ہے

191

دربان کوفارغ کردیا

200

باب نمبر15:سلطان کی صحبت کےاحکام اوراس کی

صحبت سےبچنےکابیان

 

192

رعایاسےدوری کی تین وجوہات

201

کون سازخم نہیں بھرتا

201

سلطان کی صحبت

192

ایک شاعرکاقول

202

غلام کی طرح ہوجاؤ

192

فرعون کومہلت کیوں ملی؟

203

دوست ہوتوایسا

192

آسمان کےدروازےبندہونا

203

سلطان کوعلم سکھاناگویااس سےعلم سیکھناہے

193

جنت میں سونےکامحل

203

سلطان کی صحبت سےبچنا

193

بُرادربان

204

دھوکےکالباس

193

حکمرانی اوراس میں موجودبڑےخطروں کاذکر

204

بلاوجہ انعام وسزا

194

حکمرانی نہ مانگو

204

یادرکھنےکی چارباتیں

194

حکومتی عہدہ قبول کرنےسےانکار

205

بادشاہوں کی صحبت کی مذمت

194

بروزِقیامت سب سےسخت عذاب

206

دوستی بھی بُری اوردشمنی بھی

195

سلیمان بن عبدالملک کاگریہ

207

تین پراعتمادنہ کرو

195

33مرتبہ قسم

207

رحمت سےدور

195

کبھی والی نہ بننا

208

بادشاہ کی نوکری

196

حکایت:بادشاہ اوروزیر

208

باب نمبر16:وزیروں کی صفات اوراحوال وغیرہ کابیان

196

باب نمبر18:قضا،قاضیوں ،فیصلےپررشوت وتحفہ لینے،

قرض،قصہ گولوگوں اوربناوٹی صوفیاکابیان

 

212

ہرنبی اورخلیفہ کےساتھ دومشیر

197

بُراوزیر

197

پہلی فصل:قضا،قاضیوں کےاحوال اوران پرواجب

اُمُورکابیان

 

212

اچھےبادشاہ اوربُرےوزیرکی مثال

198

وزیرمثل سفیرہے

198

قضاکےمتعلق تین فرامین باری تعالیٰ

212

بادشاہ کےتین خط

199

بوقْتِ فیصلہ صدیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکی بھرپورتوجہ

213

وزیرکامقام

199

علی کیوں نہ کہا؟

213


 

کوڑوں کی ضرب آسان ہے

214

باب نمبر19:عدل،احسان اورانصاف وغیرہ کابیان

223

عادبن ارم کی تلوار

214

عادل حکمران کاایک دن

224

اللہعَزَّ  وَجَلَّکاساتھ

215

تین کی دعاردنہیں ہوتی

224

لوگوں کےلئےپُل

215

جنَّتِ عدن میں جانےوالے

224

پہلاظالم قاضی

215

عدل سےشہرکی تعمیر

225

قاضی یحییٰ بن اکثمعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی انصاف پسندی

215

13کروڑ70لاکھ خراج

225

اس غلام کوبیچ دو

216

زمین کوعدل سےبھردیا

225

امام شعبیعَلَیْہِ الرَّحْمَہاوراشجعی شاعر

216

حکایت:حاکم مصراورمردِصالح

226

دوسری فصل:فیصلےپررشوت وتحفہ لینےاورقرض کابیان

217

ظلم میں شریک حاکم

226

رشوت کی مذمت

217

ہم انصاف کریں گے

227

قرض کابیان

218

ملک بربادہونےکی وجہ

227

میت کی طرف سےقرض اداکرنےکی فضیلت

218

کھجورکی گٹھلی کی مثل انارکادانہ

228

دنیاکاطوق

219

سب کوعدل ملناچاہئے

228

جنت میں داخل نہیں ہوگا

219

عدل کادن دیکھنےکی خواہش

228

مؤمنوں کےوالی

219

حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےراستےپرچلوں گا

229

قرض ادانہ کرنےوالاچورہے

219

ظلم کےسبب بےبرکتی

229

دل کاسکون

220

حکایت:گائےکادودھ کم ہوگیا

230

تیسری فصل:قصہ گولوگوں ،بناوٹی صوفیااورریاکاری

وغیرکابیان

 

220

سچی توبہ سےبرکت لوٹ آئی

230

غصب سےبرکت ختم ہوگئی

231

بنی اسرائیل کی ہلاکت کاسبب

220

مچھلیاں ختم ہوگئیں

231

چیخ وپکارکرنےوالےلوگ

221

جیسےحکمران ویسی رعایا

231

قرآن سن کربےہوش ہونا

221

باب نمبر20:نحوست،بُرےانجام اورمظالم کابیان

233

کپڑوں کاکیاگناہ؟

222

چارفرامین باری تعالیٰ

233

ریاکاری کابیان

222

ظالم کی معاونت پروعید

233

شرکِ اصغر

222

جہنم واجب اورجنت حرام

234

ریاکارعابد

223

مظلوم کی بددعاسےبچو

234


 

ظلم تین طرح کاہے

235

مسلمان کوکیساہوناچاہئے؟

248

مظلوم اعلیٰ علیین میں

235

سیّدنایوسُفعَلَیْہِ السَّلَامکاقصہ

249

ظالم کوظلم کےحوالےکردو

235

مدنی پھول

250

مظلوم کادن

236

رعایاکی بھوک کی فکر

251

ظلم کی شکایت

236

گورنروں کی سیرت کابیان

251

فرشتےلعنت کرتےہیں

236

حکایت:حمص کےعامل عمیربن سعد

251

مؤمنوں کوتکلیف دینےکاانجام

237

دینارصدقہ کردیئے

253

اللہعَزَّ  وَجَلَّکےعدل کویادکرو

237

دوسری فصل:ذمیوں کےاحکام کابیان

253

بےیارومددگارپرظلم کرنا

237

سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاطرزِعمل

253

منادی کی پکاروالادن

238

خلیفہ جعفرمتوکل کاطرزِعمل

254

ظلم کامزہ

238

یہودونصارٰی سےکام نہ لو

254

تین فضل

239

جومرتبہ ہےاسی میں رکھو

254

ظالموں کی مددبھی بری ہے

239

مشرک سےمددنہ لی

255

ایک مظلوم کی دادرسی

240

شوافع کےنزدیک ذمیوں کےاحکام

255

ظالم کی دنیامیں گرفت

241

جزیہ کی مقدار

256

ظلم کےخلاف فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہکاطرزِعمل

242

نصارٰی کےعبادت خانوں کاحکم

257

احمدبن طولون انصاف پسندکیسےبنا؟

243

باب نمبر22:لوگوں کےساتھ بھلائی،مظلوموں کی مدد،

مسلمانوں کی حاجت روائی اوران کےدلوں میں

خوشی داخل کرنےکابیان

 

257

بُرےدن گزرگئے

244

خواب کےذریعےقاتل کاپتاچلا

244

عدل کےفائدے

245

بھلائی اورمددکےمتعلق دوفرامین باری تعالیٰ

257

باب نمبر21:گورنررکھنےکی شرائط،خراج کی وصولی

میں سلطان کاطریقہ اورذمیوں کےاحکام

 

246

جہادکاثواب

258

اللہعَزَّ  وَجَلَّکامحبوب

258

پہلی فصل:خراج وصول کرنےمیں سلطان کاطریقہ

بیْتُ المال سےخرچ کرنےاورگورنروں کے

کردارکابیان

 

246

نورکےمنبر

258

جہنم اورنفاق سےآزادی

258

بلاحساب جنت میں داخلہ

259

اُلّوکی کہانی سےنصیحت

247

نعمتوں سےمحرومی کاایک سبب

259

مصرکی بادشاہت

247

نعمت کازوال

260


 

غمگین کی مددپر73نیکیاں

260

تین خصلتوں کے تین فائدے

269

افضل عمل

260

بڑےبھائی کاادب

269

مسلمان کوخوش کرنےکی فضیلت

261

چورسےحسن اخلاق

270

خوشی کافرشتہ

261

محمدبن عباداورخلیفہ مامون

270

حاجت پوری ہوگئی

262

حکایت:بادشاہ بہرام اورچرواہا

270

نااہل سےحاجت بیان نہ کرو

262

نوشیرواں اورسونےکےگلاس کی چوری

271

دلاللہعَزَّ  وَجَلَّکےدست قدرت میں ہیں

263

حکایت:خلیفہ مامون اورغلام

272

اللہعَزَّ  وَجَلَّسےحیا

263

سیّدناولیدبن عتبہعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاحسن اخلاق

272

اللہعَزَّ  وَجَلَّمصیبت دورکردیتاہے

263

سیّدناقیس بن عاصمرَضِیَ اللہُ عَنْہ کی بردباری

273

نعمتوں کےدوام وبقاکاسبب

264

سیّدناابن عمررَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کاانداز

273

باب نمبر23:اچھےاوربُرےاخلاق کابیان

264

راکھ پھینکی جائےتوناراض نہ ہو

273

حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکاخلق

264

سیّدناعلیرَضِیَ اللہُ عَنْہکااخلاق

273

تمام مخلوق میں سب سےافضل

265

حسن اخلاق کابہترین مظاہرہ

274

نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکاکھانا

265

اچھےاخلاق کابیان

274

اثمدسرمہ لگانا

265

مامون کااخلاق

274

دوڑکامقابلہ

266

سونےوالوں کاخیال

275

کھانےاورپہننےمیں برتری اختیارنہ فرمانا

266

بےانصاف شخص میں کوئی بھلائی نہیں

275

پیارےآقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی فصاحت

266

باب نمبر24:حسن معاشرت،دوستی،بھائی چارہ اور

دوستوں سےملاقات وغیرہ کابیان

 

276

نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی شفقت

266

نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکامرتبہ

267

بھائی چارےکی فضیلت

276

نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےمبارک معمولات

267

کفارکی بےبسی

277

کبھی کسی کونہ مارا

267

دنیاکاخزانہ

277

حسن اخلاق کادرس

268

باقی رہنےوالی لذت

278

اچھےاوربُرےاخلاق کاانجام

268

دوست کیساہو؟

278

بُرےاخلاق والاعابد

268

پسندیدہ دوست

278

اصلاح کابہترین انداز

269

قطع تعلق نہ کرو

279

سب سےوزنی نیکی

269

روحیں ایک جمع شدہ لشکرہیں

279


 

دوستی صرفاللہعَزَّ  وَجَلَّکےلئے

279

صحبت اختیارکرنےکےمتعلق مدنی پھول

288

آداب دوستی

280

چیتےوالامزاج

288

آداب معاشرت کابیان

280

کتوں والامزاج

289

ہم نشیں کےتین حقوق

280

گدھوں والامزاج

289

اچھی اوربُری صحبت کی مثال

281

برےلوگوں میں شمار

289

عرب کاسلام تحیت

281

لومڑی والامزاج

289

ہرشخص کواس کےمرتبےمیں رکھو

281

خنافس والامزاج

289

بہترگفتگو

281

موروں والامزاج

290

بےعزتی کاسبب بننےوالےآٹھ کام

282

اونٹوں والامزاج

290

سفاح اورابوبکرہذلی

282

دوست سےملاقات کرنااوراسےبلانا

290

بادشاہ کےحقوق

283

سایہ عرش کس کوملےگا؟

290

کبھی ایک بات دوبارنہ کہی

283

دوست سےملاقات کی فضیلت

290

مسکراکرہاتھ ملانےکی فضیلت

283

محبت کیسےبڑھے؟

291

بیان کاسنت طریقہ

284

قاصدکیساہو؟

291

زندگی اچھی گزارنےکےآداب

284

باب نمبر25:خلق خداپرشفقت ورحمت،سفارش کی

فضیلت اورلوگوں کی اصلاح کابیان

 

291

بادشاہ کی مجلس کےآداب

284

عام لوگوں کی مجلس کےآداب

285

پہلی فصل:خلق خداپرشفقت ورحمت کابیان

291

مذاق مسخری کےنقصانات

285

’’اَلرَّحْمٰن‘‘اور’’اَلرَّحِیْم‘‘کی وضاحت

292

مجلس کےاختتام کی دعا

285

رحم کرنےوالےپررحمَتِ الٰہی کانزول

292

سفرکےآداب

286

رحم نہ کرنےوالارحم سےمحروم

292

بوڑھوں سےآگےہونےکےتین مواقع

286

مؤمنین کی مثال

293

دوست کون ہے؟

286

یتیم کےسرپرہاتھ پھیرنےکاانعام

293

دوست کےنہ ہونےاورکم ہونےکابیان

286

امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ عَنْہکی بچوں پرشفقت 

293

دھوکےبازکسی پراعتمادنہیں کرتا

286

دوسری فصل:سفارش اورلوگوں کی اصلاح کابیان

294

دوست کیاہے؟

287

منصب کےبارےمیں سوال ہوگا

294

لوگ دنیاکےلئےمحبت رکھتےہیں

287

اچھی سفارش کی فضیلت

294

وزیرابن مقلہ اوربادشاہ

287

سب سےافضل صدقہ

295


 

سیّدنامحمدبن جعفرعَلَیْہِ الرَّحْمَہاورابوجعفرمنصور

295

باہمی فخرپردلچسپ مکالمہ

310

باب نمبر26:حیاعاجزی وانکساری کابیان

298

درجات میں کمی بیشی کابیان

312

پہلی فصل:حیاکابیان

298

تین طرح کےلوگ

312

حیاکےبارےمیں دوفرامین مصطفٰے

298

باب نمبر29:شرف وبزرگی،سرداری اوربلند

ہمتی کابیان

 

312

سیّدناابوموسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہکی حیا

298

دوسری فصل:عاجزی وانکساری کابیان

299

سردارکون؟

312

پیارےآقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی عاجزی

299

کبھی کسی کوبُرابھلانہ کہا

313

تین اہم چیزیں

300

سیّدناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہاورایک وفد

313

جہنم ٹھکانا

300

سردارکیسےبنے؟

313

جودی پہاڑکوبلندی کیسےملی؟

301

ریاست کی اصل بلندہمتی کابیان

314

تواضع نےکَلِیْمُاللہبنادیا

301

عمارہ بن حمزہ کی بلندہمتی

314

باب نمبر27:خودپسندی اورغروروتکبُّرکابیان

302

تحفہ قبول نہ کیا

314

مُتکبِّرجنّت میں نہیں جائےگا

302

سیّدناسعیدبن عمروعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی بلندہمتی

315

رحمت خداوندی سےمحروم

302

پڑوسیوں کےساتھ ایسےرہو

315

متکبِّرانہ چال چلنےوالےکونصیحت

302

حکایت:یزیدبن مہلب اورولیدبن عبدالملک

315

جَذِیْمَۃُ الْاَبْرَش

303

معن بن زائدہ کی بلندہمتی

316

ابن عوانہ کاتکبُّر

303

پڑوسی کی بھوک کاخیال

317

تکبُّرکےحوالےسےمشہورقبیلے

304

باب نمبر30:خیروبھلائی کابیان،بزرگ صحابَۂ کرام

اوراولیاوصالحین کاذکرخیر

 

318

حلم ہوتوایسا

304

کیاتم مجھےجانتےہو؟

305

سیّدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

318

باب نمبر28:آپس میں فخرکرنےاوردرجات کے

درمیان تفاوُت کابیان

 

306

سیّدناعمرفاروقرَضِیَ اللہُ عَنْہ 

319

اب ہم چھپ کرعبادت نہیں کریں گے

319

اولادِآدم کےسردار

307

سیّدناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

320

فخرتوتقوٰی کےسبب ہے

307

سیّدناعلی المرتضیٰرَضِیَ اللہُ عَنْہ 

320

امام زین العابدینعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاگریہ

307

اوصاف مرتضوی

320

بغیرایمان عمل قبول نہیں

309

سیّدنازبیربن عوام رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

321

اہمیت توصرف ایمان کی ہے

309

تین صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےفضائل 

322


 

زمین سےزیادہ آسمانوں میں شہرت

323

نیک لوگوں کی پہچان

330

نیک مسلمان کی برکت

323

سیّدناابومحمدعبْدُاللہبن حُنَیْفعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

330

اولیاوصالحین کاتذکرہ

323

سیّدنامحمدبن یوسف بناءعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

330

سیّدناحسن بصریعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

323

سیّدنایحییٰ بن معاذرازیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

331

سیّدناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

324

سیّدنایحییٰ بن معاذرازیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات

331

سیّدناثابت بنانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

324

سیّدنایوسف بن حسین رازیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

332

سیّدناحبیب عجمیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

324

سیّدنایوسف بن حسینعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات

332

سیّدناابوایُّوب سختیانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

325

شہروالوں کی مذمت اورآپ کاکردار

332

سیّدناعبْدُاللہبن مبارکعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

325

سیّدناابوعبدالرحمٰن حاتم بن علوان اصمعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

333

سیّدناخلیل بن احمدنحویعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

325

سیّدناحاتم اصمعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات

333

سیّدناابن عونعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

325

چارمدنی پھول

333

سیّدناامام اعظم ابوحنیفہعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

325

’’اصم‘‘کہلانےکی وجہ

334

سیّدناوکیع بن جراحعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

326

سیّدناحسن بن احمدکاتبعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

334

سیّدنامحمدبن اسماعیل مغر بیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

326

سیّدناحسن بن احمدعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات

334

سیّدنافتح بن شخرفعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

326

سیّدناجعفربن نصرخلدی بغدادیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

334

سیّدنافتح بن سعیدموصلیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

327

گمشدہ چیزکی تلاش کےلئےوظیفہ

335

فقرپرخوشی

327

سیّدنامعروف بن فیروزکرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

335

کمسن متوکل

327

سیّدنامعروف کرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات

336

سیّدناسعیدبن اسماعیل حیریعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

328

محبَّتِ دنیاسےچھٹکارےکاپھل

336

سیّدناسعیدبن اسماعیل حیریعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

کےفرامین

 

328

بددعاکےبجائےدعافرمائی

336

رہوں مست وبےخودمیں تیری وِلامیں

337

سیّدناسلیمان خواصعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

328

مرنےکےبعدمیری قمیض صدقہ کردینا

337

غناکی وضاحت

328

مرنےکےبعدبھی زندہ

337

سیّدناابوسلیمان دارانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

329

سیّدناقاسم بن عثمان کرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

338

سیّدناابوسلیمانعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےفرمودات

329

سیّدناقاسم کرخیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات

338

وسوسوں کاعلاج

329

توبہ کی تعریف

338

نرالی مناجات

330

پانچ مدنی پھول

338


 

معرفَتِ باری تعالیٰ کی اہمیت

339

آخری خواہش

355

سات دروازے،سات حوریں اورسات مجاہد

339

سچی توبہ کی برکت

356

سیّدناابوبکردُلَف بن حجدرشبلیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

340

کفن کی واپسی

358

ہاتھ کی کمائی

340

اولیاکاگھرانہ

358

مال کی آفت

340

خوف خدارکھنےوالی باندی

359

سیّدنازرقان بن محمدعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

341

اسرئیلی عابداوربادل

362

سیّدناابو عبْدُاللہسعیدبن بریدنباجیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

342

جان کانذرانہ پیش کرنےوالاحاجی

364

سیّدناابونصربشربن حارث حافیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

342

اللہعَزَّ  وَجَلَّکی خفیہ تدبیر

365

سیّدنابشرحافیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےارشادات

342

باب نمبر32:فساق وفجار کی بےحیائیاں اوربرائیاں

371

عبرت ہی عبرت

343

بُراآدمی کون؟

371

گھروالوں کےتقوٰی کاعالَم

343

بُرائی کوبھلائی ختم کرتی ہے

371

عیسائی طبیب کاقبول اسلام

343

شیطان کی دعوت پرلبیک کہنےوالا

371

سیّدناطیفوربن عیسٰی بسطامیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

344

مکروہ چھوڑکرحرام کرنےوالا

371

سیّدناابویزیدبسطامیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےفرمودات

344

فرائض چھوڑکرنوافل بجالانےوالا

372

ایک سال تک پانی نہ پیا

344

غیرت مندبادشاہ

372

میں حساب کی دعاکیوں کرتاہوں ؟

344

بےحیائی وبےوقوفی کابیان اوربازاری لوگوں کاتذکرہ

373

محبت اولیابخشش کابہانہ

345

حیانہ رہےتوجوچاہوکرو

373

محبت کسےکہتےہیں ؟

345

چاربرائیاں چارلوگ

373

سیّدناابوالقاسم جنیدبغدادیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

345

بازاری لوگوں کےفوائد

373

سیّدناجنیدبغدادیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکےملفوظات

345

باب نمبر33:سخاوت،اچھےاخلاق،نیکی کےکام اور

اہل سخاوت کاتذکرہ

 

375

ہاتھ میں تسبیح رکھنےکی وجہ

346

شیطان کوجلانےوالے

346

جودوسخاوت اورایثارکامعنیٰ

375

سیّدناابوبکربن عمرمالکیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ

347

مرتےدم بھی ایثار

375

باب نمبر31:فضائل صالحین اورکرامات اولیا

349

ایثارکی عجیب حکایت

376

گدڑی کالعل

349

ہم مہمان کوباسی کھانانہیں کھلاتے

376

ولی کی تحریرکی برکت

352

سخاوت اچھائیوں کی بنیادہے

377

گویّےکوولایت کی دولت مل گئی

353

سخی کی خطاؤں سےدرگزرکرو

377


 

’’نہیں ‘‘سنتاہی نہیں مانگنےوالاتیرا

377

سیّدناطلحہ بن عبْدُاللہعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی سخاوت

391

بھلائی میں کوئی اسراف نہیں

378

حاکم خراسان کی سخاوت

391

دوستوں کی مددکرنےکااحسن انداز

378

عمربن ہبیرہ کی سخاوت

392

اہل ایمان عربوں میں سب سےبڑےسخی

379

سیّدناابن عامررَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت

392

رشتہ اخوت کےسبب حاجت پوری کرنا

379

سائل کودولاکھ درہم دےدیئے

393

ہم ہانڈیاں خالی نہیں دیاکرتے

379

یحییٰ بن خالدبرمکی کی سخاوت

393

دینےکاعجیب انداز

379

عمیلہ فزاری کی سخاوت

394

سخاوت کیاہے؟

380

کسی کوخالی ہاتھ نہ لوٹاؤ

396

سائل کوچارہزاردرہم دےدیئے

380

ذلت سےبچانےکےلئےسخاوت

396

دوست کی خبرگیری نہ کرنےپرافسوس

380

انوکھادشمن اورنرالی سخاوت

396

سیّدناعبْدُاللہبن ابوبکررَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت

380

بکری کاکیاحال ہے؟

397

مقروضوں پرسخاوت

381

مرنےکےبعدبھی سخاوت

397

سخیوں کےبادشاہ

381

تین سخی صحابہ

398

مہمان نوازی کاعظیم بدلہ

382

زمانَۂ جاہلیت میں سخاوت میں مشہور

لوگوں کاتذکرہ

 

400

ایک شاعرپرانعام واکرام

383

ایک غلام کی سخاوت

383

حاتم طائی کاتذکرہ

400

دھوپ سےبچانےپرانعام واکرام

384

سخاوت کےباعث طلاق دےدی

402

سخاوت کاحیلہ

384

سواری کاجانوربھی بھوکوں کوکھلادیا

403

حاتم طائی کوبھول جاتے

385

دشمن کوبھی انکارنہ کیا

404

معن بن زائدہ کی سخاوت

385

باب نمبر34:بخل ولالچ،بخیلوں کاتذکرہ اورواقعات

406

حجام کومالامال کردیا

386

بُرائیوں کی طرف کھینچنےوالی لگام

406

قیدکی حالت میں بھی سخاوت

386

مہمانوں کوبھگانےکےلئےلاٹھی

406

میں توخودکوجانتاہوں

387

درہم کی قید

406

سیّدناعلیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہکی سخاوت

388

بخل کی مدح میں کتاب

407

ہم مہمان کےجانےمیں مددنہیں کرتے

389

حقنہ کےتیل سےچراغ روشن کرنا

407

مستعین کی سخاوت

390

آتےجاتےبلاعوض حُدی خوانی

407

مشک سےبھری سونےکی بالٹی

390

ایک درہم کاگوشت

408


 

دودانق کانقصان

408

سیّدناامام ابویوسفعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کاانوکھافیصلہ

416

اہل مروکابخل

408

سب سےپہلےفالودہ تیارکرنےوالا

417

ایک سوئی دینےسےبھی بخل

409

گوشت کی فضیلت کےمتعلق تین روایات

417

متنبی شاعراوربخل

409

کدوشریف کےفضائل

417

مرغےکےسرکی خوبیاں

409

مسورکی دال کی فضیلت

418

دوابھی اورغذابھی

410

بعض پھلوں اوراشیاء کےفوائد

418

چراغ کی بتی کےاستعمال میں کنجوسی

410

اکیلےرہنےمیں سلامتی ہے

418

مہمان نوازی کےخوف سےبھاگ نکلنا

411

چاول کھانےکےسبب اچھےخواب

419

سب بھکاریوں کوایک جواب

411

مہینہ بھرگوشت تروتازہ رکھنےکانسخہ

419

دیہاتی اورابوالاسود

411

روٹی کااکرام

419

مہمان کوجانےپرمجبورکرنا

411

آسمانی دسترخوان کی اشیاء

419

بخل کی خاطرمذمت کی خواہش

412

کیلےکی خوبیاں

420

اکتاہٹ کی نشانی

412

دعوت ولیمہ میں ایک ہزارخدمت گار

420

انوکھاجھگڑا

412

خراب فالودہ

420

ہڈی کھانےکابخل بھراطریقہ

412

کھانےکےمتعلق زہد

421

ایک دیہاتی  اورابوالاسود

413

بغیرچھناجوکاآٹا

421

ایک بخیل حاکم اوردیہاتی

413

سرکہ بہترین سالن ہے

421

سخی اوربخیل بہن بھائی

414

کبھی روٹی کبھی سالن

421

باب نمبر35:کھانا،مہمان نوازی اورمیزبانی

کےآداب اورزیادہ کھانےوالوں

            کےواقعات

 

415

کمزوری کاعلاج

421

کھانےکےآداب

422

کھانےیاپینےمیں نقصان سےبچنےکانسخہ

422

حلال کھانےکےمتعلق تین فرامین باری تعالیٰ

415

کھانےسےپہلےکی دعا

422

حلال کوحرام  قراردینےوالا

415

گزشتہ گناہوں کی معافی

422

نعمت کااظہارربّ تعالیٰ کوپسندہے

415

ابتدامیں بِسْمِ اللہپڑھنابھول جائےتو۔۔۔!

422

حلوہ نہ کھانےکازہدسےکیاتعلق؟

416

بائیں ہاتھ سےشیطان کھاتاپیتاہے

423

مختلف کھانوں کابیان

416

بازارمیں کھانا

423

فالودہ عمدہ ہےیالوزینہ؟

416

شاہی خادم کی بیٹےکونصیحتیں

423


 

کھانےپینےکی چیزمیں پھونک مارنا

423

کھاناکھلانافراخی کاباعث ہے

431

گرم کھانےسےاجتناب

424

سب سےپہلی مہمان نوازی

431

کھانےمیں عیب نہ لگانا

424

سب سےپہلےافطارکرانےوالے

432

گرےہوئےٹکڑےکھانےکی برکت

424

میزبان کےآداب

432

سونےسےقبل40قدم چلنا

424

کامل مہمان نوازی

432

کسی کےلقمےپرنظریں نہ جماؤ

425

مروت کی تکمیل

432

دسترخوان پردیہاتی اوربادشاہ کامکالمہ

425

بچےکی موت کی خبرمہمانوں کونہ دی

433

زیادہ کھانا

425

دربان نہ رکھنےکی وجہ

434

دل کی صفائی اورسختی

425

رات کاکچھ وقت مہمانوں کےساتھ گزارے

434

سیّدناحسن بصری عَلَیْہِ الرَّحْمَہکامسکرانا

426

کھانےکےارادےسےدوست کےگھرجانا

434

غیرسنجیدہ لوگوں میں شمار

426

دوست کی غیرموجودگی میں اس کےگھرکھانا

435

زیادہ کھانےوالےغلام کونہ خریدا

426

دوست سےاجازت لئےبغیرکھانا

435

بھوک کےسبب جگرکوحرکت

427

تکلف نہ کرےجوکچھ ہوپیش کردے

435

زیادہ کھانےوالوں کےواقعات

427

مہمان کی فرمائش پرخوشی کااظہار

436

100روٹیاں کھانا

427

مہمان نوازی کےمتعلق سلف کاطریقہ

436

پورااونٹ کھالیا

427

مہمان کی خدمت میزبان پرلازم ہے

436

سلیمان بن عبدالملک اورکھانےکاشوق

427

دل جلانےوالاشہد

437

سلیمان بن عبدالملک کی کثرت خوراک

428

قیمت کم کرنےکانرالاطریقہ

437

ہلال مزنی کی بسیارخوری

429

مہمان کےلئےآداب

437

ابن زیادکی بسیارخوری

429

مہمان نوازی کی بدولت راحت ملی

438

میسرہ بن تراس کی بسیارخوری

429

مہمانوں کابُرارویہ

438

ایک بسیارخوراورراہب

429

باب نمبر36:عفوودرگزر،بردباری،غصہ پینے،معذرت

              کرنےاورمعذرت قبول کرنےکابیان

 

439

سیّدتُناعائشہرَضِیَ اللہُ عَنْہَاکی خوش طبعی

430

مہمان نوازی اورکھاناکھلانےکی فضیلت

430

عفوودرگزرکےمتعلق پانچ فرامین باری تعالیٰ

439

ضرورت مندکونہ کھلانےپروعید

430

اونچےجنتی محلات

440

بھوکےمسلمان کوکھاناکھلانےکی برکت

431

عفوودرگزروالوں کوندا

441

خَلِیْلُاللہہونےکی وجہ

431

حلم ودرگزرکےمتعلق چارفرامین شیرخدا

441


 

سیّدنااحنف بن قیس عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی بردباری

441

اونچےرتبےتک رسائی کانسخہ

454

کریم کی عادت

442

گالی دینےوالےسےحسن سلوک

454

خلیفہ ابوجعفرمنصورکامعاف کرنا

442

اچھےعذرنےجان بچالی

454

خلیفَۂ بغدادمامون کامعاف کرنا

442

باغی کومعاف کردیا

455

حاکم مصرکی بردباری

442

ظالم کوترس آگیا

455

خلیفہ واثقباللہکی بردباری

443

جاہل سےدرگزرکاحکم قرآن نےدیا

456

سیّدناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکاحلم

443

مسلمان کی پردہ پوشی

456

سیّدناامیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکامعافی چاہنا

444

باب نمبر37:ایفائےعہد،وعدےکی پاسداری اورپابندی

457

سیّدناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ عَنْہاورزُرقاء بنْتِ عدی

444

ایفائےعہدکےمتعلق پانچ فرامین باری تعالیٰ

457

سیّدناامیرمعاویہ اورابن زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا

446

منافق کی تین نشانیاں

458

خلیفہ منصورکی بُردباری

447

تاخیرکےبعدفوراًادائیگی

458

ہارون رشیدکاحمیدطوسی کومعاف کرنا

448

ایفائےعہدمیں تاخیرپرخلیفہ کی معذرت

459

زیادکاایک شخص کومعاف کرنا

448

حکایت:ایفائےعہدکےلئےجان کی پروانہ کی

459

حجاج کامعاف کرنا

448

عبْدُاللہبن طاہرکی مامون سےوفاداری

460

ہارون رشیدکایزیدبن مزیدسےدرگزرکرنا

449

وعدےکی انوکھی پاسداری

461

مصعب بن زبیرکامعاف کرنا

450

سموال کی وفاداری اوربیٹےکی قربانی

462

عبدالملک کاایک شخص کومعاف کرنا

450

عبدالملک بن مروان کاایفائےعہد

463

عالم کی خاموشی شیطان پرگراں

450

احسان کرنےوالےکےساتھ وفاداری

464

غصہ کےوقت دعادیتے

450

فوت شدہ بادشاہ سےوفاداری

465

غضب الٰہی سےبچانےوالی شے

451

قیمتی نگینہ توڑدیا

465

غصہ کی حالت میں سزانہ دینا

451

احمدیتیم کی وفاداری

466

حکایت:غصہ بھگانےکی انوکھی ترکیب

451

باب نمبر38:رازچھپانا،اس کی حفاظت کرنااورکسی

             کےرازکوظاہرکرنےکی مذمت

 

468

بُردباری غصےمیں پتاچلتی ہے

452

غصہ پینےکی فضیلت

452

زبان رازکی کنجی ہے

468

ربّ تعالیٰ کونرمی پسندہے

452

رازچھپانےپردوفائدوں کاحصول

469

قرآن کی آیات سےغصہ ٹھنڈاہوگیا

453

رازکی حفاظت کاسامان

469

فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہکی کمال بُردباری

453

طالب رازکورازنہ بتایاجائے

469


 

باب نمبر39:دھوکادہی،خیانت،چوری،دشمنی،بغض

اورحسدکابیان

 

470

سچی نیت سےشہادت کاسوال

483

دوسری فصل:بہادری،اس کےثمرات،جنگ اور

اس کی تدابیر

 

484

پہلی فصل:دھوکااورخیانت کابیان

470

ثعلبہ بن ابوحاطب کاعبرت ناک قصہ

471

جنگی تدابیرکاقرآنی حکم

484

بدعہدی کی نیت کاوبال

474

تفسیرنبوی

484

باپ سےبےوفائی کاانجام

474

جہادکی بہترین تیاری

484

دوسری فصل:چوری کابیان

475

لشکرکےآگےکیساشخص ہو؟

485

تیسری فصل:بغض وعداوت کابیان

475

سپہ سالارمیں کیسی صفات ہوں ؟

485

عقل منددشمن زیادہ پسند

476

10سخت چیزیں

485

سب سےلذیذشے

476

جنگی چالیں

486

چوتھی فصل:حسدکابیان

477

حکایت:ایک بہادرمجاہد

486

حاسدکےلئےپانچ سزائیں

478

مشہورشہسوارابن فتحون

487

حاسدوزیرکاعبرت ناک انجام

478

سردارلشکرکےلئےاحتیاطیں

488

طویل عمرکاراز

480

چھ لاکھ کےلشکرسے12ہزارکامقابلہ

489

اللہعَزَّ  وَجَلَّکی نعمتوں سےدشمنی

480

باب نمبر41:بہادروں اورشہسواروں کےنام،طبقات و

واقعات،بزدلوں کاذکر،ان کےقصےاوربزدلی کی

مذمت

 

491

باب نمبر40:بہادری اوراس کےثمرات،جنگ اور

اس کی تدابیر،جہاداورشدت سےلڑنےکی

    فضیلت اورجنگ پرابھارنےکابیان

 

481

پہلاطبقہ

491

پہلی فصل:راہِ خدامیں جہادکرنےاورشدت سے

لڑنےکابیان

 

481

سیّدناحمزہرَضِیَ اللہُ عَنْہ 

491

سیّدناعلیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

491

اللہعَزَّ  وَجَلَّکےنزدیک پسندیدہ قطرہ

481

تلوارکےہزارزخم آسان ہیں

492

جنت تلواروں کےسائےمیں ہے

482

شیرخداکااندازمقابلہ

492

شہیدکاخون قیامت کےدن نورہوگا

482

سینےپروار

492

دنیاومافیہاسےبہتر

482

ابن ملجم نےشیرخداکوشہیدکیوں کیا؟

492

شہداکی ارواح کامسکن

482

جان کےبدلےایک ہی جان

493

سیّدناانس بن نضر رَضِیَ اللہُ عَنْہکی شہادت

483

سیّدناامام حسن رَضِیَ اللہُ  عَنْہکاخطبہ

493

شہیدکاعمل بڑھتارہتاہے

483

سیّدناخالدبن ولیدرَضِیَ اللہُ عَنْہ

495


 

سیّدنازبیربن عوام رَضِیَ اللہُ عَنْہ

496

تین بڑےبہادر

503

سیّدناعمروبن معدیکربرَضِیَ اللہُ عَنْہ 

496

ابوبلال مِرداس

504

جنگ میں کون ساہتھیاربہترہے؟

496

شبیب  خارجی

504

حیرت انگیزبہادری

497

قَطری بن فجاءہ

504

رستم کاقتل

497

تیسراطبقہ

505

سیّدناطلحہ اسدیرَضِیَ اللہُ  عَنْہ 

497

معن بن زائدہ

505

سیّدنامقدادبن اسود رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

498

عَمْروبن حُنَیْف

505

سیّدناسعدبن ابی وقاصرَضِیَ اللہُ عَنْہ 

498

ابودُلَف قاسم بن عیسٰی

505

سیّدناابودُجانہ انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

498

بکربن نطاح

505

سیّدنامثنی بن حارثہرَضِیَ اللہُ عَنْہ

498

تلوارکی تعریف کابیان

505

سیّدناابوعبیدبن مسعودثقفیرَضِیَ اللہُ عَنْہ 

498

عرب کی مشہورتلوار

505

سیّدناعمّاربن یاسررَضِیَ اللہُ عَنْہ 

499

نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی عطاکردہ تلوار

506

سیّدناہاشم بن عتبہرَضِیَ اللہُ  عَنْہ 

499

کمزوردل اوربزدل لوگوں کابیان

506

سیّدناقعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

499

بزدلی کی نشانیاں / ابوحیہ نمیری

507

دوسراطبقہ

499

معتصم اورایک بزدل

507

سیّدناعبْدُاللہبن زبیررَضِیَ اللہُ عَنْہ 

499

اسلم بن زُرعہ

508

سیّدناابوہاشم محمدبن علیرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا 

500

باب نمبر42:مدح وثنا،نعمت پرشکراوراحسان کابدلہ دینا

508

ہاتھوں سےزرہ دوٹکڑےکرڈالی

500

پہلی فصل:مدح وثناکابیان

508

سیّدناعبْدُاللہبن حازم رَضِیَ اللہُ عَنْہ 

500

مدح

508

سیّدنامصعب بن زبیرعَلَیْہِ الرَّحْمَہ 

501

تعریف پرسیّدناصدیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکاطریقہ

509

عمیربن حباب

501

سیّدناساریہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکی مدحت رسول

509

مسلمہ بن عبدالملک

501

سیّدناحسّانرَضِیَ اللہُ عَنْہکی ثناخوانی

510

مُعْتَصِم باللہ

501

سیّدناابن رواحہرَضِیَ اللہُ عَنْہکااندازمدح

510

ابراہیم بن اشتر

502

مصنف کی روضَۂ رسول پرحاضری

510

عُبَـیْدُاللہبن حر

502

اوصاف محمدیہ کاشمارممکن نہیں

511

جحدربن ربیعہ

502

دوسری فصل:نعمت پرشکرکرنا

511

مُہَلَّب بن ابوصُفْرہ

503

دل کاشکر

511


 

شکرکیسےاداہو؟

512

سیّدناعبدالاعلیٰ عَلَیْہِ الرَّحْمَہاورخلیفہ متوکل

516

شکرکی ایک صورت

512

کن تین سےبھلائی نہ کرے؟

516

زبان کاشکر

512

ناشکرےقتل ہوگئے

517

اعضاء کاشکر

513

شاکربندےاللہتعالیٰ کوپسندہیں

517

کیامیں شکرگزاربندہ نہ بنوں ؟

513

شکراداکرنےسےپہلےشکرلکھ دیاجانا

517

آنکھوں اورکانوں کاشکر

513

تیسری فصل:احسان کابدلہ دینا

518

ناشکرےکی پہچان

514

بھلائی کےبدلےایک لاکھ درہم

518

چارنعمتوں والاچارسےمحروم نہ ہوگا

514

بھلائی کےبدلے10دینار

518

شکرنعمت کےسبب پہلےسےبڑی نعمت کاملنا

515

فہرست حکایات

519

شکرانےمیں غلام آزادکردیا

515

تفصیلی فہرست

520

چیونٹی کی گفتگو

515

ماٰخذ ومراجع

542

شکرکےتین درجات

515

اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہکی کُتُب کاتعارُف

544

سب سےبڑھ کربےفائدہ کام

516

A 

\|

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

بڑاہویاچھوٹامجھ سےبہترہے

حضرت سیِّدُنابِکربنعبْدُاللہمُزنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتےہیں :اگرشیطان سےتمہاراآمناسامناہو اوروہ کہےکہ تجھےفلاں مسلمان پرفضیلت حاصل ہےتوغورکرواگروہ عمرمیں تم سےبڑاہوتوکہو:یہ ایمان لانےاورنیک اعمال کرنےمیں مجھ سےسبقت لےگیا،لہٰذایہ مجھ سےبہترہے۔اگرچھوٹاہوتوکہو:میرے گناہ اورخطائیں زیادہ ہیں اورمیں سزاکاحق دارہوں ،لہٰذایہ مجھ سےبہترہے۔پس مسلمانوں میں سےجسے بھی تم دیکھوگےخواہ بڑاہویاچھوٹااسےخودسےبہترسمجھوگے۔(حلیةالاولیا،۲/ ۲۵۷،رقم:۲۱۴۴)


 

ماٰخذ و مراجع

 

                                                  قرآن پاک

کلام باری تعالٰی

نام کتاب

مطبوعہ

نام کتاب

مطبوعہ

معجم  اوسط

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۰ھـ

ترجمۂ کنزالایمان

مکتبۃ المدینۃ۱۴۳۲ھـ

                                                معجم کبیر

داراحیاء التراث العربی۱۴۲۲ھـ

خزائن العرفان

مکتبۃ المدینۃ۱۴۳۲ھـ

حلیۃ الاولیاء

دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۱۸ ھـ

تفسیر ثعلبی

دار احیاء التراث العربی۱۴۲۲ ھـ

شعب الایمان

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۱ھـ

در  منثور

دارالفکر بیروت۱۴۰۳ھـ

الفوائد  الشہیر بالغیلانیات لابی بکر الشافعی

دار ابن الجوزی ۱۴۱۷ھـ

البحر المدید

المکتبۃ التوفیقیۃ قاہرہ

شرح السنۃ

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ

روح البیان

دار احیاء التراث العربی بیروت۱۴۰۵ھـ

مکارم الاخلاق للطبرانی

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۱ھـ

روح المعانی

دار احیاء التراث العربی ۱۴۲۰ھـ

مکارم الاخلاق للخرائطی

مکتبۃ الرشد ۱۴۲۷ھـ

بخاری

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۹ھـ

المسند الفردوس

دارالکتب العلمیۃ۱۴۰۶ھـ

مسلم

دارابن حزم۱۴۱۹ھـ

                                              بغیۃ الباحث

الجامعۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ

ابن ماجہ

دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھـ

الزہد لابن المبارک

دارالکتب العلمیۃ بیروت

ابو داود

داراحیاء التراث العربی۱۴۲۱ھـ

الزہد الکبیر

مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت  ۱۴۱۷ھـ

ترمذی

دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ

موسوعۃ ابن ابی الدنیا

المکتبۃ العصریۃ۱۴۲۶ھـ

نسائی

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۶ھـ

تاریخ ابن عساکر

دارالفکر بیروت۱۴۱۶ھـ

دارمی

دارالکتاب العربی۱۴۰۷ھـ

تاریخ بغداد

دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۷ ھـ

مسند امام احمد

دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ

تاریخ المدینۃ المنورۃ

دار الفکر قم ایران

سنن کبری للنسائی

دارا لکتب العلمیۃ۱۴۱۱ھـ

اخلاق النبی وآدابہ

دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۸ ھـ

سنن  کبری للبیہقی

دارا لکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ

کشف الخفاء

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ

مستدرک حاکم

دارالمعرفۃ بیروت۱۴۱۸ھـ

فتح الباری لابن حجر

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۵ھـ

مصنف ابن ابی شیبۃ

دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھـ

الکامل  لابن عدی

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۹ھـ

مسند ابی یعلٰی

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۸ھـ

التیسیر

دار الحدیث مصر

مسند بزار

مکتبۃ العلوم والحکم۱۴۲۴ھـ

فیض القدیر

دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۲۲ھـ

مسند الشہاب

مؤسسة الرسالة۱۴۰۷ھـ

قوت القلوب

دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۲۶ھـ

مسند طیالسی

دار المعرفۃ بیروت

احیاء علوم الدین

دار صادر بیروت

عمل الیوم واللیلۃ لابن سنی

الشرکۃ الجزائریۃ اللبنانیۃ

فتوح الشام

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۶ھـ


 

معجم صغیر

دارا لکتب العلمیۃ۱۴۰۳ھـ

نوادر الاصول

مکتبۃ الامام بخاری

العظمۃ لابی الشیخ

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۴ھـ

عیون الاخبار

دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۴۱۸ھـ

طبقات ابن سعد

دارالکتب العلمیة ۱۴۱۸ھـ

ربیع الابرار

مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات

کنز العمال

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۹ھـ

التذکرۃ الحمدونیۃ

دار صادر بیروت۱۹۹۶ء

مجمع الزوائد

دارالفکر۱۴۲۰ھـ

المثل السائرفی الادب الکاتب والشاعر

دار نہضۃ مصر للطبع والنشر

المدخل الی السنن الکبری

دار  الخلفاء للکتاب الاسلامی

السیرۃ الحلبیۃ

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ

اعلام النبوة

دارالکتاب العربی بیروت

الضو ء اللامع

دار مکتبۃ الحیاۃ بیروت

دلائل النبوۃ للبیہقی

دارالکتب العلمیة ۱۴۲۳ھـ

دیوان الاسلام

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۱ھـ

الاحاد والمثانی

دار الرایۃ ریاض ۱۴۱۱ھـ

شرح العقائد النسفیۃ

مکتبۃ المدینہ

مشکاۃ المصابیح

دارالکتب العلمیة ۱۴۲۴ھـ

النبراس

ملتان

اتحاف الخیرۃ المہرۃ

مکتبۃ الرشد ریاض۱۴۱۹ھـ

نہایۃ الارب

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ

الفوائد لتمام الرازی

مکتبۃ الرشد ریاض۱۴۱۲ھـ

                                                     نثر الدر

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۴ھـ

مساویٔ الاخلاق للخرائطی

مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ۱۴۱۳ھـ

الازمنۃ والامکنۃ

دارالکتب العلمیۃ۱۴۱۷ھـ

الزہد لہناد

دار  الخلفاء للکتاب الاسلامی۱۴۰۶ھـ

الاعلام

دار العلم للملایین بیروت

                                                        الشفا

مرکز   اھلسنت برکات رضاھند

القاموس المحیط

دار احیاء التراث العربی

سراج الملوک

مخطوطہ

الموسوعۃ الفقہیۃ

وزارۃ الاوقاف والشؤن الاسلامیۃ کویت

عقد الفرید

دارالکتب العلمیة ۱۴۱۷ھـ

الصحاح فی اللغۃ

دار احیاء التراث العربی ۱۴۱۹ھـ

اتحاف السادۃ المتقین

دارالکتب العلمیة۲۰۰۹ء

مجمع الزوائد

دارالفکر بیروت۱۴۲۰ھـ

معجم ابن عساکر

دار البشائر دمشق ۱۴۲۱ھـ

بہار شریعت

مکتبۃ المدینۃ کراچی پاکستان

معرفۃ الصحابۃ

دارالکتب العلمیۃ۱۴۲۲ھـ

فتاوی رضویہ

رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان

الاصابۃ

دار الفکر بیروت۱۴۱۸ھـ

مراٰۃ المناجیح

ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور

الاستیعاب

دارالکتب العلمیة ۱۴۲۲ھـ

                                   فتاوی فیض الرسول

شبیر برادرز لاہور۱۴۱۱ھـ

مقاصد حسنہ

دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۵ ھـ

فیضان سنت

مکتبۃ المدینہ

فضیلۃ الشکر

دار الفکر  ۱۴۰۲ھـ

امام حسین کی کرامات

مکتبۃ المدینہ

 

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭


 

 

مجلس المد ینۃ العلمیہ اوردیگرمجالس کی طرف سے پیش کردہ423 کُتُب ورسائل

(شعبہ فیضانِ قراٰن)

01…تفسیرصراط الجنان جلد:1(کل صفحات:524)                            02…تفسیرصراط الجنان جلد:2(کل صفحات:495)

03…تفسیرصراط الجنان جلد:3(کل صفحات:573)                                        04…تفسیرصراط الجنان جلد:4(کل صفحات:592)

05…تفسیرصراط الجنان جلد:5(کل صفحات:617)                                         06…تفسیرصراط الجنان جلد:6(کل صفحات:717)

07…تفسیرصراط الجنان جلد:7(کل صفحات:619)                                         08…تفسیرصراط الجنان جلد:8(کل صفحات:674)

09…معرفۃ القراٰن جلد:1(پارہ 1تاکل صفحات:404)                    10… معرفۃ القراٰن جلد:2(پارہ6تا10،کل صفحات:376)

11… معرفۃ القراٰن جلد:3(پارہ11تا15،کل صفحات:407)

(شعبہ فیضانِ حدیث)

01…فیضان ریاض الصالحین جلد:1(کل صفحات:656)             02…فیضان ریاض الصالحین جلد:2(کل صفحات:688)

(شعبہ کُتُب اعلیٰ حضرت)

اُردو کُتُب:

01…راہِ خدامیں خرچ کرنے کے فضائل(رَادُّ الْقَحْطِ وَالْوَبَاء بِدَعْوَۃِ الْجِیْرَانِ وَمُوَاسَاۃِ الْفُقَرَاء)l(کل صفحات:40)

02…کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات(کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِم فِيْ اَحْکَامِ    قِرْطَاسِ الدَّرَاہِم)(کل صفحات:199)

03…فضائل دعا(اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعَاء مَعَہٗ ذَیْلُ الْمُدَّعَاء لِاَحْسَنِ الْوِعَاء)(کل صفحات:326)

04…عیدین میں گلے ملنا کیسا؟(وِشَاحُ الْجِیْدفِيْ تَحْلِیْلِ مُعَانَــقَۃِ الْعِیْد)(کل صفحات:55)05…حدائق بخشش(کل صفحات:446)

06…والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق(اَلْحُقُوْق لِطَرْحِ الْعُقُوْق)(کل صفحات:125)    07 اَلْوَظِیْفَۃُالْکَرِیْمَۃ(کل صفحات:46)

08…معاشی ترقی کا راز(حاشیہ و تشریح تدبیر فلاح ونجات واصلاح)(کل صفحات:41)        09…بیاض پاک حُجَّۃُالْاِسْلَام(کل صفحات:37)

10…الملفوظ المعروف بہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت(مکمل چار حصے)(کل صفحات:561)           11…اعتقادالاحباب(دس عقیدے)(کل صفحات:200)

12…ولایت کا آسان راستہ(تصورِ شیخ)(اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃ)(کل صفحات:60)                    13…کنزالایمان مع خزائن العرفان(کل صفحات:1185)

14…اعلیٰ حضرت سے سوال جواب( اِظْہَارُ الْحَقِّ الْجَلِي)(کل صفحات:100)                    15…ایمان کی پہچان(حاشیہ تمہید ِ ایمان)(کل صفحات:74)

16…شریعت وطریقت(مَقَالِ عُرَفَابَاِعْزَازِشَرْعُ وَعُلَمَا)(کل صفحات:57)                           17…اولاد کے حقوق(مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد)(کل صفحات:31)

18…حقوقُ العباد کیسے معاف ہوں (اَعْجَبُ الْاِمْدَاد)(کل صفحات:47)                          19…ثبوتِ ہلال کے طریقے(طُرُقُ اِثْبَاتِ ہِلَال)(کل صفحات:63)

عربی کُتُب:

20جَدُّالْمُمْتَار عَلٰی رَدِّالْمُحْتَار(سات جلدیں )(کل صفحات:4000)                      21اَلزَّمْزَمَۃُ الْقُمْر  ِیَّۃ(کل صفحات:93)

22اَلتَّعْلِیْقُ الرَّضَوِی عَلٰی صَحِیْحِ الْبُخَارِی(کل صفحات:458)              23اَلْفَضْلُ الْمَوْھَبِی(کل صفحات:46)


 

24کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِم(کل صفحات:74)                                                     25اِقَامَۃُ الْقِیَامَۃ(کل صفحات:60)

26اَلاِْجَازَاتُ الْمَتِیْنَۃ(کل صفحات:62)       27تَمْہِیْدُالْاِیْمَان(کل صفحات:77)     28اَجْلَی الْاِعْلَام(کل صفحات:70)

﴿شعبہ تراجم کُتب

01…سایَۂ عرش کس کس کوملے گا۔۔۔؟(تَمْہِیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش)(کل صفحات:88)

02…مدنی آقا کے روشن فیصلے(اَلْبَاھِر فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِر)(کل صفحات:112)

03…نصیحتوں کے مدنی پھول بوسیلَۂ احادیثِ رسول(اَلْمَوَاعِظ فِی الْاَحَادِیْثِ الْقُدْسِیَّۃ)(کل صفحات:54)

04…نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں (قُرَّۃُالْعُیُوْن وَمُفَرِّحُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن)(کل صفحات:142)

05…جنت میں لے جانے والے اعمال(اَلْمَتْجَرُ الرَّابِح فِیْ ثَـوَابِ الْعَمَلِ الصَّالِح)(کل صفحات:743)

06… جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلد:1)(اَلزَّ وَاجِرعَنِ اقْترَافِ الْکَبَائِر)(کل صفحات:853)

07… جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلد:2)(اَلزَّ وَاجِرعَنِ اقْترَافِ الْکَبَائِر)(کل صفحات:1012)

08…امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی وصیتیں (وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم عَلَیْہِ الرَّحْمَہ)(کل صفحات:46)

09…دین ودنیاکی انوکھی باتیں (اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف،جلد:1)(کل صفحات:552)

10…مختصرمنہاج العابدین(تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن)(کل صفحات:281)

11…نیکی کی دعوت کے فضائل(اَلْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْف وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَر)(کل صفحات:98)

12…اصلاحِ اعمال(جلد:1)(اَ لْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ طَرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ)(کل صفحات:866)

13اللہ والوں کی باتیں (جلد:1)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:896)

14اللہ والوں کی باتیں (جلد:2)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:625)

15اللہ والوں کی باتیں (جلد:3)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:580)

16اللہ والوں کی باتیں (جلد:4)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:510)

17اللہ والوں کی باتیں (جلد:5)(حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء)(کل صفحات:571)

18…فیضان مزارات ِ اولیاء(کَشْفُ النُّوْر عَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر)(کل صفحات:144)               19…شرحُ الصُّدُور(مترجَم) (کل صفحات:572)

20…دنیاسے بے رغبتی اورامیدوں کی کمی(اَلزُّھْدوَقَصْرُالْاَمَل)(کل صفحات:85)               2176کبیرہ گناہ(الکبائر)(کل صفحات:264)

22…عاشقانِ حدیث کی حکایات(اَ لرِّحْلَۃ فِیْ طَلَبِ الْحَدِیْث)(کل صفحات:105)                 23…بیٹے کو نصیحت(اَیُّھَاالْوَلَد)(کل صفحات:64)

24…احیاء العلوم(جلد:1)(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1124)                           25152رحمت بھری حکایات(کل صفحات:326)

26…احیاء العلوم(جلد:2)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1393)                           27…آدابِ دین(اَلْاَدَبُ فِی الدِّیْن)(کل صفحات:63)

28…احیاء العلوم(جلد:3)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات :1290)                            29…قوت القلوب(مترجم جلد:2)(کل صفحات:784)

30… احیاء العلوم(جلد:4)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات:911)                            31…قوت القلوب(مترجم جلد:1)(کل صفحات:826)


 

32… احیاء العلوم(جلد:5)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن)(کل صفحات:814)   33…آنسوؤں کا دریا(بَحْرُالدُّمُوْع)(کل صفحات:300)

34…ایک چُپ سوسُکھ(حُسْنُ السَّمْت فِی الصَّمْت)(کل صفحات:37)    35…حُسنِ اَخلاق(مَکَارِمُ الْاَخْلَا ق)(کل صفحات:102)

36…راہِ علم(تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّم طَرِیقَ التَّعَلُّم)(کل صفحات :102)                37…شاہراہِ اولیاء(مِنْہَاجُ الْعَارِفِیْن)(کل صفحات:36)         

38…حکایتیں اورنصیحتیں (اَلرَّ وْضُ الْفَائِق)(کل صفحات:649)                 39عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ دوم)(کل صفحات:413)

40…اچھے برے عمل(رِسَالَۃُ الْمُذَاکَرَۃ)(کل صفحات:122)                 41عُیُوْنُ الْحِکَایَات(مترجم حصہ اول)(کل صفحات:412)

42…شکرکے فضائل(اَلشُّکْرُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ)(کل صفحات:122)                 43…احیاء العلوم کا خلاصہ(لُبَابُ الْاِحْیَاء)(کل صفحات:641)

﴿شعبہ درسی کُتب

01دیوان المتنبی مع الحاشیۃ المفیدہ اتقان الملتقی(کل صفحات:104)               02کتاب العقائد(کل صفحات:64)

03تلخیص المفتاح مع شرحہ الجدیدتنویرالمصباح(کل صفحات:229)                04الحق المبین(کل صفحات:131)

05الجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمینالمجلدالاول(کل صفحات:400)                   06فیضانِ سورۂ نور(کل صفحات:128)

07الجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمینالمجلدالثانی(کل صفحات:374)                   08نصاب النحو(کل صفحات:285)

09ریاض الصالحین مع حاشیۃ منہاج العارفین(کل صفحات:124)                    10فیضان تجو ید(کل صفحات:161)

11شرح  مئۃ عامل مع حاشیۃ الفرح الکامل(کل صفحات:147)                        12نصاب المنطق(کل صفحات:161)

13منتخب الابواب من احیاء علوم الدین(عربی)(کل صفحات:178)                   14نصاب الادب(کل صفحات:200)

15دیوان الحماسۃ مع شرح اتقان الفراسۃ(کل صفحات:325)             16انوارالحدیث(کل صفحات:466)

17قصیدۃ البردۃ مع شرح عصیدۃ الشھدۃ(کل صفحات:317)              18نصاب التجو ید(کل صفحات:85)

19التعلیق الرضوی علی صحیح البخاری(کل صفحات:458)              20تعریفاتِ نحو یۃ(کل صفحات:53)

21مراح الارواح مع حاشیۃ ضیاء الاصباح(کل صفحات:182)                          22شرح  مائۃ عامل(کل صفحات:38)

23شرح العقائد مع حاشیۃ جمع الفرائد(کل صفحات:385)                           24نصاب الصرف(کل صفحات:352)

25الاربعین النوویۃ فی الأحادیث النبو یۃ(کل صفحات:155)                           26…خلفائے راشدین(کل صفحات:352)

27نورالایضاح مع حاشیۃ النور والضیاء(کل صفحات:392)                          28المحادثۃ العربیۃ(کل صفحات:104)

29شرح الجامی مع حاشیۃ الفرح النامی(کل صفحات:429)                            30نصاب اصولِ حدیث(کل صفحات:95)

31ھدایۃ النحومع حاشیۃ عنایۃ النحو(کل صفحات:288)                             32تلخیص اصول الشاشی(کل صفحات:144)

33اصول الشاشی مع احسن الحواشی(کل صفحات:306)                              34الکافیہ مع شرح ناجیہ(کل صفحات:259)

35مئۃ عامل منظوم(فارسی مع ترجمہ وتشریح)(کل صفحات:28)                               36خاصیات ابواب الصرف(کل صفحات:141)

37مقدمۃ الشیخ مع التحفۃ المرضیۃ(کل صفحات:117)                             38تیسیرمصطلح الحدیث(کل صفحات:194)

39…فیض الادب (مکمل حصہ اوّل ،دوم)(کل صفحات:228)                                             40خلاصۃ النحو(حصہ اول و دوم)(کل صفحات:214)


 

41دروس البلاغۃ مع شموس البراعۃ(کل صفحات:242)                                            42قصیدہ بردہ سےروحانی علاج(کل صفحات:22)

43 نخبۃ الفکرمع شرح نزھۃ النظر(کل صفحات:175)                                  44شرح الفقہ الاکبر(للقاری)(کل صفحات:231)

45…صرف بہائی مع حاشیہ صرف بنائی(کل صفحات:64)                                  46المرقاۃ مع حاشیۃ المشکاۃ(کل صفحات:106)

47نحو میر مع حاشیۃ نحو منیر(کل صفحات:205)

(شعبہ فیضان مدنی مذاکرہ)

01… قسط2:مقدس تحریرات کےآداب کےبارےمیں سوال جواب(کل صفحات:48)          02…قسط6:جنتیوں کی زبان(کل صفحات:31)

03… قسط8:سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکااندازِتبلیغ دین(کل صفحات:32)                     04…قسط10:وَلِیُّ اللہ کی پہچان(کل صفحات:36)

05…قسط5:گونگےبہروں کےبارےمیں سوال جواب(کل صفحات:25)                     06…قسط12:مساجدکےآداب(کل صفحات:36)

07…قسط1:وضوکےبارےمیں وسوسےاوران کاعلاج(کل صفحات:48)                     08…قسط9:یقین کامل کی برکتیں (کل صفحات:32)

09…قسط7:اصلاحِ امت میں دعوتِ اسلامی کاکردار(کل صفحات:28)                        10…قسط14:تمام دنوں کاسردار(کل صفحات:32)

11…قسط4:بلندآوازسےذکرکرنےمیں حکمت(کل صفحات:48)                             12…قسط11:نام کیسےرکھےجائیں ؟(کل صفحات:44)

13…قسط3:پانی کےبارےمیں اہم معلومات(کل صفحات:48)                              14…قسط13:ساداتِ کرام کی تعظیم(کل صفحات:30)

15…قسط15:اپنےلئےکفن تیاررکھناکیسا؟(کل صفحات:32)

(شعبہ تخریج)

01…صحابَۂ  کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا عشق رسول(کل صفحات:274)     02…سیرتِ رسولِ عربی(کل صفحات:758)

03…فیضان یٰسٓ شریف مع دعائے نصف شعبان المعظم(کل صفحات:20)                    04…مکاشفۃ القلوب(کل صفحات:692)

05…جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ(کل صفحات:470)              0619دُرُودوسلام(کل صفحات:16)

07…بہارشریعت جلد دوم(حصہ7تا13)(کل صفحات:1304)                             08…اسلامی زندگی(کل صفحات:170)

09…بہارشریعت جلد اول (حصہ 1تا6)(کل صفحات:1360)                              10…منتخب حدیثیں (کل صفحات:246)

11…بہارشریعت جلدسوم (حصہ14تا20)(کل صفحات:1332)                            12…اخلاق الصالحین(کل صفحات:78)

13…اُمہات المؤٔمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُن(کل صفحات:59)                                  14…کراماتِ صحابہ(کل صفحات:346)

15…عجائب القراٰن مع غرائب القراٰن(کل صفحات:422)                                     16…علم القرآن(کل صفحات:244)

17…بہارشریعت(سولہواں حصہ)(کل صفحات:312)                                     18…اربعین حنفیہ(کل صفحات:112)

19…گلدستہ عقائد واعمال(کل صفحات:244)                                            20…آئینَۂ قیامت(کل صفحات:108)

21…اچھے ماحول کی برکتیں (کل صفحات:56)                                            22…سوانح کربلا(کل صفحات:192)

23…جہنم کے خطرات(کل صفحات:207)                                              24…آئینَۂ عبرت(کل صفحات:133)

25…بہشت کی کنجیاں (کل صفحات:249)                                               26…جنتی زیور(کل صفحات:679)


 

27…حق وباطل کا فرق(کل صفحات:50)                                               28…فیضانِ نماز(کل صفحات:49)

29…سیرتِ مصطفٰی(کل صفحات:875)                                                30…تحقیقات(کل صفحات:142)

31…سرمایَۂ آخرت(کل صفحات:200)

(شعبہ فیضانِ صحابہ)

01…حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:132)           02…فیضانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:720)

03فیضانِ فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جلداول)(کل صفحات:864)          04…فیضان امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:56)

05فیضانِ فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(جلددوم)(کل صفحات:856)           06…حضرت زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:72)

07…حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:89)   08…فیضانِ سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:32)

09…حضرت طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(کل صفحات:56)   10…حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ عَنْہ(کل صفحات:60)

(شعبہ فیضانِ صحابیات)

01…بارگاہِ رسالت میں صحابیات کےنذرانے(کل صفحات:48)                 02…صحابیات اورپردہ(کل صفحات:56)

03…فیضانِ حضرت آسیہ (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) (کل صفحات:36)                     04…شانِ خاتونِ جنت(کل صفحات:501)

05…صحابیات اورنصیحتوں کےمدنی پھول(کل صفحات:144)                   06…فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ (کل صفحات:84)

07…صحابیات اورعشق رسول(کل صفحات:64)                             08…فیضانِ امہاتُ المؤمنین(کل صفحات:367)

09…فیضانِ عائشہ صدیقہ(کل صفحات:608)

(شعبہ اصلاحی کُتب)

01اعرابی کےسوالات عربی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےجوابات(کل صفحات:118)           02…تکبر(کل صفحات:97)

03…حضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیزکی 425حکایات(کل صفحات:590)                    04…بدگُمانی(کل صفحات:57)

05…غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حالات(کل صفحات :106)                            06…بدشگونی(کل صفحات:128)

0740فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کل صفحات :87)                             08…ریاکاری(کل صفحات:170)

09…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ اول) (کل صفحات:60)                                    10…فکرِ مدینہ(کل صفحات:164)

11…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ دوم)(کل صفحات:104)                                    12…نورکاکھلونا(کل صفحات:32)

13…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ سوم)(کل صفحات:352)                                 14…بغض وکینہ(کل صفحات:83)

15…اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوششیں (کل صفحات :49)                                    16…بہترکون؟(کل صفحات:139)

17…نیک بننے اوربنانے کے طریقے(کل صفحات:696)                                    18…فیضانِ زکوٰۃ(کل صفحات:150)

19…فیضانِ اسلام کورس(حصہ دوم)(کل صفحات:102)                         20…عشر کے احکام(کل صفحات:48)


 

21…فیضانِ اسلام کورس(حصہ اول)(کل صفحات:79)                         22…تربیت ِ اولاد(کل صفحات:187)

23…محبوبِ عطار کی 122حکایات(کل صفحات:208)                                    24…آقاکاپیارکون؟(کل صفحات:63)

25…نماز میں لقمہ دینے کے مسائل(کل صفحات:39)                         26…ٹی وی اورمُووی(کل صفحات:32)

27…چندہ کرنےکی شرعی احتیاطیں (کل صفحات:47)                         28…تکلیف نہ دیجئے(کل صفحات:219)

29…امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟(کل صفحات:32)                           30…فیضان معراج(کل صفحات:134)

31…قوم جِنّات اورامیراہلسنّت(کل صفحات :262)                                        32…سنتیں اورآداب(کل صفحات:125)

33…توبہ کی روایات وحکایات(کل صفحات:124)                                        34…خوف ِخدا عَزَّ  وَجَلَّ (کل صفحات:160)

35…مزاراتِ اولیاء کی حکایات(کل صفحات:48)                                         36…انفرادی کوشش(کل صفحات:200)

37…قبرمیں آنے والادوست(کل صفحات:115)                                          38…ضیائے صدقات(کل صفحات:408)

39…کامیاب طالب علم کون؟(کل صفحات :63)                                         40…کامیاب استاذ کون؟(کل صفحات:43)

41…جلدبازی کے نقصانات(کل صفحات:168)                                          42…مفتی دعوتِ اسلامی(کل صفحات:96)

43…طلاق کے آسان مسائل(کل صفحات:30)                                          44…نام رکھنےکےاحکام(کل صفحات:180)

45…تذکرہ صدرالافاضل(کل صفحات:25)                                             46…جنت کی دوچابیاں (کل صفحات:152)

47…احادیثِ مبارکہ کے انوار(کل صفحات :66)                                                           48…شرح شجرہ قادریہ(کل صفحات:215)

49…تجہیزوتکفین کاطریقہ(کل صفحات:358)                                           50…فیضانِ احیاء العلوم(کل صفحات:325)

51…جیسی کرنی ویسی بھرنی(کل صفحات:110)                                            52…وہ ہم میں سےنہیں (کل صفحات:112)

53…آیاتِ قراٰنی کے انوار(کل صفحات:62)                                              54…حج وعمرہ کامختصرطریقہ(کل صفحات:48)

55…فیضانِ چہل احادیث(کل صفحات :120)                                            56…تنگ دستی کے اسباب(کل صفحات:33)

57…تعارفِ امیر اہلسنّت(کل صفحات:100)

(شعبہ امیراہلسنت)

01…علم وحکمت کے 125مدنی پھول(تذکرہ امیراہلسنت قسط5)(کل صفحات:102)                        02…گونگا مبلغ(کل صفحات :55)

03…سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیغام عطار کے نام(کل صفحات :49)                              04…خوفناک بلا(کل صفحات :33)

05…حقوق العبادکی احتیاطیں (تذکرہ امیراہلسنت قسط 6)(کل صفحات:47)                                06…ناکام عاشق(کل صفحات :32)

07…اصلاح کاراز(مدنی چینل کی بہاریں حصہ دوم)(کل صفحات :32)                                    08…گمشدہ دولہا(کل صفحات:33)

09… تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط7)(پیکرشرم وحیا)(کل صفحات :86)                                     10…انوکھی کمائی(کل صفحات :32)

1125کرسچین قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام(کل صفحات :33)                           12…قبر کھل گئی(کل صفحات :48)

13…دعوتِ اسلامی کی جیل خانہ جات میں خدمات(کل صفحات :24)                          14…نورہدایت(کل صفحات :32)


 

15…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط3)(سنّتِ نکاح)(کل صفحات :86)                             16…سنگرکی توبہ(کل صفحات:32)

17…شادی خانہ بربادی کے اسباب اوران کا حل(کل صفحات :16)                             18…بیٹےکی رہائی(کل صفحات :32)

19…پانچ روپےکی برکت سےسات شادیاں (کل صفحات:32)                              20…پراسرارکتا(کل صفحات :27)

21…آداب مرشدِ کامل(مکمل پانچ حصے)(کل صفحات:275)                                22…نادان عاشق(کل صفحات:32)

23…اوباش دعوتِ اسلامی میں کیسےآیا؟(کل صفحات:32)                                  24…غافل درزی(کل صفحات :36)

25…غریب فائدےمیں ہے(بیان 1)(کل صفحات:30)                                    26…جنوں کی دنیا(کل صفحات :32)

27…میں نے ویڈیوسینٹر کیوں بند کیا؟(کل صفحات:32)                                   28…چمکدارکفن(کل صفحات :32)

29…دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں (کل صفحات :220)                                    30…اجنبی کا تحفہ(کل صفحات :32)

31…اداکاری کاشوق کیسےختم ہوا؟(کل صفحات:32)                                       32…روحانی منظر(کل صفحات:32)

33…جوانی کیسےگزاریں ؟(بیان2)(کل صفحات:32)                           34…کینسرکاعلاج(کل صفحات :32)

35…میں نے مدنی برقع کیوں پہنا؟(کل صفحات :33)                          36…مردہ بول اٹھا(کل صفحات:32)

37…مخالفت محبت میں کیسے بدلی؟(کل صفحات:33)                                       38…شرابی کی توبہ(کل صفحات :33)

39…چمکتی آنکھوں والے بزرگ(کل صفحات:32)                                       40…خوشبودارقبر(کل صفحات:32)

41…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط1)(کل صفحات:49)                                         42…دلوں کاچین(کل صفحات:32)

43…چل مدینہ کی سعادت مل گئی(کل صفحات :32)                                       44…بھیانک حادثہ(کل صفحات :30)

45…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط2)(کل صفحات:48)                                        46…بابرکت روٹی(کل صفحات :32)

47…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط4)(کل صفحات :49)                                        48…آنکھوں کاتارا(کل صفحات :32)

49…نومسلم کی دردبھری داستان(کل صفحات :32)                                       50…کفن کی سلامتی(کل صفحات:32)

51…والدہ کانافرمان امام کیسےبنا؟(کل صفحات :32)                                        52…مدینے کامسافر(کل صفحات :32)

53…نورانی چہرے والے بزرگ(کل صفحات :32)                                       54…بدنصیب دولہا(کل صفحات :32)

55…بداطوارشخص عالِم کیسےبنا؟(کل صفحات:32)                                        56…اسلحے کا سوداگر(کل صفحات :32

57…والدین کےنافرمان کی توبہ(کل صفحات:32)                                        58…بدکردارکی توبہ(کل صفحات :32)

59…بریک ڈانسرکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32)                                         60…باکردارعطاری(کل صفحات:32)

61…قاتل امامت کے مصلے پر(کل صفحات :32)                                          62…بے قصورکی مدد(کل صفحات :32)

63…معذور بچی مبلغہ کیسے بنی؟(کل صفحات :32)                                         64…ہیروئنچی کی توبہ(کل صفحات :32)

65…عطاری جن کا غُسْلِ میِّت(کل صفحات:24)                                          66…راہِ سنّت کامسافر(کل صفحات :32)

67…ولی سے نسبت کی برکت(کل صفحات :32)                                          68…عجیب الخلقت بچی(کل صفحات:32)


 

69…ڈانسربن گیاسنتوں کاپیکر(کل صفحات:32)               70…قبرستان کی چڑیل(کل صفحات :24)

71…ڈانسرنعت خوان بن گیا(کل صفحات:32)                72…فلمی اداکارکی توبہ(کل صفحات :32)

73…اغواشدہ بچوں کی واپسی(کل صفحات :32)                74…سینما گھر کا شیدائی(کل صفحات:32)

75…ساس بہو میں صلح کا راز(کل صفحات :32)               75…سینگوں والی دلہن(کل صفحات :32)

77…خوفناک دانتوں والا بچہ(کل صفحات :32)                78…حیرت  انگیزحادثہ(کل صفحات:32)

79…نشے بازکی اصلاح کاراز(کل صفحات:32)                80…میں نیک کیسے بنا؟(کل صفحات :32)

81…شرابی،مؤذن کیسے بنا؟(کل صفحات :32)                82…حیرت انگیزگلوکار(کل صفحات:32)

83…کرسچین مسلمان ہوگیا(کل صفحات :32)                84…کالے بچھوکاخوف(کل صفحات:32)

85…مفلوج کی شفایابی کاراز(کل صفحات:32)                86…بری سنگت کاوبال(کل صفحات :32)

87…بدچلن کیسےتائب ہوا؟(کل صفحات:32)                88…میوزکل شوکامتوالا(کل صفحات :32)

89…جھگڑالوکیسےسدھرا؟(کل صفحات:32)                90…چندگھڑیوں کا سودا(کل صفحات :32)

91…کرسچین کاقبولِ اسلام(کل صفحات :32)                92…رسائل مدنی بہار(کل صفحات :368)

93…جرائم کی دنیاسے واپسی(کل صفحات :32)                94…مجوسی کاقبول اسلام(کل صفحات:62)

95…بھنگڑے بازسدھرگیا(کل صفحات :32)                96…مدنی ماحول کیسےملا؟(کل صفحات:56)

97…ماڈرن نوجوان کی توبہ(کل صفحات :32)                98…عمامہ کےفضائل(کل صفحات:517)

99…خوش نصیبی کی کرنیں (کل صفحات :32)                100…ڈاکوؤں کی واپسی(کل صفحات:32)

101…ڈرامہ ڈائریکٹرکی توبہ(کل صفحات :32)                102…میٹھےبول کی برکتیں (کل صفحات:32)

103…جواری وشرابی کی توبہ(کل صفحات:32)                104…فیضانِ امیراہلسنّت(کل صفحات :101)

105…صلوٰۃوسلام کی عاشقہ(کل صفحات :33)                106…گلوکارکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32)

107…سنّت رسول کی محبت(کل صفحات :32)                108…میں حیادار کیسے بنی؟(کل صفحات:32)

(شعبہ اولیاوعلما)

01…فیضانِ بہاؤالدین ذکریاملتانی(کل صفحات:74)   02…عطارکاپیارا(کل صفحات:166)                04…فیضانِ حافظِ ملت(کل صفحات:32)

03…فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان(کل صفحات:62)   05…فیضانِ سلطان باہو(کل صفحات:32)           06…فیضانِ علامہ کاظمی(کل صفحات:70)

07…فیضانِ حضرت صابرپاک(کل صفحات:53)      08…فیضانِ پیرمہرعلی شاہ(کل صفحات:33)        09…فیضانِ عثمان مروندی(کل صفحات:43)

10…فیضانِ خواجہ غریب نواز(کل صفحات:32)       11…فیضانِ بابافریدگنج شکر(کل صفحات:115)         12…فیضانِ داتاعلی ہجویری(کل صفحات:84)

13…فیضانِ سیداحمدکبیررفاعی (کل صفحات:33)

(شعبہ بیانات دعوتِ اسلامی)

01…باطنی بیماریوں کی معلومات(کل صفحات:352)                           02…گلدستَۂ درودوسلام(کل صفحات:660)


 

مجلس المد ینۃ العلمیہ کی معاونت سےدیگرمجالس کی کُتُب

(مجلِسِ افتاء)

01…ویلنٹائن ڈے(قرآن وحدیث کی روشنی میں )(کل صفحات:34)             02تا09…فتاوٰی اہلسنّت(آٹھ حصے)

10…مالِ وراثت میں خیانت مت کیجئے(کل صفحات:42)                                    11…عقیدۂ آخرت(کل صفحات:41)

12…کرسی پرنمازپڑھنےکےاحکام(کل صفحات:34)                                       13…فتاوٰی اہلسنّت احکامِ زکوٰۃ(کل صفحات:612)

(مرکزی مجلِسِ شُورٰی)

01…مدنی کاموں کی تقسیم کےتقاضے(کل صفحات:73)                                    02…کامل مرید(کل صفحات:48)

03…گستاخِ رسول کاعملی بائیکاٹ(کل صفحات:52)                                       04…وقفِ مدینہ(کل صفحات:86)

05اللہوالوں کااندازِتجارت(کل صفحات:68)                                        0612مدنی کام(کل صفحات:72)

07…فیصلہ کرنےکےمدنی پھول(کل صفحات:56)                                       08…عشق رسول(کل صفحات:54)

09…صحابی کی انفرادی کوشش(کل صفحات:124)                                        10…مقصدِحیات(کل صفحات:60)

11…یہ وقت بھی گزرجائےگا(کل صفحات:39)                                           12…جنت کاراستہ(کل صفحات:56)

13…رسائل دعوت اسلامی(کل صفحات:422)                                          14…فیضانِ مرشد(کل صفحات:46)

15…شوہرکوکیساہوناچاہئے؟(کل صفحات:47)                                           16…بیٹی کی پرورش(کل صفحات:72)

17…پیرپراعتراض منع ہے(کل صفحات:59)                                             18…موت کاتصور(کل صفحات:44)

19…علماپراعتراض منع ہے(کل صفحات:34)                                             20…بیٹےکی وصیت(کل صفحات:36)

21…تنظیمی کاموں کی تقسیم(کل صفحات:50)                                            22…پیارےمرشد(کل صفحات:48)

23…ایک زمانہ ایساآئےگا(کل صفحات:51)                                               24…علم وعلماکی شان(کل صفحات:51)

25…ہمیں کیاہوگیاہے؟(کل صفحات:116)                                             26…جامع شرائط پیر(کل صفحات:87)

27…گناہوں کی نحوست(کل صفحات:112)                                              28…برائیوں کی ماں (کل صفحات:112)

29…ایک آنکھ والاآدمی(کل صفحات:48)                                                30…سیرتِ ابودرداء(کل صفحات:75)

31…سوداوراس کاعلاج(کل صفحات:92)                                               32…صدقےکاانعام(کل صفحات:60)

33…احساسِ ذمہ داری(کل صفحات:50)                                                34…غیرت مندشوہر(کل صفحات:47)

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 



[1]دلائل النبوة للبیھقی، باب تحریض النبی اصحابہ علی القتال، ۳/ ۲۳۳

[2]ربیع الابرار،الباب السادس، الطبقة الاولى الذين ادركوا الجاهلية والاسلام،۲/ ۴۸۳

[3]…بخاری،کتاب الصلاة،باب التعاون فی بناء المسجد،۱/ ۱۷۱،حدیث:۴۴۷

[4]…وہ گمراہ فرقہ جوجنگِ صفّین کےموقع پرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکااس وجہ سے مخالف ہوگیاتھاکہ انہوں نےحضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےجنگ بندی کےلئےثالثی قبول کرلی تھی۔خوارج کے نزدیک گناہِ کبیرہ کامرتکب کافرہے۔

(شرح العقائدالنسفیة،ص۲۵۳۔النبراس،ص۲۲۶)

[5]الازمنة والامکنة،الباب الثامن والخمسون،فی معرفة ایام العرب فی الجاھلیة،ص۵۱۵

[6]بخاری،کتاب الاطعمة، باب الحیس، ۳/ ۵۳۴، حدیث: ۵۴۲۵، غلبة بدلہ ضلع

[7]مسلم، کتاب الزھد، باب النھی عن المدحالخ، ص ۱۵۹۹، حدیث: ۳۰۰۲

[8]ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعة، ۴/ ۵۲۲، حدیث: ۴۳۰۸

[9]مسندامام احمد، حدیث نعمان بن بشیر، ۶/ ۳۹۴، حدیث: ۱۸۴۷۶

[10]بخاری، کتاب التفسیر، باب لیغفر لک اللّٰہالخ، ۳/ ۳۲۹، حدیث: ۴۸۳۷

[11]مقاصدالحسنة،حرف اللام، ص ۳۵۱، حدیث: ۸۹۲

[12]…یعنی ان سےبھلائی کرنےکی وجہ سےتمہیں برائی ہی پہنچےگی۔(علمیہ)

[13]فضیلة الشکر، ماذکرہ من کفر الصنیعة، ۱/ ۷۰، حدیث: ۱۰۳

[14] ابن ماجہ،کتاب الصیام،باب فیمن قال الطاعم الشاکر کالصائم الصابر،۲/۳۵۵،حدیث:۱۷۶۴،مفھومًا عن ابی ھریرة

                             معجم اوسط،۱/ ۱۸،حدیث:۲۹ مختصرًاعن ابن عمر

[15]ابو داود، کتاب الزکاة، باب عطیة من سال اللّٰہ، ۲/ ۱۷۸، حدیث: ۱۶۷۲

[16]شعب الایمان، باب فی ردالسلام، ۶/ ۵۱۸، حدیث: ۹۱۲۵