اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
سرکارِ عالی وقار، محبوبِ رَبِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عافیت نشان ہے: قیامت کے روز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَرْش کے سِوا کوئی سایہ نہ ہو گا، تین۳ شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَرْش کے سائے میں ہوں گے: (۱)...وہ شخص جو میرے اُمَّتی کی پریشانی دُور کرے (۲)... میری سنّت زندہ کرنے والا (۳)...مجھ پر کثرت سے دُرود پڑھنے والا۔([1])
؎ نبی کی شان میں ہو جس قدر دُرود پڑھو
مُحِبّو! پاؤ گے جنت میں گھر دُرود پڑھو
بچاوے تم کو جو دوزخ سے ایسے مُحْسِن پر
سدا سلام کہو عُمْر بھر دُرود پڑھو([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمائے صدیاں بِیت چکی تھیں، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بہت سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے جنہوں نے لوگوں کو شِرک وکفر سے باز رہنے کی تلقین کی، خدائے واحِد ویکتا کی عِبادت کی طرف بلایا،انہیں بداعمالیوں کے بُرے انجام سے خبردار کیا اور نیک اعمال کی جزا وثواب سے مُتَعَلِّق بتا کر بہت ساروں کو اعمالِ حسنہ کا پیکر بنایا۔
اس دوران زمانے نے بہت اُتار چڑھاؤ دیکھے؛ کبھی حضرت سیِّدنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مسحور کُن اور دلوں کو چُھو لینے والی مُبَارک آواز کے کرِشمات کا نظارہ کیا جسے سُن کر انسان اور جانور مدہَوش ہو جاتے، چَرند پَرند پناہ گاہوں سے باہر آ جاتے، شِیر خوار (دودھ پیتے) بچے رونا بھول کر ہمہ تن گوش (یعنی پوری طرح مُتَوجِّہ) ہو جاتے اور اس مُبَارک آواز کے سوز وگُداز میں ڈوب کر کئی افراد کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی اور کبھی ان کے مُقَابَلے میں شیطان بھی نظر آیا جس نے سَعَادت مندوں کے اس پاکیزہ و پُرنور اجتماع میں رَخْنَہ(فساد) ڈالنے اور لوگوں کو راہِ ہِدایَت سے گم راہ کرنے کے لئے بانسری وطنبورہ ایجاد کیا اور محفلِ موسیقی جما کر شَرِیر وبدبخت لوگوں کو اپنا پیروکار بنایا؛ پھر حضرت سیِّدنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس عظیم اور بےمثال سلطنت کا منظر بھی نظر آیا جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
سَطْوَت وہیبت سے جِنَّات بھی تھرتھرا اُٹھتے تھے، چَرند پَرند حیوانات اور جمادات تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تاِبع فرمان تھے؛ اس کے عِلاوہ بہت ساری قوموں کے عُرُوج وزوال کی داستانیں بھی محفوظ کیں ...اور... اب حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عہدِ مُبَارک ہے۔ اسی دَور کی بات ہے.....
خاندانِ بنُو ماثان بنی اِسرائیل کے سرداروں، بادشاہوں اور عُلَما کا خاندان تھا۔([3]) حضرت سیِّدنا عِمران بن ماثان رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ اسی عالی رُتبہ خاندان کے چشم وچراغ تھے، بہت مُتَّقی و پرہیزگار اور صالِح مرد تھے، بنی اسرائیل کے سرداروں میں آپ کا شُمار ہوتا تھا۔ حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہم زُلْف بھی تھے یعنی ان کی زوجہ محترمہ حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ محترمہ کی بہن تھیں۔ باوجود یہ کہ ان کی شادی کو عرصۂ دراز ہو چکا تھا، ابھی تک اولاد کی نعمت سے بہره وَر نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ہر شادی شدہ جوڑے کی طرح ان کے دل بھی اولاد کے لئے بےچین تھے اور آنکھیں بڑی بےقراری سے ان پُرمَسَرَّت گھڑیوں کے انتظار میں تھیں جب ان کے سامنے ان کے ہنستے مسکراتے بچے کھیل رہے ہوں مگر ابھی تک قسمت نے یاوَری نہیں کی اور ان کا یہ شجرِ امید بار آور نہ ہو سکا لیکن چونکہ یہ صالحین کا خاندان تھا اس لئے کبھی زبان پر حرفِ شکایت نہ لائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا میں راضی رہے۔ وقت گزرتا رہا اور اب یہ عمر کے اس حصے کو پہنچ چکے تھے جس میں عام طور پر اولاد ہونے کی امید ختم ہو جاتی ہے لیکن یہ ناامید نہیں تھے، ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی
قدرت ورحمت پر اِنہیں پورا بھروسا اور كامِل يقين تھا، ان پر یہ حقیقت آشکار تھی کہ اولاد کا جلد یا بہ دیر ہونا یا سِرے سے عطا ہی نہ ہونا سب خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی مشیت واِرادے پر مَوْقُوف ہے جس میں اس کی لاتعداد حکمتیں پنہاں ہیں، وہ خالقِ بےنیاز عَزَّ وَجَلَّ جب چاہے، جسے چاہے جس چیز سے چاہے نواز دےاور جب، جس سے جو چیز چاہے روک لے۔ اسے اپنی قدرت کے اِظہار کے لئے کسی سبب اور عِلَّت کی حاجت نہیں، یقیناً وہ پاک ذات اس پربھی قادِر ہے کہ ہمیں اس پِیرانہ سالی (Old age) میں اولاد کی نعمت سے بہرہ وَر فرمائے اور ہماری خالی جھولی بھر دے... بہرحال دن گزرتے رہے پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کی زوجہ محترمہ جن کا نام حَنَّہ تھا، کے دل میں اولاد کی مَحبَّت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور زیادہ مَوْج زَن ہو گیا، طبیعت میں اِضطراب برپا ہوا، اَرمان مچلنے لگے، آتَشِ شوق کچھ اور بھڑک اُٹھی اور یہ بڑی ہی عاجزی واِنکساری کے ساتھ بارگاہِ ربِّ باری میں ملتجی ہوئیں، دُعا کی اور اولاد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وَقْف کرنے کی نَذر مان لی...دلِ بےقرار سے نکلی ہوئی یہ بےتاب آرزو بارگاہِ ربِّ ذُوْالجلال میں شَرَفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی اور آثارِ حمل ظاہِر ہو گئے۔
ہوا کچھ اس طرح کہ ایک دن یہ کسی دَرَخْت کے سائے تَلے بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک پَرندے پر نظر پڑی جو اپنے بچوں کو دانہ کھِلا رہا تھا۔ اس سے آپ کے دل میں اولاد کا شوق مَوْج زَن ہوا اور دُعا کی کہ ”اَللّٰھُمَّ لَکَ عَلَیَّ اِنْ رَزَقْتَنِیْ وَلَدًا اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہٖ عَلٰی بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَیَکُوْنُ مِنْ سَدَنَتِہٖ وَخِدَمِہٖ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیرے لیے نَذْر مانتی ہوں کہ اگر تُو
نے مجھے اولاد کی نعمت سے نوازا تَو میں اُسے بیت المقدس کے لیے وَقْف کر دوں گی تاکہ وہ اس کے مُجَاوِروں اور خادِموں میں سے ہو۔“ پھر کچھ دنوں بعد حامِلہ ہو گئیں۔([4]) پِیرانہ سالی (Old age) میں اولاد کے آثار نمودار ہوتے دیکھ کر انہیں بڑی مَسَرَّت ہوئی، سمجھیں کہ میرے پیٹ میں لڑکا ہے اور”سابقہ نَذر کی تجدِید کرتے ہوئے پھر سے وہی نذر مان لی کہ میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وَقْف کرتی ہوں۔“ ([5]) قرآنِ کریم ان کی اس نذر کو یوں بیان فرماتا ہے:
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵)(پ٣، آلِ عمران:٣٥)
ترجمۂ کنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عَرْض کی اے ربّ میرے میں تیرے لئے مَنَّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تَو تُو مجھ سے قبول کر لے بےشک تُو ہی ہے سنتا جانتا۔
واضح رہے کہ اس زمانہ میں یہ رَواج تھا کہ بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکے وَقف کئے جاتے تھے کہ وہ بُلُوغ (بالغ ہونے) تک وہاں کی خدمت کرتے، بالغ ہو کر انہیں اِختیار ملتا کہ خواہ اسی کام میں مَشغُول رہیں یا دُنْیَوی کاروبار کریں لیکن اگر وہ یہاں قیام اِختیار کر لیتے تو پھر انہیں دُنْیَوی کاروبار کا اِختیار نہ رہتا تھا۔ یہ بچے اپنے ماں باپ کی خدمت گھر کے کام کاج سے بالکل دُور رکھے جاتے تھے چونکہ بنی اسرائیل میں نہ مالِ غنیمت آتا تھا نہ قیدی، اس لئے اس وَقْف کا رَواج تھا، کوئی نبی ایسا نہ گزرا جس کی نسل میں بیت المقدس کی خدمت
کے لئے مُحَرَّر (وَقْف)نہ ہوئے ہوں۔([6]) نیز صرف لڑکوں کو ہی وَقْف کیا جاتا تھا کیونکہ لڑکیاں عورتوں والے مسائل اور زنانہ کمزوریوں اور مَردوں کے ساتھ نہ رِہ سکنے کی وجہ سے اس خدمت کے قابِل نہ سمجھی جاتی تھیں۔([7]) یہی وجہ ہے کہ نذر ماننے کے بعد جب حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اپنے شوہر حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کو اس بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگے: ”افسوس! یہ تم نے کیا کیا، سوچو تو سہی! اگر تمہارے پیٹ میں بجائے لڑکے کے لڑکی ہوئی تَو لڑکی تو اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتی (پھر تمہاری نَذْر کیسے پوری ہو گی؟)“ اس سے ان دونوں صاحِبوں کو شدید فِکْر لاحِق ہو گئی، پھر حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے وضعِ حمل سے پہلے ہی حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کا انتقال ہو گیا۔([8]) یہ حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکے لیے بہت بڑی آزمایش تھی جس میں یہ صبر واِستقامت کے سہارے پوری اتریں۔
شب وروز گزرتے رہے پھر ایک دن وہ پُرمَسَرَّت گھڑی بھی آ پہنچی جب حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکے ہاں بیٹی کی وِلادت ہوئی، یہ ان کے لیے بڑی خوشی کا موقع تھا مگر چونکہ بیٹے کی امید پر یہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کرنے کی نذر مان چکی تھیں اور اب خِلَافِ امید لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کے باعِث نذر پوری ہونا بہ ظاہِر ناممکن ہو گیا تھا لہٰذا ایک نعمت وعِبادت سے مَحْرُومی پر اِنہیں افسوس ہوا، پارہ تین۳، سورۂ آلِ عمران، آیت
نمبر 36 میں ہے:
قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ- (پ٣، آلِ عمران:٣٦)
ترجمۂ کنزالایمان: بولی اے ربّ میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی۔
مفسر شہیر، حکیم الامت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (حضرت حَنَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا اپنے) اس (کلام) سے مقصود ربّ کو خبر دینا نہیں بلکہ فقط اِظْہَارِ غم ہے کہ نَذْر کا پورا ہونا بظاہر ناممکن ہو گیا، آپ کا یہ غم بےصبری یا ناشکری کا نہ تھا بلکہ ایک نعمت یا ایک عِبادت سے محرومی کا تھا کہ بیٹا ہوتا تو خدمتِ بیت المقدس کرتا مجھے دائمی ثواب پہنچتا، لڑکی نہ یہ کام کر سکے گی نہ مجھے اجر ملے گا۔ بےصبری کا غم برا ہے محرومی کا غم وحسرت عبادت۔ ایک فقیر اپنے مالدار نہ ہونے پر اس لئے غم کرتا ہے کہ اگر میں مالدار ہوتا تو دوسروں کی طرح میں سینما دیکھتا، شراب پیتا تو یہ مُجْرِم ہے اگر اس لئے غم کرتا ہے کہ میں مالدار ہوتا تو کوٹھیاں، موٹر تیار کرتا نہ مُجْرِم ہے نہ ثواب کا مستحق۔ اگر اس لئے غم کرتا ہے کہ میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں بھی زکوٰۃ دیتا، حج کرتا وغیرہ یہ غم عِبادت ہے اور یہ فقیر ان عبادات کا ثواب پائے گا۔ آپ کا یہ غم اس تیسری قسم کا تھا یعنی عَرْض کیا کہ مولیٰ! یہ کیا ہوا میں نے تو لڑکی جنی...اب اپنی نذر کیسے پوری کروں...!! ([9])
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...!! پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہاں ایک بات بڑی قابِلِ تَوَجُّہ ہے کہ مدّتوں اِنتظار کے بعد جب کوئی اُمِّید بر آتی اور کوئی آرزو پوری ہوتی ہے تو دل کو بےحد فرحت وخوشی کا اِحساس ہوتا ہے، ایسے میں کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی یہ خوشی وشادمانی
وقتی اور عارضی ثابِت ہو لہٰذا وہ اسے دائمی بنانے اور باقی رکھنے کی ہر ممکن تدبیر کرتا ہے پھر بات جب اولاد کی ہو اور وہ بھی ایسی جو برسہا برس اِنتِظار اور بڑی مَنَّت مُرَاد کے بعد حاصِل ہوئی ہو تو کوئی ماں باپ اس کا ایک لمحے کے لیے بھی آنکھوں سے اَوجھل ہونا گوارا نہیں کرتے، اس کی ہر ضِد پوری کرتے اور اسے ہر خوشی مُہَیَّا کرنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ اس طَور پر یہ وَقْت ان وَالِدَین کے لیے بہت پُرآزمایش بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے گُزَشتہ عہدوپیماں جو اُنہوں نے اولاد کے سلسلے میں کیے تھے کہ اسے عالِم یا حافِظ بنائیں گے یا وَقْفِ مدینہ (یعنی دین کے کاموں کے لیے وَقْف) کر دیں گے وغیرہ وغیرہ، پر کس قدر قائم رہتے ہیں کیونکہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے یا اسے کسی چیز کی آرزو ہوتی ہے تو بڑی بڑی نذریں مان لیتا ہے لیکن جب ان آرزوؤں اور اُمیدوں کی تکمیل ہو جاتی ہے تو ان میں اس قدر مگن ہوتا ہے کہ پہلے کیے ہوئے تمام عہد وپیماں سے یکسر غافِل ہو جاتا ہے اور بہت دَفعہ تو ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے؛ لیکن قربان جائیے حضرت سیِّدَتُنا حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اِیفائے عہد (وعدہ پورا کرنے) اور خدمتِ دین کے جذبے پر، آپ کا یہ گِرَاں قدر جذبہ صد کروڑ مرحبا...!! دیکھئے! ایک ہی اِکلوتی بیٹی ہے جو طویل عرصہ اِنتِظار اور بڑی مَنَّت مُرَاد کے بعد عطا ہوئی ہے پھر باوجود یہ کہ لڑکیوں کو خدمتِ بیت المقدس کے لیے قُبول نہیں کیا جاتا لیکن آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا اپنی نذر کی تکمیل کی فِکْر میں ہیں، خدا تعالٰی کی بارگاہ میں کیا ہوا اپنا عہد وفا (پورا) کرنے کے لیے بےچین ہیں، سُبْحٰنَ اللہِ ... سُبْحٰنَ اللہِ ...کاش! حضرت سیِّدَتُنا حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اخلاص اور نذر پوری کرنے کے اس جذبۂ صادِق کے صدقے ہمیں بھی ایسی توفیق نصیب ہو کہ رضائے
الٰہی کو ہر شے پر مُقَدَّم جانیں اور اِس سلسلے میں پیش آنے والی کسی مصیبت وپریشانی کو خاطر میں نہ لائیں۔
؎ عَطا اَسْلاف کا جَذبِ دَرُوں کر!
شريک زُمرۂ لَا يَحْزَنُوْں کر!
خرَد کی گتھياں سلجھا چکا ميں
مرے مولا! مجھے صاحِبِ جُنُوں کر!([10])
(یعنی اے مالِک و مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اَسلاف کے قلبی اِحساسات اور جَذبات عطا فرما اور تیرے وہ محبوب بندے جنہیں بروزِ قیامت کوئی غم نہیں ہوگا مجھے بھی ان میں شامِل فرما ، میں عقل کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں اب مجھے عشقِ حقیقی کی دولت عطا فرمادے۔)اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
بہرحال حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اس بچی کا نام رکھا اور چونکہ آپ اسے بیت المقدس میں رکھنے کی نِیَّت کر چکی تھیں اس لیے اسے اور اس کی اولاد کے لیے شیطان سے محفوظ رہنے اور صالح وپرہیزگار ہونے کی دعا کی اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کی طرف چل دیں۔
بیت المقدس میں اس وقت چار۴ ہزار خُدَّام رہتے تھے اور ان کے سردار ستائیس یا ستر تھے۔ جن کے امیر حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے۔([11]) حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا
اپنی بیٹی کو لے کر جب یہاں پہنچیں تو اسے یہاں کے عُلَماء کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا: یہ میری بیٹی ہے جسے میں نے (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عِبَادت اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے) آزاد (یعنی وَقْف) کر دیا ہے۔ اگرچہ لڑکیاں اس خدمت کی صلاحیت نہیں رکھتیں مگر (چونکہ میں اسے وَقْف کر چکی ہوں اس لیے) میں اسے لوٹا کر گھر بھی نہیں لے جا سکتی لہٰذا آپ حضرات میری یہ نذر قبول فرما لیجئے۔([12])
حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا یہ صِدْق واِخلاص، بارگاہ ربِّ ذُوْالجلال میں نذر پیش کرنے کا یہ جوش وجذبہ اور اولاد کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کرنے کی سچی لگن بارگاہِ الٰہی میں شَرَفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی چنانچہ جب آپ نے بچی کو عُلَما کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے اس کی پَروَرِش ونگہداشت کی ذِمَّہ داری اُٹھانے کو قابِلِ افتخار خیال کیا اور ہر کسی نے اسے اپنی کفالت میں لینے میں رغبت ظاہِر کی کیونکہ یہ اُن کے سردار حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کی لختِ جگر تھیں۔ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (جو اُن عُلَما کے سردار اور بچی کے خالو تھے) نے فرمایا: میں اس کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کیونکہ اس کی خالہ میرے گھر ہے۔ یہ سن کر دیگر عُلَما نے کہا: اس بچی کی پَروَرِش ونگہداشت کی فضیلت حق داری کی بِنا پر نہیں مل سکتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ ماں اس بات کی سب سے زیادہ حق دار ہے جس نے اسے جنم دیا لہٰذا ہم قُرعَہ ڈالیں گے اور جس کے نام قُرعَہ نکلے وہی اس کے نان نَفَقَہ کا ذِمَّہ دار ہو گا۔([13])
اس کے بعد یہ حضرات نہرِ اُردَن کی طرف قلم لے کر چلے جس سے وَحی لکھتے تھے اور طے یہ ہوا کہ جس کا قلم پانی میں نہ ڈوبے نہ بہہ جائے وہ اس کی کفالت کی ذمہ داری اُٹھائے اور جس کا قلم ڈوب جائے یا بہہ جائے وہ اس کا مستحق نہیں چنانچہ ایسا کیا گیا، سب کے قلم ڈوب گئے یا بہہ گئے مگر حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قلم پانی میں ٹھہرا رہا۔ بعض رِوَایتوں میں ہے کہ تین بار قُرعَہ ڈالا گیا اور ہر دفعہ قُرعَہ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نام ہی نِکلا لہٰذا اس کی کفالت کی ذِمَّہ داری بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس چلی گئی۔([14]) اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑی محبت وشفقت سے اس کی پَروَرِش میں مشغول ہو گئے۔
کہا جاتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بیت المقدس میں فرشِ مسجِد سے قدرے بلند ایک کمرہ بنایا اور وہاں اس بچی کو رکھا یہاں سِوائے آپ کے اور کوئی نہ جاتا تھا۔ اشیائے خُورد ونَوش وغیرہ سامانِ ضرورت بھی آپ ہی لے کر جاتے([15]) اور واپَسی پر تمام دروازے بند کر کے قفل لگا آتے۔([16]) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب خُورد و نَوش کا سامان لے کر وہاں پہنچتے تو اس بچی کے پاس بےموسم کے پھل یعنی گرمی کے پھل سردی میں اور سردی کے پھل گرمی میں پاتے۔([17]) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروِی ہے کہ
یہ جنت کے پھل ہوتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس بچی نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا بلکہ یہ پھل اس کے لیے دودھ کا بَدَل تھے۔([18])
ایک مرتبہ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے مُخَاطَب کر کے پھلوں کے بارے میں پوچھا کہ
اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ- (پ٣، آل عمران:٣٧) ترجمۂ کنزالایمان: یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟
آپ کا یہ سُوال نہ تو بےخبری سے تھا نہ تعجب یا حیرت سے کہ آپ تو جانتے تھے کہ یہ جنّتی پھل ہیں۔ یہ سوال اس بچی کی فہم وسمجھ آزمانے کے لیے تھا۔([19])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ...!!! بچپن کی اس ننھی سی عمر شریف میں اس بچی نے کیسا ایمان افروز جواب دیا...کہنے لگیں:
هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷) (پ٣، آلِ عمران:٣٧)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بےگنتی دے۔
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ...کیسا نفیس جواب ہے اور کیا جامِع کلام ہے...!!اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کی ذات کو جانتی ہیں، اس کے صِفات کو بھی (کہ) وہ رازِق ہے، اس کی قدرت کو بھی کہ وہ جنَّت کے پھل دنیا میں بھیج سکتاہے (نیز) جنَّت کو بھی جانتی ہیں، وہاں کے پھل بھی پہچانتی ہیں بلکہ لانے والے فرشتہ کو بھی پہچانتی ہیں کہ یہ فرشتہ ہے
جنت سے پھل لایا ہے۔([20])
حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب بچی کی یہ کرامت دیکھی کہ ان کے پاس بے موسم جنَّتی پھل آتے ہیں اور ان کا وہ دل خوش کُن جواب بھی سنا تو قدرَتی طور پر آپ کے دل میں فرزند کا شوق پیدا ہوا([21]) اور اس شوق نے آپ کو فرزند کے لیے دعا کرنے پر اُبھارا اگرچہ اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی زوجہ محترمہ دونوں عمر رسیدہ ہو چکے تھے اور اس عمر میں عام طور پر اولاد نہیں ہوا کرتی لیکن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نظر خالقِ اسباب پر رکھی کہ ”جو اس بچی کو بےموسم میوے دینے پر قادِر ہے اور جو خدمتِ بیت المقدس کے لیے بجائے لڑکے کے لڑکی اوربجائے جوان کے بچی کو قبول فرما لیتا ہے اور جو اس بچی کو بچپن میں بولنے کی طاقت دیتا ہے اور جو بغیر گمان رِزْق دینے پر قادِر ہے وہ مجھ جیسی عمر والے کو میری بانجھ بیوی سے اولاد بخشنے پر بھی قادِر ہے، چنانچہ اسی وَقْت اور اسی جگہ جہاں اس بچی سے یہ گفتگو ہوئی تھی، انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دُعا کی۔ یہ دُعا مُحَرَّم کی ستائیس تاریخ کو ہوئی۔ عرض کیا کہ اے مولیٰ! مجھے اس بڑھاپے میں خاص اپنی طرف سے ایک پاک وستھرا بیٹا عطا فرما، تُو دعاؤں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُو نے حَنَّہ کی دعا قبول کی تو میری دعا کو بھی ضرور قبول فرمائے گا۔“([22]) قرآنِ کریم میں ان کے اس جگہ دعا کرنے کا ذِکْر موجود ہے، چنانچہ پارہ تین۳، سورۂ آلِ عمران میں ہے:
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ-قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) (پ٣، آلِ عمران:٣٨)
ترجمۂ کنزالایمان: یہاں پکارا زَکَرِیَّا اپنے ربّ کو بولا اے ربّ میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی دُعا کو بھی شَرَفِ قبولیت بخشا اور کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک نیک وصالِح فرزند کی وِلادت ہوئی جس کا نام ”یحییٰ“ رکھا گیا۔ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح ان کے فرزند حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی منصبِ نبوت پر فائِز ہوئے۔
اللہ رَبُّ الْعِزّت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحِساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! خُلُوصِ نیت اور صِدْقِ دل سے کی گئی دعا اثر رکھتی ہے اور قبولیت سے قریب تر ہوتی ہے، دیکھئے! حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی دعا نے بارگاہِ ربِّ کریم میں کس درجہ مقبولیت پائی کہ باوجود پِیرانہ سالی (Old age) کے جبکہ عادَتاً اولاد ہونے کی امید دم توڑ جاتی ہے، انہیں ایسی شَرَف ورتبے والی بیٹی عطا فرمائی جو مادر زاد (پیدائشی) ولیَّہ تھی اور عَہْدِ شِیر خواری (دودھ پینے کی عمر) میں ہی اُس سے کرامات کا ظہور ہوا نیز یہ بھی حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی پُرخُلُوص دعا اور سچی لگن کا نتیجہ تھا جو اُن کی بیٹی کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے قبول کر لیا گیا اور یہ ایک عزت والے مقام یعنی خاص بیت المقدس میں، ایک نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سایۂ عاطِفَت میں پرورش پانے لگیں۔اسی طرح حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی دعا قبول فرما کر انہیں نیک وصالِح فرزند عطا فرمایا اور منصبِ نبوت سے نوازا۔ اس سے دعاؤں میں اِخْلَاص کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مفسر شہیر، حکیم الاُمّت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں: دُعا میں اِخلاص کا بڑا دخل ہے۔ حضرت حَنَّہ (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کے اِخْلاص نے نہ ہونے والی بات بھی کر دی کہ ان کی بیٹی کی نذر قبول ہوئی۔([23]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی اس نعمتِ عظمیٰ سے بہرہ وَر فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
؎ دے حسنِ اخلاق کی دولت
کر دے عطا اِخلاص کی نعمت
مجھ کو خزانہ دے تقویٰ کا
یااللہ! میری جھولی بھر دے([24])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! بیان کردہ واقعات میں فضل و شَرَف کی حامِل وہ عظیم بچی جسے پیدا ہوتے ہی ربّ تَـبَارَکَ وَتَعَالٰی کی عِبادت اور اس کے پاک گھر بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کر دیا گیا اور پرورش وتربیت کے لیے اسے ایک نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سایۂ عاطفت میسر آیا، عہدِ شِیر خواری میں ہی جس سے کرامات کا ظہور ہوا اور اس عمر میں ہی اس نے عقل ودانائی سے بھرپور نہایت جامِع کلام فرمایا، یہ باکرامت وَلِیَّہ...یہ خوش نصیب بچی
حضرت سیِّدَتُنا مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا تھیں۔
بنی اسرائیل کے بہت ہی معزز اور عالی رتبہ خاندان بنو ماثان سے آپ کا تعلُّق تھا۔ آپ کے والِدِ ماجِد حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِتھے جو قوم کے سردار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نیک، مُتَّقی اور پرہیزگار شخص تھے، والِدہ ماجِدہ حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا تھیں، یہ بھی ایک نیک وصالِح اور عِبادت گُزَار خاتون تھیں اور خالو جان حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی تھے۔ یوں حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو عزّت واِقبال اور فضیلت وبُزُرگی نے چاروں طرف سے اپنے نورانی حلقے میں لے رکھا تھا۔
قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا نام آپ کی والِدہ حضرت سَیِّدَتُنا حَنَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے رکھا تھا چنانچہ پارہ تین۳، سورۂ آلِ عِمران میں ہےکہ حضرت حَنَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے کہا:
وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ (پ٣، آلِ عمران:٣٦) ترجمۂ کنزالایمان:اور میں نے اس کا نام مریَم رکھا۔
مفسر شہیر، حکیم الاُمَّت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں: (حضرت حَنَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے) اس کلام کے چند مقصود ہیں: ایک حضرت مریم کی یتیمی کا اِظہار کیونکہ عِمران ان کی پیدایش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ لہٰذا عرض کیا: مولیٰ! نام رکھنا باپ کا حق ہے مگر چونکہ یتیمہ ہے اس لیے یہ کام میں ہی کرتی ہوں، اسی لیے فرمایا: à2 یعنی میں نے نام رکھا نہ باپ نے۔ دوسرا ربّ سے طَلَبِ
رَحم یعنی اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ)! یہ بچی یتیمہ ہے اس پر رَحم فرما۔ تیسرا اپنے ارادہ کی پختگی کا اظہار یعنی اے مولیٰ! اگر یہ بیت المقدس کی خدمت کے قابِل نہیں تو وہاں رہ کر عِبادت تو کر سکتی ہے میں اس سے خدمت نہ سہی وہاں عِبَادت ہی کراؤں گی اس لیے اس کا نام ”مریَم“ رکھتی ہوں یعنی عَابِدہ اور خَادِمَہ۔([25])
لَقَب سے مُراد وہ نام ہے جو کسی کو اس کی کسی اچھی یا بُری صفت کی بِنا پر دیا جاتا ہے،([26]) اسے وَصفی یا صِفاتی نام بھی کہتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو بہت عالی رُتبہ صِفات سے نوازا تھا اس بِنا پر آپ کے القاب بھی بہت زیادہ ہیں چنانچہ حضرت سیِّدنا علَّامہ مَجْدُ الدِّین فَیروز آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے قرآنِ عظیم سے ماخُوذ آپ کے بارہ اَلْقاب (صِفَاتی نام) ذِکْر کیے ہیں([27]) ان کے عِلاوہ احادیث اور کلامِ عُلَماء میں بھی آپ کے کئی اَلْقاب آئے ہیں، یہاں ان میں چند القاب اور ان کی وجوہات مُلَاحَظَہ کیجئے:
آپ کا ایک بہت مشہور لقب ”صِدِّیقہ“ ہے یہ قرآنِ کریم میں بھی آیا ہے چنانچہ پارہ چھ۶، سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 75 میں فرمایا جاتا ہے:
وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌؕ- (پ٦، المائدة:٧٥) ترجمۂ کنزالایمان:اور اس کی ماں صِدِّیقہ ہے۔
یہ لفظ ”صِدْق“ سے بنا ہے جس کا معنی ہے: سچ کہنا، سچ بولنا۔ سچ بولنے والے کو صَادِق کہتے ہیں یعنی سچا آدمی اور جس میں یہ صفت بدرجۂ کمال موجود ہو، جو ہمیشہ سچ بولے کبھی جھوٹی بات اس کی زبان سے نہ نکلے، جو زبان کا ہی نہیں دل اور عمل کا بھی سچا ہو اسے صِدِّیق کہا جاتا ہے چونکہ حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا بھی دل، زبان اور عمل ہر شے کی سچی تھیں اس لیے آپ کا لقب صِدِّیقہ ہے۔
تفسیرِ کبیر میں آپ کو صِدِّیقہ کہنے کی تین۳ اور وُجُوہ بیان کی گئی ہیں:
1. (صِدِّیقہ کا ایک معنی ہے: تَصْدِیق کرنے والی۔ چونکہ) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نِشانیوں اور ہر اس بات کی تصدیق کی جس کے بارے میں آپ کے فرزند اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ نے خبر دی (اس لیے آپ کو صِدِّیقہ کہا جاتا ہے) اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی اس صفت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ (پ٢٨، التحريم:١٢)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اس نے اپنے ربّ کی باتوں اور اس کی کِتابوں کی تصدیق کی۔
2. فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(۱۷) (پ١٦، مريم:١٧)
ترجمۂ کنزالایمان:تو اس کی طرف ہم نے اپنا رُوحانی (فرشتہ) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تَنْدُرُسْت آدمی کے رُوپ میں ظاہِر ہوا۔
جب حضرت جبرائیل عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُنے آپ سے گفتگو فرمائی اور (آپ کو بغیر والِد کے بیٹے کی وِلادَت کی خوش خبری سنائی اگرچہ یہ خبر انتہائی حیران کُن اور ناقابِلِ یقین تھی لیکن آپ نے اس سے انکار نہ کیا بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرتِ کامِلہ پر ایمان لائیں اور حضرت جبرائیل عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُنے جو فرمایا تھا)آپ نے اس کی تصدیق کی تو آپ کا نام صِدِّیقہ ہوا۔
3. آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا كے صِدِّیقہ ہونے سے مُراد گناہوں سے انتہا دَرَجہ کی دُوری اور آدابِ بندگی بجا لانے میں سخت مَشقَّت اور محنت کرنا ہے کیونکہ جو اس صِفَت میں کامِل ہوتا ہے اسے صِدِّیق کہا جاتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ([28])
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ- (پ٥، النساء:٦٩)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صِدِّیق اور شہید اور نیک لوگ۔
آپ کا دوسرا بہت مشہور لقب ”بَتُول“ ہے۔ سرکارِ عالی وَقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے شاہِ حَبَشَہ حضرت اَصحمہ نجاشی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دعوتِ اسلام کے لیے جو گِرَامی نامَہ (مکتوب) رَوانہ فرمایا تھا اس میں بھی یہ لقب موجود ہے، گِرامی نامے کے مُبَارَک الفاظ اس طرح منقول ہیں:”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مِنْ مُحَمَّدِ رَسُولِ اللّٰهِ اِلَى النَّجَاشِیِّ مَلِكِ الْحَبَشَةِ اَمَّا بَعْدُ! فَاِنِّیْ اَحْمَدُ اِلَيْكَ اللّٰهَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ السَّلَامَ الْمُؤْمِنَ الْمُهَيْمِنَ وَ اَشْهَدُ اَنَّ عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ رُوْحُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ اَلْقَاهَا اِلٰى مَرْيَمَ الْبَتُولِ الطَّيِّبَةِ الْحَصِيْنَةِ...الخ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے رسول مُحَمَّد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی طرف سے شاہِ حبشہ نجاشی کے نام!
میں تیرے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کرتا ہوں، جو بادشاہ ہے، نہایت پاک، سلامتی دینے والا، امان بخشنے والا اور حفاظت فرمانے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسیٰ بن مریم رُوْحُ الله اور کَلِمَةُ الله ہیں،جنہیں اُس نے مریم بَتُول، طیِّبہ (پاکیزہ)، حَصِینہ (پاک دامن) کی طرف اِلْقَاء فرمایا...الخ“([29])
بَتُول میں علیحدگی اور جُدائی کا معنی پایا جاتا ہے اور حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو بَتُول کہنے کی وجہ بھی یہ ہے کہ آپ ساری عمر نکاح سے علیحدہ رہ کر ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی عِبادت میں مصروف رہیں۔ خیال رہے کہ شہزادئ سَروَرِ کونین، خاتونِ جنّت حضرت سیِّدتُنا فاطمۃُ الزّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بھی بَتُول کہتے ہیں اور آپ کو بَتُول کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ حَسَب ونَسَب اور فضیلت وبُزُرگی میں اپنے زمانے کی عورتوں سے علیحدہ مقام پر فائز ہیں۔
یہ دونوں لقب بھی سروَرِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے اُسی مُبَارَک مکتوب میں مذکور ہیں جو آپ نے شاہِ حَبَشَہ حضرت اَصحمہ نجاشی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف روانہ فرمایا تھا۔
طَیِّبہ کا معنی ہے: پاکیزہ، عُمدہ، خوش گوار، خُوشْبودار وغیرہ۔ جو ظاہِری وباطِنی ہر قسم کی
گندگی سے پاک ہو، جس کے اَخلاق نہایت عمدہ وپاکیزہ ہوں، جو رَذِیل اور گھٹیا خصلتوں سے دُور اور فضائل وکمالات سے آراستہ ہو اسے طَیِّبہ کہا جاتا ہے چونکہ حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا ان تمام اَوْصَاف سے بَوجْہِ کمال متصف تھیں اس لیے آپ کو طَیِّبہ کہتے ہیں۔
حَصِیْنہ کا لفظ شادی شدہ اور پاک دامن دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ حضرت سیِّدَتنا مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے شادی نہیں کی لیکن آپ نے مکمل طور پر اپنی پارسائی کی حِفاظَت کی کہ کسی طرح کوئی بشَر آپ کی پارسائی کو چُھو نہ سکا اس لیے آپ کو حَصِیْنہ کہا گیا ہے۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا ایک اور مشہور لقب عَذْرَاء ہے۔ شاہِ حَبَشَہ حضرت اَصحمہ نجاشی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سوال کے جواب میں حضرت سیِّدنا جعفر طیّاررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو تقریر فرمائی تھی اس میں حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا یہ لقب بھی ذِکْر فرمایا تھا، نجاشی نے آپ سے پوچھا تھا کہ تمہارے نبی حضرت مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت عیسیٰ بن مریَم کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: يَقُوْلُ فِيْهِ قَوْلَ اللّٰهِ هُوَ رُوْحُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ اَخْرَجَهٗ مِنَ الْبَتُوْلِ الْعَذْرَاءِ لَمْ يَقْرَبْهَا بَشَرٌ یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَاس بارے میں وہی فرماتے ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہےکہ حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ ”رُوْحُ اللّٰه“اور ”کَلِمَةُ الله“ ہیں جنہیں اُس نے بَتُول، عَذْرَاء (یعنی حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) سے والِد کے بغیر پیدا فرمایا۔“([30])
عَذْرَاء کنواری عورت کو کہتے ہیں چونکہ حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے بھی ساری عمر نکاح نہیں فرمایا اور اپنی پارسائی کی مکمل طور پر حفاظت کی اس لیے آپ کو عَذْرَاء کہا گیا ہے۔
سلسلۂ نسب کے اعتبار سے آپ حضرت سیِّدنا سلیمان بن داود عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں۔ علّامہ ناصِرُ الدِّین عَبْدُ الله بن عُمر بیضاوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کا نسب یوں ذِکْر کیا ہے: مَريَم بِنْتِ عِمران (رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَمَا) بن ماثان بن عازار بن ابو يُوْذ بن يوزن بن زربابل بن ساليان بن يُوْحَنَّا بن اوشيا بن امون بن منشكن بن حازقا بن اخاز بن يوثام بن عوزيا بن يورام بن ساقط بن ايشا بن راجعيم بن سُلَيمَان (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) بن دَاوٗد (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)۔([31])
ابتدائے عمر کے ساتھ ہی آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا پر اللہ رَبُّ الْعِزّت کی خُصُوصی نَوَازِشات وعِنایات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا کبھی حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زیرِ کفالت آنے کی صورت میں تو کبھی جنّتی پھلوں سے لطف اندوز ہونے کی صورت میں کبھی بیت المقدس جیسی جائے مُقدَّس میں قیام ہونے کی صورت میں اور کبھی بچپن کی عمر میں ہی عقل ودانائی سے بھرپور جامِع کلام کی اِسْتِعْداد (Ability) عطا ہونے کی صورت میں، یہ سلسلہ یونہی جاری رہا اور آپ خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی رَحْمت ورِضْوَان کے سائے تلے زندگی کے روز وشب بسر
کرتے ہوئے پروان چڑھیں۔ پیدائشی ولیَّہ تو تھیں ہی پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے نبی حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پرورش اور آپ کی صحبت کی برکتیں بھی نصیب ہوئیں تو اس نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے کمالات اور بھی اعلیٰ واکمل ہو گئے۔
حضرت سیِّدَتُنا مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے انہیں لاتعداد فضائل وکمالات میں سے آپ کا حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایسے جلیل القدر نبی ورسول کی والِدہ ہونا بھی ہے۔ یہ ایسی فضیلت ہے جس سے آپ کی عظمت ورِفْعَت آفتابِ نیم روز (یعنی دوپہر کے وَقْت کے سورج) سے بھی زیادہ روشن اور واضح ہو جاتی ہے اور یہی وہ بات ہے جو خاص طور پر آپ کی وجہِ شہرت بنی اور جس سے تمام عالَم میں آپ کی عظمت دِلوں میں گھر کر گئی۔ حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کی وِلادت بغیر والِد کے ہوئی جو قدرتِ باری تعالیٰ کا ایک کرِشمہ تھا بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے جیسے چاہے کرے لیکن بعض بدباطِن لوگوں نے اس سبب سے آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کو جھٹلایا، آپ کی نبوت ورِسالت کی تکذیب کی اور مَعَاذَ اللہ! مَعَاذَ اللہ! آپ کی والِدہ ماجِدہ طَیِّبہ طاہِرہ صِدِّیقہ عفیفہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے پاکیزہ دامن کو تہمت کے داغ سے داغ دار کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ قرآنِ کریم نے ان بدبختوں کے اس ناپاک قول کی تَرْدِیْد کی ہے اور واضح لفظوں میں حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی پارسائی کا بیان فرمایا ہے لہٰذا آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی پارسائی وپاک دامنی کا اعتقاد رکھنا مسلمانوں کے ایمان کا حصّہ ہے۔ آئیے! اس بارے میں دارُ الْاِفتاء اہلسنّت کا ایک تحریری فتویٰ ملاحظہ کیجئے:
کیا فرماتے ہیں عُلَماء ِدین ومفتیان ِشرعِ متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا پر زِنا کی تہمت لگائے اس شخص کےبارے میں کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جو شخص حضرت مریم رَضِیَ اللہُ عَنۡہَا پر زنا کی تہمت لگائے وہ شخص یقینی قطعی کافِر ومُرتَد ہے کہ ایسا اِعتقاد رکھنا صریح قرآنی آیات کے خِلاف ہے۔ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قرآنِ مجید میں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَاکی پاک دامَنی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠(۱۲) (پ٢٨، التحريم:١٢)
ترجمۂ کنزالایمان:اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حِفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے ربّ کی باتوں اور اس کی كتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی۔
یونہی اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا(۲۰) (پ١٦، مريم:٢٠)
ترجمۂ کنزالایمان:بولی میرے لڑکا کہاں سے ہو گا مجھے تو نہ کسی آدمی نے ہاتھ لگایا نہ میں بدکار ہوں۔
اور ایسا اعتقاد رکھنے والے کے بارے میں اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا (پ٦، النساء:١٥٥) ترجمۂ کنزالایمان:بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے
یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪(۱۵۵) سبب ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے۔
وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ([32])
خیال رہے کہ حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کا بغیر والِد پیدا ہونا بھی قرآن کریم سے ثابت ہے اس لیے جو آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کے بغیر والِد پیدا ہونے کا انکار کرے اور آپ کے لیے والِد ثابِت کرے اس پر بھی حکمِ کفر ہے چنانچہ فتاویٰ اہلسنت (غیر مطبوعہ) میں ہے:”حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکو یُوسُف کی زوجہ ماننا دُرُسْت نہیں کہ شرعِ مطہر میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکا نکاح یُوسُف سے ہونے کا کہیں ثُبُوت نہیں بلکہ نہ ہونا ثابِت ہے اور نہ ہی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یُوسُف کے بیٹے ہیں جو انہیں یُوسُف کا نسبی حقیقی بیٹا کہے وہ کافِر ہے۔“([33])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! گُزَشتہ صفحات میں بیان کیے گئے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی وِلادت اور پَرْوَرِش کے واقعے میں ہمارے لیے وَعْظ ونصیحت کے کئی مدنی پھول ہیں جن میں سے بعض کا ذِکْر متفرق مقامات پر گزر چکا، آئیے! اب اس واقِعہ کے ضِمن میں مفسر شہیر، حکیم الاُمَّت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے کلام سے ماخوذ چند
اور مدنی پھول مُلاحَظَہ کیجئے، آپ فرماتے ہیں:
· جیسے غِذا کا اثر اولاد پر پڑتا ہے ایسے ہی نیَّتوں کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔ جس کی غِذا حلال طَیِّب ہو اور نفس نُورانی، نیّت سچی وحقّانی ہو تو اِنْ شَآءَ اللہ! اس کی اولاد نیک صالِح بلکہ ولی ہو گی اور جس کی غِذا حرام، نفس ظُلْمانی اور خبیثہ، نیّت فاسِدہ ہو اس کی اولاد فاسِق، خبیث بلکہ کافِر ہو گی کیونکہ نطفہ غِذا سے پیدا ہوتا ہے اور نفس سے پَروَرِش پاتا ہے۔ اس لیے اس کا اثر قبول کرتا ہے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”اَلْوَلَدُ سِرُّ اَبِیْہِ اولاد باپ کا راز ہے۔“ حضرت مریَم کا صِدْق اور (حضرت) عیسی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ دَرَجہ عِمران (حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے والِدِ محترم) کی نیک نیّتی اور حضرت حَنَّہ (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کے سچے ارادے کا نتیجہ تھے۔ ہاں! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خبیثوں کے گھر طَیِّب اولاد اور طَیِّب کے گھر خبیث اولاد ہو جاتی ہے مگر بہت کم، نیّت کا اثر صرف اولاد پر ہی نہیں پڑتا بلکہ مال، اعمال، کاروبار سب پر پڑتا ہے، نیک نیّتی سے مال میں برکت اور عمل کی قبولیَّت ہے، بدنیّت کا نہ عمل قبول نہ مال مُبَارَک۔ چاہیے کہ عمل سے پہلے نیّت کی جائے تا کہ سارے اَعمال دُرُست ہوں۔([34])
· کچھ لوگوں کا اپنے آپ کو دین کے لیے خالِص کر دینا ضروری ہے اگر سب لوگ دنیا میں مشغول ہو جائیں تو دین کیسے قائم رہے۔ کاش! مسلمان اس سے عبرت پکڑیں اور اپنی بعض اولاد کو خدمتِ دین کے لیے وَقْف کر دیں جنہیں بچپن سے اس کے لیے تیار کریں، مگر افسوس کہ اب مسلمان کی نظر روٹی پر رہ گئی اور وہ سمجھ بیٹھے کہ انگریزی میں روٹیاں اچھی ملتی ہیں گویا ان کے عقیدہ میں انگریز رازِق ہیں مگر یاد رکھو
کہ تمہاری عزت دین سے ہے اور دین کی بَقا عُلَماء اور صالحین سے، اگر اپنی بقا چاہتے ہو تو اپنی جماعت میں ایسے لوگ زیادہ بناؤ۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے: ([35])
فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ (پ١١، التوبه:١٢٢)
ترجمۂ کنزالایمان:تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سےایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔
· اس واقعہ کے بیان میں ہم لوگوں کو تعلیم ہے کہ اپنے بچوں کا انتظام ان کی پیدایش سے پہلے ہی کرو۔ صالِح لڑکی سے نکاح کرو، ماں باپ زمانۂ حمل میں اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی یاد،عِبَادات دُعائیں زیادہ کریں، بوقتِ وِلادت اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کا ذکر کریں، پَروَرِش دینی ماحَول میں ہو۔ جس چیز کی ابتدا اچھی ہو اس کی انتہا بھی اچھی ہوتی ہے۔ بچہ کی دُکانِ زندگی ناچ گانے مِیراثیوں کی بکواس پر نہ کھولو، اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے ذِکْر پر کھولو۔([36])
· بیٹے کی دُعا وخواہش کرنا سنَّتِ انبیاء بھی ہے، سنّتِ اولیاء بھی؛ حضرت ابراہیم وزَکَرِیَّا عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ نے فرزند کی دُعا کی، بی بی حَنَّہ نے جو ولیَّہ تھیں بیٹے کی دعا کی مگر یہ تمام دعائیں دُنْیَاوِی اَغراض کے لئے نہ تھیں صرف دین کے لئے تھیں کہ خدا ہمیں بیٹا دے وہ دین کی خدمتیں کرے ہم کو ثواب ملے جیسے دوسرے کاموں میں اخلاص ہو تو برکت ہوتی ہے، رِیا ہو تو بے برکتی ایسے ہی طَلَبِ اولاد اگر دین کے لئے ہو تو اولاد برکت والی ہے اگر دُنیا کے لئے ہے تو نہ عذاب نہ ثواب اگر بُری نیّت کے لئے ہو تو نقصان دہ۔([37])
· دعا میں اخلاص کو بڑا دخل ہے۔ حضرت حَنَّہ کے اخلاص نے نہ ہونے والی بات بھی کر دی کہ ان کی بیٹی کی نذر قبول ہوئی اور حضرت مریَم و (حضرت) عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ کو ربّ نے شیطان سے محفوظ رکھا۔([38])
· بزرگوں کی دعا سے ربّ تعالیٰ اپنے قانون بدل دیتا ہے، دیکھو! ربّ نے حضرت حَنَّہ کی دعا سے اس زمانہ کا شرعی قانون بدل دیا، حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی خواہش سے بیت المقدس کے قبلہ ہونے کا قانون تبدیل کر دیا، حضرت ابراہیم وزَکَرِیَّا عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ کی دعا سے بانجھ بوڑھی عورتوں کو اولاد بخشی یہ بھی قانونِ وِلادت کے خِلَاف ہے، (حضرت) عیسیٰ عَلَیۡہِ السَّلَامُ کی دعا سے آسمان سے روٹی ومچھلی کا دستر خوان آیا حالانکہ آسمان سے پانی آنے کا قانون ہے وہاں سے روٹی آنے کا قانون نہیں، حضرت حزقیل وعُزَیر عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ کی دعا سے مرے ہوؤں کو زندہ فرمایا صدیوں کے بعد حالانکہ قیامت سے پہلے مردہ زندہ ہونا خِلَافِ قانون ہے۔ معلوم ہوا :
؏ نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں([39])
· بُزرگوں کی اولاد کی خدمت کرنا نیک بختی کی علامت ہے، ہمیشہ سے اس پر عمل رہا۔ بیت المقدس کے خُدَّام نے حضرت مریم کی خدمت کو اسی لیے سعادت سمجھا کہ وہ حضرت عِمران کی دُختر تھیں۔ اسی لیے ساداتِ کرام کی عزّت وحُرمت، ان کی خدمت باعِثِ ثواب ہے۔([40])
· بعض حضرات مادر زاد ولی ہوئے ہیں، وِلایت عِبَادت پر موقوف نہیں۔ دیکھو! حضرت مریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) صِغَر سِنی میں ولی تھیں اور یہ کرامات اسی عمر شریف میں آپ سے ظاہِر ہوئیں۔ وِلایت نبوت کا سایہ ہے کبھی اس کا ظُہُور شروع سے ہوتا ہے کبھی کچھ عرصہ بعد جیسے بعض انبیائے کرام کی نبوّت کا ظُہُور چالیس سال کی عمر شریف میں ہوااور بعض کا پیدایش سے ہی جیسے حضرت عیسیٰ ویحییٰ عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ۔ ([41])
· کراماتِ اولیاء حق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولوں کے ہاتھ پر عجائبات ظاہِر فرماتا ہے۔ حضرت مریم سے جو ولیَّہ تھیں، بہت عجائبات ظاہِر ہوئے۔ کرامات کا انکار درحقیقت آیاتِ قرآنی اور صدہا احادیث کا انکار ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف جگہ کراماتِ اولیاء بیان فرمائیں یہاں بی بی مریم کی کرامات کا ذکر ہوا دوسری جگہ آصَف بَرخِیَا کا آن کی آن میں پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے ملکہ بلقیس کا تخت شام میں لا کر حاضر کر دینا، ایک جگہ اصحابِِ کہف کا صدہا سال سونا اور مٹی سے ان کا جسم خراب نہ ہونا بیان فرمایا، ایک جگہ حضرت مریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کے ہاتھ لگنے سے خشک کھجور کا تر ہونا فوراً رسیدہ (پکے ہوئے)پھل لگ جانا بیان فرمایا جو کھا کر آپ پر وِلادتِ عیسیٰ عَلَیۡہِ السَّلَامُ آسان ہوئی، ایک جگہ حضرت مریم کا بغیر خاوند حامِلہ ہونا اور فرشتے سے کلام کرنا بیان فرمایا؛ یہ تمام کراماتِ اَوْلِیَاءُ الله ہیں۔ معلوم ہوا کہ کراماتِ اولیاء، حالاتِ اصفیاء بیان کرنا، اَوْلِیَاءُ الله کے مناقب پڑھنا سُنَّتِ اِلٰہیہ ہے۔ ہم لوگ گیارہویں شریف میں اَوْلِیَاءُ الله کے فضائل وکرامات ہی بیان کرتے ہیں۔ کرامات واِرْہاصات کبھی
پیدائش سے پہلے ظاہِر ہوتے ہیں کبھی وفات کے بعد آج بھی اصحابِ کہف برابر سو رہے ہیں، یہ ان کی کرامت ہے۔([42])
· اولیاء کو عِلْمِ لَدُنِّی (یعنی بغیر کسی سے پڑھے بذریعہ الہام عِلْم) ملتا ہے۔ حضرت مریَم ربّ کی ذات وصِفَات اور جنت ودوزخ سے پیدائشی باخبر تھیں اسی لیے آپ نے زَکَرِیَّا عَلَیۡہِ السَّلَامُ کو ایسا نفیس جواب دیا۔([43])
· ربّ تعالیٰ نے یہاں پہلی آیت میں تو حضرت مریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کے حمل شریف میں رہنے کے حالات بیان فرمائے۔ دوسری آیت میں آپ کی پیدائش کے حالات، اگلی تیسری آیت میں آپ کی پروَرِش کے واقِعات کا ذِکْر آ رہا ہے۔ غرض کہ بی بی مریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کا پورا میلاد شریف ارشاد ہوا۔ ہم بھی میلاد شریف میں یہ ہی حالات اپنے آقا کے بیان کرتے ہیں۔ بُزُرگوں کا میلاد پڑھنا سنّت اِلٰہیہ ہے۔([44])
· خانقاہوں، بُزُرگانِ دین کے مزارات پر مَسَاجِد میں خُدَّام کار بننا جائز ہے جیسا کہ اس آیت کے مضمون سے معلوم ہوا حضرت عائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قبر ِانور کی منتظمہ تھیں اور اس وَقْت سے اب تک روضۂ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم پر خُدَّام رہتے ہیں۔ جس حدیث میں قبر پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت آئی اس سے قبر پر چڑھ کر بیٹھنا مُراد ہے نہ کہ وہاں کا مُجَاوِر(خادِم) بننا۔([45])
· نُزُولِ رحمت کے وَقْت دُعا مانگنا سنّتِ انبیاء ہے۔ دیکھو! حضرت زَکَرِیَّا عَلَیۡہِ السَّلَامُ نے حضرت مریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر دُعا کی۔ حدیث شریف میں ہے کہ بارش کے وَقْت دعا مانگو کہ یہ نُزُولِ رحمت کا وَقْت ہے۔([46])
مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی: اے داود! عِلْمِ نافع حاصل کرو۔ عرض کیا: الٰہی! عِلْمِ نافع کون سا ہے؟ ارشاد فرمایا: عِلْمِ نافع یہ ہے کہ تم میرے جلال، میری عظمت، میری کِبْرِیائی اور ہر شے پر میری کمال قدرت کی معرفت حاصل کر لو کیونکہ یہ تمہیں مجھ سے قریب کرے گا۔ (مختصر منہاج العابدین، عِلْم کا بیان، ص۱۹)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ربُّ العزّت ہی ہر شے کا خالق ہے؛ یہ زمین و آسمان، یہ سورج چاند سِتارے، یہ کائنات اور اس کی یہ تمام تر وُسعتیں سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ وہ قادِرِ مطلق عَزَّ وَجَلَّ ہر شے پر قادِر ہے، کوئی شے اس کے دائرۂ قدرت سے باہَر نہیں۔ نیز اسے اپنی قدرت کے اِظْہَار کے لیے کسی سبب اور عِلَّت کی بھی حاجت نہیں، اس کی پاک ذات ہر طرح کی مُحتاجی اور عیب سے بَری ہے۔ البتہ اس نے اپنی حکمت کے مطابق عالَمِ اسباب میں ہر شے کا کوئی نہ کوئی سبب مُقَرَّر فرما دیا ہے۔ اِس سے اُس کی قدرت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ وہ جو چاہتا ہے، جیسا چاہتا ہے بغیر کسی سببِ ظاہِری کے ویسا ہی ظُہُور پذیر ہو جاتا ہے جس کی بےشُمار مثالیں اس کائناتِ رنگ وبُو(دُنیا) میں ظاہِر ہوئیں اور ہمیشہ ہوتی رہیں گی۔ اِنہیں میں سے ایک حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلادت بھی ہے، یہ واقِعہ کچھ یوں ہے کہ
جب حضرت سیِّدتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا سِنِّ بُلُوغت کو پہنچیں تو اپنے نفیس وعمدہ احوال اور بلند رُتبہ صِفات کی وجہ سے بنی اِسرائیل میں شہرت پا چکی تھیں، بیت المقدس کی خدمت کے حوالے سے اپنی ذِمَّہ داریاں تَن دِہی کے ساتھ نِبھانا اور پھر دن رات عِبَادتِ اِلٰہی میں بھی مصروف رہنا آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا وہ امتیازی وَصْف تھا جس سے قوم ِبنی اِسرائیل میں آپ
کو بہت عزّت واحترام کی نِگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور آپ کی عِبَادت کی مثال دی جاتی تھی۔([47])
ایک دَفْعَہ آپ گھر والوں سے جُدا ہو کر بیت المقدس یا اپنے مکان کی مشرقی جانِب آئیں تاکہ یہاں تنہائی میں عِبَادت کر سکیں([48]) اور اپنے اور گھر والوں کے درمیان پردہ کر لیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی طرف حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو بھیجا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے سامنے نوجوان، بےریش، روشن چہرے اور پیچ دار بالوں والے آدمی کی صورت میں ظاہِر ہوئے۔([49]) خلوت گاہ میں ایک اجنبی شخص کو دیکھ کرحضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو خوف لاحِق ہوا جس پر آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگی چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے کہ آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے ان سے کہا:
اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا(۱۸) (پ١٦، مريم:١٨)
ترجمۂ کنزالایمان: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔
یعنی اگر تجھے کچھ خدا کا خوف ہے تَو مجھ سے دُور ہو جا۔([50]) عُلَما فرماتے ہیں: اس کلام سے آپ کی انتہائی پاک دامَنی اور تقویٰ کا پتا چلتا ہے کہ آپ نےچیخ کرکسی اور کو آواز نہ دی بلکہ ربّ تعالیٰ کی پناہ پکڑی تا کہ اس واقِعَہ کی کسی کو خبر نہ ہو۔([51])
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے جب آپ کو یوں خوف زَدَہ ہوتے دیکھا تو تَبَسُّم فرمایا
یعنی مسکرائے اور آپ کا خوف دُور کرنے کے لیے اپنے بارے میں اور اپنے آنے کا مقصد بیان فرما ديا۔([52]) بعض رِوَایتوں میں ہے کہ جب حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے رحمٰن یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکْر کیا تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا سے کانپنے لگے اور اپنی اصلی صورت پر لوٹ آئے۔([53]) پھر یہ کلام کیا:
اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا(۱۹) (پ١٦، مريم:١٩)
ترجمۂ کنزالایمان: میں تیرے ربّ کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی، اگرچہ آپ کو خدا تعالیٰ کی قُدرت پر پورا بھروسہ اور کامِل یقین تھا کہ وہ خالق ومالِک عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہے، جیسے چاہے پیدا فرمائے لیکن چونکہ بغیر نِکاح اور بغیر شوہر کے اولاد پیدا ہونا عام عادت سے ہٹ کر ہے اس لیے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام پر آپ کو تعجب ہوا([54]) یا آپ نے طریقۂ وِلادت دَرْیَافْت کرنے کے لیے کہا:
اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا(۲۰) (پ١٦، مريم:٢٠)
ترجمۂ کنزالایمان: میرے لڑکا کہاں سے ہو گا مجھے تو نہ کسی آدمی نے ہاتھ لگایا نہ میں بدکار ہوں۔
یعنی ابھی تو مجھے مَرد نے چُھوا نہیں فرزَند کہاں سے ہو گا، ایسے ہی یا نِکاح سے، اگر نِکاح سے ہو تو نِکاح کس سے ہو گا؟([55])
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس طرح تعجب کرنے پر یا سُوال کے جواب میں حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان پر یہ بات واضح فرمائی کہ اِنہیں بغیر نکاح اور بغیر شوہر ہی فرزند عِنَایت ہو گا اگرچہ یہ قانون کے خِلَاف ہے، بِن باپ کے اولاد ہونے کا قانون نہیں لیکن ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں۔ قرآنِ حکیم میں ہے، حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے کہا:
كَذٰلِكِۚ-قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌۚ-وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّاۚ-وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا(۲۱) (پ١٦، مريم:٢١)
ترجمۂ کنزالایمان: یونہی ہے تیرے ربّ نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نِشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ٹھہر چکا ہے۔
یعنی یہی منظورِ اِلٰہی ہے کہ تمہیں بغیر مرد کے چھوئے ہی لڑکا عِنَایت فرمائے۔([56]) تمہارا ربّ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے کہ یہ مجھ پر بہت آسان ہے اگرچہ عادَتاً ایسا ہونا مُحَال ہے لیکن میں اسباب اور واسطوں کا محتاج نہیں۔ تمہیں اس طرح بیٹا عطا کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ ہم اسے لوگوں کے لیے اپنے کمالِ قدرت کی نِشانی اور بُرہَان (دلیل)بنا دیں اور ان لوگوں کے لیے اپنی طرف سے ایک رَحْمت بنا دیں جو اس کے بتانے اور رہنمائی کرنے سے ہِدایَت
پائیں اور سیدھی راہ پر آ جائیں۔([57]) اور عِلْمِ اِلٰہی میں ایسا ہونا ٹھہر چکا ہے، اب نہ ردّ ہو سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے۔([58])
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام سُن کر جب حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو اِطمینان ہو گیا اور پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے گِریبان میں یا آستین میں یا دامَن میں یا منہ میں دَم کیا([59]) اور واپس تشریف لے گئے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت! اس دَم سے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا فوراً حامِلہ ہو گئیں مگر بدنامی کے خوف سے اس حمل کو چُھپایا۔([60]) اس وَقْت حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی عمر تیرہ سال یا دس سال تھی۔([61])
وَہْب کا قول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے حمل کا عِلْم ہوا وہ ان کا چچا زاد بھائی یُوسُف نَجّار ہے جو مسجدِ بیت المقدس کا خادِم تھا اور بہت بڑا عابِد شخص تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ مریَم حامِلہ ہیں تو نہایت حیرت ہوئی۔ جب چاہتا تھا کہ ان پر تہمت لگائے تو ان کی عِبَادت وتقویٰ، ہر وَقْت کا حاضِر رہنا، کسی وَقْت غائب نہ ہونا، یاد کر کے خاموش ہو جاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تھا تو ان کو بَری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا
تھا بِالآخر اس نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات آئی ہے، ہر چند چاہتا ہوں کہ زبان پر نہ لاؤں مگر اب صبر نہیں ہوتا ہے، آپ اجازت دیجئے کہ میں کہہ گزروں تا کہ میرے دل کی پریشانی رَفع (دُور) ہو؟ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے کہا کہ اچھی بات کہو، تو اس نے کہا کہ اے مریم! مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر تخم (بیج) اور دَرَخْت بغیر بارِش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہو سکتا ہے؟ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے فرمایا کہ ہاں، تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی بغیر تخم (بیج) ہی کے پیدا کی اور دَرَخْت اپنی قدرت سے بغیر بارِش کے اُگائے، کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادِر نہیں؟ یُوسُف نے کہا: میں یہ تو نہیں کہتا، بے شک میں اس کا قائل ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر شے پر قادِر ہے جسے کُنْ فرمائے وہ ہو جاتی ہے۔ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیۡہِ السَّلَامُ اور ان کی بی بی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا...!! حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس کلام سے یُوسُف کا شُبہ رَفع (دُور) ہو گیا اور حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا حمل کے سبب سے ضعیف ہو گئیں تھیں اس لیے وہ خدمتِ مسجد میں ان کی نِیابَت انجام دینے لگا۔([62])
وَقْت یونہی گزرتا رہا حتی کہ جب حمل کو آٹھ۸ ماہ کا عرصہ ہو چکا([63]) تب حضرت سیِّدنا عیسیٰ
رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلادت کا وَقْت قریب آیا اور وَضْعِ حمل کے آثار ظاہِر ہوئے۔ اس وَقْت حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا شہر اِیْلیَا سے چھ۶ میل دُور، جنگل میں بیتِ لحم کے مقام پر تشریف لے گئیں۔([64]) یہاں کھجور کا ایک خشک دَرَخْت موجود تھا جس کے پتے، شاخیں سب جَھڑ چکے تھے اور صرف ڈَنْڈ (تَنا) باقی رہ گیا تھا۔ وَقْت تیز سردی کا تھا۔ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا دَرَخْت کی جڑ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور یہیں حضرت سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلادت ہوئی۔([65])
آزمائش کے اِن کٹھن لمحات میں ایک بےآباد مقام پر بغیر ساز وسامان بالکل تَنِ تنہا کہ کوئی پُرسان حال پاس ہے نہ مددگار، کوئی ہو بھی تو کیونکر...!! بغیر باپ کے بیٹے کی پیدائش کوئی مَعْمولی بات نہیں، حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی مشیّت پر مطلع ہو کر خود تو مطمئن ہیں لیکن اپنے دامَنِ عفت کو لوگوں کی بہتان تراشیوں سے کیسے محفوظ رکھا جائے، انہیں کیسے اس بات کا یقین دِلایا جائے کہ یہ کسی گناہ کا نتیجہ نہیں بلکہ عطیۂ پروردگار ہے۔ خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ...جو ہر شے پر قادِر ہے اور ہر شے اسی کی پیدا کردہ ہے، جس کی قدرت اسباب اور واسطوں کی محتاج نہیں بلکہ وہ جس کی پیدائش کا اِرادہ فرماتا ہے کُنْ فرما دیتا ہے اور وہ فوراً ہو جاتی ہے، یہ مُبَارَک بچہ اسی کا کلمہ اور اس کی طرف کی خاص معزز رُوح ہے اور اُس کی قدرت کی عظِیم نِشانی ہے...!!
اس حالتِ دَرْمانْدَگی(تکلیف و آزمائش کی حالت) میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو
لوگوں کی طرف سے عار دِلائے جانے اور مَلامَت کیے جانے کا اِحساس تیز تر ہونے لگا([66]) نیز ایک باعفت وپاک دامَن خاتون پر تہمت لگا کر لوگوں کے گناہ میں پڑنے کا خیال بھی زور پکڑنے لگا([67]) اور آپ نے اس کرب واِضْطِرَاب کی حالت میں یہ بات زبان اقدس سے کہی کہ اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی تا کہ یہ معاملات پیش ہی نہ آتے۔ قرآنِ کریم میں اس کا بیان اس طرح سے آتا ہے:
قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا(۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنز الایمان: بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بُھولی بسری ہو جاتی۔
اِضْطِرَاب وبےچینی کی اس کیفیت میں جب مُبَارَک زبان سے یہ بات نکلتی ہے تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام جو اس وقت حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی جائے قیام سے قدرے نشیب (یعنی نیچے) کی جانب تشریف فرما تھے،([68]) وہیں سے انہیں پکارتے ہیں اور غم وپریشانی کا اِظْہَار کرنے سے منع کرتے ہوئے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی ان دو عظیم نشانیوں کی جانب تَوَجُّہ دلاتے ہیں جو اس ویران بیابان میں ربّ تعالیٰ نے ان کے واسطے ظاہِر فرمائی تھیں، ایک: خشک نہر کا جاری ہونا، دوسرے: کھجور کے خشک تنے سے اس کی جڑ پکڑ کر ہِلانے سے تازہ پکی ہوئی کھجوریں ان کے پاس آ گرنا۔ عُلَما فرماتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
پیدائش کے وقت سے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنی قدرتِ کامِلہ کے کئی نظارے دِکھا کر تسلی دی کہ دیکھو! جو ذات تیرے لئے خشک نہر سے پانی جاری کر سکتی ہے اور خشک درخت سے پکی ہوئی کھجوریں ظاہِر کر سکتی ہے وہ آيندہ بھی تمہیں بےیار ومددگار نہیں چھوڑے گی لہٰذا تم اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی کرامتوں، عنایتوں، شفقتوں پر نظر کرو اور غم وپریشانی کا اِظْہَار مت کرو۔“([69])
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو کھجوریں کھانے اور نہر سے پانی پینے کا کہا اور فرمایا کہ آپ (اپنے نورِ نظر، لختِ جگر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں اور اگر کسی آدمی کو دیکھیں (کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہو) تو اسے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کے لئے روزے کی نذر مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔([70]) قرآنِ کریم میں حضرت جبرائیل عَلَیْہِ
السَّلَام کے اس جگہ حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے کلام فرمانے کا ذِکْر آیا ہے چنانچہ پارہ16، سورۂ مریم کی آیاتِ مُبَارَکہ ہیں:
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا(۲۴)وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘(۲۵)فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًاۚ-فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًاۙ-فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ(۲۶) (پ١٦، مريم:٢٤-٢٦)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اسے اس کے تَلے سے پکارا کہ غم نہ کھا بے شک تیرے ربّ نے تیرے نیچے ایک نہر بہا دی ہے اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہِلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ۔ پھر اگر تُو کسی آدمی کو دیکھے تَو کہہ دینا میں نے آج رحمٰن کا روزہ مانا ہے تَو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔
حضرت عَبْدُ الله بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یا حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مُبَارَک ایڑی سے زمین پر ضَرْب لگائی (یعنی ایڑی کو زمین پر مارا) تو میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہو گیا جس سے خشک نہر جاری ہو گئی۔([71])
مزید فرماتے ہیں: وہ تنا بالکل خشک تھا جب حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اسے
حرکت دی تو آپ نے تنے کے اُوپر دیکھا وہاں ٹہنیاں نکل آئی تھیں،پھر ان پر پھول لگے، پھول، کچی کھجوروں میں تبدیل ہوئے، ان پر رنگ آیا، چُھوَارے بنے، پھر پک گئیں اور تازہ رس دار کھجوریں بن کر آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے سامنے گرنے لگیں، کوئی بھی ان میں سے پھٹتی نہیں تھی۔یہ سب کچھ پلک جھپکنے کی دیر میں ہوا۔ “([72])
حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے کھجوریں کھائیں، نہر سے پانی پیا اور پھر اپنے مُبَارَک فرزند کو گود میں لیے قوم کے پاس تشریف لے آئیں۔منقول ہے کہ لوگوں نے جب آپ کو دیکھا اور گود میں ایک نَومَوْلُود بچے پر اُن کی نظر پڑی تو وہ رونے لگے کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے([73]) اور کہنے لگے:
یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْــٴًـا فَرِیًّا(۲۷)یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ(۲۸) (پ١٦، مريم:٢٧، ٢٨)
ترجمۂ کنزالایمان: اے مریَم بے شک تُو نے بہت بڑی بات کی۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ بُرا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار۔
کہتے ہیں کہ ہارون اس زمانے میں بنی اِسرائیل کے ایک بہت ہی عِبَادت گُزَار اور گوشہ نشین شخص کا نام تھا([74]) چونکہ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا بھی بہت نیک پرہیزگار اور عِبَادت
گُزَار خاتون تھیں اس لیے اُنہوں نے آپ کو اُن کی بہن کہا یعنی اے نیک عورت! تجھے یہ کام زیب نہیں دیتا تھا۔([75]) نہ تو تیرا باپ عِمران کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں حَنَّہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا؟([76])
جب قوم نے بہت زیادہ طعنہ زنی اور مَلامَت کی تو حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا خود تو خاموش رہیں مگر بچے کی طرف اِشارہ کر دیا کہ جو کچھ کہنا ہے اِن سے کہو! اس پر لوگوں کو غصّہ آیا اور انہوں نے کہا: جو بچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا...!! مروی ہے کہ جس وَقْت یہ گفتگو ہو رہی تھی حضرت سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دودھ نَوش فرما رہے تھے، گفتگو سُن کر آپ نے دودھ پینا چھوڑ دیا، بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی جانب مُتَوَجِّہ ہوئے اور دائیں دستِ اقدس کی انگشتِ شہادت (یعنی سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی) سے اشارہ کر کے کلام شروع فرمایا۔([77])
ابتدا میں آپ نے اپنی عُبُودِیَّت (بندہ ہونے) کا اِعلان فرمایا کہ
اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ (پ١٦، مريم:٣٠) ترجمۂ کنزالایمان: میں ہوں اللہ کا بندہ۔
چونکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مُتَعَلِّق یہ تہمت لگائی جانے والی تھی کہ آپ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں اور یہ تہمت اللہ رَبُّ الْعِزَّت کی ذاتِ عالی پر لگتی تھی اس لیے منصبِ نبوَّت ورِسالت کا تقاضا یہی تھا کہ والِدہ کی براءَت بیان کرنے سے پہلے وہ تہمت دُور فرما دی جائے جو اللہ تعالیٰ کی جنابِ پاک میں لگائی جائے گی لہٰذا آپ نے سب سے پہلے اپنی بندَگی کا اِعْلان فرمایا تا کہ کوئی اِنہیں خدا اور خدا کا بیٹا نہ کہے۔([78])
پھر عطائے کِتاب ونبوَّت کا بیان فرمایا کہ
اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ(۳۰) (پ١٦، مريم:٣٠)
ترجمۂ کنزالایمان: اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا۔
حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ آپ والِدہ کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کو توراۃ کا اِلہام فرما دِیا گیا تھا([79]) اور جھولے میں تھے جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوَّت عطا کر دی گئی اور اس حالت میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام فرمانا آپ کا معجزہ ہے۔([80]) بعض مفسرین نے آیت کے معنی میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ نبوَّت اور کِتاب ملنے کی خبر تھی جو
عنقریب آپ کو ملنے والی تھی۔([81])
اس کے بعد خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِنْعَامات اور اپنی بعض صِفَات کا ذِکْر کرتے ہوئے فرمایا:
وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ(۳۱)وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا(۳۲)وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا(۳۳) (پ١٦، مريم:٣١-٣٣)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس نے مجھے مُبَارَک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مَروں گا اور جس دن زندہ اُٹھایا جاؤں گا۔
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ جب تک آدمی زندہ ہے اور کوئی ایسا شرعی عُذْر نہیں پایا جا رہا جس سے عِبَادت ساقِط ہو جائے تب تک شریعت کی طرف سے لازِم کی گئی عِبَادات اور دئیے گئے احکامات کا وہ پابند ہے([82]) جیسا کہ آپ نے فرمایا: \ör¤ یعنی جب تک میں زمین پر زندہ رہوں تب تک اس نے مجھے نماز کا مکلّف ہونے پر اسے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے قابِل مال ہونے کی صورت میں اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔([83]) صِرَاط الجنان میں ہے: اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو شیطان کے بہکاوے
میں آ کر لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی معْرِفت کے اتنے اَعْلیٰ مقام پر فائز ہو چکے ہیں کہ اب ہم پر کوئی عِبَادت لازِم نہیں رہی اور ہر حرام وناجائز چیز ہمارے لئے مُبَاح (جائز) ہو چکی ہے۔ جب مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ مَعْرِفت رکھنے والی اور سب سے مُقَرَّب ہستیوں یعنی انبیا ورُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ سے عِبَادات ساقِط نہیں ہوئیں بلکہ پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مُقرَّب بندے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معْرِفت رکھنے والے یعنی ہمارے آقا مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے بھی عِبَادات ساقِط نہیں ہوئیں تو آج کل کے جاہِل اور بناوٹی صُوفیا کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم سے عِبَادات ساقِط ہو چکی ہیں۔ ایسے بناوٹی صُوفی شریعت کے نہیں بلکہ شیطان کے پیروکار ہیں اور اس کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے دِین، مذہب اور ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے شریروں کے شر سے ہمیں مَحْفوظ فرمائے۔([84])
واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام سے وہ تہمت بھی رَفع ہو گئی جو آپ کی والِدَہ ماجِدَہ طَیِّبَہ طاہِرہ عفیفہ حضرت سیِّدَتُنا مریَم بَتُول رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاپر لگائی گئی تھی کیونکہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اس مرتبۂ عظیمہ کے ساتھ جس بندے کو نوازتا ہے بِالیقین (یعنی یقینی طور پر) اُس کی وِلادت اور اُس کی فطرت نِہَایت پاک وطاہِر ہے([85]) یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ معجزہ دیکھا تو انہیں حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی
براءَت وطَہارت کا یقین ہو گیا اور انہوں نے کہا: ضرور یہ کوئی بڑا مُعَامَلہ ہے۔([86])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شانِ بےنِیازی بھی خوب ہے کہ کبھی تو اپنے محبوب بندوں کو دُشمنوں کے ذریعے مَصَائب وآلام میں مبتلا کر کے ان کے دَرَجات بلند فرماتا ہے اور کبھی دُشمنوں سے ان کی حِفاظت وبراءَت کا ایسا انتظام فرماتا ہے کہ دیکھنے والے دَنگ رہ جاتے ہیں اور اس طرح پورے عالَم پر ان کی عظمت اور مقام کی رِفْعَت (بلندی) آشکار ہو جاتی ہے۔ دیکھئے! ایک وِیران بیابان میں اس خالق ومالِک عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے کھانے پینے کا کیسا خوب سامان کیا اور کس خوبی سے ان کی براءَت وطَہارت ظاہِر فرمائی، سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...!! اس سے خُدا تعالیٰ کی قدرتِ کامِلہ کا اظْہار ہوتا ہے۔ نیز ان واقِعات سے حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ثابِت قَدَمی اور صبر واستقامت کا پہلو بھی واضح ہوا کہ سخت مشکل لمحات اور بے حد صبرآزما گھڑیوں میں بھی انہوں نے شکوہ وشکایَت اور بےصبری کا مُظَاہَرہ نہ کیا، راضی بہ رِضا رہیں بلکہ لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کے اندیشے سے کہا:
یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا(۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنزالایمان: ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔
آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس طرزِ فکْر سے ہمیں یہ مدنی پھول حاصل ہوا کہ بندے کو چاہئےکہ مَصَائب وآلام سے گھبرا کر کبھی زبان پر شِکْوہ وشِکایت نہ لائے، ہمیشہ رضائے الٰہی میں راضی رہے اور صبر واستقامت کا دامَن مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھے کہ یہی اللہ والوں کی شان ہے اور یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر انسان جنت کی اَبَدی نعمتوں سے سرفراز
ہو سکتا ہے۔ یاد رکھئے کہ زبان پر شکوہ وشِکایت لانے اور بےصبری کا مُظَاہَرہ کرنے سے صبر کا اجْر تو ضائع ہو سکتا ہے لیکن مصیبت دُور نہیں ہو سکتی۔
؎ زبان پر شکوۂ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
ان واقعات سے یہ مدنی پھول بھی حاصِل ہوا کہ حُصُولِ رِزْق کے لیے کوشش کرنا اور اس کے لیے اسباب اختیار کرنا تَوَکُّل کے خِلَاف نہیں، دیکھئے! اللہ رَبُّ العزّت نے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو کھجور کی جڑ پکڑ کر ہِلانے کا حکم فرمایا حالانکہ جس کے حکم سے خشک دَرَخْت تروتازہ ہو کر پل بھر میں پھل آور ہو سکتا ہے یقیناً وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ اس پر بھی قادِر ہے کہ بغیر کسی مشقت کے اِن کے پاس کھجوریں آ گرتیں لیکن ایسا نہ ہوا اور اِنہیں جڑ ہِلانے کا حکم دیا گیا، اس میں حُصُولِ رِزْق کے لیے کوشش کرنے اور کام کاج کرنے کی تعلیم ہے۔ انسان کو چاہئے کہ کوشش ترک کر کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بےکار نہ بیٹھا رہے بلکہ محنت کرے اور جو ظاہِری اسباب مُقَرَّر ہیں انہیں اختیار کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل تلاش کرے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا کرَّمَ اللهُ تَعَالٰی وَجْهَهُ الْکَرِیْم کے یہ اشعار اسی مفہوم کی جانِب اشارہ کرتے ہیں:
؎ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ قَالَ لِمَرْيَمَ
وَهُزِّیْ اِلَيْكِ الْجِذْعَ تُسَاقِـطِ الرُّطَب
وَلَوْ شَاءَ مَالَ الْجِذْعُ مِنْ غَيْرِ هَزِّهَا
اِلَيْهَا وَلٰكِنِ الْاُمُوْرُ لَهَا سَبَب
تَوَكَّلْ عَلَى الرَّحْمٰنِ فِیْ كُلِّ حَاجَةٍ
وَلَا تَتْرُكَنَّ الْجُهْدَ فِیْ كَثْرَةِ التَّعَب([87])
یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے فرمایا کہ کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہِلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی حالانکہ اگر وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو ان کے ہِلائے بغیر جڑ اپنے آپ ہی ان کی طرف جھک جاتی (لیکن ایسانہیں ہوا یہ اس لیے کہ دنیا عالَمِ اسباب ہے اور یہاں) ہر کام کا کوئی نہ کوئی سبب مقرر ہے لہٰذا تم ہر حاجت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہی بھروسا کرو اور سخت تھکے ہوئے ہونے کے باوجود کوشش کرنا مت چھوڑو۔
یاد رہے کہ تَوَکُّل اسباب کے ترک کا نام نہیں یعنی یہ نہیں کہ آدمی اسباب سے تَعَلُّق توڑ کر بیٹھا رہے اور کہے: اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش بھی رَوزی دے گا۔ بلاشبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مطلق ہے، کوئی شے اس کی قدرت سے باہَر نہیں اور اس کی قدرت کسی سبب اور علَّت کی بھی محتاج نہیں لیکن اس نے خود ہی اپنی حکمت کے مُطَابِق اس دنیا کو عالَمِ اسباب بنایا ہے جہاں ہر شے کسی نہ کسی سبب سے مُتَعَلِّق ہے اس لیے عُلَما فرماتے ہیں کہ ”عالَمِ اسباب میں رہ کر ترکِ اسباب گویا اِبْطَالِ حکمتِ الٰہیہ ہے۔“([88]) (یعنی چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی حکمت کے مطابق دنیا میں ہر شے کو کسی نہ کسی سبب سے مُتَعَلِّق فرمایا ہوا ہے لہٰذا دنیا میں رہتے ہوئے اسباب سے منہ موڑنا اور انہیں چھوڑ دینا گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حکمت کو باطِل کرنا ہے۔) مَروِی ہے کہ ایک زاہِد آبادی سے کِنارہ کشی کر کے پہاڑ کے دامَن میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا: جب تک اللہ
عَزَّ وَجَلَّ مجھے میرا رِزْق نہ دے گا میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ ایک ہفتہ گزر گیا اور رِزْق نہ آیا، جب مرنے کے قریب ہو گیا تو بارگاہِ الٰہی میں عرض گُزَار ہوا: اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! تُو نے مجھے پیدا کیا ہے لہٰذا میری تقدیر میں لکھا ہوا رِزْق مجھے عطا کر دے ورنہ میری روح قبض کر لے۔ غیب سے آواز آئی: میری عزّت وجلال کی قسم! میں تجھے رِزْق نہیں دوں گا یہاں تک کہ تو آبادی میں جائے اور لوگوں کے درمیان بیٹھے۔ زاہِد آبادی میں گیا اور بیٹھ گیا، کوئی کھانا لے کر آیا تو کوئی پانی لایا، زاہِد نے خوب کھایا اور پیا لیکن دل میں شک پیدا ہو گیا تو غیب سے آواز آئی: کیا تو اپنے دنیاوِی زُہد سے میرا طریقہ بدل دینا چاہتا ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ اپنے دستِ قدرت سے لوگوں کو رِزْق دینے کے بجائے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں سے لوگوں تک رِزْق پہنچاؤں۔([89])
سیِّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ”تَوَکُّل قَلْب سے طرحِ اسباب ہے نہ کہ عمل میں ترکِ اسباب۔“([90]) یعنی اسباب پر عمل ترک کرنے کا نام تَوَکُّل نہیں بلکہ تَوَکُّل یہ ہے کہ دل سے اسباب پر اِعْتماد اور بھروسا نِکال باہر کرے، بھروسا صِرف اسی مسبّبِ حقیقی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات پر ہی کرے جو اُن اسباب کا اور ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے۔
اس لیے تَوَکُّل کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: ”التَّوَكُّلُ هُوَ الثِّقَةُ بِمَا عِنْدَ اللّٰهِ وَالْيَأْسُ عَمَّا فِی اَيْدِی النَّاسِ یعنی تَوَکُّل یہ ہے کہ بندہ کامل طور پر خزانۂ قدرت پر بھروسا کرے اور جو
لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس سے مایوس ہو جائے۔([91])
بیان کیے گئے حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے واقعےمیں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جب تک آدمی میں تھوڑی سی طاقت بھی کام کرنے کی مَوْجود ہے جس سے وہ بقدرِ ضرورت رَوزِی کما سکے تب تک اسے سُوال کرنے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں۔([92]) دیکھئے! حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو اس پریشان کُن صورتِ حال اور تکلیف دِہ حالت میں بھی دَرَخْت کی جڑ پکڑ کر ہِلانے کے لیے کہا گیا اور طاقت بھر کام کا مکلّف بنایا گیا حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا تو بغیر کسی مشقّت کے ہی رِزْق فراہَم کر دیتا۔ اس سے اُن لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئے جو خُوب صحّت منْد وتوانا اور محنت ومشقت پر قادِر ہونے کے باوُجود بھیک مانگتے ہیں، وہ ہاتھ جن کے ساتھ کام کاج کر کے اپنی اور بال بچوں کی کفالت کرنی چاہئے انہیں لوگوں کے سامنے سُوال کرنے کے لیے دراز کرتے ہیں حالانکہ انہیں کوئی شرعی عذر نہیں ہوتا نہ کوئی ایسی مجبوری ہوتی ہے جو انہیں دستِ سُوال دراز کرنے پر مجبور کر دے بلکہ مال جمع کرنے کی ہوس اور محنت مشقت سے جی چُرانا ہی انہیں اس کام پر لگاتا ہے۔ یاد رکھئے! ”بطورِ پیشہ بھیک مانگنا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ جو بِلااجازتِ شرعی بھیک مانگتا ہے وہ جہنّم کی آگ اپنے لیے طَلَب کرتا ہے اور اس طرح جتنی رقم زیادہ حاصِل کرے گا اتنا ہی نارِ جہنّم کا زیادہ حق دار ہو گا۔“([93]) آئیے! اس ضِمْن میں چار فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُلَاحظہ کیجئے:
1. جو شخص لوگوں سے سُوال کرے حالانکہ نہ اسے فاقہ پہنچا نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا۔([94])
2. جو شخص بغیر حاجت سُوال کرتا ہے گویا وہ انگارا کھاتا ہے۔([95])
3. جو مال بڑھانے کے لیے سُوال کرتا ہے وہ انگارے کا سُوال کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم کا سُوال کرے۔([96])
4. جو شخص لوگوں سے سُوال کرے، اِس لیے کہ اپنے مال کو بڑھائے تو وہ جہنّم کا گرم پتھر ہے اب اسے اختیار ہے چاہے تھوڑا مانگے یا زیادہ طَلَب کرے۔([97])
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اس واقعے سے جہاں حضرت سیّدتُنا مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے مقام ومرتبے کا پتا چلتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبانِ اقدس سے بطورِ معجزہ ان کے تہمت سے بَری ہونے کی گواہی دِلائی وہیں سرکارِ دوجہاں، نَبِیِّ آخر الزّماں، حُضُور احمدِ مجتبیٰ مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی پاک اَزواج کی شان وعظمت کا بھی عِلْم ہوا وہ اس طرح کہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی زوجۂ مطہرہ حضرت سیِّدَتنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر تہمت لگائی گئی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے تہمت سے بَری ہونے کی گواہی کسی اور کی زبان سے نہ دِلائی بلکہ خود اپنے کلامِ پاک قرآنِ کریم میں اس کی گواہی دی اور مُنَافقین کے اُٹھائے ہوئے جھوٹے اتہامات کا ردّ فرمایا، اس کا
بیان کرتے ہوئے والِدِ اعلیٰ حضرت، رئیس المتکلمین حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ (اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا) عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پر جب بہتان اُٹھا خود گواہی دی اگر چاہتا تو ایک ایک دَرَخْت اور پتھر ان کی طہارت پر گواہی دیتا مگر منظور یہ تھا کہ اپنے پیارے کی بی بی کی طہارت پر خود گواہی دوں، ہر شخص اس کی رضا چاہتا ہے اور وہ (حضرت) مُحَمَّد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی رضا چاہتا ہے۔([98])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یہاں یہ بات واضح رہے کہ کسی دُنْیَوِی رنج ومصیبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دُعا کرنے سے دینِ اسلام نے منع فرمایا ہے۔ حُضُور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ رنج کے سبب سے موت کی آرزو نہ کرو اگر ناچار ہو جاؤ تو کہو: ”اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِیْ وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِیْ خدایا! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور مجھے وفات دے جس وَقْت موت میرے حق میں بہتر ہو۔([99])
بہارِ شریعت میں ہے: مرنے کی آرزو کرنا اور اس کی دُعا مانگنا مکروہ ہے جبکہ کسی دُنْیَوی تکلیف کی وجہ سے ہو مثلاً تنگی سے بسر اوقات ہوتی ہے یا دشمن کا اندیشہ ہے، مال جانے کا خوف ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ لوگوں کی حالتیں خراب ہو گئیں، معصیت (گناہ) میں مبتلا ہیں اسے بھی اندیشہ ہے کہ گناہ میں پڑ جائے گا تو آرزوئے موت مکروہ نہیں۔([100])
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے جو کلام فرمایا جس کا ذِکْر قرآن پاک میں بھی ہے یہ نہ تو دُنْیَوی رنج ومصیبت کی وجہ سے تھا اور نہ اس میں مرنے کی دُعا ہے کیونکہ دُعا کا تعلق زمانۂ مستقبل سے ہوتا ہے جبکہ آپ کا یہ کلام زمانۂ ماضی کا ہے([101]) نیز آپ نے یہ کلمات اس لیے کہے کہ جب آپ نَومَوْلُود کو لے کر لوگوں کے سامنے جائیں گی تو لوگ آپ پر تہمت لگائیں گے اور یوں وہ آپ کے سبب گناہ میں مبتلا ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کریں گے۔ یہ بات آپ کے دل پر شاقّ گزری کہ میرے سبب سے لوگ گناہ میں پڑیں۔([102]) صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقَرَّب بندے جب لوگوں کے کسی آزمائش میں مبتلا ہونے کا سبب بنتے ہیں اگرچہ اس میں ان کا کوئی قصد اور اِرَادہ نہیں ہوتا اور نہ اس وجہ سے ان پر کوئی حکم لگتا ہے مگر پھر بھی وہ خوف زدہ ہوتے ہیں کہ کہیں انہیں بھی گناہ نہ پہنچے۔ حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا مذکورہ کلام اسی وجہ سے تھا۔([103])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ ہے اللہ والوں کی شان ...!! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رَحْمَت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول ایسا پاکیزہ اور پیارا ماحول ہے جس کی برکت سے نہ صرف مسلمانوں میں عمل کا جذبہ بیدار ہوا اور وہ گناہوں کی دَلدل سے نکل کر نیکیوں کے سفر پر جانبِ مدینہ روانہ ہوئے بلکہ بیش تر غیر مسلموں کو بھی اسلام کی دولت نصیب ہوئی اور وہ کُفر کی تاریکیوں سے چھٹکارا پا کر اسلام کی روشنی سے مُنَوَّر ہو گئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ دعوتِ اسلامی پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہے اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی نظرِ عِنَایت اور اولیائے کِرام کا صدقہ ہے جو اسے عالَمی سطح پر یوں قبولِ عام حاصِل ہوا ہے اور یہ دلوں میں گھر کر رہی ہے۔ یہ اسی لیے کہ دعوتِ اسلامی اس پُرفِتَن دَور میں اسلام کی صحیح عملی تصویر پیش کر رہی ہے اور اس کی تعلیمات عام کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ آئیے! آپ بھی اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے کے لیے اس عظیم مدنی تحریک کے ساتھ وابستہ ہو جائیے اور مدنی کاموں کا حصّہ بنئےجن کی برکت سے نہ صرف مسلمان عمل کی جانِب راغِب ہو رہے ہیں بلکہ غیر مسلموں کے دلوں میں بھی اسلام کی محبت گھر کر رہی ہے اور وہ دولتِ اسلام سے مالا مال ہو رہے ہیں، ترغیب وتَحْرِیْص کے لیے ایک مدنی بہار پیش کی جاتی ہے چنانچہ
سینٹرل جیل سکھر (بَابُ الْاِسْلام سندھ) میں قید ایک خاتون کے بیان کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان ہونے سے پہلے میں عیسائی مذہب سے تَعَلُّق رکھتی تھی۔ کسی جُرم کی پاداش میں مجھے قید کی سزا ہوئی اور سینٹرل جیل سکھر منتقل کر دیا گیا۔ ہماری بیرک میں ایک باپردہ اسلامی بہن، قیدی خواتین کوقرآن پاک کی تعلیم دینے اور ضروری شرعی مسائل سکھانے
کے لئے آتی تھیں۔ ان کا سُنّتوں کے سانچے میں ڈھلا کِرداراور چہرے سے تَقَدُّس کا جھلکتا نور دیکھ کر مجھے ان میں عجیب کشش محسوس ہوئی، انہیں دیکھ کر مجھے حضرت مریَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا یاد آجاتیں۔ میں نے جب ان سے ملاقات کی تو انہوں نے اپنا تَعَارُف کچھ یوں کروایا: میرا تعلُّق دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہے۔دعوت اسلامی تبلیغ ِقرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ہے جس کے بانی شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں۔انہوں نے ہمیں یہ مَدَنی مقصد عطا فرمایا ہے کہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“اسی عظیم مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت جہاں دیگر مجالِس قائم ہیں وہیں ایک مجلس فیضانِ قرآن کے نام سے بھی ہے جو پاکستان بھر کے جیل خانہ جات میں دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی سَعْی میں مصروف ہے۔ میں اسی مجلس کی اجازت سے یہاں قیدی خواتین کی اصلاح کی کوشش کا جذبہ لے کر آتی ہوں۔ اللہ کرے میری کوششیں کامیاب ہو جائیں اور یہاں موجود اسلامی بہنیں نیک بن جائیں۔
؎ میری جس قدر ہیں بہنیں سبھی کاش! برقع پہنیں
انہیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے
دعوتِ اسلامی کی اس مبلغہ کے اندازِ گفتگو نے مجھے اپنا ایسا گرویدہ کر لیا کہ میں روزانہ ان کی منتظر رہنے لگی،جب وہ تشریف لے آتیں تو میں اپنا زیادہ وَقْت ان کے ساتھ ہی گُزَارنے کی کوشش کرتی ۔ان کا پاکیزہ کِردار دیکھ کر سوچتی کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو عفت و حیا کا کیسا پیارا دَرْس دیتا ہے جو کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔ ان کی صحبت اور اِنفرادی کوشش
کی برکت سے میرے دل میں اسلام سے محبت کی شمع روشن ہونے لگی بالآخر میں نے مسلمان ہونے کا پختہ ارداہ کر لیا۔ دوسرے دن جب وہ مبلغہ تشریف لائیں تو میں نے ان سے وفورِ شوق میں بےقرار ہو کر کہا: آپ کے پاکیزہ کِردار اور روشن گفتار نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ اسلام ایسا پیارا دین ہے ،میں نے سوچا بھی نہ تھا۔اس کی روشن تعلیمات کا کھلی آنکھوں سے مُشَاہَدہ کر چکی ہوں۔اس کے بعد میں نے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے فوراً مجھے توبہ کروا کر کلمہ پڑھادیا :لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ یہ دیکھ کر وہاں موجود دیگر اسلامی بہنیں اشک بار ہو گئیں اور مجھے گلے مِل مِل کر مسلمان ہونے کی خوشی میں مُبَارَک باد دینے لگیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر اسلامی تعلیمات پر عمل کی کوشش شروع کر دی اور شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ قادریہ عطّاریہ میں داخِل ہو کر ”عطّاریہ“ بھی بن گئی۔اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اپنے شوہر پر اِنفرادی کوشش شروع کر دی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! دو ماہ بعد وہ بھی جَمَادِیُ الثَّانِی ۱۴۲۷ھ میں سایۂ اسلام میں آ گئے۔
؎ تُو نے اسلام دیا تُو نے جماعَت میں لیا
تَو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا([104])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! کراماتِ اولیا حق ہیں۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانِیِ دَعْوَتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبِلال محمد الیاس عطّار قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: زمانۂ نبوّت سے آج تک کبھی بھی اس مسئلے میں اہلِ حق کے درمیان اِخْتِلاف نہیں ہوا، سبھی کا متفقہ عقیدہ ہے کہ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے عِظَام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامتیں حق ہیں اور ہر زمانے میں اللہ والوں کی کرامتوں کا صُدُور وظُہُور ہوتا رہا ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! قیامت تک کبھی بھی اس کا سلسلہ منقطع (مُنْ۔قَ۔طِعْ یعنی ختم) نہیں ہو گا بلکہ ہمیشہ اَوْلِیَاءُ الله رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے کرامات صادِر وظاہِر ہوتی رہیں گی۔([105])
کرامات جمع ہے کرامت کی۔ صَدْرُ الشریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہِ الۡقَوِیۡ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نبی سے جو بات خِلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہِر ہو اس کو اِرْہَاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادِر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں۔([106])
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا مادر زاد (پیدائشی) وَلیّہ تھیں، آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا سے بہت کرامات ظاہِر ہوئیں اور کرامات کایہ سلسلہ آپ کے عہدِ شیر خواری (دودھ پینے کی عُمْر)
سے ہی شروع ہو گیا تھا جیسا کہ پچھلے ابواب میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا۔ یہاں ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ اور نمبر شُمار کے ساتھ مختصر طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ
1. آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے پاس غیب سے رِزْق آتا تھا جو بےموسمی پھلوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ آپ کی بڑی کرامت ہے جو بچپن میں ہی کئی بار ظاہِر ہوئی۔
2. بچپن میں جبکہ عام بچے اس عمر میں بات کرنے کے قابِل بھی نہیں ہوتے آپ نے نہایت عارِفانہ اور حکیمانہ کلام کیا کہ جب حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے اس غیبی رِزْق کے بارے میں پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے تو جواب دیا:
هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷) (پ٣، آلِ عمران:٣٧)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔
3. آپ نے فرشتوں کے ساتھ کلام کیا، حضرت سیِّدنا جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے آپ کو حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلادت کی خوش خبری بھی دی گئی جس کا ذِکْر تفصیل کے ساتھ پیچھے ہو چکا۔
4. کسی بشر کے چُھوئے بغیر ہی آپ کے فرزند کی وِلادت ہوئی۔
5. کھجور کا خشک دَرَخْت آپ کے ہاتھ لگانے سے تروتازہ ہو کر پھل دار ہو گیا اور جڑ ہِلانے سے کھجوریں خوشوں سے جُدا ہو کر آپ کے پاس آ گریں۔
6. اللہ تعالیٰ نے دُودھ پیتے بچے (حضرتِ عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ)کی زبانِ اقدس سے آپ کی طہارت وپاک دامَنی کا اِعْلان کروایا۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی ان ظاہِری وحِسّی کرامات کے عِلاوہ دیگر فضائل ومناقب بھی بہت ہیں، یہاں انہیں دو۲ حِصّوں میں تقسیم کر کے بیان کیا جاتا ہے:
(۱)...قرآنِ کریم کے تَعَلُّق سے فضائل کا بیان
(۲)...احادیثِ طَیِّبَہ سے ماخُوذ فضائل کا بیان
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرت سیِّدَتُنا مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کا ذکر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پاک کلام قرآن میں فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ قرآنِ حکیم میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی پیدائش، پرورش ونگہداشت، مُبَارَک فرزند کی وِلادت وغیرہ مختلف اَحْوَال کا ذکر مَوْجُود ہے جن سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی فضیلت وبزرگی اور بلند مقام ومرتبے کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے فکرواعمال کی اصلاح کے بہت سارے مدنی پھول بھی حاصل ہوتے ہیں۔ چونکہ آپ کے پیدائش، پرورش اور نگہداشت وغیرہ کے تفصیلی حالات پچھلے ابواب میں بیان ہو چکے ہیں اس لئے یہاں فقط آپ کے چند فضائل اور خُصُوصیات کا بیان کیا جاتا ہے چنانچہ
حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا نام مُبَارَک واضح لفظوں میں قرآنِ پاک میں کئی بار آیا ہے اور یہ آپ کے خُصُوصِی فضائل میں سے ایک ہے کیونکہ آپ کے سِوا کسی اور
عورت کا نام قرآن پاک میں واضح طور پر نہیں آیا۔([107]) ایک اندازے کے مُطَابِق یہ ”31“ آیات میں کُل ”34“ بار ہے۔ جن میں سے 23 بار ”اِبْن“کی اِضافَت کے ساتھ یعنی ”ابنِ مریَم“ ہے۔ یہاں اکثر مَوَاقِع پر کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں ہے اور 11 بار علیحدہ طور پر آیا ہے اور عُمومًا کلام بھی حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے مُتَعَلِّق ہے۔ مزید وضاحت کے لیے نیچے دَرْج جَدْوَل (Table) پر غور کیجئے:
|
اِبن کی اِضافت کے ساتھ اور کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں (23 مرتبہ) |
عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ |
16 مرتبہ |
|
الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ |
5 مرتبہ |
|
|
ابْنَ مَرْيَمَ |
2 مرتبہ |
|
|
علیحدہ طور پر اور کلام حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے مُتَعَلِّق (11مرتبہ) |
مَرْيَمَ |
5 مرتبہ |
|
يٰمَرْيَمُ |
5 مرتبہ |
|
|
مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ |
1 مرتبہ |
|
|
|
کل تعداد (اِسْم) |
34 |
|
کل تعداد (آیت) |
31 |
حضرت علّامہ مَجْدُ الدِّین فیروز آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے آیاتِ قرآنیہ سے ماخوذ آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے بارہ صِفاتی نام ذِکْر فرمائے ہیں جن سے آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی فضیلت
اور مقام ومرتبہ کا اِظْہَار ہوتا ہے۔ یہ بارہ نام دَرْج ذیل ہیں([108]):
|
نمبرشمار |
نام |
آیت وترجمہ |
|
۱ |
مُحَرَّرَہ (آزاد) |
اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا (پ٣، آلِ عمران:٣٥) ترجمۂ کنزالایمان: میں تیرے لیے مَنَّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے۔ |
|
۲
۳ |
مُصْطَفَاۃ (برگزیدہ) مُطَهَّرَہ (پاکیزہ) |
یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ (پ٣، آل عمران:٤٢) ترجمۂ کنزالایمان: اے مریَم بے شک اللہ نے تجھے چُن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا۔ |
|
۴ |
قَانِتَہ (فرمانبردار) |
وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠(۱۲) (پ٢٨، التحريم:١٢) ترجمۂ کنزالایمان: اور فرمانبرداروں میں ہوئی۔ |
|
۵
۶ |
سَاجِدَہ (سجدہ کرنے والی) رَاکِعَہ (رُکوع کرنے والی) |
یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳) (پ ٣، آل عمران:٤٣) ترجمۂ کنزالایمان: اے مریَم اپنے ربّ کے حُضُور ادب سے کھڑی ہو اور اس کے لیے سجدہ کر اور رُکوع والوں کے ساتھ رُکوع کر۔ |
|
۷ |
مُحْصِنَہ (پارسائی کی حِفَاظت کرنے والی) |
وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (پ ٢٨، التحريم:١٢) ترجمۂ کنزالایمان: اور عِمران کی بیٹی مریَم جس نے اپنی پارسائی کی حِفَاظت کی۔ |
|
۸ |
اٰیَة (نِشانی) |
وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۹۱) (پ ١٧، الانبياء:٩١) ترجمۂ کنزالایمان: اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نِشانی بنایا۔ |
|
۹ ۱۰ |
اُمّ (ماں) صِدِّیْقَہ (تصدیق کرنے والی) |
وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌؕ- (پ٦، المائدة:٧٥) ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی ماں صِدِّیقہ ہے۔ |
|
۱۱ |
وَالِدَہ (ماں) |
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘- (پ ١٦، مريم:٣٢) ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنی ماں سے اچھا سُلُوک کرنے والا۔ |
|
۱۲ |
بِنْتِ عِمْرَان (عمران کی بیٹی) |
وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (پ ٢٨، التحريم:١٢) ترجمۂ کنزالایمان: اور عِمران کی بیٹی مریَم جس نے اپنی پارسائی کی حِفَاظت کی۔ |
سورۂ آلِ عِمْرَان میں ارشاد ہے:
وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲) (پ٣، آلِ عمران:٤٢)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب فرشتوں نے کہا اے مریَم بے شک اللہ نے تجھے چُن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورَتوں سے تجھے پسند کیا۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی تین۳ فضیلتیں بیان فرمائیں:
(۱)...بچپن کا چُناؤ، کہ انہیں باوُجود لڑکی ہونے کے خدمتِ بیت المقدس کے لیے قبول فرما لیا، حضرت زَکَرِیَّا عَلَیۡہِ السَّلَامُ کو ان کا کفیل بنایا، بچپن میں ہی انہیں قوتِ گویائی (بولنے
کی طاقت)عطا فرمائی اور بہت فضیلتوں سے نوازا۔
(۲)...پاکی، کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جسمانی، قلبی اور رُوحانی گندگیوں سے دُور رکھا، گناہ اور کفر کی نجاست سے بچایا اور ان کا قَلْب مُنَوَّر فرمایا۔
(۳)...جوانی کا چُناؤ، کہ جب آپ بُلُوغت کی عمر کو پہنچیں تو اللہ تَبَارَک وَتَعَالیٰ نے اُس زمانے کی ساری عورتوں سے انہیں بعض خُصُوصِیات کے ساتھ چُن لیا کہ انہیں بغیر شوہر بیٹا عطا فرمایا، یہود کی تہمت کو ان سے دُور فرمایا اور انہیں اور ان کے مُبَارَک فرزند کو اپنی قدرت کا نِشان بنایا۔([109])
قرآنِ کریم نے جس حُسن وخوبی کے ساتھ حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی عفت وپاک دامَنی کا بیان فرمایا ہے اپنی مِثال آپ ہے، اس لارَیب کِتاب میں ایسے کئی مقامات ہیں جہاں سے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے پارسا اور پاک دامَن ہونے اور تہمت سے بَری ہونے کا پتا چلتا ہے مثلاً مندرجہ ذیل آیات دیکھئے:
پارہ چھ۶، سورۂ نِسَاء میں ہے:
وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ(۱۵۶) (پ٦، النساء:١٥٦)
ترجمۂ کنزالایمان: اور (ان پر لعنت کی) اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور مریَم پر بڑا بہتان اُٹھایا (باندھا)۔
یہاں یَہُود کے جرائم اور ان جرائم کی وجہ سے ان پر غضبِ الٰہی ہونے کا بیان کیا گیا
ہے۔اس سے پچھلی آیت میں ان کے چار ۴جرائم کا ذِکْر تھا: اوّل یہ کہ انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کیا ہوا عہد توڑا، دُوُم: انبیائے کِرَام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ کی صَداقت پر دلالت کرنے والی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِشانیوں کا انکار کیا، سِوُم: انبیائے کِرَام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ کو شہید کیا، چہارُم: سروَرِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے یہ کہا کہ ہمارے دِلوں پر غِلاف چڑھے ہوئے ہیں لہٰذا آپ کی دعوت ہم پر کچھ اثر نہ کرے گی، اور اب اس آیت میں ان کے پانچویں اور چھٹے جُرم کا ذِکْر ہو رہا ہے، پانچواں جُرم یہ کہ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کفر کیا، ان پر ایمان لانے اور انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نبی تسلیم کرنے سے انکاری ہوئے اور چھٹا یہ کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والِدہ ماجِدہ طَیِّبہ طاہِرہ صِدِّیقہ عفیفہ حضرت مریَم بَتُول رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا پر تہمت لگائی، بہتان باندھا اور ان کے دامَنِ پاک کو تہمت کے داغ سے داغ دار کرنے کی ناپاک جَسارت کی۔ اس آیت میں ان کے اس ناپاک قول کو ”بہتانِ عظیم“ کہہ کر حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی طہارت اور پاک دامَنی ثابِت فرمائی گئی ہے اور بہتان لگانے والوں کو غضبِ الٰہی کا سزاوار (حق دار)قرار دیا گیا ہے۔
یہاں سے یہ مَدَنی پھول بھی حاصِل ہوا کہ تہمت لگانا بدترین گناہ ہے خاص طور پر اس وَقْت کہ جسے تہمت لگائی جا رہی ہے وہ کسی خاص عظمت کا مالِک ہو، دیکھئے! ربّ تَبَارَک وَتَعَالٰی نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا پر تہمت لگانے کو اپنے پاک کلام میں ”بہتانِ عظیم“ فرمایا اور ان تہمت لگانے والوں پر لعنت فرمائی۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصِل کرنی چاہئے جو بات بات پر اور بلاتحقیق وتفتیش ایک دوسرے کے خِلاف تہمتیں تَراشتے اور عزّتیں پامال کرتے ہیں۔ عبرت کے لیے تہمت کے عذاب پر مشتمل چند رِوَایات پیش کی جاتی ہیں۔ چنانچہ
1. حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کا فرمان ِ عبرت نِشان ہے: اِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ یعنی کسی پاک دامَن عورت پر زِناکی تہمت لگانا سو سال کی نیکیاں برباد کر دیتا ہے۔([110])
2. حضرتِ سیِّدنا عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ فرماتے ہیں:ایک عورت نے اپنی باندی کو زانیہ کہا،(اس پر)حضرتِ سیِّدنا عَبد الله بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُمَا نے فرمایا : تُو نے زِناکرتے دیکھاہے؟اُس نے عرض کی: نہیں ۔ فرمایا: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتُجْلَدَنَّ لَھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃَ ثَمَانِیْنَ یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے روز اس کی وجہ سے تجھے 80 کوڑے مارے جائیں گے ۔([111])
3. حضرت عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے رِوایت ہے، نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اِرْشاد فرمایا: جس مرد یا عورت نے اپنی لونڈی کو ’’اے زانِیہ‘‘ کہا جبکہ اس کے زِنا سے آگاہ نہ ہو تو قیامت کے دن وہ لونڈی اسے کوڑے لگائے گی، کیونکہ دُنیا میں ان کے لئے کوئی حَد نہیں۔([112])
4. جنابِ رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مَنَاظِر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ کچھ لوگوں کو زبانوں سے لٹکایا گیا تھا۔میں نے جبرائیل(عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)سے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر بِلاوجہ اِلزامِ گُناہ لگانے والے ہیں۔([113])
پارہ چھ۶، سورهٔ مائدہ میں ہے:
مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌؕ-كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَؕ- (پ٦، المائده:٧٥)
ترجمۂ کنزالایمان: مسیح اِبنِ مریَم نہیں مگر ایک رسول اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے اور اس کی ماں صِدِّیقہ ہے دونوں کھانا کھاتے تھے۔
یہاں حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی والِدہ ماجِدہ حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا سے اُلُوہیت کی نفی کی گئی ہے۔ نیز حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا پر یہود کی تہمت کا ردّ بھی کیا گیا ہے۔ مفسرِ شہیر، حکیم الامَّت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اِن دونوں باتوں کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان جناب کے مُتَعَلِّق تین۳ قوموں کے تین۳ عقیدے تھے جن سب کی ایک لفظ ”صِدِّیقہ“ سے تردید ہو گئی۔ یہود انہیں بدکاری کا اِلزام لگاتے تھے ان کی بھی تردید ہو گئی کہ وہ جناب کام، کلام، اقوال، اَعْمَال، احوال کی سچی ہیں۔ عیسائی انہیں خدا کی بیوی یا تیسرا خدا مانتے ہیں ان کی بھی تردید ہو گئی کہ وہ خدا نہیں بلکہ ”صِدِّیقہ“ ہیں۔ صِدِّیقیت بندے کی صفت ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کی، بعض بےوقوف انہیں نبی مانتے ہیں (ان کی بھی تردید ہو گئی کہ) وہ نبی نہیں بلکہ زُمرۂ صِدِّیقین میں سے ہیں۔ صِدِّیقیت نبوّت کے بعد ہے۔ نبی صرف مرد ہوتے ہیں عورَتیں نہیں ہوتیں۔([114])
پارہ 17، سورۂ اَنْبِیاء میں ہے:
وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۹۱) (پ١٧، الانبياء:٩١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس عورت کو جس نے اپنی پارسائی (پر) نِگاہ رکھی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نِشانی بنایا۔
اس آیت میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی عفت وپاک دامَنی کا وَصْف بہت خوب صورت انداز میں بیان ہوا ہے اور ساتھ ہی اس کے نتیجے کا ذِکْر بھی ہے کہ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے مکمل طور پر اپنی پارسائی کی حِفَاظت کی کہ کسی طرح کوئی بشر ان کی پارسائی کو چُھو نہ سکا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان میں اپنی خاص رُوح پھونکی اور ان کے پیٹ میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا کیا اور انہیں اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سارے جہان والوں کے لیے اپنی قدرت کے کمال کی نِشانی بنا دیا۔([115])
تقریباً اسی مضمون کی ایک دوسری آیت پارہ 28، سورۂ تَحْرِیْم میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا جاتا ہے:
وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠(۱۲) (پ٢٨، التحريم:١٢)
ترجمۂ کنزالایمان: اور عِمران کی بیٹی مریَم جس نے اپنی پارسائی کی حِفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے ربّ کی باتوں اور اس کی کِتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی۔
یہاں بھی واضح لفظوں میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے پارسا اور پاک دامَن ہونے کا بیان ہے۔ نیز آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے چند اَوْصَاف بھی ذِکْر کیے گئے ہیں کہ آپ نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام اِرشادات اور تمام نازِل شُدہ آسمانی کِتابوں کی تصدیق کی اور
ان خوش نصیبوں کی فَہْرِسْت میں شامِل ہوئیں جو اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانبردار ہیں۔
ان دو۲ آیات سے جہاں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے تہمت سے بَری اور پاک دامَن ہونا ثابِت ہوتا ہے وہیں یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ عفت وآبرو کی حِفَاظت کرنا بہترین وَصْف ہے کہ قرآنِ کریم میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا خاص اس وَصْف کے ساتھ ذِکْر کر کے حضرت عیسیٰ رُوْحُ الله عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایسا عظیم فرزند عطا ہونے کا ذِکْر کیا گیا ہے۔ پاک دامَنی کی فضیلت پر حُضُور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمان ذیشان ہے: عورت جب اپنی پانچ۵ نمازیں پڑھے، اپنے ماہِ رَمَضَان کا روزہ رکھے، اپنی پارسائی کی حِفَاظت کرے اور اپنے شوہر کی اِطاعت کرے تو جنّت کے جس دروازہ سے چاہے داخِل ہو جائے۔([116]) اور یہ بھی فرمایا: جو عورت اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے، اپنی پارسائی کی حِفَاظت کرے اور اپنے شوہر کی اِطاعت کرے تو اس کے لئے جنّت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تم جس دروازے سے چاہو جنّت میں داخِل ہو جاؤ۔ ([117])
ایک دفعہ نجران سے آیا ہوا ایک وَفْد حُضُور سروَرِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمتِ بابرکت میں حاضِر ہوا اور ان کے سردار عاقب اور عبد المسیح نے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمت ِاقدس میں عرض کیا کہ کیا آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ کے بندے ہیں؟ فرمایا: ہاں! اس کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو کنواری
بَتُول مریَم کی طرف اِلْقا کئے گئے۔ وہ لوگ غصّے میں ہو گئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ نے کوئی ایسا بندہ بھی دیکھا ہے جو بغیر باپ پیدا ہو؟ عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اس طرح پیدا ہونا ان کے اِبْنُ الله (اللہ کا بیٹا) ہونے کی دلیل ہے۔([118]) اسی وَقْت جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہ آیت لے کر آئے:
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹) (پ٣، آلِ عمران:٥٩)
ترجمۂ کنزالایمان: عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا وہ فوراً ہو جاتا ہے۔
اس آیت میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بغیر والِد پیدا ہونے کی تردید نہ فرمائی گئی بلکہ ان لوگوں کی دلیل کا ردّ کیا گیا ہے جو بغیر والِد پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مَعَاذَ الله ”اِبْنُ الله (اللہ کا بیٹا)“ کہتے ہیں۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مثال بیان کر کے یہاں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جب یہ لوگ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے خدا کا بندہ کہتے ہیں حالانکہ وہ بغیر ماں باپ خشک مٹی سے پیدا کیے گئے اور ان کی پیدائش حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش سے زیادہ عجیب تر ہے تو پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عبد الله یعنی خدا کا بندہ ماننے میں کیا رُکاوٹ ہے۔ اس سے چند مسئلے مَعْلُوم ہوئے:
1. حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر والِد محض ربّ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوئے کیونکہ قرآنِ کریم نے ان نجرانیوں کے اعتراض کے موقع پر اس بات کی تردید نہیں
فرمائی بلکہ اسے باقی رکھتے ہوئے ان کی اس بات کا ردّ فرمایا کہ ”جو بغیر والِد پیدا ہو وہ بندہ نہیں“ نیز خِلافِ عادت پیدائش ہونے میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مِثال بیان کی۔
2. بغیر والِدپیدا ہونا ”اِبْنُ الله (اللہ کا بیٹا)“ ہونے کی دلیل نہیں اور نہ اس سے عَبْدِیَّت یعنی بندہ ہونے کی نفی ہوتی ہے کیونکہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر ماں باپ خشک مٹی سے پیدا ہوئے اور کوئی انہیں اِبْنُ الله نہیں مانتا۔
3. جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بغیر والِد پیدا ہونا ثابِت ہو چکا تو اس سے آپ کی والِدہ ماجِدہ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی براءَت وطہارت بھی مَعْلُوم ہو گئی۔
خیال رہے کہ اوپر ذِکْر کیے گئے ان پانچ۵ مقامات کے عِلاوہ بھی قرآنِ کریم میں مُتَعَدَّد ایسے مقامات ہیں جہاں سے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی طہارت وپاک دامَنی کا پتا چلتا ہے مثلاً پارہ تین۳، سورۂ آلِ عِمْران کی آیت نمبر 42 جس میں ذکر ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے پاس آ کر یہ کہا:
یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ (پ٣، آل ِعمران:٤٢)
ترجمۂ کنزالایمان: اے مریَم! بے شک اللہ نے تجھے چُن لیا اور خوب ستھرا کیا۔
اسی طرح سورۂ آل عِمْران کی ہی وہ آیات، نیز سورۂ مَریَم کی آیات جن میں فرشتوں کے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو فرزند کی بِشارت سنانے اور اس پر حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے تعجب ظاہِر کرنے کا ذِکْر ہے۔ نیز حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش کا
پورا واقعہ جو قرآنِ کریم میں بیان ہوا حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی پاک دامَنی اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی معجزانہ وِلادت پر دلالت کرتا ہے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ”یہ اسلام کی وُسْعَتِ قلبی ہے کہ ان بُزُرگ ہستیوں کی پیروی کے دعوے دار بعض لوگ اسلام کو بُرا کہیں اور مَعَاذ الله! بانِیِ اسلام حُضُور احمدِ مجتبیٰ، مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی شان میں انتہائی نازیبا کلمات استعمال کریں مگر اسلام نے ان کے مانے ہوئے بزرگوں کی گواہیاں دیں بلکہ ان کے دامَن سے لوگوں کی تہمتوں کے داغ دھو ڈالے اور ان کے نام دُنیا میں چمکا دئیے۔“([119]) یہ اسلام کا حقیقی حُسن ہے جس میں انصاف پسند نگاہوں کے لیے غور وفکر کی دعوت ہے۔ آئیے! یہاں ایک ایسے ہی انصاف پسند بادشاہ کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب اس کے سامنے قرآنِ کریم سے سورۂ مَریَم کی وہ آیات تلاوت کی گئی جن میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا اور آپ کے فرزند کی فضیلت وبُزُرگی کا بیان ہے تو اس کا دل تسلیمِ حق کے لیے تیار ہو گیا اور وہ دائرہ اسلام میں داخِل ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت ورِضْوان کے سائے میں آ گیا۔یہ ہجرتِ مدینہ سے آٹھ۸ سال پہلے کا واقعہ ہے جب حُضُور رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو اِعْلانِ نبوَّت فرمائے چار۴ سال گزر چکے تھے اور پانچواں سال جاری تھا۔ مُشْرِکینِ مکہ کی اَذِیَّتوں سے تنگ آ کر عاشِقانِ رسول کا ایک چھوٹا سا قافلہ وطنِ عزیز مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے حبشہ میں جا کر آباد ہو گیا اور امن وسکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگا۔ مُشْرِکین کو یہ بات سخْت ناگوار گزری چنانچہ
ان ظالموں نے کچھ تَحائف کے ساتھ اپنے دو۲ آدمی بادشاہِ حبشہ کے دربار میں بھیجے تا کہ انہیں واپس مکہ میں لا کر دوبارہ ان پر جور وسِتَم کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔ جب یہ بادشاہ کے دربار میں پہنچے، تَحائف پیش کیے اور دَسْتُور کے مطابق بادشاہ کو سجدہ کرنے کے بعد اصل مُدّعا پیش کیا تو بادشاہ نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہا: یہ مُنَاسِب نہیں ہے کہ جس قوم نے ہمارے ملک میں پناہ لی ہے اسے ہم ان کے دُشمنوں کے حوالے کر دیں۔ اس کے بعد حکم دیا کہ مسلمانوں کو بُلایا جائے تاکہ وہ خود بات کریں اور اپنے دین وملّت کا اِظْہَار کریں۔ چنانچہ جب مسلمان نجاشی کے دربار میں پہنچے تو انہوں نے سجدۂ تَحِیَّت (سجدۂ تعظیمی) کے بجائے سلام کیا۔ نجاشی کے مُصَاحِبَوں نے پوچھا کہ تم نے سجدہ کیوں نہ کیا۔ اس پر حضرت جعفر طیّار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے جو مُہَاجِرِیْنِ حبشہ میں سے تھے، فرمایا: ہم غیرِ خدا کو سجدہ نہیں کرتے، ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے دین اور اسلامی اَحْکام کی خوب عمدہ طریقہ سے تَرجُمانی فرمائی۔ حضرت جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے کلام سے نجاشی کے دل میں ہیبت طاری ہو گئی۔ اس نے ان سے کہا کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم پر جو کلام نازِل ہوا ہے اس میں سے کچھ تلاوت کرو۔ حضرت جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے سورۂ مَریَم کی تِلاوت کی۔ اس پر نجاشی اور پادریوں میں سے جو بھی ان کے پاس تھے سب رونے لگے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا: خدا کی قسم! یہ کلام اور جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازِل ہوا دونوں ایک مشکوٰۃ سے نکلے ہیں اور نجاشی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہستی ہیں جن کی بِشارت حضرت عیسیٰ بِن مریَم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دی ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے بعد وہ
تشریف لائیں گے اس کے بعد نجاشی نے قریش کے تحفوں کو لوٹا دیا اور ان کو ذلیل ورُسْوا کر کے دربار سے نکال دیا۔([120])
آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے مقام ومرتبے اور فضل وکمال کے بیان میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی کئی احادیث وارِد ہیں، چنانچہ
1. ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمین پر چار۴ خُطُوط کھینچ کر فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہیں؟ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: اَللہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: جنّتی عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت والی یہ عورتیں ہیں:
(۱)...خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد
(۲)...فاطمہ بنتِ مُحَمَّد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم)
(۳)...فرعون کی بیوی آسیہ بنتِ مُزَاحِم
(۴)...اور مریَم بنتِ عِمران (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ)([121])
2. جنّتی عورتوں کی سردار چار۴ عورتیں ہیں:(۱)... مریَم(۲)... فاطمہ(۳)... خدیجہ اور
(۴)... آسیہ (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ)۔ ([122])
3. تمام جہانوں کی افضل عورتیں (۱)...خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد(۲)...فاطمہ بنتِ مُحَمَّد (۳)...مریَم بنتِ عِمران (۴)...اور فرعون کی بیوی آسیہ بنتِ مُزَاحِم (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) ہیں۔([123])
4. مَردوں میں تو بہت کامِل ہوئے، عورَتوں میں مریَم بنتِ عِمران اور فرعون کی بیوی آسیہ (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ)کے عِلاوہ کوئی کامِلہ نہ ہوئی۔([124])
عورَتوں کا مرتبۂ کمال: ذِکْر کی گئی آخری رِوَایَت میں عورتوں کے کامِل ہونے کا بیان ہے، مِرْاٰةُ الْمنَاجِیْح میں اس کی وضاحت یہ لکھی ہے کہ یہاں کمال سے مراد نبوّت و رِسالت نہیں کیونکہ یہ کمال تو صرف انسان مَردوں کو ہی ملا ہے کوئی عورت اور کوئی غیر انسان نبی نہیں ہوئے بلکہ (اس سے ) مُراد وِلایتِ کامِلہ، قطبیت، غوثیت وغیرہ ہے اور ربّ تعالیٰ سے قربِ خاص، کہ یہ صِفَات مَردوں کو زیادہ ، عورَتوں کو کم ملے۔ نبوّت کے مُتَعَلِّق ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ (پ١٣، يوسف، ١٠٩)
(ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے۔ )
نبوّت کے فرائض عورت اَنْجام نہیں دے سکتی، پردہ میں رہ کر عام تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہاں نِسَاء (عورتوں) سے مراد اُس زمانہ کی عورتیں ہیں لہٰذااس
سےیہ لازِم نہیں آتا کہ حضرتِ آسیہ و مریَم (رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِمَا) جنابِ فاطمہ زہرا، خدیجہ اور عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ للہُ تَعَالیٰ عَنۡہُنَّ)سے افضل ہوں۔یہ بیبیاں حضرتِ آسیہ و مریَم (رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِمَا) سے افضل ہیں۔([125])
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ آپ جنّت میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی زوجہ ہوں گی۔ چنانچہ مروی ہے کہ جب حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مرضِ وفات میں مبتلا تھیں تو سرکارِ عالی وقار، مَحْبوبِ ربّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے خدیجہ! تمہیں اس حالت میں دیکھنا مجھے گراں گزرتا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس گراں گزرنے میں کثیر بھلائی رکھی ہے۔تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےجنّت میں میرا نِکاح تمہارے ساتھ، مریَم بنتِ عِمران، حضرتِ موسیٰ عَلَیۡہِ السَّلَامُ کی بہن کلثم اور فرعون کی بیوی آسیہ کےساتھ فرمایا ہے۔([126])
حضرت سیِّدنا ابوہُرَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایَت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بھی کوئی آدمی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چُھوتا ہے اور شیطان کے چُھونے کی وجہ سے ہی وہ چیختا چِلَّاتا ہے سِوائے مریَم اور ان کے صاحبزادے (حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے (یعنی یہ دونوں حضرات
شیطان کے چھونے سے محفوظ رہے)۔([127])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس حدیث شریف سے ان کی بہت بڑی فضیلت مَعْلُوم ہوئی۔ خیال رہے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم بھی شیطان کے چُھونے سے مَحْفوظ رہے بلکہ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رِوَایَت سے پتا چلتا ہے کہ شیطان کو اس موقع پر نہایت ذِلّت اور رُسْوائی بھی اُٹھانی پڑی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ جب سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی وِلادَتِ باسعادت ہوئی تو ساری زمین نور سے مُنَوَّر ہو گئی اور شیطان نے کہا: آج رات ایک ایسا فرزند پیدا ہوا ہے جو ہمارے کاموں کو خراب کر دے گا۔ (یعنی ہم نے کوششیں کر کے لوگوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے ان کے ہِدَایَت فرمانے سے وہ بگاڑ ختم ہو جائے گا اور لوگ راہِ راست پر آ جائیں گے اس طرح ہماری ساری کوششوں پر پانی پِھر جائے گا) اس پر اس کی ذُرِّیات نے کہا کہ جب تُو اس کے پاس جائے تَو (مَعَاذَ الله) اس کے فہم ودانش کو متاثر اور خراب کر دینا۔ چنانچہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے قریب ہونے ہی والا تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجا، انہوں نے اس لعین کو ایسی ٹھوکر ماری کہ وہ عدن(Aden)([128]) میں جا کر گرا۔ ([129])
حضرتِ سیِّدنا ابوامامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ
غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرشاد فرمایا: مریَم بنتِ عِمران (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سُوال کیا کہ انہیں ایسا گوشت کِھلائے جس میں خون نہ ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں جَرَاد کِھلائی۔ اس پر انہوں نے دعا کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اسے بغیر دودھ کے زندہ رکھ اور اسے بغیر آواز کے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دے۔([130])
جَرَاد ایک قسم کا پَروں والا کیڑا ہے جو دَرَخْتوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسے ٹڈی بھی کہا جاتا ہے۔ حَیَاتُ الْحیَوَان میں ہے کہ اس ٹڈی کی چھ۶ ٹانگیں ہوتی ہیں ان میں سے دو ۲ہاتھ سینے پر، دو۲ ٹانگیں درمیان میں سیدھی کھڑی ہوتی ہیں اور دو۲ آخر میں ہوتی ہیں۔ اس کی پچھلی دو۲ ٹانگوں کے اَطراف میں آری کی طرح دندانے ہوتے ہیں۔ یہ ان جانوروں میں سے ہے جو اپنے سردار کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور ایک لشکر کی طرح جمع ہو جاتے ہیں، جب ان میں سے پہلا کسی طرف کوچ کرتا ہے تو سب اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور جب پہلا کسی جگہ اترتا ہے تو سب اتر پڑتے ہیں۔ اس کا لُعَاب نباتات کے لیے زَہْرِ قاتِل ہے، جس حصّے پر بھی پڑتا ہے تباہ کر دیتا ہے۔([131])
یہ حلال جانور ہے۔([132]) لیکن پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اس کے کھانے سے اجتناب فرمایا ہے، چنانچہ حضرت سیِّدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایَت ہے،
فرماتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے جَرَاد كے بارے میں پوچھا گیا۔ ارشاد فرمایا: یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بہت بڑا لشکر ہے نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔([133])
حضرت سیِّدتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے بےشُمار فضائل ومناقب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ خوب محنت اور شوق کے ساتھ عِبَادتِ الٰہی میں مصروف رہتی تھیں۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیت المقدس میں آپ کے لیے جو کمرہ بنایا تھا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا بیت المقدس کی خدمت کے حوالے سے اپنی ذِمّہ داریاں پوری کرتیں اور اس کے بعد دن رات اس کمرے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادت کرتی رہتیں حتّی کہ بنی اسرائیل میں آپ کی عِبَادت ضَرْبُ المثل (کہاوت) کے طور پر مشہور ہو گئی۔([134])
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے شوقِ عِبَادت کے حوالے سے یہ بات بھی ہے کہ ایک بار فرشتوں نے انہیں اس بات کی خوش خبری سنائی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں تمام جہان کی عورتوں سے چُن لیا ہے اور انہیں اپنی پسندیدہ بندی بنایا ہے اور پھر انہیں عِبَادت میں کوشش کرنے کا کہا، قرآنِ کریم میں ہے:
وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲)یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب فرشتوں نے کہا اے مریَم بے شک اللہ نے تجھے چُن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا اے مریَم اپنے ربّ کے حُضُور
وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳) (پ٣، آل عمران:٤٢، ٤٣)
ادب سے کھڑی ہو اور اس کے ليے سجدہ کر اور رُکوع والوں کے ساتھ رُکوع کر۔
رِوَایَت میں ہے کہ اس حکم کے بعد آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا اتنا لمبا قِیام فرماتیں کہ قدم مُبَارک پر ورم آ جاتا اور پھٹ کر خون جاری ہو جاتا تھا۔([135])
نماز کے عِلاوہ روزوں کی کثرت بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے منقول ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدنا عبد الله بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا (ہر تین۳ میں سے) دو۲ دن روزہ رکھا کرتی تھیں۔([136]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحِساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں: بخل جس کی اطاعت کی جائے، خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خود کو اچھا جاننا۔(شعب الايمان، باب فى الخوف من الله، ١/٤٧١، حديث:٧٤٥)
حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے ایک اندازے کے مُطَابِق 52 برس اس دارِفانی میں بسر کیے اور پھر دارِ بقا یعنی آخرت کی طرف کوچ کیا۔ جب آپ 43 برس کی عمر میں تھیں تب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے فرزند حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله وَکَلِمَةُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ پر وحی نازِل ہوئی اور انہوں نے دَعْوَت وتبلیغ کا سلسلہ شروع فرمایا۔
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صاحبِ شریعت نبی تھے یعنی آپ کو نئی شریعت دے کر بھیجا گیا تھا جس میں پہلی شریعت کے بعض احکام مَنْسُوخ اور تبدیل بھی ہوئے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے لوگوں کو اس پر عمل کی دعوت دینی شروع فرمائی اور کئی معجزات بھی ظاہِر فرمائےمثلاً مُردوں کو زندہ کیا، کوڑھ کے مریضوں کو شِفا بخشی، پیدائشی نابیناؤں کو بینا کیا اور مٹی سے پرندہ کی مُوْرت بنا کر اسے حکم دیا تو صحیح وسالم پرندہ ہو کر اڑنے لگا۔ یہ تمام معجزات آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سچے اور حق پر ہونے کی کھلی نِشانیاں تھیں لیکن اس کے باوُجود بہت کم لوگ ایمان لائے جبکہ اکثریَّت نے اس کو دیکھنے سے آنکھیں بند کر لیں اور مُقَابَلے سے عاجِز ہو کر مُخَالفت پر اُتر آئے اور اَذیَّت پہنچانے لگے۔ تفسیرِ خازِن میں ہے: اِنَّ الْيَهُوْدَ كَانُوْا عَارِفِیْنَ بِاَنَّہُ الْمَسِیْحُ الْمُبَشَّرُ بِهٖ فِیْ التَّوْرَاةِ وَاَنَّهٗ يُنْسِخُ دِيْنَهُمْ فَلَمَّا اَظْهَرَ عِيْسَى الدَّعْوَةَ اِشْتَدَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِمْ فَاَخَذُوْا فِیْ اَذَاهُ وَطَلَبُوْا قَتْلَهٗ یعنی یہودی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہچانتے تھے کہ آپ ہی وہ نبی ہیں جن کا لقب مسیح ہے اور آپ کی آمد کی خوش خبری تورات میں دی گئی ہے نیز انہیں اس بات
کا بھی عِلْم تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی شریعت کو مَنْسُوخ فرمائیں گے لہٰذا جب حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کھلم کھلا دَعْوَت وتبلیغ کا آغاز فرمایا تو یہ بات ان پر بہت گِراں گزری اور انہوں نے آپ کو تکالیف پہنچانی شروع کر دیں حتّی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کرنے کی راہ تلاش کرنے لگے۔([137])
ظالموں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والِدہ ماجِدہ طیِّبہ طاہِرہ صِدِّیقہ عفیفہ حضرت سیِّدتُنا مریَم بَتُول رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے دامَنِ پاک پر تہمت لگانے لگے جن کی طہارت وپاک دامَنی کی کھلی نِشانیاں اس سے پہلے وہ دیکھ اور یقین کر چکے تھے آخرکار انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پھانسی دے کر شہید کرنے کا مَنْصُوبہ بنا لیا لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے اس ناپاک مَنْصُوبے سے مَحْفوظ رکھا اور آپ کو آسمان پر اُٹھا لیا چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اب بھی اپنی اسی حیاتِ حقیقی دُنْیَوی کے ساتھ آسمان پر تشریف فرما ہیں، اب قیامت کے قریب ہی زمین پر اتریں گے اور چالیس سال قیام فرما کر وفات پائیں گے۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں اس بارے میں مذکور ہے: (قیامت کے قریب جب حضرت سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین پر تشریف لائیں گے تو یہاں) چالیس برس تک اِقَامَت فرمائیں گے، نِکاح کریں گے، اولاد بھی ہو گی، بعدِ وفات روضۂ انور (یعنی دُنیا سے ظاہِری پردہ فرمانے کے بعد سیِّد المرسلین، خاتم النبیین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے روضۂ مبارکہ) میں دَفْن ہوں گے۔([138])
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد مزید چھ۶ سال تک حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا بقیدِ حیات رہیں اور پھر آخرت کی طرف کوچ فرما گئیں۔ وِصَال فرمانے کے وَقْت آپ کی عمر مُبَارک 52 سال تھی اور اس وقت سِکنْدر ذُوالقرنین کو بابل فتح کیے اندازاً 104 برس کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ان تاریخوں کا بیان تفسیر ِخازِن میں اس طرح کیا گیا ہے: حضرت مریَم 13 سال کی عمر میں حامِلہ ہوئیں اور بیت المقدس میں بیتِ لحم کے عِلاقے میں ایک جنگل میں کھجور کے دَرَخْت کے نیچے جو پہلے خشک تھا آپ کے ہاتھ لگنے سے سرسبز اور پھل والا ہو گیا، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش سِکنْدر کے فتحِ بابل کے 65 سال بعد ہوئی اور 30 سال کی عمر میں آپ پر وحی آئی اور 33 سال کی عمر میں رمضان المبارک کی 27ویں شب یعنی شبِ قدر میں آپ آسمان پر تشریف لے گئے۔ آپ کی والِدہ ماجِدہ آپ کے بعد چھ۶ سال زندہ رہیں([139]) اس حِساب سے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی عمر مُبَارک 52 سال ہوئی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! نیکیاں کرنے اور نیک بننے کا ذہن پانے کے لیے آئیے! تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! اس پیارے مَدَنی ماحول کی برکت سے لاکھوں لاکھ اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہوا ہے اور وہ گناہوں بھری زندگی سے چھٹکارا پا کر نیکیوں کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ آپ کی ترغیب کے
لیے یہاں ایک ایسی ہی اسلامی بہن کی مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے، دیکھئے! کیسے انہیں گناہوں بھری زندگی سے چھٹکارا ملا اور وہ شریعت وسنّت کے مُطَابِق زندگی بسر کرنے لگیں:
بَابُ الْاِسْلَام (سندھ)کی ایک اسلامی بہن کا بیان ہے کہ بہت پہلے میں ایک دفتر میں کام کرتی تھی، جہاں مرد و عورت سبھی مُلَازَمت کرتے تھے۔بے پردگی، بدنگاہی کے ساتھ ساتھ ایسی کئی برائیاں وہاں عام تھیں جنہیں آج کل کے مُعَاشَرَے میں بُرائی ہی نہیں سمجھا جاتا، اسی بُرے ماحول کا نتیجہ تھا کہ میں فلموں، ڈراموں اور گانے باجے کی دلدادہ ، نت نئے فیشن اور پارکوں میں بے پردہ گھومنے کی شوقین تھی۔والِدین کی نافرمانی بلکہ ان سے بدکلامی اور بڑوں سے بدتمیزی کرنا میرا معمول تھا۔ ایک دن برقع میں ملبوس ایک خاتون میرے گھر آئیں۔جب انہوں نے میرے سامنے اپنا نِقاب ہٹایا تو میں حیرت سے گنگ ہو گئی کہ یہ تو وہی ہیں جو میرے ساتھ دفتر میں کام کرتی تھیں اور میری طرح بے پردہ اور فیشن زدہ بھی تھیں۔کچھ عرصہ قبل مُلَازَمت چھوڑ چکی تھیں۔مختصر سی مدت میں اتنی بڑی تبدیلی دیکھ کر میں متأ ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔انہوں نےمجھے نیکی کی دعوت پیش کی اور دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دِلائی۔ان کا محبت بھرا لہجہ اور اخلاص سے بھر پور اِنْفِرَادی کوشش دیکھ کر مجھ سے انکار نہ ہو سکا، چنانچہ میں نے اجتماع میں شریک ہونے کی نیت کر لی۔
اس اسلامی بہن کی زندگی میں آنے والا مَدَنی اِنْقِلاب پہلے ہی میرے دل پر دستک دے چکا تھا، سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت سے اصلاح کا دروازہ کھل گیا۔ فکرِ آخرت سے
مَعْمُور بیان نے مجھے خوابِ غفلت سے جھنجھوڑ کر جگادیا، رہی سہی کسر رِقَّت انگیز اجتماعی دُعا نے پوری کر دی، میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔مجھے گناہوں بھری زندگی بسر کرنے پر نَدَامت ہونے لگی، میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کی اور راہِ راست پر آگئی، دفتر میں مُلَازَمت کو بھی خیر آباد کہہ دیا۔ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا کروڑ ہا کروڑ شکر کہ اس نے مجھے گناہوں کی دلدل سے نکلنے کے لئے دعوتِ اسلامی کا سہارا عطا کر دیا۔([140])
بندے پر چار چیزیں لازِم ہیں:
...عِلْم...عمل...اخلاص...خوف...
سب سے پہلے راستے کا عِلْم حاصِل کرے ورنہ اندھا ہی رہے گا، پھر عِلْم پر عمل کرے ورنہ حجاب میں رہے گا، پھر عمل میں اخلاص لائے ورنہ نقصان اٹھائے گا، پھر امان نصیب ہونے تک ہمیشہ ڈرتا اور آفات سے بچتا رہے ورنہ دھوکے میں پڑا رہ جائے گا۔ (مختصر منہاج العابدین، حمد وشکر کا بیان، ص۲۶۷)
|
القرآن الكريم |
كلامِ بارى تعالىٰ |
||
|
كتاب |
ناشر و سنِ اشاعت |
کتاب |
ناشر و سنِ اشاعت |
|
كنزالايمان |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ۱۴۳۲ھ |
تفسير الطبرى |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2009ء |
|
احكام القرآن للجصاص |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۳۴ھ |
تفسير ماتريدى |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2005ء |
|
اسباب النزول للواحدى |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۱ھ |
الهداية الى بلوغ النهاية |
جامعۃ الشارقہ عرب امارات، ۱۴۲۹ھ |
|
المحرر الوجيز |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۲ھ |
التفسير الكبير |
دار احیاء التراث بیروت، ۱۴۲۹ھ |
|
تفسير البيضاوى |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۳۴ھ |
تفسير القرطبى |
دار الفکر بیروت، 2008ء |
|
تفسير المدارك |
دار ابن کثیر بیروت، ۱۴۳۴ھ |
تفسير الخازن |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۳۵ھ |
|
التسهيل لعلوم التنزيل |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۵ھ |
البحر المحيط |
دار احیا ء التراث العربی بیروت |
|
تفسير ابن كثير |
دار ابن کثیر بیروت، ۱۴۳۴ھ |
بصائر ذوى التمييز |
المکتبۃ العلمیہ بیروت |
|
تفسير الجلالين |
قاسِم پبلی کیشنز کراچی |
الدر المنثور |
دار الفکر بیروت، 2011ء |
|
تفسير ابى السعود |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2010ء |
حاشية الجمل |
کوئٹہ |
|
حاشية الصاوى |
قاسِم پبلی کیشنز کراچی |
روح المعانى |
دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۲۱ھ |
|
خزائن العرفان |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ١٤٣٢ھ |
نور العرفان |
نعیمی کتب خانہ گجرات |
|
تفسیرِ نعیمی |
مکتبہ اسلامیہ لاہور |
مصنف عبد الرزاق |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۱ھ |
|
مصنف ابن ابى شيبة |
ملتان |
مسند احمد |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۹ھ |
|
صحيح البخارى |
دار المعرفہ بیروت، ۱۴۲۸ھ |
صحيح مسلم |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2008ء |
|
سنن ابن ماجة |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2009ء |
المعجم الاوسط |
دار الفکر عمان، ۱۴۲۰ھ |
|
المعجم الكبير |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2007ء |
المستدرك للحاكم |
دار المعرفہ بیروت، ۱۴۲۷ھ |
|
السنن الكبریٰ للبيهقى |
دار الحدیث قاہرہ، ۱۴۲۹ھ |
شعب الايمان |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2008ء |
|
كنز العمال |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۴ھ |
مرآۃ المناجیح |
نعیمی کتب خانہ گجرات |
|
حلية الاولياء |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۷ھ |
دلائل النبوة للبيهقى |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۹ھ |
|
مسالك الممالك للكرخى |
دار الصادر بیروت، 1927ء |
معجم البلدان للحموى |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2011ء |
|
البداية و النهاية |
دار المعرفہ بيروت، ۱۴۲۶ھ |
الخصائص الكبرى |
دار الکتب العلمیہ بيروت، 2008ء |
|
سبل الهدى و الرشاد |
دار الکتب العلمیہ بيروت، ۱۴۳۴ھ |
مدارج النبوة |
النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور |
|
سُرور القلوب |
شبیر برادرزلاہور، ۱۴۰۵ھ |
کراماتِ فاروقِ اعظم |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ۱۴۳۴ھ |
|
منحة الرحمٰن |
مخطوطہ |
احياء عُلُوم الدين |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2008ء |
|
حياة الحيوان الكبرىٰ |
دار الکتب العلمیہ بیروت، 2010ء |
التعريفات للجرجانى |
دار النفائس بیروت، ۱۴۲۸ھ |
|
البناية فی شرح الهداية |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۰ھ |
شرح الصُّدور |
دار الکتاب العربی بیروت، ۱۴۲۵ھ |
|
البدور السافرة |
دار المعرفہ بیروت، ۱۴۲۶ھ |
اتحاف السادة المتقين |
دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۶ھ |
|
مختصر منہاج العابدین |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ۱۴۳۷ھ |
نورِ ایمان |
دار الاسلام لاہور، ۱۴۳۳ھ |
|
ذيل المدعا لاحسن الوعاء |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ۱۴۳۰ھ |
کلیاتِ اقبال |
استقلال پریس لاہور، ۱۴۱۰ھ |
|
بہارِ شریعت |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ۱۴۲۹ھ |
وسائلِ بخشش (مرمّم) |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، ۱۴۳۵ھ |
|
پُر اسرار بھکاری |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ |
25 کرسچن قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ |
|
معذور بچی مبلغہ کیسے بنی |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ |
|
دُرُود شریف کی فضیلت |
1 |
فضل و کمال کی حامِل عظیم بچی کا تَعَارُف |
15 |
باب اوّل: ولادت اور تعارف |
2 |
تذکرۂ خاندان |
16 |
|
انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ کی دعوت و تبلیغ |
// |
مریم نام کس نے رکھا اور اس کی وجہ تسمیہ |
// |
|
القاب |
17 |
||
|
زمانے کے اُتار چڑھاؤ |
// |
(۱)...صِدِّیقہ |
// |
|
تذکرۂ ولادت و پرورش |
3 |
صِدِّیقہ کا معنیٰ |
18 |
|
امید بار آور ہونا |
4 |
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو صدیقہ کہنے کی تین۳ وُجُوہ |
// |
|
نوٹ |
5 |
||
|
بیٹی کی پیدائش |
6 |
(۲)...بتول |
19 |
|
جذبۂ خدمتِ دین |
7 |
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو بتول کہنے کی وجہ |
20 |
|
بیت المقدس کی جانب روانگی |
9 |
||
|
قبولیتِ نذر |
10 |
(۳، ۴)... طَیِّبہ اور حصینہ |
// |
|
قرعہ اندازی |
11 |
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو طَیِّبہ کہنے کی وجہ |
// |
|
بیت المقدس میں پرورش |
// |
||
|
پھلوں کے بارے میں سوال |
12 |
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو حصینہ کہنے کی وجہ |
21 |
|
حضرت زکریا عَلَیۡہِ السَّلَامُ کی دعا |
13 |
||
|
دُعا میں اخلاص کا اثر |
14 |
(۵)...عذراء |
// |
|
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو عذراء کہنے کی وجہ |
22 |
حضرت یُوسُف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سوال و جواب |
36 |
|
|
سلسلۂ نسب |
// |
بیتِ لحم کے مقام پر آمد |
37 |
|
|
تربیت ونشو ونما |
// |
بہتان تراشی کا خوف |
38 |
|
|
عظیم الشان فرزند |
23 |
دو۲ عظیم نشانیوں کا ظہور |
39 |
|
|
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا پر تہمت لگانے والے کا حکم |
24 |
پانی کا چشمہ جاری |
41 |
|
|
سوکھا درخت تر و تازہ |
// |
|
||
|
نوٹ |
25 |
بیت المقدس آمد |
42 |
|
|
واقعۂ ولادتِ مریم سے ماخوز چند مدنی پھول |
// |
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا گہوارے میں کلام |
43 |
|
باب دُوُم: ولادتِ حضرت عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام |
32 |
|||
|
اعلانِ بندگی |
44 |
|
||
|
فرشتوں کی آمد |
// |
عطائے کتاب و نبوت کا بیان |
// |
|
|
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو بیٹے کی بشارت |
33 |
اِنْعَاماتِ الٰہیہ اور بعض صفات کا تذکرہ |
45 |
|
|
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی براءَت |
46 |
|
||
|
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا سوال |
34 |
حُصُولِ رزق کی کوشش خلافِ تَوَکُّل نہیں |
48 |
|
|
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جواب |
35 |
تَوَکُّل ترکِ اسباب کا نام نہیں |
49 |
|
|
استقرارِ حمل |
36 |
تَوَکُّل کیا ہے؟ |
50 |
|
|
سوال کرنے کی ممانعت |
51 |
عفت و پاک دامنی |
64 |
|
|
حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِـیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شان و عظمت |
52 |
پہلی آیت |
// |
|
|
تہمت بدترین گناہ ہے |
65 |
|
||
|
ایک اہم مدنی پھول |
53 |
دوسری آیت |
67 |
|
|
مُقَرَّبین کا خوفِ خدا |
54 |
تیسری اور چوتھی آیت |
// |
|
|
کرسچن عورت کا قبولِ اسلام |
55 |
پاک دامنی کی فضیلت پر دو۲ فرامین مصطفےٰ |
69 |
|
باب سِوُم: کرامات اور فضائل کا بیان |
58 |
پانچویں آیت |
// |
|
|
کرامت کسے کہتے ہیں؟ |
// |
دیگر مقامات |
71 |
|
|
کرامات مریم |
// |
دعوتِ فکر |
72 |
|
|
فضائلِ مریم |
60 |
(۲)...احادیثِ طیِّبہ سے ماخوذ فضائل کا بیان |
74 |
|
|
(۱)...قرآنِ کریم کے تَعَلُّق سے فضائِل کا بیان |
// |
|||
|
مریم کے چار۴ حُروف کی نسبت سے آپ کے فضل وکمال پر مبنی چار۴ فرامینِ مصطفےٰ |
// |
|||
|
قرآن میں حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا نام |
// |
|||
|
عورتوں کا مرتبۂ کمال |
75 |
|
||
|
قرآنِ کریم سے ماخوذ حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے بارہ صفاتی نام |
61 |
حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شرفِ زوجیت |
76 |
|
|
ایک آیت میں مذکور حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی تین۳ فضیلتیں |
63 |
شیطان کے چھونے سے محفوظ |
// |
|
|
بغیر خون والا گوشت کھانے کی خواہش |
77 |
|
|
جراد کیا ہے؟ |
78 |
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت وتبلیغ |
81 |
|
ٹڈی کھانے کے بارے میں حکمِ شرعی |
// |
||
|
شوقِ عبادت |
79 |
آسمان کی طرف اٹھایا جانا |
82 |
|
نماز میں کوشش |
// |
حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی تاریخِ وصال |
83 |
|
روزہ داری |
80 |
||
باب چہارُم: وصالِ باکمال اور دیگر احوال |
81 |
گناہوں سے چھٹکارا مل گیا |
84 |
جنگِ بدر کے موقع پر حُضُور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چند جاں نثاروں کے ساتھ رات میں میدانِ جنگ کا مُعَاینہ فرمایا، اس وَقْت دستِ انور میں ایک چھڑی تھی۔ آپ اس چھڑی سے زمین پر لکیر بناتے ہوئے فرما رہے تھے کہ فلاں کافِر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافِر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ نے جس جگہ جس کافِر کی قتل گاہ بتائی تھی اس کافِر کی لاش ٹھیک اسی جگہ پائی گئی ان میں سے کسی ایک نے لکیر سے بال برابر بھی تَجَاوُز نہیں کیا۔ (مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب غزوة بدر، حديث:١٧٧٩، ص٧٠٨ وشرح الزرقانى على المواهب، باب غزوة بدر، ٢/٢٦٩)
[1]...البدور السافرة،باب الاعمال الموجبة لظل العرش...الخ، ص٩٣.
[2]...نورِ ایمان، ص۵۶، ملتقطًا.
[3]...تفسير الخازن،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٥، ١/٢٣٩.
[4]...تفسير الخازن،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٥، ١/٢٤٠، ملتقطًا.
[5]...حاشية الصاوى،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٦، الجزء الاول، ١/٢٢٩.
[6]...تفسیرِ نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۵، ۳/۳۷۱۔تفسير الخازن، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٥، ١/٢٣٩، بتغير.
[7]...خزائن العرفان، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۵، ص۱۱۱، بتغیر۔
[8]...تفسير الخازن، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٥، ١/٢٤٠.
[9]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۶، ۳/۳۷۲.
[10]...کلیاتِ اقبال، بالِ جبریل، ص۴۱۲.
[11]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۷، ۳/۳۸۱، بتغیر قلیل۔
[12]...الدر المنثور، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٦، ٢/١٨٣.
[13]...تفسير الخازن،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ١/٢٤١، مفصلًا.
[14]...تفسیر نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۷، ۳/۳۸۱، بتغیر۔تفسير الخازن، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ١/٢٤١، مختصرًا.تفسیر الجلالین مع حاشية الصاوى، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ١/٢٣١، مختصرًا.
[15]...جلالين مع الصاوى، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ١/٢٣١.
[16]...روح المعانى، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ٣/١٨٦، بتغير قليل.
[17]...جلالين مع الصاوى،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ١/٢٣١.
[18]...روح المعانى،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٣٧، ٣/١٨٦، بتقدم و تاخر.
[19]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۷، ۳/۳۸۰۔
[20]...تفسیرِ نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۷، ۳/۳۸۰۔
[21]...المرجع السابق، تحت الآیۃ:۳۸، ۳/۳۹۰، بتغیر قلیل۔
[22]...المرجع السابق، ۳/۳۹۰، بتغیر قلیل۔
[23]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت آیۃ:۳۷، ۳/۳۸۴.
[24]...وسائل بخشش (مُرَمَّم)، ص۱۲۳.
[25]...تفسیرِ نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۶، ۳/۳۷۳۔
[26]...كتاب التعريفات، باب اللام، ص٢٧٣، ملخصًا.
[27]...آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے ان بارہ القاب کا ذکر کتاب کے تیسرے باب ”کرامات اور فضائل کا بیان“میں آ رہا ہے۔
[28]... تفسير كبير، پ٦، المائدة، تحت الآية:٧٥، ٤/٤٠٩.
[29]...دلائل النبوة، جماع ابواب المبعث، باب ماجاء فى كتاب...الى النجاشى، ٢/٣٠٩.
[30]...مستدرك،كتاب التفسير، قصة اسلام النجاشى...الخ،٣/٣٣، الحديث:٣٢٦١.
[31]... تفسير البيضاوى مع حاشية شيخ زاده، پ٣، آلِ عمران، تحت الاية:٣٣، ٣/٤٨.
[32]...فتویٰ دار الافتاء اہلسنت، ریفرنس نمبر: Sar 4627.
[33]...فتویٰ دار الافتاء اہلسنت، ریفرنس نمبر: Sar 4627.
[34]...تفسیرِ نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۶، ۳/۳۷۷.
[35]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۶، ۳/۳۷۵.
[36]... المرجع السابق، ۳/۳۷۲.
[37]...المرجع السابق، ۳/۳۷۴.
[38]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۷، ۳/۳۸۴.
[39]...المرجع السابق.
[40]...المرجع السابق، ۳/۳۸۳.
[41]... تفسیرِ نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۷، ۳/۳۸۳.
[42]... تفسیرِ نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۷، ۳/۳۸۳.
[43]...المرجع السابق، ۳/۳۸۴۔
[44]...المرجع السابق، تحت الآیۃ:۳۶، ۳/۳۷۳۔
[45]... المرجع السابق، ۳/۳۷۵.
[46]...المرجع السابق، تحت الآیۃ:۳۸، ۳/۳۹۱۔
[47]...البداية والنهاية، قِصّة عيسى بن مريم عليْه السَّلام، المجلد الاول، ٢/٤٤٢.
[48]...روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية:١٦، ١٦/٥٢٣.
[49]...مدارك، پ١٦، مريم، تحت الآية:١٧، ٢/٣٢٩، ملتقطًا.
[50]...التسهيل لعلوم التنزيل، پ١٦، مريم، تحت الآية:١٨، ٢/٥.
[51]...صِراط الجنان،پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۱۸، ۶/۸۳۔
[52]... تفسيرِ كبير، پ١٦، مريم، تحت الآية:١٩، ٧/٥٢٢.روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية:١٩، ١٦/٥٢٦.
[53]... تفسير ابن كثير،پ١٦، مريم، تحت الآية:١٩، ٣/٨٥.
[54]... صاوى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٠، المجلد الثانى، ٤/٤٧، ماخوذًا.تفسير كبير، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٠، ٧/٥٢٣.حاشية الجمل، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٠، ٥/١٢.
[55]... تفسیر ِنعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۴۷، ۳/۴۲۱۔روح المعانى،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٤٧، ٣/٢١٧، ملخصًا.
[56]...خزائن العرفان،پ۱۶،مریم، تحت الآیہ:۲۱، ص۵۷۲۔
[57]... تفسير ابى سعود، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢١، ٥/٣٥٧، بتغير قليل.
[58]... خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۱،ص۵۷۲، بتغیر قلیل۔
[59]...خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۱، ص۵۷۲، بتغير قليل۔
[60]...تفسیر نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۴۷، ۳/۴۲۲۔
[61]...خزائن العرفان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۲۱،ص۵۷۲۔
[62]...تفسیر خزائن العرفان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۲۲، ص۵۷۲۔تفسير الخازن،پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٢، ٣/١٨٥.تفسير الطبرى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٢، ٨/٣٢٤، ملتقطًا.تفسير صاوى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٤، ٤/٤٨.
[63]...روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٢، ١٦/٥٢٩.
[64]...نور العرفان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۲۲، ص۸۰۲، بتغیر۔
[65]...حاشيه جمل، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٣، ٥/١٤، بتغير.
[66]... روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٣، ١٦/٥٣٢.
[67]... احكام القرآن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٣، ٣/٢٨٤.روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٣، ١٦/٥٣٢.
[68]...روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٤، ١٦/٥٣٣.
[69]...صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۵، ۶/۸۹
روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٤، ١٦/٥٣٣، بتغير.
[70]... یاد رہے کہ پہلے زمانے میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیساکہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے البتہ ہماری شریعت میں چُپ رہنے کا روزہ منسوخ ہو گیا ہے۔ [صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۶، ۶/۹۰] حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صومِ وصال (یعنی سحری اور افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے) اور چُپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند امام اعظم، باب العين، روايته عن عدى بن ثابت، ص١٩٢] حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تا کہ کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اولیٰ ہے۔ [صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۶، ۶/۹۰ و خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٤، ٣/١٨٥ ومدارك، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٦، ٢/٣٣٣، ملتقطًا]
[71]...مدارك، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٤، ٢/٣٣٢.
[72]...تفسير القرطبى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٥، ٦/١٧.
[73]...البحر المحيط، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٨، ٦/٢٣١، بتقدم و تاخر.
[74]...حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو ہارون کی بہن کہنے کی وضاحت کرتے ہوئے صَدْرُ الْاَفاضِل سیِّد محمد نعیم الدِّین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: ہارون یا تو حضرت مریَم کے بھائی کا نام تھا یا بنی اسرائیل میں اور نہایت بزرگ اور صالح شخص کا نام تھا جن کے تقویٰ اور پرہیزگاری سے تشبیہ دینے کے لیے ان لوگوں نے حضرت مریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کو ہارون کی بہن کہا یا حضرت ہارون برادرِ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ہی کی طرف نسبت کی باوجودیکہ ان کا زمانہ بہت بعید تھا اور ہزار برس کا عرصہ ہو چکا تھا مگر چونکہ یہ ان کی نسل سے تھیں اس لیے ہارون کی بہن کہہ دیا جیسا کہ عربوں کا مُحَاورہ ہے کہ وہ تمیمی کو یَا اَخَا تَمِیْم کہتے ہیں۔ [خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۸، ص۵۷۳ و تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٨، ٣/١٨٦، ملتقطًا]
[75]... المحرر الوجيز،پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٨، ٤/١٤.
تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٨، ٣/١٨٦.
[76]... تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٨، ٣/١٨٦، ملتقطًا.
[77]... روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية:٣٠، ١٦/٥٤١.
[78]...خزائن العرفان،پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۳۰، ص۵۷۴، بتغیر۔
[79]... تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٣٠، ٣/١٨٧.
[80]...مدارک، پ١٦، مريم، تحت الآية:٣٠، ٢/٣٣٤.
[81]...تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٣٠، ٣/١٨٧.
[82]...صراط الجنان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۳۱، ۶/۹۶۔
[83]...تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٣١، ٣/١٨٧، مفهومًا
و صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۳۱، ۶/۹۵۔
[84]...صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۳۱، ۶/۹۶۔
[85]...خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۳۰،ص۵۷۴۔تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية:٣٠، ٣/١٨٧.
[86]...تفسير القرطبى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٣١،٦/٢٢.
[87]...البناية شرح الهداية، كتاب الكراهية، مسائل متفرقة، ١٢/٢٧١.
[88]... ذیل المدعا لِاحْسنِ الوِعاء، فصلِ دہم، ص۲۸۹۔
[89]... احياء علوم الدين، كتاب التوحيد و التوكل، بيان اعمال المتوكلين، ٤/٣٢٥.
[90]... ذیل المدعاء لاحسن الوعاء، فصلِ دہم، ص۲۸۸.
[91]...التعريفات، حرف التاء، ص١٣٣.
[92]... تفسير الماتريدى،پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٥، ٧/١٣١.
[93]... پُراَسرار بھکاری،ص۱۳۔
[94]...شعب الايمان، باب فى الزكاة، فصل فى الاستعفاف عن المسألة، ٣/٢٧٤، الحديث:٣٥٢٦.
[95]...معجم كبير، باب الحاء،حبشى بن جنادة السلولى، ٢/٤٠٠، الحديث:٣٤٢٦.
[96]... مسلم،كتاب الزكاة، باب كراهة المسألة للناس، ص٣٧٢، الحديث:١٠٤١.
[97]...مصنف ابنِ ابى شيبة، كتاب الزكاة،من كره المسألة...الخ، ٣/٩٩، الحديث:٨.
[98]... سرور القلوب، خصائصِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم، ص۱۹۸۔
[99]...بخاری، كتاب المرضٰی، باب تمنی المريض الموت،ص١٤٣٧، الحديث:٥٦٧١.
[100]...بہارِ شریعت،حصہ ۱۶، ۳/۶۵۸۔
[101]...جیسا کہ رئیس المتکلمین حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ (یہ) دُعا بہ ہلاک نہیں بلکہ آرزو اور تمنا زمانۂ ماضی کی ہے۔ [احسن الوعاء، فصل ہفتم، ص۱۸۲]
[102]...الهداية الی بلوغ النهاية،پ١٦، مريم تحت الآية:٢٣، ص٤٥٢١، مختصرًا.قرطبى، پ١٦، مريم، تحت الآية:٢٣، ٦/١٥، بتغير.
[103]...اتحاف السادة، كتاب الخوف و الرجاء، بيان الدواء الذی به ...الخ، ١١/٤٥٥.
[104]... 25کرسچن قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام، ص۱۱۔
[105]...کراماتِ فاروقِ اعظم، ص۸۔
[106]...بہارِ شریعت،حصہ اول، عقائد متعلقہ نبوت، ۱/۵۸۔
[107]...منحة الرحمٰن، الباب الاوّل فی بيان فضائل...الخ، ص٣.
[108]...بصائر ذوى التمييز، بصيرة فى ذكرِ مريم رحمة الله تعالى عليها، ٦/١٠٩.
[109]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عِمران، تحت الآیہ:۴۲، ۳/۴۰۴، مختصرًا۔
[110]...معجم الكبير، باب الحاء، و من مسند حذيفه رَضِىَ الله تَعَالٰى عَنْهُ، ٢/٢٨٣، الحديث:٢٩٥٢.
[111]...مصنف عبد الرزاق، كتاب العقول، باب قذف الرجل مملوكه، ٩/٣٢٠، الحديث:١٨٢٩١.
[112]...المستدرك، كتاب الحدود، ذكر حد القذف، ٥/٥٢٨، الحديث:٨١٧١.
[113]...شرح الصدور، باب ما ينجی من عذاب القبر، ص١٣٢.
[114]...تفسیر ِنعیمی،پ۶، المائدہ، تحت الآیہ:۷۵، ۶/۶۰۶، ملتقطًا۔
[115]...صراط الجنان، پ۱۷، الانبیاء، تحت الآیہ: ۹۱، ۶/۳۷۰، بتغیر قلیل۔
[116]...حلية الاولياء، باب ذكر طوائف من النساك و العباد، الربيع بن صبيح، ٦/٣٣٦، الحديث:٨٨٣٠.
[117]...معجم الاوسط، باب العين، من اسمه عبد الرحمٰن، ٣/٣١٩، الحديث:٤٧١٥.
[118]...تفسیرِ نعیمی، پ۳، آلِ عِمران، تحت الآیہ:۵۹، ۳/۴۷۳۔اسباب نزول القرآن للواحدى، آلِ عمران، تحت الآية:٥٩، ص١٠٦.
[119]...تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۷، ۳/۳۸۱، بتغیر.
[120]...مدارج النبوۃ، باب سِوُم در بدء وحی...الخ،وصل ہجرت کردن بسوئے حبشہ، ۲/۴۱۔سبل الهدیٰ والرشاد، الباب التاسع عشر فی رجوع القادمين من...الخ، ٢/٣٨٩،ملخصًا.
[121]...مسندِ احمد، مسند بنی هاشم، مسند عبد الله بن عباس...الخ، ٢/٢٤١، الحديث:٢٧٢٠.
[122]...كنز العمال، كتاب الفضائل، الفصل الثالث فی جامع مناقب النساء، ١٢/٦٥، الحديث:٣٤٤٠١.
[123]...المستدرك، كتاب تواريخ المتقدمين...الخ، ذكر افضل نساء العالمين، ٣/٤٨٩، الحديث:٤٢١٦.
[124]...بخارى، كتاب احاديث الانبياء، باب قول الله تعالٰى و اذ قالت الملئکة يٰمريم، ص٨٨٢، الحديث:٣٤٣٣.
[125]...مرآۃ المناجیح، نبیوں کا ذکر، پہلی فصل، ۷/۵۹۵.
[126]...معجم كبير، ذكر تزويج رسول الله صلی الله عليه و سلم خديجة...الخ، ٩/٣٩٣، الحديث:١٨٥٣١.
[127]...بخارى، كتاب احاديث الانبياء، باب قول الله تعالى: واذكر فى الكتاب مريم...الخ، ص٨٨١، الحديث:٣٤٣١.
[128]...یہ بحر ہند (Indian Ocean) کے ساحِل پر واقع ملکِ یمن (Yemen) کا ایک شہر ہے۔[معجم البلدان، باب العين و الدال و ما يليها، ٤/١٠٠]یہاں سےمکۃ المکرمہ تک كا فاصِلہ ایک ماہ کی مسافت ہے۔[مسالك الممالك للكرخى،ديار العرب، ص٢٨]
[129]...الخصائص الكبرىٰ، باب ما ظهر فى ليلة مولده صلى الله عليه وسلم...الخ، ١/٨٦.
[130]...السنن الكبرى للبيهقى، كتاب الصيد و الذبائح، باب ماجاء فی اَكْل الجراد، ٩/٤٨٠، الحديث:١٩٠٠٠.
[131]...حياة الحيوان الكبرىٰ، باب الجيم، الجراد، ١/٢٦٩.
[132]...بہارِ شریعت، متفرقات،حصہ۱۶، ۳/۶۵۵۔
[133]...ابن ماجة،كتاب الصيد، باب صيد الحيتان والجراد، ص٥٢٥، الحديث:٣٢١٩.
[134]...البداية والنهاية، قصة عيسی ابن مريم،المجلد الاول، ٢/٤٤٢.
[135]...تفسیر ِنعیمی،پ۳، آلِ عِمران، تحت الآیہ:۴۳، ۳/۴۰۵۔
[136]...كنز العمال، كتاب الصوم، قسم الافعال، الايام البيض، ٨/٣٠٤، الحديث:٢٤٦٢٤.
[137]...خازن،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٥٢، ١/٢٤٩.
[138]...بہارِ شریعت، حصہ اوّل،معاد و حشر کا بیان،۱/۱۲۳.
[139]...خازن، پ٣، آلِ عمران، تحت الآية:٥٤، ١/٢٥١، ملتقطًا.
[140]...معذور بچی مبلغہ کیسے بنی، ص۹.