{۱۹}سب کچھ خیرات کردیا

            راکب دوشِ مصطَفٰے، سیِّدُ الْاَسْخِیا حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دو بار اپنے گھر کا سارا اور تین مرتبہ آدھا مال و اسباب راہِ خدا میں خرچ فرمایا۔   (حلیۃ الاولیاء ،ج۲ص۴۷حدیث۱۴۳۴)

اے سخی ابنِ سخی اپنی سخَا

سے دو حصہ سیِّدِ عالی حَشَم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۰}شوقِ تلاوت

             نواسۂ رسول، چمنِ مرتضیٰ کے جنّتی پھول، جگر گوشۂ بتول سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہر رات سُوْرَۃُ الْکَھْف  کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ یہ مبارک سورت ایک تختی پرلکھی ہوئی تھی،آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی جس زوجہ کے پاس تشریف لے جاتے یہ مبارک تختی بھی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہمراہ ہوتی ۔  (شعب الایمان ج۲ص۴۷۵حدیث۲۴۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

{۲۱}معمولاتِ امام حسن

  حضرت سیّدنا ابو سعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: حضرت سیّدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک بار مدینۃُ المنوّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے ایک قریشی شخص سے سیّدنا امام حسن بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق دریافت فرمایاتو اس نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! وہ نمازِ فجر ادا فرمانے کے بعد سورج طلوع ہونے تک مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی میں تشریف فرما رہتے ہیں۔پھرملاقات کیلئے آئے ہوئے معززین سے ملاقات و گفتگو فرماتے یہاں تک کہ کچھ دن نکل آتا، اب دو رکعت نماز ادا فرماتے، اس کے بعد اُمَّہاتُ المؤمنین کی بارگاہ میں حاضری دیتے،سلام پیش فرماتے،بعض اوقات اُمَّہات المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّآپ کو کوئی چیز تحفۃً پیش فرماتیں۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے گھر تشریف لے آتے۔آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشام کے وقت بھی یونہی کیا کرتے تھے۔پھر اس قریشی آدمی نے کہا: ہم میں کوئی بھی ان کا ہم مرتبہ نہیں ۔( ابن عساکرج۱۳ ص۲۴۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۲} مدینہ تا مکّہ 20بارپیدل سفر

      حضرت سیِّدُنا محمد بن علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:مجھے حیا آتی ہے کہ میں اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّسے اس حال میں ملاقات کروں کہ اس کے گھر کی طرف کبھی نہ چلا ہوں۔چنانچہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ 20بار مدینۃُ المنوّرہ


 

زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے پیدل مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی زیارت کے لئے حاضر  ہوئے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج۲ص۴۶رقم۱۴۳۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۳}غلام آزاد کردیا

            حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک مرتبہ چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھارہے تھے،غلام گرم گرم شوربے کا پیالہ دستر خوان پر لا رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے پیالہ گرا جس کی وجہ سے شوربے کے چھینٹے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر بھی آئے۔یہ دیکھ کر غلام گھبرایا اور شرمندگی بھرے لہجے میں اُس نے سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 134 کا یہ حصہ تلاوت کیا: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- یعنی ’’غصہ پینے والے اورلوگوں سے درگزر کرنے والے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:میں نے معاف کیا۔ غلام نے پھر اسی آیت کا آخری حصہ پڑھا: وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)یعنی ’’نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :میں نے تجھے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خوشنودی کے لئے آزاد کیا ۔ (روح البیان ج۲ص ۹۵ملخّصا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۴}اگر ایک کان میں گالی اور دوسرے۔۔۔

       حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰفرماتے ہیں :لَوْاَنَّ رَجُلًا شَتَمَنِیْ فِیْ اُذُنِی ہٰذِہٖ، وَاعْتَذَرَ اِلَیَّ فِی اُذُنِی الْاُُخْرٰی لَقَبِلْتُ عُذْرَہ۔ُیعنی اگر کوئی میرے ایک کان


 

 میں گالی دے اور دوسرے کا ن میں معافی مانگ لے تو میں ضرور اس کی معذرت قبول کروں گا ۔ (بہجۃ المجالس وانس المجالس لابن عبدالبر ج۲ص۴۸۶ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۵} نماز کے وقت رنگ بدل جاتا

          حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجونہی وضو کر کے فارغ ہوتے آپ کا رنگ بدل جاتا۔اس کی وجہ پوچھنے پر فرمایا: جو شخص مالکِ عرش (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ) کی بارگاہ میں حاضری کا ارادہ کرے تو حق یہی ہے کہ اس کا رنگ بدل جائے۔     (وفیات الاعیان ج۲ص۵۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۶}کتے پرشفقت کرنے والا باکمال غلام

        حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےمدینۃُ المنوّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے ایک باغ میں ایک ایسے سیاہ فام(یعنی کالے) غلام کو دیکھا جو ایک لقمہ خود کھاتا اور ایک اپنے کتے کو کھلاتا۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہیں اس بات پہ کس نے ابھارا؟اس نے عرض کی: مجھے اس بات سے حیا(یعنی شرم) آتی ہے کہ خود تو کھاؤں لیکن اسے نہ کھلاؤں۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ بات بہت پسندآئی اُس سے ارشاد فرمایا: میری واپسی تک یہیں ٹھہرنا۔ یہ فرماکر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاُس کے مالک کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے وہ غلام اور باغ خرید فرمایا اور غلام کو آزاد فرما کر باغ اس کو تحفے میں


 

 دے دیا ۔غلام بھی عقل مند تھا اور راہِ خد ا میں خرچ کرنے کی اہمیت سے آگاہ تھا، لہٰذااس نے فوراً عرض کی: یَامَوْلَایَ!قَدْ وَہَبْتُ الْحَائِطَ لِلَّذِی وَہَبْتَنِی لَہُ یعنی اے میرے آقا! میں اس باغ کو اسی کی رضا(یعنی خوشنودی) کی خاطرہبہ(Gift) کرتا ہوں جس کی رضا کے لیے آپ نے مجھے یہ عطا فرمایا ہے۔   (تاریخ بغدادج۶ص۳۳ رقم۳۰۵۹ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۷}امام حسن مجتبٰی کا خواب

         حضرت سیّدناعمران بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خواب دیکھا کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آنکھوں کے درمیان قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد لکھاہے۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ خوشخبری اپنے اہلِ بیت کو سنائی۔انہوں نے جب یہ واقعہ تابعی بزرگ حضرت سیّدنا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے سامنے بیان کیاتو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اگرواقعی یہ خواب دیکھا ہے تو ان کی عمر کے چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ اس واقعے کے کچھ دن ہی بعد امامِ حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہو گیا۔(الطبقات الکبیر لابن سعد ج۶ ص۳۸۶ رقم۷۳۷۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۲۸}ایسی مخلوق پہلے کبھی نہیں دیکھی

          وفات کے قریب حضرت سیّدنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دیکھا کہ سیّدنا امامِ


 

 حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کی تسکین کے لیے عرض کیا: بھائی جان! آپ کیوں رنجیدہ ہیں؟ رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی خدمت میں آپ کو عنقریب حاضری کی سعادت نصیب ہوگی اور وہ دونوں آپ کے آبا ئ(نانا جان اور ابو جان) ہیں،اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت فاطمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی بارگاہ میں حاضری ہوگی اور وہ دونوں آپ کی امہات(نانی جان اور امی جان) ہیں۔حضرت قاسم و طاہر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا دیدار نصیب ہوگااور وہ آپ کے ماموں ہیںاور حضرت حمزہ وجعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ملاقات ہوگی اور وہ آپ کے چچا ہیں۔حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اے بھائی! آج میں ایک ایسے معاملے میں داخل ہونے والا ہوں جس میں پہلے کبھی داخل نہیں ہواتھا اور آج میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خلق میں سے ایسی مخلوق کو دیکھ رہا ہوں جس کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی ۔(تاریخ الخلفاء ص۱۵۳ملخّصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شہادت کا سبب

  حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زہرد یا گیا۔اُس زہر کا آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر ایسا اثر ہوا کہ آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوکر خارِج ہونے لگیں، 40 روز تک آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو سخت تکلیف رہی۔


 

وفات حسرت آیات

      امامِ عالی مقام ، امامِ عرش مقام، امامِ ہمام حضرت سیدنا امام ابو محمد حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے 5ربیع الاول50ھ کو مدینۃُ المنوّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں اس دارِ ناپائیدار سے رحلت فرمائی(یعنی وفات پائی)، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ۔(صفۃ الصفوۃ ج۱ص۳۸۶)یہ بھی کہا گیا ہے کہ49ھ میں وفات ہوئی۔بوقتِ شہادت حضرت سیّدنا امامِ حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی عمر شریف 47سال تھی۔                (تقریب الھذیب لابن حجر عسقلانی ص۲۴۰ )

{۲۹}نمازِ جنازہ

       آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نمازِ جنازہ حضرت سیّدنا سعید بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑھائی جو اس وقت مدینۃُ المنوّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے گورنر تھے۔حضرت سیّدنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھایا ۔ (الاستیعاب ج۱ص۴۴۲ملخّصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۳۰}جنازے میں لوگوں کا رش

      حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے جنازے میں اس قدر جمِّ غفیر (Crowd) تھا کہ حضرت سیّدنا ثَعْلَبَہ بن ابی مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:میں امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے جنازے میں شریک ہوا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جنت البقیع میں(اپنی والدۂ ماجدہ کے پہلو میں) دفنایا گیا، میں نے جنت البقیع میں لوگوں کا اس قدر


 

اِزدِحام(Crowd) دیکھا کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو (بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے )وہ بھی زمین پر نہ گرتی بلکہ کسی نہ کسی انسان کے سر پر گرتی۔(الاصابۃج۲ص۶۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

امام حسن کی اولاد

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی کثیر اولاد تھی،امام ابنِ جَوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے آپ کے شہزادوں کی تعداد15 اور صاحبزادیوں کی تعداد 8 لکھی ہے۔ (المنتظم ج۵ص۲۲۵)جبکہ امام محمد بن احمد ذَہبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے 12 شہزادوں کے نام لکھے ہیں: حسن ،زید ،طلحہ ،قَاسِم، ابُو بَکْر اور عَبْدُ اللّٰہ ان چھ نے اپنے چچا جان سیّد الشُّہدا حضرت سیّدنا امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ بقیہ چھ یہ ہیں: عَمْرو، عبد الرحمن ،حسین، محمد، یعقوب اور اسمٰعیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ حضرت سیّدنا امامِ حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آل (یعنی حَسَنی سیدوں) کا سلسلہ حضرت سیِّدُناحسن مثنیٰ (مُ۔ثَنْ۔نا)اور حضرت سیِّدُنا زَید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے چلا۔ (سیر اعلام النبلاء ج۴ص۴۰۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔

                                                                                    طلب غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و

                                                                                                                                بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب

                                                                                                                                                               

                                                                                                                                                               رمضان المبارک۱۴۳۸ھ

                                                                                                                                                                جون 2017

 

مآخذ و مراجع

کتاب

مطبوعہ

کتاب

مطبوعہ

کتاب

مطبوعہ

قراٰنِ کریم

 

تاریخ المدینۃ المنورۃ

دارالفکر بیروت

الاصابۃ

دار الکتب العلمیۃ بیروت

روح البیان

دار احیاء التراث العربی بیروت

تاریخ بغداد

دار الکتب العلمیۃ بیروت

تقریب التھذیب

دار العاصمۃ الریاض

بخاری

دار الکتب العلمیۃ بیروت

الاستیعاب

دار الکتب العلمیۃ بیروت

تاریخ الخلفاء

باب المدینہ کراچی

ترمذی

دارالفکر بیروت

بہجۃ المجالس

دار الکتب العلمیۃ بیروت

القول البدیع

مؤسسۃ الریان بیروت

ابن ماجہ

دار المعرفۃ بیروت

المنتظم

دار الکتب العلمیۃ بیروت

شواھد النبوۃ

مکتبۃ الحقیقیہ استنبول

الادب المفرد

مصر

صفۃ الصفوۃ

دار الکتب العلمیۃ بیروت

الذریۃ الطاھرۃ

 الکویت

مسند بزار

مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورہ

ابن عساکر

دارالفکر بیروت

احیاء العلوم

دار صادر بیروت

المستدرک

دار المعرفۃ بیروت

وفیات الاعیان

دار الکتب العلمیۃ بیروت

برکاتِ الِ رسول

ضیاء القراٰن پبلیکیشنز مرکز الاولیا لاہور

شعب الایمان

دار الکتب العلمیۃ بیروت

اسد الغابۃ

دار احیاء التراث العربی بیروت

فتاوٰی رضویہ

رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

حلیۃ الاولیاء

دار الکتب العلمیۃ بیروت

سبل الہدیٰ

دار الکتب العلمیۃ بیروت

بہارشریعت

مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

الطبقات الکبیر

مکتبۃ الخانجی قاہرۃ

سیر اعلام النبلاء

دارالفکر بیروت

سوانح کربلا

مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

 


 

یا حَسن ابنِ علی! کر دو کرم

راکبِ دوشِ شہنشاہِ امم                              یاحَسَن ابنِ علی! کردو کرم!

فاطِمہ کے لال حیدر کے پِسَر!                       اپنی اُلفَت دو مجھے دو اپنا غَم

اپنے نانا کی مَحبّت دیجئے                               اور عطا ہو قلبِ مُضْطَر چشمِ نم

خُو مِٹے بے کار باتوں کی رہے                       لب    پہ    ذِکرُ  اللّٰہ   میرے   دم   بدَم

اے سخی ابنِ سخی اپنی سخا                            سے دو حصہ سیِّدِ عالی حَشَم

آل و اصحابِ نبی  سے پیار ہے                       ساری سرکاروں کے در پر سر ہے خَم

پیشوائے نوجوانانِ بِہِشْت                ہیں محمد کے نواسے لاجَرَم

یاحَسَن! ایماں پہ تم رہنا گواہ                         عبدِ حق ہُوں خادِمِ شاہِ اُمَم

آہ! پلّے میں کوئی نیکی نہیں             عرصۂ محشر میں رکھ لینا بھَرَم

میرا دل کرتا ہے میں بھی حج کروں  ہو عطا زادِ سفر چشمِ کرم!

طیبہ دیکھے اِک زمانہ ہوگیا               یاحَسَن! دِکھلادو نانا کا حرم

جذبہ دو ’’نیکی کی دعوت‘‘ کا مجھے                   راہِ حق میں میرے جَم جائیں قدم

میں سدا دینی کُتُب لکھتا رہوں                    یاحسن! دے دیجئے ایسا قلم

دین کی خدمت کا جوش و وَلْوَلہ                     ہو عنایت یا امامِ مُحترم!

اے شہیدِ کربلا کے بھائی جان!
دُور ہوں عطّارؔ کے رنج و اَلَم

الفاظ ومَعانی: راکِب :سُوار۔دوش: کندھا۔ لال: بیٹا۔ پِسْر : بیٹا ۔مُضْطَر: بے قرار۔ چشمِ نَم: روتی آنکھ ۔ خُو: عادت۔ لَب :زبان۔ دَم بَدَم : ہر وقت۔ سَخا: سخاوت ۔عالی حَشَم : بہت بُزُرگی والا۔ خَم : جھکا ہوا۔ عرصۂ مَحشر:  قِیامت کا میدان۔ بَھرَم : لاج ۔ سدا: ہمیشہ ۔ وَلْوَلہ : بہت زیادہ شوق ۔ اَلَم: غَم ۔