اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنَّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے مخصوص انداز میں سنتوں بھر ے بیانات ، علم وحکمت سے معمور مَدَ نی مذاکرات اور اپنے تربیت یافتہ مبلغین کے ذریعے تھوڑے ہی عرصے میں لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں مدنی اِنقلاب برپا کر دیا ہے، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کثیر اسلامی بھائی وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر ہونے والے مَدَنی مذاکرات میں مختلف قسم کے موضوعات مثلاً عقائدو اعمال، فضائل و مناقب ، شریعت و طریقت، تاریخ و سیرت ،سائنس و طِبّ، اخلاقیات و اِسلامی معلومات، روزمرہ معاملات اور دیگر بہت سے موضوعات سے متعلق سُوالات کرتے ہیں اور شیخِ طریقت امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ انہیں حکمت آموز اور عشقِ رسول میں ڈوبے ہوئے جوابات سے نوازتے ہیں۔
امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ان عطا کردہ دِلچسپ اور علم و حکمت سے لبریز مَدَنی پھولوں کی خوشبوؤں سے دُنیا بھرکے مسلمانوں کو مہکانے کے مقدّس جذبے کے تحت المدینۃ العلمیۃ کا شعبہ’’ فیضانِ مدنی مذاکرہ‘‘ ان مَدَنی مذاکرات کو کافی ترامیم و اضافوں کے ساتھ ’’فیضانِ مدنی مذاکرہ‘‘کے نام سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ ان تحریری گلدستوں کا مطالعہ کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عقائد و اعمال اور ظاہر و باطن کی اصلاح، محبت ِالٰہی و عشقِ رسول کی لازوال دولت کے ساتھ ساتھ مزید حصولِ علمِ دین کا جذبہ بھی بیدار ہو گا۔
اِس رسالے میں جو بھی خوبیاں ہیں یقیناً ربِّ رحیم عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے محبوبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عطاؤں،اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کی عنایتوں اور امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شفقتوں اور پُرخُلوص دُعاؤں کا نتیجہ ہیں اور خامیاں ہوں تو اس میں ہماری غیر اِرادی کوتاہی کا دخل ہے۔
شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ
۲۹ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۳۸ ھ/ 22 اگست 2017ء
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
(مع دِیگر دِلچسپ سُوال جواب)
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ (۳۲ صفحات) مکمل پڑھ لیجیے
اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔
حضرتِسیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک دِن رسولِ کریم، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم تشریف لائے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ اَنور پر خُوشی کے آثارتھے،فرمایا: میرے پاس جبریلِ امین (عَلَیْہِ السَّلَام) آئے اور عرض کی: آپ کا ربّ (عَزَّوَجَلَّ)فرماتا ہے: اے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)! کیا تم اِس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا کوئی اُمَّتی تم پر ایک بار دُرُود بھیجےتو میں اُس پر دَس رَحمتیں نازِل فرماؤں اور آپ کا کوئی اُمَّتی آپ پرایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اُس پر دَس سلام بھیجوں ۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال:بچوں کی تربیت کب اور کیسے کی جائے؟
جواب:بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ بعض لوگ یہ کہہ کر ”ابھی بچہ ہے، بڑا ہو گا تو ٹھیک ہو جائے گا“بچوں کو شرارتوں اور غَلَط عادتوں سے نہیں روکتے، وہ لوگ دَرحقیقت بچوں کے مستقبل کو خراب کرتے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد بچوں کے بُرے اَخلاق اور گندی عادات پر روتے اور کڑھتے دِکھائی دیتے ہیں۔بچپن میں جو اَچھی بُری عادتیں بچوں میں پختہ ہو جاتی ہیں وہ عمر بھر نہیں چھوٹتیں اس لیے والدین پر لازِم ہے کہ وہ بچوں کو بچپن ہی میں اچھی عادتیں سکھائیں اور بُری عادتوں سے بچائیں۔جب بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ اَفزائی کریں،اگرکوئی بُرا کام کرے تو اس کی حوصلہ شکنی کریں اور مناسب اَنداز میں اس کی ڈانٹ ڈپٹ کریں تاکہ وہ آئندہ اس کام سے باز رہے مثلاً بچّے نے کسی کو مارا ، گالی دی یا اسکول میں دوسرے بچے کی کوئی چیز چُرا لی تو والدین کو چاہیے کہ وہ سختی سے اس کا نوٹس لیں تاکہ بچہ آئندہ کبھی بھی ایسی حرکت نہ کر سکے۔اگر ابھی بچے پرسختی نہ کی تو ہو سکتا ہے پھر یہ رَفتہ رَفتہ مزید چوریاں کرتا چلا جائے اور بالآخر ایک دن معاشرے کا بدنام ڈاکو بن کر اُبھرے۔بچپن ہی سے اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہ کرنے کی ایک
عبرتناک داستان سنئے اور عبرت کا سامان کیجیے:
ایک خطرناک ڈاکو گرفتار کر لیا گیا،مقدمّہ چلا،اُس پر ڈکیتیوں اور قتل و غارت گریوں کی مختلف وارداتیں ثابت ہوگئیں جن کے سبب اُسے پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ جب پھانسی کا وَقت قریب آیا تو اُس سے اُس کی آخِری آرزو پوچھی گئی، اُس نے اپنی ماں سے مُلاقات کی خواہِش ظاہر کی چُنانچِہ اُس کی ماں کو بُلا یا گیا، جُوں ہی اُس نے اپنی ماں کو دیکھا،ایک دم اُس پر حملہ کر دیا اور نوچا ناچی اور مارا ماری شروع کر دی، ڈیوٹی پر موجود عملے نے جوں توں زخمی ماں کو بے رَحم بیٹے کے چُنگل سے چھڑایا۔ جب اُس ڈاکو سے اِس سفّاکانہ حَرَکت کا سبب پوچھا گیا تو بولا: مجھے پھانسی کے پھندے تک اِسی ماں نے پہنچایا ہے، دَراصل قصّہ یوں ہے کہ میں نے بچپن کے لاشُعُوری کے دور میں اسکول کے اندر ایک طالبِ علم کی پنسل چُرا لی اور گھر لا کر اپنی اِس ماں کو دکھائی،اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ مجھے اِس غَلَط کام سے نفرت دِلاتی مگر یہ صِرف مُسکرا کر چُپ ہو رہی،اُس وقت مجھ میں عقل ہی کتنی تھی! میں سمجھا کہ میں نے کوئی بَہُت ہی اچّھا کارنامہ انجام دیا ہے، میرا حوصلہ بڑھا اورمیں مزید پنسلیں اور کاپیاں چُرانے لگا، جب بڑا ہوا تو چوری کی عادت کافی پکّی ہو چکی تھی اور دل خوب کُھل گیا تھا لہٰذا میں نے
ڈکیتیاں شُروع کر دیں،اِسی لوٹ مار کے دَوران مجھ سے بعض قتل کی وارداتیں بھی سر زد ہو گئیں اور میں بہُت ’’خطرناک ڈاکو‘‘بن گیا آخِر پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو کر آج اپنی اِس ماں کی غَلَط تربیت کی بدولت چند ہی لمحوں کے بعد اپنے گلے میں پھانسی کا پھندا پہننے والا ہوں۔([2])
سُوال:شریعت کے مطابق بچوں کی تربیت کرنے کی اَہمیت بیان فرما دیجیے ۔
جواب:شریعت کے مطابق بچوں کی تربیت کی اَہمیت بیان کرتے ہوئے حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:بچوں کی تربیت اَہَمّ اور تاکیدی اُمُورمیں سے ہے، بچہ والدین کے پا س امانت ہے، اس کا پاک دل ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جو ہر نقش و صورت سے خالی ہے لہٰذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے اس کی طرف مائل ہو جانے والا ہے۔ اگر اسےاچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کی جائے تو اسی پر اس کی نَشْوو نَما ہوتی ہے،جس کے باعث وہ دُنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جاتا ہے
اور اس کے ثواب میں اس کے والدین، اَساتذہ اور تربیت کرنے والے سب شریک ہوتے ہیں۔ اگر اسے بُرائی کی عادت ڈالی جائے اور جانوروں کی طرح چھوڑ دیا جائے تو وہ بدبختی کا شکا ر ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا گناہ اس کے سرپرست کی گردن پر ہوتاہےچنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ۲۸،التحریم:۶)
ترجمۂ كنز الايمان:اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آ گ سے بچاؤ ۔
جس طرح باپ بچے کو دُنیا کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتاہےاسی طرح اُسے چاہیے کہ اپنے بچے کو جہنّم کی آگ سے بھی بچائے اور جہنّم کی آگ سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ بچے کی تربیت کرے،اُسے تہذیب سکھائے،اچھے اَخلاق کی تعلیم دے، بُرے دوستوں سے دُور رکھے، آسائشوں کی عادت نہ ڈالے، زیب و زینت اور عیش پسندی کی محبت اس کے دل میں پیدا نہ ہونے دے کہ وہ اس کی طلب میں اپنی عمر ضائع کر دے گا۔ پھر جب بڑا ہو گا تو دائمی ہلاکت میں مبتلا ہو جائے گا لہٰذا شروع سے ہی اس کی نگہداشت رکھے، کسی دِیندار عورت کی پَرْوَرِش میں دے جو صرف حلال کھاتی ہو اور اسی سے دودھ پلوائے کیونکہ جو حرام کھاتی ہے اس کے دودھ میں برکت نہیں ہوتی نیز جب بچے کی نَشْوونَما حرام غذاسے ہو گی تو اس میں خباثتیں بھر جائیں گی اور ان ہی
خبائِث کی طرف اس کی طبیعت مائل ہو گی۔ پھر جب اس میں تمیز اور سمجھداری کے آثار دیکھے تو اچھے طریقے سے اس کی نگرانی کرے اور تمیز اور سمجھداری کے بارے میں اس طرح پتا چلے گا کہ اوّلاً اس میں حیا کا ظہور ہو گا کیونکہ جب وہ حیا کرتے ہوئے بعض کاموں کو چھوڑ دے گا تو یہ بات اس پر دلالت کرے گی کہ اس میں عقل کا نور چمک رہا ہے جس کی روشنی میں وہ بعض اَشیاء کو قبیح دیکھتا ہے اور بعض کو نہیں، یوں وہ بعض سے حیا کرتے ہوئے بچے گا اور بعض سے نہیں اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہدایت اور بشارت ہے جو اَخلاق کے مُعْتَدِل ہونے اور قلب کی صفائی پر دلالت کرتی ہےاور اس بات کی علامت ہے کہ بڑے ہوکر اسے کامل عقل نصیب ہو گی۔ جب بچے میں حیا پیدا ہو جائے تو اس کی طرف سے لاپروائی اِختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کی حیا اور تمیز کے مطابق اسے ادب سکھانا چاہیے([3])۔ ([4])
سُوال: بچوں کی تربیت کرنے والے کو خود کیسا ہونا چاہیے؟
جواب:بچّوں کی تربیت کرنے والے کا خود شریعت کے مطابق تربیت یافتہ ہونا ، فرض علوم کی معلومات رکھنا، عاشقانِ رسول کی صحبت میں رہنا اور وقتاً فوقتاً علمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے رَہنمائی لیتے رہنا ضروری ہے کیونکہ جب خود اسے شریعت و سنَّت کے بارے میں معلومات نہیں ہوں گی تو وہ بچوں کی شریعت و سنَّت کے مطابق تربیت کیسے کر سکے گا۔ بچوں کی تربیت کرنے والے کو چاہیے کہ وہ گھر، دُکان، کارخانہ اور بازار ہر جگہ اپنا کردار ستھرا رکھے اور یہ عاشقانِ رسول کی صحبتوں اور پیرِ کامل کی برکتوں سے ہی آسان ہے۔ جب گھر باہر ہر جگہ کردار دُرُست ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بَرکت سے گھرمیں مدنی ماحول بنتا چلا جائے گا۔ ہمارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے چالیس سال تک قوم کے سامنے اپنا کردار پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کُفّارِ ناہنجار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے کردار پر کوئی اُنگلی نہ اُٹھا سکے لہٰذااپنا کردار اور اندازِ زندگی دُرُست رکھنا چاہیے۔
اَخلاق ہوں اچّھے مِرا کردار ہو ستھرا
محبوب کا صَدقہ تُو مجھے نیک بنا دے (وسائلِ بخشش)
بعض لوگ گھر سے باہر تو اِنتہائی عاجزی اور مسکینی سے پیش آتے ہیں مگر گھر
میں مار دھاڑ کرتے رہتے ہیں جس سے گھر والوں اور بچوں پر بہت بُرااَثر پڑتا ہے۔ گھریلو معاملات میں بات بات پر بچّوں کی امّی کو ان کے سامنے جھاڑنے، مارنے اور بار بار ٹوکتے رہنے سے بھی بچوں کے ذِہنوں پر بُرا اَثر پڑتا ہے اور یوں بچّے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں کیونکہ بچّے فطری طور پر ماں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔جب باپ ان کے سامنے ان کی ماں کو بُرا بھلا کہے گا تو بچوں کے دِلوں میں آہستہ آہستہ باپ کی قدر کم ہوتی چلی جائے گی بالآخر باپ انہیں لاکھ سمجھائے مگر وہ اس کی بات کو اَہمیت نہیں دیں گے۔
جنبُرے کاموں سے بچوں کو روکنا چاہتے ہیں خودبھی ان کاموں سے اِجتناب کیجیے کیونکہ والدین کے اَچھے یا بُرے کاموں کے اَثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں مثلاً باپ اگر بچے کے سامنے سگرٹ پئے اوربچے کواس سے منع کرےتو بچہ اپنے چھوٹے دِما غ سے سوچے گا کہ سگرٹ پینے میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہے جس کو باپ حاصل کرنا چاہتا ہے اور مجھے محروم کر رہا ہے لہٰذا بچّہ چُھپ کر سگرٹ پئے گا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی اور اپنی اولاد کی تربیت کا جذبہ پانے،علمِ دِین سیکھنے اور سکھانے کے لیے تبلیغِ قرآن وسنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے،
فرض عُلُوم کے حُصُول، اپنی تمام شرعی ذِمَّہ داریوں پر عمل کے ساتھ ساتھ مدنی اِنعامات پر عمل میں ترقی کے معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ مشغول، روزانہ فکرِ مدینہ، ہر ماہ مدنی قافلے میں سفراور مدنی مذاکروں میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی تربیت کا سامان ہو گا۔
مجھ کو جذبہ دے سفر کرتا رہوں پروَردگار
سنّتوں کی تربیت کے قافِلے میں بار بار (وسائلِ بخشش)
سُوال:چھوٹے مدنی مُنّوں کی تربیت کے حوالے سے کوئی حِکایت بیان فرما دیجیے۔
جواب:چھوٹے بچوں کی زندگی کے اِبتدائی سال بقیہ زندگی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بچے جو کچھ بچپن میں سیکھتے ہیں وہ زندگی بھر ان کے دل ودماغ میں راسخ رہتا ہے لہٰذا بچوں کو شروع سے ہی اچھی عادات واخلاق کا عادی بنایا جائے چنانچہ اس ضمن میں چھوٹے بچوں کی تربیت سے مالا مال ایک زبردست حِکایت مُلاحَظہ کیجیے اور اپنے بچوں کی تربیت کا سامان کیجیے :
حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبدُ اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں
تین سال کی عمر کا تھا کہ رات کے وَقت اُٹھ کر اپنے ماموں حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سَوَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفَّار کو نَماز پڑھتے دیکھتا، ایک دن انہوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اُس رب کو یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا فرمایا؟میں نے پوچھا: میں اسے کس طرح یاد کروں؟ فرمایا:”جب رات سونے لگو تو زَبان کو حَرَکت دیئے بِغیر مَحْض دل میں تین مرتبہ یہ کلمات کہو:اَللہُ مَعِیَ، اَللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ ، اَللہُ شَاھِدِیْ یعنی اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے، اللہتعالیٰ مجھے دیکھتا ہے ، اللہتعالیٰ میرا گواہ ہے۔“میں نے چند راتیں یہ کَلِمَات پڑھے اور پھر ان کو بتایا۔ انہوں نے فرمایا: اب ہر رات سات مرتبہ پڑھو۔ میں نے ایسا ہی کیا اور پھر ان کو مُطَّلع کیا۔فرمایا: ہر رات گیارہ مرتبہ یہی کَلِمَات پڑھو۔میں نے اِسی طرح پڑھا تو میرے دِل میں اس کی لَذت محسوس ہوئی۔ جب ایک سال گزر گیا تو میرے ماموں جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے فرمایا:” میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے قَبْر میں جانے تک ہمیشہ پڑھتے رہنا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ تمہیں دُنیا و آخرت میں نَفْع دے گا۔“ میں نے کئی سال تک ایسا ہی کیا تو میں نے اپنے اندر اِس کا بے انتِہا مَزہ پایا۔ میں تنہائی میں یہ ذِکْر کرتا رہا۔پھر ایک دن میرے ماموں جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے فرمایا:اے سَہْل! اللہتعالیٰ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اور اس کا گواہ ہو، کیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے؟ ہرگز نہیں لہٰذا تم اپنے آپ کو گناہ سے
بچاؤ۔پھر ماموں جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے مجھے مکتب میں بھیج دیا۔ میں نے سوچا کہیں میرے ذِکْر میں خَلَل نہ آجائے لہٰذا اُستاذ صاحِب سے یہ شَرْط مقرَّر کر لی کہ میں ان کے پاس جا کر صِرْف ایک گھنٹہ پڑھوں گا اور واپس آ جاؤں گا۔میں نے مکتب میں چھ یا سات برس کی عمر میں قرآنِ پاک حِفظ کر لیا۔ میں روزانہ روزہ رکھتا تھا۔ بارہ سال کی عمر تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا۔ میں نے گزارے کا اِنتِظام یوں کیا کہ میں نے ایک دِرْہَم کے جَو شریف خریدلیے اور انہیں پیس کر روٹی پکا لی۔ ہر رات سَحَری کے وَقْت ایک اُوْقِیَہ (یعنی تقریباً 70 گرام) جَو کی روٹی کھاتا ، جس میں نہ نمک ہوتا اور نہ ہی سالن۔ یہ ایک دِرہم مجھے سال بھر کے لیے کافی ہوتا۔ پھر میں نے اِرادہ کیا کہ تین دن مسلسل فاقہ کروں گا اور اس کے بعد کھاؤں گا۔ پھر پانچ دن، پھر سات دن اور پھر پچیس دِنوں کا مسلسل فاقہ رکھا۔ ( یعنی 25 دن کے بعد ایک بار کھانا کھاتا۔) بیس سال تک یِہی طریقہ رہا پھر میں نے کئی سال تک سَیرو سیاحت کی، واپس تُسْتَر آیا تو جب تک اللہتعالیٰ نے چاہا شب بیداری اِختیار کی۔ حضرتِ سیِّدُنا امام احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَحَد فرماتے ہیں: میں نے مرتے دم تک حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبدُ اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو کبھی نمک اِستِعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔([5])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ماموں جان کی شفقت اور تربیت نے حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبدُ اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا لہٰذا ہمیں بھی اپنے چھوٹے بچوں کو”ٹاٹا پاپا“ سکھانے کے بجائے اِبتدا ہی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لینا سکھانا چاہیے۔ اپنے مَدَنی مُنّے اور مَدَنی مُنّی سے کھیلتے ہوئے سکھانے کی نیّت سے ان کے سامنے بار بار”اللہ اللہ“کرتے رہیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہ بھی زَبان کھولتے ہی سب سے پہلا لفظ”اللہ“کہیں گے اس طرح سیکھنے اور سکھانے والے دونوں کو اِس کی بَرَکتیں نصیب ہوں گی۔ مگر افسوس! آج کل بچہ جب کچھ سنبھلتا ہے تو گھر والوں کی طرف سے بچےّ کو A,B,C اور One,Two,Three بولنا تو سکھایا جاتا ہے مگر قرآنِ پاک پڑھنا نہیں سکھایا جاتا، اگر سکھایا بھی جاتا ہے تو کسی درست پڑھانے والے قاری کا اِنتخاب نہیں کیا جاتا۔ ضمناً اگر کوئی قاعدہ پڑھا لیا تو فَبِہَا ورنہ صرف دُنیوی تعلیم پرہی توجّہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بَہُت سے پڑھے لکھے لوگ ایسے بھی ہیں جو قرآنِ پاک پڑھ لینے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر انہیں صحیح طریقے سے قرآنِ پاک پڑھنا نہیں آتا کیونکہ نہ اُنہیں حروف کی پہچان ہوتی ہے اور نہ ہی مخارج کا ٹھکانا! اَلفاظ کا تَلفُّظ ہی دُرُست نہیں ہوتا۔ اگر بچپن
میں ان کی اِسلامی تعلیمات کے مُطابِق تعلیم و تربیت کی جاتی،انہیں دُنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دِینی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جاتا تو وہ آج اچھے طریقے سے قرآنِ پاک پڑھتے اور اپنے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ کا سبب بنتے۔
یاد رکھیے ! اگر کوئی بچپن میں کسی بھی وجہ سےدرست قرآنِ پاک پڑھنا نہ سیکھ سکا تو بالغ ہونے کے بعد اس کے لیے اتنی تجوید کے ساتھ قرآنِ پاک پڑھنا جس سے حروف ایک دوسرے سے ممتاز ہو جائیں ا ور غَلَط پڑھنے سے بچا جائے یہ ضَروری ہے۔ فتاوی ٰ رضویہ میں ہے :اَئمہ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن واضح طور پرفرماتے ہیں کہ آدمی سے کوئی قرآنی حرف غَلَط ادا ہوتا ہو تو اس پر اسے سیکھنے اور درست طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرنا واجب ہے ، اگرکوشش نہیں کرے گا تو اسے مجبور نہ سمجھا جائے گا اور اس کی نماز نہ ہو گی۔ بہت سے علمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے غَلَط قرآن پڑھنے والے کے لیے صحیح قرآنِ پاک پڑھنے کی کوشش کرنے کے زمانے کی کوئی مدت مقرر نہیں کی بلکہ حکم دیا کہ عمر بھر دن رات ہمیشہ اس کے لیے کوشش کرتا رہے ۔([6])
سُوال:نافرمان اولاد کو فرمانبردار بنانے کا روحانی علاج اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب:اولاد کو فرمانبردار بنانے کے تین روحانی علاج پیشِ خدمت ہیں:
(١) ہر نماز کے بعد ذیل میں دی ہوئی دُعا اوّل و آخر دُرُود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بال بچّے سُنّتوں کے پابند بنیں گے اور گھر میں مَدَنی ماحول قائم ہو گا۔ (اَللّٰھُمَّ) رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ۱۹،الفرقان:۷۴) ترجَمۂ کنز الایمان:اے ہمارے ربّ ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کاپیشوا بنا۔([7])
(٢) نافرمان بچّہ جب سویا ہو تو سِرہانے کھڑے ہو کر ذَیل میں دی ہوئی آیات صِرْف ایک بار اتنی آواز سے پڑھیں کہ اُس کی آنکھ نہ کھلے۔اوّل و آخر ایک مرتبہ دُرُودشریف کے سا تھ 11تا 41دن تک پڑھیں۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِطبَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ(۲۱)فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠(۲۲) (پ۳۰،البُرُوج:۲۱-۲۲) ترجَمۂ کنز الایمان: بلکہ وہ کمال شرف والا قرآن ہے لوحِ محفوظ میں ۔
(٣) نافرمان اَولاد کو فرماں بردار بنانے کے لئے تا حُصولِ مراد نماز ِفجر کے بعد آسمان کی طرف رُخ کرکے یَاشَھِیْدُ ٢١ بار پڑھیں۔ (اوّل و آخر ایک مرتبہ دُرُودِ پاک بھی پڑھیں۔)
مرے گھر والے سب پابندِ سنت
بنیں ایسا کرم ہو جانِ رحمت (وسائلِ بخشش)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنی اولاد کوفرمانبردار بنانےكاايك بہترين ذَریعہ تبلیغِ قرآن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر کرنا بھی ہے۔ آپ کی ترغیب و تحریص کے لیے مَدَنی قافِلے کی ایک مَدَنی بہار آپ کے پیشِ خدمت ہے چُنانچہ شاھدرہ (مرکز الاولیا لاہور)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے:میں اپنے والِدین كا اِکلوتا بیٹا تھا ، زیادہ لاڈ پیار نے مجھے حد دَرَجہ ڈھیٹ اورماں باپ کا سخت نافرمان بنا دیا تھا ، رات گئے تک آوارہ گردی کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا ۔ ماں باپ سمجھاتے تو اُن کو جھاڑ دیتا۔ وہ بے چارے بعض اوقات رو پڑتے۔ دُعائیں مانگتے مانگتے ماں کی پلکیں بھیگ جاتیں۔ اُس عظیم لمحے پر لاکھوں سلام جس”لمحے“میں مجھے دعوتِ اسلامی والے ایک عاشقِ رسول سے مُلاقات کی سعادت ملی اور اُس نے مَحبَّت اور پیار سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھ پاپی و بدکار کو مَدَنی قافِلے میں سفر کے لیے تیّار کیا چُنانچِہ میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ تین دن کے مَدَنی قافِلے کامسافِر بن گیا۔ نہ جانے ان عاشِقانِ رسول نے تین دن کے اندر کیا گھول کر پِلا دیا کہ مجھ جیسے ڈِھیٹ انسان کا پتّھر نما دل جو ماں باپ کے آنسوؤں سے بھی نہ
پِگھلتا تھا موم بن گیا ، میرے دل میں مَدَنی اِنقلاب برپا ہو گیا اور میں مَدَنی قافِلے سے نَمازی بن کر لوٹا۔ گھر آ کر میں نے سلام کیا ، والِد صاحِب کی دَست بوسی کی اور امّی جان کے قدم چومے۔ گھر والے حیران تھے! اس کو کیا ہو گیا ہے کہ کل تک جو کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا وہ آج اتنا باادب بن گیا ہے! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کی صحبت نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیا اور یہ بیان دیتے وقَت مجھ سابِقہ بے نَمازی کو ”صدائے مدینہ“ ([8]) لگانے کی ذِمَّہ داری ملی ہوئی ہے۔
گرچہِ اعمالِ بد، اور اَفعالِ بد
نے ہے رُسوا کیا، قافِلے میں چلو
کر سفر آؤ گے، تم سُدھر جاؤ گے
مانگو چل کر دُعا، قافِلے میں چلو
سُوال:والدین پر اولاد کے کیا کیا حقوق ہیں ؟
جواب:جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح اولاد کے بھی والدین پر حقوق ہوتے ہیں۔ والدین پر اولاد کے جو حقوق اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت
مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے چند حقوق پیشِ خدمت ہیں: ٭زبان کھلتے ہی اللہ اللہ پھر پورا کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ بھرپورکلمۂ طیبہ سکھائے۔٭جب تمیزآئے اَدب سکھائے، کھانے، پینے، ہنسنے، بولنے، اُٹھنے، بیٹھنے،چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ، بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ، استاذ اور دُختر (یعنی بیٹی) کوشوہرکے بھی اِطاعت کے طُرُق (یعنی طریقے) و آداب بتائے۔ ٭ قرآنِ مجید پڑھائے۔٭استاذ نیک، صالح، متقی، صحیح العقیدہ، سِنّ رسیدہ کے سپرد کردے اور دُختر کو نیک پارسا عورت سے پڑھوائے۔٭بعد ختمِ قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔٭ عقائدِ اسلام و سنَّت سکھائے کہ لوح سادہ فطرتِ اسلامی وقبولِ حق پرمخلوق ہے (یعنی چھوٹے بچے دینِ فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں یہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا) اس وقت کابتایا پتھر کی لکیر ہو گا۔٭حضورِ اقدس، رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی محبت وتعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصلِ ایمان وعینِ ایمان ہے۔٭حضورپُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے آل و اَصحاب و اولیاء و علما کی محبت و عظمت تعلیم کرے کہ اصلِ سنَّت و زیورِ ایمان بلکہ باعثِ بقائے ایمان ہے۔٭سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے۔٭علمِ دِین خُصوصاً وُضو،غسل، نماز و روزہ کے مَسائل توکل، قناعت، زُہد، اِخلاص، تواضع، اَمانت، صِدق، عدل، حیا، سلامتِ
صُدُور و لسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل ،حرص وطمع ، حُبِّ دُنیا، حُبِّ جاہ، رِیا، عجب، تکبُّر، خِیانت، کِذب، ظُلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہا بُرائیوں کے رَذائل پڑھائے۔٭ خاص پسر (یعنی بیٹے)کے حقوق سے یہ ہے کہ اسے لکھنا، پَیرنا (یعنی کسی فن میں ماہر ہونا)، سپہ گری سکھائے۔ سورۂ مائدہ کی تعلیم دے۔ اِعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔٭ خاص دُختر (یعنی بیٹی) کے حقوق سے یہ ہے کہ اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ اِلٰہیہ جانے، اسے سینا،پرونا ،کاتنا ،کھانا پکانا سکھائے اورسورۂ نور کی تعلیم دے([9])۔([10])
سُوال:داڑھی اور سر کے بال بَہت گرتے ہیں،برائے کرم اس کے لیے کوئی علاج اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:داڑھی یا سر کے بال جھڑتے ہوں یا گنج ہو توآٹھ چمچ زیتون کے گرم کئے ہوئے تیل میں ایک چمچ اَصلی شہد اور ایک چمچ باریک پسی ہوئی دار چینی ملا لیں پھر جہاں کے بال جھڑتے ہوں وہاں خوب مَسلیں پھر اندازاً پانچ منٹ کے بعد دھو
لیں یا نہا لیں۔بچا ہوا تیل دوبارہ بھی اِستعمال کر سکتے ہیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ 12دن میں فائدہ نظر آ جائے گا ،مگر تا حُصولِ شِفا یہ عمل جاری رکھیے۔([11])یہ تو بال گرنے کا طبی علاج تھا جبکہ مدنی علاج یہ ہے کہ بال جھڑ رہے ہوں یا دانت، کوئی بیماری ہو یا پریشانی انسان کو ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ شِکوہ و شکایت کرنے سے بیماریاں اور پریشانیاں دُور نہیں ہو جاتیں اَلبتہ ان پر ملنے والے اَجر و ثواب سے انسان محروم ہو جاتا ہے لہٰذا بِلاضرورت لوگوں کو اپنے دُکھ دَرد کی کہانیاں سنانے اور ان کی ہمدردیاں پانے کے بجائے انہیں پوشیدہ رکھ کر صبر کے ذَریعے اَجر کمانا چاہیے۔
مصیبت پر صبر کرنے اور اسے پوشیدہ رکھنے کے فضائل کے بھی کیا کہنے! چنانچہ بےچین دِلوں کے چَین، رَحمتِ دارین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ چین ہے:جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اُس کی مَغْفِرت فرما دے۔([12]) ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا: مسلمان کو مرض، پریشانی،
رَنج،اَذِیَّت اور غم میں سے جو مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس کے گناہوں کا کفّارہ بنا دیتا ہے۔([13])یہ ہر رَنج وغم اور مصیبت کا مدنی علاج ہے۔
سُوال:کیا ہر بیماری اور پریشانی پر شکر بجا لانا چاہیے ؟
جواب:جی ہاں کوئی بھی بیماری ہو یاپریشانی انسان کو ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ کفر اور گناہوں کی بیماریوں کے سِوا کوئی بھی بیماری و پریشانی ایسی نہیں جس میں کوئی بھلائی موجود نہ ہو جیسا کہ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:سختی اور مصیبت میں شکر ادا کرنا لازم ہے کیونکہ کفر و گناہ کے سِوا کوئی بھی ایسی مصیبت و بَلا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی بھلائی موجود نہ ہو،تم اس سے واقف نہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری بھلائی کو خوب جانتا ہے۔اگر دُنیا کے کسی کام میں مصیبت واقع ہو تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ دِین کے کام میں کوئی مصیبت واقع نہیں ہوئی جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا سہل بن عبدُ اللہ تستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی کہ چور میرے گھر میں داخِل ہو کر تمام مال چُرا کر لے گیا ہے۔ انہوں نے
فرمایا: یہ مقامِ شکر ہے کہ چور آیا اور مال چُرا کر لے گیا ، اگر شیطان چور بن کر آتا اور مَعَاذَ اللہ تمہارا اِیمان چُرا کر لے جاتا تو پھر کیاکرتے؟
اسی طرح اگر کوئی شخص بیماری یا کسی مصیبت میں مبتلا ہے تو اُسے بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس سے بڑی بیماری اور مصیبت میں مبتلا نہیں کیونکہ کوئی بھی بیماری اور مصیبت ایسی نہیں جس سے بدتر کوئی بیماری اور مصیبت نہ ہو۔ جو شخص ہزار لاٹھیاں کھانے کے لائق ہو تو اگر اُسے سو لاٹھیاں ماری جائیں تو یہ اس کے لیے شکر کا مقام ہے۔منقول ہے کہ مشائخ میں سے ایک بزرگرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کےسر پر کسی نے طَشت بھر کر خاک ڈال دی۔ انہوں نے شکر ادا کیا اور فرمایا: میں آگ ڈالے جانے کا مستحق تھا لیکن میرے سر پر فَقط خاک ڈالی گئی تو یہ کمالِ نعمت ہے ۔ ([14])
منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو اَندھا، کوڑھی،اَپاہج اورمکمل فالج زدہ تھا اور جزام کی وجہ سے اس کا گوشت بھی بکھرا ہوا تھا مگر وہ کہہ رہا تھا:”اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابۡتَلٰی بِہٖ کَثِیۡرً ا مِّنۡ خَلۡقِہٖ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے جس نے
مجھے اس بیماری سے محفوظ رکھا جس میں اس نے اپنی بہت ساری مخلوق کو مبتلا کیا ہے۔“یہ کلمات سُن کر حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے فرمایا: اے بندۂ خدا !کونسی مصیبت ہے جس سے تو محفوظ ہے؟عرض کی:”اے روحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام! میں اُس شخص سے بہتر ہوں جس کے دِل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی وہ معرفت نہیں ڈالی جو میرے دِل میں ڈالی ہے۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:تم سچ کہتے ہو،اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔پھر جیسے ہی آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اُس کا ہاتھ پکڑا تو اُس کا چہرہ اِنتہائی خوبصورت اور باقی جسم دُرُست ہو گیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی تمام بیماریاں دُور فرما دیں۔ پھر اس نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی صحبت اِختیار کی اور آپ کے ساتھ ہی عبادت میں مصروف ہو گیا ۔([15])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہتے اور اس کا شکر بجا لاتے لہٰذا ہمیں بھی ہر حال میں صبر و شکر کا مُظاہرہ کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے! دُنیوی اَمراض اور تکالیف اگرچہ وقتی طور پر پریشانی کا سبب بنتی ہیں مگر بسااوقات یہ مومِن کے حق میں رَحمت بھی ہوا کرتی ہیں کہ ان پر صَبر کر کے اَجر کمانے اور بے حساب جنَّت میں جانے کا موقع ملتا ہے جبکہ گناہوں کی بیماریاں اِنتہائی تباہ کُن ہیں کہ یہ
مَعَاذَ اللّٰہایمان برباد ہونےاور جہنم میں جانے کاسبب بن سکتی ہیں۔
عارضی آفتِ دُنیا سے تو ڈرتا ہے دل
ہائے بے خوف عذابوں سے ہوا جاتا ہے
یہ ترا جسم جو بیمار ہے تشویش نہ کر
یہ مرض تیرے گناہوں کو مٹا جاتا ہے
اَصل برباد کن اَمراض گناہوں کے ہیں
بھائی کیوں اس کو فراموش کیا جاتا ہے (وسائلِ بخشش)
سُوال: ساری اُمَّت کے لیے ”دُعائے مغفرت“کرنے کی کیا وجہ ہے؟
جواب:ہمارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اپنی اُمَّت سے بڑا پیار ہے،ہمیشہ اس گنہگار اُمَّت کو یاد رکھا اور اس کی بخشش ومغفرت کے لیے راتوں کو روتے رہے ۔دُنیائے آب و گل میں جلوہ اَفروز ہوتے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے سجدہ فرمایا اور ہونٹوں پر یہ دُعا جاری تھی:”رَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِی یعنی پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میری اُمَّت میرے حوالے فرما۔“ ([16])سفرِمعراج پر رَوانگی کے وَقت بھی اُمَّت کے عاصیوں کو یاد فرما کر آبْدِیدہ ہو گئے۔دِیدارِ
جمالِ خُداوندی اور خُصُوصی نوازشات کے وقت بھی گنہگارانِ اُمَّت کو یاد فرمایا۔”قَبْر اَنور میں بھی ”رَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ یعنی اے میرے پروردگار!میری اُمَّت میری اُمَّت۔“فرما رہے تھے۔“([17])قبر میں تا حشر”یَارَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ یعنی اے پروَردگار! میری اُمَّت میری اُمَّت۔“پکارتے رہیں گے۔([18])قیامت کے دن بھی لبہائے مُبارَکہ پر”یَارَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ اے رَبّ! میری اُمَّت میری اُمَّت“ ہو گا۔([19]) اور اب بھی اپنی اُمَّت کے اَعمال مُلاحظہ فرماکر نیکیوں پر حمدِالٰہی بجا لاتے اور بَدیوں پر اِستغفار فرماتے ہیں۔([20])
(شیخِ طریقت،اَمیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:)سرکارِ اَبدقرار، ہم غریبوں کے غمگسار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کہیں بھی اپنی اُمَّت کو فراموش نہ فرمایا ،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی یہ آرزو ہے کہ میری اُمَّت کی بخشش و مغفرت ہو جائے،اس لیے میں بھی یہ دُعا کرتا ہوں کہ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری ، ہمارے ماں باپ کی اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ساری اُمَّت کی مغفرت فرما۔“ یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ ساری اُمَّت کی مغفرت کی دُعا تو
کر سکتے ہیں اَلبتہ ساری اُمَّت کی بے حساب مغفرت کی دُعا نہیں مانگ سکتے ۔
لائقِ نار ہیں مِرے اَعمال
اِلتجا یاخُدا کرم کی ہے
اپنی اُمَّت کی مغفرت ہو جائے
آرزو شافعِ اُمَم کی ہے (وسائلِ بخشش)
سُوال: کیا فوت شُدہ کو مُرید کروایا جا سکتا ہے؟
جواب:جو فوت ہو جائے اُسے مُرید نہیں کروا سکتے کیونکہ مُرید ہونے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پیرِ کامل کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرَکت سے مُرید اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ناراضی والے کاموں سے بچتے ہوئے ان کی فرمانبرداری والے کاموں کے مطابق زندگی گزار کر اپنی قبر و آخرت کو بہتر بنا سکے جبکہ مَرنے والا اپنی زندگی گزار چکا ہے ۔
سُوال:اگر والدین سنتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے سے روکتے ہوں تو کیا ان کی اِجازت کے بغیر مَدَنی قافلوں میں سفر کر سکتے ہیں ؟نیز مَدَنی قافلے میں سفرکرنے کے لیے والدین کوکیسے راضی کیا جائے؟
جواب:مدنی قافلوں میں سفر کرنا علمِ دِین سیکھنے سکھانے اور اپنی قبر و آخرت کو بہتر بنانے کا ایک بہترین ذَریعہ ہے مگر اس کے لیے والدین کو ناراض کرنے اور ان کی نافرمانی کرنے کی اِجازت نہیں۔اگر والدین کو آپ کی خدمت کی حاجت ہے اس لیے وہ مدنی قافلے میں سفر نہیں کرنے دیتے تو آپ ہرگز مدنی قافلے میں سفر نہ کریں اور نہ ہی ان سے اِجازت طلب کریں بلکہ اپنے والدین کی خدمت بجا لائیں۔اگر والدین کو آپ کی خدمت کی حاجت نہیں ہے ویسے ہی شفقت کی بنا پر مدنی قافلوں میں سفر کرنے سے روکتے ہیں تو ایسی صورت میں حکمتِ عملی اور نرمی سے ان پر اِنفرادی کوشش کیجیے اور انہیں مدنی قافلوں کی برکتیں بتائیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ مان جائیں گے۔ جب ان کی طرف سے بخوشی اِجازت مل جائے تو بغیر حیل و حجت کیے فوراً مدنی قافلے کے مسافر بن جائیے کیونکہ حیل و حجت کرنے مثلاً”اجازت مل جانے کے بعد بار بار ”اجازت ہے، اجازت ہے “کی رَٹ لگانے سے ہو سکتا ہے کہ ان کا دِل پھر شفقت سے بھر آئے اور وہ آپ کو منع کر دیں۔ نبیوں کے سلطان،رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ حکمت نشان ہے:اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ یعنی حکمت مؤمن کا گم شدہ خزانہ ہے۔([21])
یاد رکھیے! جس طرح والدین کی اجازت کے بغیر مدنی قافلے میں سفر نہیں کر سکتے یوں ہی نفلی حج کے لیے بھی نہیں جا سکتے۔اِس ضمن میں میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے نفلی حج پر جانے اور اپنی والدۂ ماجدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سےحکمتِ عملی سےاِجازت پانے کا واقعہ مُلاحظہ کیجیے چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:پہلی بار (حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً ) کی حاضری والدین ماجدین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے ساتھ تھی۔اس وقت میری عمر کا تیئسواں سال تھا۔ واپسی میں تین دن طوفان شدید رہا تھا۔ لوگوں نے کفن پہن لیے تھے۔ اللہتعالیٰ کی طرف رُجوع کیا اور سر کارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مدد مانگی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ مخالف ہَوا جو تین دن سے بَشِدَّت چل رہی تھی دو گھڑی میں بالکل مَوقُوف ہوگئی اور جہاز نے نَجات پائی۔ ماں کی محبت! وہ تین دن کی سخت تکلیف یاد تھی، مکان میں قدم رکھتے ہی پہلا لفظ (والدۂ ماجدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے) جو مجھ سے فرمایا وہ یہ تھا ”حجِّ فرض اللہتعالیٰ نے ادا فرما دیا،اب میری زندگی بھر دوبارہ اِرادہ نہ کرنا۔“ اُن کا یہ فرمانا مجھے یاد تھا اور ماں باپ کی ممانعت کے ساتھ حجِّ نفل جائز نہیں،یوں خُود ادا کرنے سے مجبور تھا۔ یہاں سے ننّھے میاں
(چھوٹے بھائی حضرت مولانا محمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان) اور حامد رضا خان (یعنی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے بڑے شہزادے) معہ متعلقین بارادۂ حج روانہ ہوئے۔ لکھنو تک ان لوگوں کو میں پہنچا کر واپس آ گیا لیکن طبیعت میں ایک قسم کا اِنتشار رہا۔ایک ہفتہ طبیعت سخت پریشان رہی،ایک روز عصرکے وقت زیادہ اِضطراب ہوا اور دِل وہاں کی حاضری کے لیے بے چین ہوا۔ بعدِ مغرب مولوی نذیر احمد صاحب کو اسٹیشن بھیج کر بمبئی تک سیکنڈ کلاس کا کمرہ مخصوص (Reserve) کروا لیا تاکہ اس میں نمازوں کا آرام رہے، عشا کی نماز سے اوّل وقت میں فارغ ہو لیا۔ چار پہیوں والی مخصوص گاڑی بھی آ گئی۔ اب صرف والدۂ ماجدہ سے اجازت لینا باقی ہے جو نہایت اَہم مسئلہ تھا اورگویا اس کا یقین تھا کہ وہ اِجازت نہ دیں گی، کس طرح عرض کروں اور بغیر اجازتِ والدہ حجِ نفل کو جانا حرام ہے۔آخرکار اندر مکان میں گیا۔ دیکھا تو والدۂ ماجدہ چادر اوڑھے آرام فرما رہی ہیں، میں نے آنکھیں بند کر کے قدموں پر سر رکھ دیا وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھیں اور فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کی:حضور! مجھے حج کی اِجازت دے دیجئے۔ پہلا لفظ جو فرمایا وہ یہ تھا:”خُدا حافظ“میں اُلٹے پاؤں باہر آیا اور فوراً سُوار ہو کر اسٹیشن پہنچا۔ ([22])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ
رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے کیسے حکمتِ عملی سے اپنی والدۂ ماجدہ سے اِجازت لی اور جیسے ہی اِجازت ملی فوراً اُلٹے پاؤں پلٹے اور سفرِ حج پر روانہ ہو گئے یوں ہی اگر آپ بھی حکمتِ عملی اور نرمی سے اپنے والدین پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے ان سے مدنی قافلے میں سفر کرنے کی اِجازت لیں گے تو وہ آپ کو منع نہیں کریں گے۔
سُوال: دعوتِ اسلامی کیوں مَعرضِ وجود میں آئی ؟نیز اس کا مقصد کیا ہے؟
جواب:تبلیغِ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی مسلمانوں کی گرتی ہوئی حالت کو سنبھالنے اور اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اُمتِ محبوب کا رِشتہ مضبوط کرنے کے لیے مَعرضِ وجود میں آئی ہے۔دعوتِ اسلامی یہی چاہتی ہے کہ مَساجد آباد ہوں،مسلمانوں کی ظاہری اور باطنی اِصلاح ہو اور مسلمان فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ حضور جانِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مبارک اَداؤں کو اپنانے والے بن جائیں، اَلغرض دعوتِ اسلامی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ مسلمانوں میں اُجاگر کرنے کے لیے مَعرضِ وُجُود میں آئی ہے۔
دعوتِ اسلامی کا مدنی مقصد”اپنی اور ساری دُنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنا ہے۔“اپنی اِصلاح کی کوشش کے لیے مدنی اِنعامات پر عمل اور
ساری دُنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ کاش! تمام عاشقانِ رسول بیکار کاموں میں اپنا وقت گنوانے کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے اور ثوابِ آخرت کمانے کی نیت سے دعوتِ اسلامی کے اس مدنی مقصد میں شامل ہو کر مدنی کاموں کی دھوم مچانے والے بن جائیں ۔
دعوتِ اسلامی کی قَیُّوم
سارے جہاں میں مچ جائے دھوم
اِس پہ فِدا ہو بچّہ بچّہ
یااللّٰہ مری جھولی بھر دے (وسائلِ بخشش)
٭٭٭
٭٭٭٭٭
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جو کسی غمگین کی مدد کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لیے 73 نیکیاں لکھتا ہے،ان میں سے ایک نیکی سے اس کی دُنیا و آخرت کی اِصلاح ہوتی ہے اور باقی سے اس کے دَرَجات بلند ہوتے ہیں۔ (شعبُ الایمان،کتابُ الادب ،باب فی التعاون علی البر والتقویٰ ، ۶ /۱۲۰ ، حدیث:۷۶۷۰ دار الکتب العلمیة بیروت )
|
عنوان |
صفحہ |
عنوان |
صفحہ |
|
دُرُود شریف کی فضیلت |
2 |
اولاد کو فرمانبردار بنانے كا ايك بہترين ذَریعہ |
16 |
|
بچوں کی تربیت کب اور کیسے کی جائے؟ |
3 |
والدین پر اولاد کے حقوق |
17 |
|
4 |
گرتے بالوں کا علاج |
19 |
|
|
بچوں کی تربیت کی اَہمیت |
5 |
ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے |
21 |
|
تربیت کرنے والے کو کیسا ہونا چاہیے؟ |
7 |
تکلیف پر رضا کی اَنوکھی حِکایت |
22 |
|
بار با ر ٹوکتے رہنے سے اِجتناب کیجیے |
8 |
ساری اُمَّت کے لیے دُعائے مغفرت |
24 |
|
چھوٹے مدنی مُنّوں کی تربیت کا طریقہ |
10 |
فوت شُدہ کو مُرید کروانا کیسا؟ |
26 |
|
بچوں کی تربیت سے مالا مال ایک زبردست حِکایت |
10 |
والدین کی اِجازت كے بغیرمدنی قافلوں میں جانا کیسا؟ |
26 |
|
بچوں کو دِینی تعلیم بھی ضَرور دِلوائیے |
13 |
والدین کی اِجازت كے بغیرنفلی حج کیلئے نہیں جا سکتے |
28 |
|
اَولاد کو فرمانبردار بنانے کا روحانی علاج |
14 |
دعوتِ اسلامی کےمَعرضِ وجود میں آنے کامقصد |
30 |
[1]…… نسائی ،کتاب السھو، باب الفضل فی الصلاة عَلَى النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،ص۲۲۲، حدیث: ۱۲۹۲ دار الکتب العلمیة بیروت
[2]…… اپنی اولاد کی شریعت وسنَّت کے مطابق تربیت کرنے کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ187 صَفحات پر مشتمل کتاب”تربیتِ اولاد“ کا مطالعہ کیجیے ،اس کتاب میں بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی شادی تک کے تمام اُمور مثلاً نام رکھنا ، عقیقہ،ختنہ ، تحنیک اور مختلف آداب ِ زندگی وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[3]…… احیاءُ العلوم،کتاب ریاضة النفس و تھذیب الاخلاق، بیان الطریق فی ریاضة الصبيان فی أول نشوهم... الخ ، ۳/۸۸ دار صادر بیروت
[4]…… اولاد کی تربیت کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ188صفحات پر مشتمل کتاب ”تربیتِ اولاد “ کا مطالعہ کیجیے ۔
(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[5]…… احیاء العلوم،کتاب ریاضة النفس و تھذیب الأخلاق، بیان الطریق فی ریاضة الصبيان فی أول نشوهم...الخ ،۳/۹۱
[6]…… فتاویٰ رضویہ ،۶/۳۱۹ ملخصاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور
[7]…… مسائل القرآن، ص۲۹۰ ملخصاً رومی پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
[8]……دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں مسلمانوں کو نَمازِ فَجر کے لیے جگانے کو ”صَدائے مدینہ“ لگانا کہتے ہیں۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[9]…… فتاویٰ رضویہ،۲۴/۴۵۴-۴۵۵ ملتقطاً
[10]…… والدین پر اولاد کے حقوق کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ451 تا 457 پر مشتمل رسالے ”مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَادِ فِیْ حُقُوْقِ الْاَوْلَادِ اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل“ کا مطالعہ کیجیے ۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[11]…… مزیدمعلومات حاصل کرنے کے لیےشیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیف” گھریلو علاج “ کامطالعہ کیجیے ۔
(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )
[12]…… مجمع الزوائد،کتاب الزھد،بَابٌ فِيمَنْ صَبَرَ عَلَى الْعَيْشِ الشَّدِيدِ وَلَمْ يَشْك اِلَى النَّاسِ، ۱۰/۴۵۰،حدیث:۱۷۸۷۲ دار الفكر بيروت
[13]…… بخاری،کتاب المرضی ،باب ما جاء فی کفارة المرض،۴/۳،حدیث:۵۶۴۱ دارالكتب العلمية بيروت
[14]…… کیمیائے سعادت ،رُکنِ چھارم، منجیات،۲/۸۰۵ اِنتشاراتِ گنجینه تھران
[15]…… احیاءُ العلوم،کتاب المحبة والشوق والأنس والرضا، بیان حقیقة الرضا...الخ،۵/۷۰
[16]…… فتاویٰ رضویہ،٣٠/٧١٢
[17]…… مدارج النبوة،۲/۴۴۲ ملخصاً مرکز اھلنَّست برکات رضا ھند
[18]…… کنز العمّال ،کتاب القیامة ،الجزء:۱۴،۷/۱۷۸،حدیث:۳۹۱۰۸ ملخصاً دار الکتب العلمیة بیروت
[19]…… مسلم،کتاب الایمان،باب أدنی أھل الجنَّة منزلة فیها،ص۱۰۴،حدیث:۴۷۹ ماخوذاً دار الکتاب العربی بیروت
[20]…… جامع صغیر، حرف الحاء ، ص۲۲۹، حدیث: ۳۷۷۱ ماخوذاً دار الکتب العلمیة بیروت
[21]…… جامع صغیر، حرف الکاف، فصل فی المحلی بأل من ھذا الحرف، ص۴۰۲، حدیث:۶۴۶۲
[22]…… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۱۸۱-۱۸۳ ملخصاً مكتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی