اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنَّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے مخصوص انداز میں سنتوں بھر ے بیانات ، علم وحکمت سے معمور مَدَ نی مذاکرات اور اپنے تربیت یافتہ مبلغین کے ذریعے تھوڑے ہی عرصے میں لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں مدنی اِنقلاب برپا کر دیا ہے، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کثیر اسلامی بھائی وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر ہونے والے مَدَنی مذاکرات میں مختلف قسم کے موضوعات مثلاً عقائدو اعمال، فضائل و مناقب ، شریعت و طریقت، تاریخ و سیرت ،سائنس و طِبّ، اخلاقیات و اِسلامی معلومات، روزمرہ معاملات اور دیگر بہت سے موضوعات سے متعلق سُوالات کرتے ہیں اور شیخِ طریقت امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ انہیں حکمت آموز اور عشقِ رسول میں ڈوبے ہوئے جوابات سے نوازتے ہیں۔
امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ان عطا کردہ دِلچسپ اور علم و حکمت سے لبریز مَدَنی پھولوں کی خوشبوؤں سے دُنیا بھرکے مسلمانوں کو مہکانے کے مقدّس جذبے کے تحت المدینۃ العلمیۃ کا شعبہ’’ فیضانِ مدنی مذاکرہ‘‘ ان مَدَنی مذاکرات کو کافی ترامیم و اضافوں کے ساتھ ’’فیضانِ مدنی مذاکرہ‘‘کے نام سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ ان تحریری گلدستوں کا مطالعہ کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عقائد و اعمال اور ظاہر و باطن کی اصلاح، محبت ِالٰہی و عشقِ رسول کی لازوال دولت کے ساتھ ساتھ مزید حصولِ علمِ دین کا جذبہ بھی بیدار ہو گا۔
اِس رسالے میں جو بھی خوبیاں ہیں یقیناً ربِّ رحیم عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے محبوبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عطاؤں،اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کی عنایتوں اور امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شفقتوں اور پُرخُلوص دُعاؤں کا نتیجہ ہیں اور خامیاں ہوں تو اس میں ہماری غیر اِرادی کوتاہی کا دخل ہے۔
شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ
۲۲ ذُوالحجۃ الحرام ۱۴۳۸ ھ/14 ستمبر2017ء
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
(مَع دِیگر دِلچسپ سُوال جواب)
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ (۴۱ صفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن و جمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:جس نے مجھ پر دَس مرتبہ صبح اور دَس مرتبہ شام دُرُود ِ پاک پڑھا اُسے قیامت کے دن میری شَفاعت ملے گی۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال:کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عِلاوہ اَنبیا و اَولیا کو بھی لفظِ”یا“کے ساتھ پُکار سکتے ہیں؟
جواب:لفظِ”یا“اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ خاص نہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عِلاوہ اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو بھی لفظِ”یا“ کے ساتھ پکار سکتے ہیں اِس میں شرعاً کوئی حَرج نہیں۔لفظِ”یا“عربی زبان کا لفظ ہے جس
کے معنیٰ ہیں ”اے“، روزمرہ کی عام گفتگو میں بھی لفظِ ”یا“ کا عام اِستعمال ہے جیسا کہ مشہور محاورہ ہے”یا شیخ اپنی اپنی دیکھ“اس محاورے میں بھی غیرُ اللہ کو ”یا“کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر لفظِ ”یا“اللہ عَزَّوَجَلَّکے عِلاوہ کےساتھ آیا ہے مثلاً یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اےغیب کی خبریں بتانےوالے (نبی)، یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ اے رسول، یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ اےجھرمٹ مارنے والے،یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُاے بالا پوش اوڑھنے والے، یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اےابراہیم، یٰمُوْسٰىاےموسیٰ، یٰعِیْسٰٓی اے عیسیٰ، یٰنُوْحُ اے نوح، یٰدَاوٗدُ اےداود۔ عام اِنسانوں کو بھی لفظِ”یا“ کے ساتھ پکارا گیاہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُاے لوگو۔ اس كے عِلاوہ بھی قرآنِ مجیدمیں بیشمار جگہ پر لفظِ ”یا“غیرُ اللّٰہ کے ساتھ آیا ہے۔
اَحادیثِ مُبارَکہ میں بھی کثرت کے ساتھ لفظِ”یا“اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عِلاوہ کے ساتھ آیا ہے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو يَانَبِیَّ اللہ ، یَارَسُوْلَ الله کہہ کر ہی پکارتے تھے۔ مُسلِم شریف کی حدیث میں ہے: (جب سرکارِ مکۂ مکرمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً تشریف لائے) فَصَعِدَ الرِّجَالُ وَالنِّسَآءُ فَوْقَ الْبُيُوتِ، وَتَفَرَّقَ الْغِلْمَانُ وَالْخَدَمُ فِي الطُّرُقِ، يُنَادُوْنَ يَامُحَمَّدُ يَارَسُوْلَ اللهِ يَامُحَمَّدُ يَا رَسُوْلَ اللهِ تو مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور خُدّام راستو ں میں پھیل گئے اور وہ
نعرے لگا رہے تھے يَا مُحَمَّد يَا رَسُولَ الله ، يَامُحَمَّد يَارَسُولَ الله ۔([2])
نبیٔ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک نابینا صحابیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دُعا تعلیم فرمائی جس میں اپنے نامِ نامی اِسمِ گرامی کے ساتھ لفظِ”یا“ اِرشادفرمایا چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنَیفرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ ایک نابینا صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ عظیم میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ( یَارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !) اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دُعا کیجیے کہ وہ مجھے عافیت دے (یعنی میری بینائی لوٹا دے) ، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”اگر تو چاہے تو دُعا کروں اور چاہے تو صبر کر اور یہ تیرے ليے بہتر ہے۔“ انہوں نے عرض کی:دُعا فرما دیجیے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے انہيں اچھی طرح وُضو کرنے اور دو رَکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا یہ دُعا کرنا:اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ،وَاَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ ، يَامُحَمَّدُ([3]) اِنِّیْ قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ اِلٰى رَبِّيْ فِيْ حَاجَتِيْ هٰذِهٖ لِتُقْضٰى،
اَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے سُوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے نبی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ذَریعے سے جو نبیٔ رَحمت ہیں، یَارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! میں آپ کے ذَریعے سے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی طرف اس حاجت کے بارے میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری یہ حاجت پوری ہو،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔([4])حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنَیفرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: فَوَاللهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَاَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهٖ ضُرٌّ قَطُّ خدا کی قسم! ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے اور نہ ہی ہماری گفتگو زیادہ طویل ہوئی تھی کہ وہ ہمارے پاس آئے، گویا کبھی نابینا ہی نہ ہوئے۔([5]) معلوم ہوا کہ غیرُ اللّٰہ کو لفظِ”یا“کے ساتھ پکارنا شِرک نہیں اگر یہ شِرک ہوتا تو قرآن وحدیث میں غیرُ اللّٰہ کے ساتھ لفظِ”یا“ نہ آتا اور خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہرگز اس کی تعلیم اِرشاد نہ فرماتے اور نہ ہی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس پرعمل پیرا ہوتے۔
غیظ میں جل جائیں بےدِینوں کے دِل
یَارسُوْلَ اللّٰہ کی کثرت کیجئے (حدائقِ بخشش)
سُوال:کیا لفظِ”یا“کے ساتھ دُور والوں کو بھی پکار سکتے ہیں؟نیز وہ دُور سے سُنتے اور دیکھتے ہیں یا نہیں؟
جواب:جی ہاں جس طرح لفظِ”یا“کے ساتھ قریب والوں کو پکار سکتے ہیں ایسے ہی دُور والوں کو بھی پکار سکتے ہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاسے اس کے مقبول بندے دُور سے سنتے،دیکھتے اور حاجت رَوائی فرماتے ہیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہتعالیٰ فرماتا ہے:جو میرے کسی ولی سے دُشمنی کرے، اس سے میں نے لڑائی کا اِعلان کر دیا اور میرا بندہ کسی شے سے میرا اِس قدر قُرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض سے کرتا ہے اور میرا بندہ نوافِل کے ذَریعے سے ہمیشہ قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُسے محبوب بنا لیتا ہوں اور جب اُس سے محبت کرنے لگتاہوں تو میں اُس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اور اُس کا پیر بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سُوال کرے تو ضَرور اُسے دُوں گا اور پناہ مانگے تو ضَرور اُسے پناہ دُوں گا ۔([6])
حضرتِ سیِّدُنا امام فخرُالدِّين رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:فَاِذَا صَارَ نُوْرُ جَلَالِ اللَّهِ سَمْعًا لَهُ سَمِعَ الْقَرِيْبَ وَالْبَعِيْدَ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نورِ جلال بندۂ محبوب کے کان بن جاتا ہے تو وہ دُور و نزدیک کی آواز سُن لیتا ہے، وَاِذَا صَارَ ذٰلِكَ النُّوْرُ بَصَرًا لَهُ رَاَى الْقَرِيْبَ وَالْبَعِيْدَ اور جب اُس کی آنکھیں نورِ جلال سے منوَّر ہو جاتی ہیں تو وہ دُور و نزدیک کو دیکھ لیتا ہے، وَاِذَا صَارَ ذٰلِكَ النُّوْرُ يَدًا لَهُ قَدَرَ عَلَى التَّصَرُّفِ فِي الصَّعْبِ وَالسَّهْلِ وَالْبَعِيْدِ وَالْقَرِيْبِ اور جب یہی نور بندۂ محبوب کے ہاتھوں میں جَلوہ گر ہوتا ہے تو اُسے مشکل و آسان اور دُور و نزدیک میں تصرُّف کرنے کی قدرت حاصل ہوجاتی ہے۔([7])
حدیثِ پاک میں ہے:جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے یا تم میں سے کوئی مدد مانگنا چاہے اور وہ ایسی جگہ ہو جہاں اس کا کوئی پُرسانِ حال نہ ہو تو اُسے چاہیے کہ یُوں کہے:” يَا عِبَادَ اللهِ اَغِيْثُوْ نِيْ، يَا عِبَادَ اللهِ اَغِيْثُوْ نِيْ اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا (وہ اس کی مدد کریں گے)۔ ([8])
سُوال:کیابعدِوفات بھی مقبولانِ بارگاہ کو لفظِ”یا“کے ساتھ پکار سکتے ہیں؟
جواب:جی ہاں۔بعدِوفات بھی مقبولانِ بارگاہ کو لفظِ”یا“کے ساتھ پکار سکتے ہیں اِس میں کوئی مُضایقہ نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندوں کی شان تو بہت بلند وبالا ہے عام مُردوں کو بھی بعدِ وفات لفظِ”یا“کے ساتھ پکارا جاتا ہے اور وہ سنتے ہیں جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب مدینۂ منوَّرہ کے قبرستان میں تشریف لے جاتے تو قبروں کی طرف اپنا رُخِ اَنور کر کے یوں فرماتے:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا اَهْلَ الْقُبُوْرِ،يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ،اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَثْرِ یعنی اے قبر والو! تم پر سلام ہو اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے،تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔([9])
اِس حدیثِ پاک میں بعدِ وفات اہلِ قُبُور کو لفظِ”یا“کے ساتھ پکارا بھی گیا ہے اور انہیں سلام بھی کیا گیا ہے ،سلام اُسے کیا جاتا ہے جو سنتا ہو اور جواب بھی دیتا ہو جیسا کہ مُفَسّرِ شہیر،حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: قبرستان میں جا کر پہلے سلام کرنا پھر یہ عرض کرنا سنت ہے، اس کے بعد اہلِ قُبُور کو اِیصالِ ثواب کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مُردے باہر والوں کو دیکھتے پہچانتے ہیں اور ان کا کلام سنتے ہیں ورنہ انہیں سلام جائز نہ
ہوتا کیونکہ جو سنتا نہ ہو یا سلام کا جواب نہ دے سکتا ہو اُسے سلام کرنا جائز نہیں، دیکھو سونے والے اور نماز پڑھنے والے کو سلام نہیں کر سکتے۔([10])
ہرنمازی نمازمیں تشہد پڑھتا ہے اورنبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اَقدس میں اِن الفاظ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ“ ([11]) کے ساتھ سلام پیش کرتا ہے۔اس سلام میں پکارنا بھی ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو مخاطب کرنا بھی۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ ظاہری میں بھی دُور و نزدیک سے یہ سلام آپ کی بارگاہِ اَقدس میں پیش کیا جاتا تھا اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی پیش کیا جا رہا ہے اور تا قیامت پیش کیا جاتا رہے گا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اس سلام و پکار کو سنتے ہیں اور جواب بھی عطا فرماتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ یوسف بن اسمعیل نبہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں:بعض اَولیا نے بطورِ کرامت اپنے قول”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہ“کے جواب میں نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا جواب عطا فرمانا سُنا ہے اور یہ محال نہیں ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو غیب پر مطلع فرمایا ہے اور ہر اُس شخص کا کلام سننے کی طاقت عطا فرمائی ہے جو دُور و نزدیک سے آپ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مخاطب ہوتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اس بات میں بھی کوئی فرق نہیں کہ یہ کلام سنناآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ ظاہری میں ہو یا وصالِ ظاہری کے بعد۔تحقیق یہ بات دُرُست ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنی قبرِانور میں زندہ ہیں۔([12])
حنفیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں:فَلَا فَرْقَ لَهُمْ فِي الْحَالَيْنِ وَلِذَا قِيْلَ اَوْلِيَاءُ اللَّهِ لَا يَمُوْتُوْنَ وَلٰكِنْ يَنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰى دَارٍ یعنی اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دونوں حالتوں (زندگی اور موت)میں کوئی فرق نہیں،اِسی لیے کہا گیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی (اور نبی) مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔([13])
ظاہری وصال سے اِن نفوسِ قدسیہ کی قوتیں اور صلاحیتیں ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ ان میں مزید اِضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ دُنیا میں تو یہ قید میں تھے وصالِ ظاہری کے بعد اس قید سے آزاد ہو جاتے ہیں لہٰذا اِن کی قوت میں بھی اِضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے :دُنیا مومن کا قید خانہ اور کافرکے لیے جنت ہے، جب مومن مر جاتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں
چاہے سیر کرے۔([14])میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:بعد مرنے کے سَمْع ، بَصَر، اِدْراک (یعنی دیکھنا،سننا اور سمجھنا) عام لوگوں کا یہاں تک کہ کُفَّار کا زائد ہو جاتا ہے اور یہ تمام اَہلِ سُنَّت و جماعت کا اِجماعی عقیدہ ہے۔([15])
سُوال:کیا دُور سے دیکھنا اور سننا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صفت نہیں؟
جواب:دُور سے دیکھنا اور سُننا ہرگز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صفت نہیں کیونکہ دُور سے تو وہ دیکھتا اور سُنتا ہے جو پکارنے والے سے دُور ہو جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو اپنے بندوں کے قریب ہے جیسا کہ پارہ 2 سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 186میں خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ تقرُّب نشان ہے:
ترجمۂ کنزُ الایمان:اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں۔
اسی طرح پارہ 26 سورۂ ق کی آیت نمبر 16میں اِرشادِ ربّ العباد ہے:
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-
ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم دِل کی رَگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں۔
جب اللہ عَزَّوَجَلَّ عِلم و قدرت کے اِعتبار سے اپنے بندوں کے قریب ہے تو پھر دُور سے دیکھنا اور سُننا اس کی صفت کیسے ہو سکتی ہے!
سُوال:مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کے دُور سے دیکھنے ، سننے اور تصرُّف فرمانے کے چند واقعات بیان فرما دیجیے۔
جواب:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو دُور سے دیکھنے ، سننے اور تصرُّف کرنے کی طاقت عطا فرمائی ہے لہٰذا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے دُور سے دیکھتے ، سنتے اور تصرُّف بھی فرماتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ مبارک میں سورج کو گرہن لگا ، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نماز پڑھی،(دَورانِ نماز ہاتھ بڑھا کر کچھ لینا چاہا لیکن پھر دَستِ مبارک نیچے کر دیا ، نماز کے بعد )صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی: یَارسولَ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے کسی چیز کو پکڑ رہے تھے ، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:اِنِّىْ أُرِيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ اَخَذْتُهُ لَاَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا مجھے جنت دِکھائی گئی تو میں اس میں سے ایک خوشہ توڑنے لگا، اگر میں اس خوشے کو توڑ لیتا تو تم رہتی دُنیا تک اس میں
سےکھاتے رہتے۔([16])
مُفسّرِشہیر،حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اِس حدیث سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جنت اور وہاں کے پھلوں وغیرہ کے مالِک ہیں کہ خوشہ توڑنے سے ربّ نے منع نہ کیا خود نہ توڑا ، کیوں نہ ہو کہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:) اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)( ([17])اسی لیے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کو کوثر کا پانی بارہا پلایا۔ دوسرے یہ کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ربّ تعالیٰ نے وہ طاقت دی ہے کہ مدینہ میں کھڑے ہو کر جنت میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور وہاں تصرُّف کر سکتے ہیں،جن کا ہاتھ مدینہ سے جنت میں پہنچ سکتا ہے کیا ان کا ہاتھ ہم جیسے گنہگاروں کی دَستگیری کے واسطے نہیں پہنچ سکتا اور اگر یہ کہو کہ جنت قریب آگئی تھی تو جنت اور وہاں کی نعمتیں ہر جگہ حاضرہوئیں۔ بہرحال اِس حدیث سےیاحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حاضر ماننا پڑے گا یا جنت کو۔([18])حدیثِ پاک اور اس کی شرح سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے پیارے سرکار، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے
بعطائے پروردگار زمین پر کھڑے ہو کر ساتوں آسمانوں سے بھی اوپر جنت کو نہ صرف دیکھ لیا بلکہ اپنا دَستِ مبارک بھی جنت کے خوشے تک پہنچا دیا۔
سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کو بھی دُور سے دیکھنے ، سننے اور تصرُّف کرنے کی قوت حاصل ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےحضرتِ سَیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کواِسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا کر نَہاوَنْد ([19]) بھیجا ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جہاد میں مصروف تھے ، اِدھر مدینۂ طیبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں امیرُ المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے ،یکایک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خطبہ چھوڑ کر تین بار فرمایا:” یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف جاؤ۔“ پھر اس کے بعد خطبہ شروع فرما دیا ،بعدِ نماز حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس پکار کی وجہ دریافت کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :میں نے مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑ کے پاس لڑ رہے ہیں اور کفار نے انہیں آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے ،یہ دیکھ کر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں نے کہہ دیا:” یَا
سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف جاؤ۔“اس واقعے کے کچھ روز بعد حضرتِ سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قاصد ایک خط لے کر آیا جس میں لکھا تھا کہ ہم لوگ جمعہ کے دن کفار سے لڑ رہے تھے اور قریب تھا کہ ہم شکست کھا جاتے کہ عین جمعہ کی نماز کے وقت ہم نے کسی کی آواز سنی:” یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف جاؤ۔“اس آواز کو سن کر ہم پہاڑ کی طرف چلے گئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفار کو شکست دی ہم نے انہیں قتل کر ڈالا ،اس طرح ہمیں فتح حاصل ہو گئی ۔ ([20])
حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ عفیفُ الدِّین عبدُ اللہ یافعی یمنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اس حدیث شریف سے اَمیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دو کرامتیں ظاہر ہوئیں:(۱) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مدینۂ منوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے (چودہ سو (1400) میل دُور) مقام نَہاوَنْد میں موجود لشکرِ اسلام اور ان کے دُشمن کو مُلاحظہ فرما لیا اور (۲) مدینۂ طیبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً سے اتنی دُور آواز پہنچا دی۔ ([21])
حضرتِسیِّدُنا شیخ عارِف ابو القاسم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ
حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُالقادِر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَانِی دَورانِ وَعظ اِسْتِغراق کی حالت میں ہو گئے یہاں تک کہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے عِمامے کا بَل (یعنی پیچ)کھل گیا تو تمام حاضرین نے بھی اپنے عِمامے اور ٹوپیاں غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی کُرسی کی طرف پھینک دئیے۔ جب آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ وَعظ سے فارِغ ہوئے تو اپنے عِمامہ شریف کو دُرست فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ اے ابو القاسم! لوگوں کو ان کے عِمامے اور ٹوپیاں دے دو۔ میں نے سب لوگوں کو اُن کے عِمامے اور ٹوپیاں دے دیں لیکن آخر میں ایک دوپٹہ رہ گیا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کا ہے؟ حالانکہ مجلس میں کوئی بھی ایسا نہ بچا تھا جس کا کچھ رہ گیا ہوں۔حُضُور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: یہ مجھے دے دو۔ میں نے وہ دوپٹہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دے دیا۔آپ نے اسے اپنے کندھے پر رکھا تو وہ غائب ہو گیا۔ میں حیرانگی سے دَمْ بخود رہ گیا۔ فرمایا:اے ابو القاسم!جب مجلس میں لوگوں نے اپنے عِمامے اُتار دئیے تو ہماری ایک بہن نے اَصبہان سے اپنا دوپٹہ اُتار کر پھینک دیا تھا۔ پھر جب میں نے اس دوپٹے کو اپنے شانوں پر رکھا تو اس نے اَصبہان سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اپنے دوپٹے کو اُٹھا لیا۔([22])
معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک اور برگزیدہ بندے دُور سے دیکھتے ،سنتے اور
تصرُّف بھی فرماتے ہیں۔ دیکھیے!آج کے اِس ترقی یافتہ دور میں سائنسی آلات (موبائل،ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ)کے ذَریعے بیک وقت ایک ہی لمحے میں دُنیا کے کونے کونے میں آواز اور شبیہ کو سنا اور دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ جب سائنسی آلات کے ذَریعے یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو روحانی رابطے (Conection) کے ذَریعے کیوں نہیں ہو سکتا؟ روحانی رابطہ تو سائنسی رابطے سے زیادہ طاقتور (Powerfull) ہے۔ سائنس والا دُور کی آواز اور شبیہ سنا اور دِکھا دے تو کسی کو وَسوسہ نہیں آتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عطا سے اپنے محبوب بندوں کو دُور کی آواز سنا دے تو وسوسے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے مقبول بندوں کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے فضائل و کمالات ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سُوال:اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے مندرجہ ذیل شعر میں”دِل جل رہا تھا نُور کا“سے کیا مُراد ہے؟
ناریوں کا دور تھا دِل جل رہا تھا نُور کا
تم کو دیکھا ہو گیا ٹھنڈا کلیجہ نُور کا
جواب:اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنَّت،مجدّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے اِس شعر میں دونوں جگہ”نُور“سے مُراد دِینِ اسلام لی جا سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِعلانِ نبوت کے آغاز میں ناریوں (یعنی غیر مسلموں) کا دور دورہ تھا، ہر طرف جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، کفر و کفار کا غلبہ دیکھ کر دِینِ اسلام کُڑھ رہا تھا پھر نُور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے نور کی کرنیں بکھیریں تو کفر و کفار کا غلبہ ختم ہو گیا، دِینِ اسلام کی روشنی ہر سو عام ہونے لگی تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھ کر دِینِ اسلام کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔
نورِ خُدا ہے کفر کی حَرکت پہ خندہ زَن
پُھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
سُوال: جھوٹ بولنا کیسا ہے ؟ نیز دِینی کام کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب:جھوٹ ایسی بُری چیز ہے کہ ہر مذہب والے اس کی بُرائی کرتے ہیں تمام اَدیان (یعنی تمام دِینوں ) میں یہ حرام ہے۔ اِسلام نے اس سے بچنے کی بہت تاکید کی، قرآنِ مجید میں بہت مَواقع پر اس کی مذمت فرمائی اور جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت آئی۔ حدیثوں میں بھی اِس کی بُرائی ذِکر کی گئی ہے۔([23])رہی بات دِینی کام کے لیے جھوٹ بولنے کی تو اس کی اِجازت نہیں بلکہ دِینی کام کےلیے
جھوٹ بولنا زیادہ سخت گناہ ہے کیونکہ دِینی کام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصِل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے تو جھوٹ بول کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کیسے حاصِل ہو سکتی ہے! یاد رکھیے! اللہ عَزَّوَجَلَّ بےنیاز ہے اُسے اِس بات کی قطعاً حاجت نہیں کہ کوئی دِین کا کام کرے ہی کرے،ہم اُس کے محتاج ہیں لہٰذا ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات کے مطابق ہی دِین کی خدمت بجا لانی چاہیے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں سچ کی برکتوں سے مالا مال فرمائے اور جھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
میں جھوٹ نہ بُولوں کبھی گالی نہ نِکالوں
اللہ مرض سے تُو گناہوں کے شِفا دے (وسائلِ بخشش)
سُوال: کیا جھوٹ بولنے کی کوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں جھوٹ بولنا گناہ نہ ہو ؟
جواب:جی ہاں!کئی صورتیں ایسی ہیں جن میں جھوٹ بولنا گناہ نہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدتنا اَسماء بنتِ یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے رِوایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تین چیزوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے :شوہر کا اپنی زوجہ کو راضی کرنے کے لیے، جنگ میں دھوکا دینے کے لیے اور لوگوں کے دَرمیان صلح
کروانے کے لیے۔([24]) دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1332 صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد سوم صَفْحَہ 517 پر ہے:”تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گناہ نہیں۔ ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے، اِسی طرح جب ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو اُس کےظلم سےبچنے کے لیےبھی جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مسلمانوں میں اِختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صلح کرانا چاہتا ہے، مثلاً ایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے، تمہاری تعریف کرتا تھا یا اُس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اِسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہو جائے اورصلح ہو جائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی کو خوش کرنے کےلیے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے۔“
یاد رہے کہ جس اچھے مقصد کو سچ بول کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہو اور جھوٹ بول کر بھی ،تو اُس کو حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنا حرام ہے۔اگر جھوٹ سے حاصل ہو سکتا ہو،سچ بولنے میں حاصل نہ ہو سکتا ہو تو بعض صورتوں میں جھوٹ مُباح (جائز) ہے بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہے، جیسے کسی بے گناہ آدمی کو ظالم شخص قتل کرنا چاہتا ہے یا اِیذا دینا چاہتا ہے وہ ڈر سے چھپا ہوا ہے،
ظالم نے کسی سے دَریافت کیا کہ وہ کہاں ہے؟یہ کہہ سکتا ہے مجھے معلوم نہیں اگرچہ جانتا ہو یا کسی کی امانت اس کے پاس ہے کوئی اُسے چھیننا چاہتا ہے پوچھتا ہے کہ امانت کہاں ہے؟یہ اِنکار کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس اس کی امانت نہیں۔([25])
اِسی طرح کسی نے چُھپ کر بےحیائی کا کام کیا ہے تو پوچھنے پر وہ اِنکار کر سکتا ہے کیونکہ ایسے کام کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا یہ دوسرا گناہ ہے۔ یوں ہی اگر کوئی اپنے مسلمان بھائی کے راز پر مطلع ہو تو اس کے بیان کرنے سے بھی اِنکار کر سکتا ہے۔([26]) اگر سچ بولنے میں فساد پیدا ہوتا ہو تو اس صورت میں بھی جھوٹ بولنا جائز ہے اور اگر جھوٹ بولنے میں فساد ہوتا ہو تو حرام ہے اور اگر شک ہو معلوم نہیں کہ سچ بولنے میں فساد ہو گا یا جھوٹ بولنے میں، جب بھی جھوٹ بولنا حرام ہے([27])۔([28])
سُوال: چُغلی وغیرہ کے ذَریعے دو مسلمانوں میں پُھوٹ ڈلوانا کیسا ہے ؟
جواب:چُغلی([29])وغیرہ کے ذَریعے دو مسلمانوں میں پُھوٹ ڈلوانا گناہ ِکبیرہ،سخت حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے کیونکہ یہ مسلمانوں میں اِختلاف اور جنگ و جدال کا بہت بڑا سبب ہے۔ شریعتِ مطہرہ کو مسلمانوں کا آپس میں اِتفاق و اِتحاد اس قدرمحبوب ہےکہ جب دو مسلمان آپس میں ناراض ہو جائیں تو شریعت نے اُن کے درمیان باہم صُلح کروانے کے لیے جھوٹ بولنے تک کی اِجازت دی ہے۔اس سے اَندازہ لگائیے کہ وہ لوگ کتنے بُرے ہیں جو جھوٹ ، غیبت اور چُغلی وغیرہ کے ذَریعے مسلمانوں کو آپس میں لڑواتے اور ان کے دَرمیان جُدائی ڈلواتے ہیں چنانچہ خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چُغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے دَرمیان جُدائی ڈالتے ہیں۔([30])
بدقسمتی سے آج کل مسلمانوں میں صلح کروانے اور انہیں آپس میں مِلانے کے بجائے چُغلی وغیرہ کے ذَریعے اُن میں جُدائی ڈال دی جاتی ہے مثلاً اگر کسی نے دوسرے کے متعلق کوئی بات کر دی تو وہ جا کر اُسے بتا دیتا ہے کہ فُلاں نے
تمہارے متعلق ایسا ایسا کہا ہے تو یوں دو مسلمانوں کے دَرمیان فاصلے کم کرنے کے بجائے مزید فاصلے بڑھا کر دونوں میں بغض و عداوت کی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیے ! مسلمانوں کے دَرمیان پُھوٹ ڈلوانا یہ شیطانی کام ہے اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے۔
|
مجھے غيبت و چُغلی و بدگمانی |
|
|
کی آفات سے تُو بچا یاالٰہی |
(وسائلِ بخشش) |
سُوال:توبہ کا کیا معنیٰ ہے؟نیز اس کی حقیقت بھی بیان فرما دیجیے۔
جواب:توبہ کا معنیٰ ہے رُجُوع کرنا اور لوٹ جانا جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر،حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:توبہ کے معنیٰ رُجوع کرنا۔ اگر یہ حق تعالیٰ کی صفت ہوتو اس کے معنیٰ ہوتے ہیں اِرادۂ عذاب سے (اپنی شان کے لائق) رُجوع فرما لینا ([31]) اور اگر یہ بندے کی صفت ہو (یعنی یہ کہا جائے کہ بندے نے توبہ کی)تو اس کے معنیٰ ہوتے ہیں گناہ سے اِطاعت کی طرف ، غفلت
سے ذِکر کی طرف، غَیْبت (یعنی غیرحاضری) سے حضور (یعنی حاضری) کی طرف لوٹ جانا (یعنی پلٹ آنا)۔توبہ صحیح یہ ہے کہ بندہ گزشتہ گناہوں پر نادِم ہو، آئندہ نہ کرنے کا عہد کر ے اور جس قدر ہو سکے اسی قدر گزشتہ گناہوں کا عوض اور بدلہ کر دے، نمازیں (رہتی ) ہوں تو قضا کرے، کسی کا قرض رہ گیا ہے تو ادا کر دے۔ حضرتِ سَیِّدُنا جنید بغدادی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی) فرماتے ہیں کہ توبہ کا کمال یہ ہے کہ دِل لذّتِ گناہ بلکہ گناہ بھول جائے (یعنی دوبارہ اس گناہ کے کرنے کا خیال بھی دِل میں نہ آئے)۔([32])
توبہ کے معنیٰ اکثر لوگوں نے اپنے گال پر چپت مار لینا یا اپنے کان پکڑ کر زبان سے”توبہ توبہ“ کر لینا سمجھ رکھا ہے،یہ ہرگز توبہ نہیں ہے،توبہ کی حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ جس گناہ سے توبہ کرنا چاہتا ہےاس گناہ پر شرمندہ ہو کر اُسے ترک کر دے اور آئندہ اُس سےبچنے کا پختہ اِرادہ کرے۔اِس طرح اگرکوئی توبہ کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی توبہ کو قبول فرمائے گا چنانچہ پارہ 25 سورۃُ الشوریٰ کی آیت نمبر 25 میں اِرشادِ رَبّ العباد ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ(۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے اور گناہوں سے دَرگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۔
اِسآیتِ کریمہ کے تحت صدرُالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیم الدِّین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:”توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیّت (یعنی گناہ)سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادِر (یعنی واقع) ہوا اس پر نادِم (شرمندہ) ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنب (یعنی دُور) رہنے کا پختہ اِرادہ کرے اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآں ہو (یعنی اگر کسی گناہ میں بندے کا کوئی حق مارا تو جس طرح شریعت نے اُسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے اس طرح اسے ادا کرے)۔“
حدیثِ پاک میں گناہوں پر ندامت کو بھی توبہ کہا گیا ہے چنانچہ خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ ندامت (یعنی شرمندگی) توبہ ہے۔([33])
ندامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہو جاتا
مگر رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے (وسائلِ بخشش)
سُوال: توبہ کرنا کب واجب ہوتا ہے؟
جواب:حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْوَالِی اِرشاد فرماتے ہیں:
گناہ سرزد ہونے پر فوراً توبہ کرنا واجب ہے کیونکہ گناہوں کو چھوڑ دینا ہمیشہ واجب ہے۔اسی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کرنا بھی ہمیشہ واجب (یعنی ضَروری) ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا (وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ)(پ ۱۸، النور:۳۱) ترجمۂ کنز الایمان:”اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو ! سب کے سب۔“اِس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تو بہ کرنا تمام لوگوں پر واجب ہے یہ اس لیے کہ عام طور پر کوئی بھی اِنسان اَعضا یا خیالات کے گناہوں سے خالی نہیں ہوتا اور اس کی کم ازکم صورت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات سے غافِل ہونا یا اس سے توجُّہ کا ہٹ جانا ہے،اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صدیقین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی یہ شان ہے کہ وہ اس سے بھی توبہ کرتے ہيں۔([34])
جببھی بتقاضائے بشریت (یعنی اِنسانی تقاضے کی وجہ سے)گناہ سرزد ہوجائے تو بغیر تاخیر کئے فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔توبہ کرنے کے لیے نہ تو وُضو اورغسل کرنے کی ضَرورت ہے اور نہ ہی مسجد وغیرہ میں جانے کی حاجت اور نہ ہی برکت والے ایّام مثل جمعہ وغیرہ کا اِنتظار ضَروری کیونکہ توبہ گناہوں پر شرمندہ ہونے،انہیں چھوڑ دینے اور آئندہ ان سے بچنے کے پختہ اِرادے کا نام ہے لہٰذا اِس کے لیے خاص جگہ اور دِن کی قید نہیں۔
سُوال:گناہوں پرقائم رہتے ہوئے صرف زبان سے توبہ کرتے رہنا کیسا ہے؟نیز توبہ کی صورتیں بھی بیان فرما دیجیے۔
جواب:گناہوں پر قائم رہتے ہوئے فقط زبان سے توبہ کر لینا کافی نہیں مثلاً کوئی شخص بے نمازی یا داڑھی منڈا ہے اور وہ اپنے اِن گناہوں سے توبہ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود نماز نہیں پڑھتا، داڑھی نہیں رکھتا تو اُس کا یہ توبہ کرنا نہیں کہلائے گا کیونکہ جس گناہ سے وہ توبہ کر رہاہے اس گناہ کو اس نے چھوڑا ہی نہیں۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِشریعت جلد اوّل صَفْحَہ 700پر ہے:توبہ جب ہی صحیح ہے کہ قضا پڑھ لے۔ اُس کو تو اَدا نہ کرے، توبہ کيے جائے، یہ توبہ نہیں کہ وہ نماز جو اس کے ذِمّہ تھی اس کا نہ پڑھنا تو اب بھی باقی ہے اور جب گناہ سے باز نہ آیا، توبہ کہاں ہوئی۔ حدیث میں فرمایا: گناہ پر قائم رہ کر اِستغفار (توبہ) کرنے والا اس کے مثل ہے جو اپنے رب (عَزَّوَجَلَّ) سے ٹھٹھا ( یعنی مذاق) کرتا ہے۔([35])
مُفَسِّرِ شَہِیر،حکیم الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: توبہ کی تین صورتیں ہیں:(۱)حقوقِ شریعت سے توبہ(۲)حقوقُ العباد سے توبہ اور (۳)حقوقُاللہ سے توبہ۔حقوقِ شریعت کی توبہ میں ضَروری ہےکہ وہ
حقوق ادا کر دیئے جائیں۔نمازیں رہ گئی ہیں تو قضا کرے،روزے رہ گئے ہیں تو پورے کرے،داڑھی منڈاتا ہے تو توبہ کرے اور آئندہ نہ منڈانے کا عہد کرے۔ ایسے ہی بندوں کے حقوق ادا کرے۔([36])
سُوال:كسی گناہ کو ہلکا یا حلال سمجھنا کیسا ہے ؟
جواب:كسی گناہ کو ہلکا جاننا اُسے صغیرہ سے کبیرہ کر دیتا ہے اور اگر اس کا گناہ ہونا ضَروریاتِ دِین([37]) میں سے ہو تو پھر اس کو ہلکا جاننا کفر ہے ،جیسا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:بعض وقت صغیرہ کا اِستخفاف (یعنی ہلکا جاننا) کفر ہو جائے گا جب کہ اس کا گناہ ہونا ضَروریاتِ دِین سے ہو۔ علماء فرماتے ہیں: کسی نے کوئی گناہ کیا اس سے لوگوں نے کہا: توبہ کر جواب دیا:”چِہ کَرْدَہْ اَمْ کہ تَوْبَہ کُنَم یعنی میں نے کیا کیا ہے کہ توبہ کروں ؟“ تو کفر ہو جائے گا۔ بہت سے صغائر (یعنی چھوٹے گناہ)ایسے ہیں جن کا مَعْصِیَت (یعنی گناہ) ہونا ضَروریاتِ دِین سے ہے مثلاً اَجنبیہ سے مَسْ و تَقْبِیل (یعنی چھونا اور بوسہ)صغیرہ ہے” اِلَّا اللَّمَمَ “(مگر اتنا کہ
گناہ کے پاس گئے اور رُک گئے)میں داخِل ہے اگر حلال جانے کافر ہے۔ (پھر فرمایا:) جس کو سمجھا کہ یہ ہلکا گناہ ہے فوراً صغیرہ سے کبیرہ ہو گیا۔ اَولیاءِ کرام فرماتے ہیں: اس گناہ کو دوسرے گناہ سے نسبت دیتا ہے کہ اس سے چھوٹا ہے یہ نہیں دیکھتا کہ گناہ کس کا کر رہا ہے ! اگر دیکھتا تو یہ فرق نہ کرتا۔([38])
رہی بات گناہ کو حلال سمجھنے کی تو اگر وہ گناہ ضَروریاتِ دِین میں سے ہو تو اُسے حلال سمجھنا کفر ہے ورنہ نہیں جیسا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں: مذہبِ معتمد و محقق میں اِسْتِحْلَال بھی عَلٰی اِطِّلَاقِہ (یعنی مذہب معتمد و محقق میں کسی گناہ کو حلال جاننا بھی مطلقاً) کفر نہیں جب تک زِنا یا شُربِ خمر (یعنی شراب پینے) یا ترکِ صَلاۃ (یعنی نماز کو ترک کرنے ) کی طرح اس کی حُرمت ضَروریاتِ دِین سے نہ ہو غَرض ضَروریات کے سِوا کسی شے کا اِنکار کفر نہیں اگرچہ ثابِت بِالْقَوَاطِع (یعنی قرآنِ پاک کی آیت یا حدیثِ مُتواتِر سے ثابت ) ہو کہ عندالتحقیق آدمی کو اِسلام سے خارج نہیں کرتا مگر اِنکار اُس کا جس کی تصدیق نے اُسے دائرۂ اِسلام میں داخِل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضَروریاتِ دِین۔([39])
سُوال:توبہ کے اِرادے سے گناہ کرنا کیسا ہے؟
جواب:توبہ کے اِرادے سے گناہ کرنا کہ بعد میں توبہ کر لوں گا یہ شیطان کابَہُت بڑا اور بُرا وار ہے۔ مُفَسّرِشہیر،حکیمُ الْامَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:توبہ کے اِرادے سےگناہ کرنا کُفر ہے۔([40])
سُوال: کیا توبہ سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے ؟ نیز حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد سے توبہ کرنے کا طریقہ بھی بیان فرما دیجیے۔
جواب:سچی توبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہ نفیس شی بنائی ہے کہ ہر گناہ کے اِزالہ کو کافی و وافی ہے۔ کوئی گناہ ایسانہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک و کفر۔ سچی توبہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ گناہ پر اس لئے کہ وہ اس کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی تھی نادم و پریشان ہو کر فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پورا عزم کرے جو چارہ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہو بجا لائے مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب، سرقہ(چوری)، رشوت، رِبا (سود) سے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لئے ان جرائم کا چھوڑ دینا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضَروری ہے کہ جو نماز روزے ناغہ کئے ان کی قضا کرے جو مال جس جس سے چھینا ، چُرایا، رِشوت، سود میں لیا انھیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کر دے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو ا تنا مال تصدق
(صدقہ) کر دے اور دل میں نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انھیں پھیر دوں گا۔
اہلِ علم نے تصریح فرمائی ہے کہ توبہ کے اَرکان تین ہیں:(۱)گزشتہ جُرم پر ندامت یعنی نادم و شرمسار ہونا (۲) موجودہ طرزِ عمل کو دُرُست رکھنا اور گناہ کا اِزالہ و بیخ کنی کرنا (۳) آئندہ کے لئے گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا، یہ اس وقت کا کام ہے جبکہ توبہ بندے اور اللہ تعالیٰ کے دَرمیان ہو، جیسے شراب نوشی، لیکن اگر اس نے حقوقُ اللہ میں کوتاہی کی اور ان سے توبہ کرنا چاہے جیسے نماز ، روزے اور زکوٰۃ وغیرہ کی اَدائیگی میں غفلت اور کوتاہی کی تو اس کے لئے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کو تاہی پر نادِم ہو پھر پختہ اِرادہ کرے کہ آئندہ ان کی اَدائیگی میں غفلت سے کام نہیں لے گا اور انھیں ہر گز ضائع نہیں کرے گا، پھر تمام ضائع کردہ حقوق کی قضا کرے اور اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحتِ توبہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوقُ اللہ کے ضمن میں بیان کر دیا ہے کہ اس کی صورت میں اَموال کی ذِمَّہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضَروری ہے جن کا مال غصب کیا گیا، وہ انھیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ اَفراد موجود اور بقیدِ حیات نہ ہوں تو ان کے وُرَثاء متعلقین اور قائم مقام اَفراد و وُکلاء کے ذَریعے اَموال کی واپسی اور معافی عمل میں لائی جائے، قنیہ میں ہے اگر کسی شخص پر لوگوں کے قرضہ جات
مثلاً غصب، مَظالم اور جنایات کی قسم سے ہوں اور توبہ کرنے والا ان متعلقہ اَفراد کو نہیں جانتا پہچانتا تو اتنی مقدار فقراء و مساکین میں قضا کی نیت سے خیرات کر دے،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کے باوجود اگر ان اَفراد کو کہیں پا لے تو ان سے معذرت کرے (یعنی ان سے معافی مانگے)اگر مَظالم کا تعلق عزت وغیرہ سے ہو جیسے کسی کو گالی دینا، غیبت کرنا، تو ان میں وجوبِ توبہ اس شرط سمیت جو ہم نے حقوقُ اللہ کے ضمن میں بیان کئے ہیں یہ ہے کہ جو کچھ اس نے ان کے بارے میں کہا انھیں اس جرم پر اِطلاع دے اور ان سے معافی مانگے، اگر یہ مشکل ہو تو پختہ اِرادہ کر لے کہ جب بھی انھیں پائے گا تو ضَرور معذرت کرے گا، اگر اس طریقہ سے بھی عاجز ہو جائے یعنی مظلوم وفات پا گیا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگے اور اللہتعالیٰ کے فضل و کرم سے قوی اُمید ہے کہ وہ مظلوم مرحوم کو اپنے جُود و اِحسان کے خزانوں میں سے دے کر راضی کر دے گا اور دونوں میں صلح کرا دے گا کیونکہ وہ جوَّاد، کرم کرنے والا، اِنتہائی شفقت فرمانے والا اور رَحم کرنے والا ہے۔([41])
سُوال:مدنی اِنعاما ت میں سے ایک مَدَنی اِنعام یہ بھی ہے کہ” کیاآج آپ نے نماز اور دُعا کے دَوران خشوع وخُضُوع پیدا کرنے کی کوشش فرمائی؟“یہ اِرشاد فرمائیے
کہ خشوع وخُضُوع کا کیا معنیٰ ہے؟
جواب:خشوع و خُضُوع یہ دو اَلفاظ ہیں،”خشوع کا تعلق اَعضائے ظاہری سے ہے جبکہ خضوع کاتعلق دِل سے ہے۔“([42])خشوع کا معنیٰ ہے بدن میں عاجزی پیدا کرنا مثلاً جب کسی عہدہ دارسے بات کی جاتی ہے تو اِنتہائی لجاجت، نرمی اور عاجزی کے ساتھ بات کی جاتی ہے اور دَورانِ گفتگو بدن بھی جھک جاتا ہے اس اَندازسے بات کرنے کوخاشعانہ اَندازکہتے ہیں۔اسی طرح نماز کو اس کے ظاہری آداب، فرائض و واجبات اور سُنَن و مستحبات کے ساتھ اچھی طرح ادا کرنا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ اَحکام سیکھ کر اچھے طریقے سے ان کی مشق بھی کی جائے ۔([43]) جبکہ خُضُوع کے معنیٰ دِل کی عاجزی کے ہیں،جیسے کوئی بندہ کسی سُنّی عالِم دِین یا امام مسجدیا اپنے پیر صاحب سے ملتا ہے تو اُن کی عزت وعظمت دِل میں ہو نے کی وجہ سے ظاہری جسم کی عاجز ی کے ساتھ ساتھ دِل سے بھی عاجزی والا اَنداز اپناتا ہے اسے خضوع کہتے ہیں ۔
سُوال: نمازمیں خشوع وخُضُوع کی اَہمیت کے بارے میں کچھ اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:نماز میں خشوع و خُضُوع کی بڑی اَہمیت ہےچنانچہ پارہ 18سورۃُ المؤمنون کی آیت نمبر1اور 2 میں اِرشاد ہوتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مُراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔
اِنآیاتِ مُبارکہ کے تحت صدرُالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرما تے ہیں:”ان کے دِلوں میں خدا کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اَعضا ساکن ہوتے ہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دِل لگا ہوا اور دُنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور گوشۂ چشم سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی عبث (فضول) کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور اُنگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے۔ بعض نے فرمایا کہ خشوع یہ ہے کہ آسمان کی طرف نظر نہ اُٹھائے ۔“
حضرتِسیِّدُنا عُقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ میں نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو مسلمان اچھی طرح وُضو کرے پھر خشوع و خُضُوع کے ساتھ دو رَکعتیں ادا کرے تو اس
کےلئے جنَّت واجب ہو جائے گی۔([44]) اَمیرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:جس مسلمان پر فرض نماز کا وقت آئے اور وہ نماز کے لیے اچھے طریقے سے وُضُو کرے اور اسے خشوع و خُضُوع کے ساتھ ادا کرے تویہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کے لئے کفّارہ ہو جائے گی جب تک کبیرہ گناہ کا اِرتکاب نہ کرے اور یہ عمل ساری زندگی جاری رہے گا۔([45])یعنی وہ نماز اس کے گناہوں کا کفّارہ بنتی رہے گی۔
مسلمانوں کی ایک تعدادہے جو دَورانِ نماز داڑھی یا جسم کے دِیگر اَعضا سےکھیلتی دِکھائی دیتی ہے ایسانہیں کرنا چاہیے کہ یہ خشوع وخضوع کے منافی ہے۔حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو دَورانِ نماز اپنی داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کا دِل خشوع والا ہوتا تو اس کے اَعضابھی خشوع کرتے۔([46])جب بندہ لوگوں کے سامنے خشوع و خُضُوع والا اَنداز اپناتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے وقت بدرجۂ اولیٰ خشوع و خُضُوع اپنانا چاہیے۔
سُوال:نماز میں خشوع و خُضُوع کیسے برقرار رَکھا جائے؟
جواب:نماز میں خشوع و خُضُوع پیدا کرنے اور اسے برقرار رَکھنے کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وبزرگی کو پیشِ نظر رکھا جائے۔سورۂ فاتحہ اورقرآنِ پاک کی وہ مخصوص سورتیں جو آپ نماز میں پڑھتے ہیں ان کا ترجمہ” کنزالایمان“سے اچھی طرح یاد کر لیجیے۔اسی طرح التحیّات، دُرُودِ اِبراہیمی اور دُعائے قُنُوت وغیرہ کا ترجمہ بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے اور انہیں پڑھتے وقت ان کے معانی و مطالب پرغور کرتے چلے جائیے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ خشوع و خُضُوع پیدا ہو گا جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا امام ابو محمد حسین بن مسعود بغوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: نماز میں خشوع یہ ہے کہ انسان اپنی ساری توجہ نماز میں مركوز رکھے، اس کے سِوا ہر چیز سے منہ پھیر لے اور اپنی زبان سے جو قراءت اور ذِکر کر رہا ہے اس کے معانی میں غور و فکر کرے۔([47])
سُوال:دُعا میں خشوع وخُضُوع کیسے اپنایا جائے؟
جواب:دُعامیں خشوع و خُضُوع اپنانے کے لیے اس کی اَہمیت وافادیت کو پیشِ نظر رکھنااور اس کے آداب کا جاننا ضَروری ہے۔ جس طرح اِنسان کو کسی دُنیوی
بادشاہ یاکسی بھی عہدہ دار وغیرہ سے کوئی غرض یا حاجت ہوتی ہے تو وہ اس کے سامنے خاشعانہ اَنداز اِختیار کرتاہے،اَدب و اِحترام اور اِنتہائی توجُّہ کے ساتھ اس کی بارگاہ میں اپنی دَرخواست پیش کرتاہےکیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر لاپرواہی اور غفلت سے کام لیا تو بات نہیں بنے گی،جب دُنیوی بادشاہوں اور عہدہ داروں کے پاس جانے اور ان کی بارگاہوں کے آداب بجا لانے کا یہ عالَم ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ جو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے اس کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنے اور اس کی بارگاہ کےآداب بجا لانے کا کس قدر اِہتمام ہونا چاہیے یہ ہر ذِی شعور سمجھ سکتا ہے۔ مگر افسوس !صد کروڑ افسوس ! ہم اس سے غافل ہیں،جب دُعا کا وقت آتا ہےہم اپنی حاجات اَحْکَمُ الْحٰکِمِیۡنَ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں؟ لاپرواہی کے ساتھ اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہوتے ہیں، اُنگلیوں، ناخنوں یا داڑھی کے بالوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں بلکہ بعض تو ناخنوں سے میل نکال رہے ہوتے ہیں اور پھر شِکوہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری دُعا ہی قبول نہیں ہوتی! دُعا کیسے قبول ہو ہمیں مانگنے کا طریقہ ہی نہیں آتا لہٰذا جب بھی دُعا مانگیں تو اِنتہائی توجہ اور یکسوئی کے ساتھ اپنے دِل و دماغ کو ہر چیز سے فارغ کر کے دُعا کے آداب کو بجا لاتے ہوئے دُعا مانگیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خشوع و خضوع بھی
حاصل ہوگا اور دُعا بھی قبول ہو گی ۔
سُوال: نماز اور دُعا کا قبلہ کیا ہے ؟نیز ان کے اَحکام بھی بیان فرما دیجیے۔
جواب:نماز کا قبلہ خانہ کعبہ ہے،اگر کوئی ایسی جگہ پر ہے جہاں خانہ کعبہ اس کی نگاہوں کے سامنے ہے تو عین خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نما ز پڑھنا ضَروری ہے اور جہاں خانہ کعبہ سامنے نہ ہو تو جہتِ کعبہ ہی قبلہ ہے۔اگر کسی نے بِلاعُذر قبلے سے45 دَرجے مُنحرِف ہوکرنماز ادا کی تو اس کی نماز نہ ہوگی یا دَورانِ نماز جان بوجھ کر قبلے سے سینہ پھیر دیا تو اُس کی نما ز ٹوٹ جائے گی۔یونہی نماز میں بغیر عُذر کے قبلہ سے چہرہ پھیرنا بھی مکروہِ تحریمی ہے چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب،’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ491 پر ہے:”مصلّی (یعنی نمازی) نے قبلہ سے بِلا عُذر قصداً سینہ پھیر دیا، اگرچہ فوراً ہی قبلہ کی طرف ہو گیا، نماز فاسِد ہو گئی (یعنی ٹوٹ گئی)اور اگر بِلاقصد (یعنی بغیر اِرادے کے)پھر گیا اور بقدر تین تسبیح (کی مقدار) کے وقفہ نہ ہوا، تو (نماز) ہو گئی۔ اگر صرف مونھ قبلہ سے پھیرا، تو اس پر واجب ہے کہ فوراً قبلہ کی طرف کرلے اور نماز نہ جائے گی، مگر بِلاعُذر مکروہ ہے۔“
رہی بات دُعا کے قبلے کی تو وہ آسمان ہے لہٰذا جب بھی دُعا مانگیں ہتھیلیاں
آسمان کی طرف پھیلی رکھیں کہ یہ دُعا کے آداب میں سے ہے جیسا کہ رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْنحضرتِ علّامہ مولانانقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَنَّان دُعا کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (دُعا میں)ہتھیلیاں پھیلی رکھے ۔ (اس کے حاشیے میں سرکارِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:)یعنی اُن میں خَم (جھکاؤ) نہ ہو کہ آسمان قبلۂ دُعا ہے، ساری کفِ دَست مواجہ آسمان رہے۔ (یعنی پوری ہتھیلی آسمان کی طرف رہے۔) ([48]) اگر کسی نے دُعا میں قبلے(یعنی آسمان) کی طرف قصداً بھی اپنی ہتھیلیاں نہ کیں تو بھی شرعاً کوئی گناہ نہیں دُعا ہو جائے گی۔
سُوال: دَورانِ نماز آنکھیں بند رکھنا کیسا ہے؟
جواب:نماز میں آنکھیں بند رکھنا مکروہِ تنزیہی ہے اَلبتہ اگر آنکھیں بند رکھنے سے نماز میں خشوع و خُضُوع زیادہ آتا ہو تو اب نماز میں آنکھیں بند رکھنا بہتر ہے جیسا کہ دُرِّمختار میں ہے:نماز میں آنکھیں بندرکھنا مکروہ ہے مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حَرج نہیں۔([49])
سُوال:نمازِ اَوّابین کسے کہتے ہیں؟نیز اسے ادا کرنے کا طریقہ بھی بیان فرما دیجیے۔
جواب:دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارےمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 666پر ہے:”بعد مغرب چھ رکعتیں مستحب ہیں ان کو صلاۃُ الاَوَّابین کہتے ہیں، خواہ ایک سلام سے سب (یعنی چھ رکعت ایک ساتھ) پڑھے یا دو سے(یعنی چار رَکعت اور دو رَکعت کر کے) یا تین سے (یعنی دو دو رَکعت کر کے پڑھے) اور تین سلام سے یعنی ہر دو رَکعت پر سلام پھیرنا افضل ہے۔“اگر کوئی ایک ہی سلام سے پڑھنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ”مغرب کی تین رکعت فرض پڑھنے کے بعد چھ رکعت ایک ہی نیّت سے پڑھے، ہر دو رَکعت پر قعدہ کرے اور اس میں التحیات ، دُرُودِ ابراھیم اور دُعا پڑھے، پہلی ،تیسری اور پانچویں رکعت کی اِبتدا میں ثنا (سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ) ،تعوذ و تسمیہ (یعنی اَعُوْذُ بِاللہ اور بِسْمِ اللہ)بھی پڑھے۔چھٹی رکعت کے قعدے کے بعد سلام پھیر دے۔ پہلی دو رَکعتیں (مغرب کے بعد پڑھی جانے والی) سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ہوئیں اور باقی چار نوافِل۔یہ ہے اَوَّابین ( یعنی توبہ کرنے والوں ) کی نماز۔([50])
پڑھوں سنَّتِ قبلیہ وقت ہی پر
ہوں سارے نوافِل ادا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
|
عنوان |
صفحہ |
عنوان |
صفحہ |
|
دُرُود شریف کی فضیلت |
2 |
گناہوں پرقائم رہتے ہوئے توبہ کرنا کیسا؟ |
27 |
|
اَنبیا و اولیا کو لفظِ”یا“کے ساتھ پکارنا کیسا؟ |
2 |
گناہ کو ہلکا یا حلال جاننا كيسا؟ |
28 |
|
لفظِ”یا“کے ساتھ دُور والوں کو پُکار سکتے ہیں |
6 |
توبہ کے اِرادے سے گناہ کرنا کفر ہے |
29 |
|
بعدِ وفات مقبولانِ بارگاہ کو پُکار سکتے ہیں |
7 |
حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد سے توبہ کرنے کا طریقہ |
30 |
|
دُور سے دیکھنا اور سُننا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صفت نہیں |
11 |
خشوع و خضوع کے معنیٰ |
32 |
|
دُور سے دیکھنے اور سُننے کے واقعات |
12 |
نمازمیں خشوع و خُضُوع کی اَہمیت |
33 |
|
قصیدۂ نُور کے ایک شعر کی تشریح |
17 |
خشوع و خضوع کیسے برقرار رکھا جائے؟ |
36 |
|
دِینی کام کے لیے جھوٹ بولنا کیسا؟ |
18 |
دُعا میں خشوع و خضوع کیسے اپنایا جائے؟ |
36 |
|
جھوٹ بولنا کب گناہ نہیں؟ |
19 |
نماز اور دُعا کا قبلہ مَع اَحکام |
38 |
|
مسلمانوں میں پُھوٹ ڈلوانے کی مذمت |
21 |
نماز میں آنکھیں بند رکھنا کیسا؟ |
39 |
|
توبہ کے معنیٰ اور اس کی حقیقت |
23 |
نمازِ اَوَّابین اَدا کرنے کا طریقہ |
39 |
|
توبہ کرنا تمام لوگوں پر واجب ہے |
25 |
٭…٭…٭ |
٭ |
[1]…… مَجْمَعُ الزَّوائِد،کتاب الاذکار، باب ما یقول اذا اَصبح واذا اَمسی،۱۰/۱۶۳، حدیث:۱۷۰۲۲ دار الفکر بیروت
[2]…… مُسلم،کتابُ الزھد و الرقائق،باب فی حدیث الھجرة…الخ،ص ۱۲۲۸،حدیث:۷۵۲۲ دار الکتاب العربی بیروت
[3]…… حدیثِ پاک میں” يَامُحَمَّدُ“ ہے مگر اس کی جگہ”یَارَسُوْلَ اللہ “کہنا چاہئے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو نام لے کر نِدا کرنا جائز نہیں۔ علما فرماتے ہیں:اگر رِوایت میں وارِد ہو جب بھی تبدیل کرلیں۔ مزید تفصیلات جاننے کے لیے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے فتاویٰ رضویہ جلد 30 میں موجود رِسالے”تَجَلِّیُ الْیَقِیْن بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن “ صفحہ 156تا 157 کا مطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[4]…… ابنِ ماجه ،کتاب اقامة الصلا ة ، باب ما جاء فی صلا ة الحاجة ،۲/۱۵۶،حدیث:۱۳۸۵ دار المعرفة بیروت
[5]…… معجمِ کبیر، مااسند عثمان بن حنیف،۹/۳۱، حدیث:۸۳۱ دار احیاء التراث العربی بیروت
[6]…… بخاری ،کتاب الرقاق ،باب التواضع ،۴/۲۴۸، حدیث:۶۵۰۲ دار الکتب العلمیة بیروت
[7]…… تفسیرِکبیر، پ۱۵،الکھف، تحت الآية:۱۲، ۷/۴۳۶ دار احیاء التراث العربی بیروت
[8]…… کنزالعمال ،کتاب السفر ،الجزء :۶ ، ۳/ ۳۰۰، حدیث:۱۷۴۹۴ دار الکتب العلمیة بیروت
[9]…… ترمذی ،کتاب الجنائز، بَابُ مَا يَقُوْلُ الرَّجُلُ اِذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ،۲/۳۲۹ ،حدیث:۱۰۵۵ دار الفکر بیروت
[10]…… مراٰۃُ المناجیح ،۲/۵۲۴ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
[11]…… یعنی سلام ہوآپ پر اے نبی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتیں اور بَرَکتیں ۔
[12]…… شواھدُ الحق ،فصل فی رد ما منعه ابن القیم...الخ،الفصل الثانی،ص۲۱۱ مركز اهل سنَّت بركات رضا گجرات ھند
[13]…… مرقاةُ المفاتیح ،کتاب الصلاة،باب الجمعة،الفصل الثالث ،۳ /۴۵۹، تحت الحدیث:۱۳۶۶ دار الفکر بیروت
[14]…… کشف الخفاء ،حرف الدال المھملة ،۱/۳۶۳ ، حدیث:۱۳۱۶ دار الكتب العلمية بيروت
[15]…… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۳۶٣ مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی
[16]…… بخاری ،کتاب الاذان ، باب رفع البصر الی الامام فی الصلٰوة ،۱/۲۶۵، حدیث:۷۴۸
[17]…… ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ (پ۳۰، الکوثر:۱)
[18]…… مِراٰۃُ المناجیح ،۲/۳۸۲
[19]…… نہاوند ایران میں صوبہ آذر بائیجان کے پہاڑی شہروں میں سے ہے اور مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً سے اتنا دُور ہے کہ ایک ماہ چل کر بھی آدمی وہاں نہیں پہنچ سکتا۔ (حاشیه اشعة اللمعات ، ۴/۶۱۵ کوئٹه)
[20]…… کنزالعمّال ،کتاب الفضائل ، فضائل الصحابة، فضائل الفاروق، الجزء:۱۲، ۶/۲۵۶، حدیث: ۳۵۷۸۵- ۳۵۷۸۳ ملخصًا
[21]…… روضُ الریاحین ، ص۳۹ ماخوذا ً دار الکتب العلمیة بیروت
[22]…… بهجةُ الاسرار ، ذکر و عظه ، ص۱۸۵ ملتقطاً دار الكتب العلمية بيروت
[23]…… بہارِ شریعت ،۳/۵۱۵، حصّہ:۱۶ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی
[24]…… ترمذی ،کتاب البر و الصلة ، بابُ ما جاء فی اِصلاحِ ذاتِ الْبين،۳/۳۷۷، حدیث:۱۹۴۵
[25]…… ردالمحتار ،کتاب الحظر و الاباحة ،۹/۷۰۵ ملخصاً دار المعرفة بیروت
[26]…… ردالمحتار ،کتاب الحظر و الاباحة،۹/۷۰۵ ملخصاً
[27]…… بہارِ شریعت،۳/۵۱۸، حِصَّہ:۱۶
[28]…… مزید تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد سِوُم کے حصّہ 16 کا مطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[29]…… کسی کی بات ضَرر (یعنی نقصان) پہنچانے کے اِرادے سے دوسروں کو پہنچانا”چغلی“ کہلاتا ہے۔ (عمدةُ القاری،۲ /۵۹۴ ، تحت الحدیث:۲۱۶ دار الفکر بیروت ) اِس کے متعلق ضروری اَحکام سیکھنا بھی فرض ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[30]…… مُسندِ امام احمد،من حدیث اسماء ابنة یزید ،۱۰/۴۴۳، حدیث:۲۷۶۷۰ دار الفكر بيروت
[31]…… جیسا کہ پارہ 4 سورۃُ النساء کی آیت نمبر 17 میں ہے : (اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۱۷))ترجمۂ کنز الایمان: وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
[32]…… مِراٰۃُالمناجیح،۳/۳۵۳
[33]…… ابنِ ماجه ، کتاب الزھد ، باب ذکر التوبة،۴/۴۹۲ ، حدیث:۴۲۵۲
[34]…… لبابُ الاحیاء ، الباب الحادی والثلاثون فی التوبة، ص۲۷۲ دار البيروتی
[35]…… شعب الايمان ، باب فی معالجة…الخ ، ۵/۴۳۶،حديث:۷۱۷۸ دار الکتب العلمية بیروت
[36]…… تفسیرنعیمی، پ۳ ، آلِ عمران،تحت الآیۃ: ۱۷ ،۳/۲۹۶ مکتبہ اسلامیہ مرکز الاولیا لاہور
[37]…… ضَروریاتِ دِین وہ مَسائلِ دِین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وَحدانیت، اَنبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر و غیرہا ، مثلاً یہ اِعتقاد کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم خاتم النبیین ہیں، حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۱۷۲ ،حصہ:۱)
[38]…… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۴۷۲
[39]…… فتاویٰ رضویہ ،۵/۱۰۱ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور
[40]…… نور العرفان،پ۱۲،یوسف،تحت الآیۃ:۹ پیر بھائی کمپنی مرکز الاولیا لاہور
[41]…… فتاویٰ رضویہ ،۲۱/۱۲۱
[42]…… تفسیرِ بیضاوی ،پ۱،البقره، تحت الآية:۴۵،۱/۳۱۷ دار الفكر بيروت
[43]…… اس کے لیے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ”نماز و وضو کا عملی طریقہ“ دیکھنا اور کتاب ”نماز کے اَحکام “ کا پڑھنا بہت مفید ہے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[44]…… مُسلم،کتاب الطھارة ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء،ص۱۱۸، حدیث:۵۵۳
[45]…… مُسلم،کتاب الطھارة ،باب فضل الوضوء والصلا ة عقبه ،ص۱۱۶، حدیث:۵۴۳
[46]…… تفسیر دُرِّمنثور،پ ۱۸،المؤمنون ،تحت الآیة: ۲، ۶/۸۵ دار الفکر بیروت
[47]…… تفسیرِ بغوی ، پ ۱۸،المومنون ، تحت الآية: ۲ ،۳/۲۵۵ دار الکتب العلمیة بیروت
[48]…… فضائلِ دُعا،ص۷۵مكتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[49]…… دُرِّمختار ،کتاب الصلاة ،۲/۴۹۹ دار المعرفة بیروت
[50]…… الوظیفة الکریمه،ص۲۶ ملخصاً مكتبة المدینه باب المدینه کراچی۔ یہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے اَوراد و وَظائف پر مُشْتَمِل ایک رِسالہ ہے جسے شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حُجَّۃُ الْاِسْلَام مولانا حامد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے مُرتَّب فرمایا ہے۔
(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)